Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الزواج والأسرة

Marriage & Family

24361 hadiths

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 73

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ عُقَيْلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ الذِّكْرَ وَيُقِلُّ اللَّغْوَ وَيُطِيلُ الصَّلَاةَ وَيُقْصِرُ الْخُطْبَةَ وَلَا يَأْنَفُ وَلَا يَسْتَنْكِفُ أَنْ يَمْشِيَ مَعَ الْأَرْمَلَةِ وَالْمِسْكِينِ فَيَقْضِيَ لَهُمَا حَاجَتَهُمَا

زہری بیان کرتے ہیں جبرائیل نے یہ بات بیان کی روئے زمین میں دس گھروں پر مشتمل جو بھی بستی ہے میں اس کا جائزہ لیا ہے۔ میں نے ان میں سے کسی ایک شخص کو بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ مال خرچ کرنے والا نہیں پایا۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ اَبِیْ اَوْفٰی ← یَّحْیَی بْنِ عَقِیلٍ ← الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی ← مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 73

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 100

أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ عَنْ النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَةَ قَالَ مَا خَطَبَ عَبْدُ اللَّهِ خُطْبَةً بِالْكُوفَةِ إِلَّا شَهِدْتُهَا فَسَمِعْتُهُ يَوْمًا وَسُئِلَ عَنْ رَجُلٍ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ ثَمَانِيَةً وَأَشْبَاهِ ذَلِكَ قَالَ هُوَ كَمَا قَالَ ثُمَّ قَالَ إِنَّ اللَّهَ أَنْزَلَ كِتَابَهُ وَبَيَّنَ بَيَانَهُ فَمَنْ أَتَى الْأَمْرَ مِنْ قِبَلِ وَجْهِهِ فَقَدْ بُيِّنَ لَهُ وَمَنْ خَالَفَ فَوَاللَّهِ مَا نُطِيقُ خِلَافَكُمْ

حضرت ابن مسعود اور حضرت حذیفہ ایک جگہ تشریف فرما تھے ایک شخص آیا اس نے ان دونوں حضرات سے ایک چیز کے بارے میں سوال کیا حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے حضرت حذیفہ سے کہا آپ کے خیال میں یہ لوگ کس وجہ سے مجھ سے یہ سوال کر رہے ہیں۔ انہوں نے جواب دیا : یہ لوگ علم بھی رکھتے ہیں اور پھر اسے ترک بھی کر دیتے ہیں ۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس شخص کی طرف رخ کیا اور ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ کی کتاب میں موجود کسی بھی چیز کے بارے میں تم ہم سے جو بھی سوال کرو گے ہمیں اس کا علم ہوگا تو ہم اس سے تمہیں آگاہ کردیں گے لیکن جو تم نے خود ایجاد کیا ہے اس کی ہمارے اندر طاقت نہیں ہے۔

ثُمَّ ← هُوَ كَمَا ← رَجُلٍ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ ثَمَانِيَةً وَأَشْبَاهِ ذَلِكَ ← يَوْمًا وَسُئِلَ ← مَا خَطَبَ عَبْدُ اللَّهِ خُطْبَةً بِالْكُوفَةِ إِلَّا شَهِدْتُهَا ← النَّزَّالِ بْنِ1 سَبْرَةَ، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، ← الْمَسْعُودِيِّ ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 100

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 108

أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ إِنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ الْبَارِحَةَ ثَمَانِيًا قَالَ بِكَلَامٍ وَاحِدٍ قَالَ بِكَلَامٍ وَاحِدٍ قَالَ فَيُرِيدُونَ أَنْ يُبِينُوا مِنْكَ امْرَأَتَكَ قَالَ نَعَمْ قَالَ وَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ إِنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ مِائَةَ طَلْقَةٍ قَالَ بِكَلَامٍ وَاحِدٍ قَالَ بِكَلَامٍ وَاحِدٍ قَالَ فَيُرِيدُونَ أَنْ يُبِينُوا مِنْكَ امْرَأَتَكَ قَالَ نَعَمْ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ مَنْ طَلَّقَ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ فَقَدْ بَيَّنَ اللَّهُ الطَّلَاقَ وَمَنْ لَبَّسَ عَلَى نَفْسِهِ وَكَّلْنَا بِهِ لَبْسَهُ وَاللَّهِ لَا تُلَبِّسُونَ عَلَى أَنْفُسِكُمْ وَنَتَحَمَّلُهُ نَحْنُ هُوَ كَمَا تَقُولُونَ

