Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

القرآن الكريم

Quran

6097 hadiths

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الوقوف عند ذكر الجنة و النار و المسئلة و الاستعاذة · حديث 2094

2094 - أخبرنا أبو عبد الله و أبو بكر أحمد بن الحسين القاضي قالا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا الربيع بن سليمان ثنا عبد الله بن وهب ثنا سليمان بن بلال عن يحيى بن سعيد عن يحيى بن عباد عن ابن مسعود قال : إني لأرجوا أن يقرأ أحدهم الآيات ثم يستغفر الله يجد الله غفورا رحيما إلا غفر الله له { ولو أنهم إذ ظلموا أنفسهم جاؤوك فاستغفروا الله } { ومن يعمل سوءا أو يظلم نفسه ثم يستغفر الله } { والذين إذا فعلوا فاحشة أو ظلموا أنفسهم ذكروا الله فاستغفروا لذنوبهم }

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ نے اور ابوبکر احمد بن حسین قاضی نے دونوں کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو ربیع بن سلیمان نے ان کو عبداللہ بن وہب نے ان کو سلیمان بن بلال نے ان کو یحییٰ بن سعید نے ان کو یحییٰ بن عباد نے ان کو حضرت ابن مسعود نے فرماتے ہیں کہ بے شک میں البتہ امید کرتا ہوں ۔ کوئی آدمی جب یہ آیات پڑھتا ہے ۔ " ثم یستغفراللہ ئجد اللہ غفوراً رحیماً"۔ پھر اللہ سے مغفرت طلب کرے تو اللہ کو بہت زیادہ مغفرت کرنے والا بہت زیادہ رحم کرنے والا پائے گا ۔ تو اللہ اس کی مغفرت فرماتے گا۔ اسی طرح یہ آیت ہے:۔" ولو انھم اذظلمو ا انفسھم جاؤک فاستغفر و اللہ "۔ اگر وہ لوگ جب انہوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا تھا تیرے پاس آ جاتے اللہ سے استغفار کرتے ۔ اور اسی طرح یہ آیت: " ومن یعمل سوء او بظلم نفسہ ثم یستغفر اللہ "۔ جو شخص برا کام کرتا ہے یا اپنے اوپر ظلم کرے پھر اللہ سے استغفار کرے ۔ اور اسی طرح یہ آیت:۔" ولذین اذا فعلوا فاحشہ اوظلموا انفسھم ذکرواللہ فاستغفرو ا لذنوبھم "۔ وہ لوگ کہ جب کوئی برائی کا کام کرتے ہیں یا اپنے نفسوں پر ظلم کرتے ہیں اللہ کو یاد کرتے ہیں بس اللہ سے استغفار کرتے ہیں یا اپنے نفسوں پر ظلم کرتے ہیں اللہ کو یاد کرتے ہیں بس اللہ سےاستغفار کر کے اپنے گناہوں کے بارے میں ۔

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← يَحْيَى بْنُ عَبَّاد؛ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله و أبو بكر أحمد بن الحسين القاضي

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on standing when mentioning Heaven and Hell and the question and seeking refuge · Hadith 2094

شعب الإيمان · الثامن و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في قبض اليد على الأموال المحرمة و يدخل فيه تحريم السرقة و قطع الطريق · حديث 5503

5504 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا عبيد بن شريك ثنا عبد الوهاب ثنا ابن عيينة عن عمار الدهني عن سالم بن أبي الجعد عن مسروق بن الجدع قال : سألت عبد الله عن السحت أهو في الحكم قال : { و من لم يحكم بما أنزل الله فأولئك هم الكافرون } فقرأ الآيات كلها و لكن السحت أن يستعين الرجل برجل على مظلمة إمام فيهدي له قال : فاستعان رجل مسروقا على مظلمة ظلمها بعض عمال لابن زياد أو زياد فأعانه حتى استخرجها له فأهدى له جارية فردها و قال : لا طلب لك حاجة أبدا أخبرني ابن مسعود أن ذلك السحت

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو عبید بن شریک نے ان کو عبدالوہاب نے ان کو ابن عیینہ نے ان کو عمار دھنی نے ان کو سالم بن ابو الجعد نے ان کو مسروق بن اجدع نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا عبداللہ سے سحت کے بارے میں کیا وہ حکم اور فیصلہ کے بارے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ: ومن لم يحكم بما انزل اللّٰه فاولئك هم الكافرون۔ جو شخص اللہ کی کتاب کے ساتھ فیصلہ نہ کرے وہی لوگ کافر ہیں۔ انہوں نے یہ ساری آیات پڑھ دیں لیکن سحت وہ کوئی آدمی کسی آدمی کے ذریعے صاحب اقتدار کے ظلم و زیادتی کے خلاف مدد طلب کرے اور اس کو کوئی ھدیہ دے۔ فرمایا کہ ایک آدمی نے حضرت مسروق سے مدد طلب کی اس زیادتی کے خلاف جو ابن زیاد کے بعض گورنروں نے اس کے ساتھ زیادتی کی تھی۔ یا خود زیاد نے کی تھی مسروق نے اس کی مدد کر دی جس کی وجہ سے اس نے اسے چھوڑ دیا تھا۔لہذا اس آدمی نے ایک لونڈی مسروق کے لئے ھدیہ کی تو انہوں نے وہ واپس کر دی۔اور فرمایا کہ میں آئندہ تیری کوئی حاجت اس سے طلب نہیں کروں گا۔ مجھے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے خبر دی تھی یہ حرام ہے۔ (سحت۔ رشوت۔ حرام کمائی۔ مال حرام کو کہتے ہیں۔ مترجم۔)

السحت أهو في الحكم ← سَأَلْتُ عَبْدَ اللهِ ← مسروق بن الجدع ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← عَمَّارِ الدُّهْنِيِّ، ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ، ← عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Thirty-eighth people of faith › And it is a chapter on seizing the forbidden money and includes the prohibition of stealing and blocking the road · Hadith 5503

شعب الإيمان · الثامن و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في قبض اليد على الأموال المحرمة و يدخل فيه تحريم السرقة و قطع الطريق · حديث 5509

5510 - أخبرنا أبو عمرو الأديب أنا أبو بكر الإسماعيلي أخبرني الحسن بن سفيان ثنا محمد بن أبو بكر المقدمي ثنا يحيى يعني ابن سعيد عن عوف ثنا أبو رجاء ثنا سمرة بن جندب : عن النبي صلى الله عليه و سلم في رؤياه قال : فأتينا على نهر أحسب أنه قال : أحمر مثل الدم فإذا في النهر رجل يسبح و إذا على الشط رجل قد جمع حجارة كثيرة و إذا ذلك السابح يسبح ثم يأتي ذلك الذي جمع الحجارة فيغفر له فاه فلقيه حجرا قال : فلينطق به فيسبح ما يسبح ثم يرجع إليه كلما رجع إليه فغرفاه فألقمه حجرا قلت : ما هذا قالا : انطلق فذكر الحديث ثم قال في التفسير : و أما الرجل الذي يسبح في النهر و يلقم الحجر فإنه آكل الربا أخرجه البخاري في الصحيح من حديث عوف

