Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

القرآن الكريم

Quran

6097 hadiths

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ عطاء بن يسار عن أبي واقد · حديث 3301

3300 - حدثنا أبو مسلم الكشي ثنا أبو همام الدلال حدثنا هشام بن سعد عن زيد بن أسلم Y عن عطاء بن يسار عن أبي واقد الليثي قال : كنا نأتي النبي صلى الله عليه و سلم إذ أنزل عليه الوحي فيحدثنا فقال لنا ذات يوم : لو أن لابن آدم واديا لأحب أن يكون إليه ثان ولو أن له واديين أحب أن يكون الثالث ولا يملأ جوف ابن آدم إلا التراب ثم يتوب الله على من تاب

حضرت ابو واقد لیثی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے' اچانک آپ پر وحی نازل ہونے لگی' ہمیں بتانے لگے' ہمیں ایک دن بتایا کہ اگر انسان کے پاس مال کی ایک وادی ہو تو وہ پسند کرے گا کہ دوسری بھی ہو' اگر دو ہوں تو پسند کرے گا کہ تیسری بھی ہو' انسان کا پیٹ مٹی ہی بھرے گی' پھر اللہ عزوجل توبہ قبول کرتا ہے جس کی توبہ قبول کرنا چاہتا ہے۔

أبي واقد الليثي ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ← أَبُو هَمَّامٍ الدَّلَّالُ، ← أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 3301

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ الحارث بن هشام المخزومي أستشهد يوم اليرموك سنة خمس عشرة وهو الحارث بن هشام بن المغيرة بن عبد الله بن عمر بن مخزوم يكنى أبا عبد الرحمن وأمه أسماء بنت مخرمة بن جندل بن أمير بن نهشل بن دارم بن مالك بن حنظلة بن مالك بن زيد مناة بن تميم أسلم يوم الفتح وكان من · حديث 3344

3343 - حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل ثنا أبي ثنا عامر بن صالح ثنا هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة Y عن الحارث بن هشام أنه سأل النبي صلى الله عليه و سلم : كيف ينزل عليك الوحي ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : في مثل صلصلة الجرس فيفصم عني وقد وعيت ما قال - قال - وهو أشد علي وأحيانا يأتيني الملك فيتمثل لي فيكلمني ما يقول

حضرت حارث بن ہشام رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا کہ آپ پر وحی کیسے نازل ہوتی ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: گھنٹی کی سی آواز میں' جب مجھ پر وحی آنا ختم ہوتی ہے تو جو وحی لے کر آتا ہے وہ یاد کر لیتا ہوں ' وہ مجھ پر دشوار گزار ہوتی ہ۔ آپ نے فرمایا: یہ مجھ پر سخت ہے ' کبھی فرشتہ میرے پاس آتا ہے ' انسا ن کی شکل میں مجھ سے گفتگو کرتاہے جو کہتا ہے۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عَامِرُ بْنُ صَالِحٍ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 3344

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ الحارث بن هشام المخزومي أستشهد يوم اليرموك سنة خمس عشرة وهو الحارث بن هشام بن المغيرة بن عبد الله بن عمر بن مخزوم يكنى أبا عبد الرحمن وأمه أسماء بنت مخرمة بن جندل بن أمير بن نهشل بن دارم بن مالك بن حنظلة بن مالك بن زيد مناة بن تميم أسلم يوم الفتح وكان من · حديث 3345

3344 - حدثنا محمد بن نصر بن حميد البغدادي ثنا محمد بن عبد الله الأرزي ثنا عاصم بن هلال عن أيوب عن هشام بن عروة عن أبيه Y عن الحارث بن هشام قال : سألت رسول الله صلى الله عليه و سلم كيف يأتيك الوحي ؟ قال : يأتيني صلصلة كصلصلة الجرس ويأتيني أحيانا في صورة رجل يكلمني كلاما وهو أهون علي فيفصم عني وقد وعيت

حضرت حارث بن ہشام فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا : اپ پر وحی کیسے آتی ہے؟ آپ نے فرمایا: ایسی آواز آتی ہے جس طرح گھنٹی کی آواز ہوتی ہے' کبھی میرے پاس آدمی کی شکل میں آتی ہے وہ مجھ سے گفتگو کرتا ہے' وہ مجھ پر آسان ہوتی ہے' جب مجھ پر وحی آنا بند ہو تی ہے تو میں نے اسے یاد کر لیا ہوتا ہے۔

سألت رسول الله صلى الله عليه و سلم كيف يأتيك الوحي ← الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← أَيُّوبَ، ← عَاصِمُ بْنُ هِلَالٍ، ← محمد بن عبد الله الأرزي ← محمد بن نصر بن حميد البغدادي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 3345

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ الحارث بن هشام المخزومي أستشهد يوم اليرموك سنة خمس عشرة وهو الحارث بن هشام بن المغيرة بن عبد الله بن عمر بن مخزوم يكنى أبا عبد الرحمن وأمه أسماء بنت مخرمة بن جندل بن أمير بن نهشل بن دارم بن مالك بن حنظلة بن مالك بن زيد مناة بن تميم أسلم يوم الفتح وكان من · حديث 3346

3345 - حدثنا علي بن المبارك الصنعاني ثنا إسماعيل بن أبي أويس حدثني مالك عن هشام بن عروة عن أبيه Y عن عائشة أن الحارث بن هشام سأل رسول الله صلى الله عليه و سلم : كيف يأتيك الوحي ؟ فقال النبي صلى الله عليه و سلم : أحيانا يأتيني في مثل صلصلة الجرس وهو أشد علي فيفصم عني وقد وعيت ما قال : وأحيانا يتمثل لي الملك رجلا فيكلمني فأعي ما يقول قالت عائشة : ولقد رأيته ينزل عليه في اليوم الشديد البرد فيفصم عنه وإن جبينه ليتفصد عرقا

حضر ت حارث بن ہشام فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا : آپ پر وحی کیسے آتی ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کبھی میرے پاس گھنٹی کی شکل میں آتی ہے جو مجھ پر دشوار ہوتی ہے ' جب وحی آنا ختم ہوتی ہے تو میں نے اسے یاد کر لیا ہوتا ہے' جو وہ لے کر آتا ہے ' وہ کبھی فرشتہ آدمی کی شکل میں آتا ہے وہ مجھ سے گفتگو کر تا ہے ' اور جو کہتا ہے میں اسے یاد کرلیتا ہوں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں : میں نے سخت سردی میں آپ پر وحی نازل ہوتے دیکھا ' جب وحی آنا ختم ہوئی تو آپ کی پیشانی سے پسینہ گر رہا تھا۔

أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← مَالِكٍ، ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ اُوَیْسٍ ← عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ الصَّنْعَانِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 3346

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ الحارث بن هشام المخزومي أستشهد يوم اليرموك سنة خمس عشرة وهو الحارث بن هشام بن المغيرة بن عبد الله بن عمر بن مخزوم يكنى أبا عبد الرحمن وأمه أسماء بنت مخرمة بن جندل بن أمير بن نهشل بن دارم بن مالك بن حنظلة بن مالك بن زيد مناة بن تميم أسلم يوم الفتح وكان من · حديث 3347

3346 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا الحسين بن يزيد الطحان ثنا عبدة بن سليمان عن هشام بن عروة عن أبيه Y عن عائشة قال : سأل الحارث بن هشام رسول الله صلى الله عليه و سلم كيف يأتيه الوحي ؟ قال : يأتيني أحيانا مثل صلصلة الجرس فيفصم عني وقد وعيته وهو أشد علي ويأتيني أحيانا الملك في صورة الرجل فأعي ما يقول

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت حارث بن ہشام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا: آپ پر وحی کیسے آتی ہے ؟ آپ نے فرمایا: میرے پاس کبھی گھنٹی کی آواز کی طرح ' جب وحی آنا ختم ہو تی ہے تو میں نے وہ یاد کر لی ہوتی ہے' یہ مجھ پر سخت ہوتی ہے' اور کبھی فرشتہ آدمی کی صورت میں آتا ہے' وہ جو کہتا ہے میں یاد کر لیتا ہوں۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← الحسين بن يزيد الطحان ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 3347

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ 321 - حبيب بن سباع أبو جمعة الأنصاري ويقال جنيد بن سبع · حديث 3541

3540 - حدثنا بكر بن سهل ثنا عبد الله بن صالح حدثني معاوية بن صالح Y عن جبير أنه قال : قدم علينا أبو جمعة الأنصاري صاحب رسول الله صلى الله عليه و سلم ببيت المقدس ليصلي فيه ومعنا رجاء بن حيوة يومئذ فلما انصرف خرجنا معه لنشيعه فلما أردنا الإنصراف قال : إن لكم علي جائزة وحقا أن أحدثكم بحديث سمعته من رسول الله صلى الله عليه و سلم فقلنا : هات يرحمك الله فقال : كنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم معنا معاذ بن جبل عاشر عشرة فقلنا : يا رسول الله هل من قوم أعظم منا أجرا آمنا بك واتبعناك ؟ قال : ما يمنعكم من ذلك ورسول الله صلى الله عليه و سلم بين أظهركم يأتيكم الوحي من السماء بلى قوم يأتيهم كتاب بين لوحين فيؤمنون به ويعملون بما فيه أولئك أعظم منكم أجرا أولئك أعظم منكم أجرا أولئك أعظم منكم أجرا

