Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الإيمان

Iman

  • Iman
  • ایمان

9667 hadiths

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 22668

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَغَيْرُهُ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْحَيَاءُ وَالْعِيُّ شُعْبَتَانِ مِنْ الْإِيمَانِ وَالْبَذَاءُ وَالْبَيَانُ شُعْبَتَانِ مِنْ النِّفَاقِ

حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حیاء اور بے ضرر گفتگو کرنا ایمان کے دو شعبے ہیں جبکہ فحش گوئی اور بے جا گفتگو کرنا نفاق کے دو شعبے ہیں ۔

«الْحَيَاءُ وَالْعِيُّ شُعْبَتَانِ مِنَ الْإِيمَانِ، وَالْبَذَاءُ وَالْبَيَانُ شُعْبَتَانِ مِنَ النِّفَاقِ» ← النَّبِيِّ ← أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، ← حَسَّانُ بْنُ عَطِیَّۃَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ، ← حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَغَيْرُهُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 22668

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 22699

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا قَيْسٌ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ أَشَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْيَمَنِ فَقَالَ الْإِيمَانُ هَاهُنَا الْإِيمَانُ هَاهُنَا وَإِنَّ الْقَسْوَةَ وَغِلَظَ الْقُلُوبِ فِي الْفَدَّادِينَ عِنْدَ أُصُولِ أَذْنَابِ الْإِبِلِ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنَا الشَّيْطَانِ فِي رَبِيعَةَ وَمُضَرَ

حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ اپنے دست مبارک سے یمن کی طرف اشارہ کر کے دو مرتبہ فرمایا ایمان یہاں ہے یاد رکھو! دلوں کی سختی اور درشتی ان متکبروں میں ہوتی ہے جو اونٹوں کے مالک ہوں جہاں سے شیطان کا سینگ نمودار ہوتا ہے یعنی ربیعہ اور مضر نامی قبائل میں ۔

أَشَارَ رَسُولُ اللَّهِ بِيَدِهِ نَحْوَ الْيَمَنِ ← أَبِي مَسْعُودٍ، ← قَيْسٍ ← إِسْمَاعِيلُ ← يَحْيَى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 22699

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 27636

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ قَالَ حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ آلِ أَبِي حَثْمَةَ عَنِ الشِّفَاءِ بِنْتِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ قَالَ الْإِيمَانُ بِاللَّهِ وَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَحَجٌّ مَبْرُورٌ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَوْ حَجٌّ مَبْرُورٌ

حضرت شفاء جو مہاجرخواتین میں سے تھی، سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی علیہ السلام سے پوچھا کہ سب سے افضل عمل کیا ہے؟ نبی علیہ السلام نے فرمایا اللہ پر ایمان لانا، جہاد فی سبیل اللہ اور حج مبرور۔

الشِّفَاءِ بِنْتِ عَبْدِ اللَّهِ ← رجل من آل أبي حثمة ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← الْمَسْعُودِيِّ ← الْمَسْعُودِيُّ وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 27636

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 28038

حَدَّثَنَا هَيْثَمٌ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ عَنْ يُونُسَ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِكُلِّ شَيْءٍ حَقِيقَةٌ وَمَا بَلَغَ عَبْدٌ حَقِيقَةَ الْإِيمَانِ حَتَّى يَعْلَمَ أَنَّ مَا أَصَابَهُ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَهُ وَمَا أَخْطَأَهُ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَهُ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ حَدَّثَنِي الْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ بِهَذِهِ الْأَحَادِيثِ كُلِّهَا إِلَّا أَنَّهُ أَوْقَفَ مِنْهَا حَدِيثَ لَوْ غُفِرَ لَكُمْ مَا تَأْتُونَ إِلَى الْبَهَائِمِ وَقَدْ حَدَّثَنَاهُ أَبِي عَنْهُ مَرْفُوعًا

