Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الدعاء والذكر

Dua & Dhikr

12814 hadiths

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 581

والدليل على صحة ما تأولت أن هارون بن إسحاق الهمداني حدثنا قال حدثنا عبدة عن سعيد عن خالد - يعني الحذاء - عن غيلان بن جرير عن مطرف بن عبد الله بن الشخير قال : صليت خلف علي فكان يكبر إذا سجد وإذا رفع رأسه فلما انصرف قال لي عمران بن حصين : صلى بنا هذا مثل صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم قال أبو بكر : وفي هذا الخبر ما دل على أن اللفظة التي ذكرها حماد بن زيد عن غيلان بن جرير في هذا الخبر : وإذا نهض من الركوع كبر إنما أراد وإذا نهض من الركوع فأراد السجود كبر على ما ذكر الزهري عن أبي بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام ثم يقول سمع الله لمن حمده حين يرفع صلبه من الركعة ثم يقول وهو قائم ربنا لك الحمد ثم يكبر حين يهوي ساجدا وكذلك خبر أبي عامر عن فليح عن سعيد بن الحارث عن أبي سعيد الخدري ذكر التكبير حين قال سمع الله لمن حمده أي أنه يكبر عند رفع الرأس من الركوع ذكر تكبير أخرى عند الإهواء إلى السجود فلما ذكر التكبيرة عند رفع الرأس من السجود بعد التكبيرة حين قال : سمع الله لمن حمده بان وثبت أنه إنما أراد التكبير حين قال : سمع الله لمن حمده إذا أراد الإهواء إلى السجود وكذلك في خبر أبي سلمة من أبي هريرة قال : وحين يركع وإذا أراد أن يسجد بعدما يرفع من الركوع ففي هذا ما بان أنه كان يكبر إذا رفع رأسه من الركوع وأراد السجود لا أنه كان يكبر عند رفع الرأس من الركوع ولو أبحنا للمصلي أن يكبر في كل خفض ورفع كان عليه أن يكبر إذا رفع رأسه من الركوع ثم يكبر عند الإهواء إلى السجود لكان عدد التكبير في أربع ركعات ستة وعشرين تكبيرة لا اثنتين وعشرين تكبيرة وفي خبر عكرمة عن بن عباس ما بان وثبت أن عدد التكبير في أربع ركعات اثنتين وعشرين تكبيره لا أكثر منها

"میں نے جو وضاحت کی ہے اس کے صیح ہونے کی دلیل یہ روایت ہے جسے استاد محترم جناب ہارون بن اسحاق نے روایت کیا ہے کہ جناب مطرف بن عبداللہ بن شخیر بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت علیؓ کے پیچھے نماز پڑھی تو وہ جب سجدہ کرتے اور جب اپنا سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے تھے ۔ پھر جب وہ نما ز سے فارغ ہو ئے تو حضرت عمران بن حصین نے مجھے فرمایا: " انہوں نے ہمیں رسول اللہﷺ کی نماز جیسی نماز پڑھائی ہے ۔ "امام ابوبکر ؒ بیان کرتے ہیں : اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ وہ الفاظ جو حماد بن زید نے غیلان بن جریر سے اس حدیث میں بیان کیے ہیں کہ : "جب آپ رکوع سے اٹھتے تو "اللہُ أَکْبَرُ"کہتے "اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ آپ رکوع سے اٹھتے اور سجدہ کرنے کا ارادہ کرتے تو "اللہُ أَکْبَرُ" کہتے ، جیسا کہ اما م زہری ؒ نے ابوبکر عبدالرحمٰن بن الحارث بن ہشام سے روایت کیا ہے پھر آپ جب رکوع سے اپنی کمر سیدھی کرتے تو سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہُکہتے پھر آپ کھڑے کھڑے رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُپڑھتے ، پھر جب سجدے کےلیے جھکتے تو "اللہُ أَکْبَرُ"کہتے ۔"اسی طرح جناب ابو عامر کی روایت میں ہے جسے وہ فلیح سے اور وہ سعید بن الحارث سے اور وہ حضرت ابوسعید خدری ؓ سے بیان کرتے ہیں ، انہوں نے اس روایت میں سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہتے وقت تکبیر کہنے کا تذکرہ کیا کہ وہ رکوع سے سر اٹھاتے وقت تکبیر کہتے تھے۔ اور سجدے کےلیے جھکتے وقت ایک مرتبہ پھر تکبیر کہنے کا تذکرہ کیا ہے ۔ پھر جب انہوں نے سجدے سے سر اٹھاتے وقت تکبیر کہنے کا ذکر کیا جو کہسَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہُکی تکبیر کے بعد ہے تو اس سے ثابت ہوگیا کہ سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہتے وقت تکبیر کہنے سے ان کی مراد سجدے کے لیے جھکتے وقت تکبیر کہنا ہے ۔ اسی طرح جناب ابو سلمہ کی حضرت ابوہریرہؓ سے روایت میں ہے ، فرمایا: اور جب رکوع کرتے ، اور رکوع سے سر اٹھانے کے بعد جب سجدہ کرنے کا ارادہ کرتے تو "اللہُ أَکْبَرُ"کہتے۔"اس روایت نے بھی یہ بیان کر دیا ہے کہ آپ رکوع سے سر اٹھانے کے بعد سر اٹھاتے وقت اللہ اکبر کہتے تھے۔ اور اگر ہم نمازی کےلیے ہر جھکنے اور اور اٹھتے وقت تکبیر کہنا جائز قرار دے دیں تو نما زکےلیے ضروری ہوگا کہ وہ رکوع سے سر اٹھاتے وقت تکبیر کہے اور پھر سجدے کو جاتے ہوئے بھی تکبیر کہے ۔ اس طرح چار رکعات میں کل چھبیس تکبیریں ہوں گی نہ کی بائیس تکبیریں حالانکہ عکرمہ کی حضرت ابن عباس سے رویات میں یہ بات بالک واضح اور ثابت ہے کہ چار رکعات میں کل بائیس تکبیریں ہیں ، اس سے زائد نہیں ہیں۔"

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 581

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 602

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، نَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَشَفَ السِّتْرَ فَرَأَى النَّاسَ قِيَامًا وَرَاءَ أَبِي بَكْرٍ يُصَلُّونَ، فَقَالَ: "اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ، أَنَّهُ لَمْ يَبْقَ مِنْ مُبَشِّرَاتِ النُّبُوَّةِ إِلَّا الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الْمُسْلِمُ لِنَفْسِهِ أَوْ تُرَى لَهُ. وَإِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَقْرَأَ رَاكِعًا أَوْ سَاجِدًا، فَأَمَّا الرُّكُوعُ فَعَظِّمُوا فِيهِ الرَّبَّ، وَأَمَّا السُّجُودُ فَأَكْثِرُوا فِيهِ الدُّعَاءَ، فَإِنَّهُ قَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ". قَالَ لَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى: قَالَ أَبُو عَاصِمٍ مَرَّةً: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَفَعَ السِّتْرَ وَالنَّاسُ قِيَامٌ يُصَلُّونَ وَرَاءَ أَبِي بَكْرٍ. وَخَبَرُ إِسْمَاعِيلَ وَابْنِ عُيَيْنَةَ لَيْسَا هُوَ عَلَى هَذَا التَّمَامِ، وَأَنَا اخْتَصَرْتُهُ.

"حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے ( اپنے حجرہ مبارک کا) پردہ ہٹایا تو آپ نے صحابہ کرام کو حضرت ابو بکر ؓ کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو آپ نے فرمایا: اے اللہ! کیا میں نے ( دین ) پہنچا دیا ہے ۔ بے شک نبو ت کی خوشخبروں میں سے صرف نیک خواب ہی باقی رہ گئے ہیں جنہیں کوئی مسلمان اپنے لیے دیکھتا ہے یا اسے ( دوسروں کے متعلق خواب ) دکھائے جاتے ہیں ۔ اور بلا شبہ مجھے رکوع اور سجدے کی حال میں قراءت کرنے سے منع کیا گیا ہے ۔ لہٰذا رکوع میں رب تعالیٰ کی عظمت بیان کرو جبکہ سجدوں میں بکثرت دعا مانگو کیونکہ یہ اس لائق ہے کہ تمہاری دعائیں قبول کی جائیں۔" جناب ابو عاصم نے ایک مرتبہ یہ الفاظ بیان کیے : "نبی کریمﷺ نے پردہ اٹھایا جبکہ صحابہ کرام حضرت ابوبکر ؓ کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز ادا کر رہے تھے ۔"اسماعیل اور ابن عیینہ کی حدیث صرف انہی الفاظ پر مکمل نہیں ہوتی ، میں نے اسے مختصر بیان کیا ہے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 602

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 674

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ؛ وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ سُحَيْمٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السِّتَارَةَ وَالنَّاسُ صُفُوفٌ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَ: "وَأَمَّا السُّجُودُ فَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ فَقَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ".

"حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے( اپنے حجرہ مبارک کا) پردہ ہٹایا جبکہ لوگ حضرت ابوبکر ؓ کے پیچھے نماز ادا کر رہے تھے ۔ تو آپ نے فرمایا: رہے سجدے تو تو ان میں خوب محنت وکوشش کے ساتھ دعا کیا کرو تو یہ زیادہ لائق ہے کہ تمہاری دعائیں قبول کی جائیں۔"

كَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ السِّتَارَةَ وَالنَّاسُ صُفُوفٌ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ سُحَيْمٍ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 674

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 688

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ، ثَنَا عَمِّي، أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ نُعَيْمٍ الْمُجْمِرِ قَالَ: صَلَّيْتُ وَرَاءَ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَقَالَ: (بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ). ثُمَّ قَرَأَ بِأُمِّ الْقُرْآنِ حَتَّى بَلَغَ (وَلَا الضَّالِّينَ). فَقَالَ: آمِينَ. فَقَالَ النَّاسُ: آمِينَ، فَلَمَّا رَكَعَ قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ، قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ. ثُمَّ قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ. ثُمَّ سَجَدَ، فَلَمَّا رَفَعَ، قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ. فَلَمَّا سَجَدَ قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ. ثُمَّ اسْتَقْبَلَ قَائِمًا مَعَ التَّكْبِيرِ، فَلَمَّا قَامَ مِنَ الثِّنْتَيْنِ، قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ. فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لَأَشْبَهُكُمْ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

"جناب نعیم المجمربیان کرتےہیں کہ میں نے حضرت ابو ہریرہؓ کے پیچھے پڑھی تو انہوں نے بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِپڑھی پھر ام القرآن کی تلاوت کی حتی کہ ( وَلَا الضَّالِّیْنَ) پر پہنچے تو آمین کہی، تو متقدیوں نے بھی آمین کہی، پھر جب انہوں نے رکوع کیا تو اللہُ أَکْبَرُکہا، پھر جب اپنا سر اٹھایا تو کہا:سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہُ، پھراللہُ أَکْبَرُکہا ، پھر سجدہ کیا ، پھر جب سجدے سے سر اٹھایا تو اللہُ أَکْبَرُکہا ، پھر جب دوسرا سجدہ کیا تو اللہُ أَکْبَرُکہا: پھر اللہُ أَکْبَرُکہتے ہوئے ( دوسری رکعت کےلیے ) قبلہ رخ کھڑے ہوگئے ، پھر جب دو رکعت سے کھڑے ہوئے تو اللہ اکبر کہا، پھر جب سلام پھیرا تو کہا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! بلاشبہ میں تم سب سے زیادہ رسول اللہﷺ کی نماز کے ساتھ مشابہ ہوں۔"

وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لَأَشْبَهُكُمْ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ ← اللَّهُ أَكْبَرُ. فَلَمَّا سَلَّمَ ← اللَّهُ أَكْبَرُ. ثُمَّ اسْتَقْبَلَ قَائِمًا مَعَ التَّكْبِيرِ، فَلَمَّا قَامَ مِنَ الثِّنْتَيْنِ، ← اللَّهُ أَكْبَرُ. فَلَمَّا سَجَدَ ← اللَّهُ أَكْبَرُ. ثُمَّ سَجَدَ، فَلَمَّا رَفَعَ، ← اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ثُمَّ ← اللَّهُ أَكْبَرُ، فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ، ← النَّاسُ: آمِينَ، فَلَمَّا رَكَعَ ← آمين ← (بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ). ثُمَّ قَرَأَ بِأُمِّ الْقُرْآنِ حَتَّى بَلَغَ (وَلَا الضَّالِّينَ). ← صَلَّيْتُ وَرَاءَ أَبِي هُرَيْرَةَ، ← نُعَيْمٍ الْمُجْمِرِ ← ابْنِ أَبِي هِلَالٍ ← خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ ← حَيْوَةُ، ← عَمِّي، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 688

