حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو دیکھا : آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے تکبیر کہی اور اپنے دونوں انگوٹھے کانوں کے برابر تک اٹھائے ، پھر رکوع ( اس انداز سے ) کیا کہ آ پ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ہر جوڑ مضبوط تھا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تکبیر کہتے ہوئے جھکے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ہاتھ گھٹنوں کے نیچے تک گئے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ و امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔اور اس میں کوئی نقص بھی نہیں ہے ۔ وائل بن حجر کی حدیث ۔ وائل بن حجر کہتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سجدہ کرتے تو ہاتھوں سے پہلے گھٹنے زمین پر لگاتے اور جب اٹھتے تو گھٹنوں سے پہلے ہاتھ اٹھاتے ، امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے شریک اور عاصم بن کلیب کی احادیث نقل کی ہیں اور ہو سکت اہے کسی کو یہ غلط فہمی لگے کہ کوئی صحیح الاسناد حدیث دوسری صحیح حدیث کے معارض نہیں ہو سکتی ۔ اس غلط فہمی کے شکار شخص کو چاہیے کہ وہ امام مسلم کی الصحیح کا غور سے مطالعہ کرے ، تو اس کو اس کتاب میں اس طرح کی بہت ساری مثالیں مل جائیں گی۔ اور جہاں تک دل کا معاملہ ہے تو وہ ابن عمر کی حدیث کی طرف زیادہ مائل ہے کیونکہ ان کی روایت کے مطابق کثیر صحابہ اور تابعین سے احادیث مروی ہیں ۔
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر نماز کے بعد 33 مرتبہ سبحان اللہ، 33 مرتبہ الحمدللہ اور 34 مرتبہ اللہ اکبر پڑھنے کا حکم دیا(زید کہتے ہیں) ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ نے خواب میں دیکھا کہ اس کو کوئی شخص پوچھ رہا ہے کہ کیا تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر نماز کےبعد (فلاں فلاں چیز) اتنی اتنی بار پڑھنے کا حکم دیا ہے؟ اس نے جواب دیا: جی ہاں۔ اس نے کہا: اسکو پچیس مرتبہ پڑھ لیاکرو لیکن ساتھ ہی ساتھ "ولا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم"۔ بھی پڑھ لیا کرو۔ جب صبح ہوئی تو وہ شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور رات کا دیکھا ہوا خواب سنایا(اس پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (ٹھیک ہے) ایسے کر لیا کرو۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو اس انداز سے بیان نہیں کیا۔ تاہم دونوں نے سمی کی وہ حدیث نقل کی ہے جس میں انہوں نے ابو صالح کے حوالے سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی :ذھسب اھل الدثور بالاجور" (مالدار، اجر لے گئے) والی حدیث نقل کی ہے اور اس میں خواب اور یہ زائد الفاظ موجود نہیں ہیں۔
ابو مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ عقبہ بن عمرو کہتے ہیں: ایک شخص آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھ گیا ، ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھے، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم !آپ پر سلام پڑھنا تو ہم سیکھ چکے ہیں۔ہم اپنی نماز میں جب درود پڑھیں تو کس طرح پڑھیں؟ اللہ آپ پر رحمتیں ناز ل کرے۔ ابو مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں: حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش ہو گئے (آپ اتنی دیر خاموش رہے کہ) ہم یہ سوچنے لگے کہ کاش اس شخص نے آپ سے یہ سوال نہ کیا ہوتا۔ پھر آپ نے فرمایا: جب تم مجھ پر درود پڑھنا چاہو تو یوں کہو:" اللھم صلی علیٰ محمد النبی الامی ، وعلیٰ آل محمد کما صلیت علیٰ ابراہیم وعلیٰ آل ابراہیم ، وبارک علیٰ محمد النبی الامی، وعلیٰ آل محمد کما بارکت علی ابرا ہیم وعلیٰ آل ابراہیم انک حمید مجید"۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل میں نقل نہیں کیا گیا۔ پھر نمازوں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود کا ذکر کیا۔ اس حدیث کی ایک شاہد حدیث بھی ہے جو کہ شیخین رحمۃ اللہ علیہما کے معیار کے مطابق صحیح ہے (وہ شاہد حدیث درج ذیل ہے)۔
حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں: جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےشہر کے قریب ہوا تو اپنے اونٹ کو بٹھایا ، کپڑوں کا صندوق کھولا (اس میں سے جبہ نکال کر) پہنا پھر آپ کے پاس حاضر ہوا، اس وقت آپ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پرسلام پڑھا۔ اس پر لوگوں نے مجھے غور سے دیکھنا شروع کردیا، میں نے اپنے ساتھی سے پوچھا: اے عبداللہ! کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے متعلق بھی کچھ ارشاد فرمایا: اس نے کہا: ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تیرا بڑے اچھے لفظوں میں ذکر کیا اور فرمایا: ابھی ابھی اس دروازے سے یا (شاید یہ فرمایا) اس درے سے ایسا شخص داخل ہونے والا ہے جو تمام اہل یمن میں سے بہتر ہے اور بے شک اس کے چہرے پر فرشتے کی چمک ہے تو میں نے اس آزمائش پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ یہ حدیث امام بخاری و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہما دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے ۔ اور یہ حدیث دلیل ہے کہ امام خطبہ کے دوران اس معاملے میں گفتگو کر سکتا ہے جو اسی وقت کے لئے ظاہر ہوا۔
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (جمعہ کے دن) ذکر میں حاضر ہوا کرو اور امام کے قریب ہو کر بیٹھا کرو، اس لئے کہ بندہ دور ہوتے ہوتے (اتنا دور ہو جاتا ہے کہ) جنت میں بھی دیر سے حاضر ہو گا۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔
یزین بن خبیر رحبی فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابی عید الفطر کے دن یا (شاید) عید الاضحیٰ کے دن لوگوں کے ہمراہ (نماز عید پڑھنے کے لئے) نکلے تو ان کو امام کا نماز لمبی کرنا ناگوار گزرا تو فرمایا: ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہوتے تھے تو اس وقت تک فارغ بھی ہو جایا کرتے تھے ور یہ وقت تو تسبیح کا ہے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ اور عمار رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرضی نمازوں میں بسم اللہ الرحمٰن الرحیم بلند آواز سے پڑھا کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فجر کی نماز میں دعائے قنوت پڑھتے اور عرفہ کے دن فجر کی نماز سے تکبیرات تشریق شروع کرتے اور ایام تشریق کے آخری دن عصر کی نماز میں ختم کر دیتے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور میں نہیں جانتا کہ اس کے راویوں میں سے کسی کو بھی جرح کی طرف منسوب کیا گیا ہو اور اس موضوع پر جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ اور دیگر اصحاب سے بھی روایت منقول ہے اور حضرت عمر ، علی، عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن سعید (رضی اللہ عنہم ) کا یہ عمل صحیح طور پر ثابت تھا کہ عرفہ کی فجر سے ایام تشریق کے آخری دن تک تکبیر کہتے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی روایت:۔
حضرت حبیب المعلم کہتے ہیں :حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے کہا گیا : ابن عمر رضی اللہ عنہ وتر کی دو رکعتیں پڑھنے کے بعد سلام پھیرتے تھے تو (حضرت حسن رضی اللہ عنہ ) نے جواب دیا: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی فقہی بصیرت ان سے زیادہ تھی اور وہ (دوسری رکعت کے بعد ) تکبیر کہتے ہوئے تیسری رکعت کے لئے اٹھ جاتے تھے ۔شاہد (3)
