حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: ایک شخص بلند آواز سے ذکر کیا کرتا تھا۔ اس کے متعلق ایک آدمی نے کہا: یہ اپنی آواز پست کیوں نہیں کرتا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ بہت آہیں بھرنے والا شخص ہے، حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب وہ شخص فوت ہوا تو ایک آدمی نے اس کی قبر میں نور دیکھا تو وہ آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی کے بارے میں سوچ رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے: چلو اپنے ساتھی کے پاس چلو (جب وہاں جا کردیکھا) تو یہ اسی شخص کی قبر تھی جو بلند آواز سے ذکر کرتا تھا۔
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں :ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تقریباًایک ہزار سوار تھے ،ایک جگہ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑا و ڈالا اور دو رکعتیں پڑھائیں ۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے،حضرت عمر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اٹھ کر کھڑے ہوئے اور کہنے لگے :یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربا ن ہوں ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا ہوا؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :میں نے اپنے رب سے اپنی والدہ کے لیئے دعائے مغفرت کی اجازت مانگی ،لیکن مجھے اجازت نہ ملی تو والدہ کی محبت میں میری آنکھوں سے آنسو نکل آئے ۔میں نے ان کی زیارت کے لئے اجازت مانگی ،تو اس کی مجھے اجازت مل گئی۔میں تمہیں زیارت ِقبور سے منع کرتا تھا ،اب تم ان کی زیارت کیا کرو۔اور ان کی زیارت سےتمہارے اندر اعمال صالح کا جذبہ بڑھےگا۔
حضرت معاویہ بن قرہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں :ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا کرتا تھا اور اس کے ہمراہ اس کا بیٹا بھی ہوتا تھا (ایک مرتبہ )رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا :کیا تم اس سے محبت کرتے ہو :اس نے کہا اللہ آپ سے محبت کرتے جیسا کہ آپ اس سےمحبت کرتے ہیں ۔(پھر وہ ایک عرصہ تک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر نہ ہوا)حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی کمی محسو س کی ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا :فلاں کا کیا ہوا؟صحابہ اکرام رضی اللہ عنہ نے عرض کی :اس کا بیٹا مر گیا ہے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہیں اس بات سے خوشی نہیں ہے کہ تم جنت کے جس دروازے سے بھی داخل ہو ،وہیں پر اسے اپنا منتظر پاؤ ؟ایک شخص نے پوچھا :کیا یہ (فضلیت )صرف اسی کے لیئے ہے یا ہم سب کے لیئے ہے ؟تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (یہ فضلیت صرف اس کے اکیلے کے لئے نہیں ہے )بلکہ تم سب کے لئے ہے۔
