Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الدعاء والذكر

Dua & Dhikr

12814 hadiths

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23391

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ قَالَا حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ قَالَ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ فِي حَدِيثِهِ حَدَّثَنَا زُبَيْدُ بْنُ الْحَارِثِ الْيَامِيُّ عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَزَلَ بِنَا وَنَحْنُ مَعَهُ قَرِيبٌ مِنْ أَلْفِ رَاكِبٍ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ وَعَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ فَقَامَ إِلَيْهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَفَدَاهُ بِالْأَبِ وَالْأُمِّ يَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَكَ قَالَ إِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فِي الِاسْتِغْفَارِ لِأُمِّي فَلَمْ يَأْذَنْ لِي فَدَمَعَتْ عَيْنَايَ رَحْمَةً لَهَا مِنْ النَّارِ وَإِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ ثَلَاثٍ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا لِتُذَكِّرَكُمْ زِيَارَتُهَا خَيْرًا وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ فَكُلُوا وَأَمْسِكُوا مَا شِئْتُمْ وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ الْأَشْرِبَةِ فِي الْأَوْعِيَةِ فَاشْرَبُوا فِي أَيِّ وِعَاءٍ شِئْتُمْ وَلَا تَشْرَبُوا مُسْكِرًا

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے ایک جگہ پہنچ کر پڑاؤ کیا اس وقت ہم لوگ ایک ہزار کے قریب شہسوار تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھیں اور ہماری طرف رخ کر کے متوجہ ہوئے تو آنکھیں آنسوؤں سے بھیگی ہوئی تھیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر اپنے ماں باپ کو قربان کرتے ہوئے پوچھا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم کیا بات ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے اپنے رب سے اپنی والدہ کے لئے بخشش کی دعاء کرنے کی اجازت مانگی تھی، لیکن مجھے اجازت نہیں ملی تو شفقت کی وجہ سے میری آنکھوں میں آنسو آگئے اور میں نے تمہیں تین چیزوں سے منع کیا تھا ، قبرستان جانے سے لیکن اب چلے جایا کرو تاکہ تمہیں آخرت کی یاد آئے میں نے تمہیں تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے منع کیا تھا اب اسے کھاؤ اور جب تک چاہو رکھو اور میں نے تمہیں مخصوص برتنوں میں پینے سے منع فرمایا تھا اب جس برتن میں چاہو پی سکتے ہو البتہ نشہ آور چیز مت پینا۔

أَبِيهِ ← ابْنِ بُرَيْدَةَ، ← مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ← زُبَيْدِ بْنِ الْحَارِثِ اليامي ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ فِي حَدِيثِهِ، ← زُهَيْرٍ ← حَسَنُ بْنُ مُوسَى، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23391

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23461

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ جُرَيَّ بْنَ كُلَيْبٍ النَّهْدِيَّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ قَالَ عَدَّهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَدِي أَوْ فِي يَدِهِ التَّسْبِيحُ نِصْفُ الْمِيزَانِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ تَمْلَؤُهُ وَالتَّكْبِيرُ يَمْلَأُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَالصَّوْمُ نِصْفُ الصَّبْرِ وَالطُّهُورُ نِصْفُ الْإِيمَانِ

بنو سلیم کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کی انگلیوں پر یہ چیزیں شمار کیں سبحان اللہ نصف میزان عمل کے برابر ہے " الحمدللہ " میزان عمل کو بھر دے گا " اللہ اکبر " کا لفظ زمین و آسمان کے درمیان ساری فضاء کو بھر دیتا ہے صفائی نصف ایمان ہے اور روزہ نصف صبر ہے۔

رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ ← جري بن كليب النهدي ← يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23461

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23547

حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنْ جُرَيٍّ النَّهْدِيِّ أَنَّهُ قَالَ لَقِيتُ شَيْخًا مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ بِالْكُنَاسَةِ فَحَدَّثَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَدَّ خَمْسًا فِي يَدِهِ أَوْ فِي يَدِي فَقَالَ التَّسْبِيحُ نِصْفُ الْمِيزَانِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ يَمْلَؤُهُ وَالتَّكْبِيرُ يَمْلَأُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَالصَّوْمُ نِصْفُ الصَّبْرِ وَالطُّهُورُ نِصْفُ الْإِيمَانِ

