حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا: اے لوگو! کیا تم یہ بات پسند کر تے ہو کہ تم دعا میں کوشش کرو؟ صحا بہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کی : جی ہاں یا رسول اللہ ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ دعا مانگا کرو: اللهم اعني على ذكرك وشكرك، وحسن عبادتك’’ اے اللہ تو اپنے ذکر ،شکر اورحسن عبادت پر میری مد دفر ما‘‘یہ حد یث صحیح الاسناد ہے کیونکہ خارجہ پر صرف یہ اعتراض ہے کہ مجہولین سے روایت کرتے ہیں ۔اور جب یہ ثقہ ثبت راویوں سے روایت لیں تو ان کی روایت مقبول ہے ۔
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: جولوگ اللہ کا ذکر کر تے ہیں یعنی اس کہ بزرگی اور جلال کا اورتسبیح کر تے ہیں اور تکبیر کہتے ہیں اور تہلیل کہتے ہیں ،( ان کی یہ تسبیح وتمجید، تکبیرو تہلیل ) عرش کے گردگھومتی ہیں، ان کی گنگناہٹ شہد کی مکھی کی سی ہوتی ہے ، وہ اپنے پڑھنے والے سے کہتی ہیں: کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ اس کے لئے اللہ کی بارگاہ میں کوئی ایسی چیز ہوجس کے سبب اللہ اس کا ذکر کرے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔
حضرت عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے روایت کر تے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا:جو شخص ایک دن میں ۱۰۰ مرتبہ لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك، وله الحمد، وهو على كل شيء قدير پڑھے، نہ تو سابقہ لوگوں میں سے کوئی اس سے زیادہ ثواب حاصل کر سکتا ہے اور نہ بعد میں آنے والوں میں سے کوئی اس کے ثواب کو پہنچ سکتا ہے البتہ جو آ دمی اس سے بھی افضل عمل کرے( وہ اس سے آگے نکل سکتا ہے ) ۔ امام حاکم اپنی سند کے ہمراہ اسحاق بن ابراہیم کا بیان نقل کر تے ہیں کہ’’ جب عمرو بن شعیب سے روایت کر نے والا راوی ثقہ ہوتو یہ سند’’ ایوب عن نافع عن ابن عمر رضی اللہ عنہ کے درجے کی سند قرار پاتی ہے۔ امام حاکم فرماتے ہیں : میں نے کتاب کے شروع سے لے کر اس مقام تک عمر و بن شعیب کی کوئی حدیث نقل نہیں کی ہے ۔اور کتاب الدعاءوالتسبیح کے آغاز میں ، میں نے امام ابوسعید عبدالرحمٰن بن مہدی کا یہ مذ ہب بیان کر دیا تھا کہ فضائل اعمال سے متعلق احادیث کی سند کے معاملے میں قدرے نرم انداز اپنایا جا تا تھا۔
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فر ماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: سب سے افضل ذکر ’’لا إله إلا الله ہے اورسب سے افضل دعا ’الحمد للہ‘‘ ہے ۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا۔
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: اللہ کے جلال میں سے وہ تسبیح ،تحمید اور تعلیل بھی ہے جس کا تم ذکر کر تے ہو، یہ اللہ کے عرش کے گر دجمع ہوکر جھکی رہتی ہیں ، ان کی گنگنا ہٹ شہد کی مکھی کی سی ہوتی ہے، وہ اپنے پڑھنے والے کو یادکرتی ہیں کہ کیا تم میں سے کسی کو یہ بات پسند ہے کہ اللہ تعالی کی بارگاہ میں اس کی کوئی ایسی نشانی موجو در ہے جس کے باعث اللہ تعالیٰ اپنے اس بندے کو یادفر ما تا ر ہے ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار پر ہے کیونکہ انہوں نے موسٰی القاری کی روایات نقل کی ہے اور وہ اس عیسٰی کا بیٹا ہے۔
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں بہت تیز ز بان شخص ہوں اور یہ عادت میرے پورے گھر میں پائی جاتی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو استغفار کیوں نہیں کرتا؟ میں اللہ تعالی سے دن رات میں ۱۰۰مرتبہ استغفار کرتا ہوں ۔ امام حاکم فرماتے ہیں : اس عبیدابوامغیر ہ کے بارے میں کوئی شک نہیں ہے جبکہ شعبہ نے اس سند اور متن کوشک کےساتھ پیش کیا ہے جبکہ سفیان بن سعید نے اس کو محفوظ رکھا ہے اور مجھے اس سند اورمتن میں کوئی شک نہیں ہے ۔( سفیان بن سعید کاروایت کرد وہ متن اور سند در ج ذیل ہے )