حضرت ابودردا سے مروی ہے کہ نبی نے فرمایا ہر چیز کی ایک حقیقت ہوتی ہے اور کوئی شخص اس وقت تک ایمان کی حقیقت کو نہیں پہنچ سکتا جب تک اسے یہ یقین نہ ہو جائے کہ اسے جو تکلیف پہنچی ہے ، وہ اس سے خطا نہیں جا ہو سکتی تھی اور جو چیز خطا ہو گئی ہے وہ اسے پہنچ نہیں سکتی تھی۔

أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← أَبِي إِدْرِيسَ، ← يُونُسَ ← أَبُو الرَّبِيعِ، ← هَيْثَمٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 28038

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 22921

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ شَهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى مَيِّتٍ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا وَصَغِيرِنَا وَكَبِيرِنَا وَذَكَرِنَا وَأُنْثَانَا قَالَ يَحْيَى وَزَادَ فِيهِ أَبُو سَلَمَةَ اللَّهُمَّ مَنْ أَحْيَيْتَهُ مِنَّا فَأَحْيِهِ عَلَى الْإِسْلَامِ وَمَنْ تَوَفَّيْتَهُ مِنَّا فَتَوَفَّهُ عَلَى الْإِيمَانِ

حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کی نماز جنازہ پڑھائی میں بھی موجود تھا، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دعاء کرتے ہوئے سنا کہ اے اللہ ! ہمارے زندہ اور فوت شدہ موجود اور غیر موجود چھوٹوں اور بڑوں اور مرد و عورت کو معاف فرما۔ ابو سلمہ نے اس میں یہ اضافہ بھی نقل کیا ہے کہ اے اللہ ! تو ہم میں سے جسے زندہ رکھے اسے اسلام پر زندہ رکھ اور جسے موت دے اسے ایمان پر موت عطاء فرما۔ ی

اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا وَصَغِيرِنَا وَكَبِيرِنَا وَذَكَرِنَا وَأُنْثَانَا ← أَبِيهِ، أَنَّهُ شَهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى عَلَى مَيِّتٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← هَمَّامٌ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 22921

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 22955

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا لَيْثٌ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَامَ فِيهِمْ فَذَكَرَ لَهُمْ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَالْإِيمَانَ بِاللَّهِ مِنْ أَفْضَلِ الْأَعْمَالِ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يُكَفِّرُ عَنِّي خَطَايَايَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ إِنْ قُتِلْتَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأَنْتَ صَابِرٌ مُحْتَسِبٌ مُقْبِلٌ غَيْرُ مُدْبِرٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ قُلْتَ قَالَ أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يُكَفِّرُ عَنِّي خَطَايَايَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ إِنْ قُتِلْتَ وَأَنْتَ صَابِرٌ مُحْتَسِبٌ مُقْبِلٌ غَيْرُ مُدْبِرٍ إِلَّا الدَّيْنَ فَإِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام قَالَ لِي ذَلِكَ

حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان کھڑے ہو کر جہاد فی سبیل اللہ اور اللہ پر ایمان لانے کا تمام اعمال میں افضل ہونا ذکر فرمایا تو ایک آدمی نے کھڑے ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم یہ بتائیے کہ اگر میں اللہ کی راہ میں شہید ہو جاؤں تو کیا اللہ اس کی برکت سے میرے سارے گناہوں کا کفارہ فرما دے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! اگر تم اللہ کے راستہ میں اس طرح شہید ہوئے ہو کہ تم ثواب کی نیت سے ثابت قدم رہے ہو آگے بڑھے ہو اور پیچھے نہ ہٹے ہو تو اللہ تمہارے گناہوں کا کفارہ فرما دے گا کچھ دیرگذرنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ تم نے کیا کہا تھا؟ اس نے دوبارہ یہی سوال دہرایا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی جواب دیا لیکن اس میں یہ استثناء کر دیا کہ " قرض کے علاوہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے مجھے اسی طرح بتایا ہے۔

رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ قَامَ فِيهِمْ ← أَبَا قَتَادَةَ، ← عبد الله بن أبي قتادة أنه ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، ← لَيْثٌ، ← حجاج،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 22955

