Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الدعاء والذكر

Dua & Dhikr

12814 hadiths

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 426

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خِدَاشٍ الزَّهْرَانِيُّ، نَا سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "الدُّعَاءُ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ لَا يُرَدُّ".

"حضرت انس بن مالک ؓ نبی اکرم ﷺ سے رویات کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: اذان اور اقامت کے درمیان دعا رد نہیں کی جاتی ۔"

"الدُّعَاءُ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ لَا يُرَدُّ". ← النَّبِيِّ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← بُرَيْدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ: ← يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ← سَلمُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خِدَاشٍ الزَّهْرَانِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 426

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 464

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ وَبَحْرُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَابَقٍ الْخَوْلَانِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ -رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ-، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: أَنَّهُ كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ كَبَّرَ وَيَقُولُ حِينَ يَفْتَتِحُ الصَّلَاةَ بَعْدَ التَّكْبِيرِ: "وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ"، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ. وَقَالَا: "وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ". وَلَمْ يَذْكُرَا: "وَاهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ، لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ". وَلَا: "وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا، لَا يَصْرِفُ سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ".

"حضرت علی بن ابی طالب ؓ رسول اللہﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ جب آپ فرض نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اللہ اکبر کہتے اور اللہ اکبر کہنے کے بعد جب نماز شروع کرتے تو یہ دعا پڑھتے ۔"وجھت وجھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔"میں نے اپنا چہرہ اس ذات اقدس کی طرف متوجہ کر لیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا ہے ۔" پھر مکمل حدیث بیان کی اور فرمایا: " اور میں مسلمانوں میں سے ہوں ۔" امام صاحب کے اساتذہ کرام جناب ربیع بن سلیمان اور بحربن نصر ) دونوں نے یہ الفاظ ذکر نہیں کیے : " اور مجھے بہترین اخلاق کی راہ دکھا، بہترین اخلاق کی راہنمائی تیرے سوا کوئی نہیں کرتا۔" اور نہ یہ الفاظ روایت کیے ہیں: " اور مجھے برے اخلاق سے پھیر دے ، برے اخلاق کو تیرے سوا کوئی ذات نہیں پھیر سکتی ۔"

الحديث بطوله ← حِينَ يَفْتَتِحُ الصَّلَاةَ بَعْدَ التَّكْبِيرِ: "وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ"، ← رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ كَبَّرَ ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ وَبَحْرُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَابَقٍ الْخَوْلَانِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 464

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 465

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، وَيُوسُفُ بْنُ مُوسَى وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ وَغَيْرُهُمْ، قَالَ عَلِيٌّ: أَخْبَرَنَا، وَقَالُ الْآخَرُونَ: حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا كَبَّرَ فِي الصَّلَاةِ، سَكَتَ هُنَيَّةً، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! بِأَبِي وَأُمِّي مَا تَقُولُ فِي سُكُوتِكَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ؟ قَالَ: أَقُولُ: "اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنْ خَطَايَايَ كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ، اللَّهُمَّ اغْسِلْنِي مِنْ خَطَايَايَ بِالثَّلْجِ وَالْمَاءِ وَالْبَرَدِ".

"حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتےہیں کہ رسول اللہﷺ جب نماز ( کی ابتداء ) میں اللہ اکبر کہتے تو تھوڑی دیر خاموش رہتے ، تو میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، یہ فرمائیں کہ آپ تکبیر اور قراء ت کےدرمیان اپنی خاموشی میں کیا پڑھتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: میں یہ دعا پڑھتا ہوں:اَللھُمَّ نَقِّنِیْ مِنْ خَطَایَایَ کَمَا یُنَقَّی الثَّوْبُ الأَبَیْضُ مِنَ الدَّنَسِ ، اَللھُمَّ اغْسِلْنِیْ مِنْ خَطَایَایً بِالثَّلْجِ وَالْمَاءِ وَالْبَرَدِ۔" اے اللہ ! میرے میری خطاؤں کے درمیان اسی طرح دوری ڈال دے جیسے تو نے مشرق و مغرب کے درمیان دوری ڈالی ہے ۔ اے اللہ مجھے میری خطاؤں سے اس طرح پاک صاف کر دے جیسے سفید کپڑا میل کچیل سے پاک صاف کیا جاتا ہے ، اے اللہ میرے گناہوں کو برف ، پانی اور اولوں سے دھو دے ۔"

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ إِذَا كَبَّرَ فِي الصَّلَاةِ، سَكَتَ هُنَيَّةً، فَقُلْتُ: ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ← جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← وَقَالُ الْآخَرُونَ: ← عَلِيٍّ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، وَيُوسُفُ بْنُ مُوسَى وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ وَغَيْرُهُمْ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 465

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 467

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر ناه محمد بن موسى الحرشي نا جعفر بن سليمان الضبعي نا علي بن علي الرفاعي عن أبي المتوكل الناجي عن أبي سعيد الخدري قال : كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا قام من الليل إلى الصلاة كبر ثلاثا ثم قال : سبحانك اللهم وبحمدك تبارك اسمك وتعالى جدك ولا إله غيرك ثم يقول : لا إله إلا الله ثلاث مرات ثم يقول : الله أكبر ثلاثا ثم يقول : أعوذ بالله السميع العليم من الشيطان الرجيم من همزه ونفخه ونفثه ثم يقرأ قال أبو بكر : وهذا الخبر لم يسمع في الدعاء لا في قديم الدهر ولا في حديثه استعمل هذا الخبر على وجهه ولا حكي لنا عن من لم نشاهده من العلماء أنه كان يكبر لافتتاح الصلاة ثلاث تكبيرات ثم يقول : سبحانك اللهم وبحمدك إلى قوله ولا إله غيرك ثم يهلل ثلاث مرات ثم يكبر ثلاثا

"حضرت ابو سعید خدری ؓ بیان کرتےہیں کہ رسول اللہﷺ جب رات کے وقت نماز کےلیے کھڑے ہوتے تو تین بار اللہ اکبر کہتے پھر یہ دعا پڑھتے : "سُبْحَانَکَ اللھُمَّ وَبِحَمْدِکَ تَبَارَکَ اسْمُکَ وَتَعَالَی جَدُّکَ وَلَا اِلٰہَ غَیْرُکَ"" اے اللہ! تو اپنی تعریف کے ساتھ پاک ہے ، تیرا نام بہت برکت والا ہے ، تیری ذات بہت بلند ہے اور تیرے سوا کوئی معبو د برحق نہیں ہے ۔" پھر تین بر لا الہ الا اللہ ( اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے ) کہتے پھر تین بار اللہ اکبر ( اللہ بہت بڑا ہے ) کہتے آ پھر یہ دعا پڑھتے : اعوذ باللہ السمیع العلیم من الشیطان الرجیم من ھمزہ ونفخہ ونفثہ ثم یقرأ"" میں خوب سننے والے بہت جاننے والے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں ، شیطان مردود سے ، اس کے وسوسوں ، اس کے تکبر اور اس کے شعر سے ۔" پھر آپ قراء ت فرماتے ۔ امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : دعا کے متعلق اس حدیث کے بارے میں زمانہ قدیم اور زمانہ جدید میں نہیں سنا گیا کہ اس کے عین مطابق عمل کیا گیا ہو ۔ اور جن علمائے کرام کو ہم نے دیکھا نہیں ہے ان کے متعلق بھی ہمیں بیان نہیں کیا گیا کہ وہ نما زکی ابتدا ء کےلیے تین بار اللہ اکبر کہتے تھے ۔ پھر یہ دعا پڑھتے : سبحانک اللھم وبحمدک ۔۔۔۔۔ ولا الہ غیرک" پھر تین بار لا الہ الا اللہ پڑھتے ہوں اور پھر تین مرتبہ اللہ اکبر کہتے ہوں ۔"