بنوسلیم کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کی انگلیوں پر یہ چیزیں شمار کیں سبحان اللہ نصف میزان عمل کے برابر ہے " الحمدللہ " میزان عمل کو بھر دے گا " اللہ اکبر " کا لفظ زمین و آسمان کے درمیان ساری فضاء کو بھر دیتا ہے صفائی نصف ایمان ہے اور روزہ نصف صبر ہے۔

لَقِيتُ شَيْخًا مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ بِالْكُنَاسَةِ فَحَدَّثَنِي ← جُرَيٍّ النَّهْدِيِّ أَنَّهُ ← يُونُسَ ← أَبُو قَطَنٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23547

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23729

حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي الْمُغِيرَةِ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ كَانَ فِي لِسَانِي ذَرَبٌ عَلَى أَهْلِي لَمْ أَعْدُهُ إِلَى غَيْرِهِ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَيْنَ أَنْتَ مِنْ الِاسْتِغْفَارِ يَا حُذَيْفَةُ إِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ كُلَّ يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اپنے اہل خانہ سے بات کرتے وقت مجھے اپنی زبان پر قابو نہیں رہتا تھا البتہ دوسروں کے ساتھ ایسا نہیں ہوتا تھا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس چیز کا تذکرہ کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حذیفہ ! تم استغفار سے غفلت میں کیوں ہو؟ میں تو روزانہ اللہ سے سو مرتبہ توبہ واستغفار کرتا ہوں ۔

حُذَيْفَةَ ← أَبِي الْمُغِيرَةِ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← أَبُو أَحْمَدَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23729

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23754

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ الْوَلِيدَ أَبَا الْمُغِيرَةِ أَوْ الْمُغِيرَةَ أَبَا الْوَلِيدِ يُحَدِّثُ أَنَّ حُذَيْفَةَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي ذَرِبُ اللِّسَانِ وَإِنَّ عَامَّةَ ذَلِكَ عَلَى أَهْلِي فَقَالَ أَيْنَ أَنْتَ مِنْ الِاسْتِغْفَارِ فَقَالَ إِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ أَوْ فِي الْيَوْمِ مِائَةَ مَرَّةٍ

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اپنے اہل خانہ سے بات کرتے وقت مجھے اپنی زبان پر قابو نہیں رہتا تھا البتہ دوسرں کے ساتھ ایسا نہیں ہوتا تھا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس چیز کا تذکرہ کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حذیفہ ! تم استغفار سے غفلت میں کیوں ہو؟ میں تو روزانہ اللہ سے سو مرتبہ توبہ و استغفار کرتا ہوں ۔

أَنَّ حُذَيْفَةَ ← الْوَلِيد أَبَا الْمُغيرَة أَو الْمُغيرَة أَبَا الْوَلِيد ← أَبَا إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23754

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23763

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ كُنْتُ رَجُلًا ذَرِبَ اللِّسَانِ عَلَى أَهْلِي فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ خَشِيتُ أَنْ يُدْخِلَنِي لِسَانِي النَّارَ قَالَ فَأَيْنَ أَنْتَ مِنْ الِاسْتِغْفَارِ إِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ فِي الْيَوْمِ مِائَةً قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ ذَكَرْتُهُ لِأَبِي بُرْدَةَ فَقَالَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اپنے اہل خانہ سے بات کرتے وقت مجھے اپنی زبان پر قابو نہیں رہتا تھا البتہ دوسرں کے ساتھ ایسا نہیں ہوتا تھا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس چیز کا تذکرہ کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حذیفہ ! تم استغفار سے غفلت میں کیوں ہو؟ میں تو روزانہ اللہ سے سو مرتبہ توبہ و استغفار کرتا ہوں ۔

كُنْتُ رَجُلًا ذَرِبَ اللِّسَانِ عَلَى أَهْلِي، فَقُلْتُ: ← حُذَيْفَةَ ← عُبَيْدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23763

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23815

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ كَانَ فِي لِسَانِي ذَرَبٌ عَلَى أَهْلِي وَكَانَ ذَلِكَ لَا يَعْدُوهُمْ إِلَى غَيْرِهِمْ فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَيْنَ أَنْتَ مِنْ الِاسْتِغْفَارِ يَا حُذَيْفَةُ إِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ فِي الْيَوْمِ مِائَةَ مَرَّةٍ