شعبی بیان کرتے ہیں کہ قیاس کرنے سے بچو اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اگر تم قیاس پر عمل کرنا شروع کردو گے تو حرام کو حلال ٹھہراؤ گے اور حلال کو حرام قرار دوگے۔ بلکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے جو احکام تم تک پہنچے ہیں ان پر عمل کرو۔

نَعَمْ ← فَيُرِيدُونَ أَنْ يُبِينُوا مِنْكَ امْرَأَتَكَ ← بِكَلَامٍ وَاحِدٍ ← بِكَلَامٍ وَاحِدٍ ← إِنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ مِائَةَ طَلْقَةٍ ← وَجَاءَهُ رَجُلٌ ← نَعَمْ ← فَيُرِيدُونَ أَنْ يُبِينُوا مِنْكَ امْرَأَتَكَ ← بِكَلَامٍ وَاحِدٍ ← بِكَلَامٍ وَاحِدٍ ← إِنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ الْبَارِحَةَ ثَمَانِيًا ← جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللهِ ← عَلْقَمَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← ابْنِ عَوْنٍ ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 108

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 133

130. أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ بَشِيرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ قَالَ قُلْتُ لِسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ مَا لَكَ لَا تَقُولُ فِي الطَّلَاقِ شَيْئًا قَالَ مَا مِنْهُ شَيْءٌ إِلَّا قَدْ سَأَلْتُ عَنْهُ وَلَكِنِّي أَكْرَهُ أَنْ أُحِلَّ حَرَامًا أَوْ أُحَرِّمَ حَلَالًا

ابن عون بیان کرتے ہیں شعبی کے سامنے جب کوئی سوال آتا تھا تو وہ بچنے کی کوشش کرتے تھے جبکہ ابراہیم ایک جواب دیتے تھے پھر ایک جواب دیتے تھے پھر ایک جواب دیتے تھے۔ ابوعاصم کہتے ہیں اس بارے میں شعبی کی حالت ابراہیم سے بہتر تھی یہ ابن عون کا خیال ہے۔

قُلْتُ لِسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ مَا لَكَ لَا تَقُولُ فِي الطَّلَاقِ شَيْئًا ← جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ، ← شُعْبَةُ، ← أَحْمَدُ بْنُ بَشِيرٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 133

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 177

أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَبِي رَجَاءٍ عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ أَنَّ أَبَا مُوسَى قَالَ فِي خُطْبَتِهِ مَنْ عَلِمَ عِلْمًا فَلْيُعَلِّمْهُ النَّاسَ وَإِيَّاهُ أَنْ يَقُولَ مَا لَا عِلْمَ لَهُ بِهِ فَيَمْرُقَ مِنْ الدِّينِ وَيَكُونَ مِنْ الْمُتَكَلِّفِينَ

حضرت عبداللہ بیان کرتے ہیں تم میں سے جس شخص کو جس چیز کا علم ہو اسے اس کے بارے میں بتا دینا چاہیے اور یہ کہنا چاہیے کہ اللہ بہتر جانتا ہے ۔ چونکہ جب کسی عالم سے کسی ایسی چیز کے بارے میں دریافت کیا جائے جس کا علم نہ ہو اور وہ یہ کہ دے اللہ بہتر جانتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول سے یہ بات ارشاد فرمائی ہے۔ تم فرمادو میں اس بات پر تم سے کوئی اجر نہیں مانگ رہا اور نہ ہی میں اپنی طرف سے بنا کر کوئی بات بیان کرتا ہوں۔

مَا لَا عِلْمَ لَهُ بِهِ فَيَمْرُقَ مِنْ الدِّينِ وَيَكُونَ مِنْ الْمُتَكَلِّفِينَ ← فِي خُطْبَتِهِ مَنْ عَلِمَ عِلْمًا فَلْيُعَلِّمْهُ النَّاسَ وَإِيَّاهُ أَنْ ← أَبِي الْمُهَلَّبِ أَنَّ أَبَا مُوسَى ← أَبِي رَجَاءٍ، ← حُمَيْدٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 177

