Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

القرآن الكريم

Quran

6097 hadiths

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ [ علي بن عبد الله بن عباس عن أبيه ] · حديث 10669

10649 - حدثنا أحمد بن محمد بن يحيى بن حمزة الدمشقي حدثني أبي عن أبيه حدثني داود بن عيسى النخعي عن منصور بن المعتمر حدثني علي بن عبد الله بن عباس حدثني أبي أن أباه Y بعثه إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم في حاجة قال : فوجدته جالسا في أصحابه في المسجد فلم أستطع أن أكلمه فلما صلى المغرب قام يركع حتى أذن المؤذن لصلاة العشاء وثاب الناس ثم صلى الصلاة فقام يركع حتى انصرف من بقي في المسجد ثم انصرف إلى منزله وتبعته فلما سمع حسي قال : من هذا ؟ والتفت إلي فقلت : ابن عباس فقال : ابن عم رسول الله صلى الله عليه و سلم قلت : ابن عم رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : مرحبا بابن عم رسول الله ما جاء بك ؟ فقلت : بعثني أبي بكذا وكذا فقال : الساعة جئت ؟ فقلت : لا فقال : إذ لم تنصرف إلى ساعتك هذه فلست منصرفا فدخل منزله ودخلت معه فقلت لأنظرن صلاة رسول الله صلى الله عليه و سلم فنام حتى سمعت غطيطه ثم استيقظ فرمى ببصره إلى السماء وتلا هذه الآيات التي في سورة آل عمران { إن في خلق السماوات والأرض } إلى آخرها الآيات الخمس حتى انتهى إلى { إنك لا تخلف الميعاد } ثم قال : اللهم اجعل في سمعي نورا وفي بصري نورا ومن تحتي نورا واجعل لي عندك نورا وإلى جانبه مخضب من برام مطبق عليه سواك فاستن ثم توضأ ثم ركع ركعتين وعاد فنام أيضا حتى سمعت غطيطه ثم استيقظ فتلا الآيات ودعا الدعوة ثم استن ثم توضأ ثم ركع ركعتين ثم نام حتى سمعت غطيطه ثم استيقظ فتلا الآيات ثم دعا بالدعوة ثم استن ثم توضأ ثم ركع ركعتين ثم نام حتى سمعت غطيطه فتلا الآيات ثم دعا بالدعوة ثم استن ثم توضأ ثم صلى صلاة عرفت أنه يوتر فيها فجئت إلى ركنه الأيسر فأخذ بأصبعة في أذني فأدارني حتى أقامني إلى ركنه الأيمن ثم ركع ركعتين الفجر ثم خرج إلى الصلاة

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ‘اونچی آواز میں پڑھتے تھے۔

أَبِي ← عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ← مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، ← دَاوُدَ بْنِ عِيسَى النَّخَعِيِّ، ← أَبِيهِ ← أَبِي ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ الدِّمَشْقِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 10669

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ رجل لم يسم عن زيد بن أرقم · حديث 5137

5130 - حدثنا إبراهيم بن هاشم البغوي ثنا أمية بن بسطام ثنا معتمر بن سليمان ثنا ثابت بن زيد عن رجل عن زيد بن أرقم Y عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إن الله عز و جل يحب الصمت عند ثلاث عن تلاوة القرآن وعند الزحف وعند الجنازة

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل تین کاموں کے وقت خاموشی کو پسند کرتا ہے : (1) قرآن پاک کی تلاوت (2) جنگ کے وقت (3) جنازہ کے وقت۔

تلاوة القرآن وعند الزحف وعند الجنازة ← إن الله عز و جل يحب الصمت عند ثلاث ← النبي صلى الله عليه و سلم ← زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، ← رَجُلٌ: ← ثَابِتُ بْنُ زَيْدٍ ← مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5137

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ 486 - زيد بن الصامت أبو عياش الزرقي ويقال عبيد بن معاوية بن الصامت كان ينزل المدينة ويقال زيد بن النعمان ويقال الفضيل بن معاذ بن الصامت · حديث 5139

5132 - حدثنا إسحاق بن إبراهيم الدبري عن عبد الرزاق عن الثوري عن منصور عن مجاهد عن أبي عياش الزرقي قال Y كنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم بعسفان فاستقبلنا المشركون عليهم خالد بن الوليد وهم بيننا وبين القبلة فصلى بنا النبي صلى الله عليه و سلم الظهر فقالوا : قد كانوا على حال أو أصبنا غرتهم فقالوا : يأتي عليهم الأن صلاة هي أحب إليهم من أبنائهم وأنفسهم قال : فنزل جبريل عليه السلام بهذا الآيات بين الظهر والعصر { وإذا كنت فيهم فأقمت لهم الصلاة } قال : فحضرت الصلاة فأمرهم رسول الله صلى الله عليه و سلم فأخذوا السلاح فصففنا خلفه صفين ثم ركع فركعنا جميعا ثم رفع رأسه فرفعنا جميعا ثم سجد النبي صلى الله عليه و سلم بالصف الذي يليه والآخرون قيام يحرسونهم فلما سجدوا وقاموا جلس الآخرون فسجدوا في مكانهم ثم تقدم هؤلاء إلى مصاف هؤلاء وجاء هؤلاء إلى مصاف هؤلاء فركعوا جميعا ثم رفع فرفعوا جميعا ثم سجد النبي صلى الله عليه و سلم بالصف الذي يليه والآخرون قيام يحرسونهم فلما جلسوا جلس الآخرون فسجدوا ثم سلم عليهم ثم انصرف فصلاها رسول الله صلى الله عليه و سلم مرتين مرة بعسفان ومرة في أرض بني سليم

