Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الزواج والأسرة

Marriage & Family

24361 hadiths

سنن دارمی · من كتاب العيدين ‹ باب · حديث 1649

أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ شَهِدْتُ الصَّلَاةَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ عِيدٍ فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ ثُمَّ قَامَ مُتَوَكِّئًا عَلَى بِلَالٍ حَتَّى أَتَى النِّسَاءَ فَوَعَظَهُنَّ وَذَكَّرَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ بِتَقْوَى اللَّهِ قَالَ تَصَدَّقْنَ فَذَكَرَ شَيْئًا مِنْ أَمْرِ جَهَنَّمَ فَقَامَتْ امْرَأَةٌ مِنْ سَفِلَةِ النِّسَاءِ سَفْعَاءُ الْخَدَّيْنِ فَقَالَتْ لِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ لِأَنَّكُنَّ تُفْشِينَ الشَّكَاءَ وَاللَّعْنَ وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ فَجَعَلْنَ يَأْخُذْنَ مِنْ حُلِيِّهِنَّ وَأَقْرَاطِهِنَّ وَخَوَاتِيمِهِنَّ يَطْرَحْنَهُ فِي ثَوْبِ بِلَالٍ يَتَصَدَّقْنَ بِهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز عید میں شرکت کی آپ نے پہلے نماز ادا کی پھر خطبہ دیا پھر آپ حضرت بلال کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑے ہوئے اور خواتین کے پاس تشریف لائے آپ نے انہیں وعظ کیا اور انہیں اللہ سے ڈرنے کی نصیحت کی اور صدقہ کرنے کے بارے میں فرمایا پھر آپ نے جہنم سے متعلق کچھ تذکرہ کیا ایک خاتون کھڑی ہوئی جو کسی عام خاندان سے تعلق رکھتی تھی اس کے رخسار کھینچے ہوئے تھے اس نے عرض کی یا رسول اللہ اس کی وجہ کیا ہے آپ نے ارشاد فرمایا اس کی وجہ یہ ہے کہ تم خواتین شکایت بکثرت کرتی ہو اور لعنت بکثرت کرتی ہو اور شوہر کی نافرمانی بکثرت کرتی ہو۔ راوی کا بیان ہے کہ خواتین نے اپنے زیورات اور انگوٹھیاں اور بالیاں حضرت بلال کے کپڑے میں ڈالنا شروع کردیں یہ انہوں نے صدقے کے طور پر ڈالی تھیں۔

جَابِرٍ ← عَطَاءٍ، ← عَبْد الْمَلِكِ؛ ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ

Sunan Darmi · From the book of the two feasts › Door · Hadith 1649

سنن دارمی · من كتاب الصوم ‹ باب · حديث 1721

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ قَالَ أَصْبَحْتُ فِي يَوْمٍ قَدْ أُشْكِلَ عَلَيَّ مِنْ شَعْبَانَ أَوْ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ فَأَصْبَحْتُ صَائِمًا فَأَتَيْتُ عِكْرِمَةَ فَإِذَا هُوَ يَأْكُلُ خُبْزًا وَبَقْلًا فَقَالَ هَلُمَّ إِلَى الْغَدَاءِ فَقُلْتُ إِنِّي صَائِمٌ فَقَالَ أُقْسِمُ بِاللَّهِ لَتُفْطِرَنَّ فَلَمَّا رَأَيْتُهُ حَلَفَ وَلَا يَسْتَثْنِي تَقَدَّمْتُ فَعَذَّرْتُ وَإِنَّمَا تَسَحَّرْتُ قُبَيْلَ ذَلِكَ ثُمَّ قُلْتُ هَاتِ الْآنَ مَا عِنْدَكَ فَقَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ فَإِنْ حَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ سَحَابٌ فَكَمِّلُوا الْعِدَّةَ ثَلَاثِينَ وَلَا تَسْتَقْبِلُوا الشَّهْرَ اسْتِقْبَالًا