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 230

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الزَّهْرَانِيُّ أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ هُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ شَهِدَ خُطْبَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ عَرَفَةَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي وَاللَّهِ لَا أَدْرِي لَعَلِّي لَا أَلْقَاكُمْ بَعْدَ يَوْمِي هَذَا بِمَكَانِي هَذَا فَرَحِمَ اللَّهُ مَنْ سَمِعَ مَقَالَتِي الْيَوْمَ فَوَعَاهَا فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ وَلَا فِقْهَ لَهُ وَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ وَاعْلَمُوا أَنَّ أَمْوَالَكُمْ وَدِمَاءَكُمْ حَرَامٌ عَلَيْكُمْ كَحُرْمَةِ هَذَا الْيَوْمِ فِي هَذَا الشَّهْرِ فِي هَذَا الْبَلَدِ وَاعْلَمُوا أَنَّ الْقُلُوبَ لَا تُغِلُّ عَلَى ثَلَاثٍ إِخْلَاصِ الْعَمَلِ لِلَّهِ وَمُنَاصَحَةِ أُولِي الْأَمْرِ وَعَلَى لُزُومِ جَمَاعَةِ الْمُسْلِمِينَ فَإِنَّ دَعْوَتَهُمْ تُحِيطُ مِنْ وَرَائِهِمْ

حضرت معاویہ روایت کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ جس شخص کے بارے میں بھلائی کا ارادہ کرے اسے دین کی سمجھ بوجھ عطا کر دیتا ہے ۔

مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ← عبد الرحمن بن الحويرث ← عَمْرُو بْنُ اَبِیْ عَمْرِو ← إِسْمَعِيلُ هُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الزَّهْرَانِيُّ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 230

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 665

أَخْبَرَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ قَالَ تَذَاكَرْنَا بِمَكَّةَ الرَّجُلَ يَمُوتُ فَقُلْتُ عِدَّتُهَا مِنْ يَوْمِ يَأْتِيهَا الْخَبَرُ لِقَوْلِ الْحَسَنِ وَقَتَادَةَ وَأَصْحَابِنَا قَالَ فَلَقِيَنِي طَلْقُ بْنُ حَبِيبٍ الْعَنَزِيُّ فَقَالَ إِنَّكَ عَلَيَّ كَرِيمٌ وَإِنَّكَ مِنْ أَهْلِ بَلَدٍ الْعَيْنُ إِلَيْهِمْ سَرِيعَةٌ وَإِنِّي لَسْتُ آمَنُ عَلَيْكَ وَإِنَّكَ قُلْتَ قَوْلًا هَا هُنَا خِلَافَ قَوْلِ أَهْلِ الْبَلَدِ وَلَسْتُ آمَنُ فَقُلْتُ وَفِي ذَا اخْتِلَافٌ قَالَ نَعَمْ عِدَّتُهَا مِنْ يَوْمِ يَمُوتُ فَلَقِيتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ عِدَّتُهَا مِنْ يَوْمِ تُوُفِّيَ قَالَ وَسَأَلْتُ مُجَاهِدًا فَقَالَ عِدَّتُهَا مِنْ يَوْمِ تُوُفِّيَ وَسَأَلْتُ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ فَقَالَ مِنْ يَوْمِ تُوُفِّيَ وَسَأَلْتُ أَبَا قِلَابَةَ فَقَالَ مِنْ يَوْمِ تُوُفِّيَ وَسَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ سِيرِينَ فَقَالَ مِنْ يَوْمِ تُوُفِّيَ وَحَدَّثَنِي نَافِعٌ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ مِنْ يَوْمِ تُوُفِّيَ و سَمِعْت عِكْرِمَةَ يَقُولُ مِنْ يَوْمِ تُوُفِّيَ قَالَ وَقَالَ جَابِرُ بْنُ زَيْدٍ مِنْ يَوْمِ تُوُفِّيَ قَالَ وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ مِنْ يَوْمِ تُوُفِّيَ قَالَ حَمَّادٌ وَسَمِعْتُ لَيْثًا حَدَّثَ عَنْ الْحَكَمِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ قَالَ مِنْ يَوْمِ تُوُفِّيَ قَالَ تُوُفِّيَ عَلِيٌّ مِنْ يَوْمِ يَأْتِيهَا الْخَبَرُ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَقُولُ مِنْ يَوْمِ تُوُفِّيَ

