Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الطعام والشراب

Food & Drink

40586 hadiths

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 1185

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ عَنْ حَجَّاجٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ فِي الْحَائِضِ وَالْجُنُبِ يَصُبَّانِ الْمَاءَ صَبًّا وَلَا يَنْقُضَانِ شُعُورَهُمَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ حائضہ عورت اور جنبی عورت کے بارے میں فرماتے ہیں وہ دونوں پانی بہائیں گی چوٹی نہیں کھولیں گی۔

جَابِرٍ فِي الْحَائِضِ وَالْجُنُبِ يَصُبَّانِ الْمَاءَ صَبًّا وَلَا يَنْقُضَانِ شُعُورَهُمَا ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← حجاج، ← أَبُو خَالِدٍ؛ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ،

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 1185

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 1192

أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّهُ قَالَ لِامْرَأَتِهِ اسْتَأْصِلِي الشَّعْرَ بِالْمَاءِ لَا تَخَلَّلُهُ نَارٌ قَلِيلٌ بُقْيَاهَا عَلَيْهِ

حذیفہ نے اپنی اہلیہ سے کہا غسل کرتے وقت اپنے بالوں کی جڑوں کو تر کیا کرو ایسا نہ ہو کہ آگ ان میں خلال کرے جو ان پر رحم نہ کرے گی۔

لِامْرَأَتِهِ اسْتَأْصِلِي الشَّعْرَ بِالْمَاءِ لَا تَخَلَّلُهُ نَارٌ قَلِيلٌ بُقْيَاهَا عَلَيْهِ ← حُذَيْفَةَ أَنَّهُ ← هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← جَعْفَرِ بْنِ الْحَارِثِ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 1192

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 1193

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ إِذَا اغْتَسَلَتْ الْمَرْأَةُ مِنْ الْجَنَابَةِ فَلَا تَنْقُضْ شَعْرَهَا وَلَكِنْ تَصُبُّ الْمَاءَ عَلَى أُصُولِهِ وَتَبُلُّهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب کوئی عورت غسل جنابت کرے تو وہ اپنے بالوں کو نہ کھولے بلکہ بالوں کی جڑوں پر پانی بہا کر انہیں گیلا کرلے۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← ابْنِ أَبِي لَيْلَی ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 1193

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 1194

أَخْبَرَنَا يَعْلَى حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ عَنْ عَطَاءٍ فِي الْمَرْأَةِ تُصِيبُهَا الْجَنَابَةُ وَرَأْسُهَا مَعْقُوصٌ تَحُلُّهُ قَالَ لَا وَلَكِنْ تَصُبُّ عَلَى رَأْسِهَا الْمَاءَ صَبًّا حَتَّى تُرَوِّيَ أُصُولَ الشَّعْرِ

عطاء بن ابی رباح سے ایسی خاتون کے بارے میں سوال کیا گیا جسے جنابت لاحق ہوجائے اور اس نے بال باندھے ہوئے ہوں کیا اسے بال کھولنے چاہئیں انہوں نے جواب دیا نہیں بلکہ وہ اپنے سر پر پانی بہائے اور بالوں کی جڑوں کو گیلا کرے۔

لَا وَلَكِنْ تَصُبُّ عَلَى رَأْسِهَا الْمَاءَ صَبًّا حَتَّى تُرَوِّيَ أُصُولَ الشَّعْرِ ← عَطَاءٍ فِي الْمَرْأَةِ تُصِيبُهَا الْجَنَابَةُ وَرَأْسُهَا مَعْقُوصٌ تَحُلُّهُ ← عَبْد الْمَلِكِ؛ ← يعلى

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 1194

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 1208

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَوْذَبٍ حَدَّثَنَا عَنْ مَطَرٍ قَالَ سَأَلْتُ الْحَسَنَ وَعَطَاءً عَنْ الرَّجُلِ تَكُونُ مَعَهُ امْرَأَتُهُ فِي سَفَرٍ فَتَحِيضُ ثُمَّ تَطْهُرُ وَلَا تَجِدُ الْمَاءَ قَالَا تَتَيَمَّمُ وَتُصَلِّي قَالَ قُلْتُ لَهُمَا يَطَؤُهَا زَوْجُهَا قَالَا نَعَمْ الصَّلَاةُ أَعْظَمُ مِنْ ذَلِكَ

مطربیان کرتے ہیں: میں نے حسن اور عطاء سے ایسے شخص کے بارے میں سوال کیا جس کی بیوی اس کے ساتھ سفرمیں شریک ہو۔ اسے حیض آجائے پھر وہ عورت پاک ہوجائے تو اسے (غسل کرنے کے لئے پانی نہ ملے) تو ان دونوں حضرات نے جواب دیا: وہ عورت تیمم کر کے نماز پڑھے گی۔ مطر کہتے ہیں میں نے ان دونوں سے سوال کیا کیا اس کا شوہر اس کے ساتھ صحبت کرسکتا ہے ان دونوں نے جواب دیا: ہاں کیونکہ نماز اس سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

نَعَمْ الصَّلَاةُ أَعْظَمُ مِنْ ذَلِكَ ← قُلْتُ لَهُمَا يَطَؤُهَا زَوْجُهَا ← تَتَيَمَّمُ وَتُصَلِّي ← الرَّجُلِ تَكُونُ مَعَهُ امْرَأَتُهُ فِي سَفَرٍ فَتَحِيضُ ثُمَّ تَطْهُرُ وَلَا تَجِدُ الْمَاءَ ← سَأَلْتُ الْحَسَنَ وَعَطَاءً ← مَطَرٍ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَوْذَبٍ، ← ضَمْرَةُ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 1208