قِيلَ لِلْحَسَنِ: إِنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يُسَلِّمُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ مِنَ الْوِتْرِ ← حَبِيبٍ الْمُعَلِّمِ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ1، ← أَبُو جَعْفَرٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ ← أحمد بن محمد بن صالح السمرقندي
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Witr Book › Insurance section · Hadith 1141
المستدرك على الصحيحين · مِنْ كِتَابِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1180
حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ایک نابینا شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پا س آیا اور اس نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ سے دعا کریں کہ وہ مجھے تندرستی دے ۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اگر تو چاہے تو اس موخر کر لے کیونکہ یہی بہتر ہے اور اگر تم چاہو تو میں دعا کر دتا ہوں ۔ اس نے کہا : آپ دعا کر دیجئے ، راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو حکم دیا کہ اچھی طرح وضو کر کے دو رکعت نوافل پڑھ کو یوں دعا مانگا کرو "اللھم انی اسالک ،واتو جہ الیک بینیک محمد نبی الرحمۃ ، یا محمد انی توجھت بک الی ربی فی حاجتی ھذہ فتقضی لی ، اللھم شفعتہ فی شفعنی فیہ"( یا اللہ میں تجھ سے دعا مانگتا ہوں اور تیرے نبی رحمت،محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعے تیری طرف متوجہ ہوتا ہوں ، اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!میں آپ کے ذریعے سے اپنے رب کی طرف اپنی اس حاجت میں متوجہ ہوں ، آپ میری حاجت پوری کر دیں ۔ اے اللہ ! تو ان کے حق میں میری دعا قبول فرما اور انہیں میرا شفیع بنا ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔
حضرت ایوب بن خالد بن ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :خطبہ خاموشی سے سنو ، پھراچھی طرح وضو کرو ، پھرنماز یں جو اللہ نے تم فرض کی ہیں وہ پڑھو ، پھر اس کی حمد اور بزرگی بیان کرو ، پھر یوں دعا مانگو( اے اللہ تو قادر ہے ، میں قادر نہیں ، تو جانتا ہے اور میں نہیں اور تو غیب جانتا ہے اگر فلاں چیز ۔۔۔۔۔(یہاں پر تم اس چیز کا نام ذکر کرو) میرے حق میں تیری بارگاہ میں میرے دین ، دنیا اور آخرت کے حوالے سے بہتر ہے تو وہ میرے لئے مقدر کر دے اور اگر اس کے علاوہ ( کوئی دوسری چیز) میرے دین ، دنیا اور اخرت کے حوالے سے میرے لئے بہتر ہے تو میرے لئے اس کا فیصلہ کر دے یا (کہا کہ) وہ میرے مقدر میں کر دے ۔یہ نماز استخارہ کی سنت عزیزہ ہے ، اس کو فقط اہل مصر نے روایت کیا ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں ۔لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا ۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتےہیں :کہ ایک مرتبہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی دوران حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ وہاں آئے اور بولے :یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ۔ یہ قرآن میرے سینے سے نکل جاتا ہے اور میں اس کو یاد نہیں رکھ نہیں پاتا ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو فرمایا : اے ابوالحسن ! کیا میں تجھے ایسے کلمات نہ سکھا دوں جن کے ذریعے اللہ تعالی تجھے نفع سے اور ان لوگوں کو بھی نفع دے جن کو تو سکھائے اور جو کچھ تو سکھائے وہ تیرے سینے میں بھی قائم رہے ،حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! جی ہاں آپ مجھے سکھائیے !آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب جمعہ کی رات ہو تو اگر اس کے آخری حصے میں عبادت کر سکے (تو کرو)کیونکہ وہ وقت مشہود ہے اور اس میں دعا قبول ہوتی ہے اور یہی بات میرے بھائی یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں سے کہی تھی کہ میں عنقریب تمہارے لئے اپنے رب سے مغفرت کی دعا کروں گا ۔ یہاں تک کہ جمعہ کی رات آ گئی ۔ اگر اس کی استطاعت نہ ہو تو رات کے درمیانی حصے میں عبادت کرو اور اگر اس کی بھی استطاعت نہ ہو تو رات کے پہلے حصے میں عبادت کرو (اور عبادت کا طریقہ کار یہ ہے ) چار رکعت نوافل پڑھو،پہلی رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد سورۃ یسین ، دوسری رکعت میں فاتحہ کے بعد الم تنزیل السجدہ ،تیسری رکعت میں فاتحہ کے بعد حم الدخان اور چوتھی رکعت میں فاتحہ کے بعد تبارک المفصل پڑھو ، جب تشہد سے فارغ ہو تو اللہ کی حمد ثنا ء کرو اور میرے اوپر اور تمام انبیاء پر احسن طریقے سے درود بھیجو اور اپنے بھائیوں کے لئے مغفرت کی دعا کرو جو اس سے پہلے ایمان لائے اور تمام مومن مرد اور عورتوں کے لئے مغفرت کی دعا کرو پھر سب سے آخر میں یہ دعا کرو "اے اللہ ! مجھ پر رحم کر ، جب تک تو مجھے زندہ رکھے ، میں گناہوں سے بچا رہوں اور میں فضولیا ت کو چھوڑ ے رکھوں اور یا اللہ ! مجھے وہ حسن نظر عطا کر جو تجھے مجھ سے راضی کر دے ۔ اے اللہ ! زمیں و آسمانوں کے پیدا کرنے والے ، اے بزرگ اور ایسی بزرگی اور عزت والے جو کبھی ختم نہ ہو، اے اللہ ! اے رحمان! میں تیرے حلال اور نور کے واسطے سے تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو میرے دل کو اپنی کتاب یاد کرنے کے قابل کر دے جیسا کہ تو نے مجھے سکھایا ہے اور تو مجھے اس کی تلاوت اس طریقے سے کرنے کی توفیق دے جو تجھے مجھ سے راضی کر دے ، اے اللہ! زمین و آسمانوں کے پیدا کرنے والے ! ایسی بزرگی اور عزت والے جو کبھی کم نہ ہو ، اے اللہ ! اے رحمان ! تیرے جلال اور نور کے صدقے میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ اپنی کتاب کے ساتھ میری آنکھوں کو روشن کر دے اور اس کے ساتھ میری زبان کو روانی دے اور میرے دل کو کشادہ کر دے اور میرے سینے کو کھول دے اور میرے بدن کو صاف کر دے کیونکہ تیرے سوا حق پر میری مدد کرنے والا کوئی نہیں اور تیرے سوا مجھے یہ چیز کوئی نہیں دے گا اور ہر طاقت اور قوت اس اللہ کے لئے ہے ، جو بڑا عظمت والا ہے ( پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ) اے ابولحسن یہ عمل تین جمعہ یا پانچ یا سات جمعہ تک کرو ، اللہ کے حکم سے دعا قبول ہو گی ۔ اس ذات کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے ، کوئی شخص مومن ہوتے ہوئے کبھی خطا نہیں کرتا ۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں :خدا کی قسم حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پانچ یا سات جمعہ یہ عمل نہیں کیا تھا کہ اسی طرح کی مجلس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا :یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں اس سے پہلے چار یا اس کے قریب کچھ آیات بھی سیکھ نہیں پاتا تھا ، جب میں ان کو پڑھتا تھا تو بھول جاتا تھا لیکن آج کل میں چالیس کے قریب آیتیں سیکھ لیتا ہوں اور جب ان کو پڑھتا ہوں تو یوں لگتا ہے گویا کہ کتاب اللہ میری آنکھوں کے سامنے ہے اور میں کوئی حدیث سنا کرتا تھا اور جب اس کو دہراتا ، تو بھول چکا ہوتا اور اب میں کئی احادیث سنتا ہوں تو جب ان کو بیان کرتا ہوں تو کوئی حرف بھی نہیں بھولتا ، ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : رب کعبہ کی قسم ! ابو الحسن مومن ہے ۔ یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہما دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔
ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، وَعِكْرِمَةَ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← أَبُو أَيُّوبَ سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أبو الحسن أحمد بن محمد [العنزي. ← أبو النضر محمد بن محمد الفقيه
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · From the book on voluntary prayer › Insurance section · Hadith 1190
المستدرك على الصحيحين · مِنْ كِتَابِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1191
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ( ایک مرتبہ) ام سلیم صبح کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئیں اور کہا :مجھے ایسے کلمات سکھا دیں جن کو میں اپنی نمازوں میں پڑھ سکوں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ، دس مرتبہ اللہ اکبر ، دس مرتبہ سبحان اللہ، دس مرتبہ الحمد للہ پڑھا کرو اور پھر جو چاہو دعا مانگو ۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہاں ! ہاں ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیاگیا ۔ اور اس کی شاہد صلوۃ تسبیح کے حوالے سے یمنی راویوں کی حدیث ہے ۔
عَلِّمْنِي کَلِمَاتٍ أَقُولُهُنَّ فِي صَلَاتِي ← أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ غَدَتْ عَلَی النَّبِيِّ ← إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← أَبُو الْمُوَجِّهِ، أَنْبَأَ عَبْدَانُ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ، أَنْبَأَ عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، ← أبو بكر محمد بن أحمد بن حاتم،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · From the book on voluntary prayer › Insurance section · Hadith 1191
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک دعا قضا کو ٹال دیتی ہے ، اور بے شک نیک عمل کرنے سے رزق میں اضافہ ہوتا ہے اور بے شک گناہ کی وجہ سے رزق تنگ ہو جا تا ہے ۔
ثَوْبَانَ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مُجَاهِدٍ ← حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ، ← الخليل بن مرة ← سعيد بن راشد ← عَلِيُّ بْنُ قَرِينٍ الْبَاهِلِيُّ، ← عِمْرَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning the virtues of Thuban, the Sovereign of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, may God be pleased with him · Hadith 6038
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں مستجاب الدعوات شخص کا بیٹا ہوں اور اہل عرب میں سے اس شخص کا بیٹا ہوں جو مصطفی ٰکریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تمام رخنے بند کرنے والا تھا۔ وہ ثواب کی نیت سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کر تے تھے،اوران کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص طور پر اس عمل پر مامور کیا تھا اورلوگوں کا آپس میں اختلاف ہوا، آپ نے اہل تو حید اوراہل کتاب سے جہاد کرنے سے منع کیا۔ اللہ تعالیٰ ان کو سلامت رکھے ،ان میں سے کسی کا تیران تک نہیں پہنچا اور نہ آپ نے ان کو تیر مارا
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the virtues of Abu Ishaq, Saad bin Abi and a storyteller, may God be pleased with him · Hadith 6119