ایوب بیان کرتے ہیں ہم مکہ میں ایک ایسے شخص کا ذکر کررہے تھے جو فوت ہوچکا تھا میں نے کہا اس کی بیوی کی عدت اس دن سے شروع ہوگی جب اس شخص کی وفات کی اطلاع ملے گی کیونکہ حسن بصری قتادہ اور ہمارے مشائخ کی یہی رائے ہے۔ ایوب بیان کرتے ہیں پھر میری ملاقات طلق بن حبیب عنزی سے ہوئی تو وہ بولے آپ مجھ پر بڑے مہربان ہیں آپ اس علاقے سے تعلق رکھتے ہیں جن کی طرف لوگوں کی نظریں تیزی سے جاتی ہیں اور میں آپ کے بارے میں امن میں نہیں ہوں اس نے یہ بھی کہا کہ آپ نے یہاں ایک بات کی ہے جو اس شہر کے اہل علم کے قول کے خلاف ہے اس لئے میں مطمئن نہیں ہوں میں نے دریافت کیا اس کے بارے میں اختلاف ہے اس نے جواب دیا جی ہاں۔ اس عورت کی عدت اس دن سے شروع ہوگئی جب وہ شخص فوت ہوا تھا کیونکہ میری ملاقات حضرت سعید بن جبیر سے ہوئی تھی اور میں نے یہی سوال ان سے کیا تھا تو انہوں نے جواب دیا تھا کہ اس عورت کی عدت اس دن سے شروع ہوگی جب وہ مرد فوت ہوا تھا پھر میں نے مجاہد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سوال کیا تو انہوں نے بھی یہی جواب دیا۔ پھر میں نے عطاء بن ابی رباح سے سوال کیا تو انہوں نے بھی یہی جواب دیا، پھر میں نے ابوقلابہ سے سوال کیا تو انہوں نے بھی یہی جواب دیا کہ وفات کے دن سے ہوگی پھر میں نے محمد بن سیرین سے سوال کیا تو انہوں نے بھی یہی جواب دیا کہ وفات کے دن سے ہوگی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ نافع نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے بھی یہ بات ارشاد فرمائی ہے کہ اس دن سے شروع ہوگی جس دن اس کے مرد کا انتقال ہوا ہے ۔ میں نے عکرمہ کو اور حضرت جابر بن زید کو اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کو بھی یہی فتوی دیتے سنا ہے کہ وفات کے دن سے آغاز ہوگا۔ حماد بیان کرتے ہیں میں نے لیث کو حکم کے حوالے سے یہ بات بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود یہ ارشاد فرمایا کرتے تھے کہ وفات کے دن سے آغاز ہوگا۔ وہ یہ بھی بیان کرتے ہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہ ارشاد فرمایا جس دن اس کی وفات کی خبر آئے گی اس دن سے آغاز ہوگا۔ عبداللہ بن عبدالرحمن فرماتے ہیں تو میں نے بھی یہی فتوی دیا کہ وفات کے دن سے حساب شمار ہوگا۔

أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← عَفَّانُ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 665

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 936

أَخْبَرَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دِينَارٍ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنْ الْحَسَنِ فِي الْمُطَلَّقَةِ الَّتِي ارْتِيبَ بِهَا تَرَبَّصُ سَنَةً فَإِنْ حَاضَتْ وَإِلَّا تَرَبَّصَتْ بَعْدَ انْقِضَاءِ السَّنَةِ ثَلَاثَةَ أَشْهُرٍ فَإِنْ حَاضَتْ وَإِلَّا فَقَدْ انْقَضَتْ عِدَّتُهَا

یونس بیان کرتے ہیں جس عورت کو حیض آنا بند ہوجائے اور اسے طلاق دی جائے اس کے بارے میں حضرت حسن بصری فرماتے ہیں وہ ایک سال تک انتظار کرے گی اگر حیض آجائے تو ٹھیک ہے ورنہ ایک سال گزرنے کے بعد وہ تین ماہ تک انتظار کرے گی اگر اس دوران حیض آ جائے توٹھیک ہے ورنہ اس کی عدت ختم ہوجائے گی ۔

يُونُسَ ← مُحَمَّدُ بْنُ دِينَارٍ؛ ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 936

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 937

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ قَالَ سُئِلَ مَالِكٌ عَنْ عِدَّةِ الْمُسْتَحَاضَةِ إِذَا طُلِّقَتْ فَحَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّهُ قَالَ عِدَّتُهَا سَنَةٌ قَالَ أَبُو مُحَمَّد هُوَ قَوْلُ مَالِكٍ