حضرت سماک بن حرب بیان کرتے ہیں ایک دن مشکوک تھا کہ وہ شعبان کا آخری دن ہے یارمضان کا دن ہے؟ میں نے روزہ رکھ لیا اور حضرت عکرمہ کے پاس آیا اور وہ روٹی اور سبزی کھا رہے تھے انہوں نے فرمایا آؤ کھانا کھاؤ میں نے کہا میں روزہ دار ہوں تو انہوں نے کہا اللہ کی قسم آؤ تم ضرور کھانا کھاؤ۔ جب میں نے دیکھا کہ انہوں نے قسم اٹھا لی ہے اور اس میں کوئی استثناء نہیں رکھا گیا میں آگے بڑھا اور میں نے تھوڑا سا کھانا کھا لیا کیونکہ میں نے تھوڑی دیر ہی پہلے سحری کی تھی پھر میں نے کہا اب آپ بتائیں آپ کے پاس اس بارے میں کیا علم ہے انہوں نے فرمایا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ہمیں نبی اکرم کا یہ فرمان سنایا تھا کہ یعنی چاند کو دیکھ کر روزہ رکھو اور اسے دیکھ کر ہی افطار کرو اگر تمہارے اور اس کے درمیان بادل آجائے تو تیس کی تعداد پوری کرو رمضان کے مہینے کا استقبال پہلے ہی نہ کرو۔

سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ ← إِسْمَعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ،

Sunan Darmi · From the book of fasting › Door · Hadith 1721

سنن دارمی · من كتاب الصوم ‹ باب · حديث 1724

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ عَجِبَ مِمَّنْ يَتَقَدَّمُ الشَّهْرَ وَيَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَصُومُوا وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ ثَلَاثِينَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے بارے میں منقول ہے کہ وہ ایسے شخص کے بارے میں حیرانگی کا اظہار کرتے تھے جو (رمضان کا مہینہ شروع ہونے سے پہلے ہی) آغاز کردیتا تھا اور یہ فرمایا کرتے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم اسے (یعنی پہلی کے چاند) کو دیکھ لو تو روزہ رکھنا شروع کردو اور اسے (شوال کی پہلی چاند کی) کو دیکھ لو تو روزے رکھنے بند کر دو اور اگر تم پر بادل آجائیں تو تیس دن کی تعداد پوری کرو۔

ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ عَجِبَ مِمَّنْ يَتَقَدَّمُ الشَّهْرَ وَيَقُولُ ← مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ

Sunan Darmi · From the book of fasting › Door · Hadith 1724

سنن دارمی · من كتاب الاطعمة ‹ باب · حديث 2105

أَخْبَرَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ الثَّقَفِيِّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ ثَقِيفَ أَعْوَرَ قَالَ كَانَ يُقَالُ لَهُ مَعْرُوفٌ أَيْ يُثْنَى عَلَيْهِ خَيْرٌ إِنْ لَمْ يَكُنْ اسْمُهُ زُهَيْرَ بْنَ عُثْمَانَ فَلَا أَدْرِي مَا اسْمُهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْوَلِيمَةُ أَوَّلَ يَوْمٍ حَقٌّ وَالثَّانِيَ مَعْرُوفٌ وَالثَّالِثَ سُمْعَةٌ وَرِيَاءٌ قَالَ قَتَادَةُ وَحَدَّثَنِي رَجُلٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّهُ دُعِيَ أَوَّلَ يَوْمٍ فَأَجَابَ وَدُعِيَ الْيَوْمَ الثَّانِيَ فَأَجَابَ وَدُعِيَ الْيَوْمَ الثَّالِثَ فَحَصَبَ الرَّسُولَ وَلَمْ يُجِبْهُ وَقَالَ أَهْلُ سُمْعَةٍ وَرِيَاءٍ

