Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

القرآن الكريم

Quran

6097 hadiths

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الجيم ‹ 200 - جارية بن مجمع بن جارية الأنصاري · حديث 2093

2092 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا إبراهيم بن محمد بن عثمان الحضرمي ثنا محمد بن فضيل عن زكريا بن أبي زائدة عن عامر الشعبي Y قال : جمع القرآن على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم ستة من الأنصار زيد بن ثابت و أبو زيد و معاذ بن جبل و أبو الدرداء و سعد بن عبادة و أبي بن كعب وفي حديث زكريا وكان جارية بن مجمع بن جارية قد قرأه إلا سورة أو سورتين

حضرت عامر شعبی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانہ میں انصار کے چھ آدمیوں نے قرآن جمع کیا ، وہ چھ افراد یہ ہیں : زید بن ثابت ، ابو زید، معاذ بن جبل ، ابو الدرداء ، سعد بن عبادہ، ابی بن کعب اور زکریا کی حدیث میں جاریہ بن مجمع بن جاریہ ایک یا دو سورتیں پڑھی تھیں ۔

عَامِرٌ الشَّعْبِيُّ ← زَکَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ← إبراهيم بن محمد بن عثمان الحضرمي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 2093

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الكاف ‹ عبد الرحمن بن أبي ليلى عن كعب بن عجرة مجاهد عن عبد الرحمن · حديث 15894

225 - حدثنا معاذ بن المثنى ثنا مسدد ثنا عبد الوارث عن ابن أبي نجيح عن مجاهد عن عبد الرحمن بن أبي ليلى قال Y مر النبي صلى الله عليه و سلم بكعب بن عجرة وقد آذاه هوام رأسه فأمره أن يحلق فجاءه الوحي فقال النبي صلى الله عليه و سلم : ( إن شئت فصم ثلاثة أيام وإن شئت فرقا بين ستة مساكين وإن شئت فاذبح شاة )

حضرت عبدالرحمٰن بن ابو لیلیٰ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے ان کے سر پر جوئیں تکلیف دے رہی تھیں حضور ﷺ نے سر کے بال اتروانے کا حکم دیا وحی آئی حضور ﷺ نے فرمایا: اگر تُو چاہے تو تین روزے رکھ اگر چاہے تو چھ مساکین کو کھانا کھلااگر تُو چاہے تو ایک بکری کی قربانی کر۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← مُجَاهِدٍ ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← عَبْدُ الْوَارِثِ ← مُسَدَّدٌ ← مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15894

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الخاء ‹ أفلح مولى أبي أيوب عن أبي أيوب · حديث 3987

3986 - حدثنا إدريس بن عبد الكريم الحداد ثنا عاصم بن علي ثنا الربيع بن صبيح حدثني عبد ربه بن ربيعة عن أبي الورد بن أبي بردة عن غلام أبي أيوب Y عن أبي أيوب الأنصاري قال : قدم رسول الله صلى الله عليه و سلم المدينة فنزل على أبي أيوب فأنزل رسول الله صلى الله عليه و سلم السفل ونزل أبو أيوب العلو فلما أمسى وبات فجعل أبو أيوب يذكر أنه على ظهر بيت رسول الله صلى الله عليه و سلم أسفل منه وهو بينه وبين الوحي فجعل أبو أيوب لا ينام يحاذر أن يتناثر عليه الغبار ويتحرك فيؤذيه فلما أصبح غدا على النبي صلى الله عليه و سلم فقال : يا رسول الله ما جعلت الليلة فيها غمضا أنا ولا أم أيوب قال : ومم ذاك يا أبا أيوب ؟ قال : ذكرت أني على ظهر بيت أنت أسفل مني فأتحرك فيتناثر عليك الغبار ويؤذيك تحريكي وأنا بينك وبين الوحي قال : فلا تفعل يا أبا أيوب ألا أعلمك كلمات إذا قلتهن بالغداة عشر مرات وبالعشي عشر مرات أعطيت بهن عشر حسنات وكفر لك بهن عشر سيئات ورفع لك بهن عشر درجات وكن لك يوم القيامة كعدل عشر محررين تقول لا إله إلا الله له الملك وله الحمد لا شريك له

حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم مدینہ شریف تشریف لائے، آپ میرے گھر ٹھہرے ، حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نیچے والے حصے میں ٹھہرے اور میں اوپر والے حصے میں ٹھہرا ، جب شام ہوئی تو میں ساری رات سوچتا رہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نیچے والے حصے میں ہیں حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے اوپر وحی نازل ہوتی ، میں سوتا نہیں تھا اس ڈر ( احتیاط) سے کہ آپ پر غبار نہ گرے اور حرکت نہ کرے اور آپ کو تکلیف نہ ہو۔ جب صبح ہوئی تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس آیا، عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ! میں اور ام ایوب نے ساری رات آنکھ لگا کر نہیں دیکھی، آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: اے ابو ایوب ! وہ کیوں ؟ عرض کی : میں نے خیال کیا کہ آپ گھر کے نیچے والے حصے میں ہیں اور میں اوپر والے حصہ میں حرکت کروں اور آپ پر غبار گرے اور میر ی حرکت کی وجہ سے آپ کو تکلیف ہو اور میں آپ کے درمیان اور وحی کے درمیان حائل ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: اے ابو ایوب ! ایسا نہ کرو ، کیا تمہیں چند ایسے کلمات نہ سکھاؤں کہ جب تو صبح و شام ان کلمات کو دس مرتبہ پڑھ لے تو تجھے دس نیکیاں دی جائیں گی اور تیرے دس گناہ معاف کیے جائیں گے اور تیرے دس درجات بلند کیے جائیں گے اور تیرے لیے قیامت کے دن دس غلام آزاد کرنے کے برابر ثواب ہو گا، تو پڑھ: لا الہ الا للہ الیٰ آخرہٖ"۔

اَبِیْ اَیُّوْبَ الْاَنْصَارِیِّ ← غُلَامِ أَبِي أَيُّوبَ، ← أَبِي الْوَرْدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، ← عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ رَبِيعَةَ، ← الرَّبِيعُ بْنُ صَبِيحٍ ← عَاصِمُ بْنُ عَلِي، ← إِدْرِيسُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْحَدَّادُ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 3987

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الراء ‹ 433 - رافع بن عمير · حديث 4478

4477 - حدثنا محمد بن الحسن بن قتيبة العسقلاني ثنا محمد بن أيوب بن سويد حدثني أبي ثنا إبراهيم بن أبي عبلة عن أبي الزاهرية عن رافع بن عمير قال Y سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : قال الله عز و جل لداود عليه السلام : ابن لي بيتا في الأرض فبنى داود بيتا لنفسه قبل البيت الذي أمر به فأوحى الله عز و جل إليه : يا داود نصبت بيتك قبل بيتي قال : يا رب هكذا قلت فيما قضيت : من ملك استأثر ثم أخذ في بناء المساجد فلما تم السور سقط ثلثاه فشكا ذلك إلى الله عز و جل فأوحى الله عز و جل إليه أنه لا يصلح أن تبني لي بيتا قال : أي رب ولم ؟ قال : لما جرت على يديك من الدماء قال : أي رب أو لم يكن هواك ومحبتك ؟ قال : بلى ولكنهم عبادي وأنا أرحمهم فشق ذلك عليه فأوحى الله إليه : لا تحزن فإني سأقضي بناءه على يدي ابنك سليمان فلما مات داود أخذ سليمان في بنائه فلما تم قرب القرابين وذبح الذبائح وجمع بني إسرائيل فأوحى الله عز و جل إليه : قد أرى سرورا ببنيان بيتي فسلني أعطك قال : أسألك ثلاث خصال حكما يصادف حكمك وملكا لا ينبغي لأحد من بعدي ومن أتى هذا البيت لا يريد إلا الصلاة فيه خرج من ذنوبه كيوم ولدته أمه قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أما اثنتين فقد أعطيهما وأنا أرجو أن يكون قد أعطي الثالثة

