Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الطعام والشراب

Food & Drink

40586 hadiths

سنن دارمی · 11-11- كِتَابُ الاِفْتِتَاحِ ‹ باب · حديث 2175

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ النَّفْخِ فِي الشَّرَابِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پینے کی چیز سے پھونک مارنے سے منع کیا ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← عَبْدِ الْکَرِيمِ الْجَزَرِيِّ ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ

Sunan Darmi · From the book of drinks › Door · Hadith 2175

سنن دارمی · من كتاب الرويا ‹ باب · حديث 2197

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ هُوَ ابْنُ كَثِيرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ مِمَّا يَقُولُ لِأَصْحَابِهِ مَنْ رَأَى مِنْكُمْ رُؤْيَا فَلْيَقُصَّهَا عَلَيَّ فَأَعْبُرَهَا لَهُ قَالَ فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْتُ ظُلَّةً بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ تَنْطِفُ عَسَلًا وَسَمْنًا وَرَأَيْتُ أُنَاسًا يَتَكَفَّفُونَ مِنْهَا فَمُسْتَكْثِرٌ وَمُسْتَقِلٌّ وَرَأَيْتُ سَبَبًا وَاصِلًا مِنْ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ فَأَخَذْتَ بِهِ فَعَلَوْتَ فَأَعْلَاكَ اللَّهُ ثُمَّ أَخَذَ بِهِ الَّذِي بَعْدَكَ فَعَلَا فَأَعْلَاهُ اللَّهُ ثُمَّ أَخَذَهُ الَّذِي بَعْدَهُ فَعَلَا فَأَعْلَاهُ اللَّهُ ثُمَّ أَخَذَهُ الَّذِي بَعْدَهُ فَقُطِعَ بِهِ ثُمَّ وُصِلَ فَاتَّصَلَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ ائْذَنْ لِي فَأَعْبُرَهَا فَقَالَ اعْبُرْهَا وَكَانَ أَعْبَرَ النَّاسِ لِلرُّؤْيَا بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَمَّا الظُّلَّةُ فَالْإِسْلَامُ وَأَمَّا الْعَسَلُ وَالسَّمْنُ فَالْقُرْآنُ حَلَاوَةُ الْعَسَلِ وَلِينُ السَّمْنِ وَأَمَّا الَّذِينَ يَتَكَفَّفُونَ مِنْهُ فَمُسْتَكْثِرٌ وَمُسْتَقِلٌّ فَهُمْ حَمَلَةُ الْقُرْآنِ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَبْتَ وَأَخْطَأْتَ فَقَالَ فَمَا الَّذِي أَصَبْتُ وَمَا الَّذِي أَخْطَأْتُ فَأَبَى أَنْ يُخْبِرَهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں سے فرمایا کرتے تھے جو شخص خواب دیکھے وہ میرے سامنے بیان کرے میں اس کی تعبیر بتایا کروں گا راوی کہتے ہیں ایک شخص آیا اور عرض کی یا رسول اللہ میں نے آسمانوں اور زمین کےدرمیان بادلوں کا ایک ٹکڑا دیکھا جس میں سے شہد اور گھی برس رہا تھا میں نے آسمان سے لے کر زمین تک لٹکی رسی دیکھی میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ اسے حاصل کررہے ہیں کچھ کم حاصل کررہے ہیں اور کچھ زیادہ حاصل کررہے ہیں پھر آپ نے اس رسی کو پکڑا اور اوپر تشریف لے گئے اللہ تعالیٰ نے آپ کو بلندی عطا کردی پھر آپ کے بعد ایک صاحب نے اس رسی کو پکڑا اور وہ بھی اوپر چڑھنے لگے، اللہ تعالیٰ انہیں بھی اوپر لے گیا پھر اس کے بعد ایک شخص نے اسے پکڑا اور وہ بھی اوپر کی طرف چڑھے اللہ تعالیٰ نے انہیں بھی اوپر چڑھادیا پھر اس کے بعد ایک اور صاحب نے پکڑا اور وہ رسی ٹوٹ گئی پھر اس رسی کو ملا دیا گیا وہ جڑگئی۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی یا رسول اللہ مجھے اجازت دیں کہ میں اس کی تعبیر بیان کروں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اس کی تعبیر بیان کرو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خواب کی تعبیر کے سب سے بڑے ماہر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے انہوں نے عرض کی بادل سے مراد اسلام ہے شہد اور گھی سے مراد قرآن ہے جس میں شہد کی مٹھاس اور گھی کی نرمی پائی جاتی ہے لوگوں کا اسے حاصل کرنا اور کم یا زیادہ حاصل کرنا اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو قرآن کا علم حاصل کرتے ہیں آسمان سے زمین تک لٹکی رسی سے مراد وہ حق ہے جس پر آپ گامزن ہیں۔ آپ اس پر عمل کرتے ہیں اور اس کے ذریعے اللہ آپ کو بلندی عطا کرتا ہے اور پھر اس کے بعد جو شخص اس کو پکڑتا ہے اللہ اس کی وجہ سے اس کو بھی بلندی عطا کردیتا ہے پھر جو شخص اسے پکڑتا ہے تو اللہ اسے بھی بلندی عطا کردیتا ہے اور پھر جو شخص پکڑے گا تو وہ اس کی وجہ سے منقطع ہوجائے گی اور پھر اسے چھوڑ دیا جائے گا۔ یا رسول اللہ آپ مجھے بتائیں میرے والد آپ پر قربان ہوں میں نے صحیح تعبیر بیان کی ہے یا غلط؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کچھ صحیح ہے اور کچھ غلط ہے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی صحیح کیا ہے اور غلط کیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بتانے سے انکار کردیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُلَيْمَانُ هُوَ ابْنُ كَثِيرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ،

