Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الدعاء والذكر

Dua & Dhikr

12814 hadiths

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1778

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَبَّرَ فِي الصَّلَاةِ سَكَتَ هُنَيْهَةً قَبْلَ أَنْ يَقْرَأَ»، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، أَرَأَيْتَ سُكُوتَكَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ، مَا تَقُولُ؟ قَالَ: «اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ، اللَّهُمَّ اغْسِلْنِي مِنْ خَطَايَايَ بِالثَّلْجِ وَالْمَاءِ وَالْبَرَدِ». [5: 4]

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں تکبیر کہتے تھے، تو آپ قرات سے پہلے کچھ دیر خاموش رہتے تھے۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ آپ قرات اور تکبیر کے درمیان کیا پڑھتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (یہ پڑھتا ہوں) "اے اللہ ! میرے اور میری خطاؤں کے درمیان فاصلہ کردے جتنا تو نے مشرق اور مغرب کے درمیان فاصلہ رکھا ہے۔ اے اللہ! مجھے خطاؤں سے اس طرح صاف کردے جس طرح سفید کپڑے سے میل کو صاف کیا جاتا ہے اے اللہ! میری خطاؤں کو برف پانی اور اولوں کے ذریعے دھو دے"۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the description of prayer · Hadith 1778

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1789

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُجْزِئُ صَلَاةٌ لَا يُقْرَأُ فِيهَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ» قُلْتُ: وَإِنْ كُنْتُ خَلْفَ الْإِمَامِ؟ قَالَ: فَأَخَذَ بِيَدِي، وَقَالَ: «اقْرَأْ فِي نَفْسِكَ». [21: 1] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: لَمْ يَقُلْ فِي خَبَرِ الْعَلَاءِ هَذَا: «لَا تُجْزِئُ صَلَاةٌ» إِلَّا شُعْبَةُ، وَلَا عَنْهُ إِلَّا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ وَقَالَ: «هَذِهِ الْأَخْبَارُ مِمَّا ذَكَرْنَا فِي كِتَابِ شَرَائِطِ الْأَخْبَارِ أَنَّ خِطَابَ الْكِتَابِ قَدْ يَسْتَقِلَّ بِنَفْسِهِ فِي حَالَةٍ دُونَ حَالَةٍ حَتَّى يُسْتَعْمَلَ عَلَى عُمُومِ مَا وَرَدَ الْخَطَّابُ فِيهِ، وَقَدْ لَا يَسْتَقِلَّ فِي بَعْضِ الْأَحْوَالِ حَتَّى يُسْتَعْمَلَ عَلَى كَيْفِيَّةِ اللَّفْظِ الْمُجْمَلِ الَّذِي هُوَ مُطْلَقُ الْخِطَابِ فِي الْكِتَابِ، دُونَ أَنْ تُبَيِّنَهَا السُّنَنُ، وَسُنَنُ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّهَا مُسْتَقِلَّةٌ بِأَنْفُسِهَا، لَا حَاجَةَ بِهَا إِلَى الْكِتَابِ، الْمُبَيِّنَةُ لِمُجْمَلِ الْكِتَابِ، وَالْمُفُسِّرَةُ لِمُبْهَمِهِ، قَالَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا: {وَأَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ} [النحل: 44] فَأَخْبَرَ جَلَّ وَعَلَا أَنَّ الْمُفَسِّرَ لِقَوْلِهِ: {أَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ} [البقرة: 43]، وَمَا أَشَبْهَهَا مِنْ مُجْمَلِ الْأَلْفَاظِ فِي الْكِتَابِ رَسُولُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمُحَالٌ، أَنْ يَكُونَ الشَّيْءُ الْمُفَسَّرُ لَهُ الْحَاجَةُ إِلَى الشَّيْءِ الْمُجْمَلِ، وَإِنَّمَا الْحَاجَةُ تَكُونُ لِلْمُجْمَلِ إِلَى الْمُفَسَّرِ، ضِدَّ قَوْلِ مَنْ زَعَمَ أَنَّ السُّنَنَ يَجِبُ عَرْضُهَا عَلَى الْكِتَابِ، فَأَتَى بِمَا لَا يُوَافِقُهُ الْخَبَرُ، وَيَدْفَعُ صِحَّتَهُ النَّظَرُ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: " وہ نماز جائز نہیں ہوتی جس میں سورۃ فاتحہ کی تلاوت نہ کی جائے"۔ (راوی بیان کرتے ہیں۔ میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے کہا اگر میں امام کے پیچھے ہوں؟ انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور بولے: تم اپنے دل میں (سورۃ فاتحہ) پڑھ لو۔ (امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) علاء کی نقل کردہ اس روایت میں "نماز درست نہیں ہوتی" کے الفاظ صرف شعبہ نے نقل کیے ہیں، اور ان سے صرف وہب بن جریر اور محمد بن کثیر نے نقل کیے ہیں۔ امام ابن حبان فرماتے ہیں: یہ اس نوعیت کی روایات ہیں۔ جن کے بارے میں ہم نے کتاب "شرائط الاخبار" میں یہ بات ذکر کی ہے، کتاب اللہ کا حکم بعض اوقات ایک حالت میں مستقل ہوتا ہے جبکہ دوسری حالت میں مستقل نہیں ہوتا، یہاں تک کہ اس کو اس کے عموم پر استعمال کیا جاتا ہے جس بارے میں حکم آیا ہے۔ اور بعض حالتوں میں یہ مستقل نہیں بھی ہوتا، یہاں تک کہ اسے مجمل لفظ پر محمول کیا جاتا ہے، جو کتاب میں مطلق خطاب ہوتا ہے، علاوہ ازیں کہ سنت اس کی وضاحت کردے، تاہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتیں اپنے وجود کے اعتبار سے مستقل ہیں، اس (کی وضاحت کے لیے) کتاب اللہ کی ضرورت نہیں ہے، سنتیں ، کتاب اللہ کے مجمل حکم بیان کرتی ہیں اور اس کے مبہم حکم کی وضاحت کرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: "اور ہم نے تمہاری طرف ذکر نازل کیا ہے، تاکہ تم لوگوں کے لیے اس بات کی وضاحت کرو جوان کی طر ف نازل کیا گیا ہے۔" تو یہاں اللہ تعالیٰ نے اس بات کی اطلاع دی ہے کہ اس کے اس فرمان "تم نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو، اور کتاب اللہ میں موجود اس جیسے مجمل الفاظ والے احکام کی وضاحت اللہ کے رسول نے کرنی ہے، تو یہ بات نا ممکن ہے کہ ایک چیز تفسیر بیان کرنے والی ہو اور اسے کسی مجمل چیز کی ضرورت ہو، کیونکہ ضرورت تو مجمل چیز کو وضاحت کرنے والی چیز کی ہوتی ہے، یہ بات اس شخص کے موقف کے خلاف ہے جو اس بات کا قائل ہے کہ یہ بات لازم ہے، سنت کو کتاب اللہ پر پیش کیا جائے، تو اس شخص نے (اپنے اصول کی بنیاد پر) وہ چیز پیش کی، خبر جس کے موافقت نہیں کرتی، اور غوروفکر اس کے صحیح ہونے کو پرے کرتا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← شُعْبَةُ، ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the description of prayer · Hadith 1789

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1797

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ قَالَ: أَخْبَرَنِي خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ عَنْ نُعَيْمِ الْمُجْمِرِ قَالَ: صَلَّيْتُ وَرَاءَ أَبِي هُرَيْرَةَ فَقَالَ: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ثُمَّ قَرَأَ بِأُمِّ الْكِتَابِ حَتَّى إِذَا بَلَغَ {غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلاَ الضَّالِّينَ} قَالَ: آمِينَ وَقَالَ النَّاسُ: آمِينَ فَلَمَّا رَكَعَ قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ثُمَّ قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ ثُمَّ سَجَدَ فَلَمَّا رَفَعَ قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ فَلَمَّا سَجَدَ قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ فَلَمَّا رَفَعَ قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ ثُمَّ اسْتَقْبَلَ قَائِمًا مَعَ التَّكْبِيرِ فَلَمَّا قَامَ مِنَ الثِّنْتَيْنِ قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لَأَشْبَهُكُمْ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الله عليه وسلم2. [5: 4]

نعیم مجمر بیان کرتے ہیں میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی تو انہوں نے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھی پھر سورۃ فاتحہ کی تلاوت کی یہاں تک کہ جب انہوں نے غیر المغصوب علیھم ولا الضالین پڑھ لیا تو آمین کہا لوگوں نے بھی آمین کہا جب وہ رکوع میں گئے۔ تو انہوں نے اللہ اکبر کہا۔ جب انہوں نےاپنا سر اٹھالیا تو سمع اللہ لمن حمدہ کہا پھر انہوں نے اللہ اکبر کہا۔ پھر جب وہ سجدے میں گئے ، تو انہوں نے اللہ اکبر کہا اور پھر سر اٹھایا تو اللہ اکبر کہا۔ پھر وہ تکبیر کہتے ہوئے سیدھے کھڑے ہوگئے۔ جب وہ دو رکعت ادا کرنے کے بعد کھڑے ہوئے، تو انہوں نے اللہ اکبر کہا۔ پھر انہوں نے سلام پھیرا تو یہ کہا: اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے میں تم میں سے، سب کے مقابلے میں زیادہ بہت طور پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے مشابہت رکھتا ہوں۔

نُعَيْمٍ الْمُجْمِرِ ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ← خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ ← حَيْوَةُ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the description of prayer · Hadith 1797

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ · حديث 3076

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ بْنِ مَعْدَانَ بِحَرَّانَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ هِشَامٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سلمة عن بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ، اَنَّ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: اِذَا صَلَّیْتُمْ عَلَی الْمَیِّبِ فَاَخْلِصُوا لَہُ الدُّعَاءَ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ، نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " جب تم میت کی نماز جنازہ ادا کرو، تو صر ف اسی کے لیے دعا مانگو۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ ← بن إِسْحَاقَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← عَمْرُو بْنُ هِشَامٍ ← أَحْمَدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ بْنِ مَعْدَانَ بِحَرَّانَ

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter in prayer over funeral · Hadith 3076

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ · حديث 3077

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ الْأَعْرَجُ قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: حدثنا أبي عن بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَسَلْمَانَ الْأَغَرِ مَوْلَى جُهَيْنَةَ كُلُّهُمْ حَدِّثُونِي عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "إِذَا صَلَّيْتُمْ عَلَى الجنازة فأخلصوا لها الدعاء" 1. [105:1]

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: "جب تم نماز جنازہ ادا کرو، تو صرف میت کے لیے دعا مانگو۔"

"إِذَا صَلَّيْتُمْ عَلَى الْجَنَازَةِ فَأَخْلِصُوا لَهَا الدُّعَاءَ" ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَسَلْمَانَ الْأَغَرِ مَوْلَى جُهَيْنَةَ كُلُّهُمْ حَدِّثُونِي ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← بن إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ الْأَعْرَجُ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter in prayer over funeral · Hadith 3077