حضرت ابو عیاش الزرقی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ مقام عسفان میں تھے ، مشرکوں نے ہمارا سامنا کیا، ان پر خالد بن ولید کمانڈر تھے ، ہمارے اور قبلہ کے درمیان وہ تھے ۔ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ہمیں نماز ظہر پڑھائی ، مشرکوں نے کہا: کوئی ایسا موقع ملے کہ ہم آپ پر حملہ کریں ، انہوں نے کہا: ایسی نماز کا وقت آ رہا ہے ، جو ان کو اپنے بیٹوں اور جانوں سے زیادہ محبوب ہے ۔ حضرت جبریل علیہ السلام ظہر اور عصر کے درمیان آیات لے کر آئے ، " جب آپ ان میں موجود ہوں ، ان کو نماز پڑھائیں" نماز کا وقت ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حکم دیا ، صحابہ کرام نے اسلحہ لیا، ہم نے آپ کے پیچھے دو صفیں بنائیں ، پھر رکوع کیا، دونوں رکعتیں پڑھیں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے سر اٹھایا ، ہم نے بھی اٹھایا، پھر حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے سجدہ کیا اور جو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے قریب تھے انہوں نے سجدہ کیا اور سر سے ان کی حفاظت کے لیے کھڑے رہے ، جب انہوں نے سجدہ کیا اور کھڑے ہوئے اور بیٹھ گئے، انہوں نے سجدہ کیا اور کھڑے ہوئے اور بیٹھ گئے ، انہوں نے ان کی جگہ پر سجدہ کیا، پھر یہ دشمن کے مقابلہ میں چلے گئے ، دوسرے آئے، انہوں نے رکوع کیا اور ہم نے رکوع سے سر اٹھایا، پھر حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے سجدہ کیا جو آپ کے قریب تھے، انہوں نے انہوں نے سجدہ کیا، دوسرے ان کی حفاظت کے لیے کھڑے رہے ، جب بیٹھے اور دو سجدے کیے ، پھر سلام پھیرا ، پھر اپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نماز سے فارغ ہو گئے، حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے دو مرتبہ نماز خوف پڑھائی، ایک مرتبہ مقام عسفان میں اور ایک مرتبہ مقام عسفان میں اور ایک مرتبہ بنی سلیم کے ملک میں۔

أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيِّ ← مُجَاهِدٍ ← مَنْصُورٌ، ← الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5139

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ 486 - زيد بن الصامت أبو عياش الزرقي ويقال عبيد بن معاوية بن الصامت كان ينزل المدينة ويقال زيد بن النعمان ويقال الفضيل بن معاذ بن الصامت · حديث 5140

5133 - حدثنا محمد بن النضر الأزدي ثنا معاوية بن عمرو ثنا زائدة عن منصور عن مجاهد عن أبي عياش الزرقي قال Y كنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم بعسفان فاستقبلنا المشركون عليهم خالد بن الوليد وهم بيننا وبين القبلة فصلى بنا النبي صلى الله عليه و سلم الظهر فقالوا : قد كانوا على حال لو أصبنا غرتهم فقالوا يأتي عليهم الآن صلاة هي أحب إليهم من أبنائهم وأنفسهم قال : فنزل جبريل بهذه الآيات بين الظهر والعصر { وإذا كنت فيهم فأقمت لهم الصلاة } قال : فحضرت الصلاة فأمرهم رسول الله صلى الله عليه و سلم فأخذوا السلاح فصففنا خلفه صفين ثم ركع فركعنا جميعا ثم رفع رأسه فرفعنا جميعا ثم سجد النبي صلى الله عليه و سلم بالصف الذي يليه والآخرون قيام يحرسونهم فلما سجدوا وقاموا جلس الآخرون فسجدوا ثم سلم عليهم ثم انصرف فصلاها رسول الله مرتين مرة بعسفان ومرة في أرض بني سليم

حضرت ابو عیاش الزرقی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ مقام عسفان میں تھے مشرکوں نے ہما را سامنا کیا جب کہ ان پر کمانڈر خالد بن ولید تھے، ہمارے قبلہ کے درمیان وہ تھے آمنے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ہمیں نماز ظہر پڑھائی ، مشرکوں نے کہا : کوئی ایسا موقع ملے کہ ہم آپ پر حملہ کریں انہوں نے کہا: ایسی نماز کا وقت آرہا ہے جو ان کو اپنے بیٹوں اور جانوں سے زیادہ محبوب ہے ۔ حضرت جبریل علیہ السلام ظہر اور عصر کے درمیان آیات لے کر آئے ، " جب آپ ان میں موجود ہوں ان کو نماز پڑھائیں، نماز کا وقت ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حکم دیا ، صحابہ کرام نے اسلحہ لیا ، ہم نے آپ کے پیچھے دو صفیں بنائیں، پھر آپ نے رکوع کیا، ہم نے بھی رکوع کیا، پھر آپ نے سر اٹھایا، ہم نے بھی سر اٹھایا ، پھر حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے سجدہ کیا اور جو آپ کے قریب تھے انہوں نے سجدہ کیا اور دوسرے ان کی حفاظت کے لیے کھڑے رہے، جب انہوں نے سجدہ کیا اور کھڑے ہوئے اور دوسرے بیٹھ گئے ، انہوں نے سجدہ کیا، پھرسلام پھیرا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اپنی نماز سے فارغ ہو گئے ، حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے دو مرتبہ نماز خوف پڑھائی ، ایک مرتبہ مقام عسفان میں اور ایک مرتبہ بنی سلیم کے علاقے میں ۔

أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيِّ ← مُجَاهِدٍ ← مَنْصُورٌ، ← زَائِدَۃَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ← مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5140

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ 486 - زيد بن الصامت أبو عياش الزرقي ويقال عبيد بن معاوية بن الصامت كان ينزل المدينة ويقال زيد بن النعمان ويقال الفضيل بن معاذ بن الصامت · حديث 5142

5135 - حدثنا بكر بن سهل الدمياطي ثنا عبد الله بن يوسف ثنا يحيى بن حمزة عن داود بن عيسى الكوفي ثنا منصور بن المعتمر حدثني مجاهد بن جبر المكي ثنا أبو عياش الزرقي قال Y غزونا مع رسول الله فلقيه المشركون بعسفان وعلى خيلهم يومئذ خالد بن الوليد فحضرتنا صلاة الظهر فأذن المؤذن فأقام الصلاة فهم المشركون أن يحملوا علينا فقال بعضهم : إنها ستحضرهم صلاة هي أحب إليهم من أولادهم يعنون صلاة العصر فأتاه جبريل عليه السلام بالآيات التي فيها صلاة الخوف فلما حضرت الصلاة أذن المؤذن وأقام فتقدم رسول الله صلى الله عليه و سلم وصففنا خلفه صفين والمشركون يومئذ مما يلي القبلة فركع رسول الله صلى الله عليه و سلم وركعنا ثم سجد وسجد الصف الذي يليه وقام المؤخر فلما فرغوا من سجودهم سجد الصف المؤخر فتلاوم المشركون بينهم قال أبو عياش : فصلى بنا في أرض بني سليم أيضا مثلها

