Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

القرآن الكريم

Quran

6097 hadiths

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر فاتحة الكتاب · حديث 2361

2361 - أخبرنا أبو زكريا يحيى بن إبراهيم أنا أبو الحسن أحمد بن محمد بن عبدوس ثنا عثمان بن سعيد ثنا يحيى بن بكير ثنا مالك ح قال : و ثنا القعنبي فيما قرأ على مالك عن العلاء بن عبد الرحمن أنه سمع أبا السائب مولى هشام بن زهرة يقول : سمعت أبا هريرة يقول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من صلى صلاة و لم يقرأ فيها بأم القرآن فهي خداج فهي خداج فهي خداج غير تمام قلت يا أبا هريرة إني أكون أحيانا وراء الإمام قال : فغمز ذراعي و قال : يا فارس اقرأ بها و قال العقنبي اقرأها في نفسك فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : قال الله عز و جل : قسمت الصلاة بيني و بين عبدي نصفين نصفها لي و نصفها لعبدي و لعبدي ما سأل قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اقرؤا يقول العبد { الحمد لله رب العالمين } يقول الله : حمدني عبدي يقول العبد { الرحمن الرحيم } يقول الله ( أثنى علي عبدي ) يقول العبد { مالك يوم الدين } يقول الله ( مجدني عبدي ) يقول العبد { إياك نعبد و إياك نستعين } فهذه الآية بيني و بين عبدي و لعبدي ما سأل يقول العبد : { اهدنا الصراط المستقيم * صراط الذين أنعمت عليهم غير المغضوب عليهم و لا الضالين } فهؤلاء لعبدي و لعبدي ما سأل أخرجه مسلم في الصحيح من حديث مالك قال الحليمي رضي الله عنه : و ليس في ابتداء القسمة من قوله { الحمد لله رب العالمين } دليل يقطع إن { بسم الله الرحمن الرحيم } ليست الآية الأولى لا يجوز أن يكون أراد فإذا انتهى العبد إلى الحمد لله رب العالمين قال الله حمدني عبدي ذاك جميع الجزء الأول من هذه السورة كما قال صلى الله عليه و سلم و إذا قال الإمام و لا الضالين فقولوا آمين و إنما أراد فإذا انتهى في القراءة إلى هذا القول لأن جميع ذلك قراءة و الله أعلم و أما التفسير فليس في الحديث أن التنصيف بالآي فإذا كانت تنصف مع ابتدائها بالتسمية و الكلام و الحروف نصفين فقد وقع بذلك الخروج من عهدة الخبر و الله أعلم و علم أنه إن ثبت أن المراد به أن تنصف السورة نصفين بالآي فقد يجوز أن يكون نصفها الأول أطول من التالي كما أن الشهر إذا لم يجاوز تسعا و عشرين لم يخل من التنصف و يكون نصفه الأول خمسة عشر و نصفه الآخر أربعة عشر حتى لو قال رجل لامرأته في أول الشهر إذا انتصف هذا الشهر فأنت طالق طلقت إذا انتصف من أيامه خمسة عشر يوما و لو نقص منه يوما من أن الطلاق كان واقعا قبل الوقت الذي ذكرنا

ہمیں خبر دی ہے ابو زکریا یحییٰ بن ابراہیم نے ان کو ابو الحسن احمد بن محمد بن عبدوس نے ان کو عثمان بن سعید نے ان کو یحییٰ بن بکیر نے ۔۔۔ح۔۔۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی قعنبی نے اس میں جو اس نے پڑھا مالک پر علاء بن عبدالرحمٰن سے انہوں نے سنا ابو السائب مولیٰ ہشام بن زہرہ سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا جو شخص نماز پڑھے جس میں فاتحہ نہ پڑھے وہ ناقص ہے ادھورا ہے نامکمل ہے حذاج کا مطلب ہے ادھوری نا مکمل ۔ میں نے کہا اے ابو ہریرہ میں کبھی امام کے پیچھے ہوتا ہوں ۔ کہتے ہیں کہ انہوں نے میرا بازو ہلایا او رکہا اے فارس اسے پڑھیے اور قعنبی نے کہا آپ اسے اپنے دل میں پڑھیے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے سنا تھا فرما رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ نماز تقسیم کی گئی ہے ۔ میرے اور میرے بندے کے درمیان آدھی آدھی ۔ آدھی میرے لئے ہے اور آدھی میرے بندے کے لئے ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا پڑھو بندہ کہتا ہے الحمد للہ رب العالمین تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے بندے نے میری حمد کی ہے ۔ بندہ کہتا ہے الرحمٰن الرحیم اللہ تعالیٰ کہتا ہے میرے بندے نے میری ثناء بیان کی ہے ۔ بندہ کہتا ہے مالک یوم الدین۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے نے میری تمجید اور بزرگی بیان کی ہے ۔ بندہ کہتا ہے ایاک نعبدو ویاک نستعین ۔ یہ آیت میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے اور میرے بندے کے لئے سب کچھ ہے جو اس نے مانگا ہے ۔ بندہ کہتا ہے اھدنالصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیھم غیر المغضوب علیھم ولا الضالین۔ یہ سب میرے بندے کے لئے ہے اور میرے بندے کے لئے وہ سب کچھ ہے جو اس نے مانگا ہے ۔ اس کو مسلم نے صحیح میں حدیث مالک سے نقل کیا ہے ۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَبَا السَّائِبِ مَوْلَى هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ ← الْقَعْنَبِيُّ فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ ← و، ← مَالِكٍ، ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ ← أبو زكريا يحيى بن إبراهيم،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned the beginning of the book · Hadith 2361

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص آية الكرسي بالذكر · حديث 2399

2399 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو بكر بن إسحاق ثنا أبو المثنى ثنا مسدد ثنا أبو عوانة ثنا أبو مالك عن ربعي بن حراش عن حذيفة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : فضلت على الناس بثلاث جعلت الأرض كلها لنا مسجدا و جعلت تربتها لنا طهورا و جعلت صفوفنا كصفوف الملائكة و أوتيت هؤلاء الآيات من آخر سورة البقرة من كنز تحت العرش لم يعط أحد منه قبلي و لا يعطي منه أحد بعدي

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابوبکر بن اسحاق نے ان کو ابو المثنی نے ان کو مسدد نے ان کو ابو عوانہ نے ان کو ابومالک نے ان کو ربعی بن حراش نے ان کو حذیفہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا۔ میں تمام لوگوں پر تین چیزوں کے ساتھ فضیلت دیا گیا ہوں پوری زمین ہم مسلمانوں کے لیے مسجد بنادی گئی ہے ( کہ پاک زمین پر کہیں بھی نماز جائز ہے صرف مسجد میں نہیں ) اور اس کی مٹی ہمارے لیے پاک کرنے والی بنادی گئی ہے اور ہماری صفیں فرشتوں کی صفوں جیسی کر دی گئی ہیں اور میں یہ آیات عطا کیا گیا ہوں سورۃ بقرہ کی آخری آیات عرش کے نیچے خزانے سے مجھ سے پہلے یہ انعام کسی کو نہیں دیے گئے اور نہ ہی میرے بعد کسی کو ملیں گے۔

حُذَيْفَةَ ← رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ← أَبُو مَالِکٍ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← مُسَدَّدٌ ← أَبُو الْمُثَنَّى ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Allocation of the Holy Ayat to mention · Hadith 2399

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7025

7025 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : سمعت الأستاذ أبا سهل محمد بن سليمان الحنفي يقول : قوله ليغان على قلبي له تأويلان أحدهما مختص به وهو حملهم إياه على غشية السكرة التي هي الصحو في الحقيقة ومعنى الاستغفار عقيبها على التحسر للكشف عنها وأهل الظاهر يحملونها على الخطرات العارضة للقلب والطلبات الواردة عليه الشاغلة له بهذه الغشية الملابسة ثم يستدركها النبي صلى الله عليه و سلم بالاستغفار والإنابة والرجوع منها إلى ربه عاتبا على قلبه فإذا كان الرسول صلى الله عليه و سلم هذا وصفه فما ظنك بالخليقة المنهمكة في الهلكة وبالله العياذ وبه الاعتصام وعليه التوكل قال الإمام وفي أهل العلم من عمل ذلك على ما يهمه من أمر أمته حين أخبر بما يكون فيهم من الآيات والاستغفار الذي كان بعده كان لأمته قلت : ومنهم من زعم أن النبي صلى الله عليه و سلم كان ينقل من حال إلى حال هو أرفع منه فإذا رفع إلى درجة أخرى رأى ما نقل عنها تقصيرا في واجب حق الله فرأى ذلك غينا يجب له الاستغفار منه

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا استاذ ابو سہل محمد بن سلیمان حنفی سے وہ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرقان کہ لیغان علی قلبی کہ میرے دل پر خیالات کا کثرت سے درود ہوتا ہے۔ اس کی دو تاویلیں ہیں۔ایک کے ساتھ مختص ہے۔ وہ ہے علماء کا اس کو محمول کر نا خاص اس کیفیت کو نشہ کی سی بیہوشی پر (جو کہ ہوشیاری ہے تو حقیقت) اور اس کے بعد استغفار کرنے کا مطلب ہے پچھتانا اس کیفیت کے کھل جانے پر اور اہل ظاہر اس کیفیت کو محمول کرتے ہیں ان خیالات پر جو درپیش آتے ہیں دل کے لئے اور خواہشات وارد ہونے والے جو دل کو غافل کرنے والے ہیں بوجہ اس بے دھیانی کے جو غلط کرنے والی ہے اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کا تدارک اور اصلاح اور تلافی کرتے تھے۔استغفار کے ساتھ انابت ورجوع کے ساتھ اپنے رب کی طرف اپنے دل پر سرزنش کرتے ہوئے اور غصہ کرتے ہوئے (سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ) جب رسول کی یہ حالت ہو اور اس کی یہ صفت اور یہ کیفیت ہو تو پھر آپ کا کیا خیال ہے؟ باقی ساری مخلوق کے بارے میں جو جو منہمک ہیں اور مصر میں ہلاکت و تباہی کے اوپر ہم اس تاویل سے اللہ کی پناہ لیتے ہیں اوراسی کی رحمت کا دامن تھامتے ہیں اور اسی پر توکل کرتے ہیں۔ امام نے فرمایا کہ ہل علم میں وہ بھی ہے جنہوں نے اس کو محمول کیا ہے اس حالت پر جو حضور کو فکر مند کرتی تھی یا فکر وغم میں مبتلا کرتی تھی آپ کی امت کے معاملے سے جب ان کو خبر دی جاتی تھی اس چیز کے بارے میں جوان میں نشانیاں ہوں گی۔ اور استغفار جو اس کیفیت کے بعد ہوتا تھا وہ آپ کی امت کے لئے تھا۔ میں کہتا ہوں کہ بعض ان میں سے وہ ہے جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حالت سے دوسری حالت کی طرف منتقل ہوتے رہتے تھے۔ جو پہلی سے اعلیٰ وارفع ہوتی تھی وہ جب دوسرے درجے کی طرف بلند ہوتے تھے تو جس کیفیت سے منتقل ہوتے تھے اس حالت کو آپ تقصیر اور کوتاہی خیال کرتے تھے اللہ کے لازمی حق کے اندر لہٰذا آپ اس حالت کو غین سے سمجھتے تھے اور دل پر گرانی اور پر یشانی محسوس کرتے تھے اور اس کیفیت مذکورہ پر استغفار کو واجب جانتے تھے۔

الأستاذ أبا سهل محمد بن سليمان الحنفي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7025