ثقیف قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک کانے صاحب جنہیں معروف کہا جاتا تھا یعنی بھلائی کے حوالے سے ان کی تعریف کی جاتی تھی اگر ان کا نام زبیر بن عثمان نہیں تھا تو پھر مجھے معلوم نہیں کہ ان کا نام کیا ہے ۔ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا رخصتی سے اگلے دن ولیمہ کرنا حق ہے اس سے اگلے دن مناسب ہے اور تیسرے دن دکھاوا ہے اور ریاکاری ہے۔ قتادہ بیان کرتے ہیں ایک شخص نے سعید بن مسیب کے حوالے سے یہ بات بتائی کہ جب انہیں رخصتی سے اگلے دن دعوت دی جاتی تو وہ اسے قبول کرلیتے جب اس سے اگلے دن دی جاتی اسے بھی قبول کرلیتے لیکن جب تیسرے دن کی دعوت دی جاتی تو وہ پیغام رساں کو کنکریاں مارتے ہوئے دعوت قبول نہ کرتے اور اس سے فرماتے یہ دکھاوا کرنے والے لوگ ہیں۔

رَجُلٍ مِنْ ثَقِيفَ أَعْوَرَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ الثَّقَفِيِّ ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← عَفَّانُ،

Sunan Darmi · From the food book › Door · Hadith 2105

سنن دارمی · من كتاب الاطعمة ‹ باب · حديث 2106

أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِيمَةِ يُدْعَى إِلَيْهَا الْأَغْنِيَاءُ وَيُتْرَكُ الْمَسَاكِينُ وَمَنْ تَرَكَ الدَّعْوَةَ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں سب سے بدترین ولیمہ وہ کھانا ہے جس میں امیر لوگوں کو بلایا جائے اور غریبوں کو نہ بلایا جائے جو شخص دعوت قبول نہیں کرتا وہ اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرتا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ ← الْأَعْرَجِ ← الزُّهْرِيِّ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← أَبُو الْمُغِيرَةِ

Sunan Darmi · From the food book › Door · Hadith 2106

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2216

أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنْ أَنْ يَخْطُبَ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں نقل کرتے ہیں آپ نے اس بات سے منع کیا ہے کہ کوئی شخص اپنے بھائی کے پیغام نکاح کی موجودگی میں نکاح کا پیغام بھیجے۔

أَنْ يَخْطُبَ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ ← النَّبِيِّ أَنَّهُ «نَهَى ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ

Sunan Darmi · From the book of marriage › Door · Hadith 2216

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2217

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي نَافِعٌ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَخْطُبُ أَحَدُكُمْ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ وَلَا يَبِيعُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ حَتَّى يَأْذَنَ لَهُ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کوئی شخص اپنے بھائی کے نکاح کے پیغام کی موجودگی میں نکاح کا پیغام نہ بھیجے اور کوئی شخص اپنے بھائی کے سودے پر سودا نہ کرے یہاں تک کہ وہ شخص اسے اس کی اجازت دیدے۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ،

