Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الحكم والقضاء

Governance & Judiciary

29060 hadiths

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 905

عن عائشة رضي الله عنها قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يقسم لنسائه،‏‏‏‏ فيعدل،‏‏‏‏ ويقول: «‏‏‏‏اللهم هذا قسمي فيما املك،‏‏‏‏ فلا تلمني فيما تملك،‏‏‏‏ ولا املك» .‏‏‏‏رواه الاربعة وصححه ابن حبان والحاكم،‏‏‏‏ ولكن رجح الترمذي إرساله.

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج مطہرات کے درمیان باری تقسیم کرتے تھے اور عدل و انصاف کو ملحوظ رکھتے تھے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے حضور عرض کرتے تھے ”الٰہی! جو میرے بس میں ہے اس کے مطابق میں نے یہ تقسیم کی ہے اور جو میرے بس میں نہیں، تیرے اختیار میں ہے، اس میں مجھے ملامت نہ کرنا۔“ اسے چاروں نے روایت کی ہے اور ابن حبان اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے، لیکن ترمذی نے اس روایت کے مرسل ہونے کو ترجیح دی ہے۔

كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يقسم لنسائه،‏‏‏‏ فيعدل،‏‏‏‏ ← عَائِشَةَ

Bulugh Al Maram · The Book of Marriage › Chapter · Hadith 905

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 910

وعن عروة قال: قالت عائشة رضي الله عنها: يا ابن اختي كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم لا يفضل بعضنا على بعض في القسم من مكثه عندنا وكان قل يوم إلا وهو يطوف علينا جميعا فيدنو من كل امراة من غير مسيس حتى يبلغ التي هو يومها،‏‏‏‏ فيبيت عندها.رواه احمد وابو داود واللفظ له،‏‏‏‏ وصححه الحاكم. ولمسلم عن عائشة رضي الله عنها قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم إذا صلى العصر دار على نسائه،‏‏‏‏ ثم يدنو منهن. الحديث.

سیدنا عروہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ”اے میری بہن کے لخت جگر (بھانجے)! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج مطہرات کی باری کی تقسیم میں کسی کو کسی پر فوقیت و فضیلت نہیں دیتے تھے۔ ہمارے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام کے اعتبار سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا اور کم ہی ایسا کوئی دن ہو گا جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آتے جاتے نہ ہوں اور ہر بیوی کے پاس جاتے ضرور مگر کسی کو چھوتے تک نہ تھے۔ پھر اس بیوی کے پاس پہنچ جاتے جس کی باری ہوتی اور رات اس کے پاس بسر فرماتے۔“ احمد و ابوداؤد اور یہ الفاظ ابوداؤد کے ہیں۔ حاکم نے اسے صحیح کہا ہے۔ اور مسلم میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز عصر ادا فرما کر اپنی ساری بیویوں کے ہاں تشریف لے جاتے پھر ان سے قرب بھی حاصل کرتے۔

عُرْوَةَ

Bulugh Al Maram · The Book of Marriage › Chapter · Hadith 910

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 915

عن ابن عمر رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏ابغض الحلال إلى الله الطلاق» ‏‏‏‏ رواه ابو داود وابن ماجه وصححه الحاكم ورجح ابو حاتم إرساله.

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”حلال چیزوں میں سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ بری چیز طلاق ہے۔“ اسے ابوداؤد اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور ابوحاتم نے اس کے مرسل ہونے کو ترجیح دی ہے۔

ابْنِ عُمَرَ

Bulugh Al Maram · The Book of Marriage › Chapter · Hadith 915

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 917

وعن ابن عباس رضى الله عنهما قال: كان الطلاق على عهد رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم وابي بكر وسنتين من خلافة عمر طلاق الثلاث واحدة فقال عمر: إن الناس قد استعجلوا في امر كانت لهم فيه اناة فلو امضيناه عليهم فامضاه عليهم. رواه مسلم.

