Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الحكم والقضاء

Governance & Judiciary

29060 hadiths

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 223

وعن عبد الله بن ابي اوفى رضي الله عنه قال: جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وآله وسلم فقال: إني لا استطيع ان آخذ من القرآن شيئا فعلمني ما يجزئني عنه. فقال: «‏‏‏‏قل: سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله اكبر ولا حول ولا قوة إلا بالله العلي العظيم» ‏‏‏‏ الحديث.رواه احمد وابو داود والنسائي،‏‏‏‏ وصححه ابن حبان والدارقطني والحاكم.

سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں قرآن میں سے کچھ بھی یاد نہیں رکھ سکتا۔ لہذا مجھے کوئی ایسی چیز سکھا دیں جو (میری نماز کے لئے) اس کی جگہ کافی ہو جائے۔ فرمایا ” «سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر ولا حول ولا قوة إلا بالله العلي العظيم» پڑھ لیا کرو۔“ الحدیث اس روایت کو احمد، ابوداؤد اور نسائی نے روایت کیا ہے۔ ابن حبان اور دارقطنی اور حاکم نے صحیح قرار دیا ہے۔

إني لا استطيع ان آخذ من القرآن شيئا فعلمني ما يجزئني عنه. ← جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وآله وسلم ← عَبْدِ اللہِ بْنِ اَبِیْ اَوْفٰی

Bulugh Al Maram · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 223

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 237

وعن وائل بن حجر رضي الله عنه ان النبي صلى الله عليه وآله وسلم: كان إذا ركع فرج بين اصابعه وإذا سجد ضم اصابعه. رواه الحاكم.

سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع میں ہوتے تو اپنی (ہاتھوں کی) انگلیاں کھلی رکھتے اور جب سجدے میں ہوتے تو اپنی (ہاتھوں کی) انگلیاں باہم ملا لیا کرتے تھے۔ (مستدرک حاکم)

وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ

Bulugh Al Maram · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 237

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 239

وعن ابن عباس رضي الله عنهما ان النبي صلى الله عليه وآله وسلم كان يقول بين السجدتين: «‏‏‏‏اللهم اغفر لي وارحمني واهدني وعافني وارزقني» .‏‏‏‏ رواه الاربعة إلا النسائي واللفظ لابي داود وصححه الحاكم.

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دونوں سجدوں کے درمیان یہ دعا پڑھتے تھے «اللهم اغفرلي وارحمني واهدني وعافني وارزقني» یا اللہ! میری پردہ پوشی فرما دے (مجھے بخش دے) مجھ پر رحم فرما۔ مجھے راہ ہدایت پر چلا (اور گامزن رکھ) مجھ سے درگزر فرما (معاف کر دے) مجھے رزق (حلال) عطا فرما۔ اسے نسائی کے علاوہ چاروں نے روایت کیا ہے۔ یہ الفاظ ابوداؤد کے ہیں۔ حاکم نے اس کو صحیح قرار دیا ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ،

Bulugh Al Maram · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 239

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 248

وعن فضالة بن عبيد رضي الله عنه قال: سمع رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم رجلا يدعو في صلاته ولم يحمد الله ولم يصل على النبي صلى الله عليه وآله وسلم فقال:«‏‏‏‏عجل هذا» ‏‏‏‏ ثم دعاه فقال: «‏‏‏‏إذا صلى احدكم فليبدا بتحميد ربه والثناء عليه ثم يصلي على النبي صلى الله عليه وآله وسلم ثم يدعو بما شاء» ‏‏‏‏ رواه احمد والثلاثة وصححه الترمذي وابن حبان والحاكم.

سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو اپنی نماز میں دعا کرتے سنا۔ نہ تو اس نے اللہ کی حمد کی اور نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اس نے جلدی کی“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے پاس بلایا اور سمجھایا کہ ” تم میں سے کوئی جب دعا مانگنے لگے تو پہلے اسے اپنے رب کی حمد و ثنا کرنی چاہیئے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنا چاہیئے پھر اس کے بعد جو چاہے دعا مانگے۔“ اسے احمد، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ ترمذی، ابن حبان اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔

فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ

Bulugh Al Maram · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 248

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 264

وعن عمران بن حصين رضي الله عنه ان النبي صلى الله عليه وآله وسلم صلى بهم فسها فسجد سجدتين ثم تشهد ثم سلم رواه ابو داود والترمذي وحسنه والحاكم وصححه.