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اپنے اہل خانہ سے بات کرتے وقت مجھے اپنی زبان پر قابو نہیں رہتا تھا البتہ دوسرں کے ساتھ ایسا نہیں ہوتا تھا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس چیز کا تذکرہ کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حذیفہ ! تم استغفار سے غفلت میں کیوں ہو؟ میں تو روزانہ اللہ سے سو مرتبہ توبہ و استغفار کرتا ہوں ۔

حُذَيْفَةَ ← عُبَيْدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23815

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24163

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنِي الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ قَالَ بَيْنَا نَحْنُ نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ عَطَسَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ فَقُلْتُ يَرْحَمُكَ اللَّهُ فَرَمَانِي الْقَوْمُ بِأَبْصَارِهِمْ فَقُلْتُ وَا ثُكْلَ أُمِّيَاهْ مَا شَأْنُكُمْ تَنْظُرُونَ إِلَيَّ قَالَ فَجَعَلُوا يَضْرِبُونَ بِأَيْدِيهِمْ عَلَى أَفْخَاذِهِمْ فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ يُصْمِتُونِي لَكِنِّي سَكَتُّ فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبِأَبِي هُوَ وَأُمِّي مَا رَأَيْتُ مُعَلِّمًا قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ أَحْسَنَ تَعْلِيمًا مِنْهُ وَاللَّهِ مَا كَهَرَنِي وَلَا شَتَمَنِي وَلَا ضَرَبَنِي قَالَ إِنَّ هَذِهِ الصَّلَاةَ لَا يَصْلُحُ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ كَلَامِ النَّاسِ هَذَا إِنَّمَا هِيَ التَّسْبِيحُ وَالتَّكْبِيرُ وَقِرَاءَةُ الْقُرْآنِ أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے کہ نمازیوں میں سے ایک آدمی کو چھینک آئی میں نے اسے " یرحمک اللہ " کہہ کر جواب دیا تو لوگ مجھے اپنی آنکھوں سے گھورنے لگے میں نے سٹپٹا کر کہا کیا مصیبت ہے؟ تم لوگ مجھے کیوں دیکھ رہے ہو؟ وہ اپنے ہاتھ اپنی رانوں پر مارنے لگے جب میں نے دیکھا کہ وہ مجھے خاموش کرانا چاہتے ہیں تو میں خاموش ہوگیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم " میرے ماں باپ ان پر قربان ہوں " میں نے ان جیسا معلم پہلے دیکھا اور نہ ان سے بہتر تعلیم دینے والا ان کے بعد دیکھا " جب نماز سے فارغ ہوئے تو اللہ کی قسم انہوں نے مجھے ڈانٹا نہ ہی گالی دی اور نہ مارا پیٹا بلکہ فرمایا کہ اس نماز میں انسانوں کا کلام مناسب نہیں ہوتا نماز تو نام ہے تسبیح و تکبیر اور تلاوت قرآن کا، یا جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔

مُعَاوِيَةُ بْنُ الْحَكَمِ السُّلَمِيُّ ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← هِلَالُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْحَجَّاجُ بْنُ أَبَى عُثْمَانَ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24163

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24170

قَالَ فَصَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَعَطَسَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ فَقُلْتُ يَرْحَمُكَ اللَّهُ فَرَمَانِي الْقَوْمُ بِأَبْصَارِهِمْ فَقُلْتُ وَا ثُكْلَ أُمِّيَاهْ مَا شَأْنُكُمْ تَنْظُرُونَ إِلَيَّ قَالَ فَضَرَبُوا بِأَيْدِيهِمْ عَلَى أَفْخَاذِهِمْ فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ يُصْمِتُونِي سَكَتُّ حَتَّى صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَانِي قَالَ فَبِأَبِي وَأُمِّي مَا رَأَيْتُ مُعَلِّمًا قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ أَحْسَنَ تَعْلِيمًا مِنْهُ فَمَا ضَرَبَنِي وَلَا كَهَرَنِي وَلَا سَبَّنِي وَقَالَ إِنَّ هَذِهِ الصَّلَاةَ لَا يَصْلُحُ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ كَلَامِ النَّاسِ هَذَا إِنَّمَا هِيَ التَّسْبِيحُ وَالتَّكْبِيرُ وَقِرَاءَةُ الْقُرْآنِ أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ ثَلَاثَةُ أَحَادِيثَ حَدَّثَنِيهَا

