ابو حوارا سعدی بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت امام حسن بن علی ؓ سے دریافت کیا : آپ کو نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے کیا بات یاد ہے، تو انہوں نے فرمایا: مجھے یہ بات یاد ہے، ایک دفعہ میں نے صدقہ کی کھجوروں میں سے ایک کھجور لے لی تھی ۔ اور اسے اپنے منہ میں ڈال لیا تھا ، تو نبی اکرم ﷺ نے اس کھجور کو لعاب سمیت باہر نکال دیا تھا اور انہیں کھجورون میں رکھ دیا تھا ۔
نبی اکرم ﷺ ہمیں یہ تعلیم دیا کرتے تھے۔
" اے اللہ ! جنہیں ، تو نے ہدایت عطا کی ہے ان میں مجھے بھی ہدایت عطا کر اور جنہیں تو نے عافیت عطا کی ہے ان میں مجھے بھی عافیت عطا کر اور جن کا تو نگران ہے ان میں سے میرا بھی نگران بن جا ، تو نے جو کچھ عطا کیا ہے اس میں میرے لئے برکت رکھ دے اور تو نے جو فیصلہ کیا ہے اس کے شر سے مجھے بچا لے۔
بے شک تو فیصلہ کرتا ہے تیرے خلاف فیصلہ نہیں کیا جا سکتا جس کا تو نگران ہو وہ ذلیل نہیں ہوتا۔"
شعبہ نامی راوی کہتے ہیں میرا یہ خیال ہے روایت میں یہ الفاظ ہیں ۔
" تو برکت والا اور بلند و برتر ہے"۔
( امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ) ابو الجوزا ربیعہ بن شعبان سعدی ہیں اور ابو الجوزا کا نام اوس بن عبد اللہ ہے، اور یہ دونوں حضرات تابعی ہیں اور دونوں بصرہ کے رہنے والے ہیں)
حضرت ابو موسیٰ اشعری کے صاحبزادے اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ یہ دعا مانگا کرتے تھے:
" اے اللہ! میری خطاوں ، میرے جہل، میرے اپنے معاملے میں اسراف کے ھوالے سے میری مغفرت کر دےاور ہر چیز کے بارے میں بھی جسے تو مجھ سے بہتر جانتا ہے، اے اللہ! میری خطاوں میرے جان بوجھ کر کئے گئے اعمال میرے عمد ، میرے جہل میری سنجیدگی میرے مذاق اور ہر وہ چیز جو میری طرف سے ہوئی ہےاس کی مگفرت کر دے۔ اے اللہ! جو میں نے پہلے کیا ہے، جو بعد میں کروں گا ، جو پوشیدہ طور پر کیا جو اعلانیہ کیا ۔ اس کے حوالے سے میری مغفرت کر دے، بے شک تو آگے کرنے والا ہےاور تو ہی پیچھے کرنے والا ہےاور تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔"
ابرا ہیم بیان کرتے ہیں : علقمہ شام گئے انہوں نے وہاں نماز دا کی پھر وہ ایک حلقے کی طرف بڑھ گئے اور اس میں بیٹھ گئے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص آیا اور میرے پہلو میں بیٹھ گیا میں نے کہا: الحمد اللہ مجھے یہ امید ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میری دعا کو مستجاب کر لیا ہے۔ وہ بیان کرتے ہیں : وہ شخص حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ تھے ۔ انہوں نے دریافت کیا : وہ کیسے ۔ علقمہ نے جواب دیا : میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تھی کہ وہ مجھے کوئی نیک ہم نشین عطا کرےتو مجھے یہ امید ہے ک وہ آپ ہی ہوں گے ۔ اس نے دریافت کیا : تم کون ہو؟ میں نے کہا: میں اہل کوفہ(راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) اہل عراق سے تعلق رکھتا ہوں اور پھر اہل کوفہ سے تعلق رکھتا ہوں توحضرت ابو درداء نے فرمایا : کیا تمہارے درمیان نبی اکرم کے وہ خاص راز دار نہیں ہیں ' کہ اس راز کو ان کے علاوہ کوئی اور نہیں جانتا تھا ان کی مراد حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ تھے پھر انہوں نے دریافت کیا : کیا تمہیں یہ بات یاد ہے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کس طرح تلاوت کرتے تھے میں نے جواب دیا : جی ہاں پھر انہوں نے پڑھا (یعنی یہ سورۃ پڑھی)
''وَالَّیْلِ اِذَا یَغْشیٰ وَالنَّھارِ اِذَا تَجَلّٰی''
علقمہ کہتے ہیں تو می نےپڑھا ''الذکر و الانثیٰ'' تو حضرت ابو دردا ء رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے نبی اکرم ﷺ نے بھی مجھے اپنی زبانی یہ سورۃ انہی الفاظ میں سے سیکھائی تھی لیکن یہ لوگ مسلسل میری اس بات کو مسترد کرتے ہیں ۔
(امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں : ) یہاں تک قریش کے خلیفوں کا ذکر تھا اب ہم اس کےبعد انصار کا ذکر کریں گے ان میں سے جن لوگوں نے ہجرت کی اور جنہوں نے ہجرت نہیں کی ( سب کاذکر ہو گا ) اگر اللہ تعالیٰ نے فیصلہ دیا اور یہ چاہا۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7127
