Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الطعام والشراب

Food & Drink

40586 hadiths

سنن دارمی · من كتاب الصيد ‹ باب · حديث 2051

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ قِرَاءَةً عَنْ مَالِكٍ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَلَمَةَ مِنْ آلِ الْأَزْرَقِ أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ أَبِي بُرْدَةَ وَهُوَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّا نَرْكَبُ الْبَحْرَ وَنَحْمِلُ مَعَنَا الْقَلِيلَ مِنْ الْمَاءِ فَإِنْ تَوَضَّأْنَا بِهِ عَطِشْنَا أَفَنَتَوَضَّأُ مِنْ مَاءِ الْبَحْرِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحِلُّ مَيْتَتُهُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا ہم لوگ سمندر میں سفر کرتے ہیں ہمارے ساتھ تھوڑا سا پانی ہوتا ہے اگر ہم اس کے ذریعے وضو کرلیں تو پیاسے رہ جائیں گے تو کیا ہم سمندر کے پانی سے وضو کرلیا کریں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا اس کا پانی پاک ہوتا ہے اور اس کا مردار حلال ہوتا ہے۔

سَعِيدِ بْنِ سَلَمَةَ مِنْ آلِ الْأَزْرَقِ ← صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ، ← مَالِكٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ،

Sunan Darmi · From the hunting book › Door · Hadith 2051

سنن دارمی · من كتاب الاطعمة ‹ باب · حديث 2069

أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ عَنْ يُونُسَ عَنْ الْحَسَنِ قَالَ كَانَ مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ يَتَغَدَّى فَسَقَطَتْ لُقْمَتُهُ فَأَخَذَهَا فَأَمَاطَ مَا بِهَا مِنْ أَذًى ثُمَّ أَكَلَهَا فَجَعَلَ أُولَئِكَ الدَّهَاقِينُ يَتَغَامَزُونَ بِهِ فَقَالُوا لَهُ مَا تَرَى مَا يَقُولُ هَؤُلَاءِ الْأَعَاجِمُ يَقُولُونَ انْظُرُوا إِلَى مَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنْ الطَّعَامِ وَإِلَى مَا يَصْنَعُ بِهَذِهِ اللُّقْمَةِ فَقَالَ إِنِّي لَمْ أَكُنْ أَدَعُ مَا سَمِعْتُ بِقَوْلِ هَؤُلَاءِ الْأَعَاجِمِ إِنَّا كُنَّا نُؤْمَرُ إِذَا سَقَطَتْ مِنْ أَحَدِنَا لُقْمَةٌ أَنْ يُمِيطَ مَا بِهَا مِنْ الْأَذَى وَأَنْ يَأْكُلَهَا

حضرت حسن بصری بیان کرتے ہیں حضرت معقل بن یسار کھانا کھا رہے تھے ان کا ایک لقمہ نیچے گر گیا انہوں نے اسے اٹھایا اور اس پر لگی ہوئی مٹی صاف کیا پھر اسے کھا لیا وہاں موجود چند خوشحال لوگوں نے ایک دوسرے کو اشارہ کرنا شروع کردیا لوگوں نے حضرت معقل سے کہا یہ آپ نے دیکھا کہ یہ عجیب لوگ کیا کہہ رہے ہیں۔ یہ کہہ رہے ہیں ان صاحب کی طرف دیکھیں ان کے سامنے اتنا سارا کھانا موجود ہے پھر بھی نیچے سے اٹھا کر کھا رہے ہیں حضرت معقل نے جواب دیا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی جو بات سنی ہے انہیں اس عجمیوں کے بیان کی وجہ سے ترک نہیں کرسکتا ہمیں یہ حکم دیا گیا ہے کہ جب کسی کا لقمہ گرجائے تو اسے اس کی مٹی صاف کرکے کھا لینا چاہیے۔

الْحَسَنِ، ← يُونُسَ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ،

Sunan Darmi · From the food book › Door · Hadith 2069

سنن دارمی · من كتاب الاطعمة ‹ باب · حديث 2075

أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ جَارَهُ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَسْكُتْ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ جَائِزَتَهُ يَوْمًا وَلَيْلَةً وَالضِّيَافَةُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَمَا بَعْدَ ذَلِكَ صَدَقَةٌ