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 703

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بُنْدَارٌ، وَيَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى، نَا الْأَعْمَشُ، نَا شَقِيقٌ، نَا عَبْدُ اللَّهِ؛ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ، نَا أَبُو أُسَامَةَ؛ ح وَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ؛ ح وَحَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، نَا وَكِيعٌ وَابْنُ إِدْرِيسَ، كُلُّهُمْ عَنِ الْأَعْمَشِ؛ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى، نَا أَبُو مُعَاوِيَةَ؛ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو حَصِينِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عَبْثَرٌ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: كُنَّا إِذَا (1) جَلَسْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي التَّشَهُّدِ، قُلْنَا: السَّلَامُ عَلَى اللَّهِ مِنْ عِبَادِهِ، السَّلَامُ عَلَى فُلَانٍ وَفُلَانٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ: "لَا تَقُولُوا: السَّلَامُ عَلَى اللَّهِ، فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّلَامُ، وَلَكِنْ إِذَا جَلَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلِ: التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ، وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ -فَإِنَّكُمْ إِذَا قُلْتُمْ ذَلِكَ أَصَابَتْ كُلَّ عَبْدٍ صَالِحٍ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ- أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ. ثُمَّ لِيَتَخَيَّرْ أَحَدُكُمْ مِنَ الدُّعَاءِ أَعْجَبَهُ إِلَيْهِ فَلْيَدْعُ بِهِ". هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ بُنْدَارٍ. وَانْتَهَى حَدِيثُ ابْنِ فُضَيْلٍ وَعَبْثَرٍ وَابْنِ إِدْرِيسَ عِنْدَ قَوْلِهِ: وَرَسُولُهُ. وَلَمْ يَقُولُوا: "ثُمَّ لِيَتَخَيَّرْ أَحَدُكُمْ مِنَ الدُّعَاءِ" إِلَى آخِرَهِ.

"حضرت عبداللہ بیان کرتےہیں کہ جب ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ تشہد میں بیٹھتے تو ہم کہتے : اللہ تعالیٰ پر اس کے بندوں کی طرف سے سلام ہو، فلاں فلاں شخص پر سلام ہو، تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: اس طرح مت کہو کہ اللہ تعالیٰ پر سلام ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ تو خود سلام ہیں ۔ لیکن جب تم میں سے کوئی شخص بیٹھے تو یوں کہے : تمام زبانی ، جسمانی اور مالی عبادتیں اللہ کے لیے ہیں ، اے نبی آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں ، ہم پر اور اللہ کے تمام نیک بندوں پر سلام ہو، کیونکہ تم جب یہ کلمات کہہ لو گے تو آسمان وزمین میں موجود تمام نیک بندوں کو سلام پہنچ جائے گا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں۔"پھر تم سے کسی شخص کو جو دعا پسند ہو اسے چن کر اس کےساتھ وہ دعا مانگ لے ۔ یہ بندار کی حدیث ہے ، جبکہ ابن فضیل عبثر اور ابن ادریس کی حدیث"ورسولہ"(اور اس کے رسول ہیں) پر ختم ہوگئی تھی۔ انہوں نے یہ الفاظ بیان نہیں کیے کہ " پھر تم میں سے کوئی شخص اپنی پسندیدہ دعا اختیار کر کے مانگ لے ۔"

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي وَائِلٍ ← الْاَعْمَشِ ← عَبْثَرٌ، ← أَبُو حَصِينِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ، ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أَبُو مُوسَى، ← الْاَعْمَشِ ← وَكِيعٌ وَابْنُ إِدْرِيسَ، كُلُّهُمْ ← سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ← ابْنُ فُضَيْلٍ، ← هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أَبُو أُسَامَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ← عَبْدُ اللَّهِ ← شَقِيقٍ، ← الْاَعْمَشِ ← يَحْيَى ← بُنْدَارٌ وَيَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 703

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 720

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بُنْدَارٌ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، نَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْأَحْوَصِ يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: أَلَا وَإِنَّا كُنَّا لَا نَدْرِي مَا نَقُولُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ إِلَّا أَنْ نُسَبِّحَ وَنُكَبِّرَ، وَنَحْمَدَ رَبَّنَا، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَلِمَ فَوَاتِحَ الْخَيْرِ وَجَوَامِعَهُ، فَقَالَ: "إِذَا قَعَدْتُمْ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ فَقُولُوا: التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ، وَالصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ. ثُمَّ يَتَخَيَّرُ أَحَدُكُمْ مِنَ الدُّعَاءِ أَعْجَبَهُ، فَلْيَدْعُ بِهِ".

"حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتےہیں کہ خبردار! بلاشبہ ہمیں معلوم نہیں تھا کہ ہم ہر دو رکعتوں ( کے تشہد ) میں کیا پڑھیں سوائے اس کے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی تسبیح وتکبیر اور حمدوثنا ء بیان کرتے تھے ۔ اور بے شک محمد ﷺ نے خیر وبھلائی کے دروازے کھولنے والی اور جامع دعائیں سکھائی ہیں ۔ لہٰذا آپ نے فرمایا: جب تم ہر دو رکعتوں ( کے تشہد ) میں بیٹھو تو یہ کلمات پڑھو:التَّحِیَّاتُ لِلہِ وَالصَّلَوَاتُ الطَّیّبَاتُ السَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّھَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہُ السَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِاللہِ الصَّالِحِیْنَ ، أَشْھَدُ أَن لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدً ا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ۔"تمام قولی اور پاکیزہ جسمانی عبادات اللہ کے لیے ہیں ، اے نبی آپ پر سلام ہو ، اور اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں آپ پر نازل ہو ں ، ہم پر بھی اور اللہ کے تمام نیک بندوں پر سلام ہو ، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی لائق بندگی نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں" پھر تم میں سے کوئی شخص اپنی پسندیدہ دعا چن لے اور اس کے ساتھ دعا مانگ لے ۔"

إِلَّا ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبَا الْأَحْوَصِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← بُنْدَارٌ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 720

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 737

أَنَا الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ أَبُو عُثْمَانَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصَّابُونِيُّ قِرَاءَةً عَلَيْهِ، قَالَ (1): أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ مِسْكِينٍ الْيَمَامِيُّ وَالْحَسَنُ بْنُ إِسْرَائِيلَ اللُّؤْلُؤِيُّ الرَّمْلِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ. قَالَ اللُّؤْلُؤِيُّ: قَالَ: حَدَّثَنِي. وَقَالُ الْيَمَامِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عَمَّارٍ، حَدَّثَنِي أَبُو أَسْمَاءَ الرَّحَبِيُّ، حَدَّثَنِي ثَوْبَانُ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنْصَرِفَ مِنْ صَلَاتِهِ اسْتَغْفَرَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ: "اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ، وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجِلَالِ وَالْإِكْرَامِ". أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَحْمَدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ عَلِيلٍ الْعَنَزِيُّ الْمِصْرِيُّ، قَالُوا: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ: مِثْلِهِ سَوَاءً. وَرَوَى عَمْرُو بْنُ هِشَامٍ الْبَيْرُوتِيُّ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، فَقَالَ: ذَكَرَ هَذَا الدُّعَاءَ قَبْلَ السَّلَامِ.

