شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ التشديد على من منع زكاة ماله ـ · حديث 3309
3309 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو الحسن علي بن محمد المصري ثنا عبد الله بن أبي مريم نا الفريابي السري بن يحيى حدثني غزوان أبو حاتم قال : بينا أبو ذر عند باب عثمان لم يؤذن له إذ مر به رجل من قريش قال : يا أبا ذر ما يجلسك ها هنا ؟ قال : يأبى هؤلاء أن يأذنوا لي فدخل الرجل فقال يا أمير المؤمنين ما بال أبي ذر على الباب لا يؤذن له فأمر فأذن له فجاء حتى جلس ناحية القوم قال : و ميراث عبد الرحمن بن عوف يقسم
فقال عثمان لكعب : يا أبا إسحاق أرأيت المال إذا أدي زكاته هل يخشى على صاحبه فيه تبعة
فقال : لا فقام أبو ذر و معه عصا فضرب بها بين أذني كعب ثم قال : يا ابن اليهودية أنت تزعم أنه ليس عليه حق في ماله إذا أدى الزكاة و الله يقول :
{ و يؤثرون على أنفسهم و لو كان بهم خصاصة } الآية
و الله يقول :
{ و يطعمون الطعام على حبه مسكينا و يتيما و أسيرا }
و الله يقول :
{ و في أموالهم حق للسائل و المحروم }
قال فجعل يذكر نحو هذا من القرآن
فقال عثمان للقرشي إنما نكره أن يأذن لأبي ذر من أجل ما ترى
قال الشيخ أحمد رحمه الله : بعض هذه الآيات قبل نزول فرض الزكاة و بعضها في الترغيب في التطوع و أبو ذر كان يحملها على الوجوب فيما يرى و الله أعلم
ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو الحسن علی بن محمد مصری نے ان کو (عبداللہ بن ابو مریم ان کو الفریابی نے) سری بن یحییٰ نے ان کو غزوان نے ان کو بو حاتم نے انہوں نے کہا کہ اچانک ایک بار ابو ذر حضرت عثمان کےدروازے پر پہنچے اور ان کو اجازت نہ ملی یکا یک ایک آدمی قریب میں سے گزرے۔ انہوں نے پوچھا اے ابو ذر یہاں کیسے بیٹھے ہو؟ بولے کہ انہوں نے مجھے ملنے کی اجازت دینے سے منع کر دیا ہے وہ آدمی اندر گیا اور کہا کہ اے امیر المومنین کیا بات ہے کہ ابو ذر دروازے پر ہے اس کو اجازت نہیں ملی حضرت عثمان نے حکم دیا ان کو اجازت مل گئی چنانچہ وہ ائے اور لوگوں کے ساتھ ایک کونے میں بیٹھ گئے۔ راوی کہتا ہے کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی میراث تقسیم ہو رہی تھی۔ حضرت عثمان نے حضرت کعب سے کہا اے ابو اسحٰق کیا آپ اس مال کے بارے میں جانتے ہیں جبکہ اس کی زکوٰۃ ادا کی گئی ہو۔ کیااس صاحب مال پر اس کے (باقی ماندہ) مال میں کوئی گناہ کا اندیشہ ہو گا؟ حضرت کعب نے کہا کہ نہیں (اس مال کی ہلاکت کا اندیشہ نہیں رہتا) بس ابو ذر کھڑے ہو گئے ان کے پاس ڈنڈا تھا انہوں نے حضرت کعب کے کانوں کے درمیان دے مارا اور پھر بولے اے یہودن کے بیٹے تم یہی گمان کرتے ہو کہ بے شک نہیں ہے اس پر کوئی حق اس کے مال میں جب زکوٰۃ ادا کرے حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "ویؤ ثرون علیٰ انفسھم ولو کان بھم خصاصۃ " (الحشر) وہ دوسروں کو اپنے اوپر ترجیح دیتے ہیں اگرچہ ان کو خود بھوک لگی ہو۔ اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "ویطعمون الطعام علی حبہ مسکینا ویتیما اوسیرا " اور وہ کھان کھلاتے ہیں مسکین کو یتیم کو اور قیدی کو اس کی خواہش کے باوجود۔ا ور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:" وفی ا موالھم حق اللسائل والمحروم " ان کے مالوں میں مانگنے اور نہ مانگنے کے لئے حق ہے۔ کہتے ہیں کہ ابو ذر اسی کی مثل قرآن سے (آیات) زکر کرنے لگے۔ چنانچہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے (اس اندر لانے والے) قرشی سے کہا کہ یقیناً ابو ذر کو اجازت دینے سے انکار اسی لئے تھا جو تم دیکھ رہے ہو۔ شیخ احمد بیہقی نے فرمایا: ان میں سے بعض آیات زکوٰۃ کی فرضیت کے نزول سے قبل کی ہیں۔ اور بعض نفل میں ترغیب کے بارے میں ہیں جبکہ حضرت ابو ذر ان کو وجوب پر محمول کررہے تھے۔ اس کے مطابق جو وہ دیکھ رہے تھے واللہ اعلم ۔
بينا أبو ذر عند باب عثمان لم يؤذن له ← غزوان أبو حاتم ← الفريابي السري بن يحيى ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ
Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Emphasis on the one who withholds the Zakat of his money · Hadith 3309
شعب الإيمان · کتاب ‹ باب القول في زيادة الإيمان و نقصانه و تفاضل أهل الإيمان في إيمانهم ـ · حديث 51
51 - أخبرنا أبو عبد الله الحسين بن عبد الله البيهقي أخبرنا أبو حامد أحمد بن محمد بن الحسين البيهقي ثنا داود بن الحسين البيهقي ثنا حميد بن زنجويه ثنا الحجاج بن نصير ثنا حماد بن نجيح عن أبي عمران الجوني قال سمعت جندب البجلي قال : كنا فتيانا حزاورة مع نبينا صلى الله عليه و سلم فتعلمنا الإيمان قبل أن نتعلم القرآن ثم تعلمنا القرآن فازددنا به إيمانا و إنكم اليوم تعلمون القرآن قبل الإيمان
ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حسین بن عبداللہ بیہقی نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی ہے ابو حامد احمد بن محمد بن حسین بیہقی نے وہ کہتے ہیں بات بتلائی ہے داؤد بن حسین بیہقی نے وہ کہتے ہیں ہمیں بیان کیا ہے حمید بن زنجویہ نے وہ کہتے ہیں ہمیں بات بیان کی ہے ۔حجاج بن نصیر نے وہ کہتے ہیں ہم سے بیان کیا ہے حماد بن نجیح نے ابی عمران الجونی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا جندب بجلی سے انہوں نے فرمایا تھا : ( کنا فتینا حزاورۃ مع نبینا صلی اللہ علیہ و سلم فتعلمنا الا یمان قبالان نتعلم القران ثم تعلمنا القران فازددنا بہ ایمانا و انکم الیوم تعلمون القران قبال الایمان ) ہم لوگ مضبوط جوان تھے اپنے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں رہتے تھے ہم قرآن سیکھنے سے پہلے ایمان سیکھتے تھے اس کے بعد ہم قرآن سیکھتے تھے لہذا ہمارا ایمان زیادہ ہو جاتا اور تم لوگ آج ایمان سے پہلے قرآن سیکھتے ہو۔
Shuab ul Iman · Book › The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith · Hadith 51