حضرت حبیب فرماتے ہیں کہ حضرت ابو جمعہ انصاری صحابی رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے ساتھ بیت المقدس میں نماز پڑھنے کے لیے آئے ۔حضرت رجا ء بن حیو ۃ ان دنوں ہمارے ساتھ تھے ،جب آپ نے سلام پھیرا تو ہم آپ کے ساتھ الوداع کرنے کے لیے نکلے،جب ہم نے واپسی کا ارادہ کیا تو آپ نے فرمایا :تمھارے لیے میرے ذمہ کوئی بات اور قول ہے کہ میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حدیث سناؤں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہے۔ہم نے عرض کی :سنائیں ! اللہ آپ پر رحم کرے ! آپ نے فرمایا ؛ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ تھے ،ہمارے ساتھ دسویں حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ تھے ۔ہم نے عرض کی :یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیا ہم سے زیادہ ثواب والی قوم کوئی ہے،ہم آپ پر ایمان لائے اور آپ کی اتباع کی ؟آپ نے فرمایا :تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اتباع کرنے سے کون سی شی مانع ہے،ایسی قوم آئے گی کہ قرآن ان کے پاس دو تختیوں میں ہو گا،وہ اس پر ایمان لائیں گے اور جو اس کے احکامات پر عمل کریں گے تو یہ لو گ تم سے ثواب میں زیادہ اجر والے ہوں گے ،ایسے ہی لوگ تم سے زیادہ اجر والے ہوں گے ،ایسے لوگ تم سے ثواب سے زیادہ اجر والے ہوں گے۔

جبير أنه ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 3541

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ رميثة عن أم سلمة · حديث 19800

850 - حدثنا الحسين بن إسحاق ثنا بحيى الحماني ثنا علي بن مسهر عن هشام بن عروة عن عوف بن الحارث عن رميثة عن أم سلمة قالت Y قال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( يا أم سلمة لا تؤذيني في عائشة فإن الوحي لم ينزل علي ومعي أحد من نسائي إلا عائشة فإن الوحي نزل علي وهي معي في لحافي )

حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے ام سلمہ ! مجھے عائشہ کے حوالے سے تکلیف نہ دو کیونکہ تم میں سے کسی کے ساتھ بستر میں وحی نہیں آتی ہے سوائے عائشہ کے' جب یہ میرے بستر میں ہوتی ہے تو مجھ پر وحی آتی ہے۔

أُمِّ سَلَمَةَ ← رُمَيْثَةَ، ← عَوْفِ بْنِ الْحَارِثِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ← بحيى الحماني ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 19800

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ عوف بن الحارث عن أم سلمة · حديث 19925

975 - حدثنا أحمد بن القاسم بن مساور ثنا عفان ثنا حماد بن سلمة عن هشام بن عروة عن عوف بن الحارث قال حدثتني أم سلمة أن النبي صلى الله عليه و سلم قال Y ( لا تؤذيني في عائشة فإن الوحي لم ينزل علي في لحاف واحدة منكن غير عائشة )

حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے عائشہ کے متعلق تکلیف نہ دو کیونکہ وحی تم میں سے کسی کے بستر پر نہیں آتی سوائے عائشہ کے (میں ان کے بستر پر ہوتا ہوں تو اس وقت مجھ پر وحی نازل ہوتی ہے)۔

حَدَّثَتْنِي أُمُّ سَلَمَةَ ← عَوْفِ بْنِ الْحَارِثِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ، ← أحمد بن القاسم بن مساور

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 19925

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ عوف بن الحارث عن أم سلمة · حديث 19926

976 - حدثنا عبيد بن غنام ثنا أبو بكر بن أبي شيبة ثنا أبو أسامة عن هشام بن عروة عن عوف بن الحارث عن أم سلمة قالت قال النبي صلى الله عليه و سلم Y ( لا تؤذيني في عائشة فإن الوحي لم ينزل في لحاف واحدة منكن غير عائشة ) رضي الله عنها

حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے عائشہ کے متعلق تکلیف نہ دو کیونکہ وحی تم میں سے کسی کے بستر پر نہیں آتی سوائے عائشہ کے (میں ان کے بستر پر ہوتا ہوں تو اس وقت مجھ پر وحی نازل ہوتی ہے)۔

أُمِّ سَلَمَةَ ← عَوْفِ بْنِ الْحَارِثِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← أَبُو أُسَامَةَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 19926

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الجيم ‹ ومن غرائب مسند أبي ذر رحمه الله باب · حديث 1652

1651 - حدثنا أحمد بن أنس بن مالك الدمشقي المقري ثنا إبراهيم ابن هشام بن يحيى الغساني حدثني أبي عن جدي عن أبي إدريس الخولاني عن أبي ذر Y قال قلت : يا رسول الله أوصني قال : ( أوصيك بتقوى الله فإنها رأس مالك ) قلت : يا رسول الله زدني قال : ( عليك بتلاوة القرآن وذكر الله فإن ذلك لك نور في السماوات ونور في الأرض ) قلت : يا رسول الله زدني قال : ( لا تكثر الضحك فإنه يميت القلب ويذهب نور الوجه ) قلت يا رسول الله زدني قال ( عليك بالجهاد فإنه رهبانية أمتي ) قلت : يا رسول الله زدني قال : ( عليك بالصمت إلا من خير فإنه مرده للشيطان عنك وعون لك على أمر دينك ) قلت : يا رسول الله زدني قال : ( أنظر إلى من هو دونك ولا تنظر إلى من هو فوقك فإنه أجدر أن لا تزدري نعمة الله عندك ) قلت : يا رسول الله زدني قال : ( صل قرابتك وإن قطعوك ) قلت : يا رسول الله زدني قال : ( لا تخف في الله لومة لائم قلت : يا رسول الله زدني قال : ( تحب للناس ما تحب لنفسك ) ثم ضرب بيده على صدري فقال : ( يا أبا ذر لا عقل كالتدبير ولا ورع كالكف ولا حسب كحسر الخلق )

حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی :یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! مجھے وصیت کریں ! آپ نے فرمایا :میں تمہیں اللہ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں کیونکہ یہ تمام کاموں کی جڑ ہے ۔میں نے عرض کی ؛میرے لیے اضافہ کریں آپ نے فرمایا تم پر قرآن کی تلاوت اور اللہ کا ذکر لازم ہے کیونکہ آپ کے لیے زمین و آسمانوں میں نور ہو گا ۔میں نے عرض کی :میرے لیے اضافہ کریں ! آپ نے فرمایا :زیادہ مت ہنسیں کیونکہ یہ دل کومار دیتا ہے او ر چہرے کا نور ختم کر دیتا ہے ۔میں نے عرض کی :آپ میرے لیے اضافہ فرمائیں !آپ نے فرمایاتم پر جہاد لازم ہے کیونکہ میری امت کی رہبانیت یہی ہے ۔آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نےفرمایا تم پر لازم ہےکہ خاموش رہو مگر خیر کا کلمہ کہو کیونکہ یہ شیطان کو رد کرتا ہے اور تیرے لیے دین کے معاملہ میں مدد کرے گا۔میں نے عرض کی :یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے لیے اضافہ کریں :آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اپنے سے نیچے والے کو دیکھ اوپر والے کو نہ دیکھ یہ تیرے لیے زیادہ بہتر ہو گا ،تو اللہ کی نعمت کو جو تیرے پاس ہے اس کو حقیر نہیں جانے گا ۔میں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے لیے اضافہ کریں !آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اپنے رشتے داروں سے صلہ رحمی کرو،اگر چہ وہ تجھ سے تعلق توڑیں ۔میں نے عر ض کی :یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے لیے اضافہ کریں :آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ کےمعاملہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈرو ۔میں نے عرض کی :یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے لیے اضافہ کریں ۔آپ نے فرمایا :لوگوں کےلیے وہی پسند کر جو تو اپنے لیے پسند کرے ۔پھر آپ نے اپنا دست مبارک میرے سینے پر مارا اور فرمایا :اے ابو ذر ! رضی اللہ عنہ تدبیر جیسی کوئی عقل نہیں ،باز رہنے جیسی کوئی پرہیز گاری نہیں ہے،حسن خلق جیسا کوئی حسب نہیں ہے۔

قُلْتُ ← اَبِیْ ذَرٍّ ← أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، ← جَدِّي، ← أَبِي ← إبراهيم ابن هشام بن يحيى الغساني، ← أَحْمَدُ بْنُ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ الدِّمَشْقِيُّ الْمُقْرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1652

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الجيم ‹ أبو عمران الجوني عن جندب · حديث 1679

1678 - حدثنا محمد بن عبدالله الحضرمي ثنا محمد بن عبد الله بن نمير ثنا وكيع عن حماد بن نجيح ( ح ) وحدثنا أبو بكر بن صدقة ثنا بسطام بن الفضل ثنا أبو عامر ثنا حماد بن نجيح عن أبي عمران عن جندب Y قال : كنا مع نبينا صلى الله عليه و سلم فتيانا حزاورة فتعلمنا الإيمان قبل أن نتعلم القرآن ثم تعلمنا القرآن فنزداد به إيمانا فإنكم اليوم تعلمون القرآن قبل الإيمان

حضر ت جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ تھے ،ہم طاقتور نوجوان تھے ،ہم قرآن کی تعلیم سیکھنے سے پہلے ایمان لاتے ،پھر ہم قرآن سیکھتے ،ہمارا اس کے ذریعے ایمان میں اضافہ ہو جاتا ،تم آج قرآن ایمان سے پہلے سیکھتے ہو۔

جُنْدُبٍ ← أَبِي عِمْرَانَ، ← حَمَّادٍ بْنِ نَجِيحٍ ← أَبُو عَامِرٍ ← بِسْطَامُ بْنُ الْفَضْلِ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ صَدَقَةَ ← حَمَّادٍ بْنِ نَجِيحٍ ← وَكِيعٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← محمد بن عبدالله الحضرمي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1679

