Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الحلال والحرام

Halal & Haram

22952 hadiths

سنن دارمی · من كتاب الصيد ‹ باب · حديث 2046

أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ ثُمَّ قَالَ مَا بَالِي وَلِلْكِلَابِ ثُمَّ رَخَّصَ فِي كَلْبِ الزَّرْعِ وَكَلْبِ الصَّيْدِ

حضرت عبداللہ بن مغفل بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کو مارنے کا حکم دیا تھا پھر آپ نے فرمایا میرا کتوں کے ساتھ کیا واسطہ پھر آپ نے جانوروں کی دیکھ بھال اور شکار کے لئے استعمال ہونے والے کتے کو پالنے کی رخصت عطاکی۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ← مُطَرِّفٍ ← أَبِي التَّيَّاحِ ← شُعْبَةُ، ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ،

Sunan Darmi · From the hunting book › Door · Hadith 2046

سنن دارمی · من كتاب الاطعمة ‹ باب · حديث 2069

أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ عَنْ يُونُسَ عَنْ الْحَسَنِ قَالَ كَانَ مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ يَتَغَدَّى فَسَقَطَتْ لُقْمَتُهُ فَأَخَذَهَا فَأَمَاطَ مَا بِهَا مِنْ أَذًى ثُمَّ أَكَلَهَا فَجَعَلَ أُولَئِكَ الدَّهَاقِينُ يَتَغَامَزُونَ بِهِ فَقَالُوا لَهُ مَا تَرَى مَا يَقُولُ هَؤُلَاءِ الْأَعَاجِمُ يَقُولُونَ انْظُرُوا إِلَى مَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنْ الطَّعَامِ وَإِلَى مَا يَصْنَعُ بِهَذِهِ اللُّقْمَةِ فَقَالَ إِنِّي لَمْ أَكُنْ أَدَعُ مَا سَمِعْتُ بِقَوْلِ هَؤُلَاءِ الْأَعَاجِمِ إِنَّا كُنَّا نُؤْمَرُ إِذَا سَقَطَتْ مِنْ أَحَدِنَا لُقْمَةٌ أَنْ يُمِيطَ مَا بِهَا مِنْ الْأَذَى وَأَنْ يَأْكُلَهَا

حضرت حسن بصری بیان کرتے ہیں حضرت معقل بن یسار کھانا کھا رہے تھے ان کا ایک لقمہ نیچے گر گیا انہوں نے اسے اٹھایا اور اس پر لگی ہوئی مٹی صاف کیا پھر اسے کھا لیا وہاں موجود چند خوشحال لوگوں نے ایک دوسرے کو اشارہ کرنا شروع کردیا لوگوں نے حضرت معقل سے کہا یہ آپ نے دیکھا کہ یہ عجیب لوگ کیا کہہ رہے ہیں۔ یہ کہہ رہے ہیں ان صاحب کی طرف دیکھیں ان کے سامنے اتنا سارا کھانا موجود ہے پھر بھی نیچے سے اٹھا کر کھا رہے ہیں حضرت معقل نے جواب دیا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی جو بات سنی ہے انہیں اس عجمیوں کے بیان کی وجہ سے ترک نہیں کرسکتا ہمیں یہ حکم دیا گیا ہے کہ جب کسی کا لقمہ گرجائے تو اسے اس کی مٹی صاف کرکے کھا لینا چاہیے۔

الْحَسَنِ، ← يُونُسَ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ،

Sunan Darmi · From the food book › Door · Hadith 2069

سنن دارمی · من كتاب الاطعمة ‹ باب · حديث 2106

أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِيمَةِ يُدْعَى إِلَيْهَا الْأَغْنِيَاءُ وَيُتْرَكُ الْمَسَاكِينُ وَمَنْ تَرَكَ الدَّعْوَةَ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں سب سے بدترین ولیمہ وہ کھانا ہے جس میں امیر لوگوں کو بلایا جائے اور غریبوں کو نہ بلایا جائے جو شخص دعوت قبول نہیں کرتا وہ اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرتا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ ← الْأَعْرَجِ ← الزُّهْرِيِّ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← أَبُو الْمُغِيرَةِ

Sunan Darmi · From the food book › Door · Hadith 2106

سنن دارمی · من كتاب الاطعمة ‹ باب · حديث 2109

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ أَبِي طُوَالَةَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو خواتین پر وہ ہی فضیلت حاصل ہے جوثرید کو تمام کھانوں پر حاصل ہے۔