ہمیں خبر دی ابو عمرو ادیب نے ان کو ابو بکر اسماعیل نے ان کو خبر دی حسن بن سفیان نے ان کو محمد بن ابو بکر مقدمی نے ان کو یحییٰ نے ان کو ابن سعید نے ان کو عوف نے ان کو ابورجاء نے ان کو سمرہ بن جندب نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے خواب کے بارے میں آپ نے فرمایا۔ پھر ہم لوگ ایک نہر پر آئے میرا خیال ہے کہ انہوں نے کہا کہ وہ سرخ تھی خون کی مثل اچانک دیکھا تو اس میں ایک آدمی تیر رہا ہے اور نہر کے کنارے پر ایک آدمی کھڑا ہے جس نے بہت سارے پتھر جمع کر رکھے ہیں تیرنے والا تیرتا ہوا جب اس کے قریب آتا ہے جس نے پتھر جمع کر رکھے ہیں۔ تو اس کے سامنے منہ کھول لیتا ہے اور وہ پتھر اٹھا کر اس کے منہ میں مار دیتا ہے وہ پتھر لے کر تیرتا ہوا چلا جاتا ہے۔اور جتنا تیرنا چاہتا ہے تیر کر واپس اس کی طرف آتا ہے جب اس کے پاس آتا ہے تو منہ کھول لیتا ہے وہ پتھر اس کے منہ میں مارتا ہے میں نے پوچھا کہ یہ کون ہے؟ دونوں نے کہا کہ آپ چلئے۔ پھر آپ نے پوری حدیث ذکر کی اس کے بعد اس کی تشریح میں فرمایا کہ بہر حال جو شخص نہر میں تیرتا ہے اور پتھر کو لقمہ دیا گیا ہے وہ سود خور ہے۔ بخاری نے اس کو حدیث عوف سے نقل کیا ہے۔

فأتينا على نهر أحسب ← سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← أَبُو رَجَاءٍ، ← عَوْفٌ، ← يَحْيَى -يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ- ← محمد بن أبو بكر المقدمي ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ ← أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ

Shuab ul Iman · Thirty-eighth people of faith › And it is a chapter on seizing the forbidden money and includes the prohibition of stealing and blocking the road · Hadith 5509

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في مقدار ما يستحب فيه القراءة · حديث 2180

2180 - و روينا عن عائشة : أن النبي صلى الله عليه و سلم كان يقرن بين السور أو قال بين السورتين في ركعة من المفصل

اور ہم نے روایت کی ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کئی سورتوں کو جمع کر لیتے تھے یا یوں کہا کہ مفصل سورتوں میں سے ہر رکعت میں دو سورتوں کو جمع کر لیتے تھے ۔

عَائِشَةَ ← و روينا

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on how much it is desirable to read · Hadith 2180

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في تعليم القرآن · حديث 2205

2205 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف الأصبهاني أنا أبو سعيد أحمد بن محمد بن زياد البصري بمكة ثنا عبد الرحمن بن محمد الحارثي ثنا يحيى بن سعيد القطان ثنا شعبة و سفيان قالا ثنا علقمة بن مرثد عن سعد بن عبيدة عن أبي عبد الرحمن السلمي عن عثمان بن عفان : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : أحدهما خيركم و قال الآخر أفضلكم من تعلم القرآن و علمه

ہمیں خبر دی ہے ابو محمد بن یوسف اصبہانی نے ان کو ابو سعید احمد بن محمد بن زیاد بصری نے مکہ میں ان کو عبدالرحمٰن بن محمد حارثی نے ان کو یحییٰ بن سعید قطان نے ان کو شعبہ نے اور سفیان نے دونوں نے کہا ان کو حدیث بیان کی علقمہ بن مرثد نے ان کو سعد بن عبیدہ نے ان کو ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ا ن کو عثمان بن عفان نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم آپ نے فرمایا نے کہ دونوں میں سے ایک تمہارا بہتر ہے دوسرے نے کہا افضل تمہارا وہ ہے جو قرآن مجید خود سیکھے اور اسی کو سکھائے۔

الآخر أفضلكم من تعلم القرآن و علمه ← أحدهما خيركم و ← النبي صلى الله عليه و سلم ← عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ← سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ← عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ← شعبة و سفيان ← يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَارِثِيُّ، ← أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter in teaching the Qur’an · Hadith 2205

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في تعليم القرآن · حديث 2207

2207 - أخبرنا أبو سهل محمد بن نصرويه المروزي ثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن خنب ثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي أبو إسحاق ثنا سليمان بن حرب و عمرو بن مرزوق و مسلم بن إبراهيم و حفص بن عمر الحوضي قالوا : ثنا شعبة عن علقمة بن مرثد عن سعد بن عبيدة عن أبي عبد الرحمن عن عثمان بن عفان قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : خيركم من تعلم القرآن و علمه قال أبو عبد الرحمن : فذلك الذي أقعدني مقعدي هذا قال : و علم القرآن من زمن عثمان إلى زمن الحجاج

ہمیں خبر دی ہے ابو سہل محمد بن نصرو یہ مروزی نے ان کو ابو بکر محمد بن احمد بن خنب نے ان کو اسماعیل بن اسحٰق قاضی نے ان کو سلیمان بن حرب نے اور عمرو بن مرزوق نے اور مسلم بن ابراہیم نے اور حفص بن عمر حوضی نے ان لوگوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے شعبہ نے ان کو علقمہ بن مرثد نے ان کو سعد بن عبیدہ نے ان کو ابو عبدالرحمٰن نے ان کو عثمان بن عفان نے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا۔ "خیر کم من تعلم القرآن و علمہ" تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو قرآن مجید سیکھے اور سکھائے۔ یہی چیز ہے جس نے مجھ کو ابو عبدالرحمٰن نے کہا کہ مجھے اس سند پر بٹھایا ہے ۔ ابو عبدالرحمٰن نے حضرت عثمان کے زمانے میں حجاج بن یوسف کے زمانے تک قرآن کی تعلیم دی۔

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter in teaching the Qur’an · Hadith 2207

