Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

القرآن الكريم

Quran

6097 hadiths

شعب الإيمان · التاسع من شعب الإيمان ‹ و هو باب في أن دار المؤمنين و مأواهم الجنة دار الكافرين و مآبهم النار ـ · حديث 368

368 - أخبرنا أبو الحسن المقرئ أنا الحسن بن محمد بن إسحاق أنبأ محمد بن أحمد بن البراء أنبا عبد المنعم بن إدريس حدثني أبي عن وهب بن منبه قال : إذا قامت القيامة و قضي الله بين أهل الدارين أمر بالفلق فيكشف عن سقر و هو غطاؤها فيخرج منه نار فتحرق جهنم و تأكلها كما تأكل النار في الدنيا القطن المندوف فإذا وصلت البحر المطبق على شفير جهنم ـ و هو بحر البحور ـ نسفته أسرع من طرفة العين نسفا فنضب كأن لم يكن مكانه ماء قط و هو حاجز بين جهنم و الأرضين السبع فإذا انشقت ماء ذلك البحر اشتعلت في الأرضين السبع فتدعها جمرة واحدة و قد روينا عن علي بن أبي طالب أنه قال ليهودي : أين جهنم قال : تحت البحر فقال علي : صدق ثم قرأ : { و البحر المسجور } قال : البيهقي رحمه الله و يحتمل ما حكيناه عن وهب بن منبه معنى ما قال الله عز و جل : { يوم تبدل الأرض غير الأرض و السموات } و يكن ذلك بعد ركوب الناس الصراط كما روينا عن عائشة أنها سألت النبي صلى الله عليه و سلم عن ذلك و قالت فأين الناس يومئذ ؟ قال : على الصراط ثم قد قال بعض العلماء أن الكفار لا يجاوزون على الصراط لأنهم في معدن النار فإذا خلص المؤمنون و خلصوا على الصراط انفرد الكفار بمواقفهم و صار مواقفهم من النار قال غيرهم إنهم يركبون الصراط ثم قد تكون أبواب جهنم فروجا في الحشر كأبواب السطوح فهم يقذفون منها في جهنم ليكون غمهم أشد و أفظع و إلقاؤهم من الجسر أخوف وأهول و فرح المؤمنين بالخلاص أكثر و أعظم و لعل قول الله عز و جل : { و امتازوا اليوم أيها المجرمون } يكون في هذا الوقت و ما في القرآن من قول الله عز و جل : { كلما ألقي فيها فوج سألهم خزنتها ألم يأتكم نذير } و قوله : { ألقيا في جهنم كل كفار عنيد } كالدليل على هذا لأن الإلقاء في الشيء أكثر ما يستعمل في الطرح من علو إلى سفل والله أعلم بكيفية ذلك و أما المنافقون فالأشبه أنهم يركبون الجسر مع المؤمنين ليمشوا في نورهم فيظلم الله عز و جل على المنافقين فيقولون للمؤمنين : { انظرونا نقتبس من نوركم قيل ارجعوا وراءكم فالتمسوا نورا } فيرجعون إلى المكان الذي قسم فيه النور على قدر إيمانهم و أعمالهم فلا يجدون شيئا فينصرفون إليهم و قد : { ضرب بينهم بسور له باب باطنه فيه الرحمة وظاهره من قبله العذاب * ينادونهم ألم نكن معكم } نصلي بصلاتكم و نغزو مغازيكم { قالوا بلى ولكنكم فتنتم أنفسكم } فيحتمل ـ و الله أعلم ـ أن هذا السور إنما يضرب عند انتهاء الصراط و يترك له باب يخلص منه المؤمنون إلى طريق الجنة فذلك هو الرحمة التي في باطنه و أما ظاهره فإن يلي النار و إن كانت النار سافلة عنه لا محاذيه إياه ما دام لم يجد المنافقون إلى باطن السور سبيلا فليس إلا أن يقذفوا من أعلم الصراط يهوون إلى الدرك الأسفل من النار هذا باستهزائهم بالمؤمنين في دار الدنيا كما شرحنا في كتاب الأسماء و الصفات

