Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الدعاء والذكر

Dua & Dhikr

12814 hadiths

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ قِرَاءَۃِ الْقرْآنِ · حديث 802

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى الْوَاسِطِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنِ الْبَهِيِّ (2) ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ اللَّهَ عَلَى أَحْيَانِهِ» (3) . [4: 1] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُ عَائِشَةَ: يَذْكُرُ اللَّهَ عَلَى أَحْيَانِهِ، أَرَادَتْ بِهِ الذِّكْرَ الَّذِي هُوَ غَيْرُ الْقُرْآنِ، إِذِ الْقُرْآنُ يَجُوزُ أَنْ يُسَمَّى الَّذِي ذَكَرَ، وَقَدْ كَانَ لَا يَقْرَؤُهُ وَهُوَ جُنُبٌ، وَكَانَ يَقْرَؤُهُ فِي سَائِرِ الْأَحْوَالِ

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں : نبی اکرمﷺ ہر وقت میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کر لیتے تھے۔ ( امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں : ) سیدہ عائشہ ؓ کا یہ کہنا : ’’ آپ ﷺ تمام اوقات میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے تھے ‘‘۔ اس سے ان کی مراد وہ ذکر ہے ‘ جو قرآن کے علاوہ ہو ‘ کیونکہ یہ ممکن ہے ‘ انہوں نے جو الفاظ استعمال کیے ہیں اس سے مراد قرآن ہو۔ حالانکہ نبی اکرمﷺ جنابت کی حالت میں اس کی تلاوت نہیں کرتے تھے ۔ آپ باقی حالتوں میں اس کی تلاوت کر لیتے تھے۔

الَّذِي هُوَ غَيْرُ الْقُرْآنِ، إِذِ الْقُرْآنُ يَجُوزُ أَنْ يُسَمَّى الَّذِي ← أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُ عَائِشَةَ: يَذْكُرُ اللَّهَ عَلَى أَحْيَانِهِ، أَرَادَتْ بِهِ ال ← «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يَذْكُرُ اللَّهَ عَلَى أَحْيَانِهِ» ← عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الْبَهِيِّ، ← خَالِدِ بْنِ سَلَمَةَ، ← أَبِي ← يَحْيَی بْنُ زَکَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى الْوَاسِطِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter Recitation of the Qur’an · Hadith 802

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْاَذْکَارِ · حديث 804

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحِيرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: أَخَذَ الْقَوْمُ فِي عَقَبَةٍ أَوْ ثَنِيَّةٍ، فَكُلَّمَا عَلَاهَا رَجُلٌ، قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَغْلَةٍ يَعْرِضُهَا فِي الْجَبَلِ (1) ، فَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّكُمْ لَا تَدْعُونَ أَصَمَّ وَلَا غَائِبًا» ، ثُمَّ، قَالَ: «يَا أَبَا مُوسَى، أَوْ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ، أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ؟» ، قَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» (2) . 2: 59 قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّكُمْ لَا تَدْعُونَ أَصَمَّ وَلَا غَائِبًا» ، لَفْظَةُ إِعْلَامٍ عَنْ هَذَا الشَّيْءِ، مُرَادُهَا الزَّجْرُ عَنْ رَفْعِ الصَّوْتِ بِالدُّعَاءِ

حضرت موسیٰ اشعریؓ بیان کرتے ہیں : لوگ یعنی ( صحابہ کرام) جب بھی کسی گھاٹی پر چڑھتے تھے ‘ تو جب آدمی اوپرپہنچ جاتا تھا ‘ تو لا الٰہ الا اللہ اور اللہ اکبر کہتا تھا نبی اکرمﷺ اس وقت اپنے خچر پر سوار تھے۔ جب آپ اس کےساتھ پہاڑ پر پہنچے ‘ تو آپ نے ارشاد فرمایا : اے لوگوں ! تم کسی بہرے یا غیر موجود ( معبو ) کو نہیں پکار رہے ‘ پھر نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : اے ابوموسیٰ ! ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں: ) اے عبد اللہ بن قیس ! کیا میں تمہاری رہنمائی جنت کے خزانے کی طرف نہ کروں ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ‘ یا رسول اللہ! نبی اکرمﷺ نے فرمایا : ( و ہ یہ کلمہ ہے ) لا حول ولا قوۃ الا باللہ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں:) نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان ’’ تم کسی بہرے یا غیر موجود کو نہیں پکار رہے ہو ‘‘ لفظی طور پر اس بات کی اطلاع ہے ‘ لیکن اس سے مراد دعا کرتے ہوئے آواز لند کرنے کی سے منع کرنا ہے۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ← سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، ← يَحْيَى الْقَطَّانِ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ ھَاشِمٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحِيرِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Remembrance section · Hadith 804