''رسول اللہ ﷺ کے آزاد کرہ غلام حضرت ثوبان ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز سے فارغ ہوتے تو تین بار استغفراللہ پڑھتے پھر کہتے: اللَّھُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْکَ السَّلَامُ تَبَارَکْتَ یَاذَاالْجَلَالِ وَالْإکْرَام''اے اللہ تو سلام ہے،تیری ہی طرف سے سلامتی ہے،اے بلندیوں اور عزتوں والے تیری ذات بڑی بابرکت ہے۔''جناب عمر وبن ہشام نے امام اوزاعی سے روایت بیانکترے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے یہ دعا سلام پھیرنے سے پہلے ذکر کی۔''

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 737

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 752

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَبُو قُدَامَةَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ؛ ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ، أَخْبَرَنَا الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّهُ قَالَ: أُمِرْنَا أَنْ نُسَبِّحَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَنَحْمَدَهُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَنُكَبِّرَهُ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ، فَأُتِيَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فِي نَوْمِهِ، فَقِيلَ لَهُ: أَمَرَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُسَبِّحُوا فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ كَذَا وَكَذَا؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: فَاجْعَلُوهَا خَمْسًا وَعِشْرِينَ. وَاجْعَلُوا فِيهِ التَّهْلِيلَ. فَلَمَّا أَصْبَحَ، أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "فَافْعَلُوا". هَذَا حَدِيثُ الثَّقَفِيِّ. وَقَالَ أَبُو قُدَامَةَ: فَأُتِيَ رَجُلٌ فِي مَنَامِهِ، فَقِيلَ لَهُ: أَمَرَكُمْ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُسَبِّحُوا فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَتَحْمَدَهُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَتُكَبِّرَهُ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ؟، فَقَالَ: نَعَمْ. وَذَكَرَ بَقِيَّةَ الْحَدِيثِ.

''حضرت زید بن ثابتؓ بیان کرتے ہیں کہ ہمیں ہر نماز کے بعد تینتیس بار سبحان اللہ ، تینتیس بار الحمد اللہ اور چونتیس بار اللہ اکبر پڑھنے کا حکم دیا گیا، پھر ایک انصاری شخص کو خواب آیا تو اسے کہا گیا : تمہیں رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا ہے کہ تم ہرنماز کے بعد اتنی تنی بار تسبیح پڑھو؟ اس نے کہا: ہاں(خواب میں آنے والے شخص نے) کہا : تم اسے پچیس پچیس بار پڑھا کرو اوراس میں تہلیل (لا الہ الا اللہ)کو شامل کر لو ،پھر جب صبح ہوئی تو وہ شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو تمام بات بتادی ۔تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:اسی طرح کر لو۔''

زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ← كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← هِشَامٍ ← الثَّقَفِيُّ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ، ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← أَبُو قُدَامَةَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 752

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ سُترَۃِ المُصَلِّی · حديث 844

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَبُو مُوسَى، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّهُ كَانَ لَهَا ثَوْبٌ فِيهِ تَصَاوِيرُ مَمْدُودَةٌ إِلَى سَهْوَةٍ، فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي إِلَيْهِ. فَقَالَ: "أَخِّرِيهِ عَنِّي". فَأَخَذَتْهُ فَجَعَلَتْهُ وَسَائِدَ. جُمَّاعُ أَبْوَابِ الْكَلَامِ الْمُبَاحِ فِي الصَّلَاةِ وَالدُّعَاءِ وَالذِّكْرِ، وَمَسْأَلَةِ الرَّبِّ عَزَّ وَجَلَّ وَمَا يُضَاهِي هَذَا وَيُقَارِبُهُ

حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے، وہ فرماتی ہیں : " ان کے پاس تصاویر والا کپڑا تھا جو دریچے پر پھیلا ہوا تھا، نبی کریم اسے سترہ بنا کر نماز پڑھا کرتے تھے، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: یہ کپڑہ مجھ سے دور کر دو ، لہٰذا میں نے اس کے تکیے بنا لیے۔"

الْقَاسِمِ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو مُوسَى، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of the prayer jacket · Hadith 844

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الکَلَامِ المُبَاحِ فِی الصَّلاَۃِ وَالدُّعَاءِ وَالذِّکرِ، وَمَساَلَۃِ الرَّبِّ عَذَّوَجَلَّ وَمَا یُضَاھِی ھٰذَا وَیُقَارِبُہُ · حديث 859

وَأَخْبَرَنَا الشَّيْخُ الْفَقِيهُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ الْمُسْلِمِ السُّلَمِيُّ بِدِمِشْقَ، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَحْمَدَ، أَنَا أَبُو عُثْمَانَ الصَّابُونِيُّ، قَالَ: أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بُنْدَارٌ، نَا يَحْيَى، ثَنَا الْحَجَّاجُ -وَهُوَ الصَّوَّافُ- عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ [98 - ب] ح وَحَدَّثَنَا أَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، نَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، حَدَّثَنِي الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ؛ ح وَثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ (1)، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنِي الْحَجَّاجُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ؛ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَيْمُونٍ، ثَنَا الْوَلِيدُ -يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ- عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى؛ وَثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، أَخْبَرَنَا بِشْرٌ -يَعْنِي ابْنَ بَكْرٍ- عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ، ثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ الْحَكَمِ السُّلَمِيُّ؛ ح وَثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، ثَنَاهُ بِشْرٌ -يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ الْحَلَبِيَّ- عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي هِلَالُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ (2)، حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ الْحَكَمِ السُّلَمِيُّ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّا كُنَّا حَدِيثَ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ فَجَاءَ اللَّهُ بِالْإِسْلَامِ، وَإِنَّ رِجَالًا مِنَّا يَتَطَيَّرُونَ. قَالَ: "ذَلِكَ شَيْءٌ يَجِدُونَهُ فِي صُدُورِهِمْ، فَلَا يَصُدَّنَّهُمْ". قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! رِجَالٌ يَأْتُونَ الْكَهَنَةَ. قَالَ: "فَلَا تَأْتُوهُمْ" (1). قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! رِجَالٌ مِنَّا يَخُطُّونَ. قَالَ: "كَانَ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ يَخُطُّ فَمَنْ وَافَقَ خَطَّهُ فَذَاكَ". قَالَ: وَبَيَّنَا أَنَا أُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ عَطَسَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ، فَقُلْتُ لَهُ: يَرْحَمُكُ اللَّهُ. فَحَدَّقَنِي الْقَوْمُ بِأَبْصَارِهِمْ، فَقُلْتُ: وَاثُكْلَ أُمِّيَاهُ، مَا لَكُمْ تَنْظُرُونَ إِلَيَّ. قَالَ: فَضَرَبَ الْقَوْمُ بِأَيْدِيهِمْ عَلَى أَفْخَاذِهِمْ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ [يُصَمِّتُونَنِي] لَكِنِّي سَكَتُّ. فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَانِي، فَبِأَبِي هُوَ وَأُمِّي مَا رَأَيْتُ مُعَلِّمًا قَطُّ قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ أَحْسَنَ تَعْلِيمًا مِنْهُ، وَاللَّهِ مَا ضَرَبَنِي، وَلَا كَهَرَنِي، وَلَا شَتَمَنِي، وَلَكِنْ قَالَ: "إِنَّ صَلَاتَنَا هَذِهِ لَا يَصْلُحُ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ كَلَامِ النَّاسِ، إِنَّمَا هِيَ التَّكْبِيرُ، وَالتَّسْبِيحُ، وَتِلَاوَةُ الْقُرْآنِ". هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ مَيْسَرَةَ. قَالَ بُنْدَارٌ: بَيْنَمَا أَنَا أُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهَكَذَا قَالَ الْبَاقُونَ. وَقَالَ بُنْدَارٌ: فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ يُصَمِّتُونِي لَكِنِّي سَكَتُّ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: خَرَّجْتُ فِي "التَّصْنِيفِ" حَدِيثَ الْبَاقِينَ فِي عَقِبِ حَدِيثِ بُنْدَارٍ بِمِثْلِهِ، وَلَمْ أُخَرِّجْ أَلْفَاظَهُمْ".

