ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کون سی دعاسب سے افضل ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواباً ارشادفرمایا: وہ دعاجوانسان خوداپنے لئے مانگتا ہے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: جوشخص یہ چاہتا ہے کہ تکالیف اور مصائب کے وقت مانگی ہوئی اس کی دعا قبول ہو ،اس کو چاہئے کہ آسانی کے حالات میں کثرت سے دعا مانگا کرے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے،امام بخاری رحمتہ اللہ نے ابوصالح اور ابو عامر الالہانی کی روایات نقل کی ہیں ( امام حاکم فرماتے ہیں) میں یہ سمجھتاہوں کہ یہ ہوزنی ہیں اور صدوق ہے ۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي عَامِرٍ الْأَلْهَانِيُّ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْخُرَاسَانِيُّ، بِبَغْدَادَ فِي الْقَطِيعَةِ،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of supplication, takbeer, exultation, praise and remembrance › Insurance section · Hadith 1997
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الدُّعَاءِ، وَالتَّكْبِيرِ، وَالتَّهْلِيلِ، وَالتَّسْبِيحِ وَالذِّكْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1998
حضرت عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت جبریل امین علیہ السلام بہت حسین و جمیل شکل وصورت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں ہنستے مسکراتے ہوئے تشریف لائے اور کہنے لگے: السّلام عليك يا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )آپ نے جواباً فرمایا : وعليك السلام یا جبریل ۔ (جبریل نے ) کہا:اللہ تعالی نے مجھے ایک تحفہ دے کر آپ کی طرف بھیجا ہے جو کہ عرش کے خزانوں میں سے ہے، اللہ تعالی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان سے سرفراز فرمائے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اے جبرائیل ! وہ کون ساتحفہ ہے؟ جبرائیل علیہ السلام نے کہا: یوں دعا مانگیں : اے وہ ذات جواچھائیوں کو ظاہر کرتی ہے اور برائیوں کو چھپاتی ہے اور اے وہ ذات جو گنا ہوں پر مواخذہ نہیں کرتی ہے اور کسی کا پردہ چاق نہیں کرتی ،اے عظیم معافی عطا کر نے والے اور اے احسن طریقے سے درگز رکر نے والے، اے وسیع مغفرت والے، اے دست رحمت پھیلا نے والے،اے ہر سرگوشی کو جانے والے، اے ہرشکوہ کے انجام ،اے چشم پوشی کرنے والے کریم ،اے عظیم احسان والے، اے استحقاق سے پہلے نعمتوں کی ابتداء کر نے والے ،اے ہمارے رب! اے سردار ! اے ہمارے آقا ، اے ہماری رغبتوں کی انتہاء، میں تجھ سے سوال کرتا ہوں ، اے اللہ تو مجھے جہنم میں نہ جلانا‘ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ان کلمات کا ثواب کیا ہے؟ پھر دعاء کے بعد پوری مفصل حدیث بیان کی ہے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے ، اس کے تمام راوی ثقہ ہیں ، مد نی ہیں اور اس سے پہلے میں ائمہ کے درمیان شعیب بن محمد بن عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے ان کے دادا سے سماع کے متعلق اختلاف ذکر کیا ہے ۔
حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا: جب نداء دینے والا نداء دیتا ہے ( یعنی مؤذن اذان دیتا ہے) تو آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور دعا کوقبول کیا جا تا ہے ، اس لیے کوئی شخص کسی تکلیف یا مصیبت میں مبتلا ہوتو و مؤذن ( کی اذان) کا انتظار کرے ۔ پھر جب وہ الله اکبر کے تو تم بھی الله اکبر کہو، جب و ہ کلمہ شہادت پڑھے تو تم بھی کلمہ شہادت پڑھواور جب وہ حیی علی الصلوۃ پڑھے تو تم بھی حیى على الصلوۃ پڑ ھواور جب وہ حیی علی الفلاح پڑھے تو تم بھی حیی علی الفلاح پڑھو پھر جب اذان ختم ہو جا۔ تو یہ دعا مانگو’’ اللهم رب هذه الدعوة الصادقة المستجابة المستجاب لها دعوة الحق، وكلمة التقوى، أحينا عليها وامتنا عليها، وابعثنا عليها، واجعلنا من خيار أهلها أحياء وأمواتا‘‘ ”اے اللہ ! اے اس سچی مقبول دعوت کے رب ، تو اس دعوت حق اور کلمہ تقوی کو قبول کر نے والا ہے ۔ تو ہمیں اسی پر زندہ رکھ اوراسی پر موت عطا کر اور ہمیں قیامت کے روز اسی پر اٹھا اورہمیں زندگی میں اور بعداز وفات اس کے اچھے اہل میں شامل فرما‘‘یہ دعا مانگنے کے بعد پھر اللہ تعالی سے اپنی حاجت کی دعا مانگے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوانگلیوں پرتسبیح کر تے دیکھا ۔ اس حدیث کو اعمش نے عطاء بن سائب رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے ۔
حضرت یسیرہ رضی اللہ عنہ کا شمار مہا جرات میں ہوتا ہے، آپ فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم تسبیح تہلیل اور تقدیس کواپنے اوپر لازم کرلواوران سے غفلت نہیں بر تناور نہ تم تو حید کو بھول جاؤ گی اور انگلیوں کے پوروں پران کو شمار کرتی رہو کیونکہ ان کے ذریعے سوال بھی کیا جا تا ہے اور گفتگو کی جگہ بھی استعمال ہوتے ہیں ۔
حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا گزشتہ لوگوں کی یاد دلانے کے لئے مجھےسورۂ بقرہ دی گئی ہے ۔یہ حد یث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔
حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: قرآن پرعمل کرو، اس کے حلال کو حلال جانو،اوراس کے حرام کر دہ کوحرام جانو ،اس کی اقتداء کرو،اس میں سے کسی بھی چیز کا انکار مت کرو اور جو چیز اس میں سے تم پر متشابہ ہو جائے اس کواللہ اور میرے بعد اولو الامر کی طرف لوٹادوتا کہ وہ تمہیں اس کے بارے میں کوئی خبر د یں ۔اور تو را ۃ ، زبور ،انجیل اور ان تمام کتب وصحائف پرایمان رکھو جواللہ تعالی کی طرف سے انبیاء کرام کو دیئے گئے ۔ اور قیامت کے دن ہر آیت کا نور ہو گا اور مجھے گذشتہ لوگوں کے ذکر کے طور پر’’ سورۃ بقرہ‘‘ دی گئی ۔ اور مجھے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تختیوں میں طہٰ، ۲ طس اورحم دیئے گئے ۔اور عرش کے تحت سے سورۂ فاتحہ دی گئی ہے ۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Virtues of the Qur’an › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2087
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2415
حضرت معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا نماز ، روزہ ، اور ذکر ، راہ خدا میں کرچ کرنے سے سات سو گنا زیادہ فضیلت رکھتا ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔
حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں : رسول اللہ ﷺنے دعوت اسلام دیئے بغیر کبھی بھی جہاد شروع نہیں کیا۔یہ حدیث امام ثوری کی روایت کردہ سند کے ہمراہ "صحیح" ہے لیکن شیخین ؒ نے اسے روایت نہیں کیا ۔ حالانکہ امام مسلمؒ نے عبداللہ کے والد ابونجیح کی روایات نقل کی ہیں ۔ ابونجیح کا نام "یسار" ہے اور یہ اہل مکہ کے موالی میں سے ہیں ۔ حضرت علیؓ نے بھی انہی لفظوں کے ساتھ رسول اللہﷺکایہ فرمان نقل کیا ہے اور امام بخاری ؒو مسلمؒ دونوں نے عبد الله بن عون کا یہ بیان نقل کیا ہے (عبد الله بن عون فرماتے ہیں) میں نے عبداللہ بن عمرؓ کے غلام"نافع‘‘ کی طرف ایک خط لکھا، جس میں دعوت اسلام پیش کئے بغیر قتال شروع کرنے سے متعلق پوچھا تھا ، انہوں نے جوابی مکتوب میں بنی مصطلق پر رسول الله ﷺکےحملہ کرنے کا پوراواقع لکھ بھیجا، جس میں یہ بھی تھا کہ جہاد شروع کرنے سے پہلے انہیں اسلام کی دعوت پیش کی گئی تھی۔
حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت "انہ کان سمیعا بصیرا" پڑ ھی اور شہادت کی انگلی آنکھوں پر اور اپنے انگوٹھے کانوں پر رکھ لئے۔ یہ حدیث "صحیح " ہے لیکن شیخین ؒ نے اسے نقل نہیں کیا حالانکہ (اس کی سند کے راوی ) حرملہ بن عمران اور ابویونس کی روایات امام مسلم ؒنے نقل کی ہیں اور ان کے علاوہ اس سند کے بقیہ تمام راوی متفق علیہ ہیں ۔ اس حدیث کی ایک شاہد حدیث بھی موجود ہے جو کہ امام مسلم ؒکے معیار پر صحیح ہے۔ (وہ حدیث درج ذیل ہے)
ابو اسید مالک بن ربیعہ ساعدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بار گاہ میں موجود تھے کہ بنی سلمہ کا ایک آدمی آیا اور عرض کرنے لگا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیا ماں باپ کی وفات کے بعد بھی کسی طریقے سے میں ان کی خدمت کر سکتا ہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ۔ ان کی نماز جنازہ پڑھو ، ان کے لئے مغفرت کی دعا کرو، ان کے کئے ہوئے وعدوں کو پورا کرو ، اور ان کے رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کرو۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔
أَبَا أُسَيْدٍ مَالِكَ بْنَ رَبِيعَةَ السَّاعِدِيَّ ← أَبِيهِ أَنَّهُ ← عُبَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، ← أُسَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ، ← عَبْدَانُ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْمُوَجِّهِ ← الحسن بن حليم المروزي ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْغَسِيلِ بْنِ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُکَيْنٍ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَصْرٍ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُفِيدُ، ← أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن دينار العدل،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Righteousness and Prayer › The merits of all Arabs · Hadith 7260
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7348
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس کے ہاں دو بیٹیاں پیدا ہوئیں ، اس نے ان کو زندہ دفن نہ کیا ، ان کو برا نہ جانا ، اور نہ ہی بیٹوں کو ان پر ترجیح دی ، اللہ تعالی اس کے بدلے میں اس کو جنت میں داخل فرمائے گا ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔
حضرت زید بن حسن بن علی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم عید کے دن نئے کپڑے پہنیں اور بہترین خوشبو لگائیں اور موٹا تازہ جانور ذبح کریں گائے سات آدمیوں کی طرف سے اور اونٹ دس ادمیوں کی طرف سے بلند آواز سے تکبیر کہیں اور سکون اور وقار کے ساتھ چلیں ۔ اگر اس حدیث میں اسحا ق بن بز رج کی جہالت نہ ہوتی تو اس حدیث کو صحیح قرار دے دیتا ۔
أَبِيهِ ← زَيْدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، ← إسحاق بن بزرج ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← أَبُو صَالِحٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ ← أَبُو الْأَحْوَصِ مُحَمَّدُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْقَاضِي، ← أبو بكر محمد بن عبد الله بن عتاب العبدي
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Sacrificial Book › The merits of all Arabs · Hadith 7560
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2481