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7028

7028 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو محمد عبد الرحمن بن حمدان بن المرزبان الجلاد بهمدان نا أبو إسحاق إبراهيم بن الحسين بن ديزيل وأخبرنا أبو عبد الله أنا أبو بكر محمد بن عبد الله الشافعي نا أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل السلمي نا أبو يعقوب إسحاق بن محمد بن إسماعيل بن عبد الله بن أبي وفرة المدني مولى عثمان بن عفان نا مالك بن أنس عن يحيى بن سعيد الأنصاري و عبد الله بن عمر عن ابن شهاب أخبرني عروة بن الزبير و سعيد بن المسيب و عبيد الله بن عبد الله بن عتبة بن مسعود و علقمة بن وقاص الليثي عن عائشة زوج النبي صلى الله عليه و سلم : حين قال لها أهل الافك ما قالوا فبرأها الله منه فكلهم حدثني بطائفة من حديثها وبعضهم كان أوعى لحديثها من بعض وأثبت لها اقتصاصا وقد وعيت من كل رجل منهم حديث الذي حدثني عن عائشة وبعضهم يصدق بعضا وإن كان بعضهم أوعى من بعض زعموا أن عائشة زوج النبي صلى الله عليه و سلم قالت : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا أراد سفرا أقرع بين أزواجه فأيتهن خرج سهما خرج بها رسول الله صلى الله عليه و سلم معه قالت عائشة : فأقرع بيننا رسول الله صلى الله عليه و سلم في غزوة غزاها فخرج سهمي فخرج بي رسول الله صلى الله عليه و سلم في غزوته تلك أذن الله بالرحيل فخرجت حين أذنوا بالرحيل فمشت حتى جاوزت الجيش فلما قضيت شأني أقبلت إلى رحلي فلمست صدري فإذا عقد لي خرج لظفار قد انقطع فخرجت فالتمست عقدي وحبسني ابتغاؤه وأقبل الرهط الذين كانوا يرحلون بي فحملوا هودجي فرحلوه على بعيري الذي كنت أركب وهم يحسبون أني فيه وكان النساء إذ ذاك خفافا لم يثقلن ولم يحملن اللحم إنما يأكلن العلقة من الطعام فلم يستنكر القوم خفة الهودج حين حملوه وكنت جارية حديثة السن فبعثوا الجمل فساروا فوجدت عقدي بعدما استمر الجيش فجئت منازلهم ليس بها داع ولا مجيب فتيممت منزلي الذي كنت به وظننت أنهم سيفقدوني فيرجعوا إلي فبينا أنا جالسة إذ غلبتني عيناي فنمت وكان صفوان بن المعطل الصفواني ثم الذكواني من وراء الجيش فأدلج فأصبح عند منزلي فرأى سواد إنسان نائم فعرفني حين رآني قبل الحجاب فاستيقظت باسترجاعه حين عرفني فخمرت وجهي بجلبابي و والله ما كلمته كلمة ولا سمعت منه كلمة غير استرجاعه حين عرفني أناخ راحلته ووطئ على يدها فركبتها وانطلق يقود بي الراحلة حتى أتينا الجيش بعدما نزلوا معرسين في نحر الظهيرة وملك في من هلك وكان الذي تولى كبر الإفك عبد الله بن أبي سلول فقدمنا المدينة فشكيت شهرا والناس يفيضون في قول أصحاب الإفك وأنا لا أشعر بالشيء حتى نقهت فخرجت أنا و أم مسطح قبل المناصع وكان متبرزنا لا نخرج إليها إلا ليلا إلى ليل وذلك قبل أن نتخذ الكنف قريبا من بيوتنا وإنما أمرنا أمر العرب الأول في البرية قبل الغائط وكنا نتأذى بالكنف أن نتخذها عند بيوتنا فأقبلت أنا و أم مسطح قيل يعني حين فرغنا من شأننا و أم مسطح وهي ابنة أبي إبراهيم بن المطلب بن عبد مناف وأمها بنت صخر بن عامر خالة أبي بكر الصديق وابنها مسطح بن أثاثة بن عباد بن عبد المطلب فعثرت أم مسطح في مرطها فقالت : تعس مسطح فقلت لها : بئس ما قلت وماذا قال : فأخبرتني بقول أهل الإفك فازددت مرضا على مرضي فلما دخل علي رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : كيف تيكم ؟ فقلت : أتأذن لي أن آتي أبوي ؟ وأنا حينئذ أريد أن أستيقن الخبر من قبلهما فأذن لي رسول الله صلى الله عليه و سلم فأتيت أبوي فقلت لأمي : يا أمتاه ما يتحدث به الناس ؟ فقالت : يا بنيه هوني عليك هذا الشأن فوالله لقلما كانت امرأة وضيئة عند رجل يحبها ولا ضرائر إلا أكثرن عليها فقلت سبحان الله ولقد تحدث الناس بها قالت : فبكيت تلك الليلة حتى أصبحت ثم أصبحت ودعا رسول الله صلى الله عليه و سلم علي بن أبي طالب و أسامة بن زيد حين استلبث الوحي يستشيرهما في فراق أهله فأما أسامة فإنه أشار على رسول الله صلى الله عليه و سلم بالذي يعلم من براءة أهله وبالذي يعلم من الود لهم قال : يا رسول الله أهلك ولا نعلم إلا خيرا وأما علي فقال : يا رسول الله لم يضيق الله عليك والنساء بكثير سواها سلوا الجارية تصدقك فدعا رسول الله صلى الله عليه و سلم بريرة فقال : يا بريرة هل رأيت على عائشة شيئا تنكرينه عليها قالت : لا والذي بعثك بالحق ما رأيت على عائشة شيئا أغمصه عليها غير أنها جارية حديثة السن تنام عن عجين أهلها فتأتي الداجن فتأكله قالت عائشة : فقام على المنبر حين استلبث الوحي يستعذر من عبد الله ابن أبي ابن سلول فقال : يا معشر المسلمين من يعذرني من رجل بلغ أذاه في أهلي فوالله ما علمت على أهلي إلا خيرا وما كان يدخل على أهلي إلا وهو معي فقام سعد بن معاذ الأنصاري فقال : يا رسول الله أنا والله أعذرك منه إن كان من الأوس ضربت عنقه وإن كان من إخواننا الخزرج أمرتنا ففعلنا أمرك فقام سعد بن عبادة الخزرجي وهو سيد الخزرج وكان قبل ذلك رجلا صالحا ولكن احتملته الحمية فقال لسعد بن معاذ : كذبت لعمر الله لا تقتله ولا تقدر على قتله فقام سعد بن معاذ فقال لسعد بن عبادة : كذبت لعمر الله لنقتلنه فإنك منافق تجادل عن المنافقين فثار الحيان الأوس والخزرج حتى هموا أن يقتتلوا ورسول الله صلى الله عليه و سلم على المنبر فلم يزل رسول الله صلى الله عليه و سلم يخفضهم حتى سكتوا قالت عائشة : وبكيت يومي ذلك لا يرقأ لي دمع ولا اكتحل بنوم ولا أظن البكاء إلا فالق كبدي قالت : فبينا أنا أبكي وأبواي عندي إذا استأذنت علي امرأة من الأنصار فأذنت لها أمي فجلست تبكي معنا فبينا نحن على ذلك إذ دخل رسول الله صلى الله عليه و سلم فسلم ثم جلس ولم يجلس عندي منذ قيل لي ما قيل قبلها وقد لبث شهرا لا يوحى إليه في شأن بشيء قالت : فتشهد رسول الله صلى الله عليه و سلم حين جلس ثم قال : يا عائشة أما فقد بلغني عنك كذا وكذا فإن كنت بريئة فسيبرئك الله وإن كنت ألممت بذنب فاستغفري الله وتوبي إليه فإن العبد إذا اعترف بذنبه ثم تاب تاب الله عليه قالت : فلما قضى رسول الله صلى الله عليه و سلم مقالته قلص دمعي حتى ما أحس منه قطرة فقلت لأبي : أجب عني رسول الله صلى الله عليه و سلم فيما قال : قال : والله ما أدري ما أقول لرسول الله صلى الله عليه و سلم فقلت لأمي أجيبي عني رسول الله فيما قال : فقالت : والله ما أدري ما أقول لرسول الله صلى الله عليه و سلم فقلت وإني لجارية حديثة السن لا أقرأ شيئا من القرآن : والله لقد علمت أنكم سمعتم بهذا الحديث واستقر في أنفسكم ولئن قلت لكم إني بريئة والله ليعلم إني بريئة وأعلم أنه مبرئي ببراءة إني بريئة لا تصدقون ولئن اعترف لكم بأمري والله يعلم أني منه بريئة لتصدقني فو الله ما أجد لي ولكم مثلا إلا أن أبا يوسف قال : فصبر جميل والله المستعان على ما تصفون زاد ابن ديزيل في حديثه ونسيت اسم يعقوب لما بي من الحزن واخراق القلب ثم رجع إلى حديثهما قالت : ثم تحولت إلى فراشي فنمت وأنا أعلم أني بريئة والله مبرئي ببراءتي ولكن والله ما علمت أن الله ينزل في شأني قرآنا يتلى ولشأني أحقر في نفسي من أن ينزل الله في وحيا يتلى قالت : فو الله ما رام رسول الله صلى الله عليه و سلم مجلسه ذاك ولا خرج أحد من أهل البيت حتى يأخذه ما كان يأخذه من البرحاء حتى إنه لينحدر مثل الجمان من العرق في اليوم الشاتي قالت : فلما سري عن رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو يبتسم كان أول كلمة تكلم بها أن قال : يا عائشة أما الله فقد برأك فقال لي أبي قومي إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقلت : لا أقوم ولا أحمد إلا الله تعالى قالت : أنزل على رسول الله صلى الله عليه و سلم : { إن الذين جاؤوا بالإفك عصبة منكم } العشر الآيات كلها قالت : فلما أنزل الله في براءتي هذا قال أبو بكر الصديق : وكان ينفق على مسطح بن أثاثة لقرابته منه والله لا أنفق مسطح شيئا أبدا بعد الذي قال لعائشة ما قال قالت : فأنزل الله : { ولا يأتل أولو الفضل منكم والسعة أن يؤتوا أولي القربى والمساكين والمهاجرين في سبيل الله وليعفوا وليصفحوا ألا تحبون أن يغفر الله لكم } فقال أبو بكر : بلى والله إني لأحب أن يغفر لي فرجع على مسطح نفقته التي كان ينفق عليه فقال : والله لا أنزعها منه أبدا قالت عائشة : وكانت زينب بنت جحش هي التي تساميني من بين أزواج النبي صلى الله عليه و سلم فعصمها الله بالورع فطفقت أختها حمنة تحارب لها فهلكت فيمن هلك قال ابن شهاب : فبلغني أن رسول الله صلى الله عليه و سلم لما سأل بريرة عن شأن عائشة قالت : يا رسول الله تسألني عن عائشة فو الله لعائشة أطيب من طيب الذهب ولئن كان ما يقول الناس حقا ليخبرنك الله قال ابن شهاب : فهذا ما انتهى إلينا من خبر هؤلاء الرهط هذا حديث مخرج في الصحيحين من حديث يونس بن زيد و صالح بن كيسان و فليح بن سليمان وغيرهم من الزهري وهو غريب من حديث مالك عن عبيد الله ابن عمر و يحيى بن سعيد عن الزهري تفرد به إسحاق بن محمد الفروي ومقصود ما في هذا الموضع من الحديث قول النبي صلى الله عليه و سلم : إن كنت ألممت بذنب فاستغفري الله وتوبي إليه فإن العبد إذا اعترف بذنبه ثم تاب تاب الله عليه فأمر بالتوبة إن كان الذنب موجودا وأخبر بقبول الله تعالى توبة العبد متى ما اعترف بذنبه وتاب منه وأخبرني خبرا آخر أن الندم توبة