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسن مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحٰق نے ان کو خبر دی ہے محمد بن احمد بن براء نے ان کو خبر دی ہے عبدالمنعم بن ادریس نے ، ان کو حدیث بیان کی ہے ان کے والد نے وھب بن منبہ سے، انہوں نے کہا، جب قیامت قائم ہو گی اور اللہ تعالیٰ اہل جنت و اہل جہنم کے مابین فیصلہ فرما چکیں گے تو اللہ تعالیٰ جہنم کے ایک خاص کنویں کے بارے میں حکم دیں گے، چنانچہ سقر کو کھولا جائے گا اور وہ اس کا ڈھکنا ہے۔ اس سے ایسی آگ نکلے گی جو خود جہنم کو جلا دے اور کھا جائے جیسے دنیا میں آگ دھنی ہوئی روئی کو کھا جاتی ہے اور پھر جب سمندر جہنم کے کنارے سے ملے گا، حالانکہ وہ بحر البحور ہے۔ یعنی سب دریاؤں سے بڑا دریا ہے تو آنکھ جھپکنے سے پہلے اس کو اڑا دے گی اور ایسے سوکھ جائے گا جیسے اس جگہ کبھی پانی تھا بھی نہیں اور وہی حجاب حاجز ہے جہنم کے اور سات زمینوں کے درمیان پھر جب اس دریا یا سمندر کا پانی بھٹے گا تو ساتویں طبق زمین میں آگ لگ جائے گی، لہذا وہ ساتوں زمینوں کو جلا کر صرف ایک ہی کوئلہ کر کے چھوڑے گی۔ اور ہم نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ روایت کر چکے ہیں کہ انہوں نے ایک یہودی سے کہا کہ جہنم کہا ں ہے اس نے کہ کہ سمندر کے نیچے ہے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ اس نے سچ کہا ہے ، پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی: "والبحر المسجود (والطور 6) قسم ہے ابلتے ہوئے سمندر کی۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا : ہم نے مذکورہ روایت جو وھب بن منبہ سے نقل کی ہے وہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے معنی و مفہوم کا احتمال رکھتی ہے: یوم تبدل الارض غیر الارض والسموات" (ابراہیم 48) جس دن بدلی جائے گی یہ زمین دوسری زمین کے ساتھ اور آسمان بھی۔ اور یہ سب کچھ تمام لوگوں کے پل صراط پر چڑھ جانے کے بعد ہو گا۔ جیسا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ہم نے روایت کر چکے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوا ل کیا تھا اس بارے میں اور عرض کی تھی کہ اس دن لوگ کہاں ہوں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ لوگ صراط پر ہوں گے۔ بعض علماء کا قول : بعض علما نے کہا ہے کہ کفار پر سے نہیں گذریں گے اس لئے کہ وہ سب آگ کی کان میں ہوں گے۔ جب مومن چھٹکارا پالیں گے اور وہ صراط پر چڑھ جائیں گے تو باقی کفار ہی اپنے اپنے موقف پر اور اپنی جگہ پر باقی رہ جائیں گے۔ گویا پیچھے اب باقی آگ میں انہیں کا ہی مقام رہ جائے گا۔ دیگر علماء کا موقف : بعض دیگر علماء نے کہا ہے کہ کفار بھی صراط پر سوار ہوں گے۔ پھر کبھی جہنم کے دروازے سوراخ سوراخ ہو جائیں گے حشر میں چھتوں کے دروازوں کی مثل پھر کفار انہیں میں سے جہنم میں پھینکے جائیں گی۔ تاکہ ان کا غم زیادہ شدید ہو اور زیادہ ہیبت ناک ہو اور ان کو پل کے اوپر سے پھینکنا زیادہ ڈراؤنا اور ہولناک ہواور چھٹکارے کے ساتھ مومنوں کی خوشی بہت زیادہ اور بہت بڑی ہو۔ شاید کہ اللہ تعالیٰ کایہ فرمان: "وامتازوا الیوم ایھا المجرمون " (یٰس59) آج علیحدہ ہو جاؤ اے مجرموں۔ شاید یہ اعلان اسی وقت ہو گا اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی: " کلما القی فیھا فوج سالھم خزنتھا الم یاتکم نذیر (الملک 8) جب بھی جہنم میں کوئی گروہ ڈالا جائے گا۔ ان سے جہنم کے دربان پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا؟ اور یہ فرمان بھی: القبا فی جہنم کل کفار عنید (ق 24) پھینکو جہنم میں ہر بڑے کا فرعناد ی کو۔ یہ بھی اسی پر دلیل کی طرح ہے (جو ہم پہلے کہہ آئے ہیں) کیونکہ پھینکنے کے حوالے سے جو طریقہ زیادہ تر مستعمل ہے وہ اسی طرح ہے کہ بلندی سے پستی کی طرف سے اوپر سے نیچے کے طرف پھینکا جاتا ہے۔ باقی اللہ تعالیٰ بھی اس کی کیفیت کو خوب جانتے ہیں۔ پل صراط پر منافقو کا انجام : زیادہ یقین یہ ہے کہ منافقین لوگ پل کے اوپر مومنوں کے ساتھ ساتھ سوار ہوں گے تاکہ مومنوں کے نور میں وہ بھی چلتے جائیں گے۔ مگر اللہ تعالیٰ منافقوں پر اندھیرا کر دیں گے ، لہذا منافقین اسی موقع اسی موقع پر مومنوں سے کہیں گے: " انظرو نا نقتبس من نور کم قبل ارجعو ا وراء کم فالتمسو ا نوراً (الحدید 13) مومنوں ہماری طرف دیکھو نا تاکہ ہم بھی تمہاری روشنی سے کچھ روشنی حاصل کر لیں گے۔ کہا جائے گا واپس پیچھے چلے جاؤ اورروشنی ڈھونڈ کر آؤ۔ لہذا منافق اس جگہ کی طرف واپس لوٹیں گے جہاں روشنی لوگوں کے ایمان و اعمال کے اندازے کے مطابق تقسیم کی گئی تھی۔ وہ وہاں کچھ بھی نہیں پائیں گے۔ پھر وہ دوبارہ مومنوں کی طرف لوٹ کر آئیں گے ۔ اس دوران ان کے اور ان کے درمیان دیوار حائل ہو چکی ہو گی۔ قرآن مجید نے اس مقام کی منظر کشی فرمائی کہ : " ضرب بینھم بسور لہ باب، باطنہ فیہ الرحمۃ وظاھرہ من قبلہ العذاب۔ ینادونھم الم نکن معکم " ان کے درمیان دیوار ھائل ہو جائے گی۔ اس میں ایک دروازہ ہو گا اس کے اندر کی طرف رحمت ہو گی اور سامنے کی طرف عذاب ہو گا۔ (جو سمت منافقوں کی ہو گی) پھر منافق مومنوں کو پکاریں گے کہ کیا دنیا میں ہم تمہارے ساتھ نہیں تھے؟ یعنی ہم تمہاری طرح نمازیں بھی پڑھتے تھے اور تمہارے ساتھ جہاد بھی کرتے تھے۔ اہل ایمان ان سے کہیں گے: "قالو بلا ولکنکم فتنتم انفسکم " مومن ان سے کہیں گے ، ہاں ہاں تم ہمارے ساتھ تو تھے لیکن تم نے اپنے نفسوں کو فتنوں میں واقع کر رکھا تھا۔ (الحدید 13) ایک خاص کیفیت کا احتمال : احتمال ہے کہ یہ دیوار پل صراط کے آخر میں نصب کی جائے گی اور اس میں سے ایک دروازہ چھوڑ دیا جائے گا جس سے مومن جنت کے راستے کی طرف خلاصی پائیں گے۔ یہی ہو گی وہ رحمت جو اس کے اندر کی جانب ہو گی۔ بہر حال اس کا ظاہر وہ آگ کے متصل ہو گا۔ اگرچہ آگ اس سے نیچے ہو گی۔ ا س کے متوازی اور مقابل نہیں ہو گی۔ منافق ہمیشہ کے لئے دیوار کے اندر کی طرف راستہ نہیں پائیں گے، لہذا و ہ لا محالہ پل صراط کے اوپر سے بھی پھینک دئیے جائیں گے جہاں سے وہ جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں گرتے چلے جائیں گے۔ یہ سلوک ان کے ساتھ ان کے اس استہزا کی پاداش میں ہو گا جو وہ مومنوں کے ساتھ دنیا میں کیا کرتے تھے ۔ جیسا کہ ہم کتاب الاسماء والصفات میں اس کی وضاحت کر چکے ہیں۔ فصل : اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان : فوربک لخشرنھم والشیاطین ثم لنحصرنھم حول جھنم جثیا۔ ثم لننزعن من کل شیعۃ ایھم اشد علی الرحمٰن عتیا۔۔۔ تا ۔۔۔ ونذر الظالمین فیھا جثیا " (مریم 68 تا 72) پس قسم ہے تیرے رب کی ہم ان لوگوں کو ضرور اکٹھا کر لائیں گے اور شیطانوں کو بھی پھر ہم ان کو ضرور جہنم کے گرد گھٹنوں کے بل حاضر کریں گے۔ پھر ہم ضرور کھینچ کر علیحدہ کر لیں گے ہر گروہ میں سے اس کو جو رحمٰن پر اکڑ نے میں زیادہ سخت تھا۔ پھر البتہ ہم خوب جانتے ہیں ان لوگوں کو جو جہنم میں داخل ہونے کے لئے زیادہ مناب ہیں۔ اور تم میں سے کوئی بھی نہیں (بچے گا) مگر (ہر ایک) جہنم پر آئے گا۔ تیرے رب کا یہ لازمی فیصلہ ہے۔ پھر ہم ان لوگوں کو نجات دیں گے جو (اللہ کی نافرمانی اور کفر و شرک سے) بچتے رہے اور ہم ظالموں (کافروں مشرکوں) کو جہنم میں اوندھے گرے ہوئے چھوڑ دیں گے ۔ مذکورہ بالا آیات کے مفہوم میں اہل تفسیر کا اختلاف: اہل تفسیر نے مذکورہ بالا آیات میں لفظ وارد ھا کے مفہوم و مطلب کو بیان کرنے میں اختلاف کیا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے دو میں سے زیادہ صحیح روایت کے مطابق وارد ہونے سے مراد جہنم میں دخول مراد ہے ۔ اور اہل تفسیر نے اس بات پر دلیل اسی دوسری آیت سے پکڑی ہے: "انتم لھا واردون لو کان ھؤلا ء الھۃ ماور دوھاو کل فیھا خالدون " (الانبیاء 98-99) (اے مشرکو) تم اور وہ جن کی تم عبادت کرتے ہو اللہ کے سوا (سب) جہنم کا ایندھن ہیں۔ تمہیں اس میں ضرور داخل ہونا ہے۔ اگر یہ (بت وغیرہ) الٰہ (معبود ومختار) ہوتے تو جہنم میں داخل نہ ہوتے،سارے اس میں سدا پڑے رہیں گے۔ اور دوسری اس آیت سے بھی دلیل پکڑی ہے مفسرین نے: "فاوردھم النار وبئس الورد المورود " (ھود 98) پس داخل کرے گا ان کو آگ میں اور بری ہے داخل ہونے کی جگہ۔ تو اس مقام پر ورود سے مراد دخول ہی ہے۔ چنانچہ الا واردھا کا قول بھی اسی طرح ہے۔ یعنی اس سے مراد بھی دخول ہی ہے۔ اور یہی بات ہوئی جب ان سے نافع بن ازرق نے بحث کی تھی تو انہوں نے اس کے جواب مٰں یہ کہا تھا کہ آپ نے اور میں نے دونوں نے اس میں داخل تو ہونا ہی ہے، پھر میں دیکھوں گا کیا ہم نکلتے ہیں یا نہیں؟ اور عبداللہ بن سائب سے مروی ہے کہ اس نے اس شخص سے سنا جس نے ابن عباس سے سنا تھا کہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ جہنم میں وارد ہونے والے کفار ہوں گے۔ مومن اس میں داخل نہیں ہو گا۔ جبکہ یہ روایت منقطع ہیں اور پہلی روایت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اکثر ہے اور زیادہ مشہور ہے۔ اور ہم نے عبداللہ بن رواحہ سے روایت کی ہے کہ ایک مرتبہ وہ رو پڑے تھے اور ان کو روتا دیکھ کر ان کی اہلیہ بھی رو پڑی تھیں اور فرمانے لگے کہ میں خوب جانتا ہوں کہ میں جہنم میں وارد ہوں گا اور یہ مجھے نہیں معلوم کہ کیا میں اس سے نجات بھی پاؤں گا یا نہیں؟ اور سدی نے فرّہ ہمدانی سے، اس نے عبداللہ بن مسعود سے روایت کی ہے کہ انہوں نے ان لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حدیث بیان کی تھی کہ انہوں نے فرمایا لوگ جہنم میں داخل ہوں گے، پھر اس سے اپنے اپنے اعمال کے ساتھ نکلیں گے۔ اور ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایک اور روایت میں ہے فرہ سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہ انہوں نے فرمایا: یدخلو نھا یعنی ورود کی جگہ واضح دخول کا لفظ استعمال فرمایا۔ یا یلجونھا فرمایا دونوں کا مطلب داخل ہونا ہے۔ یعنی جہنم میں داخل ہوں گے، پھر اس سے اپنے اعمال کے ساتھ نکلیں گے۔ اور ایک اور روایت میں ابو الاحوص سے، عبداللہ سے ہے کہ (وان منکم الا واردھا) یعنی تم میں سے ہر شخص جہنم پر وارد ہو گا۔ فرمایا کہ راستے کا پل جہنم پر تلوار کی دھار کی طرح ہے۔ (جس پر) پہلا گروہ بجلی کی مثل گذر جائے گا اور دوسرا طبقہ ہوا کی مثل اور تیسرا طبقہ بہترین گھوڑے کی مثل اور چوتھا طبقہ بہترین اونٹ اور مویشیوں کی مثل گذریں گے اور فرشتے کہتے ہوں گے اے ہمارے رب بچائیو بچائیو۔ اور ان آثار کی اسناد ہم نے کتاب البعث والنشور میں ذکر کر دی ہیں اور ہم نے روایت کی ہے سفیان سے، ان کو زہری نے، ان کو سعید بن مسیب نے، ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ کسی مسلمان کے تین بچے نہیں مریں گے کہ پھر وہ جہنم میں داخل ہو جائے، مگر قسم کو پورا کے لئے پھر سفیان نے یہ آیت پڑھی: " وان منکم الا واردھا" یعنی ایسا انسان صرف اسی آیت کا تقاضا پورا کرنے کے لئے داخل ہو گا اور بس۔

Shuab ul Iman · Ninth of the people of faith › And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell · Hadith 368

شعب الإيمان · التاسع من شعب الإيمان ‹ فصل في أصحاب الأعراف ـ · حديث 382

381 - أخبرناه أبو زكريا قال أنا أبو الحسن الطرايفي ثنا عثمان بن سعيد الدارمي ثنا عبد الله بن صالح عن معاوية بن صالح عن علي بن أبي طلحة عن ابن عباس : فذكره قال البيهقي رحمه الله : و روينا في حديث مرسل ضعيف أنه سئل عن أصحاب الأعراف فقال : قوم قتلوا في سبيل الله عز و جل في معصية آبائهم فمنعهم من الجنة معصيتهم آباءهم و منعهم من النار قتلهم في سبيل الله عز و جل و أما قوله : { ونادى أصحاب الأعراف رجالا يعرفونهم بسيماهم قالوا ما أغنى عنكم جمعكم وما كنتم تستكبرون } فهذا قولهم وهم على السور قبل أن يدخلوا الجنة لرجال من الكفار ثم ينظرون إلى أهل الجنة فيرون الضعفاء و المساكين ممن كان يستهزئ بهم الكفار في الدنيا فينادونهم يعني فينادون الكفار أهؤلاء يعني الضعفاء و المساكين الذي حلفتم إذا أنتم في الدنيا { لا ينالهم الله برحمة } يعني الجنة و يقول الله لأصحاب الأعراف : { ادخلوا الجنة لا خوف عليكم و لا أنتم تحزنون } هكذا فسره الكلبي فيما رواه عن أبي صالح عن ابن عباس و قال مقاتل بن سليمان هذا قول أصحاب الأعراف لرجال من أهل النار في النار { يعرفونهم بسيماهم قالوا ما أغنى عنكم جمعكم وما كنتم تستكبرون } فأقسم أهل النار أن أصحاب الأعراف داخلون النار معهم فقالت الملائكة الذين حبسوا أصحاب الأعراف على الصراط أهؤلاء يعني أصحاب الأعراف الذين أقسمتم يا أهل النار لا ينالهم الله برحمة و هم داخلون النار معكم { ادخلوا الجنة لا خوف عليكم و لا أنتم تحزنون } بالموت و هذا القول أشبه بما روينا عن علي بن أبي طلحة عن ابن عباس و أمر أصحاب الأعراف على الأصل الذي قدمنا ذكره و هو أن من وافى القيامة مؤمنا و لسيئاته وزن في ميزانه و هو بين أن يغفر له من غير تعذيب و بين أن يعذب بقدر ذنوبه ثم يغفر له فقد يكون منهم من لا يدخل الجنة في الحال و لا يدخل النار و لكن يحبس على الأعراف و هو السور ـ قال مقاتل على الصراط ـ فإذا أراد الله دخولهم الجنة أمرهم بدخولها برحمته أو بشفاعة الشفعاء و الله أعلم