حضرت رافع بن عمیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اللہ عزوجل نے حضرت داؤد علیہ السلام سے فرمایا: زمین میں میرے لیے گھر بناؤ! حضرت داؤد علیہ السلام نے اپنے لیے گھر بنایا، اس گھر کے بنانے سے پہلے جس کا حکم دیا گیا، اللہ عزوجل نے ان کی طرف وحی کی: اے داؤد ! آپ نے اپنا گھر میرے گھر سے پہلے بنایا ہے ۔ حضرت داؤد علیہ السلام نے عرض کی: اے رب ! تو نے اسی طرح فرمایا: جس کا فیصلہ فرما چکا ، جو بادشاہ بنا اس نے ہر چیز کو اپنے ساتھ کیا،پھر آپ مسجد بنانے لگے، جب دیواریں مکمل ہوئیں تو اس کا ایک تہائی گر گی۔ حضرت داؤد علیہ السلام نے رب سے شکایت کی تو اللہ عزوجل نے ان کی طرف وحی کی: آپ میرا گھر نہیں بنا سکتے ہیں ۔ حضرت داؤد علیہ السلام نے عرض کی : اے رب! کیوں؟ اللہ عزوجل نے فرمایا: آپ کے ہاتھ سے خون جاری ہوا ہے ؟ حضرت داؤد علیہ السلام نے عرض کی: اے رب ! کیا وہ تیری خواہش اور محبت میں نہیں تھا؟ اللہ عزوجل نے فرمایا: کیوں نہیں ! لیکن وہ میرے بندے ہیں اور میں اپنے بندوں پرزیادہ رحم کرنے والا ہوں۔ یہ بات حضرت داؤد علیہ السلام پر دشوار گزری، اللہ عزوجل نے ان کی طرف وحی کی کہ آپ پریشان نہ ہوں ، کیونکہ میں تیرے بیٹے سلیمان کے ہاتھوں اس کے بننے کا فیصلہ کروں گا۔ پس جب حضرت داؤد علیہ السلام کا وصال ہوا تو حضرت سلیمان علیہ السلام نے اسے بنانا شروع کیا، پس جب کام مکمل ہوا تو آپ نے مصاحبین کے قریب کیا، جانور ذبح کیے اور بنی اسرائیل کو جمع کیا، اللہ عزوئجل نے ان کی طرف وحی کی کہ تم نے میرا گھر بنا کر مجھے خوش کیا، مجھ سے مانگو! میں تمہیں دوں گا! حضرت سلیمان علیہ السلام نے تین باتیں مانگیں ،اپنے حکموں کے موافق فیصلے کی صلاحیت خاص بادشاہی دی جانے کی جو میرے بعد کسی کے لیے نہ ہو اور جو اس گھر میں نماز کے لیے آئے اس کے گناہ اس طرح معاف ہوں جس طرح آج ہی اس کی ماں نے اسے جنا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: دو تو ان کو دی گئی تھیں، میرا یقین ہے کہ تیسری بھی دی گئی تھی۔

رَافِعِ بْنِ عُمَيْرٍ ← أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي عَبْلَةَ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ بْنِ سُوَيْدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ الْعَسْقَلَانِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 4478

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الراء ‹ 436 - رفاعة بن رافع الزرقي الأنصاري عقبي بدري · حديث 4546

4544 - حدثنا محمد بن عمرو بن خالد الحراني حدثني أبي ثنا زهير ثنا عبد الله بن خثيم حدثني إسماعيل بن عبيد بن رفاعة بن رافع عن أبيه عبيد عن رفاعة بن رافع Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لعمر بن الخطاب رضي الله عنه : اجمع لي قومك يا عمر فجمعهم فلما أن حضروا باب رسول الله صلى الله عليه و سلم دخل عليه عمر فقال : قد جمعت لك قومي فسمع ذلك الأنصار فقال : قد نزل في قريش الوحي فجاء المستمع والناظر ما يقول لهم ؟ فخرج رسول الله صلى الله عليه و سلم فقام بين أظهرهم فقال : هل فيكم من غيركم ؟ قالوا : نعم فينا حليفنا وابن أختنا ومولانا فقال رسول الله : حليفنا منا وابن أختنا منا ومولانا منا أنتم تسمعون إن أوليائي يوم القيامة المتقون فإن كنتم أولئك فذاك وإلا فانظروا لا يأت الناس بالأعمال يوم القيامة وتأتون بالأثقال فيعرض عنكم ثم نادى فقال : أيها الناس إن قريشا أهل أمانة من بغاهم الغوائر أو الغواثر - قال زهير : وأظنها العواثر - كبه الله لمنخره قال ذلك ثلاث مرات

حضرت رفاعہ بن رافع سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے عمر! اپنی قوم کو میرے سامنے جمع کرو! حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جمع کیا،جب حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دروازے کے پاس آئے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ داخل ہوئے عرض کی : میں نے آپ کے لیے قوم کو جمع کیا ہے ، انصار نے یہ بات کی، انہوں نے کہا: قریش کے متعلق وحی اتری ہے ، ان میں سے سننے اور دیکھنے والا آیا کہ آپ ان کو کیا فرماتے ہیں ؟ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نکلے، ان کے درمیان کھڑے ہوئے ، آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے علاوہ کوئی ہے ؟ انہوں نے کہا جی ہاں! ہمارا حلیف اور ہماری بہن کا بیٹا اور ہمارا غلام ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: حلیف بھی ہم سے ہے اور ہماری بہن کا بیٹا بھی ہم سے ہے اور ہمارا غلام ہم سے ہے ، تم سن رہے ہو کہ میرے دوست قیامت کے دن پرہیز گار ہوں گے ، اگر تم وہ ہو تو ٹھیک ہے ورنہ دیکھو! ایسا نہ ہو کہ لوگ قیامت کے دن اعمال کے ساتھ آئیں اور تم گناہوں کے ساتھ آؤ پھر تم سے اعراض کر لیا جائے، پھر آواز دی اور فرمایا: اے لوگو! قریش امانت والے ہیں جو ان سے بغاوت کرے گا ان کو اوندھے منہ جہنم میں ڈالا جائے گا۔ حضرت زہیر فرماتے ہیں : عواثر کا لفظ فرمایا: اس کا معنی یہ ہے کہ اوندھے منہ جہنم میں ڈالنا۔ آپ نے یہ کلمہ تین مرتبہ فرمایا۔

رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، ← أَبِيهِ عُبَيْدٍ، ← إسماعيل بن عبيد بن رفاعة بن رافع ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خُثَيْمٍ ← زُهَيْرٍ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 4546

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ 481 - زيد بن ثابت الأنصاري يكنى أبا سعيد ويقال أبو خارجة · حديث 4752

4748 - حدثنا القاسم بن عباد الخطابي ثنا محمد بن حميد الرازي ثنا سلمة بن الفضل عن محمد بن إسحاق عن محمد بن جعفر بن عبد الله ابن الزبير Y أن النبي صلى الله عليه و سلم استكتب عبد الله بن الأرقم فكان يكتب إلى الملوك فبلغ من أمانته عنده أنه كان يكتب إلى بعض الملوك فيكتب ثم يأمره أن يطبقه ثم يختم لا يقرأه لأمانته عنده واستكتب أيضا زيد بن ثابت فكان يكتب الوحي ويكتب إلى الملوك أيضا وكان إذا غاب عبد الله بن الأرقم و زيد بن ثابت فاحتاج أن يكتب إلى بعض أمراء الأجناد والملوك ويكتب لأنسان كتابا يقطعه أمر من حضر أن يكتب وقد كتب له عمر بن الخطاب و عثمان بن عفان و علي بن أبي طالب و زيد بن ثابت و المغيرة بن شعبة و معاوية بن أبي سفيان و خالد بن سعيد بن العاص رضي الله عنهم وغيرهم ممن قد سمي من العرب

حضرت محمد بن جعفر بن عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، حضرت عبداللہ بن ارقم سے لکھواتے تھے ، حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بادشاہوں کی طرف خط لکھتے تھے، ان کے پاس امانت ہوتی ، آپ کسی بادشاہ کو لکھتے ، پھر حکم فرماتے ، اسے بند کیا جاتا ، اس پر مہر لگائی جاتی ، اس امانت کو کوئی نہیں پڑھتا تھا۔ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بھی لکھتے تھے، یہ وحی بھی لکھتے تھے اور بادشاہوں کی طرف بھی لکھتے تھے، جب حضرت عبداللہ بن ارقم اور حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہما موجود نہ ہوتے تھے اور بادشاہوں اور لشکروں کی طرف لکھنے کے لیے تو پھر کسی کو لکھوانے کے لیے بلایا جاتا تو حضرت عمر بن خطاب ، حضرت عثمان بن عفان ، حضرت علی بن ابی طالب ، حضرت زید بن ثابت ، حضرت مغیرہ بن شعبہ ، حضرت معاویہ بن ابو سفیان، حضرت خالد بن سعید بن العاص رضی اللہ عنہم لکھتے ، ان لوگوں میں سے جو عربوں میں سے مشہور تھے۔

محمد بن جعفر بن عبد الله ابن الزبير ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← سلمۃ بن الفضل ← مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ ← الْقَاسِمُ بْنُ عُبَادٍ الْخَطَّابِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 4752

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ باب فاطمة بنت الحسين عن أسماء · حديث 20410

391 - حدثنا جعفر بن أحمد بن سنان الواسطي ثنا علي بن المنذر ثنا محمد بن فضيل ثنا فضيل بن مرزوق عن إبراهيم بن الحسن عن فاطمة بنت علي عن أسماء بنت عميس قالت : Y كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا نزل عليه الوحي كاد يغشى عليه فأنزل عليه يوما وهو في حجر علي فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم : صليت العصر يا علي ؟ قال : لا يا رسول الله فدعا الله فرد عليه الشمس حتى صلى العصر قالت : فرأيت الشمس طلعت بعدما غابت حين ردت حتى صلى العصر

حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم پر جب وحی آنا شروع ہوتی تو آپ مدہوش ہونے کے قریب ہو جاتے ۔ایک دن حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم پر وحی آنا شروع ہوئی ، آپ کا سر مبارک حضرت علی رضی اللہ عنہ کی گود میں تھا ، رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے ان سے فرمایا : اے علی ! کیا تو نے عصر کی نماز پڑھ لی ؟ عرض کی : اے اللہ کے رسول ! نہیں پڑھی تھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے سورج کو لوٹا دیا حتیٰ کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نماز عصر ادا کی۔ فرماتی ہیں کہ میں نے سورج کو غروب ہونے کے بعد طلوع ہوتے دیکھا یہاں تک کہ واپس آیا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نماز عصر ادا کی ۔

أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ ← فاطمة بنت علي ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ ← فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ← عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ، ← جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سِنَانٍ الْوَاسِطِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20410

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الخاء خولة ‹ خولة بنت عاصم وهي الملاعنة التي فرق النبي صلى الله عيه وسلم بينها وبين زوجها · حديث 20655

636 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا أبو نعيم ثنا حفص بن سعيد القرشي حدثتني أمي عن أمها وكانت خادم رسول الله صلى الله عليه و سلم Y أن جروا دخل البيت ودخل تحت السرير ومات فمكث نبي الله صلى الله عليه و سلم أياما لاينزل عليه الوحي فقال : يا خولة ما حدث في بيت رسول الله ؟ جبريل لايأتيني فهل حدث في بيت رسول الله حدث ؟ فقلت : والله ما أتى علينا يوم خير من يومنا فأخذ برده فلبسه وخرج فقلت : لو هيأت البيت وكنسته فأهويت بالمكنسة تحت السرير فإذا شيء ثقيل فلم أزل حتى أخرجته فإذا بجرو ميت فأخذته بيدي فألقيته خلف الدار فجاء نبي الله ترعد لحيته وكان إذا أتاه الوحي أخذته الرعدة فقال : يا خولة دثريني فأنزل الله { والضحى * والليل إذا سجى * ما ودعك ربك وما قلى }

حضرت حفص بن سعید حدیث بیان کرتے ہیں کہ مجھے میری ماں نے اپنی ماں سے روایت کر کے حدیث سنائی جبکہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خادمہ تھیں کہ ایک پلہ ( کتیاکا بچہ ) گھر میں داخل ہو کر چارپائی کے نیچے چلا گیا، اور مر گیا ، چند دن رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر وحی آنا بند ہو گئی ۔ فرمایا : اے خولہ ! کیا بات ہوئی کہ اللہ کے رسول کے گھر میں حضرت جبرائیل علیہ السلام نہیں آتے ، کیا للہ کے رسول کے گھر میں کوئی نئی بات ہو گئی ہے ؟ میں نے عرض کی : قسم بخدا ! ہم پر کوئی دن ہمارے دن سے بہتر نہیں آتا ۔ پس آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چادر لے کر پہنی اور گھر سے باہر تشریف لے گئے ۔ میں نے دل میں کہا اگر ہو سکتے تو میں گھر میں جھاڑو دے کر اسے تیار کر دوں ، پس میں نے چارپائی کے نیچے سے جھاڑو اٹھانے کا ارادہ کیا تو اچانک دیکھا، ایک بوجھل ( بھاری ، ثقیل ) چیز موجود ہے ، پس میں نے لگاتار کوشش کر کے اسے نکال دیا، وہ مرا ہوا پلہ تھا۔ پس میں نے اسے اپنے ہاتھ سے پکڑ کر گھر سے کے پیچھے پھینک دیا۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی داڑھی والی دونوں طرفیں کانپ رہی تھیں۔ ویسے یہ تب ہوتا تھا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر وحی آتی، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر کپکپی طاری ہو جاتی ، فرمایا : اے خولہ مجھے کمبل اوڑھا دو، پس یہ آیت نازل ہوئی : ( والضحیٰ و اللیل اذا سجیٰ الی آخرہ " ۔

حَفْصُ بْنُ سَعِيدٍ الْقُرَشِيُّ حَدَّثَتْنِي أُمِّي ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20655

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ سهل بن سعد الساعدي عن زيد بن ثابت · حديث 4791

4787 - حدثنا محمد بن عثمان بن أبي شيبة ثنا عقبة بن مكرم ( ح ) وحدثنا محمد بن يحيى بن منده الأصبهاني ثنا أبو كريب قالا ثنا يونس بن بكير عن عثمان بن عبد الرحمن عن الزهري عن سهل بن سعد قال سمعت زيد بن ثابت يقول Y كان إذا انزل الوحي على رسول الله صلى الله عليه و سلم ثقل لذلك ويحدر جبينه عرقا كأنه الجمان وإن كان في البرد واللفظ لعقبة بن مكرم

حضرت سہل بن سعد فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا : جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی نازل ہوا کرتی تھی تو وہ بھاری ہوتی حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشانی پر پسینہ آجاتا گویا کہ وہ موتی ہیں اگرچہ آپ سردی میں ہوتے تھے اور یہ الفاظ حضرت عقبہ بن مکرم کے ہیں۔

زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ← سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مَنْدَهٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ← عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ:

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 4791

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ أبو الزناد عن خارجة بن زيد بن ثابت · حديث 4857

4851 - حدثنا جعفر بن محمد القلانسي ثنا آدم بن ابي إياس ( ح ) وحدثنا أبو يزيد القراطيسي و يحيى بن أيوب العلاف قالا ثنا سعيد بن ابي مريم ( ح ) وحدثنا أبو حصين القاضي ثنا يحيى الحماني قالوا ثنا عبد الرحمن بن أبي الزناد حدثني أبو الزناد أن خارجة بن زيد بن ثابت حدثه عن أبيه Y أن السكينة غشيت رسول الله صلى الله عليه و سلم قال زيد س : وأنا إلى جنبه فرقعت فخذ رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم سري عنه فقال : اكتب فكتبت { لا يستوي القاعدون من المؤمنين غير أولي الضرر والمجاهدون في سبيل الله بأموالهم وأنفسهم } الآيات كلها قال : فكتبت ذلك في كتف فقام ابن أم مكتوم - وكان رجلا أعمى - حين سمع فضيلة المجاهدون على القاعدون فقال : يا رسول الله فكيف بمن لا يستطيع الجهاد من المؤمنين فما قضى ابن أم مكتوم كلامه أو قال ألا أن يحصي كلامه حتى غشيت رسول الله صلى الله عليه و سلم السكينة فوقعت فخذه على فخذي فوجدت من ثقلها الثانية مثل ما وجدت منها في المرة الأولى ثم سري عن رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : اقرأ فقرأت { لا يستوي القاعدون من المؤمنين } فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم { غير أولي الضرر } قال زيد فألحقتها فكأني أنظر إلى ملحقتها عند صدع في الكتف

حضرت خارجہ بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سکون و اطمینان نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو ڈھانپ لیا، حضرت زید نے فرمایا: میں آپ کے پاس تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ران مبارک میری ران پر تھی،رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ران بھاری تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر وحی آنا ختمہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: لکھو ! میں نے لکھا: " لا یسوی القاعدون۔۔۔۔۔ " مکمل آیت میں نے کندے کی ہڈی میں لکھی،حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے ، جس وقت انہوں نے مجاہدین کی فضیلت سنی بیٹھنے والوں پر ، یہ نابینا تھا، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ! اس آدمی کے لیے کیا حکم ہے جو ایمان والوں میں سے جہاد کرنے کی طاقت نہیں رکھتا ؟ حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کا کلام ختم ہوا تو حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر سکونت نازل ہوئی ، آپ کی ران میری ران پر تھی میں نے دوسری مرتبہ آپ کی ران کا بھاری پن زیادہ پایا پہلی مرتبہ سے ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر وحی آنا ختم ہوئی ، آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: پڑھو! میں نے پڑھا : " لا یستوی القاعدون الیٰ آخرہٖ" حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: " غیر اولی الضرر " حضرت زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے اسے اس سے ملایا، گویا میں اب بھی اس کے ملنے کو دیکھ رہا ہوں ، میں نے اسے لکھا۔

أَبُو الزِّنَادٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ← يحيى الحماني ← أَبُو حُصَيْنٍ الْقَاضِي ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← أبو يزيد القراطيسي و يحيى بن أيوب العلاف ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانِسِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 4857

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ أبو الزناد عن خارجة بن زيد بن ثابت · حديث 4874

4868 - حدثنا علي بن عبد العزيز و عبد الله بن أحمد بن حنبل قالا ثنا إبراهيم بن زياد سبلان ثنا عباد بن عباد عن محمد بن عمرو عن موسى ابن عقبة عن أبي الزناد عن خارجة بن زيد بن ثابت عن أبيه قال Y نزلت هذه الآية التي في سورة النساء { ومن يقتل مؤمنا متعمدا فجزاؤه جهنم خالدا فيها وغضب الله عليه ولعنه وأعد له عذابا عظيما } بعد الآيات التي في سورة الفرقان { والذين لا يدعون مع الله إلها آخر ولا يقتلون النفس التي حرم الله إلا بالحق ولا يزنون ومن يفعل ذلك يلق أثاما } بستة أشهر