أَنَسٍ، ← أَبِي طُوَالَةَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ ← خَالِدٌ، ← عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ

Sunan Darmi · From the food book › Door · Hadith 2109

سنن دارمی · من كتاب الاطعمة ‹ باب · حديث 2110

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْكَرِيمِ أَبُو أُمَيَّةَ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ زَوَّجَنِي أَبِي فِي إِمَارَةِ عُثْمَانَ فَدَعَا رَهْطًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ فِيمَنْ دَعَا صَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ وَهُوَ شَيْخٌ كَبِيرٌ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ انْهَسُوا اللَّحْمَ نَهْسًا فَإِنَّهُ أَشْهَى وَأَمْرَأُ

حضرت عبداللہ بن حارث بیان کرتے ہیں میرے والد نے حضرت عثمان کی حکومت کے زمانے میں میری شادی کردی انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ اصحاب کی دعوت کی ان میں سے ایک صاحب حضرت صفوان بن امیہ تھے جو بزرگ ہوچکے تھے انہوں نے بتایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا گوشت کو دانت کے ذریعے نوچ کر کھاؤ کیونکہ اس سے مزہ زیادہ آتا ہے اور ہضم بھی صحیح طرح ہوتا ہے۔

عَبْدُ الْكَرِيمِ أَبُو أُمَيَّةَ، ← سُفْيَانَ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ،

Sunan Darmi · From the food book › Door · Hadith 2110

سنن دارمی · من كتاب الاطعمة ‹ باب · حديث 2113

حَدَّثَنَا يَعْلَى حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَاءَ خَادِمُ أَحَدِكُمْ بِالطَّعَامِ فَلْيُجْلِسْهُ فَإِنْ أَبَى فَلْيُنَاوِلْهُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تمہارا خادم کھانا لے کر آئے تو اسے ساتھ بٹھاؤ اور اگر وہ انکار کردے تو اسے کچھ دے دو۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← إِسْمَعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ← يعلى

Sunan Darmi · From the food book › Door · Hadith 2113

سنن دارمی · من كتاب الاطعمة ‹ باب · حديث 2121

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ مُوسَى بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا وُضِعَ الطَّعَامُ فَاخْلَعُوا نِعَالَكُمْ فَإِنَّهُ أَرْوَحُ لِأَقْدَامِكُمْ

حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب کھانا رکھ دیا جائے تو جوتے اتار دو کیونکہ اس طرح تمہارے پاؤں کو زیادہ آرام ملے گا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَبِي ← مُوسَى بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ

Sunan Darmi · From the food book › Door · Hadith 2121

سنن دارمی · من كتاب الاطعمة ‹ باب · حديث 2122

أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْبُدُوا الرَّحْمَنَ وَأَفْشُوا السَّلَامَ وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ تَدْخُلُوا الْجِنَانَ

حضرت عبداللہ بن عمر بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا رحمن کی عبادت کرو سلام کو عام کرو اور (لوگوں کو) کھانا کھلاؤ تم جنت میں داخل ہوجاؤ گے۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِيهِ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← جَرِيرٌ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى،

Sunan Darmi · From the food book › Door · Hadith 2122

سنن دارمی · من كتاب الجهاد ‹ باب · حديث 2463

أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَقَ الْفَزَارِيُّ عَنْ هِشَامٍ عَنْ حَفْصَةَ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ أُدَاوِي الْجَرِيحَ أَوْ الْجَرْحَى وَأَصْنَعُ لَهُمْ الطَّعَامَ وَأَخْلُفُهُمْ فِي رِحَالِهِمْ

حضرت ام عطیہ بیان کرتی ہیں مجھے نبی کریم کے ساتھ سات غزوات میں شریک ہونے کاشرف حاصل ہے میں زخمیوں کو دوا پلاتی تھی اور ان کے لئے کھانا تیار کرتی تھی میں لوگوں سے پیچھے قیام گاہ میں رہا کرتی تھی۔

أُمِّ عَطِيَّةَ ← حَفْصَةَ، ← هِشَامٍ ← أَبُو إِسْحَقَ الْفَزَارِيُّ ← عَاصِمُ بْنُ يُوسُفَ

