Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الحلال والحرام

Halal & Haram

22952 hadiths

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 668

أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الْكُمَيْتِ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ وَهْبٍ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مُوسَى قَالَ مَرَّ سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بِالْمَدِينَةِ وَهُوَ يُرِيدُ مَكَّةَ فَأَقَامَ بِهَا أَيَّامًا فَقَالَ هَلْ بِالْمَدِينَةِ أَحَدٌ أَدْرَكَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا لَهُ أَبُو حَازِمٍ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ قَالَ لَهُ يَا أَبَا حَازِمٍ مَا هَذَا الْجَفَاءُ قَالَ أَبُو حَازِمٍ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ وَأَيُّ جَفَاءٍ رَأَيْتَ مِنِّي قَالَ أَتَانِي وُجُوهُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ وَلَمْ تَأْتِنِي قَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أُعِيذُكَ بِاللَّهِ أَنْ تَقُولَ مَا لَمْ يَكُنْ مَا عَرَفْتَنِي قَبْلَ هَذَا الْيَوْمِ وَلَا أَنَا رَأَيْتُكَ قَالَ فَالْتَفَتَ سُلَيْمَانُ إِلَى مُحَمَّدِ بْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ فَقَالَ أَصَابَ الشَّيْخُ وَأَخْطَأْتُ قَالَ سُلَيْمَانُ يَا أَبَا حَازِمٍ مَا لَنَا نَكْرَهُ الْمَوْتَ قَالَ لِأَنَّكُمْ أَخْرَبْتُمْ الْآخِرَةَ وَعَمَّرْتُمْ الدُّنْيَا فَكَرِهْتُمْ أَنْ تُنْقَلُوا مِنْ الْعُمْرَانِ إِلَى الْخَرَابِ قَالَ أَصَبْتَ يَا أَبَا حَازِمٍ فَكَيْفَ الْقُدُومُ غَدًا عَلَى اللَّهِ قَالَ أَمَّا الْمُحْسِنُ فَكَالْغَائِبِ يَقْدُمُ عَلَى أَهْلِهِ وَأَمَّا الْمُسِيءُ فَكَالْآبِقِ يَقْدُمُ عَلَى مَوْلَاهُ فَبَكَى سُلَيْمَانُ وَقَالَ لَيْتَ شِعْرِي مَا لَنَا عِنْدَ اللَّهِ قَالَ اعْرِضْ عَمَلَكَ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ قَالَ وَأَيُّ مَكَانٍ أَجِدُهُ قَالَ إِنَّ الْأَبْرَارَ لَفِي نَعِيمٍ وَإِنَّ الْفُجَّارَ لَفِي جَحِيمٍ قَالَ سُلَيْمَانُ فَأَيْنَ رَحْمَةُ اللَّهِ يَا أَبَا حَازِمٍ قَالَ أَبُو حَازِمٍ رَحْمَةَ اللَّهِ قَرِيبٌ مِنْ الْمُحْسِنِينَ قَالَ لَهُ سُلَيْمَانُ يَا أَبَا حَازِمٍ فَأَيُّ عِبَادِ اللَّهِ أَكْرَمُ قَالَ أُولُو الْمُرُوءَةِ وَالنُّهَى قَالَ لَهُ سُلَيْمَانُ فَأَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ قَالَ أَبُو حَازِمٍ أَدَاءُ الْفَرَائِضِ مَعَ اجْتِنَابِ الْمَحَارِمِ قَالَ سُلَيْمَانُ فَأَيُّ الدُّعَاءِ أَسْمَعُ قَالَ أَبُو حَازِمٍ دُعَاءُ الْمُحْسَنِ إِلَيْهِ لِلْمُحْسِنِ قَالَ فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ قَالَ لِلسَّائِلِ الْبَائِسِ وَجُهْدُ الْمُقِلِّ لَيْسَ فِيهَا مَنٌّ وَلَا أَذًى قَالَ فَأَيُّ الْقَوْلِ أَعْدَلُ قَالَ قَوْلُ الْحَقِّ عِنْدَ مَنْ تَخَافُهُ أَوْ تَرْجُوهُ قَالَ فَأَيُّ الْمُؤْمِنِينَ أَكْيَسُ قَالَ رَجُلٌ عَمِلَ بِطَاعَةِ اللَّهِ وَدَلَّ النَّاسَ عَلَيْهَا قَالَ فَأَيُّ الْمُؤْمِنِينَ أَحْمَقُ قَالَ رَجُلٌ انْحَطَّ فِي هَوَى أَخِيهِ وَهُوَ ظَالِمٌ فَبَاعَ آخِرَتَهُ بِدُنْيَا غَيْرِهِ قَالَ لَهُ سُلَيْمَانُ أَصَبْتَ فَمَا تَقُولُ فِيمَا نَحْنُ فِيهِ قَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَوَ تُعْفِينِي قَالَ لَهُ سُلَيْمَانُ لَا وَلَكِنْ نَصِيحَةٌ تُلْقِيهَا إِلَيَّ قَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّ آبَاءَكَ قَهَرُوا النَّاسَ بِالسَّيْفِ وَأَخَذُوا هَذَا الْمُلْكَ عَنْوَةً عَلَى غَيْرِ مَشُورَةٍ مِنْ الْمُسْلِمِينَ وَلَا رِضَاهُمْ حَتَّى قَتَلُوا مِنْهُمْ مَقْتَلَةً عَظِيمَةً فَقَدْ ارْتَحَلُوا عَنْهَا فَلَوْ أُشْعِرْتَ مَا قَالُوا وَمَا قِيلَ لَهُمْ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ جُلَسَائِهِ بِئْسَ مَا قُلْتَ يَا أَبَا حَازِمٍ قَالَ أَبُو حَازِمٍ كَذَبْتَ إِنَّ اللَّهَ أَخَذَ مِيثَاقَ الْعُلَمَاءِ لَيُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلَا يَكْتُمُونَهُ قَالَ لَهُ سُلَيْمَانُ فَكَيْفَ لَنَا أَنْ نُصْلِحَ قَالَ تَدَعُونَ الصَّلَفَ وَتَمَسَّكُونَ بِالْمُرُوءَةِ وَتَقْسِمُونَ بِالسَّوِيَّةِ قَالَ لَهُ سُلَيْمَانُ كَيْفَ لَنَا بِالْمَأْخَذِ بِهِ قَالَ أَبُو حَاَزِمٍ تَأْخُذُهُ مِنْ حِلِّهِ وَتَضَعُهُ فِي أَهْلِهِ قَالَ لَهُ سُلَيْمَانُ هَلْ لَكَ يَا أَبَا حَازِمٍ أَنْ تَصْحَبَنَا فَتُصِيبَ مِنَّا وَنُصِيبَ مِنْكَ قَالَ أَعُوذُ بِاللَّهِ قَالَ لَهُ سُلَيْمَانُ وَلِمَ ذَاكَ قَالَ أَخْشَى أَنْ أَرْكَنَ إِلَيْكُمْ شَيْئًا قَلِيلًا فَيُذِيقَنِي اللَّهُ ضِعْفَ الْحَيَاةِ وَضِعْفَ الْمَمَاتِ قَالَ لَهُ سُلَيْمَانُ ارْفَعْ إِلَيْنَا حَوَائِجَكَ قَالَ تُنْجِينِي مِنْ النَّارِ وَتُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ قَالَ سُلَيْمَانُ لَيْسَ ذَاكَ إِلَيَّ قَالَ أَبُو حَازِمٍ فَمَا لِي إِلَيْكَ حَاجَةٌ غَيْرُهَا قَالَ فَادْعُ لِي قَالَ أَبُو حَازِمٍ اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ سُلَيْمَانُ وَلِيَّكَ فَيَسِّرْهُ لِخَيْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَإِنْ كَانَ عَدُوَّكَ فَخُذْ بِنَاصِيَتِهِ إِلَى مَا تُحِبُّ وَتَرْضَى قَالَ لَهُ سُلَيْمَانُ قَطُّ قَالَ أَبُو حَازِمٍ قَدْ أَوْجَزْتُ وَأَكْثَرْتُ إِنْ كُنْتَ مِنْ أَهْلِهِ وَإِنْ لَمْ تَكُنْ مِنْ أَهْلِهِ فَمَا يَنْفَعُنِي أَنْ أَرْمِيَ عَنْ قَوْسٍ لَيْسَ لَهَا وَتَرٌ قَالَ لَهُ سُلَيْمَانُ أَوْصِنِي قَالَ سَأُوصِيكَ وَأُوجِزُ عَظِّمْ رَبَّكَ وَنَزِّهْهُ أَنْ يَرَاكَ حَيْثُ نَهَاكَ أَوْ يَفْقِدَكَ حَيْثُ أَمَرَكَ فَلَمَّا خَرَجَ مِنْ عِنْدِهِ بَعَثَ إِلَيْهِ بِمِائَةِ دِينَارٍ وَكَتَبَ إِلَيْهِ أَنْ أَنْفِقْهَا وَلَكَ عِنْدِي مِثْلُهَا كَثِيرٌ قَالَ فَرَدَّهَا عَلَيْهِ وَكَتَبَ إِلَيْهِ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أُعِيذُكَ بِاللَّهِ أَنْ يَكُونَ سُؤَالُكَ إِيَّايَ هَزْلًا أَوْ رَدِّي عَلَيْكَ بَذْلًا وَمَا أَرْضَاهَا لَكَ فَكَيْفَ أَرْضَاهَا لِنَفْسِي وَكَتَبَ إِلَيْهِ إِنَّ مُوسَى بْنَ عِمْرَانَ لَمَّا وَرَدَ مَاءَ مَدْيَنَ وَجَدَ عَلَيْهَا رِعَاءً يَسْقُونَ وَوَجَدَ مِنْ دُونِهِمْ جَارِيَتَيْنِ تَذُودَانِ فَسَأَلَهُمَا فَقَالَتَا لَا نَسْقِي حَتَّى يُصْدِرَ الرِّعَاءُ وَأَبُونَا شَيْخٌ كَبِيرٌ فَسَقَى لَهُمَا ثُمَّ تَوَلَّى إِلَى الظِّلِّ فَقَالَ رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنْزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ وَذَلِكَ أَنَّهُ كَانَ جَائِعًا خَائِفًا لَا يَأْمَنُ فَسَأَلَ رَبَّهُ وَلَمْ يَسْأَلْ النَّاسَ فَلَمْ يَفْطِنْ الرِّعَاءُ وَفَطِنَتْ الْجَارِيتَانِ فَلَمَّا رَجَعَتَا إِلَى أَبِيهِمَا أَخْبَرَتَاهُ بِالْقِصَّةِ وَبِقَوْلِهِ فَقَالَ أَبُوهُمَا وَهُوَ شُعَيْبٌ هَذَا رَجُلٌ جَائِعٌ فَقَالَ لِإِحْدَاهُمَا اذْهَبِي فَادْعِيهِ فَلَمَّا أَتَتْهُ عَظَّمَتْهُ وَغَطَّتْ وَجْهَهَا وَقَالَتْ إِنَّ أَبِي يَدْعُوكَ لِيَجْزِيَكَ أَجْرَ مَا سَقَيْتَ لَنَا فَشَقَّ عَلَى مُوسَى حِينَ ذَكَرَتْ أَجْرَ مَا سَقَيْتَ لَنَا وَلَمْ يَجِدْ بُدًّا مِنْ أَنْ يَتْبَعَهَا إِنَّهُ كَانَ بَيْنَ الْجِبَالِ جَائِعًا مُسْتَوْحِشًا فَلَمَّا تَبِعَهَا هَبَّتْ الرِّيحُ فَجَعَلَتْ تَصْفِقُ ثِيَابَهَا عَلَى ظَهْرِهَا فَتَصِفُ لَهُ عَجِيزَتَهَا وَكَانَتْ ذَاتَ عَجُزٍ وَجَعَلَ مُوسَى يُعْرِضُ مَرَّةً وَيَغُضُّ أُخْرَى فَلَمَّا عِيلَ صَبْرُهُ نَادَاهَا يَا أَمَةَ اللَّهِ كُونِي خَلْفِي وَأَرِينِي السَّمْتَ بِقَوْلِكِ ذَا فَلَمَّا دَخَلَ عَلَى شُعَيْبٍ إِذَا هُوَ بِالْعَشَاءِ مُهَيَّأً فَقَالَ لَهُ شُعَيْبٌ اجْلِسْ يَا شَابُّ فَتَعَشَّ فَقَالَ لَهُ مُوسَى أَعُوذُ بِاللَّهِ فَقَالَ لَهُ شُعَيْبٌ لِمَ أَمَا أَنْتَ جَائِعٌ قَالَ بَلَى وَلَكِنِّي أَخَافُ أَنْ يَكُونَ هَذَا عِوَضًا لِمَا سَقَيْتُ لَهُمَا وَإِنَّا مِنْ أَهْلِ بَيْتٍ لَا نَبِيعُ شَيْئًا مِنْ دِينِنَا بِمِلْءِ الْأَرْضِ ذَهَبًا فَقَالَ لَهُ شُعَيْبٌ لَا يَا شَابُّ وَلَكِنَّهَا عَادَتِي وَعَادَةُ آبَائِي نُقْرِي الضَّيْفَ وَنُطْعِمُ الطَّعَامَ فَجَلَسَ مُوسَى فَأَكَلَ فَإِنْ كَانَتْ هَذِهِ الْمِائَةُ دِينَارٍ عِوَضًا لِمَا حَدَّثْتُ فَالْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِيرِ فِي حَالِ الِاضْطِرَارِ أَحَلُّ مِنْ هَذِهِ وَإِنْ كَانَ لِحَقٍّ لِي فِي بَيْتِ الْمَالِ فَلِي فِيهَا نُظَرَاءُ فَإِنْ سَاوَيْتَ بَيْنَنَا وَإِلَّا فَلَيْسَ لِي فِيهَا حَاجَةٌ