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20014

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ شَاذَانُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُرَيْجٍ عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا مَعْشَرَ مَنْ آمَنَ بِلِسَانِهِ وَلَمْ يَدْخُلْ الْإِيمَانُ قَلْبَهُ لَا تَغْتَابُوا الْمُسْلِمِينَ وَلَا تَتَّبِعُوا عَوْرَاتِهِمْ فَإِنَّهُ مَنْ يَتَّبِعْ عَوْرَاتِهِمْ يَتَّبِعْ اللَّهُ عَوْرَتَهُ وَمَنْ يَتَّبِعْ اللَّهُ عَوْرَتَهُ يَفْضَحْهُ فِي بَيْتِهِ

حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے ایک مرتبہ فرمایا اے وہ لوگو! جو زبان سے ایمان لے آئے ہو لیکن ان کے دل میں ایمان داخل نہیں ہوا، مسلمانوں کی غیبت مت کیا کرو، اور ان کے عیوب تلاش نہ کیا کرو، کیونکہ جو شخص ان کے عیوب تلاش کرتا ہے، اللہ اس کے عیوب تلاش کرتا ہے اور اللہ جس کے عیوب تلاش کرنے لگ جاتا ہے، اسے گھر بیٹھے رسوا کر دیتا ہے۔

أَبِي بَرْزَةَ الأَسْلَمِيِّ ← سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُرَيْجٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو بَکْرٍ يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ ← أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ شَاذَانُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20014

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 22995

قَالَ و حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بِهَؤُلَاءِ الثَّمَانِ كَلِمَاتٍ وَزَادَ كَلِمَتَيْنِ مَنْ أَحْيَيْتَهُ مِنَّا فَأَحْيِهِ عَلَى الْإِسْلَامِ وَمَنْ تَوَفَّيْتَهُ مِنَّا فَتَوَفَّهُ عَلَى الْإِيمَانِ

ابو سلمہ نے اس میں یہ اضافہ بھی نقل کیا ہے کہ اے اللہ ! تو ہم میں سے جسے زندہ رکھے اسے اسلام پر زندہ رکھ اور جسے موت دے اسے ایمان پر موت عطاء فرما۔

و،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 22995

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20039

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا قُطْبَةُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ نَادَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَسْمَعَ الْعَوَاتِقَ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ مَنْ آمَنَ بِلِسَانِهِ وَلَمْ يَدْخُلْ الْإِيمَانُ قَلْبَهُ لَا تَغْتَابُوا الْمُسْلِمِينَ وَلَا تَتَّبِعُوا عَوْرَاتِهِمْ فَإِنَّهُ مَنْ يَتَّبِعْ عَوْرَةَ أَخِيهِ يَتَّبِعْ اللَّهُ عَوْرَتَهُ حَتَّى يَفْضَحَهُ فِي بَيْتِهِ

حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے ایک مرتبہ فرمایا اے وہ لوگو! جو زبان سے ایمان لے آئے ہو لیکن ان کے دل میں ایمان داخل نہیں ہوا، مسلمانوں کی غیبت مت کیا کرو، اور ان کے عیوب تلاش نہ کیا کرو، کیونکہ جو شخص ان کے عیوب تلاش کرتا ہے، اللہ اس کے عیوب تلاش کرتا ہے اور اللہ جس کے عیوب تلاش کرنے لگ جاتا ہے، اسے گھر بیٹھے رسوا کر دیتا ہے۔

نَادَى رَسُولُ اللَّهِ حَتَّى أَسْمَعَ الْعَوَاتِقَ ← أَبِي بَرْزَةَ الأَسْلَمِيِّ ← رَجُلٍ مَنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ ← الْاَعْمَشِ ← قُطْبَةَ ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20039