Sunan Darmi · From the book of jihad › Door · Hadith 2463

سنن دارمی · من كتاب السير ‹ باب · حديث 2531

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ الْمُكْتِبُ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ حَدَّثَنِي كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نَهْبَ وَلَا إِغْلَالَ وَلَا إِسْلَالَ وَمَنْ يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ أَبُو مُحَمَّد الْإِسْلَالُ السَّرِقَةُ

کثیر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے لوٹ مار (جائز نہیں) اور مال غنیمت میں خیانت کرنا جائز نہیں ہے اور چوری بھی جائز نہیں ہے جو شخص خیانت کرے گا جو چیز اس نے خیانت کی ہے وہ قیامت کے دن اسے ساتھ لے کر آئے گا۔ امام ابومحمد دارمی فرماتے ہیں (اس حدیث میں استعمال ہونے والے لفظ) "اسلال " سے مراد چوری کرنا ہے۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِيُّ ← الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ الْمُكْتِبُ

Sunan Darmi · From the book biography › Door · Hadith 2531

سنن دارمی · من كتاب البيوع ‹ باب · حديث 2571

أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا عَنْ الشَّعْبِيِّ قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْحَلَالُ بَيِّنٌ وَالْحَرَامُ بَيِّنٌ وَبَيْنَهُمَا مُتَشَابِهَاتٌ لَا يَعْلَمُهَا كَثِيرٌ مِنْ النَّاسِ فَمَنْ اتَّقَى الشُّبُهَاتِ اسْتَبْرَأَ لِعِرْضِهِ وَدِينِهِ وَمَنْ وَقَعَ فِي الشُّبُهَاتِ وَقَعَ فِي الْحَرَامِ كَالرَّاعِي يَرْعَى حَوْلَ الْحِمَى فَيُوشِكُ أَنْ يُوَاقِعَهُ وَإِنَّ لِكُلِّ مَلِكٍ حِمًى أَلَا وَإِنَّ حِمَى اللَّهِ مَحَارِمُهُ أَلَا وَإِنَّ فِي الْجَسَدِ مُضْغَةً إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ كُلُّهُ وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّهُ أَلَا وَهِيَ الْقَلْبُ

حضرت نعمان بن بشیربیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے حلال اور حرام واضح ہیں ان دونوں کے درمیان کچھ مشتبہ ہیں جن سے بہت سے لوگ واقف نہیں ہیں جو شخص ان چیزوں سے بچ جائے گا وہ اپنی عزت اور دین کو محفوظ رکھے گا۔ جو شخص ان چیزوں میں مبتلا ہوجائے گا وہ حرام میں بھی مبتلا ہوجائے گا اس کی مثال اس چرواہے کی طرح ہے جو کسی چراگاہ کے آس پاس جانور چراتا رہے تو اس بات کا امکان رہے گا کہ وہ اس چراگاہ میں داخل ہوجائیگا۔ بے شک ہر بادشاہ کی مخصوص چراگاہ ہوتی ہے اور بے شک اللہ کی چراگاہ اس کی حرام کردہ اشیاء ہیں۔ خبردار جسم میں گوشت کا ایک لوتھڑا ہے اگر وہ ٹھیک رہے تو سارا جسم ٹھیک رہے گا اور اگر وہ خراب ہوجائے تو سارا جسم خراب ہوجائے گا خبردار وہ دل ہے۔

رَسُولِ اللَّهِ ← النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← الشَّعْبِيِّ، ← زَکَرِیَّا، ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Sunan Darmi · From the book of sales › Door · Hadith 2571

سنن دارمی · من كتاب البيوع ‹ باب · حديث 2575

أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي قَيْسٍ عَنْ هُزَيْلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا وَمُؤْكِلَهُ

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے اور اسے کھلانے والے پر لعنت کی ہے۔

لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ آکِلَ الرِّبَا وَمُؤْکِلَهُ ← عَبْدُ اللَّهِ ← هُزَيْلٍ ← أَبِي قَيْسٍ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Sunan Darmi · From the book of sales › Door · Hadith 2575