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 1209

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ فِي الْمَرْأَةِ تَطْهُرُ وَلَا تَجِدُ الْمَاءَ قَالَ يُصِيبُهَا زَوْجُهَا إِذَا تَيَمَّمَتْ سُئِلَ عَبْد اللَّهِ تَقُولُ بِهَذَا قَالَ إِي وَاللَّهِ

ابن جریج بیان کرتے ہیں عطاء سے ایسی خاتون کے بارے میں سوال کیا گیا جسے پاک ہوجانے کے بعد (غسل) کرنے کے لئے پانی نہ ملے انہوں نے جواب دیا : وہ عورت تیمم کر لے تو اس کا شوہر اس کے ساتھ صحبت کرسکتا ہے۔ امام ابومحمد عبداللہ دارمی سے سوال کیا گیا آپ بھی یہی کہتے ہیں انہوں نے جواب دیا : ہاں اللہ کی قسم! میں بھی اسی بات کا قائل ہوں۔

إِي وَاللَّهِ ← يُصِيبُهَا زَوْجُهَا إِذَا تَيَمَّمَتْ سُئِلَ عَبْد اللَّهِ تَقُولُ بِهَذَا ← عَطَاءٍ فِي الْمَرْأَةِ تَطْهُرُ وَلَا تَجِدُ الْمَاءَ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← سَعِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 1209

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1248

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عَطَاءٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ح وَابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَّرَ الصَّلَاةَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ الصَّلَاةَ نَامَ النِّسَاءُ وَالْوِلْدَانُ فَخَرَجَ وَهُوَ يَمْسَحُ الْمَاءَ عَنْ شِقِّهِ وَهُوَ يَقُولُ هُوَ الْوَقْتُ لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء ادا کرنے میں تاخیر کردی عرض کی گئی یارسول اللہ! خواتین اور بچے سو چکے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے آپ اپنے پہلو سے پانی پونچھ رہے تھے اور یہ فرما رہے تھے اگر مجھے اپنی امت کی مشقت کا خیال نہ ہوتا تو (عشاء کی نماز) کا یہی وقت ہوتا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ، ← وَابْنُ جُرَيْجٍ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ، ← عَمْرٍو، ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ

Sunan Darmi · From the prayer book › Door · Hadith 1248

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1277

أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ الْقَعْقَاعِ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْكُتُ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ إِسْكَاتَةً حَسِبْتُهُ قَالَ هُنَيَّةً فَقُلْتُ لَهُ بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِسْكَاتَتَكَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ مَا تَقُولُ قَالَ أَقُولُ اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنْ خَطَايَايَ كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنْ الدَّنَسِ اللَّهُمَّ اغْسِلْنِي مِنْ خَطَايَايَ بِالثَّلْجِ وَالْمَاءِ الْبَارِدِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم تکبیر اور قرأت کے درمیان خاموشی اختیار کرتے تھے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں تکبیر اور قرأت کے درمیان خاموشی میں آپ کیا پڑھتے ہیں نبی اکرم نے جواب دیا میں یہ پڑھتا ہوں۔ اے اللہ میرے اور گناہوں کے درمیان اتنا فاصلہ کردے جتنا تونے مشرق اور مغرب کے درمیان فاصلہ رکھا ہے۔ اے اللہ مجھے گناہوں سے اس طرح پاک کردے جیسے سفید کپڑے کو میل سے پاک رکھا جاتا ہے اے اللہ میری خطاؤں کو برف اور ٹھنڈے پانی کے ذریعے دھو دے۔

هُنَيَّةً فَقُلْتُ لَهُ بِأَبِي وَأُمِّي ← كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يَسْكُتُ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ إِسْكَاتَةً حَسِبْتُهُ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرٍو، ← عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← بِشْرُ بْنُ آدَمَ،

Sunan Darmi · From the prayer book › Door · Hadith 1277

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1499

أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ عَوْفٍ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامَ قَالَ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ اسْتَشْرَفَهُ النَّاسُ فَقَالُوا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ فَخَرَجْتُ فِيمَنْ خَرَجَ فَلَمَّا رَأَيْتُ وَجْهَهُ عَرَفْتُ أَنَّ وَجْهَهُ لَيْسَ بِوَجْهِ كَذَّابٍ فَكَانَ أَوَّلُ مَا سَمِعْتُهُ يَقُولُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَفْشُوا السَّلَامَ وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ وَصِلُوا الْأَرْحَامَ وَصَلُّوا وَالنَّاسُ نِيَامٌ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِسَلَامٍ

حضرت عبداللہ بن سلام بیان کرتے ہیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو لوگ آپ کے استقبال کے لئے آئے اور بولے کہ اللہ کے رسول تشریف لائے ہیں اللہ کے رسول تشریف لائے ہیں حضرت عبداللہ بیان کرتے ہیں ان لوگوں کے ساتھ میں بھی نکلا جب میں نے آپ کا چہرہ مبارک دیکھا تو مجھے اندازہ ہوگیا کہ یہ کسی جھوٹے شخص کا چہرہ نہیں ہے۔ میں نے سب سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ اے لوگو سلام کو عام کرو۔ کھانا کھلاؤ رشتہ داری برقرار رکھو اور جب لوگ سو رہے ہوں اس وقت نوافل ادا کرو تم لوگ سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤ گے۔

لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ الْمَدِينَةَ اسْتَشْرَفَهُ النَّاسُ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلاَمٍ ← زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ← عَوْفٌ، ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ

Sunan Darmi · From the prayer book › Door · Hadith 1499

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1514

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَأَتَى الْمَدِينَةَ لِبَيْعِ عَقَارِهِ فَيَجْعَلَهُ فِي السِّلَاحِ وَالْكُرَاعِ فَلَقِيَ رَهْطًا مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالُوا أَرَادَ ذَلِكَ سِتَّةٌ مِنَّا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَنَعَهُمْ وَقَالَ أَمَا لَكُمْ فِيَّ أُسْوَةٌ ثُمَّ إِنَّهُ قَدِمَ الْبَصْرَةَ فَحَدَّثَنَا أَنَّهُ لَقِيَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ فَسَأَلَهُ عَنْ الْوِتْرِ فَقَالَ أَلَا أُحَدِّثُكَ بِأَعْلَمِ النَّاسِ بِوِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ بَلَى قَالَ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةُ فَأْتِهَا فَاسْأَلْهَا ثُمَّ ارْجِعْ إِلَيَّ فَحَدِّثْنِي بِمَا تُحَدِّثُكَ فَأَتَيْتُ حَكِيمَ بْنَ أَفْلَحَ فَقُلْتُ لَهُ انْطَلِقْ مَعِي إِلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ قَالَ إِنِّي لَا آتِيهَا إِنِّي نَهَيْتُ عَنْ هَذِهِ الشِّيعَتَيْنِ فَأَبَتْ إِلَّا مُضِيًّا قُلْتُ أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ لَمَا انْطَلَقْتَ فَانْطَلَقْنَا فَسَلَّمْنَا فَعَرَفَتْ صَوْتَ حَكِيمٍ فَقَالَتْ مَنْ هَذَا قُلْتُ سَعْدُ بْنُ هِشَامٍ قَالَتْ مَنْ هِشَامٌ قُلْتُ هِشَامُ بْنُ عَامِرٍ قَالَتْ نِعْمَ الْمَرْءُ قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ قُلْتُ أَخْبِرِينَا عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ أَلَسْتَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ قُلْتُ بَلَى قَالَتْ فَإِنَّهُ خُلُقُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرَدْتُ أَنْ أَقُومَ وَلَا أَسْأَلَ أَحَدًا عَنْ شَيْءٍ حَتَّى أَلْحَقَ بِاللَّهِ فَعَرَضَ لِي الْقِيَامُ فَقُلْتُ أَخْبِرِينَا عَنْ قِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ أَلَسْتَ تَقْرَأُ يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ قُلْتُ بَلَى قَالَتْ فَإِنَّهَا كَانَتْ قِيَامَ رَسُولِ اللَّهِ أُنْزِلَ أَوَّلُ السُّورَةِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ حَتَّى انْتَفَخَتْ أَقْدَامُهُمْ وَحُبِسَ آخِرُهَا فِي السَّمَاءِ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا ثُمَّ أُنْزِلَ فَصَارَ قِيَامُ اللَّيْلِ تَطَوُّعًا بَعْدَ أَنْ كَانَ فَرِيضَةً فَأَرَدْتُ أَنْ أَقُومَ وَلَا أَسْأَلَ أَحَدًا عَنْ شَيْءٍ حَتَّى أَلْحَقَ بِاللَّهِ فَعَرَضَ لِي الْوِتْرُ فَقُلْتُ أَخْبِرِينَا عَنْ وِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَامَ وَضَعَ سِوَاكَهُ عِنْدِي فَيَبْعَثُهُ اللَّهُ لِمَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَهُ فَيُصَلِّي تِسْعَ رَكَعَاتٍ لَا يَجْلِسُ إِلَّا فِي الثَّامِنَةِ فَيَحْمَدُ اللَّهَ وَيَدْعُو رَبَّهُ ثُمَّ يَقُومُ وَلَا يُسَلِّمُ ثُمَّ يَجْلِسُ فِي التَّاسِعَةِ فَيَحْمَدُ اللَّهَ وَيَدْعُو رَبَّهُ وَيُسَلِّمُ تَسْلِيمَةً يُسْمِعُنَا ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ فَتِلْكَ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يَا بُنَيَّ فَلَمَّا أَسَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَمَلَ اللَّحْمَ صَلَّى سَبْعَ رَكَعَاتٍ لَا يَجْلِسُ إِلَّا فِي السَّادِسَةِ فَيَحْمَدُ اللَّهَ وَيَدْعُو رَبَّهُ ثُمَّ يَقُومُ وَلَا يُسَلِّمُ ثُمَّ يَجْلِسُ فِي السَّابِعَةِ فَيَحْمَدُ اللَّهَ وَيَدْعُو رَبَّهُ ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمَةً ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ فَتِلْكَ تِسْعٌ يَا بُنَيَّ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا غَلَبَهُ نَوْمٌ أَوْ مَرَضٌ صَلَّى مِنْ النَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَخَذَ خُلُقًا أَحَبَّ أَنْ يُدَاوِمَ عَلَيْهِ وَمَا قَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً حَتَّى يُصْبِحَ وَلَا قَرَأَ الْقُرْآنَ كُلَّهُ فِي لَيْلَةٍ وَلَا صَامَ شَهْرًا كَامِلًا غَيْرَ رَمَضَانَ فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَحَدَّثْتُهُ فَقَالَ صَدَقَتْكَ أَمَا إِنِّي لَوْ كُنْتُ أَدْخُلُ عَلَيْهَا لَشَافَهْتُهَا مُشَافَهَةً قَالَ فَقُلْتُ أَمَا إِنِّي لَوْ شَعَرْتُ أَنَّكَ لَا تَدْخُلُ عَلَيْهَا مَا حَدَّثْتُكَ

