Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الحكم والقضاء

Governance & Judiciary

29060 hadiths

بلوغ المرام · كتاب الجنايات ‹ باب · حديث 1003

وعن انس ان الربيع بنت النضر عمته كسرت ثنية جارية فطلبوا إليها العفو فابوا فعرضوا الارش فابوا فاتوا رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم فابوا إلا القصاص فامر رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم بالقصاص،‏‏‏‏ فقال انس بن النضر: يا رسول الله اتكسر ثنية الربيع؟ لا والذي بعثك بالحق لا تكسر ثنيتها فقال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏يا انس كتاب الله القصاص» ‏‏‏‏ فرضي القوم فعفوا فقال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «إن من عباد الله من لو اقسم على الله لابره» . متفق عليه واللفظ للبخاري.

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کی پھوپھی ربیع بنت نضر نے ایک انصاری لڑکی کے دانت توڑ دئیے۔ ربیع کے رشتہ داروں نے اس سے معافی طلب کی تو انہوں نے انکار کر دیا۔ پھر انہوں نے دیت دینے کی پیش کش کی۔ اسے بھی انہوں نے رد کر دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عدالت میں آئے اور قصاص کا مطالبہ کیا اور قصاص کے سوا کسی بھی چیز کو لینے سے انکار کر دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قصاص کا فیصلہ فرما دیا۔ یہ سن کر سیدنا انس بن نضر نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! کیا ربیع کا دانت توڑا جائے گا؟ نہیں، اس ذات اقدس کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق دے کر مبعوث فرمایا ہے اس کا دانت نہیں توڑا جائے گا۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اے انس! اللہ کا نوشتہ تو قصاص ہی ہے۔ اتنے میں وہ لوگ اس پر رضامند ہو گئے اور پھر معافی دے دی۔“ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اللہ کے بندے ایسے بھی ہیں کہ اگر وہ اللہ کی قسم کھا لیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کی قسم کو پورا فرما دیتا ہے۔“ (بخاری و مسلم) اور یہ الفاظ بخاری کے ہیں۔

أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ:

Bulugh Al Maram · Criminal Book › Chapter · Hadith 1003

بلوغ المرام · كتاب الجنايات ‹ باب · حديث 1014

وعن عمرو بن شعيب عن ابيه عن جده رضي الله عنهم رفعه قال: «من تطبب،‏‏‏‏ ولم يكن بالطب معروفا،‏‏‏‏ فاصاب نفسا فما دونها،‏‏‏‏ فهو ضامن» ‏‏‏‏ اخرجه الدارقطني وصححه الحاكم وهو عند ابي داود والنسائي وغيرهما إلا ان من ارسله اقوى ممن وصله.

سیدنا عمرو بن شعیب رحمہ اللہ نے اپنے باپ سے اور انہوں نے اپنے دادا سے مرفوع روایت بیان کی ہے کہ ” جو شخص اپنے آپ طبیب بن کر کسی کو دوائی دیتا ہے حالانکہ اسے طبابت میں مہارت نہیں اور اس (کے غلط علاج) سے کوئی آدمی قتل ہو جائے یا کوئی نقصان کسی کو پہنچ جائے تو وہ اس کا ضامن ہے۔“ اسے دارقطنی نے روایت کیا ہے اور حاکم نے صحیح قرار دیا ہے۔ ابوداؤد اور نسائی وغیرہ کے ہاں بھی یہ روایت منقول ہے مگر جن راویوں نے اس روایت کو مرسل بیان کیا ہے وہ ان راویوں سے زیادہ قوی ہیں جنہوں نے اسے موصول بیان کیا ہے۔

جده، رفعه، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ

Bulugh Al Maram · Criminal Book › Chapter · Hadith 1014

بلوغ المرام · كتاب الجنايات ‹ باب · حديث 1023

وعن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏من خرج عن الطاعة وفارق الجماعة ومات فميتته ميتة جاهلية» .‏‏‏‏ اخرجه مسلم.

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” جس کسی نے امام کی اطاعت سے خروج کیا اور مسلمانوں کی جماعت سے جدا ہو گیا اور اسی حالت میں مر گیا تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہو گی۔“ (مسلم)

الطاعة وفارق الجماعة ومات فميتته ميتة جاهلية» اخرجه مسلم. ← «‏‏‏‏من خرج ← النبي صلى الله عليه وآله وسلم ← وعن ابي هريرة

Bulugh Al Maram · Criminal Book › Chapter · Hadith 1023

بلوغ المرام · كتاب الجنايات ‹ باب · حديث 1025

وعن ابن عمر رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏هل تدري يا ابن ام عبد كيف حكم الله فيمن بغى من هذه الامة؟» ‏‏‏‏ قال: الله ورسوله اعلم قال: «‏‏‏‏لا يجهز على جريحها ولا يقتل اسيرها ولا يطلب هاربها ولا يقسم فيئها» .‏‏‏‏ رواه البزار والحاكم وصححه فوهم لان في إسناده كوثر بن حكيم وهو متروك وصح عن علي من طرق نحوه موقوفا اخرجه ابن ابي شيبة والحاكم.

