Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الأنبياء والتاريخ

Prophets & History

4507 hadiths

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20661

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى وَرِبْعِىُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَعْنَى قَالَا حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ كَسَفَتْ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ يَجُرُّ ثَوْبَهُ مُسْتَعْجِلًا حَتَّى أَتَى الْمَسْجِدَ وَثَابَ النَّاسُ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَجُلِّيَ عَنْهَا ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا فَقَالَ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يُخَوِّفُ بِهِمَا عِبَادَهُ وَلَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ قَالَ وَكَانَ ابْنُهُ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام مَاتَ فَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْهُمَا شَيْئًا فَصَلُّوا وَادْعُوا حَتَّى يُكْشَفَ مِنْهُمَا مَا بِكُمْ

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ایک مرتبہ سورج گرہن ہوگیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم جلدی سے اپنے کپڑے گھسیٹتے ہوئے نکلے اور مسجد پہنچے لوگ بھی جلدی سے آگئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھیں حتی کہ سورج مکمل روشن ہوگیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا چاند سورج اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں جن کے ذریعے اللہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے انہیں کسی کی موت کی وجہ سے گہن نہیں لگتا دراصل اسی دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ابراہیم کا انتقال ہوا تھا۔ جب تم کوئی ایسی چیز دیکھا کرو تو نماز پڑھ کر دعا کیا کرو یہاں تک کہ مصیبت ٹل جائے۔

أَبِي بَكْرَةَ ← الْحَسَنِ، ← يُونُسَ ← عَبْدُ الْأَعْلَى وَرِبْعِىُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَعْنَى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20661

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8019

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عَوْفٌ عَنْ خِلَاسِ بْنِ عَمْرٍو الْهَجَرِيِّ قَالَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْلَا بَنُو إِسْرَائِيلَ لَمْ يَخْنَزْ اللَّحْمُ وَلَمْ يَخْبُثْ الطَّعَامُ وَلَوْلَا حَوَّاءُ لَمْ تَخُنْ أُنْثَى زَوْجَهَا

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر بنی اسرائیل نہ ہوتے تو کوئی شخص گوشت کو ذخیرہ نہ کرتا اور کھانا خراب نہ ہوتا اور اگر حضرت حواء نہ ہوتیں تو کوئی عورت اپنے شوہر سے خیانت نہ کرتی۔

أَبُو هُرَيْرَةَ ← خِلاَسِ بْنِ عَمْرٍو الْهَجَرِيِّ ← عَوْفٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8019

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8057

حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ سِيرِينَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَتَكَلَّمْ فِي الْمَهْدِ إِلَّا ثَلَاثَةٌ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَكَانَ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَابِدٌ يُقَالُ لَهُ جُرَيْجٌ فَابْتَنَى صَوْمَعَةً وَتَعَبَّدَ فِيهَا قَالَ فَذَكَرَ بَنُو إِسْرَائِيلَ يَوْمًا عِبَادَةَ جُرَيْجٍ فَقَالَتْ بَغِيٌّ مِنْهُمْ لَئِنْ شِئْتُمْ لَأُصْبِيَنَّهُ فَقَالُوا قَدْ شِئْنَا قَالَ فَأَتَتْهُ فَتَعَرَّضَتْ لَهُ فَلَمْ يَلْتَفِتْ إِلَيْهَا فَأَمْكَنَتْ نَفْسَهَا مِنْ رَاعٍ كَانَ يَأْوِي غَنَمَهُ إِلَى أَصْلِ صَوْمَعَةِ جُرَيْجٍ فَحَمَلَتْ فَوَلَدَتْ غُلَامًا فَقَالُوا مِمَّنْ قَالَتْ مِنْ جُرَيْجٍ فَأَتَوْهُ فَاسْتَنْزَلُوهُ فَشَتَمُوهُ وَضَرَبُوهُ وَهَدَمُوا صَوْمَعَتَهُ فَقَالَ مَا شَأْنُكُمْ قَالُوا إِنَّكَ زَنَيْتَ بِهَذِهِ الْبَغِيِّ فَوَلَدَتْ غُلَامًا قَالَ وَأَيْنَ هُوَ قَالُوا هَا هُوَ ذَا قَالَ فَقَامَ فَصَلَّى وَدَعَا ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْغُلَامِ فَطَعَنَهُ بِإِصْبَعِهِ وَقَالَ بِاللَّهِ يَا غُلَامُ مَنْ أَبُوكَ قَالَ أَنَا ابْنُ الرَّاعِي فَوَثَبُوا إِلَى جُرَيْجٍ فَجَعَلُوا يُقَبِّلُونَهُ وَقَالُوا نَبْنِي صَوْمَعَتَكَ مِنْ ذَهَبٍ قَالَ لَا حَاجَةَ لِي فِي ذَلِكَ ابْنُوهَا مِنْ طِينٍ كَمَا كَانَتْ قَالَ وَبَيْنَمَا امْرَأَةٌ فِي حِجْرِهَا ابْنٌ لَهَا تُرْضِعُهُ إِذْ مَرَّ بِهَا رَاكِبٌ ذُو شَارَةٍ فَقَالَتْ اللَّهُمَّ اجْعَلْ ابْنِي مِثْلَ هَذَا قَالَ فَتَرَكَ ثَدْيَهَا وَأَقْبَلَ عَلَى الرَّاكِبِ فَقَالَ اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْنِي مِثْلَهُ قَالَ ثُمَّ عَادَ إِلَى ثَدْيِهَا يَمُصُّهُ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْكِي عَلَيَّ صَنِيعَ الصَّبِيِّ وَوَضْعَهُ إِصْبَعَهُ فِي فَمِهِ فَجَعَلَ يَمُصُّهَا ثُمَّ مُرَّ بِأَمَةٍ تُضْرَبُ فَقَالَتْ اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْ ابْنِي مِثْلَهَا قَالَ فَتَرَكَ ثَدْيَهَا وَأَقْبَلَ عَلَى أُمِّهِ فَقَالَ اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِثْلَهَا قَالَ فَذَلِكَ حِينَ تَرَاجَعَا الْحَدِيثَ فَقَالَتْ حَلْقَى مَرَّ الرَّاكِبُ ذُو الشَّارَةِ فَقُلْتُ اللَّهُمَّ اجْعَلْ ابْنِي مِثْلَهُ فَقُلْتَ اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْنِي مِثْلَهُ وَمُرَّ بِهَذِهِ الْأَمَةِ فَقُلْتُ اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْ ابْنِي مِثْلَهَا فَقُلْتَ اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِثْلَهَا فَقَالَ يَا أُمَّتَاهْ إِنَّ الرَّاكِبَ ذُو الشَّارَةِ جَبَّارٌ مِنْ الْجَبَابِرَةِ وَإِنَّ هَذِهِ الْأَمَةَ يَقُولُونَ زَنَتْ وَلَمْ تَزْنِ وَسَرَقَتْ وَلَمْ تَسْرِقْ وَهِيَ تَقُولُ حَسْبِيَ اللَّهُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تین لڑکوں کے علاوہ گہوارے کے اندر اور کسی نے کلام نہیں کیا۔ (١) حضرت عیسیٰ علیہ السلام (٢) وہ لڑکا جو جریج سے بولا تھا۔ جریج بنی اسرائیل میں ایک عبادت گذار شخص کا نام تھا اس نے اپنا گرجا بنا رکھا تھا اور وہاں عبادت کرتا تھا ایک دن بنی اسرائیل کے لوگ اس کی عبادت کا تذکرہ کر رہے تھے جسے سن کر ایک فاحشہ عورت نے کہا کہ اگر تم چاہو تو میں اسے فتنے میں مبتلا کر سکتی ہوں؟ لوگوں نے کہا کہ یہ تو ہماری خواہش ہے۔ چنانچہ ایک روز جریج اپنے عبادت خانہ میں تھا کہ وہ عورت اس کے پاس آئی اور جریج سے کار برآری کی خواستگار ہوئی جریج نے انکار کیا تو اس عورت نے جا کر ایک چرواہے کو اپنے نفس پر قابو دیا جو جریج کے گرجے کے نیچے اپنی بکریاں رکھتا تھا اور چرواہے کے نطفہ سے اس کے یہاں ایک لڑکا پیدا ہوا لیکن اس نے یہ اظہار کیا کہ لڑکا جریج کا ہے لوگ جریج کے پاس آئے (اور غصہ میں) اسے نیچے اتارا اسے گالیاں دیں مارا پیٹا اور اس کا عبادت خانہ ڈھا دیا جریج نے پوچھا کہ کیا مسئلہ ہے؟ لوگوں نے کہا کہ تم نے اس فاحشہ کے ساتھ بدکاری کی ہے اور اس کے یہاں بچہ بھی پیدا ہوگیا ہے جریج نے پوچھا کہ وہ بچہ کہاں ہے؟ لوگوں نے کہا یہ ہے چنانچہ جریج نے کھڑے ہو کر نماز پڑھی اور پھر اس بچہ کے پاس آ کر اسے انگلی چبھا کر دریافت کیا اے لڑکے تیرا باپ کون ہے؟ لڑکا بولا فلاں چرواہا لوگ (یہ صداقت دیکھ کر) اسے چومنے اور کہنے لگے ہم تیرا عبادت خانہ سونے کا بنائے دیتے ہیں جریج نے جواب دیا مجھے اس کی ضرورت نہیں پہلے کی طرح صرف مٹی کا بنا دو۔ (٣) بنی اسرائیل میں ایک عورت تھی جو اپنے لڑکے کو دودھ پلا رہی تھی اتفاقا ادھر سے ایک سوار زردوزی کے کپڑے پہنے نکلا عورت نے کہا الٰہی میرے بچے کو اس کی طرح کردے بچہ نے ماں کی چھاتی چھوڑ کر سوار کی طرف رخ کر کے کہا الٰہی مجھے ایسا نہ کرنا یہ کہہ کر پھر دودھ پینے لگا کچھ دیر کے بعد ادھر سے لوگ ایک باندی کو لے گزرے (جس کو راستے میں مارتے جا رہے تھے) عورت نے کہا الہٰی میرے بچہ کو ایسا نہ کرنا بچہ نے فورا دودھ پینا چھوڑ کر کہا الٰہی مجھے ایسا ہی کرنا ماں نے بچہ سے کہا تونے یہ خواہش کیوں کی؟ بچہ نے جواب دیا وہ سوار ظالم تھا (اس لئے میں نے ویسا نہ ہونے کی دعا کی ) اور اس باندی کو لوگ کہتے ہیں کہ تونے زنا اور چوری کی ہے حالانکہ اس نے یہ فعل نہیں کئے اور وہ کہتی رہی کہ مجھے اللہ کافی ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8057