حضرت ابو عیاش زرقی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم نے رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ مل کر جہاد کیا۔ پس عسفان کے مقام پر مشرکین آپ سے ملے ، اس دن ان کے کمانڈر حضرت خالد بن ولید ( قبل از اسلام ) تھے ۔ پس ظہر کی نماز کا وقت ہو گیا، مؤذن نے اذان دی ۔ اس کے بعد نماز کھڑی ہوئی ۔ پس مشرکین نے ہم پر حملہ کرنے کا ارادہ کیا ، ان میں سے بعض نے کہا: ان کی ایک ایسی نماز کا وقت ہونے والا ہے جو انہیں اپنی اولاد سے پیاری ہے ، ان کی مراد عصر کی نماز تھی۔ پس حضرت جبریل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس آئے۔ وہ آیات لے کر جس میں صلاۃ الخوف کا تذکرہ تھا۔ پس جب نماز کا وقت ہوا تو مؤذن نے اذان پڑھی اور اقامت کہی ۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم مصلائے امامت پر تشریف لے گئے، تو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنے پیچھے دو صفیں بنائیں ۔ ا س دن مشرکین قبلہ کی سمت تھے ۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے رکوع کیا اور ہم نے بھی رکوع کیا، پھر آپ نے سجدہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ والی صف نے سجدہ کیا اور پچھلی صف والے کھڑے رہے ۔ پس جب وہ اپنے سجدے سے فارغ ہوئے تو دوسری صف والوں نے سجدہ کیا، پس مشرکین ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے ۔ حضرت ابو عیاش فرماتے ہیں : پس آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے بنو سلیم کے علاقے میں بھی ہمیں اسی کی مثل نماز پڑھائی۔

أَبُو عَيَّاشٍ الزُّرَقِيُّ ← مُجَاهِدُ بْنُ جَبْرٍ الْمَكِّيُّ، ← مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، ← داود بن عيسى الكوفي ← يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ← بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5142

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ 486 - زيد بن الصامت أبو عياش الزرقي ويقال عبيد بن معاوية بن الصامت كان ينزل المدينة ويقال زيد بن النعمان ويقال الفضيل بن معاذ بن الصامت · حديث 5144

5137 - حدثنا جعفر بن أحمد بن سنان الواسطي حدثني أبي ثنا يزيد بن هارون أنا جعفر بن الحارث عن منصور عن مجاهد عن أبي عياش الزرقي قال Y صلى بنا رسول الله صلى الله عليه و سلم صلاة الظهر بعسفان وعلى المشركين خالد بن الوليد فقال المشركون : قد كانوا على حال من لو أصبنا غرتهم فقالوا : يأتي عليهم الأن صلاة هي أحب إليهم من أولادهم وأنفسهم فنزل جبريل عليه السلام بالأيات التي فيها صلاة الخوف فصف أصحابه خلفه صفين فكبر وكبرنا جميعا وركع وركعنا جميعا وسجد وسجد الصف الذي يليه فلما قام تأخر الصف الذي يليه فقاموا مقام الصف المؤخر وتقدم الصف المؤخر فقام مقامهم فركع وركعنا جميعا ورفع ورفعنا جميعا وسجد الصف الذي يليه فلما جلس سجد الصف المؤخر

حضرت ابو عیاش زرقی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی ، عسفان کے مقام پر اور مشرکین کے کمانڈر حضرت خالد بن ولید تھے ، تو مشرکین نے کہا: وہ تھے اس حال پر کہ ہم موقعہ پا کر حملہ کر سکتے تھے ۔ پس انہوں نے کہا: ان پر اب ایسی نماز کا وقت ہو رہا ہے جو انہیں اپنی اولاد اور جانوں سے بھی زیادہ پیاری ہے ۔ پس حضرت جبریل علیہ السلام آیات لائے جن میں نماز خوف کا ذکر تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے صحابہ نے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پیچھے دو صفیں بنائیں، پس آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے تکبیر کہی اور تمام نے اکٹھے تکبیر کہی، آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے رکوع کیا اور ہم سب نے رکوع کیا، آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے سجدہ کیا اور آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ والی صف نے سجدہ کیا، پس جب آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کھڑے ہوئے تو آپ کے ساتھ والی صف پیچھے آگئی، پس وہ پیچھے والی صف پر کھڑے ہو گئے اور پیچھے والی صف آگے ہو گئی۔ پس وہ ان کی جگہ کھڑے ہو گئے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے رکوع کیا اور ہم نے بھی رکوع کیا، آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے سر اٹھایا تو ہم نے بھی سر اٹھایا اور سجدہ صرف آپ کے ساتھ والی صف نے کیا، پس جب آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے قعدہ کیا تو پیچھے والی صف نے سجدہ کیا ( یعنی آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ایک رکعت اک صف کو ای رکعت دوسری صف کو پڑھائی)۔

أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيِّ ← مُجَاهِدٍ ← مَنْصُورٌ، ← جَعْفَرِ بْنِ الْحَارِثِ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أَبِي ← جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سِنَانٍ الْوَاسِطِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5144

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ ما أسند سعد بن عبادة رضي الله عنه · حديث 5397

5390 - حدثنا أبو مسلم الكشي ثنا عمرو بن مرزوق أنا شعبة عن يزيد بن أبي زياد عن عيسى بن لقيط عن رجل من أهل الشام عن سعد بن عبادة عن النبي صلى الله عليه و سلم قال Y ما من أحد تعلم القرآن ثم نسيه إلا لقي الله عزوجل أجذم

حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو قر آن سیکھے پھر بھول جائے تو وہ اللہ عزوجل سے ملے گا اس حالت میں کہ اسے جذام (کوڑھ) کی بیماری ہو گی۔

ما من أحد تعلم القرآن ثم نسيه إلا لقي الله عزوجل أجذم ← النبي صلى الله عليه و سلم ← سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، ← رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ ← عيسى بن لقيط ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، ← شُعْبَةُ، ← عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ← أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5397

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الميم ‹ عطاء بن يسار عن معاوية بن الحكم باب · حديث 16613

945 - حدثنا أبو شعيب عبد الله بن الحسن الخزاني ثنا يحيى بن عبد الله البابلتي ثنا الأوزاعي حدثني يحيى بن أبي كثير ثنا هلال بن أبي مميونة حدثني عطاء بن يسار حدثني معاوية بن الحكم السلمي قال Y بينما أن مع النبي صلى الله عليه و سلم إذ عطس رجل من القوم فقلت : يرحمك الله فحدقني القوم بأبصارهم قلت : وا لكل أماه ما لكم تنظرون إلي ؟ قال : فضرب القوم بأيديهم على أفخاذهم فلما رأيتهم يسكتوني لكني سكت فلما انصرف رسول الله صلى الله عليه و سلم بأبي هو وأمي ما رأيت معلما قبله ولا بعده أحسن تعليما منه والله ما ضربني ولا كهرني ولا سبني ولكن قال : ( إن صلاتنا هذه لا يصلح فيها شيء من كلام الناس وإنما هي التسبيح والتكبير وتلاوة القرآن )