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ ذكر تزويج النبي صلى الله عليه و سلم زينب وذكر سنها ووفاتها ومن أخبارها · حديث 20130

111 - حدثنا محمد بن علي الصائغ ثنا سعيد بن منصور ثنا معاوية عن داود بن أبي هند عن الشعبي عن مسروق Y عن عائشة قالت : لو كتم رسول الله صلى الله عليه و سلم شيئا من الوحي لكتم هذه الآية { وتخفي في نفسك ما الله مبديه وتخشى الناس والله أحق أن تخشاه فلما قضى زيد منها وطرا زوجناكها }

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں: اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وحی میں سے کوئی چیز چھپائی ہے تو یہ آیت چھپائی: " وتخفی فی نفسک الیٰ آخرہٖ " ۔

عَائِشَةَ ← مَسْرُوقٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← مُعَاوِيَةَ، ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20130

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ ذكر تزويج النبي صلى الله عليه و سلم زينب وذكر سنها ووفاتها ومن أخبارها · حديث 20133

114 - حدثنا داود بن محمد بن صالح المروزي ثنا العباس بن الوليد النرسي حدثنا يزيد بن زريع ثنا سعيد بن أبي عروبة Y عن قتادة في قوله { وإذ تقول للذي أنعم الله عليه وأنعمت عليه } وهو زيد بن حارثة أنعم الله عليه بالإسلام وأنعمت عليه أعتقه رسول الله صلى الله عليه و سلم { أمسك عليك زوجك واتق الله وتخفي في نفسك ما الله مبديه وتخشى الناس } قال : قال الحسن : مأنزلت عليه آية أشد منها { وتخفي في نفسك } ولو كان رسول الله صلى الله عليه و سلم كاتما شيئا من الوحي لكتمها { وتخشى الناس والله أحق أن تخشاه } قال : خشي نبي الله صلى الله عليه و سلم قالة الناس { فلما قضى زيد منها وطرا } لما طلقها زيد { زوجناكها } قال : فكانت زينب بنت جحش تفخر على نساء النبي صلى الله عليه و سلم تقول : أما أنتن فزوجكن آبائكن وأما أنا فزوجني ذو العرش { واتق الله } قال : جعل يقول يا نبي الله إنها قد اشتد علي خلقها وإني مطلق هذه المرأة فكان النبي صلى الله عليه و سلم إذا قال زيد ذلك قال : أمسك عليك زوجك واتق الله

حضرت قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اللہ کے اس فرمان کے بارے میں مروی ہے : " واذا تقول للذی انعم اللہ علیہ وانعمت علیہ "۔ (فرماتے ہیں : ) وہ حضرت زید بن حارثہ ہیں، جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام یہ فرمایا کہ انہیں اسلام لانے کی توفیق دی اور "آپ نےان پر انعام کیا" (مراد ہے کہ ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان پر انعام یہ کیا کہ انہیں آزاد کیا" امسک علیک زوجک " ۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں: حضرت حسن کا قول ہے: اس سے زیادہ سخت آیت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل نہیں ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان "وتخفی فی نفسک " ۔ اگر (زندگی میں) رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وحی میں سے کوئی شی چھپائی ہے تو وہ یہ آیت ہے۔" وتخشی الناس واللہ احق ان تخشاہ " ۔ فرماتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خدشہ لاحق ہوا کہ لوگ باتیں کریں گے۔ "فلما قضی زید منھا وطراً "۔ (مراد ہے : ) جب حضرت زید نے انہیں طلاق دے تو ( اللہ کے حکم فرمایا: ) " ہم نے آپ کا نکاح ان سے کر دیا ہے" ۔ "زوجنا کھا"۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دوسری بیویوں پر حضرت زینب بنت حجش فخر فرمایا کرتی تھیں کہ تمہارے باپوں نے تمہارے نکاح کیے جبکہ میرا نکاح عرش والے نے کیا۔ " واتق اللہ " ۔ فرماتے ہیں : وہ (زید) کہنے لگے: اے اللہ کے نبی ! بے شک میرے حوالے سے انکی عادات بہت سخت ہیں۔ میں ایسی عورت کو طلاق دینے والا ہوں۔ جب حضرت زید نے یہ کہا تو گویا : اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھ اور اللہ سے ڈر۔ "

سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ← دَاوُدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَالِحٍ الْمَرْوَزِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20133

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ خبر نزول آية الحجاب في تزويج رسول الله صلى الله عليه و سلم زينب · حديث 20144

125 - حدثنا معاذ بن المثنى ثنا مسدد حدثنا جعفر بن سليمان عن الجعد أبي عثمان قال : ثنا أنس بن مالك قال : Y أعرس النبي صلى الله عليه و سلم امرأة من نسائه يعني زينب فجعلت أم سليم حيسا ثم جعلته في تور وهم يومئذ في جهد شديد فقالت : إذهب بهذا إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم وأقرأه مني السلام وأخبره أن هذا منا له قليل فجئت رسول الله صلى الله عليه و سلم فقلت يا رسول الله : بعثت بهذا إليك أم سليم وهي تقرئك السلام وتقول لك : يا رسول الله هذا منا لك قليل فنظر إليه فقال : ضعه فوضعته في ناحية البيت ثم قال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم : انطلق فادعوا فلانا وفلانا وفلانا فسمى رجالا كثيرا ومن لقيت من المسلمين فدعوت الذي سمى لي ومن لقيت من المسلمين فجئت والبيت ملأى والصفة والحجرة فسألنا أنساكم كانوا ؟ قال : زهاء ثلاثمائة فدعاني رسول الله صلى الله عليه و سلم بالتور فجئت به فوضع يده عليه وسمى ودعا ثم قال : ليتحلق عشرة عشرة وليأكل كل إنسان مما يليه فجلوا يتحلقون عشرة عشرة ويسمون ويأكلون وينهضون وكلما فرغ قوم قاموا وجاء آخرون يعقبونهم حتى أكلوا كلهم ثم قال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم : ارفعه فلا أدري هو كان حيث وضعته أكثر أم حيث رفعته وبقي في بيت رسول الله صلى الله عليه و سلم طوائف من الناس يتحدثون فأطالوا الحديث فثقلوا على رسول الله صلى الله عليه و سلم وكان رسول الله صلى الله عليه و سلم أشد الناس حياءا ولا يشعرون أنهم ثقلوا على رسول الله صلى الله عليه و سلم كان ذلك عليهم عزيزا فقام رسول الله صلى الله عليه و سلم وتركهم فلما رأوا رسول الله صلى الله عليه و سلم رجع ظنوا أنهم قد ثقلوا عليه فابتدروا الباب فخرجوا قال أنس : فجاء رسول الله صلى الله عليه و سلم فأرخى الستر ودخل فمكث يسيرا فأنزل عليه الوحي فخرج رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو يقرأ { يا أيها الذين آمنوا لا تدخلوا بيوت النبي إلا أن يؤذن لكم } إلى آخر الآيات قال أنس : فأنا أحدث الناس عهدا بهذه الآيات قرأهن رسول الله صلى الله عليه و سلم علي

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بیویوں میں سے ایک بیوی کا ولیمہ کیا یعنی حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا تو حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حیس (حلوہ) بنایا پھر اسے ایک ڈونگے میں رکھا جبکہ اس دن وہ لوگ سختی میں تھے۔ حضرت ام سلیم نے کہا: یہ اُٹھا کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لے جاؤ! اور میری طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کہہ کر بتانا کہ یہ ان کا قلیل تحفہ ہے۔ پس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا ۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول ! مجھے یہ چیز دے کر حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے آپ کی طرف بھیجا ہے۔ وہ آپ کی خدمت میں سلام پیش کرتے ہوئے عرض کررہی تھیں: اے اللہ کے رسول ! یہ ہماری طرف سے آپ کی خدمت میں تھوڑا سا تحفہ ہے۔ پس آپﷺ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی طرف ایک نظر دیکھ کر فرمایا : اسے رکھ دو۔ میں نے اسے گھر کے ایک کونے میں رکھ دیا پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جا کر فلاں، فلاں اور فلاں کو بلا کر لے آؤ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بہت سارے لوگوں نے نام لیے اور (اسے بھی دعوت دو) مسلمانوں میں سے جو تجھے راستے میں ملے۔ پس میں نے ان کو بھی دعوت دی جن کے آپ نے نام لیے تھے ور ان کو بھی مسلمانوں میں سے جو مجھے راستے میں ملا۔ میں آیا تو گھر، مقام صفہ اور حجرہ شریف بھر چکے تھے (راوی حضرات کہتے ہیں: ) پس ہم نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا : وہ کتنے لوگ تھے؟ فرمایا: تقریباً تین سو ۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: ڈونگہ لے کر آؤ۔ پس میں لایا تو پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر اپنا ہاتھ رکھا پھر اللہ کا نام لے کر دعا کی۔ پھر فرمایا: دس دس کے حلقے بنا لو اور ہر آدمی اپنے سامنے سے کھائے۔ پس لوگوں نے دس دس کے حلقے بنانا ، اللہ کا نام لینا اور رکھنا شروع کر دیا۔ (کھاتے گئے) اور اٹھتے گئے۔ جب بھی ایک گروہ فارغ ہو جاتا تو اُٹھ جاتا اور دوسرے پیچھے ان کی جگہ آ جاتے یہاں تک کہ سب نے کھا لیا پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے بلا کر حکم دیا: (اب) اسے اٹھا لو۔ مجھے اندازہ نہ ہوسکا کہ جب میں نے اسے رکھا تھا، اس وقت زیادہ تھا یا اب جب میں نے اسے اٹھایا ۔ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر میں لوگوں میں سے کچھ طوائف باقی رہ گئے ، وہ باتیں کر رہے تھے۔ پس انہوں نے لمبی گفتگو کی تو وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بوجھ بن گئے جبکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کا بہت زیادہ لحاظ فرمایا کرتے تھے۔ لیکن ان لوگوں کو احساس نہ ہو سکا کہ وہ لوگ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بوجھل ہے۔ یہ چیز آپ پر گراں ہوئی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو وہیں چھوڑ کر اٹھ کھڑے ہوئے۔ پس جب ان لوگوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو انہیں گمان ہوا کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر گراں ہیں۔ انہوں نے دروازے کی طرف جانے میں جلدی کی اور باہر نکل گئے۔ حضرت انس فرماتے ہیں: کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس تشریف لائے تو پردہ تان دیا وار اندر چلے گئے۔ تھوڑی دیر ٹھہرے تو آپ پر وحی نازل ہوئی۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نکلتے ہوئے اسے تلاوت کر رہے تھے۔ " اے ایمان والو!۔۔۔۔"۔ آیات کے آخر تک۔ حضرت انس فرماتے ہیں: ان آیات کو زمانے کے لحاظ سے میں سب لوگوں سے زیادہ بیان کرنے والا تھا، جن کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ پر پڑھا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← مُسَدَّدٌ ← مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20144