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في تعليم القرآن · حديث 2209

2209 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو سهل بن زياد ثنا يحيى بن أبي طالب ثنا إسحاق بن سليمان الرازي ثنا الجراح بن الضحاك الكندي عن علقمة عن أبي عبد الرحمن عن عثمان قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : خيركم من تعلم القرآن و علمه قال أبو عبد الرحمن فذاك الذي أقعدني هذا المقعد قال أبو عبد الرحمن : فضل القرآن على سائر الكلام كفضل الرب على خلقه و ذاك إنه منه قال الحليمي رحمه الله : و إنما استنقص الناس المعلمين لقصرهم زمانهم على معاشرة الصبيان ثم النساء حتى أثر ذلك في عقولهم ثم لابتغائهم عليه الأجعال و طمعهم في أطعمة الصبيان فأما نفس التعليم فإنه يوجب التفضيل و التشريف و بسط الكلام في ذلك

ہمیں خبر دی عبداللہ حافظ نے ان کو ابوسہل بن زیاد نے ان کو یحییٰ بن ابو طالب نے ان کو اسحٰق بن سلیمان رازی نے ان کو جراح بن ضحاک کندی نے ان کو علقمہ نے ان کو ابو عبدالرحمٰن نے ان کو عثمان نے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا تم میں سے بہترین شخص وہی ہے جو قرآن مجید سیکھے اور سکھائے ۔ ابو عبدالرحمٰن نے کہ ا کہ اسی چیز نے مجھے اس مرتبے پربٹھایا۔ ابو عبدالرحمٰن نے کہا ۔ قرآن کی فضیلت تما م کلاموں پر ایسے ہے جیسے رب تعالیٰ کو تمام مخلوق پر۔ یہ بات اس لئے ہے کہ یہ کلام الٰہی کی طر سے جو ہے ۔ شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا یقینی بات ہے کہ لوگوں نے(قرآن کے ) معلم اور استاذ لوگوں کی عزت کو کم کرتے ہیں بوجہ کوتاہی کرنے ان کے اپنے زمانے سے بوجہ میل جول رکھنے ان کے لڑکوں سے پھر عورتوں سے حتیٰ اس بات نے ان کی عقلوں پر اثر کیا ہے اس کے بعد بوجہ طلب کرنے ان کے تنخواۃ اور تحائف کے اور طمع کرنے ان کے بچوں سے کھانوں میں ۔ بہر حال رہا نفس تعلیم تو وہ شرف و فضیلت کو لازم کرتی ہے۔ شیخ نہ اس میں تفصیلی کلام کیا ہے ۔

عُثْمَانَ، ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← عَلْقَمَةَ ← الْجَرَّاحِ بْنِ الضَّحَّاكِ الْكِنْدِيِّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ، ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter in teaching the Qur’an · Hadith 2209

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك المماراة في القرآن · حديث 2271

2271 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان ثنا أحمد بن عبيد أنا إسماعيل بن إسحق القاضي ثنا إسماعيل بن أبي أويس ثنا سليمان بن بلال عن يونس عن ابن شهاب عن عبيد الله بن عبد الله عن ابن عباس : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : أقرأني جبريل عليه السلام على حرف فلم أزل أستزيده فيزيدني حتى انتهى إلى سبعة أحرف قال ابن شهاب : بلغني أن تلك السبعة الأحرف إنما هي في الأمر إذا كان واحدا لا يختلف فيه في حلال و لا حرام رواه البخاري عن إسماعيل بن أبي أويس قال البيهقي رحمه الله و الصحيح أن يكون المراد بالحروف السبعة اللغات السبع التي هي شائعة في القرآن و إليه ذهب أبو عبيدة و عليه ما دل ما روينا عن ابن مسعود إنما هو كقول أحدهم أقبل و هلم و تعال و أنه إنما يجوز قراءته على الحروف التي هي مثبتة في المصحف الذي هو الإمام بإجماع الصحابة و حملوا عن الصحابة دون غيرها من الحروف و إن كانت جائزة في اللغة نحو هذا ما لم تختم آية عذاب بآية رحمة أو رحمة بعذاب فهذا حديث إسناده لا بأس به غير أن الشيخين لم يخرجاه في الصحيح و يحتمل أن يكون هذا التفسير و لما هو في حديث عثمان و لابن عباس و غيرهما فمن روى هذا الحديث عن النبي صلى الله عليه و سلم فإن صح ذلك فيحتمل أن يكون المراد به : أن ذلك في حمله ما نزل من القرآن غير أنه قرأه في غير الموضع الذي نزل فيه فلا يأثم به ما لم يختم آية رحمة بعذاب أو آية عذاب برحمة و في كل ذلك ورد ما

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کواحمد بن عبید نے انکو اسماعیل بن اسحٰق قاضی نے ان کو اسماعیل بن ابو اویس نے ان کو سلیمان بن بلال نے ان کو یونس نے ان کو ابن شہاب نے ان کو عبداللہ بن عبداللہ نے ان کو ابن عباس نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا۔ مجھے جبرائیل علیہ السلام نے ایک حرف پر پڑھایا تو میں ہمیشہ اس سے زیادہ (حرف) کی طلب کرتا رہا پھر اس نے مجھے زیادہ کر دیا یہاں تک کہ وہ ساتھ تک پہنچ گیا ۔ ابن شہاب نے کہا کہ مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ یہ سات حروف یقینی بات ہے کہ ایسے معاملے میں ہے جب وہ ایک ہی ہو اس میں حلال اور حرام میں اختلاف نہ ہو اور اس کو نجار نے روایت کیا ہے اسماعیل بن ابی اویس سے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ اُوَیْسٍ ← إسماعيل بن إسحق القاضي ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on leaving the practice in the Qur’an · Hadith 2271

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك خلط سورة بسورة ـ قال الحليمي رضي الله عنه · حديث 2310

2310 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرنا إبراهيم بن زياد ثنا محمد بن إسحاق ثنا عبد الرحمن بن بشر ثنا عبد الرزاق أنا ابن نجيح عن عطاء قال : أخبرني يوسف بن ماهك قال إني عند عائشة أم المؤمنين رضي الله عنها إذ جاءها أعرابي فقال يا أم المؤمنين أريني مصحفك قالت لمه قال لعلي أؤلف القرآن عليه و أنا نقرأه غير مؤلف قالت : و ما يضرك أية قرأت قبل إنما أنزل أول ما أنزل منه سورة من المفصل فيها ذكر الجنة و النار حتى إذا ثاب الناس إلى الإسلام ترك الحلال و الحرام و لو نزل أول شيء لا تشربوا الخمر لقالوا لا ندعها أبدا و لو نزل لا تزنوا لقالوا لا ندع الزنا لقد نزل بمكة ـ و إني لجارية ألعب ـ على محمد صلى الله عليه و سلم : { و الساعة أدهى و أمر } و ما نزلت سورة البقرة و النساء إلا و أنا عنده قال : فاطرحت له المصحف فأملت عليه آي السور أخرجه البخاري من حديث ابن جريج قال البيهقي رحمه الله : و أحسن ما يحتج به في هذا الفصل أن يقال هذا التأليف لكتاب الله عز و جل مأخوذ من جمعه النبي صلى الله عليه و سلم و لعله أخذه من جبريل عليه السلام فالأولى بالقارئ أن يقرأه على التأليف المنقول المجتمع عليه