حضرت معاویہ بن حکم سلمی ؓ بیان کرتے ہیں میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم نئے نئے جاہلیت سے نکلے ہیں ، پھر اللہ تعالیٰ اسلام کی نعمت لے آئے ، بے شک ہم میں کچھ لوگ بد شگونی لیتے ہیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : یہ وہ چیز ہے جسے وہ اپنے دلوں میں پاتے ہیں تو یہ ان کو ( ان کے کاموں سے ) ہرگز نہ روکے۔ انہوں نے عرض کی : اللہ کے رسول ﷺ! کچھ لوگ کاہنوں کے پاس چلے جاتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا ؛ تم ان کے پاس مت جاو۔ وہ کہنے لگے : اے اللہ کے رسول ! ہم میں سے کچھ لوگ لکیریں لگاتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : انبیائے کرام میں سے ایک نبی لکیریں لگاتے تھے جس کی لکیریں ان کی لکیروں کے موافق ہو جائیں تو وہ درست ہے ( اس میں کوئی حرج نہیں ) حضرت معاویہ فرماتے ہیں : اس اثنا میں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا کہ لوگوں میں سے ایک شخص نے چھینک ماری ، تو میں نے اسے کہا : یر حمک اللہ ( اللہ تجھ پر رحم فرمائے) ۔ تو لوگوں نے مجھے گھورنا شروع کر دیا ۔ تو میں نے کہا : ہائے میری ماں مجھے روئے( یعنی میں مر جاوں ) تم مجھے اس طرح کیوں دیکھ رہے ہو؟ تو لوگوں نے اپنی رانوں پر ہاتھ مارنے شروع کر دیے، تو جب میں نے دیکھا کہ وہ مجھے خاموش کرا رہے ہیں تو میں خاموش ہو گیا۔ جب رسول اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو مجھے بلایا۔ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، میں نے آپ سے اور آپ کے بعد آپ سے بہتر تعلیم دینے والا معلم نہیں دیکھا ۔ اللہ کی قسم ! آپ نے نہ مجھے مارا ، نہ جھڑکا ، نہ برا بھلا کہا، آپ نے فرمایا: " بے شک ہماری اس نماز میں لوگوں کی بات چیت درست نہیں ہے ۔ بلکہ یہ تو تکبیر ، تسبیح اور قرآن مجید کی تلاوت کرنے کانام ہے۔" یہ میسرہ کہ حدیث کے الفاظ ہیں ۔ جناب بندار کی روایت کے یہ الفاظ ہیں : " اس دوران میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا ۔" اسی طرح دیگر راویوں نے بیان کیا ہے اور بندار کہتے ہیں : " پھر جب میں نے انہں دیکھا کہ وہ مجھے خاموش کرا رہے ہیں تو میں خا موش ہو گیا ۔" امام ابو بکر فرماتے ہیں : " میں نے " التصنیف الکبیر " میں باقی راویوں کی حدیث بھی بندار کی روایت کے مثل بیان کر دی ہے مگر میں نے ان کے الفاظ بیان نہیں کیے۔

قُلْتُ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ الْحَكَمِ السُّلَمِيُّ ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← هِلَالُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← وَثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، ثَنَاهُ بِشْرٌ -يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ الْحَلَبِيَّ- ← مُعَاوِيَةُ بْنُ الْحَكَمِ السُّلَمِيُّ ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← هِلَالُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ ← يَحْيَى ← الْاَوْزَاعِیُّ ← بِشْرٌ -يَعْنِي ابْنَ بَكْرٍ- ← يَحْيَى؛ وَثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِيدُ -يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ-، ← وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَيْمُونٍ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْحَجَّاجِ، ← إِسْمَاعِيلُ ← وَثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْحَجَّاجُ بْنُ أَبَى عُثْمَانَ ← إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، ← وَحَدَّثَنَا أَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ب] ← الْحَجَّاجُ -وَهُوَ الصَّوَّافُ- ← يَحْيَى ← بُنْدَارٌ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ، ← أَبُو عُثْمَانَ الصَّابُونِيُّ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَحْمَدَ، ← وَأَخْبَرَنَا الشَّيْخُ الْفَقِيهُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ الْمُسْلِمِ السُّلَمِيُّ بِدِمِشْقَ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance · Hadith 859

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الاَفعَالِ المُبَاحَۃِ فِی الصَّلٰۃِ · حديث 894

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالَ عَلِيٌّ: أَخْبَرَنِي ابْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ الْآخَرُونَ: ثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ، وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ".

" حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : " سبحان اللہ کہنا مردوں کی لیے اور تالی بجانا عورتوں کی لیے ہے ۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْآخَرُونَ ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← عَلِيٍّ، ← عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، ← سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse · Hadith 894

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الاَفعَالِ المُبَاحَۃِ فِی الصَّلٰۃِ · حديث 907

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَنَا عِيسَى -يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ-؛ ح وَثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، نَا سُفْيَانُ؛ ح وَثَنَا ابْنُ كُرَيْبٍ، نَا أَبُو أُسَامَةَ؛ ح وَثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ، نَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَيُّوبَ، كُلُّهُمْ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ؛ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ، فَلْيَرْقُدْ حَتَّى يَذْهَبَ عَنْهُ النَّوْمُ، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا صَلَّى وَهُوَ نَاعِسٌ لَعَلَّهُ يُرِيدُ أَنْ يَسْتَغْفِرَ فَيَسُبَّ نَفْسَهُ". هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ عِيسَى. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَفِي الْخَبَرِ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ النُّعَاسَ لَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ، إِذْ لَوْ كَانَ النُّعَاسُ يَقْطَعُ الصَّلَاةَ، لَمَا كَانَ لِقَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي لَعَلَّهُ يَذْهَبُ يَسْتَغْفِرُ فَيَسُبُّ نَفْسَهُ"، مَعْنًى، وَقَدْ أَعْلَمَ بِهَذَا الْقَوْلِ أَنَّهُ إِنَّمَا أَمَرَ بِالِانْصِرَافِ مِنَ الصَّلَاةِ، خَوْفَ سَبِّ النَّفْسِ عِنْدَ إِرَادَةِ الدُّعَاءِ لَهَا، لَا أَنَّهُ (1) فِي غَيْرِ صَلَاةٍ إِذَا نَعَسَ. جُمَّاعُ أَبْوَابِ الْأَفْعَالِ الْمَكْرُوهَةِ فِي الصَّلَاةِ الَّتِي قَدْ نَهَى عَنْهَا الْمُصَلِّي

" حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص اپنی نماز میں اونگھنے لگے تو اسے ( نماز ختم کر کے) سو جانا چاہیے حتی کہ اس کی نیند ختم ہو جائے کیونکہ جب تم میں سے کوئی شخص اونگھتے ہوئے نماز پڑھتا ہے تو شاید وہ استغفار کرنا چاہتا ہو مگر ( اونگھ کی وجہ سے ) اپنے آپکو بد دعا دے بیٹھے۔ " یہ عیسیٰ کی حدیث کے الفاظ ہیں ۔امام ابو بکر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : اس حدیث میں دلیل ہے کہ اونگھ سے نماز نہیں ٹوٹتی کیونکہ اگر اونگھ سے نماز ٹوٹ جاتی تو پھر نبی کریم ﷺ کہ اس فرمان کا کوئی معنی نہیں بنتا : " وہ نہیں جانتا شاید وہ دعاو استغفار کرنا چاہتا ہو( مگر اونگھ کی وجہ سے ) اپنے لیے بد دعا کر بیٹھے ۔" اس سے معلوم ہوا کہ آپ نے ہمیں نماز چھوڑ دینے کا حکم اس خدشے کی وجہ سے دیا ہے کہ کہیں نماز ی دعا کی بجائے اپنے لیے بد دعا نہ کر بیٹھے۔ یہ مطلب نہں کہ جب اسے اونگھ آ جائے تو وہ نماز میں نہیں رہتا ( اس کی نماز ٹوٹ جاتی ہے)

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← أَيُّوبَ، كُلُّهُمْ ← عَبْدُ الْوَارِثِ ← وَثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ، ← أَبُو أُسَامَةَ ← وَثَنَا ابْنُ كُرَيْبٍ، ← سُفْيَانَ، ← وَثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ← عِيسَى -يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ- ← عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse · Hadith 907

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ التَّطَوُّ ع غَیرَ مَا تَقَدَّمَ ذِکرُنَا لَھَا · حديث 1213

وخالف الليث بن سعد شعبة في إسناد هذا الخبرفرواه الليث عن عبد ربه عن عمران بن أبي أنيس عن عبد اللهبن نافع بن العمياء عن ربيعة بن الحارث عن الفضل بن عباس : عن النبي صلى الله عليه وسلم حدثناه يونس بن عبد الأعلى ثنا يحيى - يعني ابن عبد الله بن بكير - ثنا الليث فإن ثبت هذا الخبر فهذه اللفظة : الصلاة مثنى مثنى مثل خبر ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم وفي هذا لخبر زيادة شرح ذكر رفع اليدين ليقول : اللهم اللهم وفي خبر الليث قال : ترفعهما إلى ربك تستقبل بهما وجهك وتقول : يا رب يا رب ورفع اليدين في التشهد قبل التسليم ليس من ستة الصلاة وهذا دال على أنه إنما أمره برفع اليدين والدعاء والمسألة بعد التسليم من المثنى فأما الخبر الذي احتج به بعض الناس من الأربع قبل الظهر أن النبي صلى الله عليه وسلم صلاهن بتسليمة فإنه روى بإسناد لا يحتج بمثله من له معرفة برواية الأخبار

جناب لیث بن سعد نے اس حدیث کی سند میں امام شعبہ کی ،مخالفت کی ہے ۔ چنانچہ لیث نے روایت عبدربہ کی سند سے حضرت فضل بن عبا سؓ سے مرفوعا بیان کی ہے ، جبکہ امام بن شعبہ نے عبدربہ کی سند سے حدیث مطلب بن ابی وداعہ سے بیان کی ہے لٰہذا اگر یہ حدیث ثابت ہو جائے تو اس یہ الفاظ نماز دو دو رکعات ہے۔ حضرت ابن عمرؓ کی مرفوع حدیث کے الفاظ کی مثل ہیں ۔ کہ رات اور دن کی نماز دو دو رکعات ہے اور اس حد یث میں مزید شرح اور وضاحت آگئ ہے اور اس میں دعا کرتے وقت ہاتھ اٹھانے کا ذکر ہے ۔ اور لیث کی روایت میں ہے ۔ تو ان دونوں ہاتھوں کو اپنے رب کی طرف بلند کر ان کا رخ اپنے چہرے کی طرف کر کے یہ کہہ: اے میرے رب، اے میرے رب،، نیز تشہد میں سلام پھیرنے سے پہلے ہاتھ اٹھانا یہ نماز کی سنت نہیں ہے۔اور اس بات کی دلیل ہے کہ آپ نے نمازی کو ہاتھ اٹھانے ،دعا کرنے اور رب تعالی سے مانگنے کا حکم دو رکعت سے سلام پھیرنے کے بعد کے لیے دیا ہے ۔رہی وہ حدیث کہ جس سے بعض لوگوں نے دلیل لی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ظہر سے پہلے چار رکعات ایک ہی سلام کے ساتھ ادا فرمائی ہیں تو وہ ایسی (ضعیف و کمزور) سند سے مروی ہے کہ روایت حدیث کی معرفت رکھنے والا کوئی عالم اس جیسی روایت سے دلیل نہیں لیتا ۔

يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُكَيْرٍ، ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی ← الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ: ← ربيعة بن الحارث ← عبد الله بن نافع بن العمياء ← عِمْرَانُ بْنُ أَبِي أُنَيْسٍ ← عَبْدِ رَبِّهِ ← وخالف الليث بن سعد شعبة في إسناد هذا الخبرفرواه الليث

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of volunteering doors other than the aforementioned · Hadith 1213

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ التَّطَوُّ ع غَیرَ مَا تَقَدَّمَ ذِکرُنَا لَھَا · حديث 1219

حدثنا محمد بن بشار و أبو موسى قالا : حدثنا عثمان بن عمر نا شعبة عن أبي جعفر المدني قال : سمعت عمارة بن خزيمة يحدث عن عثمان بن حنيف : أن رجلا ضرير أتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال : أدع الله أن يعافيني قال : إن شئت أخرت ذلك وهو خير وإن شئت دعوت قال أبو موسى قال : فادعه وقالا فأمره أن يتوضأ قال بندار : فيحسن وقالا : ويصلي ركعتين ويدعوا بهذا الدعاء : اللهم إني أسألك وأتوجه إليك بنبيك محمد نبي الرحمة يا محمد إني توجهت بك إلى ربي في حاجتي هذه فتقضي لي اللهم شفعه في زاد أبو موسى : وشفعني فيه قال : ثم كأنه شك بعد في : وشفعني فيه

