حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے ہر مسلمان آزاد شخص ، غلام ، مرد اور عورت ، چھوٹے اور بڑے پر ایک صاع ۔ جو ، یا ایک صاع کھجوریں یا ایک صاع کشمش یا ایک صاع پنیر صدقہ فطر فرض کیا ہے ۔
حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب جعرانہ مقام سے احرام باندھ کر عمرہ کر کے واپس تشریف لائے تو حضرت ابوبکر ؓ کو امیر حج بنا کر روانہ کیا، لہٰذا ہم ان کی قیادت میں روانہ ہوئے حتی کہ جب ہم عرج مقام ہپر پہنچے تو صبح کی اذان ہوئی ، پھر جب وہ تکبیر کہنے کےلیے سیدھے کھڑےہوئے تو انھوں نے اپنے پیچھے اونٹ کی بلبلا ہٹ سنی ، لہٰذا وہ تکبیر کہنے سے رک گئے۔ پھر مکمل حدیث بیان کی اور فرمایا: پھر جب روانگی کا پہلا دن آیا توحضرت ابوبکرؓ نے کھڑے ہو کر لوگوں کو خطبہ دیا اور انھیں روانگی اورمی کے مسائل بتائے اور انھیں ان کے مناسک حج سکھائے، جب وہ خطبہ دے کر فارغ ہوئے تو حضرت علی ؓ نے کھڑے ہو کر لوگوں کو پوری سورۂ براءت سنائی (جس میں مشرکین سے اعلان لا تعلقی اور ان کے حج کرنے پر پابندی وغیرہ کے احکامات تھے)۔
حضرت اسامہ بن زیدؓ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہﷺ کے ساتھ بیت اللہ شریف میں داخل ہوئے تو آپ نے حضرت بلال ؓ کو حکم دیا تو انھوں نے دروازہ بند کر دیا ۔ اس وقت بیت اللہ شریف چھ ستونوں پر قائم تھا ۔ آپ کعبہ شریف کے دروازے کے قریبی دوستونوں کے پاس جا کر بیٹھ گئے ، اللہ کی حمد وثنا بیان کی ، اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگیں اور بخشش طلب کی ۔ پھر آپ کھڑے ہوگئے اور کعبہ شریف کی پچھلی دیوار کے سامنے آگئے ، آپ نے اپنا چہرہ مبارک اور جسم مبارک کعبہ شریف کی دیوار پر رکھا اور اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کی، اپنے لیے مغفرت وبخشش کا سوال کیا ، پھر آپ کعبہ شریف کے ہر ہر کونے میں گئے ، اس کی طرف منہ کر کے تکبیریں پڑھیں ، لا الٰہ الا اللہ ، سبحان اللہ ، الحمد للہ پڑھا اور اللہ تعالیٰ کے شان کے لائق اس کی ثنا بیان کی اور اس سے التجا ئیں کیں اور استغفار کیا ۔ پھر آپ نے کعبہ شریف سے باہر نکل کر کعبہ شریف کے سامنے دو رکعات اد اکیں ، اور فرمایا:"یہ قبلہ ہے ، یہ قبلہ ہے ۔"
حضرت اسامہ بن زیدؓ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بیت الہ شریف میں داخل ہوئے ۔ پھر مکمل حدیث بیان کی اور فرمایا:پھر آپ بیت اللہ شریف کے ہر ہر کونے میں تشریف لائے آپ ہر رکن کی طرف منہ کر کے اَللہُ اَکْبَر، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ ، اوراَلْحَمْدُ لِلہِپڑھتے ، اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتے او ردعائیں مانگے ۔ پھر بقیہ حدیث بیان کی ۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، وہ سفر کا ارادہ رکھتا تھا ، اس نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے کوئی وصیت فرمائیے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ اللہ سے ڈرتے رہو اور بلندی پر پڑھتے ہوئے تکبیر کہو۔ جب وہ چلا گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے یوں دعا مانگی’’یا اللہ! اس کے لئے زمین لپیٹ دے اور سفر آسان فرما‘‘۔یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔
حضرت عبداللہ بن سخر ہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ہمراہ صبح کے وقت منٰی کی طرف نکلا ، عبداللہ گندم گوں آدمی تھے، وہ بالوں کی دو چوٹیاں رکھتے تھے جو کہ ان کے اوپر دیہاتیوں کی نشانی ہوتی تھی۔ وہ مسلسل تلبیہ کہہ رہے تھے ۔( یہ سن کر بہت سارے) لوگ ان کے پاس جمع ہو گئے اور کہنے گے : اے بد و ! آج تلبیہ کا دن نہیں ہے ۔آج تو تکبیرات کادن ہے ۔عبداللہ بن سخبرہ فرماتے ہیں: اس وقت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ میری طرف متوجہ ہوئے اور کہنے لگے: یہ لوگ جاہل ہیں یا بھول گئے ہیں؟ اس ذات کی قسم ! جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کوحق کے ساتھ بھیجا، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ منٰی سے عرفات کی طرف نکلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شیطان کو کنکریاں مارنے تک تلبیہ کہا: تا ہم اس کے ساتھ ساتھ تکبیر یاتہلیل بھی پڑھتے ہیں ۔ یہ حد یث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کوئی چیز دعا سے زیادہ عزیز نہیں ہے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اپنی کتاب میں عمران القطان کی روایات نقل نہیں کی ہیں ۔ حالانکہ وہ اپنی روایت میں صدوق ہیں ۔ جبکہ امام بخاری رحمتہ اللہ نے ’’جامع صحیح‘‘میں ان کی روایات نقل کی ہیں اور جوروایات امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ سے کتاب الدعوات میں ذکر کر نے سے رہ گئی ہیں ، ان کو قبول کرنے میں ابوسعید عبدالرحمٰن بن مہدی کے مذ ہب پر چلتے ہوئے میں بیان کرونگا۔ انشاءاللہ تعالی ۔ کیونکہ مجھے ابوزکریایحیٰ بن محد العنبری نے بتایا ہے کہ میں نے ابوالحسن محمد بن اسحاق بن ابراہیم الحنظلی کوفر ماتے ہوئے سنا ہے کہ میرے والد، عبدالرحمٰن بن مہدی کے حوالے سے حلال و حرام احکام کے متعلق احادیث روایت کرتے ہیں تو ان کی بہت شدید چھان بین کرتے ہیں اور اس کے راویوں پر بہت زیادہ جرح وقدح کرتے ہیں لیکن جب اعمال کے فضائل ،ثواب ،عقاب،مباحات اور دعاؤں کے متعلق احادیث نقل کرتے ہیں تو سند کے حوالے سے اتنی زیادہ سختی نہیں کرتے ہیں ۔
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا: دعا عبادت ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کی یہ آیت پڑھی: وقال ربكم ادعوني أستجب لكم(المومن: ۶۰ ) ’’اورتمہارے رب نے فرمایا: مجھے سے دعا کرو میں قبول کرونگا ( ترجمہ کنز الایمان ،امام احمد رضا رحمتہ اللہ) یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا اور اس حدیث کو شعبہ اور جریر نے منصور کے واسطے سے ذر( بن عبداللہ ہمدانی ) سے روایت کی ہے ۔ ( جیسا کہ درج ذیل ہے )
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: بہتر ین عبادت’’دعا‘‘ ہے اور آپ نے یہ آیت پڑھی وقال ربكم ادعوني أتجب لكم إن الذين يستكبرون عن عبادتي سيدخلون جهنم داخرين(المومن: 60 ) ’’اورتمہارے رب نے فرمایا: مجھے سے دعا کرو میں قبول کرو نگا بے شک وہ جومیری عبادت سے اونچے کھچتے ہیں عنقر یب جہنم میں جائیں گے ذلیل ہوکر‘‘ ( تر جمہ کنز الایمان ،امام احمد رضا رحمتہ اللہ)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا : جوشخص اللہ تعالی سے دعانہیں مانگتا اللہ تعالی اس پر ناراض ہوتا ہے ۔ اور اللہ تعالی اس شخص پر ناراض نہیں ہوتا ہے جو دعا مانگتا ہے اور ( دعاما نگنے میں )صرف اللہ تعالی ہی خوش ہوتا ہے ۔