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1866

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، مَوْلَى ثَقِيفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ السَّكُونِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِيُ، قَالَ: حَدَّثَنَا [ص:181] أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْحُرِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، أَحَدُ بَنِي مَالِكٍ، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، أَنَّهُ كَانَ فِي مَجْلِسٍ كَانَ فِيهِ أَبُوهُ - وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَفِي الْمَجْلِسِ أَبُو هُرَيْرَةَ، وَأَبُو أُسَيْدٍ، وَأَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ، مِنَ الْأَنْصَارِ، وَأَنَّهُمْ تَذَاكَرُوا الصَّلَاةَ، فَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ: أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: فَأَرِنَا، قَالَ: فَقَامَ يُصَلِّي وَهُمْ يَنْظُرُونَ «فَبَدَأَ يُكَبِّرُ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ حِذَاءَ الْمَنْكِبَيْنِ، ثُمَّ كَبَّرَ لِلرُّكُوعِ، فَرَفَعَ يَدَيْهِ أَيْضًا، ثُمَّ أَمْكَنَ يَدَيْهِ مِنْ رُكْبَتَيْهِ غَيْرَ مُقَنِّعٍ وَلَا مُصَوِّبٍ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَقَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، فَسَجَدَ، فَانْتَصَبَ عَلَى كَفَّيْهِ وَرُكْبَتَيْهِ وَصُدُورِ قَدَمَيْهِ وَهُوَ سَاجِدٌ، ثُمَّ كَبَّرَ، فَجَلَسَ، وَتَوَرَّكَ إِحْدَى رِجْلَيْهِ، وَنَصَبَ قَدَمَهُ الْأُخْرَى، ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ الْأُخْرَى، فَكَبَّرَ، فَقَامَ وَلَمْ يَتَوَرَّكْ، ثُمَّ عَادَ فَرَكَعَ الرَّكْعَةَ الْأُخْرَى، وَكَبَّرَ كَذَلِكَ، ثُمَّ جَلَسَ بَعْدَ الرَّكْعَتَيْنِ حَتَّى إِذَا هُوَ أَرَادَ أَنْ يَنْهَضَ لِلْقِيَامِ، كَبَّرَ، ثُمَّ رَكَعَ الرَّكْعَتَيْنِ الْأَخِيرَتَيْنِ، فَلَمَّا سَلَّمَ، سَلَّمَ عَنْ يَمِينِهِ: سَلَامٌ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ، وَسَلَّمَ عَنْ شِمَالِهِ: سَلَامٌ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ» [ص:182] قَالَ الْحَسَنُ بْنُ الْحُرِّ: وَحَدَّثَنِي عِيسَى أَنَّ مِمَّا حَدَّثَهُ أَيْضًا فِي الْمَجْلِسِ فِي التَّشَهُّدِ: «أَنْ يَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى، وَيَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى، ثُمَّ يُشِيرُ فِي الدُّعَاءِ بِإِصْبَعٍ وَاحِدَةٍ». [5: 4] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، وَسَمِعَهُ مِنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، فَالطَّرِيقَانِ جَمِيعًا مَحْفُوظَانِ»

حضرت عباس بن سہل رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں۔ وہ ایک محفل میں موجود تھے وہاں ان کے والد بھی موجود تھے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں اس محفل میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت ابو اسید رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ موجود تھے جن کا تعلق انصار سے تھا۔ ان حضرات نے نماز کا تذکرہ کیا، تو حضرت ابو حمید رضی اللہ تعالیٰ عنہ بولے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں آپ سب سے زیادہ علم رکھتا ہوں۔ لوگوں نے کہا: پھر آپ ہمیں دکھائیے۔ راوی کہتے ہیں پھر وہ نماز ادا کرنے کیلئے کھڑے ہوئے۔ دیگر حضرات دیکھ رہے تھے انہوں نے شروع میں تکبیر کہی۔ دونوں ہاتھ کندھوں تک بلند کیے پھر انہوں نے رکوع میں جانے کیلئے تکبیر کہی۔ پھر انہوں نے رفع یدین کیا۔ پھر انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ گھٹنوں پر رکھ لیے۔ اپنے سر کو بالکل جھکایا بھی نہیں اور اوپر بھی نہیں کیا پھر انہوں نے سر اٹھایا اور سمع اللہ لمن حمدہ پڑھا۔ پھر انہوں نے رفع یدین کیا۔ اللہ اکبر کہتے ہوئے سجدے میں چلے گئے۔ انہوں نے اپنی دونوں ہتھیلیاں دونوں گھٹنے اپنے دونوں پاؤں کے کنارے زمین پر رکھے وہ سجدے کی حالت میں تھے۔ پھر انہوں نے تکبیر کہی اور بیٹھ گئے۔ انہوں نے اپنی ایک ٹانگ کو تو رک کے طور پر بچھا لیا اور دوسرے پاؤں کو کھڑا کر لیا۔ پھر انہوں نے تکبیر کہتے ہوئے دوسر ا سجدہ کیا تکبیر کہی اور کھڑے ہوگئے لیکن انہوں نے تو رک نہیں کیا۔ پھر انہوں نے ایسا ہی کیا اور دوسری رکعت ادا کی۔ پھر انہوں نے آخری دو رکعات بھی اسی طرح ادا کی، پھر جب انہوں نے سلام پھیرا تو پہلے دائیں طرف سلام پھیرتے ہوئے السلام علیکم ورحمتہ اللہ اور بائیں طرف سلام پھیرتے ہوئے السلام علیکم ورحمتہ اللہ کہا۔ حسن بن حرنامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے۔ عیسیٰ نامی راوی نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے، اس حدیث میں تشہد کے بارے میں یہ الفاظ بھی ہیں: انہوں نے اپنا بایاں ہاتھ اپنے بائیں زانوں پر رکھا اور دایاں ہاتھ دائیں زانوں پر رکھا اور پھر انہوں نے ایک انگلی کے ذریعے اشارہ کیا۔ امام ابو حاتم رحمتہ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں: محمد بن عمرو نے یہ روایت حضرت ابو حمیدساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنی ہے۔ا نہوں نے یہ روایت عباس بن سہل کے حوالے سے ان کے والد سے بھی سنی ہے۔ ان کے دونوں طرق محفوظ ہیں۔

عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ أَحَدِ بَنِي مَالِكٍ ← عِيسَى بن عبد الله بن مَالك ← الْحَسَنِ بْنِ الْحُرِّ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبِي ← الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ السَّكُونِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the description of prayer · Hadith 1866

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ أَحْكَامِ الْجُنُبِ · حديث 1213

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ: ذَكَرَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ تُصِيبُهُ الْجَنَابَةُ مِنَ اللَّيْلِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَوَضَّأْ وَاغْسِلْ ذَكَرَكَ، ثُمَّ نَمْ». [1: 49] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَوَضَّأْ، وَاغْسِلْ ذَكَرَكَ» أَمْرَ نَدْبٍ، وَقَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ثُمَّ نَمْ»، أَمَرُ إِبَاحَةٍ، وَلَيْسَ فِي قَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَاغْسِلْ ذَكَرَكَ» دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ الْمَنِيَّ نَجِسٌ، لِأَنَّ الْأَمْرَ بِغَسْلِ الذِّكْرِ إِنَّمَا أَمْرٌ لِأَنَّ الْمَرْءَ قَلَّمَا يَطَأُ إِلَّا وَيُلَاقِي ذَكَرُهُ شَيْئًا نَجِسًا، فَإِنْ تَعَرَّى عَنْ هَذَا، فَلَا يَكَادُ يَخْلُو مِنَ الْبَوْلِ قَبْلَ الِاغْتِسَالِ، فَمِنْ أَجْلِ مُلَاقَاةِ النَّجَاسَةِ [ص:16] لِلذَّكَرِ أَمَرَ بِغَسْلِهِ، لَا أَنَّ الْمَنِيَّ نَجِسٌ، لِأَنَّ عَائِشَةَ كَانَتْ تَفْرُكُهُ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ يُصَلِّي فِيهِ»

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں: حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا کہ بعض اوقات انہیں رات کے وقت جنابت لاحق ہوجاتی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم وضو کرو شرم گاہ کو دھولو اور پھر سوجاؤ۔ (امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں: ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان " تم وضو کرلو اور اپنی شرمگاہ کو دھولو"۔ یہ حکم استحباب کے طور پر ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: " پھر تم سوجاؤ" یہ مباح قرار دینے کیلئے حکم ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان: "تم اپنی شرم گاہ کو دھولو" میں اس بات کی دلیل موجود نہیں ہے کہ منی نجس ہوتی ہے کیونکہ شرمگاہ کو دھونے کا حکم اس لیے دیا گیا تھا کہ آدمی جب صحبت کرتا ہے، تو اس کی شرمگاہ پر کوئی نجس چیز لگ جاتی ہے اگر یہ نہ بھی ہو تو غسل کرنے سے پہلے عام طور پر آدمی کو پیشاب کرنا پڑتا ہے، تو اس نجاست کے لگنے کی وجہ سے بھی شرمگاہ کو دھونے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس وجہ سے نہیں دیا گیا، کہ منی نجس ہوتی ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے اسے کھرچ دیا کرتی تھیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کپڑے میں نماز اد کر لیا کرتے تھے۔

أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُ «تَوَضَّأْ، ← عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لِرَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ تُصِيبُهُ الْجَنَابَةُ مِنْ اللَّيْلِ ← ابْنِ عُمَرَ:أَنَّہُ ← عبد الله بن دينار ← مَالِكٍ، ← الْقَعْنَبِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of rulings of the side · Hadith 1213

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1900

اَخْبَرَنَا عَبْدُاللٰہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْاَزْدِیُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا اِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ، قَالَ: اَخْبَرَنَا سُفْیَانُ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ سُحَیْمٍ، عَنْ اِبْرَاھِیْمَ بْنِ عَبْدِاللٰہِ بْنِ مَعْبَدٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: کَشَفَ رَسُوْلُ اللٰہِ صَلَّی اللٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ السِّتَارَۃَ، وَالنَّاسُ صُفُوفٌ خَلْفَ اَبِیْ بَکْرٍ، فَقَالَ : اَیُّھَا النَّاسُ اِنَّہٗ لَمْ یَبْقَ مِنْ مُّبَشِّرَاتِ النُّبُوَّۃِ اِلَّا الرُّؤْیَا الصَّالِحَۃُ یَرَاھَا الْمُسْلِمُ اَوْ تُرٰی لَہٗ ثُمَّ قَالَ : الَااِنِیْ نُھِیْتُ اَنْ اَقْرَاَ رَاکِعًا، اَوْ سَاجِدًا، اَمَّا الرُّکُوْعُ، فَعَظِّمُوْا فِیْہِ الرَّبَّ، وَاَمَّا السُّجُوْدُ، فَا جْتَھِدُوافِی الدُّعَاءِ، فَقَمِنٌ اَنْ یُسْتَجَابَ لَکُمْ

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے پردہ ہٹایا لوگ حضرت ابوبکرؓ پیچھے صفیں بنائے ہوئے تھے۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: اے لوگو! نبوت کے مبشرات میں سے صرف سچے خواب باقی رہ گئے ہیں‘ جنہیں کوئی مسلمان دیکھتا ہے یا جو اسے سکھائے جاتے ہیں پھر آپ نے ارشاد فرمایا: خبردار مجھے رکوع یا سجدے کی حالت میں تلاوت کرنے سے منع کیا گیا ہے جہاں تک رکوع کا تعلق ہے‘ تو تم اس میں پروردگار کی عظمت کا اعتراف کرو اور جہاں تک سجدے کا تعلق ہے‘ تو تم اس میں اہتمام کے ساتھ دعا مانگو۔ وہ اس لائق ہو گی‘ اسے تمہارے لئے مستجاب کیا جائے۔

كَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ السِّتَارَةَ وَالنَّاسُ صُفُوفٌ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← اِبْرَاھِیْمَ بْنِ عَبْدِاللٰہِ بْنِ مَعْبَدٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ سُحَيْمٍ ← سُفْيَانَ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُاللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْاَزْدِیُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The Book of Prayer · Hadith 1900

