Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الدعاء والذكر

Dua & Dhikr

12814 hadiths

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّهَارَةِ ‹ باب · حديث 479

479 - أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْمُؤَذِّنُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ النَّسَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ، ثنا مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ، قَالَ: وَبُسْرَةُ بِنْتُ صَفْوَانَ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ أَسَدٍ مِنَ الْمُبَايِعَاتِ، وَوَرَقَةُ بْنُ نَوْفَلٍ عَمُّهَا، وَلَيْسَ لِصَفْوَانَ بْنِ نَوْفَلٍ عَقِبٌ إِلَّا مِنْ قِبَلِ بُسْرَةَ، وَهِيَ زَوْجَةُ مُعَاوِيَةَ بْنِ مُغِيرَةَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ «وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ جَمَاعَةٍ مِنَ الصَّحَابَةِ وَالتَّابِعِينَ، عَنْ بُسْرَةَ مِنْهُمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيَّةِ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، وَمَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ وَسُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى» وَقَدْ رَوِينَا عَنْ بُسْرَةَ بِنْتِ صَفْوَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسَةَ أَحَادِيثَ غَيْرِ هَذَا الْحَدِيثِ، وَقَدْ ثَبَتَ بِمَا ذَكَرْنَاهُ اشْتِهَارَ بُسْرَةَ بِنْتِ صَفْوَانَ، وَارْتَفَعَ عَنْهَا اسْمُ الْجَهَالَةِ بِهَذِهِ الرِّوَايَاتِ " وَقَدْ رَوِينَا إِيجَابَ الْوُضُوءِ مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ عَنْ جَمَاعَةٍ مِنَ الصَّحَابَةِ وَالصَّحَابِيَّاتِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، وَأَبُو هُرَيْرَةَ، وَزَيْدُ بْنُ خَالِدٍ الْجُهَنِيُّ، وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، وَجَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ. . .، وَأُمُّ حَبِيبَةَ، وَأُمُّ سَلَمَةَ وَأَرْوَى. . . . . حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا نَافِعُ بْنُ أَبِي نُعَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ مَسَّ فَرْجَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ " وَشَاهِدَهُ الْحَدِيثُ الْمَشْهُورُ: عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ. وَقَدْ صَحَّتِ الرِّوَايَةُ عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهَا قَالَتْ: «إِذَا مَسَّتِ الْمَرْأَةُ فَرْجَهَا تَوَضَّأَتْ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 479 - حديث صحيح

مصعب بن عبداللہ الزبیری کہتےہیں : حضرت بسرہ بنت صفوان بن نوفل بن اسد بیعت کرنےوالی خواتین میں سے ہیں اور ورقہ بن نوفل ان کے چچا ہیں اور صفوان بن نوفل کی ان کے علاوہ اور کوئی اولاد نہیں ہے اور یہ معاویہ بن مغیرہ بن ابی العاص کی زوجہ ہیں ۔ اس حدیث کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین کی ایک جماعت نے بسرہ سے روایت کیا ہے ان میں : عبداللہ بن عمر بن خطاب ، عبداللہ بن عمرو بن العاص ، سعید بن المصیب ، عمر و بنت عبدالرحمٰن الانصاریہ ، عبداللہ بن ابی ملیکہ ، مروان بن الحکم اور سلیمان بن موسیٰ (رضی اللہ عنہم ) کے اسمائے گرامی شامل ہیں ( امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں) ہم نے بسرہ بنت صفوان کے حوالے سے اس حدیث کے علاوہ 15 احادیث نبویہ روایت کی ہیں ۔ اس سے روایت حدیث میں بسرہ بنت صفوان کی شہرت ثابت ہوتی ہے اور ان پر جہالت کی جو چھاپ لگی ہوئی تھی وہ ختم ہو گئی ہے اور ہم نے ذکر کے چھونے سے وضو لازم ہونے کے متعلق صحابہ کرایم رضی اللہ عنہم اور صحابیات کے حوالے سے بھی رسول اکرم ﷺ کے ارشادات نقل کئے ہیں، ان میں حضرت عبداللہ بن عمر ، ابوہریرہ ، زید بن خالد الجھنی ، سعد بن ابی وقاص ، جابر بن عبداللہ ، ام حبیبہ ، ام سلمہ ، اردوق(رضی اللہ عنہم) ( ۔۔۔مقام پر اصل کتاب میں جگہ خالی ہے۔۔۔۔۔) اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نافع ابن نعیم نے سعید بن ابی سعید المقبری کےحوالے سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی یہ روایت نقل کی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا : جو شخص اپنی شرمگاہ کو چھوئے وہ وضو کرے ۔یہ حدیث صحیح ہے اور اس ک شاہد حدیث یزید بن عبدالملک کی روایت کردہ وہ حدیث مشہور ہے جو انہوں نے سعید بن ابی سعید کے حوالے سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے رایت کی ہے ۔ اور ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ بنت الصدیق رضی اللہ عنہا کی یہ روایت ، جب عورت شرمگاں کو چھوئے تو وضو کرے : درجہ صحت کو پہنچی ہوئی ہے۔ ( یہ روایت درج ذیل ہے)

مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ النَّسَوِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْمُؤَذِّنُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Purity › Door · Hadith 479