( اللہ تعالی سے نہ مانگوتو وہ ناراض ہوتا ہے اورمخلوق سے ما نگ لوتو یہ ناراض ہو جاتے ہیں )۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے کیونکہ ابوصالح خوزی اور ابوالملیح فارسی کا جرح میں کہیں تذکرہ نہیں کیا گیا تا ہم کم احادیث روایت کرنے کی وجہ سے ان کا نام مجہول راویوں میں شمار ہوتا ہے ۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: دعاء مؤمن کا ہتھیار ہے، دین کا ستون ہے اور زمین اورا سمانوں کا نور ہے۔یہ حدیث صحیح ہے کیونکہ یہ محمد بن حسن ( وہ ہیں جن کا نام) ’’تل‘‘ ہے یاوہ صدوق ہیں کو فیوں میں سے ہیں ۔
اُم المومنین سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا : تقدیر سے ڈرتے رہنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے اور دعا تجھے فائدہ دیگی ۔ جو نازل ہو چکی اور جوابھی نازل ہو نے والی ہیں (سب کے متعلق دعافائد ہ دے گی) کیونکہ مصیبت کی دعا کے ساتھ مڈ بھیڑ ہو جاتی ہے تو یہ دونوں قیامت تک ایک دوسری کے ساتھ لڑتی رہتی ہیں ۔یہ حد یث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دعاء کے سوا کوئی چیز تقد یر کورد نہیں کرسکتی اور نیکی کے علاوہ کوئی چیز عمر میں اضافہ نہیں کرتی اور انسان گناہوں کے ارتکاب کے سبب رزق سے محروم ہو جا تا ہے۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا۔
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فر ماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: دعا ءان آزمائشوں سے فائدہ دیتی ہے جو نازل ہو چکی ہیں اوران آزمائشوں سے بھی جوابھی تک نازل نہیں ہوئیں ۔اس لئے اے اللہ کے بندو! تم پر لازم ہے کہ دعاء مانگا کرو۔
حضرت انس بن ما لک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا: دعاء میں سستی مت کرو کیونکہ کوئی شخص مانگتے مانگتے ہلاک نہیں ہوتا ۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا۔
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فر مایا: اے لوگو! اللہ کے ملائکہ کی کچھ جماعتیں ہیں جو ( آسمان سے) روانہ ہوتی ہیں اور زمین میں ذکر کی مجالس میں ٹھہر تی ہیں ، اس لیے تم لوگ جنت کی کیاریوں میں سے چرلیا کرو،صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا (یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) جنت کی کیاریاں کہاں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ذکر کی محفلیں ( ہی جنت کی کیاریاں ہیں) اس لیے صبح شام اللہ کا ذکر کیا کر واوراپنے دلوں میں اس کو یاد کیا کرو ۔ جوشخص اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنا مقام جاننا چاہتا ہے اس کو چاہیے کہ اس بات پر غور کرے کہ اس کے دل میں اللہ کا مقام کیا ہے؟ کیونکہ اللہ تعالی بندے کوہی مقام دیتا ہے جومقام بندہ اللہ تعالی کو اپنے دل میں دیتا ہے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا:اللہ تعالی کے کچھ صاحب فضیلت چلنے پھرنے والے ملائکہ ہیں جو زمین میں ذکر کی محفلیں تلاش کرتے ہیں ۔ اور جب وہ کسی ذکر کی محفل میں آتے ہیں تو ان کو اپنے پروں کے ساتھ آسمانوں تک ڈھانپ لیتے ہیں ( جب وہ لوٹ کر اللہ تعالی کی بارگاہ میں جاتے ہیں تو) اللہ تعالی ان سے پوچھتا ہے :تم کہاں سے آئے ہو؟ حالانکہ اس بات کو وہ خود بہتر جانتا ہے، وہ جواب دیتے ہیں: اے ہمارے رب! ہم تیرے ان بندوں کے پاس سے آئے ہیں جو تیری تسبیح وتحمید اور تکبیر وتہلیل میں مصروف ہیں ، جوتجھ سے مانگتے ہیں اور تیری ہی پناہ چاہتے ہیں ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وہ مجھ سے کیا مانگ رہے ہیں؟ حالانکہ اس بات کو وہ خود بہتر جا تا ہے ،فر شتے جواب دیتے ہیں اے ہمارے رب ! وہ تجھ سے جنت ما نگ رہے ہیں ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: کیا انہوں نے جنت کو دیکھا ہے؟ فرشتے جواب دیتے ہیں :نہیں اے ہمارے رب! اللہ تعالی فرماتا ہے اگر انہوں نے اس کود یکھالیا ہوتا ( توان کا شوق کیسا ہوتا ) اللہ تعالی فرماتا ہے :یہ میری کس چیز سے پناہ مانگ رہے ہیں؟ حالانکہ وہ بھی بہتر جانتا ہے ۔ وہ جواب دیتے ہیں: آگ سے ۔ اللہ تعالی فرماتا ہے: کیا انہوں نے اس کو دیکھا ہے؟ فرشتے جواب دیتے ہیں نہیں ۔ اللہ تعالی فرماتا ہے:اگر انہوں نے جہنم کودیکھا ہوتا( تو ان کوڈرنے کی کیفیت کیا ہوتی ؟) پھر اللہ تعالی فرماتا ہے: تم گواہ ہو جاؤ کہ میں نے انہیں معاف کر دیا ہے اور جو کچھ انہوں نے مجھ سے مانگا ہے ، میں نے انہیں دے دیا ہے اور جس چیز سے انہوں نے میری پناہ مانگی ہے، میں نے ان کو پناہ دے دی ہے ۔فرشتے کہتے ہیں: اے ہمارے رب! ان کے اندرایک گنہگار بندہ بھی ہے ۔ جوان میں (ایسے ہی) بیٹھا ہوا ہے حلقہ ذکر والوں میں و ہ شامل نہیں تھا، اللہ تعالی فر ما تا ہے: میں نے اسے بھی بخش دیا ہے ۔ کیونکہ ذکر کر نے والوں کی یہ شان ہے کہ ان کے پاس بیٹھنے والا بھی بد بخت نہیں ہوسکتا۔ یہ حدیث صحیح ہے، امام مسلم رحمتہ اللہ بن حجاج نے اس کو وہب بن خالد کے حوالے سے سہیل سے روایت کیا ہے۔ یہ روایت مختصر ہے اوراس میں امام مسلم رحمتہ اللہ منفرد ہیں۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا:اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے میرے بندے! تو میرے بارے میں جو گمان رکھتا ہے، میں اسی طرح ہوں اور جب تو میراذکر کرتا ہے تو میں تیرے ساتھ ہوتا ہوں ۔ ظن کے الفاظ صحیح ہیں ،منقول ہیں اور دعا کا ذکر غر یب صحیح ہے کیونکہ محمد بن قاسم ثقہ راوی ہیں ۔اور اس اسناد میں صالح جز رہ نامی راوی موجود ہیں ۔
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا تم میں سے جوشخص دعا کے لیے منہ کھولتا ہے،اس کے لئے جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں ۔اور اللہ تعالی کوسب سے زیادہ پسند یدہ بات ہے کہ اس سے عافیت کا سوال جائے۔یہ حد یث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا۔
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: سب سے افضل ذکر لا الہ الا اللہ اورسب سے افضل دعا الحمد للہ ہے۔یہ حد یث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔
رَسُولِ اللَّهِ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← طَلْحَةَ بْنَ خِرَاشٍ، ← مُوسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ بَشِيرِ بْنِ كَثِيرٍ الْحِزَامِيُّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ← جَدِّي، ← إسماعيل بن محمد بن الفضل الشعراني
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of supplication, takbeer, exultation, praise and remembrance › Insurance section · Hadith 1834