حضرت معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے کہ نمازیوں میں سے ایک آدمی کو چھینک آئی میں نے اسے " یرحمک اللہ " کہہ کر جواب دیا تو لوگ مجھے اپنی آنکھوں سے گھورنے لگے میں نے سٹپٹا کر کہا کیا مصیبت ہے؟ تم لوگ مجھے کیوں دیکھ رہے ہو؟ وہ اپنے ہاتھ اپنی رانوں پر مارنے لگے جب میں نے دیکھا کہ وہ مجھے خاموش کرانے چاہتے ہیں تو میں خاموش ہوگیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم " میرے ماں باپ ان پر قربان ہوں " میں نے ان جیسا معلم پہلے دیکھا اور نہ ان سے بہتر تعلیم دینے والا ان کے بعد دیکھا " جب نماز سے فارغ ہوئے تو اللہ کی قسم انہوں نے مجھے ڈانٹا نہ ہی گالی دی اور نہ مارا پیٹا بلکہ فرمایا کہ اس نماز میں انسانوں کا کلام مناسب نہیں ہوتا نماز تو نام ہے تسبیح و تکبیر اور تلاوت قرآن کا یا جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24170

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24171

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ حَدَّثَنَا هِلَالُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ مُعَاوِيةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ حَدَّثَنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ بِنَحْوِهِ فَزَادَ فِيهِ وَقَالَ إِنَّمَا هِيَ التَّسْبِيحُ وَالتَّكْبِيرُ وَالتَّحْمِيدُ وَقِرَاءَةُ الْقُرْآنِ أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ سے گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ البتہ اس میں یوں ہے کہ نماز تو نام ہے تسبیح و تکبیر اور تلاوت قرآن کا ، یا جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔

بِهَذَا الْحَدِيثِ بِنَحْوِهِ فَزَادَ فِيهِ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ الْحَكَمِ السُّلَمِيُّ ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← هِلَالُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24171

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24172

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ حَدَّثَنِي هِلَالُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ السُّلَمِيِّ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَعَطَسَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ فَقُلْتُ يَرْحَمُكَ اللَّهُ فَرَمَانِي الْقَوْمُ بِأَبْصَارِهِمْ فَقُلْتُ وَا ثُكْلَ أُمِّيَاهْ مَا شَأْنُكُمْ تَنْظُرُونَ إِلَيَّ قَالَ فَجَعَلُوا يَضْرِبُونَ بِأَيْدِيهِمْ عَلَى أَفْخَاذِهِمْ فَعَرَفْتُ أَنَّهُمْ يُصْمِتُونِي لَكِنِّي سَكَتُّ فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ بِأَبِي هُوَ وَأُمِّي مَا شَتَمَنِي وَلَا كَهَرَنِي وَلَا ضَرَبَنِي فَقَالَ إِنَّ هَذِهِ الصَّلَاةَ لَا يَصْلُحُ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ كَلَامِ النَّاسِ هَذَا إِنَّمَا هِيَ التَّسْبِيحُ وَالتَّكْبِيرُ وَقِرَاءَةُ الْقُرْآنِ أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے کہ نمازیوں میں سے ایک آدمی کو چھینک آئی میں نے اسے " یرحمک اللہ " کہہ کر جواب دیا تو لوگ مجھے اپنی آنکھوں سے گھورنے لگے میں نے سٹپٹا کر کہا کیا مصیبت ہے؟ تم لوگ مجھے کیوں دیکھ رہے ہو؟ وہ اپنے ہاتھ اپنی رانوں پر مارنے لگے جب میں نے دیکھا کہ وہ مجھے خاموش کرانے چاہتے ہیں تو میں خاموش ہوگیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم " میرے ماں باپ ان پر قربان ہوں " میں نے ان جیسا معلم پہلے دیکھا اور نہ ان سے بہتر تعلیم دینے والا ان کے بعد دیکھا " جب نماز سے فارغ ہوئے تو اللہ کی قسم انہوں نے مجھے ڈانٹا نہ ہی گالی دی اور نہ مارا پیٹا بلکہ فرمایا کہ اس نماز میں انسانوں کا کلام مناسب نہیں ہوتا نماز تو نام ہے تسبیح و تکبیر اور تلاوت قرآن کا یا جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔

صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ ← معاوية السلمى ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← هِلَالُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← حَجَّاجٌ الصَّوَّافُ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24172