حضرت عطاء بن یسار‘ حضرت معاویہ بن حکم سے روایت کرتے ہیں اس اثناء میں کہ میں (نماز میں) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا تو صحابہ میں سے ایک شخص کو چھینک آئی تو میں نے (بلند آواز میں) کہا: اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے ! تو صحابہ کرام نے مجھے اپنی آنکھوں سے گھورا تو میں نے کہا: تمہاری مائیں تمہیں روئیں! تم اس طرح مجھے کیوں دیکھ رہے ہو۔ راوی فرماتے ہیں: پس صحابہ نے اپنی رانوں پر ہاتھ مارے جب میں نے دیکھا کہ وہ مجھے چپ کروا رہے ہیں‘ لیکن میں خاموش نہیں ہو رہا تھا‘ جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام پھیرا‘ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں کہ میں نے آپ سے اچھا کوئی استاد نہیں دیکھا‘ اللہ تعالیٰ کی قسم ! نہ آپ نے مجھے مارا نہ ڈانٹا‘ نہ کوئی سخت لفظ کہا‘ بلکہ فرمایا کہ بے شک یہ ہماری نماز ہے‘ نہیں درست ہے اس میں لوگوں کا کسی طرح کی بات کرنا‘ بے شک یہ نماز تو تسبیں‘ تکبیر اور تلاوت قرآن پاک کا نام ہے۔

مُعَاوِيَةُ بْنُ الْحَكَمِ السُّلَمِيُّ ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← هلال بن أبي مميونة ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَابَلُتِّيُّ، ← أبو شعيب عبد الله بن الحسن الخزاني

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16613

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ 554 - سعد بن عبيد بن النعمان الأنصاري القارىء بدري · حديث 5498

5489 - حدثنا محمد بن عبدالله الحضرمي قال سمعت محمد بن عبد الله بن نمير يقول Y سعد بن عبيد هو أبو زيد وهوالذي جمع القرآن وابنه عمير بن سعد والي عمر وهو سعد بن عبيد بن النعمان

حضرت محمد بن عبداللہ بن نمیر فرماتے ہیں کہ حضرت سعد بن عبید ابو زید وہ ہیں جنہوں نے قرآن کو جمع کیا‘ عمر کے والی بنائے ہوئے‘ ان کے بیٹے عمیر بن سعد بن عبید بن نعمان ہیں۔

مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← محمد بن عبدالله الحضرمي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5498

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ 554 - سعد بن عبيد بن النعمان الأنصاري القارىء بدري · حديث 5501

5492 - حدثنا محمد بن عبدالله ثنا عثمان بن أبي شيبة ثنا هشيم عن داود بن أبي هند لاسماعيل بن أبي خالد و زكرة بن أبي زائدة قال Y جمع القرآن ستة من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم صلى الله عليه و سلم كلهم من الأنصار أبي بن كعب و معاذ بن جبل و زيد بن ثابت و أبوزيد و سعد بن عبيد

حضرت زکریا بن ابو زائدہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چھ صحابہ نے قرآن جمع کیا ہے‘ وہ سارے کے سارے انصاری صحابی تھے: ابی بن کعب‘ معاذ بن جبل‘ زید بن ثابت‘ ابو زید اور سعد بن عبید رضی اللہ عنہم۔

هُشَيْمٌ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← مُحَمَٔد بْنُ عُبَدِاللہِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5501

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ سلامة العجلي عن سلمان رضي الله عنه · حديث 6123