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8145

وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُفِّفَتْ عَلَى دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام الْقِرَاءَةُ وَكَانَ يَأْمُرُ بِدَابَّتِهِ فَتُسْرَجُ وَكَانَ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ قَبْلَ أَنْ تُسْرَجَ دَابَّتُهُ وَكَانَ لَا يَأْكُلُ إِلَّا مِنْ عَمَلِ يَدَيْهِ

اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت داؤدعلیہ السلام پر قرأت کو ہلکا پھلکا کردیا گیا تھا چنانچہ وہ اپنی سواری پر زین کسنے کا حکم دیتے اور زین کسے جانے سے پہلے کتاب (زبور) پڑھ لیا کرتے تھے اور وہ صرف اپنے ہاتھ کی کمائی کھاتے تھے۔

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8145

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8155

وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْلَا بَنُو إِسْرَائِيلَ لَمْ يَخْنَزْ اللَّحْمُ وَلَوْلَا حَوَّاءُ لَمْ تَخُنْ أُنْثَى زَوْجَهَا الدَّهْرَ

اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر بنی اسرائیل نہ ہوتے تو کوئی شخص گوشت کو ذخیرہ نہ کرتا اور کھانا خراب نہ ہوتا اور اگر حضرت حواء نہ ہوتیں تو کوئی عورت اپنے شوہر سے خیانت نہ کرتی۔

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8155

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8157

وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ مَلَكُ الْمَوْتِ إِلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام فَقَالَ لَهُ أَجِبْ رَبَّكَ قَالَ فَلَطَمَ مُوسَى عَيْنَ مَلَكِ الْمَوْتِ فَفَقَأَهَا قَالَ فَرَجَعَ الْمَلَكُ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَ إِنَّكَ أَرْسَلْتَنِي إِلَى عَبْدٍ لَكَ لَا يُرِيدُ الْمَوْتَ وَقَدْ فَقَأَ عَيْنِي قَالَ فَرَدَّ اللَّهُ عَيْنَهُ وَقَالَ ارْجِعْ إِلَى عَبْدِي فَقُلْ الْحَيَاةَ تُرِيدُ فَإِنْ كُنْتَ تُرِيدُ الْحَيَاةَ فَضَعْ يَدَكَ عَلَى مَتْنِ ثَوْرٍ فَمَا تَوَارَتْ بِيَدِكَ مِنْ شَعْرَةٍ فَإِنَّكَ تَعِيشُ بِهَا سَنَةً قَالَ ثُمَّ مَهْ قَالَ ثُمَّ تَمُوتُ قَالَ فَالْآنَ مِنْ قَرِيبٍ قَالَ رَبِّ أَدْنِنِي مِنْ الْأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ رَمْيَةً بِحَجَرٍ قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهِ لَوْ أَنِّي عِنْدَهُ لَأَرَيْتُكُمْ قَبْرَهُ إِلَى جَنْبِ الطَّرِيقِ عِنْدَ الْكَثِيبِ الْأَحْمَرِ

اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ملک الموت کو حضرت موسٰی علیہ السلام کے پاس جب ان کی روح قبض کرنے کے لئے بھیجا گیا اور وہ ان کے پاس پہنچے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایک طمانچہ مار کر ان کی آنکھ پھوڑ دی وہ اللہ تعالیٰ کے پاس واپس جا کر کہنے لگے کہ آپ نے مجھے ایسے بندے کے پاس بھیج دیا جو مرنا نہیں چاہتا؟ اور اس نے میری آنکھ بھی پھوڑ دی اللہ نے ان کی آنکھ واپس لوٹا دی اور فرمایا ان کے پاس واپس جا کر ان سے کہو کہ اگر زندگی کے خواہاں ہیں تو ایک بیل کی پشت پر ہاتھ رکھ دیں ان کے ہاتھ کے نیچے جتنے بال آ گئے ہر بال کے بدلے ان کی عمر میں ایک سال کا اضافہ ہوجائے گا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پوچھا کہ اے پروردگار پھر کیا ہوگا؟ فرمایا پھر موت آئے گی انہوں نے کہا تو پھر ابھی سہی پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ سے درخواست کی کہ انہیں ایک پتھر پھینکنے کی مقدار کے برابر بیت المقدس کے قریب کردے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اگر میں وہاں ہوتا تو تمہیں راستے کی جانب ایک سرخ ٹیلے کے نیچے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قبر دکھاتا۔

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8157

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8158

وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ يَغْتَسِلُونَ عُرَاةً يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَى سَوْأَةِ بَعْضٍ وَكَانَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام يَغْتَسِلُ وَحْدَهُ فَقَالُوا وَاللَّهِ مَا يَمْنَعُ مُوسَى أَنْ يَغْتَسِلَ مَعَنَا إِلَّا أَنَّهُ آدَرُ قَالَ فَذَهَبَ مَرَّةً يَغْتَسِلُ فَوَضَعَ ثَوْبَهُ عَلَى حَجَرٍ فَفَرَّ الْحَجَرُ بِثَوْبِ مُوسَى قَالَ فَجَمَحَ مُوسَى يَأْمُرُهُ يَقُولُ ثَوْبِي حَجَرُ ثَوْبِي حَجَرُ حَتَّى نَظَرَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ إِلَى سَوْأَةِ مُوسَى وَقَالُوا وَاللَّهِ مَا بِمُوسَى مِنْ بَأْسٍ فَقَامَ الْحَجَرُ بَعْدُ حَتَّى نَظَرَ إِلَيْهِ فَأَخَذَ ثَوْبَهُ وَطَفِقَ بِالْحَجَرِ ضَرْبًا فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَاللَّهِ إِنَّ بِالْحَجَرِ نَدْبًا سِتَّةً أَوْ سَبْعَةً ضَرْبُ مُوسَى بِالْحَجَرِ

اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بنی اسرائیل کے لوگ برہنہ ہو کر غسل کیا کرتے اور ایک دوسرے کی شرمگاہوں کو دیکھا کرتے تھے جبکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام تنہا غسل فرمایا کرتے تھے بنی اسرائیل کے لوگ کہنے لگے واللہ انہیں ہمارے ساتھ غسل کرنے میں صرف اس وجہ سے رکاوٹ ہوتی ہے کہ ان کے غدود پھولے ہوئے ہیں ایک مرتبہ حضرت موسیٰ علیہ السلام غسل کرنے کے لئے گئے تو اپنے کپڑے حسب معمول اتار کر پتھر پر رکھ دئیے وہ پتھر ان کے کپڑے لے کر بھاگ گیا حضرت موسیٰ علیہ السلام اس کے پیچھے پیچھے اے پتھر میرے کپڑے اے پتھر میرے کپڑے کہتے ہوئے دوڑے یہاں تک کہ بنی اسرائیل کی نظر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شرمگاہ پر پڑ گئی اور وہ کہنے لگے کہ و اللہ موسیٰ میں تو کوئی عیب نہیں ہے وہیں وہ پتھر بھی رک گیا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس سے اپنے کپڑے لے کر اسے مارنا شروع کردیا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ واللہ اس پتھر پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی مار کی وجہ سے چھ سات نشان پڑ گئے تھے۔

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8158

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20872

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ بُدَيْلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ عَنْ مَيْسَرَةَ الْفَجْرِ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَى كُتِبْتَ نَبِيًّا قَالَ وآدَمُ عَلَيْهِ السَّلَام بَيْنَ الرُّوحِ وَالْجَسَدِ

حضرت میسرہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یارسول اللہ آپ کب سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جبکہ حضرت آدم ابھی روح اور جسم کے درمیان میں ہی تھے۔

قُلْتُ ← ميسرة الفجر ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، ← بُدَيْلٍ ← مَنْصُورُ بْنُ سَعْدٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20872

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8307

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ قُرَّةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا أَعْلَمُ شَكَّ مُوسَى قَالَ ذَرَارِيُّ الْمُسْلِمِينَ فِي الْجَنَّةِ يَكْفُلُهُمْ إِبْرَاهِيَمُ عَلَيْهِ السَّلَام

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں مسلمانوں کے بچوں کی کفالت حضرت ابراہیم علیہ السلام فرماتے ہیں۔