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عہدرسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم اور دور خلافت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے ابتدائی دو سال تک تین طلاقیں، ایک ہی طلاق شمار ہوتی تھیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ لوگوں نے ایسے معاملے میں جلدی کی جس میں ان کے لیے سہولت دی گئی تھی، پس چاہیئے کہ ہم اس کو نافذ کر دیں۔ لہذا آپ رضی اللہ عنہ نے اس کو ان پر جاری کر دیا۔ (مسلم)

ابْنِ عَبَّاسٍ،

Bulugh Al Maram · The Book of Marriage › Chapter · Hadith 917

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 920

وعن ابي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏ثلاث جدهن جد وهزلهن جد: النكاح والطلاق والرجعة» .‏‏‏‏ رواه الاربعة إلا النسائي وصححه الحاكم وفي رواية لابن عدي من وجه آخر ضعيف: «‏‏‏‏الطلاق والنكاح والعتاق» .‏‏‏‏وللحارث بن ابي اسامة من حديث عبادة بن الصامت رفعه: «‏‏‏‏لا يجوز اللعب في ثلاث: الطلاق والنكاح والعتاق فمن قالهن فقد وجبن» .‏‏‏‏ وسنده ضعيف.

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تین امور ایسے ہیں کہ ان کی سنجیدگی بھی سنجیدگی ہے اور ان کا مذاق بھی سنجیدگی ہے۔ نکاح، طلاق اور رجوع کرنا۔“ اسے چاروں نے روایت کیا ہے بجز نسائی کے اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے اور ابن عدی کی ایک دوسری ضعیف روایت میں ہے ”طلاق، آزادی اور نکاح۔“ اور حارث بن ابی اسامہ کی روایت جو عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مرفوع مروی ہے، میں ہے ”تین چیزوں میں مذاق کرنا جائز نہیں طلاق، نکاح اور آزادی۔ جو آدمی ان امور کو مذاق سے بھی کہے گا تو وہ واجب ہو جائیں گے۔“ اس کی سند ضعیف ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ،

Bulugh Al Maram · The Book of Marriage › Chapter · Hadith 920

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 922

وعن ابن عباس رضي الله تعالى عنهما عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏إن الله وضع عن امتي الخطا والنسيان وما استكرهوا عليه» ‏‏‏‏ رواه ابن ماجه والحاكم وقال ابو حاتم: لا يثبت.

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ نے میری امت سے خطا، بھول چوک اور جس پر اسے مجبور کیا گیا ہو معاف فرما دیا ہے۔“ اسے ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور ابوحاتم نے کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح نہیں ہے۔

ابو حاتم: لا يثبت. ← امتي الخطا والنسيان وما استكرهوا عليه» رواه ابن ماجه والحاكم ← إِنَّ اللَّهَ وَضَعَ ← النبي صلى الله عليه وآله وسلم ← ابن عباس رضي الله تعالى عنهما

Bulugh Al Maram · The Book of Marriage › Chapter · Hadith 922

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 925

وعن جابر رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏لا طلاق إلا بعد نكاح ولا عتق إلا بعد ملك» .‏‏‏‏ رواه ابو يعلى وصححه الحاكم وهو معلول واخرج ابن ماجه عن المسور بن مخرمة مثله وإسناده حسن لكنه معلول ايضا

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”نہیں طلاق، مگر نکاح کے بعد اور اسی طرح آزادی نہیں مگر ملکیت کے بعد۔“ اسے ابو یعلیٰ نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے حالانکہ یہ معلول ہے اور ابن ماجہ نے سیدنا مسور بن مخرمہ کے واسطہ سے اسی جیسی ایک حدیث روایت کی ہے کہ جس کی اسناد تو اچھی ہیں لیکن وہ بھی معلول ہے۔

جَابِرٍ

Bulugh Al Maram · The Book of Marriage › Chapter · Hadith 925

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 927

وعن عائشة رضي الله تعالى عنها عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «رفع القلم عن ثلاثة: عن النائم حتى يستيقظ وعن الصغير حتى يكبر وعن المجنون حتى يعقل او يفيق» . رواه احمد والاربعة إلا الترمذي وصححه الحاكم.

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تین آدمیوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے۔ سونے والا جب تک بیدار نہ ہو، بچہ جب تک بالغ نہ ہو، دیوانہ جب تک صحیح العقل نہ ہو۔“ بروایت امام احمد اور ابوداؤد، ابن ماجہ و نسائی۔ حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔

الصغير حتى يكبر ← النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ. ← ثَلَاثَةٍ ← رُفِعَ الْقَلَمُ ← النبي صلى الله عليه وآله وسلم ← عائشة رضى الله تعالى عَنْهَا

Bulugh Al Maram · The Book of Marriage › Chapter · Hadith 927

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 952

وعن فريعة بنت مالك ان زوجها خرج في طلب اعبد له فقتلوه. قالت: فسالت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم ان ارجع إلى اهلي فإن زوجي لم يترك لي مسكنا يملكه ولا نفقة فقال: «‏‏‏‏نعم» ‏‏‏‏ فلما كنت في الحجرة ناداني فقال: «‏‏‏‏امكثي في بيتك حتى يبلغ الكتاب اجله» ‏‏‏‏ قالت: فاعتددت فيه اربعة اشهر وعشرا قالت: فقضى به بعد ذلك عثمان. اخرجه احمد والاربعة وصححه الترمذي والذهلي وابن حبان والحاكم وغيرهم.