حضرت ابوشریح خزاعی بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو تو اسے اپنے پڑوسی کا احترام کرنا چاہیے اور جو شخص اللہ تعالیٰ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے اچھی بات کہنی چاہیے ورنہ خاموش رہنا چاہیے اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہوں اسے اپنے مہمان کی مہمان نوازی کرنی چاہیے ایک دن اور ایک رات پر تکلف دعوت ہو اور تین دن تک مہمان نوازی ہوگی اس کے بعد اگر وہ مہمان پر خرچ کرتا ہے تو وہ صدقہ ہوگا۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Sunan Darmi · From the food book › Door · Hadith 2075

سنن دارمی · من كتاب الاطعمة ‹ باب · حديث 2088

أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا الْمُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو سُفْيَانَ حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي ذَاتَ يَوْمٍ إِلَى مَنْزِلِهِ فَقَالَ هَلْ مِنْ غَدَاءٍ أَوْ مِنْ عَشَاءٍ شَكَّ طَلْحَةُ قَالَ فَأَخْرَجَ إِلَيْهِ فِلَقًا مِنْ خُبْزٍ فَقَالَ أَمَا مِنْ أُدْمٍ قَالُوا لَا إِلَّا شَيْءٌ مِنْ خَلٍّ فَقَالَ هَاتُوهُ فَنِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ قَالَ جَابِرٌ فَمَا زِلْتُ أُحِبُّ الْخَلَّ مُنْذُ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ فَمَا زِلْتُ أُحِبُّهُ مُنْذُ سَمِعْتُهُ مِنْ جَابِرٍ

حضرت جابر بن عبداللہ بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور اپنے ہاں لے گئے آپ نے دریافت کیا کیا کچھ کھانے کو ہے حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں آپ کی خدمت میں روٹی کا ایک ٹکڑا پیش کیا گیا آپ نے دریافت کیا کیا کوئی سالن ہے اہل خانہ نے عرض کی صرف کچھ سرکہ ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اسے ہی لے آؤ سرکہ بہترین سالن ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بات سنی ہے تب سے میں ہمیشہ سرکہ کو پسند کرتا ہوں۔ حضرت ابوسفیان بیان کرتے ہیں جب سے میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی زبانی یہ بات سنی ہے اس کے بعد بھی سرکہ کو ہمیشہ پسند کرتا ہوں۔

مِنْ جَابِرٍ؟ ← أَبُو سُفْيَانَ فَمَا زِلْتُ أُحِبُّهُ مُنْذُ ← مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ← جابر فما زلت أحب الخل منذ ← هَاتُوهُ فَنِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ ← لا إلا شيء من خل ← أَمَا مِنْ أُدْمٍ؟ ← فَأَخْرَجَ إِلَيْهِ فِلَقًا مِنْ خُبْزٍ ← هَلْ مِنْ غَدَاءٍ أَوْ مِنْ عَشَاءٍ شَكَّ طَلْحَةُ ← أَخَذَ النَّبِيُّ بِيَدِي ذَاتَ يَوْمٍ إِلَى مَنْزِلِهِ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← طَلْحَةُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو سُفْيَانَ ← الْمُثَنَّى بْنِ سَعِيدٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Sunan Darmi · From the food book › Door · Hadith 2088

سنن دارمی · من كتاب الاطعمة ‹ باب · حديث 2089

حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نِعْمَ الْإِدَامُ أَوْ نِعْمَ الْأُدْمُ الْخَلُّ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں سرکہ بہترین سالن ہے۔

نِعْمَ الْإِدَامُ أَوْ نِعْمَ الْأُدْمُ الْخَلُّ ← النَّبِيِّ ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← يَحْيَی بْنُ حَسَّانَ