حضرت عثمان بن حنیف ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک نا بینا شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت اقدس میں میں حاضر ہو کے کہنے لگا : آپ اللہ سے دعا فرمائیں کہ وہ مجھے عافیت و سلامتی عطا فرمادے۔ آپ نے فرمایا: اگر تم چاہو تو میں دعا مئو خر کر دیتا ہوں (تم صبر کرنا)تو یہ (تمہارے حق میں ) بہت بہتر ہے اور اگر تم چاہو تو میں دعا کر دیتا ہوں ۔ جناب ابو موسیٰ کی روایت میں ہے کہ ، اس شخص نے عرض کی : آپ دعا فرما دیں جناب ابو موسیٰ اور محمد بن بشار کی روایت میں ہے اچھی طرح وضو کرنے کا حکم دیا ۔ جناب بندرا کی روایت میں ہے۔اچھی طرح وضو کرنے کا حکم دیا :پھر دونوں راویوں نے کہا : اور دو رکعت نماز پڑھ کر یہ دعا مانگو۔ اے اللہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور میں تیری طرف نبی محمد نبی رحمت کے ذریعے سے متوجہ ہوتا ہوں ، اے محمد(ﷺ)! میں نے آپ کے ذریعے سے اپنے رب کی طرف توجہ کی،اپمی اس ضرورت اور حاجت کے پورا کرنے کے لیے ، تاکہ وہ میری یہ حاجت پوری فرمادے ۔اے اللہ!(اپنے نبی کی) سفارش میرے لیے قبول فرما ۔ ابو موسیٰ کی روایت میں یہ اضافہ ہے: اور اس نے میری سفارش اس کے بارے میں قبول فر مالی۔ فرماتے ہیں گویا کہ بعد میں ان الفاظ میں شک ہو گیا:"وشَفـَعَنِیْ فِیْہِ"(اس لیے بعد میں بیان نہیں کرتے تھے)۔

عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ، ← عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ ← أبي جعفر المدني ← شُعْبَةُ، ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← محمد بن بشار و أبو موسى

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of volunteering doors other than the aforementioned · Hadith 1219

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ العِیدَینِ الفِطرِ وَالاَضحَیِ وَمَا یُحتَاجُ فِیھِمَا مِنَ السُّنَنِ · حديث 1431

خْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ وَهْبٍ، ثَنَا عَمِّي، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَخْرُجُ فِي الْعِيدَيْنِ مَعَ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، وَالْعَبَّاسِ، وَعَلِيٍّ، وَجَعْفَرٍ، وَالْحَسَنِ، وَالْحُسَيْنِ، وَأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، وَزِيدِ بْنِ حَارِثَةَ، وَأَيْمَنَ ابْنِ أُمِّ أَيْمَنَ، رَافِعًا صَوْتَهُ بِالتَّهْلِيلِ، وَالتَّكْبِيرِ، فَيَأْخُذُ طَرِيقَ الْحَدَّادِينَ حَتَّى يَأْتِيَ الْمُصَلَّى، فَإِذَا فَرَغَ رَجَعَ عَلَى الْحَذَّائِينَ حَتَّى يَأْتِيَ مَنْزِلَهُ.

"حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ عیدین کے دن حضرت فضل بن عباس، عبد اللہ بن عباس، عباس، علی ، جعفر، حسن، حسین ، اسامہ بن زید، زید بن حارثہ اور حضرت ایمن بن ام ایمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ساتھ لے کر بلند آواز سے تکبیر و تہلیل کہتے ہوئے (عیدگاہ کی طرف) جاتے۔ آپ لوہاروں والے راستے سے عیدگاہ پہنچتے، پھر جب نماز سے فارغ ہوتے تو موچیوں کے راستے سے لوٹتے حتیٰ کہ آپ اپنے گھر پہنچ جاتے۔"

عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← عَمِّي، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ وَهْبٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← خْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them · Hadith 1431

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابِ الاِمَامَۃِ فِی الصَّلاَۃِ وَمَا فِیھَا مِنَ السُّنَنِ مُختَصَرٌ مِن کِتَابِ المُسنَدِ · حديث 1515

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ حَدِيثِ عَبَّادِ بْنِ زِيَادٍ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ الْمُغِيرَةِ بْنَ شُعْبَةَ أَخْبَرَهُ: أَنَّهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غَزْوَةَ تَبُوكَ، قَالَ الْمُغِيرَةُ: فَأَقْبَلْتُ مَعَهُ حَتَّى نَجِدَ النَّاسَ قَدْ قَدَّمُوا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، فَصَلَّى لَهُمْ، فَأَدْرَكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِحْدَى الرَّكْعَتَيْنِ، فَصَلَّى مَعَ النَّاسِ الرَّكْعَةَ الْأَخِيرَةَ، فَلَمَّا سَلَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَامَ (1) رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُتِمُّ صَلَاتَهُ، فَأَفْزَعَ ذَلِكَ الْمُسْلِمِينَ، فَأَكْثَرُوا التَّسْبِيحَ، فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَاتَهُ، أَقْبَلَ عَلَيْهِمْ، ثُمَّ قَالَ: "أَحْسَنْتُمْ"، أَوْ قَالَ: "أَصَبْتُمْ". يَغْبِطُهُمْ أَنْ صَلُّوا الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي الْخَبَرِ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ الصَّلَاةَ إِذَا حَضَرَتْ وَكَانَ الْإِمَامُ الْأَعْظَمُ غَائِبًا عَنِ النَّاسِ، أَوْ مُتَخَلِّفًا عَنْهُمْ فِي سَفَرٍ، فَجَائِزٌ لِلرَّعِيَّةِ أَنْ يُقَدِّمُوا رَجُلًا مِنْهُمْ يَؤُمُّهُمْ، إِذِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ حَسَّنَ فِعْلَ الْقَوْمِ أَوْ صَوَّبَهُ، إِذْ صَلَّوُا الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا بِتَقْدِيمِهِمْ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ لِيَؤُمَّهُمْ، وَلَمْ يَأْمُرْهُمْ بِانْتِظَارِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. فَأَمَّا إِذَا كَانَ الْإِمَامُ الْأَعْظَمُ حَاضِرًا، فَغَيْرُ جَائِزٍ أَنْ يَؤُمَّهُمْ أَحَدٌ بِغَيْرِ إِذْنِهِ، لِأَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -[161 - ب] قَدْ زَجَرَ عَنْ أَنْ يُؤَمَّ السُّلْطَانُ بِغَيْرِ أَمْرِهِ.