6110 - حدثنا أحمد بن داود المكي ثنا قيس بن حفص الدارمي ثنا مسلمة بن علقمة المازني ثنا داود بن أبي هند عن سماك بن حرب عن سلامة العجلي قال Y جاء ابن أخت لي من البادية يقال له قدامة فقال لي ابن أختي أحب أن ألقى سلمان الفارسي فاسلم عليه فخرجنا فوجدناه بالمدائن وهو يومئذ على عشرين ألفا ووجدناه على سرير يسف خوصا فسلمنا عليه قلت : يا أبا عبد الله هذا ابن أخت لي قدم علي من البادية فأحب أن يسلم عليك قال : وعليه السلام ورحمة الله قلت : يزعم أنه يحبك قال : أحبه الله فتحدثنا وقلنا له : يا أبا عبد الله إلا تحدثنا عن أصلك وممن أنت ؟ قال : أما أصلي وممن أنا فأنا رجل من أهل رامهرمزكنا قوما مجوسا فأتانا رجل نصراني من أهل الجزيزة كانت أمه منا فنزل فينا واتخذ فينا ديرا قال : وكنت في كتاب الفارسية وكان لا يزال غلام معي في الكتاب يجيء مضروبا يبكي قد ضربه أبواه فقلت له يوما : ما يبكيك ؟ قال : يضربني أبواي قلت : ولم يضربانك ؟ قال : آتي صاحب هذا الدير فاذا علما ذلك ضرباني وأنت لو أتيته سمعت منه حديثا عجيبا قلت : فاذهب بي معك فأتيناه فحدثنا عن بدء الخلق و عن بدء خلق السماء والأرض و عن الجنة والنار قال : فحدثنا بأحاديث عجب قال : وكنت أختلف إليه معه قال : ففطن لنا غلمان من الكتاب فجعلوا يجيئون معنا فلما رأى ذلك أهل القرية أتوه فقالوا له : ياهذا إنك قد جاورتنا فلم تر من جوارنا إلا الحسن وإنا نرى غلماننا يختلفون إليك ونحن نخاف أن تفسدهم علينا اخرج عنا قال : نعم فقال لذلك الغلام الذي كان يأتيه : اخرج معي قال : لا أستطيع ذاك وقد علمت شدة أبوي علي قلت : لكني أخرج معك وكنت يتيما لا أب لي فخرجت معه فأخذنا جبل رامهرمز فجعلنا نمشي ونتوكل ونأكل من ثمر الشجر حتى قدمنا الجزيرة فقدمنا نصيبين فقال لي صاحي : يا سلمان إن ههنا قوما هم عباد أهل الأرض وأنا أحب أن ألقاهم قال : نجئنا إليهم يوم الأحد وقد اجتمعوا فسلم عليهم صاحبي فحيوه وبشوا به وقالوا : أين كانت غيبتك ؟ قال : كنت في إخوان لي من قبل فارس فت حدثنا مات حدثنا ثم قال لي صاحبي : ثم يا سلمان انطلق فقلت : لا دعني مع هؤلاء قال : إنك لا تطيق مايطيق هؤلاء يصومون الأحد إلى الأحد ولا ينامون هذا الليل وإذا فيهم رجل من أبناء الملوك ترك الملك ودخل في العبادة فكنت فيهم حتى أمسينا فجعلوا يذهبون واحدا واحدا إلى غارة الذي يكون فيه قال فلما أمسينا قال ذلك الرجل الذي من أبناء الملوك : ماهذا الغلام لا تضعوه ليأخذه رجل منكم فقالوا : خذه أنت فقال لي : هلم يا سلمان فذهب أبي معه حتى أتى غاره الذي يكون فيه فقال : يا سلمان هذا خبز وهذا أدم فكل إذا غرثت وصم إذا نشطت وصل ما بدا لك ونم إذا كسلت ثم قام في صلاته فلم يكلمني إلا ذلك ولم ينظر إلي فأخذني الغم تلك السبعة أيام لا يكلمني أحد حتى كان الأحد فذهبا إلى مكانهم الذي كانوا يجتمعون قال : وهم يجتمعون كل أحد يفطرون فيه فيلقى بعضهم بعضا فيسلم بعضهم على بعض ثم لايلتقون إلى مثله قال : فرجعنا إلى منزلنا فقال لي مثل ما قال أول مرة : هذا خبز وأدم فكل منه إذا غرثت وصم إذا نشطت وصل مابدا لك ونم إذا كسلت ثم دخل في صلاته فلم يلتفت إلي ولم يكلمني إلى الأحد الأخر وأخذني غم وحدثت نفسي بالفرار فقلت أصبر أحدين أو ثلاثة ولما كان الأحد رجعنا إليهم فأفطروا واجتمعوا فقال لهم : اني أريد بيت المقدس فقالوا له : وما تريد إلى ذلك ؟ قال : لا عهد لي به قالوا : إنا نخاف أن يحدث بك حدث فيليك غيرنا وكنا نحب أن نليك قال : لاعهد لي به فلما سمعته يذكر ذلك فرحت قلت : نسافر ونلقى الناس فيذهب عني الغم الذي كنت أجد فخرجت أنا وهو وكان يصوم من الأحد الى الأحد ويصلي الليل كله ويمشي النهار فإذا نزلنا قام يصلي فلم يزل ذلك حتى انتهينا إلى بيت المقدس وعلى الباب رجل مقعد يسأل الناس فقال : اعطني فقال : ما معي شىء فدخلنا بيت المقدس فلما رآه أهل بيت المقدس بشوا إليه واستبشروا به فقال لهم : غلامي هذا فاستوصوا به فانطلقوا بي فأطعموني خبزا ولحما ودخل في الصلاة فلم ينصرف إلي حتى كان يوم الأحد ثم انصرف فقال لي : يا سلمان إني أريد أن أضع رأسي فإذا بلغ الظل مكان كذا وكذا فأيقظني فوضع رأسه فنام فبلغ الظل الذي قال فلم أوقظه ماواة مما رأيت من اجتهاده ونصبه فاستيقظ مذعورا فقال : يا سلمان ألم أكن قلت لك إذا بلغ الظل كذا وكذا فأيقظني ؟ قلت : بلى ولكن إنما منعني ماواة لك لما رأيت من دأبك قال : ويحك يا سلمان إني أكره أن يفوتني شيء من الدهرلم أعمل فيه لله خيرا ثم قال لي : يا سلمان اعلم أن أفضل ديننا اليوم النصرانية قلت : ويكون بعد اليوم دين أفضل من النصرانية ؟ كلمة ألقيت على لساني قال : نعم يوشك أن يبعث نبي يأكل الهدية ولا يأكل الصدقة بين كتفيه خاتم النبوة فإذا أدركته فاتبعه وصدقه قلت : وإن أمرني أن أدع النصرانية ؟ قال : نعم فإنه نبي لا يامر إلا بحق ولا يقول إلا حقا والله لو أدركته ثم أمرني أن أقع في النار لوقعتها ثم خرجنا من بيت المقدس فمررنا على ذلك المقعد فقال له : دخلت فلم تعطني وهذ الخروج فأعطني فالتفت فلم ير حوله أحدا قال : فأعطني يدك فأخذه بيده فقال : قم بإذن الله قال : فقام صحيحا سويا فتوجه نحو أهله فاتبعته بصري تعجبا مما رأيته وخرج صاحبي فأسرع المشي وتبعته فتلقاني رفقة من كلب أعراب فسبوني فحملوني على بعير وشدوني وثاقا فتداولني البياع حتى سقطت إلى المدينة فاشتراني رجل من الأنصار فجعلني في حائط له من نخل فكنت فيه قال : ومن ثمة تعلمت عمل الخوص أشتري خوصا بدرهم فأعمله فأبيعه بدرهمين فأرد درهما في الخوص واستنفق درهما أحب أن أكل من عمل يدي - وهو يومئذ أمير على عشرين ألفا فبلغنا ونحن بالمدينة أن رجلا قد خرج بمكة يزعم أن الله عزوجل أرسله فمكثنا ما شاء الله أن نمكث فهاجر إلينا وقدم علينا فقلت : والله لأجربنه فذهبت إلى السوق فاشتريت لحم جزور بدرهم ثم طبخته فجعلت قصعة من ثريد فاحتملتها حتى أتيته بها على عاتقي حتى وضعتها بين يديه فقال : ( ما هذه أصدقة أم هدية ؟ ) قلت : بل صدقة فقال لأصحابه : ( كلوا بسم الله ) وأمسك ولم يأكل فمكثت أياما ثم اشتريت لحما أيضا بدرهم فاصنع مثلها فاحتملتها حتى أتيته بها فوضعتها بين يديه فقال : ( ما هذه هدية أم صدقة ؟ ) قلت : لا بل هدية فقال لأصحابه : ( كلوا بسم الله ) وأكل معهم قلت : هذا والله يأكل الهدية ولا يأكل الصدقة فنظرت فرأيت بين كتفيه خاتم النبوة مثل بيضة الحمامة فأسلمت ثم قلت له ذات يوم : يا رسول الله أي قوم النصارى ؟ قال : ( لا خير فيهم ) وكنت أحبهم حبا شديدا لما رأيت من إجتهادهم ثم إني سالته بعد أيام يا رسول الله أي قوم النصارى ؟ قال : ( لا خير فيهم ولا فيمن يحبهم ) قلت في نفسي : فأنا والله أحبهم قال : وذاك والله حين بعث السرايا وجرد السيف فسرية تدخل وسرية تخرج والسيف يقطر قلت : يحدث بي الآن أني أحبهم فيبعث إلي فيضرب عنقي فقعدت في البيت فجاءني الرسول ذات يوم فقال : يا سلمان أجب قلت : من ؟ قال : رسول الله صلى الله عليه و سلم قلت : هذا والله الذي كنت أحذر قلت : نعم حتى ألحقك قال : لا والله حتى تجيء وأنا أحدث نفسي أن لو ذهب أن أفر فانطلق بي فانتهيت إليه فلما رآني تبسم وقال لي : ( يا سلمان أبشر فقد فرج الله عنك ) ثم تلا علي هؤلاء الآيات ( الذين آتيناهم الكتاب من قبله هم به يؤمنون وإذا يتلى عليهم قالوا آمنا به إنه الحق من إنا إنا كنا من قبله مسلمين أولئك يؤتون أجرهم مرتين بما صبروا ويدرأون بالحسنة السيئة ومما رزقناهنم ينفقون وإذا سمعوا اللغو أعرضوا عنه وقالوا لنا أعمالنا ولكم أعمالكم سلام عليكم لا نبتغي الجاهلين ) قلت : يا رسول الله والذي بعثك بالحق لقد سمعته يقول : لو أدركته فأمرني أن أقع في النار لوقعتها إنه نبي لا يقول إلا حقا ولا يأمر إلا بالحق