سیدہ فریعہ بنت مالک رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ اس کا شوہر اپنے بھاگے ہوئے غلاموں کی تلاش میں نکلا۔ انہوں نے اسے قتل کر دیا۔ فریعہ کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے میکے لوٹ جانے کے متعلق دریافت کیا کیونکہ میرے شوہر نے اپنی ملکیت میں کوئی گھر نہیں چھوڑا اور نہ ہی نفقہ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہاں! (تم اپنے میکے جا سکتی ہو)“ جب میں حجرے میں پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے آواز دی اور فرمایا ”تم اپنے پہلے مکان ہی میں اس وقت تک رہو جب تک کہ تمہاری عدت پوری نہ ہو جائے۔“ فریعہ کا بیان ہے کہ میں نے پھر عدت کی مدت چار ماہ دس دن اسی سابقہ مکان میں پوری کی۔ فرماتی ہیں کہ پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی اس کے بعد اسی کے مطابق فیصلہ دیا۔ اسے احمد اور چاروں نے بیان کیا ہے۔ ترمذی، ذھلی، ابن حبان اور حاکم وغیرہم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔

فُرَيْعَةَ بِنْتِ مَالِكٍ

Bulugh Al Maram · The Book of Marriage › Chapter · Hadith 952

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 954

وعن عمرو بن العاص رضي الله عنه قال:" لا تلبسوا علينا سنة نبينا عدة ام الولد إذا توفي عنها سيدها اربعة اشهر وعشر" رواه احمد وابو داود وابن ماجه وصححه الحاكم واعله الدارقطني بالانقطاع.

سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہم پر خلط ملط نہ کرو کہ جب ام ولد کا سردار وفات پا جائے تو اس کی عدت چار ماہ اور دس دن ہے۔ اس روایت کو احمد، ابوداؤد اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور دارقطنی نے اسے انقطاع سے معلول کیا ہے۔

عشر" رواه احمد وابو داود وابن ماجه وصححه الحاكم واعله الدارقطني ← لا تلبسوا علينا ← عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ

Bulugh Al Maram · The Book of Marriage › Chapter · Hadith 954

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 956

وعن ابن عمر رضي الله عنهما قال:" طلاق الامة تطليقتان وعدتها حيضتان" رواه الدارقطني واخرجه مرفوعا وضعفه واخرجه ابو داود والترمذي وابن ماجه من حديث عائشة رضي الله عنها وصححه الحاكم وخالفوه فاتفقوا على ضعفه

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ لونڈی کی طلاق دو طلاقیں ہیں اور اس کی عدت دو حیض۔ اسے دارقطنی نے روایت کیا ہے اور انہوں نے اسے مرفوع بھی روایت کیا ہے مگر اسے ضعیف کہا ہے۔ نیز اس روایت کی تخریج ابوداؤد، ترمذی اور ابن ماجہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت سے کی ہے۔ حاکم نے اسے صحیح کہا ہے مگر دوسرے محدثین نے ان کی مخالفت کی ہے، وہ اس کے ضعیف ہونے پر متفق ہیں۔

الترمذي وابن ماجه من حديث عائشة وصححه الحاكم وخالفوه فاتفقوا على ضعفه ← اخرجه مرفوعا وضعفه واخرجه ابو داود ← طلاق الامة تطليقتان وعدتها حيضتان" رواه الدارقطني ← ابْنِ عُمَرَ

Bulugh Al Maram · The Book of Marriage › Chapter · Hadith 956

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 962

وعن ابي سعيد رضي الله عنه ان النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال في سبايا اوطاس: «‏‏‏‏لا توطا حامل حتى تضع ولا غير ذات حمل حتى تحيض حيضة» .‏‏‏‏ اخرجه ابو داود وصححه الحاكم وله شاهد عن ابن عباس رضي الله عنهما في الدارقطني.