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7150
مضارب بن حزن بیان کرتےہیں : ایک مرتبہ میں رات کے وقت سفر کر رہا تھا اسی وران کسی شخص نے تکبیر کہنا شرو ع کی میں اپنے اونٹ پر اس تک پہنچا میں نے کہا : یہ تکبیر کہنے والا شخص کون ہے۔ اس نے جواب دیا : ابو ہریرہ ۔میں نے کہا: یہ تکبیر کیوں کہہ رہے ہیں ۔انہوں نے جواب دیا : شکر کے طور پر ۔ میں نے کہا : کس بات کا ؟ انہوں نے کہا : اس بات پر کہ میں بسرہ بنت غزوان نامی خاتون کا ملاز تھا اس شرط پر کہ وہ میرے پہننے اوڑھنے کا سامان فراہم کرے گی اور مجھے کھانا دے دیا کرے گی جب لوگ سوار ہو کر سفر کرتے تھے ' تو میں ان کے جانور لے کر پیدل چلتا تھ اور جب وہ پڑاؤ کیا کرتے تھے تو میں ان کی خدمت میں کیا کرتا تھا پھر اللہ تعالی نے اس عورت کے ساتھ میری شادی کر دی آج وہ میری بیوی ہے آج جب لوگ سوار ہوتے ہیں تو میں بھی اس وقت سوار ہوتا ہوں اور جب لوگ پڑاؤ کرتے ہیں تو میری خدمت کی جاتی ہے۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7150
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7199
حضرت جریربن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب میں نبی اکر م ﷺ کے شہر کے قریب ہوا تو میں نے اپنی سواری کو بٹھا دیا میں نے اپنا لباس تبدیل کیا اور حل پہن لیا پھر نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ' تو آپ اس وقت خطبہ دے رہے تھے ۔ نبی اکرم ﷺ نے مجھے سلام کیا لوگوں نے میری طرف غور سے دیکھنا شروع کیا میں نے اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے شخص سے دریافت کیا: اے اللہ کے بندے ! کیا نبی اکرمﷺ نے میرے متعلق کچھ ذکر کیا ہے اس نے جواب دیا : جی ہاں نبی اکرم ﷺ نے انتہائی عمدہ طور پر تمہارا ذکر کیا ہے' اس وقت جب آپ خطبہ دے رہے تھے نبی اکرمﷺ نے خطبے کے دوران یہ ارشاد فرمایا : اس دورازے سے تمہارے سامنے ایک شخص داخل ہو گا (راوی کو شک ہے شاہد یہ الفاظ ہیں : ) اس راستے سے ایک آئے گا جو انتہائی برکت والا ہو گا اس کے چہرے کو فرشتے نے چھوا ہو گا ( راوی کہتے ہیں ) تو میں نے اس بات پر اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی کہ اس نے مجھے یہ چیز عطا کی ۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7199
صیح ابن حبان · کِتَابُ الرُّؤیَا ‹ بَابُ ذَوِی الَا رحَامِ · حديث 6045
حضرت عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں:نبی اکرمﷺ کا جس بیماری کے دوران وصال ہوا اس کے دوران آپ ﷺ نے پردہ ہٹایا لوگ حضرت ابوبکر ؓ کےپیچھے صفیں بنا کر (نماز پڑھ رہے تھے) نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا:نبوت کے مبشرات میں سے اب صرف سچے خواب باقی رہ گئے ہیں ،جنہیں کوئی مومن دیکھتا ہے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں )جو اسے دکھائے جاتے ہیں۔ خبردار مجھے اس بات سے منع کیا گیا ہے کہ میں رکوع یا سجدے کے عالم میں قرأت کروں جہاں تک رکوع کا تعلق ہے ، تو تم اس میں پروردگار کی عظمت کا اعتراف کرو جہاں تک سجدے کا تعلق ہے تم اس میں اہتمام کے ساتھ دعا مانگو وہ اس لائق ہو گی کہ اسے تمہارے لئے مستحاب کیا جائے۔
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتےہیں :نبی اکرمﷺ کے انصاری صحابہ میںسے ایک صاحب نے مجھے یہ بات بتائی کہ ایک مرتبہ وہ لوگ نبی اکرمﷺ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے اسی دوران کوئی ستارہ ٹوٹا اور روشنی سی نظر آئی ۔ نبی اکرمﷺ نے ان لوگوں سے دریافت کیا جب اس طرح کا کوئی ستارہ ٹوٹتا ہےتھا ،تو تم لوگ زمانہ جاہلیت میں کیا سمجھتے تھے ۔ لوگوں نےعرض کی :ہم یہ کہتے تھے کہ آج کوئی بڑا ٓدمی پیدا ہو گا یا کوئی بڑا ٓدمی فوت ہو جائے گا۔نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا:یہ کسی کے مرنےیا پیدا ہونے کی وجہ سے نہیں ٹوٹتے ہیں بلکہ ہمارا پروردگار جب کوئی فیصلہ سناتا ہے ، تو عرش کو اٹھانے والے فرشتے تسبیح بیان کرتےہیں ، تو اس کے بعد والے فرشتے تسبیح بیان کرتےہیں ، یہاں تک کہ یہ تسبیح آسمان دنیا تک پہنچ جاتی ہے عرش کو اٹھانے والے فرشتوں کے قریب جو فرشتے ہوتے ہیں (یعنی ساتویں آسمان کے فرشتے ) وہ دریافت کرتےہیں ، ہمارے پروردگار نے کیا فرمایاہے ،تو (عرش کواٹھانے والے فرشتے ) انہیں اس بارے میں بتاتے ہیں اسی طرح تمام آسمان کے فرشتے دوسرے آسمان والوں کو اس بارے میں اطلاع دیتے ہیں ، یہاں تک کہ آسمان دنیا تک یہ بات پہنچ جاتی ہےتو کوئی جن اسے اچک لیتا ہے اور اپنے دوستوں کی طرف اسے القاء کر دیتا ہے وہ اس میں ملاوٹ بھی کردیتا ہے ، تو جب (کسی کاہن کی کہی ہوئی بات ) درست ثابت ہوتی ہے ، تو وہ حق کی وجہ سے ہوتی ہے ، تاہم وہ لوگ اس میں اور بہت سے جھوٹ شامل کردیتےہیں (اس لیے ان کی بہت سی باتیں غلط بھی ثابت ہوتی ہیں )