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْاَذْکَارِ · حديث 806

أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ النَّضْرِ الْقُرَشِيُّ بِالْبَصْرَةِ، وَابْنُ خُزَيْمَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ حُضَيْنِ بْنِ الْمُنْذِرِ، عَنْ مُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَبُولُ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ حَتَّى تَوَضَّأَ، ثُمَّ اعْتَذَرَ، فَقَالَ: «إِنِّي كَرِهْتُ أَنْ أَذْكُرَ اللَّهَ إِلَّا عَلَى طُهْرٍ، أَوْ، قَالَ: عَلَى طَهَارَةٍ» (2) . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فِي هَذَا الْخَبَرِ بَيَانٌ وَاضِحٌ أَنَّ كَرَاهِيَةَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذِكْرَ اللَّهِ إِلَّا عَلَى طَهَارَةٍ، كَانَ ذَلِكَ لِأَنَّ الذِّكْرَ عَلَى طَهَارَةٍ أَفْضَلُ، لَا أَنَّ ذِكْرَ الْمَرْءِ رَبَّهُ عَلَى غَيْرِ الطَّهَارَةِ غَيْرُ جَائِزٍ، لِأَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَذْكُرُ اللَّهَ عَلَى أَحْيَانِهِ

حضرت مہاجرین بن قنفذ ؓ بیان کرتے ہیں :وہ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ نبی اکرمﷺ اس وقت پیشاب کر رہے تھے انہوں نے سلام کیا ‘ تو نبی اکرمﷺ نے انہیں سلام کا جواب نہیں دیا۔ پہلے آپ نے وضو کیا پھر آپ نے عذر بیان کرتے ہوئے فرمایا : مجھے یہ بات اچھی نہیں لگی کہ میں بے وضو حالت میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کروں۔ (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) ( امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں :) اس روایت میں اس بات کا واضح بیان موجود ہے ۔ نبی اکرمﷺ کا بے وضو حالت میں اللہ تعالیٰ کے ذکر کو نا پسند کرنا اس وجہ سے تھا کہ با وضو حالت میں ذکر کرنا افضل ہے ۔ ایسا نہیں ہے ’ آدمی کا بے وضو حالت میں اپنے پروردگار کا ذکر کرنا جائز ہی نہیں ہے کیونکہ نبی اکرمﷺ ہر وقت اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا کرتے تھے۔

مُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ، ← حُضَيْنُ بْنُ الْمُنْذِرِ ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← خَالِدُ بْنُ النَّضْرِ الْقُرَشِيُّ بِالْبَصْرَةِ، وَابْنُ خُزَيْمَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Remembrance section · Hadith 806

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْاَذْکَارِ · حديث 809

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَبِيبَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «خَيْرُ الذِّكْرِ الْخَفِيُّ، وَخَيْرُ الرِّزْقِ، أَوِ الْعَيْشِ، مَا يَكْفِي» (1) . [1: 2] الشَّكُّ مِنِ ابْنِ وَهْبٍ

حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’ سب سے بہترین ذکر وہ ہے ‘ جو پست آ واز میں ہو ‘ سب سے بہترین رزق ( ضروریات زندگی راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : بہتر زندگی ) وہ ہے ‘ جو کہ کفایت کر جائے‘‘۔ یہاں روایت کے الفاظ میں شک ابن وہب نامی راوی کو ہے۔

النَّبِيِّ ← أَنَّ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ ← أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَبِيبَةَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ، ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Remembrance section · Hadith 809

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْمُسَافِرِ · حديث 2692

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ (1) ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، أَنَّ سَعِيدًا الْمَقْبُرِيَّ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَهُ (2) وَهُوَ يُرِيدُ سَفَرًا، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أُوصِيكَ بِتَقْوَى اللَّهِ، وَالتَّكْبِيرِ عَلَى كُلِّ شَرَفٍ» ، حَتَّى إِذَا أَدْبَرَ الرَّجُلُ قَالَ: «اللَّهُمَّ ازْوِ لَهُ الْأَرْضَ، وَهَوِّنْ عَلَيْهِ السَّفَرَ» (3) . [5: 12]

حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا وہ سفر پر جانا چاہتا تھا اس نے نبی اکرمﷺ کو سلام کیا نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرنے کی اور ہر بلندی پر چڑھتے ہوئے اللہ اکبر کہنے کی تلقین کرتا ہوں۔ راوی کہتے ہیں: جب وہ شخص چلا گیا تو نبی اکرمﷺ نے دعا کی : اے اللہ! اس کے لئے زمین کو لپیٹ دے اور اس کے لئے سفر کو آسان کر دے۔

اللَّهُمَّ ازْوِ لَهُ الأَرْضَ وَهَوِّنْ عَلَيْهِ السَّفَرَ. ← أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَهُ وَهُوَ يُرِيدُ سَفَرًا، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، ← أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، أَنَّ سَعِيدًا الْمَقْبُرِيَّ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The traveler's door · Hadith 2692