حضرت خارجہ بن زید اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، وہ فرماتے ہیں : جب سورۂ نساء کی یہ آیت : " جو کوئی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کا بدلہ جہنم ہے اور مدتوں اس میں رہے اور اللہ نے اس پر غضب کیا اور اس پر لعنت کی اور اس کے لیے تیار رکھا بڑا عذاب" ۔ سورۂ فرقان کے چھ ماہ بعد نازل ہوئی کہ " وہ لوگ جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پوجتے ہیں اور اس جان کو جس کی اللہ نے حرمت رکھی ہے ، ناحق نہیں مارتے اور بدکاری نہیں کرتے ، جو یہ کام کرے گا وہ سزا پائے گا"۔

أَبِيهِ ← خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثابت ← أَبِي الزِّنَادِ، ← موسى ابن عُقْبَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ زِيَادٍ سَبَلَانَ ← علي بن عبد العزيز و عبد الله بن أحمد بن حنبل

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 4874

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ سليمان بن خارجة عن خارجة بن زيد · حديث 4888

4882 - حدثنا مطلب بن شعيب الأزدي ثنا عبد الله بن صالح حدثني الليث عن الوليد بن أبي الوليد عن سليمان بن خارجة بن زيد بن ثابت عن خارجة بن زيد بن ثابت أنه قال Y دخل نفر على زيد بن ثابت فقالوا : حدثنا بعض حديث رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : وما أحدثكم ؟ كنت جاره فكان إذا نزل الوحي أرسل إلي فكتبت الوحي وكان إذا ذكرنا الآخرة ذكرها معنا وإذا ذكرنا الدنيا ذكرها معنا وإذا ذكرنا الطعام ذكره معنا فكل هذا أحدثكم عنه

حضرت خارجہ بن زید بن ثابت فرماتے ہیں کہ ایک گروہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، انہوں نے کہا: کچھ لوگوں نے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی حدیث بیان کی ہے ! حضرت زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تم کو بیان کیا کروں ؟ میں آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس رہتا تھا، جب آپ پر وحی نازل ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم میری طرف پیغام بھیجتے میں وحی لکھتا تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہمیں آخرت یا د کرواتے تو ہم آپ کے ساتھ ہوتے تھے ، جب ہم کو دنیا کے متعلق بتاتے تو ہم آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ ہوتے تھے ، جب کھانے کا ذکر کرتے تو اس کے متعلق بتاتے تو آپ ہمارے ساتھ ہوتے ، میں تم کو ان سب چیزوں کے متعلق بتاؤں گا۔

بعض حديث رسول الله صلى الله عليه و سلم ← «دَخَلَ نَفَرٌ عَلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ← خَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّهُ ← سليمان بن خارجة بن زيد بن ثابت ← الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي الْوَلِيدِ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 4888

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ سليمان بن زيد بن ثابت عن أبيه · حديث 4894

4888 - حدثنا جعفر بن محمد الفريابي ثنا عبد الرحمن بن إبراهيم دحيم ثنا عبد الله بن يحيى المعافري عن نافع بن يزيد عن عقيل بن خالد عن الزهري عن ابن سليمان بن زيد بن ثابت عن أبيه عن جده زيد بن ثابت قال Y كنت أكتب الوحي عند رسول الله صلى الله عليه و سلم وكان يشتد نفسه ويعرق عرقا شديدا مثل الجمان ثم يسري عنه فأكتب وهو يملي علي فما أفرغ حتى يثقل فإذا فرغت قال : اقرأ فأقرؤه فإن كان فيه سقط أقامه

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس میں وحی لکھا کرتا تھا، وہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر بہت سخت ہوتی ، آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو پسینہ آ جاتا تھا، جیسے موتی پھر وہ کیفیت ختم ہو جاتی ۔ میں لکھتا تھا اور حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم لکھواتے تھے،پس فارغ نہ ہوتا یہاں تک کہ ( بعض اوقات ) آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی طبیعت بوجھل ہو جاتی ، پاس جب میں فارغ ہوتا تو آپ فرماتے : پڑھ ! پس میں پڑھتا ، پس اگر اس میں کوئی لفظ رہ گیا ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم پورا کر وا دیتے ۔

جده زيد بن ثابت ← أَبِيهِ ← ابن سليمان بن زيد بن ثابت ← الزُّهْرِيِّ، ← عُقَيْلِ بْنِ خَالِدٍ، ← نَافِعُ بْنُ یَزِیدَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَحْيَى الْمَعَافِرِيُّ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ دُحَيْمٌ ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 4894

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ سليمان بن زيد بن ثابت عن أبيه · حديث 4895

4889 - حدثنا أحمد بن محمد بن نافع الطحان المصري ثنا أبو الطاهر بن السرح قال : وجدت في كتاب خالي عبد الحنميد حدثني عقيل حدثني سعيد بن سليمان أخبره عن أبيه سليمان بن زيد عن زيد بن ثابت قال Y كنت أكتب الوحي لرسول الله صلى الله عليه و سلم وكان إذا نزل عليه أخذته برحاء شديدة وعرق عرقا شديدا مثل الجمان ثم سري عنه فكنت أدخل عليه بقطعة القتب أو كسرة فأكتب وهو يملي علي فما أفرغ حتى تكاد رجلي تنكسر من ثقل القرأن حتى أقول لا أمشي على رجلي أبدا فإذا فرغت قال اقرأه فإن كان فيه سقط أقامه ثم أخرج به إلى الناس

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرمات ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے حکم سے میں وحی لکھا کرتا تھا اور جب آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو سخت تکلیف ہوتی ، موتیوں کی طرح آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی پیشانی پر پسینہ چمکنے لگتا تھا۔ پھر اس سے فرصت ملتی تو میں آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت میں کجاوے کے ٹکڑے لے کر حاضر ہوتا ۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم لکھواتے جاتے میں لکھتا جاتا، پس فارغ ہونے سے قبل قرآن کے بوجھ سے میری ٹانگیں ٹوٹنے کو آ جاتیں حتیٰ کہ میں دل میں کہتا کہ اب ان ٹانگوں کے ساتھ میں کبھی نہیں چل سکوں گا۔ پس جب فارغ ہوتا ، آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرماتے : اسے پڑھ اگر اس میں کوئی لفظ چھوت گیا ہوتا تو آپ لکھوا دیتے تھے پھر میں اس کو لے کر لوگوں کی طرف نکلتا۔

زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ← أبيه سليمان بن زيد ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← عَقِیلٍ ← وجدت في كتاب خالي عبد الحنميد ← أَبُو الطَّاهِرِ بْنُ السَّرْحِ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَافِعٍ الطَّحَّانُ الْمِصْرِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 4895

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ عبيد بن السباق عن زيد بن ثابت · حديث 4907

4901 - حدثنا مطلب بن شعيب الأزدي ثنا عبد الله بن صالح حدثني الليث حدثني عبد الرحمن بن خالد بن مسافر عن ابن شهاب عن ابن السباق أن زيد بن ثابت حدثه قال Y أرسل لي أبو بكر رضي الله عنه مقتل أهل اليمامة فإذا عمر بن الخطاب رضي الله عنه عنده فقال أبو بكر : إن عمر أتاني فقال لي : إن القتل قد استحر بأهل اليمامة من قراء المسلمين وإني أخشى أن يستحر القتل بالقراء في مواطن فيذهب كثير من القرآن لا يوعى وإني أرى أن تأمر بجمع القرآن فقلت لعمر : كيف أفعل شيئا لم يفعله رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ قال عمر : هو والله خير فلم يزل يراجعني في ذلك حتى شرح الله صدري بذلك و ورأيت فيه الذي رأى عمر فقال لزيد بن ثابت و عمر جالس عنده لا يتكلم : إنك رجل شاب لا أتهمك وكنت تكتب الوحي لرسول الله صلى الله عليه و سلم فتتبع القرآن فأجمعه فقال زيد : فوالله لو كلفوني نقل جبل من الجبال ما كان أثقل علي مما أمرني به من جمع القرآن قلت : كيف تفعلون شيئا لم يفعله رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ قال : هو والله خير فلم يزل أبو بكر يراجعني حتى شرح الله صدري للذي شرح له صدر أبي بكر و عمر فقمت فتتبعت القرآ أجمعه من الرقاع والأكتاف والأقتاب والعسب وصدور الرجال حتى وجدت آخر سورة التوبة مع خزيمة بن ثابت الأنصاري لم أجدها مع أحد غيره { لقد جاءكم رسول من أنفسكم } وكانت الصحف عند أبى بكر رضي الله عنه حياته حتى توفاه الله عز و جل ثم عند عمر رضي الله عنه حتى توفاه الله ثم عند حفصة بنت عمر حتى جمع عثمان القرآن منها في المصاحف