Sunan Darmi · From the book of marriage › Door · Hadith 2217

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2218

أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ أَنَّهَا حَدَّثَتْهُ وَكَتَبَهُ مِنْهَا كِتَابًا أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ رَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ فَطَلَّقَهَا الْبَتَّةَ فَأَرْسَلَتْ إِلَى أَهْلِهِ تَبْتَغِي مِنْهُمْ النَّفَقَةَ فَقَالُوا لَيْسَ لَكِ نَفَقَةٌ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَيْسَ لَكِ نَفَقَةٌ وَعَلَيْكِ الْعِدَّةُ وَانْتَقِلِي إِلَى بَيْتِ أُمِّ شَرِيكٍ وَلَا تُفَوِّتِينَا بِنَفْسِكِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ أُمَّ شَرِيكٍ امْرَأَةٌ يَدْخُلُ عَلَيْهَا إِخْوَانُهَا مِنْ الْمُهَاجِرِينَ وَلَكِنْ انْتَقِلِي إِلَى بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَإِنَّهُ رَجُلٌ أَعْمَى إِنْ وَضَعْتِ ثِيَابَكِ لَمْ يَرَ شَيْئًا وَلَا تُفَوِّتِينَا بِنَفْسِكِ فَانْطَلَقَتْ إِلَى بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَلَمَّا حَلَّتْ ذَكَرَتْ أَنَّ مُعَاوِيَةَ وَأَبَا جَهْمٍ خَطَبَاهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَّا مُعَاوِيَةُ فَرَجُلٌ لَا مَالَ لَهُ وَأَمَّا أَبُو جَهْمٍ فَلَا يَضَعُ عَصَاهُ عَنْ عَاتِقِهِ فَأَيْنَ أَنْتُمْ مِنْ أُسَامَةَ فَكَأَنَّ أَهْلَهَا كَرِهُوا ذَلِكَ فَقَالَتْ وَاللَّهِ لَا أَنْكِحُ إِلَّا الَّذِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَكَحَتْ أُسَامَةَ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ يَا فَاطِمَةُ اتَّقِي اللَّهَ فَقَدْ عَلِمْتِ فِي أَيِّ شَيْءٍ كَانَ هَذَا قَالَ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ وَالْفَاحِشَةُ أَنْ تَبْذُوَ عَلَى أَهْلِهَا فَإِذَا فَعَلَتْ ذَلِكَ فَقَدْ حَلَّ لَهُمْ أَنْ يُخْرِجُوهَا

حضرت فاطمہ بنت قیس بیان کرتی ہیں وہ بنومخزوم سے تعلق رکھنے والے قریشی شخص کی بیوی تھیں اس شخص نے انہیں طلاق بتہ دیدی۔ انہوں نے اپنے میاں کے خاندان والوں کے پاس کسی شخص کو بھیجا تاکہ ان سے خرچ کا مطالبہ کریں تو ان خاندان والوں نے جواب دیا تمہیں کوئی خرچ نہیں ملے گی اس بات کی اطلاع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی تو آپ نے فاطمہ بنت قیس سے فرمایا تمہیں خرچ نہیں ملے گا تمہیں عدت بسر کرنی ہے تم ام شریک کے گھر منتقل ہوجاؤ اور پھر آکر مجھ سے ملنا پھر آپ نے فرمایا ام شریک کے ہاں تو اس کے مہاجر بھائی آتے جاتے رہتے ہیں۔ تم ابن ام مکتوم کے ہاں منتقل ہوجاؤ کیونکہ وہ نابیناہیں اگر تم اپنی چادر سر سے اتار بھی دوگی تو وہ تمہیں نہیں دیکھ سکیں گے لیکن تم مجھ سے مل ضرور لینا۔ فاطمہ بنت قیس حضرت ابن ام مکتوم کے ہاں چلی گئی جب ان کی عدت ختم ہوگئی تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ بات ذکر کی کہ حضرت معاویہ اور حضرت ابوجہم نے انہیں نکاح کا پیغام بھیجا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا معاویہ کے پاس تو پیسے نہیں ہیں اور ابوجہم وہ گردن سے عصا اتارتا ہی نہیں ہے تم اسامہ سے شادی کیوں نہیں کرلیتی۔ فاطمہ بنت قیس کے خاندان والوں نے اس بات کو پسند نہیں کیا کہ لیکن فاطمہ بنت قیس نے یہی کہا اللہ کی قسم میں صرف اسی شخص کے ساتھ شادی کروں گی جس کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے پھر حضرت فاطمہ بنت قیس نے حضرت اسامہ کے ساتھ شادی کرلی۔ محمد بن ابراہیم بولے اے فاطمہ اللہ سے ڈرو تم جانتی ہو کہ یہ معاملہ کیا ہے۔ راوی کہتے ہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ نے ارشاد فرمایا۔ اے نبی جب تم اپنی بیویوں کو طلاق دے دو تو انہیں عدت میں طلاق دو اور ان کی عدت پوری کرو اور اللہ سے ڈرو جو تمہارا پروردگار ہے انہیں اپنے گھروں سے مت نکالو اور نہ ہی وہ خود نکلیں البتہ اگر وہ واضح فحاشی کی مرتکب ہو تو انہیں نکالا جاسکتا ہے۔ یہاں فاحشہ سے مراد یہ ہے کہ وہ عورت اپنے خاوند کے ساتھ بدزبانی کرے اگر ایسا کرے تو پھر خاوند کے لئے یہ جائز ہے کہ وہ اسے اپنے گھر سے نکال دے۔

فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Sunan Darmi · From the book of marriage › Door · Hadith 2218

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2225

حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَيُّمَا امْرَأَةٍ نُكِحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ وَلِيِّهَا فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ فَإِنْ اشْتَجَرُوا قَالَ أَبُو عَاصِمٍ وَقَالَ مَرَّةً فَإِنْ تَشَاجَرُوا فَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ فَإِنْ أَصَابَهَا فَلَهَا الْمَهْرُ بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِهَا قَالَ أَبُو عَاصِمٍ أَمْلَاهُ عَلَيَّ سَنَةَ سِتٍّ وَأَرْبَعِينَ وَمِائَةٍ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جو عورت ولی کی اجازت کی بغیر نکاح کرے گی اس کا نکاح باطل ہوگا اس کا نکاح باطل ہوگا اس کا نکاح باطل ہوگا ۔ اگر جھگڑا ہوجائے تو جس کا ولی نہ ہو اس کا حاکم وقت ولی ہوتا ہے اگر وہ شخص اس عورت کے ساتھ صحبت کرچکا ہو تو اس عورت کو مہر ملے گا اس وجہ سے جو اس مرد نے اس کی شرمگاہ کو حلال کیا تھا ۔ اس حدیث کے راوی ابوعاصم بیان کرتے ہیں ابوعاصم بیان کرتے ہیں میرے استاد نے یہ حدیث ایک سوچھیالیس ہجری میں مجھے املا کرو ائی تھی۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← أَبُو عَاصِمٍ

Sunan Darmi · From the book of marriage › Door · Hadith 2225

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2243

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ وَحَجَّاجٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَنْبَأَنَا أَبُو إِسْحَقَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عُبَيْدَةَ يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُطْبَةَ الْحَاجَةِ الْحَمْدُ لِلَّهِ أَوْ إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ثُمَّ يَقْرَأُ ثَلَاثَ آيَاتٍ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَمَنْ يُطِعْ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا ثُمَّ يَتَكَلَّمُ بِحَاجَتِهِ

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں ہمیں نکاح کا خطبہ سکھایا تھا ۔ ہرطرح کی حمد اللہ کے لئے مخصوص ہے (راوی کو شک ہے شاید الفاظ یہ ہیں) بے شک حمد اللہ کے لئے مخصوص ہے ہم اس کی حمد بیان کرتے ہیں اسی سے مدد طلب کرتے ہیں اسی سے مغفرت طلب کرتے ہیں ہم اپنے نفس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں جسے اللہ ہدایت عطا کردے اس کو کوئی گمراہ کرنے والا نہیں ہے اور جسے وہ گمراہ کردے اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں ہے۔ میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اور میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد اللہ کے رسول اور اس کے بندے ہیں۔ پھر آپ نے ان تین آیات کی تلاوت کی۔ "اے ایمان والو اللہ سے ڈرو جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تمہیں موت نہ آئے گی مگر یہ کہ تم مسلمان ہو یعنی تم مرتے وقت مسلمان ہونا۔ اے ایمان والو اپنے پروردگار سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی جان سے اس کاجوڑا بنایا ہے اور پھر ان دونوں کے ذریعے بے شمار مردوں اور عورتوں کو پھیلادیا اس اللہ سے ڈرو جس کے نام کے واسطے سے تم رشتہ داری کے حقوق کا تقاضا کرتے ہو بے شک اللہ تمہارا نگہبان ہے۔ اے ایمان والو۔ اللہ سے ڈرو اور سچی بات کہو وہ تمہارے اعمال درست کردے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا جو صرف اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا وہ عظیم کامیابی حاصل کرے گا۔ (راوی کہتے ہیں پھر اس کے بعد وہ شخص اپنی حاجت کے بارے میں بات کرے)۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبَا عُبَيْدَةَ، ← أَبُو إِسْحَقَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ وَحَجَّاجٌ