ضحاک بن موسی بیان کرتے ہیں سلیمان بن عبدالملک کا گزر مدینہ سے ہوا وہ مکہ جانا چاہتے تھے اس نے کچھ دن مدینہ میں قیام کیا اور دریافت کیا کہ کیا مدینہ میں کوئی ایسے صاحب موجود ہیں جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کا زمانہ پایا ہو لوگوں نے انہیں بتایا کہ ابوحازم ہیں سلیمان نے انہیں پیغام بھجوایا۔ جب وہ ان کے پاس آئے تو سلیمان نے ان سے کہا اے ابوحازم یہ زیادتی ہے ابوحازم نے دریافت کیا اے امیرالمومنین آپ نے میری طرف سے کون سی زیادتی دیکھی ہے سلیمان نے کہا میرے پاس مدینے کئے تمام سر کردہ لوگ آئے ہیں لیکن آپ میرے پاس تشریف نہیں لائے۔ ابوحازم نے جواب دیا اے امیرالمومنین میں اس بارے میں آپ کو اللہ کی پناہ میں دیتاہوں کہ آپ وہ بات کریں جو نہیں ہوئی آج کے دن سے پہلے آپ مجھ سے واقف نہیں تھے اور میں نے آپ کو نہیں دیکھا تھا تو میں کیوں آپ کے پاس آتا۔ (راوی بیان کرتے ہیں) پھر سلیمان، محمد بن شہاب زہری کی طرف متوجہ ہوا اور بولا یہ بزرگ ٹھیک کہہ رہے ہیں مجھ سے غلطی ہوئی ہے۔ سلیمان نے کہا اے ابوحازم ہم موت کو ناپسند کیوں کرتے ہیں۔ انہوں نے جواب دیا اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ نے اپنی آخرت خراب کی ہوئی ہے اور دنیا کو آباد کیا ہوا ہے اس لئے آپ اس بات کو ناپسند کرتے ہیں کہ کسی بسی ہوئی چیز سے کسی تباہ حال کی طرف جائیں۔ سلیمان نے کہا اے ابوحازم آپ نے ٹھیک کہا ہے کل ہم اللہ کی بارگاہ میں کیسے حاضر ہوں گے؟ ابوحازم نے جواب دیا نیک آدمی تو یوں آئے گا جیسا کہ گھر سے غیر موجود شخص اپنے گھر واپس آتا تھا۔ اور گناہ گار یوں آئے گا جیسے کوئی مفرور غلام اپنے آقا کے پاس آتا ہے۔ سلیمان رو پڑا اور بولا ہائے افسوس۔ اللہ کی بارگاہ میں جانے کے لئے ہمارے پاس کچھ نہیں ہے۔ ابوحازم نے کہا آپ اپنے عمل اللہ کی کتاب پر پیش کریں۔ سلیمان نے دریافت کیا کیا میں کسی جگہ انہیں پا سکتا ہوں؟ ابوحازم نے کہا بے شک نیک لوگ جنت میں ہوں گے اور گناہ گار لوگ جہنم میں ہوں گے۔ سلیمان نے دریافت کیا اے ابوحازم اللہ کی رحمت کہاں ہوگی۔ ابوحازم نے جواب دیا اللہ کی رحمت نیک لوگوں کے پاس ہوگی۔ سلیمان نے ان سے کہا اے ابوحازم اللہ کے بندوں میں سب سے زیادہ معزز کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا جو مروت اور سمجھ کا مالک ہو۔ سلیمان نے ان سے کہا سب سے افضل عمل کون سا ہے ۔ ابوحازم نے جواب دیا حرام چیزوں سے اجتناب کرنے کے ہمراہ فرائض ادا کرنا۔ سلیمان نے پوچھا کون سی دعا زیادہ سنی جاتی ہے۔ ابوحازم نے جواب دیا جس شخص کے ساتھ احسان کیا گیا وہ اپنے محسن کے لئے جو دعا کرتا ہے۔ سلیمان نے دریافت کیا کون سا صدقہ افضل ہے؟ ابوحازم نے جواب دیا جو مصیبت زدہ شخص کو دیا جائے اور جو کوئی غریب شخص دے جس میں احسان نہ جتایا جائے اور تکلیف نہ دی جائے۔ سلیمان نے پوچھا کون سی بات عدل کے زیادہ قریب ہے۔ ابوحازم نے جواب دیا جس بات سے تم خوف زدہ ہو یا جب تمہیں کوئی امید ہو اس وقت حق بیان کرنا۔ سلیمان نے پوچھا سب سے زیادہ عقل مند کون سا مومن ہے؟ ابوحازم نے جواب دیا جو شخص اللہ کی کتاب پر عمل کرے اور لوگوں کی اس طرف رہنمائی کرے۔ سلیمان نے پوچھا کون سا مومن سب سے زیادہ احمق ہے۔ ابوحازم نے جواب دیا جو شخص اپنے بھائی کی نفسانی خواہش میں شریک ہو کر ظلم کا ارتکاب کرے یوں وہ دوسرے شخص کی دنیا کے عوض میں اپنی آخرت کو فروخت کردے۔ سلیمان نے ان سے کہا آپ نے ٹھیک کہا ہے ہم جس حال میں ہیں اس کے بارے میں آپ کیا کہتے ہو۔ ابوحازم نے جواب دیا اے امیرالمومنین کیا آپ مجھ سے درگزر کریں گے۔ سلیمان نے ان سے کہا نہیں یہ ایک نصیحت ہوگی جو آپ کی طرف سے مجھ تک آئے گی۔ ابوحازم نے کہا اے امیرالمومنین آپ کے آباء و اجداد نے تلواروں کے ذریعے لوگوں کو مغلوب کیا ہے انہوں نے مسلمانوں کے مشورے کے بغیر زبردستی حکومت پر قبضہ کرلیا۔ مسلمانوں کی اس میں کوئی رضامندی نہیں تھی انہوں نے بہت سے مسلمانوں کو قتل کیا ہے اور بہت سے لوگ ان کی وجہ سے دنیا سے رخصت ہوگئے ہیں کاش آپ جان سکتے کہ انہوں نے کیا کہا اور ان سے کیا کہا گیا۔ راوی بیان کرتے ہیں حاضرین میں سے ایک شخص نے کہا اے ابوحازم آپ نے بہت غلط بات کہی ہے۔ ابوحازم نے کہا تم جھوٹ بول رہے ہو بے شک اللہ نے علماء سے یہ پختہ عہد لیا ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے حق کو واضح طور پر بیان کریں گے اور ان سے چھپائیں گے نہیں۔ سلیمان نے کہا ہم اب اس چیز کو کیسے ٹھیک کرسکتے ہیں؟ ابوحازم نے کہا آپ لوگ تکبر کو چھوڑ دیں اور مروت کو اختیار کریں اور برابری کی بنیاد پر تقسیم کریں۔ سلیمان نے ان سے کہا ٹیکس وصول کرنے کے بارے میں ہمارے لئے کتنی گنجائش ہے؟ ابوحازم نے جواب دیا آپ اسے مناسب طور پر وصول کرسکتے ہیں اور اس کے مستحق لوگوں پر خرچ کرسکتے ہیں۔ سلیمان نے ان سے دریافت کیا اے ابوحازم کیا یہ ہوسکتا ہے کہ آپ ہمارے ساتھ رہیں یوں ہمیں آپ سے فائدہ ہوگا اور ہم بھی آپ کو کچھ فائدہ پہنچا دیں گے۔ ابوحازم نے جواب دیا میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں۔ سلیمان نے ان سے کہا ایسا کیوں کہہ رہے ہو۔ ابوحازم نے جواب دیا مجھے یہ ڈرہے کہ آپ کی طرف میں تھوڑا سا جھکوں گا جس کے نتیجے میں اللہ مجھے زندگی میں اور مرنے کے بعد دگنا عذاب دے گا۔ سلیمان نے ان سے کہا اپنی ضروریات ہمارے سامنے پیش کریں۔ ابوحازم نے جواب دیا آپ مجھے جہنم سے نجات دلوا کر جنت میں داخل کروا دیں۔ سلیمان نے کہا یہ تو میں نہیں کرسکتا۔ ابوحازم نے کہا پھر آپ سے مجھے کوئی کام نہیں۔ سلیمان نے کہا آپ میرے لئے دعا کریں۔ ابوحازم نے دعاکی اے اللہ اگر سلیمان تیرا دوست ہے تو اسے دنیا اور آخرت میں بھلائی کے ذریعے خوش کردے اور اگر یہ تیرا دوست نہیں تو اس کی پیشانی پکڑ کر اسے اس طرف لے جا جس سے تو راضی ہوجائے اور جو تجھے پسند ہو۔ سلیمان نے ان سے کہا بس اتناہی؟ ابوحازم بولے میں نے مختصر الفاظ میں وسیع مفہوم رکھنے والی دعا کردی اگر تم اس کے اہل ہوئے اور اگر تم اس کے اہل نہ ہوئے تو مجھے کیا فائدہ ہوگا اگر میں کمان کے ذریعے کوئی ایسا تیر پھینکوں جس پر پھل ہی نہ لگا ہو؟سلیمان نے ان سے کہا آپ مجھے کوئی وصیت کریں۔ ابوحازم بولے میں تمہیں وصیت کرتا ہوں اور مختصر الفاظ میں کروں گا تم اپنے پروردگار کو عظیم سمجھو اور اسے اس بات سے پاک رکھو کہ وہ تمہیں کسی ایسے معاملے میں دیکھے جس سے اس نے تمہیں منع کیا ہے یا کسی ایسی جگہ پر تمہیں غیرموجود پائے جس کا اس نے تمہیں حکم دیا ہے۔ جب سلیمان ان کے ہاں سے اٹھ کر گیا تو ان کی خدمت میں سو دینار بھیجے اور ساتھ ہی یہ تحریر بھیجی آپ انہیں خرچ کیجیے میری طرف سے آپ کو ان جیسے اور بہت ملیں گے۔ راوی بیان کرتے ہیں ابوحازم نے وہ انہیں واپس کردیئے اور جوابی خط میں لکھا اے امیر المومنین میں آپ کو اس بات سے اللہ کی پناہ میں دیتا ہوں کہ آپ نے مذاق کے طور پر مجھ سے کچھ مانگیں یا آپ تذلیل کے طور پر کوئی چیز واپس لیں جس چیز پر میں آپ کے لئے راضی نہیں ہوں اس سے اپنے لئے کیسے راضی ہوسکتا ہوں۔ ابوحازم نے سلیمان کو خط میں لکھا حضرت موسی جب مدین کے چشمے پر آئے تو وہاں انہوں نے کچھ لوگوں کو بکریوں کو پانی پلاتے ہوئے دیکھا دو لڑکیاں ان سے کچھ ہٹ کر کھڑی ہوئی تھیں حضرت موسی نے ان دونوں سے سوال کیا تو انہوں نے جواب دیا ہم اس وقت تک پانی حاصل نہیں کرسکتے جب تک یہ لوگ اپنے جانوروں کو پانی نہیں پلا لیتے۔ کیونکہ ہمارے والد عمر رسیدہ آدمی ہیں حضرت موسی نے ان دونوں کو پانی لا کردیا اور پھر سائے میں آکر بیٹھ گئے اور بولے اے میرے رب تو میری طرف جو بھلائی نازل کرے گا میں اس کا محتاج ہوں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ بھوک کے عالم میں تھے اور خوف زدہ بھی۔ کیونکہ وہ امن کی حالت میں نہیں تھے لیکن انہوں نے اپنے پروردگار سے مانگا۔ انہوں نے لوگوں سے سوال نہیں کیا۔ بکریوں کے چرواہوں کو اس بات کا پتہ نہیں چل سکا لیکن وہ دونوں لڑکیاں یہ بات سمجھ گئیں جب وہ دونوں اپنے والد کے پاس واپس گئیں اور انہیں یہ ماجرا سنایا اور ان کی بات کے بارے میں بتایا تو ان کے والد نے جو حضرت شعیب تھے یہ کہا وہ شخص بھوکا ہوگا پھر انہوں نے ایک لڑکی سے کہا تم جاؤ اور اسے بلا کر لاؤ جب وہ لڑکی ان کے پاس آئی تو انہیں تعظیم پیش کی اور اپنا چہرہ چھپا لیا۔ اور یہ بولی کہ میرے والد نے آپ کو بلایا ہے تاکہ آپ نے ہمیں جو پانی لا کردیا ہے اس کا بدلہ آپ کو دیں۔ جب اس لڑکی نے یہ بات کہ جو آپ نے پانی پلایا ہے اس کا بدلہ آپ کو دیں تو حضرت موسی کو اس سے بہت تکلیف ہوئی لیکن اس وقت ان کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں تھا کہ اس لڑکی کے پیچھے چلے جائیں کیونکہ وہ اس وقت پہاڑی سلسلے کے درمیان تھے بھوکے تھے وحشت کا شکار تھے اس لئے وہ اس کے پیچھے چل پڑے جب وہ اس کے پیچھے چلے تو ہوا چل پڑی جس کے نتیجے میں اس کی پشت کی جانب سے کپڑے ہلنے لگے جس کی وجہ سے بے پردگی کے آثار پیداہوئے وہ صحت مند جسم کی مالک لڑکی تھی حضرت موسی کبھی نگاہ دوسری طرف پھیر لیتے تھے اور کبھی نگاہ جھکا دیتے تھے جب ان سے برداشت نہیں ہوا تو اس نے بلند آواز سے کہا اے لڑکی اللہ کی کنیز تم میرے پیچھے آجاؤ اور مجھے زبانی طور پر راستے کے بارے میں بتاؤ۔ جب حضرت موسی حضرت شعیب کے پاس حاضر ہوئے تو اس وقت رات کا کھانا تیار تھا حضرت شعیب نے ان سے کہا اے نوجوان بیٹھ جاؤ اور کھانا کھاؤ حضرت موسی نے ان سے کہا میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں حضرت شعیب نے ان سے کہا وہ کیوں کیا تم بھوکے نہیں ہو۔ حضرت موسی نے جواب دیا جی ہاں۔ لیکن مجھے اس بات کا اندیشہ ہے کہ یہ اس چیز کا معاوضہ ہے جو میں نے ان دولڑکیوں کو پانی لا کردیا تھا۔ میں اسے گھرانے سے تعلق رکھتا ہوں جس کے لوگ تمام روئے زمین کے برابر سونے کے عوض میں بھی اپنی نیکی فروخت نہیں کرتے۔ حضرت شعیب نے ان سے کہا نہیں اے نوجوان لیکن میری اور میرے آباء و اجداد کی یہ عادت ہے کہ ہم مہمان نوازی کرتے ہیں۔ لوگوں کو کھانا کھلاتے ہیں تو حضرت موسی بیٹھ گئے اور انہوں نے کھانا کھا لیا۔ ابوحازم نے سلیمان کو لکھا کہ آپ نے جو سو دینار بھیجے ہیں اگر تو یہ اس چیز کا معاوضہ ہے جو میں نے آپ سے باتیں کی تھیں تو مردار، خون اور گوشت سور کا، اضطرار کی حالت میں اس سے زیادہ حلال ہے اور اگر یہ بیت المال کے حق کی وجہ سے ہے تو اس کے بہت سے مستحق ہیں اگر تو آپ ہم سب میں برابر تقسیم کرتے ہیں تو ٹھیک ہے ورنہ مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

أَبُو حَازِمٍ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ وَأَيُّ جَفَاءٍ رَأَيْتَ مِنِّي ← لَهُ يَا أَبَا حَازِمٍ مَا هَذَا الْجَفَاءُ ← لَهُ أَبُو حَازِمٍ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ ← هَلْ بِالْمَدِينَةِ أَحَدٌ أَدْرَكَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← مَرَّ سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بِالْمَدِينَةِ وَهُوَ يُرِيدُ مَكَّةَ فَأَقَامَ بِهَا أَيَّامًا ← الضَّحَّاكُ بْنُ مُوسَى ← عَلِيُّ بْنُ وَهْبٍ الْهَمْدَانِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الْكُمَيْتِ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 668