ہمیں اس کی خبر دی ہے ابو زکریا نے، ان کو ابو الحسن طرائفی نے ، ان کو عثمان بن سعید دارمی نے ۔ ان کو عبداللہ بن صالح نے، ان کو معاویہ بن صالح نے ، ان کو علی بن ابو طلحہ نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے، پھر مذکورہ روایت ذکر کی ہے۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ہم نے مرسل اور ضعیف حدیث میں روایت کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اصحاب اعراف کے بارے میں پوچھا گیا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہوں گے جو اللہ کی راہ میں قتل کئے گئے ہوں مگر وہ ماں باپ کے نا فرمان ہوں گے۔ لہذ ا والدین کی نا فرمانی ان کو جنت سے روک دے گی اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنا اور شہید ہو جانا ان کو جہنم سے روک دے گا۔ بہر حال اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان : "ونادی اصحب الاعراف رجالاً یعرفون نھم بسیماھم قالو ما اغنی عنکم جمعکم وما کنتم تستکبرون (اعراف 48) اعراف والے پکاریں گے کچھ ان جوانوں کو جنہیں وہ ان کی نشانیوں سے پہچانتے ہوں گے۔ نہ کام آئی تمہاری جماعت اور نہ ہی تمہارا اترانا۔ اعراف والوں کی یہ بات دیوار کے پاس ہو گی اور جنت میں ان کے داخلے سے قبل کافر مردوں سے ہو گی۔ پھر اعراف والے اھل جنت کو دیکھیں گے تو ان میں ضعیف اور مسکین نظر آئیں گے ۔ کفار جن کے ساتھ دنیا میں استہزاء کرتے تھے۔ پھر اعراف والے کافروں کو پکار کر کہیں گے کیا یہی ضعفاء اور مساکین تھے جن کے ساتھ تم قسمیں کھاتے تھے جب تم دنیا میں تھے کہ ان کو اللہ کی رحمت نہیں پہنچے گی۔ یعنی جنت نہیں ملے گی اور اللہ تعالیٰ اصحاب اعراف سے فرمائیں گے تم جنت میں داخل ہو جاؤ، تمہارے اوپر کوئی خوف نہیں اور نہ ہی تم غمگین ہو گے۔ کلبی نے اسی طرح ان آیات کی تفسیر کی ہے اس روایت کے مطابق جسے ابو صالح نے ابن عباس سے روایت کیا ہے۔ اور مقاتل بن سلیمان نے کہا کہ یہ قول اصحاب اعراف کا اہل جہنم کے کچھ لوگوں کے لئے ہو گا جو جہنم میں ہوں گے۔ پہچانیں گے ان کو ان کی نشانیوں سے (اور کہیں گے کہ) تمہیں تمہاری جماعت نے اور تمہارے اکڑنے کوئی فائدہ نہیں دیا۔ چنانچہ جہنمی قسمیں کھائیں گے کہ اعراف والے بھی ان کے ساتھ جہنم میں داخل ہوں گے اور فرشتے کہیں گے جنہوں نے اصحاب اعراف کو راستے پر روک رکھاہو گا (جہنمیوں ےس) کہ کیا یہی لوگ تھے۔ یعنی اعراف والے جن کے بارے میں تم اے اہل جہنم قسمیں کھاتے تھے کہ ان کو اللہ کی رحمت نہیں پہنچے گی اور وہ لوگ تمہارے ساتھ جہنم میں داخل ہو ں گے۔ (تم داخل ہو جاؤ اے اعراف والو جنت میں تمہارے اوپر کوئی خوف نہیں نہ تم غمگین ہو گے موت کے ساتھ)۔ یہ قول زیادہ انسب ہے اس روایت کے سبب جسے ہم نے علی بن ابی طلحہ سے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے۔ اور اصحاب اعراف کا معاملہ اس اصول اور قاعدے کے مطابق ہے جس کا ذکر ہم نے پہلے کر دیا ہے اور وہ یہ کہ جو شخص قیامت کے دن ایمان کی حالت میں آیا اور اس کے گناہوں کا اس کے ترازو میں وزن بھی بن گیا ، وہ اس کیفیت کے درمیان ہو گا کہ اسے بغیر عذاب کے بخش دیا جائے گا یا اس کو اس کے گناہوں کی مقدار کے مطابق عذاب دیا جائے۔ اس کے بعد اس کو بخش دیا جائے۔ لہذا وہاں کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو فی الحال نہ تو جنت میں داخل ہوں گے اور نہ ہی جہنم میں۔ لیکن اعراف پر روک لئے جائیں گے اور وہ دیوار ہے۔ مقاتل کے بقول صراط پر ہے۔ جب اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو جنت میں داخل کرنے کا ارادہ کرے گا تو ان کو اپنی رحمت سے یا سفارش کرنے والوں کی سفارش سے جنت میں داخلے کا حکم دے گا۔ واللہ اعلم۔ فصل اس باب میں جس چیز کی معرفت لازمی ہے اور ضرور ی ہے وہ یہ ہے کہ آپ یہ جان لیں کہ جنت و جہنم دونوں مخلوق ہیں، جو اپنے اپنے مستحق لوگوں کے لئے بنائی جا چکی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ جنت کے بارے ارشاد فرماتے ہیں: اعدت للمتقین (آل عمران 133) تقوے والے لوگوں کےلئے جنت تیا ر کی گئی ہے۔ اور جہنم کے بارے میں فرمایا کہ : اعد ت للکافرین (البقرہ 24) وہ کافروں کے لئے تیا ر کی گئی ہے۔ تیار کرنے کی وضاحت فرمائی ہے اور تیار وہی چیز ہو تی ہے جو پیدا ہو چکی ہو اور موجود ہو۔ نیز جنت کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "وجنۃ عرضھا السموات والارض (آل عمران 133) جنت کا عرض اور چوڑائی آسمانوں اور زمین کے برابر ہے۔ اور معدوم اور غیر موجود شے کا عرض نہیں ہوتا ۔ یہ آیات اس بات کی دلیل ہیں کہ جنت و جہنم بن چکی اور تیار ہو چکی ہیں اور موجود ہیں۔

البيهقي و روينا في حديث مرسل ضعيف ← ابْنُ عَبَّاسٍ فَذَكَرَهُ. ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ ← أَبُو زَكَرِيَّا

Shuab ul Iman · Ninth of the people of faith › Chapter in the owners of customs · Hadith 382

شعب الإيمان · التاسع من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 385

384 - حدثنا أبو سعد عبد الملطك بن أبي عثمان الزاهد إملاء أنا أبو عمرو بن مطر ثنا محمود بن محمد الواسطي ثنا وهب بن بقية أنا خالد بن عبد الله عن محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لما خلق الله الجنة و النار أرسل جبريل عليه السلام إلى الجنة فقال : اذهب فانظر إليه و إلى ما أعددت لأهلها فيها فذهب فنظر إليها و إلى ما أعد الله لأهلها فيها فرجع فقال : وعزتك لا يسمع بها أحد إلا دخلها فأمر بالجنة فحفت بالمكاره فقال : ارجع فانظر إليها و إلى ما أعددت لأهلها فيها قال فنظر إليها ثم رجع فقال : و عزتك لقد خشيت أن لا يدخلها أحد قال : ثم أرسله إلى النار قال : اذهب فانظر إليها و إلى ما أعددت لأهلها فيها قال : فنظر إليها فإذا هي تركب بعضها بعضا ثم رجع فقال : و عزتك لا يدخلها أحد يسمع بها فأمر بها فحفت بالشهوات ثم قال : اذهب فانظر إليها وإلى ما أعددت لأهلها فيها فنظر إليها فرجع فقال : و عزتك لقد خشيت أن لا ينجو منها أحد إلا دخلها قال البيهقي رحمه الله : و هذا باب كبير الأخبار فيها كثيرة و قد ذكرناها في الجزء الثامن من كتاب البعث و ذكرنا في الآخر بعده ما ورد من الآثار و الأخبار في صفة الجنة و عددها و صفة النار و عددها و صفة النار و عددها فأغنى ذلك عن الإعادة ها هنا و دل الكتاب ثم السنة على أن عدد الجنان أربعة و ذلك لأنه قال في سورة الرحمن : { و لمن خاف مقام ربه جنتان } ثم وصفهما ثم قال { و من دونهما جنتان } ثم وصفهما و روينا عن أبي موسى عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال : جنتان من ذهب آنيتهما و ما فيهما و جنتان من فضة آنيتهما و ما فيهما و في رواية أخرى : جنتان من ذهب للسابقين و جنتان من ورق لأصحاب اليمين و ذكر بعض أهل العلم أن جنة المأوى اسم للجميع و كذلك جنة عدن و جنة النعيم و دار الخلد و دار السلام و يشبه أن يكون الفردوس أيضا اسما للجميع و قد قيل هي اسم لأعلاهن درجة و أما أبواب الجنة فهن ثمانية روينا ذلك في حديث عمر و سهل بن سعد و غيرهما عن النبي صلى الله عليه و سلم و روينا عن عتبة بن عبد السلمي عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال : و إن لها ـ يعني الجنة ـ ثمانية أبواب و لجهنم سبعة أبواب و قد قال الله عز و جل في جهنم : { لها سبعة أبواب لكل باب منهم جزء مقسوم } و روينا عن علي رضي الله عنه أنه قال : أبواب جهنم هكذا يعني بابا فوق باب و روينا في حديث مرسل أنها سبعة أبواب جهنم و لظى و الحطمة و السعير و سقر و الجحيم و الهاوية و قال بعض أهل العلم جهنم اسم لجميع الدركات و دركات سبع فذكر هذه و ذكر معهن الحريق و أما إكرام الله المؤمنين بالنظر إليه فقد ذكرناه في كتاب الرؤية مع ما ورد فيه من الكتاب و السنة من أراد معرفته نظر فيه إن شاء الله و عندي أنه لو وقف الحليمي رحمه الله على حديث أبي هريرة في صفة الإيمان و تأول اللقاء المذكور فيه على ما تأول عليه أبو سليمان الخطابي رحمه الله في جماعة من أصحابنا رحمهم الله لجعل الإيمان بلقاء الله تعالى ـ و هو رؤيته و النظر إليه كما وردت به الأخبار الصحيحة مع الآيات التي دلت عليه من كتاب الله عز و جل ـ شعبة من شعب الإيمان و بالله التوفيق