امام مالک سے مستحاضہ عورت کی عدت کے بارے میں دریافت کیا گیا اگر اسے طلاق دی جائے؟ توامام مالک نے ابن شہاب زہری کے حوالے سے سعید بن مسیب کو یہ قول نقل کیا ہے ایسی عورت کی مدت ایک برس ہے۔ امام ابومحمد دارمی فرماتے ہیں امام مالک بھی اسی بات کے قائل ہیں۔

أَبُو مُحَمَّد هُوَ قَوْلُ مَالِكٍ ← عِدَّتُهَا سَنَةٌ ← سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← عِدَّةِ الْمُسْتَحَاضَةِ إِذَا طُلِّقَتْ فَحَدَّثَنَا مَالِكٌ ← سُئِلَ مَالِكٌ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ،

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 937

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 940

أَخْبَرَنَا خَلِيفَةُ بْنُ خَيَّاطٍ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ الْمُسْتَحَاضَةُ وَالَّتِي لَا يَسْتَقِيمُ لَهَا حَيْضٌ فَتَحِيضُ فِي شَهْرٍ مَرَّةً وَفِي الشَّهْرِ مَرَّتَيْنِ عِدَّتُهَا ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ

عکرمہ فرماتے ہیں استحاضہ میں مبتلا عورت اور وہ عورت جسے باقاعدگی سے حیض نہیں آتا کبھی مہینے میں ایک مرتبہ آتا ہے اور کبھی مہینے میں دو مرتبہ آجاتا ہے ایسی عورت تین ماہ تک عدت بسر کرے گی۔

عِكْرِمَةَ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← غُنْدَرٌ، ← خَلِیفَۃُ بْنُ خَیَّاطٍ

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 940

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 942

حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ عِدَّةُ الْمُسْتَحَاضَةِ سَنَةٌ

سعید بن مسیب فرماتے ہیں مستحاضہ عورت کی عدت ایک برس ہے۔

عِدَّةُ الْمُسْتَحَاضَةِ سَنَةٌ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مَالِكٍ، ← خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 942

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 946

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ خَالِدٍ عَنْ الْهِقْلِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ قَالَ سَأَلْتُ الزُّهْرِيَّ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ شَابَّةٌ تَحِيضُ فَانْقَطَعَ عَنْهَا الْمَحِيضُ حِينَ طَلَّقَهَا فَلَمْ تَرَ دَمًا كَمْ تَعْتَدُّ قَالَ ثَلَاثَةَ أَشْهُرٍ قَالَ وَسَأَلْتُ الزُّهْرِيَّ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ فَحَاضَتْ حَيْضَتَيْنِ ثُمَّ ارْتَفَعَتْ حَيْضَتُهَا كَمْ تَرَبَّصُ قَالَ عِدَّتُهَا سَنَةٌ

امام اوزاعی فرماتے ہیں میں امام زہری سے سوال کیا جو شخص اپنی بیوی کو طلاق دے وہ عورت نوجوان ہو اسے حیض آتا ہو اور پھر جب اس مرد نے اسے طلاق دی تو اس عورت کو حیض آنا بند ہوجائے اور خون دکھائی نہ دے وہ کتنی عدت بسر کرے گی؟ تو امام اوزاعی نے جواب دیا۔ تین ماہ۔ امام اوزاعی فرماتے ہیں میں نے امام زہری سے سوال کیا جو شخص اپنی بیوی کو طلاق دے اس عورت کو دو مرتبہ حیض آجائے تو وہ کتنے عرصے تک عدت بسر کرے گی؟ امام زہری نے جواب دیا اس کی عدت ایک برس ہوگی۔

الْاَوْزَاعِیُّ ← الْهِقْلُ بْنُ زِيَادٍ، ← مُوسَى بْنُ خَالِدٍ

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 946

Sahih

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 947

قَالَ وَسَأَلْتُ الزُّهْرِيَّ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ تَحِيضُ تَمْكُثُ ثَلَاثَةَ أَشْهُرٍ ثُمَّ تَحِيضُ حَيْضَةً ثُمَّ يَتَأَخَّرُ عَنْهَا الْحَيْضُ ثُمَّ تَمْكُثُ السَّبْعَةَ الْأَشْهُرَ وَالثَّمَانِيَةَ ثُمَّ تَحِيضُ أُخْرَى تَسْتَعْجِلُ إِلَيْهَا مَرَّةً وَتَسْتَأْخِرُ أُخْرَى كَيْفَ تَعْتَدُّ قَالَ إِذَا اخْتَلَفَتْ حِيضَتُهَا عَنْ أَقْرَائِهَا فَعِدَّتُهَا سَنَةٌ