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ ۔بَابُ الصُّحْبَۃِ وَالْمُجَالَسَۃِ · حديث 590

أَخْبَرَنَا أَبُو عُمَارَةَ أَحْمَدُ بْنُ عُمَارَةَ الْحَافِظُ بِالْكَرْجِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِصَامِ بْنِ عَبْدِ الْمَجِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِي مَجْلِسٍ، فَتَفَرَّقُوا مِنْ غَيْرِ ذِكْرِ اللَّهِ، وَالصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَّا كَانَ عَلَيْهِمْ حَسْرَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ». [1: 2]

حضرت ابو ہریرہؓ ‘ روایت کرت ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’جب کچھ لوگ کسی محفل میں اکٹھے ہوتے ہیں ‘ پھر اس محفل میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کئے بغیر اور نبی اکرمﷺ پر درود بھیجے بغیر جدا ہو جاتے ہیں ‘ تو یہ چیز قیامت کے دن ان کے لئے حسرت کا باعث ہو گی‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُهَيْلٍ، ← سُفْيَانَ، ← مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عِصَامِ بْنِ عَبْدِ الْمَجِيدِ، ← أَبُو عُمَارَةَ أَحْمَدُ بْنُ عُمَارَةَ الْحَافِظُ بِالْكَرْجِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › Chapter of companionship and encounters · Hadith 590

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1928

اَخْبَرَنَا اَبُوْ یَعْلٰی ، حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ عِیسٰی الْمِصْرِیُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَھْبٍ ، اَخْبَرَنِیْ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عِنْ عُمَارَۃَ بْنِ غَزِیَّۃَ ، عَنْ سُمَیٍّ ، عَنْ اَبِیْ صَالِحٍ ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ، ساَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: اِنَّ اَقْرَبَ مَایَکُوْنُ الْعَبْدُ مِنْ رَبِّہِ وَھُوَ سَاجِد، فَاکْثِرُوْا الدُّعَاءَ

حضرت ابوہریرہؓ ، نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: بندہ اپنے پروردگار کے سب سے زیادہ قریب اس وقت ہوتاہے، جب بندہ سجدے کی حالت میں ہو ، تو تم (اس حالت کے دوران) بکثرت دعا کیا کرو۔

اِنَّ اَقْرَبَ مَایَکُوْنُ الْعَبْدُ مِنْ رَبِّہِ وَھُوَ سَاجِد، فَاکْثِرُوْا الدُّعَاءَ ← اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ساَنَّ رَسُوْلَ اللہِ ← اَبِیْ صَالِحٍ ← سُمَيٍّ ← عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيُّ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The Book of Prayer · Hadith 1928

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي الشَّهِيدِ · حديث 3199

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ أَبِي الْخَيْرِ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى قَتْلَى أُحُدٍ ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: "أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي بَيْنَ أَيْدِيكُمْ فَرَطٌ وَإِنِّي عَلَيْكُمْ لِشَهِيدٌ وَإِنِّي وَاللَّهِ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا بَعْدِي وَلَكِنِّي قَدْ أُعْطِيتُ اللَّيْلَةَ مَفَاتِيحَ خَزَائِنِ الْأَرْضِ وَالسَّمَاءِ وَأَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تَتَنَافَسُوا فِيهَا" ثُمَّ دَخَلَ فَلَمْ يَخْرُجْ مِنْ بَيْتِهِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا1. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ تعالى عَنْهُ: خَصَّ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشهداء الذي قُتِلُوا فِي الْمَعْرَكَةِ بِتَرْكِ الصَّلَاةِ عَلَيْهِمْ وَفَرَّقَ بينهم وبين سَائِرَ الْمَوْتَى يُغَسَّلُونَ وَيُصَلَّى عَلَيْهِمْ وَمَنْ قُتِلَ فِي الْمَعْرَكَةِ مِنَ الشُّهَدَاءِ لَا يُصَلَّى عَلَيْهِمْ وَيُدْفَنُ بِدَمِهِ مِنْ غَيْرِ غُسْلٍ فَأَمَّا خَبَرُ عقبة بن عامر: "أن النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلّٰی عَلٰی قَتْلٰی اُحُدٍ ، ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَعَدَ عَلَی الْمِنْبَرِ فَحَمِدَ اللہَ وَاَثْنٰی عَلَیْہِ ، ثُمَّ قَالَ اَیُّھَا النَّاسُ اِنِّیْ بَیْنَ اَیْدِیکُمْ فَرَطٌ ، وَاِنِّیْ عَلَیْکُمْ لِشَھِیدٌ ، وَاِنِّیْ وَاللہِ مَا اَخَافُ عَلَیْکُمْ اَنْ تُشْرِکُوا بَعْدِیْ ، وَلٰکِنِّیْ قَدْ اُعْطِیتُ اللَّیْلَۃَ مَفَاتِیحَ خَزَائِنِ الْاَرْضِ وَالسَّمَاءِ ، وَاَخَافُ عَلَیْکُمْ اَنْ تَتَنَا فَسُوا فِیْھَا ثُمَّ دَخَلَ ، فَلَمْ یَخْرُجُ مِنْ بَیْتِہٖ حَتّٰی قَبَضَہُ اللہُ جَلَّ وَعَلَا۔ قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ : خَصَّ الْمُصْطَفٰی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الشُّھَدَاءَ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِی الْمَعْرَکَۃِ ، بِتَرْکِ الصَّلَاۃِ عَلَیْھِمْ وَفَرَّقَ بَیْنَھُمْ وَبَیْنَ سَائِرِ الْمَوْتَی ، فَاِنَّ سَائِرَ الْمَوْتٰی یُغَسَّلُوْنَ ، وَیُصَلّٰی عَلَیْھِمْ ، وَمَنْ قُتِلَ فِی الْمَعْرَکَۃِ مِنَ الشُّھَدَاءِ لَا یُصَلّٰی عَلَیْھِمْ ، وَیُدْفَنُ بِدَمِہٖ مِنْ غَیْرِ قُصْلٍ ، فَاَمَّا خَبَرُ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَرَجَ فَصَلّٰی عَلٰی قَتْلٰی اُحُدٍ لَیْسَ یُضَادُّ خَبَرَ جَابِرٍ الَّذِی ذَکَرْنَاُ ، اِذِ الْمُصْطَفٰی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَرَجَ اِلٰی اُحُدِ ، فَدَعَا لِشُھَدَاءِ اُحُدِ کَمَا کَانَ یَدْعُو لِلْمَوْتٰی فِی الصَّلَاۃِ عَلَیْھِمْ ، وَالْعَرَبُ تُسَمِّی الدُّعَاءَ صَلَاۃً ، فَصَارَ رَخُرُوْجُہُ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِلٰی شُھَدَاءِ اُحُدٍ ، وَزِیَارَتُہُ اِیَّاھُمْ وَدُعَاؤُہُ لَھُمْ سُنَّۃً لِمَنْ بَعْدَہُ مِنْ اُمَّتِہٖ اَنْ یَّزُورُوا شُھَدَاءَ اُحُدٍ یَدْعُونَ لَھُمْ کَمَا یَدُْونَ لِلْمَیِّتِ فِی الصَّلَاۃِ عَلَیْہِ ، وَفِیْ خَبَرِ زَیْدِ بْنِ اَبِیْ اُنَیْسَۃَ الَّذِی ذَکَرْنَاہُ ، ثُمَّ دَخَلَ فَلَمْ یَخْرُجْ مِنْ بَیْتِہٖ حَتّٰی قَبَضَہُ اللہُ جَلَّ وَعَلَا ، اَبْیَنُ الْبَیَانِ بِاَنَّ ھٰذِہِ الصَّلَاۃَ کَانَتْ دُعَاءً لَھُمْ ، وَزِیَادَۃً قَصَدَ بِھَا اِیَّاھُمْ لَمَّاقَرُبَ خُرُوْجُہُ مِنَ الدُّنْیَا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَلَوْ کَانَتِ الصَّلَاۃُ الَّتِیْ ذَکَرَھَا عُقْبَۃُ بْنُ عَامِرٍ کَالصَّلَاۃِ عَلَی الْمَوْتٰی سَوَاءً لَلَزِمَ مَنْ قَالَ بھٰذَا جَوَازُ الصَّلَاۃِ عَلَی الْقَبْرِ وَلَوْ بَعْدَ سَبْعِ سَنِیْنَ ، لِاَنَّ اُحُدًا کَانَتْ سَنَۃَ ثَلَاثٍ مِنَ لْھِجْرَۃِ ، وخُرُوْجُہُ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَیْثُ صَلّٰی عَلَیْھِمْ قُرْبَ خُرُوْجِہِ مِنَ الدُّنْیَا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَعْدَ وَقْعَۃِ اُحُدٍ بَسَبْعِ سِنِیْنَ ، فَلَمَّا وَاَفَقْنَا مَنِ احْتَجَّ بِھٰذَ الْخَبَرِ عَلٰی اَنَّ الصَّلَاۃَ عَلَی الْقُبُوْرِ غَیْرُ جَائِزَۃٍ بَعْدَ سَبْعِ سِنِیْنَ ، صَحَّ اَنَّ تِلْکَ الصَّلَاۃَ کَانَتْ دُعَاءً لَا الصَّلَاۃَ عَلَی الْمَوْتَی ، سَوَاءً ضِدَّ قَوْلِ مَنْ زَعَمَ اَنَّ اَصْحَابَ الْحَدِیثِ یَرْوُونَ مَالَا یَعْقِلُوْنَ ، وَیَتَکَلَّمُوْنَ بِمَا لَا یَفْھَمُوْنَ ، وَیَرَوُونَ الْمُتَضَادَّ مِنَ الْاَخْبَارِ