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 670

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ سُلَيْمَانَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْطَاكِيُّ عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبَّادٍ الْخَوَّاصِ الشَّامِيِّ أَبِي عُتْبَةَ قَالَ أَمَّا بَعْدُ اعْقِلُوا وَالْعَقْلُ نِعْمَةٌ فَرُبَّ ذِي عَقْلٍ قَدْ شُغِلَ قَلْبُهُ بِالتَّعَمُّقِ عَمَّا هُوَ عَلَيْهِ ضَرَرٌ عَنْ الِانْتِفَاعِ بِمَا يَحْتَاجُ إِلَيْهِ حَتَّى صَارَ عَنْ ذَلِكَ سَاهِيًا وَمِنْ فَضْلِ عَقْلِ الْمَرْءِ تَرْكُ النَّظَرِ فِيمَا لَا نَظَرَ فِيهِ حَتَّى لَا يَكُونَ فَضْلُ عَقْلِهِ وَبَالًا عَلَيْهِ فِي تَرْكِ مُنَافَسَةِ مَنْ هُوَ دُونَهُ فِي الْأَعْمَالِ الصَّالِحَةِ أَوْ رَجُلٍ شُغِلَ قَلْبُهُ بِبِدْعَةٍ قَلَّدَ فِيهَا دِينَهُ رِجَالًا دُونَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ اكْتَفَى بِرَأْيِهِ فِيمَا لَا يَرَى الْهُدَى إِلَّا فِيهَا وَلَا يَرَى الضَّلَالَةَ إِلَّا بِتَرْكِهَا يَزْعُمُ أَنَّهُ أَخَذَهَا مِنْ الْقُرْآنِ وَهُوَ يَدْعُو إِلَى فِرَاقِ الْقُرْآنِ أَفَمَا كَانَ لِلْقُرْآنِ حَمَلَةٌ قَبْلَهُ وَقَبْلَ أَصْحَابِهِ يَعْمَلُونَ بِمُحْكَمِهِ وَيُؤْمِنُونَ بِمُتَشَابِهِهِ وَكَانُوا مِنْهُ عَلَى مَنَارٍ كَوَضَحِ الطَّرِيقِ فَكَانَ الْقُرْآنُ إِمَامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ إِمَامًا لِأَصْحَابِهِ وَكَانَ أَصْحَابُهُ أَئِمَّةً لِمَنْ بَعْدَهُمْ رِجَالٌ مَعْرُوفُونَ مَنْسُوبُونَ فِي الْبُلْدَانِ مُتَّفِقُونَ فِي الرَّدِّ عَلَى أَصْحَابِ الْأَهْوَاءِ مَعَ مَا كَانَ بَيْنَهُمْ مِنْ الِاخْتِلَافِ وَتَسَكَّعَ أَصْحَابُ الْأَهْوَاءِ بِرَأْيِهِمْ فِي سُبُلٍ مُخْتَلِفَةٍ جَائِرَةٍ عَنْ الْقَصْدِ مُفَارِقَةٍ لِلصِّرَاطِ الْمُسْتَقِيمِ فَتَوَّهَتْ بِهِمْ أَدِلَّاؤُهُمْ فِي مَهَامِهَ مُضِلَّةٍ فَأَمْعَنُوا فِيهَا مُتَعَسِّفِينَ فِي تِيهِهِمْ كُلَّمَا أَحْدَثَ لَهُمْ الشَّيْطَانُ بِدْعَةً فِي ضَلَالَتِهِمْ انْتَقَلُوا مِنْهَا إِلَى غَيْرِهَا لِأَنَّهُمْ لَمْ يَطْلُبُوا أَثَرَ السَّالِفِينَ وَلَمْ يَقْتَدُوا بِالْمُهَاجِرِينَ وَقَدْ ذُكِرَ عَنْ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ لِزِيَادٍ هَلْ تَدْرِي مَا يَهْدِمُ الْإِسْلَامَ زَلَّةُ عَالِمٍ وَجِدَالُ مُنَافِقٍ بِالْقُرْآنِ وَأَئِمَّةٌ مُضِلُّونَ اتَّقُوا اللَّهَ وَمَا حَدَثَ فِي قُرَّائِكُمْ وَأَهْلِ مَسَاجِدِكُمْ مِنْ الْغِيبَةِ وَالنَّمِيمَةِ وَالْمَشْيِ بَيْنَ النَّاسِ بِوَجْهَيْنِ وَلِسَانَيْنِ وَقَدْ ذُكِرَ أَنَّ مَنْ كَانَ ذَا وَجْهَيْنِ فِي الدُّنْيَا كَانَ ذَا وَجْهَيْنِ فِي النَّارِ يَلْقَاكَ صَاحِبُ الْغِيبَةِ فَيَغْتَابُ عِنْدَكَ مَنْ يَرَى أَنَّكَ تُحِبُّ غِيبَتَهُ وَيُخَالِفُكَ إِلَى صَاحِبِكَ فَيَأْتِيهِ عَنْكَ بِمِثْلِهِ فَإِذَا هُوَ قَدْ أَصَابَ عِنْدَ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْكُمَا حَاجَتَهُ وَخَفِيَ عَلَى كُلِّ وَاحِدٍ مِنْكُمَا مَا أُتِيَ بِهِ عِنْدَ صَاحِبِهِ حُضُورُهُ عِنْدَ مَنْ حَضَرَهُ حُضُورُ الْإِخْوَانِ وَغَيْبَتُهُ عَلَى مَنْ غَابَ عَنْهُ غَيْبَةُ الْأَعْدَاءِ مَنْ حَضَرَ مِنْهُمْ كَانَتْ لَهُ الْأَثَرَةُ وَمَنْ غَابَ مِنْهُمْ لَمْ تَكُنْ لَهُ حُرْمَةٌ يَفْتِنُ مَنْ حَضَرَهُ بِالتَّزْكِيَةِ وَيَغْتَابُ مَنْ غَابَ عَنْهُ بِالْغِيبَةِ فَيَا لَعِبَادَ اللَّهِ أَمَا فِي الْقَوْمِ مِنْ رَشِيدٍ وَلَا مُصْلِحٍ يَقْمَعُ هَذَا عَنْ مَكِيدَتِهِ وَيَرُدُّهُ عَنْ عِرْضِ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ بَلْ عَرَفَ هَوَاهُمْ فِيمَا مَشَى بِهِ إِلَيْهِمْ فَاسْتَمْكَنَ مِنْهُمْ وَأَمْكَنُوهُ مِنْ حَاجَتِهِ فَأَكَلَ بِدِينِهِ مَعَ أَدْيَانِهِمْ فَاللَّهَ اللَّهَ ذُبُّوا عَنْ حُرَمِ أَغْيَابِكُمْ وَكُفُّوا أَلْسِنَتَكُمْ عَنْهُمْ إِلَّا مِنْ خَيْرٍ وَنَاصِحُوا اللَّهَ فِي أُمَّتِكُمْ إِذْ كُنْتُمْ حَمَلَةَ الْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ فَإِنَّ الْكِتَابَ لَا يَنْطِقُ حَتَّى يُنْطَقَ بِهِ وَإِنَّ السُّنَّةَ لَا تَعْمَلُ حَتَّى يُعْمَلَ بِهَا فَمَتَى يَتَعَلَّمُ الْجَاهِلُ إِذَا سَكَتَ الْعَالِمُ فَلَمْ يُنْكِرْ مَا ظَهَرَ وَلَمْ يَأْمُرْ بِمَا تُرِكَ وَقَدْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلَا تَكْتُمُونَهُ اتَّقُوا اللَّهَ فَإِنَّكُمْ فِي زَمَانٍ رَقَّ فِيهِ الْوَرَعُ وَقَلَّ فِيهِ الْخُشُوعُ وَحَمَلَ الْعِلْمَ مُفْسِدُوهُ فَأَحَبُّوا أَنْ يُعْرَفُوا بِحَمْلِهِ وَكَرِهُوا أَنْ يُعْرَفُوا بِإِضَاعَتِهِ فَنَطَقُوا فِيهِ بِالْهَوَى لَمَّا أَدْخَلُوا فِيهِ مِنْ الْخَطَإِ وَحَرَّفُوا الْكَلِمَ عَمَّا تَرَكُوا مِنْ الْحَقِّ إِلَى مَا عَمِلُوا بِهِ مِنْ بَاطِلٍ فَذُنُوبُهُمْ ذُنُوبٌ لَا يُسْتَغْفَرُ مِنْهَا وَتَقْصِيرُهُمْ تَقْصِيرٌ لَا يُعْتَرَفُ بِهِ كَيْفَ يَهْتَدِي الْمُسْتَدِلُّ الْمُسْتَرْشِدُ إِذَا كَانَ الدَّلِيلُ حَائِرًا أَحَبُّوا الدُّنْيَا وَكَرِهُوا مَنْزِلَةَ أَهْلِهَا فَشَارَكُوهُمْ فِي الْعَيْشِ وَزَايَلُوهُمْ بِالْقَوْلِ وَدَافَعُوا بِالْقَوْلِ عَنْ أَنْفُسِهِمْ أَنْ يُنْسَبُوا إِلَى عَمَلِهِمْ فَلَمْ يَتَبَرَّءُوا مِمَّا انْتَفَوْا مِنْهُ وَلَمْ يَدْخُلُوا فِيمَا نَسَبُوا إِلَيْهِ أَنْفُسَهُمْ لِأَنَّ الْعَامِلَ بِالْحَقِّ مُتَكَلِّمٌ وَإِنْ سَكَتَ وَقَدْ ذُكِرَ أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ إِنِّي لَسْتُ كُلَّ كَلَامِ الْحَكِيمِ أَتَقَبَّلُ وَلَكِنِّي أَنْظُرُ إِلَى هَمِّهِ وَهَوَاهُ فَإِنْ كَانَ هَمُّهُ وَهَوَاهُ لِي جَعَلْتُ صَمْتَهُ حَمْدًا وَوَقَارًا لِي وَإِنْ لَمْ يَتَكَلَّمْ وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى مَثَلُ الَّذِينَ حُمِّلُوا التَّوْرَاةَ ثُمَّ لَمْ يَحْمِلُوهَا لَمْ يَعْمَلُوا بِهَا كَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُ أَسْفَارًا كُتُبًا وَقَالَ خُذُوا مَا آتَيْنَاكُمْ بِقُوَّةٍ قَالَ الْعَمَلُ بِمَا فِيهِ وَلَا تَكْتَفُوا مِنْ السُّنَّةِ بِانْتِحَالِهَا بِالْقَوْلِ دُونَ الْعَمَلِ بِهَا فَإِنَّ انْتِحَالَ السُّنَّةِ دُونَ الْعَمَلِ بِهَا كَذِبٌ بِالْقَوْلِ مَعَ إِضَاعَةِ الْعَمَلِ وَلَا تَعِيبُوا بِالْبِدَعِ تَزَيُّنًا بِعَيْبِهَا فَإِنَّ فَسَادَ أَهْلِ الْبِدَعِ لَيْسَ بِزَائِدٍ فِي صَلَاحِكُمْ وَلَا تَعِيبُوهَا بَغْيًا عَلَى أَهْلِهَا فَإِنَّ الْبَغْيَ مِنْ فَسَادِ أَنْفُسِكُمْ وَلَيْسَ يَنْبَغِي لِلطَّبِيبِ أَنْ يُدَاوِيَ الْمَرْضَى بِمَا يُبَرِّئُهُمْ وَيُمْرِضُهُ فَإِنَّهُ إِذَا مَرِضَ اشْتَغَلَ بِمَرَضِهِ عَنْ مُدَاوَاتِهِمْ وَلَكِنْ يَنْبَغِي أَنْ يَلْتَمِسَ لِنَفْسِهِ الصِّحَّةَ لِيَقْوَى بِهِ عَلَى عِلَاجِ الْمَرْضَى فَلْيَكُنْ أَمْرُكُمْ فِيمَا تُنْكِرُونَ عَلَى إِخْوَانِكُمْ نَظَرًا مِنْكُمْ لِأَنْفُسِكُمْ وَنَصِيحَةً مِنْكُمْ لِرَبِّكُمْ وَشَفَقَةً مِنْكُمْ عَلَى إِخْوَانِكُمْ وَأَنْ تَكُونُوا مَعَ ذَلِكَ بِعُيُوبِ أَنْفُسِكُمْ أَعْنَى مِنْكُمْ بِعُيُوبِ غَيْرِكُمْ وَأَنْ يَسْتَطْعِمَ بَعْضُكُمْ بَعْضًا النَّصِيحَةَ وَأَنْ يَحْظَى عِنْدَكُمْ مَنْ بَذَلَهَا لَكُمْ وَقَبِلَهَا مِنْكُمْ وَقَدْ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَحِمَ اللَّهُ مَنْ أَهْدَى إِلَيَّ عُيُوبِي تُحِبُّونَ أَنْ تَقُولُوا فَيُحْتَمَلَ لَكُمْ وَإِنْ قِيلَ لَكُمْ مِثْلُ الَّذِي قُلْتُمْ غَضِبْتُمْ تَجِدُونَ عَلَى النَّاسِ فِيمَا تُنْكِرُونَ مِنْ أُمُورِهِمْ وَتَأْتُونَ مِثْلَ ذَلِكَ فَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يُوجَدَ عَلَيْكُمْ اتَّهِمُوا رَأْيَكُمْ وَرَأْيَ أَهْلِ زَمَانِكُمْ وَتَثَبَّتُوا قَبْلَ أَنْ تَكَلَّمُوا وَتَعَلَّمُوا قَبْلَ أَنْ تَعْمَلُوا فَإِنَّهُ يَأْتِي زَمَانٌ يَشْتَبِهُ فِيهِ الْحَقُّ وَالْبَاطِلُ وَيَكُونُ الْمَعْرُوفُ فِيهِ مُنْكَرًا وَالْمُنْكَرُ فِيهِ مَعْرُوفًا فَكَمْ مِنْ مُتَقَرِّبٍ إِلَى اللَّهِ بِمَا يُبَاعِدُهُ وَمُتَحَبِّبٍ إِلَيْهِ بِمَا يُغْضِبُهُ عَلَيْهِ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى أَفَمَنْ زُيِّنَ لَهُ سُوءُ عَمَلِهِ فَرَآهُ حَسَنًا الْآيَةَ فَعَلَيْكُمْ بِالْوُقُوفِ عِنْدَ الشُّبُهَاتِ حَتَّى يَبْرُزَ لَكُمْ وَاضِحُ الْحَقِّ بِالْبَيِّنَةِ فَإِنَّ الدَّاخِلَ فِيمَا لَا يَعْلَمُ بِغَيْرِ عِلْمٍ آثِمٌ وَمَنْ نَظَرَ لِلَّهِ نَظَرَ اللَّهُ لَهُ عَلَيْكُمْ بِالْقُرْآنِ فَأْتَمُّوا بِهِ وَأُمُّوا بِهِ وَعَلَيْكُمْ بِطَلَبِ أَثَرِ الْمَاضِينَ فِيهِ وَلَوْ أَنَّ الْأَحْبَارَ وَالرُّهْبَانَ لَمْ يَتَّقُوا زَوَالَ مَرَاتِبِهِمْ وَفَسَادَ مَنْزِلَتِهِمْ بِإِقَامَةِ الْكِتَابِ وَتِبْيَانِهِ مَا حَرَّفُوهُ وَلَا كَتَمُوهُ وَلَكِنَّهُمْ لَمَّا خَالَفُوا الْكِتَابَ بِأَعْمَالِهِمْ الْتَمَسُوا أَنْ يَخْدَعُوا قَوْمَهُمْ عَمَّا صَنَعُوا مَخَافَةَ أَنْ تَفْسُدَ مَنَازِلُهُمْ وَأَنْ يَتَبَيَّنَ لِلنَّاسِ فَسَادُهُمْ فَحَرَّفُوا الْكِتَابَ بِالتَّفْسِيرِ وَمَا لَمْ يَسْتَطِيعُوا تَحْرِيفَهُ كَتَمُوهُ فَسَكَتُوا عَنْ صَنِيعِ أَنْفُسِهِمْ إِبْقَاءً عَلَى مَنَازِلِهِمْ وَسَكَتُوا عَمَّا صَنَعَ قَوْمُهُمْ مُصَانَعَةً لَهُمْ وَقَدْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلَا تَكْتُمُونَهُ بَلْ مَالَئُوا عَلَيْهِ وَرَقَّقُوا لَهُمْ فِيهِ