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْمُسَافِرِ · حديث 2702

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَطَّارُ بِالْبَصْرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْجَحْدَرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ يُرِيدُ سَفَرًا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَوْصِنِي، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أُوصِيكَ بِتَقْوَى اللَّهِ، وَالتَّكْبِيرِ عَلَى كُلِّ شَرَفٍ» ، فَلَمَّا وَلَّى الرَّجُلُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُمَّ ازْوِ لَهُ الْأَرْضَ، وَهَوِّنْ عَلَيْهِ السَّفَرَ» (1) . [1: 104]

حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں: ایک شخص سفر پر جانا چاہتا تھا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ ! مجھے نصیحت کیجئے نبی اکرمﷺ نے اس سے فرمایا: میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرنے اور ہر بلندی پرچڑھتے ہوئے اللہ اکبر کہنے کی تلقین کرتا ہوں جب وہ شخص چلا گیا تو نبی اکرمﷺ نے دعا کی : اے اللہ ! اس کے لئے زمین کو لپیٹ دے اور اس کے سفر کو آسان کر دے۔

جَاءَ رَجُلٌ يُرِيدُ سَفَرًا، فَقَالَ: ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← الْفُضَیْلُ بْنُ سُلَیْمَانَ ← الْفُضَيْلُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْجَحْدَرِيُّ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَطَّارُ بِالْبَصْرَةِ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The traveler's door · Hadith 2702

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْاَذْکَارِ · حديث 816

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو طَاهِرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ دَرَّاجٍ أَبِي السَّمْحِ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «يَقُولُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا: سَيَعْلَمُ أَهْلُ الْجَمْعِ الْيَوْمَ مَنْ أَهْلُ الْكَرَمِ» ، فَقِيلَ: مَنْ أَهْلُ الْكَرَمِ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: «أَهْلُ مَجَالِسِ الذِّكْرِ فِي الْمَسَاجِدِ» (1) . [1: 2]

حضرت ابو سعید خدری ؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : آج کے دن اہل دولت جان لیں گے کہ کون معزز ہیں ‘ تو دریافت کیا گیا کہ یا رسول اللہ! کون معزز ہیں، نبی اکرمﷺ نے فرمایا: مسجد میں منعقد کی جانے ولای محفل ذکر کے افراد ’’ معزز ‘‘ ہے۔

رَسُولِ اللَّهِ ← اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِي الْهَيْثَمِ، ← دَرَّاجٍ أَبِي السَّمْحِ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَبُو طَاهِرٍ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Remembrance section · Hadith 816

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْاَذْکَارِ · حديث 840

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ دَرَّاجٍ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «اسْتَكْثِرُوا مِنَ الْبَاقِيَاتِ الصَّالِحَاتِ» ، قِيلَ: وَمَا هُنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: «التَّكْبِيرُ، وَالتَّهْلِيلُ، وَالتَّسْبِيحُ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» (1) . [1: 2]

حضرت ابو سعید خدریؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ باقی رہنے والی نیکیوں کی کثرت کرو ‘ عرض کی گئی : یا رسول اللہ! اس سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : اس سے مراد سبحان اللہ ، الحمد اللہ ، اللہ اکبر اور ولا حول ولا قوۃ پڑھنا ہے ‘‘۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الْهَيْثَمِ، ← دَرَّاجٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ، ← ابْنُ سَلْمٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Remembrance section · Hadith 840

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْاَذْکَارِ · حديث 842

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ هَانِئَ بْنَ عُثْمَانَ، عَنْ أُمِّهِ حُمَيْضَةَ بِنْتِ يَاسِرٍ، عَنْ جَدَّتِهَا يَسِيرَةَ، وَكَانَتْ إِحْدَى الْمُهَاجِرَاتِ، قَالَتْ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَيْكُنَّ بِالتَّسْبِيحِ وَالتَّهْلِيلِ وَالتَّقْدِيسِ، وَاعْقِدْنَ (2) بِالْأَنَامِلِ، فَإِنَّهُنَّ مَسْؤُولَاتٌ وَمُسْتَنْطَقَاتٌ» (3) . [1: 2]

حجیضہ بنت یاسر اپنی دادی سیدہ یسیرہ کا بیان نقل کرتی ہیں : یہ ہجرت کرنے والی خواتین میں سے ایک ہے وہ بیان کرتی ہے نبی اکرمﷺ نے ہم سے فرمایا : خواتین تسبح تہلیل اور تقدیس پڑھا کرو اور اپنی انگلیوں کے پوروں پر انہیں شمار کیاکرو کہ ان سے سوال کیا جائے گا اور انہیں گویائی عطا کی جائے گی۔

لَنَا رَسُولُ اللَّهِ «عَلَيْكُنَّ بِالتَّسْبِيحِ وَالتَّهْلِيلِ وَالتَّقْدِيسِ، وَاعْقِدْنَ بِالْأَنَامِلِ، فَإِنَّهُنَّ مَسْؤُولَاتٌ وَمُسْتَنْطَقَاتٌ» ← جَدَّتِهَا يَسِيرَةَ، وَكَانَتْ إِحْدَى الْمُهَاجِرَاتِ، ← أُمِّهِ حُمَيْضَةَ بِنْتِ يَاسِرٍ، ← هَانِئَ بْنَ عُثْمَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Remembrance section · Hadith 842