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24531

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ يَعْنِي الْأَزْرَقَ وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ إِسْحَاقُ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ الْمُكْتَبِ عَنْ بُدَيْلٍ عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْتَتِحُ الصَّلَاةَ بِالتَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ بِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَكَانَ إِذَا رَكَعَ لَمْ يَرْفَعْ رَأْسَهُ وَقَالَ يَحْيَى يُشْخِصُ رَأْسَهُ وَلَمْ يُصَوِّبْهُ وَلَكِنْ بَيْنَ ذَلِكَ وَكَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّكُوعِ لَمْ يَسْجُدْ حَتَّى يَسْتَوِيَ قَائِمًا وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ السُّجُودِ لَمْ يَسْجُدْ حَتَّى يَسْتَوِيَ جَالِسًا قَالَتْ وَكَانَ يَقُولُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ التَّحِيَّةَ وَكَانَ يَنْهَى عَنْ عَقِبِ الشَّيْطَانِ وَكَانَ يَفْتَرِشُ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَيَنْصِبُ رِجْلَهُ الْيُمْنَى وَكَانَ يَنْهَى أَنْ يَفْتَرِشَ أَحَدُنَا ذِرَاعَيْهِ كَالْكَلْبِ وَكَانَ يَخْتِمُ الصَّلَاةَ بِالتَّسْلِيمِ قَالَ يَحْيَى وَكَانَ يَكْرَهُ أَنْ يَفْتَرِشَ ذِرَاعَيْهِ افْتِرَاشَ السَّبُعِ

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز کا آغاز تکبیر سے کرتے تھے اور قرأت کا آغاز سورت فاتحہ سے فرماتے تھے، جب رکوع میں جاتے تھے تو سر کو اونچا رکھتے تھے اور نہ ہی جھکا کر رکھتے بلکہ درمیان میں رکھتے تھے، جب رکوع اٹھاتے تو دوسرا سجدہ اس وقت تک نہ کرتے جب تک سیدھے بیٹھ نہ جاتے، اور ہر دو رکعتوں پر "التحیات" پڑھتے تھے، اور شیطان کی طرح ایڑیوں کو کھڑا رکھنے سے منع فرماتے تھے اور بائیں پاؤں کو بچھا کر دائیں پاؤں کو کھڑا کر لیتے تھے، اور اس بات سے بھی منع فرماتے تھے کہ ہم میں سے کوئی شخص کتے کی طرح اپنے بازوؤں کو بچھا لے، اور نماز کا اختتام سلام سے فرماتے تھے۔

إِسْحَاقُ يَعْنِي الْأَزْرَقَ وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24531

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 973

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ» (1) . [5: 12] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: يَعْنِي هَذَا الدُّعَاءُ أَنَّهُ، قَالَ يَوْمَ أُحُدٍ لَمَّا شُجَّ وَجْهُهُ، قَالَ: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِي» ذَنْبَهُمْ بِي مِنَ الشَّجِّ لِوَجْهِي، لَا أَنَّهُ دُعَاءٌ لِلْكُفَّارِ بِالْمَغْفِرَةِ، وَلَوْ دَعَا لَهُمْ بِالْمَغْفِرَةِ لَأَسْلَمُوا فِي ذَلِكَ الْوَقْتِ لَا مَحَالَةَ (1) .

حضرت سہل بن سعد ساعدی ؓ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " اے اللہ ! تو میری قوم کی مغفرت کر دے کیونکہ وہ لوگ علم نہیں رکھتے۔" ( امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ) اس سے مراد یہ ہے ، نبی اکرم ﷺ نے یہ دعا احد کے دن مانگی تھی۔ جب آپ کا چہرہ زخمی ہو گیا تھا ۔ آپ نے یہ فرمایا تھا: " اے پروردگار! تو میری قوم کی مغفرت کر دے ۔"یعنی ان کے اس ھناہ کی مغفرت کر دے جو انہوں نے میرے چہرے کو زخمی کیا ہے۔ اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ کفار کے لئے مغفرت کی دعا مانگی جارہی ہے، کیونکہ اگر آپ اس وقت ان کے لئے مغٖرت کی دعا مانگ لیتے تو وہ لازمی طور پر اسی عقت مسلمان ہو جاتے۔

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door is not inviting · Hadith 973