امام اوزاعی فرماتے ہیں میں نے امام زہری سے سوال کیا ایک شخص اپنی بیوی کو طلاق دے دیتا ہے اس عورت کو حیض آتا ہے لیکن تین ماہ بعد آتا ہے پھر حیض آنا بند ہوجاتا ہے اور سات یا آٹھ ماہ بعد آتا ہے کبھی حیض جلدی آجاتا ہے اور کبھی حیض تاخیر سے آتا ہے وہ کیسے عدت بسر کرے گی؟ امام زہری نے جواب دیا جب اس کے حیض اور طہر کے درمیان فرق آ جائے تو اس کی عدت ایک برس ہوگی۔

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 947

Sahih

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1322

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ جَدَّتَهُ مُلَيْكَةَ دَعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِطَعَامٍ صَنَعَتْهُ فَأَكَلَ ثُمَّ قَالَ قُومُوا فَلِأُصَلِّيَ بِكُمْ قَالَ أَنَسٌ فَقُمْتُ إِلَى حَصِيرٍ لَنَا قَدْ اسْوَدَّ مِنْ طُولِ مَا لُبِسَ فَنَضَحْتُهُ بِمَاءٍ فَقَامَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَفَفْتُ أَنَا وَالْيَتِيمُ وَرَاءَهُ وَالْعَجُوزُ وَرَاءَنَا فَصَلَّى لَنَا رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ انْصَرَفَ

حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں ان کی دادی سیدہ ملیکہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کھانا تیار کیا آپ نے اسے کھا لیا تو پھر ارشاد فرمایا اٹھو میں تمہیں نماز پڑھاتا ہوں حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں میں ایک چٹائی کی طرف بڑھا جو طویل استعمال کی وجہ سے سیاہ ہوچکی تھی میں نے اسے پانی کے ذریعے دھویا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر کھڑے ہوئے میں اور یتیم نے آپ کے پیچھے صف قائم کی جبکہ بزرگ خواتین ہمارے پیچھے کھڑی ہوئیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو رکعت پڑھانے کے بعد سلام پھیر دیا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← إِسْحَقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ← مَالِكٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ،

Sunan Darmi · From the prayer book › Door · Hadith 1322

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1595

أَخْبَرَنَا الْعَلَاءُ بْنُ عُصَيْمٍ الْجُعْفِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبْجَرَ حَدَّثَنِي أَبِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبْجَرَ عَنْ وَاصِلِ بْنِ حَيَّانَ عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ خَطَبَنَا عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ فَأَبْلَغَ وَأَوْجَزَ فَقُلْنَا يَا أَبَا الْيَقْظَانِ لَوْ كُنْتَ نَفَّسْتَ شَيْئًا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ طُولَ صَلَاةِ الرَّجُلِ وَقِصَرَ خُطْبَتِهِ مَئِنَّةٌ مِنْ فِقْهِهِ فَأَطِيلُوا هَذِهِ الصَّلَاةَ وَاقْصُرُوا هَذِهِ الْخُطَبَ وَإِنَّ مِنْ الْبَيَانِ سِحْرًا

ابووائل بیان کرتے ہیں حضرت عمار بن یاسر نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے نہایت بلیغ اور مختصر خطبہ دیا ہم نے درخواست کی اے ابویقظان اگر آپ مزید خطبہ دیتے تو یہ مناسب تھا انہوں نے فرمایا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بے شک آدمی کا طویل نماز ادا کرنا اور مختصر خطبہ دینا اس کے سمجھدار ہونے کی نشانی ہے اس لئے تم لوگ نماز لمبی ادا کیا کرو اور خطبہ چھوٹا رکھا کرو اور بے شک بعض بیان جادو ہوتے ہیں۔

أَوْجَزَ فَقُلْنَا يَا أَبَا الْيَقْظَانِ لَوْ كُنْتَ نَفَّسْتَ شَيْئًا ← خَطَبَنَا عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ فَأَبْلَغَ ← أَبِي وَائِلٍ ← وَاصِلِ بْنِ حَيَّانَ ← أَبِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبْجَرَ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبْجَرَ، ← الْعَلَاءُ بْنُ عُصَيْمٍ الْجُعْفِيُّ

Sunan Darmi · From the prayer book › Door · Hadith 1595

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1596

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَتْ صَلَاتُهُ قَصْدًا وَخُطْبَتُهُ قَصْدًا