یہاں مبشر نامی راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں :وہ اس بات میں اضافہ کردیتے ہیں ۔
حضرت عمران بن حصین ؓ بیان کرتےہیں:میں نبی اکرم ﷺ کےپاس بیٹھا ہو اتھا میری اونٹنی (مسجد کے دروازے پر ) بندھی ہوئی تھی اسی دوران بنو تمیم سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی : یارسول اللہ (ﷺ)!ہم آپ ﷺ کی خدمت میں اس لیےحاضر ہوئے ہیں تاکہ دین کی تعلیم حاصل کریں ہم اس معاملے کے آغاز کے بارے میں آپ ﷺ سے دریافت کرنا چاہتےہیں کہ یہ کیسے ہوا ۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: پہلے صرف اللہ تعالیٰ تھا اس کے علاوہ کوئی چیز نہیں تھی عرش پانی پر تھا ، پھر اس نےذکر (یعنی قرآن مجید یا لوح محفوظ ) ہر چیز تحریر کردی پھر اس نے آسمان وزمین کو پیدا کیا۔
راوی بیان کرتےہیں:اسی دوران ایک شخص آیا اور بولا : اے عمران اپنی اونٹنی کو پکڑلیں وہ رسی کھو ل کر چلی گئی ہے ۔ سراب اس سے پہلے ہی منقطع ہوجاتاہے۔
(حضرت عمران ؓ بیان کرتےہیں)اللہ کی قسم ! میری یہ خواہش ہےکہ میں نے اونٹنی کو چھوڑدیا ہوتا (اور نبی اکرمﷺ کی گفتگو سنتا رہتا)
حضرت عمران بن حصین ؓبیان کرتےہیں :میں نبی اکرمﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا اسی دوران بنو تمیم سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ آپﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اے بنو تمیم !تم لوگ خوشخبری قبول کرو۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ (ﷺ)! ہمیں پہلے بھی خوش خبری دے چکے ہیں آپﷺ ہمیں (مال ودولت )عطا کیجئے پھر یمن تعلق رکھنے والے کچھ لوگ نبی اکرمﷺ خدمت میں حاضر ہوئے ۔آپﷺ نے فرمایا:اے اہل یمن تم لوگ خوش خبری حاصل کر لو کیونکہ بنو تمیم نے اسے حاصل نہیں کیا ۔ ان لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ (ﷺ)! ہم اسے قبول کرتےہیں ہم اس لیے حاضر خدمت ہوئے ہیں تاکہ دین کی سمجھ بوجھ حاصل کریں اور آپﷺ سے اس معاملے کے آغاز کے بارے میں دریافت کریں کہ یہ کیسے تھا (یعنی کائنات کا آغاز کیسے ہوا)، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشادفرمایا:پہلے اللہ تعالیٰ تھا اس سے پہلے کوئی چیز نہیں تھی عرش پانی پر تھا ، پھر اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور اس نے ذکر (یعنی لوح محفوظ ) میں ہر چیز تحر یر کردی۔
راوی بیان کرتےہیں :پھر ایک شخص ان کے پاس آیا اور بولا:اے عمران اپنی سواری کو پکڑیں کیونکہ وہ چلی گئی ہے ، تو میں اس کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا سراب اس سے پہلے ہی منقطع ہو جاتا تھا ۔ اللہ کی قسم! میری یہ خواہش ہےکہ وہ چلی گئی ہوتی لیکن میں وہاں سے نہ اٹھتا۔
ابن بریدہ اپنےوالد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں ہم لوگ نبی اکرمﷺ کے ساتھ سفر کر رہے تھے۔ آپ نے ہمارے ساتھ ایک جگہ پڑاؤ کیا، ہم ایک ہزار کے قریب سوار تھے۔ نبی اکرمﷺ نے ہمیں دو رکعات پڑھائیں پھر آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے‘ تو آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ حضرت عمرؓ آپ کے سامنے کھڑے ہوئے انہوں نے اپنے ماں باپ کو آپ پر قربان کیا۔ عرض کی: یا رسول اللہﷺ! آپ کو کیا ہوا ہے؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: میں نے اپنی والدہ کے لئے دعائے مغفرت کی اجازت مانگی ۔ مجھے اجازت نہیں ملی‘ تو ان کے ساتھ رحمت کی وجہ سے میری آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے ۔ ان کے جہنم میں ہونے کی وجہ سے ‘ میں نے تمہیں تین چیزوں سے منع کیا تھا۔ قبروں کی زیارت کرنے سے اب تم ان کی زیارت کیا کرو کیونکہ قبروں کی زیارت بھلائی میں اضافہ کرے گی۔ میں نے تمہیں قربانی کا گوشت تین دن سے زیارہ رکھنے سے منع کیا تھا۔ اب تم‘ جب تک چاہوں اسے روک کے رکھو میں نے تمہیں مخصوص قسم کے برتنوں میں مشروب پینے سے منع کیا تھا اب تم جس طرح کے برتن میں چاہو مشروب پیو۔ البتہ کوئی نشہ آور چیز نہ پینا ۔