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے شہد اء احد کی نماز جنازہ اد ا کی پھر آپ ﷺ واپس تشریف لائے اور منبر پر تشریف فرما ہوئے آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی پھر ارشادفرمایا : ا ے لوگو! میں تمہارے آگے پیش رو ہوں گا اور میں تمہارا گواہ ہوں گا اللہ کی قسم! بے شک مجھے تمہارے بارے میں یہ اندیشہ نہیں ہے تم میرے بعد شرک کرو گے، لیکن گزشہ رات مجھے زمین اور آسمان کے خزانوں کی چابیاں عطا کر دی گئی ہیں، تو مجھے یہ اندیشہ ہے کہ تم دنیا کی طرف راغب ہو جاو گے پھر نبی اکرم ﷺ گھر میں تشریف لے گئے اس کے بعد آپ ﷺ گھر سے باہر تشریف نہیں لائے ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی (روح مبارکہ کو ) قبض کر لیا۔ (امام اب حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم ﷺ نے شہداء کا خصوصیت کے ساتھ ذکر کیا ہے وہ لوگ جو جنگ میں شہید ہوئے تھے کہ آپ نے ان کی نماز جنازہ ادا نہیں کی۔ اس بار ے میں ان لوگوں اور دیگر مرحومین کے درمیان فرق کیا ہے کیونکہ دیگر تمام مرحومین کو غسل بھی دیا جاتا ہے اور ان کی نماز جنازہ بھی ادا کی جاتی ہے لیکن جو لوگ جنگ کے دوران شہید ہوتے ہیں نہ ان کی نماز جنازہ ادا کی جاتی ہے اور انہیں غسل دئیے بغیر ان کے خون میں دفن کیا جاتا ہے جہاں تک حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہہ کی نقل کر دہ روایت کے خلاف نہیں ہے جسے ہم ذکر کر چکے ہیں کیونکہ نبی اکرم ﷺ اُحد تشریف لے گئے تھے اور بعد میں شہداء اُحد کے لئے دعا کی تھی۔ جس طرح آپ نماز جنازہ کے دوران دیگر مرحومین کے لئے دعا کیا کرتے تھے تو عرب دعا کے لئے بھی لفظ صلو ٰۃ استعمال کر لیتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ کا شہداء اُحد کی طرف جانا اور ا ن کی زیارت کرنا اور ان کے لئے دعا کرنا آپ کے بعد آپ کی اُمت کے لئے سنت ہے کہ وہ شہداء اُحد کی زیارت کریں اور ان کے لئے دعا کریں جس طرح نماز جنازہ میں میت کے لئے دعا کی جاتی ہے۔ اس طرح حضرت زید بن ابو انیسہ رضی اللہ عنہہ کے حوالے سے منقول وہ روایت جسے ہم ذکر کر چکے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ اند ر تشریف لے گئے اور اس کے بعد آپ اپنے گھر سے باہر تشریف نہیں لائے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی (روح مبارکہ کو ) قبض کر لیا۔ یہ اس بات کا واضح بیان موجود ہے کہ نماز دراصل ان کے لئے دعا تھی جو نبی اکرم ﷺ نے بطور خاص ان حضرات کے لئے کی کیونکہ نبی اکرم ﷺ کی دنیا سے تشریف لے جانے کا وقت قریب آچکا تھا اگر حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہہ کے حوالے سے منقول اس روایت میں لفظ صلاۃ سے مراد دیگر مرحومین کی نماز جنازہ کی طرح نماز ہوتی تو یہ بات لازم آتی ہے کہ جو شخص اس بات کا قائل ہے کہ وہ قبر پر نماز جنازہ ادا کرنے کو جائز تسلیم کر لے۔ خواہ سات سال بعد ایسا کیا جائے کیونکہ غزوہ اُحد ہجرت کے تیسر ے سال پیش آیا تھا۔ نبی اکرم ﷺ ان حضرات کے لئے دعا کرنے کے لئے اس وقت تشریف لے گئے تھے جب آپ کا دنیا سے رخصتی کا وقت قریب آ گیا تھا۔ تو یہ چیز غزوہ اُحد کے سات سال بعد پیش آئی تھی تو جو شخص اس روایت کے ذریعے یہ استد لال کرتا ہے کہ سات سال گزرنے کے بعد قبر پر نماز جنازہ ادا کرنا جائز نہیں ہے۔ اس سے یہ بات ثابت ہو جائے گی کہ یہ صلاۃ اصل میں دعا تھی مرحومین کے لئے نماز جنازہ نہیں تھی خواہ یہ بات اس شخص کے موقف کے خلاف ہو جو اس بات کا قائل ہے کہ محد ثین وہ روایت نقل کر دیتے ہیں جس کی انہیں سمجھ نہیں ہوتی اور وہ بات بیان کرتے ہیں جن کا نہیں فہم نہیں ہوتا اور متضاد روایات نقل کر دیتے ہیں۔

عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← أَبِي الْخَيْرِ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ، ← أَبُو عَرُوبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter in the martyr · Hadith 3199

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فِي الْخِلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ · حديث 4498

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَنَا تَمْرًا فَأَصَابَنِي مِنْهَا خَمْسُ أَوْ أَرْبَعُ تَمَرَاتٍ، قَالَ: فَرَأَيْتُ الْحَشَفَةَ هِيَ أَشَدُّ لِضِرْسِي» قَالَ: فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: «إِنَّ أَبْخَلَ النَّاسِ مَنْ بَخِلَ [ص:350] بِالسَّلَامِ، وَأَعْجَزَ النَّاسِ مَنْ عَجَزَ عَنِ الدُّعَاءِ»

حضرت ابیض بن حمال رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: وہ وفد کی شکل میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے کوئی زمین عطا کرنے کی درخواست کی تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں”ملح“ کے مقام والی زمین عطا کر دی جب وہ واپس چلے گئے، تو ایک صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! کیا آپﷺ کو پتہ ہے، آپﷺ نے اسے کون سی زمین دی ہے آپﷺ نے اسے ایک ایسی زمین دی ہے جہاں پانی وافر مقدار میں ہے۔ راوی کہتے ہیں، تو نبی اکرمﷺ نے وہ زمین واپس لے لی۔ راوی کہتے ہیں: میں نے نبی اکرمﷺ سے”اراک“ نامی جگہ میں زمین کی درخواست کی تو آپﷺ نے ارشاد فرمایا : ( یہ اس وقت تک تمہیں دی جاتی ہے) جب تک اونٹوں کے پاؤں وہاں تک نہیں پہنچتے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ← عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَکَّارٍ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · Biography › Gate in the Caliphate and the Emirate · Hadith 4498

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1951

اَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِیُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَااَبُو الْعَلِیْدِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ کَثِیْرٍ ، قَالاَ : اَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ ، قَالَ : اَخْبَرَنَا اَبُوْ اِسْحَاقَ ، قَالَ : اَخْبَرَنَا اَبُو الْاَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللٰہِ ، قَالَ : کُنَّا لَا نَدْرِی مَا نَقُوْلُ فِیْ کُلِّ رَکْعَتَیْنِ ، اِلَّا اَنْ نُسَبِّحَ وَنُکَبِّرَ وَنُحَمِّدَ اَبَّنَا ، وَاِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّی اللٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عُلِّمَ فَوَاتِحَ الْخَیْرِ وَخَوَاتِمَہٗ ، اَوْ قَالَ جَوَامِعَہٗ ، وَاِنَّہٗ قَالَ لَنَا : اِذَا قَعَدْتُمْ فِیْ کُلِّ رَکْعَتَیْنِ فَقُوْلُوْا : التَّحِیَّاتُ لِلٰہِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّیِّبَاتُ ، السَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللٰہِ وَبَرَکَاتُہُ ، السَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللٰہِ الصَّالِحِیْنَ ، اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللٰہُ ، وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہٗ ، ثُمَّ لِیَتَخَیَّرْ مِنَ الدُّعَاءِ مَا اَعْجَبَہٗ ، فَلْیَدْعُ بِہِ رَبَّہُ

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں۔ ہمیں اس بات کا علم نہیں تھا ‘ ہمیں دو رکعات پڑھنے کے بعد ( تشہد کے دوران ) کیا پڑھنا چاہئے صرف یہ پتہ تھا ‘ ہمیں تسبیح بیان کرنی چاہئے ، تکبیر پڑھنی چاہئے اور اپنے پروردگار کی حمد بیان کرتی چاہئے۔ حضرت محمد ﷺ کو بھلائی کو کھولنے والی چیزوں اور بھلائی کے مجموعوں ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں: ) بھلائی کے بارے میں جامع باتوں کا علم عطا کیا گیا۔ آپ نے ہم سے یہ فرمایا جب تم دو رکعات ادا کرنے کے بعد بیٹھو تو تم یہ پڑھو : ’’ تمام زبانی ، جسمانی اور مالی عبادات اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہیں اے نبی آپ پر سلام ہو اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں ہم پر اللہ تعالیٰ کے تمام نیک بندوں پر بھی سلام ہو۔ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں‘ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں‘ حضرت محمد اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ ( نبی اکرمﷺ نے فرمایا ) پھر دعا کے بارے میں آدمی کو اختیار ہے وہ جو چاہے اپنے پروردگار سے دعا مانگے‘‘۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← اَبُوْ اِسْحَاقِ ← شُعْبَةُ، ← حَدَّثَنَااَبُو الْعَلِیْدِ وَمُحَمَّدُ بْنُ کَثِیْرٍ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The Book of Prayer · Hadith 1951

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1971

اَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَیْمَۃَ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ عَبْدَۃَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ: کُنَّا جُلُوْسًا فِی الْمَسْجِدِ، فَدَخَلَ عَمَّارُ بْنُ یَاسِرٍ، فَصَلّٰی صَلَاۃً خَفَّفَھَا، فَمَرَّ بِنَا فَقِیْلَ لَہٗ: یَا اَبَا الْیَقْظَانِ، خَفَّفْتَ الصَّلَاۃَ، قَالَ: اَوَ خَفِیفَۃً رَاَیْتُمُوْھَا؟ قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: اَمَا اِنِّیْ قَدْ دَعَوْتُ فِیْھَا بِدُعَاءٍ قَدْ سَمِعْتُہٗ مِنْ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ ثُمَّ مَضَی، فَاَتْبَعَہٗ رَجُلٌ مِّنَ الْقَوْمِ، قَالَ عَطَاءٌ:اتَّبَعَہٗ اَبِیْ۔ وَلٰکِنَّہٗ کَرِہَ اَنْ یَّقُوْلَ اتَّبَعْتُہٗ، فَسَاَلَہٗ عَنِ الدُّعَاءِ، ثُمَّ رَجَعَ فَاَخْبَرَھُمْ بِالدُّعَاءِ: اللہُمَّ بِعِلْمِکَ الْغَیْبَ، وَقُدْرَتِکَ عَلَی الْخَلْقِ، اَحْیِنِیْ مَا عَلِمْتَ الْحَیَاۃَ خَیْرًالِی، وَتَوَفَّنِیْ اِذَا کَانَتِ الْوَفَاۃُ خَیْرًالِی، اللہُمَّ اِنِّیْ اَسْاَلُکَ خَشْیَتَکَ فِی الْغَیْبِ وَالشَّھَادَۃِ، وَکَلِمَۃَ الْعَدْلِ وَالْحَقِّ فِی الْغَضَبِ وَالرِّضَا، وَاَسْاَلُکَ الْقَصْدَ فِی الْفَقْرِ وَالْغِنَی، وَاَسْاَلُکَ نَعِیمًا لَا یَبِیدُ، وَقُرَّۃَ عَیْنٍ لَا تَنْقَطِعُ، وَاَسْاَلُکَ الرِّضَا بَعْدَ الْقَضَاءِ، وَاَسْاَلُکَ بَرْدَ الْعَیْشِ بَعْدَ الْمَوْتِ، وَاَسْاَلُکَ لَذَّۃَالنَّظَرِ اَلٰی وَجْھِکَ، وَاَسْاَلُکَ الشَّوْقَ اِلٰی لَقَا ئِکَ، فِیْ غَیْرِ ضَرَّاءَ مُضِرَّۃٍ، وَلَا فِتْنَۃٍ مُضِلَّۃٍ، اللہُمَّ زَیِّنَّا بِزِینَۃِ الْاِیمَانِ، وَاجْعَلْنَا ھُدَاۃً مُھْتَدِینَ