ہمیں خبر دی ہے بو سعیدعبدالملک بن ابی عثمان زاہد نے بطور املاء کے ان کو خبر دی ابو عمرو بن مطر نے ان کو محمود بن محمد واسطی نے ان کو وھب بن بقہ نے ان کو خالد بن عبداللہ ، ان کو محمد بن عمرو نے ان کو ابو سلمہ نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ : اللہ تعالیٰ نے جب جنت اور جہنم بنائی تو جبرائیل علیہ السلام کی جنت کی طرف بھیجا اور فرمایا کہ جاؤ جا کر جنت کو دیکھو اور میں نے اس میں جو اہل جنت کے لئے نعمتیں تیار کی ہیں وہ دیکھو جبرئیل گئے جنت دیکھی اور جنت میں اہل جنت کے لئے جو کچھ تیار کیا گیا ہے اس کو جا کر دیکھا۔ جبرئیل واپس آئے اور آ کر عرض کیا، تیری عزت کی قسم ہے جو بھی اس کے بارے میں سنے گا اس میں داخل ہونے سے نہیں روکے گا۔ ضرور اس میں داخل ہو جائے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے حکم دیا اور جنت کو مشکلات کی باڑ لگا دی گئی۔ پھر فرمایا جبرئیل واپس جاؤ اور جا کر جنت کو دیکھو اور میں نے اس میں جو کچھ جنت والوں کے لئے تیار کیا ہے۔ اس کو دیکھو فرمایا کہ جبرائیل نے جا کر دیکھا ۔ پھر واپس آ ئے اور کہا تیری عزت کی قسم ہے میں ڈرتا ہوں کہ اس میں تو اب کوئی بھی داخل نہیں ہو سکے گا۔ پھر جبرائیل کو بھیجا جہنم کی طرف ۔ فرمایا کہ جا تو اس کو دیکھ اور میں نے اہل جہنم کے لئے اس میں جو عذاب تیار کر رکھے ہیں ان کو دیکھ کر اس نے جا کر جہنم کو دیکھا اور وہ بعض بعض سے مرکب تھی۔ واپس لوٹا اور کہنے لگا تیری عزت کی قسم جو بھی اس کے (عذاب) کو سنے گا کوئی بھی اس میں داخل نہیں ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں حکم دیا اور وہ شہوات و لذات کی باڑ لگا دی گئی۔ اس کے بعد فرمایا کہ اب جا کر اس کو دیکھ اور میں نے اس میں اہل جہنم کے لئے جو عذاب تیار کیا ہے اس کو بھی دیکھ اس نے جا کر اس کو دیکھا پھر واپس آیا اور عرض کیا تیری عزت کی قسم ہے میں تو اس بات سے ڈرتاہوں کہ اس سے کوئی بھی نہیں بچے گا بلکہ ہر شخص اب تو جہنم میں داخل ہوجائے گا۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ یہ بہت بڑا باب ہے۔ اس بارے میں احادیث بہت ہیں۔ ہم نے انہیں کتاب البعث والنشور کی آٹھویں جلد میں ذکر کر دیا ہے اور ان کے بعدآخر میں ہم نے وہ اخبار و آثارذکر کی ہیں جو جنت کی تعریف اور اس کی تعداد کے بارے میں اور جہنم کی وضاحت اور اس کی تعداد کے بارے میں وارد ہوئی ہیں۔ جس کے بعد اب ان کا یہاں اعادہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ چار جنات ہیں۔ کتاب و سنت اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ تعدد چار ہے۔ یہ اس لئے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ رحمٰن میں ارشاد فرمایا ہے کہ : " ولمن خاف مقام ربہ جنتان (الرحمٰن 46) جو شخص اپنے رب کے آگے پیشی کے لئے کھڑے ہو نے سے ڈر گیا اس کے لئے دو جنتیں ہیں (یا دو باغ ہیں)۔ اس کے بعد پھر اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کی وصف بیان کی ہے ۔ پھر ارشاد فرمایا کہ : "ومن دونھما جنتٰن (الرحمٰن 62) اور ان دو کے علاوہ یا ان کے سوا دو باغ اور ہیں۔ پھر ان دو کی وصف بیان فرمائی ہے۔ اور ہم نے حضرت موسیٰ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : دو جنتیں ایسی ہیں کہ وہ دونوں سونے کی ہیں۔ اس کے برتن اور سب کچھ جو ان دونوں میں ہے (سونے کا ہے) اور دو جنتیں چاندی کی ہیں، ان کے برتن بھی اور وہ سب کچھ جو ان میں ہے( وہ چاندی کا ہے) اور ایک دوسری روایت میں ہے۔ دو جنتیں سونے کی سابقون کے لئے ہیں اور دو جنتیں چاندی کی دائیں ہاتھ والوں کے لئے ہیں۔ (یعنی جن کے اعمالنامے دائیں ہاتھ میں دئیے جائیں گے)۔ اور بعض اہل علم نے ذکر کیا ہے کہ (جنۃ الماویٰ) سب کا اور جمیع کا نام ہے۔ اسی طرح (جنۃ عدن) اور (جنۃ نعیم ) اور (دارالخلد) اور (دار السلام) اور مناسب ہے کہ (جنۃ الفردوس) بھی جمیع کا اور سب کا نام ہو اور تحقیق یہ کہاگیا ہے کہ یہ درجے کے اعتبار سے ان سب سے اونچے کی جنت کا نام ہے۔ اور جنت کے دروازے آٹھ ہیں۔ جن کے بارے میں ہم نے حدیث میں حضرت عمر حضرت سہل بن سعد اور ان دونوں کے سوا کی روایت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کی ہیں۔ اور ہم نے عتبہ بن عبد سلمی سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جنت کے آٹھ دروازے ہیں اور جہنم کے سات دروازے ہیں ۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "لھا سبعۃ ابواب لکل باب منھم جزء مقسوم (الحجر 44) جہن کے سات دروازے ہیں ۔ ہر دروازے کے لئے جہنمیوں کا ایک کوٹہ مقرر ہے۔ اور ہم نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ جہنم کے دروازے اس طرح ہیں یعنی ایک دروازہ دوسرے کے اوپر ہے۔ اور ہم نے ایک مرسل حدیث مین یہ بات روایت کی ہے کہ جہنم کے سات دروازے ہیں ۔ ان کے نام یہ ہیں (1) لظی (2) الحطمۃ (3) السعیر (4) سقر (5) الجحیم (6) الھاویہ ۔ اور بعض اہل علم نے کہا کہ جہنم نام ہے تمام طبقات جہنم کا اور اس کے طبقات سات ہیں۔ نہوں نے مذکورہ چھ نام لکھا ہے اور ان کے ساتھ یہ ذکر کیا ہے۔ (7)۔۔ الحریق ۔ باقی رہا اللہ تعالیٰ کا اہل ایمان پر نظر کرم کے ساتھ اکرام کرنا تو ہم نے اس کو کتاب الرؤیت میں ذکر کر دیا ہے اور اس کے ساتھ وہ دلائل بھی ذکر کر دئیے ہیں جو اس بارے میں کتاب و سنت میں آئے ہیں۔ جو شخص اس کی معرفت کا ارادہ کر ے وہ اس کے دیکھے۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ کا موقف: اور میرے نزدیک (حقیقت یہ ہے کہ) اگر شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ صفت ایمان کے بارے میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ والی حدیث پر واقف ہوتے تو مطلع ہوتے اور اس میں مذکورہ اللہ کی ملاقات کی وہ تاویل کرتے جو ہمارے اصحاب رحمہم اللہ کی جماعت میں سے شیخ ابو سلیمان خطابی نے کی ہے تو وہ بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ ملاقات کرنے پر ایمان لانے کو ایمان کے شعبوں میں سے ایک شعبہ قرار دیتے اور اللہ تعالیٰ کی ملاقات وہی اس کی رؤیت ہے اور اس کی طرف نظر کرنا اور دیکھنا ہے، جبکہ اس کے بارے میں اخبار صحیحہ کے ساتھ ساتھ کتاب اللہ کی آیات بھی آئی ہیں جو ا س کتاب اللہ میں سے دلالت کرتی ہیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ،: ← أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ ← أبو سعد عبد الملطك بن أبي عثمان الزاهد إملاء

Shuab ul Iman · Ninth of the people of faith › Season · Hadith 385

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 7918

7918 - أخبرنا أبو عبد الله الحسين بن عمر بن برهان و أبو الحسين بن الفضل القطان و أبو محمد السكري قالوا أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا الحسن بن عرفه حدثني محمد بن فضيل بن غزوان الضبي عن داود الأزدي عن عامر عن علقمة عن عبد الله قال : من سره أن ينظر إلى وصية محمد صلى الله عليه و سلم التي عليها خاتمة أمره فليقرأ { قل تعالوا أتل ما حرم ربكم عليكم } الآيات الثلاث

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حسین بن عمر بن برہان نے اور ابوالحسین بن فضل قطان نے اور ابومحمد سکری نے انہوں نے کہا ہمیں خبر دی اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو حسن بن عرفہ نے ان کو محمد بن فضیل بن عز وان ضبی نے ان کو داؤ داز دی نے ان کو عامر نے ان کو علقمہ نے ان کو عبداللہ نے وہ کہتے ہیں کہ جس کو یہ بات خوش لگے کہ وہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت کی طرف دیکھے جس پر آپ کا معاملہ ختم ہی ہو گیا تھا اسے چاہئے کہ وہ یہ تین آیات پڑھے۔قل تعالو اتل ماحرم ربكم عليكم. (سورۃ الانعام پارہ ۸ آیت ۱۵۱-۱۵۲-۱۵۳) آپ کہہ دیجئے تم لوگ آ ؤ میں تمہیں پڑھ کر بتاؤں جو کچھ تمہارے رب نے تمہارے اوپر حرام کیا ہے ۔

عَبْدُ اللَّهِ ← عَلْقَمَةَ ← عَامِرٍ، ← دَاوُدَ الْأَزْدِيِّ ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ الضَّبِّيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › Season · Hadith 7918

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حسن الخلق · حديث 8014

8014 - أخبرنا أبو الحسن المقري أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا أبو يحيى زكريا بن داود الخفاف نا عبد الله بن صالح نا خلف بن خليفة نا حجاج بن دينار عن محمد بن ذكوان عن عبيد بن عمرو بن عنبسة : أن رجلا سأل النبي صلى الله عليه و سلم فقال له : ما الإيمان ؟ قال : الصبر و السماحة و خلق حسن قال أحمد رحمه الله : يعني بالصبر الصبر على محارم الله و السماحة أن يسمح بإداء ما افترض الله و خلق مكارم الأخلاق و العمل هكذا وجدته مدرجا و هذا التفسير من قوله بعض رواته و قد

ہمیں خبر دی ابوالحسن مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحٰق نے ان کو ابویحییٰ زکریا بن داؤدخفاف نے ان کو عبداللہ بن صالح نے ان کو خلف بن خلیفہ نے ان کو حجاج بن دینار نے ان کومحمد بن ذکوان نے ان کو عبید بن عمر نے ان کوعمرو بن عنبسہ نے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ ایمان کیا ہے۔ آپ نے فرمایا صبر اور سماحت اور حسن خلق ۔ امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا صبر سے آپ نے یہ مرادلیا ہے اللہ کی حرام کردہ چیزوں ( محارم اللہ ) سے رک جانا اور سماحت یہ ہے کہ جو چیز اللہ نے اس پر لازم کر دی ہے اس کو ادا کر نے میں فراخ دلی اور طیب خاطر سے کام لے۔ اور خلق حسن : نیک اخلاق ہیں اور ان پر عمل کرنا۔ میں نے اس کو ایسی ہی پایا ہے درج شد و۔ اور یہی تفسیر اس کے بعض راویوں سے بھی آئی ہے۔ ۸۰۱۵ ہمیں خبر دی ابوعبداللہ بن عبداللہ بیہقی نے ان کو احمد بن محمد بن حسین بیہقی نے ان کو داؤد بن حسین بیہقی نے ان کو حمید بن زنجویہ نے ان کو یعلیٰ بن عبید نے ان کو حجاج بن دینار نے ان کو محمد بن ذکوان نے ان کو شہر بن حوشب نے ان کو عمر و بن عنبسہ نے وہ کہتے ہیں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے پوچھا کہ اسلام کیا ہے؟ آپ نے فرمایا پاکیزہ کلام کرنا اور کھانا کھلا نا افضل ہے؟ آپ نے فرمایا اس شخص کا اسلام کہ مسلمان جس کے ہاتھ سے اور اس کی زبان سے سلامت رہیں۔ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا کہ ایمان کون سا افضل ہے آپ نے فرمایا حسن خلق ۔

عبيد بن عمرو بن عنبسة ← مُحَمَّدِ بْنِ ذَكْوَانَ ← حَجَّاجِ بْنِ دِينَارٍ ← خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← أَبُو يَحْيَى زَكَرِيَّا بْنُ دَاوُدَ الْخَفَّافُ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › And it is the door of good manners · Hadith 8014

شعب الإيمان · الثاني والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب الاقتصاد في النفقة وتحريم أكل المال الباطل · حديث 6544