زرارہ بن اوفی بیان کرتے ہیں سعد بن ہشام نے اپنی اہلیہ کو طلاق دی اور اپنی جائیداد فروخت کرنے کے لئے مدینہ منورہ آئے تاکہ اسے فروخت کر کے ہتھیار خرید سکیں ان کی ملاقات چند انصاری حضرات سے ہوئی تو ان حضرات نے بتایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں چھ حضرات نے ایسا کرنے کی کوشش کی تھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس بات سے منع کردیا تھا اور دریافت کیا تھا کہ کیا تم لوگوں کے لئے میرا اسوہ کافی نہیں ہے۔ زرارہ بیان کرتے ہیں یعنی سعد بن ہشام بصرہ آ گئے اور انہوں نے ہمیں بتایا کہ ان کی ملاقات حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ہوئی اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے وتر کی نماز کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے جواب دیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وتر کی نماز کے بارے میں جسے سب سے زیادہ علم ہے میں تمہیں اس کے بارے میں نہ بتاؤں میں نے جواب دیا ہاں۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں حاضر ہو۔ تم ان کی خدمت میں جاؤ ان سے یہ سوال کرنا اور پھر وہ جو جواب دیں واپس آ کر مجھے بھی بتا دینا۔ سعد بن ہشام کہتے ہیں میں حکیم بن افلح کے پاس آیا اور ان سے کہا آپ میرے ساتھ ام المومنین کی خدمت میں چلیں حکیم نے جواب دیا میں ان کی خدمت میں نہیں جاؤں گا کیونکہ میں نے انہیں ان دونوں گروہوں (یعنی حضرت علی کے موافقین اور مخالفین) کے معاملے میں دخل دینے سے منع کیا تھا تو انہوں نے میری بات نہیں مانی سعد کہتے ہیں میں بولا میں آپ کو قسم دیتا ہوں کہ آپ چلیں پھر ہم دونوں چل پڑے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے پھر ہم نے سلام کیا انہوں نے حکیم کی آواز کو پہچان لیا اور دریافت کیا یہ کون ہے؟ میں نے جواب دیا میں سعد بن ہشام ہوں انہوں نے دریافت کیا کون ہشام۔ میں نے جواب دیا ہشام بن عامر انہوں نے جواب دیا کیا تم قرآن نہیں پڑھتے؟ میں نے جواب دیا جی ہاں سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا وہی نبی اکرم کا اخلاق۔ سعد بن ہشام کہتے ہیں میں نے یہ ارادہ کرلیا اب میں اٹھ جاتا ہوں اور مرتے دم تک کبھی کسی سے کوئی سوال نہیں کروں گا۔ لیکن پھر مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نوافل کا خیال آگیا تو میں نے سوال کیا کیا آپ ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نوافل کے بارے میں بتائیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا۔ کیا تم نے سورت مزمل نہیں پڑھی میں نے جواب دیا جی ہاں پڑھی ہے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا اس سورت کے آغاز میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے رات کے نوافل کا حکم نازل ہوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب نوافل ادا کرتے رہے۔ یہاں تک کہ ان کے پاؤں سوج گئے ۔ چھ ماہ تک اس سورت کا آخری حصہ نازل نہیں ہوا پھر وہ حصہ نازل ہو تو رات کے نوافل کو نفل قرار دیا گیا۔ حالانکہ یہ پہلے فرض تھے۔ سعد بن ہشام نے کہا میں نے ارادہ کیا اب میں اٹھ جاتاہوں اور مرتے دم تک سوال نہیں کروں گا۔ لیکن مجھے وتر کا خیال آ گیا تو میں نے عرض کیا آپ ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر کی نماز کے بارے میں بتائیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے جواب دیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سونے لگتے تھے تو اپنی مسواک میرے پاس رکھ دیتے تھے پھر اللہ تعالیٰ کسی وقت انہیں بیدار کردیتا تھا تو آپ ٩ رکعات ادا کرتے تھے جن میں سے آپ ٨ رکعات کے بعد بیٹھ کر اللہ کی حمد بیان کرتے۔ اپنے پروردگار سے دعا مانگتے پھر سلام پھیرے بغیر کھڑے ہوجاتے ۔ پھر نویں رکعات پڑھنے کے بعد بیٹھتے اور اللہ کی حمد بیان کرتے اور اپنے پروردگار سے دعا کرتے اور پھر بلند آواز سے سلام پھیر دیتے پھر آپ بیٹھ کر دو رکعت نماز ادا کرتے یہ گیارہ رکعات ہوتی تھیں۔ پھر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا اے بیٹے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر زیادہ ہوگئی تو آپ کا جسم مبارک بھاری ہوگیا تو آپ ٧ رکعت ادا کیا کرتے تھے جن میں سے آپ ٦ رکعت نماز ادا کرنے کے بعد بیٹھ جاتے تھے اللہ کی حمد بیان کرتے تھے اپنے رب سے دعا مانگتے تھے پھر سلام پھیرے بغیر کھڑے ہوجاتے تھے اور ساتویں رکعت ادا کرنے کے بعد پھر بیٹھ کر اللہ کی حمد بیان کرتے تھے اپنے پروردگار سے دعا مانگتے پھر سلام پھیر دیتے تھے پھر آپ بیٹھ کر دو رکعات ادا کرتے تھے یہ نو رکعات ہوتی تھیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اے بیٹے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نیند کا غلبہ ہوتا یا آپ بیمار ہوتے تو آپ دن کے وقت بارہ رکعات ادا کیا کرتے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی کوئی معمول اختیار کرتے تھے تو آپ کو یہ پسند تھا آپ اسے باقاعدگی کے ساتھ سر انجام دیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی رات بھر نوافل ادا نہیں کئے ۔ اور نہ ہی آپ نے کبھی ایک رات میں پورا قرآن پڑھا ہے اور رمضان کے علاوہ آپ نے کسی بھی مہینے میں پورا مہینہ روزے نہیں رکھے۔ سعد بن ہشام کہتے ہیں میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور انہیں یہ حدیث سنائی تو انہوں نے فرمایا سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ٹھیک بیان کیا ہے اگر میں ان کی خدمت میں حاضر ہوسکتا تو ان سے براہ راست یہ حدیث سن لیتا سعد بن ہشام کہتے ہیں میں نے کہا اگر مجھے یہ پتہ ہوتا کہ آپ ان کے ہاں نہیں آتے جاتے ہیں تو میں آپ کو یہ حدیث نہ سناتا۔

سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ← زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ

Sunan Darmi · From the prayer book › Door · Hadith 1514

سنن دارمی · من كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 1655

أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ وَلَا بَقَرٍ وَلَا غَنَمٍ لَا يُؤَدِّي حَقَّهَا إِلَّا أُقْعِدَ لَهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقَاعٍ قَرْقَرٍ تَطَؤُهُ ذَاتُ الظِّلْفِ بِظِلْفِهَا وَتَنْطَحُهُ ذَاتُ الْقَرْنِ بِقَرْنِهَا لَيْسَ فِيهَا يَوْمَئِذٍ جَمَّاءُ وَلَا مَكْسُورَةُ الْقَرْنِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا حَقُّهَا قَالَ إِطْرَاقُ فَحْلِهَا وَإِعَارَةُ دَلْوِهَا وَمِنْحَتُهَا وَحَلَبُهَا عَلَى الْمَاءِ وَحَمْلٌ عَلَيْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی اونٹ گائے بکری کا جو مالک ان کا حق ادا نہیں کرتا اسے قیامت کے دن ان کے سامنے چٹیل میدان میں بٹھا دیا جائے گا کھر والے جانور اپنے کھر کے ذریعے اسے روندیں گے اور سینگ والے جانور اپنے سینگوں کے ذریعے کے ذریعے اسے ماریں گے جانوروں میں کوئی ایسا نہیں ہوگا جس کے سینگ نہ ہوں اور نہ ہی کوئی ایسا ہوگا جس کے سینگ ٹوٹے ہونگے لوگوں نے دریافت کیا یا رسول اللہ ان کا حق کیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا نر جانوروں کو جفتی کے لئے ادھار دینا اس کاڈول ادھار دینا دودھ دینے کے لئے کوئی بکری ادھار دینا جب پانی پلانا ہو تو اس کا دودھ دوہ کر (کسی کودے دینا) اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں (جہاد کرنے کے لئے) ان پر سامان لاد دینا۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← عَبْد الْمَلِكِ؛ ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ

Sunan Darmi · From the book of zakat › Door · Hadith 1655

سنن دارمی · من كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 1656

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ لَا يَفْعَلُ فِيهَا حَقَّهَا إِلَّا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَكْثَرُ مَا كَانَتْ قَطُّ وَأُقْعِدَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ تَسْتَنُّ عَلَيْهِ بِقَوَائِمِهَا وَأَخْفَافِهَا وَلَا صَاحِبِ بَقَرٍ لَا يَفْعَلُ فِيهَا حَقَّهَا إِلَّا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَكْثَرُ مَا كَانَتْ قَطُّ وَأُقْعِدَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ تَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا وَتَطَؤُهُ بِقَوَائِمِهَا وَلَا صَاحِبِ غَنَمٍ لَا يَفْعَلُ فِيهَا حَقَّهَا إِلَّا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَكْثَرُ مَا كَانَتْ وَأُقْعِدَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ تَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا وَتَطَؤُهُ بِأَظْلَافِهَا لَيْسَ فِيهَا جَمَّاءُ وَلَا مَكْسُورَةٌ قَرْنُهَا وَلَا صَاحِبِ كَنْزٍ لَا يَفْعَلُ فِيهِ حَقَّهُ إِلَّا جَاءَ كَنْزُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ يَتْبَعُهُ فَاتِحًا فَاهُ فَإِذَا أَتَاهُ فَرَّ مِنْهُ فَيُنَادِيهِ خُذْ كَنْزَكَ الَّذِي خَبَّأْتَهُ قَالَ فَأَنَا عَنْهُ غَنِيٌّ فَإِذَا رَأَى أَنَّهُ لَا بُدَّ مِنْهُ سَلَكَ يَدَهُ فِي فَمِهِ فَيَقْضِمُهَا قَضْمَ الْفَحْلِ قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ يَقُولُ هَذَا الْقَوْلَ ثُمَّ سَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ مِثْلَ قَوْلِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ وَقَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ يَقُولُ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا حَقُّ الْإِبِلِ قَالَ حَلَبُهَا عَلَى الْمَاءِ وَإِعَارَةُ دَلْوِهَا وَإِعَارَةُ فَحْلِهَا وَمَنْحُهَا وَحَمْلٌ عَلَيْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ

حضرت جابر بن عبداللہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کسی اونٹ کا جو مالک اس کا حق ادا نہیں کرتا تو وہ اونٹ قیامت کے دن زیادہ بڑے حجم میں آئے گا اور اس مالک کو اس کے اونٹ کے سامنے ایک چٹیل میدان میں بٹھا دیا جائے گا وہ اونٹ اپنے پاؤں اور کھروں کے ذریعے اسے روندے گا جس گائے کا مالک اس کا حق ادا نہیں کرے گا وہ قیامت کے دن زیادہ بڑے حجم میں آئے گی اس شخص کو اس گائے کے سامنے ایک چٹیل میدان میں بٹھا دیا جائے گا وہ گائے اسے اپنے سینگوں کے ذریعے مارے گی اور اپنے کھروں کے ذریعے روندے گی جس بکری کا مالک اس کا حق ادا نہیں کرے گا وہ بکری قیامت کے دن زیادہ بڑے حجم میں آئے گی اس شخص کو اس بکری کے سامنے ایک چٹیل میدان میں بٹھا دیا جائے گا وہ بکری اسے اپنے سینگوں کے ذریعے مارے گی اور اپنے کھروں کے ذریعے روندے گی ان جانوروں میں کوئی بھی بغیر سینگ کے نہیں ہوگا اور کسی کا سینگ ٹوٹا ہوا نہیں ہوگا جس خزانے کا مالک اس کا حق ادا نہیں کرے گا قیامت کے دن وہ خزانہ ایک اژدھا کی شکل میں اپنا منہ کھول کر اس کے پیچھے آئے گا جب وہ اس شخص کے پاس آئے گا تو وہ شخص اس سے بھاگے گا تو وہ اژدھا بلند آواز سے پکارے گا اپنا وہ خزانہ لے لو جسے تم نے سنبھال کر رکھا ہوا تھا وہ شخص کہے گا مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے پھر وہ شخص دیکھے گا اب کوئی چارہ نہیں ہے وہ اپنا ہاتھ اس اژدھا کی طرف بڑھائے گا تو وہ اسے یوں چبا لے گا جیسے کوئی اونٹ کوئی چیز چبا لیتا ہے ابوزبیر کہتے ہیں میں نے عبید بن عمیر کو یہ بات بیان کرتے ہوئے سنا پھر ہم نے جابر بن عبداللہ سے دریافت کیا تو انہوں نے بھی یہی بات بیان کی جو عبید بن عمیر نے بیان کی تھی ابوزبیر بیان کرتے ہیں میں نے عبید بن عمیر کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ ایک شخص نے عرض کی یا رسول اللہ اونٹ کا حق کیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا جب پانی (پلانے کے لئے اسے لایا جائے) تو اس کا دودھ دوہ کر دوسروں کو پلا دیا جائے اس کے ڈول کو ادھار دے دیا جائے، نر اونٹ کو (جفتی کے لئے) ادھار دے دیا جائے (کسی بکری کو) دودھ دوہنے کے لئے دے دیا جائے اور ان جانوروں پر اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کے لئے سامان لادا جائے۔

أَبُو الزُّبَيْرِ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ،

Sunan Darmi · From the book of zakat › Door · Hadith 1656

سنن دارمی · من كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 1701

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ كُنَّا نُخْرِجُ زَكَاةَ الْفِطْرِ إِذْ كَانَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كُلِّ صَغِيرٍ وَكَبِيرٍ حُرٍّ وَمَمْلُوكٍ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ أَقِطٍ أَوْ صَاعًا مِنْ زَبِيبٍ فَلَمْ يَزَلْ ذَلِكَ كَذَلِكَ حَتَّى قَدِمَ عَلَيْنَا مُعَاوِيَةُ الْمَدِينَةَ حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا فَقَالَ إِنِّي أَرَى مُدَّيْنِ مِنْ سَمْرَاءِ الشَّامِ يَعْدِلُ صَاعًا مِنْ التَّمْرِ فَأَخَذَ النَّاسُ بِذَلِكَ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ أَمَّا أَنَا فَلَا أَزَالُ أُخْرِجُهُ كَمَا كُنْتُ أُخْرِجُهُ قَالَ أَبُو مُحَمَّد أَرَى صَاعًا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ

حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان موجود تھے تو ہم صدقہ فطر کے طور پر چھوٹے بڑے آزاد اور غلام کی طرف اناج کا ایک صاع یا کھجور کا ایک صاع یا جو کا ایک صاع، یا پنیر کا ایک صاع، یا کشمش کا ایک صاع ادا کیا کرتے تھے۔ اور یہ معمول یوں ہی برقرار رہا یہاں تک کہ حضرت معاویہ (اپنے عہد حکومت میں) حج یا شاید عمرہ کے لئے مدینہ منورہ آئے تو انہوں نے فرمایا میرے خیال میں شام کی گندم کے دو مد ایک صاع کھجور کے برابر ہوتے ہیں تو لوگوں نے اس کے مطابق عمل کرنا شروع کردیا۔ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جہاں تک میرا تعلق ہے میں تواسی طرح ادا کرتا ہوں جیسے پہلے ادا کیا کرتا تھا۔ امام دارمی فرماتے ہیں میرا خیال میں ہر چیز کا ایک صاع ادا کرنا چاہیے۔

كُنَّا نُخْرِجُ زَكَاةَ الْفِطْرِ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ

Sunan Darmi · From the book of zakat › Door · Hadith 1701

سنن دارمی · من كتاب الصوم ‹ باب · حديث 1735

حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُلَيٍّ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي قَيْسٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ كَانَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ يَأْمُرُنَا أَنْ نَصْنَعَ لَهُ الطَّعَامَ يَتَسَحَّرُ بِهِ فَلَا يُصِيبُ مِنْهُ كَثِيرًا فَقُلْنَا لَهُ تَأْمُرُنَا بِهِ وَلَا تُصِيبُ مِنْهُ كَثِيرًا قَالَ إِنِّي لَا آمُرُكُمْ بِهِ أَنِّي أَشْتَهِيهِ وَلَكِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فَصْلُ مَا بَيْنَ صِيَامِنَا وَصِيَامِ أَهْلِ الْكِتَابِ أَكْلَةُ السَّحَرِ

ابوقیس بیان کرتے ہیں حضرت عمروبن العاص ہمیں یہ ہدایت کی کہ ہم ان کے لئے کھانا تیار کریں تاکہ سحری میں کھالیں لیکن انہوں نے زیادہ کھانا نہیں کھایا ہم نے عرض کی آپ نے ہمیں ہدایت کی اور خود زیادہ کھایا نہیں ہے انہوں نے جواب دیا میں نے کھانا تیار کرنے کی ہدایت اس لئے نہیں کی تھی کہ مجھے اس کی طلب تھی بلکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ہمارے اور اہل کتاب کے روزے کے درمیان بنیادی فرق سحری کھانا ہے۔

أَبِي قَيْسٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← أَبِي ← مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ،

Sunan Darmi · From the book of fasting › Door · Hadith 1735

سنن دارمی · من كتاب الصوم ‹ باب · حديث 1739

أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ عَنْ حَفْصَةَ عَنْ الرَّبَابِ الضَّبِّيَّةِ عَنْ عَمِّهَا سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَفْطَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيُفْطِرْ عَلَى تَمْرٍ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَلْيُفْطِرْ عَلَى مَاءٍ فَإِنَّ الْمَاءَ طَهُورٌ

حضرت سلیمان بن عامر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جب کوئی شخص افطاری کرنے لگے اسے کھجور کے ساتھ افطاری کرنی چاہیے اگر وہ نہ ملے تو پانی کے ساتھ افطاری کرنی چاہیے کیونکہ پانی کے ذریعے طہارت حاصل کی جاتی ہے۔

عَمِّهَا سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ ← الرَّبَابِ الضَّبِّيَّةِ ← حَفْصَةَ، ← عَاصِمٍ، ← ثَابِتِ بْنِ يَزِيدَ ← أَبُو النُّعْمَانِ،

Sunan Darmi · From the book of fasting › Door · Hadith 1739

Sahih

سنن دارمی · من كتاب الصوم ‹ باب · حديث 1762

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ هَشِشْتُ فَقَبَّلْتُ وَأَنَا صَائِمٌ فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ إِنِّي صَنَعْتُ الْيَوْمَ أَمْرًا عَظِيمًا قَبَّلْتُ وَأَنَا صَائِمٌ قَالَ أَرَأَيْتَ لَوْ مَضْمَضْتَ مِنْ الْمَاءِ قُلْتُ إِذًا لَا يَضِيرُ قَالَ فَفِيمَ

حضرت عمر بن خطاب بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ میں نے جوش میں آکر (اپنی اہلیہ کا) بوسہ لیا۔ میں روزہ کی حالت میں تھا میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی آج میں نے ایک بڑے جرم کا ارتکاب کیا ہے میں نے روزہ کی حالت میں اپنی بیوی کا بوسہ لے لیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا کیا خیال ہے اگر تم پانی سے کلی کرلیتے تو؟ میں نے عرض کی اس کا کوئی نقصان نہیں ہوتا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا پھر مسئلہ کیا ہے۔

فَفِيمَ ← أَرَأَيْتَ لَوْ مَضْمَضْتَ مِنْ الْمَاءِ قُلْتُ إِذًا لَا يَضِيرُ ← صَائِمٌ» ← صَائِمٌ فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ فَقُلْتُ إِنِّي صَنَعْتُ الْيَوْمَ أَمْرًا عَظِيمًا قَبَّلْتُ ← ھَشَشْتُ فَقَبَّلْتُ ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ ← بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، ← لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ

Sunan Darmi · From the book of fasting › Door · Hadith 1762

سنن دارمی · من كتاب الصوم ‹ باب · حديث 1808

أَخْبَرَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ فَالْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ إِلَّا الصِّيَامَ هُوَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ إِنَّهُ يَتْرُكُ الطَّعَامَ وَشَهْوَتَهُ مِنْ أَجْلِي وَيَتْرُكُ الشَّرَابَ وَشَهْوَتَهُ مِنْ أَجْلِي فَهُوَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ابن آدم کا ہر عمل اس کے لے ہے ایک نیکی دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک اجر و ثواب کی حامل ہوتی ہے لیکن روزوں کا حکم مختلف ہے وہ میرے لئے ہیں اور میں ہی ان کی جزا دوں گا ابن آدم میرے لئے کھانا اور اپنی خواہش نفس کو ترک کرتا ہے اور میرے لئے پینا اور اپنی خواہش نفس کو ترک کرتا ہے تو وہ روزہ میرے لئے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← يَزِيدُ:

Sunan Darmi · From the book of fasting › Door · Hadith 1808

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1919

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ أَخْبَرَنِي كُرَيْبٌ أَنَّهُ سَأَلَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ قَالَ أَخْبِرْنِي عَشِيَّةَ رَدِفْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ فَعَلْتُمْ أَوْ صَنَعْتُمْ قَالَ جِئْنَا الشِّعْبَ الَّذِي يُنِيخُ النَّاسُ فِيهِ لِلْمُعَرَّسِ فَأَنَاخَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاقَتَهُ ثُمَّ بَالَ وَمَا قَالَ أَهْرَاقَ الْمَاءَ ثُمَّ دَعَا بِالْوَضُوءِ فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا لَيْسَ بِالسَّابِغِ جِدًّا قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ الصَّلَاةَ قَالَ الصَّلَاةُ أَمَامَكَ قَالَ فَرَكِبَ حَتَّى قَدِمْنَا الْمُزْدَلِفَةَ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ ثُمَّ أَنَاخَ وَالنَّاسُ فِي مَنَازِلِهِمْ فَلَمْ يَحِلُّوا حَتَّى أَقَامَ الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ فَصَلَّى ثُمَّ حَلَّ النَّاسُ قَالَ قُلْتُ أَخْبِرْنِي كَيْفَ فَعَلْتُمْ حِينَ أَصْبَحْتُمْ قَالَ رَدِفَهُ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ فَانْطَلَقْتُ أَنَا فِي سُبَّاقِ قُرَيْشٍ عَلَى رِجْلَيَّ

کریب بیان کرتے ہیں انہوں نے حضرت اسامہ بن زید سے سوال کیا کہ جب آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سواری پر سوار تھے تو اس شام آپ نے کیا کیا۔ مجھے اس بارے میں بتائیں حضرت اسامہ نے جواب دیا جب ہم اس گھاٹی میں آئے جہاں لوگ رات کے وقت اونٹ بٹھاتے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں اونٹنی کو بٹھایا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کیا (راوی کہتے ہیں انہوں نے) یہ نہیں کہا کہ پانی دو پھر آپ نے وضو کے لئے پانی منگوایا اور وضو کیا لیکن اس میں اسباغ نہیں کیا پھر میں نے عرض کی یا رسول اللہ نماز۔ آپ نے فرمایا نماز آگے چل کر پڑھیں گے حضرت اسامہ بیان کرتے ہیں پھر آپ سوار ہوئے یہاں تک کہ ہم مزدلفہ آگئے۔ آپ نے مغرب کی نماز ادا کی پھر آپ نے اپنی اونٹنی کو بٹھایا لوگ اپنے اپنے پڑاؤ کی جگہ پر تھے لوگوں نے اس وقت تک احرام نہ کھولا جب تک عشاء کی نماز ادانہ کرلی۔ اور جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھا دی تو پھر لوگوں نے اپنا اپنا احرام کھول دیا۔ کریب بیان کرتے ہیں میں نے عرض کی مجھے یہ بتائیں اگلے دن آپ نے صبح کیا کیا تو حضرت اسامہ نے جواب دیا اس وقت حضرت فضل بن عباس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سوار تھے میں قریش کے چند لوگوں کے ساتھ پیدل آگے چلا گیا تھا۔

عَشِيَّةَ رَدِفْتَ النَّبِيَّ كَيْفَ فَعَلْتُمْ أَوْ صَنَعْتُمْ ← كُرَيْبٌ أَنَّهُ سَأَلَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، ← زُهَيْرٍ ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Sunan Darmi · From the book of rites › Door · Hadith 1919

سنن دارمی · من كتاب الاضاحي ‹ باب · حديث 2000

أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الزَّبِيدِيُّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّهُ سَمِعَ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ بِمِنًى أَصْلِحْ لَنَا مِنْ هَذَا اللَّحْمِ فَأَصْلَحْتُ لَهُ مِنْهُ فَلَمْ يَزَلْ يَأْكُلُ مِنْهُ حَتَّى بَلَغْنَا الْمَدِينَةَ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام حضرت ثوبان بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ہم اس وقت منی میں موجود تھے' یہ گوشت ہمارے لئے سنبھال کر رکھنا، حضرت ثوبان کہتے ہیں میں نے وہ گوشت سنبھال کر رکھ لیا اور مدینہ منورہ پہنچنے تک ہم وہ گوشت کھاتے رہے۔

ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي أَنَّهُ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيِّ، ← يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، ← مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ،

Sunan Darmi · From the book sacrifice › Door · Hadith 2000

سنن دارمی · من كتاب الاضاحي ‹ باب · حديث 2016

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ هُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أَنَّ قَوْمًا قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ قَوْمًا يَأْتُونَا بِاللَّحْمِ لَا نَدْرِي أَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ أَمْ لَا فَقَالَ سَمُّوا أَنْتُمْ وَكُلُوا وَكَانُوا حَدِيثَ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کچھ لوگوں نے عرض کی یا رسول اللہ ہم لوگ کسی جگہ کوئی گوشت پاتے ہیں اس کے بارے میں یہ پتہ نہیں ہوتا کہ اس پر اللہ کا نام لیا گیا ہے یا نہیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم بسم اللہ پڑھ کر اسے کھا لیا کرو راوی بیان کرتے ہیں یہ زمانہ جاہلیت کے قریب کا واقعہ ہے۔

عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أَنَّ قَوْمًا ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عَبْدُ الرَّحِيمِ هُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ

Sunan Darmi · From the book sacrifice › Door · Hadith 2016

chevron_left Previous
1…323334…2,030
Next chevron_right