ذَرَارِيُّ الْمُسْلِمِينَ فِي الْجَنَّةِ يَكْفُلُهُمْ إِبْرَاهِيَمُ ← النَّبِيِّ فِيمَا أَعْلَمُ شَكَّ مُوسَى ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ضَمْرَةَ، ← عَطَاءُ بْنُ قُرَّةَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتٍ ← مُوسَى بْنُ دَاوُدَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8307

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8311

حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ سَمِعْتُ يُونُسَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَحْنُ أَحَقُّ بِالشَّكِّ مِنْ إِبْرَاهِيَمَ عَلَيْهِ السَّلَام إِذْ قَالَ رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَى قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلَى وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْحَمُ اللَّهُ لُوطًا لَقَدْ كَانَ يَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ وَلَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ مَا لَبِثَ يُوسُفُ لَأَجَبْتُ الدَّاعِيَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت ابراہیم علیہ السلام سے زیادہ شک کرنے کے ہم حقدار ہیں کیونکہ انہوں نے فرمایا تھا کہ پروردگار مجھے دکھا کہ تو مردوں کو کس طرح زندہ کرے گا؟ اللہ نے فرمایا کیا تم ایمان نہیں لائے عرض کیا کیوں نہیں لیکن میں اپنے دل کو مطمئن کرنا چاہتا ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی رحمتیں نازل ہوں حضرت لوط علیہ السلام پر وہ ایک مضبوط ستون کی پناہ ڈھونڈ رہے تھے اور اگر میں اتنا عرصہ جیل میں رہتا جتنا عرصہ حضرت یوسف علیہ السلام رہے تو میں آنے والے کی پیشکش کو قبول کرلیتا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← يُونُسَ ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8311

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8323

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ خَالِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ مَوْلًى لِأُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي فَقَالَ خَلَقَ اللَّهُ التُّرْبَةَ يَوْمَ السَّبْتِ وَخَلَقَ الْجِبَالَ فِيهَا يَوْمَ الْأَحَدِ وَخَلَقَ الشَّجَرَ فِيهَا يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَخَلَقَ الْمَكْرُوهَ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ وَخَلَقَ النُّورَ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ وَبَثَّ فِيهَا الدَّوَابَّ يَوْمَ الْخَمِيسِ وَخَلَقَ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَام بَعْدَ الْعَصْرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ آخِرَ الْخَلْقِ فِي آخِرِ سَاعَةٍ مِنْ سَاعَاتِ الْجُمُعَةِ فِيمَا بَيْنَ الْعَصْرِ إِلَى اللَّيْلِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ کر فرمایا اللہ نے ہفتہ کے دن مٹی کو پیدا فرما یا اتوار کے دن پہاڑوں کو پیر کے دن درختوں کو منگل کے دن ناپسندیدہ امور اور بدھ کے دن نور کو پیدا کیا اور جمعرات کے دن اس میں جانداروں کو بسایا جمعہ کے دن نماز عصر کے بعد حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق فرمائی یہ آخری تخلیق تھی جو جمعہ کی آخری ساعتوں میں عصر اور رات کے درمیان وجود میں آئی۔

أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ بِيَدِي، ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ مَوْلًى لِأُمِّ سَلَمَةَ ← أَيُّوبَ بْنِ خَالِدٍ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← حجاج،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8323

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21176

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمُعَلِّمُّ أَبُو مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ جَابِرٍ الْيَمَامِيُّ حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ جَاءَ جُرْمُقَانِيٌّ إِلَى أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَيْنَ صَاحِبُكُمْ هَذَا الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ لَئِنْ سَأَلْتُهُ لَأَعْلَمَنَّ أَنَّهُ نَبِيٌّ أَوْ غَيْرُ نَبِيٍّ قَالَ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ الْجُرْمُقَانِيُّ اقْرَأْ عَلَيَّ أَوْ قُصَّ عَلَيَّ فَتَلَا عَلَيْهِ آيَاتٍ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَقَالَ الْجُرْمُقَانِيُّ هَذَا وَاللَّهِ الَّذِي جَاءَ بِهِ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد هَذَا الْحَدِيثُ مُنْكَرٌ

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جرمقانی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ تمہارے وہ ساتھی کہاں ہیں جو اپنے آپ کو نبی سمجھتے ہیں اگر میں نے ان سے کچھ سوالات پوچھ لئے تو مجھے پتہ چل جائے گا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں یا نہیں۔ اتنی دیر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے جرمقانی نے کہا کہ مجھے کچھ پڑھ کر سنائیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ آیات پڑھ کر سنائیں جرمقانی انہیں سن کر کہنے لگا واللہ یہ ویساہی کلام ہے جو حضرت موسی لے کر آئے تھے۔

أَيْنَ صَاحِبُكُمْ هَذَا الَّذِي يَزْعُمُ ← جَاءَ جُرْمُقَانِيٌّ إِلَى أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ ← جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← أَيُّوبُ بْنُ جَابِرٍ الْيَمَامِيُّ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمُعَلِّمُّ أَبُو مُسْلِمٍ ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21176

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8601

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو يُونُسَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أَبِي لَمْ يَرْفَعْهُ قَالَ جَاءَ مَلَكُ الْمَوْتِ إِلَى مُوسَي فَقَالَ أَجِبْ رَبَّكَ فَلَطَمَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام عَيْنَ مَلَكِ الْمَوْتِ فَفَقَأَهَا فَرَجَعَ الْمَلَكُ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَ إِنَّكَ بَعَثْتَنِي إِلَى عَبْدٍ لَكَ لَا يُرِيدُ الْمَوْتَ وَقَدْ فَقَأَ عَيْنِي قَالَ فَرَدَّ اللَّهُ إِلَيْهِ عَيْنَهُ وَقَالَ ارْجِعْ إِلَى عَبْدِي فَقُلْ لَهُ الْحَيَاةَ تُرِيدُ فَإِنْ كُنْتَ تُرِيدُ الْحَيَاةَ فَضَعْ يَدَكَ عَلَى مَتْنِ ثَوْرٍ فَمَا دَارَتْ يَدُكَ مِنْ شَعَرَةٍ فَإِنَّكَ تَعِيشُ لَهَا سَنَةً قَالَ ثُمَّ مَاذَا قَالَ ثُمَّ الْمَوْتُ قَالَ فَالْآنَ يَا رَبِّ مِنْ قَرِيبٍ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ملک الموت کو حضرت موسی علیہ السلام کے پاس جب ان کی روح قبض کرنے کے لئے پہنچے اور ان سے کہا کہ اپنے رب کی پکار پر لبیک کہئے تو حضرت موسی علیہ السلام نے ایک طمانچہ مار کر ان کی آنکھ پھوڑ دی وہ پروردگار کے پاس واپس جا کر کہنے لگے کہ آپ نے مجھے ایسے بندے کے پاس بھیج دیا جو مرنا نہیں چاہتا اللہ نے ان کی آنکھ واپس لوٹا دی اور فرمایا ان کے پاس واپس جا کر ان سے کہو کہ ایک بیل کی پشت پر ہاتھ رکھ دیں ان کے ہاتھ کے نیچے جتنے بال آگئے ہربال کے بدلے ان کی عمر میں ایک سال کا اضافہ ہوجائے گا حضرت موسی علیہ السلام نے پوچھا کہ اے پروردگارپھر کیا ہوگا فرمایا پھر موت آئے گی انہوں نے کہا تو پھر ابھی سہی

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبُو يُونُسَ، ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← حَسَنٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8601