سنن دارمی · من كتاب البيوع ‹ باب · حديث 2581

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ يَحْيَى بْنُ الْمُتَوَكِّلِ قَالَ أَخْبَرَنِي الْقَاسِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ سَالِمٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِطَعَامٍ بِسُوقِ الْمَدِينَةِ فَأَعْجَبَهُ حُسْنُهُ فَأَدْخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ فِي جَوْفِهِ فَأَخْرَجَ شَيْئًا لَيْسَ كَالظَّاهِرِ فَأَفَّفَ بِصَاحِبِ الطَّعَامِ ثُمَّ قَالَ لَا غِشَّ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ مَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے کسی بازار کے پاس سے گزرے وہاں آپ نے غلہ پایا وہ آپ کو بہت پسند آیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک اس کے اندر داخل کیا تو اندر سے کچھ اناج نکلا جو باہر والے کی مانند نہیں تھا آپ نے اس اناج کے مالک سے فرمایا تم پر افسوس ہے۔ پھر فرمایا مسلمانوں کے درمیان دھوکہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ جو شخص ہمیں دھوکہ دے گا اس کا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔

ابْنِ عُمَرَ ← سَالِمٍ ← الْقَاسِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ← أَبُو عَقِيلٍ يَحْيَى بْنُ الْمُتَوَكِّلِ ← مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ

Sunan Darmi · From the book of sales › Door · Hadith 2581

سنن دارمی · من كتاب البيوع ‹ باب · حديث 2609

أَخْبَرَنَا يَعْلَى حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا نَزَلَتْ الْآيَةُ فِي آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فِي الرِّبَا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَلَاهُنَّ عَلَى النَّاسِ ثُمَّ حَرَّمَ التِّجَارَةَ فِي الْخَمْرِ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں جب سورت بقرہ کے آخر میں ربا سے متعلق آیت نازل ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے آپ نے اس آیت کو لوگوں کے سامنے پڑھا پھر آپ نے شراب کی خرید و فروخت کو حرام قرار دیدیا۔

عَائِشَةَ ← مَسْرُوقٍ ← مُّسْلِمٍ ← الْاَعْمَشِ ← يعلى

Sunan Darmi · From the book of sales › Door · Hadith 2609

سنن دارمی · من كتاب البيوع ‹ باب · حديث 2620

أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّمَا الرِّبَا فِي الدَّيْنِ قَالَ عَبْد اللَّهِ مَعْنَاهُ دِرْهَمٌ بِدِرْهَمَيْنِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں حضرت اسامہ بن زید نے مجھے بتایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سود ادھار میں ہوتا ہے امام محمد دارمی فرماتے ہیں اس کا مفہوم یہ ہے کہ دو درہم کے عوض میں ایک درہم (قرض دیا جائے)

أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ1 بْنِ أبي يزيد، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← أَبُو عَاصِمٍ

Sunan Darmi · From the book of sales › Door · Hadith 2620

سنن دارمی · من كتاب الاستئذان ‹ باب · حديث 2672

أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ عَوْفٍ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ اسْتَشْرَفَهُ النَّاسُ فَقَالُوا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَخَرَجْتُ فِيمَنْ خَرَجَ فَلَمَّا رَأَيْتُ وَجْهَهُ عَرَفْتُ أَنَّ وَجْهَهُ لَيْسَ بِوَجْهِ كَذَّابٍ فَكَانَ أَوَّلَ مَا سَمِعْتُهُ يَقُولُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَفْشُوا السَّلَامَ وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ وَصِلُوا الْأَرْحَامَ وَصَلُّوا وَالنَّاسُ نِيَامٌ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِسَلَامٍ

حضرت عبداللہ بن سلام بیان کرتے ہیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو لوگ آپ کو دیکھنے کے لئے آئے اور بولے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ہیں حضرت عبداللہ بیان کرتے ہیں ان لوگوں کے ساتھ میں بھی نکل کھڑا ہوا جب میں نے آپ کے چہرہ مبارک کی طرف دیکھا تو مجھے اندازہ ہوگیا کہ یہ چہرہ کسی جھوٹے شخص کا نہیں ہوسکتا۔ سب سے پہلی بات آپ کی زبانی میں نے یہ سنی آپ نے ارشاد فرمایا اے لوگو سلام کو عام کرو کھاناکھلاؤ رشتے داری کے حقوق کا خیال رکھو اور اس وقت نماز ادا کر جب لوگ سورہے ہوں تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤ گے۔

«قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ ← لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ الْمَدِينَةَ اسْتَشْرَفَهُ النَّاسُ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلاَمٍ ← زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ← عَوْفٌ، ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ

Sunan Darmi · From the book permission › Door · Hadith 2672

سنن دارمی · من كتاب الرقاق ‹ باب · حديث 2757

أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللَّهَ طَيِّبٌ لَا يَقْبَلُ إِلَّا الطَّيِّبَ إِنَّ اللَّهَ أَمَرَ الْمُؤْمِنِينَ بِمَا أَمَرَ بِهِ الْمُرْسَلِينَ قَالَ يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنْ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ وَقَالَ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ قَالَ ثُمَّ ذَكَرَ الرَّجُلَ يُطِيلُ السَّفَرَ أَشْعَثَ أَغْبَرَ يَمُدُّ يَدَيْهِ إِلَى السَّمَاءِ يَا رَبِّ يَا رَبِّ وَمَطْعَمُهُ حَرَامٌ وَمَلْبَسُهُ حَرَامٌ وَمَشْرَبُهُ حَرَامٌ وَغُذِّيَ بِالْحَرَامِ فَأَنَّى يُسْتَجَابُ لِذَلِكَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے لوگو بے شک اللہ تعالیٰ پاک ہے اور صرف پاکیزہ چیزوں کو پسند کرتا ہے اس نے اہل ایمان کو وہی حکم دیاہے جو اس نے رسولوں کو حکم دیاہے اور ارشاد فرمایا ہے اے رسولو پاکیزہ چیز میں سے کھاؤ اور نیک عمل کرو تم جو عمل کرتے ہو بے شک میں اس کا علم رکھتا ہوں۔ اللہ نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے اے ایمان والو ہم نے تمہیں جو پاکیزہ رزق عطا کیا ہے اس میں سے کھاؤ اور اللہ کا شکر ادا کرو اگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے شخص کا ذکر کیا جو طویل سفر کرے اور اس کے بال بکھرے ہوئے اور غبارآلود ہوں پھر وہ اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف کرکے دعا کرے اے میرے پروردگار اے میرے پروردگار جبکہ اس کا کھانا حرام ہو اس کا لباس حرام ہو اور اس کا پیناحرام ہو اس کو حرام کے ذریعے غذاپہنچائی گئی ہو تو اس کی دعا کیسے قبول ہوگی۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي حَازِمٍ ← عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ← الْفُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Sunan Darmi · From the book Al-Raqqa › Door · Hadith 2757

موطأ مالك رواية أبي مصعب الزهري · کتاب ‹ (5) باب الوضوء مما مست النار · حديث 68

68 - حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، أنه قال: دُعِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلى الله عَلَيه وَسَلم إلى طَعَامٍ فَقُرِّبَ إِلَيْهِ خُبْزٌ وَلَحْمٌ، فَأَكَلَ مِنْهُ، ثُمَّ تَوَضَّأَ، ثُمَّ صَلَّى، ثم دعي بِفَضْلِ ذَلِكَ الطَّعَامِ، فَأَكَلَ مِنْهُ، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ.

محمد بن المنكدر أنه ← مَالِكٍ، ← أَبُو مُصْعَبٍ

Muwatta Malik, narrated by Abu Musab al-Zuhri · Book › Chapter · Hadith 68

موطأ مالك رواية أبي مصعب الزهري · كتاب الجمعة ‹ (59) باب الساعة التي في يوم الجمعة · حديث 463

