Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الزواج والأسرة

Marriage & Family

24361 hadiths

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 2905

أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ كَانَ عُمَرُ إِذَا سَلَكَ بِنَا طَرِيقًا وَجَدْنَاهُ سَهْلًا وَإِنَّهُ قَالَ فِي زَوْجٍ وَأَبَوَيْنِ لِلزَّوْجِ النِّصْفُ وَلِلْأُمِّ ثُلُثُ مَا بَقِيَ

حضرت عبداللہ بیان کرتے ہیں حضرت عمر ہمارے لئے جو راستہ مقرر کر دیتے تھے ہم اسے آسان پاتے تھے شوہر اور ماں باپ کی وراثت کے مسئلے میں حضرت عمر نے یہ حکم دیا ہے شوہر کو نصف حصہ ملے گا اور باقی بچ جانے والے مال کاتہائی حصہ مرحوم عورت کی ماں کو ملے گا۔

فِي زَوْجٍ وَأَبَوَيْنِ لِلزَّوْجِ النِّصْفُ وَلِلْأُمِّ ثُلُثُ مَا بَقِيَ ← عَبْدُ اللَّهِ كَانَ عُمَرُ إِذَا سَلَكَ بِنَا طَرِيقًا وَجَدْنَاهُ سَهْلًا وَإِنَّهُ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← شَرِيکٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 2905

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 2907

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ قَالَ فِي امْرَأَةٍ وَأَبَوَيْنِ لِلْمَرْأَةِ الرُّبُعُ وَلِلْأُمِّ ثُلُثُ مَا بَقِيَ

ابومہلب بیان کرتے ہیں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے مرحوم شخص کی بیوی اور ماں باپ کی وراثت کے بارے میں فرمایا ہے کہ بیوی کو چوتھائی حصہ ملے گا اور باقی بچ جانے والے مال کا تہائی حصہ مرحوم شخص کی ماں کو ملے گا۔

فِي امْرَأَةٍ وَأَبَوَيْنِ لِلْمَرْأَةِ الرُّبُعُ وَلِلْأُمِّ ثُلُثُ مَا بَقِيَ ← أَبِي الْمُهَلَّبِ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← شُعْبَةُ، ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 2907

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 2908

حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَنَّهُ قَالَ لِلْمَرْأَةِ الرُّبُعُ سَهْمٌ مِنْ أَرْبَعَةٍ وَلِلْأُمِّ ثُلُثُ مَا بَقِيَ سَهْمٌ وَلِلْأَبِ سَهْمَانِ

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں بیوی کو چوتھائی حصہ ملے گا اور یہ چار حصوں میں سے ایک حصہ ہوگا اور باقی بچ جانے والے مال سے ایک تہائی حصہ یعنی ایک حصہ مرحوم کی ماں کو ملے گا اور دو حصے مرحوم کے باپ کو ملیں گے۔ عمیر بن سعید بیان کرتے ہیں انہوں نے حارث اعور سے ایسی عورت کے بارے میں مسئلہ دریافت کیا جس کے ماں باپ موجود ہوں دونوں نے حضرت عثمان غنی کے فرمان کے مطابق جواب دیا۔

لِلْمَرْأَةِ الرُّبُعُ سَهْمٌ مِنْ أَرْبَعَةٍ وَلِلْأُمِّ ثُلُثُ مَا بَقِيَ سَهْمٌ وَلِلْأَبِ سَهْمَانِ ← عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَنَّهُ ← أَبِي الْمُهَلَّبِ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ،

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 2908

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 2910

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّهُ قَالَ فِي امْرَأَةٍ تَرَكَتْ زَوْجَهَا وَأَبَوَيْهَا لِلزَّوْجِ النِّصْفُ وَلِلْأُمِّ ثُلُثُ مَا بَقِيَ

حضرت زید بن ثابت لیثی عورت کے بارے میں فرماتے ہیں جس نے پسماندگان میں شوہر اور والدین چھوڑے ہوں اس کے شوہر کا نصف حصہ ملے گا اور باقی بچ جانے والے تہائی مال کاتہائی حصہ اس کی ماں کو ملے گا۔