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيِّ، ← علي بن علي الرفاعي ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ، ← أبو بكر ناه محمد بن موسى الحرشي ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 467

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 468

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر ناه محمد بن موسى الحرشي نا جعفر بن سليمان الضبعي نا علي بن علي الرفاعي عن أبي المتوكل الناجي عن أبي سعيد الخدري قال : كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا قام من الليل إلى الصلاة كبر ثلاثا ثم قال : سبحانك اللهم وبحمدك تبارك اسمك وتعالى جدك ولا إله غيرك ثم يقول : لا إله إلا الله ثلاث مرات ثم يقول : الله أكبر ثلاثا ثم يقول : أعوذ بالله السميع العليم من الشيطان الرجيم من همزه ونفخه ونفثه ثم يقرأ قال أبو بكر : وهذا الخبر لم يسمع في الدعاء لا في قديم الدهر ولا في حديثه استعمل هذا الخبر على وجهه ولا حكي لنا عن من لم نشاهده من العلماء أنه كان يكبر لافتتاح الصلاة ثلاث تكبيرات ثم يقول : سبحانك اللهم وبحمدك إلى قوله ولا إله غيرك ثم يهلل ثلاث مرات ثم يكبر ثلاثا

"حضرت جبیر بن مطعم ؓ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب نماز کی ابتداء کرتے تو تین مرتبہ اللہ اکبر کبیرا ( اللہ بہت ہی بڑا ہے ) کہتے تین بار الحمد للہ کثیرا ( کثرت سے تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں ) پڑھتے تین بار سبحان اللہ بکرۃ واصیلا ( اے اللہ میں صبح وشام تیری پاکی بیان کرتا ہوں ) پڑھتے ۔ پھر حضرت ابو سعید ؓ کی حدیث میں مذکورہ تعوذ جیسا تعوذ پڑھتے ۔ مگر حضرت جبیر بن مطعم کی حدیث کی سند میں محدثین نے اختلاف کیا ہے ۔ یہ شعبہ کی روایت ہے ۔"

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيِّ، ← علي بن علي الرفاعي ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ، ← أبو بكر ناه محمد بن موسى الحرشي ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 468

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 548

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، نَا إِسْمَاعِيلُ -يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ- وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ؛ وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ سُحَيْمٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ -وَهُوَ ابْنُ عَبَّاسٍ- عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَشَفَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - السِّتَارَةَ وَالنَّاسُ صُفُوفٌ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَ: "أَيُّهَا النَّاسُ! إِنَّهُ لَمْ يَبْقَ مِنْ مُبَشِّرَاتِ النُّبُوَّةِ إِلَّا الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ، يَرَاهَا الْمُسْلِمُ أَوْ تُرَى لَهُ، أَلَا إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَقْرَأَ رَاكِعًا أَوْ سَاجِدًا. فَأَمَّا الرُّكُوعُ فَعَظِّمُوا فِيهِ الرَّبَّ، وَأَمَّا السُّجُودُ فَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ فَقَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ". هَذَا حَدِيثُ عَبْدِ الْجَبَّارِ.

"حضرت ابن عباس ؓبیان کرتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے ( اپنے حجرہ مبارک کا) پردہ ہٹایا جبکہ صحابہ کرام حضرت ابوبکر ؓکے پیچھے صفیں بنائے ہوئے ( نماز پڑھ رہے ) تھے تو آپ نے فرمایا: اے لوگو! نبوت کی خوش خبریوں میں صرف نیک خواب باقی رہ گئے ہیں جنہیں مسلمان دیکھے گا یا اسے دکھائے جائیں گے ، خبردار! بے شک مجھے رکوع اور سجدے کی حالت میں قراءت کرنے سے منع کیا گیا ہے ، لہٰذا رکوع میں رب تعالیٰ کی عظمت بیان کیا کرو اور سجدوں میں گڑ گڑا کر خوب محنت سے دعائیں مانگو کیونکہ یہ بہت لائق ہے کہ تمہاری دعائیں قبول کی جائیں ۔ یہ عبدالجبار کی حدیث ہے ۔"

كَشَفَ النَّبِيُّ السِّتَارَةَ وَالنَّاسُ صُفُوفٌ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ -وَهُوَ ابْنُ عَبَّاسٍ- ← سُلَيْمَانَ بْنِ سُحَيْمٍ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ← إِسْمَاعِيلُ -يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ- وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ؛ ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 548

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ الهمزة مع الغين · حديث 987

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، ثَنَا بُنْدَارٌ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَسَهْلُ بْنُ يُوسُفَ وَعَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ، قَالُوا: ثَنَا عَوْفٌ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ، ثَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ قَالَ: كُنَّا فِي سَفَرٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنَّا سَرَيْنَا ذَاتَ لَيْلَةٍ حَتَّى إِذَا كَانَ السَّحَرُ قَبْلَ الصُّبْحِ وَقَعْنَا تِلْكَ الْوَقْعَةَ، وَلَا وَقْعَةَ أَحْلَى عِنْدَ الْمُسَافِرِ مِنْهَا، فَمَا أَيْقَظَنَا إِلَّا حَرُّ الشَّمْسِ، وَكَانَ أَوَّلُ مَنِ اسْتَيْقَظَ فُلَانٌ، ثُمَّ فُلَانٌ، كَانَ يُسَمِّيهِمْ أَبُو رَجَاءٍ، وَيُسَمِّيهِمْ عَوْفٌ، ثُمَّ عُمَرُ الرَّابِعُ. وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ [109 - ب] صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَامَ لَمْ نُوقِظْهُ حَتَّى يَكُونَ هُوَ يَسْتَيْقِظُ، لِأَنَّا لَا نَدْرِي مَا يَحْدُثُ لَهُ فِي نَوْمِهِ. فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَرَأَى مَا أَصَابَ النَّاسَ فَكَانَ رَجُلًا أَجْوَفَ جَلِيدًا، فَكَبَّرَ وَرَفَعَ صَوْتَهُ بِالتَّكْبِيرِ، فَمَا زَالَ يُكَبِّرُ وَيَرْفَعُ صَوْتَهُ حَتَّى اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَوْتِهِ، فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ شَكَوْا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي أَصَابَهُمْ. فَقَالَ: "لَا ضَيْرَ، أَوْ لَا يَضِيرُ، ارْتَحِلُوا". فَارْتَحَلُوا، فَسَارَ غَيْرَ بَعِيدٍ، ثُمَّ نَزَلَ فَدَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ نَادَى بِالصَّلَاةِ فَصَلَّى بِالنَّاسِ.