Sunan Darmi · From the food book › Door · Hadith 2089

سنن دارمی · من كتاب الاطعمة ‹ باب · حديث 2099

أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا جَبَلَةُ بْنُ سُحَيْمٍ قَالَ كُنَّا بِالْمَدِينَةِ فَأَصَابَتْنَا سَنَةٌ فَكَانَ ابْنُ الزُّبَيْرِ يَرْزُقُ التَّمْرَ وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَمُرُّ بِنَا وَيَقُولُ لَا تُقَارِنُوا فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الْقِرَانِ إِلَّا أَنْ يَسْتَأْذِنَ الرَّجُلُ أَخَاهُ

حضرت جبلہ بن سحیم بیان کرتے ہیں ہم مدینہ منورہ میں موجود تھے ہمیں قحط سالی لاحق ہوگئی تو ابن زبیر نے کھجوریں تقسیم کرنا شروع کی حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ ہمارے پاس سے گزرے تو فرمایا دو کھجوریں ایک ساتھ نہ کھانا کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو کھجوریں ایک ساتھ کھانے سے منع کیا ہے۔

الْقِرَانِ إِلَّا أَنْ يَسْتَأْذِنَ الرَّجُلُ أَخَاهُ» ← لَا تُقَارِنُوا، فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ نَهَى ← کَانَ ابْنُ عُمَرَ يَمُرُّ بِنَا ← كُنَّا بِالْمَدِينَةِ فَأَصَابَتْنَا سَنَةٌ فَكَانَ ابْنُ الزُّبَيْرِ يَرْزُقُ التَّمْرَ ← جَبَلَةُ بْنُ سُحَيْمٍ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ

Sunan Darmi · From the food book › Door · Hadith 2099

سنن دارمی · من كتاب الاطعمة ‹ باب · حديث 2101

أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَجُوعُ أَهْلُ بَيْتٍ عِنْدَهُمْ التَّمْرُ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ اہل خانہ بھوکے نہیں رہ سکتے جن کے پاس کھجور موجود ہو۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← يَحْيَی بْنُ حَسَّانَ

Sunan Darmi · From the food book › Door · Hadith 2101

سنن دارمی · من كتاب الاطعمة ‹ باب · حديث 2106

أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِيمَةِ يُدْعَى إِلَيْهَا الْأَغْنِيَاءُ وَيُتْرَكُ الْمَسَاكِينُ وَمَنْ تَرَكَ الدَّعْوَةَ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں سب سے بدترین ولیمہ وہ کھانا ہے جس میں امیر لوگوں کو بلایا جائے اور غریبوں کو نہ بلایا جائے جو شخص دعوت قبول نہیں کرتا وہ اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرتا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ ← الْأَعْرَجِ ← الزُّهْرِيِّ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← أَبُو الْمُغِيرَةِ

Sunan Darmi · From the food book › Door · Hadith 2106

سنن دارمی · من كتاب الاطعمة ‹ باب · حديث 2109

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ أَبِي طُوَالَةَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو خواتین پر وہ ہی فضیلت حاصل ہے جوثرید کو تمام کھانوں پر حاصل ہے۔

أَنَسٍ، ← أَبِي طُوَالَةَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ ← خَالِدٌ، ← عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ

Sunan Darmi · From the food book › Door · Hadith 2109

سنن دارمی · من كتاب الاطعمة ‹ باب · حديث 2110

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْكَرِيمِ أَبُو أُمَيَّةَ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ زَوَّجَنِي أَبِي فِي إِمَارَةِ عُثْمَانَ فَدَعَا رَهْطًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ فِيمَنْ دَعَا صَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ وَهُوَ شَيْخٌ كَبِيرٌ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ انْهَسُوا اللَّحْمَ نَهْسًا فَإِنَّهُ أَشْهَى وَأَمْرَأُ

حضرت عبداللہ بن حارث بیان کرتے ہیں میرے والد نے حضرت عثمان کی حکومت کے زمانے میں میری شادی کردی انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ اصحاب کی دعوت کی ان میں سے ایک صاحب حضرت صفوان بن امیہ تھے جو بزرگ ہوچکے تھے انہوں نے بتایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا گوشت کو دانت کے ذریعے نوچ کر کھاؤ کیونکہ اس سے مزہ زیادہ آتا ہے اور ہضم بھی صحیح طرح ہوتا ہے۔

