شعب الإيمان · التاسع من شعب الإيمان ‹ و هو باب في أن دار المؤمنين و مأواهم الجنة دار الكافرين و مآبهم النار ـ · حديث 368
368 - أخبرنا أبو الحسن المقرئ أنا الحسن بن محمد بن إسحاق أنبأ محمد بن أحمد بن البراء أنبا عبد المنعم بن إدريس حدثني أبي عن وهب بن منبه قال : إذا قامت القيامة و قضي الله بين أهل الدارين أمر بالفلق فيكشف عن سقر و هو غطاؤها فيخرج منه نار فتحرق جهنم و تأكلها كما تأكل النار في الدنيا القطن المندوف فإذا وصلت البحر المطبق على شفير جهنم ـ و هو بحر البحور ـ نسفته أسرع من طرفة العين نسفا فنضب كأن لم يكن مكانه ماء قط و هو حاجز بين جهنم و الأرضين السبع فإذا انشقت ماء ذلك البحر اشتعلت في الأرضين السبع فتدعها جمرة واحدة و قد روينا عن علي بن أبي طالب أنه قال ليهودي : أين جهنم قال : تحت البحر فقال علي : صدق ثم قرأ : { و البحر المسجور } قال : البيهقي رحمه الله و يحتمل ما حكيناه عن وهب بن منبه معنى ما قال الله عز و جل : { يوم تبدل الأرض غير الأرض و السموات } و يكن ذلك بعد ركوب الناس الصراط كما روينا عن عائشة أنها سألت النبي صلى الله عليه و سلم عن ذلك و قالت فأين الناس يومئذ ؟ قال : على الصراط ثم قد قال بعض العلماء أن الكفار لا يجاوزون على الصراط لأنهم في معدن النار فإذا خلص المؤمنون و خلصوا على الصراط انفرد الكفار بمواقفهم و صار مواقفهم من النار قال غيرهم إنهم يركبون الصراط ثم قد تكون أبواب جهنم فروجا في الحشر كأبواب السطوح فهم يقذفون منها في جهنم ليكون غمهم أشد و أفظع و إلقاؤهم من الجسر أخوف وأهول و فرح المؤمنين بالخلاص أكثر و أعظم و لعل قول الله عز و جل : { و امتازوا اليوم أيها المجرمون } يكون في هذا الوقت و ما في القرآن من قول الله عز و جل : { كلما ألقي فيها فوج سألهم خزنتها ألم يأتكم نذير } و قوله : { ألقيا في جهنم كل كفار عنيد } كالدليل على هذا لأن الإلقاء في الشيء أكثر ما يستعمل في الطرح من علو إلى سفل والله أعلم بكيفية ذلك و أما المنافقون فالأشبه أنهم يركبون الجسر مع المؤمنين ليمشوا في نورهم فيظلم الله عز و جل على المنافقين فيقولون للمؤمنين : { انظرونا نقتبس من نوركم قيل ارجعوا وراءكم فالتمسوا نورا } فيرجعون إلى المكان الذي قسم فيه النور على قدر إيمانهم و أعمالهم فلا يجدون شيئا فينصرفون إليهم و قد : { ضرب بينهم بسور له باب باطنه فيه الرحمة وظاهره من قبله العذاب * ينادونهم ألم نكن معكم } نصلي بصلاتكم و نغزو مغازيكم { قالوا بلى ولكنكم فتنتم أنفسكم } فيحتمل ـ و الله أعلم ـ أن هذا السور إنما يضرب عند انتهاء الصراط و يترك له باب يخلص منه المؤمنون إلى طريق الجنة فذلك هو الرحمة التي في باطنه و أما ظاهره فإن يلي النار و إن كانت النار سافلة عنه لا محاذيه إياه ما دام لم يجد المنافقون إلى باطن السور سبيلا فليس إلا أن يقذفوا من أعلم الصراط يهوون إلى الدرك الأسفل من النار هذا باستهزائهم بالمؤمنين في دار الدنيا كما شرحنا في كتاب الأسماء و الصفات