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23081

حَدَّثَنَا أَبُو الْعَلَاءِ الْحَسَنُ بْنُ سَوَّارٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ مُعَاوِيَةَ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ زِيَادٍ حَدَّثَنِي عُبَادَةُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ دَخَلْتُ عَلَى عُبَادَةَ وَهُوَ مَرِيضٌ أَتَخَايَلُ فِيهِ الْمَوْتَ فَقُلْتُ يَا أَبَتَاهُ أَوْصِنِي وَاجْتَهِدْ لِي فَقَالَ أَجْلِسُونِي قَالَ يَا بُنَيَّ إِنَّكَ لَنْ تَطْعَمَ طَعْمَ الْإِيمَانِ وَلَنْ تَبْلُغْ حَقَّ حَقِيقَةِ الْعِلْمِ بِاللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى حَتَّى تُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ قَالَ قُلْتُ يَا أَبَتَاهُ فَكَيْفَ لِي أَنْ أَعْلَمَ مَا خَيْرُ الْقَدَرِ وَشَرُّهُ قَالَ تَعْلَمُ أَنَّ مَا أَخْطَأَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَكَ وَمَا أَصَابَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَكَ يَا بُنَيَّ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ أَوَّلَ مَا خَلَقَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى الْقَلَمُ ثُمَّ قَالَ اكْتُبْ فَجَرَى فِي تِلْكَ السَّاعَةِ بِمَا هُوَ كَائِنٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ يَا بُنَيَّ إِنْ مِتَّ وَلَسْتَ عَلَى ذَلِكَ دَخَلْتَ النَّارَ

ولید بن عبادہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ (اپنے والد) حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا وہ اس وقت بیمار تھے اور میں سمجھتا تھا کہ یہ ان کا مرض الوفات ہے میں نے ان سے عرض کیا اباجان! مجھے چھان پھٹک کر کوئی وصیت کر دیجئے انہوں نے فرمایا مجھے اٹھا کر بٹھا دو جب انہیں اٹھا کر بٹھا دیا گیا تو فرمایا بیٹا! تم اس وقت تک ایمان کا ذائقہ نہیں چکھ سکتے اور علم باللہ کی حقیقت نہیں جان سکتے جب تک تم اچھی بری تقدیر اللہ کی طرف سے ہونے پر ایمان نہ لاؤ میں نے عرض کیا اباجان ! مجھے کیسے معلوم ہوگا کہ تقدیر کا کون سا فیصلہ میرے حق میں اچھا ہے اور کون سا برا؟ فرمایا تم اس بات کا یقین رکھو کہ جو چیز تم سے چوک گئی وہ تمہیں پیش آسکتی تھی اور جو پیش آگئی وہ چوک نہیں سکتی تھی بیٹا! میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے قلم کو پیدا کیا اور اس سے فرمایا لکھ چنانچہ اس نے قیامت تک ہونے والے واقعات کو لکھ دیا بیٹا! اگر تم مرتے وقت اس عقیدے پر نہ ہوئے تو تم جہنم میں داخل ہو گے۔

أَبِي ← عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ ← أَيُّوبَ بْنِ زِيَادٍ ← مُعَاوِيَةَ، ← لَيْثٌ، ← أَبُو الْعَلَاءِ الْحَسَنُ بْنُ سَوَّارٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23081

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23094

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ أَنَّهُ سَمِعَ جُنَادَةَ بْنَ أَبِي أُمَيَّةَ يَقُولُ سَمِعْتُ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ يَقُولُ إِنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ قَالَ الْإِيمَانُ بِاللَّهِ وَتَصْدِيقٌ بِهِ وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِهِ قَالَ أُرِيدُ أَهْوَنَ مِنْ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ السَّمَاحَةُ وَالصَّبْرُ قَالَ أُرِيدُ أَهْوَنَ مِنْ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ لَا تَتَّهِمِ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي شَيْءٍ قَضَى لَكَ بِهِ

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے افضل عمل کون سا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا اس کی تصدیق کرنا اور اس کی راہ میں جہاد کرنا سائل نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم میں اس سے نچلے درجے کے متعلق پوچھ رہاہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاطبیعت کی نرمی اور صبر کرناسائل نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! میں اس سے بھی نچلے درجے کے متعلق پوچھ رہا ہوں فرمایا اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے جو فیصلہ فرما لیا ہو اس میں اللہ تعالیٰ کے متعلق برا گمان نہ رکھو۔