حضرت ابوہریرہ ؓ روایت کرتےہیں ،نبی اکرمﷺ نے ارشادفرمایا:
"اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ کو اپنی صورت کے مطابق پیدا کیا ان کا قد 60گز تھا ،جب اللہ تعالیٰ نے انہیں پیدا فرمایا:کیاتو تم اجاؤ اور اس گروہ کو سلام کروں ۔ فرشتے تھے جو بیٹھے ہوئے تھے تم غور سے سننا کہ وہ تمہیں کیا جواب دیتے ہیں کیونکہ وہ تمہارا اور تمہاری اولاد کا سلام کرنے کا طریقہ ہوگا ۔نبی اکرمﷺ فرماتےہیں :حضرت آدم ؑ گئے انہوں نے کہا :السلام علیکم ، تو فرشتوں نے جوا ب میں رحمت اللہ کا اضافہ کیا۔"
نبی اکرمﷺ فرماتےہیں :جنت میں جو شخص بھی داخل ہوگا حضرت آدم ؑ کی طرح اس کاقد60 گز ہوگا اس کے بعد مسلسل انسانوں کے قد کم ہوتے رہے، یہاں تک کہ یہ صورت حال آگئی۔
(امام ابن حبان ؒفرماتےہیں:)یہ وہ روایت ہے، جس کے ساتھ وہ شخص متعلق ہوا جو علم احادیث میں مہارت نہیں رکھتا اور اس نے اس روایت کی وجہ سے محد ثین پر اعتراضات کیے جو سنت کی خدمت کرتےہیں اور اس پر ہونے والے اعتراض کو پرے کرتےہیں اور جو شخص سنت کی خلاف ورزی کرتا ہے وہ اس کی بھر پور مخالفت کرتےہیں اس شخص نے یہ کہا کہ لفظ صورکہ میں ضمیر یا، تو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب ہوگی ،یاحضرت آدم ؑ کی طرف منسوب ہوگی اگراس کہ نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی جائے ، تویہ چیز کفر ہوگر کیونکہ ارشادباری تعالیٰ ہے۔
"اس کی مانند کوئی چیز نہیں ہے۔"
اگر اس کی نسبت حضرت آدم ؑ کی طرف کی جائے ،تو روایت میں فائدہ حاصل نہیں ہوگا کیونکہ اس میں کوئی شک نہیں ہے تمام انسانوں کی شکل وصورت حضرت آدم ؑ جیسی ہے کسی اور جیسی نہیں ہے۔
اگر اس بات کا قائل شخص تنہائی میں بیٹھ کر اپنے پروردگار کی بارگاہ میں التجا ء کرتا اور اس سے حق اور ہدایت کی توفیق کا سوال کرتا جو نبی اکرمﷺ کی سنتوں کو لازم پکڑنے کی صورت میں سیدھا راستہ ہے، تو پھر اس کےلیے مناسب یہ تھا کہ وہ جس حدیث کا مفہوم نہیں جانتا اس کےحوالے سے سنت کے خادمین پر اعتراض نہ کرتا اگرانسان کسی چیز کے بارے علم نہیں رکھتا،یہ چیز تو اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ اس کی ناواقفیت کی وجہ سے حق کی نفی کردی جائے۔
ہم یہ کہتےہیں :نبی اکرمﷺ سےمنقول روایت جب نقل کے اعتبار سے مستند طور پر ثابت ہو تو اس میں کوئی اعتراض اور اختلاف نہیں ہوگا اورنہ ہی وہ قرآن کو منسوخ کرےگا بلکہ ہر روات کا اپنا مخصوص مفہوم ہوتا ہے اور ہر روایت کا اپنا پس منظر ہوتاہے، جسے اہل علم سمجھ جاتےہیں ہمارے نزدیک نبی اکرمﷺ کے اس فرمان کا مطلب یہ ہے "اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ کو اپنی صورت میں پیدا کیا " اس سا مقصد یہ ہےکہ حضرت آدم ؑ کی دیگر تمام مخلوق کی فضیلت کو ظاہر کیا جائے اور اس میں ضمیر حضرت آدم ؑ کی طرف راجع ہے اورضمیر کے حضرت آدم ؑ کی طرف راجع ہونے کا فائدہ یوں ہے کہ اس ضمر کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف نہیں کی جاسکتی کیونکہ ہمارا پروردگار اس چیز سے بلند وبرتر ہےکہ اسے مخلوق میں سے کسی سے مشابہ قرار دیا جائے اللہ تعالیٰ نے تخلیق کا سبب ایک ایسی چیز کو قرار دیا ہے ،جو حرکت بھی کرتی ہے اور جس کے وجود میں نشونما کی صلاحیت بھی پائی جاتی ہے یہ مذکور اور مؤ نث کے اجتماع کی صو رت میں (نشونما پاتی ہے) اس کے بعد مادہ تولید مذکر کے مخصوص کام سے مؤنث کے رحم کی طرف منتقل ہو جاتاہے اس کے بعد وہ ایک متعین مدت تک جمے ہوئے خون کی شکل میں رہتا ہے پھر وہ لوتھڑے کی شکل میں رہتا ہے پھر شکل وصورت بن جاتی ہےپھر ایک مخصوص وقت تک وہی رہتا ہے پھر وہ اپنی جگہ سے نکلتا ہے پھر دودھ پلانے کا مرحلہ آتا ہے پھر دودھ چھڑانے کا مرحلہ آتا ہے پھر دیگر مراتب ہیں جو ہم ذکر کر چکے ہیں ، یہاں تک کہ اسے موت آجاتی ہے۔