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اے ام عبد کے بیٹے! کیا تجھے معلوم ہے کہ اس امت کے باغی کے متعلق اللہ تعالیٰ کا کیا حکم ہے؟“ انہوں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اس کے زخمیوں کو ختم نہیں کیا جائے گا اور نہ اس کے قیدیوں کو قتل کیا جائے گا اور نہ بھاگنے والے کا پیچھا و تعاقب کیا جائے گا اور نہ ہی اس کے مال غنیمت کو تقسیم کیا جائے گا۔“ اس روایت کو بزار اور حاکم نے روایت کیا ہے اور اسے صحیح قرار دیا ہے۔ مگر یہ حاکم کا وہم ہے اس لئے کہ اس کی سند میں کوثر بن حکیم متروک راوی ہے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے موقوفاً اس کی مانند کئی طرق سے مروی ہے جو صحیح ہے۔ اسے ابن ابی شیبہ اور حاکم نے نکالا ہے۔

ابْنِ عُمَرَ

Bulugh Al Maram · Criminal Book › Chapter · Hadith 1025

بلوغ المرام · كتاب الحدود ‹ باب · حديث 1047

وعن ابي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏ادفعوا الحدود ما وجدتم لها مدفعا» ‏‏‏‏ اخرجه ابن ماجه بإسناد ضعيف واخرجه الترمذي والحاكم من حديث عائشة بلفظ: «‏‏‏‏ادرءوا الحدود عن المسلمين ما استطعتم» ‏‏‏‏ وهو ضعيف ايضا ورواه البيهقي عن علي من قوله بلفظ: «‏‏‏‏ادرءوا الحدود بالشبهات» .‏‏‏‏

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” حدود کو دفع کرو جہاں تک اس کے دفع کرنے کی گنجائش پاؤ۔“ اسے ابن ماجہ نے نکالا ہے اور اس کی سند ضعیف ہے اور اس کو ترمذی اور حاکم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے واسطہ بیان کیا ہے۔ جس کے الفاظ ہیں۔ ” مسلمانوں سے جہاں تک حدود کو ہٹا سکتے ہو ہٹاؤ۔“ یہ بھی ضعیف ہے اور بیہقی نے اسے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے روایت کیا ہے اس کے الفاظ ہیں۔ ” شبہات کی وجہ سے حدود کو دفع کرو۔“

أَبِي هُرَيْرَةَ،

Bulugh Al Maram · The Book of Frontiers › Chapter · Hadith 1047

بلوغ المرام · كتاب الحدود ‹ باب · حديث 1048

عن ابن عمر رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏اجتنبوا هذه القاذورات التي نهى الله عنها فمن الم بها فليستتر بستر الله وليتب إلى الله فإنه من يبد لنا صفحته نقم عليه كتاب الله» .‏‏‏‏ رواه الحاكم وهو في الموطا من مراسيل زيد بن اسلم.

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ان گندے کاموں سے بچو جن سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے اور جو شخص ان میں مبتلا ہو جائے تو اسے اللہ کے ڈالے ہوئے پردہ میں چھپے رہنا چاہیئے اور اسے چاہیئے کہ اللہ کی جناب میں (پوشیدہ طور پر) توبہ کر لے کیونکہ جو شخص اپنی پیٹھ ہمارے سامنے ظاہر کرے گا ہم اس پر کتاب اللہ کو نافذ و قائم کر کے چھوڑیں گے۔“ اسے حاکم نے روایت کیا ہے اور یہ موطا میں زید بن اسلم سے مرسلاً مروی ہے۔

ابْنِ عُمَرَ

Bulugh Al Maram · The Book of Frontiers › Chapter · Hadith 1048

بلوغ المرام · كتاب الحدود ‹ باب · حديث 1059

وعن ابي امية المخزومي رضي الله عنه قال: اتي رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم بلص قد اعترف اعترافا ولم يوجد معه متاع فقال له رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏ما إخالك سرقت" قال: بلى فاعاد عليه مرتين او ثلاثا،‏‏‏‏ فامر به فقطع وجيء به،‏‏‏‏ فقال: «‏‏‏‏استغفر الله وتب إليه» ‏‏‏‏ فقال: استغفر الله واتوب إليه فقال: «‏‏‏‏اللهم تب عليه» ‏‏‏‏ ثلاثا. اخرجه ابو داود واللفظ له واحمد والنسائي ورجاله ثقات. واخرجه الحاكم من حديث ابي هريرة فساقه بمعناه وقال فيه: «‏‏‏‏اذهبوا به فاقطعوه ثم احسموه» ‏‏‏‏ واخرجه البزار ايضا وقال: لا باس بإسناده.