عَبْدُ الْكَرِيمِ أَبُو أُمَيَّةَ، ← سُفْيَانَ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ،

Sunan Darmi · From the food book › Door · Hadith 2110

سنن دارمی · من كتاب الاطعمة ‹ باب · حديث 2113

حَدَّثَنَا يَعْلَى حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَاءَ خَادِمُ أَحَدِكُمْ بِالطَّعَامِ فَلْيُجْلِسْهُ فَإِنْ أَبَى فَلْيُنَاوِلْهُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تمہارا خادم کھانا لے کر آئے تو اسے ساتھ بٹھاؤ اور اگر وہ انکار کردے تو اسے کچھ دے دو۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← إِسْمَعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ← يعلى

Sunan Darmi · From the food book › Door · Hadith 2113

سنن دارمی · من كتاب الاطعمة ‹ باب · حديث 2115

حَدَّثَنَا فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ الْحَلْوَاءَ وَالْعَسَلَ

ہشام بن عروہ اپنے والد کے حوالے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حلوہ (یعنی کسی بھی میٹھی چیز) اور شہد کو پسند کرتے تھے۔

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يُحِبُّ الْحَلْوَاءَ وَالْعَسَلَ ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ← فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ،

Sunan Darmi · From the food book › Door · Hadith 2115

سنن دارمی · من كتاب الاطعمة ‹ باب · حديث 2121

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ مُوسَى بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا وُضِعَ الطَّعَامُ فَاخْلَعُوا نِعَالَكُمْ فَإِنَّهُ أَرْوَحُ لِأَقْدَامِكُمْ

حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب کھانا رکھ دیا جائے تو جوتے اتار دو کیونکہ اس طرح تمہارے پاؤں کو زیادہ آرام ملے گا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَبِي ← مُوسَى بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ

Sunan Darmi · From the food book › Door · Hadith 2121

سنن دارمی · من كتاب الاطعمة ‹ باب · حديث 2122

أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْبُدُوا الرَّحْمَنَ وَأَفْشُوا السَّلَامَ وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ تَدْخُلُوا الْجِنَانَ

حضرت عبداللہ بن عمر بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا رحمن کی عبادت کرو سلام کو عام کرو اور (لوگوں کو) کھانا کھلاؤ تم جنت میں داخل ہوجاؤ گے۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِيهِ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← جَرِيرٌ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى،

Sunan Darmi · From the food book › Door · Hadith 2122

سنن دارمی · 11-11- كِتَابُ الاِفْتِتَاحِ ‹ باب · حديث 2152

أَخْبَرَنَا أَبُو زَيْدٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْحَكَمِ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ أَوْ سَمِعْتُهُ سُئِلَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ فَقَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْجَرِّ وَالدُّبَّاءِ وَسَأَلْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ فَقَالَ مِثْلَ قَوْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُحَرِّمَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَوْ مَنْ كَانَ مُحَرِّمًا مَا حَرَّمَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ فَلْيُحَرِّمْ النَّبِيذَ قَالَ و حَدَّثَنِي أَخِي عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الْجَرِّ وَالدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ وَعَنْ الْبُسْرِ وَالتَّمْرِ

ابوحکم بیان کرتے ہیں میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مٹکے میں نبیذ تیار کرنے کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے جواب دیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹکے اور دباء میں نبیذ تیار کرنے سے منع کیا ہے میں نے یہی سوال ابن زبیر سے کیا تو انہوں نے بھی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی مانند جواب دیا ابوحکم بیان کرتے ہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جو شخص چاہتا ہو وہ اس چیز کو حرام قرار دے جسے اللہ اور اس کے رسول نے حرام قرار دیا ہے تو اسے نبیذ کو حرام قرار دینا چاہیے ابوحکم بیان کرتے ہیں میرے بھائی نے مجھے ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ روایت سنائی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹکے دباء اور مزفت میں نبیذ تیار کرنے سے منع کیا ہے اور خشک اور تر کھجور کی ایک ساتھ نبیذ تیار کرنے سے منع کیا ہے۔