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Abu Hurayrah Al-Dossi, may God be pleased with him · Hadith 6144
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8488
کثیر بن عبد اللہ اپنے والد سے ، وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے ارشادفرمایا: اے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ !دنیا مت لے جانا، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: لبیک یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم ، آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا: جان لو عنقریب تم بنی الاصفرسے جنگ کرو گے ، یا تمہارے بعد کوئی مومن جماعت ان سے جنگ کرے گی، اور ان کی مدد کے لئے اہل حجاز کے مجاہدین کی ایک جماعت نکلے گی ، اللہ کے دین کے معاملے میں ان کو کسی ملامت گر کی ملات کی کوئی پرواہ نہیں ہوگی ، انہی کے ہاتھوں پر الله تعالى قسطنطنیہ اور سلطنت رومی فتح کرے گا، یہ لوگ صرف سبحان اللہ اور اللہ اکبر کی صدائیں لگائیں گے ، اور ان کا قلع ٹوٹ جائے گا، بہت بڑامال غنیمت ان کے ہاتھ لگے گا، اس جیسامال کبھی بھی ان کو نہیں ملا ہوگا۔ یہ لوگ وہ مال اپنی ڈھالیں بھر بھر کے تقسیم کر رہے ہوں گے، پھر ایک چیخنے والا چیخ کر کہے گا: اے مسلمانو!مسیح دجال تمہارے شہر اورتمہاری اولادوں میں ظاہر ہو چکا ہے، لوگ اس مال سے بے نیاز ہو جائیں گے، کچھ لوگوں نے مال رکھا اور کچھ نے وہیں چھوڑ دیا، لیکن مال رکھنے والا بعد میں بہت پچھتائے گا، اور مال چھوڑنے والابھی پچھتائے گا۔ لوگ کہیں گے: یہ چیخ کر آواز دینے والا کون ہے؟ لیکن کسی کوپتانہیں چلے گا کہ آواز کس نے دی ہے ، لوگ کہیں گے: ایک جماعت کو معلومات لینے کے لئے (مقام)" لد" کی جانب بھیج دو، اگر واقعی دجال ظاہر ہو چکا ہو گا وہ آ کر ہمیں بتادیں گے ، یہ جماعت وہاں پر آئے گی ، ان کو دجال کے بارے کوئی اطلاع نہ ملے گی ، اور وہ لوگوں کو بھی شک و شبہ میں مبتلا دیکھیں گے۔ وہ مشورہ کریں گے کہ آواز دینے والے نے ہمیں ایک خبرہی دی ہے، ہمیں اپنے علاقے کی طرف کوچ کرنا چاہئے ، پھر ہمیں اصل حقیقت حال کا علم ہوگا۔ ہم سب کو مقام "لد" کی جانب جانا چاہئے، اگر وہاں مسیح دجال ہوا تو ہم اس کے ساتھ اس وقت تک لڑیں گے یہاں تک کہ الله تعالی ہمارے اور اس کے در میان فیصلہ فرمادے اور وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے ، اور اگر دجال کے ظاہر ہونے کی بات جھوٹی نکلی تب بھی کوئی بات نہیں ، وہ ہمارا علاقہ ہے، ہمارے خاندان وہیں آباد ہیں، اور ہماری فوجیں وہاں ہیں ، ہم ان کی طرف ہی لوٹ کر گئے ہوں گئے۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فر ماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے پوچھا گیا کہ دجال کے زمانے میں مومنوں کا طعام کیا ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا: (مومنوں کا وہی طعام ہو گا جو) فرشتوں کا طعام ہے ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا: یا رسول اللهصلی اللہ علیہ و الہ وسلم فرشتوں کا طعام کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا: ان کا طعام اللہ تعالی کی تسبیح وتہلیل ہے، اس زمانے میں جوشخص تسبیح و تہلیل کرے گا، الله تعالی اس سے بھوک ختم فرمادے گا، اس کے بعد اس کو بھوک کا کوئی خوف نہیں رہے گا۔