6544 - مكرر ـ : قال الله عز و جل : { ولا تجعل يدك مغلولة إلى عنقك ولا تبسطها كل البسط فتقعد ملوما محسورا } وقال : { وآت ذا القربى حقه والمسكين وابن السبيل ولا تبذر تبذيرا * إن المبذرين كانوا إخوان الشياطين وكان الشيطان لربه كفورا } وقال في صفة الذين سماهم عباد الرحمن : { والذين إذا أنفقوا لم يسرفوا ولم يقتروا وكان بين ذلك قواما } فاشتملت هذه الآيات كلها على الأمر بالاقتصاد والنهي عن الإسراف وذلك موافق للنهي عن الإسراف في الأكل والشرب لأن الله عز و جل يقول : { كلوا واشربوا ولا تسرفوا إنه لا يحب المسرفين } فإذا كان الإسراف في الأكل والشرب ممنوعا وجب أن يكون الإسراف في الإنفاق ممنوعا لأن ذلك إنما يكون بصرف المال في أكثر مما يحتاج إليه من المأكول والمشروب وذلك الأكثر ممنوع من أكله فينبغي أن يكون صرف المال في الممنوع ممنوعا وحد السرف في الأكل أن يجاوز الشبع ويثقل البدن حتى لا يمكن معه أداء واجب ولا قضاء حق إلا يحمل على البدن وليس السرف في الإنفاق كل ما ذكرنا لكن في المسكن والملبس والمركب والخدام من السرف مثل ما في الطعام والشراب فأما الإنفاق فيما يبقى وينمو فليس فيها كشري الضياع والمواشي للنسل لأن هذه تغل وتنمو فيزداد بما يصرف فيها أضعافه قال : ومما يدخل في جملة التبذير والإسراف أن لا يبالي الواحد فيما يشتري ويبيع كأن يغبن أو يغبن فيبيع بوكس و يشتري بفضل وبسط الكلام فيه إلى أن حكي عن ابن عباس أنه قال : في قوله الله عز و جل : { ولا تأكلوا أموالكم بينكم بالباطل } قال الرجل : يشتري المتاع فيرده ويرد معه دراهم قال : وكل هذه ممنوع وهذا الوجه هو الموجب للحجر وكذلك الإنفاق في الملاهي والشهوات المحرمة من التبذير الموجب للحجر والوقف فأما إذا اشترى طعاما أكثر من حاجته أو لباسا أو خادما أكثر من حاجته فهو وإن كان سرفا فليس من السرف الموجب للحجر لأنه يستبدل بالملك ملكا يوازنه وإنما ينبع الإسراف منه في الانتفاع بما ملكه

مکر رہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ (1)ولا تجعل یدک مغلولۃ الٰی عنقک ولا لبسطھا کل البسط فتقعد ملوماً محسراً اپنے ہاتھ کو اپنی گردن کی طرف باندھے ہوئے نہ رکھئے اور نہ کھول دیجئے پوری طرح کھول دینا کہ پھر تو بیٹھ جائے (خالی ہاتھ ہو کر) الزام دیا ہوا ہارا ہوا۔ (2) واٰت ذاالقربی حقہ والمسکین وابن السبیل ولا تبذر تبذیراً ان المبذرین کانوا اخوان الشیٰطین وکان الشیٰطن لربہ کفوراً قرابت دار کو اس کا حق دیجئے اور محتاج کو اور مسافر کو اور مت اڑا مال کو بیجا بے شک مال کو بیجا اڑانے والے شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا ناشکرا ہے۔ اوراللہ تعالیٰ نے ان بندوں کی تعریف فرمائی ہے جن کا نام اللہ نے عبادالرحمٰن رکھا ہے۔ (3) والذین اذا انفقوا لم یسرفوا ولم یقتروا وکان بین ذالک قوماً اللہ کے بندے (عبادالرحمٰن) وہ ہیں جب خرچ کرنے لگتے ہیں تو وہ فضول خرچی نہیں کرتے اور نہ ہی تنگی کرتے ہیں (کنجوسی) بلکہ ان دونوں کے درمیان اعتدال اور میانہ روی سے چلتے ہیں۔ یہ تمام آیات اقتصاد اور میانہ روی کا درس دے رہی ہیں، اور اسراف وفضول خرچی سے منع کر رہی ہیں۔ یہ بالکل اسی طرح فضول خرچی سے ممانعت ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے کھانے پینے سے اسراف کرنے یعنی ضرورت سے زیادہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔ ارشاد باری ہے: (3) کلوا واشربوا ولا تسرفوا انہ لا یحب المسرفینکھاؤ اور پیئو اور اسراف نہ کرو بے شک اللہ تعالیٰ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتے۔ تشریح: جب اسراف اکل وشرب میں ممنوع ہے (یعنی کھانے پینے میں زیادتی منع ہے) تو واجب ہے کہ انفاق اور خرچ کرنے میں بھی اسراف کرنا بے حیا اور ضرورت سے زیادہ خرچ کر ناممنوع ہو گا ، اس لئے کہ زیادہ کھانے پینے کے لئے زیادہ سامان خورد ونوش ضروری ہو گا اور اس کے لئے زیادہ مال خرچ کرنا لازمی ہو گا لہٰذا یہ ساری باتیں ممنوع ہوں گی کیونکہ صرف ہو رہا ہے ممنوع میں لہٰذا وہ بھی ممنوع ہے۔ کھانے پینے میں اسراف کی حد : کھانے پینے میں اسراف کی حدیہ ہے کہ ضرورت کے مطابق پیٹ بھر کھانے سے تجاوز کر کے اتنا کھائے جس سے بدن بوجھل اور بھاری ہو جائے جس کی وجہ سے ادائے واجبات اور فرائض ممکن نہ رہے۔ اور حق بھی پورا نہ ہو سکے سوائے بدن پر لادنے کے۔ اسراف اور ضرورت سے زیادہ بے جا خرچ کرنا صرف یہی نہیں جو ہم ذکر کر چکے ہیں کھانے پینے کے طور سے بلکہ اسراف مکان بنانے میں بھی ہوتا ہے لباس پہننے کا بھی ہوتا ہے سواری میں بھی ہوتا ہے خادموں اور نوکروں میں بھی ہوتا ہے جیسے اکل وشرب میں اسراف ہوتا ہے (رہائش اور مکان پر زیادہ خرچ کرنا اسراف ہو گا۔لباس پر زیادہ خرچ کرنا اسراف ہو گا۔ سواری پر زیادہ خرچ اسراف ہو گا جیسے کم قیمت کا سواری کا جانور کم قیمت گاڑی سے کام چل سکتا ہے اور بہت زیادہ مہنگی کار میں جس پر لاکھوں خرچ ہوتے ہیں یہ سب اسراف ہو گا۔ بہر حال جو چیز باقی رہے۔ اور جس کی مالیت بڑھتی رہے وہ اسراف نہیں ہے جیسے اونٹ اور دیگر مالی مویشی جو افزائش نسل کے لئے ہوں (یہ اسراف نہیں ہو گا) اسی طرح اس دور میں اسی مقصد کے لئے زمین جائیداد مکان پلاٹ گاڑیاں جو اسی مقصد کے لئے یعنی تجارتی مقصد کے لئے ہوں۔ محض ریاکاری دیکھاوے اور تکبر کے لئے نہ ہوں اور نہ حرام ہو گا۔ (ایسی چیزیں بنانا ناجائز و اسراف نہیں ہو گا۔) مترجم۔ کیونکہ چیزیں مہنگی ہوتی رہتی ہیں بڑھتی ہیں اور زیادہ ہوتی ہیں لہٰذا ان چیزوں میں جو خرچ کیا تھا اس سے کئی گنا زیادہ اضافہ ہوتا ہے (یعنی اس میں تضیع مال نہیں ہے بلکہ اضافہ ہوتا ہے۔) اور فرمایا کہ۔ اس میں سے جو مجموعی طور پر اسراف اور فضول خرچی میں داخل ہے یہ ہے کہ نہ پرواہ کرے، ایک آدمی خریدے، بیچے دھوکہ کے ساتھ جیسے کوئی دوسرا اس کے ساتھ دھوکہ کرے تو یہ بھی بوگس مال بیچ دے اور اضافے کے ساتھ خرید کرے زیادہ۔ شیخ نیاس میں تفصیل کے ساتھ کلام کیا ہے یہاں تک کہ انہوں نے حضرت ابن عباس کی حکایت بیان کی کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں فرمایا: ولا تأکلوا اموالکم بینکم بالباطل تم لوگ اس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ۔ فرمایا کہ کوئی آدمی مثلاً سامان خریدے پھر اس کو واپس کر دے اور مال کے ساتھ دراہم بھی واپس کر دے (یہ بھی اسراف ہے) فرمایا کہ یہ سب ممنوع ہے۔ یہ مذکورہ صورت وہی حجر اور رکاوٹ کا سبب یا ممانعت کا ہے۔ اور لھو و لعب میں اور شہوات ولذات میں جو کہ حرام امور ہیں خرچ کرنا اسراف میں سے ہے جو موجب ممانعت کے لئے اور وقف سے یعنی اللہ کی راہ میں وقف کرنے سے مانع ہو گا (اس لئے ممنوع ہو گا۔) بہرحال جب کھانا اپنی ضرورت سے زیادہ خرید کرے یا کپڑے ضرورت سے زیادہ خریدے یا نوکر چاکر ضرورت سے زیادہ یہ چیزیں اگرچہ اسراف میں اور زیادتی میں ہیں لیکن ایسا اسراف نہیں جو موجب حجر و رکاوٹ ہو۔ اس لئے کہ ایک ملکیت کے ساتھ دوسری ملکیت تبدیل کرتا ہے جو اس کے ہم پلہ ہے یا ہم قیمت ہے۔ یہاں اسراف اس سے نفع اندوز ہونے میں ہو گا جس چیز کا مالک ہوا ہے۔

مكرر

Shuab ul Iman · Forty-second of the people of faith › It is the chapter on economics in alimony and the prohibition of consuming false money · Hadith 6544

شعب الإيمان · السادس والأربعون من شعب الإيمان ‹ ـ باب في السرور بالحسنة والاغتمام بالسيئة · حديث 6996

6996 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة من أصل كتابه أنا أبو الحسن محمد بن الحسن السراج نا الحسين بن المثنى البصري نا عفان نا حماد بن سلمة عن ثابت عن أبي عثمان عن عائشة : عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه كان يقول : اللهم اجعلني من الذين إذا أحسنوا استبشروا وإذا أساؤوا استغفروا قال الحليمي رحمه الله : ومعنى هذا والله أعلم أن من عمل حسنة فسره أن وفقه الله تعالى لها ويسرها له حتى حصلت في ميزانه فجلس كما يجلس المهنئ فرحا مسرورا بما يرجوه من رحمة الله وفضله أو عمل سيئة فساءته أن خلا بالله تعالى ونفسه حتى عمل بما سوله له الشيطان وجلس كما يجلس المصاب مهموما كئيبا حزينا حياء من الله تعالى وخوفا من مؤاخذته فذلك دليل على صدق إيمانه وخلوص اعتقاده فإن الثقة بالوعد والوعيد لا يكون إلا من قوة التصديق بالله ورسوله قال أحمد رحمه الله : ولذا جاء هذا التفسير مرفوعا بلفظ موجز قال : إن المؤمن إذا عمل حسنة رجا ثوابها وإذا عمل سيئة خاف عقابها