عطاء بن سائب اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں‘ ہم لوگ مسجد میں موجود تھے۔ اسی دوران حضرت عمار بن یاسرؓ اندر آئے انہوں نے نماز ادا کی اور مختصر ادا کی پھر وہ ہمارے پاس سے گزرے تو انہیں کہا گیا: اے ابویقظان آپ نے مختصر نماز ادا کی ہے۔ انہوں نے دریافت کیا: تم نے جو نماز دیکھی ہے وہ مختصر ہے۔ ہم نے جواب دیا: جی ہاں انہوں نے فرمایا: میں نے تو اس میں وہ دعا بھی پڑھی ہے‘ جو میں نے نبی اکرمﷺ کو پڑھتے ہوئے سنا ہے‘ پھر وہ تشریف لے گئے۔ حاضرین میں سے ایک صاحب ان کے پیچھے گئے۔ عطاء نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے‘ میرے والد ان کے پیچھے گئے تھے لیکن انہیں یہ کہنا اچھا نہیں لگا‘ میں ان کے پیچھے گیاتھا۔ اس نے ان سے اس دعا کے بارے میں دریافت کیا: وہ واپس آیا اور ان لوگوں کو اس دعا کے بارے میں بتایا: ( اس کے الفاظ یہ تھے ) ’’ اے اللہ! میں تیرے غیب کے علم اور اپنی مخلوق پر تیری قدرت کے وسیلے سے یہ سوال کرتا ہوں‘ تو مجھے اس وقت تک زندہ رکھنا جب تک زندگی میرے حق میں بہتر ہو ار تو مجھے اس وقت موت دے دینا جب موت میرے حق میں بہتر ہو اے اللہ! میں غیب اور شہادت( ہر حالت) میں تجھ سے ڈرنے کا سوال کرتا ہوں ار ناراضگی اور رضامندی( ہر حالت میں) انصاف اور حق کی بات کہنے ( کا تجھ سے سوال کرتا ہوں ) اور میں غربت اور خوشحالی ( دونوں حالتوں میں ) میانہ روی کا تجھ سے سوال کرتا ہوں۔ میں تجھ سے ایسی نعمت کا سوال کرتا ہوں جو ختم نہیں ہوگی اور آنکھوں کی ایسی ٹھنڈک کا سوال کرتا ہوں جو منقطع نہیں ہوگی۔ میں تیرے فیصلے پر تجھ سے رضامندی کا سوال کرتا ہوں اور میں مرنے کے بعد زندگی کی ٹھنڈک ( یعنی مرنے کے بعد کی اچھی زندگی ) کا تجھ سے سوال کرتا ہوں اور میں تیرے دیدار کی لذت کا تجھ سے سوال کرتا ہوں میں تیری بارگاہ میں حاضری کے شوق کا تجھ سے سوال کرتا ہوں۔( یہ سب کچھ ) کسی نقصان کے بغیر اور گمراہ کرنے والی آزمائش کے بغیر ہو‘ اے اللہ! ہمیں ایمان کی زینت سے آراستہ کر دے اور ہمیں ہدایت دینے والا اور ہدایت یافتہ بنا دے۔‘‘

أَبِيهِ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، ← ابْنُ خُزَيْمَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The Book of Prayer · Hadith 1971

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ التَّيَمُّمِ · حديث 1301

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ، حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ، قَالَ: [ص:120] حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، وَإِنَّا سِرْنَا لَيْلَةً، حَتَّى إِذَا كَانَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ وَقَعْنَا تِلْكَ الْوَقْعَةَ - وَلَا وَقْعَةَ أَحْلَى عِنْدَ الْمُسَافِرِ مِنْهَا - فَمَا أَيْقَظَنَا إِلَّا حَرُّ الشَّمْسِ، قَالَ: وَكَانَ أَوَّلُ مَنِ اسْتَيْقَظَ فُلَانٌ، ثُمَّ فُلَانٌ، ثُمَّ فُلَانٌ، - وَكَانَ يُسَمِّيهِمْ أَبُو رَجَاءٍ وَنَسِيَهُمْ عَوْفٌ - ثُمَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ الرَّابِعُ، قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَامَ لَمْ نُوقِظْهُ حَتَّى يَكُونَ هُوَ يَسْتَيْقِظُ، لَأَنَّا لَا نَدْرِي مَا يَحْدُثُ لَهُ فِي نَوْمِهِ، قَالَ: فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ عُمَرُ وَرَأَى مَا أَصَابَ النَّاسَ، قَالَ: وَكَانَ رَجُلًا أَجْوَفَ جَلِيدًا، قَالَ: فَكَبَّرَ وَرَفَعَ صَوْتَهُ، فَمَا زَالَ يُكَبِّرُ وَيَرْفَعُ صَوْتَهُ بِالتَّكْبِيرِ حَتَّى اسْتَيْقَظَ بِصَوْتِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، شَكَوَا الَّذِي أَصَابَهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: [ص:121] «لَا ضَيْرَ - أَوْ لَا يَضِيرُ - ارْتَحِلُوا» فَسَارَ غَيْرَ بَعِيدٍ، ثُمَّ نَزَلَ فَدَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ، وَنُودِيَ بِالصَّلَاةِ، فَصَلَّى بِالنَّاسِ، فَلَمَّا انْفَتَلَ مِنْ صَلَاتِهِ، إِذَا هُوَ بِرَجُلٍ مُعْتَزِلٍ لَمْ يُصَلِّ مَعَ الْقَوْمِ، قَالَ: «مَا مَنَعَكَ يَا فُلَانُ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَ الْقَوْمِ؟ » قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ وَلَا مَاءَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَيْكَ بِالصَّعِيدِ فَإِنَّهُ يَكْفِيكَ»، ثُمَّ سَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاشْتَكَى إِلَيْهِ النَّاسُ الْعَطَشَ، قَالَ: فَنَزَلَ فَدَعَا فُلَانًا - وَكَانَ يُسَمِّيهِ أَبُو رَجَاءٍ وَنَسِيَهُ عَوْفٌ - وَدَعَا عَلِيًّا، فَقَالَ: «اذْهَبَا فَابْغِيَا لَنَا الْمَاءَ»، فَلَقِيَا امْرَأَةً بَيْنَ مَزَادَتَيْنِ، أَوْ سَطِيحَتَيْنِ مِنْ مَاءٍ عَلَى بَعِيرٍ لَهَا، فَقَالَا لَهَا: أَيْنَ الْمَاءُ؟ قَالَتْ: عَهْدِي بِالْمَاءِ أَمْسِ هَذِهِ السَّاعَةَ، وَنَفَرُنَا خُلُوفٌ، قَالَ: فَقَالَا لَهَا: انْطَلِقِي إِذًا، قَالَتْ: إِلَى أَيْنَ؟ قَالَا: إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: هَذَا الَّذِي يُقَالُ لَهُ الصَّابِي؟ قَالَا: هُوَ الَّذِي تَعْنِينَ، فَانْطَلِقِي إِذًا، فَجَاءَا [ص:122] بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَحَدَّثَاهُ الْحَدِيثَ قَالَ: فَاسْتَنْزَلُوهَا عَنْ بَعِيرِهَا، وَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِإِنَاءٍ، فَأَفْرَغَ فِيهِ مِنْ أَفْوَاهِ الْمَزَادَتَيْنِ، أَوِ السَّطِيحَتَيْنِ، وَأَوْكَأَ أَفْوَاهَهُمَا وَأَطْلَقَ الْعَزَالِي، وَنُودِيَ فِي النَّاسِ، أَنِ اسْتَقُوا وَاسْقُوا، قَالَ: فَسَقَى مَنْ شَاءَ وَاسْتَقَى مَنْ شَاءَ، وَكَانَ آخِرُ ذَلِكَ أَنْ أُعْطِيَ الَّذِي أَصَابَتْهُ الْجَنَابَةُ إِنَاءً مِنْ مَاءٍ، فَقَالَ: «اذْهَبْ فَأَفْرِغْهُ عَلَيْكَ» قَالَ: وَهِيَ قَائِمَةٌ تَنْظُرُ إِلَى مَا يَفْعَلُ بِمَائِهَا، قَالَ: وَايْمُ اللَّهِ لَقَدْ أُقْلِعَ عَنْهَا حِينَ أُقْلِعَ وَإِنَّهُ لَيُخَيَّلُ لَنَا أَنَّهَا أَشَدُّ مَلْئًا مِنْهَا حِينَ ابْتُدِئَ فِيهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اجْمَعُوا لَهَا طَعَامًا» قَالَ: فَجَمَعَ لَهَا مِنْ بَيْنِ عَجْوَةٍ وَدَقِيقَةٍ وَسَوِيقَةٍ، حَتَّى جَمَعُوا لَهَا طَعَامًا كَثِيرًا، وَجَعَلُوهُ فِي ثَوْبٍ، وَحَمَلُوهَا عَلَى بَعِيرِهَا، وَوَضَعُوا الثَّوْبَ بَيْنَ يَدَيْهَا، قَالَ: فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَعْلَمِينَ أَنَّا وَاللَّهِ مَا رَزِئْنَا مِنْ مَائِكَ شَيْئًا، وَلَكِنَّ اللَّهَ هُوَ سَقَانَا» قَالَ: فَأَتَتْ أَهْلَهَا وَقَدِ احْتَبَسَتْ عَلَيْهِمْ، فَقَالُوا: مَا حَبَسَكِ يَا فُلَانَةُ؟ قَالَتِ: الْعَجَبُ، لَقِيَنِي رَجُلَانِ، فَذَهَبَا بِي إِلَى هَذَا الَّذِي يُقَالُ لَهُ: الصَّابِي، فَفَعَلَ بِي كَذَا وَكَذَا، الَّذِي قَدْ كَانَ، فَوَاللَّهِ إِنَّهُ لَأَسْحَرُ مَنْ بَيْنَ هَذِهِ إِلَى هَذِهِ، أَوْ إِنَّهُ لِرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ [ص:123] وَسَلَّمَ، حَقًّا، قَالَ: فَكَانَ الْمُسْلِمُونَ بَعْدَ ذَلِكَ يُغِيرُونَ عَلَى مَنْ حَوْلَهَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَلَا يُصِيبُونَ الصِّرْمَ الَّذِي هِيَ فِيهِ، فَقَالَتْ لِقَوْمِهَا: وَاللَّهِ هَؤُلَاءِ الْقَوْمُ يَدَعُونَكُمْ عَمْدًا، فَهَلْ لَكُمْ فِي الْإِسْلَامِ؟ فَأَطَاعُوهَا فَدَخَلُوا فِي الْإِسْلَام. [1: 30]