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 976

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ، قَالَ: «لَا يَزَالُ يُسْتَجَابُ لِلْعَبْدِ (1) مَا لَمْ يَدْعُ بِإِثْمٍ، أَوْ قَطِيعَةِ رَحِمٍ، مَا لَمْ يَسْتَعْجِلْ» , قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الِاسْتِعْجَالُ؟، قَالَ: «يَقُولُ: يَا رَبِّ قَدْ دَعَوْتُ، وَقَدْ دَعَوْتُ، فَمَا أَرَاكَ تَسْتَجِيبُ لِي، فَيَدَعُ الدُّعَاءَ» (2) . [2: 43]

حضرت ابو ہریرہ ؓ ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : " بندے کی دعا مسلسل مستجاب ہوتی رہتی ہے جب تک کہ وہ کسی گناہ یا قطع رحمی کی دعا نہیں کرتا اور جب تک وہ جلد بازی کا مظاہری نہیں کرتا۔" عرض کی گئی یا رسول اللہ! جلد بازی کا مظاہرہ کرنے سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: وہ یہ کہتا ہے ، اے میرے پروردگار ! میںن نے دعا کی، پھر میں نے دعا کی، لیکن میرا خیال ہے تو نے میری دعا قبول نہیں کی۔" پھر وہ شخص دعا کرنا ترک کر دیتا ہے۔

رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، ← رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door is not inviting · Hadith 976

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 978

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي السَّائِبِ قَاصِّ (2) الْمَدِينَةِ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: «قُصَّ فِي الْجُمُعَةِ مَرَّةً، فَإِنْ أَبِيتَ فَمَرَّتَيْنِ، فَإِنْ أَبَيْتَ فَثَلَاثًا، وَلَا أَلْفِيَنَّكَ تَأْتِي الْقَوْمَ وَهُمْ فِي حَدِيثِهِمْ فَتَقْطَعَهُ عَلَيْهِمْ، وَلَكِنْ إِنِ اسْتَمَعُوا حَدِيثَكَ فَحَدِّثْهُمْ، وَاجْتَنِبِ السَّجْعَ فِي الدُّعَاءِ، فَإِنِّي عَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ يَكْرَهُونَ ذَلِكَ» (1) . [2: 110]

عامر شعبی، مدینہ منورہ کے واعظ ابن ابو سائب کا یہ بیان نول کرتے ہیں: سیدہ عائشہ ؓ نے فرمایا: تم ہفتے میں ایک مرتبہ وعظ کیا کرو اگر یہ بات نہیں مانتے تو دو مرتبہ کر لیا کرو اور اگر یہ بھی نہیں مانتے تو تین مرتبہ کر لیا کرو ۔میں تمہیں ایسی حالت میں یہ پاو کہ تم لوگوں کے پاس آواور وہ اپنی بات چیت میں مگن ہوں ، اور پھر تم ان کی بات کو منقطع کر دو۔

ابْنِ أَبِي السَّائِبِ قَاصِّ الْمَدِينَةِ، ← عَامِرٌ الشَّعْبِيُّ ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door is not inviting · Hadith 978

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 981

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ هَانِئٍ، عَنْ مَسْرُوقِ بْنِ الْأَجْدَعِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمًا , فَخَرَجْنَا مَعَهُ، حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى الْمَقَابِرِ، فَأَمَرَنَا فَجَلَسْنَا، ثُمَّ تَخَطَّى الْقُبُورَ حَتَّى انْتَهَى إِلَى قَبْرٍ مِنْهَا فَجَلَسَ إِلَيْهِ، فَنَاجَاهُ طَوِيلًا، ثُمَّ رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَاكِيًا، فَبَكَيْنَا لِبُكَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا، فَتَلَقَّاهُ عُمَرُ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَقَالَ: مَا الَّذِي أَبْكَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَقَدْ أَبْكَيْتَنَا وَأَفْزَعْتَنَا؟ فَأَخَذَ بِيَدِ عُمَرَ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا، فَقَالَ: «أَفْزَعَكُمْ بُكَائِي؟» قُلْنَا: نَعَمْ , فَقَالَ: «إِنَّ الْقَبْرَ الَّذِي رَأَيْتُمُونِي أُنَاجِي قَبْرُ آمِنَةَ بِنْتِ وَهْبٍ، وَإِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي الِاسْتِغْفَارَ لَهَا، فَلَمْ يَأْذَنْ لِي، فَنَزَلَ عَلَيَّ: {مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ} [التوبة: 113] , فَأَخَذَنِي مَا يَأْخُذُ الْوَلَدُ لِلْوَالِدِ مِنَ الرِّقَةِ، فَذَلِكَ الَّذِي أَبْكَانِي، أَلَا وَإِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ، فَزُورُوهَا، فَإِنَّهَا تُزَهِّدُ فِي الدُّنْيَا وَتُرَغِّبُ فِي الْآخِرَةِ» (1) . [5: 5]