سیدنا ابوامیہ مخرومی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ڈاکو لایا گیا۔ اس نے چوری کا اعتراف کیا مگر سامان اس کے پاس نہ پایا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” میں خیال نہیں کرتا کہ تو نے چوری کی ہو گی۔ “ اس نے کہا جی ہاں! میں نے کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو یا تین مرتبہ اسی طرح دھرایا اس نے اقرار کیا تو اس کے ہاتھ کاٹنے کا حکم صادر فرمایا۔ چنانچہ اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ اس کے بعد اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تلقین فرمائی کہ ” اللہ سے اپنے گناہ کی بخشش مانگ اور اس سے توبہ کر۔ “ اس نے کہا میں اللہ سے بخشش و مغفرت طلب کرتا ہوں اور اس کے حضور توبہ کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ اس کے حق میں اللہ سے دعا فرمائی کہ الٰہی اس کی توبہ قبول فرما۔ اس حدیث کی تخریج ابوداؤد نے کی ہے۔ الفاظ بھی اسی کے ہیں نیز احمد اور نسائی نے بھی اسے روایت کیا ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔ اور حاکم نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس حدیث کی تخریج کی ہے۔ اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” اسے لے جاؤ اور ہاتھ کاٹ دو پھر اسے داغ دینا۔ “ اور اسی کے ہم معنی ذکر ہیں۔ اسے بزار نے بھی روایت کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کی سند میں کوئی نقص نہیں ہے۔

Bulugh Al Maram · The Book of Frontiers › Chapter · Hadith 1059

بلوغ المرام · كتاب الحدود ‹ باب · حديث 1061

وعن عبد الله بن عمرو بن العاص رضي الله عنهما عن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم انه سئل عن التمر المعلق فقال: «‏‏‏‏من اصاب بفيه من ذي حاجة غير متخذ خبنة فلا شيء عليه ومن خرج بشيء منه فعليه الغرامة والعقوبة ومن خرج بشيء منه بعد ان يؤويه الجرين فبلغ ثمن المجن فعليه القطع» .‏‏‏‏ اخرجه ابو داود والنسائي وصححه الحاكم.

سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخت پر لٹکی ہوئی کھجور کے متعلق دریافت کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جو شخص بھوکا ہو وہ کھانے کے لیے توڑ لے مگر کپڑے میں نہ بھرے تو اس پر کوئی سزا نہیں اور جو شخص کپڑے میں ڈال کر نکل جائے تو اس پر تاوان بھی ہے اور سزا بھی اور جو شخص ایسی صورتحال میں کھجوریں لے جائے کہ مالک نے توڑ کے محفوظ جگہ میں ڈھیر کر لیا ہو اور ان کی قیمت ایک ڈھال کی قیمت کے مساوی ہو تو اس پر قطع ید کی سزا نافذ ہو گی۔ “ اسے ابوداؤد اور نسائی نے تخریج کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔

التمر المعلق ← رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم انه سئل ← عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ

Bulugh Al Maram · The Book of Frontiers › Chapter · Hadith 1061

بلوغ المرام · كتاب الحدود ‹ باب · حديث 1062

وعن صفوان بن امية رضي الله عنه ان النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال له لما امر بقطع الذي سرق رداءه فشفع فيه: «‏‏‏‏هلا كان ذلك قبل ان تاتيني به» ‏‏‏‏ اخرجه احمد والاربعة وصححه ابن الجارود والحاكم.