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو محمد عبدالرحمٰن بن حمدان بن مرزبان الجلاب نے ہمدان میں ان کو ابو اسحاق ابراہیم بن حسین بن دیزیل نے۔ اور ہمیں خبر دی ہے۔ ابو عبداللہ نے ان کو ابو بکر محمد بن عبداللہ شافعی نے ان کو ابو اسماعیل محمد بن اسماعیل سلمی نے ان کو خبر دی ابو یعقوب اسحاق بن محمد بن اسماعیل بن عبداللہ بن ابو فرہ مد نی مولیٰ عثمان بن عفان نے ان کو مالک بن انس نے ان کو یحییٰ بن سعید انصاری نے اور عبداللہ بن عمر نے ان کو ابن شہاب نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی ہے عروہ بن زبیر نے اور سعید بن مسیب نے اور عبیداللہ بن عبداللہ بن عقبہ بن مسعود نے اور علقمہ بن وقاصی لیثی نے ان کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا زوجہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان کے بارے میں جھوٹ تراشنے والوں نے کہا جو کچھ کہا تھا لہٰذا اللہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اس سے بری قرار دیا تھا پس ان میں سے ہر ایک نے مجھے حدیث بیان کی سیدہ کی روایت کردہ احادیث کے ایک طائفہ اور ایک گروپ کے بارے میں اور ان میں سے ہر ایک سیدہ کی حدیث کو محفوظ کرنے میں دوسرے سے زیادہ یادر کھنے والا تھا۔ اور (سیدہ رضی اللہ عنہا کی روایت کردہ احادیث کے لئے) اثبت تھا بطور روایت کرنے کے تحقیق میں نے یاد کی تھی ہر آدمی سے ان میں سے وہ حدیث جو اس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مجھے بیان کی تھی۔ اور بعض ان کا بعض کی تصدیق کرتا ہے۔ اگرچہ بعض ان میں سے بعض سے زیادہ یاد کرنے والا تھا انہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا زوجہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی کہ جب سفر کا ارادہ کرتے تھے تو اپنی بیبیوں کے درمیان قرعہ اندازی کرتے تھے جس کا قرعہ نکلتا اس کو اپنے ساتھ لے جاتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک غزوے میں جاتے وقت ہمارے درمیان قرعہ اندازی کی تو میرا قرعہ نکلا چنانچہ آپ اس غزوے میں مجھے ساتھ لے کر چلے۔ اللہ تعالیٰ نے کوچ کرنے کا حکم فرمایا۔ میں بھی نکلی جب انہوں نے کوچ کرنے کا اعلان کیا میں پیدل چلتی ہوئی لشکر سے آگے چلی گئی (قضائے حاجت کے لئے) جب میں قضائے حاجت سے فارغ ہوئی تو میں واپس اپنے سامان کی طرف لوٹ آئی۔ اب جو میں نے اپنے سینے پہ ہاتھ پھیرا تو کیا دیکھتی ہوں کہ میرا چمڑے کا ہار ٹوٹ کر گر چکا ہے میں دوبارہ ہار کی تلاش کرنے نکل گئی۔اس کی تلاش نے مجھے روک لیا۔ اتنے میں وہ گروہ آیا جو مجھے اونٹ پر کجاوے سمیت سوار کرتے تھے۔ انہوں نے میرا کجاوہ اٹھا کر میرے اونٹ پر ہاتھ دیا جس پر میں سوار ہوتی تھی۔ انہوں نے خیال کیا کہ میں اسی کجاوے میں ہوں اور اس زمانے میں عورتیں ہلکی پھلکی ہوتی تھیں۔ وزنی نہیں تھیں مونی اور گوشت سے لدی ہوئی نہیں ہوتی تھیں۔ زندہ رہ سکنے کے بقدر کھانا کھاتی تھیں۔لوگوں نے کجاوے کے ہلکا ہونے کو اٹھاتے وقت عجیب سانہ سمجھا۔ ویسے بھی میں نو عمر لڑکی تھی۔ان لوگوں نے اونٹ کو اٹھایا اور چلائے لشکر کے گزر جانے کے بعد میں نے اپنا ہار بھی پا لیا لہٰذا میں ان کے ٹھکانے پر آئی۔ وہ تو نہ کوئی آواز دینے والا تھا نہ کوئی جواب دینے والا تھا لہٰذا میں نے اسی منزل پر جہاں تھی رکنے کا ارادہ کر لیا یہ سوچ کر کے کہ وہ لوگ ابھی تھوڑی دیر بعد مجھے جب نہیں پائیں گے تو میری طرف واپس آئیں گے میں بھی تھی کہ اچانک میری آنکھیں بند ہونے لگیں اور میں سو گئی۔ اور صفوان بن معطل صفوانی اس کے بعد ذکوانی لشکر کے پیچھے تھا وہ منہ اندھیرے چلا تو علی الصبح وہ میری منزل پر پہنچ گیا۔ اس نے دور سے کسی انسان کانشان دیکھا کہ ہو رہا ہے۔ قریب آئے تو انہوں نے مجھے پہچان لیا جب کہ مجھے دیکھا ہوا تھا انہوں نے پردے کا حکم نازل ہونے سے قبل اس کے اناللہ وانا الیہ راجعون پڑھنے سے میں جاگ گئی۔ جب اس نے مجھے پہچان لیا۔ لہٰذامیں نے اپنا چہرہ اپنی چادر کے ساتھ چھپا لیا اللہ کی قسم میں نے نہ کوئی کلمہ بولا نہ ہی اس سے کوئی کلمہ سنا سوائے اس کے اناللہ پڑھنے کے جب اس نے مجھے پہچانا تھا۔ اس نے اپنی سواری میٹھائی اور اس کی اگلی ٹانگ کے گھٹنے پر پیر رکھ لیا میں اس میں سوار ہو گئی وہ مجھے سوار کرنے کے بعد آگے مہار تھامے چلتے رہے یہاں تک کہ ہم شکر کے پاس پہنچ گئے اس کے بعد کہ جب و ولوگ دوپہر کے وقت اتر کر ادھر کرنے لگے تھے اور ہلاک ہوا میرے بارے میں جو ہلاک ہوا۔ اور وہ شخص جو پڑے جھوٹ کا سر پرست بنا تھا وہ عبداللہ بن ابی بن سلول تھا۔ پھر ہم لوگ مدینے میں آ گئے میں مہینہ بھر بیمار ہو گئی۔ادھر لوگ جھوٹ بولنے والوں کی وجہ سے پریشان ہو کر آنسو بہا رہے تھے۔ اور مجھے بھی تک کچھ بھی علم میں تھا حتٰی کہ میں کچھ سمجھ گئی ایک دن میں (قضاء حاجت کے لئے) نکلی میرے ساتھ اُم مسطح بھی تھی مناصع کی طرف یہ ہم لوگوں کی قضاء حاجت کرنے کی جگہ تھی ہم لوگ اس کی طرف صرف رات کو ہی جاتے تھے یہ اس وقت کی بات ہے جب غسل خانے پاخانے ہمارے گھروں کے پاس بنے ہوئے نہیں تھے۔ نام لوگوں کا معاملہ عرب اول والا تھا جنگل میں قضاء حاجت کے لئے۔ گھروں کے پاس پاخانے اس لئے نہیں بناتے تھے کہ اس سے ہمیں اذیت پہنچتی تھی۔ اگر گھروں کے پاس بناتے ہیں اور اُم مسطح واپس لوٹے فارغ ہونے کے بعد۔ اُم مسطح ابو ابراہیم کی بیٹی تھی ابراہیم بن عبدالمطلب بن عبد مناف تھے۔ اور اُم مسطح کی ماں بنت صخر تھی صخر عامر کے بیٹے تھے اُم مسطح ابو بکرصدیق کی خالہ تھی۔ اُم مسطح کا بیٹا ابن اثاثہ عباد بن عبدالمطلب تھا۔ اُم مسطح کا پیرانکی چادر میں الجھ کر وہ پھسل گئیں تو بولی ہلاک ہو جائے مسطح۔ چنانچہ میں نے اس نے کہا۔ آپ نے بر الفظ کہاہے(کیا ہوا؟) کیا کہا ہے مسطح نے ؟ لہٰذا اس نے مجھے اہل افک کی بات بتائی میں بیماری پر مزید بیمار ہو گئی جب رسول اللہ میرے پاس تشریف لائے تو فرمایا کہ کیسی ہو تم؟ میں نے کہا کیا مجھے اجازت دیں گے کہ میں اپنے والدین کے ہاں جاؤں؟ میں اس وقت یہ ارادہ کر رہی تھی کہ میں وہاں جا کر اس خبر کے بارے میں یقین حاصل کروں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اجازت دے دی میں والدین کے ہاں چلی گی اور میں نے اپنی امی سے پوچھا کہ اے ای کیا باتیں بنا رہے ہیں لوگ ؟ انہوں نے کہا اے بیٹی پریشان نہ ہو اس معاملے کو آسان کر اپنے اوپر البتہ بہت کم ہوتا ہے ایسے کہ کوئی خوبصورت عورت ہو کسی مرد کے پاس اور وہ اس سے محبت کرتا ہو اور اس کی سوکنیں بھی ہوں۔مگر اس پر بہت کچھ کہتی ہیں۔ میں نے کہا سبحان اللہ تحقیق لوگ اس معاملے میں باتیں کر رہے ہیں۔ فرماتی ہیں کہ پھر میں رات بھر روتی رہی حتٰی کہ صبح ہو گئی اس کے بعد دوسری صبح ہوئی۔ اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی المرتضیٰ کو بلایا اور اسامہ بن زید کو جب وحی بھی رک گئی ان سے مشورہ کیا اپنی اہلیہ کی طلاق اور فراق کے بارے میں اسامہ نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اشارہ دیا اس صورت کے بارے میں جو وہ جانتا تھا ان کے اہل اور ان کے حرم کے بارے میں برات کا اور اس کے بارے میں جو وہ جانتا تھا حضور کی اپنی اہلیہ سے محبت کو۔ اس نے کہا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) اس کے اہل کے بارے میں نہیں جانتے سوائے خیر کے اور علی مرتضی نے کہا اللہ نے آپ پر کوئی تنگی نہیں کر رکھی۔ اور عورتیں اس کے سوا اور بھی بہت ہیں آپ لڑکی سے پوچھیں وہ آپ کو پکی بات بتائے گی۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ کو بلایا اور فرمایا کہ بریرہ کیاتم عائشہ (رضی اللہ عنہا) کے بارے میں کوئی ایسی ویسی بات جانتی ہو جس کوتم نا پسند کرو۔ اس نے کہا کہ نہیں قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے۔ میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں کوئی ایسی بات نہیں جاتی جس پر میں اس سے چشم پوشی کروں سوائے اس کے کہ وہ نوسن لڑکی ہے اپنے گھر والوں کا آٹا گوندھا چھوڑ کر سو جاتی ہے اور بکری کا بچہ آ کر کھا جاتا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر تشریف لے جا کر کھڑے ہوئے۔ جب وحی رک چکی بھی آپ عبداللہ بن ابی بن سلول سے نجات چاہتے تھے۔ آپ نے فرمایا مسلمانوں کی جماعت کو کون مجھے نجات دلائے گا ایک آدمی سے جس نے میرے گھر کے معاملے مجھے ایذا پہنچائی ہے۔ اللہ کی قسم میں اپنے اہل پر خیر کے سوا کچھ نہیں جانتا۔ اور وہ شخص میرے اہل پر کبھی نہیں داخل ہوا مگر وہ میرے ساتھ ہوا تھا۔ (بس پھر کیا ہوا کہ) پہلے سعد بن معاذ انصاری کھڑے ہو گئے اور بولے :یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) میں اس سے آپ کو نجات دلاتا ہوں۔ اگر وہ قبیلہ اس سے (میرے قبیلے سے) ہے تو میں خود اس کی گردن اڑا دوں گا۔ اور اگر وہ ہے ہمارے بھائیوں بنو خزرج میں سے تو آپ جو بھی حکم کریں گے میں وہی کروں گا (اتنے میں بنوخزرج سے) سعد بن عبادہ خزرجی اٹھ کھڑے ہوئے۔ (وہ بنو خزرج کے سردار تھے) اور اس سے قبل وہ نیک آدمی تھے لیکن اس کو غیرت نے اٹھایا۔ اس نے سعد بن معاذ سے کہامیری بیان کی قسم تم نے جھوٹ بولا ہے۔ تو اس آدمی کو قتل نہیں کرے گا اور نہ ہی تو اس پر قادر ہو سکے گا (یعنی اگر وہ میرے قبیلے سے ہوا۔) اس کے بعد سعد بن معاذ دوبارہ اٹھے اور انہوں نے سعد بن عبادہ سے کہا تم نے جھوٹ کہا ہے ہم اس آدمی کو ضرور قتل کریں گے۔ تم منافق ہو منافقوں کی طرف جھگڑتے ہو۔ لہٰذا دونوں قبیلے اچھل پڑے اوس بھی اور خزرج بھی حتٰی کہ انہوں نے باہم لڑنے (اور قتال کرنے) کا ارادہ کر لیا حالانکہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم ابھی تک منبر پر تھے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم بدستور ان کو چپ کرواتے رہے حتٰی کہ وہ چپ ہو گئے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ادھر میں دن بھر روتی رہی نہ میرے آنسو تھمتے تھے اور نہ ہی مجھے ایک لمحے کے لئے نیند آتی تھی۔ اور میں یہ گمان کرتی تھی کہ روتے روتے میرا کلیجہ پھٹ پڑے گا۔ فرماتی ہیں کہ میں یکایک رو رہی تھی اور میرے والدین میرے پاس بیٹھے تھے۔ اچانک انصار کی ایک عورت نے آنے کی اجازت مانگی میری امی نے اجازت دی۔ وہ بھی ہم لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر رونے لگی ہم لوگ اسی حال میں تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم داخل ہوئے آپ نے سلام کیا اور بیٹھ گئے اور اس سے قبل جب سے یہ سلسلہ شروع ہوا تھامیرے پاس بھی نہیں بیٹھے تھے۔ ایک مہینہ گزر چکا تھا وحی بھی بند تھی، میرے بارے میں کچھ نہیں اتر اتھا۔ کہتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اشھدان لا الہ الا اللہ پڑھا جب بیٹھے اس کے بعد پوچھا اے عائشہ مجھے تیری طرف سے ایسے ایسے باتیں پہنچی ہیں۔ اگر تم بری ہو تو عنقریب اللہ تعالیٰ تمہاری برات نازل کر کے تمہیں بری کرے گا۔ اور اگر تم نے کسی قسم کے گناہ کا ارادہ کیا ہے تو تم اللہ سے استغفار کرو اور اس کی بارگاہ میں توبہ کرو کیونکہ بندہ جب اپنے گناہ کا اعتراف کر لیتا ہے پھر توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتے ہیں۔ کہتی ہیں کہ جب حضورصلی اللہ علیہ وسلم اپنی بات پوری کر چکے تو میرے آنسو خشک ہو گئے حتٰی کہ میں نے آنسو کا ایک قطرہ بھی محسوس نہ کیا میں نے اپنے والد سے کہا کہ آپ میری طرف سے رسول اللہ کوئی جواب دیجئے۔ اس بارے میں جو کچھ انہوں نے کہا ہے۔ والد نے کہا اللہ کی قسم میں نہیں جانتا کہ میں رسول اللہ سے کیا کہوں پھر میں نے اپنی امی سے کہا کہ آپ میری طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دیجئے ان کی بات کا۔ وہ بولی میں نہیں جانتی کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا کہوں؟ (آپ سے میں نے خود بولنے کی اجازت لی) میں نے کہا میں ایک نوعمر لڑکی ہوں میں قرآن میں سے کوئی شئی نہیں پڑھتی ہوں۔اللہ کی قسم میں جانتی ہوں کہ تم لوگ یہ بات سن چکے ہو اور وہ بات تمہارے دلوں میں اتر چکی ہے لیکن تمہیں ایک بات کہتی ہوں کہ اگر میں کہوں کہ میں اس گناہ سے پاک ہوں اور اللہ جانتا ہے کہ میں اس سے بری ہوں اور میں یقین رکھتی ہوں کہ اللہ تعالیٰ میری برٔات کرے گا۔ (اگر میں کہوں تو تم لوگ) میری تصدیق نہیں کروگے۔ اللہ کی قسم میں نہیں پاتی ہوں اپنے لئے اور تمہارے لئے کوئی مثال مگر یوسف علیہ السلام کے والد کی کہ انہوں نے کہا تھا:فصبر جمیل واللہ المستعان علیٰ ماتصفون پس صبر خوبصورت ہے اللہ سے مدد مانگی جاتی اس حالت پر جو تم بتلاتے ہو۔ ابن دیزیل نے اپنی حدیث میں یہ اضافہ کیا ہے کہ سیدہ نے کہا تھا۔ میں یعقوب علیہ السلام کا نام بھول گئی تھی غم کی وجہ سے اور دل پھٹنے کی وجہ سے۔اس کے بعد راوی ان کی بات کی طرف لوٹے۔ فرماتی ہیں کہ اس کے بعد میں اپنے بستر پر جا کر لیٹ گئی اور میں یقین کر رہی تھی کہ بری ہوں اور اللہ میری برات کرنے والا ہے۔ مگر اللہ کی قسم میں یہ نہیں جانتی تھی کہ اللہ تعالیٰ میری اس حالت کے بارے میں قرآن نازل کرے گا جو کہ پڑھا جاتا ہے کہ میری نظر میں میری حالت اس سے کہیں زیادہ حقیر تھی کہ اللہ میرے بارے میں وحی اتارے جو پڑھی جاتی رہے۔ فرماتی ہیں کہ اللہ کی قسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی تک اس مجلس سے نہیں اٹھے تھے اور نہ ہی کوئی ابھی تک گھر سے باہر گیا تھا۔ حتٰی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کیفیت نے لے لیا جو آپ کے اوپر کپکپی طاری ہوتی تھی حتٰی کہ بے شک حالت یہ ہوتی تھی کہ بخت سردی کے موسم میں پینے کے قطرے موتیوں کی طرح چہرے سے گرنے لگتے تھے۔ فرماتی ہیں کہ جب وہ کیفیت آپ کی کھل گئی تو حضورصلی اللہ علیہ وسلم مسکرا رہے تھے پہلا کلمہ جو آپ نے بولا تھاوہ یہی تھا کہ اے عائشہ۱ سنو بہر حال اللہ نے تجھے پاک قرار دے دیا ہے میرے والد نے مجھ سے کہا کھڑی ہو جاؤ رسول اللہ کے پاس جاؤ۔ مگر میں نے کہا کہ میں نہ ہی انھوں کی اور نہ ہی کسی کا شکر یہ ادا کروں گی اللہ کے سواہ میں اللہ کا شکر ادا کروں گی کہتی ہوں اللہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل فرمائی: ان الذین جاء وابالافک عصبۃ منکم بے شک جو لوگ جھوٹ لے کر آئے ہیں۔ ایک جماعت ہے تم میں سے۔ یہ دس آیات ہیں پوری۔ جب اللہ تعالیٰ نے میری برأت میں یہ آیات نازل فرمائیں تو ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ، مسطح بن اثاثہ پر خرچ کرتے تھے۔ اس کی قرابت داری کی وجہ سے انہوں نے قسم کھالی کہ میں مسلح پر کبھی کوئی چیز خرچ نہیں کروں گا اس لئے کہ وہ بھی منافقین کے ساتھ مل کر عا ئشہ کے بارے میں جھوٹی تہمت میں شامل ہو گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ایسا کرنے سے منع کر دیا۔ ارشاد فرمایا :ولا یاتل اولو الفضل منکم والسعۃ ان یؤتوا اولی القربی والمساکین والمھاجرین فی سبیل اللہ ولیعفوا ولیصفحوا الا تحبون ان یغفر اللہ لکم تم میں سے صاحب مال اور صاحب کشادگی قسمیں نہ کھائیں اس بات سے کہ وہ قرابت داروں کو میں اور مسکینوں اور مہاجرین کواللہ کی راہ میں چاہئے کہ معاف کریں اور درگزر کریں کیا تم یہ پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہیں معاف کر دے۔ اس کے بعد ابو بکر صدیق نے کہائی ہاں میں یہی چاہتا ہوں کہ اللہ مجھے معاف کردے۔ لہٰذا مسطح کا خرچہ بحال ہو گیا جواس کو ملتا تھا۔ ابو بکر صدیق نے کہا اللہ کی قسم میں اس سے یہ خرچہ کبھی نہیں روکوں گا۔ سیدہ عائشہ فرماتی ہیں کہ زینب بنت جحش ازواج رسول میں سے ایسی تھی جو کہ مجھ سے خلوص رکھتی تھی اللہ تعالیٰ نے اس کی پرہیزگاری کی وجہ سے اس کو جھوٹ میں شامل ہونے سے بچالیا تھا مگر اس کی بہن حمنہ اس سے لڑتی تھی لہٰذا وہ بھی اس جھوٹ میں شامل ہو کر برباد ہونے والوں میں برباد ہو گئی تھی۔ ابن شہاب کہتے ہیں کہ مجھے خبر پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب بریرہ سے پوچھا تھا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں تو اس نے کہا تھا یا رسول اللہ آپ مجھ سے عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں پوچھتے ہیں اللہ کی قسم البتہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سونے کے پاک صاف ہونے سے بھی زیادہ پاک صاف ہے۔ البتہ اگر وہ بات سچ ہوتی جو لوگ کہتے ہیں تواللہ تعالیٰ آپ کو ضرور اس کی خبر دےدیتا۔ ابن شہاب نے کہا یہ ہے وہ خبر جو ہمارے پاس اس جماعت کی طرف سے پہنچی ہے۔ یہ حدیث بخاری ومسلم میں بھی موجود ہے یونس بن زید اور صالح بن کیسان اور بیع بن سلیمان و غیرہ سے انہوں نے زہری سے۔ مگر وہ حدیث غریب ہے حد یث مالک سے اس نے عبیداللہ بن عمر سے اور یحییٰ بن سعید سے اس نے زہری سے اس کے ساتھ اسحاق بن محمد قروی کا تفرد ہے۔ اس مقام پر اس حدیث کو درج کرنے کا جو مقصد ہے وہ اس حدیث کا یہ حصہ ہے صرف کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے) کہ اگر تم نے گمان کا ارادہ کیا ہے تو تم اللہ سے استغفار کرو اور اس کی بارگاہ میں توبہ کرو بے شک ایک بندہ جب اپنے گناہ کا اعتراف کر لیتا ہے اسکے بعد وہ توبہ کرتا ہےتو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔ تو یہ تو بہ کرنے کا امر اور حکم ہے اگر گناہ موجود ہو۔ اور حضور نے خبر یہی دی ہے اللہ تعالیٰ کے توبہ قبول کرنے کی بندے کی توبہ جب گناہ کا اعتراف کرے اور اس سے توبہ کرے۔ اور مجھے خبر دی ہے ایک خبر کہ بے شک توبہ ندامت ہوتی ہے۔

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7028

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7141

7141 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا أحمد بن عبد الجبار نا أبو معاوية عن إسحاق عن عطاء البزاز عن بشير الأزدي قال : قال عبد الله : هو ابن مسعود أربع آيات في كتاب الله أحب إلي من حمر النعم وسردها قال : قالوا له : وأين هي ؟ قال : إذا مر بهن العلماء عرفوهن قال : قالوا في أي سورة : قال : في سورة النساء قوله : { إن الله لا يظلم مثقال ذرة } وقوله : { إن الله لا يغفر أن يشرك به } وقوله : { ولو أنهم إذ ظلموا أنفسهم } وقوله : { ومن يعمل سوءا أو يظلم نفسه } ورويناه عن ابن مسعود في فضائل القرآن بإسناد آخر وزاد آية خامسة قوله : { إن تجتنبوا كبائر ما تنهون عنه } الآية

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو احمد بن عبدالجبار نے کو ابو معاویہ نے ان کو اسحاق نے ان کو عطا بزاز نے ان کو بشیر از دی نے وہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود نے فرمایا قرآن مجید میں چار آیات ایسی ہیں جومیرے نزدیک بہت ہی محبوب ہیں سرخ اونوں سے بھی اور ان کو چلا کر لے جانے سے بھی کہتے ہیں کہ ان سے پوچھا گیا کہ وہ چار آیات کون ہی ہیں ؟ فرمایا کہ جب علماء ان کے ساتھ گزرتے ہیں ان کو پہچان لیتے ہیں۔ پوچھا گیا کہ کون سی سورتوں میں ہیں۔ فرمایا کہ سورۃ نساء میں ہے: ان اللہ لا یظلم مثقال ذرۃ الخ کہ اللہ تعالیٰ ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کر تے دوسری آیت : ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ الخ اللہ اللہ اس بات کو معاف نہیں کریں گے کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے۔ تیسری آیت ہے: ولو انھم اذ ظلموا انفسنھم الآیۃ جب ان لوگوں نے اپنے نفسوں پرظلم کئے تھے الخ چوتھی آیت ہے: ومن یعمل سوء اویظلم نفسہ جو شخص برا عمل کرے یا اپنے اوپر ظلم کرے الخ۔ اور ہم نے روایت کی ہے ابن مسعود سے فضائل قرآن میں اپنی اسناد کے ساتھ انہوں نے ایک پانچویں آیت کا اضافہ بھی کیا ہے وہ ان تجتنبوا کبائر ماتنھون عنہ اگرتم لوگ کبیرہ گناہوں سے بچتے رہوا بو الدنیا نے ان کو عبدالرحمٰن بن صالح نے ان کو جریر نے ان کو اشعث قمی نے ان کو معتمر بن عطیہ نے اللہ کے اس قول کے بارے میں: ان ربنا لغفور شکور بے شک ہمارا رب بخشنے والا قدردان ہے۔ فرمایا کہ اس نے ان کے دو گناہ معاف کر دیئے جن کا نہوں نے عمل کیا تھا اور ان کی اس نیکی کی قدر کی اس نے جس کی ان کو رہنمائی کی تھی لہٰذا انہوں نے اس پر عمل کیا اور اس نے ان کو اس کا بھی ثواب دیا۔