Sunan Darmi · From the book of marriage › Door · Hadith 2243

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2246

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى وَلِيمَةٍ فَلْيُجِبْ قَالَ أَبُو مُحَمَّد يَنْبَغِي أَنْ يُجِيبَ وَلَيْسَ الْأَكْلُ عَلَيْهِ بِوَاجِبٍ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب کسی شخص کو ولیمہ کی دعوت میں شریک ہونے کی دعوت دی جائے تو اسے قبول کرلینی چاہیے۔ امام دارمی فرماتے ہیں اسے دعوت قبول کرلینی چاہیے البتہ جا کر کھانا کھانا اس پر واجب نہیں ہے۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ،

Sunan Darmi · From the book of marriage › Door · Hadith 2246

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2287

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ فِي رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً وَلَمْ يَكُنْ فَرَضَ لَهَا شَيْئًا وَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا وَمَاتَ عَنْهَا قَالَ فِيهَا لَهَا صَدَاقُ نِسَائِهَا وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ وَلَهَا الْمِيرَاثُ قَالَ مَعْقِلٌ الْأَشْجَعِيُّ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بِرْوَعَ بِنْتِ وَاشِقٍ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي رُوَاسٍ بِمِثْلِ مَا قَضَيْتَ قَالَ فَفَرِحَ بِذَلِكَ قَالَ مُحَمَّدٌ وَسُفْيَانُ نَأْخُذُ بِهَذَا

علقمہ بیان کرتے ہیں حضرت عبداللہ بن مسعود سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا جو کسی خاتون کے ساتھ شادی کرے اور اس کا مہر مقرر کرنے اور رخصتی سے پہلے ہی فوت ہوجائے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں یہ فتوی دیا اس عورت کو اس جیسی دیگر خواتین جتنا مہر ملے گا عورت عدت بسر کرے گی اور اسے وراثت میں بھی حصہ ملے گا حضرت معقل اشجعی بولے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو رواس سے تعلق رکھنے والی خاتون بروع بنت واشق کے بارے میں اسی طرح کا فیصلہ فرمایا تھا جو آپ نے فیصلہ دیاہے۔ راوی بیان کرتے ہیں حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ یہ سن کربہت خوش ہوئے اس حدیث کے راوی محمد بن یوسف اور سفیان کہتے ہیں ہم اس حدیث کے مطابق فتوی دیتے ہیں۔

عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Sunan Darmi · From the book of marriage › Door · Hadith 2287

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2288

أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا كَانَتْ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ حَفْصَةَ فَسَمِعَتْ صَوْتَ إِنْسَانٍ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ سَمِعْتُ صَوْتَ إِنْسَانٍ فِي بَيْتِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرَاهُ فُلَانًا لِعَمِّ حَفْصَةَ مِنْ الرَّضَاعَةِ قَالَتْ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَوْ كَانَ فُلَانٌ حَيًّا لِعَمِّهَا مِنْ الرَّضَاعَةِ دَخَلَ عَلَيَّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ يَحْرُمُ مِنْ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنْ الْوِلَادَةِ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دوسرے گھر میں تھی انہوں نے کسی صاحب کی آواز سنی تو عرض کی یا رسول اللہ میں نے آپ کے دوسرے گھر میں کسی صاحب کی آواز سنی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرا خیال ہے فلاں شخص ہے وہ صاحب حضرت حفصہ کے رضاعی چچا تھے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کی یا رسول اللہ اگر فلاں شخص موجود ہوتا یہ بات انہوں نے اپنے رضاعی چچا کے بارے میں کہی تو کیا وہ میرے ہاں آجاتا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں۔ رضاعت کے ذریعے وہی حرمت ثابت ہوجاتی ہے جو ولادت کے ذریعے ثابت ہوتی ہے۔