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ باب 8 · حديث 8845

8828 - حدثنا محمد بن النضر الأزدي ثنا معاوية بن عمرو ثنا المسعودي عن أبي نهشل عن أبي وائل قال قال عبد الله Y فضل عمر الناس بأربع بذكره الاسارى يوم بدر فأمر بقتلهم فأنزل الله عز و جل { لولا كتاب من الله سبق لمسكم فيما أخذتم عذاب عظيم } ويذكره الحجاب فقالت زينب : وإنك لتغار منا والوحي ينزل في بيوتنا فأنزل الله عز و جل { وإذا سألتموهن متاعا فاسألوهن من وراء حجاب } نبي الله صلى الله عليه و سلم : اللهم أيد الإسلام بعمر بن الخطاب رضي الله عنه وبرأيه في أبي بكر كان أول الناس بايعه

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: تمام لوگوں سے بڑھ کر صاحب فراس تین تھے: (۱) حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بیگم صاحبہ جنہوں نے اپنے والد کی خدمت میں عرض کی : ’’ اے میرے باپ! ان کو نوکر رکھ لو ‘ بے شک سب سے بہتر نوکر جو تم رکھو وہ ہے جو طاقتور امانت والا ہو ‘‘ ۔ باپ نے کہا: تو نے اس میں کیا قوت دیکھی ہے؟ اس نے جواب دیا: وہ کنویں کی طرف آئے جبکہ اس پر پتھر پڑا تھا جسے کو اتنے اتنے لوگ بھی نہ ہٹا سکتے تھے ‘ پس انہوں نے اسے اکیلے اٹھالیا۔ باپ نے کہا: تو نے اس کی امانت کے حوالے سے کیا دیکھا؟ اس نے عرض کی: میں ان کے آگے چل رہی تھی تو انہوں نے مجھے اپنے پیچھے کر دیا ‘ اور حضرت یوسف علیہ السلام کا ساتھی‘ جس نے کہا: ”اکرمی مثواه الىٰ آخرہ ‘‘ اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جنہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اپنا خلیفہ بنایا۔

أَبِي وَائِلٍ ← أَبِي نَهْشَلٍ، ← الْمَسْعُودِيِّ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ← مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 8845

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ باب 11 · حديث 8885

8868 - حدثنا محمد بن النضر ثنا معاوية بن عمرو ثنا زائدة عن الأعمش عن شقيق قال Y كان عبد الله يقل الصوم فذكر ذلك له فقال : إني إذا صمت ضعفت عن القراءة وتلاوة القرآن أحب إلي

حضرت عبدالرحمن ٰبن یزید فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نفلی روزہ کم رکھتے تھے ‘ فرمایا: جب میں روزہ رکھوں گا تو کمزور ہو جاؤں گا ‘ تو نماز نہیں پڑھ سکوں گا ‘ نماز مجھے روزے سے زیادہ پسند ہے ‘ اگر آپ روزے رکھتے تو ایک ماہ میں تین روزے رکھتے تھے ۔

الْقِرَاءَةِ، وَتَلَاوَةُ الْقُرْآنِ أَحَبُّ إِلَيَّ» ← إني إذا صمت ضعفت ← ذَلِكَ لَهُ، ← كان عبد الله يقل الصوم ← شَقِيقٍ، ← الْاَعْمَشِ ← زَائِدَۃَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ← مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 8885

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الجيم ‹ إسرائيل بن يونس عن سماك · حديث 1915

1914 - حدثنا إسحاق بن إبراهيم عن عبد الرزاق عن إسرائيل عن سماك أنه سمع جابر بن سمرة Y يقول : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يصلي الصلوات كنحو من صلاتكم التي تصلون اليوم ولكنه كان يخفف كانت صلاته أخف من صلاتكم كان يقرأ في الفجر الواقعة ونحوها من السور

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم تمام نمازیں تمہاری نماز کی طرح پڑھتے تھے ، جس طرح آج تم نماز پڑھ رہے ہو، لیکن آپ مختصر پڑھاتے ، آپ کی نماز تمہاری نماز سے مختصر ہوتی، آپ نماز فجر میں الواقعہ اور اس جیسی کوئی سورت پڑھتے ۔

جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← سماك أنه ← اِسْرَائِیْلُ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1915

المعجم الکبیر للطبرانی · باب القاف ‹ من اسمه قبيصة قبيصة بن مخارق الهلالي · حديث 15666

957 - حدثنا عبدان بن أحمد ثنا معاوية بن عمران الجرمي ثنا أنيس بن سوار الجرمي عن ايوب عن أبي قلابة عن هلال بن عمرو أن قبيصة الهلالي حدثه Y أن الشمس انكسفت على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو بالمدينة حتى بدت لهم النجوم وأن النبي صلى الله عليه و سلم قام فصلى ركعتين أطال فيها القيام فلما قضى صلاته أقبل على الناس فقال : ( إذا رأيتم شيئا من هذه الآيات فإهنما هو تخويف من الله عز و جل فإذا رأيتموها فصلوا مثل أحدث صلاة صليتموها )

حضرت قبیلہ بن مخارق الہلالی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کے زمانہ پاک میں مدینہ شریف میں سورج کو گرہن لگا یہاں تک کہ ستارے نظر آنے لگے حضور ﷺ اُٹھے دو رکعت نفل ادا کیے ان میں لمبا قیام کیا جب نماز مکمل فرمائی تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے فرمایا: جب تم اس طرح کی نشانیاں دیکھو تو یہ اللہ کی طرف سے خوف ہے جب تم یہ دیکھو تو اس طرح نماز پڑھو جس طرح تم نے مجھے نئی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا۔

هلال بن عمرو أن قبيصة الهلالي ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← أُنَيْسُ بْنُ سَوَّارٍ الْجَرْمِيُّ ← معاوية بن عمران الجرمي ← عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15666

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ باب 11 · حديث 9046

9029 - حدثنا عبد الله بن محمد بن سعيد بن أبي مريم ثنا محمد بن يوسف الفريابي ثنا سفيان عن زبيد عن مرة عن عبد الله بن مسعود قال Y أنزلت هؤلاء الآيات من آخر البقرة { آمن الرسول } من كنز تحت العرش

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ اور اگر تم ظاہر کرو اس چیز کو جو تمہارے دلوں میں ہے یا اسے چھپاؤ ‘‘ ۔ فرمایا: اس کے بعد والی آیت اس کی ناسخ ہے ‘ ’’ اس کے فائدے کے لیے ہے جو اس نے ( نیک کام) کیا اور اسی پر ضرر ہے اس کا جو اس نے ( برا کام ) کیا ‘‘ ۔

أنزلت هؤلاء الآيات من آخر البقرة آمن الرسول من كنز تحت العرش ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← مُرَّۃُ ← زُبَيْدٍ، ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 9046

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الكاف ‹ ابن كعب بن مالك عن أبيه الزهري عن ابن كعب · حديث 15760