حضرت ابن سباق سے روایت ہے کہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے فرمایا: حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے میری طرف پیغام بھیجا ، اہل یمامہ کے قتل ہونے کے وقت ، پس ( میں حاضر خدمت ہوا ) تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی وہاں موجود تھے۔ پس حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بے شک حضرت عمر میرے پاس آئے اور کہا : یمامہ کی جنگ میں بہت سارے مسلمان قاری شہید ہو گئے ہیں اور مجھے ڈر ہے کہ مختلف جگہ قراء شہید ہوئے ، تو قرآن کا بہت سا حصہ چلا جائے گا، جو یاد نہیں کیا گیا ہوگا، بے شک میری رائے ہے کہ آپ قرآن جمع کرنے کا حکم دیں۔میں نے عرم سے کہا: میں وہ کام کیسے کر سکتا ہوں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے نہیں کیا؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : قسم بخدا ! یہ اچھا کام ہے۔ پس وہ بار بار مجھے کہتے رہے حتیٰ کہ اللہ نے مجھے نشراح صدر عطا فرمایا اور میری رائے عمر کی رائے سے متفق ہو گئی ۔ آپ نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے کہا جب کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ پاس موجود تھے، لیکن وہ کلام نہیں کر رہے تھے: بے شک تو جوان ادمی ہے اور میں تجھے کسی معاملے میں تہمت نہیں لگاتا، آپ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے حکم سے وحی لکھا کرتے تھے ۔ پس ( اب ) قرآن کو تلاش کر کے اکٹھا کرو ( ایک جگہ لکھو ) پس حضرت زید پہاڑ کو اپنی جگہ سے منتقل کرنے کا مکلف بناتے تو مجھ پر اتنا بھاری نہ ہوتا جتنا انہوں نے مجھے قرآن جمع کرنے کا حکم فرمایا،میں نے عرض کی: آپ لوگ وہ کام کیسے کر سکتے ہیں ، جو رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے نہیں کیا؟ آپ نے فرمایا: قسم بخدا ! یہ اچھا کام ہے ۔ پس حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بار بارمجھے یہ کام ارشاد فرماتے رہے یہاں تک کہ اللہ نے میرا سینہ کھول دیا ، اس کام کے لیے جس کے لیے حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما کا سینہ کھولا تھا، پس میں اٹھ کھڑا ہوا ۔ میں نے قرآن تلاش کرکے اکٹھا کرنا شروع کر دیا، کچھ کاغذ کے ٹکڑوں پہ تھا، اونٹ کے کندھے کی ہڈیوں پر ، پالان یا کجاووں پر اور کچھ قرآن کھجور کی پتے اتاری ہوئی ٹہنیوں پر موجود تھا اور قرآن کا کچھ حصہ لوگوں کے سینوں سے موصول ہوا۔ حتیٰ کہ سورۂ توبہ کی آخری آیت مجھے حضرت خزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس ملی ، لیکن ان کے علاوہ کسی گرد بشر کے پاس نہ تھی: لقد جاء کم رسول من الفسکم " سارے صحیفے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی زندگی میں ان کے پاس رہے حتیٰ کہ ان کا وصال ہوا، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس رہے ، حتیٰ کہ وہ بھی شہید ہوئے ، پھر حضرت حفصہ بنت عمر ام المؤمنین کے پاس رہے ، پھر وہ وقت آیا جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس سے مصاحف میں قرآن کو جمع فرمایا:

أبو بكر إن عمر أتاني ← أرسل لي أبو بكر مقتل أهل اليمامة فإذا عمر بن الخطاب عنده ← ابْنُ السَّبَّاقِ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ مُسَافِرٍ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 4907

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ عبيد بن السباق عن زيد بن ثابت · حديث 4908

4902 - حدثنا هارون بن كامل المصري ثنا عبد الله بن صالح حدثني الليث حدثني يونس عن ابن شهاب أخبرني ابن السباق أن زيد بن ثابت قال Y أرسل إلي أبو بكر الصديق رضي الله عنه مقتل أهل اليمامة فإذا عمر بن الخطاب عنده فقال أبو بكر : أتاني هذا الرجل فقال لي : إن القتل قد استحر بأهل اليمامة من قراء المسلمين وإني أخشى أن يستحر القتل بالقراء في الموطن فيذهب كثير من القرآن لا يوعى وإني أرى أن تأمر بجمع القرآن فقلت لعمر كيف أفعل شيئا لم يفعله رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ قال عمر : هو والله خير فلم يزل يراجعني في ذلك حتى شرح الله بذلك صدري ورأيت فيه الذي رأى عمر و عمر جالس عنده لا يتكلم قال أبو بكر : إنك رجل شاب عاقل ولا نتهمك وكنت تكتب الوحي لرسول الله صلى الله عليه و سلم فاتبع القرآن فاجمعه قال زيد : فو الله كلفني نقل جبل من الجبال ماكان أثقل علي مما أمرني به من جمع القرآن قال قلت : كيف تفعلون شيئا لم يفعله رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ قال : هو والله خير فلم يزل أبو بكر يراجعني حتى شرح الله صدري للذي شرح به صدر أبي بكر و عمر قال : فقمت فتتبعت القرآن أجمعه من الرقاع والأكتاف والأقتاب والعسب وصدرو الرجال حتى وجدت آخر سورة التوبة آيتين مع خزيمة بن ثابت الأنصاري لم أجدهما مع أحد غيره { لقد جاءكم رسول من أنفسكم } فكانت الصحف التي جمعت فيها القرآن عند أبي بكر حياته حتى توفاه الله ثم عند عمر حتى توفاه الله ثم عند حفصة بنت عمر

حضرت ابن شہاب ( امام زہری ) سے روایت کرتے ہیں کہ مجھے حضرت ابن سباق نے خبر دی کہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے میری طرف پیغام بھیجا ، یمامہ میں جنگ لڑنے والوں ( قاریوں ) کے قتل ہونے کے وقت ( میں حاضر خدمت ہوا) اچانک میری نگاہ پڑی تو حضرت عمر بن خطاب بھی آپ کے پاس موجود تھے، پس حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میرے پاس یہ شخص آیا اور مجھ سے کہا: بے شک اہل یمامہ کے ساتھ مسلمانوں کے قاریوں ( کے قتل ہونے ) سے جنگ کا بازار گرم ہو گیا ہے ۔ مجھے ڈر ہے کہ مختلف مقامات پر قاریوں کے شہید ہونے کا۔ پس قرآن میں سے بہت سا حصہ ہمارے ہاتھ سے چلا جائے گا، جسے کسی نے یاد نہیں کیا ہوگا، میری رائے ہے ( جتنا جلدی ہو سکے ) آپ قرآن ایک جگہ جمع کرنے کا فرمان جاری فرمائیں ۔ میں نے عرم سے کہا: میں وہ کام کیسے کر سکتا ہوں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے نہیں کیا ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: قسم بخدا! یہ کام اچھا ہے ۔ پس اس سلسلہ میں مسلسل وہ میری طرف رجوع کرتے رہے حتیٰ کہ اس نے اس کے ساتھ میرا سینہ کھول دیا اور میری اور عمر کی رائے ایک ہو گئی حالانکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ آپ کے پاس ہی تشریف فرما تھے لیکن انہوں نے کوئی کلام نہ کیا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بے شک آپ جوان مرد ہیں ، عقلمند ہیں ، ہم آپ کو متہم نہیں کرتے ۔ آپ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے لیے بھی وحی لکھتے تھے ، پس ( اب ) قرآن تلاش کر کے جمع کرو ۔ حضرت زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: قسم بخدا ! اگر آپ مجھے پہاڑوں میں سے کسی پہاڑ کو منتقل کرنے کی تکلیف دیتے تو وہ مجھ پر بھاری نہ تھا،اس سے جو آپ نے مجھے جمع قرآن کا حکم دیا ۔فرماتے ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے نہیں کیا؟ آپ نے فرمایا: قسم بخدا ! یہ اچھا کام ہے ۔ پس حضرت ابو بکر مسلسل یہ بات میرے سامنے دہراتے رہے حتیٰ کہ اللہ نے اس چیز کے لیے میرا سینہ کھول دیا جس کے ساتھ ابو بکر و عمر کا سینہ کھولا تھا۔ فرماتے ہیں : پس میں اٹھا ، میں نے قرآن کو تلاش کیا،کاغذ کے ٹکڑوں ،کندھوں کی ہڈیوں ، کجاووں کی لکڑیوں یا پالانوں کے جوڑوں ، کھجور کی ٹہنیوں پر سے اور لوگوں کے سینو سے میں نے قرآن کو اکٹھا کیا حتیٰ کہ سورۂ توبہ کی آخری دو آیتوں کو میں نے حضرت خزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس پایا، ان کے علاوہ کسی کے پاس یہ دو آیتیں نہیں تھی: " لقد جا ء کم رسول من انفسکم" پس وہ صحیفے میں نے جن میں قرآن جمع کیا، حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی زندگی میں ان کے پاس رہے پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ ، ان کی وفات کے بعد حضرت حفصہ بنت عمر ام المؤمنین کے پاس۔

ابْنِ السَّبَّاقِ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← هَارُونُ بْنُ كَامِلٍ الْمِصْرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 4908

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ عبيد بن السباق عن زيد بن ثابت · حديث 4909