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّهَارَةِ ‹ باب · حديث 482

482 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجَرَّاحِ الْعَدْلُ الْحَافِظُ، بِمَرْوَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَحْيَى الْقَاضِي السَّرَخْسِيُّ، ثنا رَجَاءُ بْنُ مُرَجًّى الْحَافِظُ، قَالَ: " اجْتَمَعْنَا فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ أَنَا وَأَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَعَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ فَتَنَاظَرُوا فِي مَسِّ الذَّكَرِ، فَقَالَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ: يَتَوَضَّأُ مِنْهُ، وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ بِقَوْلِ الْكُوفِيِّينَ وَتَقَلَّدَ قَوْلَهُمْ، وَاحْتَجَّ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ بِحَدِيثِ بُسْرَةَ بِنْتِ صَفْوَانَ، وَاحْتَجَّ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ بِحَدِيثِ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ، عَنْ أَبِيهِ وَقَالَ لِيَحْيَى بْنِ مَعِينٍ: كَيْفَ تَتَقَلَّدُ إِسْنَادَ بُسْرَةَ وَمَرْوَانُ إِنَّمَا أُرْسِلَ شُرْطِيًّا حَتَّى رَدَّ جَوَابَهَا إِلَيْهِ، فَقَالَ يَحْيَى: ثُمَّ لَمْ يُقْنِعْ ذَلِكَ عُرْوَةَ حَتَّى أَتَى بُسْرَةَ فَسَأَلَهَا وَشَافَهَتْهُ بِالْحَدِيثِ، ثُمَّ قَالَ يَحْيَى: وَلَقَدْ أَكْثَرَ النَّاسُ فِي قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ وَأَنَّهُ لَا يُحْتَجُّ بِحَدِيثِهِ، فَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: كِلَا الْأَمْرَيْنِ عَلَى مَا قُلْتُمَا، فَقَالَ يَحْيَى: مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ تَوَضَّأَ مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ. فَقَالَ عَلِيٌّ: كَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ يَقُولُ: لَا يُتَوَضَّأُ مِنْهُ وَإِنَّمَا هُوَ بَضْعَةٌ مِنْ جَسَدِكَ فَقَالَ يَحْيَى عَنْ مَنْ، فَقَالَ: عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ هُزَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ وَإِذَا اجْتَمَعَ ابْنُ مَسْعُودٍ وَابْنُ عُمَرَ وَاخْتَلَفَا فَابْنُ مَسْعُودٍ أَوْلَى أَنْ يُتَّبَعَ، فَقَالَ لَهُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: نَعَمْ، وَلَكِنْ أَبُو قَيْسٍ الْأَوْدِيُّ لَا يُحْتَجُّ بِحَدِيثِهِ، فَقَالَ عَلِيٌّ: حَدَّثَنِي أَبُو نُعَيْمٍ ثنا مِسْعَرٌ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، قَالَ: مَا أُبَالِي مَسِسْتُهُ أَوْ أتَّقِي، فَقَالَ أَحْمَدُ: عَمَّارُ وَابْنُ عُمَرَ اسْتَوَيَا فَمَنْ شَاءَ أَخَذَ بِهَذَا وَمَنْ شَاءَ أَخَذَ بِهَذَا، فَقَالَ يَحْيَى: بَيْنَ عُمَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ وَعَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ مَفَازَةٌ

رجائ بن مرجی الحافظ بیان کرتےہیں : ایک دفعہ مسجد خیف میں امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ ، میں ، علی بن امدینی اور یحییٰ بن معین جمع ہوئے اور ان کےدرمیان " مس ذکر" کے موضوع پر مناظرہ ہوا۔ یحییٰ بن معین کا موقف یہ تھا کہ اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ علی بن المدینی نے احناف کا موقف اختیار کیا اور انہی کے قول کی تقلید کی۔ یحییٰ بن معین نے بسرہ بن صفوان کی حدیث سے دلیل دی اور علی بن المدینی نےقیس بن طلق کی ان کےوالد سے روایت کردہ حدیث بطور دلیل پیش کی اور یحییٰ بن معین سے کہا : آپ بسرہ کی روایت سے استدلال کیسے کر سکتے ہیں کیونکہ مروان نے ایک فوجی بھیج کر معلوم کیا تھا اور اس نےآکر بسرہ کا جواب ان کو سنایا تھا؟ یحییٰ نے جواب دیا : تو عروہ نے صرف اسی پر اکتفاء نہیں کیا تھا بلکہ وہ خود بسرہ سے جا کر ملے تھے اور وہ حدیث بالمشافہ خود ان سے حاصل کی تھی۔ پھر یحییٰ نے کہا : اکثر لوگوں کو قیس بن طلق پر اعتراض ہے اور ان کی حدیث کو بطور دلیل پیش نہیں کیا جاسکتا۔ امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ بولے: تم دونوں کا موقف درست ہے اور پھر یحییٰ نے مالک کے حوالے سے یہ قول نقل کیا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے "مس ذکر" سے وضو کیا تھا۔ علی نے جواب دیا : عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ ( مس ذکر) سے وضو لازم نہیں ہوتا کیونکہ وہ بھی تو تمہارے جسم ہی کا ایک حصہ ہے ۔ یحییٰ نےکہا: اس کی سند کیا ہے؟ علی نے جواب دیا: عن سفیان عن ابی قیس عن ھزیل عن عبداللہ اور جب کسی مسئلہ میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہ میں اختالف ہو تو اولیٰ یہ ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول اختیار کیا جائے۔ امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے جواب دیا ۔ ہاں ( یہ بات ٹھیک ہے لیکن ) ابو قیس الاودی کی حدیث کو دلیل نہیں بنا سکتے ۔ علی نے جواب دیا : مجھے ابو نعیم نے مسعر کے حوالے سے عمیر بن سعید کی روایت سنائی کہ عمار بن یاسر کہا کرتے ہیں : میں ذکر کو چھونےسے کوئی حرج محسوس نہیں کرتا ہوں۔ اس پر احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ بولے: عمار اور ابن عمر رضی اللہ عنہ درجہ میں برابر ہیں ، جو چاہے عمار کی روایت اختیار کرے اور جو چاہے ابن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت اختیار کر لے۔ یحییٰ نے جواب دیا: عمیر بن سعید اور عمار بن یاسر کے درمیان بہت فرق ہے۔

رَجَاءُ بْنُ مُرَجًّى الْحَافِظُ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَحْيَى الْقَاضِي السَّرَخْسِيُّ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجَرَّاحِ الْعَدْلُ الْحَافِظُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Purity › Door · Hadith 482