ابو عتبہ عباد بن عباد خواص شامی تحریر کرتے ہیں امابعد۔ یہ بات جان لو کہ عقل بڑی نعمت ہے کچھ عقل مند ایسے بھی ہوتے ہیں جو ان چیزوں میں غور کرتے ہیں جو ان کے لئے نقصان دہ ہوتی ہے جس کی وجہ سے ان کا ذہن غافل ہوجاتا ہے اور جس چیز کی انہیں ضرورت ہوتی ہے وہ اس سے نفع حاصل نہیں کرسکتے یہاں تک کہ وہ اس چیز سے غافل ہوجاتے ہیں آدمی کی عقل کی فضیلت یہ ہے کہ جس چیز کے بارے میں غور و فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے وہ اس کے بارے میں غور و فکر نہ کرے تاکہ اس کی عقل کی فضیلت اس کے لئے وبال کا باعث نہ بن جائے۔ کہ اس نے ان لوگوں پر گرفت نہیں کی جو اعمال میں ان سے کم تھے یا وہ شخص جس کا دل بدعت میں مبتلا ہوجائے اور وہ اپنے گلے میں اس دین کا ہار پہنا لے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کا نہیں تھایا وہ اپنی رائے پراکتفا کرتے ہوئے یہی سمجھے کہ صرف وہی ہدایت ہے اور اس کے اپنے نظریے کو ترک کرنا ہی گمراہی ہے وہ یہ سمجھے کہ اس نے یہ نظریہ قرآن سے حاصل کیا ہے حالانکہ وہ قرآن سے الگ کرنے والا ہوگیا اس شخص سے اور اس کے ساتھیوں سے پہلے قرآن کے ماہر نہیں تھے۔ جو قرآن کے محکم پر عمل کرتے تھے اور اس کے متشابہ پر ایمان رکھتے تھے اور وہ لوگ اس واضح طریقے پر گامزن تھے قرآن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا پیشوا تھا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کے پیشوا تھے اور ان کے ساتھی بعد میں آنے والے لوگوں کے لئے پیشوا تھے جن سے ہر شخص واقف تھا اور وہ ہر شہر میں موجود تھے۔ یہ لوگ آپس میں فقہی مسائل میں اختلاف رکھتے تھے لیکن بدمذہب لوگوں کی تردید کے بارے میں ان کے درمیان اتفاق پایا جاتا تھا ان بدمذہب لوگوں کو ان کی رائے نے مختلف راستوں پر ڈال دیا ہے جو میانہ روی سے دوور ہے اور صراط مستقیم سے الگ ہے ان کے پیشواؤں نے ان لوگوں کو گمراہی کے میدان میں تھکا دیا ہے یہ لوگ انہیں میدانوں میں دھکے کھاتے پھر رہے ہیں جب بھی ان کی گمراہی کے لئے شیطان کوئی نئی بدعت ایجاد کرتا ہے یہ ایک سے دوسری طرف منتقل ہوجاتے ہیں اس کی وجہ یہی ہے کہ یہ لوگ سابقہ زمانے کے لوگوں کے نشانات کی تلاش نہیں کرتے اور ہجرت کرنے والے صحابہ کی پیروی نہیں کرتے۔ حضرت عمر کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے زیاد سے یہ کہا کہ کیا تم جانتے ہو کہ کون سی چیز اسلام کو منہدم کردیتی ہے عالم شخص کی پھسلن، منافق شخص کا قرآن کے بارے میں بحث کرنا اور گمراہ کرنے والے پیشوا، لہذا اللہ سے ڈرو، اس چیز کے بارے میں جو تمہارے علماء اور تمہارے مساجد والوں کے درمیان غیبت اور چغل خوری اور لوگوں کے ساتھ دوغلے چہرے اور دوغلی زبانوں کے ساتھ ملنا آچکا ہے یہ بات ذکر کی گئی ہے کہ جو شخص دنیا میں دوغلے چہرے کا مالک ہوگا وہ جہنم میں دوغلے چہرے کا مالک ہوگا۔ غیبت کرنے والا شخص تم سے ملاقات کرتا ہے اور تمہارے سامنے اس شخص کی غیبت کرتا ہے جس کی غیبت کو تم پسند کرتے ہو پھر وہ تمہارے مخالف کے پاس آجاتا ہے اور اس کے سامنے تمہارے بارے میں وہی حرکت کرتا ہے جو تمہارے ساتھ کی تھی اس طرح وہ دونوں میں سے ہر ایک کے پاس سے اپنا مقصد حاصل کرلیتا ہے اور دونوں میں سے ہر ایک سے وہ بات پوشیدہ رکھتا ہے جو اس نے دوسرے فریق کے سامنے پیش کی تھی وہ جس شخص کے پاس موجود ہوتا ہے اس کے پاس بھائیوں کی طرح موجود ہوتا ہے اور جس شخص کے پاس موجود نہیں ہوتا اس کے بارے میں دشمنوں کا سا رویہ رکھتا ہے، جس کے پاس اس کے زیر اثر ہوتا ہے اور جس شخص کے پاس موجود نہیں ہوتا اس کا اس کے نزدیک کوئی احترام نہیں ہوتا۔ وہ جس شخص کے پاس موجود ہوتا ہے اسے تزکیہ کے حوالے سے آزمائش میں مبتلا کردیتا ہے اور جس شخص کے پاس موجود نہیں ہوتا اسے غیبت کے حوالے سے برا بنا دیتا ہے۔ اور اے اللہ کے بندو کیا تمہارے اندر کوئی بھی سمجھدار نہیں ہے اور کوئی بھی ایسا اصلاح پسند نہیں ہے جو ان لوگوں کے فریب کا قلع قمع کردے اور اپنے مسلمان بھائی کی عزت کو واپس لوٹا دے بلکہ ان لوگوں کی خواہش کو سمجھ کر وہ لوگ جس طرف لے کے جا رہے ہیں انہیں وہیں رہنے دے اور ان سے ان کی ضرورت پوری کرلے یوں وہ اپنے دین کے ہمراہ ان کے دین کو بھی محفوظ کرلے گا۔ اے اللہ کے بندو! کیا تمہارے درمیان کوئی بھی ایسا شخص نہیں ہے جو سمجھ دار ہو اور ان لوگوں کی اصلاح کرے اور ان کے فریب کو ختم کرے اور اسے اپنے مسلمان بھائی کی عزت کی خلاف ورزی کرنے سے باز رکھے بلکہ وہ یہ جان لے کہ ان کی خواہش کیا ہے اس چیز کے بارے میں جسے وہ ساتھ لے کر ان کی طرف گیا ہے پھر اس نے ان لوگوں سے اپنی ضرورت نکالی تو انہوں نے اس کی ضرورت پوری کردی یوں اس شخص نے ان لوگوں کے دین کے ہمراہ اپنے دین کو بھی خراب کرلیا ہے۔ اللہ سے ڈرو اللہ سے ڈرو۔ اپنے غیر موجود لوگوں کے احترام کے حوالے سے بچو اور ان کے بارے میں اپنی زبان سے صرف اچھی بات استعمال کرو اور اپنے ساتھیوں کے بارے میں اللہ کی خیرخواہی اختیار کرو اگر تم کتاب وسنت کے عالم ہو بے شک کتاب خود بات نہیں کرتی جب تک اس کی بات بیان نہ کی جائے اور سنت خود عمل نہیں کرتی جب تک اس پر عمل نہ کیا جائے جب عالم خاموش رہے گا تو ناواقف شخص کیسے علم حاصل کرے گا اگر وہ ظاہر ہونے والی چیز کا انکار نہ کرے اور جس چیز کو ترک کیا گیا ہے اس کا حکم نہ دے تو پھر کیا ہوگا جبکہ اللہ نے ان لوگوں کو جنہیں کتاب دی گئی ان سے یہ عہد لیا ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے اسے واضح طور پر بیان کریں گے اور اسے چھپائیں گے نہیں۔ اللہ سے ڈرو۔ کیونکہ تم ایک ایسے زمانے میں ہو جس میں پرہیزگاری کمزور ہوگئی ہے اور عاجزی کم ہوگئی ہے علم کے حاصل کرنے والے لوگ وہ ہیں جو اس میں فساد پیدا کرتے ہیں اور یہ بات پسند کرتے ہیں کہ عالم کے طور پر ان کی پہچان ہو اور وہ یہ بات ناپسند کرتے ہیں علم کے ضائع کرنے کے حوالے سے ان کی شناخت ہوجائے وہ علم کے بارے میں اپنی خواہش نفس کے مطابق وہ بات بیان کرتے ہیں جو اس میں انہوں نے غلط شامل کردی ہے اور وہ کلمات میں تحریف کے حق کو چھوڑ کر اس باطل کی طرف لے جاتے ہین جس پر وہ عمل کرتے ہیں ان کے گناہ ایسے ہیں کہ ان کی مغفرت نہیں کی جاسکتی اور ان کی غلطیاں ایسی ہیں جن کا اعتراف نہیں کیا جاسکتا۔ دلیل حاصل کرنے والا اور ہدایت حاصل کرنے والا کیسے ہدایت حاصل کرسکتا ہے جبکہ دلیل ہی بھٹکانے والی ہو۔ یہ لوگ دنیا کو پسند کرتے ہیں اور یہ بات ناپسند کرتے ہیں اہل دنیا کی تعظیم کریں۔ یہ لوگ زندگی میں ان کے ساتھ شریک ہوتے ہیں لیکن باتوں کے حوالے سے ان سے الگ رہتے ہیں اور اپنی طرف سے اس بات کو دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان لوگوں کے عمل کی طرف انہیں منسوب کیا جائے۔ لہذا جس چیز کی نفی کرنا چاہتے ہیں اس سے بری نہیں ہوتے اور جس چیز کی طرف منسوب یہ خود کو کرتے ہیں اس میں یہ داخل نہیں ہوتے اس لئے کہ حق کے اوپر عمل کرنے والا شخص بول رہا ہو یا خاموش ہو اس کی ایک ہی حثثیت ہوتی ہے یہ بات مذکور ہے کہ اللہ نے ارشاد فرمایا ہے میں ہر دانا شخص کی ہربات کو قبول نہیں کرتا بلکہ میں اس کی خواہش اور ارادے کی طرف دیکھتا ہوں اگر اس کی خواہش اور ارادہ میرے لئے ہو تو میں اس کی خاموشی کو بھی اپنے لئے حمد و ثناء سمجھتاہوں اگرچہ اس نے کوئی بات کہی ہو یا نہ۔ "وہ لوگ جنہیں تورات کا علم دیا گیا اور پھر انہوں نے اس کا علم حاصل نہیں کیا ان کی مثال اس گدھے کی طرح ہے جو کتابوں کا بنڈل لاد لیتا ہے۔ اور اللہ نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے ہم نے جو تمہیں دیا ہے اسے قوت سے حاصل کرلو۔ یعنی جو کچھ اس میں ہے اس پر عمل کرو لہذا کسی بھی حدیث پر صرف زبانی طور پر عمل کئے بغیر اکتفا نہ کرو کیونکہ حدیث پر عمل کئے بغیر صرف زبانی طور پر اسے بیان کرنا جھوٹ بولنے کے مترادف ہے اور علم کو ضائع کرنے کے مترادف ہے، اہل بدعت کی برائی اس لئے بیان نہ کرو کہ ان کی برائی بیان کرنے سے تمہیں شہرت ملے گی اس لئے کہ اہل بدعت کا فاسد ہونا تمہاری بہتری میں کوئی اضافہ نہیں کرے گا اور ان کی برائی بیان کرتے ہوئے زیادتی نہ کرو چونکہ یہ زیادتی تمہارے نفس کا فساد ہوگی۔ کسی طبیب کے لئے یہ بات مناسب نہیں ہے کہ وہ بیمار کا علاج کسی ایسی دوائی کے ذریعے کرے جو اسے ٹھیک نہ کرے بلکہ اور بیمار کردے کیونکہ جب وہ شخص بیمار ہوگا تو وہ اپنی بیماری میں مشغول ہونے کی وجہ سے دوسروں کو دوا دینے سے دینے سے باز آجائے گا، اسلۓ اس کے لئے مناسب ہے کہ وہ پہلے اپنی ذات کے لئے صحت کا خیال رکھے تاکہ اس کی بدولت بیمار لوگوں کے علاج کے قابل ہوسکے۔ اس لئے تمہارا معاملہ یہ ہونا چاہیے کہ تم اپنے بھائیوں کی جس بات کا انکار کرتے ہو اس میں تم اپنے آپ کا بھی جائزہ لو اور اپنی طرف سے اپنے رب کے لئے خیر خواہی اختیار کرو یہ تمہاری طرف سے تمہارے بھائیوں کے لئے شفقت ہونی چاہیے اور اس کے ساتھ یہ بات بھی سامنے رکھو کہ دوسروں کے عیوب کے مقابلے میں تمہیں اپنے عیوب کا زیادہ خیال رکھنا چاہیے، ایک شخص دوسرے کے لئے خیرخواہی چاہتا ہے اور اس شخص کا تمہارے نزدیک حصہ ہونا چاہیے جو تمہارے لئے خیر خواہی کرتا ہے یا تمہاری طرف سے خیر خواہی کو قبول کرتا ہے۔ حضرت عمر بن خطاب ارشاد فرماتے ہیں اللہ اس شخص پر رحم کرے جو میری خامیوں سے مجھے آگاہ کرتا ہے کہ کیا تم لوگ یہ بات پسند کرتے ہو کہ تم لوگ کوئی بات بیان کرو تو اسے برداشت کیا جائے اور تم نے جو بات بیان کی ہے اگر اسی جیسی تم سے کہی جائے تو تم ناراض ہوجاؤ تم ان لوگوں کو اس حال میں پاتے ہو جس کا تم انکار کرتے ہو اور خود وہی کام سر انجام دیتے ہو کیا تم لوگ اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ اس بارے میں تم سے مواخذہ کیا جائے۔ تم اپنی رائے اور اپنے زمانے کے لوگوں کی رائے پر الزام لگاؤ اور بات کرنے سے پہلے اس کی تحقیق کرو اور عمل کرنے سے پہلے علم حاصل کرو کیونک عنقریب وہ زمانہ آجائے گا جس میں حق و باطل مشتبہ ہوجائیں گے اس زمانے میں نیکی گناہ بن جائے گی اور گناہ نیکی بن جائے گا اللہ کے قرب کے طلب گار کتنے ہی لوگ ہوں جو درحقیقت اللہ سے دور ہو رہے ہوں گے اور اللہ کی محبت کے کتنے ہی طلب گار ہیں جو اپنے بارے میں اللہ کی ناراضگی میں اضافہ کر رہے ہوں گے اللہ نے ارشاد فرمایا وہ شخص جس کے لئے اس کے عمل کی برائی کو سجادیا گیا ہے وہ شخص اسے نیکی سمجھتا ہے۔ شبہات سے بچنا تم پر لازم ہے یہاں تک کہ شہادت کے ذریعے واضح حق تمہارے سامنے نمودار ہوجائے گا اس لئے کہ جو شخص علم کے بغیر اس چیز میں داخل ہوتا ہے جس کا اسے علم نہیں ہے وہ شخص گناہ گار ہوتا ہے اور جو شخص اللہ کے لئے کسی بات کا جائزہ لیتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس کا جائز لیتا ہے تم پر قرآن پڑھنالازم ہے تم اسے اپنا پیشوا بناؤ اور اس سے ہدایت حاصل کرو اور گزرے ہوئے لوگوں کے آثار کی تلاش کرو اس لئے کہ اگر مذہی پیشوا اور رہنما اپنے مراتب کے زوال سے نہ ڈریں اور اپنے اعمال میں کتاب قائم کرنے کے ذریعے اپنی قدر و منزلت کے فساد سے نہ ڈریں اور انہوں نے جو تحریف کی ہے اسے واضح نہ کریں اور اسے نہ چھپائیں لیکن وہ لوگ جب وہ اپنے اعمال کے ذریعے کتاب کے خلاف عمل کرتے ہیں تو وہ ایسی چیز تلاش کرتے ہیں جس کے ذریعے وہ قوم کو دھوکہ دے سکیں اس چیز کے بارے میں جو انہوں نے کیا ہے انہیں یہ خوف ہوتا ہے کہ وہ اپنی حثییت خراب کر جائیں گے وہ لوگوں کے سامنے اس کے فساد کو بیان کرتے ہیں اور کتاب کے مفہوم میں تحریف کردیتے ہیں اور جہاں وہ تحریف نہیں کرسکتے وہاں اسے چھپا لیتے ہیں اور اپنی حثییت کو برقرار رکھنے کے لئے خود جو حرکت کی ہوتی ہے اس پر خاموش رہتے ہیں اور اس بات پر بھی خاموش رہتے ہیں جو لوگوں نے انہیں بچانے کے لۓ کیا ہوتا ہے تحقیق اللہ نے جن لوگوں کو کتاب دی ان سے یہ عہد لیا ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے واضح طور پر اسے بتائیں گے اور اسے چھپائیں گے نہیں بلکہ وہ لوگ تو خود اس کی طرف جھک گئے ہیں اور اس بارے میں انہوں نے لوگوں کے ساتھ نرمی کی ہے۔