حضرت ابو بکر بن محمد بن عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نےاہل یمن کی طرف ایک مکتوب لکھا جس میں فرائض سنتیں اور دیت کے مسائل تھے۔ یہ مکتوب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر و بن حزم کے ہاتھ بھیجا( عمرو کہتے ہیں) میں نے یہ مکتوب اہل یمن کو جا کر سنایا ، اس کا مضمون یہ تھامحمد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے شرحبیل بن عبد کلال اور حارث بن عبد کلال اور نعیم بن کلال اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ذی رعین ،معافر اور ہمدان کی طرف (اللہ تعالی کی حمدو ثنا کے) بعد تمہاراسفیرلوٹ کر آگیا ہے اور تم نے مال غنیمت میں سے اللہ کا پانچواں حصہ دیا ہے اور اللہ تعالی کی جانب سے مومنوں پر ان زمینوں میں جو بارشوں سے سیراب ہوتی ہیں یا جومیدانی ہیں یا جو بلندی والی ہیں ،ان میں عشر فرض کیا ہے۔ چنانچہ جب ان کی پیداوار پانچ وسق تک پہنچ جائے تو اس کا دسواں حصہ لازم ہے۔ جس زمین کوڈ ولوں یا رہٹ سے سینچا جائے ،ان میں اس سے آدھا۔ خودروگھاس چر نے والے اونٹوں میں ہر پانچ میں ایک بکری ہے یہاں تک کہ ۲۴ تک پہنچ جائیں ۔ جب ۲۴ سے ایک بھی زیادہ ہوگئی تو ان میں اونٹنی کی ایک سالہ بچی ہے ،اگر یہ موجودنہ ہوتو پھراونٹنی کا دوسالہ بچہ ۳۵ تک ۳۵ سے ایک بھی زیادہ ہو جائے تو اس میں دو سالہ اونٹنی ۵۴ تک ۔ جب ۴۵ سے ایک بھی زیادہ ہو جائے تو اس میں تین سالہ جوان اونٹنی ۶۰ تک ۔ جب ۶۰سے ایک بھی زیادہ ہو جائے تو اس میں چارسالہ اونٹی ۷۵ تک ۔ جب ۷۵ سے ایک بھی زیادہ ہو جائے تو اس میں دو سالہ دواونٹنیاں ۹۰ تک۔ جب ۹۰ سے ایک بھی زیادہ ہو جائے تو تین سالہ دواونٹنیاں ۱۲۰ تک ۔ جب ۲۰ ا سے زیادہ تعداد ہوتو ہر چالیس میں دوسالہ ایک اونٹنی اور ہر ۵۰ میں ۳ سالہ ایک اونٹنی ۔ہر تیں گائیوں میں ایک بچھڑا ہے۔ ہر ۴۰ گائیوں میں ایک گائے ہے۔ ہر ۴۰ بکر یوں میں ایک بکری ہے یہاں تک کہ ان کی تعداد ۱۲۰ ہو جائے ۔ جب ۱۲۰ سے ایک بھی زیادہ ہوتو ان میں ۲ بکریاں ہیں ۲۰۰ تک ۔ جب ۲۰۰ سے ایک بھی زیادہ ہو جائے تو تین بکریاں ہیں ۳۰۰ تک۔ اس سے بھی اگر زیادہ ہوں تو ہر ۱۰۰ میں ایک بکری۔ اور صدقہ میں بوڑھا، لاغر اور کا نا جانور نہ دیا جائے ۔ اور پورے ریوڑ کو بکرے قرار نہ دیا جائے الا یہ کہ دینے والا خود چا ہے۔ اور صدقہ کے خوف سے متفرق کومجتمع اور مجتمع کومتفرق نہ کیا جائے اور دوشریکوں سے جو کچھ لیا جائے گا وہ دونوں آپس میں برابری کے ساتھ رجوع کرلیں گے۔ اور ہر ۵ او قیہ چاندی میں پانچ درہم میں اوراس سے زیادہ ہوتو ہر چالیس درہموں میں ایک درہم ہے پانچ اوقیہ سے کم میں زکوٰۃ نہیں ہے۔ ہر چالیس دیناروں میں ایک دینار ہے۔ بے شک ’’صدقہ‘‘ محمد اور محمد کے اہل بیت کے لیے حلال نہیں ہے ۔ یہ تو زکوٰۃ ہے جس کے ذریعے تم اپنے آپ کو پاک کرتے ہو، یہ مومن فقراء کے لئے ہے اور مجاہدوں کے لئے ہے اور مسافروں کے لئے ہے۔ اور غلاموں میں زکوٰۃ نہیں ہے اور کھیتی میں اور کھیت میں کام کرنے والوں میں زکوٰۃ نہیں ہے جبکہ وہ اس کاعُشر ادا کرتے ہوں نیز مسلمان غلام میں اور نہ ہی اس کے گھوڑے میں زکوٰۃ ہے، اس تحریر میں یہ بھی تھا اللہ کے نزدیک قیامت کے دن سب سے بڑا گناہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا ہے اور مومن کو ناحق قتل کرتا ہے اور جہاد سے بھا گنا ہے، ماں باپ کی نافرمانی کرنا ، پاک دامنہ خاتون پرزنا کی تہمت لگانا ، جا دوسیکھنا ،سود کھانا اور یتیم کا مال کھانا ہے ۔اور بے شک عمرہ چھوٹاحج ہے اور قر آن کو بغیر طہارت کے ہاتھ نہ لگائیں اور نکاح سے پہلے طلاق نہیں دی جاسکتی اور خریدنے سے پہلے آزادنہیں کیا جاسکتا۔ اور کوئی شخص ایک کپڑے میں اس طرح نماز نہ پڑھے کہ اس کا پہلو ننگا ہو اور کوئی شخص اپنے بالوں کو گوند ھے ہوئے نماز نہ پڑھے اور کوئی شخص ایک کپڑے میں یوں نماز نہ پڑھے کہ اس کے کند ھے پر کچھ نہ ہو۔ اس تحریر میں یہ بھی تھا کہ جس شخص کے لئے کسی مومن کاقتل گواہی سے ثابت ہو جائے تو اس کے لیے قصاص ہو گا ،سوائے اس کے کہ مقتول کے ورثاء راضی ہوں ۔ اور یہ بھی تھا کہ جان کی دیت ایک سواونٹ ہے اور ناک کاٹنے کی بھی دیت ہے اور زبان کی بھی دیت ہے اور ہونٹوں میں دیت ہے اور دونوں پستانوں میں دیت ہے اور ذکر ( آلہ تناسل )میں دیت ہے اور پشت میں دیت اور دونوں آنکھوں میں دیت ہے اور ایک پاؤں کی آدھی دیت ہے۔ اور سر کی چوٹ میں دیت کا ایک تہائی اور پیٹ کے اندر تک گہرے زخم میں دیت کا ثلث۔اور جس زخم میں ہڈی ٹوٹ جائے اس میں بھی دیت کا ایک تہائی ہے۔ اور ہاتھ اور پاؤں کی انگلیوں میں سے ہر انگلی کی ۱۰ اونٹ دیت ہے اور دانت کی ۵ اونٹ اور جس زخم سے ہڈی ظاہر ہو جائے ، اس میں ۵ اونٹ ہیں ۔اور عورت کے بد لے مر دکوقتل کیا جا سکتا ہے اورسونار کھنے والوں پر ایک ہزار د ینار ہیں ۔ اس باب میں یہ حدیث کبیر ہے ،مفسر ہے، اس کے لئے امیر المومنین حضرت عمر بن عبد العزیز رضی اللہ عنہ نے گواہی دی ہے ۔ اور ان کے معاصر علماء کرام ( مثلا ) محمد بن مسلم الزہری نے اس کی صحت کو ثابت رکھا ہے ۔ جیسا کہ پہلے بھی اس کا ذکر گز را ہے۔ اورسلیمان بن داؤ دالدمشقی الخولانی زہری کے(لقب کے )ساتھ معروف ہیں ۔اگر یحیٰ بن معین نے ان کوضعیف قرار دیا ہے ( تو کوئی بات نہیں) کیونکہ ان کے علاوہ دیگر محد ثین رحمتہ اللہ نے ان کو عادل قرار دیا ہے جیسا کہ مجھے ابواحمد حسین بن علی نے عبد الرحمٰن بن ابی حاتم کا یہ بیان سنایا ہے کہ میں نے اپنے والد کو سنا ہے جبکہ ان سے عمرو بن حزم کی اس حد یث کے متعلق پوچھا گیا ،جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان کی طرف لکھے ہوئے صدقات کے متعلق خط کا ذکر تھا تو انہوں نے سلیمان بن داؤ دخولانی کے متعلق کہا: ہمارے نزدیک ان کی روایت نقل کر نے میں کوئی حرج نہیں ہے اور ابوحمد بن ابوحاتم کہتے ہیں: میں نے ابوذر عہ کو بھی یہی کہتے سنا ہے۔ امام حاکم کہتے ہیں :زکوٰۃ کے موضوع پریہ تفصیلی احادیث لکھنے کے حوالے سے میں نے اپنی ہرممکن کوشش کی ہے اور یہ کتاب ان کی شرح سے بے نیاز نہیں ہے اور میں نے اس کی صحت پر ان سندوں کے ساتھ استدلال کیا ہے۔ جوخلفا ء اور تابعین سے مروی ہیں کہ انہوں نے ان کوقبول بھی کیا ہے ۔ اور ان کو استعمال کیا ہے باوجود یکہ اس سلسلہ میں اس شخص کو ضرورت نہیں جس نے اسے معلق رکھا ہے ۔ اور اس سے پہلے وضو کے باب میں عقبہ بن عامرجھنی کی حدیث کے متعلق شعبہ کا یہ کہنا گزر چکا ہے کہ میرے لیے اس طرح کی حدیث کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے صحیح ثابت ہو جانا میرے لیے میرے مال ، میری جان اور تمام اہل وعیال سے بہتر ہے ۔ حالانکہ وہ حد یث نفلی نماز کے متعلق تھی تو اس حدیث کی کیا شان ہو گی جو کہ اسلام کے بنیادی اصولوں میں سے ہے اوراللہ ہی تو فیق دینے والا ہے ۔اور وہی کافی ہے اور بہت ہی بہتر کارساز ہے۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Zakat Book › Insurance section · Hadith 1447
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ النَّمْلِ · حديث 3527
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ لوگ عنقریب جان جائیں گے کہ میں ان کو دنیا میں جو کچھ کہا کرتا تھا وہ حق ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنی نبی ﷺ سے فرمایا: انک لاتسمع الموتی ولا تسمع الصم الدعا اذا ولوا مدبرین (النمل:80) " بےشک تمہارے سنائے نہیں سنتے مردے اور نہ تمہارے سنائے بہرے پکار سنیں جب پھیر یں پیٹھ دے کر " (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔
حضرت عبداللہ بن ربیعہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مجھ سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کے ارشاد: " ولذکر اللہ اکبر (العنکبوت: 45) " اور بے شک اللہ کا ذکر سب سے بڑا ہے"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) کے متعلق دیافت کیا تو میں نے کہا: اللہ تعالیٰ کا ذکر تسبیح ، تحلیل اور تکبیر کے ساتھ۔ آپ نے فرمایا: جس طرح تم اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے ہو ، اس سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ابو طالب بیمار ہو گئے تو قریش ان کے پاس آئے اور نبی اکرم ﷺ بھی تشریف لے آئے۔ اس وقت ابو طالب کے سرہانے کی جانب ایک نشست خالی پڑی تھی۔ ابو جہل آگے بڑھاتا کہ حضور ﷺ کو وہاں بیٹھنے سے روک سکے اور ان سب لوگوں نے حضور ﷺ کی ابو طالب سے شکایت کی۔ ابو طالب نے کہا: اے میرے بھتیجےﷺ تم اپنی قوم سے کیا چاہتے ہو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اے چچا ! میں ان کو ایسے کلمہ کا اقرار کروانا چاہتا ہوں جس کی بناء پر تمام عرب ان کے زیر نگیں ہو جائے گا اور اس کی وجہ سے اہل عجم بھی ان کو جزیہ ادا کریں گے۔ ابو طالب نے کہا: صرف ایک کلمہ ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں صرف ایک کلمہ ہے۔ ابو طالب نے پوچھا: وہ کون سا کلمہ ہے ؟ آپ نے فرمایا:۔ " لا الہ الا اللہ"۔ تو لوگ بولے : کیا سب معبودوں کی بجاے اب ایک معبود کی عبادت کریں؟ یہ تو بڑی تعجب خیز بات ہے۔ (راوی) کہتے ہیں۔ انہیں کے متعلق یہ سورۃ نازل ہوئی۔" ص والقرآن ذی الذکر " (ص:1) یہ آیات "ان ھذا الااختلاق تک نازل ہوئیں۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔
ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَسَدِيُّ، ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ: ← أبو بكر بن أبي دارم الحافظ
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat p · Hadith 3617
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ ص · حديث 3618
حضرت عباللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : "ص والقرآن ذی الذکر"(ص:1)۔ابو طالب اور ابو جہل اور قریش کے اس وفد کے متعلق نازل ہوئی جنہوں نے رسول اللہ ﷺ سے جھگڑا کیا تھا۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔
حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نےاس آیت کی تلاوت کی: ان الذین کفرو ا بالذکر لما جاءھم وانہ لکتاب عزیز لا یاتہ الباطل من بین یدیہ ولا من خلفہ تنزیل من حکیم حمید (حم السجدۃ:41،42) ۔"بے شک جو ذکر سے منکر ہوئے جب وہ ان کے پاس آیا ان کی خرابی کا کچھ حال نہ پوچھ اور بے شک وہ عزت والی کتاب ہے باطل کو اس کی طرف راہ نہیں نہ اس کے آگے سے نہ پیچھے سے۔ اتارا ہوا ہے حکمت والے سب خوبیوں سرا ہے کا"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔پھر فرمایا: قرآن کے علاوہ ایسی کوئی چیز نہیں ہے جو تم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کرو اور وہ اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پیاری ہو ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔
حضرت عبید بن مغیرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اس آیت کی تلاوت کی: فاعلم انہ لا الہ الااللہ وستغفر لذنبک(محمد:19 ) "تو جان لو کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہیں تو اپنے گناہ کی معافی مانگو"۔ (ترجمہ کنزالایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) اور بولے : میں اپنی بیوی پر بہت زبان درازی کیا کرتا تھا ، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ ! میں اس بات سے گھبراتا ہوں کہ کہیں میری زبان مجھے جہنم میں نہ لے جائے۔نبی اکرمﷺ نے فرمایا : تو استغفار کیوں نہیں کرتا ؟ میں ایک دن میں 100 مرتبہ استغفار کرتا ہوں۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of Surah Muhammad, may God bless him and grant him peace › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3706
المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3707
حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : سیدالااستغفار یہ ہے بندہ یوں دعا مانگے: اے اللہ! تو میرا رب ہے ،تو نے مجھے پیدا کیاہے اور میں تیرا بندہ ہوں اور میں اپنی طاقت اور ہمت کے مطابق تیرے عہد اور وعدے پر قائم ہوں ،میں اپنے اعمال کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں ،میں تیری بارگاہ میں اپنے گناہوں کا اور اپنے اوپر تیری نعمتوں کا اقرار کرتا ہوں ، تو مجھے بخش دے کیونکہ تیرے سوا کوئی بخشنے والا نہیں ہے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of Surah Muhammad, may God bless him and grant him peace › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3707
المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ الْفَتْحِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3719
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا"لیغیظ بہم الکفار "کے متعلق فرماتی ہیں: رسول اللہ ﷺ کے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو حکم دیا گیا کہ وہ ان کے لئے دعائے مغفرت کریں جبکہ وہ ان کو گالیاں دیا کرتے تھے۔یہ حدیث امام بخاری ؎رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃاللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مؤذن ، عبدالرحمٰن بن عمار بن سعد القرظ اپنے والد کے حوالے سے ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا کہ اذان دیتے ہوئے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ڈال لیا کریں کیونکہ اس سے آواز زیادہ بلند ہوتی ہے۔ حضرت بلال کی اذان میں تمام جملے دو دو مرتبہ ہوتے تھے اور اقامت کے الفاظ ایک ایک فقرہ ہوتا تھا، قد قامت الصلاۃ ایک ایک مرتبہ کہتے تھے، آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب عیدین کے لئے نکلتے تو حضرت سعد بن ابی وقاص کے گھرکی طرف سے ہوتے ہوئے ، خیمہ والوں کے پاس گزر کر عید گاہ میں تشریف لے جاتے ، وہاں خطبہ سے پہلے نماز پڑھاتے، پھر پہلی رکعت میں قراءت سے پہلے سات تکبیریں کہتے اور دوسری رکعت میں قراءت سے پہلے 5 تکبیریں کہتے، پھر خطبہ دیتے، (خطبہ کے بعد دعا و غیرہ سے فارغ ہو کر جب واپس نکلتے تو بنی زریق کا راستہ اختیار کرتے ، پھر صحراء کی جانب اپنے ہاتھ سے قربانی کرتے ، پھر حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر کی جانب سے ہوتے ہوئے ہموار زمین میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر کی طرف سے آتے ، آپ عیدین میں پیدل ہی عید گاہ کی جانب تشریف لے جاتے اور پیدل ہے واپس تشریف لاتے، آپ دونوں خطبوں کے درمیان اللہ کبر کہتے، اور خطبہ کے دوران کثرت سے تکبیر کہتے، آپ عصا مبارک ہاتھ میں لئے خطبہ دیا کرتے تھے۔ اور حضرت بلال جب اذان دیتے تو چہرہ قبلہ کی جانب کرتے، پھر اللہ اکبر اللہ اکبر دو مرتبہ کہتے، اشھد ا لا الہ الا اللہ دو مرتبہ کہتے، اشھد ان محمد رسول اللہ دو مرتبہ کہتے،یہ کہتے ہوئے آپ کا رخ قبلہ کی جانب ہی ہوتا ، پھر قبلہ سے منہ پھیر کر (اپنا چہرہ دائیں جانب کرتے اور ) دو مرتبہ حی علی الصلاۃ کہتے، پھر اپنےبائیں جانب گھوم جاتے اور دو مرتبہ حی الفلاح کہتے، پھر چہرہ قبلہ کی جانب کر لیتے اور اللہ اکبر اللہ اکبر اور لا الہ الا اللہ کہتے۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the blessing of the muezzin, may God be pleased with him · Hadith 6554
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حضرت سارہ 90 سال کی تھیں اور حضرت ابراہیم علیہ السلام 160 سال کے تھے ۔ جب ابراہیم علیہ السلام کا خوف زائل ہو اور انہیں حضرت اسحاق علیہ السلام کی خوشخبری ملی اور اس چیز سے ان کو امن ہو گیا جس سے وہ خوفزدہ تھے تو بولے ۔ تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جس نے مجھے بڑھاپے میں اسماعیل علیہ السلام اور اسحاق علیہ السلام دئیے ، بے شک میرا رب دعا سننے والا ہے ۔ تو حضرت جبرائیل علیہ السلام حضرت سارہ رضی اللہ عنہ کے پاس ایک بیٹے کی خوشخبری لے کر آئے ، جن کا نام اسحاق علیہ السلام ہے اور اسحاق علیہ السلام کے بعد یعقوب علیہ السلام آپ ( حضرت سارہ رضی اللہ عنہ ) نے حیرانگی کے عالم میں اپنا ماتھا پکڑ لیا۔ اسی کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا " فصکت وجھھا " (پھر اپنا ماتھا ٹھونکا ) اور بولیں : میں بچہ جنوں گی ؟ حالانکہ میں بوڑھی ہوں اور میرا شوہر بھی بوڑھا ہے ۔ یہ بڑی عجیب شے ہے ۔ فرشتے بولے : کیا اللہ تعالیٰ کے کام کو عجیب سمجھتی ہو؟ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی برکتیں تم پر اس گھر والو، بے شک وہی ہے سب خوبیوں والا عزت والا۔ امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے عکرمہ رضی اللہ عنہ کی اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے " سدی " کی روایات نقل کی ہیں اور یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of Isaac bin Abraham, may God’s prayers and peace be upon them · Hadith 4042
حضرت وہب بن منبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حضرت ایوب علیہ السلام کی عمر 73 سال تھی اور آپ نے اپنی وفات کے وقت اپنے بیٹے کو وصیت کی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے بعد آپ کے بیٹے بشر بن ایوب علیہ السلام کو نبی بنایا اور ان کانام " ذؤالکفل " رکھا اور ان کو توحید کی دعوت دینے کا حکم دیا ۔ وہ اپنی وفات تک ملک شام میں قیام پذیر رہے، ان کی عمر75 برس تھی اور بشر بن ایوب نے اپنے بیٹے عبدان کو وصیت کی تھی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے بعد حضرت شعیب علیہ السلام کو نبی بنایا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of Ayyub ibn Amos, the exiled Prophet of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 4118