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں اپنے گھر والوں کے سلسلے میں بہت تیز زبان تھا میں نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اس بات سے ڈرلگتا ہے کہ میری زبان مجھے جہنم میں لے جائے گی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پو چھا تم استغفار کیوں نہیں کر تے ہو؟ میں تو اللہ تعالی سے ایک دن میں ۱۰۰ مرتبہ استغفار کرتا ہوں ۔ ابواسحاق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے اس بات کا ذکرابو بردہ سے کیا تو انہوں نے کہا کہ (استغفار کے ساتھ )تو بہ کا بھی ذکر ہے ۔حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے اسناد کے ہمرا نقل نہیں کیا جبکہ امام مسلم رحمتہ اللہ نے ابو بردہ کی سند کے ہمراہ اغر مزنی کے واسطے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حوالے سے یہ روایت کی ہے( کہ آپ نے فرمایا) میرے دل پر خواہشات غلبہ کرتی ہیں اور میں ایک دن میں ۱۰۰ مرتبہ اللہ تعالی سے استغفار کرتا ہوں اور اسی طرح نافع کی ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کردہ حدیث میں یہ ہے کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا استغفار گنا کر تے تھے ۔
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:باقیات الصالحات زیادہ سے زیادہ جمع کر و۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ(باقيات الصالحات )کیا ہوتی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ملت ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: ملت کا کیا مطلب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تکبیر تہلیل تسبیح تحمیداور’’لا حول ولا قوة الا بالله‘‘ ۔ یہ مصریوں کی سب سے زیا دہ صحیح السند ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ نے اسے نقل کیا۔
أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الْهَيْثَمِ، ← أبي السمح ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيُّ، ← أبو عبد الله محمد بن أيوب البجلي ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْدَلاَنِيُّ ← أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of supplication, takbeer, exultation, praise and remembrance › Insurance section · Hadith 1889
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الدُّعَاءِ، وَالتَّكْبِيرِ، وَالتَّهْلِيلِ، وَالتَّسْبِيحِ وَالذِّكْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1903
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا :انسان کی نیک بختی یہ ہے کہ آدمی اللہ سے استخارہ کرے اور انسان کی یہ بدبختی ہے کہ اپنے اللہ سے استخارہ نہ کرے۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا۔
حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک لاغر بیمارشخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: میرے لئے دعا فرمائیں کہ اللہ مجھے عافیت عطافرمائے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا:اگرتم چا ہوتو اس کو مؤخر کر لو اور چاہوتو میں دعا کر دیتا ہوں۔ اس نے کہا: آپ دعا فرمادیں ۔ ( حضرت عثان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو حکم دیا کہ اچھی طرح وضو کر کے 2رکعتیں ادا کرے اور پھر یوں دعا مانگے : اللهم أسألك، وأتوجه إليك بنبيك محمد صلى الله عليه وسلم نبي الرحمة، يا محمد إني أتوجه بك إلى ربك في حاجتي هذه ”اے اللہ میں تجھ سےسوال کرتا ہوں اور تیری طرف تیرے نبی ، نبی رحمت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے سے متوجہ ہوتا ہوں ، یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں آپ کے واسطے سے ، آپ کے رب کی بارگاہ میں متوجہ ہوں ، اپنی اس حاجت کے سلسلے میں ۔ تو میری اس حاجت کو پورا کر دے ۔اے اللہ ! ان کی شفارش میرے حق میں اور میری درخواست ان کے متعلق قبول فرما ۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔
حضرت ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں فرماتی ہیں :محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رب سے جودعا مانگا کرتے تھے وہ یہ ہے’’اللهم إني أسألك خير المسالة، وخير الدعاء، وخير النّجاح، وخير العمل، وخير الثواب، وخير الحياة، وخير الممات، وتبتني وتقل موازيني، وحقق ایمانی، وارفع درجاتي، وتقبل صلاتي، واغفر خطيئتي، وأسالك الدرجات العلى من الجنة، اللهم إني أسألك فواتح الخير وخواتمه، وجوامعة، وأوله، وظاهره وباطنه، والدرجات العلى من الجنة امين، اللهم إني أسألك خير ما اتي، وخير ما أفعل، وخير ما أغمل، وخير ما بطن، وخير ما ظهر، والدرجات العلى من الجنة امين، اللهم إني أسألك أن ترفع ذكرى، وتضع وزرى، وتضح أمرى، وتطهر قلبي، وتحصن فرجي، وتنور لي قلبي، وتغفر لي ذنبي، وأسالك الدرجات العلى من الجنة أمين، اللهم إني أسألك أن تبارك لي في نفسي، وفي سمعي، وفي بصرى، وفي روحی، وفي خلقي، وفي خلقي،وفي أهلي، وفي محياي، وفي مماتي، وفي عملى، فتقبل حسناتي، وأسالك الدرجات العلى من الجنة امين‘‘۔’’