قُلْتُ ← عَائِشَةَ أَنَّهَا كَانَتْ مَعَ النَّبِيِّ فِي بَيْتِ حَفْصَةَ فَسَمِعَتْ صَوْتَ إِنْسَانٍ ← عَمْرَةَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَکْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ← مَالِكٍ، ← رَوْحٌ، ← إِسْحَقُ

Sunan Darmi · From the book of marriage › Door · Hadith 2288

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2289

أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ أَنَّ عَمَّهَا أَخَا أَبِي الْقُعَيْسِ جَاءَ يَسْتَأْذِنُ عَلَيْهَا بَعْدَمَا ضُرِبَ الْحِجَابُ فَأَبَتْ أَنْ تَأْذَنَ لَهُ حَتَّى يَأْتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْتَأْذِنَهُ فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَتْ جَاءَ عَمِّي أَخُو أَبِي الْقُعَيْسِ فَرَدَدْتُهُ حَتَّى أَسْتَأْذِنَكَ قَالَ أَوَ لَيْسَ بِعَمِّكِ قَالَتْ إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ فَقَالَ إِنَّهُ عَمُّكِ فَلْيَلِجْ عَلَيْكِ قَالَ وَكَانَتْ عَائِشَةُ تَقُولُ يَحْرُمُ مِنْ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنْ الْوِلَادَةِ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں ان کے چچا جو ابوقیس کے بھائی تھے اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں آنے کی اجازت مانگی اس وقت پردے کا حکم نازل ہوچکا تھا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے انہیں اندرآنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا اور عرض کی میرے چچا جو ابوقیس کے بھائی ہیں تشریف لائے تھے لیکن میں نے انہیں واپس کردیاہے تاکہ پہلے آپ سے اجازت حاصل کروں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا وہ تمہارے چچا نہیں ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا مجھے ایک خاتون نے دودھ پلایا تھا مرد نے دودھ نہیں پلایا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ تمہارے چچاہیں انہیں اندرآنے دے سکتی ہو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں رضاعت کے ذریعے وہی حرمت ثابت ہوتی ہے جو ولادت کے ذریعے ثابت ہوتی ہے۔

أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ

Sunan Darmi · From the book of marriage › Door · Hadith 2289

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2290

أَخْبَرَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِكٍ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَحْرُمُ مِنْ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنْ الْوِلَادَةِ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں رضاعت کے ذریعے وہی حرمت ثابت ہوتی ہے جو ولادت کے ذریعے ہوتی ہے۔

يَحْرُمُ مِنْ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنْ الْوِلَادَةِ ← النَّبِيِّ ← عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← عبد الله بن دينار ← مَالِكٍ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ،

Sunan Darmi · From the book of marriage › Door · Hadith 2290

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2297

أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سُلَيْمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا رَجُلٌ فَتَغَيَّرَ وَجْهُهُ وَكَأَنَّهُ كَرِهَ ذَلِكَ فَقُلْتُ إِنَّهُ أَخِي مِنْ الرَّضَاعَةِ فَقَالَ انْظُرْنَ مَا إِخْوَانُكُنَّ فَإِنَّمَا الرَّضَاعَةُ مِنْ الْمَجَاعَةِ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف لائے اس وقت ان کے پاس ایک صاحب موجود تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کا رنگ تبدیل ہوگیا گویا آپ نے ان کی موجودگی کو ناپسند کیا میں نے عرض کی یہ میرے بھائی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم اپنے رضاعی بھائیوں کی تحقیق کرلیا کرو کیونکہ رضاعت بھوک سے ثابت ہوتی ہے۔

عَائِشَةَ ← مَسْرُوقٍ ← أَبِيهِ ← أَشْعَثَ بْنِ سُلَيْمٍ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ

Sunan Darmi · From the book of marriage › Door · Hadith 2297

سنن دارمی · من كتاب الطلاق ‹ باب · حديث 2303

أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فَذَكَرَ ذَلِكَ عُمَرُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مُرْهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا وَيُمْسِكَهَا حَتَّى تَطْهُرَ ثُمَّ تَحِيضَ ثُمَّ تَطْهُرَ ثُمَّ إِنْ شَاءَ أَمْسَكَ وَإِنْ شَاءَ طَلَّقَ قَبْلَ أَنْ يَمَسَّ فَتِلْكَ الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ أَنْ يُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ

نافع، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں انہوں نے اپنی اہلیہ طلاق دے دی وہ خاتون اس وقت حالت حیض میں تھی حضرت عمر نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو انہوں نے فرمایا اسے ابن عمر رضی اللہ عنہ کو یہ حکم دو کہ اس عورت سے رجوع کرلے اور اسے اپنے پاس رکھے یہاں کہ اسے حیض آجائے پھر پاک ہوجائے پھر اگر وہ (ابن عمر) چاہے تو اس عورت کو روک لے اگر چاہے تو اس کو طلاق دے دے یہ وہ عدت ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیاہے اس کے مطابق عورتوں کو طلاق دی جائے۔

ذَلِكَ عُمَرُ لِلنَّبِيِّ ← ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ ← نَافِعٍ ← مَالِكٍ، ← خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ

Sunan Darmi · From the book of divorce › Door · Hadith 2303

سنن دارمی · من كتاب الطلاق ‹ باب · حديث 2311

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّمَا امْرَأَةٍ سَأَلَتْ زَوْجَهَا الطَّلَاقَ مِنْ غَيْرِ بَأْسٍ فَحَرَامٌ عَلَيْهَا رَائِحَةُ الْجَنَّةِ

حضرت ثوبان روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ نے فرمایا جو خاتون کسی تکلیف کے بغیر اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرے تو اس پر جنت کی خوشبوحرام ہوگی"۔

ثَوْبَانَ، ← أَبِي أَسْمَاءَ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ

Sunan Darmi · From the book of divorce › Door · Hadith 2311

سنن دارمی · من كتاب الرقاق ‹ باب · حديث 2791

حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ وَرَّادٍ مَوْلَى الْمُغِيرَةِ عَنْ الْمُغِيرَةِ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَأْدِ الْبَنَاتِ وَعُقُوقِ الْأُمَّهَاتِ وَعَنْ مَنْعٍ وَهَاتِ وَعَنْ قِيلَ وَقَالَ وَكَثْرَةِ السُّؤَالِ وَإِضَاعَةِ الْمَالِ

حضرت مغیرہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بچیوں کو زندہ درگور کرنے ماؤں کی نافرمانی کرنے خوامخواہ منع کرنے اور فضول بحث ومباحثہ کرنے اور بکثرت مانگنے اور مال کو ضائع کرنے سے منع کیا ہے۔

وَكَثْرَةِ السُّؤَالِ، وَإِضَاعَةِ الْمَالِ» ← قِيلَ ← مَنْعٍ وَهَاتِ، ← وَأْدِ الْبَنَاتِ، وَعُقُوقِ الْأُمَّهَاتِ، ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← الْمُغِيرَةِ، ← وَرَّادٍ، مَوْلَى الْمُغِيرَةِ، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ، ← زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ،

Sunan Darmi · From the book Al-Raqqa › Door · Hadith 2791

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 2896

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ الْوَلِيدِ الْهَمْدَانِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ تَعَلَّمُوا الْفَرَائِضَ وَالطَّلَاقَ وَالْحَجَّ فَإِنَّهُ مِنْ دِينِكُمْ

حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں وراثت، طلاق، حج کے احکام کا علم حاصل کرو کیونکہ یہ تمہارے دین کا حصہ ہیں۔

تَعَلَّمُوا الْفَرَائِضَ وَالطَّلَاقَ وَالْحَجَّ فَإِنَّهُ مِنْ دِينِكُمْ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← الْقَاسِمِ بْنِ الْوَلِيدِ الْهَمْدَانِيِّ ← مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 2896

chevron_left Previous
1…252627…1,219
Next chevron_right