حضرت شعبی ، اللہ تعالیٰ کے ارشاد : (قال فی زبور داؤد من بعد ذکر موسیٰ)"اور بے شک ہم نے زبور میں نصیحت کے بعد لکھ دیا"۔ (ترجمہ کنزالایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) کے متعلق فرماتے ہیں : حضرت داؤد علیہ السلام کی زبور میں موسیٰ علیہ السلام کے ذکر کے بعد یہ تھا کہ زمین کے وارث میرے نیک بندے ہوتے ہیں۔ آپ فرماتے اس سے مراد " جنت" ہے۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The remembrance of the Prophet of God David, the Companion of the Psalms, upon him be peace · Hadith 4136
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حضرت زکریا علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے تنہائی میں دعا مانگی " اے میرے رب ! میری ہڈیاں کمزور ہو گئی ہیں اور بڑھاپے کی وجہ سے سر میں چاندی آگئی ہے اور اے میرے رب میں تجھے پکار کر کبھی نامراد نہ رہا اور مجھے اپنے بعد اپنے قرابت والوں کا ڈر ہے۔ وہ عصبہ ( قریبی مرد رشتہ دار ) ہیں اور میری عورت بانجھ ہے۔ تو مجھے اپنے پاس سے کوئی ایسا دے ڈال جو میرا کام اٹھائے ، وہ میرا جانشین ہو اور اولاد یعقوب علیہ السلام کا وارث ہواور اے میرے رب ! اسے پسندیدہ کر ۔ وہ یہ بھی دعا مانگا کرتے تھے : اے میرے رب ! مجھے اپنے سے دے ستھری اولاد ، بے شک تو ہی دعا سننے والا ۔ اور کہا: اے اللہ ! مجھے تنہا نہ چھوڑ اور تو ہی بہتر وارث ہے۔ تو فرشتوں نے ان کو آواز دی ۔ یہ حضرت جبریل علیہ السلام تھے ، اس وقت حضرت زکریا علیہ السلام اپنی نماز پڑھ رہے تھے ( یہ آواز دی ) بے شک اللہ تعالیٰ آپ کو ایک لڑکے کی خوشخبری دیتا ہے جس کا نام یحییٰ علیہ السلام ہو گا اور اس سے پہلے کبھی کسی کا یہ نام نہیں رکھا گیا ۔ اور فرشتوں نے کہا : بے شک اللہ تعالیٰ آپ کو مژدہ دیتا ہے یحییٰ علیہ السلام کا جو اللہ تعالیٰ کی طرف کے ایک کلمہ کی تصدیق کرے گا جو یہ آواز سنی ہے یہ من جانب اللہ نہیں ہے بلکہ یہ تو شیطان کی طرف سے ہے۔ اگر یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی تو جس طرح آپ پر اور دیگر انبیاء پر وحی آتی ہے اس انداز میں آتی ۔ توحضرت زکریا علیہ السلام ک وشک پیدا ہوگیا اور کہنے لگے : میرے ہاں لڑکا کیسے ہوگا ؟ جبکہ میں بوڑھا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ یوں ہی کرتا ہے جو چاہے ، میں نے تجھے پیدا کیا جبکہ تو کچھ نہ تھا۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیا ر کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of Yahya ibn Zakariyyah, the Prophet of God, on whom be blessings and peace · Hadith 4146
حضرت نوف ابکالی فرماتے ہیں: حضرت زکریا علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یوں دعامانگی : ﴿ رَبِّ هَبْ لِي مِنْ لَدُنْكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً إِنَّكَ سَمِيعُ الدُّعَاءِ٣٨﴾[آل عمران: 38]"اے میرے رب ! دے مجھے اپنے پاس سے ستھری اولاد، بے شک تو ہی ہے دعا سننے والا"۔ (ترجمہ کنزالایمان،امام احمد رضارحمۃاللہ علیہ) ﴿ إِنِّي وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّي وَاشْتَعَلَ الرَّأْسُ شَيْبًا ٤﴾[مريم: 4] " اور سر سے بڑھاپے کا بھبھوکا پھوٹا"۔ (ترجمہ کنزالایمان،امام احمد رضارحمۃاللہ علیہ) پھر کہنے لگے: ﴿قَالَ رَبِّ أَنَّى يَكُونُ لِي غُلَامٌ وَكَانَتِ امْرَأَتِي عَاقِرًا وَقَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْكِبَرِ عِتِيًّا٨﴾[مريم: 8]"میرے لڑکا کہاں سے ہوگا میری عورت تو بانجھ ہے اور میں بڑھاپے سے سوکھ جانے کی حالت کو پہنچ گیا"۔ (ترجمہ کنزالایمان،امام احمد رضارحمۃاللہ علیہ) ﴿قَالَ كَذَلِكَ قَالَ رَبُّكَ هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٌ وَقَدْ خَلَقْتُكَ مِنْ قَبْلُ وَلَمْ تَكُ شَيْئًا٩﴾[مريم: 9] " فرمایا :ایسا ہی ہے تیرے رب نے فرمایا : وہ مجھے آسان ہے اور میں نے تو اس سے پہلے تجھے اس وقت بنایا جب تو کچھ بھی نہیں تھا"۔ (ترجمہ کنزالایمان،امام احمد رضارحمۃاللہ علیہ) ﴿قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِي آيَةً قَالَ آيَتُكَ أَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلَاثَ لَيَالٍ سَوِيًّا١٠﴾[مريم: 10]"عرض کی: اے میرے رب ! مجھے کوئی نشانی دے دے ۔ فرمایا تیری نشانی یہ ہے کہ تو تین رات دن لوگوں سے کلام نہ کرے بھلا چنگا ہوکر"۔ (ترجمہ کنزالایمان،امام احمد رضارحمۃاللہ علیہ) چنانچہ آپ کی زبان سیل کردی گئی ، آپ بالکل صحیح سلامت ہونے کے باوجود تین دن اور تین راتیں کسی سے بات نہ کر سکے ۔ ﴿فَخَرَجَ عَلَى قَوْمِهِ مِنَ الْمِحْرَابِ فَأَوْحَى إِلَيْهِمْ أَنْ سَبِّحُوا بُكْرَةً وَعَشِيًّا١١﴾﴿يَا يَحْيَى خُذِ الْكِتَابَ بِقُوَّةٍ وَآتَيْنَاهُ الْحُكْمَ صَبِيًّا١٢﴾[مريم: 12-11]"تو وہ اپنی قوم پر مسجد سے باہر آیا تو انہیں اشارہ سے کہا کہ صبح و شام تسبیح کرتے رہو ۔ اے یحییٰ کتاب مضبوط تھام اور ہم نے اسے بچپن ہی میں نبوت دی"۔ (ترجمہ کنزالایمان،امام احمد رضارحمۃاللہ علیہ) یہ آیات" یبعث حیا " تک نازل ہوئیں ۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of Yahya ibn Zakariyyah, the Prophet of God, on whom be blessings and peace · Hadith 4147
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک ہزار فوجیوں کے ہمراہ اپنی والدہ محترمہ کی قبر کی زیارت کی ۔ اس دن سے زیادہ آپ کو کبھی روتے ہوئے نہیں دیکھاگیا۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا ۔تاہم امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے محارب بن دثار پھرا بن بریدہ کے حوالے سے ان کے والد سے یہ روایت نقل کی ہے ۔ میں نے اپنے رب سے اپنی والدہ کے لئے بخشش کی دعا مانگی لیکن مجھے اجازت نہ ملی۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › And the family of divine from the time of his birth said news of the Messengers and the Seal of the Prophets Mohammed bin Abdullah bin Abdul Muttalib Mustafa peace be upon him to the time of his death are true, including p · Hadith 4192
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : قرآن کو ذکر سے الگ کرکے آسمان دنیا پر بیت العزۃ میں رکھا گیا ۔ وہاں سے حضرت جبریل علیہ السلام اس کو نبی اکرم ﷺ پر نازل کرتے تھے۔(ارشاد ہے)ورتلناہ ترتیلا سفیان کہتے ہیں : پانچ کے قریب آیات اسی کے متعلق ہیں ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › And the family of divine from the time of his birth said news of the Messengers and the Seal of the Prophets Mohammed bin Abdullah bin Abdul Muttalib Mustafa peace be upon him to the time of his death are true, including p · Hadith 4216