فِي امْرَأَةٍ تَرَكَتْ زَوْجَهَا وَأَبَوَيْهَا لِلزَّوْجِ النِّصْفُ وَلِلْأُمِّ ثُلُثُ مَا بَقِيَ ← زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّهُ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← قَتَادَةَ ← هِشَامٍ ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 2910

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 2911

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ عَنْ عَلِيٍّ فِي امْرَأَةٍ وَأَبَوَيْنِ قَالَ مِنْ أَرْبَعَةٍ لِلْمَرْأَةِ الرُّبُعُ وَلِلْأُمِّ ثُلُثُ مَا بَقِيَ وَمَا بَقِيَ فَلِلْأَبِ

پسماندگان میں بیوی اور ماں باپ کے بارے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ یہ فرماتے ہیں یہ تقسیم چار حصوں سے ہوگی بیوی کوچوتھائی حصہ ملے گا اور بقیہ مال کا تہائی حصہ ماں کو ملے گا اور باقی بچ جانے والا مال باپ کو ملے گا۔

مِنْ أَرْبَعَةٍ لِلْمَرْأَةِ الرُّبُعُ وَلِلْأُمِّ ثُلُثُ مَا بَقِيَ وَمَا بَقِيَ فَلِلْأَبِ ← عَلِيٍّ فِي امْرَأَةٍ وَأَبَوَيْنِ ← عَامِرٌ الشَّعْبِيُّ ← ابْنِ أَبِي لَيْلَی ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 2911

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 2912

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ الْأَعْمَشِ وَمَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كَانَ عُمَرُ إِذَا سَلَكَ بِنَا طَرِيقًا اتَّبَعْنَاهُ فِيهِ وَجَدْنَاهُ سَهْلًا وَإِنَّهُ قَضَى فِي امْرَأَةٍ وَأَبَوَيْنِ مِنْ أَرْبَعَةٍ فَأَعْطَى الْمَرْأَةَ الرُّبُعَ وَالْأُمَّ ثُلُثَ مَا بَقِيَ وَالْأَبَ سَهْمَيْنِ

حضرت عبداللہ ارشاد فرماتے ہیں حضرت عمر جب ہمارے لئے کوئی راستہ طے کر دیتے تھے توجب ہم اس کی پیروی کرتے تو ہم اسے آسان پاتے تھے۔ کسی مرحوم شخص کی بیوی اور ماں باپ کے بارے میں حضرت عمر نے یہ فیصلہ دیا ہے کہ اس کی بیوی کو چوتھائی حصہ دیا جائے گا اور باقی بچ جانے والے مال کا تہائی حصہ ماں کو دیا جائے گا جبکہ باپ کو دو حصے ملیں گے۔

عَبْدُ اللَّهِ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْأَعْمَشِ وَمَنْصُورٍ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 2912

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 2915

أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْحَكَمِ عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ أَرْسَلَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَتَجِدُ فِي كِتَابِ اللَّهِ لِلْأُمِّ ثُلُثُ مَا بَقِيَ فَقَالَ زَيْدٌ إِنَّمَا أَنْتَ رَجُلٌ تَقُولُ بِرَأْيِكَ وَأَنَا رَجُلٌ أَقُولُ بِرَأْيِي

عکرمہ بیان کرتے ہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے حضرت زید بن ثابت کی خدمت میں یہ پیغام بھیجا کہ کیا آپ اللہ کی کتاب میں یہ حکم پاتے ہیں کہ ماں کو باقی بچ جانے والے مال کا تیسرا حصہ ملے گا تو حضرت زید نے جواب دیا آپ اپنی رائے کے مطابق فتوی دیتے ہیں اور میں اپنی رائے کے مطابق فتوی دیتا ہوں۔

عِكْرِمَةَ، ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 2915

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 2916

حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ حَجَّاجٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ وَحَجَّاجٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُمَا قَالَا فِي زَوْجٍ وَأَبَوَيْنِ لِلزَّوْجِ النِّصْفُ وَلِلْأُمِّ ثُلُثُ جَمِيعِ الْمَالِ وَمَا بَقِيَ فَلِلْأَبِ