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّهَارَةِ ‹ باب · حديث 566

566 - حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَحْمَدَ الْجُرْجَانِيُّ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَسْقَلَانِيُّ، ثنا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ عُتْبَةَ وَهُوَ ابْنُ أَبِي حَكِيمٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قِيلَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، حَدِّثْنَا عَنْ شَأْنِ سَاعَةِ الْعُسْرَةِ، فَقَالَ عُمَرُ: خَرَجْنَا إِلَى تَبُوكَ فِي قَيْظٍ شَدِيدٍ، فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا أَصَابَنَا فِيهِ عَطَشٌ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّ رِقَابَنَا سَتَنْقَطِعُ، حَتَّى أَنَّ الرَّجُلَ لَيَنْحَرُ بَعِيرَهُ، فَيَعْصِرُ فَرْثَهُ فَيَشْرَبُهُ وَيَجْعَلُ مَا بَقِيَ عَلَى كَبِدِهِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ قَدْ عَوَّدَكَ فِي الدُّعَاءِ خَيْرًا فَادْعُ لَهُ، فَقَالَ: «أَتُحِبُّ ذَلِكَ؟» قَالَ: نَعَمْ، فَرَفَعَ يَدَيْهِ فَلَمْ يُرْجِعْهُمَا حَتَّى قَالَتِ السَّمَاءُ، فَأَظَلَّتْ ثُمَّ سَكَبَتْ فَمَلئُوا مَا مَعَهُمْ، ثُمَّ ذَهَبْنَا نَنْظُرُ فَلَمْ نَجِدْهَا جَازَتِ الْعَسْكَرَ. «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَقَدْ ضَمَّنَهُ سُنَّةً غَرِيبَةً، وَهُوَ أَنَّ الْمَاءَ إِذَا خَالَطَهُ فَرْثُ مَا يُؤْكَلُ لَحْمُهُ لَمْ يُنَجِّسْهُ، فَإِنَّهُ لَوْ كَانَ يُنَجِّسُ الْمَاءَ لَمَا أَجَازَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَجْعَلَهُ عَلَى كَبِدِهِ حَتَّى يُنَجِّسَ يَدَيْهِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 566 - على شرطهما

حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کسی نے کہا: ساعۃ العسرۃ " ( تنگی کے حالات ) کے سلسلہ میں کوئی واقعہ ہمیں سنائیں ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہم شدید گرمی کے موسم میں تبوک کی طرف نکے ۔ ہم ایک مقام پر پہنچے تو بہت شدید پیاس لگ رہی تھی۔ پیاس کی شدت اتنی تھی ، لگتا تھا کہ اس کی وجہ سے کئی لوگ مر جائیں گے ( اس شدت کا مداوا یوں کیا گیا کہ ) لوگوں نے اپنے اونٹ ذبح کرکے ان کے معدے سے گوبر نچوڑ کر پانی نکالا او ر پی کر پیٹ کی آگ بجھائی اور جو بچا ، اس کو اونٹ کے معدے میں محفوظ کر کے رکھ لیا( اس انتہائی ناگفتہ بہ حالت میں ) حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ بولے : یا رسول اللہ ﷺ ! اللہ تعالیٰ نے تو آپ کو دعا ئے خیر کا عادی بنایا ہے ، آپ ان کے لئے دعائے خیر فرمادیں ۔ حضور ﷺ نے فرمایا: تمہیں یہ بات پسند ہے ؟ عرض کی: جی ہاں ( یارسول اللہ ﷺ ) چنانچہ پیارے آقاﷺ نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھا لئے ( دعا مانگنا شروع کی ) تو بادل گرجے ، پھر پورے آسمان پر چھا گئے اور پھر موسلا دھار بارش ہوگئی اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اپنے تمام برتن وغیرہ بھر لئے پھر وہاں سے چل دئیے تو دیکھا کہ بارش صرف اسی مقام پر ہوئی جہاں لشکر موجود تھا ، اس مقام سے آگے نکلے تو بارش کا کوئی نام و نشان تک موجود نہ تھا۔ یہ حدیث امام بخاری و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہما دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔اور اس حدیث کے ضمن میں ایک سنت غریبہ بھی ثابت ہوتی ہے وہ یہ کہ پانی میں جب ما یوکل لحمہ ( وہ جانور جن کا گوشت حلال ہے ) کی لید گوبر وغیرہ پاپنی میں شامل ہوتو پانی ناپاک نہیں ہوتا۔ اس لئے کہ اگر ان جانوروں کے گوبر سے پانی ناپاک ہو جاتا ہوتا تو حضورﷺ کسی مسلمان کو یہ اجازت نہ دیتے کہ وہ پانی جانور کے معدے میں ڈال کررکھے کیونکہ اس سے تو ہاتھ بھی ناپاک ہو جاتے۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، ← نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عُتْبَةَ وَهُوَ ابْنُ أَبِي حَكِيمٍ، ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← حرملة بن يحيى انبأ ابن وهب ← أَبُو سَعِيدٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَحْمَدَ الْجُرْجَانِيُّ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَسْقَلَانِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Purity › Door · Hadith 566

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّهَارَةِ ‹ باب · حديث 579

579 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أَنْبَأَ مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَنْبَأَ سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي نَعَامَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُغَفَّلٍ، سَمِعَ ابْنَهُ، يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْقَصْرَ الْأَبْيَضَ عَنْ يَمِينِ الْجَنَّةِ، إِذَا دَخَلْتُهَا، فَقَالَ: يَا بُنَيَّ سَلِ اللَّهَ الْجَنَّةَ وَتَعَوَّذْ بِهِ مِنَ النَّارِ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «إِنَّهُ سَيَكُونُ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ قَوْمٌ يَعْتَدُونَ فِي الطُّهُورِ وَالدُّعَاءِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 579 - فيه إرسال

حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : انہوں نے اپنے بیٹوں کو یوں دعا مانگتے سنا: اے اللہ ! جب تو مجھے جنت میں داخل کر دے گا تو میں جنت کی دائیں جانب ایک سفید محل کا تجھ سے سوال کرتا ہوں ، اس پر عبداللہ بن المغفل نے اپنے بیٹے سے کہا: بیٹا ! اللہ تعالیٰ سے جنت کی دعا مانگو اور دوزخ سے اس کی پناہ مانگو کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد گرامی سن رکھا ہے " میری امت میں کچھ لوگ ہونگے جو طہارت میں اور دعا میں حد سے تجاوز کریں گے۔

رَسُولِ اللَّهِ ← يَا بُنَيَّ, سَلِ اللهَ الْجَنَّةَ, وَتَعَوَّذْ بِهِ مِنَ النَّارِ، فَإِنِّي ← يَمِينِ الْجَنَّةِ إِذَا دَخَلْتُهَا، ← اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْقَصْرَ الْأَبْيَضَ ← ابنه ← أَبِي نَعَامَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُغَفَّلٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَنْبَأَ سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أَنْبَأَ مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Purity › Door · Hadith 579