تو حرکت کرنے والے اور اپنی ذات کے اعتبار سے نشونما کی صلاحیت رکھنے والے کی یہ صفت ہےاللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ کو ان کی صورت پر پیدا کیا ہے یعنی وہ تخلیق جواس اعتبار سے ہوئی تھی ان کی لمبائی ساٹھ گز تھی ،لیکن ان سے پہلے کسی مذکور اور مؤ نث کا اجتماع نہیں ہوا ۔ مادہ تولید کسی جگہ زائل نہیں ہوا تھا کسی جگہ آکر ٹھہرا نہیں وہ مادہ جمے ہوئے خون یا گوشت کے لوتھڑے کی شکل میں تبدیل نہیں ہوا اس نے بعد میں ، جسم کی شکل اختیار نہیں کی ، تواللہ تعالیٰ نے اس چیز کے ذریعے ان کی فضیلت کو واضح کر دیا جو وہ دیگر تمام مخلوق پر رکھتےہیں کہ وہ پہلے نطقے کی شکل میں نہیں تھے کہ پھر جما ہوا خون بن جاتے جما ہوا خون نہیں تھےکہ گوشت کا لوتھڑا بن جائے گوشت کا لوتھڑا نہیں تھے کہ دودھ پینےکی نوبت آتی دودھ پینے والے نہیں تھے کہ دودھ چھڑانے کی نوبت آتی دودھ چھڑانے والے نہیں تھے کہ بعد میں نوجوان ہو جاتے جیسا کہ حضر ت آدم ؑ کے علاوہ دیگر انسانوں کی صورت حال ہوتی ہے یہ بات اس شخص کے موقف کے خلاف ہے جو اس بات کا قائل ہےکہ محدثین حثویہ فرقے کے سے نظریات رکھتےہیں وہ ایسی چیزیں روایت کر دیتےہیں جن کا فہم حاصل نہیں ہوسکتا اور وہ ایسی چیزوں کے ذ ریعے استدلال کرتےہیں جن کا انہیں پتہ نہیں ہوتا ۔
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب وہ لوگ جعرانہ سے عمرہ کرنے کے بعد مدینہ منورہ کی طرف واپس گئے تو نبی اکر م ﷺ نےحضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو امیر حج بنا کر بھیجا ہم لوگ ان کے ساتھ آگئے 'یہاں تک کہ جب ہم عرج کے مقام پر پہنچے تو صبح کی نماز کے لئے اقامت کہی گئی 'جب حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ تکبیر کہنے کے لئے کھڑے ہوئے تو انہوں نے اپنی پشت کے پیچھے اونٹنی کی آواز سنی۔ وہ تکبیر کہنے سے رک گئے ۔ انہوں نے کہا : یہ تو نبی اکرم ﷺ کی اونٹنی جدعاء کی مخصوص آواز ہے شاید نبی اکرم ﷺ تشریف لا رہے ہوں تو ہم آ پ کی اقتدا ء میں نماز ادا کریں گے لیکن اس اونٹنی پر حضرت علی رضی اللہ عنہ سوار تھےحضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا : کیا امیر کے طور پر آئیں ہے یا قاصد کے طور پر آئے ہیں ۔ انہوں نے جواب دیا : جی نہیں بلکہ قاصد کے طور پر آیا ہوں مجھے نبی اکرم ﷺ نے برات کے ہمرا ہ بھیجا ہے جسے میں حج کے موقع پر لوگوں کے سامنے پڑھ دوں گا ۔
(راوی کہتے ہیں : ) پھر ہم لوگ مکہ آگئے ترویہ سے ایک دن پہلے حضر ت ابو بکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے لوگوں کو خطبہ دیا (حج کے احکام بیان کئے ) جب وہ فارغ ہوئے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے ۔ انہوں نے سورت تو بہ کی تلاوت کی اور اسےمکمل طور پر ختم کیا پھر ہم لوگ ان کے ہمراہ روانہ ہوئے ' یہاں تک کہ جب عرفہ کا دن آیا تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے ۔ انہوں نے لوگوں کو خطبہ دیا انہوں نے لوگوں کو مناسک حض کی تعلیم دی ۔ وہ فارغ ہوئے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے لوگوں کے سامنے سورۃ توبہ کی تلاوت کی یہاں تک کہ اسے مکمل طور پرختم کیا پھر جب قربانی کا دن آیا اور ہم لوگ واپس آئے تو جب حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ واپس آئے تو انہوں نے لوگوں کو خطبہ دیا اور انہیں واپس جانے کے بارے میں بتایا اور قربانی کے بارے میں اور دیگر مناسک کے بارے میں بتایا جب وہ فارغ ہوئے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے لوگوں کے سامنے سورۃبرأ ت کی تلاوت کی ' یہاں تک کہ اسے مکمل ختم کیا۔
جب پہلی روانگی کا دن آیا تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے لوگوں کو خطبہ دیا ۔ ا نہوں نے لوگوں کو بتایا : وہ کیسے روانہ ہوں گے اور کیسے رمی کریں گے ۔انہو ں نے لوگوں کومناسک حج کی تعلیم دی جب وہ فارغ ہوئے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے لوگوں کے سامنے سورۃ توبہ کی تلاوت کی ' یہاں تک کہ اسے مکمل تلاوت کیا ۔
Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6645