463 - حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ: خَرَجْتُ إِلَى الطُّورِ، فَلَقِيتُ كَعْبَ الأَحْبَارِ، فَجَلَسْتُ مَعَهُ، فَحَدَّثَنِي عَنِ التَّوْرَاةِ، وَحَدَّثْتُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلى الله عَلَيه وَسَلم، فَكَانَ فِيمَا حَدَّثْتُهُ، أَنْ قُلْتُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلى الله عَلَيه وَسَلم: " خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ: يَوْمُ الْجُمُعَةِ، فِيهِ خُلِقَ الله آدَمُ، وَفِيهِ أُهْبِطَ، وفيه مات، وَفِيهِ تِيبَ عَلَيْهِ، وَفِيهِ تَقُومُ السَّاعَةُ، وَمَا مِنْ دَابَّةٍ إِلَّا وَهِيَ مُصِيخَةٌ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، مِنْ حِينِ تُصْبِحُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ شَفَقًا مِنَ السَّاعَةِ، إِلَّا الْجِنَّ وَالْإِنْسَ، وَفِيهِ سَاعَةٌ لا يُصَادِفُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَهُوَ يُصَلِّي يَسْأَلُ اللَّهَ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ. قَالَ كَعْبٌ: ذَلِكَ فِي كُلِّ سَنَةٍ يَوْمٌ فَقُلْتُ: بَلْ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ قال: فَقَرَأَ كَعْبٌ التَّوْرَاةَ فَقَالَ: صَدَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلى الله عَلَيه وَسَلم. قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَلَقِيتُ بَصْرَةَ بْنَ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيَّ، فَقَالَ: مِنْ أَيْنَ أَقْبَلْتَ؟ فَقُلْتُ: مِنْ الطُّورِ، فَقَالَ: لَوْ أَدْرَكْتُكَ قَبْلَ أَنْ تَخْرُجَ إِلَيْهِ مَا خَرَجْتَ إليه، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلى الله عَلَيه وَسَلم، يَقُولُ: لا تُعْمَلُ الْمَطِيُّ، إِلَّا إِلَى ثَلاَثَةِ مَسَاجِدَ: إِلَى الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَإِلَى مَسْجِدِي هَذَا، وَإِلَى مَسْجِدِ إِيلِيَاءَ، أَوْ بَيْتِ الْمَقْدِسِ يَشُكُّ أيهما قال. قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: ثُمَّ لَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلاَمٍ، فَحَدَّثْتُهُ بِمَجْلِسِي مَعَ كَعْبِ الأَحْبَارِ، وَمَا حَدَّثْتُهُ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ، فَقُلْتُ له: قَالَ كَعْبٌ: ذَلِكَ فِي كُلِّ سَنَةٍ يَوْمٌ فقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلاَمٍ: كَذَبَ كَعْبٌ، ثُمَّ قَرَأَ التَّوْرَاةَ، فَقَالَ: بَلْ هِيَ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلاَمٍ: صَدَقَ كَعْبٌ، ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلاَمٍ: قَدْ عَلِمْتُ أَيَّةَ سَاعَةٍ هِيَ؟ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَقُلْتَ لَهُ: فأَخْبِرْنِي بِهَا وَلاَ تَضَنَّن عَلَيَّ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلاَمٍ: هِيَ آخِرُ سَاعَةٍ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَكَيْفَ تَكُونُ آخِرَ سَاعَةٍ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ؟ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلى الله عَلَيه وَسَلم: لا يُصَادِفُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَهُوَ يُصَلِّي، وَتِلْكَ سَاعَةٌ لا يُصَلَّى فِيهَا؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلاَمٍ: أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلى الله عَلَيه وَسَلم: مَنْ جَلَسَ مَجْلِسًا يَنْتَظِرُ الصَّلاَةَ فَهُوَ فِي الصلاةحَتَّى يُصَلِّيَ؟. قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: بَلَى، قَالَ: هُوَ ذَلِكَ.

رَسُولِ اللَّهِ فَكَانَ فِيمَا حَدَّثَتْهُ أَنْ قُلْتُ: ← التَّوْرَاةِ، وَحَدَّثْتُهُ ← خَرَجْتُ إِلَى الطُّورِ، فَلَقِيتُ كَعْبَ الْأَحْبَارِ، فَجَلَسْتُ مَعَهُ، فَحَدَّثَنِي ← أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ ← مَالِكٍ، ← أَبُو مُصْعَبٍ

Muwatta Malik, narrated by Abu Musab al-Zuhri · Book › Chapter · Hadith 463

موطأ مالك رواية أبي مصعب الزهري · كتاب الجمعة ‹ (72) باب ما جاء في بول الصبي · حديث 513

513 - حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ، أَنَّهَا أَتَتْ بِابْنٍ لَهَا صَغِيرٍ لَمْ يَأْكُلِ الطَّعَامَ، إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلى الله عَلَيه وَسَلم، فَأَجْلَسَهُ فِي حَجْرِهِ، فَبَالَ عَلَى ثَوْبِهِ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَنَضَحَهُ وَلَمْ يَغْسِلْهُ.

عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مَالِكٍ، ← أَبُو مُصْعَبٍ

Muwatta Malik, narrated by Abu Musab al-Zuhri · Book › Chapter · Hadith 513

chevron_left Previous
1…272829…1,148
Next chevron_right