ابْنُ عَبَّاسٍ مَنْ سَرَّهُ ← مِثْلَ قَوْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ ← الْجَرِّ وَالدُّبَّاءِ وَسَأَلْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← نَبِيذِ الْجَرِّ» ← سُئِلَ ← سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ أَوْ ← أَبَا الْحَکَمِ ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو زَيْدٍ،

Sunan Darmi · From the book of drinks › Door · Hadith 2152

سنن دارمی · 11-11- كِتَابُ الاِفْتِتَاحِ ‹ باب · حديث 2153

أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ عَنْ فُضَيْلِ بْنِ زَيْدٍ الرَّقَاشِيِّ أَنَّهُ أَتَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُغَفَّلٍ فَقَالَ أَخْبِرْنِي بِمَا يَحْرُمُ عَلَيْنَا مِنْ الشَّرَابِ فَقَالَ الْخَمْرُ قَالَ قُلْتُ هُوَ فِي الْقُرْآنِ قَالَ مَا أُحَدِّثُكَ إِلَّا مَا سَمِعْتُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَدَأَ بِالِاسْمِ أَوْ قَالَ بِالرِّسَالَةِ قَالَ نَهَى عَنْ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ

حضرت فضیل بن زید رقاشی بیان کرتے ہیں وہ حضرت عبداللہ بن مغفل کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ آپ ہمیں بتائیں کہ ہمارے لئے کون سی شراب حرام ہے انہوں نے جواب دیا خمر، میں نے جواب دیا اس کا ذکر قرآن میں موجود ہے انہوں نے فرمایا میں تمہیں وہی حدیث سناؤں گا جو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہے (راوی کہتے ہیں شاید انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسم گرامی کو پہلے ذکر کیا تھا اور آپ کے رسول ہونے کا ذکر بعد میں کیا تھایا شاید رسالت کا ذکر پہلے کیا تھا اور اسم گرامی کا ذکر بعد میں کیا تھا۔) پھر انہوں نے بتایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دباء، حنتم اور نقیر (میں شراب تیار کرنے) سے منع کیا ہے۔

الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ ← نُهِيَ ← بِالرِّسَالَةِ ← مُحَمَّدًا بَدَأَ بِالِاسْمِ أَوْ ← مَا أُحَدِّثُكَ إِلَّا مَا ← قُلْتُ هُوَ فِي الْقُرْآنِ ← بِمَا يَحْرُمُ عَلَيْنَا مِنْ الشَّرَابِ فَقَالَ الْخَمْرُ ← فُضَيْلِ بْنِ زَيْدٍ الرَّقَاشِيِّ أَنَّهُ أَتَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُغَفَّلٍ فَقَالَ ← عَاصِمٍ، ← ثَابِتِ بْنِ يَزِيدَ ← أَبُو النُّعْمَانِ،

Sunan Darmi · From the book of drinks › Door · Hadith 2153

سنن دارمی · 11-11- كِتَابُ الاِفْتِتَاحِ ‹ باب · حديث 2154

أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ وَسَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ وَاللَّفْظُ لِيَزِيدَ قَالَا أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَنْتَبِذُوا الزَّهْوَ وَالرُّطَبَ جَمِيعًا وَلَا تَنْتَبِذُوا الزَّبِيبَ وَالتَّمْرَ جَمِيعًا وَانْتَبِذُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى حِدَتِهِ

عبداللہ بن ابوقتادہ رضی اللہ عنہ اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں کچی اور تازہ کھجوروں کی ایک ساتھ نبیذ تیار نہ کرو کشمش اور کھجور کی ایک ساتھ نبیذ تیار نہ کرو بلکہ ان میں سے ہر ایک کی الگ سے نبیذ تیار کرو۔