عَبَّادِ بْنِ عَبَّادٍ الْخَوَّاصِ الشَّامِيِّ أَبِي عُتْبَةَ ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ سُلَيْمَانَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْطَاكِيُّ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 670

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 749

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ الْحَرَّانِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ الْجُلَاحِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ الْمَخْزُومِيِّ عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أَتَى رِجَالٌ مِنْ بَنِي مُدْلِجٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا أَصْحَابُ هَذَا الْبَحْرِ نُعَالِجُ الصَّيْدَ عَلَى رَمَثٍ فَنَعْزُبُ فِيهِ اللَّيْلَةَ وَاللَّيْلَتَيْنِ وَالثَّلَاثَ وَالْأَرْبَعَ وَنَحْمِلُ مَعَنَا مِنْ الْعَذْبِ لِشِفَاهِنَا فَإِنْ نَحْنُ تَوَضَّأْنَا بِهِ خَشِينَا عَلَى أَنْفُسِنَا وَإِنْ نَحْنُ آثَرْنَا بِأَنْفُسِنَا وَتَوَضَّأْنَا مِنْ الْبَحْرِ وَجَدْنَا فِي أَنْفُسِنَا مِنْ ذَلِكَ فَخَشِينَا أَنْ لَا يَكُونَ طَهُورًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّئُوا مِنْهُ فَإِنَّهُ الطَّاهِرُ مَاؤُهُ الْحَلَالُ مَيْتَتُهُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں بنو مدلج سے تعلق رکھنے والے حضرات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی یا رسول اللہ ہم سمندر میں رہتے ہی اور کشتی میں بیٹھ کر سمندری جانوروں کا شکار کرتے ہیں ہمیں ایک دو تین چار راتوں تک سمندر میں رہنا پڑتا ہے۔ ہم اپنے ہمراہ میٹھا پانی لے جاتے ہیں اگر ہم اس پانی کے ذریعے وضو کریں تو ہمیں اپنے پیاسے رہ جانے کا اندیشہ ہوگا اور اگر ہم اپنی پیاس کو ترجیح دیتے ہوئے سمندر کے پانی سے وضو کریں تو ہمیں الجھن محسوس ہوتی ہے شاید اس کے ذریعے وضو کرنا درست نہ ہو؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا اس یعنی سمندر کے پانی سے وضو کر لو کیونکہ اس کا پانی پاک ہے اس کا مردار حلال ہے۔

أَتَى رِجَالٌ مِنْ بَنِي مُدْلِجٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ فَقَالُوا ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْمُغِيرَةِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ الْمَخْزُومِيِّ ← الْجُلَاحِ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ الْحَرَّانِيُّ

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 749

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 762

أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ وَحَدَّثَنَاهُ عَنْ يُونُسَ أَيْضًا عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ أَنَّهَا أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لَهَا لَمْ يَبْلُغْ أَنْ يَأْكُلَ الطَّعَامَ فَأَجْلَسَتْهُ فِي حِجْرِهِ فَبَالَ عَلَيْهِ فَدَعَا بِمَاءٍ فَنَضَحَهُ وَلَمْ يَغْسِلْهُ

حضرت ام قیس بیان کرتی ہیں وہ اپنے کم عمر بیٹے جو ابھی کھانا کھانے کی عمر تک نہ پہنچا تھا کے ہمراہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے کو اپنی گود میں بٹھا لیا اس نے آپ پر پیشاب کردیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوا کر اس جگہ پر چھڑک دیا اور اس جگہ مل کر نہیں دھویا۔

عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← يونس أيضا ← مالک بن أنس ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 762

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 886

أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَامِرٍ الْأَحْوَلِ قَالَ كَانَ الْحَسَنُ لَا يَعُدُّ الصُّفْرَةَ وَالْكُدْرَةَ وَلَا مِثْلَ غُسَالَةِ اللَّحْمِ شَيْئًا

عامر احول بیان کرتے ہیں حضرت حسن بصری مٹیالے مواد اور گوشت دھونے کے بعد پانی کا جو رنگ ہوتا ہے جیسے مواد کو حیض کا حصہ شمار نہیں کرتے تھے۔

كَانَ الْحَسَنُ لَا يَعُدُّ الصُّفْرَةَ وَالْكُدْرَةَ وَلَا مِثْلَ غُسَالَةِ اللَّحْمِ شَيْئًا ← عَامِرٌ الْأَحْوَلُ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← أَبُو النُّعْمَانِ،

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 886

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 896

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ إِذَا تَطَهَّرَتْ الْمَرْأَةُ مِنْ الْمَحِيضِ ثُمَّ رَأَتْ بَعْدَ الطُّهْرِ مَا يَرِيبُهَا فَإِنَّمَا هِيَ رَكْضَةٌ مِنْ الشَّيْطَانِ فِي الرَّحِمِ فَإِذَا رَأَتْ مِثْلَ الرُّعَافِ أَوْ قَطْرَةِ الدَّمِ أَوْ غُسَالَةِ اللَّحْمِ تَوَضَّأَتْ وُضُوءَهَا لِلصَّلَاةِ ثُمَّ تُصَلِّي فَإِنْ كَانَ دَمًا عَبِيطًا الَّذِي لَا خَفَاءَ بِهِ فَلْتَدَعْ الصَّلَاةَ قَالَ أَبُو مُحَمَّد سَمِعْتُ يَزِيدَ بْنَ هَارُونَ يَقُولُ إِذَا كَانَ أَيَّامُ الْمَرْأَةِ سَبْعَةً فَرَأَتْ الطُّهْرَ بَيَاضًا فَتَزَوَّجَتْ ثُمَّ رَأَتْ الدَّمَ مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْعَشْرِ فَالنِّكَاحُ جَائِزٌ صَحِيحٌ فَإِنْ رَأَتْ الطُّهْرَ دُونَ السَّبْعِ فَتَزَوَّجَتْ ثُمَّ رَأَتْ الدَّمَ فَلَا يَجُوزُ وَهُوَ حَيْضٌ و سُئِلَ عَبْد اللَّهِ تَقُولُ بِهِ قَالَ نَعَمْ

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب عورت حیض سے پاک ہوجائے اور پاک ہونے کے بعد ایسی چیز دیکھے جو اسے شک میں مبتلا کردے تو یہ شیطان رحم میں کچھ چبھوتا ہے جب عورت نکسیر یا خون کے قطرے یا دھوئے ہوئے گوشت کے پانی کی مانند کوئی مواد خارج ہوتا ہوا دیکھے تو نماز کے وضو جیسا وضو کر کے نماز پڑھ لے لیکن اگر وہ گاڑھا ہو اس کے حیض ہونے کے بارے میں کوئی شبہ نہ ہو تو اسے نماز پڑھنا ترک کردینا چاہیے۔امام دارمی فرماتے ہیں میں نے یزید بن ہارون کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے جب عورت کے حیض کے مخصوص ایام سات دن ہوں اور وہ عورت طہر میں سفیدی دیکھ لے اور پھر وہ نکاح کرے پھر اس دن اور دس دن کے درمیان اسے دو بار خون دکھائی دے اس کا نکاح جائز اور درست ہوگا لیکن اگر اس نے سات دن سے پہلے طہر دیکھ لیا اور پھر شادی کرلی اور اس کے بعد خون نظر آگیا تو نکاح جائز نہیں ہوگا اور وہ حالت حیض شمار ہوگی۔ امام دارمی سے دریافت کیا گیا آپ بھی اسی بات کے قائل ہیں انہوں نے جواب دیا جی ہاں۔

عَلِيٍّ، ← الْحَارِثِ ← أَبِي إِسْحَقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 896

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1365

أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْوَأُ النَّاسِ سَرِقَةً الَّذِي يَسْرِقُ صَلَاتَهُ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَيْفَ يَسْرِقُ صَلَاتَهُ قَالَ لَا يُتِمُّ رُكُوعَهَا وَلَا سُجُودَهَا

حضرت ابوقتادہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں لوگوں میں سب سے برا چور وہ ہے جو اپنی نماز میں چوری کرتا ہے لوگوں نے دریافت کیا نماز میں چوری کیسے کرے گا آپ نے فرمایا وہ جو اپنی نماز میں پوری طرح رکوع و سجدہ نہ کرے۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى،

Sunan Darmi · From the prayer book › Door · Hadith 1365

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1456

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ حَدَّثَنَا أَفْلَحُ هُوَ ابْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنِي سَلْمَانُ الْأَغَرُّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا كَأَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ مِنْ الْمَسَاجِدِ إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری اس مسجد میں ایک نماز ادا کرنا مسجد حرام کے علاوہ اور کسی بھی مسجد میں ایک ہزار (نمازیں ادا کرنے کی مانند ہے)

أَبَا هُرَيْرَةَ ← سَلْمَانَ الْأَغَرِّ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَفْلَحُ هُوَ ابْنُ حُمَيْدٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ،

Sunan Darmi · From the prayer book › Door · Hadith 1456

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1457

أَخْبَرَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے میری اس مسجد میں ایک نماز ادا کرنا مسجد حرام کے علاوہ اور کسی بھی مسجد میں ایک ہزار نمازیں ادا کرنے سے افضل ہے (یا زیادہ فضیلت رکھتا ہے )

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ← مُسَدَّدٌ

Sunan Darmi · From the prayer book › Door · Hadith 1457

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1458

حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں۔ میری اس مسجد میں ایک نماز ادا کرنا مسجد حرام کے علاوہ اور کسی بھی مسجد میں ایک ہزار نمازیں ادا کرنے سے افضل ہے ۔

النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ،

Sunan Darmi · From the prayer book › Door · Hadith 1458

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1499

أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ عَوْفٍ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامَ قَالَ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ اسْتَشْرَفَهُ النَّاسُ فَقَالُوا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ فَخَرَجْتُ فِيمَنْ خَرَجَ فَلَمَّا رَأَيْتُ وَجْهَهُ عَرَفْتُ أَنَّ وَجْهَهُ لَيْسَ بِوَجْهِ كَذَّابٍ فَكَانَ أَوَّلُ مَا سَمِعْتُهُ يَقُولُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَفْشُوا السَّلَامَ وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ وَصِلُوا الْأَرْحَامَ وَصَلُّوا وَالنَّاسُ نِيَامٌ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِسَلَامٍ

حضرت عبداللہ بن سلام بیان کرتے ہیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو لوگ آپ کے استقبال کے لئے آئے اور بولے کہ اللہ کے رسول تشریف لائے ہیں اللہ کے رسول تشریف لائے ہیں حضرت عبداللہ بیان کرتے ہیں ان لوگوں کے ساتھ میں بھی نکلا جب میں نے آپ کا چہرہ مبارک دیکھا تو مجھے اندازہ ہوگیا کہ یہ کسی جھوٹے شخص کا چہرہ نہیں ہے۔ میں نے سب سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ اے لوگو سلام کو عام کرو۔ کھانا کھلاؤ رشتہ داری برقرار رکھو اور جب لوگ سو رہے ہوں اس وقت نوافل ادا کرو تم لوگ سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤ گے۔

لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ الْمَدِينَةَ اسْتَشْرَفَهُ النَّاسُ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلاَمٍ ← زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ← عَوْفٌ، ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ

Sunan Darmi · From the prayer book › Door · Hadith 1499

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1514

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَأَتَى الْمَدِينَةَ لِبَيْعِ عَقَارِهِ فَيَجْعَلَهُ فِي السِّلَاحِ وَالْكُرَاعِ فَلَقِيَ رَهْطًا مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالُوا أَرَادَ ذَلِكَ سِتَّةٌ مِنَّا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَنَعَهُمْ وَقَالَ أَمَا لَكُمْ فِيَّ أُسْوَةٌ ثُمَّ إِنَّهُ قَدِمَ الْبَصْرَةَ فَحَدَّثَنَا أَنَّهُ لَقِيَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ فَسَأَلَهُ عَنْ الْوِتْرِ فَقَالَ أَلَا أُحَدِّثُكَ بِأَعْلَمِ النَّاسِ بِوِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ بَلَى قَالَ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةُ فَأْتِهَا فَاسْأَلْهَا ثُمَّ ارْجِعْ إِلَيَّ فَحَدِّثْنِي بِمَا تُحَدِّثُكَ فَأَتَيْتُ حَكِيمَ بْنَ أَفْلَحَ فَقُلْتُ لَهُ انْطَلِقْ مَعِي إِلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ قَالَ إِنِّي لَا آتِيهَا إِنِّي نَهَيْتُ عَنْ هَذِهِ الشِّيعَتَيْنِ فَأَبَتْ إِلَّا مُضِيًّا قُلْتُ أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ لَمَا انْطَلَقْتَ فَانْطَلَقْنَا فَسَلَّمْنَا فَعَرَفَتْ صَوْتَ حَكِيمٍ فَقَالَتْ مَنْ هَذَا قُلْتُ سَعْدُ بْنُ هِشَامٍ قَالَتْ مَنْ هِشَامٌ قُلْتُ هِشَامُ بْنُ عَامِرٍ قَالَتْ نِعْمَ الْمَرْءُ قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ قُلْتُ أَخْبِرِينَا عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ أَلَسْتَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ قُلْتُ بَلَى قَالَتْ فَإِنَّهُ خُلُقُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرَدْتُ أَنْ أَقُومَ وَلَا أَسْأَلَ أَحَدًا عَنْ شَيْءٍ حَتَّى أَلْحَقَ بِاللَّهِ فَعَرَضَ لِي الْقِيَامُ فَقُلْتُ أَخْبِرِينَا عَنْ قِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ أَلَسْتَ تَقْرَأُ يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ قُلْتُ بَلَى قَالَتْ فَإِنَّهَا كَانَتْ قِيَامَ رَسُولِ اللَّهِ أُنْزِلَ أَوَّلُ السُّورَةِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ حَتَّى انْتَفَخَتْ أَقْدَامُهُمْ وَحُبِسَ آخِرُهَا فِي السَّمَاءِ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا ثُمَّ أُنْزِلَ فَصَارَ قِيَامُ اللَّيْلِ تَطَوُّعًا بَعْدَ أَنْ كَانَ فَرِيضَةً فَأَرَدْتُ أَنْ أَقُومَ وَلَا أَسْأَلَ أَحَدًا عَنْ شَيْءٍ حَتَّى أَلْحَقَ بِاللَّهِ فَعَرَضَ لِي الْوِتْرُ فَقُلْتُ أَخْبِرِينَا عَنْ وِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَامَ وَضَعَ سِوَاكَهُ عِنْدِي فَيَبْعَثُهُ اللَّهُ لِمَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَهُ فَيُصَلِّي تِسْعَ رَكَعَاتٍ لَا يَجْلِسُ إِلَّا فِي الثَّامِنَةِ فَيَحْمَدُ اللَّهَ وَيَدْعُو رَبَّهُ ثُمَّ يَقُومُ وَلَا يُسَلِّمُ ثُمَّ يَجْلِسُ فِي التَّاسِعَةِ فَيَحْمَدُ اللَّهَ وَيَدْعُو رَبَّهُ وَيُسَلِّمُ تَسْلِيمَةً يُسْمِعُنَا ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ فَتِلْكَ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يَا بُنَيَّ فَلَمَّا أَسَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَمَلَ اللَّحْمَ صَلَّى سَبْعَ رَكَعَاتٍ لَا يَجْلِسُ إِلَّا فِي السَّادِسَةِ فَيَحْمَدُ اللَّهَ وَيَدْعُو رَبَّهُ ثُمَّ يَقُومُ وَلَا يُسَلِّمُ ثُمَّ يَجْلِسُ فِي السَّابِعَةِ فَيَحْمَدُ اللَّهَ وَيَدْعُو رَبَّهُ ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمَةً ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ فَتِلْكَ تِسْعٌ يَا بُنَيَّ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا غَلَبَهُ نَوْمٌ أَوْ مَرَضٌ صَلَّى مِنْ النَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَخَذَ خُلُقًا أَحَبَّ أَنْ يُدَاوِمَ عَلَيْهِ وَمَا قَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً حَتَّى يُصْبِحَ وَلَا قَرَأَ الْقُرْآنَ كُلَّهُ فِي لَيْلَةٍ وَلَا صَامَ شَهْرًا كَامِلًا غَيْرَ رَمَضَانَ فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَحَدَّثْتُهُ فَقَالَ صَدَقَتْكَ أَمَا إِنِّي لَوْ كُنْتُ أَدْخُلُ عَلَيْهَا لَشَافَهْتُهَا مُشَافَهَةً قَالَ فَقُلْتُ أَمَا إِنِّي لَوْ شَعَرْتُ أَنَّكَ لَا تَدْخُلُ عَلَيْهَا مَا حَدَّثْتُكَ