" حضؓرت عمران بن حصین ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے اور ہم ایک رات چلتے رہےحتی کہ صبح سے پہلے سحری کا وقت ہوا تو ہم آرام کی لیے لیٹ گئے، اور مسافر کی لیے اس وقت سے زیادہ میٹھی نیند والا وقت اور کوئی نہیں ( اس لیے ہم گہری نیند سوئے رہے) ۔ پھر ہمیں سورج کی حرارت نے ہی بیدار کیا ، سب سے پہلے فلاں شخص بیدار ہوا، پھر فلاں ، ابو رجا ان کے نام بتایا کرتے تھے ، اور عوف بھی ان کے نام بیان کرتے تھے ۔ اور رسول اللہ ﷺ جب سو جاتے تو ہم آپ کو جگایا نہیں کرتے تھے حتی کہ آپ خود ہی بیدار ہو جاتے ، کیونکہ ہمیں نہیں معلوم انہیں نیند میں کیا واقعہ پیش آرہا ہو( کوئی حکم وغیرہ نہ دیا جارہا ہو) ۔ پھر جب حضرت عمر بیدار ہوئے اور انہوں نے لوگون کی پریشانی دیکھی ، اور برے بلند آواز مضبوط و توانا آدمی تھے، تو انہوں نے بلند آواز سے اللہ اکبر کہنا شروع کر دیا ۔ پھر وہ مسلسل بلند آواز سے تکبیر کہتے رہے حتی کہ رسول اللہ ﷺ ان کی آواز سے بیدار ہو گئے۔ جب آپ جاگے تو صحابہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ کو اپنی پریشانی سے آگاہ کیا ( کہ ہماری نماز رہ گئی ہے ) آپ نے فرمایا : کوئی نقصان نہیں ، یا کوئی پریشانی کی بات نہیں ، تم کوچ کرو ، لہٰذا صحابہ کرام نے وہان سے کوچ کیا ، آپ تھوڑی دور تک چلے، پھر سواری سے اترے اور پانی منگوا کر وضو کیا ، پھر اذان کہلائی اور لوگوں کو نماز پڑھائی۔"

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← أَبِي رَجَاءٍ، ← عَوْفٌ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ، ← سَهْلُ بْنُ يُوسُفَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ← بُنْدَارٌ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness · Hadith 987

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ ذِکرِ الوِترِ وَمَا فِیہِ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1095

حدثناه محمد بن رافع نا يحيى - يعني ابن آدم - نا إسرائيل عن أبي إسحاق عن بريد بن أبي مريم عن أبي الحوراء عن الحسن بن علي قال : حفظت من رسول الله صلى الله عليه وسلم كلمات علمنيهن أقولهن عند القنوت ثناه يوسف بن موسى و زياد بن أيوب قالا : ثنا وكيع ثنا يونس بن أبي إسحاق عن بريد بن أبي مريم عن أبي الحوراء عن الحسن بن علي قال : علمني رسول الله صلى الله عليه وسلم كلمات أقولهن في قنوت الوتر : اللهم اهدني فيمن هديت وعافني فيمن عافيت وتولني فيمن توليت وبارك لي فيما أعطيت وقني شر ما قضيت فإنك تقضي ولا يقضى عليك وإنه لا يذل من واليت تباركت ربنا وتعاليت هذا لفظ حديث وكيع غير أن يوسف قال : إنه لا يذل من واليت لم يذكر الواو وقال ابن رافع : إنك تقضي ولم يذكر الفاء وقال : إنه لا يذل ولم يذكر الواو ثنا يوسف بن موسى ثنا عبيد الله بن موسى عن إسرائيل عن أبي إسحاق عن بريد بن أبي مريم عن أبي الحوراء عن الحسن بن علي فذكر الحديث بمثله وهذا الخبر رواه شعبة بن الحجاج عن بريد بن أبي مريم في قصة الدعاء ولم يذكر القنوت ولا الوتر

حضرت حسن بن علی بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے چند دعائیہ کلمات سیکھے جنہیں میں قنوت ( وتر ) میں پڑھتا ہوں ۔ ( امام صاحب ایک اور روایت سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں ) حضرت حسن بن علی ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسو ل اللہ ﷺ نے مجھے چند دعائیہ کلمات سکھائے جنہیں میں قنوت وتر میں پڑھتا ہوں۔ ( وہ کلمات یہ ہیں ) اللھُمَّ اھْدِنِیْ فِیْمَنْ ھَدَیْتَ ، وَعَافِنِیْ فِیْمَنْ عَافِیْتَ ، وَتَوَلَّنِیْ فِیْمَنْ تَوَلَّیْتَ، وَباَرِکْ لِیْ فِیْمَا أَعْطَیْتَ، وَقِنِّیْ شَرَّ مَا قَضَیْتَ فَإِنَّکَ تَقْضِیْ تَبَارَکْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَیْتَ۔ ( اے اللہ ! مجھے ان لوگوں میں ہدایت نصیب فرماجنہیں تو نے ہدایت نصیب فرمائی ہے۔ اور مجھے ان لوگوں مین عنایت و سلامتی عطا فرما جن کو تو نے عنایت و سلامتی عطا فرمائی ہے ۔ اور مجھے ان لوگوں میں دوست بنا لے جنہیں تو نے اپنا دوست بنایا ہے ۔ اور مجھے خیرو برکت عطا فرما اس میں جو تو نے مجھے عطا کیا ہے ، اور مجھے اس فیصلے کے شر سے بچا لےجو تو نے کیا ہے بلاشبہ تو ہی فیصلہ کرتا ہے اور تیرے خلاف فیصلہ نہیں کیا جاتا۔ اور بے شک جسے تو دوست بنا لے اسے ذلیل نہیں کیا جا سکتا ۔ اے ہمارے رب ! تو بہت با برکت اور بلند و بالا ذات ہے۔"یہ وکیع کی روایت ہے ۔ مگر یوسف نے داؤ کے إِنَّہُ لاَ یَذِلُّ مَنْ وَّالَیْتَروایت کیا ہے اور ابن رافع فاء نے بغیر یہ جملہ (إِنَّکَ تَقْضِی وَلاَ یُقْضٰی عَلَیْکَ)اور داؤ کے بغیر یہ جملہ (إِنَّہُ لاَ یَذِلُّ مِنْ وَّالَیْتَ)۔ اسی حدیث کو امام شعبہ نے برید بن ابی مریم سے دعا کے قصے میں روایت کیا ہے مگر قنوت اور وتر کا تذکرہ نہیں کیا ۔"

الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ← أَبِي الْحَوْرَاءِ ← بُرَيْدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ: ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← يَحْيَى -يَعْنِي ابْنَ آدَمَ- ← مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs · Hadith 1095

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ ذِکرِ الوِترِ وَمَا فِیہِ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1096

نا بندار نا محمد بن جعفر نا شعبة قال : سمعت ابن أبي مريم وثنا محمد بن عبد الأعلى الصنعاني نا يزيد بن زريع نا شعبة ح وثنا أبو موسى نا محمد بن جعفر ثنا شعبة عن بريد بن أبي مريم عن أبي الحوراء قال : سألت الحسن بن علي علام تذكر من رسول الله صلى الله عليه وسلم ؟ فقال : كان يعلمنا هذا الدعاء : اللهم اهدني فيمن هديت بمثل حديث وكيع في الدعاء ولم يذكر القنوت ولا الوتر و شعبة أحفظ من عدد مثل يونس بن أبي إسحاق و أبو إسحاق لا يعلم أسمع هذا الخبر من بريد أو دلسه عنه اللهم إلا أن يكون كما يدعي بعض علمائنا أن كل ما رواه يونس عن من روى عنه أبوه أبو إسحاق هو مما سمعه يونس مع أبيه ممن روى عنه ولو ثبت الخبر عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه أمر بالقنوت في الوتر أو قنت في الوتر لم يجز عندي مخالفة خبر النبي ولست أعلمه ثابتا

" امام شعبہ نرید بن ابی مریم سے اور وہ ابو حوار سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں : میں نے حضرت علی بن حسن ؓ سے پوچھا : آپ نے رسو ل اللہ ﷺ سے کون سے دعا یاد کی ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا: آپ ہمیں یہ دعا سکھایا کرتے تھے : اَللَّھُمَّ اھْدِنِیْ فِیْمَنْ ھَدَیْتَ دعا کے بارے میں وکیع کی حدیث کی طرح بیان کیا ، اور وتر اور قنوت کے بارے میں تذکرہ نہیں کیا ( یعنی یہ نہیں کہا کہ یہ دعا ہم قنوت وتر میں پڑھتے تھے ) اور امام شعبہ ، یونس بن ابی اسحاق جیسے بے شمار راویوں سےحفظ میں پختہ اور مضبوط ہیں ۔ جبکہ ابو اسحاق کے بارے میں یہ بھی معلوم نہیں کہ اس نے یہ روایت برید سے سنی ہے یا اس سے تدلیس کی ہے ۔البتہ یہ ممکن ہے کہ جس طرح ہمارے بعض علماء کرام کا دعویٰ ہے کہ ہر وہ روایت جو یونس اپنے والد گرامی کے مشائک سے بیان کرتا ہے وہ روایت یونس نے اپنے والد اسحاق کے ساتھ اس کے مشائخ سے سنی ہے اور اگر نبی اکرم ﷺ سے یہ روایت ثابت ہو جائے کہ نبی اکرم ﷺ نے قنوت وتر کا حکم دیا ہے یا آپ نے وتروں میں دعائے قنوت پڑھی ہے تو میرے نزدیک نبی مکرم ﷺ کی حدیث کی مخالفت کرنا جائز نہیں ہے ۔ لیکن اس حدیث سے ثابت ہونے کا مجھے علم نہیں ہے۔"

سألت الحسن بن علي علام تذكر من رسول الله ← أَبِي الْحَوْرَاءِ ← بُرَيْدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ: ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو مُوسَى، ← شُعْبَةُ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، ← ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← بُنْدَارٌ

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs · Hadith 1096

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الرَّکعَتَینِ قَبلَ الفَجرِ وَمَا فِیھِمَا مِنَ السُّنَنِ · حديث 1119

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلَانِيُّ، ثَنَا آدَمُ -يَعْنِي ابْنَ أَبِي إِيَاسٍ- ثَنَا قَيْسٌ وَقَالَ بِهِ، سُبْحَانَ الَّذِي لَبِسَ الْمَجْدَ وَتَكَرَّمَ بِهِ، سُبْحَانَ الَّذِي لَا يَنْبَغِي التَّسْبِيحُ إِلَّا لَهُ، سُبْحَانَ الَّذِي أَحْصَى كُلَّ شَيْءٍ فَعَلِمَهُ، سُبْحَانَ ذِي الْفَضْلِ وَالنِّعَمِ، سُبْحَانَ ذِي الْقُدْرَةِ وَالْكَرَمِ، اللَّهُمَّ اجْعَلْ لِي نُورًا فِي قَلْبِي، وَنُورًا فِي قَبْرِي، وَنُورًا فِي سَمْعِي، وَنُورًا فِي بَصَرِي، وَنُورًا فِي شَعْرِي، وَنُورًا فِي بَشَرِي، وَنُورًا فِي لَحْمِي، وَنُورًا فِي دَمِي، وَنُورًا فِي عِظَامِي، وَنُورًا بَيْنَ يَدَيَّ، وَنُورًا مِنْ خَلْفِي، وَنُورًا عَنْ يَمِينِي، وَنُورًا عَنْ شِمَالِي، وَنُورًا مِنْ فَوْقِي، وَنُورًا مِنْ تَحْتِي، اللَّهُمَّ زِدْنِي نُورًا، وَأَعْطِنِي نُورًا، وَاجْعَلْ لِي نُورًا".