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز پڑھائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سہو ہو گیا (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھول گئے) تو (پہلے) دو سجدے کئے پھر تشہد پڑھا اور پھر سلام پھیرا۔ اسے ابوداؤد، ترمذی نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے حسن قرار دیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ

Bulugh Al Maram · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 264

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 278

وعن عبد الرحمن بن عوف رضي الله عنه قال: سجد النبي صلى الله عليه وآله وسلم فاطال السجود ثم رفع راسه فقال: «‏‏‏‏إن جبريل اتاني فبشرني فسجدت لله شكرا» .‏‏‏‏ رواه احمد وصححه الحاكم.

سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا اور لمبا سجدہ کیا، پھر سجدے سے سر اٹھا کر فرمایا ”ابھی جبرائیل علیہ السلام ایک خوشخبری لے کر میرے پاس آئے تو وہ مژدہ سن کر میں نے اللہ تعالیٰ کے حضور میں سجدہ شکر ادا کیا۔“ اسے احمد نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔

سجد النبي صلى الله عليه وآله وسلم فاطال السجود ثم رفع راسه ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ

Bulugh Al Maram · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 278

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 294

وعن علي بن ابي طالب رضي الله عنه قال: ليس الوتر بحتم كهيئة المكتوبة ولكن سنة سنة سنها رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم. رواه الترمذي وحسنه والنسائي والحاكم وصححه.

سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ وتر فرضوں کی طرح حتمی اور لازمی نہیں ہے بلکہ سنت ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر فرمایا ہے۔ اسے ترمذی اور نسائی نے بیان کیا ہے اور حسن قرار دیا ہے اور حاکم نے اس کو صحیح کہا ہے۔

النسائي والحاكم وصححه. ← ليس الوتر بحتم كهيئة المكتوبة ولكن ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ

Bulugh Al Maram · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 294

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 296

وعن خارجة بن حذافة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏إن الله امدكم بصلاة هي خير لكم من حمر النعم» .‏‏‏‏ قلنا: وما هي يا رسول الله؟ قال: «‏‏‏‏الوتر ما بين صلاة العشاء إلى طلوع الفجر» .‏‏‏‏رواه الخمسة إلا النسائي. وصححه الحاكم. وروى احمد عن عمرو بن شعيب عن ابيه عن جده نحوه.

سیدنا خارجہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی نماز کے ساتھ تمہاری مدد فرمائی جو تمہارے لئے سرخ اونٹوں سے بہت بہتر ہے۔“ ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! وہ کون سی نماز ہے؟ فرمایا ” وتر نماز جو نماز عشاء اور طلوع فجر کے درمیان ہے۔“ اسے نسائی کے سوا پانچوں نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ احمد نے عمرو بن شعیب سے انہوں نے اپنے باپ کے واسطہ سے اپنے دادا سے اس کی مانند روایت نقل کی ہے۔

خَارِجَةَ بْنِ حُذَافَةَ،

Bulugh Al Maram · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 296

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 297

وعن عبد الله بن بريدة رضي الله عنه عن ابيه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏الوتر حق فمن لم يوتر فليس منا» .‏‏‏‏اخرجه ابو داود بسند لين وصححه الحاكم وله شاهد ضعيف عن ابي هريرة رضي الله عنه عند احمد.

سیدنا عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” وتر برحق ہے جس نے وتر نہ پڑھے اس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں۔“ ابوداؤد نے اسے کمزور سند کے ساتھ نقل کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے احمد کے نزدیک اس کا شاہد بھی ہے جو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے مگر وہ ضعیف ہے۔

أَبِيهِ ← وعن عبد الله بن بريدة،‏‏‏‏

Bulugh Al Maram · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 297

بلوغ المرام · كتاب البيوع ‹ باب · حديث 730

وعن ابن كعب بن مالك عن ابيه رضي الله عنهما: ان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم حجر على معاذ ماله وباعه في دين كان عليه. رواه الدارقطني وصححه الحاكم واخرجه ابو داود مرسلا ورجح إرساله.

سیدنا ابن کعب بن مالک اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو ان کے مال میں تصرف سے روک دیا تھا اور اس کا مال اس قرض کی رقم کے عوض میں فروخت کر دیا جو اس کے ذمہ تھی۔ اسے دارقطنی نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور ابوداؤد نے اسے مرسل روایت کیا ہے اور اس کے مرسل ہونے کو قابل ترجیح ٹھہرایا ہے۔

أَبِيهِ ← وعن ابن كعب بن مالك

Bulugh Al Maram · Sales book › Chapter · Hadith 730

بلوغ المرام · كتاب البيوع ‹ باب · حديث 732

وعن عطية القرظي رضي الله تعالى عنه قال: عرضنا على النبي صلى الله عليه وآله وسلم يوم قريظة فكان من انبت قتل ومن لم ينبت خلي سبيله فكنت ممن لم ينبت فخلي سبيلي. رواه الخمسة وصححه ابن حبان والحاكم.