حضرت جابر بن سمرہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کی ہے آپ کی نماز بھی معتدل ہوتی تھی اور خطبہ بھی معتدل ہوتا تھا۔

صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ فَكَانَتْ صَلَاتُهُ قَصْدًا وَخُطْبَتُهُ قَصْدًا ← جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← سِمَاكٍ، ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ

Sunan Darmi · From the prayer book › Door · Hadith 1596

Sahih

سنن دارمی · من كتاب العيدين ‹ باب · حديث 1641

أَخْبَرَنَا يَعْلَى حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ شَهِدْتُ الصَّلَاةَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ عِيدٍ فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں مجھے عید کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز میں شریک ہونے کا شرف حاصل ہے آپ نے خطبہ دینے سے پہلے نماز ادا کی تھی اور یہ نماز اذان اور اقامت کے بغیر تھی۔

جَابِرٍ ← عَطَاءٍ، ← عَبْد الْمَلِكِ؛ ← يعلى

Sunan Darmi · From the book of the two feasts › Door · Hadith 1641

سنن دارمی · من كتاب العيدين ‹ باب · حديث 1642

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنِي ابْنُ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنِي أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ قَالَ سَمِعْتُ عَطَاءً يَقُولُ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ أَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ بَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ يَوْمَ الْعِيدِ ثُمَّ خَطَبَ فَرَأَى أَنَّهُ لَمْ يُسْمِعْ النِّسَاءَ فَأَتَاهُنَّ فَذَكَّرَهُنَّ وَوَعَظَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ أَنْ يَتَصَدَّقْنَ وَبِلَالٌ قَابِضٌ بِثَوْبِهِ فَجَعَلَتْ الْمَرْأَةُ تَجِيءُ بِالْخُرْصِ وَالشَّيْءِ ثُمَّ تُلْقِيهِ فِي ثَوْبِ بِلَالٍ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات گواہی دے کر کہتا ہوں کہ آپ نے عید کے دن خطبہ دینے سے پہلے نماز ادا کی تھی پھر آپ نے خطبہ دیا تھا پھر آپ نے یہ مناسب سمجھا کہ خواتین تک آواز نہیں پہنچی تو آپ خواتین کے پاس تشریف لے گئے انہیں بطور خاص وعظ ونصحیت کی اور صدقہ کرنے کی ہدایت کی تو حضرت بلال نے اپنے کپڑے کو پھیلا لیا تو خواتین نے اپنی انگوٹھیاں وغیرہ اور دیگر چیزیں حضرت بلال کے کپڑے میں ڈال دیں۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ، ← اَیُّوْبَ السَّخْتِیَانِیِّ ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Sunan Darmi · From the book of the two feasts › Door · Hadith 1642

سنن دارمی · من كتاب العيدين ‹ باب · حديث 1643

أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ يُصَلُّونَ قَبْلَ الْخُطْبَةِ فِي الْعِيدِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ، حضرت عمر اور حضرت عثمان کی اقتداء میں نماز عید ادا کرنے کا شرف حاصل ہوا ہے یہ حضرات عید کے دن خطبہ دینے سے پہلے نماز ادا کرتے تھے۔

شَهِدْتُ النَّبِيَّ وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ يُصَلُّونَ قَبْلَ الْخُطْبَةِ فِي الْعِيدِ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← طَاوْسٍ ← الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← أَبُو عَاصِمٍ

Sunan Darmi · From the book of the two feasts › Door · Hadith 1643

سنن دارمی · من كتاب العيدين ‹ باب · حديث 1645

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ سَعْدٍ الْمُؤَذِّنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَبِّرُ فِي الْعِيدَيْنِ فِي الْأُولَى سَبْعًا وَفِي الْأُخْرَى خَمْسًا وَكَانَ يَبْدَأُ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ

عبداللہ بن محمد اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عیدین کی نماز میں پہلی رکعت میں سات تکبیریں کہا کرتے تھے اور دوسری رکعت میں پانچ تکبیریں کہا کرتے تھے آپ خطبہ دینے سے پہلے نماز ادا کیا کرتے تھے۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارٍ ← عبد الرحمن بن سعد بن عمار بن سعد المؤذن ← أَحْمَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ،

Sunan Darmi · From the book of the two feasts › Door · Hadith 1645

chevron_left Previous
1…242526…1,219
Next chevron_right