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْاَذْکَارِ · حديث 843

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ (2) بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ بِتُسْتَرَ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ، حَدَّثَنَا عَثَّامُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْقِدُ التَّسْبِيحَ بِيَدِهِ» (3) . [1: 2]

’’ حضرت عبد اللہ بن عمروؓ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرمﷺ کو اپنے دست مبارک پر تسبیح شمار کرتے ہوئے دیکھا ہے‘‘۔ ذِکْرُ تَفَضُّلِ اللہِ جَلَّ وَعَلَا عَلٰی حَامِدِہٖ بِاِعْطَائہٖ مِلْءَ الْمِیْزَانِ ثَوَابًا فِی الْقِیَامَۃِ اللہ تعالیٰ کا اپنی حمد بیان کرنے والے شخص کو یہ فضیلت عطا کرنا کہ قیامت کے دن اسے میزان بھر کر اجر وثواب عطا کرے گا

«رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ يَعْقِدُ التَّسْبِيحَ بِيَدِهِ» ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِيهِ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← الْاَعْمَشِ ← عَثَّامُ بْنُ عَلِيٍّ، ← أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ بِتُسْتُرَ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Remembrance section · Hadith 843

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْاَذْکَارِ · حديث 846

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَنْصَارِيُّ، مِنْ وَلَدِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ بِالْبَصْرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ طَلْحَةَ بْنَ خِرَاشٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «أَفْضَلُ الذِّكْرِ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَفْضَلُ الدُّعَاءِ: الْحَمْدُ لِلَّهِ» (1) . [1: 2]

حضرت جابر بن عبد اللہؓ بیان کرتے ہیں‘ میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’ سب سے افضل ذکر لا الہ الا اللہ اور سب سے افضل دعا الحمد اللہ ‘‘ ہے۔

«أَفْضَلُ الذِّكْرِ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَفْضَلُ الدُّعَاءِ: الْحَمْدُ لِلَّهِ» ← النَّبِيِّ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← طَلْحَةَ بْنَ خِرَاشٍ، ← مُوسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَنْصَارِيُّ، ← يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَنْصَارِيُّ، مِنْ وَلَدِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ بِالْبَصْرَةِ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Remembrance section · Hadith 846

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْاَذْکَارِ · حديث 857

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ لِلَّهِ مَلَائِكَةً فُضُلًا عَنْ كُتَّابِ النَّاسِ، يَطُوفُونَ فِي الطُّرُقِ، يَلْتَمِسُونَ أَهْلَ الذِّكْرِ، فَإِذَا وَجَدُوا قَوْمًا يَذْكُرُونَ اللَّهَ تَنَادَوْا: هَلُمُّوا إِلَى حَاجَتِكُمْ، فَيَحُفُّونَ بِهِمْ بِأَجْنِحَتِهِمْ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَيَسْأَلُهُمْ رَبُّهُمْ وَهُوَ أَعْلَمُ مِنْهُمْ، فَيَقُولُ: مَا يَقُولُ عِبَادِي؟ فَيَقُولُونَ: يُكَبِّرُونَكَ وَيُمَجِّدُونَكَ وَيُسَبِّحُونَكَ وَيَحْمَدُونَكَ، فَيَقُولُ: هَلْ رَأَوْنِي؟ فَيَقُولُونَ: لَا، فَيَقُولُ: فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْنِي؟ فَيَقُولُونَ: لَوْ رَأَوْكَ لَكَانُوا لَكَ أَشَدَّ عِبَادَةً وَأَكْثَرَ تَسْبِيحًا وَتَحْمِيدًا وَتَمْجِيدًا، فَيَقُولُ: وَمَا يَسْأَلُونِي؟، قَالَ: فَيَقُولُونَ: يَسْأَلُونَكَ الْجَنَّةَ، فَيَقُولُ: فَهَلْ رَأَوْهَا؟ فَيَقُولُونَ: لَا وَاللَّهِ يَا رَبِّ، فَيَقُولُ: فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْهَا؟ فَيَقُولُونَ: لَوْ رَأَوْهَا كَانُوا عَلَيْهَا أَشَدَّ حِرْصًا وَأَشَدَّ طَلَبًا، وَأَعْظَمَ فِيهَا رَغْبَةً، فَيَقُولُ: وَمِمَّ يَتَعَوَّذُونَ؟ فَيَقُولُونَ: مِنَ النَّارِ، فَيَقُولُ: وَهَلْ رَأَوْهَا؟ فَيَقُولُونَ: لَا وَاللَّهِ يَا رَبِّ، فَيَقُولُ: فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْهَا؟ فَيَقُولُونَ: لَوْ رَأَوْهَا لَكَانُوا مِنْهَا أَشَدَّ فِرَارًا، وَأَشَدَّ هَرَبًا، وَأَشَدَّ خَوْفًا، فَيَقُولُ اللَّهُ لِمَلَائِكَتِهِ: أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ، قَالَ:، فَقَالَ مَلَكٌ مِنَ الْمَلَائِكَةِ: إِنَّ فِيهِمْ فُلَانًا لَيْسَ مِنْهُمْ إِنَّمَا جَاءَ لِحَاجَةٍ، قَالَ: فَهُمُ الْجُلَسَاءُ لَا يَشْقَى جَلِيسُهُمْ» (1) . [1: 2]