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھےحضرت عباس رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بھیجا تو میں آپ کے پاس شام کو حا ضر ہوا۔جبکہ آپ میری خالہ حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف فرما تھے۔چنانچہ رات کے وقت رسول اللہ ﷺ نے اُٹھ کر نماز تہجد پڑھی،پھر جب آپ نے فجر کی دو سنتیں ادا کیں تو یہ دعا مانگی "اللھُمَّ إِنَّی أَسْأَلُکَ رَحْمَۃً مِنْ عِنْدِکَ ۔۔۔۔۔وَاجْعَلْ لِی نُوْرًا۔"اے اللہ میں تجھ سے تیری عظیم رحمت کا سوال کرتا ہوںکہ جس کے ساتھ تو میرے دل کو ہدایت فرمادے، تو اس کے ساتھ میرے متفرق امور کو جمع فرما دے اور میرے پراگندہ و منتشرکاموں کو اکھٹا فرمادے۔ میری کجی کو درست کر دے۔اس کے ساتھ میرے دین کی اصلاح فرمادے،میرے باطنی اعمال کی حفاظت فرما دے،میرے ظاہری اعمال کو بلند و بالا فرمادے، اس اس کے ساتھ میرے اعمال کو پاکیزہ بنادے،اس کے ساتھ میرے چہرے کو روشن فرمادے، اور مجھے اس کے ساتھ رشد و ہدایت والے کاموں کی توفیق عطا فرما"جن سے تیری رضا و خوشنودی حاصل ہو"مجھے اس کے ساتھ ہر برائی سے مھفوظ فرما، اے اللہ ، مجھے سچا ایمان اور ایسا عظیم یقین عطا فرماجس کے بعد کوئی کفر نہ ہو، اور ایسی عظیم رحمت نصیب فرما ، جس کے ساتھ میں دنیا و آخرت میں شرف ا و منزلت پالوں۔اے اللہ میں ، میں تجھ سے فیصلے کے وقت کامیابی ،شہدا کا مقام و مرتبہ ،سعادت مندوں کی زندگی ، انبیائے کرام کی رفاقت اور دشمنوں پر غلبہ اور مدد کا طلب گار ہوں۔اے اللہ میں تیرے سامنے اپنی حاجت و ضرورت پیش کرتا ہوں اگرچہ میری عقل ناقص ،اور میرا عمل ضعیف و کمزور ہے۔میں تیری رحمت کا محتاج ہوں لہذا میں تجھ ہی سے مانگتا ہوں، اے معاملات کا فیصلہ فرمانے والے ، اے سینوں کو "ریا کاری جیسے امراض سے " شفا دینے والے ، تو جس طرح سمندروں کو "باہم"ملنے سے روکتا ہے، مجھے بھی جہنم کے عذاب سے پناہ عطا فرما ۔اور ہلاکت کی دعا کرنے سے محفوظ فرما۔اور قبر کے فتنے سے بچا۔اے اللہ،جس خیرو بھلائی جو تو اپنی کسی مخلوق کو عطا کرنے والا ہو، تو میں بھی اس کی رغبت و شوق رکھتا ہوں۔اور تجھ سے اس کا سوال کرتا ہوں اے جہانوں کو پالنے والے ۔ اے اللہ ۔ ہمیں سیدھی راہ دکھا نے والے ہدایت یافتہ بنا دے ، گمراہ ہونے والے اور گمراہ کرنے والے نہ بنانا ، ہمیں اپنے دشمنوں کے لیے جنگ اور اپنے دوستوں کے لیےامن و سلامتی والا بنا۔ہم تیری محبت کی بنا پرلوگوں سے محبت و پیار کریں،اور تیری دشمنی کی بدولت تیرے دشمنوں سے عدوات رکھیں ۔ اے اللہ ،یہ میری دعا ہے اور تو قبول و منظور فرما ۔ اور میری جد و جہد ہے اور تجھ ہی پر بھروسہ ہے ۔ اور اللہ کی مددحمایت کے بغیر نیکی کرنے کی طاقت اور برائی سے بچنے کی ہمت نہیں ہے۔اے اللہ۔مضبوط رسی "دین"والے ،اور درست و سیدھے معاملے والے ، میں تجھ سے عذاب کے دن امن کا سوال کرتا ہوں، اور ہمیشگی کے دن جنت مانگتا ہوں ، اپنے پرودگار کا دیدار کرنے والے مقربین کے ساتھ کثرت سے رکوع و سجود کرنے والوں اور وعدہ پورا کرنے والوں کے ساتھ ، بے شک تو بڑا مہربان اور محبت و شفقت کرنے والا ہے،اور تو جو چاہتا ہے کرتا ہے ۔ پاک ہے وہ ذات جس نے عزت کی چادر اوڑھی اور اس کو اپنے لیے خاص فرمایا۔پاک ہے وہ ذات جس نے عظمت و کبریائی کا لبا س پہنا اور اس کے ساتھ مکرم ہوا۔ پاک ہے وہ ذات جس کے سوا کسی کے لیے تسبیح جائز نہیں ہے ۔ وہ ذات پاک ہے جس نے ہر چیز کو شمار کیا اور اسے جانتا ہے ۔پاک ہے وہ ذات فضل و انعام والی ۔ پاک ہے وہ ذات قدرت و کرم والی۔اے اللہ ، میرے دل میں نور ڈال دے ، میری قبر میں نور کردیں، میرے کانوں میں نور ڈال دے۔میری آنکھوں میں نور پیدا کر دے،میرے بالوں میں نور ڈال دے،اور میری جلد میں نور پیدا فرما دے،میرے گوشت میں نور ڈال دے، میرے خون میں نور پیدا کر دے۔، میری ہڈیو ں میں بھی نور ،اور میرے سامنے بھی نور ، اور پیچھے بھی نور ، میرے دائیں جانب بھی نور، میرے بایئں جانب بھی نور،میرے اوپر بھی نور اور میرے نیچے بھی نور کر دے۔اے اللہ، میرے نور میں اضافہ فرما ، مجھے نور عطا فرما اور میرے لیے نور ہی نور پیدا فرما دے"

قَيْسٍ ← آدَمُ -يَعْنِي ابْنَ أَبِي إِيَاسٍ- ← مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلَانِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them · Hadith 1119

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1630

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ وَيُوسُفُ بْنُ مُوسَى، وَجَمَاعَةٌ، قَالُوا: ثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ النبي - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا كَبَّرَ فِي الصَّلَاةِ سَكَتَ هُنَيْهَةً. فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! بِأَبِي وَأُمِّي مَا تَقُولُ فِي سُكُوتِكَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ؟ قَالَ: "أَقُولُ: اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنْ خَطَايَايَ كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ، اللَّهُمَّ اغْسِلْنِي مِنْ خَطَايَايَ بِالثَّلْجِ وَالْمَاءِ وَالْبَرَدِ".

"حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز کی تکبیر کہتے تو کچھ خاموش رہتے۔میں نے عرض کی:اے اللہ کے رسو ل ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ تکبیر اور قراءت کے درمیان اپنی خاموشی میں کیا دعا پڑھتے ہیں؟ آپ نے فرمایا:میں یہ پڑھتا ہوں:اللّٰھُمَّ بَاعِدْ بَیْنِیْ وَبَیْنَ خَطَایَایَ۔۔۔۔ "اے میرے اللہ! میرے اور میرے گناہوں کے درمیان اسی طرح دوری ڈال دے جس طرح تو نے مشرق ومغرب کے درمیان دوری ڈالی ہے۔اے میرے پروردگار! مجھے میرے خطاؤں سے اسی طرح پاک صاف کر دے جس طرح سفید کپڑا میل کچیل سے صاف کیا جاتا ہے۔اے میرے اللہ! مجھے میری خطاؤں سے برف ، پانی اور اولوں کے ساتھ دھو دے۔‘

كَانَ النبي إِذَا كَبَّرَ فِي الصَّلَاةِ سَكَتَ هُنَيْهَةً. فَقُلْتُ: ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ← جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ وَيُوسُفُ بْنُ مُوسَى، وَجَمَاعَةٌ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein · Hadith 1630