عطاء اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ شوہر اور ماں باپ کے بارے میں یہ فرماتے ہیں کہ شوہر کو کل کانصف حصہ ملے گا اور جبکہ ماں کو کل کا تہائی حصہ ملے گا اور باقی بچ جانے والا حصہ مرحوم عورت کے باپ کو ملے گا۔

فِي زَوْجٍ وَأَبَوَيْنِ لِلزَّوْجِ النِّصْفُ وَلِلْأُمِّ ثُلُثُ جَمِيعِ الْمَالِ وَمَا بَقِيَ فَلِلْأَبِ ← ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُمَا ← عَطَاءٍ، ← الشَّعْبِيِّ وَحَجَّاجٍ ← حجاج، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ،

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 2916

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 2917

حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ لِلْأُمِّ ثُلُثُ جَمِيعِ الْمَالِ فِي امْرَأَةٍ وَأَبَوَيْنِ وَفِي زَوْجٍ وَأَبَوَيْنِ

حضرت علی رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں اگر کوئی مرد فوت ہو جائے اور پسماندگان میں اس کی بیوی اور ماں باپ ہوں تو ماں کو پورے مال کاتہائی حصہ ملے گا اور اسی طرح عورت فوت ہو جائے اور پسماندگان میں شوہر اور ماں باپ ہوں تو اس کی ماں کو پورے مال کا تہائی حصہ ملے گا۔

لِلْأُمِّ ثُلُثُ جَمِيعِ الْمَالِ فِي امْرَأَةٍ وَأَبَوَيْنِ وَفِي زَوْجٍ وَأَبَوَيْنِ ← عَلِيٍّ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ،

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 2917

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 2918

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ الْفُضَيْلِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ خَالَفَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَهْلَ الْقِبْلَةِ فِي امْرَأَةٍ وَأَبَوَيْنِ جَعَلَ لِلْأُمِّ الثُّلُثَ مِنْ جَمِيعِ الْمَالِ

ابراہیم ارشاد فرماتے ہیں مرحوم شخص کی بیوی اور ماں باپ کے مسئلے میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے تمام اہل اسلام سے برعکس رائے بیان کی ہے انہوں نے پورے مال کا تہائی حصہ والد کے لئے مقرر کیا ہے۔

إِبْرَاهِيمَ، ← الْفُضَيْلِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِيهِ ← ابْنُ إِدْرِيسَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى،

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 2918

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 2920

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّ ابْنَ الزُّبَيْرِ كَانَ لَا يُوَرِّثُ الْأُخْتَ مِنْ الْأَبِ وَالْأُمِّ مَعَ الْبِنْتِ حَتَّى حَدَّثَهُ الْأَسْوَدُ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ جَعَلَ لِلْبِنْتِ النِّصْفَ وَلِلْأُخْتِ النِّصْفَ فَقَالَ أَنْتَ رَسُولِي إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ فَأَخْبِرْهُ بِذَاكَ وَكَانَ قَاضِيَهُ بِالْكُوفَةِ

اسود بن یزید بیان کرتے ہیں حضرت ابن زبیر میت کی بیٹی کی موجودگی میں میت کی حقیقی بہن کو وراثت میں شریک نہیں کرتے تھے یہاں تک کہ اسود نے انہیں بتایا کہ حضرت معاذ بن جبل نے بیٹی کو وراثت کا نصف حصہ اور بہن کو بھی نصف حصہ دیا تھا تو حضرت ابن زبیر نے ارشاد فرمایا تم عبداللہ بن عتبہ کو میرے پاس لاؤ میرے نمائندے کی حثییت سے جاؤ اور اس بارے میں بتا دینا راوی بیان کرتے ہیں وہ صاحب ان دنوں کوفہ میں قاضی کے فرائض سر انجام دے رہے تھے۔

الأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 2920

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 2921

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ رَجُلٍ تَرَكَ بِنْتًا وَأُخْتًا فَقَالَ لِابْنَتِهِ النِّصْفُ وَلِأُخْتِهِ مَا بَقِيَ وَقَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ كَانَ يَجْعَلُ الْأَخَوَاتِ مَعَ الْبَنَاتِ عَصَبَةً لَا يَجْعَلُ لَهُنَّ إِلَّا مَا بَقِيَ