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21426

حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ الْقُرْقُسَانِيُّ قَالَ الْوَلِيدُ حَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ وَقَالَ مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ أَنَّ الزُّهْرِيَّ حَدَّثَهُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ تَمَارَى هُوَ وَالْحُرُّ بْنُ قَيْسِ بْنِ حِصْنٍ الْفَزَارِيُّ فِي صَاحِبِ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام الَّذِي سَأَلَ السَّبِيلَ إِلَى لُقِيِّهِ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ هُوَ خَضِرٌ إِذْ مَرَّ بِهِمَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ فَنَادَاهُ ابْنُ عَبَّاسٍ فَقَالَ إِنِّي تَمَارَيْتُ أَنَا وَصَاحِبِي هَذَا فِي صَاحِبِ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام الَّذِي سَأَلَ السَّبِيلَ إِلَى لُقِيِّهِ فَهَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ شَأْنَهُ قَالَ نَعَمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بَيْنَا مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام فِي مَلَإٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ إِذْ قَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ فَقَالَ هَلْ تَعْلَمُ أَحَدًا أَعْلَمَ مِنْكَ قَالَ لَا قَالَ فَأَوْحَى اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِلَيْهِ عَبْدُنَا خَضِرٌ فَسَأَلَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام السَّبِيلَ إِلَى لُقِيِّهِ وَجَعَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَهُ الْحُوتَ آيَةً فَقِيلَ لَهُ إِذَا فَقَدْتَ الْحُوتَ فَارْجِعْ فَإِنَّكَ سَتَلْقَاهُ قَالَ ابْنُ مُصْعَبٍ فِي حَدِيثِهِ فَنَزَلَ مَنْزِلًا فَقَالَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام لِفَتَاهُ آتِنَا غَدَاءَنَا لَقَدْ لَقِينَا مِنْ سَفَرِنَا هَذَا نَصَبًا فَعِنْدَ ذَلِكَ فَقَدَ الْحُوتَ فَارْتَدَّا عَلَى آثَارِهِمَا قَصَصًا فَجَعَلَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام يَتْبَعُ أَثَرَ الْحُوتِ فِي الْبَحْرِ قَالَ فَكَانَ مِنْ شَأْنِهِمَا مَا قَصَّ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي كِتَابهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ان کا اور حر بن قیس فزاری کا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اس رفیق کے متعلق اختلاف رائے ہوگیا جس کی طرف سفر کر کے جانے کی بارگاہ الہٰی میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے درخواست کی تھی، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی رائے یہ تھی کہ وہ حضرت خضر علیہ السلام تھے اسی دوران وہاں سے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا گذر ہوا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے انہیں پکار کر کہا کہ میرا اور میرے اس ساتھی کا اس بات میں اختلاف ہوگیا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا وہ ساتھی کون تھا جس کی طرف سفر کر کے ملنے کی درخواست انہوں نے کی تھی؟ کیا آپ نے اس حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ ذکر کرتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے کسی اجتماع سے خطاب فرما رہے تھے کہ ایک آدمی نے کھڑے ہو کر ان سے پوچھا کہ آپ کے علم میں اپنے سے بڑا عالم بھی ہے؟ حضرت موسی علیہ السلام نے فرمایا نہیں اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ وحی آئی کہ ہمارا ایک بندہ خضر تم سے بڑا عالم ہے۔ حضرت موسی علیہ السلام نے ان سے ملنے کا طریقہ پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے ایک مچھلی کو ان کی لئے نشانی قرار دیتے ہوئے فرمایا جب تم مچھلی کو نہ پاؤ تو واپس آجانا کیونکہ وہیں پر تمہاری ان سے ملاقات ہوجائے گی، حضرت موسی علیہ السلام سفر پر روانہ ہوئے تو ایک منزل پر پڑاؤ کیا اور اپنے خادم سے کہنے لگے ہمارا ناشتہ لاؤ اس سفر میں تو ہمیں بڑی مشقت کا سامنا کرنا پڑا ہے وہیں حضرت موسی علیہ السلام نے مچھلی کو غائب پایا تو دونوں اپنے نشانات قدم پر چلتے ہوئے واپس لوٹے اور پھر وہ قصہ پیش آیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں بیان فرمایا ہے۔

الْاَوْزَاعِیُّ ← مُحَمَّدٍ ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِیْدُ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ الْقُرْقُسَانِيُّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21426

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21431

حَدَّثَنِي أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُكَيْرٍ النَّاقِدُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ إِنَّ نَوْفًا الشَّامِيَّ يَزْعُمُ أَوْ يَقُولُ لَيْسَ مُوسَى صَاحِبَ خَضِرٍ مُوسَى بَنِي إِسْرَائِيلَ قَالَ كَذَبَ نَوْفٌ عَدُوُّ اللَّهِ حَدَّثَنِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ مُوسَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ خَطِيبًا فَقَالُوا لَهُ مَنْ أَعْلَمُ النَّاسِ قَالَ أَنَا فَأَوْحَى اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِلَيْهِ أَنَّ لِي عَبْدًا أَعْلَمَ مِنْكَ قَالَ رَبِّ فَأَرِنِيهِ قَالَ قِيلَ تَأْخُذُ حُوتًا فَتَجْعَلُهُ فِي مِكْتَلٍ فَحَيْثُمَا فَقَدْتَهُ فَهُوَ ثَمَّ قَالَ فَأَخَذَ حُوتًا فَجَعَلَهُ فِي مِكْتَلٍ وَجَعَلَ هُوَ وَصَاحِبُهُ يَمْشِيَانِ عَلَى السَّاحِلِ حَتَّى أَتَيَا الصَّخْرَةَ رَقَدَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام وَاضْطَرَبَ الْحُوتُ فِي الْمِكْتَلِ فَوَقَعَ فِي الْبَحْرِ فَحَبَسَ اللَّهُ عَلَيْهِ جِرْيَةَ الْمَاءِ فَاضْطَرَبَ الْمَاءُ فَاسْتَيْقَظَ مُوسَى فَقَالَ لِفَتَاهُ آتِنَا غَدَاءَنَا لَقَدْ لَقِينَا مِنْ سَفَرِنَا هَذَا نَصَبًا وَلَمْ يُصِبْ النَّصَبَ حَتَّى جَاوَزَ الَّذِي أَمَرَهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بِهِ قَالَ فَقَالَ أَرَأَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا إِلَى الصَّخْرَةِ فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ وَمَا أَنْسَانِيهُ إِلَّا الشَّيْطَانُ فَارْتَدَّا عَلَى آثَارِهِمَا قَصَصًا فَجَعَلَا يَقُصَّانِ آثَارَهُمَا وَاتَّخَذَ سَبِيلَهُ فِي الْبَحْرِ سَرَبًا قَالَ أَمْسَكَ عَنْهُ جِرْيَةَ الْمَاءِ فَصَارَ عَلَيْهِ مِثْلُ الطَّاقِ فَكَانَ لِلْحُوتِ سَرَبًا وَكَانَ لِمُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام عَجَبًا حَتَّى انْتَهَيَا إِلَى الصَّخْرَةِ فَإِذَا رَجُلٌ مُسَجًّى عَلَيْهِ ثَوْبٌ فَسَلَّمَ مُوسَى عَلَيْهِ فَقَالَ وَأَنَّى بِأَرْضِكَ السَّلَامُ قَالَ أَنَا مُوسَى قَالَ مُوسَى بَنِي إِسْرَائِيلَ قَالَ نَعَمْ أَتَّبِعُكَ عَلَى أَنْ تُعَلِّمَنِي مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا قَالَ يَا مُوسَى إِنِّي عَلَى عِلْمٍ مِنْ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَا تَعْلَمُهُ وَأَنْتَ عَلَى عِلْمٍ مِنْ اللَّهِ عَلَّمَكَهُ اللَّهُ فَانْطَلَقَا يَمْشِيَانِ عَلَى السَّاحِلِ فَمَرَّتْ سَفِينَةٌ فَعَرَفُوا الْخَضِرَ فَحُمِلَ بِغَيْرِ نَوْلٍ فَلَمْ يُعْجِبْهُ وَنَظَرَ فِي السَّفِينَةِ فَأَخَذَ الْقَدُومَ يُرِيدُ أَنْ يَكْسِرَ مِنْهَا لَوْحًا فَقَالَ حُمِلْنَا بِغَيْرِ نَوْلٍ وَتُرِيدُ أَنْ تَخْرُقَهَا لِتُغْرِقَ أَهْلَهَا قَالَ أَلَمْ أَقُلْ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا قَالَ إِنِّي نَسِيتُ وَجَاءَ عُصْفُورٌ فَنَقَرَ فِي الْبَحْرِ قَالَ الْخَضِرُ مَا يُنْقِصُ عِلْمِي وَلَا عِلْمُكَ مِنْ عِلْمِ اللَّهِ تَعَالَى إِلَّا كَمَا يُنْقِصُ هَذَا الْعُصْفُورُ مِنْ هَذَا الْبَحْرِ فَانْطَلَقَا حَتَّى أَتَيَا أَهْلَ قَرْيَةٍ اسْتَطْعَمَا أَهْلَهَا فَأَبَوْا أَنْ يُضَيِّفُوهُمَا فَرَأَى غُلَامًا فَأَخَذَ رَأْسَهُ فَانْتَزَعَهُ فَقَالَ أَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِيَّةً بِغَيْرِ نَفْسٍ لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا نُكْرًا قَالَ أَلَمْ أَقُلْ لَكَ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا قَالَ سُفْيَانُ قَالَ عَمْرٌو وَهَذِهِ أَشَدُّ مِنْ الْأُولَى قَالَ فَانْطَلَقَا فَإِذَا جِدَارٌ يُرِيدُ أَنْ يَنْقَضَّ فَأَقَامَهُ وَأَرَانَا سُفْيَانُ بِيَدَيْهِ فَرَفَعَ يَدَيْهِ هَكَذَا رَفْعًا فَوَضَعَ رَاحَتَيْهِ فَرَفَعَهُمَا بِبَطْنِ كَفَّيْهِ رَفْعًا فَقَالَ لَوْ شِئْتَ لَاتَّخَذْتَ عَلَيْهِ أَجْرًا قَالَ هَذَا فِرَاقُ بَيْنِي وَبَيْنِكَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ كَانَتْ الْأُولَى نِسْيَانًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْحَمُ اللَّهُ مُوسَى لَوْ كَانَ صَبَرَ حَتَّى يَقُصَّ عَلَيْنَا مِنْ أَمْرِهِ