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اوطاس کے قیدیوں کے متعلق فرمایا ”حاملہ عورت جب تک وضع حمل نہ کر لے، اس سے جماع نہ کیا جائے نیز غیر حاملہ سے بھی اس وقت تک وطی نہ کی جائے جب تک اسے ایک ماہواری نہ آ جائے۔“ اس کی تخریج ابوداؤد نے کی ہے اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ دارقطنی میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی اس کا شاہد مروی ہے۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ

Bulugh Al Maram · The Book of Marriage › Chapter · Hadith 962

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 970

وعن ام سلمة رضي الله عنها قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏لا يحرم من الرضاع إلا ما فتق الامعاء وكان قبل الفطام» .‏‏‏‏ رواه الترمذي وصححه هو والحاكم.

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دودھ پینے کو کوئی قسم حرام نہیں کرتی مگر وہ قسم جو انتڑیوں کو کھول دے اور دودھ چھڑانے کی مدت سے پہلے ہو۔“ اسے ترمذی نے روایت کیا ہے اور ترمذی اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے۔

أُمِّ سَلَمَةَ

Bulugh Al Maram · The Book of Marriage › Chapter · Hadith 970

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 985

وعن ابي هريرة رضي الله تعالى عنه قال: جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وآله وسلم فقال: يا رسول الله عندي دينار؟ قال: «‏‏‏‏انفقه على نفسك» ‏‏‏‏ قال: عندي آخر؟ قال: «‏‏‏‏انفقه على ولدك» ‏‏‏‏ قال: عندي آخر؟ قال: «‏‏‏‏انفقه على اهلك» ‏‏‏‏ قال: عندي آخر؟ قال: «‏‏‏‏انفقه على خادمك» ‏‏‏‏ قال: عندي آخر؟ قال: «‏‏‏‏انت اعلم» .‏‏‏‏ اخرجه الشافعي وابو داود واللفظ له واخرجه النسائي والحاكم بتقديم الزوجة على الولد.

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا، اے اللہ کے رسول! میرے پاس ایک دینار ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اپنے آپ پر خرچ کرو۔“ اس نے عرض کیا میرے پاس ایک اور ہے؟ فرمایا ”اپنی اولاد پر خرچ کرو۔“ وہ پھر بولا میرے پاس ایک اور ہے۔ فرمایا ”اپنی بیوی پر خرچ کرو۔“ اس نے عرض کیا میرے پاس اور ہے فرمایا ”اپنے خادم پر خرچ کرو۔“ وہ بولا میرے پاس اور ہے۔ فرمایا ”تجھے خوب علم ہے کہ تو اسے کہاں خرچ کرے۔“ اس کی شافعی اور ابوداؤد نے تخریج کی ہے اور یہ الفاظ ابوداؤد کے ہیں اور نسائی اور حاکم نے بھی اس کی تخریج کی ہے۔ اس میں ولد سے پہلے زوجہ کا ذکر ہے۔

جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وآله وسلم فقال: ← وعن ابي هريرة رضي الله تعالى عنه

Bulugh Al Maram · The Book of Marriage › Chapter · Hadith 985

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 987

عن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما ان امراة قالت: يا رسول الله إن ابني هذا كان بطني له وعاء وثديي له سقاء وحجري له حواء وإن اباه طلقني واراد ان ينزعه مني؟ فقال لها رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏انت احق به ما لم تنكحي» ‏‏‏‏ رواه احمد وابو داود وصححه الحاكم.

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک خاتون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی اور عرض کیا۔ اے اللہ کے رسول! یہ جو میرا لخت جگر ہے میرا پیٹ اس کے لیے برتن تھا۔ میری چھاتی (پستان) اس کے لیے مشکیزہ اور میری آغوش اس کے لیے ٹھکانہ تھی۔ اس کے والد نے مجھے طلاق دی ہے اور اب وہ مجھ سے اس بچہ کو بھی چھین لینا چاہتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” جب تک تو دوسرا نکاح نہیں کرتی اس وقت تک تو ہی اس کی زیادہ حقدار ہے۔“ اسے احمد اور ابوداؤد نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔

عبد الله بن عمرو أَن امرأَة

Bulugh Al Maram · The Book of Marriage › Chapter · Hadith 987

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 989

وعن رافع بن سنان رضي الله عنه انه اسلم وابت امراته ان تسلم فاقعد النبي صلى الله عليه وآله وسلم الام ناحية والاب ناحية واقعد الصبي بينهما فمال إلى امه فقال: «‏‏‏‏اللهم اهده» ‏‏‏‏ فمال إلى ابيه فاخذه. اخرجه ابو داود والنسائي وصححه الحاكم.