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے اپنی اصل تحریر سے۔ ان کو ابو الحسن محمد بن حسن سران نے ان کو حسین ، بن مثنی بصری نے ان کو عفان نے ان کو حماد بن سلمہ نے ان کو ثابت نے ان کو ابو عثمان نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ فرماتے تھے۔ اے اللہ مجھے ان لوگوں میں بنا دے جس وقت وہ نیکی کریں خوش ہو جا ئیں اور جب کوئی گناہ کریں تو اللہ سے معافی مانگیں۔ شیخ حلیمی رحمہ اللہ علیہ ے فرمایا اس کا معنی یہ ہے کہ جو شخص نیکی کا عمل کرے اور اس کو خوشی ہو کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اس نیکی کی توفیق دی ہے اور اس کو اسی نے اس کے لئے آسمان کیا ہے جس کے نتیجے میں اس کے ترازو میں (ثواب) حاصل ہوا ہے لہذا وہ شخص ایسے بیٹھے جیسے کوئی مبارک باد لینے والا خوش خوش بیٹھتا ہے اس لئے کہ اس کو اللہ کے فضل اور اس کی رحمت کی امید ہوتی ہے۔ یا وہ شخص برا عمل کرے تو اس کو خود کو بھی برا لگے کہ اس نے اللہ کے ساتھ خلوت میں ہوتے ہوئے یہ عمل کیوں کر لیا جو شیطان نے اس کے لئے آراستہ کر دیا تھا اور وہ شخص ایسے بیٹھے جیسے کوئی مصیبت زدہ پریشاں مغموم اور گھٹا گھٹا بیٹھتا ہے اللہ تعالیٰ سے شرم کرتے ہوئے اور اس کی طرف سے مواخذے کا ڈر رکھتے ہوئے۔ تو یہ کیفیت پیدا ہو جانا اس کے سچے ایمان پر اور خلوص اعتقاد پر دلیل ہے اس لئے کہ وعد اور وعید کا یقین محض یقین اور تصدیق باللہ اور تصدیق بالرسول کی قوت سے ہوتا ہے۔ امام احمد نے فرمایا کہ اسی لئے یہ تفسیر مرفوعاً آئی ہے مختصر الفاظ کے ساتھ۔ فرمایا کہ مومن جب کوئی نیکی کا عمل کرتا ہے تو اس کے ثواب کی امید رکھتا ہے اور جب کوئی برا عمل کرتا ہے اس کے عذاب سے ڈرتا ہے۔

عَائِشَةَ ← أَبِي عُثْمَانَ ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى الْبَصْرِيُّ، ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ السَّرَّاجُ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ

Shuab ul Iman · Forty-sixth of the people of faith › Chapter on pleasure with good and complaining about bad · Hadith 6996

شعب الإيمان · الثامن عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ · حديث 1880

1880 - أخبرنا أبو سعد الماليني قال : سمعت أبا بكر محمد بن نصر بن جعفر الروياني الصوفي يقول : سمعت أبا بكر الشبلي يقول : كان بدء أمري أني نوديت يا أبا بكر ليس لهذا أردناك و لا بهذا أمرناك فتركت خدمة المعتضد و نظرت في الناسخ و المنسوخ و التأويل و التفسير و التحليل و التحريم و سمعت الحديث و الفقه و كتاب المبتدأ و غير ذلك ثم بدت علي حقيقة أذهبت عني ما سوى الله فإذا الله الله

ہمیں خبر دی ہے ابو سعد مالینی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو بکر محمد بن نصر بن جعفر رویانی صوفی سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو بکر شبلی سے وہ کہتے تھے میرے تصوف کی ابتداء یوں تھی کہ مجھے آواز آئی اے ابو بکر ہم نے تجھ سےاس چیز کا ارادہ نہیں کیا تھا اورنہ ہی اس چیز کا تجھے حکم دیا تھا۔ چنانچہ میں نے خلیفہ معتضد باللہ کی خدمت اور نوکری چھوڑ دی اور میں نے ناسخ اور منسوخ میں اور تاویل و تفسیر میں اور تحلیل و تحریم میں غور و فکر کیا۔ اور حدیث اور فقہ کا سماع کیا کتا المبتداء وغیرہ کتب کا اس کے بعد مجھ پر حقیقت منکشف ہوئی جس نے مجھ سے ہر ماسوا اللہ کو دور کر دیا چنانچہ بس باقی اللہ اللہ رہ گیا۔

أَبَا بَكْرٍ الشِّبْلِيَّ، ← أبا بكر محمد بن نصر بن جعفر الروياني الصوفي ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · Eighteenth people of faith › Separation · Hadith 1880

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في تعاليم القرآن · حديث 1930

1930 - أخبرنا أبو حسين بن بشران ببغداد أنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا أحمد بن منصور الرمادي ثنا عبد الرزاق أنا الثوري ( ح ) و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه ثنا جعفر بن محمد بن شاكر و أبو إسماعيل الترمذي و إبراهيم بن إسحق قالوا ثنا أبو نعيم ثنا سفيان عن علقمة بن مرثد عن ابن عبد الرحمن السلمي عن عثمان بن عفان رضي الله عنه قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم و في رواية عبد الرزاق سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : أفضلكم من تعلم القرآن و علمه رواه البخاري عن أبي نعيم

ہمیں خبر دی ہے ابوالحسین بن بشران نے بغداد میں ان کو اسماعیل بن محمد الصفار نے ان کو احمد بن منصور الرمادی نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو ثوری نے ۔ ح۔ اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابوبکر احمد بن سلمان فقیہ نے ان کو جعفر بن محمد شاکر اور ابو اسماعیل ترمذی اور ابراہیم بن اسحاق نے ان کو ابونعیم نے انکو سفیان نے ان کو علقمہ بن مرثد نے ان کو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے ۔ عبدالرحمٰن کی ایک روایت میں ہے کہ میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے :۔"افضلکم من تعلم القران و علمہ"۔ اس کو بخاری نے ابو نعیم سے روایت کیا ہے ۔

عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، ← ابن عبد الرحمن السلمي ← عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← جعفر بن محمد بن شاكر و أبو إسماعيل الترمذي و إبراهيم بن إسحق ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و، ← الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أبو حسين بن بشران

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter in the teachings of the Qur’an · Hadith 1930

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في تعاليم القرآن · حديث 1931

1931 - أخبرنا أبو حسين بن بشران ثنا أبو جعفر محمد بن عمرو الرزاز و إسماعيل بن محمد الصفار قالا ثنا سعدان بن نصر ثنا أبو بدر شجاع بن الوليد عن عمرو بن قيس الملائي يحدث عن علقمة بن مرثد عن سعد بن عبيدة عن أبي عبد الرحمن السلمي عن عثمان بن عثمان : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إن أفضلكم من تعلم القرآن و علمه

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو جعفر محمد بن عمر والر زاز نے اور اسماعیل بن محمد الصفار نے دونوں کہتے ہیں ان کو حدیث بیان کی سعد ان بن نصر نے ان کو ابو بدر شجاع بن ولید نے ان کو عمرو بن قیس الملائی نے ان کو علقمہ بن مرثد نے ان کو سعد بن عبیدہ نے ان کو ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:۔ " ان افضلکم من تعلم القرآن وعلمہ" بے شک تم میں زیادہ فضیلت والا وہ ہے جو قرآن مجید سیکھے اور سکھائے۔

إن أفضلكم من تعلم القرآن و علمه ← النبي صلى الله عليه و سلم ← عُثْمَانُ بْنُ عُثْمَانَ ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ← سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ← عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ← عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ الْمُلَائِيِّ، ← أَبُو بَدْرٍ شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ ← سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ← أبو جعفر محمد بن عمرو الرزاز و إسماعيل بن محمد الصفار ← أبو حسين بن بشران

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter in the teachings of the Qur’an · Hadith 1931

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في تعاليم القرآن · حديث 1932

1932 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو حامد بن بلال ثنا الحسن بن محمد الزعفراني ثنا شبابة بن سوار المدائني ثنا شعبة ثنا علقمة بن مرثد عن سعد بن عبيدة عن أبي عبد الرحمن السلمي عن عثمان بن عفان : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : خيركم من تعلم القرآن و علمه قال أبو عبد الرحمن فذلك أجلسني هذا المجلس و كان مقرئ رواه البخاري عن حجاج بن منهال عن شعبة

ہمیں خبر دی ہے ابو طاہر نے ان کو حامد بن بلال نے ان کو حسن بن محمد زعفرانی نے ان کو شبابہ بن سوارمدائنی نے ان کو شعبہ نے ان کو علقمہ بن مرثد نے ان کو سعد بن عبیدۃ نے ان کو ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ نے فرمایا:۔ " خیر کم من تعلم القرآن و علمہ" تم میں سے بہتر وہ شخص ہے جو قرآن مجید سیکھے اور سکھائے۔ ابو عبدالرحمٰن نے کہا چنانچہ اسی حدیث نے مجھے مسند پر بٹھایا ہے وہ استاذ تھے اور بخاری نے اس کو روایت کیا ہے ۔حجاج بن منہال سے انہوں نے شعبہ سے۔

شُعْبَةُ، ← حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، ← أبو عبد الرحمن فذلك أجلسني هذا المجلس و كان مقرئ رواه البخاري ← خيركم من تعلم القرآن و علمه ← النبي صلى الله عليه و سلم ← عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ← سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ← عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ← شُعْبَةُ، ← شبابة بن سوار المدائني ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ← أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter in the teachings of the Qur’an · Hadith 1932

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في تعاليم القرآن · حديث 1950

1950 - أخبرنا أبو بكر محمد بن إبراهيم الفارسي أنا أبو إسحق الأصبهاني ثنا أبو أحمد بن فارس ثنا محمد بن إسماعيل البخاري ثنا إبراهيم بن المنذر ثنا ابن أبي الفديك ثنا علي بن عبد الرحمن بن عثمان سمع حكيم بن محمد عن المقبري عن أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من تعلم القرآن و هو فتي السن أخلطه الله بلحمه و دمه

ہمیں خبر دی ہے ابو بکر محمد بن ابراہیم فارسی نے ان کو ابو اسحٰق اصبہانی نے ان کو ابو احمد بن فارس نے ان کو محمد بن اسماعیل بخاری نے ان کو ابراہیم بن منذر نے ان کو ابن ابی فدیک نے ان کو علی بن عبدالرحمٰن بن عثمان نے انہوں نے سنا حکم بن محمد سے اس نے مقبری سے اس نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ جس نے قرآن مجید جوانی کی عمر میں پڑھ لیا اللہ تعالیٰ قرآن کو اس کے خون اور گوشت میں پیوست کر دیں گے۔

من تعلم القرآن و هو فتي السن أخلطه الله بلحمه و دمه ← النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْمَقْبُرِيِّ، ← حكيم بن محمد ← علي بن عبد الرحمن بن عثمان ← ابْنُ أَبِي الْفُدَيْكِ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ فَارِسٍ ← أبو إسحق الأصبهاني ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter in the teachings of the Qur’an · Hadith 1950

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في تعاليم القرآن · حديث 1952