زرارہ بن اوفی بیان کرتے ہیں سعد بن ہشام نے اپنی اہلیہ کو طلاق دی اور اپنی جائیداد فروخت کرنے کے لئے مدینہ منورہ آئے تاکہ اسے فروخت کر کے ہتھیار خرید سکیں ان کی ملاقات چند انصاری حضرات سے ہوئی تو ان حضرات نے بتایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں چھ حضرات نے ایسا کرنے کی کوشش کی تھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس بات سے منع کردیا تھا اور دریافت کیا تھا کہ کیا تم لوگوں کے لئے میرا اسوہ کافی نہیں ہے۔ زرارہ بیان کرتے ہیں یعنی سعد بن ہشام بصرہ آ گئے اور انہوں نے ہمیں بتایا کہ ان کی ملاقات حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ہوئی اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے وتر کی نماز کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے جواب دیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وتر کی نماز کے بارے میں جسے سب سے زیادہ علم ہے میں تمہیں اس کے بارے میں نہ بتاؤں میں نے جواب دیا ہاں۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں حاضر ہو۔ تم ان کی خدمت میں جاؤ ان سے یہ سوال کرنا اور پھر وہ جو جواب دیں واپس آ کر مجھے بھی بتا دینا۔ سعد بن ہشام کہتے ہیں میں حکیم بن افلح کے پاس آیا اور ان سے کہا آپ میرے ساتھ ام المومنین کی خدمت میں چلیں حکیم نے جواب دیا میں ان کی خدمت میں نہیں جاؤں گا کیونکہ میں نے انہیں ان دونوں گروہوں (یعنی حضرت علی کے موافقین اور مخالفین) کے معاملے میں دخل دینے سے منع کیا تھا تو انہوں نے میری بات نہیں مانی سعد کہتے ہیں میں بولا میں آپ کو قسم دیتا ہوں کہ آپ چلیں پھر ہم دونوں چل پڑے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے پھر ہم نے سلام کیا انہوں نے حکیم کی آواز کو پہچان لیا اور دریافت کیا یہ کون ہے؟ میں نے جواب دیا میں سعد بن ہشام ہوں انہوں نے دریافت کیا کون ہشام۔ میں نے جواب دیا ہشام بن عامر انہوں نے جواب دیا کیا تم قرآن نہیں پڑھتے؟ میں نے جواب دیا جی ہاں سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا وہی نبی اکرم کا اخلاق۔ سعد بن ہشام کہتے ہیں میں نے یہ ارادہ کرلیا اب میں اٹھ جاتا ہوں اور مرتے دم تک کبھی کسی سے کوئی سوال نہیں کروں گا۔ لیکن پھر مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نوافل کا خیال آگیا تو میں نے سوال کیا کیا آپ ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نوافل کے بارے میں بتائیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا۔ کیا تم نے سورت مزمل نہیں پڑھی میں نے جواب دیا جی ہاں پڑھی ہے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا اس سورت کے آغاز میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے رات کے نوافل کا حکم نازل ہوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب نوافل ادا کرتے رہے۔ یہاں تک کہ ان کے پاؤں سوج گئے ۔ چھ ماہ تک اس سورت کا آخری حصہ نازل نہیں ہوا پھر وہ حصہ نازل ہو تو رات کے نوافل کو نفل قرار دیا گیا۔ حالانکہ یہ پہلے فرض تھے۔ سعد بن ہشام نے کہا میں نے ارادہ کیا اب میں اٹھ جاتاہوں اور مرتے دم تک سوال نہیں کروں گا۔ لیکن مجھے وتر کا خیال آ گیا تو میں نے عرض کیا آپ ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر کی نماز کے بارے میں بتائیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے جواب دیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سونے لگتے تھے تو اپنی مسواک میرے پاس رکھ دیتے تھے پھر اللہ تعالیٰ کسی وقت انہیں بیدار کردیتا تھا تو آپ ٩ رکعات ادا کرتے تھے جن میں سے آپ ٨ رکعات کے بعد بیٹھ کر اللہ کی حمد بیان کرتے۔ اپنے پروردگار سے دعا مانگتے پھر سلام پھیرے بغیر کھڑے ہوجاتے ۔ پھر نویں رکعات پڑھنے کے بعد بیٹھتے اور اللہ کی حمد بیان کرتے اور اپنے پروردگار سے دعا کرتے اور پھر بلند آواز سے سلام پھیر دیتے پھر آپ بیٹھ کر دو رکعت نماز ادا کرتے یہ گیارہ رکعات ہوتی تھیں۔ پھر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا اے بیٹے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر زیادہ ہوگئی تو آپ کا جسم مبارک بھاری ہوگیا تو آپ ٧ رکعت ادا کیا کرتے تھے جن میں سے آپ ٦ رکعت نماز ادا کرنے کے بعد بیٹھ جاتے تھے اللہ کی حمد بیان کرتے تھے اپنے رب سے دعا مانگتے تھے پھر سلام پھیرے بغیر کھڑے ہوجاتے تھے اور ساتویں رکعت ادا کرنے کے بعد پھر بیٹھ کر اللہ کی حمد بیان کرتے تھے اپنے پروردگار سے دعا مانگتے پھر سلام پھیر دیتے تھے پھر آپ بیٹھ کر دو رکعات ادا کرتے تھے یہ نو رکعات ہوتی تھیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اے بیٹے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نیند کا غلبہ ہوتا یا آپ بیمار ہوتے تو آپ دن کے وقت بارہ رکعات ادا کیا کرتے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی کوئی معمول اختیار کرتے تھے تو آپ کو یہ پسند تھا آپ اسے باقاعدگی کے ساتھ سر انجام دیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی رات بھر نوافل ادا نہیں کئے ۔ اور نہ ہی آپ نے کبھی ایک رات میں پورا قرآن پڑھا ہے اور رمضان کے علاوہ آپ نے کسی بھی مہینے میں پورا مہینہ روزے نہیں رکھے۔ سعد بن ہشام کہتے ہیں میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور انہیں یہ حدیث سنائی تو انہوں نے فرمایا سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ٹھیک بیان کیا ہے اگر میں ان کی خدمت میں حاضر ہوسکتا تو ان سے براہ راست یہ حدیث سن لیتا سعد بن ہشام کہتے ہیں میں نے کہا اگر مجھے یہ پتہ ہوتا کہ آپ ان کے ہاں نہیں آتے جاتے ہیں تو میں آپ کو یہ حدیث نہ سناتا۔

سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ← زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ

Sunan Darmi · From the prayer book › Door · Hadith 1514

سنن دارمی · من كتاب الصوم ‹ باب · حديث 1735

حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُلَيٍّ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي قَيْسٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ كَانَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ يَأْمُرُنَا أَنْ نَصْنَعَ لَهُ الطَّعَامَ يَتَسَحَّرُ بِهِ فَلَا يُصِيبُ مِنْهُ كَثِيرًا فَقُلْنَا لَهُ تَأْمُرُنَا بِهِ وَلَا تُصِيبُ مِنْهُ كَثِيرًا قَالَ إِنِّي لَا آمُرُكُمْ بِهِ أَنِّي أَشْتَهِيهِ وَلَكِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فَصْلُ مَا بَيْنَ صِيَامِنَا وَصِيَامِ أَهْلِ الْكِتَابِ أَكْلَةُ السَّحَرِ

ابوقیس بیان کرتے ہیں حضرت عمروبن العاص ہمیں یہ ہدایت کی کہ ہم ان کے لئے کھانا تیار کریں تاکہ سحری میں کھالیں لیکن انہوں نے زیادہ کھانا نہیں کھایا ہم نے عرض کی آپ نے ہمیں ہدایت کی اور خود زیادہ کھایا نہیں ہے انہوں نے جواب دیا میں نے کھانا تیار کرنے کی ہدایت اس لئے نہیں کی تھی کہ مجھے اس کی طلب تھی بلکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ہمارے اور اہل کتاب کے روزے کے درمیان بنیادی فرق سحری کھانا ہے۔

أَبِي قَيْسٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← أَبِي ← مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ،

Sunan Darmi · From the book of fasting › Door · Hadith 1735

سنن دارمی · من كتاب الصوم ‹ باب · حديث 1808

أَخْبَرَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ فَالْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ إِلَّا الصِّيَامَ هُوَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ إِنَّهُ يَتْرُكُ الطَّعَامَ وَشَهْوَتَهُ مِنْ أَجْلِي وَيَتْرُكُ الشَّرَابَ وَشَهْوَتَهُ مِنْ أَجْلِي فَهُوَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ابن آدم کا ہر عمل اس کے لے ہے ایک نیکی دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک اجر و ثواب کی حامل ہوتی ہے لیکن روزوں کا حکم مختلف ہے وہ میرے لئے ہیں اور میں ہی ان کی جزا دوں گا ابن آدم میرے لئے کھانا اور اپنی خواہش نفس کو ترک کرتا ہے اور میرے لئے پینا اور اپنی خواہش نفس کو ترک کرتا ہے تو وہ روزہ میرے لئے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← يَزِيدُ:

Sunan Darmi · From the book of fasting › Door · Hadith 1808

سنن دارمی · من كتاب الصوم ‹ باب · حديث 1818

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ أَنَّ صَفِّيَةَ بِنْتَ حُيَيٍّ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا جَاءَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزُورُهُ فِي اعْتِكَافِهِ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ فَتَحَدَّثَتْ عِنْدَهُ سَاعَةً ثُمَّ قَامَتْ

حضرت امام علی بن حسین زین العابدین بیان فرماتے ہیں سیدہ صفیہ بنت حیی نے انہیں بتایا کہ ایک مرتبہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اعتکاف کے دوران ان سے ملنے کے لئے مسجد میں آئی تھی یہ رمضان کے آخری عشرے کی بات ہے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مختصر گفتگو کی اور پھر وہ واپس چلی گئی۔

الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، ← أَبُو الْيَمَانِ،

Sunan Darmi · From the book of fasting › Door · Hadith 1818

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1866

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِلَحْمِ حِمَارِ وَحْشٍ فَرَدَّهُ وَقَالَ إِنَّا حُرُمٌ لَا نَأْكُلُ الصَّيْدَ

حضرت صعب بن جثامہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک نیل گائے کا گوشت لایا گیا تو آپ نے اسے واپس کردیا اور فرمایا ہم حالت احرام میں ہیں اور ہم شکار کا گوشت نہیں کھا سکتے ۔

الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَۃَ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى،