حضرت سلمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین آدمیوں کی طرف اللہ نظر رحمت نہیں کرے گا : بوڑھا زانی‘ تکبر کرنے والا فقیر‘ اور وہ آدمی جس کو اللہ نے مال دیا (یا جس نے اللہ کے نام کو مال کمانے کا ذریعہ بنایا) وہ خریدتا بھی قسم کھا کر ہے اور فروخت بھی نام خدا کی قسم کھا کر کرتا ہے۔

لِي ابْنُ أُخْتِي: أُحِبُّ ← جَاءَ ابْنُ أُخْتٍ لِي مِنَ الْبَادِيَةِ يُقَالُ لَهُ: قُدَامَةَ، ← سلامة العجلي ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← مَسْلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ الْمَازِنِيُّ، ← قَيْسُ بْنُ حَفْصٍ الدَّارِمِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6123

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ 608 - سلمة أبو عمرو بن سلمة الجرمي · حديث 6368

6353 - حدثنا محمد بن عمرو بن خالدالحراني حدثني أبي ثنا زهير ثنا عاصم الأحول عن عمرو بن سلمة قال Y جاء نفر من الحي إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فسمعوه يقول : ليؤمكم أكثركم قرآنا ففدموني بين أيديهم وأنا غلام فكنت أؤمهم في بردة موصولة فكان فيها فتق فكنت إذا سجدت خرجت استي فقالوا لأبي : ألا تغطي عنا استه وكنت أرغبهم في تعليم القرآن قال زهير : فلم يزل إمام قومه في الصلاة وعلى جنائزهم

حضرت مسعر جرمی فرماتے ہیں: میں نے حضرت عمر و بن سلمہ سے سنا کہ ان کے والد گرامی اور ان کی قوم کے چند آدمی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں آئے‘ جب لوگوں کی اکثریت نے اسلام قبول کیا‘ قرآن سیکھا اور اپنی ضروریات پوری کرنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا: ہمیں نماز کون پڑھائے گا ؟ یا کہا: ہمارے لیے نماز کون پڑھائے گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں نماز وہ پڑھائے جس نے قرآن زیادہ حاصل کیا یا جمع کیا ہو۔ پس وہ اپنی قوم کی طرف لوٹ گئے تو انہوں نے ان سے پوچھا‘ پس انہوں نے کسی کو نہ پایا جس نے مجھ سے زیادہ قرآن جمع کیا ہو‘ حالانکہ میں لڑکا تھا‘ مجھ پر ایک کپڑا ہوتا تھا۔ پس انہوں نے اپنے سامنے مجھے آگے کیا تو میں نے ان کو نماز پڑھائی‘ یا راوی کا بیان ہے کہ میں نے ان کے لیے نماز پڑھائی۔ پس اس دن تک میں پکا امام ہوں اور وہ ان کو ان کی مسجد میں بھی نماز پڑھاتے اور ان کے جنازے بھی وہی پڑھاتے تھے۔

عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ، ← عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← زُهَيْرٍ ← أَبِي ← محمد بن عمرو بن خالدالحراني

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6368

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عكرمة عن ابن عباس · حديث 11596

11573 - حدثنا أحمد بن داود المكي ثنا عبد الرحمن بن صالح الأزدي ثنا يونس بن بكير عن محمد بن إسحاق عن داود بن الحصين عن عكرمة عن ابن عباس قال Y إن الآيات التي في المائدة { احكم بينهم بالقسط إن الله يحب المقسطين } إنما نزلت في الدية في بني قريظة وبي النضير وذلك أن قبيل بني النضير كان لهم شرف يؤدون الدية كاملة وإن بني قريظة كانوا يؤدون نصف الدية فتحاكموا في ذلك إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فأنزل الله ذلك فيهم فحملهم رسول الله صلى الله عليه و سلم على الحق في ذلك فجعل الدية سواء

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی زینب کو پہلے نکاح کے ساتھ ہی ان کے خاوند کی طرف بھیج دیا اور کوئی نئی شی نہیں بنائی۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ صَالِحٍ الْأَزْدِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 11596

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ سليمان بن سمرة عن أبيه · حديث 7048

7032 - حدثنا موسى بن هارون ثنا مروان بن جعفر السمري ثنا محمد بن إبراهيم بن خبيب عن جعفر بن سعد عن خبيب بن سليمان عن أبيه عن سمرة رضي الله عنه قال Y إن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يأمرنا أن نقرأ القرآن الكريم كما أقرأناه وقال : إنه أنزل على ثلاثة أحرف لاتختلفوا فيه ولاتحاجوا فيه فإنه مبارك فاقرأوه كالذي أقرئتموه