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّهَارَةِ ‹ باب · حديث 588

588 - فَحَدَّثَنَاهُ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ قَابُوسِ بْنِ أَبِي الْمُخَارِقِ، عَنْ لُبَابَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ، قَالَتْ: بَالَ الْحُسَيْنُ فِي حِجْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: هَاتِ ثَوْبَكَ حَتَّى أَغْسِلَهُ، فَقَالَ: «إِنَّمَا يُغْسَلُ بَوْلُ الْأُنْثَى، وَيُنْضَحُ بَوْلُ الذَّكَرِ» وَالشَّاهِدُ الثَّانِي " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 588 - صحيح

لبابہ بنت الحارث رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ کی گود میں پیشاب کردیا ( آپ کہتی ہیں ) میں نے کہا: یارسول اللہ ﷺ ! اپنے کپڑے مجھے دے دیجئے ! میں دھو دیتی ہوں ، آپ ﷺ نے فرمایا : دھویا تو لڑکی کا پیشاب جاتا ہے ۔ لڑکے کے پیشاب پر صر ف پانی کے چھینٹے مار لیا کرتے ہیں ۔

بَالَ الْحُسَيْنُ فِي حِجْرِ النَّبِيِّ فَقُلْتُ: هَاتِ ثَوْبَكَ حَتَّى أَغْسِلَهُ، ← لُبَابَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ ← قَابُوسَ بْنِ أَبِي الْمُخَارِقِ ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← أبو العباس محمد بن يعقوب أنبأ الربيع بن سليمان

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Purity › Door · Hadith 588

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّوْبَةِ وَالْإِنَابَةِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7677

7677 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْجُنَيْدِ، ثَنَا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ، ثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنِي الْحَكَمُ بْنُ مُصْعَبٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَكْثَرَ الِاسْتِغْفَارَ جَعَلَ اللَّهُ لَهُ مِنْ كُلِّ هَمٍّ فَرَجًا وَمِنْ كُلِّ ضِيقٍ مَخْرَجًا وَرَزَقَهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7677 - الحكم بن مصعب فيه جهالة

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرما یا: جو شخص کثرت سے استغفار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو ہر مشکل سے نکلنے کا راستہ عطا فرما دیتا ہے، ہر تنگی سے اس کو نکال لیتا ہے، اور اس کو ایسے مقام سے رزق دیتا ہے جہاں سے اس کا وہم و گمان بھی نہیں ہوتا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔

النَّبِيِّ ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ← الْحَکَمُ بْنُ مُصْعَبٍ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ، ← عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْجُنَيْدِ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of repentance and deputation › The merits of all Arabs · Hadith 7677

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الرِّقَاقِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7903

7903 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ، ثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأُوَيْسِيُّ، ثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَخِيهِ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «هَكَذَا الْإِخْلَاصُ - يُشِيرُ بِإِصْبَعِهِ الَّتِي تَلِي الْإِبْهَامَ - وَهَذَا الدُّعَاءُ - فَرَفَعَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ - وَهَذَا الِابْتِهَالُ - فَرَفَعَ يَدَيْهِ مَدًّا -» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7903 - ذا منكر بمرة

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شہادت کی انگلی کیساتھ اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اخلاص اس طرح ہوتا ہے اور اپنے ہاتھوں کو کندھوں کے برابر اٹھا کر کہا: دعا یوں مانگتے ہیں ، پھر ہاتھ پھیلا کر کہا اور عاجزی یہ ہے ، یہ فرماتے ہوئے ہاتھ مزید پھیلا لئے۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَخِيهِ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبَّاسٍ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأُوَيْسِيُّ، ← أبو بكر بن إسحاق أنبأ الحسن بن علي بن زياد

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Slave Book › The merits of all Arabs · Hadith 7903

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْفَرَائِضِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7955

7955 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَابِقٍ الْخَوْلَانِيُّ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " إِذَا تُوُفِّيَ الرَّجُلُ أَوِ الْمَرْأَةُ وَتَرَكَ ابْنَةً وَاحِدَةً كَانَ لَهَا النِّصْفُ، فَإِنْ كَانَتَا اثْنَتَيْنِ فَمَا فَوْقَ ذَلِكَ كَانَ لَهُنَّ الثُّلُثَانِ، وَإِنْ كَانَ مَعَهُنَّ ذَكَرٌ فَلَا فَرِيضَةَ لِأَحَدٍ مِنْهُمْ وَيُبْدَأُ بِأَحَدٍ أَنْ يَشْرَكْهُنَّ بِفَرِيضَةٍ فَيُعْطَى فَرِيضَتَهُ فَمَا بَقِيَ بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ لِلْوَلَدِ بَيْنَهُمْ {لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ} [النساء: 11] فَإِنْ كَانَتَا اثْنَتَيْنِ فَمَا فَوْقَ ذَلِكَ مِنَ الْإِنَاثِ كَانَ لَهُنَّ الثُّلُثَانِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» قَالَ الْحَاكِمُ: «أَقَاوِيلُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ حَجَّةٌ عِنْدَ كَافَّةِ الصَّحَابَةِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7955 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب کوئی مرد یا عورت فوت ہوجائے اور ایک لڑکی وارث چھوڑے ، اس کو کل مال کا نصف دیا جائے گا، اگر دو یا دو سے زیادہ ہوں تو دو ثلث دیا جائے ۔ اور اگر ان کے ہمراہ کوئی لڑکا ہو ، تو ان میں سے کسی کے لئے بھی مقرر حصہ نہیں ہے، پھرا گر اس کے ورثاء میں کوئی ذدی الفروض ( جن کے حصے مقرر ہیں ، تفصیل ہماری کتاب رفیق الوراثت شرح سراجی مطبوعہ شبیر برادرز لاہوں میں ملاحظہ فرمائیں ) ہو تو اس کو اس کا حصہ دے دیا جائے گا اور جو باقی بچے گا وہ تمام اولاد میں اس طرح تقسیم کیا جائے گا کہ لڑکوں کو لڑکیوں سے دگنا ملے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔

أَبِيهِ ← خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثابت ← أَبِيهِ ← ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← بَحْرُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَابِقٍ الْخَوْلَانِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Surplus › The merits of all Arabs · Hadith 7955

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْفَرَائِضِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7959