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کررہے تھے۔ ہم رات بھر سفر کرتے رہے، جب رات کا آخری حصہ ہوا تو ہمیں نیند نے آلیا اور مسافر کے نزدیک نیند سے پیاری اور کوئی چیز نہیں ہوتی۔ ہمیں سورج کی تپش نے بیدار کیا۔ حضرت عمران رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: بیدار ہونے والوں میں سے سب سے پہلے فلاں شخص تھے پھر فلاں صاحب تھے اور پھر فلاں صاحب تھے۔ ابو رجاء نامی راوی نے ان کے نام بھی بیان کئے تھے لیکن عوف نامی راوی ان کے ناموں کو بھول گئے پھر چوتھے بیدار ہونے والے فرد حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سوتے تھے، تو ہم آپ کو بیدار نہیں کرتے تھے۔ آپ خود ہی بیدار ہوتے تھے۔ اس کی وجہ یہ ہے، ہم یہ نہٰیں جان سکتے تھے کہ نیند کے دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا صورتحال پیش آرہی ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیدار ہوئے اور انہوں نے صورت حال کو دیکھا تو راوی بیان کرتے ہیں: وہ بلند آواز کے مالک ایک سخت مزاج شخص تھے۔ راوی کہتے ہیں انہوں نے بلند آواز میں تکبیر کہی اور مسلسل تکبیر کہتے رہے۔ ان کی تکبیر کی آواز بلند رہی، یہاں تک کہ ان کی آواز کی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوگئے۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے، تو لوگوں نے پیش آنے والی صورت حال کی شکایت آپ کی خدمت میں کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کوئی نقصان نہیں ہے۔ یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے۔ تم لوگ روانہ ہوجاؤ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑا آگے گئے پھر آپ سواری سے نیچے اترے پھر آپ نے پانی منگوایا وضو کیا نماز کے لئے اذان دی گئی۔ آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی جب آپ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے، تو ایک شخص الگ موجود تھا۔ اس نے لوگوں کے ساتھ نماز ادا نہیں کی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: اے فلاں کیا وجہ ہے، تم نے لوگوں کے ساتھ نماز ادا نہیں کی۔ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! مجھے جنابت لاحق ہو گئی تھی، اور (غسل کرنے کے لئے) پانی نہیں ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: تم پر مٹی کو استعمال کرنا لازم ہے یہ تمہارے لئے کافی ہوگی۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے لوگوں نے آپ کی خدمت میں پیاسے ہونے کی شکایت کی۔راوی بیان کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سواری سے نیچے اترے آپ نے فلاں صاحب کو بلوایا اس شخص کا نام ابورجاء نامی نے بیان کیا تھا لیکن عوف نامی راوی اسے بھول گئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بھی بلایا اور ارشاد فرمایا: تم دونوں جاؤ اور ہمارے لئے پانی تلاش کرو (یہ دونوں حضرات روانہ ہوگئے) ان دونوں حضرات کا سامنا ایک خاتون سے ہوا جو اپنے اونٹ پر دو مشکیزوں کے درمیان سوار تھی۔ ان دونوں حضرات نے اس خاتون سے دریافت کیا کہ پانی کہاں ہے۔ اس نے جواب دیا: گزشتہ کل اسی وقت میں پانی کے پاس تھی (یعنی ایک دن کے فاصلے پر ہے) اور ہمارے مرد قبیلے میں موجود نہیں تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں: ان دونوں حضرات نے اس خاتون سے کہا پھر تم (ہمارے ساتھ) چلو۔ اس نے دریافت کیا: کیا ان دونوں حضرات نے جواب دیا: اللہ کے رسول کی طرف اس نے دریافت کیا: کیا یہی وہ شخص ہے، جسے بے دین کہا جاتا ہے ان دونوں صاحبان نے فرمایا: وہ وہی ہیں، جو تم مراد لے رہی ہو۔ اب تم چل پڑو پھر یہ دونوں اس خاتون کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علی وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو پورے واقعے کے بارے میں بتایا۔ راوی بیان کرتے ہیں: اس خاتون کو اس کے اونٹ سے نیچے اتار لیا گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک برتن منگوایا اور مشکیزوں کے منہ سے اس میں پانی انڈیلا (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) آپ نے مشکیزےکے منہ کو بند رکھا اور اس کے نیچے کے سوراخ کو کھول دیا، اور لوگوں میں یہ اعلان کر دیا گی کہ تم لوگ خود بھی پانی حاصل کرو اور (اپنے جانوروں وغیرہ کو) بھی پلاؤ۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر جس نے چاہا اس نے پی لیا جس نے چاہا اس نے پلانے کے لئے حاصل کر لیا۔ سب سے آخر میں اس شخص کو پانی کا برتن دیا گیا جسے جنابت لاحق ہوئی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم جاؤ اور اسے اپنے جسم پر انڈیل لو۔ راوی بیان کرتے ہیں: وہ عورت کھڑی دیکھتی رہی۔ اس کے پانی کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: اللہ کی قسم! جب اس میں اتنا سارا پانی نکال لیا گیا، تو پھر بھی ہمیں یوں محسوس ہوا کہ شاید یہ مشکیزے سے پہلے سے زیادہ بھرے ہوئے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس عورت کے لئے کھانے کا سامان جمع کرو۔ راوی بیان کرتے ہیں: تو اس عورت کے لئے عجوہ کھجوریں اور دستو جمع کرلیے گئے، یہاں تک کہ اس کے لئے بہت سا اناج جمع ہوگیا اور لوگوں نے اسے ایک کپڑے میں ڈال دیا۔ اسے اس کے اونٹ پر سوار کر دیا، اور وہ کپڑا اس کے آگے رکھ دیا۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون سے فرمایا: تم یہ بات جانتی ہو؟ اللہ کی قسم! ہم نے تمہارے پانی میں کوئی کمی نہیں کی لیکن اللہ تعالیٰ نے ہمیں سیراب کر دا۔ راوی بیان کرتے ہیں: وہ عورت اپنے گھر والوں کے پاس آئی جبکہ وہ کچھ تاخیر سے گئی تھی ان لوگوں نے دریافت کیا: اے فلاں تم کہاں رہ گئی تھی۔ اس نے جواب دیا: بڑی حیرانگی کی بات ہے مجھے وہ لوگ ملے وہ مجھے ساتھ لے کر ان صاحب کے پاس چلے گئے جن کے بارے میں یہ کہاجاتا ہے،وہ بے دین ہیں۔ انہوں نے میرے ساتھ اس طرح کا سلوک کیا یعنی اس چیز کے بارے میں بتایا جو ہو چکی تھی۔ اور کہا: اللہ کی قسم! وہ یہاں سے لے کر یہاں تک کے درمیانی حصے کے سب سے بڑے جادوگر ہیں یا پھر وہ واقعی اللہ کے رسول ہیں۔ راوی بیان کرتے ہیں: اس کے بعد وہاں کے مسلمانوں نے آس پاس کے مشرکیں پر حملے کئے لیکں اس بستی پر حملہ نہیں کیا جہاں وہ عورت رہتی تھی۔ اس عورت نے اپنی قوم سے کہا: اللہ کی قسم! یہ لوگ جان بوجھ کر تمہیں چھوڑ رہے ہیں تو کیا تم لوگ اسلام میں دلچسپی رکھتے ہو، تو ان لوگوں نے اس عورت کی بات مان لی اور اسلام میں داخل ہوگئے۔

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← أَبُو رَجَاءٍ، ← عَوْفٌ، ← يَحْيَى الْقَطَّانِ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door of tayammum · Hadith 1301

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ التَّيَمُّمِ · حديث 1302

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَوْفٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو رَجَاءٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ، قَالَ: كُنَّا فِي سَفَرٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى إِذَا كُنَّا فِي آخِرِ اللَّيْلِ، وَقَعْنَا تِلْكَ الْوَقْعَةَ - وَلَا وَقْعَةَ أَحْلَى عِنْدَ الْمُسَافِرِ مِنْهَا - فَمَا أَيْقَظَنَا إِلَّا حَرُّ الشَّمْسِ، فَاسْتَيْقَظَ فُلَانٌ وَفُلَانٌ - وَكَانَ يُسَمِّيهِمْ أَبُو رَجَاءٍ وَنَسِيَهُمْ عَوْفٌ - ثُمَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ الرَّابِعُ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَامَ لَمْ يُوقَظْ حَتَّى يَكُونَ هُوَ يَسْتَيْقِظُ، لَأَنَّا لَا نَدْرِي مَا يَحْدُثُ لَهُ فِي النَّوْمِ، فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ عُمَرُ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَرَأَى مَا أَصَابَ النَّاسَ، وَكَانَ رَجُلًا جَلِيدًا، فَكَبَّرَ وَرَفَعَ صَوْتَهُ بِالتَّكْبِيرِ، فَمَا زَالَ يُكَبِّرُ وَيَرْفَعُ صَوْتَهُ بِالتَّكْبِيرِ حَتَّى اسْتَيْقَظَ بِصَوْتِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَكَوْا إِلَيْهِ الَّذِي أَصَابَهُمْ، فَقَالَ: «لَا يَضِيرُ، فَارْتَحِلُوا» وَارْتَحَلَ، فَسَارَ غَيْرَ بَعِيدٍ، ثُمَّ نَزَلَ فَدَعَا بِالْوَضُوءِ فَتَوَضَّأَ، فَنُودِيَ بِالصَّلَاةِ فَصَلَّى بِالنَّاسِ، فَلَمَّا انْفَتَلَ مِنْ صَلَاتِهِ، فَإِذَا هُوَ بِرَجُلٍ مُعْتَزِلٍ لَمْ يُصَلِّ مَعَ الْقَوْمِ، فَقَالَ: «مَا مَنَعَكَ يَا فُلَانُ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَ الْقَوْمِ؟ » فَقَالَ: [ص:125] يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ، وَلَا مَاءَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَيْكَ بِالصَّعِيدِ فَإِنَّهُ يَكْفِيكَ» ثُمَّ سَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَشَكَا النَّاسُ إِلَيْهِ الْعَطَشَ، فَنَزَلَ فَدَعَا فُلَانًا - وَكَانَ يُسَمِّيهِ أَبُو رَجَاءٍ وَنَسِيَهُ عَوْفٌ - وَدَعَا عَلِيًّا رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ، وَقَالَ: «اذْهَبَا فَأَتَيَا بِالْمَاءِ»، فَانْطَلَقَا فَاسْتَقْبَلَتْهُمَا امْرَأَةٌ بَيْنَ مَزَادَتَيْنِ، أَوْ سَطِيحَتَيْنِ مِنْ مَاءٍ عَلَى بَعِيرٍ لَهَا، وَقَالَا لَهَا: أَيْنَ الْمَاءُ؟ فَقَالَتْ: عَهْدِي بِالْمَاءِ أَمْسِ هَذِهِ السَّاعَةَ، وَنَفَرُنَا خُلُوفٌ قَالَا لَهَا: انْطَلِقِي، قَالَتْ: إِلَى أَيْنَ؟ قَالَا: إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: هَذَا الَّذِي يُقَالُ لَهُ: الصَّابِي؟ قَالَا: هُوَ الَّذِي تَعْنِينَ، فَانْطَلِقِي، وَجَاءَا بِهَا إِلَى النَّبِيِّ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَنْزَلُوهَا عَنْ بَعِيرِهَا، وَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِنَاءٍ، فَأَفْرَغَ فِيهِ مِنْ أَفْوَاهِ الْمَزَادَتَيْنِ، أَوِ السَّطِيحَتَيْنِ، وَأَوْكَأَ أَفْوَاهَهُمَا، وَأَطْلَقَ الْعَزَالِي، وَنُودِيَ فِي النَّاسِ: أَنِ اسْتَقُوا وَاسْقُوا، قَالَ: فَسَقَى مَنْ شَاءَ، وَاسْتَسْقَى مَنْ شَاءَ، وَكَانَ آخِرُ ذَلِكَ أَنْ أَعْطَى الَّذِي أَصَابَتْهُ الْجَنَابَةُ إِنَاءً مِنْ مَاءٍ، فَقَالَ: «اذْهَبْ فَأَفْرِغْهُ عَلَيْكَ»، قَالَ: وَهِيَ قَائِمَةٌ تَنْظُرُ إِلَى مَا يَفْعَلُ بِمَائِهَا، قَالَ: وَايْمُ اللَّهِ، لَقَدْ أُقْلِعَ عَنْهَا حِينَ أُقْلِعَ، وَإِنَّهُ لَيُخَيَّلُ إِلَيْنَا أَنَّهَا أَشَدُّ مَلْئًا مِنْهَا حِينَ ابْتُدِئَ فِيهَا، [ص:126] فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اجْمَعُوا لَهَا طَعَامًا»، فَجَمَعَ لَهَا مِنْ تَمْرٍ وَعَجْوَةٍ وَدَقِيقَةٍ وَسَوِيقَةٍ، حَتَّى جَمَعُوا لَهَا طَعَامًا كَثِيرًا، وَجَعَلُوهُ فِي ثَوْبٍ وَحَمَلُوهَا عَلَى بَعِيرِهَا، وَوَضَعُوا الثَّوْبَ الَّذِي فِيهِ الطَّعَامُ بَيْنَ يَدَيْهَا، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَعْلَمِينَ وَاللَّهِ مَا رَزَأْنَا مِنْ مَائِكِ شَيْئًا، وَلَكِنَّ اللَّهَ هُوَ الَّذِي سَقَانَا» فَأَتَتْ أَهْلَهَا وَقَدِ احْتَبَسَتْ عَنْهُمْ، قَالُوا: مَا حَبَسَكِ يَا فُلَانَةُ؟ قَالَتِ: الْعَجَبُ، لَقِيَنِي رَجُلَانِ فَذَهَبَا بِي إِلَى هَذَا الَّذِي يُقَالُ لَهُ: الصَّابِي، فَفَعَلَ بِي كَذَا وَكَذَا - الَّذِي قَدْ كَانَ - وَاللَّهِ إِنَّهُ لَأَسْحَرُ مَنْ بَيْنَ هَذِهِ وَهَذِهِ - وَقَالَتْ بِأُصْبُعَيْهَا السَّبَّابَةُ الْوُسْطَى، فَرَفَعَتْهُمَا إِلَى السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، أَوْ إِنَّهُ لَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقًّا، فَكَانَ الْمُسْلِمُونَ بَعْدُ يُغِيرُونَ عَلَى مَنْ حَوْلَهَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، وَلَا يُصِيبُونَ الصِّرْمَ الَّذِي هِيَ فِيهِمْ، قَالَتْ يَوْمًا لِقَوْمِهَا: مَا أَرَى هَؤُلَاءِ الْقَوْمُ يَدَعُونَكُمْ إِلَّا عَمْدًا، فَهَلْ لَكُمْ فِي الْإِسْلَامِ؟ فَأَطَاعُوهَا فَدَخَلُوا فِي الْإِسْلَامِ. [5: 2] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «أَبُو رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيُّ عِمْرَانُ بْنُ تَيْمٍ، مَاتَ وَهُوَ ابْنُ مِائَةٍ وَعِشْرِينَ سَنَةً»