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ہے ابراہیم بن زیاد نے ان کو محمد بن اسحٰق نے ان کو عبداللہ بشر نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو اہل نجیح نے ان کو عطاء نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی ہے کہ یوسف بن ماھک نے اس نے کہا کہ میں ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بیٹھا کہ اچانک ایک دیہاتی آیا ان کے پاس اور کہنے لگا کہ اے ام المومنین مجھے اپنا مصحف ( قرآن مجید ) دکھا دیجئے۔ ام المومنین نے پوچھا کہ کس لئے ؟ تاکہ میں اس کے مطابق قرآن مجید کی تالیف و ترتیب دوں اور ہم اسے غیر مرتب طریقہ پر پڑھتے رہیں ۔ ام المومنین نے جواب دیا تجھے کوئی نقصان نہیں دے گی کوئی آیت جس کو آپ نے پہلے پڑھا ہے ۔ بے شک قرآن اتارا گیا پہلے پہلے جو اس میں اترا وہ ایک سورۃ تھی مفصل میں سے سے اس میں جنت و جہنم کا ذکر ہے یہاں تک کہ جس وقت لوگ اسلام کی طرف مائل ہو گئے تو حلال و حرام بتلایا گیا ۔ اگر پہلی چیز یہ اترتی کہ شراب نہ پیو تو البتہ لوگ کہتے ہم اسے کبھی بھی نہیں چھوڑیں گے اور اگر یہ اتارا جاتا کہ زنانہ کرو تو لوگ یہ کہتے کہ ہم تو اسے نہیں چھوڑیں گے قرآن البتہ اترنا شروع ہوا تھا محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر مکہ میں جب کہ میں لڑکی تھی کھیلتی تھی ( والساعۃ ادھی وامر) قیامت سب سے زیادہ وحشت ناک ہے اور سخت کڑوی ہے اور پھر سورۃ بقرہ اور نساء اس وقت اتریں جب میں ( شادی ہو کر ) حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس تھی ۔ ابن ماہک نے کہا کہ پھر سیدہ عائشہ نے اپنا قرآن ان کو دیا اور اس کے مطابق سورتوں کی آیات املا کروائیں ۔ بخاری نے اس کو نقل کیا ابن جریج کی حدیث سے۔

إِنِّي عِنْدَ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ← يُوسُفَ بْنِ مَاهَكٍ، ← عَطَاءٍ، ← ابْنِ نَجِيحٍ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ زِيَادٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on not mixing a surah with a surah - Al-Halimi, may God be pleased with him, said · Hadith 2310

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك خلط سورة بسورة ـ قال الحليمي رضي الله عنه · حديث 2311

2311 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب ثنا إبراهيم بن عبد الله السعدي ثنا وهب بن جرير ثنا أبي قال سمعت يحيى بن أيوب يحدث عن يزيد بن أبي حبيب عن عبد الرحمن بن شماسه عن زيد بن ثابت قال : كنا عند رسول الله صلى الله عليه و سلم نؤلف القرآن من الرقاع فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : طوبى للشام قلنا لأي شيء ذلك قال لأن ملائكة الرحمن باسطة أجنحتها عليهم و قد مضى في هذا الكتاب حديث عثمان بن عفان في وضعهم الآيات و السور في مواضعها بأمر النبي صلى الله عليه و سلم

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ محمد بن یعقوب نے ان کو ابراہیم بن عبداللہ سعدی نے ان کو وہب بن جریر نے ان کو ان کے والد نے انہوں نے سنا یحییٰ بن ایوب سے وہ حدیث بیان کرتے ہیں یزید بن ابو حبیب سے انہوں نے عبدالرحمٰن بن شماسہ نے زید بن ثابت سے کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس قرآن مجید کو ترتیب دے رہے تھے کاغذ کے ٹکڑوں وغیرہ سے بس رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا مبارک باد ہے شام والوں کے لئے ہم نے کہا کس چیز کے لئے ؟ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا اس لئے کہ رحمٰن کے فرشتے ان کو اپنے پروں کو پھیلائے ہوئے ہیں۔ تحقیق گزر چکی ہے اس کتاب میں حضرت عثمان بن عفان کی حدیث ان لوگوں کے آیات کو اور سورتوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے حکم کے تحت اپنے اپنے مقام پر وضع کرنے اور رکھنے کے بارے میں۔ (ان دونوں روایتوں سے حضرت سیدنا معاویہ بن ابو سفیان رضی اللہ عنہ کی فضیلت و منقبت ثابت ہوتی ہے کیونکہ حضرت معاویہ کاتب وحی تھے حضرت عثمان والی مذکورہ روایت سے یہ بھی اشارہ ملتا ہے کہ کتاب وحی کے ساتھ ساتھ آیات اور سورتوں کی ترتیب بھی ان کے ذمے تھی (مترجم)

زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ← عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ شِمَاسَۃَ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السَّعْدِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on not mixing a surah with a surah - Al-Halimi, may God be pleased with him, said · Hadith 2311

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضائل الصوم · حديث 3583

3583 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي ثنا أبو الحسن الكارزي ثنا علي بن عبد العزيز قال : قال أبو عبيد : قد علمنا أن أعمال البر كلها لله تعالى و هو يجزي فنرى و الله أعلم أنه إنما أخص الصوم بأن يكون هو الذي يتولى جزاءه لأن الصوم ليس يظهر من ابن آدم بلسان و لا فعل فيكتبه الحفظة إنما هو نية القلب و إمساك عن حركة المطعم و المشرب يقول : فأنا أتولى جزاءه على ما أحب من التضعيف و ليس على كتاب كتب له و مما يبين ذلك قوله صلى الله عليه و سلم : ليس في الصوم رياء قال أبو عبيد حدثنيه عن ليث عن عقيل عن ابن شهاب رفعه قال و ذلك لأن الأعمال كلها لا تكون إلا بالحركات إلا الصوم خاصته فإنما هي بالنية التي قد خفيت على الناس فإذا نواها فكيف يكون ها هنا رياء ؟ هذا عندي وجه الحديث و الله أعمل قال أبو عبيد : بلغني عن سفيان بن عيينة أنه فسر قوله في الصوم قال : لأن الصوم هو الصبر يصبر الإنسان عن المطعم و المشرب و النكاح ثم قرأ : { إنما يوفى الصابرون أجرهم بغير حساب } يقول : فثواب الصوم ليس له حساب يعلم من كثرته قال أبو عبيد : و مما يقوي قول سفيان الذي يروى في التفسير في قوله السائحون الصائمون فالصائم بمنزلة السائح 3583 - مكرر ـ أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي ثنا أبو الحسن أحمد بن محمد بن عبدوس الطرائفي ثنا عثمان بن سعيد الدارمي ثنا سعيد بن أبي مريم و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو عثمان سعيد بن محمد بن عبدان النيسابوري بها ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا محمد بن إسحاق الصنعاني ثنا ابن أبي مريم ثنا أبو غسان حدثني أبو حازم عن سهل بن سعد : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : في الجنة ثمانية أبواب فيها باب يسمى الريان لا يدخلها إلا الصائمون و في رواية الدارمي : للجنة و قال : لا يدخله إلا الصائمون رواه البخاري في الصحيح عن سعيد بن أبي مريم