7959 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «مِيرَاثُ الْإِخْوَةِ مِنَ الْأَبِ وَالْأُمِّ أَنَّهُمْ لَا يَرِثُونَ مَعَ الْوَلَدِ الذِّكْرِ وَلَا مَعَ وَلَدِ الِابْنِ وَلَا مَعَ الْأَبِ شَيْئًا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَقَدِ اتَّفَقَا عَلَى غَيْرِ حَدِيثٍ مِثْلِ هَذَا مِنْ فَتْوَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7959 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : سگے بہن بھائیوں کی وراثت کا حکم یہ ہے کہ مرنے والے کی اولاد میں اگر کوئی لڑکا موجود ہو یا اس کا باپ موجود ہو تو بھائیوں کو کچھ نہیں ملتا۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ تاہم امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے ایک اور حدیث بیان کی ہے جس میں حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا یہ فتویٰ موجود ہے۔

أَبِيهِ ← خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثابت ← أَبِيهِ ← ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← بحر بن نصر ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Surplus › The merits of all Arabs · Hadith 7959

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ · حديث 3028

3028 - أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوَ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ الْهُذَلِيِّ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أُعْطِيتُ سُورَةَ الْبَقَرَةِ مِنَ الذِّكْرِ الْأَوَّلِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3028 - عبيد الله قال أحمد تركوا حديثه

حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : مجھے سورۃ البقرہ دی گئی جس میں سابقہ لوگوں کا ذکر موجود ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا ۔

مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ← أَبِي الْمَلِيحِ الْهُذَلِيِّ، ← عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي حُمَيْدٍ ← مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ ← بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › From Surat Al-Baqarah · Hadith 3028

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ · حديث 3042

3042 - أَخْبَرَنِي الشَّيْخُ أَبُو بَكْرٍ بْنُ إِسْحَاقُ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ هَارُونَ بْنِ عَنْتَرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " كَانَتْ يَهُودُ خَيْبَرَ تُقَاتِلُ غَطَفَانَ، فَكُلَّمَا الْتَقَوْا هُزِمَتْ يَهُودُ خَيْبَرَ فَعَاذَتِ الْيَهُودُ بِهَذَا الدُّعَاءِ: اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ الَّذِي وَعَدْتَنَا أَنْ تُخْرِجَهُ لَنَا فِي آخِرِ الزَّمَانِ، إِلَّا نَصَرْتَنَا عَلَيْهِمْ. قَالَ: فَكَانُوا إِذَا الْتَقَوْا دَعَوْا بِهَذَا الدُّعَاءِ، فَهَزَمُوا غَطَفَانَ، فَلَمَّا بُعِثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَفَرُوا بِهِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: {وَكَانُوا مِنْ قَبْلُ يَسْتَفْتِحُونَ} [البقرة: 89] بِكَ يَا مُحَمَّدُ عَلَى الْكَافِرِينَ «. . . .» أَدَّتِ الضَّرُورَةُ إِلَى إِخْرَاجِهِ فِي التَّفْسِيرِ وَهُوَ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِهِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3042 - لا ضرورة في ذلك أي لإخراجه فعبد الله متروك هالك

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: خیبر کے یہودیوں کی قبیلہ غطفان کے ساتھ اکژ جنگ رہتی تھی ، لیکن جب بھی خیبر کے یہودی غطفان سے لڑتے تو شکست سے دو چار ہو تے ۔ پھر یہودیوں نے اس دعا کے ذریعے پناہ مانگنا شروع کی " اے اللہ ! ہم تجھ سے امی نبی محمد ﷺ کے واسطے سے پناہ مانگتے ہیں جن کو آخری زمانے میں مبعوث کرنے کا تو نے ہم سے وعدہ کر رکھا ہے ۔ یا اللہ ! تو ان کے خلاف ہماری مدد فرما " تو جب بھی وہ جنگ کرتے یہی دعا مانگتے ( اور اس دعا کی برکت سے ) "غطفان " کو شکست ہوئی لیکن جب نبی اکرم ﷺ کی بعثت ہوئی تو انہی کوگوں نے آپ ﷺ کا انکار کر دیا تو اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی : ﴿ وَكَانُوا مِنْ قَبْلُ يَسْتَفْتِحُونَ عَلَى الَّذِينَ كَفَرُوا (الْكَافِرِين)َ٨٩﴾ [البقرة: 89]" اور اس سے پہلے اسی نبی کے وسیلے سے کافروں پر فتح مانگتے تھے "۔( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ )

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ هَارُونَ بْنِ عَنْتَرَةَ، ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ← الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › From Surat Al-Baqarah · Hadith 3042

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابٌ فِي مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 712

712 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ، ثنا أَبُو حَازِمٍ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " ثِنْتَانِ لَا تُرَدَّانِ أَوْ قَلَّمَا تُرَدَّانِ: الدُّعَاءُ عِنْدَ النِّدَاءِ، وَعِنْدَ الْبَأْسِ حِينَ يُلْحِمُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا «.» هَذَا حَدِيثٌ يَنْفَرِدُ بِهِ مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ «. وَقَدْ يُرْوَى عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، وَمُوسَى بْنِ يَعْقُوبَ.» مِمَّنْ يُوجَدُ عَنْهُ الِتَفَرُّدُ، وَلَهُ شُهُودٌ مِنْهَا حَدِيثُ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، وَحَدِيثُ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، وَحَدِيثُ يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَنَسٍ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 712 - تفرد به موسى وله شواهد

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا : دو دعائیں کبھی رد نہیں ہوتیں یا ( شاید یہ فرمایا ) بہت کم رد کی جاتی ہیں ( 1) اذان کے وقت کی دعا (2) جنگ کے وقت جب لوگ ایک دوسرے کو قتل کر رہے ہوں ( اس وقت کی دعا ) اس حدیث کو صرف موسیٰ بن یعقوب نے روایت کیا ہے اور مالک کی ابوحازم اور موسی بن یعقوب کے حوالے سے ایسے روایات ملتی یں جن میں ان کی طرف سے تفرد پایا جاتا ہے ۔ اس حدیث کے کئی شواہد موجود ہیں جن میں سلیمان تیمی کی انس سے روایت ، معاویہ بن قرہ کی حدیث اور یزید بن ابومریم کی انس کے حوالے سے حدیث قابل ذکر ہیں ۔

أَبُو حَازِمٍ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ ← مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Chapter at the prayer timetable · Hadith 712

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابٌ فِي مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 713