1302حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے۔ جب رات کا آخری حصہ آیا تو ہمیں نیند آگئی اور مسافر کے نزدیک نیند سے زیادہ پیاری کوئی اور چیز نہیں ہوتی۔ ہمیں سورج کی پیش نے بیدار کیا فلاں، فلاں اور فلاں، بیدار ہوئے ابورجاء نامی راوی نے ان کا نام بیان کیا تھا لیکن عوف نامی راوی ان کا نام بھول گئے پھر چوتھے بیدار ہونے والے شخص حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علی وسلم جب سویا کرتے تھے، تو آپ کو بیدار نہیں کیا جاتا تھا، یہاں تک کہ آپ خود ہی بیدار ہوتے تھے۔ اس کی وجہ یہ ہے، ہم یہ نہیں جان سکتے تھے کہ نیند کے دوران آپ کےساتھ کیا صورت حال پیش آرہی ہے۔ جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیدار ہوئے اللہ تعالیٰ کی رضا مندی ان پر ہو اور انہوں نے وہ چیز دیکھی جو لوگوں کو پیش آئی ہے وہ بلند آواز کے مالک تھے۔ انہوں نے تکبیر کہی اور تکبیر کہتے ہوئے آواز کو بلند کیا۔ وہ مسلسل تکبیر کہتے رہے اور بلند آواز میں تکبیر کہتے رہے یہاں تک کہ ان کی آواز کی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوگئے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے، تو لوگوں نے پیش آنے والی صورت حال کی شکایت آپ کے سامنے کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی حرج نہیں تم لوگ روانہ ہوجاؤ پھر آپ روانہ ہوئے تھوڑا آگے جانے کے بعد آپ سواری سے اترے پھر آپ نے وضو کے لئے پانی منگوایا وضو کیا نماز کے لئے اذان دی گئی۔ آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ جب آپ لوگوں کو نماز پڑھا کر فارغ ہوئے تو ایک شخص الگ موجود تھا، جس نے لوگوں کے ساتھ نماز ادا نہیں کی تھی۔ آپ نے دریافت کیا: اے فلاں کیا بات ہے، تم نے لوگوں کے ساتھ نماز نہیں ادا کی۔ اس نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے جنابت لاحق ہوگئی تھی، اور پانی موجود نہیں ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم پر مٹی استعمال کرنا لازم ہے وہ تمہارے لئے کفایت کرے گی۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے لوگوں نے اپ کی خدمت میں پیاسے ہونے کی شکایت کی، تو آپ سواری سے نیچے اترتے اور فلاں کو بلایا رجاءنامی راوی نے ان کا نام بیان کیا تھا لیکن عوف نامی راوی اسے بھول گئے۔ (راوی بیان کرتے ہیں) آپ نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھی بلایا اور فرمایا تم دونوں جاؤ اور پانی لے کر آؤ۔ دونوں حضرات روانہ ہوئے ان کا سامنا ایک عورت سے ہوا جو اپنے اونٹ پر دو مشکیزوں کے درمیان سوار تھی (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) ان دونوں حضرات نے اس سے دریافت کیا پانی کہاں ہے۔ اس نے جواب دیا: گزشتہ دن اسی وقت میں پانی کے پاس موجود تھی۔ ہمارے قبیلے کے مرد موجود نہیں ہیں ( اس لئے میں اتنی دور سے پانی لے کر آئی ہوں) ان دونوں حضرات نے اس سے کہا تم چلو اس نے دریافت کیا: کہاں؟ ان دونوں حضرات نے جواب دیا: اللہ کے رسول کی طرف اس نے دریافت کیا: کیا یہ وہی صاحب ہیں، جن کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے، وہ بے دین ہیں ان دونوں صاحبان نے جواب دیا: یہ وہی ہیں، جو تم مراد لے رہی ہو تم چلو۔ دونوں حضرات اس عورت کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ لوگوں نے اس عورت کو اس کےاونٹ سے نیچے اتارا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک برتن منگوایا۔ آپ نے مشکیزوں کے منہ سے پانی انڈیلا (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے منہ کو بند کردیا۔ ان کے نیچے والے سوراخ کو کھول دیا۔ لوگوں میں اعلان کر دیا کہ وہ پانی حاصل کرلیں اور (جانوروں وغیرہ کو بھی) پانی پلائیں۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر جس نے چاہا اس نے پانی پلایا اور جس نے چاہا پانی پی لیا۔ سب سے آخر میں اس شخص کو دیا، جسے جنابت لاحق ہوئی تھی۔ پانی کا برتن دیا گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم جاؤ اور اسے اپنے اوپر بہا لو۔ راوی بیان کرتے ہیں: وہ عورت کھڑی دیکھتی رہی کہ اس کے پانی کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: اللہ کی قسم! اس میں سے جتنا بھی پانی نکلا اس کے بعد بھی ہمیں یوں محسوس ہوا تھا شاید وہ مشکیزے پہلے سے زیادہ بھرے ہوئے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس عورت کے لئے کھانے کا سامان اکٹھا کرو، تو اس عورت کے لئے عجوہ کھجوریں آٹا اور ستواکٹھے کئے گئے، یہان تک کہ لوگوں نے اس کے لئے بہت سا اناج اکٹھا کر لیا۔ لوگوں نے اسے ایک کپڑے میں رکھا اور اس عورت کو اس کے اونٹ پر سوار کرکے، وہ تھیلا اس کے آگے رکھ دیا جس میں اناج موجود تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت سے فرمایا تم یہ بات جانتی ہو اللہ کی قسم! ہم نے تمہارے پانی میں کوئی کمی نہیں کی لیکن اللہ تعالیٰ نے ہمیں سیراب کیا ہے، پھر وہ عورت اپنے اہل خانہ کے پاس آئی وہ تاخیر سے ان کے پاس پہنچی تھی، تو ان لوگوں نے دریافت کیا: اے فلانہ تمہیں کس چیز نے روک لیا تھا۔ وہ بولی بڑی حیران کن بات ہے۔ مجھے دو آدمی ملے وہ مجھے ساتھ لے گئے اور ان صاحب کے پاس لے گئے جنہیں بے دین کہا جاتا ہے، پھر انہوں نے میرے ساتھ اس، اس طرح کا سلوک کیا یعنی جو کچھ ہوا تھا( اس کو اس نے بیان کیا) اللہ کی قسم! یہاں سے لے کر یہاں تک کے درمیان موجود اس جگہ میں وہ سب سے بڑے جادوگر ہیں۔ راوی بیان کرتے ہیں: اس عورت نے اپنی شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی کو پہلے آسمان کی طرف اٹھایا۔ پھر زمین کی طرف کیا (اور یہ بات کہی) یا پھر وہ واقعی اللہ کے سچے رسول ہیں۔ راوی بیان کرتے ہیں: اس کے بعد مسلمانوں نے اس کے آس پاس کے علاقوں میں موجود مشرکین پر حملے کئے لیکن اس بستی پر حملہ نہیں کیا جہاں وہ عورت رہتی تھی۔ ایک دن اس عورت نے اپنی قوم سے کہا میرا یہ خیال ہے، یہ لوگ تم لوگوں کو جان بوجھ کر چھوڑ رہے ہیں، تو کیا تم لوگ اسلام میں دلچسپی رکھتے ہو، تو لوگوں نے اس کی بات مان لی اور اسلام میں داخل ہوگئے۔ (امان ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) ابورجاء بن عطاردی کا نام عمران بن تیم ہے ان کا انتقال 120 سال کی عمر میں ہوا۔

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← أَبُو رَجَاءٍ، ← عَوْفٌ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door of tayammum · Hadith 1302

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ صَدَقَةِ الْفِطْرِ · حديث 3303

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ السَّكَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَهْضَمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَكَاةَ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ عَلَى الْحَرِّ وَالْعَبْدِ، وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَأَمَرَ بِهَا أَنْ تُؤَدَّى قَبْلَ خُرُوجِ النَّاسِ إلى الصلاة (1) .

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیا ن کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے کھجور کا ایک صاع یا جو کا ایک صاع صدقہ فطر کے طور پر ادا کرنا ہر آزاد اور غلام پر مذکر اور مونث مسلمان پر لازم قرار دیا ہے آپﷺ نے اس کے بارے میں یہ حکم دیا کہ لوگوں کے نماز عید کے لئے نکلنے سے پہلے اسے ادا کر دیا جائے۔

ابْنِ عُمَرَ ← أَبِيهِ ← عُمَرَ بْنِ نَافِعٍ، ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ جَھْضَمِ ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ السَّكَنِ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter on al-Fitr charity · Hadith 3303

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْوَرَعِ وَالتَّوَکُّلِ · حديث 722