ہمیں خبر دی ہے ابو الحسن مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحٰق نے ان کو خبر دی ہے محمد بن احمد بن براء نے ان کو خبر دی ہے عبدالمنعم بن ادریس نے ، ان کو حدیث بیان کی ہے ان کے والد نے وھب بن منبہ سے، انہوں نے کہا، جب قیامت قائم ہو گی اور اللہ تعالیٰ اہل جنت و اہل جہنم کے مابین فیصلہ فرما چکیں گے تو اللہ تعالیٰ جہنم کے ایک خاص کنویں کے بارے میں حکم دیں گے، چنانچہ سقر کو کھولا جائے گا اور وہ اس کا ڈھکنا ہے۔ اس سے ایسی آگ نکلے گی جو خود جہنم کو جلا دے اور کھا جائے جیسے دنیا میں آگ دھنی ہوئی روئی کو کھا جاتی ہے اور پھر جب سمندر جہنم کے کنارے سے ملے گا، حالانکہ وہ بحر البحور ہے۔ یعنی سب دریاؤں سے بڑا دریا ہے تو آنکھ جھپکنے سے پہلے اس کو اڑا دے گی اور ایسے سوکھ جائے گا جیسے اس جگہ کبھی پانی تھا بھی نہیں اور وہی حجاب حاجز ہے جہنم کے اور سات زمینوں کے درمیان پھر جب اس دریا یا سمندر کا پانی بھٹے گا تو ساتویں طبق زمین میں آگ لگ جائے گی، لہذا وہ ساتوں زمینوں کو جلا کر صرف ایک ہی کوئلہ کر کے چھوڑے گی۔ اور ہم نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ روایت کر چکے ہیں کہ انہوں نے ایک یہودی سے کہا کہ جہنم کہا ں ہے اس نے کہ کہ سمندر کے نیچے ہے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ اس نے سچ کہا ہے ، پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی: "والبحر المسجود (والطور 6) قسم ہے ابلتے ہوئے سمندر کی۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا : ہم نے مذکورہ روایت جو وھب بن منبہ سے نقل کی ہے وہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے معنی و مفہوم کا احتمال رکھتی ہے: یوم تبدل الارض غیر الارض والسموات" (ابراہیم 48) جس دن بدلی جائے گی یہ زمین دوسری زمین کے ساتھ اور آسمان بھی۔ اور یہ سب کچھ تمام لوگوں کے پل صراط پر چڑھ جانے کے بعد ہو گا۔ جیسا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ہم نے روایت کر چکے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوا ل کیا تھا اس بارے میں اور عرض کی تھی کہ اس دن لوگ کہاں ہوں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ لوگ صراط پر ہوں گے۔ بعض علماء کا قول : بعض علما نے کہا ہے کہ کفار پر سے نہیں گذریں گے اس لئے کہ وہ سب آگ کی کان میں ہوں گے۔ جب مومن چھٹکارا پالیں گے اور وہ صراط پر چڑھ جائیں گے تو باقی کفار ہی اپنے اپنے موقف پر اور اپنی جگہ پر باقی رہ جائیں گے۔ گویا پیچھے اب باقی آگ میں انہیں کا ہی مقام رہ جائے گا۔ دیگر علماء کا موقف : بعض دیگر علماء نے کہا ہے کہ کفار بھی صراط پر سوار ہوں گے۔ پھر کبھی جہنم کے دروازے سوراخ سوراخ ہو جائیں گے حشر میں چھتوں کے دروازوں کی مثل پھر کفار انہیں میں سے جہنم میں پھینکے جائیں گی۔ تاکہ ان کا غم زیادہ شدید ہو اور زیادہ ہیبت ناک ہو اور ان کو پل کے اوپر سے پھینکنا زیادہ ڈراؤنا اور ہولناک ہواور چھٹکارے کے ساتھ مومنوں کی خوشی بہت زیادہ اور بہت بڑی ہو۔ شاید کہ اللہ تعالیٰ کایہ فرمان: "وامتازوا الیوم ایھا المجرمون " (یٰس59) آج علیحدہ ہو جاؤ اے مجرموں۔ شاید یہ اعلان اسی وقت ہو گا اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی: " کلما القی فیھا فوج سالھم خزنتھا الم یاتکم نذیر (الملک 8) جب بھی جہنم میں کوئی گروہ ڈالا جائے گا۔ ان سے جہنم کے دربان پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا؟ اور یہ فرمان بھی: القبا فی جہنم کل کفار عنید (ق 24) پھینکو جہنم میں ہر بڑے کا فرعناد ی کو۔ یہ بھی اسی پر دلیل کی طرح ہے (جو ہم پہلے کہہ آئے ہیں) کیونکہ پھینکنے کے حوالے سے جو طریقہ زیادہ تر مستعمل ہے وہ اسی طرح ہے کہ بلندی سے پستی کی طرف سے اوپر سے نیچے کے طرف پھینکا جاتا ہے۔ باقی اللہ تعالیٰ بھی اس کی کیفیت کو خوب جانتے ہیں۔ پل صراط پر منافقو کا انجام : زیادہ یقین یہ ہے کہ منافقین لوگ پل کے اوپر مومنوں کے ساتھ ساتھ سوار ہوں گے تاکہ مومنوں کے نور میں وہ بھی چلتے جائیں گے۔ مگر اللہ تعالیٰ منافقوں پر اندھیرا کر دیں گے ، لہذا منافقین اسی موقع اسی موقع پر مومنوں سے کہیں گے: " انظرو نا نقتبس من نور کم قبل ارجعو ا وراء کم فالتمسو ا نوراً (الحدید 13) مومنوں ہماری طرف دیکھو نا تاکہ ہم بھی تمہاری روشنی سے کچھ روشنی حاصل کر لیں گے۔ کہا جائے گا واپس پیچھے چلے جاؤ اورروشنی ڈھونڈ کر آؤ۔ لہذا منافق اس جگہ کی طرف واپس لوٹیں گے جہاں روشنی لوگوں کے ایمان و اعمال کے اندازے کے مطابق تقسیم کی گئی تھی۔ وہ وہاں کچھ بھی نہیں پائیں گے۔ پھر وہ دوبارہ مومنوں کی طرف لوٹ کر آئیں گے ۔ اس دوران ان کے اور ان کے درمیان دیوار حائل ہو چکی ہو گی۔ قرآن مجید نے اس مقام کی منظر کشی فرمائی کہ : " ضرب بینھم بسور لہ باب، باطنہ فیہ الرحمۃ وظاھرہ من قبلہ العذاب۔ ینادونھم الم نکن معکم " ان کے درمیان دیوار ھائل ہو جائے گی۔ اس میں ایک دروازہ ہو گا اس کے اندر کی طرف رحمت ہو گی اور سامنے کی طرف عذاب ہو گا۔ (جو سمت منافقوں کی ہو گی) پھر منافق مومنوں کو پکاریں گے کہ کیا دنیا میں ہم تمہارے ساتھ نہیں تھے؟ یعنی ہم تمہاری طرح نمازیں بھی پڑھتے تھے اور تمہارے ساتھ جہاد بھی کرتے تھے۔ اہل ایمان ان سے کہیں گے: "قالو بلا ولکنکم فتنتم انفسکم " مومن ان سے کہیں گے ، ہاں ہاں تم ہمارے ساتھ تو تھے لیکن تم نے اپنے نفسوں کو فتنوں میں واقع کر رکھا تھا۔ (الحدید 13) ایک خاص کیفیت کا احتمال : احتمال ہے کہ یہ دیوار پل صراط کے آخر میں نصب کی جائے گی اور اس میں سے ایک دروازہ چھوڑ دیا جائے گا جس سے مومن جنت کے راستے کی طرف خلاصی پائیں گے۔ یہی ہو گی وہ رحمت جو اس کے اندر کی جانب ہو گی۔ بہر حال اس کا ظاہر وہ آگ کے متصل ہو گا۔ اگرچہ آگ اس سے نیچے ہو گی۔ ا س کے متوازی اور مقابل نہیں ہو گی۔ منافق ہمیشہ کے لئے دیوار کے اندر کی طرف راستہ نہیں پائیں گے، لہذا و ہ لا محالہ پل صراط کے اوپر سے بھی پھینک دئیے جائیں گے جہاں سے وہ جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں گرتے چلے جائیں گے۔ یہ سلوک ان کے ساتھ ان کے اس استہزا کی پاداش میں ہو گا جو وہ مومنوں کے ساتھ دنیا میں کیا کرتے تھے ۔ جیسا کہ ہم کتاب الاسماء والصفات میں اس کی وضاحت کر چکے ہیں۔ فصل : اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان : فوربک لخشرنھم والشیاطین ثم لنحصرنھم حول جھنم جثیا۔ ثم لننزعن من کل شیعۃ ایھم اشد علی الرحمٰن عتیا۔۔۔ تا ۔۔۔ ونذر الظالمین فیھا جثیا " (مریم 68 تا 72) پس قسم ہے تیرے رب کی ہم ان لوگوں کو ضرور اکٹھا کر لائیں گے اور شیطانوں کو بھی پھر ہم ان کو ضرور جہنم کے گرد گھٹنوں کے بل حاضر کریں گے۔ پھر ہم ضرور کھینچ کر علیحدہ کر لیں گے ہر گروہ میں سے اس کو جو رحمٰن پر اکڑ نے میں زیادہ سخت تھا۔ پھر البتہ ہم خوب جانتے ہیں ان لوگوں کو جو جہنم میں داخل ہونے کے لئے زیادہ مناب ہیں۔ اور تم میں سے کوئی بھی نہیں (بچے گا) مگر (ہر ایک) جہنم پر آئے گا۔ تیرے رب کا یہ لازمی فیصلہ ہے۔ پھر ہم ان لوگوں کو نجات دیں گے جو (اللہ کی نافرمانی اور کفر و شرک سے) بچتے رہے اور ہم ظالموں (کافروں مشرکوں) کو جہنم میں اوندھے گرے ہوئے چھوڑ دیں گے ۔ مذکورہ بالا آیات کے مفہوم میں اہل تفسیر کا اختلاف: اہل تفسیر نے مذکورہ بالا آیات میں لفظ وارد ھا کے مفہوم و مطلب کو بیان کرنے میں اختلاف کیا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے دو میں سے زیادہ صحیح روایت کے مطابق وارد ہونے سے مراد جہنم میں دخول مراد ہے ۔ اور اہل تفسیر نے اس بات پر دلیل اسی دوسری آیت سے پکڑی ہے: "انتم لھا واردون لو کان ھؤلا ء الھۃ ماور دوھاو کل فیھا خالدون " (الانبیاء 98-99) (اے مشرکو) تم اور وہ جن کی تم عبادت کرتے ہو اللہ کے سوا (سب) جہنم کا ایندھن ہیں۔ تمہیں اس میں ضرور داخل ہونا ہے۔ اگر یہ (بت وغیرہ) الٰہ (معبود ومختار) ہوتے تو جہنم میں داخل نہ ہوتے،سارے اس میں سدا پڑے رہیں گے۔ اور دوسری اس آیت سے بھی دلیل پکڑی ہے مفسرین نے: "فاوردھم النار وبئس الورد المورود " (ھود 98) پس داخل کرے گا ان کو آگ میں اور بری ہے داخل ہونے کی جگہ۔ تو اس مقام پر ورود سے مراد دخول ہی ہے۔ چنانچہ الا واردھا کا قول بھی اسی طرح ہے۔ یعنی اس سے مراد بھی دخول ہی ہے۔ اور یہی بات ہوئی جب ان سے نافع بن ازرق نے بحث کی تھی تو انہوں نے اس کے جواب مٰں یہ کہا تھا کہ آپ نے اور میں نے دونوں نے اس میں داخل تو ہونا ہی ہے، پھر میں دیکھوں گا کیا ہم نکلتے ہیں یا نہیں؟ اور عبداللہ بن سائب سے مروی ہے کہ اس نے اس شخص سے سنا جس نے ابن عباس سے سنا تھا کہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ جہنم میں وارد ہونے والے کفار ہوں گے۔ مومن اس میں داخل نہیں ہو گا۔ جبکہ یہ روایت منقطع ہیں اور پہلی روایت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اکثر ہے اور زیادہ مشہور ہے۔ اور ہم نے عبداللہ بن رواحہ سے روایت کی ہے کہ ایک مرتبہ وہ رو پڑے تھے اور ان کو روتا دیکھ کر ان کی اہلیہ بھی رو پڑی تھیں اور فرمانے لگے کہ میں خوب جانتا ہوں کہ میں جہنم میں وارد ہوں گا اور یہ مجھے نہیں معلوم کہ کیا میں اس سے نجات بھی پاؤں گا یا نہیں؟ اور سدی نے فرّہ ہمدانی سے، اس نے عبداللہ بن مسعود سے روایت کی ہے کہ انہوں نے ان لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حدیث بیان کی تھی کہ انہوں نے فرمایا لوگ جہنم میں داخل ہوں گے، پھر اس سے اپنے اپنے اعمال کے ساتھ نکلیں گے۔ اور ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایک اور روایت میں ہے فرہ سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہ انہوں نے فرمایا: یدخلو نھا یعنی ورود کی جگہ واضح دخول کا لفظ استعمال فرمایا۔ یا یلجونھا فرمایا دونوں کا مطلب داخل ہونا ہے۔ یعنی جہنم میں داخل ہوں گے، پھر اس سے اپنے اعمال کے ساتھ نکلیں گے۔ اور ایک اور روایت میں ابو الاحوص سے، عبداللہ سے ہے کہ (وان منکم الا واردھا) یعنی تم میں سے ہر شخص جہنم پر وارد ہو گا۔ فرمایا کہ راستے کا پل جہنم پر تلوار کی دھار کی طرح ہے۔ (جس پر) پہلا گروہ بجلی کی مثل گذر جائے گا اور دوسرا طبقہ ہوا کی مثل اور تیسرا طبقہ بہترین گھوڑے کی مثل اور چوتھا طبقہ بہترین اونٹ اور مویشیوں کی مثل گذریں گے اور فرشتے کہتے ہوں گے اے ہمارے رب بچائیو بچائیو۔ اور ان آثار کی اسناد ہم نے کتاب البعث والنشور میں ذکر کر دی ہیں اور ہم نے روایت کی ہے سفیان سے، ان کو زہری نے، ان کو سعید بن مسیب نے، ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ کسی مسلمان کے تین بچے نہیں مریں گے کہ پھر وہ جہنم میں داخل ہو جائے، مگر قسم کو پورا کے لئے پھر سفیان نے یہ آیت پڑھی: " وان منکم الا واردھا" یعنی ایسا انسان صرف اسی آیت کا تقاضا پورا کرنے کے لئے داخل ہو گا اور بس۔
Shuab ul Iman · Ninth of the people of faith › And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell · Hadith 368