حضرت سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا کہ نوف بکالی کا خیال ہے کہ (حضرت خضر علیہ السلام والے) موسیٰ بنی اسرائیل کے موسیٰ نہیں ہیں بلکہ وہ کوئی اور موسیٰ ہیں ابن عباس رضی اللہ عنہ بولے دشمن اللہ جھوٹ بولتا ہے مجھ سے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ایک مرتبہ حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے سامنے کھڑے تقریر فرما رہے تھے تقریر ختم ہونے کے بعد ایک شخص نے دریافت کیا کہ سب سے بڑا عالم کون ہے؟ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا میں سب سے بڑا عالم ہوں خداتعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام علیہ السلام پر وحی بھیجی کہ میرے بندوں میں سے ایک بندہ تم سے زیادہ عالم ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا الہٰی اس سے ملاقات کس طرح ہوسکتی ہے؟ حکم دیا گیا کہ اپنے ساتھ زنبیل میں ایک (بھنی ہوئی) مچھلی رکھ لو ( اور سفر کو چل دو) جہاں وہ مچھلی گم ہوجائے وہ شخص وہیں ملے گا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایک مچھلی لے کر زنبیل میں ڈالی اور چل دیئے اور اپنے ساتھ ایک خادم یوشع بن نون کو بھی لیتے گئے چلتے چلتے جب ایک پتھر کے پاس پہنچے تو دونوں (رک گئے اور) حضرت موسیٰ علیہ السلام اس پتھر پر سر رکھ کر سو گئے اتنے میں مچھلی زنبیل سے پھڑک کر نکلی اور دریا میں سرنگ بناتی ہوئی اپنی راہ چلی گئی حضرت موسیٰ علیہ السلام بیدار ہوئے تو موسیٰ نے اپنے خادم سے فرمایا ہم تو اس سفر سے بہت تھک گئے اب کھانا لے آؤ اور موسیٰ کو اس وقت تک کوئی تھکاوٹ نہ ہوئی تھی جب تک کہ مقام مقررہ سے آگے نہ بڑھے تھے بلکہ اس وقت تھکان معلوم ہونے لگی جب مقام مقررہ سے آگے بڑھ گئے خادم کہنے لگا کیا بتاؤں جب ہم اس پتھر کے پاس پہنچے تو میں مچھلی وہاں بھول گیا ( اور آپ سے میں نے اس کا تذکرہ نہ کیا) حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا اسی جگہ کی تو ہم کو تلاش تھی چنانچہ الٹے پاؤں قدم پر قدم ڈالتے واپس لوٹے ۔ پتھر تک پہنچے ہی تھے کہ ایک آدمی کپڑے سے سر لپیٹے ہوئے نظر آیا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے سلام کیا خضر بولے تمہارے ملک میں سلام کا رواج کہاں ہے (یہ تم نے سلام کیسے کیا؟) حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا میں موسیٰ ہوں خضر بولے کیا بنی اسرائیل والے موسیٰ میں نے کہا جی ہاں اس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا کیا میں آپ کے ہمراہ اس شرط پر چل سکتا ہوں کہ خداوند تعالیٰ نے جو علم آپ کو عطا فرمایا ہے اس میں سے کچھ حصہ کی مجھے بھی تعلیم دیجئے حضرت خضر علیہ السلام بولے آپ میرے ساتھ رہ کر صبر نہ کر سکیں گے (درمیان میں بول اٹھیں گے) کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص کا مجھے وہ حصہ عطا فرمایا ہے جو آپ کو نہیں دیا اور آپ کو وہ علم دیا جس سے میں ناواقف ہوں (حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا انشاء اللہ آپ مجھے ثابت قدم پائیں گے میں آپ کے حکم کی خلاف ورزی نہیں کروں گا) آخرکار دونوں دریا کے کنارے کنارے چل دیئے کہ کشتی موجود نہ تھی اتنے میں ادھر سے ایک کشتی کا گزر ہوا انہوں نے کشتی والوں سے سوار ہونے کے متعلق کچھ بات چیت کی حضرت خضر علیہ السلام کو لوگوں نے پہچان لیا اس لئے کشتی والوں نے دونوں کو بغیر کرایہ کے سوار کر لیا اس کے بعدخضر علیہ السلام نے کشتی کو اچھی طرح دیکھ کر بسولا نکال کر کشتی کا ایک تختہ اکھاڑ دیا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا تم نے یہ کیا کیا؟ ان لوگوں نے تو بغیر کرایہ کے ہم کو سوار کر لیا اور تم نے ان کی کشتی توڑ کر سب کو ڈبونا چاہا تم نے یہ عجیب بات کی ؟خضر علیہ السلام بولے میں نے تم سے نہیں کہہ دیا تھا کہ میرے ساتھ رہ کر صبر نہ کر سکو گے، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا بھول چوک پر میری گرفت نہ کیجئے اور مجھ پر میرے کام میں دشواری نہ ڈالیے اسی دوران ایک چڑیا نے آکر سمندر میں اپنی چونچ ڈالی حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا میرا اور تمہارا علم اللہ کے علم میں اتنی بھی کمی نہیں کر سکتاجتنی کمی اس چڑیا نے اس سمندر کے پانی میں کی ہے۔ پھر یہ دونوں حضرات کشتی سے نکل کر چل دیئے راستہ میں ایک لڑکا بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا خضر علیہ السلام نے اس کا سرپکڑ کر اپنے ہاتھ سے گردن اکھاڑ دی حضرت موسیٰ علیہ السلام بولے تم نے جو ایک معصوم جان کو بلا قصور مار ڈالا یہ تم نے بہت برا کام کیا خضر علیہ السلام بولے کیا میں نے نہیں کہہ دیا تھا کہ تم میرے ساتھ رہ کر ضبط نہ کر سکو گے موسیٰ نے کہا اچھا اب اس کے بعد اگر میں آپ سے کچھ دریافت کروں تو آپ مجھے ساتھ نہ رکھنا آپ نے میرا عذر بہت مان لیا آخر کار پھر دونوں چل دیئے چلتے چلتے ایک گاؤں میں پہنچے گاؤں والوں سے کھانا مانگا انہوں نے مہمانی کرنے سے انکار کر دیا ان کو وہاں ایک دیوار نظر آئی جو گرنے کے قریب تھی، حضرت خضر علیہ السلام نے ہاتھ کا اشارہ کر کے اس کو سیدھا کر دیا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا ہم ان لوگوں کے پاس آئے اور انہوں نے ہم کو نہ کھانا دیا نہ مہمانی کی لیکن آپ نے ان کی دیوار ٹھیک کر دی اگر آپ چاہتے تو اس کی اجرت لے سکتے تھے حضرت خضر علیہ السلام بولے بس یہی میرے تمہارے درمیان جدائی ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ پہلی مرتبہ کا سوال بھولے سے ہوا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ موسیٰ پر رحم فرمائے اگر وہ ضبط کر لیتے تو خداتعالیٰ ہمارے سامنے ان کا واقعہ کچھ اور بھی بیان فرماتا۔

قُلْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ: ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُكَيْرٍ النَّاقِدُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21431

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21434

حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ حَدَّثَنِي سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ إِمْلَاءً عَلَيَّ عَنْ عَمْرٍو عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَبِي كَتَبْتُهُ عَنْ بَهْزٍ وَابْنِ عُيَيْنَةَ حَتَّى أَنَّ نَوْفًا يَزْعُمُ أَنَّ مُوسَى لَيْسَ بِصَاحِبِ الْخَضِرِ قَالَ فَقَالَ كَذَبَ عَدُوُّ اللَّهِ حَدَّثَنَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَامَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام خَطِيبًا فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ فَسُئِلَ أَيُّ النَّاسِ أَعْلَمُ قَالَ أَنَا فَعَتَبَ اللَّهُ عَلَيْهِ إِذْ لَمْ يَرُدَّ الْعِلْمَ إِلَيْهِ قَالَ بَلْ عَبْدٌ لِي عِنْدَ مَجْمَعِ الْبَحْرَيْنِ هُوَ أَعْلَمُ مِنْكَ قَالَ أَيْ رَبِّ فَكَيْفَ لِي بِهِ قَالَ خُذْ حُوتًا فَاجْعَلْهُ فِي مِكْتَلٍ ثُمَّ انْطَلِقْ فَحَيْثُمَا فَقَدْتَهُ فَهُوَ ثَمَّ فَانْطَلَقَ مُوسَى وَمَعَهُ فَتَاهُ يَمْشِيَانِ حَتَّى انْتَهَيَا إِلَى الصَّخْرَةِ فَرَقَدَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام وَاضْطَرَبَ الْحُوتُ فِي الْمِكْتَلِ فَخَرَجَ فَوَقَعَ فِي الْبَحْرِ فَأَمْسَكَ اللَّهُ عَنْهُ جِرْيَةَ الْمَاءِ مِثْلَ الطَّاقِ وَكَانَ لِلْحُوتِ سَرَبًا وَقَالَ سُفْيَانُ فَعَقَدَ الْإِبْهَامَ وَالسَّبَّابَةَ وَفَرَّجَ بَيْنَهُمَا قَالَ فَانْطَلَقَا حَتَّى إِذَا كَانَ مِنْ الْغَدِ قَالَ مُوسَى لِفَتَاهُ آتِنَا غَدَاءَنَا لَقَدْ لَقِينَا مِنْ سَفَرِنَا هَذَا نَصَبًا قَالَ وَلَمْ يَجِدْ النَّصَبَ حَتَّى جَاوَزَ حَيْثُ أُمِرَ قَالَ ذَلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِ فَارْتَدَّا عَلَى آثَارِهِمَا قَصَصًا يَقُصَّانِ آثَارَهُمَا قَالَ وَكَانَ لِمُوسَى أَثَرُ الْحُوتِ عَجَبًا وَلِلْحُوتِ سَرَبًا فَذَكَرَ الْحَدِيثَ