1952 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا عباس الأسفاطي و ابن ناجيه قالا ثنا أبو مصعب ثنا عمر بن طلحة عن سعيد بن أبي سعيد المقبري عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من تعلم القرآن في شبيبته اختلط القرآن بلحمه و دمه و من تعلمه في كبره فهو يتفلت منه و لا يتركه فله أجره مرتين ألفاظهم سواء و قال ابن ناجية ـ عمر بن طلحة مولى الليثين

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو عباس اسفاطی نے اور ابن ناجیہ نے دونوں کو حدیث بیان کی ہے ابو مصعب نے ان کو عمر بن طلحہ نے ان کو سعید بن ابو سعید مقبری نے ان کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ جس نے قرآن مجید اپنی جوانی میں پڑھا قرآن اس کے خون اور گوشت میں پیوست ہو جائے گا اور جس نے بڑی عمر میں پڑھا اور وہ اس کے ساتھ جڑا رہا اس نے نہیں چھوڑا اس کے لئے دھر ا اجر ہے سب کے الفاظ برابر ہیں ۔ اور ابن ناجیہ نے کہا عمر بن طلحۃ لیثیوں کے غلام تھے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِیْدِ بْنِ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْمَقْبُرِیِّ ← عُمَرُ بْنُ طَلْحَةَ، ← أَبُو مُصْعَبٍ ← عباس الأسفاطي و ابن ناجيه ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter in the teachings of the Qur’an · Hadith 1952

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدمان تلاوة القرآن ـ · حديث 1965

1965 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا أبو الحسن الكارزي أنا علي بن عبد العزيز عن أبي عبيد قال : ثنا ابن المبارك عن عبد العزيز بن أبي رواد قال : سمعت الضحاك بن مزاحم يقول : ما من أحد تعلم القرآن ثم نسيه إلا بذنب يحدثه لأن الله تعالى يقول : { و ما أصابكم من مصيبة فبما كسبت أيديكم } و إن نسيان القرآن من أعظم المصائب

ہمیں خبر دی ہے ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو ابوالحسن کارزی نے ان کو علی بن عبدالعزیز نے ان کو ابو عبیدہ نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ابن مبارک نے ان کو عبدالعزیز بن ابو رواد نے انہوں نے سنا ضحاک بن مزاحم سے وہ کہتے ہیں۔ جو شخص قرآن سیکھتا ہے پھر اس کو بھول جاتا ہے مگر وہ گناہ کا ارتکاب کرتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ "وما اصابکم من مصیبۃ فیما کسبت ایدیکم" (الشوری30) جو کچھ تمہیں مصیبت پہنچتی ہے وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی کے سبب ہوتی ہے ۔ بے شک قرآن مجید کا بھول جانا اعظم مصائب میں سے ہے۔

الضَّحَّاكَ بْنَ مُزَاحِمٍ ← عَبْد الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← اَبِیْ عُبَیْدٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on Quran recitation addiction · Hadith 1965

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدمان تلاوة القرآن ـ · حديث 1968

1968 - أخبرنا أبو عمرو الأديب أنا أبو بكر الإسمعيلي أخبرني الحسن بن سفيان ثنا محمد بن أبي المقدمي ثنا يحيى بن سعيد عن عوف ثنا أبو رجاء ثنا سمرة بن جندب الفزاري قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول لأصحابه : هل رأى أحد منكم رؤيا فيقص عليه من شاء الله أن يقص و أنه قال لنا ذات يوم أتاني الليلة آتيان و أنهما ابتعثاني و أنهما قالا لي انطلق و إني انطلقت معهما و أنا أتينا على رجل مضطجع و آخر قائم على رأسه بصخرة و إذا هو يهوى بالصخرة برأسه فيثلغ رأسه فيتهدهد الحجر ها هنا فيتبع الحجر فيأخذه فلا يرجع إليه حتى يصح رأسه كما كان ثم يعود فيفعل كما فعل المرة الأولى فقلت سبحان الله ما هذان قالا لي انطق فذكر الحديث ثم قال في التفسير و أما الرجل الأول الذي أتيت عليه يثلغ رأسه بالحجر فهو الرجل يأخذ القرآن فيرفضه و ينام عن الصلاة المكتوبة أخرجه البخاري في حديث

ہمیں خبر دی ابو عمر وادیب نے ا ن کو ابوبکر اسماعیلی نے ان کو خبر دی حسن بن سفیان نے ان کو محمد بن ابی بکر ان کو یحییٰ بن سعید نے ان کو عوف نے ان کو ابو رجاء نے ان کو سمرہ بن جندب فزاری نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے صحابہ سے فرمایا کرتے تھے ۔ کیاتم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے لہذا آپ کے سامنے کوئی بھی شخص اپنا خواب بیان کرتا اللہ جس کے لئے چاہتا ۔ ایک دن آپ نے ہم لوگوں سے فرمایا آج رات میرے پاس دو آنے والے (فرشتے) آئے تھے انہوں نے مجھ اٹھایا اور بولے چلئے چنانچہ میں ان کے ساتھ چلا گیا۔ حتیٰ کہ ہم لوگ ایک ایسے ادمی پر پہنچے جو لیٹا ہوا تھا اور دوسرا اس کے سرہانے پتھر اٹھائے کھڑا تھا پس اچانک وہ جھک کر وہ پتھر لیٹے ہوئے کے سر پر دے مارتا ہے جس کی شدید ضرب سے اس کا سر مکمل کچل جاتا ہے اور وہ پتھر لڑھک کر دو ر جا گرتا ہے لہذا وہ شخص دوبارہ اس پتھر کو اٹھا لاتا ہے ، اتنے میں اس کا کچلا ہوا سر بحال ہو چکا ہوتا ہے جیسے کہ پہلے تھا پھر وہ اسی طرح اس کو مارتا ہے جیسے اس نے پہلی بار مارا تھا۔ (الغرض یہی عذاب اس کو مستقل طور پر ہو رہا ہے ) میں نے یہ دیکھ کر کہا سبحان اللہ ، اللہ کی پناہ یہ سر کچلنے والا اور جس کا سر کچلا جا رہا ہے دونوں کون ہیں ۔ دونوں فرشتوں نے مجھ سے کہا کہ یہاں سے چلئے (پھر دونوں نے آگے حدیث بیان کی ہے ) پھر تشریح میں فرمایا کہ ۔ بہرحال وہ آدمی آپ جس کے پاس گئے تھے اور اس کا سر کچلا جا رہا تھا پتھر کے ساتھ ۔ وہ ایسا آدمی تھا جو قرآن سیکھتا تھا پھر اس کو چھوڑ دیتا تھا اور فرض نماز کو چھوڑ کر سو جاتا تھا۔ اس کو بخاری نے ایک حدیث میں نقل کیا ہے ۔

سمرةَ بنِ جندبٍ الفزاريِّ، ← أَبُو رَجَاءٍ، ← عَوْفٌ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← محمد بن أبي المقدمي ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أبو بكر الإسمعيلي ← أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on Quran recitation addiction · Hadith 1968

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدمان تلاوة القرآن ـ · حديث 1969

1969 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا إبراهيم بن مرزوق ثنا سعيد بن عامر ثنا شعبة عن يزيد بن أبي زياد عن عيسى بن لبيط أو أياد عن رجل عن سعد بن عبادة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ما من رجل تعلم القرآن ثم نسيه إلا لقى الله عز و جل يوم القيامة و هو أجذم و ما من أمير عشرة إلا أتى الله عز و جل يوم القيامة مغلولا لا يطلقه إلا العدل كذا روي عن شعبة و هو خطأ و إنما هو عن عيسى بن فائد و رواه أبو عبيد عن الحجاج عن شعبة على الصواب و كذلك و رواه غيره شعبة عن يزيد عن عيسى بن فائد

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے دونوں کو حدیث بیان کی ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو ابراہیم بن مرزوق نے ان کو سعید بن عامر نے ان کو شعبہ نے ان کو یزید بن ابو زیاد نے ان کو عیسیٰ بن لبیط نے یا ایاد نے ایک آدمی سے اس آدمی نے سعید بن عبادہ سے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ۔ کوئی آدمی بھی اگر قرآن سیکھتا ہے پھر سیکھ کر اس کو بھلا دیتا ہے قیامت کے روز جب اللہ تعالیٰ کے پاس پیش ہو گا تو اس کے منہ کو کوڑھ کر مرض لگا ہوا ہوگا۔ اور کوئی حکمران جو عیش میں پڑ گیا قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے آگے ایسے پیش ہو گا کہ اس کے ہاتھ اس کی گدی پر بندے ہوئے ہوں گے انہیں عدل و انصاف کے سوا کوئی عمل نہیں چھڑا سکے گا۔ ایسے ہی شعبہ سے روایت کیا گیا ہے اور وہ غلط ہے بلکہ وہ صحیح عیسیٰ بن فائد سے ہے ۔ اور اس کو ابو عبید نے روایت کیا حجاج سے اس نے شعبہ سے جو کہ درست ہے ۔ اور اسی طرح کے ماسوا نے بھی اس کو روایت کیا ہے ۔ شعبہ نے یزید سے اس نے عیسیٰ بن فائد سے ۔

سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، ← رَجُلٌ: ← عيسى بن لبيط أو أياد ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، ← شُعْبَةُ، ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on Quran recitation addiction · Hadith 1969

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدمان تلاوة القرآن ـ · حديث 2014

2014 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو حامد بن بلال البزار ثنا إبراهيم بن عبد الله أنا عبد الرحيم بن هارون أنا عبد العزيز بن أبي رواد ح و أخبرنا الإمام أبو الطيب سهل بن محمد بن سليمان أنا أبو علي حامد بن محمد بن عبد الله الهروي ثنا محمد بن صالح الأشج ثنا عبد الله بن عبد العزيز بن أبي رواد ثنا أبي عن نافع عن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن هذه القلوب تصدأ كما يصدأ الحديد إذا أصابه الماء قيل : يا رسول الله و ما جلاؤها قال : كثرة ذكر الموت و تلاوة القرآن لفظ حديث الإمام و في رواية الفقيه قال : فقالوا يا رسول الله و ما جلاؤها قال : قراءة القرآن و لم يذكر الموت و لا قوله إذا أصابه الماء

ہمیں خبر دی ہے ابو محمد عبداللہ بن یوسف اصبہانی نے ان کو ابوبکر قطان نے ان کو علی بن حسن ہلالی نے ان کو قبیصہ بن عقبہ نے ان کو سفیان نے ان کو جریری نے ان کو یزید نے ان کو عبداللہ بن شخیر نے ان کو شداد بن اوس ثقفی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ جو بھی بندہ کتاب اللہ کی کوئی سورت پڑھتا ہے اللہ تعالیٰ ااس کے ساتھ ایک فرشتہ مقرر فرما دیتے ہیں لہذا اس کو کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی یہاں تک کہ عطا کرے اس کو جب چاہے۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحٍ الْأَشَجُّ، ← أبو علي حامد بن محمد بن عبد الله الهروي ← الْإِمَامُ أَبُو الطِّيبِ سَهْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ ← و، ← عَبْد الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ ← عبد الرحيم بن هارون ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، ← أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ الْبَزَّار، ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on Quran recitation addiction · Hadith 2014

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدمان تلاوة القرآن ـ · حديث 2035