حضرت ابو ہریرہؓ ‘نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ایسے ہیں جو لوگوں کے اعمال نوٹ کرنے کے علاوہ ہیں۔ وہ راستوں میں گھومتے پھرتے رہتے ہیں۔ اہل ذکر کو تلاش کرتے ہیں۔ جب انہیں کچھ لوگ ملتے ہیں جو اللہ کا ذکر کر رہے ہوں‘ تو وہ ( ایک دوسرےکو ) بلاتے ہیں۔ اپنے مقصود کی طرف آجاؤ پھر وہ آسمان دنیا تک اپنے پروں سے انہیں ڈھانپ لیتے ہیں۔انکا پروردگار ان سے دریافت کرتاہے ‘حالانکہ وہ ان سےزیادہ بہتر جانتا ہے پروردگار فرماتا ہے ۔ میرے بندے کیا کہتے ہیں ۔فرشتے جواب دیتے ہیں : وہ تیری کبریائی تیری تکبیر تیری پاکی اور تیری حمد بیان کرتے ہیں : پروردگار دریافت کرتا ہے :کیا انہوں نے مجھے دیکھا ہے فرشتے جواب دیتے ہیں: جی نہیں پروردگار دریافت کرتا ہے : اگر وہ مجھے دیکھ لیت ‘ تو کیا ہوتا ؟ فرشتے جواب دیتے ہیں : اگر وہ تجھے دیکھ لیتے ‘ تو زیادہ شدت کے ساتھ تیری پاکی بیان کرتے۔ زیادہ حمد اور بزرگی بیان کرتےزیادہ حمد اور بزرگی بیان کرتے ، پروردگار دریافت کرتا ہے : وہ لوگ مجھ سے کیا مانگتے ہیں؟ فرشتے جواب دیتے ہیں: وہ تجھ سےجنت مانگتے ہیں ۔ پروردگار فرماتے ہیں کیا انہوں نے اسے دیکھا ہے؟ فرشتے جواب دیتے ہیں : جی نہیں اللہ کی قسم ! ( اے پروردگار انہوں نے اسے نہیں دیکھا) پروردگار فرماتا ہے : اگر وہ اسے دیکھ لیتے ‘ تو کیا ہوتا ؟ فرشتے جواب دیتے ہیں :اگر وہ ا سے دیکھ لیتے ‘ تو وہ اس کے حصول کی زیادہ خواہش کرتے اور زیادہ شدت کے ساتھ اس کی رغبت کرتے پروردگار فرماتا ہے : وہ لوگ کس چیز سےپناہ مانگتے ہیں؟ فرشتے جواب دیتے ہیں: وہ جہنم سے پناہ مانگتے ہیں ۔پروردگار دریافت کرتا ہے: کیا انہوں نے اسے دیکھا ہے؟ فرشتے جواب دیتے ہیں:جی نہیں ، اللہ کی قسم! اسے ہمارے پروردگار ( انہوں نے اسے نہیں دیکھا ) پروردگار فرماتا ہے : اگر وہ اسےدیکھ لیتے ‘ تو کیا ہوتا؟ فرشتےجواب دیتے ہیں: اگر وہ اسے دیکھ لیتے ‘ تو اس سے زیادہ دور بھاگتے ‘ شدت سے بھاگتے اور اس سے زیادہ خوف زدہ ہوتے ‘ تو پروردگار فرشتوں سے فرماتا ہے :میں تم لوگوں کو گواہ بنا کےکہتا ہوں میں نے ان لوگوں کی مغفرت کر دی ہے۔ نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں: ان فرشتوں میں سےایک فرشتہ عرض کرتا ہے‘ ان میں فلاں شخص تھا جو ان میں سے نہیں تھا وہ اپنے کام کے سلسلے میں وہاں آیا تھا پروردگار فرماتا ہے :وہ ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھے ہوئے ایسے لوگ ہیں جن کے ساتھ بیٹھنے والا بھی محروم نہیں ہوتا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Remembrance section · Hadith 857

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ الْجُمُعَۃِ · حديث 2775

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ بِمَنْبِجَ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ غُسْلَ الْجَنَابَةِ ثُمَّ رَاحَ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَدَنَةً، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الثَّانِيَةِ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَقَرَةً، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الثَّالِثَةِ، فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ كَبْشًا، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الرَّابِعَةِ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ دَجَاجَةً، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الْخَامِسَةِ، فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَيْضَةً، فَإِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ حَضَرَتِ الْمَلَائِكَةُ يَسْتَمِعُونَ الذِّكْرَ" 1. [2:1] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: فِي هَذَا الْخَبَرِ بَيَانٌ وَاضِحٌ بِأَنَّ اسْمَ الرَّوَاحِ يَقَعُ عَلَى جَمِيعِ سَاعَاتِ النَّهَارِ ضِدَّ قَوْلِ مَنْ زَعَمَ أَنَّ الرَّوَاحَ لَا يَكُونُ إِلَّا بعد الزوال.