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو ابو الحسن کا رزی نے ان کو علی بن عبدالعزیز نے وہ کہتے ہیں کہ ابو عبید نے کہا تحقیق ہم جانتے ہیں کہ نیکی کے سارے اعمال اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں اور وہی جزا دے گا پس ہم دیکھتے ہیں کہ اس نے روزے رکھے کو زیادہ خاص یا ہے بایں طور کہ وہی متولی و سرپرست بنے اس کی جزا کا اس لیے کہ روزہ نہیں ظاہر ہوتا ابن آدم سے زبان کے ساتھ نہ فعل کے ساتھ لہذا اس کو فرشتے لکھ لیا کریں سوائے اس کے نہیں کہ وہ دل کی نیت ہے۔ اور رک جانا ہے کھانے پینے کے حرکت سے۔ لہٰذا وہ فرماتے ہیں کہ میں ہی متولی ہون اس کی جزا کا اس بنا پر کہ جو میں پسند کروں گا ڈبل کروں گا وہ کسی کتا ب پر تحریر نہیں ہو گا وہ دلیل جو اس بات کو بیان کرتی ہے وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قول ہے: "لیس فی الصوم ریاء" روزے میں دکھاوا نہیں ہے۔ ابو عبداللہ نے کہا ہے کہ مجھے اس کے بارے میں حدیث بیان کی ہے لیث سے اس نے عقیل سے اس نے ابن شہاب سے اس نے اسے مرفوع کیا ہے اور کہا کہ یہ اس لیے ہے کہ سارے کے سارے اعمال حرکات کے ساتھ ہوتے ہیں یعنی جسمانی طور پر ظاہر ہو جاتے ہیں سوائے روزے کے خاص طور پر کہ وہ صرف نیت کے ساتھ ہوتا ہے اور وہ لوگوں سے مخفی رہ جاتی ہے جب روزے کی نیت کر لیتا ہے تو وہاں دکھاوا کہاں سے ہو سکتا ہے؟ حدیث کی یہی توجیہ ہے میرے نزدیک ۔ ابو عبید نے کہا کہ مجھے خبر دی ہے سفیان بن عیینہ سے کہ اس نے فی الصوم کی تفسیر یوں بیان کی ہے۔ اس لیے کہ صوم صبر ہے انسان صبر کرتا ہے کھانے سے پینے سے اور صحبت سے۔ اس کے لیے انہوں نے یہ آیت پڑھی: "انما یوفی الصابرون اجرھم بغیر حساب" یعنی یہ بات ہے کہ صبر کرنے والے اپنا اجر بغیر حساب کے دئیے جائیں گے۔ وہ کہتے ہیں کہ روزے کا ثواب ایسا ہے کہ اس کے لیے کوئی حساب نہیں ہے جو اپنی کثرت سے معلوم ہو سکے۔ ابو عبید نے کہا ہے کہ وہ دلیل جو سفیان کے قول کی تائید کرتی ہے جو مروی ہے اس قول کی تفسیر میں کہ سائحون سے مراد روزے دار ہیں۔صائم بمنزلہ سائح کے ہوتا ہے۔ مکرر ہے ۔ ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو ا بو الحسن احمد بن محمد بن عبدوس طرائفی نے ان کو عثمان سعید بن محمد بن عبدانی نیساپوری نے نیسا پور میں ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن اسحاق صنعانی نے ان کو ابن ابو مریم نے ان کو ابو غسان نے ان کو ابو حازم نے ان کو سہل بن سعد نے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کہ جنت کے آٹھ دروازے ہیں ان سبھی سے ایک دروازے کا نام ریان ہے اس سے صرف روزہ دار ہی داخل ہوں گے۔ اور دارمی کی روایت میں ہے للجنۃ۔ اور یوں کہا ہے کہ: "لا یدخلۃ الاالصائمون" بخاری نے ان کو روایت کیا ہے سعید بن ابی مریم سے۔

أبو عبيد قد علمنا ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The virtues of fasting · Hadith 3583

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص شهر رجب بالذكر · حديث 3802

3802 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو محمد بن أبي حامد المقريء قالا : نا أبو العباس الأصم نا إبراهيم بن سليمان البرلسي نا عبد الله بن يوسف نا عامر بن شبل قال : سمعت أبا قلابة يقول : في الجنة قصر لصوام رجب قال أحمد : و إن كان موقوفا على أبي قلابة و هو من التابعين فمثله لا يقول ذلك إلا عن بلاغ عمن فوقه ممن يأتيه الوحي و بالله التوفيق

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو محمد بن ابو حامد مقری نے ان دونوں کو ابوالعباس اصم نے ان کو ابراہیم بن سلیمان براسی نے ان کو عبداللہ بن یوسف نے ان کو عامر بن شبل نے انہوں نے سنا ابو قلابہ سے وہ کہتے ہیں کہ جنت میں ایک محل ہے جو رجب کے روزے رکھنے والوں کے لئے ہے امام احمد نے فرمایا اگرچہ وہ موقوف ہے ابو قلابہ وہ تابعین میں ہے اس جیسا آدمی یہ بات نہیں کہتا مگر اطلاع کے بعد جو آئی ہو اس سے جو اس ے سے اوپر ہے اس سے جس کے پاس وحی آئی ہے۔

أحمد و ← في الجنة قصر لصوام رجب ← أَبَا قِلَابَةَ ← عامر بن شبل ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ← إبراهيمُ بنُ سليمانَ البُرلُّسيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو محمد بن أبي حامد المقرىء

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Dedicating the month of Rajab to mention · Hadith 3802