حضرت سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا کہ نوف بکالی کا خیال ہے کہ (حضرت خضر علیہ السلام والے) موسیٰ بنی اسرائیل کے موسیٰ نہیں ہیں بلکہ وہ کوئی اور موسیٰ ہیں ابن عباس رضی اللہ عنہ بولے دشمن اللہ جھوٹ بولتا ہے مجھ سے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ایک مرتبہ حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے سامنے کھڑے تقریر فرما رہے تھے تقریر ختم ہونے کے بعد ایک شخص نے دریافت کیا کہ سب سے بڑا عالم کون ہے؟ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا میں سب سے بڑا عالم ہوں خداتعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر وحی بھیجی کہ میرے بندوں میں سے ایک بندہ تم سے زیادہ عالم ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا الہٰی اس سے ملاقات کس طرح ہوسکتی ہے؟ حکم دیا گیا کہ اپنے ساتھ زنبیل میں ایک (بھنی ہوئی) مچھلی رکھ لو ( اور سفر کو چل دو) جہاں وہ مچھلی گم ہوجائے وہ شخص وہیں ملے گا۔ چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام چل دیئے اور اپنے ساتھ ایک خادم یوشع بن نون کو بھی لیتے گئے چلتے چلتے جب ایک پتھر کے پاس پہنچے تو دونوں (رک گئے اور) حضرت موسیٰ علیہ السلام اس پتھر پر سر رکھ کر سوگئے اتنے میں مچھلی زنبیل سے پھڑک کر نکلی اور دریا میں سرنگ بناتی ہوئی اپنی راہ چلی گئی حضرت موسیٰ علیہ السلام بیدار ہوئے تو موسیٰ نے اپنے خادم سے فرمایا ہم تو اس سفر سے بہت تھک گئے اب کھانا لے آؤ اور موسیٰ کو اس وقت تک کوئی تھکاوٹ نہ ہوئی تھی جب تک کہ مقام مقررہ سے آگے نہ بڑھے تھے بلکہ اس وقت تھکان معلوم ہونے لگی جب مقام مقررہ سے آگے بڑھ گئے خادم کہنے لگا کیا بتاؤں جب ہم اس پتھر کے پاس پہنچے تو میں مچھلی وہاں بھول گیا ( اور آپ سے میں نے اس کا تذکرہ نہ کیا) حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا اسی جگہ کی تو ہم کو تلاش تھی چنانچہ الٹے پاؤں قدم پر قدم ڈالتے واپس لوٹے گویا حضرت موسیٰ علیہ السلام کو تعجب ہوا اور مچھلی سرنگ بنا کر چلی گئی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔

بَهْزٍ وَابْنِ عُيَيْنَةَ حَتَّى ← أَبِي كَتَبْتُهُ ← قُلْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ: ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَمْرٍو، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ إِمْلَاءً عَلَيَّ ← بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21434

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21435

حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كُنَّا عِنْدَهُ فَقَالَ الْقَوْمُ إِنَّ نَوْفًا الشَّامِيَّ يَزْعُمُ أَنَّ الَّذِي ذَهَبَ يَطْلُبُ الْعِلْمَ لَيْسَ مُوسَى بَنِي إِسْرَائِيلَ وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ مُتَّكِئًا فَاسْتَوَى جَالِسًا فَقَالَ كَذَلِكَ يَا سَعِيدُ قُلْتُ نَعَمْ أَنَا سَمِعْتُهُ يَقُولُ ذَاكَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ كَذَبَ نَوْفٌ حَدَّثَنِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْنَا وَعَلَى صَالِحٍ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْنَا وَعَلَى أَخِي عَادٍ ثُمَّ قَالَ إِنَّ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام بَيْنَا هُوَ يَخْطُبُ قَوْمَهُ ذَاتَ يَوْمٍ إِذْ قَالَ لَهُمْ مَا فِي الْأَرْضِ أَحَدٌ أَعْلَمُ مِنِّي وَأَوْحَى اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِلَيْهِ أَنَّ فِي الْأَرْضِ مَنْ هُوَ أَعْلَمُ مِنْكَ وَآيَةُ ذَلِكَ أَنْ تُزَوَّدَ حُوتًا مَالِحًا فَإِذَا فَقَدْتَهُ فَهُوَ حَيْثُ تَفْقِدُهُ فَتَزَوَّدَ حُوتًا مَالِحًا فَانْطَلَقَ هُوَ وَفَتَاهُ حَتَّى إِذَا بَلَغَ الْمَكَانَ الَّذِي أُمِرُوا بِهِ فَلَمَّا انْتَهَوْا إِلَى الصَّخْرَةِ انْطَلَقَ مُوسَى يَطْلُبُ وَوَضَعَ فَتَاهُ الْحُوتَ عَلَى الصَّخْرَةِ وَاضْطَرَبَ فَاتَّخَذَ سَبِيلَهُ فِي الْبَحْرِ سَرَبًا قَالَ فَتَاهُ إِذَا جَاءَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثْتُهُ فَأَنْسَاهُ الشَّيْطَانُ فَانْطَلَقَا فَأَصَابَهُمْ مَا يُصِيبُ الْمُسَافِرَ مِنْ النَّصَبِ وَالْكَلَالِ وَلَمْ يَكُنْ يُصِيبُهُ مَا يُصِيبُ الْمُسَافِرَ مِنْ النَّصَبِ وَالْكَلَالِ حَتَّى جَاوَزَ مَا أُمِرَ بِهِ فَقَالَ مُوسَى لِفَتَاهُ آتِنَا غَدَاءَنَا لَقَدْ لَقِينَا مِنْ سَفَرِنَا هَذَا نَصَبًا قَالَ لَهُ فَتَاهُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا إِلَى الصَّخْرَةِ فَإِنِّي نَسِيتُ أَنْ أُحَدِّثَكَ وَمَا أَنْسَانِيهُ إِلَّا الشَّيْطَانُ فَاتَّخَذَ سَبِيلَهُ فِي الْبَحْرِ سَرَبًا قَالَ ذَلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِ فَرَجَعَا عَلَى آثَارِهِمَا قَصَصًا يَقُصَّانِ الْأَثَرَ حَتَّى إِذَا انْتَهَيَا إِلَى الصَّخْرَةِ فَأَطَافَ بِهَا فَإِذَا هُوَ مُسَجًّى بِثَوْبٍ لَهُ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ لَهُ مَنْ أَنْتَ قَالَ مُوسَى قَالَ مَنْ مُوسَى قَالَ مُوسَى بَنِي إِسْرَائِيلَ قَالَ أُخْبِرْتُ أَنَّ عِنْدَكَ عِلْمًا فَأَرَدْتُ أَنْ أَصْحَبَكَ قَالَ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا قَالَ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ صَابِرًا وَلَا أَعْصِي لَكَ أَمْرًا قَالَ فَكَيْفَ تَصْبِرُ عَلَى مَا لَمْ تُحِطْ بِهِ خُبْرًا قَالَ قَدْ أُمِرْتُ أَنْ أَفْعَلَهُ قَالَ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ صَابِرًا قَالَ فَإِنْ اتَّبَعْتَنِي فَلَا تَسْأَلْنِي عَنْ شَيْءٍ حَتَّى أُحْدِثَ لَكَ مِنْهُ ذِكْرًا فَانْطَلَقَا حَتَّى إِذَا رَكِبَا فِي السَّفِينَةِ خَرَجَ مَنْ كَانَ فِيهَا وَتَخَلَّفَ لِيَخْرِقَهَا قَالَ فَقَالَ لَهُ مُوسَى تَخْرِقُهَا لِتُغْرِقَ أَهْلَهَا لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا إِمْرًا قَالَ أَلَمْ أَقُلْ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا قَالَ لَا تُؤَاخِذْنِي بِمَا نَسِيتُ وَلَا تُرْهِقْنِي مِنْ أَمْرِي عُسْرًا فَانْطَلَقَا حَتَّى إِذَا أَتَوْا عَلَى غِلْمَانٍ يَلْعَبُونَ عَلَى سَاحِل الْبَحْرِ وَفِيهِمْ غُلَامٌ لَيْسَ فِي الْغِلْمَانِ غُلَامٌ أَنْظَفَ يَعْنِي مِنْهُ فَأَخَذَهُ فَقَتَلَهُ فَنَفَرَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام عِنْدَ ذَلِكَ وَقَالَ أَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِيَّةً بِغَيْرِ نَفْسٍ لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا نُكْرًا قَالَ أَلَمْ أَقُلْ لَكَ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا قَالَ فَأَخَذَتْهُ ذَمَامَةٌ مِنْ صَاحِبِهِ وَاسْتَحَى فَقَالَ إِنْ سَأَلْتُكَ عَنْ شَيْءٍ بَعْدَهَا فَلَا تُصَاحِبْنِي قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَدُنِّي عُذْرًا فَانْطَلَقَا حَتَّى إِذَا أَتَيَا أَهْلَ قَرْيَةٍ لِئَامًا اسْتَطْعَمَا أَهْلَهَا وَقَدْ أَصَابَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام جَهْدٌ فَلَمْ يُضَيِّفُوهُمَا فَوَجَدَا فِيهَا جِدَارًا يُرِيدُ أَنْ يَنْقَضَّ فَأَقَامَهُ قَالَ لَهُ مُوسَى مِمَّا نَزَلَ بِهِمْ مِنْ الْجَهْدِ لَوْ شِئْتَ لَاتَّخَذْتَ عَلَيْهِ أَجْرًا قَالَ هَذَا فِرَاقُ بَيْنِي وَبَيْنِكَ فَأَخَذَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام بِطَرَفِ ثَوْبِهِ فَقَالَ حَدِّثْنِي فَقَالَ أَمَّا السَّفِينَةُ فَكَانَتْ لِمَسَاكِينَ يَعْمَلُونَ فِي الْبَحْرِ وَكَانَ وَرَاءَهُمْ مَلِكٌ يَأْخُذُ كُلَّ سَفِينَةٍ غَصْبًا فَإِذَا مَرَّ عَلَيْهَا فَرَآهَا مُنْخَرِقَةً تَرَكَهَا وَرَقَّعَهَا أَهْلُهَا بِقِطْعَةِ خَشَبَةٍ فَانْتَفَعُوا بِهَا وَأَمَّا الْغُلَامُ فَإِنَّهُ كَانَ طُبِعَ يَوْمَ طُبِعَ كَافِرًا وَكَانَ قَدْ أُلْقِيَ عَلَيْهِ مَحَبَّةٌ مِنْ أَبَوَيْهِ وَلَوْ أَطَاعَاهُ لَأَرْهَقَهُمَا طُغْيَانًا وَكُفْرًا فَأَرَدْنَا أَنْ يُبْدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَيْرًا مِنْهُ زَكَاةً وَأَقْرَبَ رُحْمًا وَوَقَعَ أَبُوهُ عَلَى أُمِّهِ فَعَلِقَتْ فَوَلَدَتْ مِنْهُ خَيْرًا مِنْهُ زَكَاةً وَأَقْرَبَ رُحْمًا وَأَمَّا الْجِدَارُ فَكَانَ لِغُلَامَيْنِ يَتِيمَيْنِ فِي الْمَدِينَةِ وَكَانَ تَحْتَهُ كَنْزٌ لَهُمَا وَكَانَ أَبُوهُمَا صَالِحًا فَأَرَادَ رَبُّكَ أَنْ يَبْلُغَا أَشُدَّهُمَا وَيَسْتَخْرِجَا كَنْزَهُمَا رَحْمَةً مِنْ رَبِّكَ وَمَا فَعَلْتُهُ عَنْ أَمْرِي ذَلِكَ تَأْوِيلُ مَا لَمْ تَسْطِعْ عَلَيْهِ صَبْرًا