حضرت رافع بن سنان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ خود مسلمان ہو گیا اور اس کی بیوی نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ماں کو ایک طرف اور باپ کو دوسرے گوشے میں بٹھا دیا اور بچے کو دونوں کے درمیان بٹھا دیا۔ تو بچہ ماں کی جانب مائل ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی الٰہی اس بچہ کو ہدایت دے۔ اس پر وہ بچہ باپ کی جانب مائل ہو گیا تو باپ نے بچے کو پکڑ لیا۔ اس کی تخریج ابوداؤد اور نسائی نے کی ہے اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے۔

النسائي وصححه الحاكم. ← «‏‏‏‏اللهم اهده» فمال إلى ابيه فاخذه. اخرجه ابو داود ← آله وسلم الام ناحية والاب ناحية واقعد الصبي بينهما فمال إلى امه ← ابت امراته ان تسلم فاقعد النبي صلى الله عليه ← رافع بن سنان انه اسلم

Bulugh Al Maram · The Book of Marriage › Chapter · Hadith 989

بلوغ المرام · كتاب الجنايات ‹ باب · حديث 994

وعن عائشة رضي الله عنها عن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏لا يحل قتل مسلم إلا بإحدى ثلاث خصال: زان محصن فيرجم ورجل يقتل مسلما متعمدا فيقتل ورجل يخرج من الإسلام فيحارب الله ورسوله فيقتل او يصلب او ينفى من الارض» ‏‏‏‏ رواه ابو داود والنسائي وصححه الحاكم.

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کسی مسلمان آدمی کا قتل حلال نہیں بجز تین صورتوں میں سے کسی ایک کے۔ شادی شدہ زانی، پس اسے سنگسار کیا جائے اور وہ آدمی جو دیدہ دانستہ کسی مسلمان بھائی کو قتل کرے پس اسے قتل کیا جائے گا اور ایک وہ آدمی جو دائرہ اسلام سے خارج ہو جائے اور اللہ اور اس کے رسول سے (لڑائی) شروع کر دے۔ پس اسے قتل کیا جائے گا یا سولی دی جائے گی یا اسے جلا وطن کیا جائے گا۔“ اسے ابوداؤد اور نسائی نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے۔

رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم ← عَائِشَةَ

Bulugh Al Maram · Criminal Book › Chapter · Hadith 994

بلوغ المرام · كتاب الجنايات ‹ باب · حديث 996

وعن سمرة رضي الله تعالى عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏من قتل عبده قتلناه ومن جدع عبده جدعناه» ‏‏‏‏ رواه احمد والاربعة وحسنه الترمذي وهو من رواية الحسن البصري عن سمرة وقد اختلف في سماعه منه وفي رواية ابي داود والنسائي بزيادة: «‏‏‏‏ومن خصى عبده خصيناه» ‏‏‏‏ وصحح الحاكم هذه الزيادة.

سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس مالک نے اپنے غلام کو قتل کیا ہم اسے قتل کریں گے اور جس نے اس کا ناک، کان کاٹا ہم اس کا ناک، کان کاٹ دیں گے۔“ اسے احمد اور چاروں نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے حسن کہا ہے۔ یہ سمرہ سے حسن بصری کی روایت ہے اور سمرہ سے حسن بصری کے سماع میں اختلاف ہے اور ابوداؤد اور نسائی کی روایت میں ہے کہ ”جس مالک نے اپنے غلام کو خصی کیا ہم اسے خصی کر دیں گے۔“ اس اضافہ کو حاکم نے صحیح قرار دیا ہے۔

سمرة رضي الله تعالى عنه

Bulugh Al Maram · Criminal Book › Chapter · Hadith 996

بلوغ المرام · كتاب الجنايات ‹ باب · حديث 998

وعن ابي جحيفة قال: قلت لعلي: هل عندكم شيء من الوحي غير القرآن؟ قال: لا والذي فلق الحبة وبرا النسمة إلا فهما يعطيه الله تعالى رجلا في القرآن وما في هذه الصحيفة قلت: وما في هذه الصحيفة؟ قال: العقل وفكاك الاسير وان لا يقتل مسلم بكافر" رواه البخاري واخرجه احمد وابو داود والنسائي من وجه آخر عن علي رضي الله تعالى عنه وقال فيه:" المؤمنون تتكافا دماؤهم ويسعى بذمتهم ادناهم وهم يد على من سواهم ولا يقتل مؤمن بكافر ولا ذو عهد في عهده" وصححه الحاكم.