91 - حدثنا أبو شعيب عبد الله بن الحسن الحراني ثنا أبو جعفر النفيلي ثنا محمد بن سلمة عن محمد بن إسحاق قال : فذكر الزهري عن محمد بن مسلم عن عبد الرحمن بن عبد الله بن كعب الانصاري ثم السلمي أن Y أباه عبد الله بن كعب قال وكان قائد أبيه كعب حين أصيب ببصره قال : سمعت أبي بن كعب يحدث حديثه حين تخلف عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في غزوة تبوك وحديث صاحبيه قال : ما تخلفت عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في غزوةغيرها قط غير إني قد كنت قد تخلفت عنه في غزوة بدر ولم يعاتب الله ولا رسوله أحدا تخلف عنها وذلك أن رسول الله صلى الله عليه و سلم إنما خرج يريد عير قريش حتى جمع الله بينه وبين عدوه على غير ميعاد ولقد شهدت مع رسول الله صلى الله عليه و سلم ليلة العقبة حين تواثقنا على الاسلام وما أحب أن لي بها مشهد بدر وإن كانت غزوة بدر أذكر في الناس منها كان من حديثي حين تخلفت عنه في تلك الغزوة وكان رسول الله صلى الله عليه و سلم قلما يخرج في غزوة يغزوها إلا ورى بغيرها حتى كانت تلك الغزوة فغزاها في حر شديد واستقبل عدوا كثيرا فحكى للناس أمرهم ليتأهبوا لذلك أهبة غزوهم فأخبرهم بوجهه الذي يريد والمسلمون من تبع رسول الله صلى الله عليه و سلم كبير لا يجمعهم كتاب حافظ - يعني بذلك كعب الديوان - يقول : لا يجمعهم ديوان مكتوب قال كعب : فقل رجل يريد أن يغيب إلا ظن أنه مستخفى له ذلك ما لم ينزل فيه وحي من الله عز و جل وغزا رسول الله صلى الله عليه و سلم تلك الغزوة حين طابت الثمار وراحت الظلال فتجهز رسول الله صلى الله عليه و سلم وتجهز المسلمون معه وجعلت أعدو لا تجهز معهم فأرجع ولم أقض حاجة وأقول في نفسي إني قادر على ذلك إذا أردت فلم يزل يتمادى بي حتى شعر الناس للغد فأصبح رسول الله صلى الله عليه و سلم غاديا والمسلمون معه لم أقض شيئا ثم غدوت فرجعت ولم أقض شيئا فلم يزل كذلك حتى أسرعوا فهممت أن أرتحل فأدركهم وليتني فعلت ولم أفعل وجعلت إذا خرجت في الناس بعد خروج رسول الله صلى الله عليه و سلم يحزنني أن لا أرى إلا رجلا مغموصا عليه في النفاق أو رجلا ممن عذرا أنه في الضعفاء ولم يذكرني رسول الله صلى الله عليه و سلم حتى بلغ تبوكا قال وهو جالس في القوم : ( أتدرون ما فعل كعب بن مالك ) فقال رجل من بني سلمة : نعم حبسه برداه والنظر في عطفه فقال معاذ بن جبل : تدري ما قلت ؟ والله يا رسول الله ما علمنا عليه إلا خيرا فسكت رسول الله صلى الله عليه و سلم فلما بلغني أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قد توجه قافلا من تبوك حضرني شر فجعلت أتذكر الكذب وأقول بماذا أخرج من سخط رسول الله صلى الله عليه و سلم غدا واستعين على ذلك بكل من أرى من أهلي فلما قيل أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قد أظل قادما زاح عني الباطل وعرفت أن لا أنجو منه إلا بالصدق فأجمعت أن أصدقه فصبح رسول الله صلى الله عليه و سلم المدينة وكان إذا قدم من سفر بدأ بالمسجد فركع فيه ركعتين ثم جلس للناس فلما فعل ذلك جاءه المخلفون فجعلوا يعتذرون إليه ويحلفون له وكانوا بضعة وثمانين رجلا فقيل منهم رسول الله صلى الله عليه و سلم علانيتهم وإيمانهم فيستغفر لهم وجعل سرائرهم إلى الله عز و جل حتى جئت فسلمت عليه فلما سلمت عليه تبسم تبسم المغضب ثم قال : ( تعال ) فجئت أمشي حتى جلست بين يديه فقال لي : ( ما خلفك ؟ ألم تكن ابتعت طهرا ؟ ) قلت يا رسول الله والله لو جلست عند غيرك من أهل الدنيا لرأيت أني سأخرج من سخطته لقد أعطيت جدلا ولكني والله لقد علمت لئن حدثتك اليوم كذبا لترضى عني ليوشكن الله أن يسخطك علي ولئن حدثتك حديثا صادقا تجد علي فيه أنى لارجو عفو الله فيه والله ما كان لي عذر والله ما كنت قد أقوى ولا أيسر مني حين تخلفت عنك فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( أما هذا فقد صدقكم ) قم حتى يحكم الله فيك أمره فقمت وقام معي رجال من بني سلمة فاتبعوني فقالوا : والله ما علمناك أذنبت ذنبا قبل هذا ولقد عجزت أن لا يكون اعتذرت إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم بما اعتذر إليه المنافقون قد كان كافيك منه استغفار رسول الله صلى الله عليه و سلم فو الله ما زالوا يؤنبوني حتى أردت أن أرجع إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فأكذب نفسي ثم قلت لهم هل لقي هذا أحد غيري ؟ فقالوا : نعم رجلان قالا مثل مقالك وقيل لهما مثل ما قيل لك قلت من هما ؟ قالوا : مرارة بن الربيع و هلال بن أمية الواقفي فذكروا رجلين صالحين فيهما أسوة فصممت حين ذكروهما لي ونهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن كلامنا أيها الثلاثة من بين من تخلف عنه فاجتنبنا الناس وتغيروا لنا حتى تنكرت لي نفسي والارض فما هي بالارض التي كنت أعرف فلبثنا على ذلك خمسين ليلة أما صاحباي فاستكنا وقعدا في بيوتهما وأما أنا فكنت أشد الرهط وأجلدهم وكنت أخرج وأشهد الصلاة مع المسلمين وأطوف في الأسواق فلا يكلمني أحد وإني آتي رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو في مجلسه بعد الصلاة فأسلم عليه فأقول في نفسي هل حرك شفتيه برد السلام علي أم لا ؟ ثم أصلى قريبا منه فأسارقه النظر فإذا أقبلت على الصلاة نظر إلي فإذا التفت نحوه أعرض عني حتى إذا طال على ذلك من جفوة المسلمين مشيت حتى تسورت جدار أبي قتادة وهو ابن عمي وأحب الناس إلي فسلمت عليه فو الله ما رد علي السلام فقلت يا أبا قتادة أنشدك الله هل تعلم أني أحب الله ورسوله ؟ فسكت فعدت له فناشدته فسكت فعدت له فناشدته فقال : الله ورسوله أعلم ففاضت عيناي ورحت فتسورت الجدار ثم غدوت إلى السوق فبينا أن أمشي في السوق فإذا بنبطي من نبط الشام يسأل عني ممن قدم ببيع الطعام بالمدينة يقول : من يدلني على كعب بن مالك فجعل الناس يشترون إلي حتى جاءني فدفع إلي كتابا من ملك غسان وكتب كتابا في سرقة من حرير فإذا فيه : أما بعد فإنه ما بلغنا أن صاحبك قد جفاك ولم يجعلك الله بدار هوان ولا مضيعة فالحق بنا نواسيك فقلت حين قرأتها : هذا أيضا من البلاء قد بلغ بي ما قد وقعت فيه أن طمع في رجل من أهل الشرك فعمدت بها إلى تنور فسجرنه بها فأقمنا على ذلك حتى مضت أربعون ليلة إذا رسول الله صلى الله عليه و سلم يأتيني فقال : إن رسول الله صلى الله عليه و سلم يأمرك أن تعتزل امرأتك قلت أطلاقا أم ماذا ؟ قال : بل اعتزلها ولا تقربها وأرسل إلى صاحبي بمثل ذلك فقلت لامرأتي الحقي بأهلك وكوني عندهم حتى يقضي الله في هذا الأمر ما هو قاض قال : فجاءت امرأة هلال بن أمية رسول الله صلى الله عليه و سلم فقالت : يا رسول الله صلى الله عليه و سلم أن هلال بن أمية شيخ كبير ضائع لا خادم له أفتكره أن أخدمه ؟ قال : ( لا ولكن لا يقربنك ) فقالت : يا رسول الله ما به من حركة إلي والله ما زال يبكي منذ كان من أمره ما كان إلى يومه هذا ولقد تخوفت على بصره قال : فقال لي بعض أهلي : لو استأذنت رسول الله صلى الله عليه و سلم لامرأتك فقد أذن لامرأة هلال بن أمية أن تخدمه ؟ قلت : لا والله لا استأذنه فيها ما يدري ما يقول رسول الله صلى الله عليه و سلم في ذلك أن استأذنته فيها وأنا رجل شاب قال : فبتنا على ذلك عشر ليال فكمل لنا خمسون ليلة من حين نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن كلامنا حتى صليت الصبح صبح [ خمسين ليلة ] على ظهر بيت من بيوتنا على الحال التي ذكر الله وقد ضاقت علي الأرض بما رحبت وضاقت علي نفسي وقد كنت ابتنيت خيمة في ظهر سلع فكنت أكون فيها إذ سمعت صارخا بأعلى سلع يقول بأعلى صوته يا كعب بن مالك أبشر فخررت ساجدا وعرفت أن قد جاء الفرج قال : فأخبر رسول الله صلى الله عليه و سلم الناس بتوبة الله علينا حين اطلع الفجر وقد ذهب أناس يبشروننا فذهب نحو صاحبي مبشر وركض رجل إلي فرسا وسعى ساع من أسلم حتى أوفى على الجبل وكان الصوت أسرع من الفارس فلما جاءني الذي سمعت صوته يبشرني نزعت ثوبي فكسوته اياهما بشارة والله ما أملك غيرهما يومئذ واستعرت ثوبين فلبستهما وانطلقت أتيمم رسول الله صلى الله عليه و سلم وتلقاني الناس يهنؤنني بالتوبة ( ويقولون ) ليهنئك توبة الله عليك حتى دخلت المسجد ورسول الله صلى الله عليه و سلم جالس وحوله الناس فقام إلي طلحة بن عبيد الله فحياني وهنأني والله ما قام إلي رجل من المهاجرين غيره قال : فكان كعب لا ينساها له قال كعب : فلما سلمت على رسول الله صلى الله عليه و سلم ووجهه مشرق من السرور وقال : ( أبشر بخير يوم مر عليك منذ يوم ولدتك أمك ) قلت : من عندك يا رسول الله أم من عند الله تبارك وتعالى ؟ قال : ( بل من عند الله ) قال : وكان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا سر استبشر حتى كان وجهه قطعة من قمر وكنا نعرف ذلك منه فلما جلست بين يديه قلت يا رسول الله ان من توبتي أن أنخلع من مالي صدقة إلى الله وإلى رسوله فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( أمسك عليك بعض مالك فهو خير لك ) قلت إني أمسك سهمي من خيبر فقلت يا رسول الله أن الله أنجاني بالصدق وإن من توبتي إلى الله أن لا أحدث إلا صدقا ما بقيت والله ما أعلم أحدا من الناس أبلاه الله في صدق الحديث ما أبلاني منذ ذكرت ذلك لرسول الله صلى الله عليه و سلم إلى يومي هذا وأنا أرجو أن يحفظني الله فيما بقى وانزل الله عز و جل { لقد تاب الله على النبي والمهاجرين والأنصار الذين اتبعوه في ساعة العسرة من بعد ما كاد يزيغ قلوب فريق منهم ثم تاب عليهم إنه بهم رؤوف رحيم } و { وعلى الثلاثة الذين خلفوا } إلى قوله { اتقوا الله وكونوا مع الصادقين } قال كعب : فو الله ما أنعم الله علي نعمة بعد أن هداني للاسلام كانت أعظم في نفسي من صدقي رسول الله صلى الله عليه و سلم يومئذ إلا أن أكون كذبته فأهلك كما هلك الذين كذبوه فإن الله قال في الذين كذبوه حين أنزل الوحي شر ما قال لاحد قال ( سيحلفون بالله لكم إذا انقلبتم اليهم لتعرضوا عنهم فأعرضوا عنهم انهم رجس ومأواهم جهنم جزاء بما كانوا يكسبون يحلفون لكم لترضوا عنهم فإن ترضوا عنهم فإن الله لا يرضى عن القوم الفاسقين قال : وكنا خلفنا أيها الثلاثة عن أمر هؤلاء الذين قبل منهم رسول الله صلى الله عليه و سلم حين حلفوا له فصدقهم واستغفر لهم وأرجأ رسول الله صلى الله عليه و سلم أمرنا حتى قضى الله فيه ما قضى ) فذلك قول الله عز و جل : { وعلى الثلاثة الذين خلفوا } وليس الذي ذكر الله لتخلفنا عن الغزو ولكن لتخليفه ايانا وارجائه أمرنا عن من حلف له واعتذر إليه فقبل منهم