Sunan Darmi · From the Book of Roya › Door · Hadith 2197

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2246

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى وَلِيمَةٍ فَلْيُجِبْ قَالَ أَبُو مُحَمَّد يَنْبَغِي أَنْ يُجِيبَ وَلَيْسَ الْأَكْلُ عَلَيْهِ بِوَاجِبٍ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب کسی شخص کو ولیمہ کی دعوت میں شریک ہونے کی دعوت دی جائے تو اسے قبول کرلینی چاہیے۔ امام دارمی فرماتے ہیں اسے دعوت قبول کرلینی چاہیے البتہ جا کر کھانا کھانا اس پر واجب نہیں ہے۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ،

Sunan Darmi · From the book of marriage › Door · Hadith 2246

سنن دارمی · من كتاب الجهاد ‹ باب · حديث 2463

أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَقَ الْفَزَارِيُّ عَنْ هِشَامٍ عَنْ حَفْصَةَ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ أُدَاوِي الْجَرِيحَ أَوْ الْجَرْحَى وَأَصْنَعُ لَهُمْ الطَّعَامَ وَأَخْلُفُهُمْ فِي رِحَالِهِمْ

حضرت ام عطیہ بیان کرتی ہیں مجھے نبی کریم کے ساتھ سات غزوات میں شریک ہونے کاشرف حاصل ہے میں زخمیوں کو دوا پلاتی تھی اور ان کے لئے کھانا تیار کرتی تھی میں لوگوں سے پیچھے قیام گاہ میں رہا کرتی تھی۔

أُمِّ عَطِيَّةَ ← حَفْصَةَ، ← هِشَامٍ ← أَبُو إِسْحَقَ الْفَزَارِيُّ ← عَاصِمُ بْنُ يُوسُفَ

Sunan Darmi · From the book of jihad › Door · Hadith 2463

سنن دارمی · من كتاب الجهاد ‹ باب · حديث 2469

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ حَدَّثَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ عُلَيِّ بْنِ رَبَاحٍ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَشْتَرِيَ فَرَسًا فَأَيُّهَا أَشْتَرِي قَالَ اشْتَرِ أَدْهَمَ أَرْثَمَ مُحَجَّلَ طَلْقَ الْيَدِ الْيُمْنَى أَوْ مِنْ الْكُمْتِ عَلَى هَذِهِ الشِّيَةِ تَغْنَمْ وَتَسْلَمْ

حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ انصاری بیان کرتے ہیں ایک شخص نے عرض کی یا رسول اللہ میں ایک گھوڑا خریدنا چاہتا ہوں کون ساخریدوں ارشاد ہوا وہ گھوڑا خریدو جس کی ناک اوپر والے ہونٹ اور آگے والے دائیں پاؤں کے علاوہ باقی پاؤں سفید ہوں یا کمت کی قسم کا گھوڑا خرید لو۔ تمہیں مال غنیمت بھی ملے گا اور تم سلامت بھی رہوگے۔

أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ رَجُلًا ← عَلِیِّ بْنِ رَبَاحٍ، ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← الْوَلِیْدُ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ

Sunan Darmi · From the book of jihad › Door · Hadith 2469

سنن دارمی · من كتاب البيوع ‹ باب · حديث 2581

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ يَحْيَى بْنُ الْمُتَوَكِّلِ قَالَ أَخْبَرَنِي الْقَاسِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ سَالِمٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِطَعَامٍ بِسُوقِ الْمَدِينَةِ فَأَعْجَبَهُ حُسْنُهُ فَأَدْخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ فِي جَوْفِهِ فَأَخْرَجَ شَيْئًا لَيْسَ كَالظَّاهِرِ فَأَفَّفَ بِصَاحِبِ الطَّعَامِ ثُمَّ قَالَ لَا غِشَّ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ مَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے کسی بازار کے پاس سے گزرے وہاں آپ نے غلہ پایا وہ آپ کو بہت پسند آیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک اس کے اندر داخل کیا تو اندر سے کچھ اناج نکلا جو باہر والے کی مانند نہیں تھا آپ نے اس اناج کے مالک سے فرمایا تم پر افسوس ہے۔ پھر فرمایا مسلمانوں کے درمیان دھوکہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ جو شخص ہمیں دھوکہ دے گا اس کا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔

ابْنِ عُمَرَ ← سَالِمٍ ← الْقَاسِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ← أَبُو عَقِيلٍ يَحْيَى بْنُ الْمُتَوَكِّلِ ← مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ

Sunan Darmi · From the book of sales › Door · Hadith 2581

سنن دارمی · من كتاب البيوع ‹ باب · حديث 2598

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا بِالتَّمْرِ وَالرُّطَبِ وَلَمْ يُرَخِّصْ فِي غَيْرِ ذَلِكَ

حضرت زید بن ثابت بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تر کھجور کے عوض عرایا کی اجازت دی ہے آپ نے کسی دوسرے معاملے میں اس کی اجازت نہیں دی۔

زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ← ابْنِ عُمَرَ ← سَالِمٍ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Sunan Darmi · From the book of sales › Door · Hadith 2598

Sahih

سنن دارمی · من كتاب البيوع ‹ باب · حديث 2618

أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ النَّصْرِيِّ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ هَاءَ وَهَاءَ وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ هَاءَ وَهَاءَ وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ هَاءَ وَهَاءَ وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ هَاءَ وَهَاءَ وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ هَاءَ وَهَاءَ وَلَا فَضْلَ بَيْنَهُمَا

حضرت عمر بن خطاب بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے سونے کو سونے کے عوض میں دست بدست اور چاندی کو چاندی کے عوض میں دست بدست اور کھجور کو کھجور کے عوض میں دست بدست اور گندم کو گندم کے عوض میں دست بدست اور جو کو جو کے عوض میں دست بدست فروخت کرو ان میں کوئی کمی بیشی نہ کرو۔

رَسُولِ اللَّهِ ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← مالك بن أوس بن الحدثان النصري ← الزُّهْرِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Sunan Darmi · From the book of sales › Door · Hadith 2618

سنن دارمی · من كتاب البيوع ‹ باب · حديث 2619

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ قَالَ قَامَ نَاسٌ فِي إِمَارَةِ مُعَاوِيَةَ يَبِيعُونَ آنِيَةَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ إِلَى الْعَطَاءِ فَقَامَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ بِالْفِضَّةِ وَالْبُرِّ بِالْبُرِّ وَالتَّمْرِ بِالتَّمْرِ وَالشَّعِيرِ بِالشَّعِيرِ وَالْمِلْحِ بِالْمِلْحِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ سَوَاءً بِسَوَاءٍ فَمَنْ زَادَ أَوْ ازْدَادَ فَقَدْ أَرْبَى