أُرِيدُ أَهْوَنَ مِنْ ذَلِكَ ← الْإِيمَانُ بِاللَّهِ وَتَصْدِيقٌ بِهِ وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِهِ ← إِنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ ← عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← جُنَادَةُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ، ← عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ، أَنَّهُ ← الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ، ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← حَسَنٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23094

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23265

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا مُصْعَبُ بْنُ ثَابِتٍ حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ قَالَ سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْمُؤْمِنَ مِنْ أَهْلِ الْإِيمَانِ بِمَنْزِلَةِ الرَّأْسِ مِنْ الْجَسَدِ يَأْلَمُ الْمُؤْمِنُ لِأَهْلِ الْإِيمَانِ كَمَا يَأْلَمُ الْجَسَدُ لِمَا فِي الرَّأْسِ

حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مؤمن کا اہل ایمان میں وہی درجہ ہوتا ہے جو سر کاجسم میں ہوتا ہے اور ایک مومن تمام اہل ایمان کے لئے اسی طرح تڑپتا ہے جیسے سر کی تکلیف کے لئے تڑپتا ہے۔

النَّبِيِّ ← سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، ← أَبُو حَازِمٍ ← مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ ← أَحْمَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23265

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23290

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنِي أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ وَحَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ عَنْ أَبِي سَلَّامٍ عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الطُّهُورُ شَطْرُ الْإِيمَانِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ تَمْلَأُ الْمِيزَانَ قَالَ عَفَّانُ وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ تَمْلَأُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ قَالَ عَفَّانُ وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَقَالَ عَفَّانُ مَا بَيْنَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالصَّلَاةُ نُورٌ وَالصَّدَقَةُ بُرْهَانٌ وَالصَّبْرُ ضِيَاءٌ وَالْقُرْآنُ حُجَّةٌ عَلَيْكَ أَوْ لَكَ كُلُّ النَّاسِ يَغْدُو فَبَائِعٌ نَفْسَهُ فَمُوبِقُهَا أَوْ مُعْتِقُهَا

حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صفائی ایمان کا حصہ ہے الحمد للہ کہنا میزان عمل کو بھر دیتا ہے (سبحان اللہ اللہ اکبر) لا الہ الا اللہ و اللہ اکبر آسمان و زمین کے درمیان کی جگہ کو بھر دیتے ہیں نماز نور ہے صدقہ دلیل ہے صبر روشنی ہے اور قرآن تمہارے حق میں یا تمہارے خلاف حجت ہے اور ہر انسان صبح کرتا ہے تو اپنے آپ کو بیچ رہا ہوتا ہے پھر کوئی اسے ہلاک کر دیتا ہے اور کوئی اسے آزاد کر دیتا ہے ۔

أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ ← أَبِي سَلَّامٍ ← زَیْدِ بْنِ سَلَّامٍ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ← أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ وَحَدَّثَنَا عَفَّانُ ← يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23290

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23296

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبَانُ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ زَيْدٍ عَنْ أَبِي سَلَّامٍ عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ الطُّهْرُ شَطْرُ الْإِيمَانِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ يَمْلَأُ الْمِيزَانَ وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ تَمْلَأُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَالصَّلَاةُ نُورٌ وَالصَّدَقَةُ بُرْهَانٌ وَالصَّبْرُ ضِيَاءٌ وَالْقُرْآنُ حُجَّةٌ لَكَ أَوْ عَلَيْكَ كُلُّ النَّاسِ يَغْدُو فَبَائِعٌ نَفْسَهُ فَمُعْتِقُهَا أَوْ مُوبِقُهَا

حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صفائی ایمان کا حصہ ہے الحمد للہ کہنا میزان عمل کو بھر دیتا ہے (سبحان اللہ، اللہ اکبر) لا الہ الا اللہ و اللہ اکبر آسمان و زمین کے درمیان کی جگہ کو بھر دیتے ہیں نماز نور ہے صدقہ دلیل ہے صبر روشنی ہے اور قرآن تمہارے حق میں یا تمہارے خلاف حجت ہے اور ہر انسان صبح کرتا ہے تو اپنے آپ کو بیچ رہا ہوتا ہے پھر کوئی اسے ہلاک کر دیتا ہے اور کوئی اسے آزاد کر دیتا ہے ۔

أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ ← أَبِي سَلَّامٍ ← زيد1 ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← أَبَانُ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23296

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23297

حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ يَحْيَى بْنُ مَيْمُونٍ يَعْنِي الْعَطَّارَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ سَلَّامٍ عَنْ أَبِي سَلَّامٍ حَدَّثَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَشْعَرِيُّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الطُّهُورُ شَطْرُ الْإِيمَانِ فَذَكَرَ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ الصَّلَاةُ بُرْهَانٌ وَالصَّدَقَةُ نُورٌ

حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صفائی ایمان کا حصہ ہے الحمد للہ کہنا میزان عمل کو بھر دیتا ہے (سبحان اللہ، اللہ اکبر) لا الہ الا اللہ و اللہ اکبر آسمان و زمین کے درمیان کی جگہ کو بھر دیتے ہیں نماز نور ہے صدقہ دلیل ہے صبر روشنی ہے اور قرآن تمہارے حق میں یا تمہارے خلاف حجت ہے اور ہر انسان صبح کرتا ہے تو اپنے آپ کو بیچ رہا ہوتا ہے پھر کوئی اسے ہلاک کر دیتا ہے اور کوئی اسے آزاد کر دیتا ہے ۔

عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَشْعَرِيُّ ← أَبِي سَلَّامٍ ← زَیْدِ بْنِ سَلَّامٍ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← أَبُو إِسْحَاقَ يَحْيَى بْنُ مَيْمُونٍ يَعْنِي الْعَطَّارَ ← سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23297

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23461

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ جُرَيَّ بْنَ كُلَيْبٍ النَّهْدِيَّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ قَالَ عَدَّهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَدِي أَوْ فِي يَدِهِ التَّسْبِيحُ نِصْفُ الْمِيزَانِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ تَمْلَؤُهُ وَالتَّكْبِيرُ يَمْلَأُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَالصَّوْمُ نِصْفُ الصَّبْرِ وَالطُّهُورُ نِصْفُ الْإِيمَانِ

بنو سلیم کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کی انگلیوں پر یہ چیزیں شمار کیں سبحان اللہ نصف میزان عمل کے برابر ہے " الحمدللہ " میزان عمل کو بھر دے گا " اللہ اکبر " کا لفظ زمین و آسمان کے درمیان ساری فضاء کو بھر دیتا ہے صفائی نصف ایمان ہے اور روزہ نصف صبر ہے۔

رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ ← جري بن كليب النهدي ← يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23461

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23487

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ عَنْ جُرَيٍّ قَالَ الْتَقَى رَجُلَانِ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ سُبْحَانَ اللَّهِ نِصْفُ الْمِيزَانِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ يَمْلَؤُهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ يَمْلَأُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَالصَّوْمُ نِصْفُ الصَّبْرِ وَالْوُضُوءُ نِصْفُ الْإِيمَانِ

بنوسلیم کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سناہے کہ" سبحان اللہ " نصف میزان عمل کے برابر ہے " الحمدللہ " میزان عمل کو بھر دے گا " اللہ اکبر " کا لفظ زمین و آسمان کے درمیان ساری فضاء کو بھر دیتا ہے صفائی نصف ایمان ہے اور روزہ نصف صبر ہے۔

النَّبِيِّ ← أَحَدُهُمَا: لِصَاحِبِهِ ← الْتَقَى رَجُلَانِ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← جري ← عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23487