حضرت ابو ہریرہؓ ‘نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ جو شخص جمعہ کے دن غسل جنابت کی طرح کا غسل کرے اور پھر روانہ ہو جائے ‘ تو گویا اس نے اونٹ کی قربانی کی جو شخص دوسری گھڑی میں ہو جائے اس نے مرغی کی قربانی کی جو شخص پانچویں گھڑی میں جاتا ہے گویا اس نے انڈہ صدقہ کیا جب امام آ جائے ‘ تو فرشتے مسجدمیں آ کر (( ذکر یعنی خطبے کو ) سنتے ہیں‘‘۔ ( امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں : ) اس روایت میں اس بات کا واضح بیان موجود ہے کہ لفظ ’’ رواح ‘‘ ( جانے ) کا اطلاق دن کی تمام گھڑیوں پر ہوتا ہے ‘ یہ بات اس شخص کے موقف کے خلاف ہے جو اس بات کا قائل ہے کہ لفظ ’’ رواح ‘‘ کا اطلاع صرف زوال کے بعد جانے پر ہوتا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← سُمَيٍّ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ بِمَنْبِجَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The door of Friday prayer · Hadith 2775

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ اِلاسْتِسْقَاءِ · حديث 2863

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنَ الدُّعَاءِ إِلَّا فِي الِاسْتِسْقَاءِ فَإِنَّهُ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يرى بياض إبطيه1. [4:5]

حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ دعا مانگتے ہوئے دونوں ہاتھ بلند نہیں کرتے تھے‘ البتہ بارش کی دعا مانگتے ہوئے آپﷺ نےایسا کیا ہے آپﷺ نے دونوں ہاتھ اتنے بلند کیے یہاں تک کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگی تھی۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The door of the prayers of rain · Hadith 2863

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ اللَّعْنِ · حديث 5743

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ، أَنَّ جَارِيَةً، بَيْنَا هِيَ عَلَى بَعِيرٍ أَوْ رَاحِلَةٍ عَلَيْهَا مَتَاعُ الْقَوْمِ بَيْنَ جَبَلَيْنِ، فَتَضَايَقَ بِهَا الْجَبَلُ، وأَتَى عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أَبْصَرَتْهُ جَعَلَتْ تَقُولُ: حَلْ، اللَّهُمَّ الْعَنْهُ، اللَّهُمَّ الْعَنْهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَصْحَبْنَا رَاحِلَةٌ عَلَيْهَا لَعْنَةٌ مِنَ اللَّهِ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «أَمْرُ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَسْيِيبِ الرَّاحِلَةِ الَّتِي لُعِنَتْ أَمْرٌ أُضْمِرَ فِيهِ سَبَبُهُ، وَهُوَ حَقِيقَةُ اسْتِجَابَةِ الدُّعَاءِ لِلَّاعِنِ، فَمَتَى عُلِمَ اسْتِجَابَةُ الدُّعَاءِ مِنْ لَاعِنٍ مَا رَاحِلَةً لَهُ، أَمَرْنَاهُ [ص:54] بِتَسْيِيبِهَا، وَلَا سَبِيلَ إِلَى عِلْمِ هَذَا لِانْقِطَاعِ الْوَحْيِ، فَلَا يَجُوزُ اسْتِعْمَالُ هَذَا الْفِعْلِ لِأَحَدٍ أَبَدًا»

حضرت ابو برزہ ؓ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ایک کنیز ایک اونٹ پر سوار تھی جس پر لوگوں کا سامان رکھا ہوا تھا وہ دو پہاڑوں کے درمیان میں سے گزر رہی تھی پہاڑ کا راستہ تنگ تھا نبی اکرمﷺ اس پہاڑ پر تشریف لائے جب اس لڑکی نے نبی اکرمﷺ کو دیکھا ‘ تو یہ کہنے لگی اٹھواے اللہ اس پر لعنت کر ‘ اے اللہ ! اس پر لعنت کر ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ہمارے ساتھ کوئی ایسی سواری نہیں رہے گی ‘ جس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے لعنت ہوئی ہو۔ ( امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں : ) نبی اکرمﷺ کا اس سواری کو چھوڑ دینے کا حکم دینا جس پر لعنت کی گئی تھی اس میں یہ حکم پوشیدہ ہے ‘ جو اس کا سبب ہے اور وہ یہ کہ لعنت کرنے والے کی دعا مستجاب نہ ہو جائے‘ تو جب لعنت کرنے والے کی دعا کے مستجاب ہونے کے بارے میں علم ہو جائے ‘ تو پھر ہم اسے یہ حکم دیں گے کہ وہ اس سواری کو چھوڑ دے لیکن وحی کے منقطع ہونےکی وجہ سے اس کا علم حاصل کرنے کا امکان نہیں رہا اس لئے اب کسی لئے اس فعل پر عمل کرنا جائز نہیں ہے۔