حضرت عبداللہ بن کعب فرماتے ہیں اور یہی ان کے وہ بیٹے ہیں کہ جب ان کی آنکھیں ضائع ہو گئی تھیں تو ان کی انگلی پکڑ کر چلا کرتے تھے فرمایا : میں نے اپنے باپ کواپنی حدیث بیان کرتے ہوئے سنا جب وہ رسول کریم ﷺ سے پیچھے رہ گئے غزوہ تبوک میں اور انہوں نے اپنے دونوں ساتھیوں کی حدیث کو بھی بیان کیا۔ حضرت کعب نے فرمایا: اس تبوک غزوہ کے علاوہ کبھی کسی غزوہ میں میں نبی کریمﷺ سے پیچھے نہیں رہا بس میں غزوہ بدر میں آپ ﷺ سے پیچھےر ہ گیا تھا جبکہ نہ اللہ تعالیٰ نے اور نہ اللہ کے رسول ﷺ نے کسی کو عتاب فرمایا تھا جو اس سے پیچھے رہ گیا تھا جبکہ نہ اللہ تعالیٰ نے اور نہ اللہ کےر سول ﷺ نے کسی کو عتاب فرمایا تھا جو اس سے پیچھے رہ گیا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ رسول اللہﷺ قریش کے تجارتی قافلے کو پانے کیلئے نکلے تھے حتیٰ کے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ اور آپ ﷺ کے دشمن کو اکٹھا کر دیا ایک ایسے مقام پر جس کو مقرر نہ کیا گیا تھا تحقیق میں رسول کریم ﷺ کی خدمت میں عقبہ کی رات حاضر ہوا جہاں ہم نے اسلام پر وعدہ کیا میری پسندیہ ہے کہ کاش اس کے بدلے مجھے بد کا غزوہ بدر کا تذکرہ کیا جاتا ہے ۔ میری بات کا ایک حصہ یہ ہے جب میں اس غزوہ میں رسول کریمﷺ سے پیچھے رہ گیا۔ نبی کریم ﷺ کی عادت تھی جب کسی غزوہ پہ نکلتے تو اسے پوشیدہ رکھتے حتیٰ کہ جب یہ غزوہ آیا پس آپ ﷺ نے سخت گرمی میں یہجنگ کی اور بہت بڑے دشمن کا سامنا کیا۔ پس آپ ﷺ نے لوگوں کیلئے بات بیان کر دی تاکہ وہ اس غزوہ کیلئے تھوری بہت تیاری کر لیں پس آپ ﷺ نےلوگوں کو اپنا ارادہ بتا دیا جو آپ چاہتے تھے اور مسلما ن کی شان تو یہ ہے کہ وہ رسول کریمﷺ کی پیروی کرنے والے ہیں مسلمانوں کی تعداد اس غزوہ کے وقت اتنی زیادہ تھی کہ ان کو اکٹھا کرنےو الی کوئی کتاب نہ تھی جس میں ان کا نام لکھا جاتا۔ اسی وجہ سے حضرت کعب فرماتے ہیں: کم ہی کوئی آدمی ایسا تھا جو غائب ہونا چاہتا ہو مگر اسے گمان تھا کہ وہ آپ ﷺ کی آنکھوں سےا وجھل ہوا تو کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کے بارے میں اللہ کی طرف سے کوئی وحی نازل ہو جائے رسول کریم ﷺ نے غزوہ ایسے موسم میں لڑ ا جب پھل پک چکے تھے اور سائے آرام دہ تھے ۔ رسول کریم ﷺ نے سازو سامام تیار کیا تو ساتھ مسلمانوں نے سامان تیار کیا۔ میں نے کہا: میں صبح کروںگا تو میں بھی ان کے ساتھ سامان تیار کروں گا۔ پس میں لوٹ آیا لیکن میرا کام نہ ہوا۔ میں اپنے دل میں کہہ رہاتھا کہ میں نے جب اراہ کیاتو اسی وقت میں ایسا کر سکوں گا۔ سو میں ا سی کشمکش میں رہاں یہاں تک کہ لوگوں نے دوسرے دن صبح جانے کیلئے تیاری مکمل کر لی۔ پس رسول کریمﷺ او ر آپ ﷺکے ساتھ مسلمان بھی دوسرے دن صبح جانے لگے جبکہ میرا کوئی کام نہ ہوا پھر میں نے صبح کی میں واپس آگیا میرا کوئی کام نہ ہوا بس اسی طرح وقت گزرتا گیا حتیٰ کہ وہ ساری جلدی چلئ گئے میری سمجھ نے مجھے کہا کہ تُؤ کوچ کرے گا ان کو پیچھے سے پا لے گا ۔ کاش میں ایسا کر لیتا لیکن میں کر نہ سکا۔ رسول کریم ﷺ کے چلے جانے کے بعد جب میں لوگوں کے اندر جاتا مجھے پریشان کر دیتا اس وجہ سے کہ یا تو کوئی منافق آدمی نظر آتا یا وہ آدمی جو کمزوروں اور معذوروں میں شمار ہوتا۔ رسول کریمﷺ نے راستے میں مجھے یاد تک نہ کیا حتیٰ کہ تبوک پہنچ گئے فرمایا لوگوں میں بیٹھ کر : کیا تم جانتے ہو کہ حضرت کعب بن مالک کو کیا ہوا؟ بنوسلمہ کا ایک آدمی بولا: ہاں ! مال اور جمال کی اکڑنے اسے روک لیا اور وہ دونوں جانبوں یعنی اترانےا ور غرور کرنے کو دیکھنے والا ہے ۔ اس کے بعد حضرت معاذ بولے : تجھے اندازہ ہے کہ تُو نے کیا کہا؟ اے اللہ کے رسول! بخدا! ہم تو ان کے بارے اچھی بات ہی جانتے ہیں۔ رسول کریمﷺ خاموش ہی رہے پس جب مجھے پتہ چلا رسول کریم ﷺ تبوک سے واپس لوٹ رہے ہیں تو مجھے شرنے آلیا۔ میں نےس وچا کہ میں کوئی جھوٹی موٹی بات کہہ دوں گا لیکن پھر دل میں سوچتا کہ کل رسول کریمﷺ کی ناراضگی سے نکلنے کا کیا طریقہ ہو گا؟ اس بارے میں مدد لیتا ان لوگوں سے جو میرے گھر والوں میں سے صاحب الرائے تھے ۔ پس جب کہا گیا کہر سول کریمﷺ آگئے ہیں باطل کے اندھیرے چھٹ گئے اور میرے سامنے یہ بات واضح ہو گئی کہ اگر میںاس موقع پہ نجات پاسکتا ہوں تو سچ سے ہی پا سکتا ہوں۔ میں ا سی بات پر پکا ہو گیا کہ سچ ہی بولوں گا۔ پس رسول کریمﷺ نے مدینہ میں صبح کی آپ ﷺ کی عادت مبارکہ تھی کہ سفر سے آتے تو مسجد میں پہلے تشریف لاتے اس میں د و رکعت نفل ادا کرتے پھر لوگوں کیلئے بیٹھ جاتے ۔ پس جب آپ ﷺ نے یہ کیا تو پیچھے ہ جانے والے آنے لگے اور عذر پیش کر کے قسمیں اُٹھانے لگے وہ اسی سے زائد آدمی تھے ۔ رسول کریمﷺ سب کے سامنے ان کے عذر و ایمان کو قبول فرمایا اور ان کے حق میں استغفار بھی کر اور ان کےد لوں کا حال اللہ کے سپرد فرماتے رہے ۔ حتیٰ کہ میں حاضر ہوا میں نے آپ ﷺ پر سلام کیا جب میں نے سلام کیا تو آپ ﷺ نے ناراض آدمی کی طرح تبسم رفرمایا پھر فرمایا: آگے آؤ! پس میں آہستہ آہستہ پاؤں اُٹھاتا ہوا آیا کہ آپ ﷺ کےس امنے بیٹھ گیا پس آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: آپ کیوں پیچھے رہے ؟ کیا آپ نے اپنا سامان جنگ نہ خریدا؟ میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! بخدا! اگر میں آپ کے علاوہ دنیا داروں میں سے کسی کےسامنے ہوتا تو اس کی ناراضگی سے بچنے کیلئے میرے پاس کئی طریقے تھے کیونکہ مجھے حاضر جوابی کی صفت عطا کی گئی ہے لیکن قسم بخدا! مجھے معلوم ہے کہ اگر آج میں آپ کے سامنے جھوٹ بولوں تاکہ آپ مجھ سے راضی ہو جائیں ممکن ہے اللہ تعالیٰ آپ کو مجھ پر ناراض کر دے اور اگر میں آپ سے سچی بات کہوں تو آپ مجھ پر ناراض ہو ں گے ۔ بے شک میں اللہ کی معافی کا اُ میدوار ہوں ۔ بخدا! میں کبھی اتنا طاقتور نہ تھا اور نہ زیادہ آسانی کی حالت میں جتنا اس وقت تھا جب میں آپ سے پیچھےر ہ گیا۔ پس رسول کریمﷺ نے فرمایا: بہر حال اس نے تو تمہارے سامے سچ بول دیا ہے ۔ اب اُٹھ جائیں حتیٰ کہ تمہارے بارے اللہ تعالیٰ کوئی فیصلہ فرمائے پس میں اُٹھا اور بنو سلمہ کے لوگ بھی میرے ساتھ اُٹھ کر میرے پیچھے ہو لیے ۔ پس انہوں نے کہا: بخدا! ہمیں معلوم ہے کہ آپ نےا س سے پہلے کوئی گناہ نہیں کیا۔ کیا تُو ایسا نہیں کر سکتا تھا کہر سول کریمﷺ کے سامنے عذر پیش کرتا جیسے منافقوں نے عذر پیش کیے تیرا گناہ تو اتنا چھوٹا تھا کہ رسول رکیمﷺ ایک بار استغفار کرتے تو اس کی بخشش کیلئے کافی تھا۔ بخدا! وہ مسلسل مجھے ملامت کرتے رہے حتیٰ کہ میں نے رسول کریم ﷺ کی بارگاہ میں دوبارہ حاضر ہو کر اپنےآپ کو جھٹلانے کا ارادہ کر لیا پھر میں نے ان سے پوچھا: کیا میرے علاوہ بھی کسی کو ایسی صورت حال پیش آئی ہے انہوں نے کہا: ہاں ! دو آدمی ہیں جنہوں نے کہا ہے وہی جو تُو نے کہا ہے اور ان کو وہی حکم صادر ہوا ہے جو تجھے ہوا ہے ۔ میں نے پوچھا : وہ دونوں کون کون ہیں؟ انہوں نے جواب دیا : حضرت مرارہ بن ربیع اور حضرت ہلال بن ا میہ واقفی ۔ پس انہوں نے جن دو نیک آدمیوں کا ذکر کیا ان میں میرے لیے نمونہ تھاپس میں نے خاموشی سادھ لی جب انہوں نے ان دو کا ذکر کیا۔ دوسری طرف صورت حال یہ بنی کہ رسول کریم ﷺ نے لوگوں کو ہمارے ساتھ کلام کرنےسے روک دیا وہی تین جو آپ ﷺ سے پیچھے رہ جانے والے تھے ۔ پس لوگ سے ہم سے اجنبی بن گئے اور یکسر بدل گئے حتیٰ کہ میرے لیے اپنا آپ اور زمین بھی اجنبی بن گئی کہ یہ وہ زمین نہیں ہے جس پر پہلے میں تھا پس اسی حال میں ہم پر پچاس راتیں گزر گئیں لیکن میرے دوسرے دونوں ساتھیوں نے اپنا آپ کھو دیا عاجز ہوئے اپنے گھروں میں بیٹھ کر رونے لگے ۔ بہر حال میں گروہ میں پختہ مزاج اور سخت جان تھا میں گھر سے نکلتا مسجد جا کر مسلمان کے ساتھ نماز پڑھ اتا بازاروں کے چکر لگا لیتا لیکن مجھ سے کوئی ایک بھی کلام نہ کرتا میں رسول کریم ﷺ کی خدمت میں آتا اس حال میں کہ آپ ﷺ نماز پرھ کر لوگوں سے ہم مجلس ہوتے آپ ﷺ پر سلام کرتا دل میں کہتا کہ کیا آپ ﷺ کے ہونٹ ہلتے ہیں میرے سلام کا جواب دینے کیلئے یا نہیں؟ پھر ہم میں آپ ﷺ کے قریب ہی نماز کی نیت باندھ کر کھڑا ہو جاتا پس میں چوری چوری آپ ﷺ کی طرف دیکھتا لیکن ہوتا یہ کہ جب میں نماز کی طعف متوجہ ہوتا تو آپ ﷺ میری طرف دیکھتے جب میں آپ ﷺ کی طرف متوجہ ہوتا تو آپ ﷺ مجھ سے اعرا ض فرما لیتے حتیٰ کہ جب مجھ پر مسلمانوں کا یہ رویہ لمبا ہو گیا تو میں حضرت ابو قتادہ کے باغ کی دیوار پھاند کر ان کے پاس گیا جو میرے چچا زاد بھائی تھے او ر سب لوگوںسے زیادہ مجھے پسند تھے ۔ میں نے ان کو سلام کیا بخدا! اس نے میرے سلام کا جواب تک نہ دیا میں نے کہا : اے ابو قتادہ ! میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں! کیا تجھے معلوم نہیں ہے کہ میں اللہ اور اس کےر سول سے محبت کرتا ہوں؟ وہ خاموش رہا پس میں نےا سے اللہ کا واسطہ دے کر دوبارہ کہا وہ خاموش رہا میں نے ایک بار پھر اسے واسطہ دے کر کہا: کیا تُو یہ جانتا ہے کہ میں اللہ و رسول ﷺ کا محب ہوں؟ اس وقت میری آنکھوں سے آنسو نکل آئے اور میں چل دیا پس میں دیوار پر سے گزرا پھر بازار میں آیا اسی دوران کہ میں بازار میں چل رہا تھا شام کے نبطیوں میں سے ایک نبطی میرے بارے پوچھا رہا تھا جس کا تعلق ان لوگوں سے تھا جو مدینہ میں طعام بیچنے آتے تھے ۔ وہ کہہ رہا تھا: حضرت کعب بن مالک تک کون مجھے پہنچائے گا؟ پس لوگوں نے مجھے اشارے کرنے شروع کر دئیے یہاںت ک کہ وہ میرے پاس آگیا۔ پس اس نے مجھے ایک خط دیا جو غسان کے بادشاہ کی طرف سے تھا وہ خط ریشم کے کپڑے پر لکھا ہوا تھا۔ میں نے دیکھا کہ اس میں لکھا تھا: اس کے بعد ہمیں پتہ چلا ہے کہ تیرے ساتھی نے تجھے چھوڑ دیا ہے حالانکہ تو ذلت کی جگہ پر بٹھانے اور ضائع کرنے کےقابل نہیں ہے۔ پس تو ہمارے ساتھ مل جا! ہم تیری غمگساری کریںگ ے جب میں نے اسے پڑھ لیا تو میں نے کہا یہ بھی ایکآزمائش ہے میں اس مقام پر پہنچ گیا ہوں کہ ایک مشرک آدمی مجھ میں دلچسپی لینے لگا ہے میں سیدھا تنور کی طرف گیا اور اسے نذر آتش کر دیا پس ہم اسی حالت پر چالیس راتیں رہے جب رسول کریمﷺ کا قاصد میرے پاس آیا اس نے کہا: بے شک رسول کریمﷺ تجھے اپنی بیوی سے بھی جدائی کا حکم دے رہے ہیں میں نے کہا : کیا طلاق دینی ہے یا کون سی بات ہے ؟ فرمایا: بس اس سے علیحدگی اختیار کر لے اور اس سے قربت ترک کر دے ۔ میرے دونوں ساتھیوں کی طرف بھی اسی طرح پیغام آیا۔ میں نے اپنی بیوی سے کہا : تُو میکے چلی جا اور فیصلہ خداوندی کے آنے تک وہیں انہیں کے پاس رہ جو بھی فیصلہ فرماتے ہیں کہ حضرت ہلال بن امیہ کی بیوی نے حاضر خدمت ہو کر عرض کی : اے اللہ کےرسول! ہلال بن امیہ بوڑھا آدمی ہے نظر اس کی کمزور ہے خادم اس کے پاس نہیں کیا میں ان کی خدمت کر سکتی ہوں آپ ناپسند تو نہیں کریں گے؟ فرمایا: نہیں! لیکن وہ تجھ سے قربت نہ کرے ۔ پس اس نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! ان کو میری طرف کچھ بھی حرکت کی طاقت نہیں ہے بخدا! جس دن سے اُسے یہ حکم ہوا ہے اس دن سے لے کر آج تک وہ روئے جا رہا ہے مجھے اس کی انکھوں کا خوف ہے ۔ میرے گھر والوں میں سے کسی نے کہا:تُو بھی رسول کریمﷺ سے اجازت طلب کر اپنی بیوی کیلئے۔ آپ نے ہلال بن امیہ کی بیوی کو ان کی خدمت کی اجازت دے دی ہے ۔ میں نے کہا: نہیں! میں اس کے بارے میں اجازت مانگنے کی جرات نہیں کر سکتا۔ مجھے نہیں معلوم کہ رسول کریم ﷺ کیا فرمائیں گے اس بارے میں اگر میں اس کیلئے اجازت مانگوں جبکہ میں جوان آدمی ہوں۔ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ہم مزید دس راتیں اسی حال پر رہے پس ہمیں پچاس راتیں ہو گئیں اس دن سے جب رسول کریم ﷺ نے ہم سے کلام کرنے کو منع کیا حتیٰ کہ میں نے اپنے گھر وں میں سے ایک کمرے کی چھت پر پچاسویں رات کی سبح کی نماز پڑھی حالت رہی تھی جو اللہ نے ذکر کی کہ زمین مجھ پر تنگ تھی باجود وسیع ہونے کے مجھ پر تو میری جان بھی تنگ ہو گئی میں نے سلع پہاڑ کی چوٹی پر خیمہ لگا لیا تھا پس میں اس میں تھا جب میں نے سلع پہاڑ کی بلندی سے آواز دینے والے کو سنا کہ وہ بلند آواز سے کہہ رہا تھا۔ اے کعب بن مالک ! تجھے خوشخبری ہو ! پس میں سجدے میں گر گیا اور جان گیا کہ کشادگی کا حکم آگیا ہے ۔ فرماتے ہیں: جوں ہی فجر طلوع ہوئی تو رسول کریم ﷺ نے لوگوں کو ہماری توبہ کی خبر دے دی ۔ لوگوں نے ہمیں خوشخبریاں اور مبارک باد دینا شروع کر دیں پس میرے دووں ساتھیوں کی طرف ایک خوشخبری دینے والا گیا اور ایک نے میری طرف آنے کیلئے اپنے گھورے کو ایڑ لگائی اور بنو اسلم قبیلے سے ایک دوڑ لگانے والا آدمی اپنی جگہ دوڑا حتیٰ کہ پہاڑ پر پہنچ گئے شاہسوار سے آواز زیادہ تیز رفتار تھی پس جب وہ ادمی میرے پاس آیا جس کی آواز کو میں نے سب سے پہلے سماعت فرمایا میں نے اسے بشارت کے بدلے کپڑوں کا جوڑا پہنایا قسم بخدا! اس دن میں ان دو کپڑوں کے سوا کسی کپڑے کا مالک نہ تھا میں نےد و کپڑے کسی سے اُدھار لے کر پہنے۔ میں نبی کریم ﷺ کی بارگاہ کی حاضری دینے کی نیت سے چل پڑا جبکہ لوگ توبہ کی قبولیت کی مبارک دیتے ہوئے مجھ سے ملاقاتیں کر رہے تھے اور کہہ رہے تھے : اللہ کی طرف سے اُترنے والی توبہ تجھے مبارک ہو حتیٰ کہ میں مسجد شریف میں داخل ہوا اس حال میں کہ رسول کریم ﷺ تشریف فرما تھےا ور صحابہ آپ کے ارد گرد تھے( آپ ﷺ کی مجلس میں سے ) حضرت طلحہ نے اُٹھ کر مجھے سلام کیااور مبارک دی بخدا! ان کے علاوہ مہاجرین میں سےا س وقت کوئی آدمی نہ اُٹھا پس حضرت کعب اس بات کو کبھی نہیں بھولے تھے ۔ حضرت کعب فرماتے ہیں: جب میں نے رسول کریم ﷺ پر سلام کرنے کی سعادت حاصل کی تو حال یہ تھا کہ آپﷺ کا چہرہ خوشی سے تمتما رہا تھا۔ فرمایا: خوشخبری ہو اس بہترین دن کی جو تیرے اوپر گزرا ہے جب سے تیری ماں نے تجھے جنا ہے ۔ میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! کیا آپ کی طرف سے یا اللہ کی طرف سے؟ فرمایا: بلکہ اللہ کی طرف سے۔ فرماتے ہیں: رسول کریم ﷺ کی عادت مبارکہ تھی کہ جب آپ ﷺ خوش ہوتے تو آپ کا چہرہ مبارک چاند کے ٹکڑے کی مانند ہوتا اور اس سے ہم آپﷺ کی خوشی کا اندازہ لگا لیتے تھے پس جب میں اپﷺ کے سامنے بیٹھ گیا تو میں نے عرض کی : اے اللہ کےر سول! کیونکہ میری توبہ قبول ہوئی ہے تو میں اپنے مال سے جدا ہوتا ہوں( جس نے مجھے روکا) میں اسے اللہ اور اس کے رسول! کی بارگاہ میں صدقہ کرتا ہوں۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا: اپنے مال میں سے کچھ اپنے پاس رکھ لے یہ تیرے لیے بہتر ہو گا۔ میں نے عرض کی : میں اپنا خیبر والا حصہ اپنے پاس رکھتا ہوں۔ میں نے عرض کی : اے اللہ کےر سول! بے شک اللہ نے مجھے اس لیے نجات دی ہے کہ میں نے سچ بولا ہے اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے میری توبہ قبول فرمائی تو جب تک میری زندگی ہے میں سچ ہی بولوں گا بخدا! میں لوگوں میں کسی ایسے آدمی کو نہیں جانتا ہوں جس کو سچ بولنے کی وجہ سے اللہ نے آزمائش میں ڈالا ہو جو مجھے ازمائش میں ڈالا جب سے میں نے وہ رسول کریم ﷺ کی بارگاہ میں بولا میرے آج کے اس دن تک ۔ مجھے اُمید ہے کہ میری بقیہ زندگی میں بھی اللہ تعالیٰ میری حفاظت فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائیں: رحمت سے توبہ فرمائی اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر نیز مہاجرین اور انصار پر جنہوں نے پیروی کی تھی نبی کی مشکل گھڑی میں اس کے بعد کہ ٹیڑھے ہو جائیں دل ایک گروہ کئ ان میںس ے پھر رحمت سے توجہ فرمائی ان پر بے شک وہ ان سے بہت شفقت کرنے والا رحم فرمانے والا ہے اور ان تینوں پر نظر رحمت فرمائی جن کا فیصلہ ملتوی کر دیا گیا تھا یہاں تک کہ جب تنگ ہو گئی ان پر زمین باوجود کشادگی کے اور بوجھ بن گئیں ان پر ان کی جانیں اور جان لیا اُنہوں نے کہ نہیں کوئی جائے پناہ اللہ سے مگر اسی کی ذات تب اللہ تعالیٰ ان پر مائل بہ کرم ہوا تاکہ وہ بھی رجوع کریں بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہی بہت توبہ قبول فرمانے والا ہے اور ہمیشہ رحم کرنے والا ہے اے ایمان والو! ڈرتے رہا کرو اللہ سے اور ہو جاؤ سچے لوگوں کے ساتھ اس قول تک کعب فرماتے ہیں: بخدا! اللہ تعالیٰ میرے اسلام لانے کے بعد جو نعمتیں بھی میرے اوپر فرمائی ہیں ان میں سے سب سے بڑی نعمت میرے دل میں اس دن میرا اللہ کے رسول ﷺ کے سامنے سچ بولنا ہے اگر میں جھوٹ بول دیتا تو ہلاک ہو جاتا جیسے وہ ہلاک ہوئے جنہوں نے جھوٹ بولا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے بارے میں فرمایا جنہوں نے جھوٹ بولا جب وحی نازل کی گئی برا ترین جو کسی کے بارے میں فرمایا: فرمایا: قسمیں کھائیں گے اللہ کی تمہارے سامنے جب تم لوٹو گے ان کی طرف تاکہ تم معاف کر دو انہیں سو منہ پھیر لو ان سے وہ ناپاک ہیں اور ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے بدلہ اس کا جو وہ کمایا کرتے تھے وہ قسمیں کھاتے ہیں تمہارے لیے تاکہ تم خوش ہو جاؤ ان سے سو یا د رکھو! اگر تم خوش ہو بھی گئے ان سے تو پھر بھی اللہ تعالیٰ راضی نہیں ہو گا نا فرمانوں کی قوم سے ۔ حضرت کعب فرماتے ہیں: ہم یہی تین ادمی تھے جو اس بات سے رہ گئے جن سے رسول کریم ﷺ نے عذر قبول کیا جب انہوں نے قسمیں کھائیں پس آپ ﷺ نے ان کی تصدیق کر کے ان کیلئے استغفار کیا اور رسول کریم ﷺ نے ہمارا معاملہ ملتوی کر دیا حتیٰ کا اس کا فیصلہ اللہ تعالیٰ نازل فرمائے گا جو فرمائے گا پس وہ اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے اور ان تین پر بھی جن کا فیصلہ ملتوی کر دیا گیا تھا۔

عبد الرحمن بن عبد الله بن كعب الانصاري ثم السلمي ← مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ ← أَبُو شُعَيْبٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرَّانِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15760

chevron_left Previous
1…343536…305
Next chevron_right