حضرت سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا کہ نوف بکالی کا خیال ہے کہ (حضرت خضر علیہ السلام والے) موسیٰ بنی اسرائیل کے موسیٰ نہیں ہیں بلکہ وہ کوئی اور موسیٰ ہیں ابن عباس رضی اللہ عنہ بولے دشمن اللہ جھوٹ بولتا ہے مجھ سے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ایک مرتبہ حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے سامنے کھڑے تقریر فرما رہے تھے تقریر ختم ہونے کے بعد ایک شخص نے دریافت کیا کہ سب سے بڑا عالم کون ہے؟ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا میں سب سے بڑا عالم ہوں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر وحی بھیجی کہ میرے بندوں میں سے ایک بندہ تم سے زیادہ عالم ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا الہٰی اس سے ملاقات کس طرح ہوسکتی ہے؟ حکم دیا گیا کہ اپنے ساتھ زنبیل میں ایک (بھنی ہوئی) مچھلی رکھ لو ( اور سفر کو چل دو) جہاں وہ مچھلی گم ہوجائے وہ شخص وہیں ملے گا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایک مچھلی لے کر زنبیل میں ڈالی اور چل دیئے اور اپنے ساتھ ایک خادم یوشع بن نون کو بھی لیتے گئے چلتے چلتے جب ایک پتھر کے پاس پہنچے تو دونوں (رک گئے اور) حضرت موسیٰ علیہ السلام اس پتھر پر سر رکھ کر سوگئے اتنے میں مچھلی زنبیل سے پھڑک کر نکلی اور دریا میں سرنگ بناتی ہوئی اپنی راہ چلی گئی حضرت موسیٰ علیہ السلام بیدار ہوئے تو موسیٰ نے اپنے خادم سے فرمایا ہم تو اس سفر سے بہت تھک گئے اب کھانا لے آؤ اور موسیٰ کو اس وقت تک کوئی تھکاوٹ نہ ہوئی تھی جب تک کہ مقام مقررہ سے آگے نہ بڑھے تھے بلکہ اس وقت تھکان معلوم ہونے لگی جب مقام مقررہ سے آگے بڑھ گئے خادم کہنے لگا کیا بتاؤں جب ہم اس پتھرکے پاس پہنچے تو میں مچھلی وہاں بھول گیا ( اور آپ سے میں نے اس کا تذکرہ نہ کیا) حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا اسی جگہ کی تو ہم کو تلاش تھی چنانچہ الٹے پاؤں قدم پر قدم ڈالتے واپس لوٹے ۔ پتھر تک پہنچے ہی تھے کہ ایک آدمی کپڑے سے سر لپیٹے ہوئے نظر آیا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے سلام کیا خضر بولے تمہارے ملک میں سلام کا رواج کہاں ہے (یہ تم نے سلام کیسے کیا؟) حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا میں موسیٰ ہوں خضربولے کیا بنی اسرائیل والے موسیٰ میں نے کہا جی ہاں اس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا کیا میں آپ کے ہمراہ اس شرط پر چل سکتا ہوں کہ خداوند تعالیٰ نے جو علم آپ کو عطا فرمایا ہے اس میں سے کچھ حصہ کی مجھے بھی تعلیم دیجئے حضرت خضر علیہ السلام بولے آپ میرے ساتھ رہ کر صبر نہ کرسکیں گے (درمیان میں بول اٹھیں گے) کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص کا مجھے وہ حصہ عطا فرمایا ہے جو آپ کو نہیں دیا اور آپ کو وہ علم دیا جس سے میں ناواقف ہوں (حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا انشاء اللہ آپ مجھے ثابت قدم پائیں گے میں آپ کے حکم کی خلاف ورزی نہیں کروں گا) آخرکار دونوں دریا کے کنارے کنارے چل دیئے کہ کشتی موجود نہ تھی اتنے میں ادھر سے ایک کشتی کا گزر ہوا انہوں نے کشتی والوں سے سوار ہونے کے متعلق کچھ بات چیت کی حضرت خضر علیہ السلام کو لوگوں نے پہچان لیا اس لئے کشتی والوں نے دونوں کو بغیر کرایہ کے سوار کر لیا اس کے بعد خضر علیہ السلام نے کشتی کو اچھی طرح دیکھ کر بسولا نکال کر کشتی کا ایک تختہ اکھاڑ دیا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا تم نے یہ کیا کیا؟ ان لوگوں نے تو بغیر کرایہ کے ہم کو سوار کر لیا اور تم نے ان کی کشتی توڑ کر سب کو ڈبونا چاہا تم نے یہ عجیب بات کی ؟خضر علیہ السلام بولے میں نے تم سے نہیں کہہ دیا تھا کہ میرے ساتھ رہ کر صبر نہ کر سکو گے، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا بھول چوک پر میری گرفت نہ کیجئے اور مجھ پر میرے کام میں دشواری نہ ڈالیے اسی دوران ایک چڑیا نے آکر سمندر میں اپنی چونچ ڈالی حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا میرا اور تمہارا علم اللہ کے علم میں اتنی بھی کمی نہیں کرسکتا جتنی کمی اس چڑیا نے اس سمندر کے پانی میں کی ہے۔ پھر یہ دونوں حضرات کشتی سے نکل کر چل دیئے ساحل سمندر پر ایک لڑکا بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا خضر علیہ السلام نے اس کا سر پکڑ کر اپنے ہاتھ سے گردن اکھاڑ دی حضرت موسیٰ علیہ السلام بولے تم نے جو ایک معصوم جان کو بلا قصور مار ڈالا یہ تم نے بہت برا کام کیا خضر علیہ السلام بولے کیا میں نے نہیں کہہ دیا تھا کہ تم میرے ساتھ رہ کر ضبط نہ کر سکو گے موسیٰ نے کہا اچھا اب اس کے بعد اگر میں آپ سے کچھ دریافت کروں تو آپ مجھے ساتھ نہ رکھنا آپ نے میرا عذر بہت مان لیا آخر کار پھر دونوں چل دیئے چلتے چلتے ایک گاؤں میں پہنچے گاؤں والوں سے کھانا مانگا انہوں نے مہمانی کرنے سے انکار کر دیا ان کو وہاں ایک دیوار نظر آئی جو گرنے کے قریب تھی، حضرت خضر علیہ السلام نے ہاتھ کا اشارہ کر کے اس کو سیدھا کر دیا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا ہم ان لوگوں کے پاس آئے اور انہوں نے ہم کو نہ کھانا دیا نہ مہمانی کی لیکن آپ نے ان کی دیوار ٹھیک کر دی اگر آپ چاہتے تو اس کی اجرت لے سکتے تھے حضرت خضر علیہ السلام بولے بس یہی میرے تمہارے درمیان جدائی ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان کے کپڑے کا کنارہ پکڑ کر کہا کہ مجھے ان واقعات کی تفصیل تو بتا دیجئے انہوں نے فرمایا کشتی والوں سے آگے ایک ظالم بادشاہ تھا جو ثابت اور عمدہ کشتیاں چھین لیا کرتا تھا (اس لئے حضرت خضر علیہ السلام نے اس کشتی کو عیب دار کر دیا) اور وہ لڑکا کافر تھا اس کے والدین نیک آدمی تھے (خوف ہوا کہ کہیں والدین اس کی وجہ سے تباہ نہ ہوں اس لئے حضرت خضر علیہ السلام نے اس کو بحکم اللہ قتل کر دیا) اور وہ دیوار دو یتیم بچوں کی تھی جس کے نیچے ان کا خزانہ محفوظ تھا اس کی حفاظت کے لئے حضرت خضر علیہ السلام نے دیوار سیدھی کردی تھی اور یہ کام میں نے اپنی مرضی سے نہیں کئے یہ ان تمام چیزوں کی حقیقت ہے جن پر آپ صبر نہیں سکے۔