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عرب‘ سام بن نوح کی اولاد سے ہیں اور روم والے یافث بن نوح کی اولاد سے ہیں اور حبشہ والے حام بن نوح کی اولاد سے ہیں۔

سَمُرَةَ ← أَبِيهِ ← خُبَيْبُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← جَعْفَرُ بْنُ سَعْد، ← محمد بن إبراهيم بن خبيب ← مروان بن جعفر السمري ← مُوسَى بْنُ هَارُونَ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 7048

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الواو ‹ من اسمه واقد واقد مولى رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 18262

413 - حدثنا عبيد العجل حدثنا إبراهيم بن سعيد الجوهري ثنا حسين بن محمد المرودي عن الهيثم بن جماز عن الحارث بن حسان عن زاذان عن واقد مولى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال Y من أطاع الله عز و جل فقد ذكره وان قلت صلاته وصيامه وتلاوته للقرآن ومن عصى الله فلم يذكره وإن كثرت صلاته وصيامه وتلاوته للقرآن

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غلام واقد رضی اللہ عنہ کر کاتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ کی اطاعت کی‘ اس نے اس کا ذکر کیا‘ اگرچہ اس نے نماز اور روزہ اور قرآن کی تلاوت کم کی ہو‘ جس نے اللہ کی نافرمانی کی تو اس نے اللہ کا ذکر نہیں کیا‘ اگرچہ اُس کی نماز روزہ قرآن کی تلاوت زیادہ بھی ہو۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← واقد مولى رسول الله صلى الله عليه و سلم ← زَاذَانَ ← الحارث بن حسان ← الْهَيْثُمَّ بْنِ جِمَازِ ← حسين بن محمد المرودي ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ ← عُبَيْدٌ الْعِجْلُ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 18262

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عكرمة عن ابن عباس · حديث 11713

11689 - حدثنا عثمان بن خالد بن عمرو السلفي الحمصي ثنا أبي ثنا عكرمة بن يزيد الألهاني حدثني الأبيض بن الأغر بن الصباح عن أبي حمزة الثمالي عن عكرمة عن ابن عباس قال Y كان الظهار في الجاهلية يحرم النساء فكان أول من ظاهر في الأسلام أوس بن الصلت وكانت امراته خويلة بنت خويلد وكان الرجل ضعيفا وكانت المرأة جلدة فلما أن تكلم بالظهار قال : لا أراك إلا قد حرمت علي فانطلقي إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم لعلك تبتغي شيئا يردك علي فانطلقت وجلس ينتظرها عند قرني البئر فأتت النبي صلى الله عليه و سلم وماشطة تمشط رأسه فقالت : يا رسول الله إن أوس بن الصامت من قد علمت في ضعف رأيه وعجز مقدرته وقد ظاهر مني يا رسول الله صلى الله عليه و سلم وأحق من عطف عليه بخير إن كان أنا أو عطف علي بخير إن كان عنده هو فقد ظاهر مني يا رسول الله فابتغي شيئا يردني إليه بأبي أنت وأمي قال : يا خويلة ما أمرنا بشيء من أمرك وإن نؤمر فسأخبرك فبينا ماشطته قد فرغت من شق رأسه وأخذت في الشق الآخر أنزل الله عز و جل وكان إذا نزل عليه الوحي يربد لذلك وجهه حتى يجد برده فإذا سري عنه عاد وجهه أبيض كالقلب ثم تكلم بما أمر به فقالت لها ماشطته : يا خويلة إنني لأظنه الآن في شأنك فأخذها أفكل استقلتها رعدة ثم قالت : اللهم بك أعوذ إن تنزل في إلا خيرا فإني لم أبغ من رسولك إلا خيرا فلما سري عنه قال : يا خويلة قد أنزل الله فيك وفي صاحبك { قد سمع الله قول التي تجادلك في زوجها } إلى قوله { ثم يعودون لما قالوا فتحرير رقبة من قبل أن يتماسا } فقالت : والله ما له خادم غيري ولا لي خادم غيره قال : { فمن لم يجد فصيام شهرين متتابعين } فقالت : والله إذا لم يأكل في اليوم مرتين يسدر بصره قال : { فمن لم يستطع فإطعام ستين مسكينا } فقالت : والله مالنا في اليوم إلا وقية قال : فمريه فلينطلق إلى فلان وليأخذ منه شطر وسق من تمر فليتصدق به على ستين مسكينا وليراجعك قالت : فجئت فلما رآني قال : ما وراءك ؟ قالت : خير وأنت ذميم أمرت أن تأتي فلانا فتأخذ منه شطر وسق تمر فتتصدق به على ستين مسكينا وتراجعني فانطلق يسعى حتى جاء به قالت : وعهدي به قبل ذلك ما يستطيع أن يحمل على ظهره خمسة آصع من الضعف

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے غسل کے بعد وضو کیا ‘اس کا تعلق ہم سے نہیں ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← أَبِي حَمْزَةَ الثُّمَالِيِّ، ← الأبيض بن الأغر بن الصباح ← عكرمة بن يزيد الألهاني ← أَبِي ← عثمان بن خالد بن عمرو السلفي الحمصي،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 11713

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عكرمة عن ابن عباس · حديث 11733

11709 - حدثنا عبد الرحمن بن سلم الرازي ثنا سهل بن عثمان ثنا عبد الرحيم عن أشعث بن سوار عن عكرمة عن ابن عباس قال Y خرج ضمرة بن جندب من بيته مهاجرا فقال لأهله : احملوني فأخرجوني من أرض المشركين إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : فمات في الطريق قبل أن يصل إلى النبي صلى الله عليه و سلم قال : فنزل الوحي { ومن يخرج من بيته مهاجرا إلى الله ورسوله } حتى بلغ { وكان الله غفورا رحيما }

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کا ذکر کیا ‘فرمایا: دجال کانا ہے ‘بال گھنگھریالے ‘نسب شریف ‘رنگ چمکیلا ‘اس کا سر گویا چھوٹے خطرناک سانپ کی مانند ہو گا ‘تمام لوگوں میں سے عبدالعزیٰ بن قطن کے زیادہ مشابہ ہو گا کہ وہ کانا ہے اور تمہارا رب کانا نہیں ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ، ← عَبْدُ الرَّحِيمِ ← سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمٍ الرَّازِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 11733

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عكرمة عن ابن عباس · حديث 11913