Sunan Darmi · From the book of rites › Door · Hadith 1866

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1888

أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ أَبَانَ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَعِيلَ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ دَخَلْنَا عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ فَسَأَلَ عَنْ الْقَوْمِ حَتَّى انْتَهَى إِلَيَّ فَقُلْتُ أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ فَأَهْوَى بِيَدِهِ إِلَى زِرِّيَ الْأَعْلَى وَزِرِّيَ الْأَسْفَلِ ثُمَّ وَضَعَ فَمَهُ بَيْنَ ثَدْيَيَّ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ غُلَامٌ شَابٌّ فَقَالَ مَرْحَبًا بِكَ يَا ابْنَ أَخِي سَلْ عَمَّا شِئْتَ فَسَأَلْتُهُ وَهُوَ أَعْمَى وَجَاءَ وَقْتُ الصَّلَاةِ فَقَامَ فِي سَاجَةٍ مُلْتَحِفًا بِهَا كُلَّمَا وَضَعَهَا عَلَى مَنْكِبَيْهِ رَجَعَ طَرَفُهَا إِلَيْهِ مِنْ صِغَرِهَا وَرِدَاؤُهُ إِلَى جَنْبِهِ عَلَى الْمِشْجَبِ فَصَلَّى فَقُلْتُ أَخْبِرْنِي عَنْ حَجَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ بِيَدِهِ فَعَقَدَ تِسْعًا فَقَالَ مَكَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعَ سِنِينَ لَمْ يَحُجَّ ثُمَّ أُذِّنَ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ فِي الْعَاشِرَةِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجٌّ فَقَدِمَ الْمَدِينَةَ بَشَرٌ كَثِيرٌ كُلُّهُمْ يَلْتَمِسُ أَنْ يَأْتَمَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَعْمَلَ مِثْلَ عَمَلِهِ فَخَرَجْنَا مَعَهُ حَتَّى أَتَيْنَا ذَا الْحُلَيْفَةِ فَوَلَدَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ فَأَرْسَلَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ أَصْنَعُ فَقَالَ اغْتَسِلِي وَاسْتَثْفِرِي بِثَوْبٍ وَأَحْرِمِي فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ ثُمَّ رَكِبَ الْقَصْوَاءَ حَتَّى اسْتَوَتْ بِهِ نَاقَتُهُ عَلَى الْبَيْدَاءِ فَنَظَرْتُ إِلَى مَدِّ بَصَرِي مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ مِنْ رَاكِبٍ وَمَاشٍ وَعَنْ يَمِينِهِ مِثْلُ ذَلِكَ وَعَنْ يَسَارِهِ مِثْلُ ذَلِكَ وَخَلْفَهُ مِثْلُ ذَلِكَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا وَعَلَيْهِ يُنْزَلُ الْقُرْآنُ وَهُوَ يَعْرِفُ تَأْوِيلَهُ فَأَهَلَّ بِالتَّوْحِيدِ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ فَأَهَلَّ النَّاسُ بِهَذَا الَّذِي يُهِلُّونَ بِهِ فَلَمْ يَزِدْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ شَيْئًا وَلَبَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَلْبِيَتَهُ حَتَّى إِذَا أَتَيْنَا الْبَيْتَ مَعَهُ قَالَ جَابِرٌ لَسْنَا نَنْوِي إِلَّا الْحَجَّ لَسْنَا نَعْرِفُ الْعُمْرَةَ حَتَّى إِذَا أَتَيْنَا الْبَيْتَ مَعَهُ اسْتَلَمَ الرُّكْنَ فَرَمَلَ ثَلَاثًا وَمَشَى أَرْبَعًا ثُمَّ تَقَدَّمَ إِلَى مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ فَصَلَّى فَقَرَأَ وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى فَجَعَلَ الْمَقَامَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَيْتِ وَكَانَ أَبِي يَقُولُ وَلَا أَعْلَمُهُ ذَكَرَهُ عَنْ جَابِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ وَقُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى الرُّكْنِ فَاسْتَلَمَهُ ثُمَّ خَرَجَ مِنْ الْبَابِ إِلَى الصَّفَا فَلَمَّا أَتَى الصَّفَا قَرَأَ إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ أَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ فَبَدَأَ بِالصَّفَا فَرَقِيَ عَلَيْهِ حَتَّى رَأَى الْبَيْتَ فَوَحَّدَ اللَّهَ وَكَبَّرَهُ وَقَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ أَنْجَزَ وَعْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ ثُمَّ دَعَا بَيْنَ ذَلِكَ فَقَالَ مِثْلَ هَذَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ نَزَلَ إِلَى الْمَرْوَةِ حَتَّى إِذَا انْصَبَّتْ قَدَمَاهُ فِي بَطْنِ الْوَادِي قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ يَعْنِي فَرَمَلَ حَتَّى إِذَا صَعِدْنَا مَشَى حَتَّى إِذَا أَتَيْنَا الْمَرْوَةَ فَفَعَلَ عَلَى الْمَرْوَةِ كَمَا فَعَلَ عَلَى الصَّفَا حَتَّى إِذَا كَانَ آخِرَ طَوَافٍ عَلَى الْمَرْوَةِ قَالَ إِنِّي لَوْ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ لَمْ أَسُقْ الْهَدْيَ وَجَعَلْتُهَا عُمْرَةً فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ لَيْسَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيُحِلَّ وَيَجْعَلْهَا عُمْرَةً فَقَامَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلِعَامِنَا هَذَا أَوْ لِأَبَدِ أَبَدٍ فَشَبَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَابِعَهُ فِي الْأُخْرَى فَقَالَ دَخَلَتْ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ هَكَذَا مَرَّتَيْنِ لَا بَلْ لِأَبَدِ أَبَدٍ لَا بَلْ لَأَبَدِ أَبَدٍ وَقَدِمَ عَلِيٌّ بِبُدْنٍ مِنْ الْيَمَنِ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَ فَاطِمَةَ مِمَّنْ حَلَّ وَلَبِسَتْ ثِيَابَ صَبِيغٍ وَاكْتَحَلَتْ فَأَنْكَرَ عَلِيٌّ ذَلِكَ عَلَيْهَا فَقَالَتْ أَبِي أَمَرَنِي فَكَانَ عَلِيٌّ يَقُولُ ذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُحَرِّشُهُ عَلَى فَاطِمَةَ فِي الَّذِي صَنَعَتْ مُسْتَفْتِيًا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا ذَكَرَتْ فَأَنْكَرْتُ ذَلِكَ عَلَيْهَا فَقَالَ صَدَقَتْ مَا فَعَلْتَ حِينَ فَرَضْتَ الْحَجَّ قَالَ قُلْتُ اللَّهُمَّ إِنِّي أُهِلُّ بِمَا أَهَلَّ بِهِ رَسُولُكَ قَالَ فَإِنَّ مَعِيَ الْهَدْيَ فَلَا تَحْلِلْ قَالَ فَكَانَ جَمَاعَةُ الْهَدْيِ الَّذِي قَدِمَ بِهِ عَلِيٌّ مِنْ الْيَمَنِ وَالَّذِي أَتَى بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِائَةَ بَدَنَةٍ فَحَلَّ النَّاسُ كُلُّهُمْ وَقَصَّرُوا إِلَّا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ وَجَّهَ إِلَى مِنًى فَأَهْلَلْنَا بِالْحَجِّ وَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِنَا الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ وَالصُّبْحَ ثُمَّ مَكَثَ قَلِيلًا حَتَّى إِذَا طَلَعَتْ الشَّمْسُ أَمَرَ بِقُبَّةٍ مِنْ شَعَرٍ تُضْرَبُ لَهُ بِنَمِرَةَ ثُمَّ رَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَارَ لَا تَشُكُّ قُرَيْشٌ إِلَّا أَنَّهُ وَاقِفٌ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ كَمَا كَانَتْ قُرَيْشٌ تَصْنَعُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فِي الْمُزْدَلِفَةِ فَسَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَتَى عَرَفَةَ فَوَجَدَ الْقُبَّةَ قَدْ ضُرِبَتْ بِنَمِرَةَ فَنَزَلَهَا حَتَّى إِذَا زَاغَتْ يَعْنِي الشَّمْسَ أَمَرَ بِالْقَصْوَاءِ فَرُحِّلَتْ لَهُ فَأَتَى بَطْنَ الْوَادِي فَخَطَبَ النَّاسَ وَقَالَ إِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا أَلَا إِنَّ كُلَّ شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ تَحْتَ قَدَمَيَّ مَوْضُوعٌ وَدِمَاءُ الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعَةٌ وَأَوَّلُ دَمٍ وُضِعَ دِمَاؤُنَا دَمُ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ كَانَ مُسْتَرْضَعًا فِي بَنِي سَعْدٍ فَقَتَلَتْهُ هُذَيْلٌ وَرِبَا الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعٌ وَأَوَّلُ رِبًا أَضَعُهُ رِبَا عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَإِنَّهُ مَوْضُوعٌ كُلُّهُ فَاتَّقُوا اللَّهَ فِي النِّسَاءِ فَإِنَّمَا أَخَذْتُمُوهُنَّ بِأَمَانَةِ اللَّهِ وَاسْتَحْلَلْتُمْ فُرُوجَهُنَّ بِكَلِمَةِ اللَّهِ وَإِنَّ لَكُمْ عَلَيْهِنَّ أَنْ لَا يُوطِئْنَ فُرُشَكُمْ أَحَدًا تَكْرَهُونَهُ فَإِنْ فَعَلْنَ ذَلِكَ فَاضْرِبُوهُنَّ ضَرْبًا غَيْرَ مُبَرِّحٍ وَلَهُنَّ عَلَيْكُمْ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَأَنْتُمْ مَسْئُولُونَ عَنِّي فَمَا أَنْتُمْ قَائِلُونَ قَالُوا نَشْهَدُ أَنَّكَ قَدْ بَلَّغْتَ وَأَدَّيْتَ وَنَصَحْتَ فَقَالَ بِأُصْبُعِهِ السَّبَّابَةِ فَرَفَعَهَا إِلَى السَّمَاءِ وَيَنْكُتُهَا إِلَى النَّاسِ اللَّهُمَّ اشْهَدْ اللَّهُمَّ اشْهَدْ اللَّهُمَّ اشْهَدْ ثُمَّ أَذَّنَ بِلَالٌ بِنِدَاءٍ وَاحِدٍ وَإِقَامَةٍ فَصَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ لَمْ يُصَلِّ بَيْنَهُمَا شَيْئًا ثُمَّ رَكِبَ حَتَّى وَقَفَ فَجَعَلَ بَطْنَ نَاقَتِهِ الْقَصْوَاءِ إِلَى الصُّخَيْرَاتِ وَقَالَ إِسْمَعِيلُ إِلَى الشُّجَيْرَاتِ وَجَعَلَ حَبْلَ الْمُشَاةِ بَيْنَ يَدَيْهِ ثُمَّ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَلَمْ يَزَلْ وَاقِفًا حَتَّى غَرَبَتْ الشَّمْسُ وَذَهَبَتْ الصُّفْرَةُ حَتَّى غَابَ الْقُرْصُ فَأَرْدَفَ أُسَامَةَ خَلْفَهُ ثُمَّ دَفَعَ وَقَدْ شَنَقَ لِلْقَصْوَاءِ الزِّمَامَ حَتَّى إِنَّهُ لَيُصِيبُ رَأْسُهَا مَوْرِكَ رَحْلِهِ وَيَقُولُ بِيَدِهِ الْيُمْنَى السَّكِينَةَ السَّكِينَةَ كُلَّمَا أَتَى حَبْلًا مِنْ الْحِبَالِ أَرْخَى لَهَا قَلِيلًا حَتَّى تَصْعَدَ حَتَّى أَتَى الْمُزْدَلِفَةَ فَصَلَّى بِهَا الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِأَذَانٍ وَإِقَامَتَيْنِ ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتَّى إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ صَلَّى الْفَجْرَ بِأَذَانٍ وَإِقَامَةٍ ثُمَّ رَكِبَ الْقَصْوَاءَ حَتَّى وَقَفَ عَلَى الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَدَعَا اللَّهَ وَكَبَّرَهُ وَهَلَّلَهُ وَوَحَّدَهُ حَتَّى أَسْفَرَ جِدًّا ثُمَّ دَفَعَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَأَرْدَفَ الْفَضْلَ بْنَ الْعَبَّاسِ وَكَانَ رَجُلًا حَسَنَ الشَّعْرِ أَبْيَضَ وَسِيمًا فَلَمَّا دَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِالظُّعُنِ يَجْرِينَ فَطَفِقَ الْفَضْلُ يَنْظُرُ إِلَيْهِنَّ فَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ فَوَضَعَهَا عَلَى وَجْهِ الْفَضْلِ فَحَوَّلَ الْفَضْلُ رَأْسَهُ مِنْ الشِّقِّ الْآخَرِ فَوَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ مِنْ الشِّقِّ الْآخَرِ حَتَّى إِذَا أَتَى مُحَسِّرَ حَرَّكَ قَلِيلًا ثُمَّ سَلَكَ الطَّرِيقَ الْوُسْطَى الَّتِي تُخْرِجُكَ إِلَى الْجَمْرَةِ الْكُبْرَى حَتَّى إِذَا أَتَى الْجَمْرَةَ الَّتِي عِنْدَهَا الشَّجَرَةُ فَرَمَى بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ عَلَى كُلِّ حَصَاةٍ مِنْ حَصَى الْخَذْفِ ثُمَّ رَمَى مِنْ بَطْنِ الْوَادِي ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْمَنْحَرِ فَنَحَرَ ثَلَاثًا وَسِتِّينَ بَدَنَةً بِيَدِهِ ثُمَّ أَعْطَى عَلِيًّا فَنَحَرَ مَا غَبَرَ وَأَشْرَكَهُ فِي بُدْنِهِ ثُمَّ أَمَرَ مِنْ كُلِّ بَدَنَةٍ بِبَضْعَةٍ فَجُعِلَتْ فِي قِدْرٍ فَطُبِخَتْ فَأَكَلَا مِنْ لُحُومِهَا وَشَرِبَا مِنْ مَرَقِهَا ثُمَّ رَكِبَ فَأَفَاضَ إِلَى الْبَيْتِ فَأَتَى الْبَيْتَ فَصَلَّى الظُّهْرَ بِمَكَّةَ وَأَتَى بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَهُمْ يَسْتَقُونَ عَلَى زَمْزَمَ فَقَالَ انْزِعُوا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَلَوْلَا يَغْلِبُكُمْ النَّاسُ عَلَى سِقَايَتِكُمْ لَنَزَعْتُ مَعَكُمْ فَنَاوَلُوهُ دَلْوًا فَشَرِبَ