أَبِي عُثْمَانَ ← سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Cursing section · Hadith 5743

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ فَرْضِ مُتَابَعَۃِ الْاِمَامِ · حديث 2232

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو مَعْبَدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كُنْتُ أَعْرِفُ انْقِضَاءَ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، بالتكبير2.

حضرت عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں: مجھے تکبیر ( کی آواز ) کے ذریعے نبی اکرمﷺ کی نماز ختم ہونے کا پتہ چل جاتا تھا۔

كُنْتُ أَعْرِفُ انْقِضَاءَ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ بالتكبير2. ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبُو مَعْبَدٍ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter: Assuming following the Imam · Hadith 2232

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ مَا یُکْرَہُ لِلْمُصَلِّیْ، وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 2262

أَخْبَرَنَا الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةِ قَالَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ قَالَ حَدَّثَنَا عَوْفٌ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ "التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ والتصفيق للنساء" 2 [1: 92]

حضرت ابوہریرہؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ ( امام کو متوجہ کرنے کے لئے ) سبحان اللہ کہنے کا حکم مردوں کےلئے ہے اور تالی بجانے کا حکم خواتین کے لئے ہے۔‘‘

"التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ والتصفيق للنساء" ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ابْنِ سِيرِينَ، ← عَوْفٌ، ← مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ← اَیُّوْبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزّانُ ← الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored · Hadith 2262

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ مَا یُکْرَہُ لِلْمُصَلِّیْ، وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 2263

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "التسبيح للرجال والتصفيق للنساء" 1 [4: 10]

حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’ ( نماز کے دوران امام کو متوجہ کرنے کے لئے ) سبحان اللہ کہنے کا حکم مردوں کےلئے ہے اور تالی بجانے کا حکم خواتین کے لئے ہے۔‘‘

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored · Hadith 2263

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6208

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، بِعَسْقَلَانَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهِبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «نَحْنُ أَحَقُّ بِالشَّكِّ مِنْ إِبْرَاهِيمَ، إِذْ قَالَ: {رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَى قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلَى وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي} [البقرة: 260]، وَيَرْحَمُ اللَّهُ لُوطًا لَقَدْ كَانَ [ص:89] يَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ، وَلَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ مَا لَبِثَ يُوسُفُ لَأَجَبْتُ الدَّاعِيَ». قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: » نَحْنُ أَحَقُّ بِالشَّكِّ مِنْ إِبْرَاهِيمَ «لَمْ [ص:90] يُرِدْ بِهِ إِحْيَاءَ الْمَوْتَى، إِنَّمَا أَرَادَ بِهِ فِي اسْتِجَابَةِ الدُّعَاءِ لَهُ، وَذَلِكَ أَنَّ إِبْرَاهِيمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: {رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَى} [البقرة: 260] وَلَمْ يَتَيَقَّنْ أَنَّهُ يُسْتَجَابُ لَهُ فِيهِ، يُرِيدُ: فِي دُعَائِهِ وَسُؤَالِهِ رَبَّهُ عَمَّا سَأَلَ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: » نَحْنُ أَحَقُّ بِالشَّكِّ مِنْ إِبْرَاهِيمَ «بِهِ فِي الدُّعَاءِ لَأَنَّا إِذَا دَعَوْنَا رُبَّمَا يُسْتَجَابُ لَنَا، وَرُبَّمَا لَا يُسْتَجَابُ، وَمَحْصُولُ هَذَا الْكَلَامِ أَنَّهُ لَفْظَةُ إِخْبَارٍ مُرَادُهَا التَّعْلِيمُ لِلْمُخَاطَبِ لَهُ»