بشر بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے ابن ابی زیاد سے ایسے شخص کے بارے میں سوال کیا جس نے ایک بیٹی اور ایک بہن چھوڑی ہو انہوں نے جواب دیا اس کی بیٹی کو نصف حصہ ملے گا اور بقیہ مال اس کی بہن کو مل جائے گا راوی بیان کرتے ہیں انہوں نے یہ بات بھی بیان کی کہ میرے والد نے حضرت خارجہ بن زید کے حوالے سے یہ بات بتائی ہے کہ حضرت زید بن ثابت بہنوں کو بیٹیوں کے ہمراہ عصبہ قرار دیتے تھے وہ انہیں بقیہ بچ جانے والا مال نہیں دیا کرتے تھے۔

أَبِي ← لِابْنَتِهِ النِّصْفُ وَلِأُخْتِهِ مَا بَقِيَ ← رَجُلٍ تَرَكَ بِنْتًا وَأُخْتًا ← سَأَلْتُ ابْنَ أَبِي الزِّنَادِ ← بِشْرُ بْنُ عُمَرَ؛

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 2921

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 2922

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ وَالْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ فِي زَوْجٍ وَأُمٍّ وَإِخْوَةٍ لِأَبٍ وَأُمٍّ وَإِخْوَةٍ لِأُمٍّ قَالَ كَانَ عُمَرُ وَعَبْدُ اللَّهِ وَزَيْدٌ يُشَرِّكُونَ وَقَالَ عُمَرُ لَمْ يَزِدْهُمْ الْأَبُ إِلَّا قُرْبًا

ابراہیم نخعی مرحوم عورت کے شوہر، ماں، سگے بہن بھائی، اور ماں کی طرف سے بہن بھائیوں کے بارے میں بیان کرتے ہیں حضرت عمر نے اور حضرت عبداللہ اور حضرت زید ان سب کو وراثت میں شریک کرتے تھے۔ حضرت عمر نے یہ ارشاد فرمایا باپ صرف قرب میں اضافہ کرتا ہے۔

عُمَرُ لَمْ يَزِدْهُمْ الْأَبُ إِلَّا قُرْبًا ← كَانَ عُمَرُ وَعَبْدُ اللَّهِ وَزَيْدٌ يُشَرِّكُونَ ← إِبْرَاهِيمَ فِي زَوْجٍ وَأُمٍّ وَإِخْوَةٍ لِأَبٍ وَأُمٍّ وَإِخْوَةٍ لِأُمٍّ ← مَنْصُورٍ، وَالْأَعْمَشُ، ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 2922

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 2927

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ عَنْ الْحَجَّاجِ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ الْمُغِيرَةِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ فَيْرُوزَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عُمَرَ قَالَ فِي الْمُشَرَّكَةِ لَمْ يَزِدْهُمْ الْأَبُ إِلَّا قُرْبًا

سعد اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں وراثت میں شریک کرنے کے حوالے سے حضرت عمر نے یہ بات بیان فرمائی ہے باپ صرف قرب میں اضافہ کرتا ہے۔

فِي الْمُشَرَّكَةِ لَمْ يَزِدْهُمْ الْأَبُ إِلَّا قُرْبًا ← أَبِيهِ أَنَّ عُمَرَ ← سَعِيدِ بْنِ فَيْرُوزَ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← الْحَجَّاجِ، ← أَبُو شِهَابٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 2927

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 2928

أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْحَارِثِ الْأَعْوَرِ قَالَ أُتِيَ عَبْدُ اللَّهِ فِي فَرِيضَةِ بَنِي عَمٍّ أَحَدُهُمْ أَخٌ لِأُمٍّ فَقَالَ الْمَالُ أَجْمَعُ لِأَخِيهِ لِأُمِّهِ فَأَنْزَلَهُ بِحِسَابِ أَوْ بِمَنْزِلَةِ الْأَخِ مِنْ الْأَبِ وَالْأُمِّ فَلَمَّا قَدِمَ عَلِيٌّ سَأَلْتُهُ عَنْهَا وَأَخْبَرْتُهُ بِقَوْلِ عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ يَرْحَمُهُ اللَّهُ إِنْ كَانَ لَفَقِيهًا أَمَّا أَنَا فَلَمْ أَكُنْ لِأَزِيدَهُ عَلَى مَا فَرَضَ اللَّهُ لَهُ سَهْمٌ السُّدُسُ ثُمَّ يُقَاسِمُهُمْ كَرَجُلٍ مِنْهُمْ