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیا ن کرتے ہیں : جناب ابو طالب بیمار ہو گئے قریش ان کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ نبی اکرم ﷺ بھی ان کی عیادت کرنے کے لئے ان کے پاس تشریف لائے ۔ ان کے سرہانے کے قریب ایک آدمی کے بیٹھنے کی جگہ تھی ۔ابو جہل اٹھا اور وہاں بیٹھ گیا ان لوگوں نے جناب ابو طالب کو نبی اکرمﷺ کی شکایت کی اور بولے آپ کے بھتیجے ! ہمارے مبعودوں پر تنقید کرتے ہیں ۔ جناب ابو طالب نے کہا : اے میرے بھتیجے کیا وجہ ہے کہ آپ کی قوم کے افراد آ پ کی شکایتیں لگا رہے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:اے چا چا جان ! میں انہیں ایک کلمے پر اکٹھا کرنا چاہتا ہوں جس کی وجہ سے عرب ان کے ماتحت ہوں گے ۔ عجمی انہیں جزیہ ادا کریں گے ۔انہوں نے دریافت کیا : وہ کو سا کلمہ ہے؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: لا الہ اللہ تو وہ لوگ کھڑے ہو گئے ۔ انہوں نے کہا : کیا تم مختلف معبودوں کی جگہ ایک ہی معبود بنانا چاہتے ہو ۔ راوی کہتے ہیں: تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی :
''ص' قرآن کی قسم ہے' جو نصیحت کرنے والا ہے۔''
یہ آیت یہاں تک ہے''بے شک یہ بہت حیران کن چیز ہے۔''
Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6686
حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے انہوں نے اپنے بیٹے کو یہ کہتے ہوئے سنا ۔
''اے اللہ میں تجھ سے جنت کے دائیں طرف میں محل کا سوال کرتا ہوں ' تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے میرے بیٹے جب تم نے مانگنا ہو تو اللہ تعالی ٰ سے جنت مانگو اور جہنم سے اس کی پناہ مانگو ' کیونکہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے:
''آخری زمانے میں ایسے لوگ آئیں گے جو دعا مانگنے او ر طہارت کے حصول میں حد سے تجاوز کریں گے۔''
Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6763
حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے انہوں نے اپنے ایک بیٹے کو دعا میں یہ کہتے ہوئے سنا ۔
''اے اللہ ! میں تجھ سے یہ سوال کرتاہوں کہ جب میں جنت میں داخل ہوں ' تو مجھے جنت کے دائیں طرف سفید محل ملے ' تو حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے میرے بیٹے تم اللہ تعالی ٰ سے جنت مانگو اور جہنم سے اس کی پناہ مانگو میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے:
عنقریب اس امت میں ایسے لوگ آئیں گے جو دعا مانگتے اور طہارت حاصل کرنے میں حد سے تجاوز کریں گے ۔''
(امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں : ) یہ روایت جریری نے یزید بن عبداللہ کے حوالے سے اور ابو نعامہ کے حوالے سے سنی ہے ' تو یہ دونوں طرق محفوظ
ہیں ۔
Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6764
صیح ابن حبان · بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا · حديث 7435
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
"اہل جنت کھائیں گے اور پئیں گے لیکن وہ پیشاب اور پاخانہ نہیں کریں گے، بلغم نہیں نکالیں گے، تھوک نہیں پھینکیں گے۔ انہیں حمد اور تسبیح یوں الہام کی جائے گی، جس طرح سانس لینا الہام کیا جاتا ہے اور ان کا کھانا ڈکار کی شکل میں (ختم ہوجائے گا) اس کی خوشبو مشک کی طرح ہوگی"۔
"حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب سے عرض کی گئی : ہمیں تنگی کے وقت کے متعلق بیان کریں ، تو انہوں نے فرمایا: ہم شدید گرمی میں تبوک کی طرف روانہ ہوئے ۔ ہم نے ایک جگہ پر پڑاؤ ڈالا تو ہمیں پیاس لگی (جبکہ پانی موجود نہ تھا) یہاں تک کہ ہم خیال کرنے لگے کہ عنقریب ہماری گردنیں کٹ جائیں گی( یعنی پیاس سے موت آجائے گی) حتی کہ ایک شخص پانی کی تلاش میں جاتا ، وہ (جلدی) واپس نہ آتا خیال کیا جاتا کہ اس کی گردن کٹ گئی ہے ۔ (پھر نوبت یہاں تک پہنچی کہ) ایک شخص اپنے اونٹ کو ذبح کرتا ، اس کی لید نچوڑتا اور (پانی ) پی لیتا اور جو باقی بچتا اسے اپنے پیٹ پر ڈال لیتا۔(یہ حالات دیکھ کر ) حضرت ابوبکر صدیقؓ نے عرض کی : اے اللہ کے رسول بے شک اللہ تعالیٰ نے آپ کو خیر وبھلائی کی دعا کا عادی بنایا ہے (یعنی آپ بکثرت بھلائی کی دعا فرماتے ہیں ) تو ہمارے لیے دعا فرمائیں(کہ اللہ تعالیٰ اس تنگی سے نجات عطا فرمائے ۔ آپ نے پوچھا: کیا تم اسے پسند کرتے ہو؟(کہ میں تمہارے لیے دعا کروں) انہوں نے عرض کی : جی ہاں ۔ تو آپ ﷺ نے (دعا کےلیے ) ہاتھ بلند کیے ۔ ابھی آپ نے (دعا ختم کر کے ) ہاتھ لوٹائے نہیں تھے کہ آسمان پر بادل امڈ آئے ، اندھیرا چھا گیا اور موسلا دھار بارش شروع ہوگئی۔ صحابہ کرام نے تمام برتن بھر لیے ، پھر ہم نے (پڑاؤ والی جگہ سے ) نکل کر دیکھا تو معسکر کے بہار بارش نہیں برسی تھی۔"امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں:"اگر لید کا نچوڑ ہوا پانی ناپاک ہوتا تو کسی آدمی کےلیے جائز نہیں تھا کہ وہ اسے پیٹ پر ڈالتا ، کیونکہ اس طرح تو اس کے بدن کا کچھ حصہ ناپاک ہوجاتا ۔ اور اس کے پاس پاک پانی بھی نہیں ہے کہ اس سے ناپاک حصہ دھو لے ۔ البتہ نجس پانی نہ پینے کی صورت میں جان تلفی کا خطرہ ہو تو زندہ رہنے کےلیے ناپاک پانی پینا جائز ہے ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ، م ردار (کا گوشت ) خون اور خنزیر کا گوشت کھائے بغیر جان تلفی کا خطرہ ہو تو ان چیزوں کو مجبوری کی حالت میں جان بچانے کےلیے کھانا جائز رکھا ہے ۔ حالانکہ مردار ، خون اور خنزیر کا گوشت ناپاک ہے اور ان سے مستغنی شخص کےلیے حرام ہیں۔ مضطر شخص کےلیے جان بچانے کےلیے انہیں کھانا جائز ہے ۔ اسی طرح موت کے خطر کے وقت مضطر(مجبور) شخص کے لیے ناپاک پانی پینا بھی جائز ہے ۔ تاکہ اسے پی کر اپنی جان بچا سکے لیکن ناپاک پانی اپنے جسم کے کسی حصے پر لگانا جبکہ اسے یقینی علم ہو کہ اگر وہ اسے اپنے بدن پر نہ ڈالے تو اس کی جان کو کوئی خطرہ نہیں اور نہ اس پانی کو جسم کے کسی حصے پر لگانے سے اس کی زندی کی بقا کا تعلق ہے ، اور نہ اس کے پان پاک پانی ہو کہ وہ اس سے بدن کے ناپاک ہونے والے حصے کو دھو لے ، تو اس حالت میں ایسے پانی کا استعمال ناجائز ہے اور نہ یہ کام کرنے کی کسی شخص کےلیے کوئی گنجائش ہے ۔"
Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean · Hadith 101
صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ فُضُولِ التَّطھِیرِوَالاِستِحبَابِ مِن غَیرِ اِیجَابٍ · حديث 208
’’حضرت عمر و بن مرہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن سلمہ کو سنا ، انہوں نے فرمایا:میں اور دودوسرے افراد حضرات علی ؓ کےپاس گئے ، ایک آ دمی ہم سے ( یعنی ہمارے قبیلے کافرد ) اور ایک بنی اسد سے تھا۔میرا خیال ہے کہ انہوں نےان دونوں کو ایل سمت (علاقے کا عامل یاگورنر بنا کر) بھیجا اور فرمایا ’’ تم دونوں خوب صحت مند اور طاقتور ہو لہذا اپنے فرض کو خوب اچھی طرح انجام دینا ۔ پھر آپ بیت الخلاءمیں داخل ہوئے پھر ( قضائے حاجت سے فارغ ہو کر باہر ) نکلے،پھر ایک چلو پانی لیا اور ( اپنے ہاتھو ں کو ) دھویا ، پھر ( ہمارے پاس )آ ئے ، اور قرآن مجید کی کچھ تلاوت کی ، تو ہم نے اسے ناپسند کیا،توحضرت علی ؓ نے فرمایا : ’’ رسو ل اللہ ﷺ بیت الخلاء میں داخل ہو کر قضائے حاجت کیا کرتے تھے ،پھر باہر تشریف لاتے تو ہمارے سا تھی روٹی اور گوشت کھاتے اور قرآن مجید کی تلا وت کرتے اور جنابت کے سوا کوئی چیز بھی آپ کو قرآن کی تلا وت سے نہیں روکتی تھی ۔ ‘‘ امام ابو بکر ؒ نے یہ حدیث امام شعبہ سے بھی روایت کی ہے ۔ امام شعبہ فرماتے ہیں : یہ حدیث میرے اصل مال (یعنی علم ) کا تہائی حصہ ہے ۔ امام ابو بکر فرماتے ہیں : میں کتاب البیوع میں بیان کر چکا ہوں کہ مکروہ اور احرام کے درمیان فرق ہے۔ میں نے ان دونوں میں فرق کے لیے نبی اکرم ﷺ کے اس فرمان سے دلیل لی ہے ’’ان اللہ کرہ لکم ثلاثا و حرم علیکم ثلاثا ۔۔۔۔‘‘ اللہ تعالی نے تمہارے لیے تین چیزوں کو ناپسند کیا ہے اور تین چیزوں کو تم پر حرام قرار دیا ہے ۔ تمہارے لیے قیل و قال (بے مقصد گفتگو )، کثرت سوال اور مال ضائع کرنے کو مکروہ اور ناپسند کیا ہے ۔ ماؤں کی نافرمانی، بیٹیوں کو زندہ درگور کرنے اور بخل ولا لچ کو تم پر حرام قرار دیا ہے ۔آپ نے مہاجربن قنفذ کی حدیث میں اپنے اس فرمان سے مکروہ اور حرام میں فرق کیا ہے ۔ ’’کر ھت ان اذکر اللہ علی طھر‘‘میں نے بغیر طہارت کے اللہ تعالی کا ذکر کرنے کو ناپسند کیا ۔‘‘یہ ممکن ہے کہ آپ نے اسے اس لیے ناپسند کیاہو کہ طہارت کی حالت میں اللہ تعالی کا ذکر کرنا افضل ہے ۔