اسحاق بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے موقع پر حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بار گاہ میں حاضر ہوئے ، سلام کی عرض کرنے کے بعد فتح کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ تعالی نے آپ کو فتح و نصرت عطا فرما کر آپ کی عزت افزائی فرمائی ہے اور آپ کے دین کو غالب کیا ہے ، اور جنگ مکمل طور پر ختم ہو گئی ہے ۔ راوی کہتے ہیں : اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چمڑے کے خیمے میں موجود تھے ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : اے عوف ، اند آ جاؤ ، حضرت عوف نے کہا : پورا اندر آ جاؤں یا تھوڑا سا ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : پوری ہی اند ر آ جاؤ ، پھر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : جنگ اس وقت تک ختم نہیں ہو گی جب تک 6 امور وقوع پذیر نہیں ہو جائیں گے ۔ (1) ان میں سب سے پہلے میری موت ہے ۔ یہ سن کر حضرت عوف رضی اللہ عنہ رو پڑے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : کہو : ایک ۔ (2) اور دوسرا واقعہ بیت المقدس کی فتح کا ہے ۔(3) تیسرا لوگوں میں ایک فتنہ ہو گا ۔ جو کہ بھیڑ بکریوں کی وبائی امراض میں موت کی مانند ہو گا ۔ (4) چوتھا ، لوگوں میں ایک فتنہ ہوگا جس کا حصہ ہر گھر میں داخل ہو گا ۔ (5) پانچواں ، بنی الاصفر میں ایک بچہ پیدا ہو گا جو کہ بادشاہوں کی اولاد ہو گا ، وہ ایک دن میں اتنا بڑا ہو گا جتنا عام بچے ایک ہفتے میں بڑھتے ہیں ، اور وہ ایک ہفتے میں اتنا بڑھے گا جتنا عام بچے ایک مہینے میں بڑھتے ہیں ، اور وہ ایک مہینے میں اتنا بڑھے گا جتنا عام بچے ایک سال میں بڑھتے ہیں ، جب وہ 12 سا کا ہو جائے گا تو اس کو اپنا حکمران بنا لیں گے ، وہ ان لوگوں کے درمیان کھڑا ہو کر کہے گا : یہ لوگ ہماری سر زمین پر کب تک ہم پر غالب رہیں گے ؟ میرا خیال ہے کہ ہم ان پر چڑھائی کریں اور ان کو اپنی سر زمین سے نکال باہر کریں ، خطبا ء کھڑے ہو کر اس کی رائے کی تائید کریں گے ، یہ خشکی میں اور جزیروں میں بحری بیڑے بھیجے گا ، ان میں جنگ کرے گا ، اور انطاکیہ اور عریش کے درمیان ایک ساحل پر وہ رکے گا ، ابن شریح کہتے ہیں : میں نے ایک آدمی کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ ان کے 12 جھنڈے ہوں گے اور ہر جھنڈے کے نیچے 12 ہزار کا لشکر ہو گا ، مسلمان اپنے بھائی کے پاس بیت المقدس میں جمع ہوں گے ، اور سب متفقہ فیصلہ کریں گے کہ ہمیں مدینہ منورہ چلے جانا چاہئے ، تاکہ ان کی سرحدیں مقام سرح ، اور خیبر تک پہنچ جائیں ، ابن ابی جعفر کہتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میری امت کو شیح ( نامی گھاس ) کے اگنے کے مقام( یعنی عرب ) سے نکالا جائےگا ، انہوں نے ہی یا حارث بن زید نے کہا : یہ لوگ وہاں پر قیام کریں گے ، وہاں سے ایک تہائی لوگ بھاگ جائیں گےب ، ایک تہائی لوگ جنگ کریں گے ، اللہ تعالی صبر کرنے والے تیسرے حصے کی وجہ سے ان کو شکست دے گا ۔خالد بن یزید کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! وہ شخص اس دن تلوار کے ساتھ جنگ کرے گا ، اپنے نیزے استعمال کرے گا ۔ مسلمان اس کا تعاقب کریں گے ، حتی کہ قسطنطنیہ کے قریب مضیق کے مقام پر پہنچ جائیں گے ، وہاں کا پانی خشک ہو چکا ہو گا ، یہ لوگ شہر کا رخ کریں گے اور وہاں آ کر ٹھہر جائیں گے ، تکبیر کی وجہ سے اللہ تعالی ان کی دیواریں گرا دے گا ، پھر یہ لوگ اس میں داخل ہو جائیں گے اور اپنا مال ڈھال سے تقسیم کریں گے ۔ ابو قبیل معافری کہتے ہیں ، اسی اثناء میں ان کے پاس ایک سوار آئے گا اور کہے گا : تم یہاں پر ہو اور ادھر دجال نے تمہارے گھر والوں میں تمہاری مخالفت شروع کر رکھی ہے ، یہ سراسر جھوٹ ہو گا ۔ جس شخص نے علماء سے اس بارے میں سن رکھا ہو گا وہ ثابت قدم رہے گا ، جبکہ دیگر لوگ وہاں سے بھاگ نکلیں گے اور مسلمان قسطنطنیہ میں مساجد تعمیر کریں گے اور وہاں جہاد کریں گے حتی کہ دجال ظاہر ہو گا اور یہ چھٹی نشانی ہو گی ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