4903 - حدثنا أبو خليفة ثنا أبو الوليد ثنا إبراهيم بن سعد ثنا ابن شهاب الزهري عن عبيد بن السباق عن زيد بن ثابت قال Y أرسل إلي أبو بكر مقتل أهل اليمامة فإذا عمر جالسا عنده قال أبو بكر : إن عمر جاءني فقال : إن القتل قد استحر بأهل اليمامة بقراء القرآن قال قلت : وكيف أفعل شيئا لم يفعله رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ فقال عمر : هو والله خير فلم يزل يراجعني في ذلك حتى شرح الله صدري للذي شرح صدر عمر ورأيت في ذلك الذي رأى عمر فقال أبو بكر لزيد : إنك رجل شاب عاقل لا نتهمك قد كنت تكتب الوحي لرسول الله صلى الله عليه و سلم فتتبع القرآن فاجمعه قال زيد : فوالله لو كلفوني نقل جبل من الجبال ما كان أثقل مما أمرني به من جمع القرآن قال قلت : وكيف تفعلون شيئا لم يفعله رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ قال : هو والله خير فلم يزل بي أبو بكر يراجعني حتى شرح الله صدري للذي شرح صدر أبي بكر قال فتتبعت القرآن أجمعه من الرقاع والعسب وصدور الرجال حتى وجدت آخر سورة التوبة مع خزيمة أو أبي خزيمة الأنصاري لم أجدها مع أحد غيره { لقد جاءكم رسول من أنفسكم } حتى خاتمو براءة وكانت الصحف عند أبي بكر حتى توفاه الله ثم عند عمر حياته حتى توفاه الله ثم عند حفصة بنت عمر

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یمامہ کے جنگ لڑنے والوں کی شہادت کے وقت حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے میری طرف پیغام بھیجا ، پس عمر بھی انکے پاس بیٹھے تھے ۔ ابو بکر نے فرمایا: بے شک عمرنے میرے پاس آ کر کہا : بے شک جنگ کا بازار گرم ہو گیا ہے ، بہت سارے قاری کام آ گئے ہیں ۔وہ فرمانے لگے میںنے کہا : کیسے میں وہ کام کر سکتا ہوں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے نہیں کیاَ پس عمر نے کہا: قسم بخدا ! یہ کام بہر ہے ۔پس وہ لگاتار مجھے کہتے رہے حتیٰ کہ مجھے انشراح صدر ملا، اس کے لیے جس کام کے لیے حضرت عمررضی اللہ عنہ کو انشراح صدر حاصل ہوا تھا اور میں نے اس میں وہی رائے قائمکی جو عمر نے کی تھی۔پس حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت زید رضی اللہ عنہ سے فرمایا: آپ نوجوان ہیں ، عقل مند ہیں ،ہم آپ پر کوئی تہمت نہیں لگائیں گے۔ تحقیق آپ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے لیے وحی لکھا کرتے تھے۔ ، پس آپ قرآن تلاش کر کے جمع کریں ۔ حضرت زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: قسم بخدا ! اگر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ مجھے مکلف بناتے کہ میں پہاڑوں میں سے کسی ایک پہاڑ کو منتقل کر دوں تو ہو مجھ پر بھاری نہ ہوتا،اس سے جوانہوں نے مجھے قرآن جمع کرنے کاحکمدیا۔ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی :کیسے آپ لوگ وہ کامکرتے ہیں جورسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے نہیں کیا۔ آپ نے فرمایا: قسم بخدا! یہ کام بہتر ہے ۔ پس حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ لگاتار مجھے فرماتے رہے حتیٰ کہ اللہ نے اس کام کے لیے مجھے انشراح صدر عطا فرمایا جس کے لیے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کوانشراح صدر عطا کیاتھا۔ فرماتے ہیں : میں نے تلاش کر کے قرآن جمع کیا۔کاغذ کے ٹکڑوں ،کھجور کی ٹہنیوں اور لوگوں کے سینوں سے ۔حتیٰ کہ سورۂ توبہ کی آخری حصہ مجھے حضرت خزیمہ یا ابو خزیمہ انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس ملا۔ ان کے علاوہ کسی کے پاس نہ پایا: " لقد جا ء کم رسول من انفسکم" حتیٰ کہ سورۂ برأۃ مکمل ہوئی اورصحیفے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی زندگی میں آپ کے پاس رہے پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی زندگی میں ان کے پاس رہا ،حتیٰ کہ انکی شہادت ہوئی پھر ام المؤمنین حضرت حفصہ بنت عمررضی اللہ عنہا کے پاس رہا۔

إن القتل قد استحر بأهل اليمامة بقراء القرآن ← أبو بكر إن عمر جاءني ← أرسل إلي أبو بكر مقتل أهل اليمامة فإذا عمر جالسا عنده ← زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ← عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ، ← ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 4909

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ عبد الرحمن بن شماسة المهري عن زيد بن ثابت · حديث 4940

4934 - حدثنا أبو الزنباع روح بن الفرج ثنا عمرو بن خالد الحراني ثنا ابن لهيعة عن يزيد بن أبي حبيب أنه سمع ابن شماسة يخبر عن زيد بن ثابت قال Y كنا عند النبي صلى الله عليه و سلم نكتب الوحي فقال : طوبى للشام ثلاث مرات فقلنا : وما ذاك يانبي الله ؟ فقال : غن الملائكة ناشرة أجنحتها على الشام

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اردگرد تھے، ہم وحی لکھتے تھے ، اچانک آپ نے ملک شام والوں کے لیے تین بار خوشخبری دی، عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! کیوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رحمٰن کے فرشتے اپنے پروں کے ساتھ ان کو گھیرے ہوئے ہیں۔

غن الملائكة ناشرة أجنحتها على الشام ← طوبى للشام ثلاث مرات فقلنا وما ذاك يانبي الله ← كنا عند النبي صلى الله عليه و سلم نكتب الوحي ← زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ← ابن شماسة يخبر ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ أَنَّهُ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ← أبو الزنباع روح بن الفرج

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 4940

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ ومن مناقب عبد الله بن عباس و أخباره · حديث 10617