سیدنا ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا، کیا آپ لوگوں کے پاس قرآن کے علاوہ وحی کے ذریعہ نازل شدہ کوئی اور چیز بھی ہے؟ انہوں نے جواب دیا۔ نہیں! اس ذات کی قسم! جس نے دانہ و غلہ اگایا اور جان کو پیدا فرمایا سوائے اس فہم کے جسے اللہ تعالیٰ کسی انسان کو قرآن کے بارے میں عطا فرماتا ہے اور جو کچھ اس صحیفہ میں تحریر ہے (میرے پاس کچھ نہیں) میں نے سوال کیا کہ اس صحیفہ میں کیا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ دیت کے احکام، قیدی کو آزاد کرنے کا حکم اور یہ کہ کسی مسلمان کو کافر کے بدلہ میں قتل نہیں کیا جائے گا۔ (بخاری) سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی اس روایت کو احمد، ابوداؤد اور نسائی نے ایک دوسری سند سے بیان کیا ہے اور اس میں ہے کہ ”سب مومنوں کے خون برابر ہیں اور ان میں سے ادنی آدمی کی ذمہ داری کی حیثیت بڑے آدمی کے برابر ہے اور اپنے سوا وہ غیر مسلموں کے مقابلہ میں سب ایک دوسرے کے ساتھ متحد ہیں اور کوئی مومن کسی کافر کے عوض قتل نہیں کیا جائے گا اور نہ کسی معاہد (ذمی) کو اس کے زمانہ عہد میں قتل کیا جا سکتا ہے۔“ اس روایت کو حاکم نے صحیح قرار دیا ہے۔

أَبِي جُحَيْفَةَ

Bulugh Al Maram · Criminal Book › Chapter · Hadith 998

بلوغ المرام · كتاب الجنايات ‹ باب · حديث 1002

وعن ابي هريرة قال: اقتتلت امراتان من هذيل فرمت إحداهما الاخرى بحجر فقتلتها وما في بطنها. فاختصموا إلى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم فقضى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم ان دية جنينها غرة عبد او وليدة وقضى بدية المراة على عاقلتها وورثها ولدها ومن معهم فقال حمل بن النابغة الهذلي: يا رسول الله كيف يغرم من لا شرب ولا اكل ولا نطق ولا استهل؟ فمثل ذلك يطل فقال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏إنما هذا من إخوان الكهان» من اجل سجعه الذي سجع. متفق عليه. واخرجه ابو داود والنسائي من حديث ابن عباس: ان عمر سال من شهد قضاء رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم في الجنين؟ قال: فقام حمل بن النابغة فقال: كنت بين يدي امراتين فضربت إحداهما الاخرى". فذكره مختصرا وصححه ابن حبان والحاكم.

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہذیل قبیلہ کی دو عورتیں آپس میں لڑ پڑیں اور ایک نے دوسری پر پتھر دے مارا۔ اس پتھر سے وہ عورت اور اس کے پیٹ کا بچہ مر گیا تو اس کے وارث مقدمہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عدالت میں لائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا ” جنین کے بدلے ایک لونڈی یا غلام ہے اور عورت کے بدلے قاتل کے وارثوں پر دیت عائد فرما دی اور اس کے خون بہا کا وارث اس کی اولاد کو بنایا اور ان وارثوں کو بھی جو ان کے ساتھ تھے۔“ حمل بن نابغہ ھذلی نے کہا ” اے اللہ کے رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہم ایسے بچے کا بدلہ کیسے دیں جس نے نہ پیا، نہ کھایا، نہ بولا اور نہ چیخا۔ اس طرح کا حکم تو قابل اعتبار نہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” یہ تو کاہنوں کا بھائی معلوم ہوتا ہے کیونکہ اس نے تو کاہنوں کی سی قافیہ بندی کی ہے۔“ (بخاری و مسلم) ابوداؤد اور نسائی نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ کون شخص جنین کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کے موقع پر حاضر تھا؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ حمل بن نابغہ کھڑا ہوا اور بیان کیا کہ میں اس وقت ان دو عورتوں کے درمیان تھا، جب ایک نے دوسری کو پتھر دے مارا تھا۔ پھر مختصر حدیث کا ذکر کیا۔ ابن حبان اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ،

Bulugh Al Maram · Criminal Book › Chapter · Hadith 1002

chevron_left Previous
1…313233…1,453
Next chevron_right