بشير الأزدي ← عطاء البزاز ← إِسْحَاقُ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7141

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في حلق جميع الرأس وما ورد من النهي عن القزع · حديث 6481

6482 - فأخبرنا أبو علي الروذباري أنا محمد بن بكر ثنا أبو داود ثنا موسى بن إسماعيل ثنا حماد ح وأخبرنا أبو علي الروذباري أنا الحسين بن الحسن بن أيوب الطوسي ثنا أبو خالد يزيد بن محمد بن حماد النفيلي بمكة ثنا حجاج الأنماطي أنا حماد بن سلمة أنا أيوب عن نافع عن ابن عمر : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم نهى عن القزع وهو أن يحلق رأس الصبي ويترك له ذؤابة هكذا رواه حماد بن سلمة عن أيوب ولا أدري هذا التفسير من قول نانف أو أيوب وقد رويناه من حديث معمر عن أيوب ليس فيه ذكر الذؤابة إلا أن معناها فيما رواه

ہمیں خبر دی ابو علی روذباری نے ان کو محمد بن بکر نے ان کو ابو داؤد نے ان کو موسیٰ بن اسماعیل نے ان کو حماد نے ’’ح ‘‘ اور ہمیں خبر دی ہے ابو علی روذباری نے ان کو حسین بن حسن بن ایوب طوسیٰ نے ان کو ابو خالد یزید بن محمد بن حماد نفییل نے مکہ مکرمہ میں ان کو حجاج انماطی نے ان کو حماد بن سلمہ نے ان کو ایوب نے ان کو نافع نے ان کو ابن عمر نے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا تھا قزع سے یعنی کچھ مونڈنے اور کچھ باقی رکھنے سے۔ قزع یہی ہے کہ بچے کا سر مونڈا جائے اور اس کی پیشانی کے بال چھوڑ دیئے جائیں۔ اسی طرح اس کو روایت کیا ہے حماد بن سلمہ نے ایوب سے اور میں نہیں جانتا کہ یہ تشریح نافع کے قول سے ہے یا ایوب کے قول سے۔ اور تحقیق ہم نے اس کو روایت کیا ہے حدیث معمر سے اس نے ایوب سے جس میں ذوابہ کا (پیشانی کے بالوں کا) ذکر نہیں ہے۔۔ ہاں مگر یہ کہ اس کا معنی اور مفہوم اس میں ہے جو اس نے روایت کیا ہے۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَجَّاجٌ الأَنْمَاطِيُّ، ← أبو خالد يزيد بن محمد بن حماد النفيلي بمكة ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ الطُّوسِيُّ ← وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ ← حَمَّادٌ، ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ← فأخبرنا أبو علي الروذباري،

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › A chapter on shaving the entire head and what has been mentioned of the prohibition on qaza ' · Hadith 6481

شعب الإيمان · الثاني و الثلاثين من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الإيفاء بالعقود · حديث 4357

4357 - أخبرنا أبو الحسن علي بن الحسين بن علي البيهقي صاحب المدرسة أنا أبو حفص عمر بن أحمد بن محمد بقرميسين نا محمد بن إبراهيم بن زياد الطيالسي نا الحسن بن أحمد بن أبي شعيب الحراني نا مسكين بن بكير نا معاذ بن رفاعة عن علي بن زيد عن القاسم عن أبي أمامة قال : جاء ثعلبة بن حاطب إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : يا رسول الله ادع الله أن يرزقني مالا فقال النبي صلى الله عليه و سلم : يا ثعلبة قليل تؤدي شكره خير من كثير لا تطيقه قال : يا رسول الله ادع الله أن يرزقني مالا فو الله لئن أعطاني الله لأتصدقن و لأفعلن فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اللهم ارزقه مالا قال : فصارت له غنيمة فكان يشهد مع رسول الله صلى الله عليه و سلم فلما كثرت غنمه و نمت خرج من المدينة فكان لا يشهد مع رسول الله صلى الله عليه و سلم إلا المغرب و العشاء فنمت غنمه فتقدم فكان لا يشهد مع رسول الله صلى الله عليه و سلم إلا الجمعة فنمت غنمه و كثرت فتقدم فكان لا يشهد مع رسول الله صلى الله عليه و سلم في جمعة و لا غيرها قال : فبعث النبي صلى الله عليه و سلم رجالا يأخذون الصدقة فذهبوا إليه فقال لهم : إذا فرغتم و انصرفتم اجعلوا طريقكم علي أو نحوها قال : فلما فرغوا و انصرفوا أتوه فقال : و الله ما هذه إلا جزية فانصرفوا عنه و لم يأخذوا منه الصدقة فأتوا النبي صلى الله عليه و سلم فأخبروه بما قال : فأنزل الله عز و جل : { ومنهم من عاهد الله لئن آتانا من فضله لنصدقن ولنكونن من الصالحين } إلى قوله : { يكذبون } قال : فلما نزل فيه القرآن جاء بصدقته إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فأبى رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يأخذها فلما قبض رسول الله صلى الله عليه و سلم جاء بصدقته إلى أبي بكر فأبي أن يأخذها و قال شيء لم يأخذها رسول الله صلى الله عليه و سلم لا أخذها و أبى أن يأخذها فلما قبض أبو بكر جاء بصدقته إلى عمر فأبى أن يأخذها و قال شيء لم يأخذها رسول الله صلى الله عليه و سلم و لا أخذها و أبى ذلك قال الشيخ أحمد رحمه الله : و إنما لم يأخذ النبي صلى الله عليه و سلم زكاة ماله و جرى في ذلك أبو بكر و عمر على سنته لأنه كان قد ناففق و الكتاب الذي نزل في شأنه ناطق بذلك حيث قال : { فأعقبهم نفاقا في قلوبهم إلى يوم يلقونه بما أخلفوا الله ما وعدوه وبما كانوا يكذبون } و علموا بهذا بقاؤه على نفاقه حتى يموت و أن إتيانه بصدقة ماله مخافة أن يؤخذ منه قهرا و في إسناد هذا الحديث نظر و هو مشهور فيما بين أهل التفسير و الله أعلم

ہمیں خبر دی ابوالحسن علی بن حسن بن علی بیہقی صاحب مدرسہ نے ان کو ابوحفص عمر بن احمد بن محمد قرمیسین میں ان کو محمد بن ابراہیم بن زیاد طیالسی نے ان کو حسن بن احمد بن ابوشعیب حرانی نے ان کو مسکین بن بکیر نے ان کو معاذ بن رفاعتہ نے ان کو علی بن زید نے قاسم سے اس نے ابوامامہ سے وہ کہتے ہیں کہ ثعلبہ بن حاطب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور کہا یا رسول اللہ آپ اللہ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے مال عطا کرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ثعلبہ قلیل مال جس کا تو شکر ادا کرتا ہے وہ اس کثر مال سے بہتر ہے جس کا تو شکر نہ ادا کر سکے۔ کہنے لگا یا رسول اللہ نہیں بس آپ اللہ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے مال عطا کرے اللہ کی قسم اگر اس نے مجھے مال دے دیا تو میں ضرور صدقہ کروں گا۔اور میں یہ کروں گا وہ کروں گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی اللہ ثعلبہ کو مال عطا کر۔ قاسم کہتے ہیں کہ اللہ نے اس کو بکریاں عطا کر دیں اس سے پہلے وہ رسول اللہ کے پاس حاضری دیتا تھا جب بکریاں زیادہ ہوگئیں اور بڑھ گئیں تو وہ مدینے سے باہر نکل گیا پھر وہ صرف مغرب اور عشاء میں رسول اللہ کے پاس آتا تھا جب بکریاں بڑھ اور زیادہ ہو گئیں تو پھر وہ صرف جمعہ میں حضور کے پاس آتا تھا جب بکریاں اور بڑھ کر زیادہ ہوگئیں تو اس نے جمعہ کے دن آنا بھی چھوڑ دیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگ بھیجے کہ اس سے صدقہ یعنی زکوٰۃ کا مال وصول کر آئیں وہ جب پہنچے تو اس نے ان کو ٹال دیا اور کہا کہ پہلے اور لوگوں سے لیں جب واپس جانے لگیں تو میری طرف سے آئیں (میں جب دے دوں گا ابھی تو میں مصروف ہوں) وہ لوگ فارغ ہوکر جب پہنچے تو اس نے کہا اللہ کی قسم یہ مال دینا تو تاوان ہی ہے یا ایسے ہی کچھ جواب دیا راوی کہتے ہیں کہ ان لوگوں نے یہ سن کر مال زکوٰۃ وصول کرنے سے انکار کر دیا بلکہ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آ کر شکایت کی جو کچھ اس نے کہا تھا پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ ومنهم من عاهد اللّٰه لئن آتانا من فضله لنصدقن ولنكونن من الصالحين فلما اتاهم من فضله بخلوا به وتولوا وهم معرضون فاعقبهم نفاقا في قلوبهم الى يوم يلقونه بما اخلفوا اللّٰه ما وعدوه وبما كانوا يكذبون. کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جنہوں نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ اگر وہ ہمیں مال عطا کرے تو ہم ضرور اسے اللہ کی راہ میں خرچ کریں گے اور ہم ضرور نیکوکار بن جائیں گے جب انہیں اللہ نے اپنا فضل دے دیا تو انہوں نے اس کے ساتھ بخل کرنا شروع کر دیا اور اپنے عہد سے پھر گئے۔اور منہ پھیرنے لگے۔ان کے جھوٹ بولنے اور اللہ سے وعدہ خلافی کرنے کی وجہ سے اس نے خیانت کیا ان کے دل میں نفاق بھر دیا ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ جب قرآن اتر اتو ثعلبہ اپنی زکوٰۃ اور صدقات کا مال لے کر حضور کے پاس آیا مگر آپ نے اس سے مال لینے سے انکار کر دیا حضور جب فوت ہو گئے تو وہ اپنا صدقہ لے کر ابوبکر صدیق کے پاس آیا انہوں نے بھی لینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ جو مال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں لیا میں بھی نہیں لوں گا جب ابوبکر صدیق کا انتقال ہوگیا تو وہ مال لے کر حضرت عمر کے پاس آیا انہوں نے بھی لینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ جو مال حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں لیا اور ابوبکر نے نہیں لیا میں بھی نہیں لوں گا۔ شیخ احمد بیہقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔ کہ حضور نے مال نہ لیا اور ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کی سنت پر عمل کیا اس لئے کہ وہ منافق ہو چکا تھا اور وہ آیت کتاب اللہ جو اس کے بارے میں نازل ہوئی وہ اس بات کی دلیل ہے اور اسی پر ناطق ہے۔وہ یہ ہے: فاعقبهم نفاقا في قلوبهم الخ. اسی آیت سے شیخین نے جان لیا تھا کہ اب وہ قیامت تک اور موت تک نفاق پر قائم رہے گا۔ باقی رہا اس کا اپنے مال کی زکوۃ و صدقہ لے کر پیش ہونا تو وہ اس کی اس خوف سے تھا تا کہ اُس سے جبراً نہ لے لیا جائے۔ اور اس حدیث کی اسناد میں ضعف ہے حالانکہ مشہور ہے اہل تفسیر کے درمیان۔

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← الْقَاسِمِ، ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← مُعَاذِ بْنِ رِفَاعَةَ ← مِسْكِينُ بْنُ بُكَيْرٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ زِيَادٍ الطَّيَالِسِيُّ، ← أبو حفص عمر بن أحمد بن محمد بقرميسين ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ الْبَيْهَقِيُّ صَاحِبُ الْمَدْرَسَةِ

Shuab ul Iman · The thirty-second of the people of faith › And it is the door of fulfillment of contracts · Hadith 4357

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4414

4414 - أخبرنا أبو القاسم عبد الرحمن بن عبد الله الخرقي ببغداد أنا أحمد بن سلمان الفقيه نا عبد الله بن أبي الدنيا نا إسماعيل بن إبراهيم بن بسام نا صالح المري عن أبي عمران الجوني عن أبي الخلد قال : قرأت في مسئلة داود عليه السلام أنه قال : أي رب كيف لي أن أشكرك إلا بنعمتك قال : فأتاه الوحي أن يا داود أليس تعلم أن الذي بك من النعم مني ؟ قال : بلى يا رب قال : فإني أرضى بذلك منك شكرا

ہمیں خبر دی ہے ابوالقاسم عبدالرحمٰن بن عبداللہ خرقی نے بغداد میں ان کو احمد بن سلمان فقیہ نے ان کو عبداللہ بن ابوالدنیا نے ان کو اسماعیل بن ابراہیم بن بسام نے ان کو صالح مری نے ان کو ابوعمران جونی نے ان کو ابوالخلد نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے پڑھا ہے داؤد علیہ السلام کے سوال کے بارے میں کہ انہوں نے کہا اے میرے رب کیسے ممکن ہے میرے لئے کہ میں تیرا شکر کروں سوائے تیری (توفیق والی) نعمت کے۔ کہتے ہیں کہ ان کے پاس وحی آئی تھی کہ اے داؤد کیاتم یہ نہیں جانتے کہ تیرے پاس جو نعمتیں ہیں وہ میری طرف سے دی ہوئی ہیں؟ انہوں نے کہا کہ جی ہاں جانتاہوں اے رب۔ اللہ نے فرمایا کہ بے شک اس بات پر بطور شکر کے تم سے میں راضی ہو گیا ہوں۔

في مسئلة داود ← أَبِي الخلد، ← أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ← صالح المري ← إسماعيل بن إبراهيم بن بسام ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ ← أبو القاسم عبد الرحمن بن عبد الله الخرقي

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4414

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4415

4415 - و بهذا الإسناد عن أبي الخلد قال : قرأت في مسئلة موسى عليه السلام أنه قال : كيف لي أن أشكرك و أصغر نعمة وضعتها عندي من نعمك لا يجازي بها عملي كله قال : فأتاه الوحي أن يا موسى الآن شكرتني

اسی مذکوره اسناد کے ساتھ ابوالخلد سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے موسیٰ علیہ السلام کے سوال پڑھا تھا کہ انہوں نے کہا میرے لئے یہ کیسے ممکن ہے کہ میں تیرا شکر کروں حالانکہ تیری چھوٹی سے چھوٹی نعمت جو آپ نے مجھ پر رکھی ہے اپنی نعمتوں میں سے میرے سارے اعمال اس کا بدل نہیں بن سکتے۔ کہتے ہیں کہ ان کے پاس وحی آ گئی کہ اے موسیٰ اب تم نے میرا شکر کر لیا ہے۔

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4415

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ الفصل الثاني في ذكر آثار و أخبار وردت في ذكر الله عز و جل · حديث 688

687 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو منصور النضروي ثنا أحمد بن نجدة ثنا سعيد بن منصور ثنا عبد الله بن المبارك عن سعيد بن أبي أيوب عن أبي هاني الخولاني عن ابن أبي عمران قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من أطاع الله فقد ذكر الله و إن قلت صلاته و صيامه و تلاوة القرآن و من عصى الله فقد نسي الله و إن كثرت صلاته و صيامه و تلاوة القرآن