شعب الإيمان · کتاب ‹ باب الاستثناء في الإيمان · حديث 75
75 - و بإسناده حدثنا حميد بن زنجويه ثنا هشام بن عمار ثنا صدقة بن خالد ثنا عثمان بن الأسود قال : قلت لعطاء بن أبي رباح : الرجل يقول : لا أدري أمؤمن أنا أم لا ؟ قال : سبحان الله ! قال الله تعالى :
{ الذين يؤمنون بالغيب }
فهو الغيب فمن آمن بالغيب فهو مؤمن بالله
قال الإمام الحافظ أبو بكر البيهقي ـ رحمه الله ـ فهذا الذي روينا من إطلاق معاذ و ما روي مرسلا من تصويب عمر و قول عطاء في تسمية من آمن بالله و برسوله بالمؤمن يرجع إلى الحال
قال الحليمي : رحمه الله تعالى ـ :
لا ينبغي للمؤمن أن يمتنع من تسمية نفسه مؤمنا في الحال لأجل ما يخشاه من سوء العاقبة ـ نعوذ بالله منه ـ لأن ذلك و إن وقع و حبط ما قدم من إيمانه فليس ينقلب الموجود منه معدوما من أصله و إنما يحبط أجره و يبطل ثوابه
و بسط الكلام في شرح ذلك
و أما من أنكر من السلف إطلاق اسم الإيمان فالموضع الذي يليق به ما قال : أن يقول الواحد : أنا مؤمن و أعيش مؤمنا و أموت مؤمنا و ألقى الله مؤمنا و لا يستثني كان و لذلك قال ابن مسعود : قل إني في الجنة لأن من مات مؤمنا كان في الجنة و ليس كل من كان مؤمنا ساعة من عمره أو يوما أو سنة كان في الجنة فعلمنا أن عبد الله إنما قال هذا لمن اتكل على إيمانه فقطع بأنه مؤمن مطلق في عامة أحواله و أوقاته فلا يعيش إلا مؤمنا و لا يموت إلا مؤمنا و لم يكل أمره إلى الله عز و جل
فأما قول المؤمن : أنا الآن مؤمن فليس مما ينكر و إنما يصح الاستثناء إذا كان الخبر عن المستقبل خاصة فيكون المعنى أرجو أن يمن علي بالتثبيت و لا يسلبني هدايته بعد أن آتانيها
قال : و للاستثناء موضع آخر يصح فيه و يحسن و هو أن يرد على كمال الإيمان لا على أصله و أسه كما روي أن رجلا سأل قتادة : أمؤمن أنت ؟ فقال : أما أنا فأؤمن بالله و ملائكته و بكتبه و برسله و بالبعث بعد الموت و بالقدر خيره و شره أما الصفة التي ذكرها الله عز و جل :
{ إنما المؤمنون الذين إذا ذكر الله وجلت قلوبهم } قرأ الآيات إلى قوله { أولئك هم المؤمنون حقا لهم درجات عند ربهم و مغفرة و رزق كريم }
فلا أدري أنا منهم أو لا
فقد أبان قتادة أنه قد آمن الإيمان الذي يبعده عن الكفر و لكنه لا يدري استكمل الأوصاف التي حكى الله تعالى بها قوما من المؤمنين فأوجب لهم بها المغفرة و الدرجات و كان ذلك مشككا منه في الاستكمال الذي يوجب له الدرجات لا في مجانية الكفر الذي يقسط عنه العذاب فمن وضع الاستثناء في أحد هذين الموضعين فليس من الشكاك
قال الحافظ أبو بكر البيهقي ـ رحمه الله :
و قد روينا معنى هذا عن الحسن البصري
اپنی اسناد کے ساتھ ہمیں حدیث بیان کی ہے حمید بن زنجویہ نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ہشام بن عمار نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے صدقہ بن خالد نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بتائی ہے عثمان بن اسود نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے عطا بن ابی رباح سے کہا ایک آدمی یہ کہتا ہے میں نہیں جانتا کہ میں مومن ہوں یا نہیں انہوں نے فرمایا سبحان اللہ ، اللہ تعالیٰ تو فرماتے ہیں ۔ الذین یومنون با لغیب ( بقرہ ۳) اللہ غیب ہے جو شخص غیب کے ساتھ ایمان رکھتا ہے وہ اللہ کے ساتھ ایمان رکھنے والا ہے ۔ امام حافظ ابو بکر بیہقی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا یہ ہے وہ جو ہم نے حضرت معآز رضی اللہ عنہ کے خطبہ سے روایت کیا ہے اور یہ ہے وہ جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی تصویب اوردرست قرار دینے کے بارے میں مرسلا مروی ہے ۔ اور حضرت عطاء کا قول اس شخص کے بارے میں جو اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ ایمان رکھتا ہے وہ مومن ہے یعنی اس بات کی طرف راجع ہے کہ فی الحال مومن ہے ۔ حلیمی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ خاتمہ اور انجام کے خرابی کے خوف فی الحال بھی اپنے آپ کو مومن کہنے سے رک جانا اور باز آ جانا کسی بھی مومن کے لئے مناسب نہیں ہے اس لئے کہ اگر خدانخواستہ یہ بات ہو جائے اور جو ایمان وہ مقدم کر چکا وہ ضائع ہو بھی جائے تو اب جو ایمان موجود ہے یہ بالکل معدوم تو نہیں ہو جائے گا ہاں یہ بات ضرور ہے کہ اس کا اجر ضائع ہو گا اور ثواب باطل ہو گا۔ مومن کے نام کے اطلاق کا انکار سلف میں سے جس نے بھی کیا ہے تو اس کا بھی ایک مقام ہے جو اس کے لائق ہے اور شایان شان ہے اور وہ وہی ہے جو شیخ حلیمی نے کہا کہ مثلا کوئی شخص کہتا ہے کہ میں مومن ہوں ۔ اور مومن رہوں گا ۔ اور مومن ہی مروں گا۔ اور اللہ کو مومن ہی ملوں گا۔ انشاء اللہ بالکل نہیں کہتا۔ اسی لئے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا ۔ بلکہ کہہ دے کہ میں جنت میں جاؤں گا اس لئے کہ جو شخص ایمان کی حالت میں مر گیا وہ جنت میں ہوگا۔ حالانکہ ہر وہ شخص جو اپنی زندگی کا ایک لخطہ یا ایک دن یا ایک سال مومن تھا وہ جنت میں نہیں ہوگا۔ تو اس سے ہم یہ سمجھے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود نے یہ بات اس شخص کے بارے میں کہی تھی جو اپنے ایمان پر تکیہ اور بھروسہ کر رہا تھا لہذا انہوں نے یقین کر لیا کہ وہ اپنے عام حالات اور عام اوقات میں مطلقا مومن ہے وہ مومن ہی جئے گا اور مومن ہی مرے گا ، اپنے معاملے کو اس نے اللہ کے حوالے نہیں کیا۔ بہر حال کسی مومن کا یہ قول کرنا کہ میں اس وقت مومن ہوں یہ وہ قول ہے جس کو غلط نہیں کہا جا سکتا استثناء کرنا یعنی انشاء اللہ کہنا اس وقت صحیح ہوتا ہے جب مستقبل کے بارے میں خصوصاً خبر ہو اس وقت مطلب یہ ہوتا ہے کہ میں اللہ کی بارگاہ میں امید کرتا ہوں کہ وہ ایمان پر مجھے پکا رکھنے کا احسان فرمائیں گے اور اپنی عطا کردہ ہدایت مجھ سے نہیں چھینیں گے ۔ حلیمی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ استثناء کرنے اور انشاء اللہ کہنے کے لئے ایک مقام اور ہے جہاں وہ صحیح ہے اور بہت بہتر ہے وہ یہ ہے کہ اس کو نہ ایمان کے کمال کی طرف راجع کیا جائے نہ ہی اس کی اصلی اور بنیاد پر مثال کے طور پر جیسے ایک آدمی نے حضرت قتادہ سے سوال کیا امومن انت ؟ کیا آپ مومن ہیں حضرت قتادہ نے ( جواب میں یہ نہیں کہا کہ میں مومن ہوں بلکہ یہ ) کہا بہر حال میں اللہ کے ساتھ ایمان رکھتا ہوں ، اور اس کے فرشتوں ، اس کی کتابوں اس کے رسولوں کے ساتھ اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کے ساتھ اور اچھی و بری تقدیر پر ۔ باقی رہی مومن کی وہ صفت اللہ تعالیٰ نے جس کا ذکر سورۃ انفال میں فرمایا ہے ۔ میں نہیں جانتا کہ میں ان میں ہوں یا نہیں ہوں ۔ پھر انہوں نے وہ آیات تلاوت کیں ( جن کا مفہوم یہ ہے ) مومن وہ لوگ ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کا ذکر اتا ہے تو ان کے دل کانپ جاتے ہیں اور جب ان پر اللہ کی آیات تلاوت کی جاتی ہیں تو وہ ان کا یمان زیادہ کر دیتی ہیں اور اپنے رب پر توکل کرتے ہیں ۔ مومن وہ لوگ ہیں جو نماز کی پابندی کرتے ہیں زکٰوۃ ادا کرتے ہیں ہم نے جو انہیں رزق دیا ہے خرچ کرتے وہی لوگ سچھے مومن ہیں ان کے لئے ان کے رب کے ہاں درجے اور مغفرت اور عزت والا رزق ہے ۔ میں نہیں جانتا کہ میں ان میں سے ہوں یا نہیں ۔ حضرت قتادہ نے واضح فرمایا کہ وہ ایسا یمان لائے ہیں جو اسے کفر سے دور کرتا ہے مگر وہ یہ نہیں جانتے کہ انہوں نے وہ اوصاف و صفات مکمل کر لی ہیں ؟ جو اللہ تعالیٰ نے مومن قوم کے لئے بیان فرمائی ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے مغفرت اور درجات واجب فرمائے ہیں ۔ یہ بات غیر یقینی تھی ان کے لئے ایمان کی تکمیل کے وہ صفات جس کے لئے درجات واجب ہوتے ہیں وہ حاصل کر سکے ہیں یا نہیں ۔ اس بات میں شک انہیں نہیں تھا کہ ایمان پر ہوتے ہوئے کفر کی کیفیت سے بالکل دور ہیں ۔ جس سے عذاب ساقط ہو جاتا ہے ۔ جو شخص مذکورہ دونوں جگہوں میں سے کسی ایک موقع پر استثناء یعنی انشاء اللہ کہتا ہے وہ شک کرنے والا نہیں ہے ۔ غافظ ابو بکر بیہقی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم نے یہی مفہوم حسن بصری سے بھی روایت کیا ہے ۔
Shuab ul Iman · Book › The section of exception in faith · Hadith 75
شعب الإيمان · کتاب ‹ باب الاستثناء في الإيمان · حديث 76
76 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ حدثني أبو أحمد الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن شاذان الهاشمي ثنا أحمد بن نصر المقري الزاهد ثنا عبد الله بن عبد الجبار الحمصي ثنا بقية بن الوليد عن تمام بن نجيح قال : سأل رجل الحسن البصري عن الإيمان فقال :
الإيمان إيمانان فإن كنت تسألني عن الإيمان بالله و ملائكته و كتبه و رسله و الجنة و النار و البعث و الحساب فأنا مؤمن
و إن كنت تسألني عن قول الله عز و جل :
{ إنما المؤمنون الذين إذا ذكر الله وجلت قلوبهم } الآيات قرأ إلى { أولئك هم المؤمنون حقا }
فو الله ما أدري أنا منهم أو لا
ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے مجھے حدیث بیان کی ہے ابو احمد حافظ نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو العباس محمد شاذان ہاشمی نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے احمد بن نصر مقبری زاہد نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے عبداللہ بن عبدالجبار حمصی نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے بقیہ بن ولید نے تمام بن نحیح سے وہ کہتے ہیں ایک آدمی نے حسن بصری سے ایمان کے بارے میں پوچھا انہوں نے فرمایا ایمان دو ہیں اگر تم مجھ سے ایمان باللہ یعنی اللہ کے ساتھ ایمان اس کے فرشتوں اس کی کتابوں اس کے رسولوں ، جنت ، جہنم ، مر کر دوبارہ اٹھانا۔ حساب و کتاب کے بارے میں پوچھتے ہو تو میں اس مذکورہ معنی اور مفہوم میں مومن ہوں ۔ اور اگر آپ کا سوال ہے اس ایمان کے بارے میں جس ایمان کے حاصل ہونے کے لئے یہ صفات اللہ نے بیان کی ہیں کہ مومن وہ لوگ ہیں جب اللہ کا ذکر کرتا ہے تو وہ ڈر جاتا ہے ۔ حضرت حسن بصری نے یہ آیات اولئک ھم المومنون حقا تک پڑھیں۔ ( انفال ۳) تو اللہ کی قسم میں بھی نہیں جانتا کہ میں ان میں سے ہوں یا نہیں ہوں ۔
تمام بن نجيح ← بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْحِمْصِيُّ، ← أحمد بن نصر المقري الزاهد ← أبو العباس محمد بن شاذان الهاشمي ← أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · Book › The section of exception in faith · Hadith 76
شعب الإيمان · کتاب ‹ الأول من شعب الإيمان و هو باب في الإيمان بالله عز و جل · حديث 100
100 - أخبرنا عبد الرحمن بن عبيد الله الحرفي إملاء ببغداد ثنا حبيب بن الحسن القزاز ثنا أبو جعفر بن يحيى بن إسحاق الحلواني ثنا يحيى ـ يعني ابن عبد الحميد ـ
و أخبرنا أبو سعد أحمد بن محمد الماليني ـ و اللفظ له ـ أنبأ أبو أحمد بن عدي الحافظ ثنا محمد بن أبان بن ميمون السراج و أحمد بن محمد بن خالد البراثي قالا : حدثنا يحيى الحماني حدثنا عبد الرحمن بن زيد بن أسلم عن أبيه عن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم :
ليس على أهل لا إله إلا الله وحشة في قبورهم و لا في نشورهم و كأني بأهل لا إله إلا الله ينفضون عن رؤوسهم يقولون الحمد لله الذي أذهب عنا الحزن
تفرد به عبد الرحمن بن زيد بن أسلم
قال البيهقي ـ رحمه الله :