2035 - أخبرنا أبو إسحق الحسن بن محمد بن حبيب المفسر من أصله ثنا أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن يحيى أنا محمد بن إسحق الثقفي قال أخبرني إبراهيم بن الحفيد حدثني عبد الرحمن بن عون ثنا محمد بن فضيل بن عياض قال : رأيت عبد الله بن المبارك في المنام فقلت يا أبا عبد الرحمن ما صنع بك ربك قال غفر لي مغفرة بعد مغفرة قلت بأي شيء قال : بتلاوتي القرآن و أشار بيده يريد الغزو قال لي يا أبا محمد إن حورا تلقني اليوم في الجنة

اور تحقیق ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو عباس بن ولید بن مزید بیروتی نے ان کو ابو شعیب نے ان کو خبر دی عبدالقدوس بن حبیب نے اس نے سنا حسن کوفی سے اس نے سمرہ بن جنادہ سے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے وصیت فرمائی تھی اپنے بعض اصحاب کو اور فرمایا تھا میں تمہیں اللہ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں اور قرآن پڑھنے کی وہ اندھیرے میں روشنی دن کی ہدایت اسے پڑھو جس حال میں بھی ہو مشقت کے اور فاقہ کے باوجود اگر تیرے لئے کوئی مصیبت پیش آئے تو اپنے مال کو اپنے دین کے بچانے کے لئے پیش کر دے اور اگر تجھ سے آزمائش ٹل جائے تو اپنے مال اور جان دینے کے لئے پیش کر دے اس لئے کہ لٹ جانے والا وہ ہوتا ہے جس کا دین لٹ جائے اور محروم وہ ہوتا ہے جو اپنے دین سے محروم ہو جائے ورنہ تو جنت میں داخلے کے بعد کوئی فاقہ نہیں ہے اور جہنم میں جانے کے بعد کوئی غنا نہیں ہے ۔ جہنم اپنے فقیر کو استغنا نہیں دیتی اور جس کو پکڑتی ہے اس کو چھوڑتی نہیں ہے ۔ عبدالقدوس بن حبیب شامی سے یہ ضعیف ہے ایک مرتبہ اور اس نے اس حدیث کی اسناد میں غلطی کی ہے اگر چہ اس نے عمداً نہ کی ہو۔

محمد بن فضيل بن عياض ← عبد الرَّحْمَن بن عون ← إبراهيم بن الحفيد ← محمد بن إسحق الثقفي ← أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ← أبو إسحق الحسن بن محمد بن حبيب المفسر من أصله

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on Quran recitation addiction · Hadith 2035

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في استحباب التكبير عند الختم ـ · حديث 2081

2081 - و أخبرنا أبو نصر بن قتادة ثنا عمرو بن مطر ثنا ابن صاعد ثنا أحمد بن محمد بن عبد الله بن القاسم بن أبي بزة المكي قال : سمعت عكرمة بن سليمان بن كثير بن عامر مولى بني شيبة : فذكره نحوه قال الحليمي رحمه الله تعالى : و صفة التكبير في أواخر هذه السور أنه كلما ختم سورة وقف وقفة ثم قال الله أكبر و وقف وقفة ثم ابتدأ السورة التي تليها إلى آخر القرآن ثم كبر كما كبر من قبل ثم اتبع التكبير الحمد و التصديق و الصلاة على رسول الله صلى الله عليه و سلم و الدعاء قال أحمد : و قد روي عن النبي صلى الله عليه و سلم في دعاء الختم حديث منقطع بإسناده ضعيف و قد تساهل أهل الحديث في قبول ما ورد من الدعوات و فضائل الأعمال متى ما لم تكن من رواته من يعرف بوضع الحديث أو الكذب في الرواية

اور ہمیں خبر دی ہے ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو عمرو بن مطر نے ان کو بن صاعد نے ان کو احمد بن محمد بن عبداللہ بن قاسم نے ان کو ابربزہ مکی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا عکرمہ بن سلیمان بن کثیر بن عامر مولیٰ نبی شیبہ سے پھر اسی مذکورہ حدیث کو اس نے ذکر کیا ۔

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on the desirability of saying takbeer when sealing · Hadith 2081

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في استحباب التكبير عند الختم ـ · حديث 2082

2082 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو الفضل بن حمرويه الكرابيسي المهروي بها ثنا أحمد بن نجدة القرشي ثنا أحمد بن يونس ثنا عمرو بن سمرة عن جابر الجعفي عن أبي جعفر قال : كان علي بن حسين يذكر : عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه كان إذا ختم القرآن حمد الله بمحامد و هو قائم ثم يقول الحمد الله رب العالمين و الحمد الله الذي خلق السماوات و الأرض و جعل الظلمات و النور ثم الذين كفروا بربهم يعدلون لا إله إلا الله و كذب العادلون بالله و ضلوا ضلالا بعيدا لا إله إلا الله و كذب المشركون بالله من العرب و المجوس و اليهود و النصارى و الصابئين و من ادعى لله ولدا أو صاحبة أو ندا أو شبها أو مثلا أو سميا أو عدلا فأنت ربنا أعظم من أن تتخذ شريكا فيما خلقت والحمد لله الذي لن يتخذ صاحبة و لا ولدا و لم يكن له شريك في الملك و لم يكن له ولي من الذل و كبره تكبيرا الله أكبر كبيرا و الحمد لله كثيرا و سبحان بكرة و أصيلا و { الحمد لله الذي أنزل على عبده الكتاب ولم يجعل له عوجا * قيما } قرأها إلى قوله { إن يقولون إلا كذبا } { الحمد لله الذي له ما في السماوات وما في الأرض وله الحمد في الآخرة وهو الحكيم الخبير * يعلم ما يلج في الأرض } الآية و { الحمد لله فاطر السماوات و الأرض } الآيتين و { الحمد لله وسلام على عباده الذين اصطفى آلله خير أما يشركون } بل الله خير و أبقى و أحكم و أكرم و أجل و أعظم مما يشركون و الحمد لله بل أكثرهم لا يعلمون صدق الله و بلغت رسله و أنا على ذالكم من الشاهدين اللهم صل على جميع الملائكة و المرسلين و ارحم عبادك المؤمنين من السماوات و الأرض و اختم لنا بخير و افتح لنا بخير و بارك لنا في القرآن العظيم و انفعنا بالآيات و الذكر الحكيم ربنا تقبل منا إنك أنت السميع العليم بسم الله الرحمن الرحيم ثم إذا افتتح القرآن قال : مثل هذا و لكن ليس أحد يطيق ما كان نبي الله صلى الله عليه و سلم يطيق

ہمیں خبر دی ہے ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابوالفضل بن حمرویہ کرابیسی مہروی نے اس بارے میں ان کواحمدبن نجدہ قرشی نے ان کو احمد بن یونس نے ان کو عمرو بن سمرہ نے ان کو جابر جعفی نے ان کو ابو جعفر نے وہ کہتے ہیں کہ علی بن حسن ذکر کرتے رہتے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب قرآن مجید ختم کرتے تو اللہ کی حمد کرتے تھے کئی کئی حمد کے طریقوں سے جب کہ آپ بحالت قیام ہوتے تھے اس کے بعد فرماتے تھے: " الحمد للہ رب العالمین الخ۔۔"تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لئے ہیں ، تمام تعریفیں اس ذات کے لئے جس نے آسمان و زمین بنائے جس نے اندھیرے اور روشنی بنائی پھر جو لوگ کافر ہیں وہ شریکوں کو اپنے رب کے برابر کر دیتے ہیں ۔ اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں ہے ۔ اللہ کے ساتھ برابری کرنے والے والے جھوٹے ہیں اور وہ گمراہ ہیں بڑی دور کی گمراہی کے ساتھ ۔ اللہ کے سوا کوئی الہٰ نہیں ہے اور مشرکوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے وہ عرب ہوں یا وہ مجوس ہوں خواہ یہود ہوں عیسائی یا صابی ہوں جو شخص اللہ تعالیٰ کے لئے بیٹے کا دعویٰ کرتا ہے یا بیوی کا یا کسی شریک کا یا کسی مشابہ کا یا کسی مثال کا یا نام کا یا اس کے برابر کے۔ پس اے ہمارے پروردگار تو اس بات سے بہت ہی بڑا ہے کہ تو شریک بنائے اپنی مخلوق میں تمام تعریفیں اس ذات کے لئے ہیں جس نے نہ تو کوئی بیوی ٹھہرائی ہے اور نہ ہی کسی کو بیٹا ٹھہرایا ہے اور نہ ہی حکومت میں کوئی شریک ہے اور نہ کمزوری ہونے پر اس کا کوئی مددگار ہے ( اے بندے) اسی کی بڑائی بیان کر بہت بڑائی ۔ اللہ بہت بڑا ہے بڑاہے اللہ کے لئے کثیر حمد ہے اللہ کے لئے صبح و شام پاکیزگی ہے ۔ تمام تعریفیں اس ذات کے لیے جس نے اپنے بندے پر کتاب نازل فرمائی اور اس کے لیے کوئی کجی نہیں چھوڑی وہ سیدھا ہے (حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ) ان آیات کو " ان یقولون الا کنبا" تک پڑھا (سورۃ کہف ) تمام تعریف اسی اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جس کی ملکیت میں ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمینوں میں ہے ۔ آخرت میں حمد اسی کی ہے وہی حکمت والا خبر رکھنے والا وہی جانتا ہے جو کچھ زمین میں گھستا ہے الخ آکر تک آیت پڑھی۔ (سورۃ سبا) تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جس نے از سرے نو آسمان اور زمین کو بنایا ۔(2 آیات فاطر) تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اور سلام ہوں اس کے برگزیدہ بندوں پر کیا اللہ بہتر ہے یا وہ جن کو یہ لوگ شریک لاتے ہیں۔ (نحل) تمام تعریفیں اللہ کی ہیں بلکہ اکثر ان میں سے نہیں جانتے اللہ نے سچ فرمایا ہے اور اس کے رسولوں نے اس کا پیغام پہنچا دیا ہے اور میں تمہارے اس معاملہ پر گواہ ہوں۔ اے اللہ رحمتیں نازل فرما تما فرشتوں پر اور تمام رسولوں پر اور رحم فرما اپنے مومن بندوں پر آسمانوں سے اور زمین سے اور ہم سب کا خاتمہ بالخیر فرما اور ہمارے خیر کھول دے اور ہمارے لئے قرآن عظیم میں برکت عطا فرما۔ ہمیں بہرہ ور فرما آیات کتاب کے ساتھ اور حکمت سے لبریز اس ذکر کے ساتھ۔ اے ہمارے رب تو ہم سے قبول فرما بے شک تو ہی سنتا ہے جانتا ہے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پھر جب آپ قرآن مجید شروع کرتے تو اس وقت بھی اسی طرح دعا کرتے تھے مگر کوئی شخص اس کی طاقت نہیں رکھتا جس کی طاقت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکھتے تھے ۔

كان علي بن حسين يذكر ← أَبِي جَعْفَرٍ، ← جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ ← عمرو بن سمرة ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ الْقُرَشِيُّ، ← أبو الفضل بن حمرويه الكرابيسي المهروي بها ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on the desirability of saying takbeer when sealing · Hadith 2082

chevron_left Previous
1…313233…305
Next chevron_right