اس لیے نہیں کہ بغیر طہارت ذکر کرنا حرام ہے ، کیو نکہ نبی اکر م ﷺ بغیر طہارت کے قرآن مجید پڑھا کرتے تھے اور قرآن مجید کی تلا وت افضل ترین ذکر ہے ، اور نبی اکرم ﷺ ہر حالت میں اللہ تعالی کا ذکر کیا کرتے تھے ، جیسا کہ ہمیں حضرت عائشہ ؓ کی حدیث بیان کی گئی ہے ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ بغیرو ضو کے آپ کا ذکر کو مکروہ سمجھنا اس لیے ہو کہ اس ذکر سے مراد وہ ذ کر ہو جو مسلمان پرنفل کی بجائے فرض ہوتا ہے ۔ اور جو ذکر الہی فرض ہو وہ بغیر طہارت کے ادا نہیں ہوتا ۔ بلکہ اسے طہارت حاصل کر کے ہی ادا کرنا چاہیے ۔ کیونکہ اکثر علمائےکرام کے نزدیک سلام کاجواب دینا فرض ہے ، اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے بغیر طہارت کے سلام کا جواب نہیں دیا تھا حتی کہ آ پ نے طہارت حاصل کر کے سلام کا جواب دیا۔ لیکن اگر کوئی شخص نفلی ذکر کر رہا ہو اور ناپاکی کی حالت میں اسے ترک کر دیتا ہے تو اس پر اس ذکر کا اعادہ کرنا ضروری نہیں ہے ۔ لہذا اس کے نفلی ذکر کرنا جائز ہے اگر چہ وہ پاک ( با وضو ) نہ ہو ۔‘‘
"حضرت لبابہ بنت حارث بیان کرتی ہیں کہ حضرت حسین ؓ نے نبی اکرم ﷺ کی گود میں پیشا کردیا تو میں نے کہا:اپنا کپڑا دیجیے (لائیے) میں اسے دھودوں ، تو آپ نے فرمایا:بچی کا پیشاب دھویا جاتا ہے اور بچے کے پیشاب پر پانی کے چھینٹے مارے جاتے ہیں۔"
Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity · Hadith 282
صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 580
أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر نا محمد بن معمر نا أبو عامر انا فليح بن سليمان عن سعيد بن الحارث قال : اشتكى أبو هريرة أو غاب فصلى بنا أبو سعيد الخدري فجهر بالتكبير حين افتتح وحين ركع وحين قال : سمع الله لمن حمده وحين رفع رأسه من السجود وحين سجد وحين رفع وحين قام من الركعتين حتى قضى صلاته على ذلك فقيل له : إن الناس قد اختلفوا في صلاتك فخرج فقام على المنبر فقال : أيها الناس إني والله ما أبالي اختلفت صلاتكم أو لم تختلف هكذا رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي
قال أبو بكر : قوله وحين قال : سمع الله لمن حمده إنما أراد حين قال : سمع الله لمن حمده فأراد الإهواء للسجود كبر لا أنه إذا رفع رأسه من الركوع كبر وكذلك أراد في خبر عمران بن حصين حين ذكر صلاته خلف علي بن أبي طالب فقال : وإذا نهض من الركوع كبر إنما نهض من الركوع فأراد الإهواء إلى السجود كبر
"جناب سعید بن الحارث بیان کرتے ہیں کہ ابو ہریرہ ؓ بیمار ہوگئے ، یا کسی سفر پر چلے گئے تو ہمیں حضرت ابوسعید خدریؓ سے نماز پڑھائی ، انہوں نے جب نماز شروع کی تو بلند آواز سے "اللہُ أَکْبَرُ" کہا۔ اور جب آپ رکوع کو گئے تو "اللہُ أَکْبَرُ"کہا، اور جب سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہا تو تکبیر کہی( یعنی سجدے کو جاتے وقت) سجدوں کو جاتے اور سجدے سے سر اٹھاتے وقت بھی اللہ اکبر کہا، اور جب ( دوسرے سجدے کے بعد سر ) اٹھایا تو "اللہُ أَکْبَرُ"کہا ، اور جب دو رکعت کے بعد ( تشہد بیٹھنے کے بعد) کھڑے ہوئے تو "اللہُ أَکْبَرُ" کہا، حتی کہ انہوں نے وہ نماز اسی طرح مکمل کی۔ ان سے عرض کی گئی: لوگ آپ کی نماز کے متعلق اختلاف کر رہے ہیں۔ وہ باہر تشریف لائے اور منبر پر کھڑے ہو کر فرمایا: اے لوگو! اللہ کی قسم! مجھے اس بات کی قطعاً پروا نہیں ہے کہ تمہاری نماز ( میری نماز سے) مختلف ہے یا مختلف نہیں ہے ۔ میں نے رسول اللہﷺ کو اسی طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے ۔ "امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : ان کا یہ کہنا کہ جب آپ سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہتے تو "اللہُ أَکْبَرُ"کہتے تھے تو ان کی مراد یہ ہے کہ جب وہ سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہتے اور سجدے کےلیے جھکنے کا ارادہ کرتے تو "اللہُ أَکْبَرُ"کہتے ۔ یہ مطلب نہیں ہے کہ جب آپ رکوع سے سر اٹھاتے تو"اللہُ أَکْبَرُ"کہتے تھے ( بلکہ اس وقت تو سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہُہی کہتے تھے )۔ اسی طرح حضرت عمران بن حصین کی روایت میں جب انہوں نے حضرت علی بن ابی طالب کے پیچھے اپنی نماز کا تذکرہ کیا تو فرمایا:"جب انہوں نے رکوع سے سر اٹھایا تو "اللہُ أَکْبَرُ"کہا : ان کی مراد یہ ہے کہ جب انہوں نے رکوع سے سر اٹھایا اور سجدے کے لیے جھکنے کا ارادہ فرمایا تو "اللہُ أَکْبَرُ"کہا۔"