و روي من وجه آخر ضعيف عن ابن عمرو و قد أخرجناه في كتاب البعث و النشور و ذكرنا انتظام هذه الكلمة مع ما أشرنا إليه من العقائد الخمس لأن من قال لا إله إلا الله فقد أثبت الله و نفى غيره فخرج بإثبات ما أثبت من التعطيل و بما ضم إليه من نفي عن التشريك و اثبت باسم الإله الإبداع و التدبير و نفى عنه التشبيه لأن اسم الإله لا يجب إلا للمبدع و إذا وقع الاعتراف بالإبداع فقد وقع التدبير لأن الإيجاد تدبير و إبقائه و إحداث الاعراض فيه و إعدامه بعد إيجاد تدبيره و لا يجوز أن يكون له من خلقه شبيه لأنه لو كان لوجب أن يجوز عليه من ذلك الوجه ما يجوز على شبيهه و إذا جاز ذلك عليه لم يستحق اسم الإله كما لا يستحقه خلقه الذي شبهه به فدل على أن اسم الإله و الشبيه لا يجتمعان كما أن اسم الإله و نفي الإبداع لا يأتلفان
و قد ذكر الحليمي ـ رحمه الله تعالى ـ حديث الأسامي و ضم إليها من الأسامي ما ورد في غير ذلك الحديث و جعلها منقسمة بين العقائد الخمس و نحن قد نقلنا جميع ذلك في كتاب الأسماء و الصفات و أضفنا إليه من الشواهد و معرفة الصفات و تأويل الآيات المشكلات و الأحاديث المشتبهات ما لا بد من معرفته من أحب الوقوف عليه رجع إليه إن شاء الله تعالى
و قد ذكر الحليمي ـ رحمه الله تعالى ـ في إثبات حدث العالم و ما يدل على أن له صانعا و مدبرا لا شبيه له من خلقه فصولا حسانا لا يمكن حذف شيء منها فتركتها على حالها و نقلت ها هنا من كلام غيره ما لا بد منه في هذا الباب
فصل في معرفة الله عز و جل و معرفة صفاته و أسمائه ـ حقيقة المعرفة أن تعرفه موجودا قديما لم يزل و لا يفنى أحدا صمدا شيئا واحدا لا يتصور في الوهم و لا يتبعض و لا يتجزأ ليس بجوهر و لا عرض و لا جسم قائما بنفسه مستغنيا عن غيره حيا قادرا عالما مريدا سميعا بصيرا متكلما له الحياة و القدرة و العلم و الإرادة و السمع و البصر و الكلام لم يزل و لا يزال هو بهذه الصفات و لا يشبه شيء منها شيئا من صفات المصنوعات و لا يقال فيها : أنها هو و لا غيره و لا هي هو و غيره و لا يقال أنها تفارقه أو تجاوزه أو تخالفه أو توافقه أو تحله بل هي نعوت له أزلية و صفات له أبدية تقوم به موجودة بوجوده دائمة بدوامه ليست بأعراض و لا بأغيار و لا حالة في أعضاء غير مكيفة بالتصور في الأذهان و لا مقدورة بالتمثيل في الأوهام فقدرته تعم المقدورات و علمه يعم المعلومات و إرادته تعم المرادات لا يكون إلا ما يريد و لا يريد ما لا يكون و هو المتعالي عن الحدود و الجهات و الأقطار و الغايات المستغني عن الأماكن و الأزمان لا تناله الحاجات و لا تمسه المنافع و المضرات و لا تلحقه اللذات و لا الدواعي و لا الشهوات و لا يجوز عليه شيء مما جاز على المحدثات فدل على حدوثها و معناه أنه لا يجوز عليه الحركة و لا السكون و الاجتماع و الافتراق و المحاذاة و المقابلة و المماسة و المجاورة و لا قيام شيء حادث به و لا بطلان صفة أزلية عنه و لا يصح عليه العدم و يستحيل أن يكون له ولد أو زوجة أو شريك قادر على إماتة كل حي غيره و يجوز منه إفناء كل شيء غيره و إعادته الأجسام بعده و خلق أمثالها من غير قصر على حد قادر على كل شيء يتوهم على الانفراد حدوثه له الملك و له الحكم كل ما أنعم به بفضل منه و كل ما أكرمه عدل منه لا يجوز عليه جور و لا يصح منه ظلم
ہمیں خبر دی ہے عبدالرحمن بن عبید اللہ بن عبداللہ حرفی نے بطور املا کے بغداد میں وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے حبیب بن حسن قزاز نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو جعفر احمد بن یحییٰ بن اسحق حلوانی نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے یحییٰ نے یعنی ابن عبدالحمید نے اور ہمیں خبر دی ہے ابو سعید احمد بن محمد مالینی نے اور یہ الفاظ اسی کے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں خبر دی ہے ابو احمد بن عدی حافظ نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن ابان بن میمون سراج نے اور احمد بن محمد بن خالد برانی نے دونوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے یحییٰ حمان نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے عبدالرحمن بن زید بن اسلم نے اپنے والد سے اس نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ۔ ( لیس علی اھل لا الہ الا اللہ و حشۃ و فی قبورھم ولا فی نشورھم و کانی باھل لا الہ الا اللہ ینقضون عن روسھم یقولون الحمد للہ الزی اذھب عن الحزن ) اہل لا الہ الا اللہ پر ان کی قبر میں وحشت نہیں ہو گی اور نہ ہی قبروں سے اٹھتے وقت میں گویا اہل لا الہ الا اللہ والوں کے ساتھ ہوں ۔ اپنے سروں سے مٹی جھاڑیں گے اور کہیں گے اللہ کا شکر ہے جس نے ہم سے غم دور کر دیا۔ اس روایت میں عبدالرحمن بن زید بن اسلم متفرد ہیں ۔ امام بیہقی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا : حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ایک دوسرے ضعیف طریقہ مروی ہے جسے ہم نے کتاب البعث و النشور میں نقل کر دیا ہے اور ہم نے اس کلمہ کا زکر تعلق ان عقائد خمسہ ساتھ جن کی طرف ہم نے اشارہ کیا ہے ذکر کر دیا ہے ۔ کیونکہ جس شخص نے لا الہ الا اللہ کہا ۔ اس نے اللہ کو ثابت کیا اور غیر اللہ کی نفی کی لہذا اس نے جو کچھ ثابت کیا اس کے ساتھ وہ عقیدہ تعطیل سے باہر آ گیا ۔ اور شرک کی نفی سے بھی جو اسی کے ساتھ مربوط ہے اور ایسے شخص نے لفظ الہ سے موجد اور مدبر ہونا بھی ثابت کر دیا۔ اور اس سے تشبیہ کی نفی بھی کر دی الہ کا لفظ مدع اور موجد کے ما سوا کے لئے درست نہیں ہو سکتا ۔ لفظ الہ سے جب مبدع اور موجد کا اعتراف ثابت ہو گیا تو مدبر ہونا خود بخود ثابت ہو گیا، اس لئے کہ ایجاد کرنا خود تدبیر کرنا ہے پھر اس ایجاد کو باقی رکھنا اور اس میں اعراض کی کیفیات پیدا کرنا اور ان کیفیات اعراض کو ختم کرنا ایجاد کے بعد ۔ یہی خود تدبیر کرنا و مدبر ہونا ہے ۔ اور الہ کے لئے ضروری ہے کہ اس کی مخلوق میں سے اس کا کوئی شبیہ نہ ہو ۔ کیونکہ مخلوق میں سے کوئی اس کا شبیہ ہو تو پھر لازم ہوگا کہ یہی صورت اور صفت اس کے لئے بھی جائز ہو جو اس کے شبیہ کے لئے مانی تھی ۔ جب یہ بات اس دوسرے شبیہ یا پہلے کے لئے جائز ہو تو وہ لفظ الہ کے نام کا مستحق نہیں ہو گا جیسے اس کی وہ مخلوق اس کی مستحق نہیں جو اس کی شبیہ قرار دی جا رہی ہے ۔ تو اس طرح ثابت ہوا کہ لفظ الہ اور شبیہ دونوں جمع نہیں ہو سکتے جیسے لفظ الہ اور ابداع کی نفی جمع نہیں ہو سکتے ۔ حلیمی رحمتہ اللہ علیہ نے حدیث اسماء اللہ ذکر کی ہے اور اس کے ساتھ وہ اسماء بھی ملائے ہیں جو دیگر احادیث میں وارد ہوئے ہیں اور ا ن اسماء کو عقائد خمسہ میں تقسیم کیا ہے ہم نے وہ سب کتاب الاسماء و الصفات میں نقل کئے ہیں اور ہم نے اس کے ساتھ بعض شواہد اور صفات کی معرفت اور مشکل آیات کی تاویل اوراحادیث مشتبہات کا اضافہ کیا ہے جن کی معرفت ضروری ہے جو شخص اس پر مطلع ہونا چاہے گا انشاء اللہ اس کی طرف بھی رجوع کرے گا۔ اور حلیمی رحمتہ اللہ علیہ نے حدوث عالم کے اثبات میں اور ان کے دلائل میں کہ اس عالم کا کوئی صانع اور بنانے والا اور مدبر یعنی چلانے والا ہے ۔ اس کی مخلوق میں سے کوئی اس کا مشابہ یہ نہیں ہے ۔ کئی خوبصورت فصل ذکر کئے ہیں جن میں سے کوئی شئی حذف کرنا ممکن نہیں ہے لہذا میں نے انکو اپنی حالت پر ہی چھوڑ دیا ہے ۔ اور یہاں پر میں نے ان کے سوا اور کے کلام سے وہ حصہ نقل کیا ہے اس باب میں جس کو نقل کرنا ضروری تھا۔ معرفت الہی کی حقیقت یہ ہے کہ آپ اسے موجود سمجھیں ۔ قدیم سمجھیں ہمیشہ ہے فناء نہیں ہوگا ۔ ایک ہے صمد ہے اور ایسا ایک ہو جو وہم و گمان میں اور تصور میں نہیں آ سکتا ۔ تقسیم نہیں ہو سکتا ۔ حصے بخرے ٹکڑے نہیں ہو سکتا ۔ وہ جوہر نہیں ( قائم بالقدرت کسی جگہ میں ) عرض نہیں ہے ( قائم بالغیر ) جسم نہیں ہے ۔ قائم بفنسہ ہے ۔ غیر سے بالکل مستغنیٰ ہے ۔ زندہ ہے قادر ہے عالم ہے ۔ مرید ( ارادہ کرنے والا ) ہے سمیع ہے بصیر ہے ۔ متکلم ہے اس کی حیات ہے قدرۃ ہے علم ہے ارادہ ہے سمع ہے بصر ہے ۔ کلام ہے ۔ ہمیشہ سے ہے ۔ ہمیشہ رہے گا۔ وہ ان صفات کے ساتھ ۔ مخلوق کی کوئی صفات اس کی صفات کے مشابہ نہیں ہے ۔ یہ نہیں کہا جائے کہ صفات وہی ہیں اور نہ ہی غیر میں یہ بھی نہیں کہا جائے گا کہ اس سے جدا ہیں ۔ یا مجاوز ہیں ۔ یا مخالف ہیں ۔ یا موافق ہیں یا اس کو حلول کر چکی ہیں ۔ بلکہ ی ہ اس کی تعریف و ثنا ہیں ، ازلی ہیں ۔ اور اس کی صفات ابدی میں اسی کے ساتھ قائم ہیں اسی کے وجود کے ساتھ موجود ہیں ۔ اسی کے دوام کے ساتھ دائم ہیں ۔ نہ ہیں اعراض میں نہ ہی اغیار ہیں ۔ نہ اعضاء میں اترنے والی ہیں ۔ ذہنوں میں خیال و تصور کے اعتبار سے غیر مکلف ہیں یعنی جن کی کیفیت کا تصور میں ذھنوں نہیں آ سکتا۔ ان کی تمثیل و ہموں کے لئے غیر مقدور ہے ۔ اس کی قدرت مقدورات کو عام و شامل ہے ۔ اور اس کا علم معلومات کے لئے عام ہے اور شامل ہے ۔ اور اس کا ارادہ تمام مرادات کو شامل ہے ۔ وہی ہوتا ہے جو کچھ وہ ارادہ کرتا ہے ۔ جو کچھ نہیں ہوتا اس کا وہ ارادہ ہی نہیں کرتا ۔ وہ حدود اور جہات و اطراف سے اور غایات سے وراء ہے ۔ مکانوں اور زمانوں سے مستغنی ہے ۔ نہیں پا سکتیں اس کو حاجات اور نہیں چھو سکتے اس کو منافع اور نقصانات ۔ نہیں لاحق ہوتیں اس کو لذات نہ ہی تقاضے نہ ہی شہوات ایسی کوئی کیفیت ا س پر جائز نہیں جو حادث چیزوں پر جائز ہیں اور حادث ہونے پر دلالت کرتی ہیں اس کا مطلب ہے کہ نہ حرکت درست ہے اس پر نہ ہی سکون ۔ نہ ہی اجتماع نہ ہی افتراق نہ ہی برابری نہ ہی معاملہ ۔ نہ ہی ایک دوسرے کو چھونا ۔ نہ ایک دوسرے کا مجاور ہونا پڑوسی ہونا نہ ہی کوئی حادث شئی اس کے ساتھ قائم ہے ۔ نہ ہی اس کی کوئی ازلی صفت اس سے باطل ہوتی ہے اس پر عدم صحیح نہیں ہے محال ہے کہ اس کا کوئی بیٹا ہو ۔ یا بیوی ہو یا شریک ہو ۔ اپنے سو ا ہر زندہ کو موت دینے پر قادر ہے ۔ اپنے سو ہر شئی کو فنا کر سکتا ہے ۔ فنیٰ کے بعد دوبارہ اجسام کو بنا سکتا ہے ۔ ہر شئی کی مثال بغیر کسی کمی کو کوتاہی کے پید کر سکتا ہے ۔ ہر شئی پر قادر ہے ۔ اسی کی بادشاہت ہے اسی کا حکم ہے ہر انعام اس کا فضل ہے ہر اکرام اس کی طرف سے انصاف ہے ۔ اس کی طرف نسبت جوڑنا جائز ہے اور اس کی طرف نسبت ظلم صحیح نہیں ہے ۔
Shuab ul Iman · Book › The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty · Hadith 100
شعب الإيمان · کتاب ‹ فصل في الإشارة إلى أطراف الأدلة في معرفة الله عز و جل في حدث العالم ـ · حديث 104
104 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس الأصم ثنا أحمد بن الفضل الصائغ ثنا آدم ثنا أبو جعفر الرازي ثنا سعيد بن مسروق عن أبي الضحى : ـ { و إلهكم إله واحد } لما نزلت هذه الآية عجب المشركون و قالوا أن محمدا يقول : و إلهكم إله واحد فليأتنا بآية إن كان من الصادقين فأنزل الله عز و جل : { إن في خلق السماوات و الأرض و اختلاف الليل و النهار } الآية
يقول : إن في هذه الآيات { لآيات لقوم يعقلون }
ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی ہے ابو العباس اصم نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بتائی ہے احمد بن فضل صائغ نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے آدم نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو جعفری رازی نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے سعید بن مسروق نے ابو ضحیٰ سے والھکم الہ و احد، جب یہ آیت نازل ہوئی تو مشرکین حیران ہو گئے اور ایک دوسرے سے بولے محمد صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کہتا ہے ۔ : ( الھکم الہ واحد) تمہارا الہٰ معبود مشکل کشا سب کچھ کرتا دھرتا ایک ہے ۔ یہ سچا ہے تو اس بات کی کوئی نشانی کوئی دلیل ہمارے سامنے پیش کرے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے مذکورہ آیت : ( ان فی خلق السموات و الارض و اختلاف اللیل و النھار ) بقرۃ ۱۶۴) نازل فرمائی ہ آسمانوں اور زمین کی پیدائش کو دیکھیں رات دن کے آنے جانے کو دیکھیں کہ یہ کس کی تدبیر و تصرف سے سب کچھ ہوا ہے اور ہو رہا ہے وہی اللہ ہے وہی ایک ہی وہی الہٰ ہے معبود ہے مشکل کشا ہے اور آخر میں یہ بتایا کہ اس میں سمجھنے اور عقل رکھنے والوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں ۔