ہمیں خبر دی ابو نصربن قتادہ نے ، ان کو ابو منصور نضروی نے ، ان کو احمد بن نجدہ نے ، ان کو سعید بن منصور نے ، ان کو عبداللہ بن مبارک نے ، ان کو سعید بن ابوایوب نے ، ان کو ابو ھانی خولانی نے ، ان کو ابن ابوعمر ان نے ، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: من اطاع اللہ فقد ذکر اللہ وان قلت صلوۃ ۔ وصیامہ ، وتلاوۃ القران و من عصی اللہ فقد ۔ نسی اللہ وان کثرت صلوۃ وصیامہ ، وتلاوت القراٰن۔جس نے اللہ کی اطاعت کی ، اس نے اللہ کا ذکر کیا اگر چہ اس کی نماز کم ہو اور اس کا روزہ اس کی تلاوت قرآن کم بھی ہو ۔ جس نے اللہ کی نافرمانی کی وہ اللہ کو بھول گیا اگرچہ اس کی نماز ، روزہ ، تلاوت قرآن زیادہ ہو۔

ابْنُ أَبِي عِمْرَانَ ← أَبِي هَانِئٍ الْخَوْلَانِيِّ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty · Hadith 688

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 733

732 - قال : و نا علي ثنا مسكين أبو فاطمة قال سأل منصور بن زاذان رجل و أنا أسمع : ما كان الحسن يقول في قوله : { ما لكم لا ترجون لله وقارا } قال : لا تعلمون له عظمة و لا تشكرون له نعمة قال الحيمي رحمه الله : لا فرق بين أن يقول السيد لمملوكه : مالك لا تخاف سلطاني و ملكي ؟ و بين أن يقول : مالك لا تعرف نفسك وزنها و لا تنزلها منزلة مثلها ؟ ففي الكلامين يراد بهما تقرير حال العبد عند نفسه لئلا يأمن سطوة سيده فيدعوه ذلك إلى مفرقة طاعته و أبين من هذا قوله عز و جل : { وإذا مسكم الضر في البحر ضل من تدعون إلا إياه فلما نجاكم إلى البر أعرضتم وكان الإنسان كفورا * أفأمنتم أن يخسف بكم جانب البر أو يرسل عليكم حاصبا ثم لا تجدوا لكم وكيلا * أم أمنتم أن يعيدكم فيه تارة أخرى فيرسل عليكم قاصفا من الريح فيغرقكم بما كفرتم ثم لا تجدوا لكم علينا به تبيعا } فعرفهم أنه لا ينبغي لهم في حال من الأحوال أن يفارقوا طاعته أو يقصروا في شكره مستشعرين منه أمنا لما يرونه من نعمه السابغة عليهم مقدرين أنه راض منهم باليسير من الطاعة التي يوفونه من أنفسهم فإنه لا يأمن مكر الله إلا القوم الخاسرون بل سبيلهم أن يكونوا في الأحوال كلها مشفقين من سخطه و مؤاخذته مخطرين بقلوبهم إنه أن أراد به هلكا أو سوءا دونه ما كان لم يجدوا من يدفعه عنهم و لا من يمنعه بما يملك منهم و أما الثاني فإن الله جل ثناؤه أثنى على الذين يدعونه فيقولون : { ربنا لا تزغ قلوبنا بعد إذ هديتنا } و قرأ الآية و سماهم الراسخين في العلم و معلوم أن أحد لا يدعو فيقول : رب لا تزغ قلبي بعد إذ هديتني إلا و هو خائف على الهدى الذي أكرمه الله تعالى به أن يسلبه إياه و أخبر عن أهل الجنة إنهم يقولون : { إنا كنا قبل في أهلنا مشفقين } قرأ الآيتين و جاء في التفسير أنهم كانوا مشفقين من أن يسلبوا الإسلام فيوردوا يوم القيامة موارد الأشقياء و كانوا يدعون الله أن لا يفعل بهم ذلك و كذلك سائر نعم الله و إن كان الإسلام أعلاها و أما الثالث : قال في غير موضع من كتابه : { يا أيها الناس اتقوا ربكم } و قال : { وإياي فاتقون } و قال : { قوا أنفسكم و أهليكم نارا وقودها الناس و الحجارة } فأمر بالتقوى و هي أن يقي المخاطبون أنفسهم من نار جهنم بفعل ما أمر الله به و ترك ما نهى الله عنه و معنى { اتقون } اتقوا عذابي و مؤاخذتي و قال النبي صلى الله عليه و سلم : اتقوا النار و لو بشق تمرة

فرمات ہیں کہ ہمیں خبر دی ہے علی نے ان کو مسکین ابو فاطمہ نے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے منصور بن ذاذ ان سے پوچھا جب کہ میں سن رہا تھا ۔ اس قول باری کے کے بارے میں مالکم لا ترجون للہ وقاراً۔ کہتے ہیں کہ مراد ہے ۔ لاتعلمون لہ عظمۃ و لا تشکرون لہ نعمۃ ۔ تمہیں کیا ہوا کہ تم اس کی عظمت نہیں جانتے اور اس کی نعمت کا تم شکر نہیں کرتے ۔

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 733

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 794

793 - أخبرنا أبو بكر بن فورك أنا عبد الله بن جعفر الأصبهاني ثنا عبد الله بن محمد ثنا مسلم بن إبراهيم ـ ح وأخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو النضر الفقيه ثنا علي بن عبد العزيز ثنا مسلم بن إبراهيم ثنا شعبة عن يزيد بن خمير عن سلميان بن مرثد عن أبي الدرداء قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لو تعلمون ما أعلم لضحكتم قليلا و لبكيتم كثيرا و لخرجتم إلى الصعدات تجأرون إلى الله لا تدرون أتنجون أم لا تنجون قال : الإمام أحمد رحمه الله : فكل ذلك يدل على أن كل من كان بالله عز و جل أعرف كان منه أخوف و بشارة من بشر منهم بالمغفرة و دخول الجنة لا يمنع من الخوف عند ذكر الآيات فقد ينسيه الله تعالى تلك البشارة في ذلك الوقت لتكميل أحواله في العبودية و قد يطمئن لها في العاقبة بخبر الصادق به ثم لا يأمن حدوث ما يستحق عليه العقاب إلى أن يدرك بالرحمة و المغفرة في العاقبة و قد يكون خوف النبي صلى الله عليه و سلم بعد أن أومن على أمته و بالله التوفيق

ہمیں خبر دی ہے ابو بکر بن فورک نے ، ان کو عبداللہ بن جعفر اصفہانی نے ، ان کو عبداللہ بن محمد نے ، ان کو مسلم بن ابراہیم نے اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو النضر فیقہ نے علی بن عبدالعزیز نے ، ان کو مسلم بن ابراہیم نے ، ان کو شعبہ نے ، ان کو یزید بن خمیر نے ، ان کو سلیمان بن مرثد نے ، ان کو ابو درداء نے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم وہ جان لو جو کچھ میں جانتا ہوں البتہ تم بہت کم ہنسو گے اور تم بہت زیادہ روؤ گے اور پہاڑ اور وادیوں میں نکل جاؤ گے ۔ اللہ کی بار گاہ میں تم زاری کرو گے ۔ تم نہیں جانتے کہ تم نجات پاؤ گے یا نہیں ۔

أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← سلميان بن مرثد ← يَزِيدُ بْنُ خُمَيْرٍ، ← شُعْبَةُ، ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ ← وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 794

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 795

794 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو الفوارس شجاع بن جعفر الأنصاري ببغداد ثنا العباس بن محمد الدوري ثنا أبو نعيم الفضل بن دكين ثنا عبد الله بن عامر الأسلمي عن سهيل بن أبي صالح عن أبيه عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : سبعة يظلهم الله تحت ظله يوم لا ظل إلا ظله : إمام مقسط و رجل لقيته امرأة ذات جمال و منصب فعرضت نفسها عليه فقال : إني أخاف الله رب العالمين و رجل قلبه معلق بالمساجد و رجل تعلم القرآن في صغره فهو يتلوه في كبره و رجل تصدق بصدقة بيمينه فأخفاها عن شماله و رجل ذكر الله في برية ففاضت عيناه خشية من الله عز و جل و رجل لقي رجلا فقال : إني أحبك في الله فقال له الرجل و أنا أحبك في الله هذا حديث صحيح من حديث حفص بن عاصم عن أبي هريرة فأما من هذا الوجه فهو غريب

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو ابو الفوارس شجاع بن جعفر انصاری نے بغداد میں ، ان کو عباس بن محمد دوری نے ، ان کو ابو نعیم فضل دکین نے ، ان کو عبداللہ بن عامر اسلمی نے ، ان کو سہیل بن ابو صالح نے ، ان کو ان کے والد نے ، ان کو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ، فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سات شخص ایسے ہیں ، اللہ ان کو اپنے سائے میں جگہ دے گا ۔ جس دن ان کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہیں ہوگا ۔ عادل باد شاہ اور وہ آدمی جس کو کوئی صاحب حسن جما صاحب عز و منصب عورت ملتی ہے اور اپنے آپ کو اس پر پیش کرتی اور وہ کہتا ہے کہ میں اللہ رب العاالمین سے ڈرتا ہوں اور وہ آدمی جس کا دل مساجد کے ساتھ لٹکا ہوا ہے اور وہ آدمی جس نے اپنے بچپن میں قرآن مجید سیکھا ہو اوروہ اس کو اپنے بڑھاپے میں تلاوت کرتاہو اور وہ آدمی جو کوئی صدقہ کرتا ہے سیدھے ہاتھ کے ساتھ اور اس کے اپنے بائیں ہاتھ سے بھی چھپاتا ہے اور وہ آدمی جو اللہ تعالیٰ کو یاد کرتا ہے بری ہونے کی حالت میں اور اس کی آنکھیں بہنے لگتی ہیں اللہ کے خوف سے اور وہ آدمی جو دوسرے آدمی سے ملتا ہے اور اس سے کہتا ہے کہ میں تجھے اللہ کے واسطے محبوب رکھتا ہوں اور جواب میں وہ آدمی کہتا ہے کہ میں تجھے اللہ کی رضا کے لئے محبت کرتاہوں ۔ یہ حدیث صحیح ہے ۔ حضرت حفص بن عاصم کی روایت سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے باقی اس مذکورہ طریقہ سے یہ حدیث غریب ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرٍ الأَسْلَمِيِّ ← أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُکَيْنٍ ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أبو الفوارس شجاع بن جعفر الأنصاري ببغداد ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 795

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 910

909 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي فيما حكى عن السري قال : الخوف على ثلاثة أوجه : خوف في الدين و هو موجود في العامة يعلمون أنه يجب الخوف من الله عز و جل و خوف عارض عند تلاوة القرآن و القصص رقة كرقة النساء لها ثبوت و خوف مزعج مقلق ينحل القلب و البدن و يذهب بالنوم و الطعم و لا يسكن خوف الخائف أبدا حتى يأمن ما يخاف

ہمیں خبر دی ہے ابو عبدالرحمٰن سلمی نے اس چیز کے بارے میں جو اس نے سری سقطی سے حکایت کی ہے کہ انہوں نے کہا خوف تین وجوہ سے ہوتا ہے : (1) دین میں خوف یہ توعام لوگوں میں موجود ہوتا ہے ۔ وہ جانتے ہیں کہ اللہ سے ڈرنا واجب ہے ۔ (2) وہ خوف جو قرآن کی تلاوت کے وقت پیش آتا ہے او رواقعات پڑھ کر یہ تو رقت ہے جیسی عورتوں میں رقت ہے ۔ اس کا بھی ثبوت ہے ۔ (3) اور خوف ہے بے چین بے آرام کردینے والا اور اضطراب پیدا کرنے والا جو قلب و بدن میں منحل ہو جاتا ہے اور نیند کو ختم کر دیتا ہے اور کھانے کی خواہش کو ختم کر دیا ہے اور خوف کرنے والا یہ خوف نہیں رکتا اور اس کو سکون نہیں آیا اس وقت تک کہ اس کو اس چیز سے امن نہ ہو جائے جس چیز سے خوف کھاتا ہے ۔

السَّرِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ فِيمَا حَكَى

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 910

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصبر على المصائب و عما تنزع إليه النفس من لذة و شهوة · حديث 9684

9685 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو الحسن أحمد بن محمد بن عبدوس و أبو محمد الكعبي قالا نا إسماعيل بن قتيبة نا يزيد بن صالح عن بكير بن معروف : عن مقاتل بن حيان في قوله عز و جل { و استعينوا بالصبر و الصلاة } يقول : استعينوا على طلب الآخرة بالصبر على الفرائض و الصلاة فحافظوا عليها و على مواقيتها و تلاوة القرآن فيها و ركوعها و سجودها و تكبيرها و التشهد فيها و الصلاة على النبي صلى الله عليه و سلم و إكمال طهورها فذلك إقامتها و إتمامها قوله : { و إنها لكبيرة إلا على الخاشعين } يقول : صرفك عن بيت المقدس إلى الكعبة كبر ذلك على المنافقين و اليهود إلا على الخاشعين يعني المتواضعين

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو الحسن احمد بن محمد بن عبدوس نے اور ابو محمد کعبی نے ان دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی اسماعیل بن قتبیہ نے ان کو یزید بن صالح نے ان کو بکر بن معروف نے ماتل ابن حیان سے اللہ کے اس فرمان کے بارے میں کہتے ہیں کہ اس کا مطلب ہے استعانت مانگو طلب آخرت پر فرائض پر صبر کرنے کے ساتھ اور نماز کے ساتھ ان کی حفاظت کرو ان کے اوقات پر اور ان میں تلاوت قرآن اور رکوع سجود اور تکبیر اور ان میں تشہد کے ساتھ اور نبی کریم پر صلوٰۃ بھیجنے کے ساتھ اور طہارت کو کامل کرنے کے ساتھ یہی نماز کو قائم کرنا ہےا ور اس کو کامل کرنا ہے اور رہایہ قول کہ یہ بڑی بھاریہے مگر عاجزی کرنے والوں پر کہتے ہیں کہ اس کا مطلب ہے کہ آپ کا بیت المقدس سے کعبہ کی طرف متوجہ ہونا یہ یہود اور منافقین پر بھاریہو گا مگر خاشعین پر یعنی متواضع لوگوں پر۔

مقاتل بن حيان في قوله عز و جل ← بُكَيْرِ بْنِ مَعْرُوفٍ ← يَزِيدَ بْنِ صَالِحٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ← أبو الحسن أحمد بن محمد بن عبدوس و أبو محمد الكعبي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › It is a door to patience in calamities and from pleasure and desire that the soul desires · Hadith 9684

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْعَيْنِ ‹ مَنِ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ · حديث 602

602 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُزَيْزٍ الْمَوْصِلِيُّ، بِبَغْدَادَ , حَدَّثَنَا غَسَّانُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عَبْدَةَ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، وَثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَتِ الْأَوْسُ وَالْخَزْرَجُ حَيَّيْنِ مِنَ الْأَنْصَارِ , وَكَانَتْ بَيْنَهُمَا عَدَاوَةٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ , فَلَمَّا قَدِمَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَهَبَ ذَلِكَ , فَأَلَّفَ اللَّهُ بَيْنَهُمْ , فَبَيْنَمَا هُمْ قُعُودٌ فِي مَجْلِسٍ لَهُمْ إِذْ تَمَثَّلَ رَجُلٌ مِنَ الْأَوْسِ بِبَيْتِ شِعْرٍ فِيهِ هِجَاءٌ لِلْخَزْرَجِ وَتَمَثَّلَ رَجُلٌ مِنَ الْخَزْرَجِ بِبَيْتِ شِعْرٍ فِيهِ هِجَاءٌ لِلْأَوْسِ فَلَمْ يَزَالُوا هَذَا يَتَمَثَّلُ بِبَيْتٍ وَهَذَا يَتَمَثَّلُ بِبَيْتٍ حَتَّى وَثَبَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ , وَأَخَذُوا أَسْلِحَتَهُمْ , وَانْطَلَقُوا لِلْقِتَالِ , فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ , وَأُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْي , فَجَاءَ مُسْرِعًا قَدْ حَسَرَ عَنْ سَاقَيْهِ , فَلَمَّا رَآهُمْ نَادَاهُمْ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ} [آل عمران: 102] حَتَّى فَرَغَ مِنَ الْآيَاتِ , فَوَحَّشُوا بِأَسْلِحَتِهِمْ , فَرَمَوْا بِهَا , وَاعْتَنَقَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا يَبْكُونَ لَمْ يَرْوِهِ عَنْ ثَابِتٍ وَحُمَيْدٍ إِلَّا يُوسُفُ بْنُ عَبْدَةَ تَفَرَّدَ بِهِ غَسَّانُ