713 - وَقَدْ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُنْقِذٍ الْخَوْلَانِيُّ، بِمِصْرَ، حَدَّثَنِي إِدْرِيسُ بْنُ يَحْيَى، ثنا الْفَضْلُ بْنُ الْمُخْتَارِ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «الدُّعَاءُ مُسْتَجَابٌ مَا بَيْنَ النِّدَاءِ»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا : اذان کے وقت مانگی ہوئی دعا قبول ہوتی ہے ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْمُخْتَارِ ← إِدْرِيسُ بْنُ يَحْيَى، ← إبراهيمُ بنُ منقذٍ الخولانيُّ بمصرَ: ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← وقد

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Chapter at the prayer timetable · Hadith 713

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ التَّوْبَةِ · حديث 3292

3292 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَنْبَأَ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ هَانِئٍ، عَنْ مَسْرُوقِ بْنِ الْأَجْدَعِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ فِي الْمَقَابِرِ، وَخَرَجْنَا مَعَهُ، فَأَمَرَنَا فَجَلَسْنَا، ثُمَّ تَخَطَّا الْقُبُورَ حَتَّى انْتَهَى إِلَى قَبْرٍ مِنْهَا فَنَاجَاهُ طَوِيلًا، ثُمَّ ارْتَفَعَ نَحِيبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَاكِيًا فَبَكَيْنَا لِبُكَائِهِ، ثُمَّ أَقْبَلَ إِلَيْنَا فَتَلَقَّاهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الَّذِي أَبْكَاكَ فَقَدْ أَبْكَانَا، وَأَفْزَعَنَا، فَجَاءَ فَجَلَسَ إِلَيْنَا فَقَالَ: «أَفْزَعَكُمْ بُكَائِي؟» فَقُلْنَا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ: " إِنَّ الْقَبْرَ الَّذِي رَأَيْتُمُونِي أُنَاجِي فِيهِ، قَبْرُ أُمِّي آمِنَةَ بِنْتِ وَهْبٍ وَإِنِّي اسْتَأْذَنْتُ رَبِّي فِي زِيَارَتِهَا، فَأَذِنَ لِي فِيهِ، فَاسْتَأْذَنْتُهُ فِي الِاسْتِغْفَارِ لَهَا، فَلَمْ يَأْذَنْ لِي فِيهِ، وَنَزَلَ عَلَيَّ {مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ} [التوبة: 113] حَتَّى خَتَمَ الْآيَةَ {وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَاهِيمَ لِأَبِيهِ إِلَّا عَنْ مَوْعِدَةٍ وَعَدَهَا إِيَّاهُ} [التوبة: 114] فَأَخَذَنِي مَا يَأْخُذُ الْوَلَدَ لِوَالِدِهِ مِنَ الرِّقَةِ فَذَلِكَ الَّذِي أَبْكَانِي «صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِهِمَا وَلَمْ يُخْرِجَاهُ هَكَذَا بِهَذِهِ السِّيَاقَةِ» إِنَّمَا أَخْرَجَ مُسْلِمٌ حَدِيثَ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ فِيهِ مُخْتَصَرًا " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3292 - أيوب بن هانىء ضعفه ابن معين

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ قبرستا ن کی طرف نکلے، ہم بھی آپ کے ہمراہ نکل پڑے، آپ ﷺ نے ہمیں بیٹھ جانےکا حکم دیا، ہم بیٹھ گئے، پھر آپ ﷺ چند قبروں سے آگے تشریف لے گئے اور ایک قبر کے قریب جا کر بیٹھ گئے۔ آپ بہت دیر تک وہاں دعا مانگتے رہے پھر آپ ﷺ کے رونے کی آواز بلند ہونے لگی، آپ ﷺ کے رونے کی وجہ سے ہم بھی رو پڑے، پھر آپ ﷺ ہماری طرف متوجہ ہوئے تو حضرت عمر نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ ! آپ کس وجہ سے روئے؟ اور آپ ﷺ کے رونے نے ہمیں بھی رلا دیا۔ آپ ﷺ ہمارے قریب تشریف لائے اور فرمایا: کیا تمہیں میرے رونے نے رلادیا ہے؟ میں نے عرض کی :جی ہاں یا رسول اللہ ﷺ ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تم نے مجھے جس قبر پر دعا مانگتے دیکھاہے وہ میری والدہ حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا بنت وہب کی قبر ہے۔ میں نے اپنے رب سے ان کی (قبر کی) زیارت کی اجازت مانگی تھی ، اللہ تعالیٰ نے مجھے اجازت دے دی پھر میں نے ان کے لئے استغفار کی اجازت مانگی تو مجھے اس کی اجازت نہ ملی بلکہ میرے اوپر یہ آیت نازل ہو گئی:" ماکان للنبی والذین آمنو ان یستغفرو ا للمشرکین (التوبۃ:13) "نبی اور ایمان والوں کو لائق نہیں کہ مشرکوں کی بخشش چاہیں"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) آیت کے آخر تک اور۔ "وماکان استغفار ابراہیم لابیہ الا عن موعدۃ وعددھا ایاہ" (التوبۃ:14) " اور ابراہیم کا اپنے باپ کی بخشش چاہنا وہ تو نہ تھا مگر ایک وعرے کے سبب جو اس سے کر چکا تھا"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) اسے لئے میرے دل پر بھی وہی گزری جو ایک بیٹے کے دل پر اس کے والد کے حوالے سے گزرتی ہے۔ اسی چیز نے مجھے رلایا تھا۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اس طریقے سے انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا ہے۔ تا ہم امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس سلسلہ میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مختصر حدیث روایت کی ہے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← مَسْرُوقِ بْنِ الْأَجْدَعِ، ← أَيُّوبَ بْنِ هَانِئٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَنْبَأَ ابْنُ جُرَيْجٍ، ← بحر بن نصر ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of the chapter of repentance · Hadith 3292