امام جعفر صادق اپنے والد امام محمد بن باقر کا یہ بیان نقل کرتے ہیں امام باقر فرماتے ہیں ہم حضرت جابر بن عبداللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے تمام حاضرین کا تعارف دریافت کیا جب میری باری آئی تو میں نے کہا میں علی بن حسین بن علی کا بیٹا "محمد" ہوں۔ تو حضرت جابر بن عبداللہ نے اپنا ہاتھ میرے اوپر والے اور نیچے والے بٹن کی طرف بڑھایا اور پھر اپنا منہ میرے سینے کے اوپر رکھ دیا میں ان دنوں نوجوان تھا۔ حضرت جابر بن عبداللہ فرمایا اے میرے بھتیجے تمہیں خوش آمدید ہو تم جو چاہو سوال کرسکتے ہو میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سوال کیا وہ نابینا ہوچکے تھے اور نماز کا وقت ہوچکا تھا ۔ انہوں نے چھوٹی چادر لپیٹ کر نماز پڑھنا شروع کردی۔ وہ جب بھی اس چادر کو اپنے کندھوں کے او پر ڈالتے تو اس کے ایک طرف والا حصہ ڈھلک جاتا کیونکہ وہ چھوٹی چادر تھی حالانکہ ان کی بڑی چادر ایک طرف کھونٹی کے ساتھ لٹکی ہوئی تھی جب انہوں نے نماز ادا کرلی تو میں نے دریافت کیا آپ ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے بارے میں بتائیں انہوں نے اپنے ہاتھ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نو برس تک کوئی حج نہ کیا پھر دسویں سال آپ نے لوگوں میں حج کا اعلان کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم حج کے لئے تشریف لے جا رہے تھے کہ مدینہ منورہ سے بہت سے لوگ حج کے لئے روانہ ہوئے ان میں سے بہت سے لوگوں کی خواہش تھی کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرتے ہوئے اسی طرح حج کریں جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کریں گے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ہم لوگ بھی روانہ ہوئے اور ذوالحلیفہ پہنچ گئے وہاں حضرت اسماء بنت عمیس نے محمد بن ابوبکر کو جنم دیا انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کسی کو بھیجا کہ اب میں کیا کروں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہدایت کی کہ تم غسل کرلو اور کپڑے کے ذریعے خون کے مقام کو باندھ لو اور احرام باندھ لو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں کی مسجد میں نماز ادا کی پھر اپنی اونٹنی قصواء پر سوار ہوئے جب اونٹنی آپ کو لے کر کھڑی ہوئی میں نے یہ دیکھا کہ حدنگاہ تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے سوار اور پیدل لوگوں کا ہجوم ہے آپ کے دائیں طرف بھی اسی طرح لوگ تھے اور بائیں طرف بھی اتنے ہی لوگ تھے اور آپ کے پیچھے بھی اتنے ہی لوگوں کا ہجوم تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان موجود تھے آپ پر قرآن نازل ہورہا تھا آپ کو اس کے مفہوم کا بخوبی علم تھا آپ نے کلمہ تو حید کے ذریعے تلبیہ پڑھا اور کہا میں حاضر ہوں اے اللہ میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں ہے میں حاضر ہوں بے شک حمد اور نعمت تیرے لئے ہے اور بادشاہی بھی تیرا کوئی شریک نہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو تلبیہ پڑھا تھا لوگوں نے بھی تلبیہ پڑھنا شروع کردیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر کوئی اعتراض نہیں کیا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہی تلبیہ پڑھتے رہے یہاں تک کہ ہم آپ کی ہمراہی میں بیت اللہ تک پہنچ گئے۔ حضرت جابر بیان کرتے ہیں ہماری نیت صرف حج کرنے کی تھی ہمیں عمرے کا کوئی خیال نہیں تھا جب ہم بیت اللہ ان کے ہمراہ پہنچ گئے آپ نے رک کر ان کا استلام کیا تین مرتبہ رمل کیا اور چار مرتبہ چل کر گزرے پھر آپ مقام ابراہیم کے پاس تشریف لائے وہاں نماز ادا کی اور یہ آیت پڑھی ۔ " مقام ابراہیم کو مصلی (جائے نماز) بنا لو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام کو اپنے اور بیت اللہ کے درمیان رکھا تھا میرے والد صاحب نے یہ بات بتائی تھی کہ میرا خیال ہے انہوں نے حضرت جابر کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے طور پر نقل کی ہوگی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو رکعات میں سورت اخلاص اور سورت کافرون کی تلاوت کی۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رکن کے پاس واپس تشریف لائے آپ نے اس کا استلام کیا پھر آپ دروازے سے ہو کر صفا کی طرف تشریف لے گئے صفا تشریف لا کر آپ نے قرآن کی یہ آیت پڑھی۔ " بے شک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں پھر آپ نے ارشاد فرمایا میں اس سے آغاز کروں گا جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے پہلے کیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا سے آغاز کیا آپ اس پر چڑھ گئے جب آپ نے بیت اللہ کی طرف نظر کی تو اللہ کی وحدانیت اور کبریائی بیان کی اور یہ پڑھا۔ " اللہ کے علاوہ کوئی اور معبود نہیں ہے وہی ایک معبود ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے بادشاہی ہے حمد و نعمت اسی کے لئے مخصوص ہے وہ زندہ کرتا ہے۔ وہ موت دیتا ہے وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے صرف ایک اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اس نے اپنا وعدہ پورا کیا اپنے خاص بندوں کی مدد کی اور دشمنوں کے گروہوں کو تنہا اس نے پسپا کیا۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان دعا کی اور یہی کلمات تین مرتبہ پڑھے پھر آپ اتر کر مروہ کے پاس آگئے جب آپ بطن وادی میں پہنچے امام عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی فرماتے ہیں یعنی وہاں پہنچ کر آپ دوڑ کر گزرے یہاں تک کہ آپ بلندی کی طرف چڑھنے لگے تو آپ پھر چلنے لگے۔ ہم لوگ جب مروہ پر آئے تو آپ نے مروہ پر بھی وہی عمل کیا جو صفا پر کیا تھا یہاں تک کہ جب آپ نے مروہ کا آخری چکر لگایا تو یہ فرمایا جو بات بعد میں میرے ذہن میں آئی اگر مجھے پہلے خیال آجاتا تو میں قربانی کا جانور ساتھ لے کر نہ آتا اور اس عمل کو عمرہ بنا لیتا تم میں سے جس شخص کے پاس قربانی کا جانور نہ ہو وہ احرام کھول دے اور اسے عمرے میں تبدیل کردے۔ حضرت سراقہ بن مالک نے دریافت کیا یا رسول اللہ کیا یہ اسی سال کے لئے مخصوص ہے یا ہمیشہ کے لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیاں ایک دوسرے میں پیوست کرتے ہوئے ارشاد فرمایا عمرہ حج میں داخل ہوگیا یہ بات آپ نے دو مرتبہ ارشاد فرمائی اور فرمایا نہیں بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے نہیں بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ یمن سے قربانی کے کچھ جانور لے کر آئے تو انہوں نے سیدہ فاطمہ کو دیکھا کہ وہ احرام کھول چکی ہیں انہوں نے رنگین کپڑے پہنے ہوئے ہیں اور سرمہ لگایا ہوا ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس بات پر ان کا انکار کیا کہ حضرت فاطمہ نے بتایا کہ میرے والد نے مجھے یہ ہدایت کی ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گیا تاکہ حضرت فاطمہ کی شکایت کروں جو انہوں نے عمل کیا ہے اس کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کروں اور جو بات بتائی ہے اس کے بارے میں بھی دریافت کروں اور میں نے جو انکار کیا ہے اس کا بھی ذکر کروں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس نے سچ کہا ہے جب تم نے حج کی نیت کی تھی تو کیا نیت کی تھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے عرض کی میں نے یہ نیت کی تھی کہ اے اللہ میں وہی نیت کرتا ہوں جو تیرے رسول نے کی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے ساتھ تو قربانی کا جانور بھی ہے تو تم احرام نہ کھولو۔ حضرت جابر بیان کرتے ہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ یمن سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ایک سو قربانی کے اونٹ لے کر۔ سب لوگوں نے احرام کھول لئے اور بال کٹوا لئے سوائے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اور ان لوگوں کے جن کے ہمراہ قربانی کے جانور موجود تھے۔ ترویہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منی کا رخ کیا تو ہم لوگوں نے حج کا احرام باندھ لیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے منی پہنچ کر آپ نے ظہر، عصر، مغرب اور عشاء اور صبح کی نماز ادا کی پھر آپ نے وہاں کچھ دیر قیام کیا یہاں تک کہ سورج طلوع ہوگیا تو آپ نے نمرہ میں ایک خیمہ لگانے کا حکم دیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہو کر روانہ ہوئے قریش کو اس بارے میں کوئی شک نہیں تھا کہ آپ مشعر حرام کے نزدیک قیام کریں گے جیسا کہ زمانہ جاہلیت میں قریش مزدلفہ کے نزدیک قیام کیا کرتے تھے لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے گزر کر عرفہ آگئے وہاں آپ کے لئے نمرہ میں خیمہ لگایا جا چکا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سواری سے اترے جب سورج ڈھل گیا تو آپ کے حکم کے ذریعے قصواء پر پالان رکھا گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہو کر بطن وادی میں تشریف لائے آپ نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا۔ "بے شک تمہارے خون اموال اسی طرح قابل احترام ہیں جیسے آج کا دن یہ مہینہ اور یہ شہر قابل احترام ہے خبردار زمانہ جاہلیت کے تمام تر معاملات میں اپنے قدموں کے نیچے روندتا ہوں زمانہ جاہلیت کے تمام خون معاف ہیں اور سب سے پہلے میں اپنا خون معاف کرتا ہوں جو ربیعہ بنت حارث کے صاحبزادے کا تھا۔ جو بنو سعد میں دودھ پی رہا تھا اسے ہذیل قبیلے کے لوگوں نے قتل کردیا تھا۔ زمانہ جاہلیت کا تمام سود معاف ہے میں سب سے پہلے حضرت عباس بن عبدالمطلب کے وصول کرنے والے سود کو معاف کرتا ہوں وہ سب معاف ہیں۔ خواتین کے بارے میں اللہ سے ڈرو تم نے اللہ کی امانت کے ذریعے انہیں حاصل کیا ہے اور اللہ کے کلمے کے ذریعے ان کی شرمگاہوں کو حلال کیا ہے تمہارا ان پر یہ حق ہے کہ وہ تمہارے گھر میں کسی ایسے شخص کو نہ آنے دیں جسے تم ناپسند کرتے ہو اگر وہ ایسا کریں تو تم ان کی پٹائی کرو لیکن زیادتی کئے بغیر اور ان کا تم پر حق ہے کہ تم ان کے کھانے پینے اور لباس کا مناسب طور پر انتظام کرو اگر تم سے میرے بارے میں سوال کیا جائے تو تم کیا جواب دو گے لوگوں نے عرض کی ہم یہ گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے تصدیق کردی ہے اپنا فریضہ انجام دے دیا ہے اور خیر خواہی کی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی شہادت کی انگلی کو آسمان کی طرف اٹھایا اور پھر انگلیوں کے ذریعے اشارہ کرتے ہوئے یہ دعا پڑھی اے اللہ تو گواہ ہوجا اے اللہ تو گواہ ہوجا اے اللہ تو گواہ ہوجا۔ پھر حضرت بلال نے ایک ہی اذان کہی پھر امامت کہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز ادا کی پھر حضرت بلال نے اقامت کہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز ادا کی آپ نے ان دونوں کے درمیان کوئی نماز ادا نہیں کی۔ پھر آپ سواری پر سوار ہوئے اور کھڑے ہوگئے آپ نے اپنی اونٹنی قصواء کا پیٹ "مخیرات" اور ایک روایت میں ہے "شجیرات" کی طرف کیا جبل مشات آپ کے سامنے تھا آپ نے قبلہ کی طرف رخ کیا اور وہاں کھڑے رہے یہاں تک کہ سورج غروب ہونے کے قریب رہ گیا۔ یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا اس کی زردی رخصت ہوگئی جب سورج کی ٹکیہ غروب ہوگئی آپ نے حضرت اسامہ کو اپنے پیچھے بٹھایا اور روانہ ہوگئے آپ نے قصواء اونٹنی کی لگام کھینچی ہوئی تھی یہاں تک کہ اس کا سر پالان کے ساتھ مل رہا تھا آپ اپنے دائیں ہاتھ کے ذریعے یہ فرما رہے تھے آرام سے چلو، آرام سے چلو، جب آپ کسی ٹیلے کے پاس آتے تو اس کی لگام ڈھیلی کردیتے تاکہ وہ اوپر چڑھ جائے یہاں تک کہ آپ مزدلفہ تشریف لے آئے وہاں آپ نے ایک اذان اور دو اقامت کے ذریعے مغرب اور عشاء کی نمازیں ادا کیں پھر آپ لیٹ گئے یہاں تک کہ جب صبح صادق کا وقت ہوا تو آپ نے فجر کی نماز ایک اذان اور ایک اقامت کے ساتھ ادا کی پھر آپ قصوا اونٹنی پر سوار ہوئے اور مشعرح رام کے قریب آکر آپ نے قیام کیا۔ آپ نے قبلہ کی طرف منہ کیا اللہ تعالیٰ سے دعا کی اس کی کبریائی بیان کی اس کی معبودیت کا ذکر کیا اس کی وحدانیت کا تذکرہ کیا یہاں تک کہ جب اچھی طرح سے روشنی پھیل گئی تو سورج طلوع ہونے کے بعد آپ وہاں سے روانہ ہوئے آپ نے حضرت فضل بن عباس کو پیچھے بٹھا لیا وہ خوبصورت آدمی تھے ان کے بال بھی بہت خوبصورت تھے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے تو کچھ خواتین آپ کے پاس سے گزریں جو جارہی تھیں۔ حضرت فضل نے ان کی طرف دیکھنا شروع کردیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ ان کے چہرے پر رکھا اور حضرت فضل کا منہ دوسری طرف پھیر دیا یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم محسر پہنچے تو آپ نے اپنی اونٹنی کی رفتار تیز کردی اور اس کے درمیانی راستے پر ہو لئے جس سے تم لوگ جمرہ کبری کی طرف جاتے ہو جب آپ اس جمرہ کے پاس سے تشریف لائے جس کے پاس درخت ہیں تو وہاں آپ نے چھوٹی چھوٹی سات کنکریوں کے ذریعے رمی کی۔ پھر آپ نے بطن وادی سے رمی کی پھر آپ واپس قربان گاہ کی طرف لائے وہاں آپ نے تریسٹھ اونٹ اپنے دست مبارک سے ذبح کئے اور پھر بقیہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دے دیئے جو انہوں نے قربان کئے آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اپنی قربانی میں شریک کرلیا۔ پھر آپ کے حکم کے تحت ہر قربانی کے اونٹ کے کچھ حصہ لے کر ایک ہنڈیا میں پکایا گیا ان دونوں حضرات نے وہ گوشت کھایا اور اس کا شوربہ پیا پھر آپ سوار ہوئے۔ بیت اللہ کی طرف روانہ ہوئے جب آپ بیت اللہ تشریف لائے تو آپ نے مکہ میں ظہر کی نماز ادا کی پھر آپ بنوعبدالمطلب کے پاس تشریف لائے وہ لوگ زم زم میں سے پانی نکال رہے تھے آپ نے فرمایا بنو عبدالمطلب پانی نکالتے رہو اگر لوگ تمہارے پلانے کے کام پر غالب نہ آگئے ہوتے تو میں بھی تمہارے ساتھ پانی نکالتا ان لوگوں نے پانی کا ڈول آپ کی طرف بڑھایا تو آپ نے اسے نوش فرما لیا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← حَاتِمُ بْنُ إِسْمَعِيلَ ← إِسْمَعِيلُ بْنُ أَبَانَ

Sunan Darmi · From the book of rites › Door · Hadith 1888

سنن دارمی · من كتاب الاضاحي ‹ باب · حديث 2000

أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الزَّبِيدِيُّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّهُ سَمِعَ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ بِمِنًى أَصْلِحْ لَنَا مِنْ هَذَا اللَّحْمِ فَأَصْلَحْتُ لَهُ مِنْهُ فَلَمْ يَزَلْ يَأْكُلُ مِنْهُ حَتَّى بَلَغْنَا الْمَدِينَةَ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام حضرت ثوبان بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ہم اس وقت منی میں موجود تھے' یہ گوشت ہمارے لئے سنبھال کر رکھنا، حضرت ثوبان کہتے ہیں میں نے وہ گوشت سنبھال کر رکھ لیا اور مدینہ منورہ پہنچنے تک ہم وہ گوشت کھاتے رہے۔

ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي أَنَّهُ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيِّ، ← يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، ← مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ،

Sunan Darmi · From the book sacrifice › Door · Hadith 2000

سنن دارمی · من كتاب الاضاحي ‹ باب · حديث 2010

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اثْنَتَيْنِ قَالَ إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ ثُمَّ لِيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ

حضرت شداد بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دو فرمان یاد رکھے ہیں آپ نے ارشاد فرمایا ہے اللہ نے تمہارے اوپر احسان لازم کیا ہے جب تم جنگ کے دوران یا سزا کے طور پر کسی کو قتل کرو تو عمدہ طریقے سے کرو اور جب کسی جانور کو ذبح کرو تو اچھی طرح ذبح کرو تمہیں چاہیے کہ اپنی چھری کو تیز کر لو اور اپنے قربانی کے جانور کو راحت پہنچاؤ۔

إن الله ← حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ اثْنَتَيْنِ ← شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، ← أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Sunan Darmi · From the book sacrifice › Door · Hadith 2010

سنن دارمی · من كتاب الاضاحي ‹ باب · حديث 2016

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ هُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أَنَّ قَوْمًا قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ قَوْمًا يَأْتُونَا بِاللَّحْمِ لَا نَدْرِي أَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ أَمْ لَا فَقَالَ سَمُّوا أَنْتُمْ وَكُلُوا وَكَانُوا حَدِيثَ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کچھ لوگوں نے عرض کی یا رسول اللہ ہم لوگ کسی جگہ کوئی گوشت پاتے ہیں اس کے بارے میں یہ پتہ نہیں ہوتا کہ اس پر اللہ کا نام لیا گیا ہے یا نہیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم بسم اللہ پڑھ کر اسے کھا لیا کرو راوی بیان کرتے ہیں یہ زمانہ جاہلیت کے قریب کا واقعہ ہے۔

عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أَنَّ قَوْمًا ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عَبْدُ الرَّحِيمِ هُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ

Sunan Darmi · From the book sacrifice › Door · Hadith 2016

chevron_left Previous
1…262728…1,148
Next chevron_right