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10289

10289 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو الحسن المصري نا عبيد الله بن محمد العمري نا إسماعيل بن أبي أويس و أخبرنا أبو الحسن علي بن أحمد بن عبدان قال : أنا أحمد بن عبيد الصفار و أخبرنا أبو عبد الله إسحاق بن محمد بن يوسف أنا أبو جعفر محمد بن محمد بن عبد الله البغدادي قالا نا إسماعيل بن إسحاق القاضي نا إسماعيل بن أبي أويس نا مالك بن أنس عن زيد بن أسلم عن عطاء بن يسار عن أبي سعيد الخدري أنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن أكثر ما أخاف عليكم ما يخرج الله لكم من بركات الأرض فقيل : ما بركات الأرض ؟ قال : زهرة الحياة الدنيا فقال له رجل هل يأتي الخير بالشر ؟ قال : فصمت رسول الله صلى الله عليه و سلم حتى ظننا أن ينزل عليه الوحي ثم جعل يمسح العرق عن جبينه و قال أين السائل هل يأتي الخير بالشر ؟ قال الرجل : أنا ذا قال أبو سعيد لقد حمدناه حين صنع ذلك ـ قال : فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم إن الخير لا يأتي إلا بالخير ثلاث مرات و لكن هذا المال خضرة حلوة إن كل ما ينبت الربيع يقتل حبطا أو يلم إلا أكلة الخضر تأكل حتى إذا امتدت خاصرتاها استقبلت الشمس فاجترت و تلطت و بالت ثم عادت فأكلت إن هذا المال خضرة حلوة من أخذه بحقه و وضعه في حقه فنعم المعونة هو و من أخذه بغير حقه كان كالذي يأكل و لا يشبع لفظهما سواء رواه البخاري في الصحيح عن إسماعيل بن أبي أويس و أخرجه مسلم من وجه آخر عن مالك

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو الحسن مصری نے ان کو عبیداللہ بن محمد عمری نے ان کو اسماعیل بن ابو اویس کے اور ہمیں خبر دی ہے ابو الحسن علی بن احمد بن عبدان نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو خبر دی احمد بن عبید صفار نے ۔۔۔۔۔اور ہمیں خبر دی ابو عبداللہ اسحٰق بن محمد بن یوسف نے ان کو ابو جعفر محمد بن محمد عبداللہ بغدادی نے دونوں نے کہا کہ ان کو اسماعیل بن اسحاق قاضی نے ان کو اسماعیل بن ابو ابویس نے ان کو مالک بن انس نے اس نے زید بن اسلم سے عطا بن یسار سے اس نے ابو سعید خدری سے کہ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے زیادہ تر تمہارے بارے میں جو خوف لگا رہتا ہے وہ ہے زمین کی پیداوار اور برکات کے بارے میں ( کہ کہیں وہ ختم نہ ہو جائے ) آپ سے پوچھا گیا زمین کی برکات کیا ہیں؟ آپ نے فرمایا کہ اس سے مراد دنیاوی زندگی کی تازگی مراد ہے۔ چنانچہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کیا خیر بھی شر کو لاتی ہے اور پیدا کرتی ہے؟ کہتے ہیں کہ حضورصلیٰ اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے یہاں تک کہ ہم نے گمان کیا کہ آپ کے اوپر وحی نازل ہو رہی ہے پھر آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم اتنے میں اپنی پیشانی سے پسینہ صاف کرنے لگے اور فرمایا کہ سائل کہاں ہے؟ جس نے پوچھا کہ کیا خیر بھی شر کو لے آتی ہے؟ تو ایک آدمی نے کہا میں ہوں یا رسول اللہ تو ابو سعید نے کہا البتہ ہم نے ان کی حمد کی ہے جب انہوں نے یہ کام کیا ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک خیر تو خیر ہی کو لے آتی ہے۔ تین بار یہ فرمایا۔ لیکن یہ مال سر سبز خوشنما ہے میٹھا ہے بے شک بعض سبزہ جو موسم بہارا گاتی ہے وہ مار دیتا ہے بلاک کر دیتا ہے جانور کویا بیمار کردیتا ہے یا اس کی اصلاح کر لے مگر چارہ سبز جس کو وہ کھاتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنی دونوں کو کھلانا دراز کر لیتا ہے تو پھر وہ سورج کی طرف منہ کر کے کھڑا ہو جاتا ہے پھر چلتا پھرتا ہے پیشاب، پاخانہ کرتا ہے۔ پھر لوٹ کر آتا ہے پھر اس کو کھاتا ہے۔ (یہی مثال ہے دنیا کے مال کی ) بے شک یہ مال بھی خوشنما ہے میٹھا ہے جو شخص اس کو لے اس کے حق کے ساتھ اور اس کو رکھے اس کے حق کے ساتھ تو پھر یہ بہترین مددگار ہے یہ مال اور جو اس کو نا حق طریقے سے اور ناجائز طریقے سے حاصل کرے وہ اس جانور (یا انسان) کی طرح ہوتا ہے جو کھاتا جائے مگر کبھی سیر نہ ہو ۔ دونوں کے الفاظ برابر ہیں۔ بخاری نے اس کو روایت کیا ہے صحیح میں اسماعیل بن ابو اویس سے اور اس کو نقل کیا ہے مسلم نے دوسرے طریقے سے مالک سے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← مالک بن أنس ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ اُوَیْسٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَغْدَادِيُّ، ← أبو عبد الله إسحاق بن محمد بن يوسف ← أحمد بن عبيد الصفار و ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ ← إسماعيل بن أبي أويس و ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعُمَرِيُّ ← أَبُو الْحَسَنِ الْمِصْرِيُّ، ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10289

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10290

10290 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه قال قريء على عبد الملك و انا أسمع قال : نا معاذ بن فضالة نا هشام بن أبي عبد الله عن يحيى بن أبي كثير عن هلال بن أبي ميمونة عن عطاء بن يسار عن أبي سعيد الخدري قال : جلس رسول الله صلى الله عليه و سلم على المنبر ذات يوم فقال : إن مما أتخوف عليكم ما يفتح الله عليكم من زهرة الدنيا و زينتها فقال رجل يا رسول الله و يأتي الخير بالشر فلم يرد عليه قلنا يا فلان ما شأنك سألت رسول الله صلى الله عليه و سلم فلم يرد عليك فرأينا أنه ينزل عليه الوحي قال : فمسح الرحضاء عنه فقال : أين السائل ـ و كأنه حمده ـ فقال : إنه لا يأتي الخير بالشر و إنه مما ينبت الربيع ما يقتل أويلم إلا أكله الخضر أكلت حتى إذا امتلأت خاصرتها استقبلت مطلع الشمس فثلطت و بالت و رتعت و إن هذا المال حلو خضر فمن أخذه بحقه بورك له فيه و نعم صاحب المال من أعطى منه المسكين و اليتيم و ابن السبيل ـ أو كما قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : و الذي يأخذ بإشراف نفس كالذي يأكل و لا يشبع فيكون عليه حسرة يوم القيامة و رب متخوض في مال الله و مال رسول الله له النار يوم القيامة رواه البخاري في الصحيح عن معاذ بن فضالة غير انه قال : فنعم صاحب المسلم ما أعطى منه المسكين و اليتيم و ابن السبيل و قال : شهيدا بدل قوله حسرة و لم يذكر ما بعده