الْقَوْمَ ← كُنَّا عِنْدَهُ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21435

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21438

قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أَبُو الْهَيْثَمِ الزُّبَالِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي حَدَّثَنَا رَقَبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدَّثَنَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ قَالَ سَمِعْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بَيْنَمَا مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام فِي قَوْمِهِ يُذَكِّرُهُمْ بِأَيَّامِ اللَّهِ وَأَيَّامُ اللَّهِ نِعَمُهُ وَبَلَاؤُهُ إِذْ قَالَ مَا أَعْلَمُ فِي الْأَرْضِ رَجُلًا خَيْرًا مِنِّي أَوْ أَعْلَمَ مِنِّي قَالَ فَأَوْحَى اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِلَيْهِ إِنِّي أَعْلَمُ بِالْخَيْرِ مَنْ هُوَ أَوْ عِنْدَ مَنْ هُوَ إِنَّ فِي الْأَرْضِ رَجُلًا هُوَ أَعْلَمُ مِنْكَ قَالَ يَا رَبِّ فَدُلَّنِي عَلَيْهِ فَقِيلَ لَهُ تَزَوَّدْ حُوتًا مَالِحًا فَفَعَلَ ثُمَّ خَرَجَ فَلَقِيَ الْخَضِرَ فَكَانَ مِنْ أَمْرِهِمَا مَا كَانَ حَتَّى كَانَ آخِرُ ذَلِكَ مَرُّوا بِالْقَرْيَةِ اللِّئَامِ أَهْلُهَا فَطَافَا فِي الْمَجَالِسِ فَاسْتَطْعَمَا فَأَبَوْا أَنْ يُضَيِّفُوهُمَا ثُمَّ قَصَّ عَلَيْهِ النَّبَأَ نَبَأَ السَّفِينَةِ وَإِنَّهُ إِنَّمَا خَرَقَهَا لِيَتَجَوَّزَهَا الْمَلِكُ فَلَا يُرِيدُهَا وَأَمَّا الْغُلَامُ فَطُبِعَ يَوْمَ طُبِعَ كَافِرًا كَانَ أَبَوَاهُ عَطَفَا عَلَيْهِ فَلَوْ أَنَّهُ أَدْرَكَ لَأَرْهَقَهُمَا طُغْيَانًا وَكُفْرًا وَأَمَّا الْجِدَارُ فَكَانَ لِغُلَامَيْنِ يَتِيمَيْنِ فِي الْمَدِينَةِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بحوالہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے سامنے کھڑے تقریر فرما رہے تھے تقریر ختم ہونے کے بعد ایک شخص نے دریافت کیا کہ سب سے بڑا عالم کون ہے؟ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا میں سب سے بڑا عالم ہوں اللہ تعالیٰ کو یہ بات ناگوار ہوئی کہ موسیٰ نے علم کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب نہیں کیا لہٰذا حضرت موسیٰ علیہ السلام پر وحی بھیجی کہ میرے بندوں میں سے ایک بندہ تم سے زیادہ عالم ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا الہٰی اس سے ملاقات کس طرح ہوسکتی ہے؟ حکم دیا گیا کہ اپنے ساتھ زنبیل میں ایک (بھنی ہوئی) مچھلی رکھ لو ( اور سفر کو چل دو) جہاں وہ مچھلی گم ہوجائے وہ شخص وہیں ملے گا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایک مچھلی لے کر زنبیل میں ڈالی اور چل دیئے اور وہ قصہ پیش آیا جو اللہ نے بیان کیا ہے حتٰی کہ سب سے آخر میں چلتے چلتے ایک گاؤں میں پہنچے گاؤں والوں سے کھانا مانگا انہوں نے مہمانی کرنے سے انکار کر دیا پھر حضرت خضر علیہ السلام نے ان کے سامنے کشتی والے واقعے کی حقیقت بیان کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اسے بادشاہ کی وجہ سے توڑا تھا تاکہ وہ وہاں سے گذرے اس سے کوئی تعرض نہ کرے اور رہا لڑکا تو فطری طور پر وہ کافر تھا اس کے والدین اس پر بہت شفیق تھے اگر وہ زندہ رہتا تو انہیں سرکشی اور نافرمانی میں مبتلا کر دیتا اور رہی دیوار تو وہ شہر میں دو یتیم لڑکوں کی تھی۔

أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← رَقَبَةَ، ← أَبِي ← مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أَبُو الْهَيْثَمِ الزُّبَالِيُّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21438

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21440

حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عَبَّاسٍ الْهَمْدَانِيُّ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْغُلَامُ الَّذِي قَتَلَهُ صَاحِبُ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام طُبِعَ يَوْمَ طُبِعَ كَافِرًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بحوالہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت خضر علیہ السلام نے جس لڑکے کو قتل کیا تھا وہ طبعاً کافر تھا ( اگر وہ زندگی پاتا تو اپنے والدین کو بھی سرکشی اور کفر کے قریب پہنچا دیتا)

النَّبِيِّ الْغُلَامُ الَّذِي قَتَلَهُ صَاحِبُ مُوسَى طُبِعَ يَوْمَ طُبِعَ كَافِرًا ← أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عَبَّاسٍ الْهَمْدَانِيُّ ← سَلمُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ← سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21440

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21449

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَيْمُونٍ الْقَدَّاحُ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّادِقُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَارَانِي رَجُلٌ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ فِي الرَّجُلِ الَّذِي اتَّبَعَهُ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام فَقُلْتُ هُوَ الْخَضِرُ عَلَيْهِ السَّلَام وَقَالَ الْفَزَارِيُّ هُوَ رَجُلٌ آخَرُ فَمَرَّ بِنَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَدَعَوْتُهُ فَسَأَلْتُهُ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ الَّذِي تَبِعَهُ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام قَالَ نَعَمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بَيْنَمَا مُوسَى جَالِسٌ فِي مَلَإٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ هَلْ أَحَدٌ أَعْلَمُ بِاللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مِنْكَ قَالَ مَا أَرَى فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ بَلَى عَبْدِي الْخَضِرُ فَسَأَلَ السَّبِيلَ إِلَيْهِ فَجَعَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَهُ الْحُوتَ آيَةً إِنْ افْتَقَدَهُ وَكَانَ مِنْ شَأْنِهِ مَا قَصَّ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ان کا اور حر بن قیس فزاری کا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اس رفیق کے متعلق اختلاف رائے ہوگیا جس طرف سفر کر کے جانے کی بارگاہ الہٰی میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے درخواست کی تھی۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی رائے یہ تھی کہ وہ حضرت خضر علیہ السلام تھے اسی دوران وہاں سے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا گذر ہوا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ انہیں پکار کر کہا کہ میرا اور میرے اس ساتھی کا اس بات میں اختلاف ہوگیا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا وہ ساتھی کون تھا جس کی طرف سفر کر کے ملنے کی درخواست انہوں نے کی تھی ؟ کیا آپ نے اس حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ ذکر کرتے ہوئے سنا ہے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے کسی اجتماع سے خطاب فرما رہے تھے کہ ایک آدمی نے کھڑے ہو کر ان سے پوچھا کہ آپ کے عمل میں اپنے سے بڑا کوئی عالم بھی ہے؟ حضرت موسی علیہ السلام نے فرمایا نہیں اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ وحی آئی کہ ہمارا ایک بندہ خضر تم سے بڑا عالم ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان سے ملنے کا طریقہ پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے ایک مچھلی کو ان کے لئے نشانی قرار دیتے ہوئے فرمایا جب تم مچھلی کو نہ پاؤ تو واپس آجانا کیونکہ وہیں پر تمہاری ان سے ملاقات ہو جائے گی حضرت موسیٰ علیہ السلام سفر پر روانہ ہوئے تو ایک منزل پر پڑاؤ کیا اور اپنے خادم سے کہنے لگے ہمارا ناشتہ لاؤ اس سفر میں تو ہمیں بڑی مشقت کا سامنا کرنا پڑا ہے وہیں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے مچھلی کو غائب پایا تو دونوں اپنے نشانات قدم پر چلتے ہوئے واپس لوٹے اور پھر وہ قصہ پیش آیا جو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں بیان فرمایا ہے۔

نَعَمْ ← ابْنُ عَبَّاسٍ فَدَعَوْتُهُ فَسَأَلْتُهُ ← الْفَزَارِيُّ هُوَ رَجُلٌ آخَرُ فَمَرَّ بِنَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ← مَارَانِي رَجُلٌ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ فِي الرَّجُلِ الَّذِي اتَّبَعَهُ مُوسَى فَقُلْتُ هُوَ الْخَضِرُ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← جعفر بن محمد الصادق ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَيْمُونٍ الْقدَّاحُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21449

chevron_left Previous
1…789…226
Next chevron_right