سیدنا عطیہ قرظی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بنوقریظہ سے جنگ کے موقع پر ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روبرو پیش کیا گیا، جس کے زیر ناف بال اگے ہوتے تھے، اسے قتل کر دیا گیا اور جس کے نہیں اگے تھے اسے چھوڑ دیا گیا۔ میں بھی ان میں سے تھا جس کے بال نہیں اگے تھے، لہٰذا مجھے بھی چھوڑ دیا گیا۔ اسے پانچوں نے روایت کیا ہے۔ ابن حبان اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔

عرضنا على النبي صلى الله عليه ← عطية القرظي رضي الله تعالى عنه

Bulugh Al Maram · Sales book › Chapter · Hadith 732

بلوغ المرام · كتاب البيوع ‹ باب · حديث 733

وعن عمرو بن شعيب عن ابيه عن جده رضي الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏لا يجوز لامراة عطية إلا بإذن زوجها» .‏‏‏‏ وفي لفظ: «‏‏‏‏لا يجوز للمراة امر في مالها إذا ملك زوجها عصمتها» .‏‏‏‏ رواه احمد واصحاب السنن إلا الترمذي وصححه الحاكم.

سیدنا عمرو بن شعیب رحمہ اللہ اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کسی عورت کا اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر عطیہ دینا جائز نہیں“ اور ایک روایت میں ہے کہ ”کسی عورت کو اپنے ذاتی مال میں کوئی معاملہ کرنے کا اختیار نہیں جب اس کا شوہر اس کی عصمت کا مالک ہو۔“ اسے احمد اور اصحاب سنن نے ترمذی کے علاوہ روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← وعن عمرو بن شعيب

Bulugh Al Maram · Sales book › Chapter · Hadith 733

بلوغ المرام · كتاب البيوع ‹ باب · حديث 737

وعن ابي حميد الساعدي رضي الله تعالى عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏لا يحل لامرىء ان ياخذ عصا اخيه بغير طيبة نفس منه» .‏‏‏‏ رواه ابن حبان والحاكم في صحيحيهما.

سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کسی کے لئے حلال نہیں کہ وہ اپنے بھائی کا عصا (لاٹھی) بھی اس کی خوشنودی و رضامندی کے بغیر لے۔“ اسے ابن حبان اور حاکم نے اپنی اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔

أبي حميد الساعدي رضى الله تعالى عنه

Bulugh Al Maram · Sales book › Chapter · Hadith 737

بلوغ المرام · كتاب البيوع ‹ باب · حديث 739

وعن جابر رضي الله تعالى عنه قال: توفي رجل منا فغسلناه وحنطناه وكفناه ثم اتينا به رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم فقلنا: تصلي عليه؟ فخطى خطا ثم قال:«‏‏‏‏اعليه دين؟» ‏‏‏‏ قلنا: ديناران فانصرف فتحملهما ابو قتادة فاتيناه فقال ابو قتادة: الديناران علي فقال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏حق الغريم وبرىء منهما الميت؟» ‏‏‏‏ قال: نعم،‏‏‏‏ فصلى عليه. رواه احمد وابو داود والنسائي وصححه ابن حبان والحاكم.

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم میں سے ایک آدمی فوت ہو گیا ہم نے اسے غسل دیا، خوشبو لگائی اور کفن پہنایا۔ پھر ہم اسے اٹھا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے اور عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز جنازہ پڑھائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند قدم آگے بڑھنے کیلئے اٹھائے اور دریافت فرمایا کہ ”کیا اس کے ذمہ قرض ہے؟“ ہم نے عرض کیا دو دینار تھے۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لے آئے۔ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے دو دینار کی ادائیگی اپنے ذمہ لے لی۔ پھر ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا دو دینار میرے ذمہ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مقروض کی طرح لازم و حق ہو گیا اور میت اس سے بری الذمہ ہو گئی۔“ اس نے کہا کہ ہاں! پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی۔ اسے احمد، ابوداؤد اور نسائی نے روایت کیا ہے۔ ابن حبان اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے۔

نعم،‏‏‏‏ فصلى عليه. رواه احمد وابو داود والنسائي وصححه ابن حبان والحاكم. ← ابو قتادة: الديناران علي

Bulugh Al Maram · Sales book › Chapter · Hadith 739

بلوغ المرام · كتاب البيوع ‹ باب · حديث 742

عن ابي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏قال الله تعالى: انا ثالث الشريكين ما لم يخن احدهما صاحبه فإذا خان خرجت من بينهما» .‏‏‏‏ رواه ابو داود وصححه الحاكم.