حضرت عب داللہ بن مسعود ؓ باین کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ تشریف لائے ہم بھی آپ کے ساتھ آئے جب ہم قبرستان پہنچے، تو آپ نے ہمیں حکم دیا تو ہم لوگ بیٹھ گئے پھر نبی اکرم ﷺ قبروں کا پھلانگتے ہوئے ، ان میں سے ایک قبر پر تشریف لے گئے آپ اس کے پاس بیٹھ گئے اور آپ نے طویل مناجات کی۔ نبی اکرم واپس تشریف لائے تو آپ رورہے تھے۔۔ نبی اکرم ﷺ کے رونے کی وجہ سے ہم بھی رونے لگے۔ نبی اکرم ﷺ ہماری طرف متوجہ ہوئےحضرت عمر ؓ آپ کے سامنے تھے ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کیوں رو رہے ہیں ؟ آپ نے ہمیں بھی رلا دیا ہے اور ہمیں گریہ و زاری کا شکار کر دیا ہے۔ تو نبی اکرم ﷺ نے حضرت عمر کا ہاتھ پکڑا اور ہماری طرف متوجہ ہوئے اور دریافت کیا : کیا تم لوگ میرے رونے کی وجہ سے گھبرا گئے ہو ، ہم نے عرض کی : جی ہاں۔ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: وہ قبر جسے تم نے دیکھا ہے، میں وہاں مناجات کر رہا تھا وہ ( میری والدہ ) آمنہ بنت وہب کی قبر تھی میں نے اپنے پروردگار سے ان کی مغفرت کا سوال کیا ، تو مجھے اجازت نہیں دی مجھ پر یہ آیت نازل ہوئی۔ " نبی اور اہل ایمان کے لئے یہ بات مناسب نہیں ہے، کہ وہ مشرکین کے لئے دعائے مغفرت کریں۔" تو مجھ پر وہی کیفیت طاری ہو گئی، جو کسی بچے کی اپنی ماں کے لئے رقت ہوتی ہے۔ اسی بات نے مجھے رلا دیا۔ خبردار! میں نے تمہیں قبروں کی زیارت کرنے سے منو کیا تھا اب تم ان کی زیارت کیا کرو کیونکہ یہ دنیا سے بے رغبت کرتی ہیں اور آخرت کی طرف راغب کرتی ہیں ۔

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← مَسْرُوقِ بْنِ الْأَجْدَعِ، ← أَيُّوبَ بْنِ هَانِئٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيُّ، ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door is not inviting · Hadith 981

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ 2 - بَابُ الْمَرِيضِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ · حديث 2962

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْوَلِيدِ الْكِنْدِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ النُّكْرِيِّ1 عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كُنْتُ أُعَوِّذُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِدُعَاءِ كَانَ جِبْرِيلُ يُعَوِّذُهُ بِهِ2 إِذَا مَرِضَ: "أَذْهِبِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ تَنْزِلُ الشِّفَاءَ لَا شَافِيَ إِلَّا أَنْتَ اشْفِ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا" فَلَمَّا كَانَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ جَعَلْتُ أَدْعُو بِهَذَا الدُّعَاءِ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "ارْفَعِي يَدَكِ فإنها كانت تنفعني في المدة" 3. [48:5]

سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نبی اکرم ﷺ کو وہی دعا پڑھ کر دم کر دیا کرتی تھی جو نبی اکرم ﷺ کے بیمار ہونے پر حضرت جبرائیل علیہ السّلام آپ ﷺ کو پڑھ کر دم کیا کرتے تھے (وہ یہ ہے) " تو تکلیف کو لے جا! اے لوگوں کے پروردگار ، تو شفا نازل کر دے، تیرے علاوہ اور کوئی شفا عطا کرنے والا نہیں ہے، تو ایسی شفا عطا کر دے ، جو بیماری کو نہ رہنے دے۔" سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ جب اس بیماری میں مبتلا ہوئے جس میں آپﷺ کا انتقال ہوا تھا، تو میں یہ دعا پڑھ کر آپﷺ کو دم کرنے لگی، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم اپنے ہاتھ کو اٹھا لو، کیونکہ یہ ایک طویل عرصہ مجھے فائدہ دیتی رہی ہے۔