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا جو کہیں سفر کا ارادہ رکھتا تھا وہ کہنے لگا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی نصیحت فرمائیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تجھے اللہ تعالیٰ سے ڈرنے اور ہر بلندی پر چڑھتے ہوئے اللہ اکبر کہنے کی نصیحت کرتا ہوں جب وہ شخص چلا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں دعا مانگی " اے اللہ اس کے لیے زمین کو لپیٹ دے اور اس پر سفر آسان فرما " یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: دو( دعائیں) کبھی ردنہیں ہوتیں یا ( شاید فرمایا) بہت کم رد ہوتی ہیں (۱) اذان کے وقت کی دعا۔(۲) جنگ کے وقت ( جبکہ گھمسان کی جنگ ہورہی ہو مانگی ہوئی دعا ۔ ایک اور سند کے ہمراہ حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بھی بیان کیا ہے کہ بارش میں مانگی ہوئی دعا بھی قبول ہوتی ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : قرآن کی تفصیل ذکر سے کی گئی اور اس کو آسمان دنیا میں عزت کے مقام پر رکھا گیا ۔ حضرت جبریل امین علیہ السلام وہاں سے نبی اکرم ﷺ پر اتارتے رہتے اور ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا ۔
ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← حَسَّانَ بْنِ حُرَيْثٍ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← الحسن بن حفص ← محمد بن عبد الله الأصبهاني ← أَبُو طَاهِرٍ الزُّبَيْرِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2881
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّهَارَةِ ‹ باب · حديث 457
حضرت ابو سعید روایت کرتےہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : نماز کی کنجی وضو ہے، اس کی تحریم " تکبیر" ہے اور اس کی تحلیل " تسلیم " ہے ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ اور اس حدیث کے شواہد ابو سفیان کی ابو نصرہ کی سند کےہمراہ کثیر ہیں ۔ اس حدیث کو ابو حنیفہ ، حمزہ الزیات ، ابو مالک النخعی اور دیگر محدثین رحمۃ اللہ علیہم نے ابوسفیان کےحوالےسے نقل کیا ہے اور اس حدیث کی سب سے مشہور سند وہ ہے جو عبداللہ بن محمد بن عقیل ، پھر محمد بن حنفیہ سے ہوتی ہوئی حضرت علی رضی اللہ عنہ تک پہنچتی ہے ۔ جب کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے ابن عقیل کی روایات کو بالکل نقل نہیں کیا۔
اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِي نَضْرَةَ ← سَعِيدُ بْنُ مَسْرُوقٍ الثَّوْرِيُّ، ← حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو عَمْرٍو الضَّرِيرُ، ← أَبُو الْمُثَنَّى الْعَنْبَرِيُّ ← وحدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالويه،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Purity › Door · Hadith 457
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّهَارَةِ ‹ باب · حديث 472
حضرت ہشام بن عروہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ عروہ رضی اللہ عنہ ، مروان بن حکم کےپاس موجود تھے ان کی موجودگی میں " مس ذکر" سے متعلق مسئلہ پوچھا گیا تو مروان نے کہا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اس پر حضرت عروہ رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے حضرت سبرۃ بنت صفوان رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان سنایا : جب تم میں سے کوئی اپنے ذکر کو چھوئے تو وضو کئے بغیر نماز نہ پڑھے ۔ مروان نے ایک شاہی فوجی کو تصدیق کےلئے حضرت سبرۃ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا۔ وہ حضرت سبرۃ رضی اللہ عنہا سے مل کر واپس آئے تو حضرت عروہ رضی اللہ عنہا کی بات کی تصدیق کی۔ ہشام نے کہا : میرے والد کا بھی یہی موقف تھا کہ ذکر ، خصیتین یا فرج کو چھوئے تو وضو کئے بغیر نماز نہ پڑھے۔ حماد بن زید نے بھی یہ حدیث اسی طرح بیان کی ہے اور انہوں نے اس میں بسرہ سے عروہ کے سماع کا بھی ذکر کیا ہے اور ( اس سند میں موجود) خلف بن ہشام ، ثقہ راوی ہیں اور ان کا شمار ائمہ قرائ میں ہوتا ہے اور ہشام بن عروہ کے وہ اصحاب جن کی روایت جمہور کی روایت کی صحت پر دلالت کرتی ہیں اور ان کی سند ہشام پھر ان کے والد سے ہو کر سبرہ تک پہنچتی ہے، ان کے اسمائے گرامی درج ذیل ہیں ( ۔۔۔۔۔اس مقام پر اصل کتاب میں جگہ خالی ہے ۔۔۔۔) ابن ابی تمیمہ السختیانی ، قیس بن سعد المکی ، ابن جریج ، ابن عیینہ ، عبدالعزیز بن ابی حازم ، یحییٰ بن سعید ، حماد بن سلمہ ، معمر بن راشد ، ہشام بن حسان ، عبداللہ بن محمد ابو علقمہ ، عاصم بن ہلال البارقی ، یحییٰ بن ثعلبہ المازنی ، سعید بن عبدالرحمٰن الجمحی، علی بن المبارک الھنائی ، ابان بن یزید العطار ، محمد بن عبدالرحمٰن الطفاوی ، عبدالحمید بن جعفر الانصاری( ۔۔۔۔۔اس مقام پر اصل کتاب میں جگہ خالی ہے۔۔۔) عبدالعزیز بن محمد الدراوری ، یزید بن سنان الجزری ، عبدالرحمٰن بن ابی الزناد ، عبدالرحمٰن بن عبدالعزیز ، حارثہ بن ہرمہ الفقیمی ، ابو معمر ، عبادبن صھیب اور دیگر محدثین رحمۃ اللہ علیہم ۔ اس سند میں بعض محدثین رحمۃ اللہ علیہم کا اختالف ہے ، ان کے نزدیک اس حدیث کی سندیوں ہے ۔ عن ہشام بن عروۃ ،عن ابیہ ، عن مروان ، عن بسرۃ، اختلاف کرنے والوں کے نام درج ذیل ہیں ۔سفیان بن سعد الثوری ، ان کی ایک روایت ہشام بن حسان سے ہے اور ایک روایت حماد بن سلمہ سے ۔ اور مالک بن انس رضی اللہ عنہ ، وہب بن خالد ، سلام ابن ابی مطیع ، عمر بن علی المقدمی ، عبداللہ بن ادریس، علی بن مسھر، ابواسامہ اور دیگر محدثین رحمۃ اللہ علیہم ۔ یہاں تک ہشام بن عروہ کے حوالے سے اس کے شاگر دوں میں جو اختلاف تھا اس کا ذکر ہوا ہے۔ ان دونوں فریقوں کی شخصیات پر غور کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ جنہوں نے سبرہ سے عروہ کا سماع ثابت کیا ہے ، وہ زیادہ بزرگ لوگ ہیں اور ان میں سے بعض راوی زیادہ حافظے کے مالک ہیں بہ نسبت ان راویوں کےجنہوں نے عروہ کی سند مروان سے بیان کی ہے، تاہم مروان سے سند بیان کرنے والوں میں بھی ائمہ حفاظ کے اسماء گرامی موجود ہیں ۔ جن میں مالک بن انس رضی اللہ عنہ اور ثوری خاص طور پر قابل ذکر ہیں ، ان کے علاوہ بھی ان کے ہم پلہ محدثین رحمۃ اللہ علیہم نے مروان کا نام لیا ہے ۔چنانچہ جن لوگوں کی سند کے اس اختلاف پر گہری نظر نہین ہے وہ اس کو اس وجہ سے ضعیف سمجھنے لگے کہ اس میں مروان پر ائمہ حدیث کا طعن پایا جاتا ہے لیکن مزید غور خوض اور تحقیق کرنے پر ہم پر یہ عقدہ کھلا کہ ثقہ حفاظ راویوں کی پوری ایک جماعت ہے، جس نےیہی حدیث ہشام بن عروہ سے پھر ان کے والد ( عروہ ) سے پھر مروان سے اور پھر بسرہ سے روایت کی ہے۔ اس کےبعد انہوں نے اپنی روایات میں عروہ کا یہ بیان بھی ذکر کیا کہ : میں نے اس کے بعد بسرہ سے ملاقات کی تو انہوں نے مجھے یہ حدیث خود سنادی جیسا کہ مروان نے بسرہ کے حوالے سے بتائی تھی۔ ( امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ کہتےہیں) اس حدیث کے بعد یہ حدیث صحیح قرار پائی ہے اور امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ثابت ہوتی ہے اور اس حدیث کی سند میں پایا جانے والا اختلاف اور شکوک و شبہات ختم ہو جاتے ہیں اور عروہ کا بسرہ سے سماع ثاب ہوتا ہے اور جن لوگوں نے عروہ کے بسرہ سے سماع کی تصریح کی ہے ان میں شعیب بن اسحاق الد مشقی ہیں ۔ جیسا کہ درج ذیل ہے۔