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1642

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ، ثَنَا عَمِّي، أَخْبَر يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبَّادُ بْنُ زِيَادٍ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يَقُولُ: عَدَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا مَعَهُ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ قَبْلَ الْفَجْرِ، فَعَدَلْتُ مَعَهُ، فَأَنَاخَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتَبَرَّزُ، فَسَكَبْتُ عَلَى يَدَيْهِ مِنَ الْإِدَاوَةِ، فَغَسَلَ كَفَّهُ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ، ثُمَّ حَسَرَ عَنْ ذِرَاعَيْهِ، فَضَاقَ كُمَّا جُبَّتِهِ، فَأَدْخَلَ يَدَهُ، فَأَخْرَجَهُمَا مِنْ تَحْتِ الْجُبَّةِ، فَغَسَلَهُمَا إِلَى الْمِرْفَقِ، فَمَسَحَ بِرَأْسِهِ، ثُمَّ تَوَضَّأَ (1) عَلَى خُفَّيْهِ، ثُمَّ رَكِبَ، فَأَقْبَلْنَا نَسِيرُ حَتَّى نَجِدَ النَّاسَ فِي الصَّلَاةِ قَدْ قَدَّمُوا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ فَرَكَعَ بِهِمْ رَكْعَةً مِنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصَفَّ مَعَ الْمُسْلِمِينَ، فَصَلَّى وَرَاءَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ الرَّكْعَةَ الثَّانِيَةَ، ثُمَّ سَلَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُتِمُّ صَلَاتَهُ، فَفَزِعَ الْمُسْلِمُونَ، وَأَكْثَرُوا التَّسْبِيحَ، لِأَنَّهُمْ سَبَقُوا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالصَّلَاةِ، فَلَمَّا سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، قَالَ لَهُمْ: "أَحْسَنْتُمْ"، أَوْ "أَصَبْتُمْ".

’’جناب ابو نصرہ بیان کرتے ہیں کہ ایک نوجوان حضرت عمران بن حصین ؓ کے سامنے کھڑا ہوا ، اس نے ان کی سواری کی لگام پکڑ لی اور ان سے نماز خوف کے بارے میں سوال کیا تو وہ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا :اس نوجوان نے مجھ سے ایک مسئلہ پوچھا ہے ، اور میں پاہتا ہوں کہ میں تم سب کو بیان کردوں ۔میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کئی غزوات میں شرکت کی ہے تو آپ ﷺ مدینہ منورہ واپس آنے تک صرف دو دو رکعات ہی پڑھتے تھے ۔جناب زیاد بن ایوب کی روایت میں یہ اضافہ ہے :’’اورمیں نےآپ ﷺکےساتھ حج بھی کیا تو آپ دو رکعتیں ہی پڑھتے تھے ،یہاں تک کہ آپ ﷺ مدینہ منو رہ واپس آگئے ۔‘‘جناب احمد بن عبدہ اور زیاد بن ایوب دونوں کی روایت میں ہے :’’فتح مکہ کے زمانہ میں آپ ﷺ مکہ مکرمہ میں اٹھا رہ راتیں قیام پذیر ہے ، آپ ﷺ دودو رکعات ہی پڑھتے رہے ، پھر آپ اہل مکہ سے فرماتے :’’تم چار رکعتیں (پوری )ادا کرلو کیونکہ ہم مسافر لوگ ہیں اور میں نے حضرت ابوبکر ؓ کے ساتھ بھی جنگ میں شرکت کی اور ان کے ساتھ حج بھی کیا ہے ، وہ بھی واپس آ نے تک دو دو رکعتیں ہی ادا کرتے تھے اور میں نے حضرت عمر ؓ کے ساتھ کئی حج کیے ہیں ، وہ بھی دو رکعات ہی ادا کرتے تھے حتیٰ کہ واپس آجاتے اور حضرت عثما ن ؓ بھی اپنی خلافت کے ابتدائی سات سالوں میں حج کے دوران دو رکعات ہی پڑھتے رہے حتی ٰ کہ واپس مدینہ آجاتے ۔پھر (ان سات سالو ں ) کے بعد انہو ں نے (مکمل نماز ) چار رکعات پڑھی شروع کردیں ۔ ‘‘جناب احمد کی روایت میں یہ اضافہ ہے :’’پھر پوچھا :کیا میں نے تمہیں مسئلہ بیان کر دیا ہے ؟ ہم نے عرض کی :جی ہاں ۔‘‘اس روایت کے الفاظ جناب احمد بن عبد ہ کی روایت کے ہیں ۔

عَبَّادُ بْنُ زِيَادٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← عَمِّي، أَخْبَر يُونُسُ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein · Hadith 1642

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ النِّسَاءِ فِی الجَمَاعَۃِ · حديث 1706

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، نَا سُفْيَانُ، نَا عَمْرٌو -وَهُوَ ابْنُ دِينَارٍ- أَخْبَرَنِي أَبُو مَعْبَدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كُنْتُ أَعْرِفُ انْقِضَاءَ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالتَّكْبِيرِ.

’’حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی نماز کے اختتام کو اللہ اکبر کی آواز سے پہچانتا تھا۔‘‘

كُنْتُ أَعْرِفُ انْقِضَاءَ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ بالتكبير2. ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبُو مَعْبَدٍ، ← عَمْرٍو -وَهُوَ ابْنُ دِينَارٍ- ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation · Hadith 1706

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ النِّسَاءِ فِی الجَمَاعَۃِ · حديث 1707

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا الْحَسَنُ بْنُ مَهْدِيٍّ (1)، ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَنَّ أَبَا مَعْبَدٍ أَخْبَرَهُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَفْعَ الصَّوْتِ بِالذِّكْرِ حِينَ يُنْصَرَفُ مِنَ الْمَكْتُوبَةِ كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَكُنْتُ أَعْلَمُ إِذَا انْصَرَفُوا بِذَلِكَ إِذَا سَمِعْتُهُ.

’’حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ فرض نماز ہونے پر بلند آواز سے ذکر کرنا رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں موجود تھا۔حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں :’’جب لوگ نماز سے فارغ ہو کر بلند آواز سے ذکر کرتے تو میں اس سے (نماز کی تکمیل اور اختتام کو) پہچان لیتا۔‘‘

عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← الْحَسَنُ بْنُ مَهْدِيٍّ: ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation · Hadith 1707

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ فَضلِ الجُمُعَۃِ · حديث 1740

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، نَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ لَسَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا مُسْلِمٌ قَائِمٌ يُصَلِّي يَسْأَلُ اللَّهَ فِيهَا خَيْرًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ". قَالَ ابْنُ عَوْنٍ: "وَقَالَ بِيَدِهِ عَلَى رَأْسِهِ، قُلْنَا: يُزَهِّدُهَا". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي الْخَبَرِ دَلَالَةٌ عَلَى إِبَاحَةِ الدُّعَاءِ فِي الْقِيَامِ فِي الصَّلَاةِ.

"حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ ابوالقاسم ﷺ نے فرمایا:"بےشک جمعہ کے دن ایک گھڑی ہے ، جو مسلمان بھی نماز کی حالت میں کھڑے ہوئے اس گھڑی کو پالیتا ہے ، پھر اللہ تعالیٰ سے خیروبرکت کا سوال کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے وہی چیز عطا کر دیتا ہے ۔"جناب ابن عون کی روایت میں ہے :"اور آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ کے ساتھ اپنے سر کی طرف اشارہ کیا۔"صحابہ کرام ؓ کہتے ہیں :"آپ ﷺ اسے بہت تھوڑا بتا رہے تھے ۔"امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں : اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ نمازی کی حالت میں کھڑے ہو کر دعا کرنا جائز ہے ۔"

أَبُو الْقَاسِمِ‏.‏ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدٍ ← ابْنِ عَوْنٍ ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › Collections are the gates of the preference of the congregation · Hadith 1740

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الأذَانِ وَالخُطبَۃِ فِی الجُمُعَۃِ وَمَا یَجِبُ عَلَی المَأمُومِینَ فِی ذلِکَ الوَقتِ مِنَ الاِستِمَاعِ لِلخُطبَۃِ وَالاِنصَاتِ لَھَا ، وَمَا أُبِیحَ لَہُم مِنَ الأَفعَالِ وَمَا نُھُوا عَنہُ · حديث 1793

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ، ثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ حُصَيْنٍ، ح وَثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ، ثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَارَةَ بْنَ رُوَيْبَةَ الثَّقَفِيَّ، قَالَ: خَطَبَ بِشْرُ بْنُ مَرْوَانَ وَهُوَ رَافِعٌ يَدَيْهِ يَدْعُو، فَقَالَ عُمَارَةُ: قَبَّحَ اللَّهُ هَاتَيْنِ الْيَدَيْنِ، رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى الْمِنْبَرِ وَمَا يَقُولُ إِلَّا هَكَذَا، يُشِيرُ بِإِصْبَعِهِ. هَذَا حَدِيثُ جَرِيرٍ. وَفِي حَدِيثِ هُشَيْمٍ: شَهِدْتُ عُمَارَةَ بْنَ رُوَيْبَةَ [189 - أ] الثَّقَفِيَّ فِي يَوْمِ عِيدٍ، وَبِشْرُ بْنُ مَرْوَانَ يَخْطُبُنَا فَرَفَعَ يَدَيْهِ فِي الدُّعَاءِ، وَزَادَ: وَأَشَارَ هُشَيْمٌ بِالسَّبَّابَةِ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: رَوَاهُ شُعْبَةُ وَالثَّوْرِيُّ عَنْ حُصَيْنٍ، فَقَالَا: رَأَى بِشْرَ بْنَ مَرْوَانَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ.

"جناب عمارہ بن رویبہ ثقفی ؓ بیان کرتے ہیں کہ بشر بن مروان نے خطبہ دیا اور ( خطبہ کے دوران ) وہ ہاتھ اٹھا کر دعا کر رہا تھا تو حضرت عمارہ نے کہا:"اللہ ان دونوں ہاتھوں کا ستیا ناس کرے ، میں نے رسول اللہﷺ کو منبر پر دیکھا آپ ﷺ صرف اپنی شہادت کی انگلی سے اشارہ کرتے تھے ۔"یہ جناب جرید کی حدیث ہے ۔ جناب ہشیم کی روایت میں ہے :"میں حضرت عمارہ بن رویبہ ثقفی ؓ کے پاس عید والے دن حاضر ہوا جبکہ بشر بن مروان ہمیں خطبہ دے رہا تھا تو اس نے دعا کےلیے دونوں ہاتھ بلند کیے ۔"اور یہ اضافہ بیان کیا ہشیم نے شہاد کی انگلی سے اشارہ کیا ۔ امام ابوبکر فرماتے ہیں :"امام شعبہ اور ثوری نے حصین سے یہ الفاظ روایت کیے ہیں کہ انہوں نے بشر بن مروان کو جمعہ کے دن منبر پر دیکھا۔"امام ابوبکر ؒ نے امام شعبہ اور سفیان ثوری ؒ کی روایت کی سند بیان کی ہے ۔"

عمارة بن رويبة الثقفي ← حُصَيْنٍ ← هُشَيْمٌ ← عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ*، ← حُصَيْنٍ ← جَرِيرٌ ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them · Hadith 1793

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الأذَانِ وَالخُطبَۃِ فِی الجُمُعَۃِ وَمَا یَجِبُ عَلَی المَأمُومِینَ فِی ذلِکَ الوَقتِ مِنَ الاِستِمَاعِ لِلخُطبَۃِ وَالاِنصَاتِ لَھَا ، وَمَا أُبِیحَ لَہُم مِنَ الأَفعَالِ وَمَا نُھُوا عَنہُ · حديث 1798

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، ثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، نَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ -وَهُوَ ابْنُ شِبْيلٍ- عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: لَمَّا دَنَوْتُ مِنْ مَدِينَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، أَنَخْتُ رَاحِلَتِي وَحَلَلْتُ عَيْبَتِي، فَلَبِسْتُ حُلَّتِي، فَدَخَلْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْطُبُ، فَسَلَّمَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَرَمَانِي النَّاسُ بِالْحَدَقِ، فَقُلْتُ لِجَلِيسٍ لِي: يَا عَبْدَ اللَّهِ! هَلْ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ أَمْرِي شَيْئًا؟ قَالَ: نَعَمْ، ذَكَرَكَ بِأَحْسَنِ الذِّكْرِ بَيْنَمَا هُوَ يَخْطُبُ [189 - ب] إِذْ عَرَضَ لَهُ فِي خُطْبَتِهِ، قَالَ: "إِنَّهُ سَيَدْخُلُ عَلَيْكُمْ مِنْ هَذَا الْبَابِ، أَوْ مِنْ هَذَا الْفَجِّ مِنْ خَيْرِ ذِي يَمَنٍ، وَإِنَّ عَلَى وَجْهِهِ لَمَسْحَةَ مَلَكٍ". قَالَ: فَحَمِدْتُ اللَّهَ عَلَى مَا أَبْلَانِي.