ابواشعث صنعانی بیان کرتے ہیں حضرت معاویہ کے عہد حکومت میں کچھ لوگوں نے تنخواہ کے عوض میں سونے اور چاندی کے برتن فروخت کئے تو حضرت عبادہ بن صامت کھڑے ہوئے اور فرمایا بے شک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کے عوض میں سونے اور چاندی کے عوض میں چاندی کو اور گندم کے عوض میں گندم اور کھجوروں کے عوض میں کھجور اور جو کے عوض میں جو اور نمک کے عوض میں نمک کو فروخت کرنے سے منع کیا ہے البتہ انہیں برابر فروخت کیا جاسکتا ہے جبکہ یہ دونوں ایک جیسے ہوں جب کوئی شخص ان میں کوئی اضافہ کرے گا یا کرو ائے گا تو وہ سودی لین دین ہوگا۔

أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← خَالِدٌ، ← عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ

Sunan Darmi · From the book of sales › Door · Hadith 2619

سنن دارمی · من كتاب البيوع ‹ باب · حديث 2652

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ قَالَ سَمِعْتُ إِيَاسَ بْنَ عَبْدٍ الْمُزَنِيَّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَبِيعُوا الْمَاءَ فَإِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ بَيْعِ الْمَاءِ وَقَالَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ لَا نَدْرِي أَيَّ مَاءٍ قَالَ يَقُولُ لَا أَدْرِي مَاءً جَارِيًا أَوْ الْمَاءَ الْمُسْتَقَى

حضرت ایاس بن عبد مزنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام میں شامل ہیں بیان کرتے ہیں پانی کو فروخت نہ کرو کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پانی کو فروخت کرنے سے منع کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ عمرو بن دینار فرماتے ہیں ہمیں پتہ نہیں اس سے کون ساپانی مراد ہے وہ فرماتے ہیں مجھے نہیں پتہ اس سے مراد پینے والا پانی ہے یا جسے کنویں سے نکالا جائے۔

لَا أَدْرِي مَاءً جَارِيًا أَوْ الْمَاءَ الْمُسْتَقَى ← بَيْعِ الْمَاءِ وَقَالَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ لَا نَدْرِي أَيَّ مَاءٍ ← النَّبِيَّ يَنْهَی ← لَا تَبِيعُوا الْمَاءَ فَإِنِّي ← إِيَاسَ بْنَ عَبْدٍ الْمُزَنِيَّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← أَبِي الْمِنْهَالِ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Sunan Darmi · From the book of sales › Door · Hadith 2652

سنن دارمی · من كتاب البيوع ‹ باب · حديث 2653

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ عَنْ سَيَّارٍ رَجُلٍ مِنْ فَزَارَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ بُهَيْسَةَ عَنْ أَبِيهَا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنَهُ فَدَخَلَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قَمِيصِهِ وَقَدْ قَالَ عُثْمَانُ فَالْتَزَمَهُ فَقَالَ مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ فَقَالَ الْمِلْحُ وَالْمَاءُ قَالَ مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ قَالَ إِنْ تَفْعَلْ الْخَيْرَ خَيْرٌ لَكَ قَالَ مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ قَالَ إِنْ تَفْعَلْ الْخَيْرَ خَيْرٌ لَكَ وَانْتَهَى إِلَى الْمِلْحِ وَالْمَاءِ قِيلَ لِعَبْدِ اللَّهِ تَقُولُ بِهِ فَأَوْمَأَ بِرَأْسِهِ

بہیسہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے اجازت لے کر آپ کی قمیص کے اندر اپنا منہ ڈال کر مہر نبوت کا بوسہ لیا راوی بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم کو اپنے جسم کے ساتھ لپٹا لیا تھا انہوں نے دریافت کیا وہ کون سی چیز ہے جسے استعمال کرنے سے روکناجائز نہیں ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نمک اور پانی۔ انہوں نے عرض کی وہ کون سی چیز ہے جس کے استعمال کرنے سے روکنا جائز نہیں ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم نیکی کروگے تو وہ تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے انہوں نے پھر اسی طرح دریافت کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا اگر تم نیکی کروگے تو وہ تمہارے لئے بہتر ہے۔ راوی کہتے ہیں آپ نے صرف نمک اور پانی کی پابندی کی ہے امام دارمی فرماتے ہیں ان سے سوال کیا گیا کہ آپ اس حدیث کے مطابق فتوی دیتے ہیں انہوں نے سر کے اشارے سے جواب دیا جی ہاں۔

مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ؟ ← أَنْ تَفْعَلَ الْخَيْرَ خَيْرٌ لَکَ ← مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ؟ ← الْمِلْحُ وَالْمَاءُ ← مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ؟ ← عُثْمَانُ فَالْتَزَمَهُ ← النَّبِيِّ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ فَاسْتَأْذَنَهُ فَدَخَلَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قَمِيصِهِ وَقَدْ ← أَبِيهَا ← بهيسة ← أَبِيهِ ← سَيَّارٍ, رَجُلٌ مِنْ فَزَارَةَ, ← كَهْمَسٍ، ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ

Sunan Darmi · From the book of sales › Door · Hadith 2653

Sahih

سنن دارمی · من كتاب البيوع ‹ باب · حديث 2658

أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عِكْرِمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَبِيبَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ كُنَّا نُكْرِي الْأَرْضَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا عَلَى السَّوَاقِي مِنْ الزَّرْعِ وَبِمَا سَعِدَ مِنْ الْمَاءِ مِنْهَا فَنَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ وَأَذِنَ لَنَا أَوْ قَالَ رَخَّصَ لَنَا فِي أَنْ نُكْرِيَهَا بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ

حضرت سعد بن ابی وقاص بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں پہلے ہم پیدوار کے کچھ حصے کے عوض میں زمین کرائے پر دیا کرتے تھے اسی طرح پانی وغیرہ کے عوض میں بھی دیا کرتے تھے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے منع کردیا تاہم آپ نے ہمیں اس بات کی اجازت دی راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں آپ نے ہمیں اس بات کی رخصت دی کہ ہم سونے اور چاندی کے عوض میں زمین کو کرائے پر دے سکتے ہیں۔

سَعْدَ بْنَ اَبِیْ وَقَّاصِ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← محمد بن عبد الرحمن بن أبي لبيبة ← محمد بن عكرمة بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ

Sunan Darmi · From the book of sales › Door · Hadith 2658

سنن دارمی · من كتاب الاستئذان ‹ باب · حديث 2672

أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ عَوْفٍ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ اسْتَشْرَفَهُ النَّاسُ فَقَالُوا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَخَرَجْتُ فِيمَنْ خَرَجَ فَلَمَّا رَأَيْتُ وَجْهَهُ عَرَفْتُ أَنَّ وَجْهَهُ لَيْسَ بِوَجْهِ كَذَّابٍ فَكَانَ أَوَّلَ مَا سَمِعْتُهُ يَقُولُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَفْشُوا السَّلَامَ وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ وَصِلُوا الْأَرْحَامَ وَصَلُّوا وَالنَّاسُ نِيَامٌ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِسَلَامٍ

حضرت عبداللہ بن سلام بیان کرتے ہیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو لوگ آپ کو دیکھنے کے لئے آئے اور بولے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ہیں حضرت عبداللہ بیان کرتے ہیں ان لوگوں کے ساتھ میں بھی نکل کھڑا ہوا جب میں نے آپ کے چہرہ مبارک کی طرف دیکھا تو مجھے اندازہ ہوگیا کہ یہ چہرہ کسی جھوٹے شخص کا نہیں ہوسکتا۔ سب سے پہلی بات آپ کی زبانی میں نے یہ سنی آپ نے ارشاد فرمایا اے لوگو سلام کو عام کرو کھاناکھلاؤ رشتے داری کے حقوق کا خیال رکھو اور اس وقت نماز ادا کر جب لوگ سورہے ہوں تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤ گے۔

«قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ ← لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ الْمَدِينَةَ اسْتَشْرَفَهُ النَّاسُ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلاَمٍ ← زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ← عَوْفٌ، ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ

Sunan Darmi · From the book permission › Door · Hadith 2672

سنن دارمی · من كتاب الرقاق ‹ باب · حديث 2809

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ أَوْ مِنْ فَوْرِ جَهَنَّمَ فَأَبْرِدُوهَا بِالْمَاءِ

حضرت رافع بن خدیج بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بخار جہنم کی تپش کا حصہ ہے اسے پانی کے ذریعے ٹھنڈا کرو۔

رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ← عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، ← أَبِيهِ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Sunan Darmi · From the book Al-Raqqa › Door · Hadith 2809

سنن دارمی · من كتاب الرقاق ‹ باب · حديث 2857

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ أَبِي مَسْلَمَةَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَّا أَهْلُ النَّارِ الَّذِينَ هُمْ أَهْلُ النَّارِ فَإِنَّهُمْ لَا يَمُوتُونَ فِي النَّارِ وَأَمَّا نَاسٌ مِنْ النَّاسِ فَإِنَّ النَّارَ تُصِيبُهُمْ عَلَى قَدْرِ ذُنُوبِهِمْ فَيُحْرَقُونَ فِيهَا حَتَّى إِذَا صَارُوا فَحْمًا أُذِنَ فِي الشَّفَاعَةِ فَيَخْرُجُونَ مِنْ النَّارِ ضَبَائِرَ ضَبَائِرَ فَيُنْثَرُونَ عَلَى أَنْهَارِ الْجَنَّةِ فَيُقَالُ لِأَهْلِ الْجَنَّةِ يُفِيضُوا عَلَيْهِمْ مِنْ الْمَاءِ قَالَ فَيُفِيضُونَ عَلَيْهِمْ فَتَنْبُتُ لُحُومُهُمْ كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اہل نار وہ ہی لوگ ہیں جو اہل جہنم ہیں وہ جہنم میں مریں گے نہیں البتہ کچھ لوگ ایسے ہیں جنہیں جہنم کا عذاب ان کے گناہوں کے حوالے سے دیا جائے گا وہ اس میں جلتے رہیں گے یہاں تک کہ جب وہ لوگ کوئلہ ہوجائیں گے تو ان کے بارے میں شفاعت کی اجازت دی جائے گی وہ لوگ جہنم سے نکلیں گے تو برے حال میں ہوں گے انہیں جنت کی نہروں میں ڈالا جائے گا جنت سے کہا جائے گا کہ ان پر پانی بہاؤ ان پر پانی بہایا جائے گا تو ان کا گوشت یوں اگے گا جیسے سیلاب کی گزرگاہ سے کوئی دانہ اگ جاتا ہے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي نَضْرَةَ ← سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ أَبِي مَسْلَمَةَ ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ

Sunan Darmi · From the book Al-Raqqa › Door · Hadith 2857

سنن دارمی · من كتاب الرقاق ‹ باب · حديث 2865

أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عُقْبَةَ الْمُحَلِّمِيِّ قَالَ سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الرَّجُلَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ لَيُعْطَى قُوَّةَ مِائَةِ رَجُلٍ فِي الْأَكْلِ وَالشُّرْبِ وَالْجِمَاعِ وَالشَّهْوَةِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْيَهُودِ إِنَّ الَّذِي يَأْكُلُ وَيَشْرَبُ تَكُونُ مِنْهُ الْحَاجَةُ قَالَ يَفِيضُ مِنْ جِلْدِهِ عَرَقٌ فَإِذَا بَطْنُهُ قَدْ ضَمَرَ

حضرت زید بن ارقم بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اہل جنت میں سے ایک فرد کو کھانے پینے سے صحبت اور شہوت کے حوالے سے ایک سو مردوں جتنی قوت عطا کی جائے گی ایک یہودی شخص بولا جو شخص کھاتا ہے پیتا ہے اسے رفع حاجت کی ضرورت پیش آتی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جنت میں جو کھائے گا وہ اس کی جلد میں پسینے کی شکل میں باہر آجائے گا اور اس کا پیٹ سمٹ جائے گا۔

زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، ← ثُمَامَةَ بْنِ عُقْبَةَ الْمُحَلِّمِيِّ ← الْاَعْمَشِ ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ

Sunan Darmi · From the book Al-Raqqa › Door · Hadith 2865

سنن دارمی · من كتاب الرقاق ‹ باب · حديث 2876

أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ عَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ فِي الْجَنَّةِ بَحْرَ اللَّبَنِ وَبَحْرَ الْعَسَلِ وَبَحْرَ الْخَمْرِ ثُمَّ تَشَقَّقُ مِنْهُ الْأَنْهَارُ

حکیم بن معاویہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جنت میں دودھ کا ایک سمندر ہوگا اور شہد کا ایک سمندر ہوگا اور شراب کا ایک سمندر ہوگا جس میں سے نہریں جاری ہوں گی۔

أَبِيهِ ← حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، ← الْجُرَيْرِيِّ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Sunan Darmi · From the book Al-Raqqa › Door · Hadith 2876

سنن دارمی · من كتاب الرقاق ‹ باب · حديث 2877

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ نَهْرٌ فِي الْجَنَّةِ حَافَّتَاهُ مِنْ ذَهَبٍ يَجْرِي عَلَى الدُّرِّ وَالْيَاقُوتِ تُرْبَتُهُ أَطْيَبُ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ وَطَعْمُهُ أَحْلَى مِنْ الْعَسَلِ وَمَاؤُهُ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنْ الثَّلْجِ

حضرت عبداللہ بیان کرتے ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی، بے شک تمہیں ہم نے کوثر عطا کردی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا وہ جنت کی ایک نہر ہے جس کے دونوں کنارے سونے کے ہیں اور یہ موتیوں اور یاقوت پر بہتی ہے اس کی مٹی مشک سے زیادہ پاکیزہ ہے اور اس کا ذائقہ شہد سے زیادہ میٹھاہے اور اس کا پانی برف سے زیادہ سفید ہے۔

أعطيناك الكوثر ← لَمَّا نَزَلَتْ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ

Sunan Darmi · From the book Al-Raqqa › Door · Hadith 2877

موطأ مالك رواية أبي مصعب الزهري · کتاب ‹ (1) باب العمل في الوضوء · حديث 47

47 - حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ طَحْلاَءَ , عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ , أَنَّهُ رأى عُمَرَ يَتَوَضَّأُ وُضُوءًا لِمَا تَحْتَ إِزَارِهِ بِالْمَاءِ.

أَنَّهُ رأى عُمَرَ يَتَوَضَّأُ وُضُوءًا لِمَا تَحْتَ إِزَارِهِ بِالْمَاءِ. ← عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَاهُ ← يَحْيَى بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ طَحْلَاءَ، ← مَالِكٍ، ← أَبُو مُصْعَبٍ

Muwatta Malik, narrated by Abu Musab al-Zuhri · Book › Chapter · Hadith 47

موطأ مالك رواية أبي مصعب الزهري · کتاب ‹ (3) باب الطهور للوضوء · حديث 53

53 - حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ قراءة، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَلَمَةَ مولى ابن الأَزْرَقِ، أن الْمُغِيرَةِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ وَهُوَ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ، أخبره، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: سأل رَجُلٌ رَسُولِ اللَّهِ صَلى الله عَلَيه وَسَلم، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نَرْكَبُ الْبَحْرَ، وَنَحْمِلُ مَعَنَا الْقَلِيلَ مِنَ الْمَاءِ، فَإِنْ تَوَضَّأْنَا بِهِ عَطِشْنَا، أَفَنَتَوَضَّأُ بِهِ بماء البحر؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلى الله عَلَيه وَسَلم: هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ، الْحِلُّ مَيْتَتُهُ.

سَعِيدِ بْنِ سَلَمَةَ مولى ابن الأَزْرَقِ، ← صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ، ← مَالِكٍ، ← أَبُو مُصْعَبٍ

Muwatta Malik, narrated by Abu Musab al-Zuhri · Book › Chapter · Hadith 53

chevron_left Previous
1…343536…2,030
Next chevron_right