10597 - حدثنا أبو خليفة الفضل بن الحباب الجمحي ثنا إبراهيم بن بشار الرمادي ثنا أبو عبد الرحمن الحراني وهو عثمان بن عبد الرحمن الطرائفي ثنا عبيد الله بن عياش و موسى بن يزيد الحرانيان قالا : ثنا جويبر عن الضحاك بن مزاحم الهلالي قال : خرج نافع بن الأزرق و ونجدة بن عويمر في نفر من رؤوس الخوارج لينقرون عن العلم ويطلبونه حتى قدموا مكة فإذا هم بعبد الله بن عباس قاعدا قريبا من زمزم وعليه رداء أحمر وقميص وإذا ناس قيام يسألونه عن التفسير يقولون Y يا ابن عباس ما تقول في كذا وكذا ؟ فيقول : هو كذا وكذا فقال له نافع بن الأزرق ما أجرأك يا ابن عباس على ما تجريه منذ اليوم فقال له ابن عباس : ثكلتك أمك يا نافع و عدمتك ألا أخبرك من هو أجرأ مني ؟ قال : من هو يا ابن عباس ؟ قال : رجل تكلم بما ليس به به علم ورجل كتم علما عنده قال : صدقت يا ابن عباس أتيتك لأسألك قال : هات يا ابن الأزرق فسل قال : أخبرني عن قول الله عز و جل { يرسل عليكما شواظ من نار } ما الشواظ ؟ قال : اللهب الذي لا دخان فيه قال : وهل كانت العرب تعرف ذلك قبل أن ينزل الكتاب على محمد صلى الله عليه و سلم ؟ قال : نعم أما سمعت قول امية بن أبي الصلت : ( ألا من مبلغ حسان عني ... مغلغلة تدب إلى عكاظ ) ( أليس أبوك قينا كان فينا ... إلى القينات فسلا في الحفاظ ) ( يمانيا يظل يشب كبرا ... وينفخ دائبا لهب الشواظ ) قال : صدقت فأخبرني عن قوله { ونحاس فلا تنتصران } ما النحاس ؟ قال : الدخان الذي لا لهب فيه قال : وهل كانت العرب تعرف ذلك ؟ قال : نعم أما سمعت [ قول ] نابغة بني ذبيان يقول : ( يضيء كضوء سراج السليط ... لم يجعل الله فيه نحاسا ) قال : صدقت فأخبرني عن قول الله عز و جل { أمشاج نبتليه } قال : ماء الرجل وماء المرأة إذا اجتمعا في الرحم كان مشجا قال : وهل كانت العرب تعرف ذلك قبل أن ينزل الكتاب على محمد صلى الله عليه و سلم ؟ قال : نعم أما سمعت قول أبي ذؤيب الهذلي وهو يقول : ( كأن النصل والفوقين منه ... خلال الريش سيط به مشيج ) قال : صدقت فأخبرني عن قول الله عز و جل ( والتفت الساق بالساق ) ما الساق بالساق ؟ قال : الحرب قال : وهل كانت العرب تعرف ذلك قبل أن ينزل الكتاب على محمد صلى الله عليه و سلم ؟ قال : نعم أما سمعت قول أبي ذؤيب : ( أخو الحرب إن عضت به الحرب عضها ... وإن شمرت عن ساقها الحرب شمرا ) قال : صدقت فأخبرني عن قول الله عز و جل ( بنين وحفدة ) ما البنون والحفدة ؟ قال : أما بنوك فإنهم يعاطونك وأما حفدتك فإنهم خدمك قال : وهل كانت العرب تعرف ذلك قبل أن ينزل الكتاب على محمد صلى الله عليه و سلم ؟ قال : نعم أما سمعت قول أمية بن أبي الصلت الثقفي : ( حفد الولائد حولهن وألقيت ... بأكفهن أزمة الأحمال ) قال : صدقت فأخبرني عن قول الله عز و جل { قالوا إنما أنت من المسحرين } ما المسحرون ؟ قال : من المخلوقين قال : فهل كانت العرب تعرف ذلك قبل أن ينزل الكتاب على محمد صلى الله عليه و سلم ؟ قال : نعم أما سمعت قول أمية بن الصلت وهو يقول : ( فإن تسألينا مم نحن فإننا ... عصافير من هذا الأنام المسحر ) قال : صدقت فأخبرنا عن قول الله عز و جل ( فنبذناهم في اليم وهو مليم ) ما المليم ؟ قال : المذنب قال : وهل كانت العرب تعرف ذلك قبل أن ينزل الكتاب على محمد صلى الله عليه و سلم ؟ قال : نعم أما سمعت قول أمية بن أبي الصلت وهو يقول : ( بعيد من الآفات لست لها بأهل ... ولكن المسيء هو المليم ) قال : صدقت فأخبرني عن قول الله عز و جل ( قل أعوذ برب الفلق ) ما الفلق ؟ قال : ضوء الصبح ؟ قال : وهل كانت العرب تعرف ذلك قبل أن ينزل الكتاب على محمد صلى الله عليه و سلم ؟ قال : نعم أما سمعت قول لبيد بن ربيعة : ( الفارج الهم مبذول عساكره ... كما يفرج ضوء الظلمة الفلق ) قال : صدقت فأخبرني عن قول الله عز و جل { لا تأسوا على ما فاتكم ولا تفرحوا بما آتاكم } ما الأسى ؟ قال : لكي لا تخزنوا قال : وهل كانت العرب تعرف ذلك قبل أن ينزل الكتاب على محمد صلى الله عليه و سلم ؟ قال : نعم أما سمعت قول لبيد بن ربيعة : ( قليل الأسى فيما أتى الدهر دونه ... كريم النثا حلو الشمائل معجب ) قال : صدقت فأخبرني عن قول الله عز و جل { إنه ظن أن لن يحور } ما يحور ؟ قال : يرجع قال : وهل كانت العرب تعرف ذلك قبل أن ينزل الكتاب على محمد صلى الله عليه و سلم ؟ قال : نعم أما سمعت قول لبيد بن ربيعة : ( وما المرء إلا كالشهاب وضوؤه ... يحور رمادا بعد إذ هو ساطع ) قال : صدقت فأخبرني عن قول الله عز و جل { يطوفون بينها وبين حميم آن } ما الآن ؟ قال : الذي قد انتهى حره قال : وهل كانت العرب تعرف ذلك قبل أن ينزل الكتاب على محمد صلى الله عليه و سلم ؟ قال : نعم أما سمعت قول نابغة بني ذبيان : ( فإن يقبض عليك أبو قبيس ... تحط بك المنية في هوان ) ( وتخضب لحية غدرت وخانت ... بأحمر من نجيع الجوف آن ) قال : صدقت فأخبرني عن قول الله عز و جل ( فأصبحت كالصريم ) ما الصريم ؟ قال : كالليل المظلم قال : وهل كانت العرب تعرف ذلك قبل أن ينزل الكتاب على محمد صلى الله عليه و سلم ؟ قال : نعم أما سمعت قول نابغة بني ذبيان : ( لا تزجروا مكفهر الأكفاء له ... كالليل يخلط أصرما بأصرام ) قال : صدقت فأخبرني عن قول الله عز و جل { إلى غسق الليل } ما غسق الليل ؟ قال : إذا أظلم قال : وهل كانت العرب تعرف ذلك قبل أن ينزل الكتاب على محمد صلى الله عليه و سلم ؟ قال : نعم أما سمعت بقول النابغة : ( كأنما [ جل ] ما قالوا وما وعدوا ... آل تضمنه من دامس غسق ) قال : أبو خليفة : الآل الشراب الصواب كأنما جل ما قالوا [ وما وعدوا ] قال : صدقت فأخبرني عن قول الله عز و جل ( وكان الله على كل شيء مقيتا ) ما المقيت ؟ قال : قادرا قال : وهل كانت العرب تعرف ذلك قبل أن ينزل الكتاب على محمد صلى الله عليه و سلم ؟ قال : نعم أما سمعت بقول النابغة : ( وذي ضغن كففت النفس عنه ... وإني في مساءته مقيت ) قال : صدقت فأخبرني عن قول الله عز و جل { والليل إذا عسعس } قال : إقباله بسواده قال : وهل كانت العرب تعرف ذلك قبل أن ينزل الكتاب على محمد صلى الله عليه و سلم ؟ قال : نعم أما سمعت قول امرى القيس : ( عسعس حتى لو يشاء كان ... لنا من ضوء نوره قبس ) قال : صدقت فأخبرني عن قول الله عز و جل ( وأنا به زعيم ) قال : الزعيم الكفيل قال : وهل كانت العرب تعرف ذلك قبل أن ينزل الكتاب على محمد صلى الله عليه و سلم ؟ قال : نعم أما سمعت قول امرئ القيس : ( وإني زعيم إن رجعت مملكا ... بسير ترى منه الفرائنق أزورا ) قال : صدقت فأخبرني عن قول الله عز و جل ( وفومها ) ما الفوم ؟ قال : الحنطة قال : وهل كانت العرب تعرف ذلك قبل أن ينزل الكتاب على محمد صلى الله عليه و سلم ؟ قال : نعم أما سمعت قول أبي ذؤيب الهذلي ( قد كنت تحسبني كأغنى وافد ... قدم المدينة عن زراعة فوم ) قال : صدقت فأخبرني عن قول الله عز و جل ( الأزلام ) ما الأزلام ؟ قال : القداح قال : وهل كان العرب تعرف ذلك قبل أن ينزل الكتاب على محمد صلى الله عليه و سلم ؟ قال : نعم : أما سمعت قول الحطيئة : ( لايزجر الطير إن مرت به سنحا ... ولا يقام له قدح بأزلام ) قال : صدقت فأخبرني عن قول الله عز و جل { وأصحاب المشأمة ما أصحاب المشأمة } قال : أصحاب الشمال قال : وهل كانت العرب تعرف ذلك قبل أن ينزل الكتاب على محمد صلى الله عليه و سلم ؟ قال : أما سمعت بقول زهير بن أبي سلمى : ( نزل الشيب بالسمال قريبا ... والمرورات دائيا وحقيرا ) قال : صدقت فأخبرني عن قول الله عز و جل ( إذا البحار سجرت ) قال : اختلط ماؤها بماء الأرض قال : وهل كانت العرب تعرف ذلك قبل أن ينزل الكتاب على محمد صلى الله عليه و سلم ؟ قال : نعم أما سمعت قول زهير بن أبي سلمى : ( لقد عرفت ربيعة في حذام ... وكعب خالها وابنا ضرار ) ( لقد نازعتم حسبا قديما ... وقد سجرت بحارهم بحاري ) قال : صدقت فأخبرني عن قول الله عز و جل ( والسماء ات الحبك ) ما الحبك ؟ قال : ذات الطرائق قال : فهل كانت العرب تعرف ذلك قبل أن ينزل الكتاب على محمد صلى الله عليه و سلم ؟ قال : نعم أما سمعت قول زهير بن أبي سلمى : ( مكلل بأصول النجم تنسجه ... ريح الشمال لضاحي مائح حبك ) قال : صدقت فأخبرني عن قول الله عز و جل ( جد ربنا ) ما جد ربنا ؟ قال : ارتفعت عظمته قال : وهل كانت العرب تعرف ذلك قبل أن ينزل الكتاب على محمد صلى الله عليه و سلم ؟ قال : نعم أما سمعت قول طرفة بن العبد للنعمان بن المنذر : ( إلى ملك يضرب الدراعين ... لم ينقص الشيب منه قبالا ) ( ترفع بجدك إني امرؤ ... سقتني الأعادي سجالا سجالا ) قال : صدقت فأخبرني عن قول الله عز و جل ( حتى تكون حرضا ) قال : الحرض البالي قال : وهل كانت العرب تعرف ذلك قبل أن ينزل الكتاب على محمد صلى الله عليه و سلم ؟ قال : نعم أما سمعت قول طرفة بن العبد : ( أمن ذكر ليلى إن نأت غربة بها ... أعد حريضا للكرا محرم ) قال : صدقت فأخبرني عن قول الله جل ذكره { وأنتم سامدون } ما سامدون ؟ قال : لاهون قال : فهل كانت العرب تعرف ذلك قبل أن ينزل الكتاب على محمد صلى الله عليه و سلم ؟ قال : نعم أما سمعت بقول هزيلة بنت بكر وهي تبكي عادا : ( بعثت عاد لقيما ... وأبا سعد مريدا ) ( قيل قم فانظر إليهم ... ثم دع عنك السمودا ) قال : صدقت فأخبرني عن قول الله عز و جل ( إذا اتسق ) ما اتساقه ؟ قال : إذا اجتمع قال : فهل : كانت العرب تعرف ذلك قبل أن ينزل الكتاب على محمد صلى الله عليه و سلم ؟ قال : نعم أما سمعت بقول ابن صرمة الأنصاري : ( إن لنا قلائصا نقائقا ... مستوسقات لو يجدن سائقا ) قال : صدقت فأخبرني عن قول الله عزل وجل ( الأحد الصمد ) أما الأحد فقد عرفناه فما الصمد ؟ قال : الذي يصمد إليه في الأمور كلها قال : فهل كانت العرب تعرف ذلك قبل أن ينزل الكتاب على محمد صلى الله عليه و سلم قال : نعم أما سمعت بقول ا لأسدية : ( ألا بكر الناعي بخيري بني أسد ... بعمرو بن مسعود وبالسيد الصمد ) قال : صدقت فأخبرني عن قول الله عز و جل ( يلق أثاما ) ما الأثام ؟ قال : جزاء قال : وهل كانت العرب تعرف ذلك قبل أن ينزل الكتاب على محمد صلى الله عليه و سلم ؟ قال : نعم أما سمعت بقول بشر بن أبي حازم الأسدي : ( وإن مقامنا ندعو عليهم ... بأبطح ذي المجاز له أثام ) قال : صدقت فأخبرني عن قول الله عز و جل { وهو كظيم } ما الكظيم قال : الساكت قال : وهل كانت العرب تعرف ذلك ؟ قال نعم أما سمعت بقول زهير بن جذيمة العبسي : ( فإن تك كاظما بمصاب شاس ... فإني اليوم منطلق لساني ) قال : صدقت : فأخبرني عن قول الله عز و جل { أو تسمع لهم ركزا } قال : صوابا قال : وهل كانت العرب تعرف ذلك قبل أن ينزل الكتاب على محمد صلى الله عليه و سلم ؟ قال : نعم أما سمعت قول خداش بن زهير : ( فإن سمعتم بحبل هابط سرفا ... أو بطن قوم فاخفوا الركز واكتتموا ) قال : صدقت فأخبرني عن قول الله عز و جل ( إذا تحسونهم بإذنه ) قال : إذ تقتلونهم بإذنه قال : وهل كانت العرب تعرف ذلك قبل أن ينزل الكتاب على محمد صلى الله عليه و سلم ؟ قال : نعم أما سمعت بقول عتبة الليثي : ( نحسهم بالبيض حتى كأنما ... نفلق منهم بالجماجم حنظلا ) قال : صدقت فأخبرني عن قول الله عز و جل ( يا أيها الذين آمنوا إذا طلقتم النساء ) هل كان الطلاق في الجاهلية ؟ قال : نعم طلاقا نائنا ثلاثا أما سمعت قول أعشى بني قيس بن ثعلبة حين أخذه أختانه عنزة فقالوا له : إنك قد أضررت بصاحبتنا وإنا نقسم بالله أن لا نضع العصا عنك أو تطلقها فلما رأى الجد منهم وأنهم فاعلون به شرا قال : ( يا جارتا بيني فإنك طالقة ... كذاك أمور الناس غاد وطارقة ) فقالوا : والله لتبينن لها الطلاق أو لا نضع العصا عنك فقال : ( فبيني حصان الفرج غير ذميمة ... وما موقة منا كما أنت وامقة ) فقالوا : والله لتبينن الطلاق أو لا نضع العصا عنك فقال : ( وبيني فإن البين خير من العصا ... وأن لا تزالي فوق رأسك بارقه ) فأبانها بثلاث طلقات