"حضرت جریر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ جب میں رسول اللہﷺ کے مدینہ منورہ کے قریب پہنچ گیا تو میں نے اپنی اونٹنی کو بٹھایا اور اپنا تھیلا کھول کر اپنا جوڑا پہنا ، پھر میں مسجد میں داخل ہوا تو رسول اللہﷺ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے ۔ تو رسول اللہﷺ نے مجھے سلام کیا ۔ تو لوگوں نے مجھے گھورنا شروع کر دیا۔ تو میں نے اپنے ہاتھ بیٹھے شخص سے پوچھا : اے عبداللہ! کیا رسول اللہﷺ نے میرے بارے میں کچھ فرمایا تھا( جو یہ سب لوگ مجھے غور سے دیکھ رہے ہیں؟) اس نے جواب دیا کہ ہاں آپ ﷺ نے تمہارا بڑا چھا تذکرہ فرمایا ہے ۔ اس دوران کہ آپ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے ، تو آپ کو اپنے خطبے میں کوئی با ت یاد آئی تو آپ نے فرمایا: تمہارے پاس اس دروازے سے یا اس راستے سے یمن والوں کا بہترین شخص داخل ہوگا اور اس کے چہرے پر بادشاہ کا نشان ہوگا۔ حضرت جریرؓ کہتے ہیں :"تو میں نے اللہ تعالیٰ کے اس احسان پراس کا شکر اد اکیا۔"

جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ← الْمُغِيرَةِ -وَهُوَ ابْنُ شِبْيلٍ- ← يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی ← أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them · Hadith 1798

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَدَقَۃَ الفِطرِ فِی رَمَضَانَ · حديث 2395

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، وَمُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، وَالْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ الزَّعْفَرَانِيُّ: ابْنُ عُلَيَّةَ، قَالَ أَحْمَدُ وَزِيَادٌ قَالَ: أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ، وَقَالَ مُؤَمَّلٌ وَالزَّعْفَرَانِيُّ: عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَدَقَةَ رَمَضَانَ عَلَى الذَّكَرِ وَالْأُنْثَى، وَالْحُرِّ وَالْمَمْلُوكِ، صَاعَ تَمْرٍ أَوْ صَاعَ شَعِيرٍ. قَالَ: فَعَدَلَ النَّاسُ نِصْفَ صَاعِ بُرٍّ. لَمْ يَقُلْ أَحْمَدُ وَمُؤَمَّلٌ بَعْدُ. زَادَ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ: فَقَالَ نَافِعٌ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ يُعْطِي التَّمْرَ إِلَّا عَامًا وَاحِدًا أَعْوَزَ مِنَ التَّمْرِ فَأَعْطَى الشَّعِيرَ.

حضرت ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے ہر مرد ، عورت ، آزاد اور غلام شخص پر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو صدقہ رمضان فرض کیا ہے ۔ پھر لوگوں نے گندم کا نصف صاع اس کے برابر قرار دے دیا ۔ اس کے بعد کی کلام جناب احمد اور مؤمل کی روایت میں موجو نہیں ہے ۔ جبکہ زیاد بن ایوب کی روایت میں بعد والا اضافہ موجو د ہے کہتے ہیں : امام نافع ؒ نے فرمایا: حضرت ابن عمر ؓ کھجور ہی سے صدقہ فطر دیا کرتے تھے ۔ سوائے ایک سال کے کہ اس سال کھجوریں نایا ب ہوگئیں تو انھوں نے جو سے صدقہ فطر ادا کیا۔

وَالْأُنْثَى، وَالْحُرِّ وَالْمَمْلُوكِ، صَاعَ تَمْرٍ أَوْ صَاعَ شَعِيرٍ. ← فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَدَقَةَ رَمَضَانَ عَلَى ال ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← أَيُّوبَ، ← مُؤَمَّلٌ وَالزَّعْفَرَانِيُّ: ← أَيُّوبَ، ← أَحْمَدُ وَزِيَادٌ ← الزَّعْفَرَانِيُّ: ابْنُ عُلَيَّةَ، ← إِسْمَاعِيلُ ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ← مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، ← زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan · Hadith 2395

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَدَقَۃَ الفِطرِ فِی رَمَضَانَ · حديث 2397

حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى الْقَزَّازُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - زَكَاةَ رَمَضَانَ عَنِ الْحُرِّ وَالْمَمْلُوكِ، وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى، صَاعًا مِنْ تَمْرٍ. أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ. قَالَ: فَعَدَلَ النَّاسُ بِهِ نِصْفَ صَاعِ بُرٍّ. قَالَ: وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا أَعْطَى أَعْطَى التَّمْرَ إِلَّا عَامًا وَاحِدًا أَعْوَزَ مِنَ التَّمْرِ فَأَعْطَى شَعِيرًا. قَالَ: قُلْتُ: مَتَى كَانَ ابْنُ عُمَرَ يُعْطِي الصَّاعَ؟ قَالَ: إِذَا قَعَدَ الْعَامِلُ. قُلْتُ: مَتَى كَانَ الْعَامِلُ [245 - أ] يَقْعُدُ؟ قَالَ: قَبْلَ الْفِطْرِ بِيَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ.

حضرت ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے ہر آزاد ، غلام ، مرد اور عورت کی طر ف سے ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو صدقہ فرض کیا ۔ پھر لوگوں نے نصف صاع گندم کو ایک صاع ( کھجور یا جو) قرار دے دیا ۔ اور حضرت ابن عمر ؓ جب صدقہ فطر ادا کر تے تو کھجور ہی سے ادا ئیگی کرتے سوائے ایک سال کے اس سال کھجور کمیاب ہوگئی تو انہوں نے جَو سے صدقہ فطر ادا کیا۔ جناب ایوب کہتے ہیں : میں نے پوچھا : حضرت ابن عمر صدقہ فطر کا ایک صاع کب ادا کرتے تھے ؟ امام نافع نے جواب دیا: جب صدقہ فطر وصول کرنے والا عامل وصولی کےلیے بیٹھ جاتا ۔ میں نے پوچھا : وصولی کا عامل کب بیٹھتا تھا؟ انھوں نے جواب دیا : عیدالفطر سے ایک یا دو دن پہلے بیٹھتا تھا۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← أَيُّوبَ، ← عَبْدُ الْوَارِثِ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى الْقَزَّازُ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan · Hadith 2397

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَدَقَۃَ الفِطرِ فِی رَمَضَانَ · حديث 2403

حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى؛ وَحَدَّثَنَا الصَّنْعَانِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ نَحْوَ حَدِيثِ نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ، وَزَادَ: وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى.

حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے صدقہ فطر فرض کیا ہے جناب نصر کی روایت میں صدقہ رمضان کے الفاظ ہیں ایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو ہر چھوٹے بچے ، بڑے شخص ، آزاد اور غلام پر فرض ہے ۔ یہ روایت جناب نصر بن علی کی ہے لیکن انھوں نے اَخْبَرْنِیْکی بجائے عَنْکے ساتھ روایت کیا ہے اور جناب الصنعانی کی روایت میں : مرد اور عورت کے الفاظ کا اضافہ ہے ۔

عُبَيْدَ اللَّهِ نَحْوَ حَدِيثِ نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ، وَزَادَ: وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى. ← الْمُعْتَمِرُ، ← يَحْيَى؛ وَحَدَّثَنَا الصَّنْعَانِيُّ، ← بُنْدَارٌ

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan · Hadith 2403

chevron_left Previous
1…232425…641
Next chevron_right