11889 - حدثنا محمد بن عبد الله بن عبد الرحمن المسروقي ثنا محمد بن طريف البجلي ثنا يونس بن بكير عن عباد بن منصور عن عكرمة عن ابن عباس رضي الله عنهما قال Y كان إذا أنزل على رسول الله صلى الله عليه و سلم الوحي ثقل عليه وأمسك الناس عن كلامه

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے رات گزاری کھانا کھایا اور پیا بھی ‘نماز پڑھنے کے لیے تو حورالعین اس کے ارد گرد صبح تک آتی رہیں گی۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← عَبَّادِ بْنِ مَنْصُورٍ، ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ الْبَجَلِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 11913

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ باب · حديث 18502

653 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا حجاج بن المنهال ( ح ) وحدثنا محمد بن يحيى بن المنذر القزاز ثنا حفص بن عمر الحوضي قالا ثنا همام بن يحيى قال سمعت عطاء بن أبي رباح يقول ثنا صفوان بن يعلى بن أمية عن أبيه Y أن رجلا أتى النبي صلى الله عليه و سلم وهو بالجعرانة وعليه جبة وعليه أثر خلوق قال همام أو قال أثر صفرة فقال : كيف تأمرني أن أصنع في عمرتي ؟ قال : وأنزل على النبي صلى الله عليه و سلم الوحي فستر بثوب قال : وكان يعلى يقول : وددت أني رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم يوحى إليه فقال لي عمر : أيسرك أن تنظر إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم وقد أنزل عليه الوحي فرفع طرف الثوب فنظرت إليه وله غطيط قال همام : أني أحسبه أيضا عال كغطيط البكر فلما سري عنه قال : أين السائل عن العمرة ؟ اخلع الجبة واغسل عنك أما قال أثر الخلوق وأما قال أثر الصفرة شك همام واصنع في عمرتك ما صنعت في حجك

حضرت یعلی فرماتے ہیں: ایک آدمی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جعرانہ کے مقام پر تھے اور اس کے اوپر جبہ تھا اور اُس نے خوشبو لگا رکھی تھی۔ رادی حدیث حضرت ھمام فرماتے ہیں یا کہا: زردی کے نشانات تھے۔ عرض کی: آپ مجھے کیسے حکم دیتے ہیں کہ میں اپنے عمرہ میں کیا کروں ؟ راوی کا بیان ہے‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی نازل ہو رہی تھی اور آپ پر کپڑے سے پردہ کیا گیا تھا۔ راوی کا بیان ہے؛ حضرت یعلی فرماتے ہیں: میری خواہش تھی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس حال میں دیکھوں کہ آپ پر وحی نازل ہو رہی ہو۔ حضرت عمر نے مجھے فرمایا: کیا تجھے یہ بات خوش کرتی ہے کہ تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس حال میں دیکھے کہ آپ پر وحی نازل ہو رہی ہو؟ فرماتے ہیں: پس آپ نے کپڑے کا کنارہ اُٹھایا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف دیکھا، نیند میں خراٹے مارنے کی طرح آواز تھی۔ حضرت ھمام فرماتے ہیں : میرا گمان بھی یہی ہے۔ فرماتے ہیں: یا: غطیط البکر“ کے الفاظ استعمال کیے۔ پس جب یہ کیفیت ختم ہو گئی تو فرمایا: عمرہ کے بارے سوال کرنے والا کہاں ہے؟ (وہ حاضر ہوا تو فرمایا :) جبہ اتار دے اور (اسے) اپنے سے دھو ڈال یا فرمایا: خوشبو کا نشان یا فرمایا: زردی کا نشان۔ حضرت ھمام کو شک ہے۔ اور اپنے عمرہ میں اسی طرح کر جس طرح تو نے اپنے حج میں کیا۔

أَبِيهِ ← صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ← حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الْمُنْذِرِ الْقَزَّازُ ← حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 18502

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ باب · حديث 18503

654 - حدثنا سليمان بن الحسن العطار البصري ثنا عبد الواحد بن غياث ثنا عبد العزيز بن مسلم ثنا عبد الملك بن أبي سليمان عن عطاء عن صفوان بن يعلى عن أبيه يعلى قال Y قلت لعمر بن الخطاب : لوددت أني رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا نزل عليه لوحي قال : فكنا في سفر مع رسول الله صلى الله عليه و سلم فنزل منزلا وجاءه أعرابي عليه جبة عليها الزعفران فقال : يا رسول الله أني أحرمت بعمرة والناس يسخرون مني فكيف أصنع ؟ فسكت عنه رسول الله صلى الله عليه و سلم فأنزل الله الوحي فأشار إلي عمر بيده فأدخلت رأسي الخباء فإذا رسول الله صلى الله عليه و سلم محمر عيناه وجبينه فسري عنه فقال : أين السائل عن العمرة ؟ فقال : أنا يا رسول الله فقال : انزع عنك جبتك وما كنت صانعا في حجك فاصنعه في عمرتك

حضرت یعلی فرماتے ہیں: میں نے حضرت عمر بن خطاب کی خدمت میں عرض کی: میری خواہش ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس حال میں دیکھوں کہ آپ پر وحی نازل ہو رہی ہو۔ فرماتے ہیں: ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں ایک سفر میں تھے۔ آپ ایک مقام (جعرانہ) پر اترے۔ ایک دیہاتی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس کے اوپر جبہ تھا اور اُس نے زعفران کی خوشبو لگا رکھی تھی۔ اُس نے عرض کی: یا رسول اللہ ! میں نے عمرہ کا احرام باندھا ہے جبکہ لوگ مجھ سے مذاق کر رہے ہیں۔ میں کیا کروں؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُسے کوئی جواب نہ دیا۔ پس اللہ نے آپ پر وحی نازل فرمائی۔ حضرت عمر نے ہاتھ سے میری طرف اشارہ کیا۔ میں نے اپنا سر خیمہ میں داخل کیا۔ (تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف دیکھا ، ) آپ کی آنکھیں اور پیشانی سرخ ہو گئی تھیں۔ پس جب یہ کیفیت ختم ہو گئی تو فرمایا: عمرہ کے بارے سوال کرنے والا کہاں ہے؟ ( وہ حاضر ہوا) اُس نے عرض کی : میں ہوں اے اللہ کے رسول ! تو فرمایا: جبہ اتار دے اور اپنے عمرہ میں اسی طرح کر جس طرح تو نے اپنے حج میں کیا۔

أَبِيهِ يَعْلَی ← صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَی ← عَطَاءٍ، ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَطَّارُ الْبَصْرِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 18503

chevron_left Previous
1…363738…305
Next chevron_right