حضرت ابو ہریرہ ؓ ،نبی اکرمﷺ کایہ فرمان نقل کرتےہیں : "ہم حضرت ابراہیم کے مقابلے میں شک کرنے کے زیادکہ حق دار ہیں جب انہوں نےیہ کہا۔ "اے میرے پروردگار ،تو مجھے دکھا کہ، تو مردوں کو کیسے زندہ کرے گا۔ پروردگار نےدریافت کیا:کیا تم ایمان نہیں رکھتےہو۔ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ،لیکن (میں یہ چاہتا ہوں ) تاکہ میرا دل مطمئن ہو جائے ۔" (نبی اکرمﷺ فرماتےہیں ) اللہ تعالیٰ حضرت لوطؑ پر رحم کرے وہ ایک مظبوط پناہ گاہ کی پناہ میں جانا چاہتےتھے اورجتناعرصہ حضرت یوسف ؑ قید خانے میں رہے اگرمیں اتنا عرصہ رہا ہوتا، تو بلانے والے کے ساتھ چلا جاتا۔ (امام ابن حبان ؒفرماتےہیں :) نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان : "ہم ابرہیم ؑ کے مقابلے میں شک کرنے کے زیادہ حق دار ہیں " اس کے ذریعے یہ مراد نہیں ہے کہ مردوں کو زندہ کرنے کے بارے میں شک تھا بلکہ مراد ان کی دعا مستحاب ہونا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت ابرہیم ؑ نے یہ کہا تھا۔ "اے میرے پروردگار ،تو مجھے دکھا کہ ،تو مردوں کو کیسے زندہ کرے گا۔" انہیں اس بات کا یقین نہیں تھا کہ اس بارے میں ان کی دعا مستحب ہوگی ۔ تو نبی اکرمﷺ کی مراد یہ ہے کہ ان کا اپنے پروردگار سے دعا کرنا او ر وہ مطالبہ کرنا جو انہوں نے کیا نبی اکرمﷺ فرماتےہیں :ہم اس دعا کے بارے میں شک کرنے کے حضرت ابراہم ؑ سے زیادہ حق دار ہیں کیونکہ جب ہم دعا کرتےہیں ،تو بعض اوقات ہماری دعا مستحاب ہوجاتی ہے اور بعض اوقات مستحاب نہیں ہوتی بہر حال اس کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ یہاں لفظی طور پر اطلاع دی گئی ہے ،لیکن اس کے ذریعے مراد یہ ہے کہ مخاطب کو اس بارے میں تعلیم دی جائے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ بِعَسْقَلَانَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › The door to start creation · Hadith 6208

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مِن صِفَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ، وَاَخبَارِہِ · حديث 6330

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ، قَالَ: حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ عَلْقَمَةَ، قَالَ: قَدِمْتُ الشَّامَ فَأُخْبِرَ أَبُو الدَّرْدَاءِ، فَأَتَانَا، فَقَالَ: «أَيُّكُمْ يَقْرَأُ عَلَيَّ قِرَاءَةَ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ؟ »، قَالَ: قُلْنَا: كُلُّنَا نَقْرَأُ، قَالَ: «أَيُّكُمْ أَقْرَأُ؟ »، قَالَ: فَأَشَارَ أَصْحَابِي إِلَيَّ، قَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: «أَحَفِظْتَ؟ »، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «كَيْفَ كَانَ يَقْرَأُ: {وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى} [الليل: 1]؟ »، قُلْتُ: وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى، فَقَالَ: «أَنْتَ حَفِظْتُهَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ؟ »، قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «وَأَنَا وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ هَكَذَا سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهَؤُلَاءِ يُرِيدُونَ وَاللَّهِ لَا أُتَابِعُهُمْ أَبَدًا»

علقمہ بیان کرتےہیں:میں شام آیا حضرت ابو درداء ؓ کو اس کی اطلاع ملی،تو وہ ہمارے پاس تشریف لے آئے، تو انہوں نے دریافت کیا :تم میں سے کون شخص میرے سامنے"ابن عبد" کے طریقے کے مطابق تلاوت کرسکتا ہے۔راوی کہتےہیں: ہم نے جواب دیا: ہم سب کر سکتےہیں۔انہوں نے دریافت کیا تم میں قرأت کا سب سے زیادہ علم کس کو ہے؟ راوی کہتےہیں: میرے ساتھیوں نے میری طرف اشارہ کیا۔ حضرت ابو درداءنے دریافے کیا تمہیں ،یاد ہے میں نے جواب دیا:جی ہاں انہوں نے دریافت کیا حضرت عبداللہ سورۃ الیل کیسے پڑھتےتھے ۔ میں نے کہا :یوں پڑھتے تھے: وَاللَّیْلِ اِذَا یَغْشٰی وَالنَّھَارِ اِذَا تَجَلّٰی وَالذَّکَرِ وَالْاُنْثٰی انہوں نے فرمایا:کیا تمہیں یہ الفاظ حضرت عبداللہ کی زبانی یاد ہیں ۔ میں نے جواب دیا:جی ہاں انہوں نے فرمایا:اس ذات کی قسم ! جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے۔ میں نے بھی یہ الفاظ اسی طرح نبی اکرمﷺ کی زبانی سیکھے ہیں ،لیکن یہ لوگ چاہتےہیں کہ میں(دوسرے الفاظ کے ذریعے تلاوت کروں) اللہ کی قسم! میں،تو ان کی بات کبھی نہیں مانوں گا۔

إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبِيهِ ← مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Characteristics of the Prophet, peace and blessings of God be upon him, and the news · Hadith 6330

chevron_left Previous
1…192021…641
Next chevron_right