عبداللہ بن محمد بن عزیز الموصلی سے مروی حدیث ۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ۔ اوس اور خزرج انصاری کے دو قبیلے ہیں ان دونوں کے درمیان زمانہ جاہلیت میں دشمنی تھی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے تو ان کی یہ دشمنی ختم ہو گئی ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں محبتیں ڈال دی تھیں ایک دفعہ کا ذکر ہے یہ لوگ ایک مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ قبیلہ اوس سے تعلق رکھنے والے ایک آدمی نے ایک شعر کہا جس کے اندر خزرج کی توہین کی گئی تھی پھر خزرج سے تعلق رکھنے والے ایک آدمی نے ایک شعر کہا جس کے اندر اوس کی مذمت بیان کی گئی تھی ۔ کچھ دیر اسی طرح ان دونوں کے درمیان ہتک آمیز اشعار کا تبادلہ جاری ہر حتیٰ کہ نوبت یہاں تک کہ پہنچی کہ یہ ایک دوسرے کے اوپر جھپٹ پڑے اور انہوں نے اپنا اپنا اسلحہ سنبھال لیا اور بات لڑائی تک پہنچ گئی اس بات کیااطلاع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچائی گئی اور آپ پر وحی نازل ہوئی آپ اپنی پنڈلیوں سے کپڑا اٹھائے جلدی جلدی تشریف لائے جب آپ نے ان لوگوں کو دیکھا تو یوں آوازدی ۔ اےایمان والوں اللہ سے ڈرو جیسا اس سے ڈرنے کا حق ہے اور ہرگز نہ مرنا مگر مسلمان ( ترجمہ کنزالایمان امام احمد رضا)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد سنتے ہی انہوں نے اسلحہ پھینک دیا اور ایک دوسرے سے بغل گیر ہوئے گئے ۔ اس حدیث کو ثابت اور حمید سے صرف یوسف بن عبدہ البصری نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں عضان منفرد ہے ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، وَثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، ← يُوسُفُ بْنُ عَبْدَةَ، ← غَسَّانُ بْنُ الرَّبِيعِ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَزِيزٍ الْمَوْصِلِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 602

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْقَافِ ‹ مَنِ اسْمُهُ الْقَاسِمُ · حديث 751

751 - حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ عَبَّاسِ بْنِ حَمَّادٍ أَبُو مُحَمَّدٍ الْجُهَنِيُّ الْحَذَّاءُ الْمَوْصِلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى السُّكَّرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو خَلَفٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى الْخَزَّازُ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ قُرَيْشًا دَعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَنْ يُعْطُوهُ مَالًا فَيَكُونُ أَغْنَى رَجُلٍ بِمَكَّةَ وَيُزَوِّجُونَهُ مَا أَرَادَ مِنَ النِّسَاءِ وَيَطَأُونَ عَقِبَهُ , فَقَالُوا: هَذَا لَكَ عِنْدَنَا يَا مُحَمَّدُ , وَكُفَّ عَنْ شَتْمِ آلِهَتِنَا , وَلَا تَذْكُرْهَا بِشَرٍّ؛ فَإِنْ بَغَضْتَ فَإِنَّا نَعْرِضُ عَلَيْكَ خَصْلَةً وَاحِدَةً , وَلَكَ فِيهَا صَلَاحٌ قَالَ: «وَمَا هِيَ؟» قَالَ: تَعْبُدُ إِلَهَنَا سَنَةً اللَّاتَ وَالْعُزَّى , وَنَعْبُدُ إِلَهِكَ سَنَةً قَالَ: «حَتَّى أَنْظُرَ مَا يَأْتِينِي مِنْ رَبِّي» , فَجَاءَ الْوَحْي مِنْ عِنْدِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ اللَّوْحِ الْمَحْفُوظِ: قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ لَا أَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ السُّورَةَ , وَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: {قُلْ أَفَغَيْرَ اللَّهِ تَأْمُرُونِّي أَعْبُدُ أَيُّهَا الْجَاهِلُونُ} [الزمر: 64] , {بَلِ اللَّهَ فَاعْبُدْ وَكُنْ مِنَ الشَّاكِرِينَ} [الزمر: 66] لَمْ يَرْوِهِ عَنْ دَاوُدَ بْنِ هِنْدَ إِلَّا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى تَفَرَّدَ بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں قریش نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک پیشکش کی کہ وہ ان کو اتنا مال دیں گے کہ مکے میں سب سے زیادہ دولت مند کردیں گے اور آپ جس عورت سے چاہیں اس کے ساتھ آپ کا نکاح کر دیں گے اور ان کے لیے آسانیاں کر دیں گے قریش نے کہا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف سے آپ کے لیے یہ پیشکش ہے ۔ آپ ہمارے خداؤں کو برابھلا کہنا چھوڑ دیں اور ان کی مذمت کر نا چھوڑ دیں اور اگر آپ رضا مند ہوں ، تو ہم آپ کو اپنے جھگڑے کا حل پیش کرتے ہیں اس کے اندر آپ کے لیے بھی بھلائی ہے ۔ آپ نے فرمایا وہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا ایک سال آپ لازت اور عزیٰ کی عبادت کریں اور ایک سال ہم آپ کے خدا کی عبادت کریں گے آپ نے فرمایا مجھ کچھ موقع دو میں یہ دیکھ لوں کہ میرے رب کی طر ف سے کیا حکم ملتا ہے چنانچہ اللہ رب العزت کی بارگاہ میں لوح محفوظ سے یہ وحی نازل کی گئی ۔ (ترجمہ) ۔" تم فرماؤ اے کافرو نہ میں پوجتا ہوں جو تم پوجتے ہو اور نہ تم پوجتے ہو جو میں پوجتا ہوں اور نہ میں پوجوں گا جو تم نے پوجا اور نہ تم پوجو گے جو میں پوجتا ہوں تمہیں تمہارا دین اور مجھے میرا دین ( ترجمہ کنز الایمان امام احمد رضا ) اور یہ آیات بھی نازل ہوئیں ۔" تم فرماؤ تو کیا اللہ کے سوا دوسرے کے پوجنے کو مجھ سے کہتے ہواے جاہلو اور بے شک وحی کی گئی تمہاری طرف اور تم سے اگلوں کی طرف کہ اسے سننے والے اگر تو نے اللہ کا شریک کیا تو ضرور تیرا سب کیا دھرا اکارت جائے گا اور ضرور تو ہار میں رہے گا بلکہ اللہ ہی کی بندگی کر اور شکروالوں سے ہو ( ترجمہ کنزالا ایمان امام احمد رضا ) اس حدیث کو دادؤ ابی ابن ہند سے صرف عبداللہ بن عیسیٰ نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں محمد بن موسیٰ منفرد ہیں ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← أَبُو خَلَفٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى الْخَزَّازُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى السُّكَّرِيُّ، ← الْقَاسِمُ بْنُ عَبَّاسِ بْنِ حَمَّادٍ أَبُو مُحَمَّدٍ الْجُهَنِيُّ الْحَذَّاءُ الْمَوْصِلِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 751

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْحِاءِ ‹ مَنِ اسْمُهُ الْحَسَنُ · حديث 379

379 - حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سَهْلَانَ الْعَسْكَرِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَزَّازُ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ عَوْذِ اللَّهِ الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «خِيَارُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ» لَمْ يَرْوِهِ عَنِ التَّيْمِيِّ إِلَّا مُعَاذُ بْنُ عَوْذِ اللَّهِ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو قرآن پڑھے اور پڑھائے ۔ اس حدیث کو تیمی سے صرف معاذ بن عوذ نے روایت کیا ہے ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، ← معاذ بن عوذ الله القرشي ← محمد بن سنان القزاز ← الْحَسَنُ بْنُ سَهْلَانَ الْعَسْكَرِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 379

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ بقية أخبار الحسن بن علي رضي الله عنهما · حديث 2677

2676 - حدثنا محمد بن أحمد بن البراء ثنا عبد المنعم بن إدريس بن سنان عن أبيه عن وهب بن منبه Y عن جابر بن عبد الله و عبد الله بن عباس في قول الله عز و جل { إذا جاء نصر الله والفتح } { ورأيت الناس يدخلون في دين الله أفواجا } { فسبح بحمد ربك واستغفره إنه كان توابا } قال : لما نزلت قال محمد صلى الله عليه و سلم : يا جبريل نفسي قد نعيت قال جبريل عليه السلام : الآخرة خير لك من الأولى ولسوف يعطيك ربك فترضى فأمر رسول الله صلى الله عليه و سلم بلالا أن ينادي بالصلاة جامعة فاجتمع المهاجرون والأنصار إلى مسجد رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم صعد المنبر فحمد الله عز و جل وأثنى عليه ثم خطب خطبة وجلت منها القلوب وبكت العيون ثم قال : أيها الناس أي نبي كنت لكم ؟ فقالوا : جزاك الله من نبي خيرا فلقد كنت بنا كالأب الرحيم وكالأخ الناصح المشفق أديت رسالات الله عز و جل وأبلغتنا وحيه ودعوت إلى سبيل ربك بالحكمة والموعظة الحسنة فجزاك الله عنا أفضل ما جازى نبيا عن أمته فقال لهم : معاشر المسلمين أنا أنشدكم بالله وبحقي عليكم من كانت له قبلي مظلمة فليقم فليقتص مني فلم يقم إليه أحد فناشدهم الثانية فلم يقم إليه أحد فناشدهم الثالثة معاشر المسلمين أنشدكم بالله وبحقي عليكم من كانت له قبلي مظلمة فليقم فليقتص مني قبل القصاص في القيامة فقام من بين المسلمين شيخ كبير يقال له عكاشة فتخطى المسلمين حتى وقف بين يدي رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : فداك أبي و أمي لولا أنك ناشدتنا مرة بعد أخرى ما كنت بالذي يقدم على شيء من هذا كنت معك في غزاة فلما فتح الله عز و جل علينا ونصر نبيه صلى الله عليه و سلم وكنا في الانصراف حاذت ناقتي ناقتك فنزلت عن الناقة ودنوت منك لأقبل فخذك فرفعت القضيب فضربت خاصرتي ولا أدري أكان عمدا منك أم أردت ضرب الناقة ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أعيذك بجلال الله أن يتعمدك رسول الله صلى الله عليه و سلم بالضرب يا بلال انطلق إلى منزل فاطمة وائتني بالقضيب الممشوق فخرج بلال من المسجد ويده على أم رأسه وهو ينادي : هذا رسول الله صلى الله عليه و سلم يعطي القصاص من نفسه فقرع الباب على فاطمة فقال : يا بنت رسول الله ناوليني القضيب الممشوق فقالت فاطمة : يا بلال وما يصنع أبي بالقضيب وليس هذا يوم حج ولا يوم غزاة ؟ فقال : يا فاطمة ما أغفلك عما فيه أبوك إن رسول الله صلى الله عليه و سلم يودع الدين ويفارق الدنيا ويعطي القصاص من نفسه فقالت فاطمة رضي الله عنها : يا بلال ومن ذا الذي تطيب نفسه أن يقتص من رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ يا بلال إذن فقل للحسن و الحسين يقومان إلى هذا الرجل فيقتص منهما ولا يدعانه يقتص من رسول الله صلى الله عليه و سلم فدخل بلال ودفع القضيب إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم ودفع رسول الله صلى الله عليه و سلم القضيب إلى عكاشة فلما نظر أبوبكر و عمر رضي الله عنهما إلى ذلك قاما فقالا : يا عكاشة هذان نحن بين يديك فاقتص منا ولا تقتص من رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال لهما النبي صلى الله عليه و سلم امض يا أبا بكر وأنت يا عمر فقد عرف الله مكانكما ومقامكما فقام علي بن أبي طالب فقال : يا عكاشة أنا في الحياة بين يدي رسول الله صلى الله عليه و سلم ولا تطيب نفسي أن يضرب رسول الله صلى الله عليه و سلم فهذا ظهري وبطني اقتص مني بيدك واجلدني مئة ولا تقتص من رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال النبي صلى الله عليه و سلم : يا علي اقعد فقد عرف الله عز و جل مقامك ونيتك وقام الحسن و الحسين رضي الله عنهما فقالا : يا عكاشة أليس تعلم أنا سبطا رسول الله ؟ فالقصاص منا كالقصاص من رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال لهما صلى الله عليه و سلم اقعدا يا قرة عيني لا نسي الله لكما هذا المقام ثم قال النبي صلى الله عليه و سلم : يا عكاشة اضرب إن كنت ضاربا فقال : يا رسول الله ضربتني وأنا حاسر عن بطني فكشف عن بطنه صلى الله عليه و سلم وصاح المسلمون بالبكاء وقالوا : أترى عكاشة ضارب رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ فلما نظر عكاشة إلى بياض بطن رسول الله صلى الله عليه و سلم كأنه القباطي لم يملك أن كب عليه وقبل بطنه وهو يقول : فداء لك أبي وأمي ومن تطيق نفسه أن تقتص منك ؟ فقال له النبي صلى الله عليه و سلم : إما أن تقتص وإما أن تعفو فقال : قد عفوت عنك رجاء أن يعفو الله عني في القيامة فقال النبي صلى الله عليه و سلم : من أراد أن ينظر إلى رفيقي إلى الجنة فلينظر إلى هذا الشيخ فقام المسلمون فجعلوا يقبلون ما بين عيني عكاشة ويقولون طوباك طوباك نلت الدرجات العلى ومرافقة رسول الله صلى الله عليه و سلم فمرض رسول الله صلى الله عليه و سلم من يومه فكان مريضا ثمانية عشر يوما يعوده الناس وكان صلى الله عليه و سلم ولد يوم الاثنين وبعث يوم الاثنين وقبض يوم الاثنين فلما كان في يوم الأحد ثقل في مرضه فأذن بلال بالأذان ثم وقف بالباب فنادى : السلام عليك يا رسول الله ورحمة الله الصلاة رحمك الله فسمع رسول الله صلى الله عليه و سلم صوت بلال فقالت فاطمة رضي الله عنها : يا بلال إن رسول الله صلى الله عليه و سلم اليوم مشغول بنفسه فدخل بلال المسجد فلما أسفر الصبح قال : والله لا أقيمها أو استأذن سيدي رسول الله صلى الله عليه و سلم فرجع فقام بالباب ونادى : السلام عليك يا رسول الله ورحمة الله وبركاته الصلاة يرحمك الله فسمع رسول الله صلى الله عليه و سلم صوت بلال فقال : ادخل يا بلال إن رسول الله صلى الله عليه و سلم مشغول بنفسه مر أبا بكر يصل بالناس فخرج ويده على أم رأسه وهو يقول : واغوثا بالله وانقطاع رجائه وانقطاع رجائه وانقصام ظهري ليتني لم تلدني أمي وإذ ولدتني لم أشهد من رسول الله صلى الله عليه و سلم هذا اليوم ثم قال : يا أبا بكر ألا إن رسول الله صلى الله عليه و سلم أمرك أن تصلي بالناس فتقدم أبو بكر رضي الله عنه للناس وكان رجلا رقيقا فلما نظر إلى خلوة المكان من رسول الله صلى الله عليه و سلم لم يتمالك أن خر مغشيا عليه وصاح المسلمون بالبكاء فسمع رسول الله صلى الله عليه و سلم ضجيج الناس فقال : ما هذه الضجة ؟ قالوا : ضجة المسلمين لفقدك يا رسول الله فدعا النبي صلى الله عليه و سلم علي بن أبي طالب و ابن عباس رضي الله عنهما فأتكأ عليهما فخرج إلى المسجد فصلى بالناس ركعتين خفيفتين ثم أقبل بوجهه المليح عليهم فقال : يا معشر المسلمين أستودعكم الله أنتم في رجاء الله وأمانه والله خلفتي عليكم معاشر المسلمين عليكم باتقاء الله وحفظ طاعته من بعدي فإني مفارق الدنيا هذا أول يوم من الآخرة وآخر يوم من أيام الدنيا فلما كان يوم الاثنين اشتد به الأمر وأوحى الله عز و جل إلى ملك الموت صلى الله عليه و سلم أن اهبط إلى حبيبي وصفيي محمد صلى الله عليه و سلم في أحسن صورة وارفق به في قبض روحه فهبط ملك الموت صلى الله عليه و سلم فوقف بالباب شبه أعرابي ثم قال : السلام عليكم يا أهل بيت النبوة ومعدن الرسالة ومختلف الملائكة أدخل ؟ فقالت عائشة رضي الله عنها لفاطمة : أجيبي الرجل فقالت فاطمة : آجرك الله في ممشاك يا عبد الله إن رسول الله صلى الله عليه و سلم مشغول بنفسه فدعا الثانية فقالت عائشة : يا فاطمة أجيبي الرجل فقالت فاطمة : آجرك الله في ممشاك يا عبد الله إن رسول الله مشغول بنفسه ثم دعا الثالثة السلام عليكم يا أهل بيت النبوة ومعدن الرسالة ومختلف الملائكة أأدخل ؟ فلا بد من الدخول فسمع رسول الله صلى الله عليه و سلم صوت ملك الموت صلى الله عليه و سلم فقال : يا فاطمة من بالباب ؟ فقالت : يا رسول الله إن رجلا بالباب يستأذن في الدخول فأجبناه مرة بعد أخرى فنادى في الثالثة صوتا اقشعر منه جلدي وارتعدت فرائصي فقال لها النبي صلى الله عليه و سلم : يا فاطمة أتدرين من بالباب ؟ هذا هادم اللذات مفرق الجماعات هذا مرمل الأزواج وموتم الأولاد هذا مخرب الدور وعامر القبور هذا ملك الموت صلى الله عليه و سلم ادخل رحمك الله يا ملك الموت فدخل ملك الموت على رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يا ملك الموت جئتني زائرا أم قابضا ؟ قال : جئتك زائرا وقابضا وأمرني الله عز و جل أن لا أدخل عليك إلا بإذنك ولا أقبض روحك إلا بإذنك فإن أذنت وإلا رجعت إلى ربي عز و جل فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يا ملك الموت أين خلفت حبيبي جبريل ؟ قال : خلفته في السماء الدنيا والملائكة يعزونه فيك فما كان بأسرع أن أتاه جبريل عليه السلام فقعد عند رأسه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يا جبريل هذا الرحيل من الدنيا فبشرني ما لي عند الله ؟ قال : أبشرك يا حبيب الله أني قد تركت أبواب السماء قد فتحت والملائكة قد قاموا صفوفا صفوفا بالتحية والريحان يحيون روحك يا محمد فقال : لوجه ربي الحمد وبشرني يا جبريل قال : أبشرك أن أبواب الجنان قد فتحت وأنهارها قد اطردت وأشجارها قد تدلت وحورها قد تزينت لقدوم روحك يا محمد قال : لوجه ربي الحمد فبشرني يا جبريل قال : أنت أول شافع وأول مشفع في القيامة قال : لوجه ربي الحمد قال جبريل : يا حبيبي عم تسألني ؟ قال : أسألك عن غمي وهمي من لقراء القرآن من بعدي ؟ من لصوم شهر رمضان من بعدي ؟ من لحاج بيت الله الحرام من بعدي ؟ من لأمتي المصفاة من بعدي ؟ قال : ابشر يا حبيب الله فإن الله عز و جل يقول : قد حرمت الجنة على جميع الأنبياء والأمم حتى تداخلها أنت وأمتك يا محمد قال : الآن طابت نفسي إذن يا ملك الموت فانته إلى ما أمرت فقال علي رضي الله عنه : يا رسول الله إذا أنت قبضت فمن يغسلك ؟ وفيم نكفنك ؟ ومن يصلي عليك ؟ ومن يدخل القبر ؟ فقال النبي صلى الله عليه و سلم : يا علي أما الغسل فاغسلني أنت و الفضل بن عباس يصب عليك الماء وجبريل عليه السلام ثالثكما فإذا أنتم فرغتم من غسلي فكفنوني في ثلاثة أثواب جدد وجبريل عليه السلام يأتيني بحنوط من الجنة فإذا أنتم وضعتموني على السرير فضعوني في المسجد واخرجوا عني فإن أول من يصلي علي الرب عز و جل من فوق عرشه ثم جبريل عليه السلام ثم ميكائيل ثم إسرافيل عليهما السلام ثم الملائكة زمرا زمرا ثم ادخلوا فقوموا صفوفا لا يتقدم علي أحد فقالت فاطمة رضي الله تعالى عنها : اليوم الفراق فمتى ألقاك ؟ فقال لها : يا بنية تلقيني يوم القيامة عند الحوض وأنا أسقي من يرد علي الحوض من أمتي قالت : فإن لم ألقك يا رسول الله ؟ قال : تلقيني عند الميزان وأنا أشفع لأمتي قالت : فإن لم ألقك يا رسول الله ؟ قال : تلقيني عند الصراط وأنا أنادي ربي سلم أمتي من النار فدنا ملك الموت صلى الله عليه و سلم يعالج قبض رسول الله صلى الله عليه و سلم فلما بلغ الروح الركبتين قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أوه فلما بلغ الروح السرة نادى النبي صلى الله عليه و سلم : واكرباه فقالت فاطمة عليها السلام : كربي يا أبتاه فلما بلغ الروح إلى الثندؤة نادى النبي صلى الله عليه و سلم : يا جبريل ما أشد مرارة الموت فولى جبريل عليه السلام وجهه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يا جبريل كرهت النظر إلي ؟ فقال جبريل صلى الله عليه و سلم : يا حبيبي ومن تطبيق نفسه أن ينظر إليك وأنت تعالج سكرات الموت فقبض رسول الله صلى الله عليه و سلم فغسله علي بن أبي طالب و ابن عباس يصب عليه الماء وجبريل عليه السلام معهما وكفن بثلاثة أثواب جدد وحمل على سرير ثم أدخلوه المسجد ووضعوه في المسجد وخرج الناس عنه فأول من صلى عليه الرب تعالى من فوق عرشه ثم جبريل ثم ميكائيل ثم إسرافيل ثم الملائكة زمرا زمرا قال علي رضي الله عنه : لقد سمعنا في المسجد همهمة ولم نر لهم شخصا فسمعنا هاتفا يهتف ويقول : ادخلوا رحمكم الله فصلوا على نبيكم صلى الله عليه و سلم فدخلنا وقمنا صفوفا صفوفا كما أمرنا رسول الله صلى الله عليه و سلم فكبرنا بتكبير جبريل عليه السلام وصلينا على رسول الله صلى الله عليه و سلم بصلاة جبريل عليه السلام ما تقدم منا أحد على رسول الله صلى الله عليه و سلم ودخل القبر أبو بكر الصديق و علي بن أبي طالب و ابن عباس رضي الله عنهم ودفن رسول الله صلى الله عليه و سلم فلما انصرف الناس قالت فاطمة لعلي رضي الله عنه : يا أبا الحسن دفنتم رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ قال : نعم قالت فاطمة رضي الله عنها : كيف طابت أنفسكم أن تحثوا التراب على رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ أما كان في صدوركم لرسول الله صلى الله عليه و سلم الرحمة ؟ أما كان معلم الخير ؟ قال : بلى يا فاطمة ولكن أمر الله الذي لا مرد له فجعلت تبكي وتندب وهي تقول : يا أبتاه الآن انقطع جبريل عليه السلام وكان جبريل يأتينا بالوحي من السماء