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23547

حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنْ جُرَيٍّ النَّهْدِيِّ أَنَّهُ قَالَ لَقِيتُ شَيْخًا مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ بِالْكُنَاسَةِ فَحَدَّثَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَدَّ خَمْسًا فِي يَدِهِ أَوْ فِي يَدِي فَقَالَ التَّسْبِيحُ نِصْفُ الْمِيزَانِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ يَمْلَؤُهُ وَالتَّكْبِيرُ يَمْلَأُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَالصَّوْمُ نِصْفُ الصَّبْرِ وَالطُّهُورُ نِصْفُ الْإِيمَانِ

بنوسلیم کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کی انگلیوں پر یہ چیزیں شمار کیں سبحان اللہ نصف میزان عمل کے برابر ہے " الحمدللہ " میزان عمل کو بھر دے گا " اللہ اکبر " کا لفظ زمین و آسمان کے درمیان ساری فضاء کو بھر دیتا ہے صفائی نصف ایمان ہے اور روزہ نصف صبر ہے۔

لَقِيتُ شَيْخًا مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ بِالْكُنَاسَةِ فَحَدَّثَنِي ← جُرَيٍّ النَّهْدِيِّ أَنَّهُ ← يُونُسَ ← أَبُو قَطَنٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23547

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23825

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا بَكَّارٌ حَدَّثَنِي خَلَّادُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الطُّفَيْلِ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانٍِ يَقُولُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَلَا تَسْأَلُونِي فَإِنَّ النَّاسَ كَانُوا يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْخَيْرِ وَكُنْتُ أَسْأَلُهُ عَنْ الشَّرِّ إِنَّ اللَّهَ بَعَثَ نَبِيَّهُ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ فَدَعَا النَّاسَ مِنْ الْكُفْرِ إِلَى الْإِيمَانِ وَمِنْ الضَّلَالَةِ إِلَى الْهُدَى فَاسْتَجَابَ مَنْ اسْتَجَابَ فَحَيَّ مِنْ الْحَقِّ مَا كَانَ مَيْتًا وَمَاتَ مِنْ الْبَاطِلِ مَا كَانَ حَيًّا ثُمَّ ذَهَبَتْ النُّبُوَّةُ فَكَانَتْ الْخِلَافَةُ عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مروی ہے کہ ایک دن انہوں نے فرمایا اے لوگو! تم مجھ سے پوچھتے کیوں نہیں ہو؟ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر کے متعلق پوچھتے تھے اور میں شر کے متعلق پوچھتا تھا بیشک اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا انہوں نے لوگوں کو کفر سے ایمان کی دعوت دی گمراہی سے ہدایت کی طرف بلایا جس نے ان کی بات ماننی تھی سو اس نے یہ دعوت قبول کرلی اور حق کی برکت سے مردہ چیزیں زندہ ہوگئیں اور باطل کی نحوست سے زندہ چیزیں بھی مردہ ہوگئیں پھر نبوت کا دور ختم ہوا تو خلافت علی منہاج النبوۃ قائم ہوئی۔

الْخَيْرِ وَکُنْتُ أَسْأَلُهُ ← يَا أَيُّهَا النَّاسُ، أَلَا تَسْأَلُونِي؟ فَإِنَّ النَّاسَ كَانُوا يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللهِ ← حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ ← أَنَّهُ ← أَبَا الطُّفَيْلِ ← خَلَّادُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ ← بَكَّارٍ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23825

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24274

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ زُهَيْرٍ ، يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنْ صَالِحٍ ، يَعْنِي ابْنَ كَيْسَانَ ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ أَبِي أُمَامَةَ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ أَبَا أُمَامَةَ أَخْبَرَهُ : أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : الْبَذَاذَةُ مِنَ الإِِيمَانِ ، الْبَذَاذَةُ مِنَ الإِِيمَانِ.

حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فطری سادگی ایمان کا حصہ ہے۔

أَنَّ أَبَا أُمَامَةَ ← صَالِحٍ يَعْنِي ابْنَ كَيْسَانَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أُمَامَةَ ← زُهَيْرٍ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24274

chevron_left Previous
1…171819…484
Next chevron_right