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب کبھی کسی ڈرانے والے بادشاہ (یا آدمی) کے پاس تُو آئے اور اس کے حملہ آور ہونے (یا بے عزتی وغیرہ کرنے ) سے ڈرتا ہو تو پڑھ: ’’ اللّٰہ اکبر اللّٰہ اکبر من خلقه جميعًا الٰى آخرہٖ ‘‘ تین بار۔

الضَّحَّاكِ بْنِ مُزَاحِمٍ الْهِلَالِيِّ ← جُوَيْبِرٍ ← عبيد الله بن عياش و موسى بن يزيد الحرانيان ← أبو عبد الرحمن الحراني وهو عثمان بن عبد الرحمن الطرائفي ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 10617

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ ومن مناقب عبد الله بن عباس و أخباره · حديث 10618

10598 - حدثنا إسحاق بن إبراهيم الدبري عن عبد الرزاق ( ح ) وحدثنا علي بن عبدالعزيز ثنا أبو حذيفة موسى بن مسعود كلاهما عن عكرمة بن عمار ثنا أبو زميل الحنفي ثنا عبد الله بن عباس قال : لما اعتزلت حروراء وكانوا في دار على حدتهم قلت لعلي Y يا أمير المؤمنين أبرد على الصلاة لعلي آتي هؤلاء القوم فأكلمهم قال : فإني أتخوفهم عليك قال : قلت : كلا إن شاء الله قال : فلبست أحسن ما أقدر عليه من هذه اليمانية ثم دخلت عليهم وهم قائلون في نحر الظهيرة فدخلت على قوم لم أر قوما قط أشد اجتهادا منهم أيديهم كأنها ثفن الأبل ووجوهم معلبة من آثار السجود قال : فدخلت فقالوا : مرحبا بك يا ابن عباس ما جاء بك ؟ قال : جئت أحدثكم عن أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم نزل الوحي وهم أعلم بتأويله فقال بعضهم : لا تحدثوه وقال بعضهم : لنحدثنه قال : قلت أخبروني ما تنقمون على ابن عم رسول الله وختنه وأول من آمن به واصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم معه ؟ قالوا : تنقم عليه ثلاثا قلت ما هن ؟ قالوا : أولهن أنه حكم الرجال في دين الله وقد قال الله { إن الحكم إلا لله } قال : قلت : وماذا ؟ قالوا : وقاتل ولم يسب ولم يغنم لئن كانوا كفارا لقد حلت له أموالهم ولئن كانوا مؤمنين لقد حرمت عليه دماؤهم قال : قلت : وماذا ؟ قالوا : ومحا نفسه من أمير المؤمنين فإن لم يكن أمير المؤمنين فهو أمير الكافرين قال : قلت : أرأيتم إن قرأت عليكم من كتاب الله المحكم وحدثتكم من سنة نبيكم صلى الله عليه و سلم ملا تنكرون أترجعون ؟ قالوا : نعم قال : قلت أما قولكم إنه حكم الرجال في دين الله فإنه يقول ( يا ايها الذين آمنوا لا تقتلوا الصيد وأنتم حرم ) إلى قوله { يحكم به ذوا عدل منكم } وقال في المرأة وزوجها ( وإن خفتم شقاق بينهما فابعثوا حكما من أهله وحكما من أهلها ) أنشدكم الله أحكم الرجال في حقن دمائهم وأنفسهم وصلاح ذات بينهم أحق أم في أرنب ثمنها ربع درهم ؟ قالوا : اللهم في حقن دمائهم وصلاح ذات بينهم قال : خرجت من هذه ؟ قالوا : اللهم نعم وأما قولكم إنه قاتل ولم يسب ولم يغنم أتسبون أمكم أم تستحلون منها ما تستحلون من غيرها ؟ فقد كفرتم وإن زعمتم أنها ليست بأمكم فقد كفرتم وخرجتم من الإسلام إن الله عز و جل يقول ( النبي أولى بالمؤمنين من أنفسهم وأزواجه أمهاتهم ) فأنتم تترددون بين ضلالتين ) : فاختاروا أيهما شئتم ؟ أخرجت من هذه ؟ قالوا : اللهم نعم [ قال ] : وأما قولكم إنه محا نفسه من أمير المؤمنين فإن رسول الله صلى الله عليه و سلم دعا قريشا يوم الحديبية على أن يكتب بينه وبينهم كتابا فقال : اكتب هذا ما قاضى عليه محمد رسول الله فقالوا : والله لو كنا نعلم أنك رسول الله ما صددناك عن البيت ولا قاتلناك ولكن اكتب محمد بن عبد الله فقال : والله إني لرسول الله وإن كذبتموني اكتب يا علي محمد بن عبد الله فرسول الله كان أفضل من علي أخرجت من هذه ؟ قالوا : اللهم نعم فرجع منهم عشرون ألفا وبقي منهم أربعة آلاف فقتلوا

حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما یہ دعا مانگا کرتے تھے: اے اللہ ! میں تجھ سے تیرے چہرے کے نور کے وسیلہ سے سوال کرتا ہوں جس کی وجہ سے آسمان اور زمینیں روشن ہیں کہ تُو مجھے اپنی حفاظت میں لے لے ‘اپنے پڑوس میں اور اپنی پناہ کے نیچے لے لے۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبُو زُمَيْلٍ الْحَنَفِيُّ، ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← أبو حذيفة موسى بن مسعود كلاهما ← علی بن عبدالعزیز، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 10618

chevron_left Previous
1…353637…305
Next chevron_right