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ هُودٍ · حديث 3307

3307 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ بِبَغْدَادَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي دَاوُدَ الْمُنَادِي، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ أَبِي صَخْرَةَ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ، عَنْ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ، قَالَ: دَخَلَ قَوْمٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلُوا يَسْأَلُونَهُ يَقُولُونَ: أَعْطِنَا. حَتَّى سَاءَهُ ذَلِكَ، وَدَخَلَ عَلَيْهِ آخَرُونَ، فَقَالُوا: جِئْنَا نُسَلِّمُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَتَفَقَّهُ فِي الدِّينِ، وَنَسْأَلُهُ عَنْ بَدْءِ هَذَا الْأَمْرِ. فَقَالَ: «كَانَ اللَّهُ وَلَا شَيْءَ غَيْرُهُ وَكَانَ الْعَرْشُ عَلَى الْمَاءِ، وَكَتَبَ فِي الذِّكْرِ كُلَّ شَيْءٍ، ثُمَّ خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ» قَالَ: ثُمَّ أَتَاهُ آتٍ، فَقَالَ: إِنَّ نَاقَتَكَ قَدْ ذَهَبَتْ. قَالَ: فَوَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ تَرَكْتُهَا «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3307 - صحيح

حضرت بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کے خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ ﷺ سے سوال کرنا شروع کر دئیے اور کہنے لگے: ہمیں عطا کیجئے، ہمیں عطا کیجئے، حتیٰ کہ یہ بات آپ کو بری لگنے لگی۔ پھر کچھ اور لوگ آپ کے پاس آئے، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ ﷺ کو سلام کرنے اور ( آپ سے) دین کے مسائل سمجھنے کے لئے آئے ہیں اور کائنات کی ابتداء کے بارے میں پوچھنے آئے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ذات تھی اور اس کو سوا کچھ نہیں تھا اور عرش پانی پر تھا اور قرآن کریم میں ہر شئے کا ذکر لکھ دیا گیا ہے پھر ساتوں آسمان پیدا کیے۔ (راوی) کہتے ہیں: پھر ایک شخص آیا اور کہنے لگا: تیری اونٹنی بھاگ گئی ہے (راوی )کہتے ہیں: میں نے یہ خواہش کی کاش میں نے اس کو چھوڑ ہی دیا ہوتا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

بُرَيْدَةَ الأَسْلَمِيِّ ← صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ ← أَبِي صَخْرَةَ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ ← الْمَسْعُودِيِّ ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← محمد بن عبيد الله بن أبي داود المنادي، ← أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Hud · Hadith 3307

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ هُودٍ · حديث 3313

3313 - حَدَّثَنَا الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى الْأَشْيَبُ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى عَلَى وَادِي الْأَزْرَقِ فَقَالَ: «مَا هَذَا؟» قَالُوا: وَادِي الْأَزْرَقِ فَقَالَ: «كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى مُوسَى بْنِ عِمْرَانَ مُهْبِطًا لَهُ خُوَارٌ إِلَى اللَّهِ بِالتَّكْبِيرِ» ثُمَّ أَتَى عَلَى ثَنِيَّةٍ، فَقَالَ: «مَا هَذِهِ الثَّنِيَّةُ؟» قَالُوا: ثَنِيَّةُ كَذَا وَكَذَا؟ فَقَالَ: «كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى يُونُسَ بْنِ مَتَّى عَلَى نَاقَةٍ حَمْرَاءَ جَعْدَةٍ خِطَامُهَا لِيفٌ وَهُوَ يُلَبِّي، وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ صُوفٌ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3313 - على شرط مسلم

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ وادی ازرق کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: یہ کون سا مقام ہے ؟ لوگوں نے جواب دیا یہ وادی ازرق " ہے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: گویا کہ میں حضرت موسیٰ بن عمران رضی اللہ عنہ کو اترتے ہوئے دیکھ رہا ہوں اور وہ بلند آواس سے تکبیر پڑھ رہے ہیں۔ پھر آپ ﷺ مقام "ثنیہ " پر تشریف لائے، آپ ﷺ نے پوچھا : یہ کون سے جگہ ہے؟ لوگوں نے کہا : فلاں فلاں ثنیہ ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: گویا کہ حضرت یونس علیہ السلام بن متی کو سرخ رنگ کی گھنگریالے بالوں والی اونٹنی پر سوار دیکھ رہا ہوں ، جس کی لگام کھجوری چھال کی ہے اور تلبیہ کہہ رہےہیں اور آپ اونی جبہ زیب تن کئے ہوئے ہیں۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہمانے اسے نقل نہیں کیا۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي الْعَالِيَةِ ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى الْأَشْيَبُ، ← الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ بِشْرُ بْنُ مُوسَى،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Hud · Hadith 3313

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ هُودٍ · حديث 3318

3318 - أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ الشَّيْبَانِيُّ، بِالْكُوفَةِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الطَّائِفِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: رَأَى نَاسٌ نَارًا فِي الْمَقْبَرَةِ، فَأَتَوْهَا فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْقَبْرِ، وَإِذَا هُوَ يَقُولُ: «نَاوِلُونِي صَاحِبَكُمْ، وَإِذَا هُوَ الرَّجُلُ الْأَوَّاهُ الَّذِي يَرْفَعُ صَوْتَهُ بِالذِّكْرِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3318 - صحيح

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:لوگوں نے ایک قبر میں روشنی دیکھی تو اس قبر کے پاس چلے آئے، جب انہوں نے دیکھا تو قبر میں رسول اللہ ﷺ موجودتھے اور فرما رہے تھے اپنا ساتھی مجھے پکڑاؤ (جب اس کی میت آپ کو پکڑائی گئی تو ہمیں پتا چلاکہ) وہ شخص بہت آہ و زاری کرنے والا وار بآواز بلند ذکر کرنے والاتھا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الطَّائِفِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ دُکَيْنٍ ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ ← محمد بن علي بن دحيم الشيباني،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Hud · Hadith 3318

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الرَّعْدِ · حديث 3333

3333 - ثنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا حَامِدُ بْنُ مَحْمُودٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ، ثنا حَنْظَلَةُ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «لَا يَنْفَعُ الْحَذَرُ مِنَ الْقَدْرِ، وَلَكِنَّ اللَّهَ يَمْحُو بِالدُّعَاءِ مَا يَشَاءُ مِنَ الْقَدَرِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3333 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : تقدری سے بھاگنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے لیکن اللہ تعالیٰ دعا کی وجہ سے جتنی چاہے تقدیر بدل دیت ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← طَاوْسٍ ← حَنْظَلَةُ، ← إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ، ← حَامِدُ بْنُ مَحْمُودٍ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Al-Thund · Hadith 3333

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابٌ فِي فَضْلِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ · حديث 780