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” اللہ جل شانہ کا ارشاد گرامی ہے کہ دو شراکت کرنے والوں میں، میں تیسرا ہوتا ہوں تاوقتیکہ کوئی ایک دوسرے سے خیانت نہ کرے جونہی ان میں سے کوئی ایک خیانت کا مرتکب ہوتا ہے تو میں ان کے درمیان میں سے نکل جاتا ہوں۔ ”ابوداؤد نے اسے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ،

Bulugh Al Maram · Sales book › Chapter · Hadith 742

بلوغ المرام · كتاب البيوع ‹ باب · حديث 751

عن سمرة بن جندب قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «على اليد ما اخذت حتى تؤديه» .‏‏‏‏ رواه احمد والاربعة وصححه الحاكم.

سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو کچھ ہاتھ نے لیا ہے جب تک اسے ادا نہ کر دے اس کے ذمہ ہے۔“ اسے احمد اور چاروں نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔

سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ

Bulugh Al Maram · Sales book › Chapter · Hadith 751

بلوغ المرام · كتاب البيوع ‹ باب · حديث 752

وعن ابي هريرة رضي الله تعالى عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏اد الامانة إلى من ائتمنك ولا تخن من خانك» .‏‏‏‏ رواه ابو داود والترمذي وحسنه وصححه الحاكم واستنكره ابو حاتم الرازي.

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس کسی نے تمہارے پاس امانت رکھی ہو تو اسے امانت واپس کر دو اور جس نے تیرے ساتھ خیانت کی تو اس کے ساتھ خیانت نہ کر۔“ اسے ابوداؤد اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے حسن قرار دیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے اور ابوحاتم رازی نے اسے منکر سمجھا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ

Bulugh Al Maram · Sales book › Chapter · Hadith 752

بلوغ المرام · كتاب البيوع ‹ باب · حديث 754

وعن صفوان بن امية رضي الله عنه ان النبي صلى الله عليه وآله وسلم استعار منه دروعا يوم حنين فقال: اغصب يا محمد؟ قال: «‏‏‏‏بل عارية مضمونة» .‏‏‏‏ رواه ابو داود واحمد والنسائي وصححه الحاكم. واخرج له شاهدا ضعيفا عن ابن عباس رضي الله عنهما.

سیدنا صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ حنین کے موقع پر اس (صفوان) سے کچھ زرہیں عاریتاً لیں۔ اس نے کہا اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! کیا آپ زبردستی غصب کر رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”نہیں! بلکہ ضمانت کے ساتھ عاریتاً لے رہا ہوں۔“ اسے ابوداؤد، نسائی نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے اور ایک ضعیف روایت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی بھی بطور شہادت ہے۔

صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ

Bulugh Al Maram · Sales book › Chapter · Hadith 754

بلوغ المرام · كتاب البيوع ‹ باب · حديث 760

عن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما قال: قضى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم بالشفعة في كل ما لم يقسم فإذا وقعت الحدود وصرفت الطرق فلا شفعة. متفق عليه،‏‏‏‏ واللفظ للبخاري. وفي رواية مسلم: الشفعة في كل شرك: ارض،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ او ربع،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ او حائط،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ لا يصلح ان يبيع حتى يعرض على شريكه وفي رواية الطحاوي: قضى النبي صلى الله عليه وآله وسلم بالشفعة في كل شيء،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ورجاله ثقات.

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر اس چیز میں شفعہ کا فیصلہ دیا ہے جو تقسیم نہ ہوئی ہو مگر جب حدود بندی ہو جائے اور راستے الگ ہو جائیں تو پھر شفعہ نہیں۔ (بخاری و مسلم) اور یہ الفاظ بخاری کے ہیں اور مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ شفعہ ہر مشترک چیز میں ہے (مثلا) زمین میں، مکان میں، باغ میں۔ اپنے حصہ دار (شریک) کے روبرو پیش کئے بغیر کسی کیلئے چیز فروخت کرنا درست نہیں اور طحاوی میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر چیز میں شفعہ رکھا ہے۔ اس کے راوی ثقہ ہیں۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ:

Bulugh Al Maram · Sales book › Chapter · Hadith 760

بلوغ المرام · كتاب البيوع ‹ باب · حديث 776

عن عروة عن عائشة رضي الله عنها ان النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏من عمر ارضا ليست لاحد فهو احق بها» ‏‏‏‏ رواه البخاري. قال عروة: وقضى به عمر في خلافته.

سیدنا عروہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس کسی نے غیر آباد زمین کو آباد کیا، وہ اس زمین کا زیادہ حقدار ہے۔“ عروہ نے کہا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں اسی پر فیصلہ فرمایا۔ (بخاری)

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ

Bulugh Al Maram · Sales book › Chapter · Hadith 776

chevron_left Previous
1…293031…1,453
Next chevron_right