عَائِشَةَ ← أَبِي الْجَوْزَاءِ ← عمرو بن مالك النكري، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← بِشْرُ بْنُ الْوَلِيدِ الْكِنْدِيُّ، ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › 2 - The door of the sick and what is related to it · Hadith 2962

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الِاسْتِعَاذَةِ · حديث 999

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ بِمَنْبَجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ طَاوُوسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعَلِّمُهُمْ هَذَا الدُّعَاءَ كَمَا يُعَلِّمُهُمُ السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ» (1) . [1: 104]

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ان لوگوں کو اس بات کی تعلیم اس طرح دیا کرتے تھے جس طرح انہیں قرآن کی کسی سورت کی تعلیم دیا کرتے تھے۔ اے اللہ! میں جہنم کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، اور زندگی اور موت کی آزمائش سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور دجال کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔"

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← طَاوُوسٍ، ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ بِمَنْبَجٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The section of E-mail · Hadith 999

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْأَذَانِ · حديث 1696

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْھَالِ الضَّرِیرُ قَالَ حَدَّثَنَا یَزِیْدُ بْنُ زُرَیْعٍ قَالَ حَدَّثَنَا اِسْرَائِیْلُ عَنْ اَبِیْ اِسْحَاقَ عَنْ بُرَیْدِ بْنِ اَبِیْ مَرْیَمَ السَّلُوْلِیِّ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: الدُّعَاءُ بَیْنَ الْاَذَانِ وَالْاِقَامَۃِ یستجاب فادعوا۔

حضرت انس بن مالک ؓ روایت کرتے ہیں :نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : اذان اور اقامت کے درمیان کی جانے والی مستجاب ہوتی ہے،تو تم لوگ (اس وقت میں )دعا مانگو۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← بُرَیْدِ بْنِ اَبِیْ مَرْیَمَ السَّلُوْلِیِّ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door to the ears · Hadith 1696

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ حَقِّ الْوَالِدَیْنِ · حديث 418

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنَا حِبَّانُ قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سُلَيْمَانَ عَنْ أُسَيْدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عُبَيْدٍ السَّاعِدِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ قَالَ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ وَأَنَا عِنْدَهُ فقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَوَيَّ قَدْ هَلَكَا فَهَلْ بَقِيَ لِي بَعْدَ مَوْتِهِمَا مِنْ بِرِّهِمَا شَيْءٌ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "نَعَمْ الصَّلَاةُ عَلَيْهِمَا وَالِاسْتِغْفَارُ لَهُمَا وَإِنْفَاذُ عُهُودِهِمَا مِنْ بَعْدِهِمَا وَإِكْرَامُ صَدِيقِهِمَا وَصِلَةُ رَحِمِهِمَا الَّتِي لَا رَحِمَ لَكَ إِلَّا مِنْ قِبَلِهِمَا" قَالَ الرَّجُلُ مَا أَكْثَرَ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأَطْيَبَهُ قَالَ "فَاعْمَلْ به" 1. [1: 2]

حضرت ابو اُسید ؓ بیان کرتے ہیں: بنو سلمہ سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا میں اس وقت نبی اکرمﷺ کےپاس موجود تھا۔ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ انتقال کر چکے ہیں۔ کیا ان کے انتقال کے بعد ان کے ساتھ نیکی کرنے کی کوئی صورت ہے ؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : جی ہاں ! تم ان کے لئے دعائے رحمت کرو ان کے لئے دعائے مغفرت کرو اور ان کے بعد ان کے لے ہوئے عہد کو پورا کرو۔ ان کے دوستوں کی عزت افزائی کرو ان کے رشتے داروں کے حقوق کا خیال رکھو وہ رشتے دار جن کے ساتھ تمہارا رشتہ صرف انہی کے حوالے سے ہے۔ اس شخص نے عرض کی :یا رسول اللہ ! یہ کتنی زبردست اور عمدہ بات ہے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : تم اس پر عمل کرو۔

أَتَى رَسُولَ اللَّهِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ وَأَنَا عِنْدَهُ فقَالَ ← أَبِي أُسَيْدٍ ← أَبِيهِ ← أُسَيْدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عُبَيْدٍ السَّاعِدِيِّ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سُلَيْمَانَ ← عَبْدُ اللَّهِ ← حِبَّانُ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › Chapter on the right of parents · Hadith 418

chevron_left Previous
1…171819…641
Next chevron_right