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ التِّرْمِذِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ عَنْ أَبِي الْحَوْرَاءِ السَّعْدِيِّ قَالَ قُلْتُ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ حَدِّثْنِي بِشَيْءٍ حَفِظْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُحَدِّثْكَ بِهِ أَحَدٌ قَالَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم يَقُولُ "دَعْ مَا يُرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يريبك" قال " الخير طمأنينة والشر ريبة".ذِكْرُ الزَّجْرِ عَمَّا يُرِيبُ الْمَرْءَ مِنْ أَسْبَابِ هَذِهِ الدُّنْيَا الْفَانِيَةِ الزَّائِلَةِ [722] أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ التِّرْمِذِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ عَنْ أَبِي الْحَوْرَاءِ السَّعْدِيِّ قَالَ قُلْتُ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ حَدِّثْنِي بِشَيْءٍ حَفِظْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُحَدِّثْكَ بِهِ أَحَدٌ قَالَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم يَقُولُ "دَعْ مَا يُرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يُرِيبُكَ" قَالَ " الْخَيْرُ طُمَأْنِينَةٌ وَالشَّرُّ رِيبَةٌ". وَاُتِیَ النَّبِیُّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِشَیْءٍ مِّنْ تَمْرِ الصَّدَقَۃِ فَاَخَذْتُ تَمْرَۃً فَاَلْقَیْتُھَا فِیْ فِیْ فَاَخَذَھَا بِلْعَابِھَا حَتّٰی اَعَادَھَا فِی التَّمْرِ فَقِیْلَ لَہٗ یَا رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا کَانَ عَلَیْکَ مِنْ ھٰذِہِ التَّمْرَۃِ مِنْ ھٰذَا الصَّبِیِّ فقَالَ: اِنَّا اٰلَ مُحَمَّدٍ لَا یَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَۃُ وَسَمِعقتُ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَدْعُوْ بِھٰذَا الدُّعَاءِ: اَللہُمَّ اھْدِنَا فِیمَنْ ھَدَیْتَ وَعَافِنَا فِیمَنْ عَافِیْتَ وَتَوَلَّنَا فِیمَنْ تَوَلَّیْتَ وَبَارِکْ لَنَا فِیمَا اَعْطَیْتَ وَقِنَا شَرَّمَا قَضَیْتَ اِنَّکَ تَقْضِی وَلَا یُقْضَی عَلَیْکَ اِنَّہٗ لا یذل من والیت تبارکت وتعالیت۔(23:2)

ابو حوراء سعدی بیان کرتےہیں: میں نے حضرت امام حسن ؓ سے کہا : آپ مجھے کوئی ایسی حدیث سنائیے جو آپ نے نبی اکرمﷺ کی زبانی سن کر یار رکھی ہو ‘ وہ کسی اور نے آپ کو نہ سنائی ہو‘ تو حضرت امام حسن ؓ نے بتایا : میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’ تم اس چیز کو چھوڑ دو ‘ جو تمہیں شک میں مبتلا کرتی ہے اور اس چیز کی طرف جاؤ جو تمہیں شک میں مبتلانہیں کرتی ہے ‘‘۔ نبی اکرمﷺ نے یہ بار ت ارشاد فرمائی ہے: ’’ بھلائی اطمینان ہوتا ہے اور برائی مشکوک ہوتی ہے ‘‘۔ ( حضرت امام حسنؓ نے یہ بھی بتایا ) ایک مرتبہ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں صدقے کی کچھ کھجوریں پیش کی گئیں میں نے ان میں سے ایک کھجور لی اور اپنے منہ میں ڈال لی ‘ تو نبی اکرمﷺ نے اس کھجور کو پکڑا اس کا لعاب لیا اور واپس اس کھجور میں ڈال دیا۔ آپ کی خدمت میں عرض کی گئی : یا رسول اللہ! اس بچے نے جو کھجور لی تھی اس کے حوالے سے آپ کو ‘ تو کوئی نقصان نہیں ہوتا ‘ تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : ہمارے ‘ آل محمد کے لئے صدقہ حلال نہیں ہے۔ (حضرت امام حسنؓ نے یہ بات بھی بتائی) میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ دعا مانگتے ہوئے سنا ہے : ’’ اے اللہ ! جنہیں ‘ تو نے ہدایت عطا کی ہے ان میں ہمیں بھی ہدایت پر ثابت قدم رکھ ! جنہیں ‘ تو نے عطا کی ہے ان میں ہمیں بھی عافیت عطا کر ‘ جب کو تونگران بنا ہے ان میں سے ہمارا بھی نگران بن ‘ ہمیں تو نے جو کچھ عطا کیا ہے ان میں ہمارے لئے برکت رکھ د ے اور جو تونے فیصلہ کیا ہے ‘ اس کے شر سے ہمیں بچا لے۔ بیشک تو فیصلہ دیتا ہے تیرے خلاف فیصلہ نہیں دیا جاسکتا ‘ جس کا تو نگران ہو ‘ وہ رسوا نہیں ہو سکتا ‘ تو برکت والا اور بلند وبرتر ہے‘‘۔

أَبِي الْحَوْرَاءِ السَّعْدِيِّ، ← بُرَيْدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ: ← شُعْبَةُ، ← مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ التِّرْمِذِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door of godliness and trust · Hadith 722

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ النَّجَاسَةِ وَتَطْهِيرِهَا · حديث 1383

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قِيلَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: حَدِّثْنَا مِنْ شَأْنِ الْعُسْرَةِ، قَالَ: خَرَجْنَا إِلَى تَبُوكَ فِي قَيْظٍ شَدِيدٍ، فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا، أَصَابَنَا فِيهِ عَطَشٌ، حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّ رِقَابَنَا سَتَنْقَطِعُ، حَتَّى إِنْ كَانَ الرَّجُلُ لَيَذْهَبُ يَلْتَمِسُ الْمَاءَ، فَلَا يَرْجِعُ حَتَّى نَظُنَّ أَنَّ رَقَبَتَهُ سَتَنْقَطِعُ، حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيَنْحَرُ بَعِيرَهُ فَيَعْصِرُ فَرْثَهُ فَيَشْرَبُهُ وَيَجْعَلُ مَا بَقِيَ عَلَى كَبِدِهِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ عَوَّدَكَ اللَّهُ فِي الدُّعَاءِ خَيْرًا، فَادْعُ لَنَا، فَقَالَ: «أَتُحِبُّ ذَلِكَ؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَرَفَعَ يَدَيْهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يُرْجِعْهُمَا حَتَّى أَظَلَّتْ سَحَابَةٌ، فَسَكَبَتْ، فَمَلَأُوا مَا مَعَهُمْ، ثُمَّ ذَهَبْنَا نَنْظُرُ، فَلَمْ نَجِدْهَا جَاوَزَتِ الْعَسْكَرَ (3) . [2: 35] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «فِي وَضْعِ الْقَوْمِ عَلَى أَكْبَادِهِمْ مَا عَصَرُوا مِنْ فَرْثِ الْإِبِلِ وَتَرْكِ أَمْرِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيَّاهُمْ بَعْدَ ذَلِكَ بِغَسْلِ مَا أَصَابَ ذَلِكَ مِنْ أَبْدَانِهِمْ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ أَرْوَاثَ مَا يُؤْكَلُ لُحُومُهَا طَاهِرَةٌ» (1) .

۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتے ہیں: حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ کہا گیا آپ ہمیں غزوہ تبوک کے بارے میں کچھ بتائیے، تو انہوں نے بتایا کہ ہم شدید گرمی کے موسم میں تبوک کی طرف روانہ ہوئے ہم نے ایک جگہ پڑاؤ کیا۔ ہمیں پیاس لاحق ہوگئی یہاں تک کہ ہمیں محسوس ہوا جیسے ہماری گردنیں کٹ جائیں گی (یعنی ہم پیاس کی شدت سے مرجائیں گے) یہاں تک کہ یہ عالم ہوگیا کہ ایک شخص پانی کی تلاش میں جاتا اور وہ واپس نہ آتا تو ہم یہ گمان کرتے کہ شاید وہ مرگیا ہے ایک شخص اپنے اونٹ کو قربان کرتا وہ اس کے گوبر کو نچوڑ کر اسے پیتا تھا اور باقی بچ جانے والے حصے کو اپنے جگر پر رکھ لیتا تھا۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اللہ تعالیٰ نےآپ کی دعا میں بھلائی رکھی ہے، تو آپ ہمارےلئے دعا کیجیئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا تم یہ چاہتے ہو انہوں نے عرض کی: جی ہاں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کردیئے۔ ابھی آپ کے ہاتھ واپس نہیں آئے تھے کہ بادل نے سایہ کردیا، اور بارش شروع ہوگئی۔ لوگوں نے اپنے پاس موجود سب چیزیں بھر لیں پھر اس کے بعد ہم نے اس بات کا جائزہ لیا۔ لشکر سے آگے کہیں بارش نہیں ہوئی (یعنی صرف لشکر کے اوپر بارش ہوئی تھی) (امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) لوگوں کا اونٹ کے گوبر کا نچوڑے ہوئے پانی کو اپنے جگر پر رکھ لینا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ان لوگوں کو اپنے جسم پر لگی ہوئی اس چیز کو دھونے کا حکم دینا۔ اس بات کی دلیل ہے کہ جن جانوروں کا گوشت کھایا جاتا ہے ان کا گوبر پاک ہوتا ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door of uncleanness and its purification · Hadith 1383

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ فَصْلُ ذِكْرِ الْخِصَالِ الَّتِي تَقُومُ لِمُعْدِمِ الْمَالِ مَقَامَ الصَّدَقَةِ لِبَاذِلِهَا · حديث 3377

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ، حَدَّثَنَا حرملة، حدثنا بن وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي هِلَالٍ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْمَهْرِيُّ عَنْ أَبِي ذَرٍّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَيْسَ مِنْ نفس بن آدَمَ إِلَّا عَلَيْهَا صَدَقَةٌ فِي كُلِّ يَوْمٍ طَلَعَتْ فِيهِ الشَّمْسُ". قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمِنْ أَيْنَ لَنَا صَدَقَةٌ نَتَصَدَّقُ بِهَا؟ فَقَالَ: "إِنَّ أَبْوَابَ الْخَيْرِ لَكَثِيرَةٌ: التَّسْبِيحُ، وَالتَّحْمِيدُ، وَالتَّكْبِيرُ، وَالتَّهْلِيلُ، وَالْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ، وَالنَّهْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ، وَتُمِيطُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ، وَتُسْمِعُ الْأَصَمَّ، وَتَهْدِي الْأَعْمَى، وَتُدِلُّ الْمُسْتَدِلَّ عَلَى حَاجَتِهِ، وَتَسْعَى بِشِدَّةِ سَاقَيْكَ مَعَ اللَّهْفَانِ الْمُسْتَغِيثِ، وَتَحْمِلُ بِشِدَّةِ ذِرَاعَيْكَ مَعَ الضَّعِيفِ، فَهَذَا كُلُّهُ صَدَقَةٌ مِنْكَ عَلَى نَفْسِكَ" (1) .

حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہہ، نبی اکرم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " انساں کی ہر ایک سانس کے عوض میں اس پر روزانہ صدقہ دینا لازم ہوتا ہے، جس میں سورج نکلتا ہے۔ عرض کی گئی: یا رسول اللہ ﷺ ! اتنا زیادہ صدقہ دینے کے لئے ہمارے پاس کہاں گنجائش ہے؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: بھلائی کے دروازے زیادہ ہیں سبحان اللہ کہنا، الحمداللہ کہنا، اللہ اکبر کہنا، لا الہٰ الا اللہ پڑھنا ، نیکی کا حکم دینا، برائی سے منع کرنا، تکلیف دہ چیز کو راستے سے ہٹا دینا، بہرے شخص کو بات سمجھا دینا، نابینا شخص کی رہنمائی کر دینا، کسی کام کے سلسلے میں رہنمائی مانگنے والے کی رہنمائی کر دینا ، اپنی ٹانگوں کی مضبوطی کی وجہ سے مدد مانگنے والے پریشان حال شخص کے لیے کوشش کرنا، اپنے بازووں کی مضبوطی کی وجہ سے کمزور شخص کے لئے وزن اٹھا دینا یہ سب تمہاری طرف سے تمہارے نفس کے لئے صدقہ ہیں۔"

اَبِیْ ذَرٍّ ← أَبِي سَعِيدٍ الْمَهْرِيُّ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي هِلَالٍ ← بن وَهْبٍ ← حَرْمَلَةُ، ← ابْنُ سَلْمٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › The chapter on the characteristics that make up for one who has no money is as opposed to giving charity for the one who does it · Hadith 3377

chevron_left Previous
1…181920…641
Next chevron_right