حارث اعور بیان کرتے ہیں حضرت عبداللہ کی خدمت میں دو چچازاد بھائیوں کی وراثت کامسئلہ لایا گیا جس میں سے ایک ماں کی طرف سے شریک بھائی تھا تو حضرت عبداللہ نے جواب دیا یہ سارا مال اس کے ماں کی طرف سے شریک بھائی کو مل جائے گا انہوں نے تقسیم میں اس بھائی کو سگے بھائی کی مانند قرار دیا۔ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو میں نے ان سے اس کے بارے میں دریافت کیا اور حضرت عبداللہ کے جواب سے بھی آگاہ کیا تو انہوں نے ارشاد فرمایا اللہ ان پر رحم کرے اگر وہ حقیقی عالم ہوتے تو یہ فتوی نہ دیتے میں اس کے حصے میں اس چیز سے اضافہ نہیں کروں گا جو اللہ نے اس کے لئے مقرر کیا ہے وہ چھٹاحصہ ہے پھر وہ ان لوگوں کے درمیان ان کے ایک عام فرد کی مانند وراثت تقسیم کرتے۔

الْحَارِثِ الْأَعْوَرِ ← أَبِي إِسْحَقَ ← زُهَيْرٍ ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 2928

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 2931

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي أَخَوَاتٍ لِأَبٍ وَأُمٍّ وَإِخْوَةٍ وَأَخَوَاتٍ لِأَبٍ قَالَ لِلْأَخَوَاتِ لِلْأَبِ وَالْأُمِّ الثُّلُثَانِ وَمَا بَقِيَ فَلِلذُّكُورِ دُونَ الْإِنَاثِ فَقَدِمَ مَسْرُوقٌ الْمَدِينَةَ فَسَمِعَ قَوْلَ زَيْدٍ فِيهَا فَأَعْجَبَهُ فَقَالَ لَهُ بَعْضُ أَصْحَابِهِ أَتَتْرُكُ قَوْلَ عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ إِنِّي أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَوَجَدْتُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ مِنْ الرَّاسِخِينَ فِي الْعِلْمِ قَالَ أَحْمَدُ فَقُلْتُ لِأَبِي شِهَابٍ وَكَيْفَ قَالَ زَيْدٌ فِيهَا قَالَ شَرَّكَ بَيْنَهُمْ

مسروق بیان کرتے ہیں حضرت عبداللہ سگی بہنوں باپ کی طرف والے بہن بھائیوں کے بارے میں یہ ارشاد فرماتے ہیں سگی بہنوں کو دوتہائی حصہ ملے گا اور جو باقی بچ جائے گا وہ بھائیوں کو ملے گا بہنوں کو نہیں ملے گا جو صرف باپ کی طرف سے بہن بھائی ہوں گے۔ مسروق مدینہ آئے انہوں نے اس بارے میں حضرت زید کا فرمان سنا تو وہ انہیں بہت پسند آیا ان کے ساتھیوں نے ان سے دریافت کیا کہ آپ حضرت عبداللہ کے قول کو ترک کر دیں انہوں نے جواب دیا جب میں مدینہ آیا تو میں نے حضرت زید بن ثابت کو علم وراثت کے ماہرین میں ایک پایا۔ امام احمد ارشاد فرماتے ہیں میں نے ابوشہاب سے دریافت کیا حضرت زید نے اس بارے میں کیا فتوی دیا ہے تو انہوں نے جواب دیا ان بہن بھائیوں کو ایک دوسرے کا حصہ قرار دیا ہے۔