حضرت جابر بن عبد اللہ اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں روایت ہے : "جب اللہ تعالیٰ کی مدد آگئی اور آپ نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ فوج در فوج اللہ کے دین میں داخل ہورہے ہیں تو اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کریں اور اس سے استغفار کریں ، کیونکہ وہ توبہ قبول کرنے والا ہے "۔ فرمایا: جب یہ سورت نازل ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر آنے والی گھڑی آپ کے لیے پہلی گھڑی سے بہتر ہے اور آپ کا رب آپ کو اتنا عطا فرمائے گا کہ آپ راضی ہو جائیں گے ۔ تورسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا کہ وہ نداء کردیں کہ نماز تیار ہے ۔ پس مہاجرین اور انصار مسجد نبوی شریف میں جمع ہوگئے ، تو آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کی ، پھر ایک مختصر سا خطبہ دیا جس سے لوگوں کے دل ڈرنے لگے اور آ نکھوں سے آنسو جاری ہوگئے ، پھر آپنے فرمایا: اے لوگو! میں تمہارے لیے کون سا نبی ہوں؟ تو انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے آپ کو اچھی جزا ء دے ! پس آپ ہمارے لیے مہربان باپ کی طرح اور شفقت کرنے والے مخلص بھائی کی طرح ہیں ، آپ نے اللہ تعالیٰ کے پیغامات پہنچا نے کا مخلص حقد ادا کر دیا اور اللہ تعالیٰ کی وحی کو ہم تک پہنچایا، آپ نے اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ دعوت دی ، اللہ تعالیٰ ہماری طرف سے آپ کو اس سے افضل جزاء عطاء فرمائے ! جو اُس نے کسی نبی کو اس کی امت کی طرف سے عطافرمائی ہے ۔ پس آپ نے اُن سے فرمایا: اے مسلمانوں کے گروہ ! میں تمہیں اللہ اور اپنے اس حق کی قسم دیتا ہوں جو میرا تہمارے اوپر ہے ، جس آدمی پر میری طرف سے کوئی ظلم ہواہے ، اُسے چاہیے کہ اُٹھے اور مجھ سے اس کا بدلہ لے لے ۔ راوی کا بیان ہے : کوئی آدمی بھی نہ اُٹھا تو آپ نے ان کو دوسری بار قسم دی تو بھی کوئی آدمی اُٹھ کر آپ کی طرف نہ گیا تو آپ نے تیسری مرتبہ قسم دی: اے مسلمانوں کے گروو! میری طرف سے جس پر کوئی ظلم ہوا ہے اسے چاہیے کہ وہ اُٹھے اور قیامت میں بدلہ لینے سے پہلے ابھی مجھ سے بدلہ لے لے ۔ تو مسلمانوں کے درمیان سے ایک بوڑھا آدمی اُٹھا جس کو عکاشہ کہا جاتا تھا ، اس نے مسلمانوں کے پاس لکیر کھینچنا شروع کی یہاں تک کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے جا کھڑا ہوا اور عرض کی: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! آپ کیوں بار بار ہمیں قسمیں دے رہے ہیں ، میں کسی شے پر اس سے اقدام نہیں کرتا، میں ایک جنگ میں آپ کے ساتھ تھا ، جب اللہ تعالیٰ نے ہمیں فتح عطا فرمائی تھی اور اپنے نبی کی مدد فرمائی تھی اور ہم لوٹ رہے تھے ، میری اونٹنی آپ کی اونٹنی کے قریب ہوئی اور میں آپ کے قریب ہوا تاکہ آپ کی ران کو بوسہ دوں ، آپ نے ڈنڈا اُٹھایا اور میری پیٹھ پر مارا ، مجھے معلوم نہیں کہ آپ نے مجھے جان بوجھ کر مارایا اونٹنی کو مارنے کا ارادہ کیا ( اور مجھے لگ گیا ) پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اللہ کے جلال کی پناہ چاہتاہوں کہ اللہ کے رسول تجھے جان بوجھ کر ماریں! اے بلال! فاطمہ کے گھر جاؤ اور وہی والا پتلا لمبا ڈنڈا لے کے آؤ ۔ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسجد سے نکلے اور اس حال میں کہ ان کا ہاتھ ان کے سر پر تھا اور وہ بلند آواز سے نداء دے رہے تھے : یہ اللہ کے رسول ہیں جو اپنی طرف سے قصاص عطا فرمارہے ہیں ، انہوں نے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا دروازہ کھٹکھٹایا اور عرض کی: اے اللہ کے رسول کی بیٹی ! مجھے وہی لمبا ڈنڈا عطا فرمائیں ! تو حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا: اے بلال! میرے والد گرامی ڈنڈے سے کیا کرنا چاہتے ہیں ؟ نہ تو یہ حج کا دن ہے اور نہ ہی کسی جنگ کا دن ہے ؟ آپ نے عرض کی: اے فاطمہ ! آپ کے والد گرامی اس حالت میں آپ خوب جانتی ہیں بے شک رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دین کو الوداع کہہ رہے ہیں اور دنیا سے جدائی اختیار فرمارہے ہیں اور اپنی طرف سے قصاص عطا فرمانا چاہتے ہیں ۔ تو حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا: اے بلال ! وہ کون آدمی ہے جس کو پسند ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بدلہ لے ؟ اے بلال ! حسن وحسین سے کہوکہ وہ اُٹھ کر اس آدمی کے سامنے کھڑے ہو جائیں اور وہ اس سے بدلہ لے لے اور وہ اس کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بدلہ نہ لینے دیں ۔ تو حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ ڈنڈآ لے کر مسجد میں داخل ہوئے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے کر دیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ ڈنڈ ا حضرت عکاشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دے دیا ، پس جب حضرت ابوبکر اور عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی اس طرف نظر پڑی تو وہ دونوں کھڑے ہوگئے اور کہا: اے عکاشہ ! یہ ہم دونوں آپ کے سامنے ہیں ، تو ہم سے کہا: جس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قصاس نہ لے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کے لیے فرمایا: اے ابوبکر ! آپ جائیں اور اے عمر ! آپ بھی جائیں ، اللہ تعالیٰ آپ دونوں کے مقام و مرتبہ کو پہچانتا ہے ، اس کے بعد حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: اے عکاشہ ! میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ہوں ، میرا دل نہیں کرتا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ضرب لگے ، یہ میری پیٹھ اور پیٹ حاضر ہے ، وہ اپنے ہاتھ کے ساتھ مجھ سے قصاس لے اور مجھے سو کوڑے مار لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قصاص نہ لے ، تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے علی ! آپ بیٹھ جائیں ! اللہ تعالیٰ آپ کے مقام اور نیت کو پہنچانتا ہے۔ اس کے بعد حضرت امام حسن و حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: اے عکاشہ ! کیا تُونہیں جانتا ہے کہ ہم دونوں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نواسے ہیں ؟ پس ہم سے بدلہ لینا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بدلہ لینے کی طرح ہے ۔ تورسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں کو فرمایا: اے میری آنکھوں کی ٹھنڈک ! بیٹھ جائیے ! اللہ تعالیٰ کو آپ کے اس مقام سے بھول نہیں ہے ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عکاشہ ! اگر تونے مارنا ہے تو مارو! تو اس نے عرض کی: اے اللہ کے رسول ! آپ نے مجھے اس حال میں ماراکہ میرا پیٹ ننگا تھا ! تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے پیٹ سے کپڑا ہٹا دیا ، یہ دیکھ کر مسلمانوں کی چیخیں نکل گئیں اور سب نے مل کر کہا: اے عکاشہ ! کیا تُو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مارے گا! تو حضرت عکاشہ رضی اللہ تعالیٰ عن ہ کی نظر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیٹ کی سفید پرپڑی گویا کہ وہ سونے کی ڈلی ہے ، وہ اپنے آ پ پر قابو نہ رکھ سکے ، آپ پر جھک گئے اور آپ کے پیٹ مبارک کو بوسہ دیا اور زبان سے کہہ رہے تھے : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوجائیں ! کس اُمتی میں طاقت ہے کہ آ پ سے قصاص لے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: تمہیں د و کاموں میں سے ایک کام ضرور کرنا ہوگا، یاتم ڈنڈا ماروگے یا معاف کروگے ؟ اس نے عرض کی : میں نے آپ کو معاف کیااس اُمید پر کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن مجھے معاف فرمائے گا ۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس کا ارادہ ہو کہ وہ جنت میں میرا رفیق دیکھے ، اسے چاہیے کہ اس بوڑھے آدمی کو دیکھ لے ۔ مسلمان اُٹھے اور حضرت عکاشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی دونوں آنکھوں کے درمیان بوسے دینے لگے اور زبان سے کہہ رہے تھے : آپ کو مبارک ہو ! آپ کو مبارک ہو! تُوبلند درجات پانے میں کامیاب ہو گیااور بنی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رفاقت حاصل کر لی ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی دن سے بیمار ہوئے اور اٹھارہ دن بیمار ی کی حالت میں گزر گئے ، لوگ آپ کی بیمار پرسی کرتے رہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوموار کے دن پیدا ہوئے اور سوموار کے دن ہی بعثت ہوئی اور سوموار کے دن ہی آپ کا وصال ہوا ، پس جب ہفتے کا دن آیا تو آپ کی مرض میں اضافہ ہو گیا تو حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اذان دی پھر دروازے پر آکر کھڑے ہوئے اور نداء دینے لگے : السلام علیک یار سول اللہ ورحمتہ اللہ الصلٰوۃ رحمک اللہ ! (اے اللہ کے رسول ! آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمت ہو! نماز کا وقت ہوگیا ہے ، اللہ آپ پر رحم فرمائے ) ۔ پس حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آواز سنی تو حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا: اے بلال ! رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آج اپنی جان کا خیال ہے ، تو حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسجد میں چلے گئے ، پس جب صبح کوب روشن ہوگئی تو حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم ! میں اس وقت تک اقامت نہیں پڑھوں گا جب تک اپنے آقا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت نہ لے لوں ، پس وہ لوٹے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دروازے پر آئے ، نداء دی : اے اللہ کے رسول ! آپر سلام ہو اور اس کی رحمت اور اس کی برکتیں ، نماز تیار ہے ، اللہ آپ پر حم فرمائے ۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آواز سنی تو فرمایا: اے بلال ! داخل ہو جا ! بے شک رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی جان کا خیال ہے اور ابو بکر کو کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے ، پس وہ اس حال میں نکلے کہ انہوں نے اپنا ہاتھ سر کی چوٹی پر رکھا ہو اتھا اور زبان سے کہہ رہے تھے : ہے اللہ کی مدد! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس دنیا پر رہنے کی اُمید خم ہوگئی ، اس دنیا پر رہنے کی اُمید ختم ہو گئی اور میر ی کمر ٹوٹ گئی ، کاش ! مجھے میری ماں نے نہ جنا ہوتا اور جب میری ماں نے مجھے جنا تھا تو آج کا دن رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر نہ ہوتا ، یعنی فوت ہوگیا ہوتا ۔ پھر کہا: اے ابو بکر ! خبر دار ! رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں ۔ پس حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ لوگوں کو نماز پڑھانے کے لیے آگے ہوئے ، وہ نرم دل آدمی تھے جب ان کی نظر اس جگہ پر پڑی جہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم موجود ہوتے تھے تو وہ خالی تھی ، آپ اپنے آپ پر قابونہ رکھ سکے ، غش کھا کر گرپڑے ، مسلمانوں کی چیخیں نکل گئیں ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کا شور سنا تو فرمایا: یہ شو ر کیسا ہے ؟ انہوں نے کہا: مسلمانوں کا شور ہے ، آپ کے ان کے پاس نہ ہونے کی وجہ سے اے اللہ کے رسول ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو بلایا ، دونوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر آپ مسجد میں تشریف لے گئے ، لوگوں کو مختصر سی دو رکعتیں پڑھائیں ، پھراپنا خوبصورت چہرہ اُن کی طر ف کیا اور فرمایا: اے مسلمانوں کے گروہ ! میں آ پ لوگوں کو اللہ کے سپرد کرتاہوں ، تم اللہ تعالیٰ کی اُمید اور اس کی امان میں ہو ، اللہ ہی تمہارا محافظ ہے ، اے مسلمانوں کے گروہ ! تمہارے اوپر اللہ سے ڈرنا لازم ہے اور میرے بعد اس کی اطاعت کی حفاظت بھی ضروری ہے کیونکہ میں دنیا کو چھوڑنے والاہوں ، آج آخرت کا پہلا دن ہے اور دنیا کا آخری دن ہے ۔ پس جب سوموار کا دن آیا تو آ پ کی بیماری میں اضافہ ہو گیا ، اللہ تعالیٰ نے ملک الموت کی طرف وحی فرمائی کہ میرے حبیب اور میرے چنے ہوئے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف چلے جاؤ اور انتہائی خوبصورت شکل اختیار کرکے حاضری دینا اور آپ کی روح قبض کرنے میں بہت زیادہ نرمی سے کام لینا ، پس حضرت ملک الموت زمین پر اُترے ، ایک اعرابی کی طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دروازے پر آکر کھڑے ہوگئے ، پھر عرض کر نے لگے : السلام علیکم ! اے نبوت کے گھر والو! معدن رسالت اور فرشتوں کے بار بار آنے جانے کی جگہ ! کیا مجھے اندر آنے کی اجازت ہے ؟ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے کہا: آدمی کو جواب دو! تو حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا: اے اللہ کے بندے! اللہ تجھے ہر قدم پر اجر عطا فرمائے ! رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی جان کا خیال ہے ۔ اس نے دوبارہ صدادی تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کہا: اس آدمی کو جواب دو! حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا: اے اللہ کے بندے !اللہ تعالیٰ تجھے ہر قدم پر اجر عطا فرمائے! رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی جان کا خیال ہے ، تھوڑی دیر گزر نے کے بعد اس نے پھر صداد ی: کیا میں داخل ہو سکتا ہوں؟ مجھے ضرورداخل ہونا ہے۔ تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عزرائیل علیہ السلام کی آواز سن لی ، فرمایا: اے فاطمہ ! دروازے پر کون ہے ؟ انہوں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! ایک آدمی دروازے پر اندر آنے کی اجازت مانگ رہا ہے ، ہم نے اسے دو مرتبہ جواب دیا ہے تو اس نے تیسری بار صدادی جس سے میری جان کانپنے لگی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے فاطمہ ! کیا تُوجانتی ہے دروازے پر کون ہے ؟ یہ لذتوں کو ختم کرنے والا ہے ، جماعتوں کو بکھیرنے والا ہے ، یہ عورتوں کو بیوہ کر نے والا ، بچوں کو یتیم کرنے والاہے ، یہ گھروں کو بے آباد اور قبروں کو آباد کرنے والا ہے ، یہ ملک الموت ہے ۔ فرمایا: اے ملک الموت ! اللہ آپ پر رحم کرے! داخل ہو جاؤ ۔ پس ملک الموت ، رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بار گاہ میں آئے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ملک الموت ! تم صرف میری زیارت کرنے کے لیے آئے ہو یا جان قبض کرنے کے لیے ؟ اُس نے عرض کی : میں دونوں کام کرنے کے لیے آپ کے پاس آیا ہوں ، مجھے اللہ تعالیٰ عنے حکم دیا کہ میں آپ کی اجازت کے بغیر آپ کے پاس داخل نہ ہوں اور آپ کی روح آپ کی اجازت کے بغیر نہ لوں! اگر آپ اجازت دیں تو ٹھیک ہے ورنہ میں اپنے رب کے پاس لوٹ جاؤں ! تورسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ملک الموت ! میرے محبوب جبرائیل علیہ السلام آپ کہاںرہ گئے ہیں ! انہوں نے عرض کی : میں نے انہیں آسمان دنیا میں چھوڑا ہے جب کہ دوسرے ملائکہ آپ کے حوالے سے ان سے تعزیت کر رہے ہیں ۔ زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ جبرائیل علیہ السلام آگئے اور آپ کے سر کے پاس آکر بیٹھ گئے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے جبرائیل ! آج دنیا سے کوچ کا دن ہے ، مجھے خوشخبری سنائیں کہ اللہ کے پاس میرے لیے کیا اجر ہے ! حضرت جبرائیل علیہ السلام نے عرض کی: اے اللہ کے حبیب! میں آپ کو بشارت دیتا ہوں کہ م یں نے آسمان کے دروازے کھلے چھوڑے ہیں اور ملائکہ صف درصف کھڑے ہیں کہ وہ آپ کی روح کو سلام پیش کریں ! تو آپ نے فرمایا: میرے رب کے لیے حمد ہے ! اے جبرائیل ! اگلی بشارت دیجئے ! مجھے بشارت دیجئے ! تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا: میں آپ کو بشارت دیتاہوں کہ جنتوں کے دوارزے کھلے ہیں ، اس کی نہریں بہہ رہی ہیں ، اس کے درختوں کے سائے قریب ہیں ، اس کی حوریں زینت اختیار کیے ہوئے ہیں تاکہ آپ کی روح کو خوش آمدیدکہیں، اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! آپ نے فرمایا: میرے رب کے لیے حمد ہے ! مجھے اور خوشخبری سنائے ! اے جبرائیل !۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا: آپ سب سے پہلے سفارش کرنے واہیں اور سب سے پہلے آپ کی سفارش قیامت کے دن قبول کی جائے گی ۔ آپ نے فرمایا: میرے رب کے لیے حمد ہے ! حضرت جبر ائیل علیہ السلام نےعرض کی : اے میرے محبوب ! آپ مجھ سے کس چیز کا سوال کر تے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں کہتاہوں کہ جو مجھے غم ہے وہ تجھے لگ جائے ! میرے بعد قرآن کے قاریوں کے لیے کون ہوگا؟ میرے بعد رمضان شریف کا روزہ رکھنے والوں کے لیے کون ہوگا؟ میرے بعد بیت اللہ شریف کا حج کرنے والوں کے لیے کون ہوگا؟ میرے بعد میرے صوفی اُمتیوں کے لیے کون ہوگا؟ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے عرض کی : اے اللہ کے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! میں آپ کو بشارت دیتاہوں کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : تمام انبیاء پر جنت کا داخلہ ممنوع ہوگا یہاں تک کہ آپ اور آپ کی اُمت جنت میں داخل ہو جائے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب میں خوش ہوگیا ہوں ، اب اے ملک الموت ! وہ کام کرو جس کا تجھے حکم دیا گیا ہے ۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول ! جب آپ کا وصال ہو جائے تو آپ کو غسل کون دے ؟ آپ کو کس چیز میں کفن دیا جائے ؟ آپ پر نماز جنازہ کون پڑھائے ؟ آپ کو قبر میں کون اُتارے ؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے علی ! آپ مجھے غسل دینا ،حضرت فضل بن عباس پانی ڈالے اور تمہارے ساتھ تیسرے حضرت جبرائیل ہوں گے اور جب تم مجھے غسل دے کر فارغ ہو جاؤ تو مجھے تین کپڑوں میں کفن دینا، حضرت جبرائیل علیہ السلام جنت سے حنوط لائیں گے ، جب تم مجھے چارپائی پر رکھو تو مجھے مسجد میں رکھ دینا اور میرے پاس سے نکل جانا، کیونکہ سب سے پہلے مجھ پر میرارب اپنے عرش کے اوپر سے درود بھیجے گا پھر جبرائیل ، پھر میکائیل، پھر اسرافیل، پھر گروہ در گروہ تمام ملائکہ پھر تم داخل ہونا اور صف درصف کھڑے ہوجانا، کوئی آدمی مجھ پر آگے نہ بڑھے ۔ تو حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے عرض کی : آج جدائی کا دن ہے ، میں آپ سے کب ملوں گی؟ آپ نے انہیں فرمایا: اے میری بیٹی ! تُو مجھ سے قیامت کے دن حوض کوثر پر ملے گی، جبکہ میں اپنی اُمت میں سے حوض پر آنے والے ہر ایک کو جام کوثر پلارہاہوں گا۔ آپ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول ! اگر وہاں آپ سے ملاقات نہ ہو سکی ( تو کہاں ملوں)؟ تو آُ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم مجھ سے میزان کے پاس ملنا جبکہ میں اپنے اُمتیوں کی سفارش کر رہاہوں گا۔ انہوں نے عرض کی: اگر وہاں آپ سے ملاقات نہ ہوسکی ؟ تو آپ نے فرمایا: تم مجھ سے پل صراط پر ملنا جبکہ میں اپنے رب سے دعا کر رہاہوں گا کہ اےمیرے رب ! میری اُ مت کو جنم سے سلامتی عطا فرما۔ ملک الموت قریب ہوئے جبکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روح قبض کر رہے تھے ، جب روح گھٹنوںتک پہنچی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "اوہ" یعنی ٹھنڈی سانس لی ، پس جب روح ناف تک پہنچی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نداء دی: "واکرباہ"(موت کی سختی!) توحضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے عرض کی : موت کی کرواہٹ کتنی سخت ہے ۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنا چہرہ دوسری طرف کر لیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے جبرائیل ! کیامیری طرف دیکھان پسند نہیں کر رہے ہو؟ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا: اے میرے محبوب ! کس کو طاقت ہے کہ اس وقت آپ کی طرف دیکھے جبکہ آپ پر سکرات کا عالم طاری ہے ؟ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتقال ہو گیا تو حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کو غسل دیا اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے آپ پر پانی ڈالا جبکہ جبر ائیل علیہ السلام ان کے ساتھ تھے ، تین نئے کپڑوں کا آپ کو کفن دیا گیا ، آپ کا چار پائی پر رکھا گیا ، پھر آپ کو مسجد میں لے جا کر رکھ دیا گیا ، لوگ آپ کے پاس سے نکل گئے ، سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رب نے اپنے عرش کے اوپر سے آپ پر درود پڑھا ، پھر جبرائیل ، پھر میکائیل، پھر اسرافیل ، پھر گروہ در گر وہ تمام ملائکہ نے درود پڑھا۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : مسجد میں ہم نے ہلکی ہلکی آواز تو سنی لیکن کوئی آدمی نہیں دیکھا، ہمنے ھاتف غیبی کے نعرے سنے اور وہ کہہ رہے تھے : داخل ہو جاؤ! اللہ تم پر رحکم کرے اور اپنے نبی پر درود پڑھو۔ پس ہم داخل ہوئے ، صفوں کی صورت میں کھڑے ہوگئے جس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا تھا ، پس ہم نے جبرائیل کی تکبیر کے ساتھ تکبیر کہی اور جبرائیل علیہ السلام کی صلٰوۃ کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر صلٰوۃ پڑھی، ہم میں سے کوئی آدمی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر آگے نہیں بڑھا ، حضرت ابو بکر ، حضرت علی ابن ابی طالب اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہم قبر میں داخل ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دن کر دیا گیا ۔ ہاں جب لوگ واپس ہوئے تو حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا: اے ابو الحسن ! کیا تم نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دفن کر دیا ؟ انہون نے کہا: ہاں! حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کہا: تمہارے دلوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر مٹی ڈالنا کیسے گوارا کیا؟ کیا تمہارے دلوں میں ان کے لیے رحکم موجود نہ تھا ؟ کیا وہ بھلائی سکھانے والےنہ تھے؟ انہوں نے کہا: اے فاطمہ ! کیوں نہیں ( ساری چیزیں تھیں) لیکن اللہ کا حکم ٹالا تو نہیں جاسکتا ، آپ نے رونا شروع کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صفات گنوائیں ،آپ کی زبان پر یہ الفاظ تھے: اے میرے باپ ! اب جبرائیل کا آنا بند ہو گیا حالانکہ وہ آسمان سے وحی ل کر آیا کرتے تھے۔

وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← أَبِيهِ ← عبد المنعم بن إدريس بن سنان ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْبَرَاءِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 2677

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ بقية أخبار الحسن بن علي رضي الله عنهما · حديث 2693

2692 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا عثمان بن أبي شيبة ثنا أبو أسامة عن سفيان بن عيينة Y عن رقبة بن مصقلة قال : لما حضر الحسن بن علي رضي الله عنه قال : أخرجوني إلى الصحراء لعلي انظر في ملكوت السماوات يعني الآيات فلما أخرج به قال : اللهم إني أحتسب نفسي عندك فإنها أعز الأنفس علي وكان مما صنع الله له أنه احتسب نفسه

حضرت رقبہ بن مصقلہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو آپ نے فرمایا: مجھے میدان میں نکالو تاکہ میں آسمان کی باد شاہی کو دیکھو، یعنی نشانیاں دیکھو ں ۔ جب آپ کو نکا لا گیا تو آپ نے یہ دعا کی : اے اللہ ! میں اپنے کو تیرے پاس خیال کرتاہوں ، تجھ سے ثواب حاصل کرتا ہوں ، کیونکہ یہ جان مجھ پر تمام جانوں سے زیادہ عزیز ہے ۔ راوی کا بیان لگتا ہے : اور اللہ نے جو سلوک ان سے فرمایاوہ یہ کہ انہیں خوب خوب ثواب عطافرمایا۔

لما حضر الحسن بن علي ← رَقَبَةَ بْنِ مَصْقَلَةَ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← أَبُو أُسَامَةَ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 2693

chevron_left Previous
1…333435…305
Next chevron_right