"حضرت مغیرہ بن شعیہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کہ معیت میں غزوہ تبوک میں شرکت کی۔حضرت مغیرہ ؓ فرماتے ہیں: میں آپ کے ساتھ آیا حتٰی کہ ہم نے دیکھا کہ لوگوں نے حضرت عبدالرحمان بن عوفؓ کو آ گے بڑھایا ہوا ہے اور وہ انہیں نماز پڑھ رہے ہیں۔رسول اللہ ﷺ نے ایک رکعت پالی اور آخری رکعت پالی اور آخری رکعت لوگوں کے ساتھ ادا کی۔پھر جب حضرت عبدالرحمان ؓ نے اسلام پھیرا، تو رسول اللہ ﷺ اپنی نماز مکمل کرنے کے لیے کھڑے ہو گئے۔اس سے مسلمان پریشان ہو گئے اور انہوں نے بکثرت سبحان اللہ پڑھنا شروع کر دیا۔جب نبی اکرم ﷺ نے اپنی نماز مکمل کی تو ان کی طرف متوجہ ہوۓ،پھرفرمایا: تم نے بہت اچھا کام کیا ہے،یا فرمایا: تم نے درست کام کیا ہے۔آپ ان پر رشک کررہے تھے کہ انہوں نے نماز کو اس کے وقت پر ادا کیاہے" امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں:"اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ نماز کا وقت ہو جاۓ اور امام اعظم لوگوں میں موجود نہ ہو یا وہ سفر میں ان کے پیچھے رہ گیا ہو تو رعایا کے لیے جائز ہے کہ وہ کسی آدمی کو اپنا امام بنا لیں جو انہیں نماز پڑھاۓ"کیونکہ نبی کریم ﷺ نے صحابہ کرام (ؓ) کے فعل کی تحسین فرمائ ہے یا اسے درست قراردیاہے۔جبکہ انہوں نے حضرت عبدالرحمان بن عوف ؓ کو امامت کے لیے آگے بڑھا لیا تھا اور نماز کو اس کے وقت پر ادا کیاتھا۔آپ نے انہیں اپنا انتظار کرنے کا حکم نہیں دیا۔مگر جب امام اعظم موجود ہو تو پھر اس کی اجازت کے بغیر کسی شخص کے لیے امامت کرانا جائز نہیں ہے۔کیونکہ نبی کریم ﷺ نے حکمران و امیر کی اجازت کے بغیر اس کی امامت کرانے سے منع کیاہے"

حَدِيثِ عَبَّادِ بْنِ زِيَادٍ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad · Hadith 1515

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1579

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا كَبَّرَ فِي الصَّلَاةِ سَكَتَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ، فَقُلْتُ لَهُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي أَرَأَيْتَ سُكَاتَكَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ أَخْبِرْنِي مَا هُوَ؟ قَالَ: "أَقُولُ: اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطِيئَتِي كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، اللَّهُمَّ أَنْقِنِي مِنْ خَطَايَايَ كَالثَّوْبِ الْأَبْيَضِ مِنَ الدَّنَسِ، اللَّهُمَّ اغْسِلْنِي مِنْ خَطَايَايَ بِالثَّلْجِ وَالْمَاءِ وَالْبَرَدِ".

اس بات کا بیان کہ کبھی آہستہ بولنے والے پر بھی ساکت وخاموش کا اطلاق ہو جاتا ہے

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ← ابْنُ فُضَيْلٍ، ← هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein · Hadith 1579

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2561

ثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ الْقُرَشِيُّ، ثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُرِيدُ سَفَرًا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَوْصِنِي. قَالَ: "أُوصِيكَ بِتَقْوَى اللَّهِ، وَالتَّكْبِيرِ عَلَى كُلِّ شَرَفٍ"، فَلَمَّا مَضَى، قَالَ: "اللَّهُمَّ ازْوِ لَهُ الْأَرْضَ، وَهَوِّنْ عَلَيْهِ السَّفَرَ".

۔۔حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، وہ سفر پر جا رہا تھا ۔تو اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ !مجھے نصیحت فرمائیں ۔آپ نے فرمایا : "میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا تقو ی ٰ اختیار کرنے اور ہر بلند جگہ چڑھتے ہوئے اللہ اکبر پڑھنے کی نصیحت کرتا ہوں ۔"پھر جب وہ شخص چلا گیا تو آپ نے ( اس کے لیے ) یہ دعا فرمائی : "اے اللہ اس کے سفر کی مسافت کو لپیٹ دے اور اس کے سفر کو آسان بنا دے ۔"

جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ يُرِيدُ سَفَرًا، فَقَالَ: ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← وَكِيعٌ، ← سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ الْقُرَشِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2561

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 419

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى وَزَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبَانٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، نَا مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمَعِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، أَنَّ (1) سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "اثْنَتَانِ لَا تُرَدَّانِ أَوْ قَلَّ مَا تُرَدَّانِ: الدُّعَاءُ عِنْدَ النِّدَاءِ، وَعِنْدَ الْبَأْسِ حِينَ يَلْتَحِمُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا".

" حضرت سہل بن سعید ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: دو دعائیں رد نہیں کی جاتیں ، یا وہ بہت کم رد کی جاتی ہیں ، اذان کے وقت کی گئی دعا اور جنگ کے وقت جب وہ ایک دوسرے سے برسر پیکار ہوں ۔"

أَبُو حَازِمٍ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ ← مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ، ← ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَزَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبَانَ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 419

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 425

وَأَخْبَرَنَا الْإِمَامُ أَبُو [الْحَسَنِ] (1) عَلِيُّ بْنُ المُسْلِم بْن مُحَمَّد السُّلَمِيُّ، نَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْكِتَانِيُّ، أَخْبَرَنَا الْأُسْتَاذُ أَبُو عُثْمَانَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصَّابُونِيُّ، قَالَ (2): أَخْبَرَنَا [61 - أ] أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، نَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، نَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ -يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ-، نَا إِسْرَائِيلُ بْنُ يُونُسَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "الدُّعَاءُ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ لَا يُرَدُّ؛ فَادْعُوا".

"حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتےہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: اذان اور اقامت کے درمیان دعا ر د نہیں کی جاتی لہٰذا تم دعا مانگا کرو۔"

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← بُرَيْدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ: ← أَبِي إِسْحَاقَ ← إِسْرَائِيلُ بْنُ يُونُسَ، ← يَزِيدُ -يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ- ← أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ← أ] أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ← الْأُسْتَاذُ أَبُو عُثْمَانَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصَّابُونِيُّ، ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْكِتَانِيُّ، ← وَأَخْبَرَنَا الْإِمَامُ أَبُو [الْحَسَنِ] عَلِيُّ بْنُ المُسْلِم بْن مُحَمَّد السُّلَمِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 425

chevron_left Previous
1…222324…641
Next chevron_right