شَرَّكَ بَيْنَهُمْ ← زَيْدٌ فِيهَا ← أَحْمَدُ فَقُلْتُ لِأَبِي شِهَابٍ وَكَيْفَ ← إِنِّي أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَوَجَدْتُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ مِنْ الرَّاسِخِينَ فِي الْعِلْمِ ← لَهُ بَعْضُ أَصْحَابِهِ أَتَتْرُكُ قَوْلَ عَبْدِ اللَّهِ ← قَوْلَ زَيْدٍ فِيهَا فَأَعْجَبَهُ ← لِلْأَخَوَاتِ لِلْأَبِ وَالْأُمِّ الثُّلُثَانِ وَمَا بَقِيَ فَلِلذُّكُورِ دُونَ الْإِنَاثِ فَقَدِمَ مَسْرُوقٌ الْمَدِينَةَ ← فِي أَخَوَاتٍ لِأَبٍ وَأُمٍّ وَإِخْوَةٍ وَأَخَوَاتٍ لِأَبٍ ← عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ كَانَ ← مَسْرُوقٍ ← مُّسْلِمٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو شِهَابٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 2931

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 2932

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ عَنْ إِسْمَعِيلَ قَالَ ذَكَرْنَا عِنْدَ حَكِيمِ بْنِ جَابِرٍ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ قَالَ فِي أَخَوَاتٍ لِأَبٍ وَأُمٍّ وَإِخْوَةٍ وَأَخَوَاتٍ لِأَبٍ أَنَّهُ كَانَ يُعْطِي لِلْأَخَوَاتِ مِنْ الْأَبِ وَالْأُمِّ الثُّلُثَيْنِ وَمَا بَقِيَ فَلِلذُّكُورِ دُونَ الْإِنَاثِ فَقَالَ حَكِيمٌ قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ هَذَا مِنْ عَمَلِ الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ يَرِثَ الرِّجَالُ دُونَ النِّسَاءِ إِنَّ إِخْوَتَهُنَّ قَدْ رُدُّوا عَلَيْهِنَّ

اسماعیل بیان کرتے ہیں ہم نے حکیم بن جابر کے پاس یہ بات ذکر کی کہ حضرت ابن مسعود سگی بہنوں اور باپ کی طرف والے بہن بھائیوں کے بارے میں یہ فتوی دیتے ہیں کہ سگی بہنوں کو دو تہائی حصہ ملے گا اور باقی بچ جانے والا مال باپ کی طرف سے بھائیوں کو ملے گا باپ کو کچھ نہیں ملے گا تو حکیم نے جواب دیا حضرت زید بن ثابت فرماتے ہیں یہ زمانہ جاہلیت کا کام ہے کہ مردوں کو وارث قرار دیا جائے۔ اور عورتوں کو نہ دیا جائے وہ بہنیں دوسری بہنوں کو وراثت میں شریک کریں گی۔

ذَكَرْنَا عِنْدَ حَكِيمِ بْنِ جَابِرٍ ← إِسْمَعِيلُ ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← سَعِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 2932

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 2933

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا كَانَتْ تُشَرِّكُ بَيْنَ ابْنَتَيْنِ وَابْنَةِ ابْنٍ وَابْنِ ابْنٍ تُعْطِي الِابْنَتَيْنِ الثُّلُثَيْنِ وَمَا بَقِيَ فَشَرِيكُهُمْ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ لَا يُشَرِّكُ يُعْطِي الذُّكُورَ دُونَ الْإِنَاثِ وَقَالَ الْأَخَوَاتُ بِمَنْزِلَةِ الْبَنَاتِ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا دو بیٹیوں اور ایک پوتی اور پوتے کو وراثت میں شریک قرار دیتی تھیں دو بیٹیوں کو دو تہائی حصہ دیتی تھیں۔ اور باقی بچ جانے والے مال میں پوتی کو حصہ قرار دیتی تھیں۔ حضرت عبداللہ انہیں شریک قرار نہیں دیتے تھے وہ صرف مردوں پوتوں کو وراثت میں حصہ دیتے تھے لڑکیوں کو وراثت میں حصہ نہیں دیتے تھے یہ ارشاد فرماتے تھے بہنیں بھی بیٹیوں کی مانند ہیں۔

عَائِشَةَ ← مَسْرُوقٍ ← معبد بن خالد، ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 2933