أبي الضحى لما نزلت هذه الآية عجب المشركون و ← سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ← أبو جعفر الرازي ← آدَمُ، ← أحمد بن الفضل الصائغ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · Book › Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world · Hadith 104
شعب الإيمان · کتاب ‹ فصل في الإشارة إلى أطراف الأدلة في معرفة الله عز و جل في حدث العالم ـ · حديث 121
121 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنبا علي بن محمد المروزي ثنا محمد بن إبراهيم الرازي ثنا يحيى بن معاذ قال : جملة التوحيد في كلمة واحدة و هي أن تتصور في وهمك شيئا إلا و اعتقدت أن الله عز و جل هو مالكه من جميع الجهات
قال البيهقي رحمه الله تعالى :
فإن قال قائل : و ايش الدليل على أنه سبحانه موجود ؟
قيل : قد بينا أنه أوجد العالم و أحدثه و الفعل لا يصح وقوعه إلا من ذوي قدرة و القدرة لا تقوم بنفسها فوجب أنها تقوم بقادر موجود
و لأن استحالة وقوع الفعل من معدم كاستحالة وقوعه لا من فاعل فلما استحال فعل لا من فاعل استحال فعل من معدوم وفي ذلك دليل علة وجوده فإن قال قائل : و ما الدليل على أنه سبحانه قديم لم يزل
قيل : قد ثبت أنه موجود ولو كان محدثا لتعلق بغيره إلى نهاية و الموجود لا ينفك من أن يكون قديما أو محدثا فلما فسد كونه محدثا ثبت أنه قديم
و إن شئت قلت : قد بينا احتياج المحدثات إلى مقدم يقدم ما تقدم منها و مؤخر يؤخر ما تأخر منها و مخصص يخصص بعضها ببعض الهيئات دون بعض فلو كان الذي يفعل ذلك بها مشاركا لها في الحدوث لشاركها في الحاجة إلى المقدم المؤخر المخصص و لو كان بهذا الوصف لاقتضى كل محدثا قبله و يستحيل وجود محدثات واحد قبل واحد لا إلى أول لاستحالة الجمع بين الحدوث و نفي الابتداء فثبت أنه قديم لم يزل
فإن قال قائل : فما الدليل على أنه ليس بجسم و لا جوهر و لا عرض ؟ قيل : لأنه لو كان جسما لكان مؤلفا و المؤلف شيئان و هو سبحانه شيء واحد لا يحتمل التأليف
و ليس بجوهر لأن الجوهر هو الحامل للأعراض المقابل للمتضادات و لو كان كذلك لكان ذلك دليلا على حدوثه و هو سبحانه تعالى قديك لم يزل
و ليس يعرض لأن العرض لا يصح بقاؤه و لا يقوم بنفسه ـ و هو ـ سبحانه قائم بنفسه لم يزل موجودا و لا يصح عدمه
فإن قال قائل : فإذا كان القديم سبحانه شيئا لا كالأشياء ما انكرتم أن يكون جسما لا كالأجسام ؟
قيل له : لو لزم ذلك للزم أن يكون صورة لا كالصور و جسدا لا كالأجساد و جوهرا لا كالجواهر : فلما لم يلزم ذلك لم يلزم هذا
و بعد : فإن الشيء سمة لكل موجود و قد سمى الله ـ سبحانه
نفسه شيئا قال الله عز و جل :
{ قل أي شيء أكبر شهادة قل الله شهيد بيني وبينكم }
و لم يسم نفسه جسما و لا سماه به رسول الله صلى الله عليه و سلم و لا اتفق المسلمون عليه و نحن فلا نسمي الله عز و جل باسم لم يسم هو به نفسه و لا رسوله و لا اتفق المسلمون عليه قال الله عز و جل :
{ ولله الأسماء الحسنى فادعوه بها وذروا الذين يلحدون في أسمائه سيجزون ما كانوا يعملون }
فإن قال قائل : و ما الدليل على أنه لا يشبه المصنوعات و لا يتصور في الوهم ؟
قيل : لأنه لو أشبهها لجاز عليه جميع ما يجوز على المصنوعات من سمات النقص و إمارات الحدث و الحاجة إلى محدث غيره و ذلك يقتضي نفيه فوجب أنه كما وصف نفسه :
{ ليس كمثله شيء و هو السميع البصير }
و لأنا نجد كل صنعة فيما بيننا لا تشبه صانعها كالكتابة لا تشبه الكاتب و البناء لا يشبه الباني فدل ما ظهر لنا من ذلك على ما غاب عنا و علمنا أن صنعة الباري لا تشبهه
فإن قال قائل : و ما الدليل على أنه قائم بنفسه مستغن عن غيره ؟
قيل : لأن خالق هذا الوصف يوجب حاجته إلى غيره و الحاجة دليل الحدث لأنها تكون إلى وقت ثم تبطل بحدوث ضدها و ما جاز دخول الحوادث عليه كان محدثا مثلها و قد قامت الدلالة على قدمه
فإن قال قائل : و ما الدليل على أنه حي عالم قادر
قيل : ظهور فعله دليل على حياته و قدرته و عمله لأن ذلك لا يصح وقوعه من ميت و لا عاجز و لا جاهل به و إذا وقع في شيء لم يصح وقوعه من ميت و لا عاجز و لا جاهل دل ذلك على أنه بخلاف وصف من لا يتأتى ذلك منه و لا يكون بخلاف ذلك إلا و هو حي قادر عالم
فإن قال قائل : و ما الدليل على أنه مريد ؟
قيل : لأنه حي عالم ليس بمكره و لا مغلوب و لا به آفة تمنعه من ذلك و كل حي خلا مما يضاد العلم و لم يكن به آفة تخرجه من الإرادة كان مريدا مختارا قاصدا
فإن قال قائل : و ما الدليل على أنه سميع بصير ؟
قيل : لأنه حي و يستحيل وجود حي يتعرى عن الوصف بما يدرك المسموع و المرئي أو بالآفة المانعة منه و يستحيل تخصيصه من أحد هذين الوصفين بالآفة لأنها منع و المنع يقتضي مانعا و ممنوعا و من كان ممنوعا كان مغلوبا و ذلك صفة الحدث و الباري قديم لم يزل و هو سميع بصير لم يزل و لا يزال
فإن قال قائل : و ما الدليل على أنه متكلم ؟
قيل : لأنه حي ليس بساكت و لا به آفة تمنعه من الكلام و كل حي كان كذلك كان متكلما
فإن قال قائل : و ما الدليل على أنه لم يزل حيا قادرا عالما مريدا سميعا بصيرا متكلما ؟
قيل : لأنه لو لم يكن كذلك لكان موصوفا بأضدادها من موت أو عجز أو آفة و لو كان كذلك لاستحال أن يقع منه فعل و في صحة الفعل منه دليل على أنه لم يزل كذلك و لا يزال كذلك
فإن قال قائل : و ما الدليل على أنه حي قادر عالم مريد سميع بصير متكلم له الحياة والقدرة و العلم و الإرادة و السمع و البصر و الكلام ؟
قيل : لأنه يستحيل إثبات موجود بهذه الأوصاف مع نفي هذه الصفات عنه و حين لزم إثباته بهذه الأوصاف لزم إثبات هذه الصفات له
قال الله عز و جل :
{ و لا يحيطون بشيء من علمه إلا بما شاء }
و قال تعالى :
{ وسع كل شيء علما }
و قال : { و أن الله قد أحاط بكل شيء علما }
أي علمه قد أحاط بالمعلومات كلها ـ إلى سائر الآيات التي وردت في هذا المعنى و قال :