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر احمد بن سلمان فقیہ نے وہ کہتے ہیں کہ یہ روایت پڑھی گئی عبدالملک کے سامنے اور میں سن رہا تھا کہتے ہیں کہ ہمیں خبردی معاذ بن فضالہ نے ان کو ہشام بن ابو عبداللہ نے یحییٰ بن ابو کثیر سے اس نے بلال بن ابو میمونہ سے اس نے عطاء بن یسار سے اس نے ابو سعید خدری سے وہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہوئے اور فرمایا کہ بے شک ان چیزوں میں سے جن کے بارے میں تمہارے بارے میں ڈرتا ہوں وہ ہے جو اللہ تعالیٰ تمہارے اوپر کھول دے گا دنیا کی تازگی اور دنیا کی زینت میں ہے۔ ایک آدمی نے عرض کی یارسول اللہ کیا خیر بھی شر کو لے آتی ہے حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے اس کو کوئی جواب نہ دیا۔ ہم نے کہا اے فلانے کیا ضرورت تھی پوچھنے کی ؟ تم نے پوچھا اور رسول اللہ نے تجھے جواب بھی نہیں دیا۔ پھر ہم نے یہ سوچا کہ آپ کے اوپر وحی نازل ہو رہی ہے۔ کہتے ہیں اتنے میں حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے اپنے ماتھے سے گرمی کے اثر کو صاف کیا۔ پھر فرمایا کہ سائل کہاں ہے؟ جیسے کہ آپ اس کی تعریف کریں گے۔ آپ نے فرمایا بے شک خیر شر کو پیدا نہیں کرتی اور حقیقت یہ ہے کہ بعض وہ سبزہ جس کو موم بہار اگاتا ہے وہ گھاس بھی ہوتا ہے جو بسا اوقات مار دیتا ہے یا بیمار کر دیتا ہے۔ مگر سبزے کو وہ کھائے یہاں تک کہ کہ جب اس کا پیٹ بھر جاتے۔ پھر سورج کی طرف منہ کر کے کھڑا ہو جائے۔ پھر وہ لید پیشاب کرے اور چرے اور بے شک یہ مال میٹھا ہے اور سر سبز ہے جو شخص اس کو لے کے اس کے حق کے ساتھ اس کے لئے اس میں برکت دی جائے گی بہترین مال دار وہ ہے جو اس میں سے مسکین کو اور یتیم اور مسافر کو دے۔ یا جیسے رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اور وہ شخص جو مال کو لالچی دل کے ساتھ حاصل کرے وہ اس کے مثل ہے جو کھائے مگر کبھی سیر نہ ہو سکے اس کو قیامت کے دن اس مال پر حسرت ہو گی اور بہت سارے لوگ وہ ہوتے ہیں جو اللہ اور رسول کے مال میں گھسٹے والے ان کے لئے قیامت کے دن آگ ہے۔ بخاری نے اس کو روایت کیا ہے صحیح میں معاذ بن فضالہ سے۔ سوائے اس کے کہ آپ نے کہا بہترین مالدار مسلمان وہ ہے جو اس میں سے مسکین کو اور یتیم کو اور مسافر کو دے اور اس روایت میں لفظ خسرۃ کی جلد لفظ شہیدا ہے اور اس کے مابعد مذکور نہیں ہے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← هِلَالُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، ← مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ، ← أسمع ← قريء على عبد الملك و ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10290

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ الوقوف يوم عرفة بعرفات و ما جاء في فضله و الأصل في رمي الجمار و الذبح · حديث 4079

4079 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو القاسم المفسر قالا نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا أبو الدرداء هاشم بن محمد الأنصاري نا عبيد بن السكن عن إسماعيل بن عياش عن الكلبي عن أبي صالح عن ابن عباس قال : إنما سميت تروية و عرفة لأن إبراهيم عليه السلام أتاه الوحي في منامه أن يذبح ابنه فروى في نفسه أمن الله هذا أم من الشيطان ؟ فأصبح صائما فلما كان ليلة عرفة أتاه الوحي فعرف أنه الحق من ربه فسميت عرفة

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو القاسم مفسر نے دونوں نے کہا کہ ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو ابو درداء نے ان کو ہاشم بن محمد انصاری نے ان کو عبید بن سکن نے ان کو اسماعیل بن عیاش نے کلبی سے اس نے ابو صالح سے اس نے ابن عباس سے انہوں نے کہا کہ سوا اس کے نہیں کہ ترویہ اور عرفہ نام رکھا گیا ہے کیونکہ ابراہیم علیہ السلام کے پاس خواب میں وحی آئی تھی ۔ کہ وہ اپنے بیٹے کو ذبح کریں ۔ تو انہوں نے دل میں شک کیا تھا کہ کیا یہ خواب اللہ کی طرف سے ہے یا شیطان کی طرف سے ؟ لہذا انہوں نے صبح کو روزہ رکھا اب جو عرفہ کی رات آئی تو ان کے پاس وحی آئی لہذا انہوں نے جان لیا کہ وہ خواب حق ہے اس کے رب کی طرف سے ہے لہذا وہ نام رکھا گیا عرفہ ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الكلبي ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← عبيد بن السكن ← أبو الدرداء هاشم بن محمد الأنصاري ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو القاسم المفسر

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Standing on the day of Arafat in Arafat and what came about its bounty and the principle of throwing pebbles and slaughtering · Hadith 4079

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك خلط سورة بسورة ـ قال الحليمي رضي الله عنه · حديث 2314

2314 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا أبو الحسن الكارزي ثنا علي بن عبد العزيز : قال أبو عبيد : في وجهه عند آيات يبدأ من آخر القرآن في المعوذتين ثم يرتفع إلى البقرة كنحو ما يتعلم الصبيان في الكتاب لآن السنة خلاف هذا و إنما جاءت الرخصة في تعليم الصبي و العجمي في المفصل لصعوبة السور الطوال عليهما قال أبو عبيد و قد روي عن الحسن و ابن سيرين من الكراهية فما دون هذا