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 2936

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ هِشَامٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ شُرَيْحٍ فِي امْرَأَةٍ تَرَكَتْ زَوْجَهَا وَأُمَّهَا وَأُخْتَهَا لِأَبِيهَا وَأُمِّهَا وَأُخْتَهَا لِأَبِيهَا وَإِخْوَتَهَا لِأُمِّهَا جَعَلَهَا مِنْ سِتَّةٍ ثُمَّ رَفَعَهَا فَبَلَغَتْ عَشْرَةً لِلزَّوْجِ النِّصْفُ ثَلَاثَةُ أَسْهُمٍ وَلِلْأُخْتِ مِنْ الْأَبِ وَالْأُمِّ النِّصْفُ ثَلَاثَةُ أَسْهُمٍ وَلِلْأُمِّ السُّدُسُ سَهْمٌ وَلِلْإِخْوَةِ مِنْ الْأُمِّ الثُّلُثُ سَهْمَانِ وَلِلْأُخْتِ مِنْ الْأَبِ سَهْمٌ تَكْمِلَةُ الثُّلُثَيْنِ

قاضی شریح لیثی عورت کے بارے میں فرماتے تھے جس نے پسماندگان میں شوہر ماں، سگی بہن اور باپ کی طرف سے شریک بہن اور ماں کی طرف سے شریک بھائی چھوڑے ہوں۔ قاضی صاحب یہ تقسیم چھ سے شروع کرتے تھے۔ پھر اسے بڑھا کر دس تک لے آتے تھے جس میں سے شوہر کو نصف حصہ دیتے ہیں جوتین حصے ہیں سگی بہن کو نصف دیتے ہیں۔ یہ تین حصے ہیں۔ ماں کو چھٹاحصہ دیتے ہیں جو ایک حصہ ہے ماں کی طرف سے شریک بھائیوں کو ایک تہائی حصہ دیتے ہیں یہ دوحصے ہیں اور باپ کی طرف سے شریک بہن کو ایک حصہ دیتے ہیں یوں دوتہائی حصے کو مکمل کر دیتے ہیں۔

مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← هِشَامٍ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 2936

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 2949

أَخبَرَنَا الأَسوَدُ بنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنَا شُعبَۃُ ، عَن عَمر و بن مُرَّۃَ عَن أَبِی بُردَۃَ قَالَ لَقِیتُ مَروَانَ بنَ الحَکَمِ بِالمَدِینَۃِ فَقَالَ یَا ابنَ أَبِی مُوسٰی أَلَم أُخُبَرُ أَنَّ الجَدَّ لَا یُنُزَلُ فِیکُم مَنذِلَۃِ الأَب وَأَنتَ لَاتُنکبِرُ؟ قَالَ قُلتُ وَلَو کُنتَ أَنُتَ لَمُ تُنکِرُ۔ قَالَ مَرُوَانُ فَأَنَا أَشھَدُ عَلٰی عُثمَانَ بنِ عَفَّانَ أَنَّہ شَھِدَ عَلَی أَبِی أَنہ جَعَلَ الجَدَّأَبًا اِذَا لَم یَکُنُ دُونَہ أَبٌ۔

سیدنا ابوبردۃؓ کہتے ہیں کہ مدینہ میں مروان بن حکم سے میری ملاقات ہوئی انہوں نے کہا: اے ابن ابو موسیٰ؟ مجھے خبر ملی ہے کہ تم لوگوں میں دادا کو باپ کی جگہ پر شمار نہیں کیا جاتا اور تم اسے روکتے نہیں ہو میں نے کہا :" آ پ ہوتے تو آپ بھی نہ روکتے۔" مروان نے کہا:" میں سیدنا عثمانؓ بن عفان کے متعلق گواہی دیتا ہوں کہ انہوں نے ابوبکر ؓ کے متعلق گواہی دی کہ انہوں نے دادا کو باپ قرار دیا۔ جبکہ اس کے نیچے کوئی اور باپ نہ ہو۔"

یَا ابنَ أَبِی مُوسٰی أَلَم أُخُبَرُ ← لَقِیتُ مَروَانَ بنَ الحَکَمِ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← عَمر و بن مُرَّۃَ ← شُعْبَةُ، ← الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ،

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 2949

chevron_left Previous
1…262728…1,219
Next chevron_right