اے اللہ! میں تجھ سے اچھے سوال، اچھی دعا ،اچھی کامیابی ، اچھا ثواب،اچھے عمل ،اچھی زندگی اور اچھی موت کا سوال کرتا ہوں اور مجھے ثابت قدم رکھ اور میرے میزان کو بھاری کر اور میرے ایمان کو پختہ کر ، میرے درجات بلند فرما اور میری نماز کوقبول فرما ،میری خطائیں معاف کر اور میں تجھ سے جنت کے اعلی درجہ کا سوال کرتا ہوں ، اے اللہ ! میں تجھ سے اپنے اعمال و افعال اور ظاہر و باطن کی بھلائی مانگتا ہوں اور جنت کے اعلی در جے کی بھلائی مانگتا ہوں ، یا اللہ قبول فرما اے اللہ ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو میرا ذکراونچا کر دے اور میری شرمگاہ کی حفاظت فرما اور میرے دل کو منور کر دے اور میرے گناہ معاف فرما اور میں تجھ سے جنت کے اعلی درجے کا سوال کرتا ہوں، یا اللہ ! قبول فرما،اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو میرے نفس میں ، میری ساعت میں ، میری بصارت میں ، روح میں اور میری تخلیق میں ، میرے اخلاق میں ، میرے اہل وعیال میں ، میری زندگی میں ، میری وفات میں اورمیرے عمل میں برکت عطافرما،میری نیکیاں قبول فرما اور میں تجھ سے جنت کے اعلٰی در جوں کا سوال کرتا ہوں، یا اللہ ! قبول فرما۔یہ حد یث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا۔
أُمِّ سَلَمَةَ ← عَاصِمِ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ← مُحْرِزُ بْنُ سَلَمَةَ الْعَدَنِيُّ، ← عبد الله بن محمد بن زكريا الأصبهاني، ← أبو عبد الله محمد بن أحمد بن بطة الأصبهاني،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of supplication, takbeer, exultation, praise and remembrance › Insurance section · Hadith 1911
معصب بن عبداللہ نے ان کانسب یوں بیان کیا ہے "بسرہ بنت صفوان بن نوفل بن اسد بن عبدالعزیٰ بن قصی "آپ عقبہ ابن ابی معیط کی اخیافی بہن (ماں شریکی بہن )ہیں۔اور عقبہ بن ابی معیط عبدالملک بن مروان کے دادا ہیں ۔عبدالملک بن مروان کی والدہ عائشہ بنت معاویہ بن مغیرہ بن ابی العاص بن امیہ ہیں ۔حضرت بسرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے وصال کے بعد زندہ رہیں ،اور رسول صلی اللہ علیہ و الہ و سلم سے روایت بھی کی ہے ۔"جس نے ذکر کو چھوا،و ہ وضو کرے "(یہ مستحب ہے )یہ حدیث انہی کی روایت کردہ ہے ۔
مصعب بن عبد الله ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِيُّ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ بَالَوَيْهِ،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Bint Siffan, may God be pleased with her · Hadith 6940
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الدُّعَاءِ، وَالتَّكْبِيرِ، وَالتَّهْلِيلِ، وَالتَّسْبِيحِ وَالذِّكْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1923
حضرت سائب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو انتہائی مختصر نماز پڑھائی ، ان سے کہا گیا اے ابو یقظان! آج آپ نے بہت مختصر نماز پڑھائی ہے (اس کی وجہ کیا ہے) انہوں نے جواب دیا: مجھے اس بارے میں کوئی شک نہیں ہے، میں نے اس میں وہ دعائیں مانگی ہیں ، جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہیں ۔سائب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ابوعطاء نے ان سے اس دعا کے متعلق در یافت کیا تو انہوں نے بتایا (کہ وہ دعا یہ تھی ) اے اللہ ! تجھے تیرے علم غیب اور مخلوق پر تیری قدرت کا واسطہ مجھے اس وقت تک زندہ رکھ جب تک تیرے علم میں میرے لئے زندگی بہتر ہے اور اس وقت مجھے موت دے دے، جب تیرے علم میں میرے لئے موت بہتر ہو ۔اور میں ہمیشہ حکمت کی بات بولوں ۔ اور دولت مندی وفقر میں میانہ روی اختیار کروں اور میں تجھ سے ایسی نعمتوں کا سوال کرتا ہوں جو کبھی ہلاک نہ ہوں اور آنکھوں کی ایسی ٹھنڈک مانگتا ہوں جوک بھی ختم نہ ہواور میں تجھ سے فیصلے کے بعد رضا کا سوال کرتا ہوں اور مرنے کے بعداچھی زندگی کا سوال کرتا ہوں اور تیری ذات کے دیدار کا سوال کر تا ہوں اور تیری ملاقات کے شوق کا سوال کرتا ہوں ( اور یہ سب کچھ) کسی نقصان اور آزمائش میں مبتلا ہوئے بغیر ( ہو جائے ) اے اللہ! ہمیں ایمان کی زینت کے ساتھ مزین فرما۔اور ہدایت یافتہ را ہنما بنا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا
حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ سے کہا تھا:’’ مانگو تمہیں عطا کیا جائے گا‘‘ اس وقت تم نے کیا دعا مانگی تھی؟ ( عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے کہا( وہ دعا یہ تھی)’’ اللهم إني أسألك أيمانا لا يرتد، ونعيما لا ينفد، ومرافقة نبيك محمد صلى الله عليه وسلم في أعلى درج الجنة جنة الخلد‘‘ اے اللہ میں تجھ سے ایسا ایمان مانگتا ہوں کہ پھر کبھی مرتد نہ ہوں اور ایسی نعمتیں مانگتا ہوں جو کبھی ختم نہ ہوں اور جنت الخلد کے اعلیٰ درجہ میں تیرے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سنگت مانگتا ہوں۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا۔
حضرت عثان بن حنیف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک نابیناشخص ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کر نے لگا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی ایسی دعا بتایئے جو کہ میں مانگوں تو اللہ میری بینائی لوٹا دے۔ آپ نے اسے فرمایا: یوں دعا مانگا کرو ’’اللهم إنى أسالك، وأتوجه إليك بنبيك نبي الرحمة، يا محمد إني قد توجهت بك إلى ربي، اللهم شفعه في، وشفعني في نفسی‘‘۔’’اے اللہ ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں ، تیرے نبی رحمت کے واسطے سے ، تیری طرف متوجہ ہوتا ہوں ،اے محمد ! میں آپ کے واسطے سے اپنے رب کی بارگاہ میں متوجہ ہوتا ہوں ۔اے اللہ! میرے حق میں ان کی اور میرے حق میں میری شفارش قبول فرما‘‘ (عثمان بن حنیف )کہتے ہیں ۔ وہ یہ دعا مانگ کر کھڑے ہوئے تو اس کی بینائی واپس آ گئی تھی ۔ روح بن قاسم رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث روایت کرنے میں شیب بن سعید حبطی نے عون بن عمار ہ بصری کی متابعت کی ہےاوران کی سند میں اورمتن میں کچھ اضافہ جات ہیں اور اس سلسلہ میں شبیب کا قول معتبر ہے کیونکہ ووثقہ ہیں ، مامون ہیں ۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا سے کہا: عافیت کی دعا کثرت سے مانگا کرو۔یہ حد یث امام بخاری رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے اور یہی حدیث دیگر الفاظ کے ہمراہ بھی منقول ہے ۔
ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← هِلَالُ بْنُ خَبَّابٍ ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← مُسَدَّدٌ ← أبو بكر بن إسحاق أنبأ أبو المثنى
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of supplication, takbeer, exultation, praise and remembrance › Insurance section · Hadith 1939
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الدُّعَاءِ، وَالتَّكْبِيرِ، وَالتَّهْلِيلِ، وَالتَّسْبِيحِ وَالذِّكْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1967
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم م دعا میں اپنے ہاتھوں کو بلند کیا کرتے تھے پھر اپنے چہرے پر پھیر تےہوئے نیچے کیا کرتے تھے۔یہ حد یث حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے ۔ (جیسا کہ درج ذیل ہے )
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جامع دعا ئیں پسند تھیں اور آپ اس کے درمیان کوترک فرماتے تھے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔
حضرت ابونعامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مغفل نے اپنے بیٹے کو یوں دعاما نگتے سنا’’اللهم إني أسألك القصر الأبيض من يمين الجنة ‘‘۔ ’’اے اللہ! میں تجھ سے جنت کے دائیں جانب سفیدمحل کا سوال کرتا ہوں‘‘ فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوفرماتے سنا ہے : میری امت میں ایسے لوگ بھی ہونگے جودعا اور طہارت میں حد سے آگےنکل جائیں گے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا۔
ام المؤمنین سید ہ عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ د عامانگا کرتے تھے’’اللهم اجعل أوسع رزقك على عند كبر سنى وانقطاع عمری‘‘ یااللہ میر ے بڑ ھاپے اور آخری وقت میں میرے اوپرا پنارزق وسیع فرما‘‘یہ حد یث حسن الا سنادوالمتن ہے، دعا کے سلسلے میں غریب ہے ۔مشائخ کے نزدیک مستحب ہے البتہ امام بخاری رحمتہ اللہ نے عیسی بن میمون کی روایات نقل نہیں کی ۔