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو ابو الحسن کارزی نے ان کو علی بن عبدالعزیز نے کہ ابو عبیدہ نے کہا کہ کوئی شخص اگر آخر قرآن سے معوذ تین سورتوں سے شروع کرکے واپس سورۃ بقرہ کی طرف چڑھتا ہے جیسے لڑکے کتاب میں تعلیم حاصل کرتے ہیں کیونکہ سنت ان کے خلاف ہے باقی رخصت آئی ہے بچوں کی تعلیم کے لئے اور عجمی کی تعلیم کے لئے مفصل میں رخصت اس لئے ہے کہ بڑی سورتیں ا ن پر مشکل ہوں گی۔ ابو عبید نے کہا تحقیق روایت کیا گیا ہے حسن سے اور ابن سیرین سے کراہت اس کے ماسوا کے لئے ( یعنی رختصت الٰہی کی طرف پڑھنے کی مذکورہ وجوہ سے ہے ورنہ خلاف سنت ہونے کی وجہ سے مکروہ ہے یہ صرف سورتوں کی ترتیب الٹنے کی بات واضح ہے کہ اس دور میں جو عامل اور جادو گر الفاظ قرآنی کو خصوصاً بسم اللہ کو اور سورۃ فاتحہ کو جادو اور عمل کے طور پر اس طرح پڑھتے ہیں کہ سب سے آخری حرف پہلے اس کے بعد دوسرا تیسرا یعنی بسم کی میم سے شروع کرکے باء تک ختم کرتے ہیں اور والضالین کے نو سے شروع کرکے الحمد کے الف پر ختم کرتے ہیں جس سے عربی الفاظ بگڑ کر کوئی جادوئی الفاظ بن جاتے ہیں اور یہ بہت تیز اثر کرنے والا جادو مانا جاتا ہے جادوگروں کے ہاں ۔ واضح رہے کہ ایسا کرنا قرآن مجید کے ساتھ ظلم ہے اور بد ترین استہزاء اور کلام اللہ کی توہین و تحقیر ہے اور ایسا کرنا بد ترین کفر ہے ایسا کرنے والا اگر اس سے توبہ نہ کرے مرتد ہو جاتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کی حفاظت فرمائے ۔ آمیں۔ (مترجم)

عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on not mixing a surah with a surah - Al-Halimi, may God be pleased with him, said · Hadith 2314

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إبتداء السورة بالتسمية سوى ( براءة ) و الدليل على أنها آية تامة من فاتحة الكتاب · حديث 2337

2337 - أخبرنا أبو القاسم بن حبيب المفسر ثنا أبو زكريا العنبري ثنا إبراهيم بن إسحق الأنماطي ثنا يوسف بن موسى ثنا علي بن الحسن بن شقيق أنا ابن المبارك عن سفيان الثوري قال : ـ { بسم الله الرحمن الرحيم } في فواتح السور من السور

ہمیں خبر دی ابوالقاسم بن حبیب مفسر نے ان کو ابو زکریا عنبری نے ان کو ابراہیم بن اسحٰق انماطی نے ان کو یوسف بن موسیٰ نے ان کو علی بن حسین بن شقیق نے ان کو ابن مبارک نے ان کو سفیا ن ثوری نے فرمایا بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ سورتوں کے شروع میں سورتوں میں سے ہے ۔

بسم الله الرحمن الرحيم في فواتح السور من السور ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ← إبراهيم بن إسحق الأنماطي ← أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ ← أبو القاسم بن حبيب المفسر

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on the beginning of the surah by naming it other than (Baraa'a) and the evidence that it is a complete verse from the opening of the book · Hadith 2337

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إبتداء السورة بالتسمية سوى ( براءة ) و الدليل على أنها آية تامة من فاتحة الكتاب · حديث 2339

2339 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر الجراحي ثنا يحيى بن ساسويه ثنا عبد الكريم السكري ثنا وهب بن ربيعة ثنا ( ) قال : قال عبد الله بن المبارك : من ترك { بسم الله الرحمن الرحيم } في فواتح السور فقد ترك مائة و ثلاث عشر آية من القرآن

اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر جراحی نے ان کو یحییٰ بن ساسویہ نے ان کو عبدالکریم سکری نے ان کو وہب بن ربیعہ نے ان کو ۔۔۔۔۔ انہوں عبداللہ بن مبارک نے کہا تھا جس نے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم چھوڑ دی سورتوں کے آغاز میں اس نے قرآن کی ایک سو تیرہ آیات چھوڑ دیں۔

وَهْبِ بْنِ رَبِيعَةَ ← عَبْدُ الْكَرِيمِ السُّكَّرِيُّ، ← يَحْيَى بْنُ سَاسَوَيْهِ، ← أَبُو بَكْرٍ الْجِرَاحِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on the beginning of the surah by naming it other than (Baraa'a) and the evidence that it is a complete verse from the opening of the book · Hadith 2339

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إبتداء السورة بالتسمية سوى ( براءة ) و الدليل على أنها آية تامة من فاتحة الكتاب · حديث 2340

2340 - قال عبد الله قال سفيان : ـ { بسم الله الرحمن الرحيم } فتح في فواتح السور

عبداللہ نے کہا سفیان نے کہا تھا بسم اللہ الرحمٰن الرحیم سورتوں کے شروع میں ابتداء کے لئے ہے ۔

سفيان بسم الله الرحمن الرحيم فتح في فواتح السور ← عَبْدُ اللَّهِ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on the beginning of the surah by naming it other than (Baraa'a) and the evidence that it is a complete verse from the opening of the book · Hadith 2340

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر فاتحة الكتاب · حديث 2357

2357 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد ثنا تمتام ثنا عمرو بن عون عن هشيم عن الحجاج عن الوليد بن ميزاب عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال : هي السبع الطول و لم يعطن إلا النبي صلى الله عليه و سلم و أعطى منهن موسى عليه السلام آيتين قوله : سبعا من المثاني كذا قال و التفسير الأول أولى لموافقة الحديث المرفوع

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو تمتام نے ان کو عمرو بن عون نے ان کو ھیثم نے ان کو حجاج نے ولید بن میزاب نے سعید بن جبیر سے ا س نے ابن عباس سے انہوں نے کہا کہ یہ سبع طول ہیں ۔ اس جیسا کوئی نبی نہیں دیا گیا سوائے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے اور موسیٰ علیہ السلام ان میں سے صرف دو آیات دئیے گئے تھے ۔ اللہ تعالیٰ کا قول سبعاً من المثانی ۔ ایسے ہی فرمایا اور رتفسیر اول اولیٰ ہے اس لئے کہ وہ حدیث مرفوع کے مطابق ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← الوليد بن ميزاب ← الْحَجَّاجِ، ← هُشَيْمٌ ← عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ← تَمْتَامٌ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned the beginning of the book · Hadith 2357

chevron_left Previous
1…323334…305
Next chevron_right