النَّبِيِّ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ← يَحْيَى ← هِشَامٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ وَسَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ وَاللَّفْظُ لِيَزِيدَ

Sunan Darmi · From the book of drinks › Door · Hadith 2154

سنن دارمی · 11-11- كِتَابُ الاِفْتِتَاحِ ‹ باب · حديث 2168

أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الشُّرْبِ قَائِمًا قَالَ فَسَأَلْتُهُ عَنْ الْأَكْلِ فَقَالَ ذَاكَ أَخْبَثُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پینے سے منع کیا ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں میں نے ان سے کھانے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے جواب دیا یہ زیادہ برا ہے۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ

Sunan Darmi · From the book of drinks › Door · Hadith 2168

سنن دارمی · 11-11- كِتَابُ الاِفْتِتَاحِ ‹ باب · حديث 2171

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ خَرَجْنَا مَعَ حُذَيْفَةَ إِلَى الْمَدَائِنِ فَاسْتَسْقَى فَأَتَاهُ دِهْقَانٌ بِإِنَاءٍ مِنْ فِضَّةٍ فَرَمَى بِهِ وَجْهَهُ فَقُلْنَا اسْكُتُوا فَإِنَّا إِنْ سَأَلْنَاهُ لَمْ يُحَدِّثْنَا فَلَمَّا كَانَ بَعْدُ قَالَ أَتَدْرُونَ لِمَ رَمَيْتُهُ قُلْنَا لَا قَالَ إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُهُ وَذَكَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنْ الشُّرْبِ فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَعَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ وَالدِّيبَاجِ وَقَالَ هُمَا لَهُمْ فِي الدُّنْيَا وَلَكُمْ فِي الْآخِرَةِ

حضرت عبدالرحمن بن ابویعلی بیان کرتے ہیں ہم حضرت حذیفہ کے ہمراہ مدائن گئے تو حضرت حذیفہ نے پانی مانگا ایک رئیس چاندی کے برتن میں پانی لایا حضرت حذیفہ نے اسے پھینک دیا اور اس کے منہ پر تھپڑ رسید کیا ہم نے ایک دوسرے سے کہا ابھی خاموش رہو کیونکہ ہم نے ابھی سوال کیا تو یہ ہمیں حدیث نہیں سنائیں گے تو بعد میں حضرت حذیفہ نے دریافت کیا کیا تمہیں پتہ ہے میں نے اسے کیوں مارا ہے ہم نے عرض کی نہیں انہوں نے فرمایا میں نے اس بات سے منع کیا تھا پھر حضرت حذیفہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات نقل کی کہ آپ نے چاندی اور سونے کے برتن سے پینے سے اور ریشم اور دبیاج پہننے سے منع کیا ہے اور فرمایا ہے یہ کفار کے لئے دنیا میں ہے اور تمہارے لئے آخرت میں ہے۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← مُجَاهِدٍ ← ابْنِ عَوْنٍ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ

Sunan Darmi · From the book of drinks › Door · Hadith 2171

سنن دارمی · 11-11- كِتَابُ الاِفْتِتَاحِ ‹ باب · حديث 2174

أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ حَبِيبٍ عَنْ أَبِي الْمُثَنَّى الْجُهَنِيِّ قَالَ قَالَ مَرْوَانُ لِأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ النَّفْخِ فِي الشَّرَابِ قَالَ نَعَمْ

مروان نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پینے کی چیز میں پھونک مارنے سے منع کیا ہو تو آپ نے جواب دیا ہاں۔

نَعَمْ ← النَّفْخِ فِي الشَّرَابِ ← رَسُولَ اللَّهِ «يَنْهَى ← مَرْوَانُ لِأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ هَلْ ← أَبِي الْمُثَنَّى الْجُهَنِيِّ ← أَيُّوبَ بْنِ حَبِيبٍ ← مَالِكٍ، ← خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ

Sunan Darmi · From the book of drinks › Door · Hadith 2174

Sahih

chevron_left Previous
1…333435…2,030
Next chevron_right