سیدنا صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا، جب انہوں نے اس آدمی کے بارے میں سفارش کی جس نے چادر چرائی تھی اور اس کے قطع ید کا حکم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ” میرے پاس لانے سے پہلے تمہیں اس پر رحم و ترس کیوں نہ آیا۔“۔ اسے احمد اور چاروں نے روایت کیا ہے اور ابن جارود اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔

صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ

Bulugh Al Maram · The Book of Frontiers › Chapter · Hadith 1062

بلوغ المرام · كتاب الحدود ‹ باب · حديث 1064

عن انس بن مالك رضي الله عنه: ان النبي صلى الله عليه وآله وسلم اتي برجل قد شرب الخمر فجلده بجريدتين نحو اربعين قال: وفعله ابو بكر،‏‏‏‏ فلما كان عمر استشار الناس فقال عبد الرحمن بن عوف: اخف الحدود ثمانون فامر به عمر. متفق عليه. ولمسلم: عن علي رضي الله عنه في قصة الوليد بن عقبة جلد النبي صلى الله عليه وآله وسلم اربعين وجلد ابو بكر اربعين وجلد عمر ثمانين وكل سنة وهذا احب إلي. وفي الحديث: ان رجلا شهد عليه انه رآه يتقيا الخمر فقال عثمان: إنه لم يتقياها حتى شربها.

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی لایا گیا جس نے شراب پی رکھی تھی۔ پس اس شخص کو دو چھڑیوں سے چالیس کے لگ بھگ کوڑے لگائے گئے۔ راوی کا بیان ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی یہ سزا دی۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا دور خلافت آیا تو انہوں نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے مشورہ کیا۔ سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہلکی ترین سزا اسی کوڑے ہیں۔ چنانچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسی کا حکم صادر فرمایا۔ (بخاری و مسلم) اور مسلم میں ولید بن عقبہ کے قصہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چالیس اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے چالیس اور عمر رضی اللہ عنہ نے اسی کوڑے سزا دی اور ہر ایک سنت ہے اور یہ مجھے زیادہ محبوب ہے اور اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ ایک آدمی نے ولید کے خلاف شہادت دی کہ اس نے ولید کو شراب کی قے کرتے دیکھا ہے۔ اس پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس نے شراب پی نہ ہو گی تو قے کیسے ہو گی۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ،

Bulugh Al Maram · The Book of Frontiers › Chapter · Hadith 1064

بلوغ المرام · كتاب الحدود ‹ باب · حديث 1067

وعن ابن عباس رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏لا تقام الحدود في المساجد» ‏‏‏‏ رواه الترمذي والحاكم.

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” مسجدوں میں حدود نہ لگائی جائیں۔“ (ترمذی و مستدرک حاکم)

ابْنِ عَبَّاسٍ،

Bulugh Al Maram · The Book of Frontiers › Chapter · Hadith 1067

بلوغ المرام · كتاب الحدود ‹ باب · حديث 1076

وعن عائشة رضي الله عنها ان النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «اقيلوا ذوي الهيئات عثراتهم إلا الحدود» .‏‏‏‏ رواه احمد وابو داود والنسائي والبيهقي.

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” صاحب عز و شرف لوگوں سے بجز حدود الٰہی، ان کی لغزشیں درگزر کر دیا کرو۔“ اسے احمد، ابوداؤد، نسائی اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔

عَائِشَةَ

Bulugh Al Maram · The Book of Frontiers › Chapter · Hadith 1076

بلوغ المرام · 11-11- كِتَابُ الاِفْتِتَاحِ ‹ باب · حديث 1081

وعن انس رضي الله عنه ان النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «جاهدوا المشركين باموالكم وانفسكم والسنتكم» رواه احمد والنسائي وصححه الحاكم.

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” مشرکین سے اپنے مالوں، اپنی جانوں اور اپنی زبانوں سے جہاد کرو۔“ اسے احمد اور نسائی نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا۔

أَنَسٍ،

Bulugh Al Maram · The Book of Jihad › Chapter · Hadith 1081

بلوغ المرام · 11-11- كِتَابُ الاِفْتِتَاحِ ‹ باب · حديث 1091

وعن معقل ان النعمان بن مقرن رضي الله عنه قال: شهدت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم إذا لم يقاتل اول النهار اخر القتال حتى تزول الشمس وتهب الرياح وينزل النصر. رواه احمد والثلاثة وصححه الحاكم واصله في البخاري.

سیدنا معقل سے روایت ہے کہ سیدنا نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لڑائیوں میں شریک ہوتا رہا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب دن کے آغاز میں لڑائی شروع نہ کرتے تو پھر زوال آفتاب کے بعد لڑائی شروع کرتے۔ موافق ہوائیں چلتی تھیں اور مدد کرتی تھیں۔ اسے احمد اور تینوں نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے اور اس کی اصل بخاری میں ہے۔

معقل ان النعمان بن مقرن

Bulugh Al Maram · The Book of Jihad › Chapter · Hadith 1091

بلوغ المرام · 11-11- كِتَابُ الاِفْتِتَاحِ ‹ باب · حديث 1097

وعن ابي ايوب رضي الله عنه قال: إنما نزلت هذه الآية فينا معشر الانصار يعني قوله تعالى: «ولا تلقوا بايديكم إلى التهلكة» قاله ردا على من انكر على من حمل على صف الروم حتى دخل فيهم. رواه الثلاثة وصححه الترمذي وابن حبان والحاكم.

سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یہ آیت «ولا تلقوا بأيديكم إلى التهلكة» ” اپنے ہاتھوں اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔ “ ہمارے حق میں نازل ہوئی۔ یہ سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں سے بطور تردید فرمایا تھا جنہوں نے رومیوں کی صفوں پر حملہ کیا تھا اور ان کی صفوں میں جا گھسے تھے۔ اسے تینوں نے روایت کیا ہے۔ ترمذی، ابن حبان اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔

أَبِي أَيُّوبَ،

Bulugh Al Maram · The Book of Jihad › Chapter · Hadith 1097

بلوغ المرام · 11-11- كِتَابُ الاِفْتِتَاحِ ‹ باب · حديث 1112

وعن حبيب بن مسلمة رضي الله عنه قال: شهدت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم نفل الربع في البداة والثلث في الرجعة. رواه ابو داود وصححه ابن الجارود وابن حبان والحاكم.

سیدنا حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سریہ میں پہلی مرتبہ جانے پر چوتھا حصہ زائد عطا فرمایا اور دوبارہ جانے پر تیسرا حصہ۔ اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے اور ابن جارود، ابن حبان اور حاکم نے صحیح کہا ہے۔

حَبِيبِ بْنِ مَسْلَمَةَ

Bulugh Al Maram · The Book of Jihad › Chapter · Hadith 1112

بلوغ المرام · 11-11- كِتَابُ الاِفْتِتَاحِ ‹ باب · حديث 1115

وعن عبد الله بن ابي اوفى رضي الله عنهما قال: اصبنا طعاما يوم خيبر فكان الرجل يجيء فياخذ منه مقدار ما يكفيه ثم ينصرف. اخرجه ابو داود وصححه ابن الجارود والحاكم.

سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ خیبر کے روز ہمیں کھانے کی اشیاء ہاتھ آئیں تو ہر آدمی آتا اور اس میں سے اپنی ضرورت کے مطابق کھانے کے لیے حاصل کر لیتا تھا پھر واپس چلا جاتا۔ اسے ابوداؤد نے نقل کیا ہے ابن جارود اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ اَبِیْ اَوْفٰی

Bulugh Al Maram · The Book of Jihad › Chapter · Hadith 1115

بلوغ المرام · 11-11- كِتَابُ الاِفْتِتَاحِ ‹ باب · حديث 1125

وعن معاذ بن جبل رضي الله عنه قال: بعثني النبي صلى الله عليه وآله وسلم إلى اليمن فامرني ان آخذ من كل حالم دينارا او عدله معافريا. اخرجه الثلاثة وصححه ابن حبان والحاكم.

سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کی طرف بھیجا اور فرمایا کہ ” میں ہر بالغ سے ایک دینار بطور جزیہ وصول کروں یا پھر اس کے برابر معافری کپڑا لوں۔“ اس کی تخریج تینوں نے کی ہے، ابن حبان اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔

بعثني النبي صلى الله عليه ← مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ

Bulugh Al Maram · The Book of Jihad › Chapter · Hadith 1125

بلوغ المرام · كتاب الأطعمة ‹ باب · حديث 1146

وعن عبد الرحمن بن عثمان القرشي رضي الله عنه: ان طبيبا سال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم عن الضفدع بجعلها في دواء،‏‏‏‏ فنهى عن قتلها. اخرجه احمد وصححه الحاكم.

سیدنا عبدالرحمٰن بن عثمان قرشی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک طبیب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مینڈک کے بطور دوا استعمال کے بارے میں دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے قتل کرنے سے منع فرمایا۔ اسے احمد نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے۔

Bulugh Al Maram · Food Book › Chapter · Hadith 1146

بلوغ المرام · كتاب الأطعمة ‹ باب · حديث 1161

وعن ابي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏من كان له سعة ولم يضح فلا يقربن مصلانا» ‏‏‏‏ رواه احمد وابن ماجه وصححه الحاكم لكن رجح الائمة غيره وقفه.

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جس شخص میں قربانی کرنے کی طاقت ہو اور وہ قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عید گاہ میں نہ آئے۔“ اسے احمد اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور دوسرے ائمہ نے اس حدیث کو موقوف قرار دیا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ،

Bulugh Al Maram · Food Book › Chapter · Hadith 1161

chevron_left Previous
1…323334…1,453
Next chevron_right