780 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، قَالَا: ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ سَمُرَةَ بْنَ جُنْدُبٍ، وَعِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ، تَذَاكَرَا فَحَدَّثَ سَمُرَةُ بْنُ جُنْدُبٍ، أَنَّهُ حَفِظَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَكْتَتَيْنِ: «سَكْتَةً إِذَا كَبَّرَ، وَسَكْتَةً إِذَا فَرَغَ مِنْ قِرَاءَتِهِ عِنْدَ رُكُوعِهِ» . " هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذَا اللَّفْظِ، إِنَّمَا اتَّفَقَا عَلَى حَدِيثِ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَبَّرَ سَكَتَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ، وَحَدِيثُ سَمُرَةَ لَا يَتَوَهَّمُ مُتَوَهِّمٌ أَنَّ الْحَسَنَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ سَمُرَةَ فَإِنَّهُ قَدْ سَمِعَ مِنْهُ وَلَهُ شَاهِدٌ بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 780 - على شرطهما

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ اور عمران بن حصین رضی اللہ عنہ آپس میں گفتگو کر رہے تھے ، سمرہ بن جندب نے بتایا : کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے دو سکتے سیکھے ہیں ( 1) اس وقت کا سکتہ جب امام تکبیر کہے اور ( 2) رکوع سے پہلے اس وقت کا سکتہ ، جب امام قرات سے فارغ ہو جائے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ و امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔ امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ دونوں نے " عمارہ بن قعقاع " کی وہ حدیث نقل کی ہے ، جس میں انہوں نے ابو زرعہ کے حوالے سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا یہ بیان روایت کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب تکبیر کہتے تو تکبیر اور قرات کے درمیان کچھ دیر وقفہ کرتے ۔ سمرہ کی حدیث کے متعلق کسی کو یہ غلط فہمی نہ رہے کہ حسن نے سمرہ نے حدیث کا سماع نہیں کیا ہے ( کیونکہ حقیقت بات یہ ہے کہ ) انہوں نے سمرہ سے حدیث کا سماع کیا ہے ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے ۔ سابقہ حدیث کی ایک شاہد حدیث بھی موجود ہے جو کہ سند صحیح کے ساتھ مروی ہے ۔ جیسا کہ درج ذیل ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ تَذَاکَرَا فَحَدَّثَ سَمُرَةُ بْنُ جُنْدُبٍ أَنَّهُ حَفِظَ ← الْحَسَنِ: أَنَّ سَمُرَةَ بْنَ جُنْدُبٍ ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَزِيعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ ← مُسَدَّدٌ ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُثَنَّى،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Chapter on the virtue of the five daily prayers · Hadith 780

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 813

813 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَلِيمِيُّ، بِبَغْدَادَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ثنا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: اشْتَكَى أَبُو هُرَيْرَةَ أَوْ غَابَ فَصَلَّى لَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ فَجَهَرَ بِالتَّكْبِيرِ حِينَ افْتَتَحَ الصَّلَاةَ، وَحِينَ رَكَعَ، وَحِينَ قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، وَحِينَ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ، وَحِينَ سَجَدَ، وَحِينَ رَفَعَ، وَحِينَ قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ حَتَّى قَضَى صَلَاتَهُ عَلَى ذَلِكَ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ النَّاسَ قَدِ اخْتَلَفُوا فِي صَلَاتِكَ، فَخَرَجَ فَقَامَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَقَالَ: «أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي وَاللَّهِ مَا أُبَالِي اخْتَلَفَتْ صَلَاتُكُمْ، أَوْ لَمْ تَخْتَلِفْ هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذِهِ السِّيَاقَةِ» . إِنَّمَا اتَّفَقَا عَلَى حَدِيثِ غَيْلَانَ بْنَ جَرِيرٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ مُخْتَصَرًا. " وَقَدْ تَفَرَّدَ الْبُخَارِيُّ بِحَدِيثِ عِكْرِمَةَ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: صَلَّيْتُ الظُّهْرَ بِالْبَطْحَاءِ خَلْفَ شَيْخٍ أَحْمَقَ فَكَبَّرَ اثْنَتَيْنِ وَعِشْرِينَ تَكْبِيرَةً، الْحَدِيثَ عَلَى الِاخْتِصَارِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 813 - على شرطهما وشاهده في الصحيح

حضرت سعید بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ، ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیماری یا کسی اور وجہ سے غیر حاضر تھے تو حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی ، انہوں نے تکبیر اولیٰ بلند آواز سے کہی اور رکوع کے وقت بھی تکبیر کہی اور " سمع اللہ لمن حمدہ " بلند آواز سے کہا ! ( یونہی ) جب انہوں نے سجدے سے سر اٹھایا اور جب سجدہ کیا اور جب وہ سجدے سے اتھے اور جب وہ دو رکعتوں کے بعد ( تیسری رکعت کے لئے ) اٹھے ، یہاں تک کہ اسی طرح ( تمام مقامات پر بلند آواز سے تکبیرات کہتے ہوئے ) نما زمکمل کی ، آپ سے کہا گیا : لوگ اپ کی نماز کے حوالے سے اختلاف میں ہیں ۔ تو ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ منبر پر کھڑے ہو کر کہنے لگے : اے لوگو ! خدا کی قسم ! مجھے اس بات کی پرواہ نہیں ہے کہ تمہاری نماز میں کوئی فرق پڑا ہے یا نہیں ؟ میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو ایسے ہی نماز پڑھتے دیکھا۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ و امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس حدیث کو اس انداز میں نقل کیا ، امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور مام مسلم رحمتہ اللہ علیہ دونوں نے عمران بن حصین رحمتہ اللہ علیہ کی وہ مختصر حدیث نقل کی ہے ، جس کی سند " غیلان بن جریر " کے واسطے سے " مطرف " سے ہوتی ہوئی ، ان تک پہنچتی ہے اور امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے عکرمہ سے یہ بیان نقل کیا ہے کہ میں نے ابن اعباس رضی اللہ عنہ سے کہا: میں نے ظہر کی نماز بیابان کے اندر ایک احمق بڈھے کے پیچھے پڑھی ۔ اس نے ( اس نماز میں ) بائیس مرتبہ تکبیر کہی ، اس کے بعد مختصر حدیث مکمل بیان کی ۔

سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ، ← فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَلِيمِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 813

chevron_left Previous
1…272829…641
Next chevron_right