{ إن الله هو الرزاق ذو القوة المتين }
فأثبت القوة لنفسه و هي القدرة و أثبت العلم فدل أنه عالم بعلم قادر بقدرة و لأنه لو جاز عالم لا علم له لجاز علم لا عالم به كما أنه لو جاز فاعل لا فعل له لجاز فعل لا لفاعل فلما استحال فاعل لا فعل له كما استحال فعل لا فاعل له كذلك يستحيل عالم لا علم لا لعالم
و لأن العلم لو لم يكن شرطا في كون العالم عالما لم يضر عدمه في كل عالم حتى يصح كل عالم أن يكون عالما مع عدم العلم و حين كان شرطا في كون بعضهم عالما وجب ذلك في كل عالم لامتناع اختلاف الحقائق من الموصوفين
و لأن إحكام الفعل يمتنع مع عدم العلم منا به كما يمتنع مع كوننا غير عالمين به فكما وجب استواء جميع المحكمين في كونهم علماء كذلك يجب استواءهم في كون العلم لهم لاستحالة وقوعه من غير ذي علم به منا كاستحالة وقوعه من غير عالم به منا
و لأن حقيقة العلم ما يعلم به العالم و بعدمه يخرج عن كونه عالما فلو كان القديم عالما بنفسه كانت نفسه علما له و لا يجوز أن يكون العالم في معنى العلم فإن عارضوا ما ذكرناه من الآيات بقول الله عز و جل :
{ و فوق كل ذي علم عليم }
قلنا : لسنا نقول إن الله ذو علم على التنكير و إنما نقول أنه ذو العلم على التعريف كما نقول أنه ذو الجلال و الإكرام على التعريف و لا نقول أنه ذو جلال و إكرام على التنكير
فمعنى الآية إذا و فوق كل ذي علم محدث من هو أعلم منه
فإن قالوا : فيقولون إن علمه قديم و هو قديم
قيل : من أصحابنا من لا يقول ذلك مع إثباته له أزليا و منهم من يقول ذلك و لا يجب به الاشتباه لأن القديم هو المتقدم في وجوده بشرط المبالغة و المتقدم في الوجود هو الوجود و الوجود لا يوجب الاشتباه عند أحد فكذلك المتقدم في الوجود لا يوجب الاشتباه و لأن القدم وصف مشترك يقال شيخ قديم و بناء قديم و بناء قديم و عرجون قديم
فالاشتباه لا يقع بالاشتراك في الوصف المشترك
و لأنه لو كان الاشتباه يقع بالاشتراك في القدم لكان يقع بالاشتراك في الحدث فلما لم يقع بالاشتراك في الحدث لم يقع بالاشتراك في القدم
و لأن عندنا حقيقة المشتبهين هم الغيران اللذان يجوز على أحدهما جميع ما يجوز على صاحبه و ينوب منابه و صفات الله تعالى ليست باغيار له
فإن قالوا : لو كان له علم لم يخل من أن يكون هو أو غيره أو بعضه ؟
قيل : هذه دعوى بل ما ينكر من علم لا يجوز أن يقال هو هو لاستحالة أن يكون العلم عالما و لا يجوز أن يقال غيره لاستحالة مفارقته له و معنى الغيرين ما لا يستحيل مفارقة أحدهما لصاحبه بوجه
و لا يجوز أن يقال بعضه إذ ليس الموصوف به متبعضا
فإن قال : لو كان له علم لكان عرضا مكتسبا أو مضطرا إليه و كان اعتقادا من جنس علومنا لأن ذلك حكم العلم المعقود
قيل : ليس الأمر كذلك لأن العلم لم يكن العلم لم يكن علما لأنه عرض أو بصفة مما ذكرتكم و إنما كان علما لأن العلم به يعلم ثم يضطر فإن كان العلم محدثا كان علمه عرضا مكتسبا أو مضطرا إليه
و إن لم يكن محدثا لم يصح و صفه بما يوجب الحدث و لما وجب أن يكون عالما غير معتقد و لا مكتسب و لا مضطر و جب أن يكون له علم لا يصح وصفه بشيء مما ذكرتكم
فإن قالوا : لو كان عالما بعلم لكان محتاجا إلى عمله
قيل : لا يجوز عليه الحاجة لأنه غني ليس علمه و لا سائر صفاته الذاتية أغيارا له و لا ابعاضا حتى يصح وصفة بالحاجة إلى غيره أو إلى بعضه
فإن قالوا : فيقولون إن علمه علم بكل ما يصح أن يعلم
قيل : كذلك نقول و لذلك وصف الله تعالى علمه فقال :
{ لتعلموا أن الله على كل شيء قدير وأن الله قد أحاط بكل شيء علما }
و أما غير الله عز و جل فإن لا يصح أن يكون عالما بكل معلوم فلم يصح أن يكون له علم بذلك فالله سبحانه و تعالى يجب كونه عالما بكل معلوم فكذلك يجب أن يكون عمله علما بكل ما يصح أن يعلم
و الكلام في سائر الصفات الذاتية كالكلام في العلم و لا يجوز في شيء من ذلك أن يقال إنه يجاوره لأن المجاورة تقتضي الممارسة أو المقاربة في المكان و ذلك صفة الأجسام التي هي محل الحوادث و لا يقال إنها تحله لأن الحلول يقتضي المجاورة و قد قامت الدلالة على بطلانها و لا يقال إنها تخالفة أو تفارقه لأن المفارقة و المخالفة فرع للغيرية و التغاير بينه و بين صفاته محال
و لا يقال إنه ملكه لأن ما يملك يصح أن يفعل و صفاته أزلية لا يصح أن تفعل و لا يقال في صفات ذاته إنها في أنفسها مختلفة و لا متففة لأنها ليست بمتغايرة
و لا يقال إنها مع الله أو في الله بل هي مختصة بذاته قائمة به لم يزل موصوفا بها و لا يزال هو موصوفا بها
و لله تعالى صفات خبرية منها الوجه و اليد
طريق إثباتها و رود خبر الصادق بها فنثبتها و لا نكيفها
و أما صفات الفعل كالخلق و الرزق فإنها أغيار و هي فيما لا يزال و لا يصح وصفه بها في الأزل
و أبى المحققون من أصحابنا أو يقولوا في الله جل ثناؤه أنه لم يزل خالقا و رازقا و لكن يقولون خالقنا لم يزل و رازقنا لم يزل قادرا على الخلق و الرزق لأنه لم يخلق في الأزل ثم خلق و إذا سمي خالقا بعد وجود الخلق لم يوجب ذلك تغيرا في ذاته كما أن الرجل إذا سمي أبا بعد أن لم يسم أبا لم يوجب ذلك تغيرا في نفسه
و من أصحابنا من قال : يجوز القول لم يزل خالقا رازقا على معنى أنه سيخلق و سيرزق و بالله التوفيق
ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے کہ خبر دی ہے علی بن محمد مروزی نے کہ ہمیں بات بیان کی ہے محمد بن ابراہیم رازی نے کہ ہمیں بیان کیا ہے یحییٰ بن معاذ نے انہوں نے کہا کہ : ساری توحید ایک ہی کلمہ میں ہے اور وہ یہ ہے کہ تیرے خیال و گمان میں بھی جس چیز کا تصور آئے اس کے بارے میں آ پ یہ عقیدہ رکھیں کہ اس کا مالک بھی ہر اعتبار سے اللہ تعالیٰ ہے ۔ اگر کوئی کہنے والا کہے کہ اس بات پر کیا دلیل ہے اللہ سبحانہ و تعالیٰ موجود ہے ؟ جواب دیا جائے کہ ہم بیان کر چکے کہ اسی نے اس عالم کو وجود دیا اور از سر نو پیدا کیا اور یہ کام ایسا تھا کہ اس کا وقوع ایک عظیم قدرت والی ذات کے بغیر ممکن نہیں تھا ۔ اور قدرت بذات خود تو اقائم نہیں ہوئی بلکہ لازم ہے کہ وہ کسی قدر موجود کے ساتھ قائم ہے ۔ دوسری دلیل اللہ تعالیٰ کے وجود کی ہے کہ یہ بات مسلمات میں سے ہے کہ فعل عمل میں نہ آنے سے فعل کا وجود محال ہوتا ہے ۔ اسی طرح فاعل کے عدم وجود سے بھی فعل کا وجود محال ہوتا ہے یہاں ہم دیکھتے ہیں کہ عالم موجود ہے تو عالم کا وجود خود دلیل ہے اس بات کی کہ اس کا فاعل موجود ہے ورنہ کائنات نہیں ہو سکتی تھی اور وہ وہی اللہ ہے ۔ اگر کوئی کہنے والا کہے کہ اس بات کی کیا دلیل ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ قدیم ہے اور وہ ہمیشہ رہے گا ؟ تو جواب یہ ہے کہ یہ تو ثابت ہو چکا کہ اللہ موجود ہے ۔ پھر اگر وہ قدیم نہ ہوتا ضرور اس کا کوئی وجود میں لانے والا ہوتا لہذا وہ اپنے وجود میں کسی دوسرے کا محتاج ہوتا اور یہ سلسلہ لامتناہی چلتا۔ جب کہ موجود دو حال سے خالی نہیں ہو سکتیں یا قدیم یا حادث، جب حادث ہونا غلط ہوا تو لا محالہ ثابت ہو ا کہ وہ قدیم ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ اگر کوئی کہے کہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ جسم ہے نہ جوہر ہے نہ عرض ہے ؟ جوب یہ ہو گا کہ اگر وہ جسم ہوتا تو وہ مرکب ہوتا کیونکہ جسم مرکب شئی کا نام ہے اور مرکب ایک نہیں بلکہ دو یا زیادہ سے ترکیب پانے والے شئی ہوتی ہے جب کہ اللہ سبحانہ شئی واحد ہے تالیف و ترکیب کا احتمال نہیں رکھتا ۔ وہ مرکب ہونے سے پا ک ہے یوں وہ جسم نہیں ہے ۔ اور وہ عرض نہیں ہے اس لئے کہ عرض وہ ہوتا ہے جس کی بذات خود بقاء صحیح نہیں ہو بذات خود قائم نہ ہو بلکہ وہ کسی دوسری شئی کے ساتھ قائم ہو جب کے اللہ تعالیٰ قائم بنفسہ قائم بذاتہ ہے اور ہمیشہ موجود رہے گا ۔ اس کا عدم صحیح نہیں ۔ اگر کوئی کہنے والا کہے کہ اللہ قدیم سبحانہ شئی ہے مگر اشیاء جیسا نہیں تو اسی طرح تم یہ انکار کر دیا کہ وہ جسم ہے مگر اجسام کی طرح اور اجسام جیسا نہیں ؟ جواب دیا جائے گا کہ اگر یہ بات لازم ہوتی تو یہ بھی لازم ہوتا کہ وہ صورت ہو مگر صورتوں جیسی نہیں اور جسد ہو مگر اور اجساد جیسا نہیں ۔ جوہر ہو مگر جواہر جیسا نہیں جب یہ لازم نہیں آتا تو وہ بھی لازم نہیں آتا۔ لفظ سئی نام ہے اور علامت پر موجود چیز کا جب کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کو شئی کا نام دیا ہے ارشاد باری ہے : ( قل ای شئی اکبر شھادۃ ؟ قل اللہ اکبر شھید بینی و بینکم ) ( انعام ۱۹) فرما دیجئے کون سی شئی بڑی ہے شہادت کے اعتبار سے ؟ فرما دیجیے اللہ گواہ ہے میرے اور تمہارے درمیان ۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی لفظ استعمال کیا ہے جب کہ اپنے آپ کو جسم کا نام نہیں دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے بھی اللہ تعالیٰ کے لئے لفظ جسم یا جسد استعمال نہیں فرمایا اور نہ ہی اس کے مسلمانوں نے اتفاق کیا ۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے : ( و اللہ الا سماء الحسنی فادعوہ بھا و ذروا الذین یلحدون فی اسمائہ سیجزون ما کانوا یعملون ) ( اعراف ۱۸۰) اللہ تعالیٰ کے خوبصورت نام ہے انہیں ناموں کے ساتھ اس کو پکارئیے ان لوگوں کو چھوڑ دیجیے جو اللہ کے ناموں میں الحاد اور بے دینی کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ جلدی اس کا بدلہ دئیے جائیں گے جو عمل کرتے تھے ۔ ( ان ناموں میں کوئی نام جسم یا جسد وغیرہ نہیں ہے تو معلوم ہو ا کہ اللہ تعالیٰ کو جسم کہنا درست نہیں ۔ مترجم ) اگر کہا جائے کہ اس بات کی کیا دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ مصنوعات کے مشابہ نہیں ہے اور وہ وہم اور تصور میں نہیں آ سکتا تو جواب یہ دیا جائے گا کہ اگر اللہ تعالیٰ مصنوع اور بنائی چیزوں کے مشابہ ہوتا تو اس پر وہ سب کچھ جائز ہوتا جو ان مصنوع و مخلوق چیزوں پر جائز ہے نقص کی علامات اور حادث ہونے کی نشانیاں اور دوسرے محدث و موجد کی ضرورت اور احتیاج ۔ اور یہ بات اس کی نفی کی متقضی ہے لہذا واجب ہوا کہ وہ اسی طرح ہے جیسا کہ اس نے اپنے آپ کو موصوف کیا ہے ۔ ( لیس کمثلہ شئی و ھو السمیع البصیر ) ( شوریٰ ۱۱) اس کی مثل کوئی شے نہیں اور وہ سننے اور دیکھنے والا ہے ۔ ( اللہ تعالیٰ کسی شے کے مشابہ نہیں اس امر کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ ) ہم روزہ مرہ مشاہدہ کر رہے ہیں کہ ہمارے سامنے جتنی بنائی ہوئی چیزیں وہ اپنے بنانے والے کے مشابہ نہیں ہیں ، مثلاً کتاتب کابت کے مشابہ نہیں ہے ۔ عمارت بانی کے مشابہ نہیں ہے اسی طرح دیگر وہ تمام اشیاء جو ظاہر ہیں اور اپنے بنانے والے کے مشابہ نہیں ہیں اور بنانے والا اپنی بنائی ہوئی اشیاء کے مشابنہ نہیں ہے ان ظاہر چیزوں سے ہم غائب چیزوں پر دلیل پکڑ سکتے ہیں اور ہم نے اسی سے جان لیا کہ اللہ تعالیٰ کسی اپنی بنائی ہوئی شئی کے مشابہ نہیں اور نہ ہی کوئی شئ اس کے مشابہ ہے ۔ اگر کوئی کہنے والا کہے کہ اس بات کی کیا دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ بنفسہ و بذاتیہ قائم ہیں اپنے ما سوا سے مستغنی ہے تو اسے جواب دیا جائے گا کہ اگر وہ بذات خود قائم نہ ہوتا تو وہ اپنے قیام کے لئے اپنے ما سوا اور غیر کا محتاج ہوتا۔ تو یہ دلیل ہوتی حادث ہونے کی اگر وہ حادث ہوتا تو دیگر حادث اشیاء پر جو تغیرات جائز ہیں وہ سب کچھ اس پر بھی جائز ہوتے حالانکہ اس کے قدیم ہونے پر دلائل قائم ہو چکے ہیں لہذا وہ بذات خود قائم ہے دوسروں سے مستغنی ہے اپنے وجود کے اندر تانکہ وہی سب کا قائم کرنے والا رہے اس کو کوئی قائم رکھنے والا نہ ہو اور وہ سب سے مستغنی ہو کسی کا محتاج نہ ہو جو مستغنی نہ ہو بلکہ اپنے وجود میں دوسرے کا محتاج ہو کسی اور کا خالق و موجد حقیقی کیسے ہو سکتا ہے ؟ اگر کوئی سوال کرے کہ یہ کیسے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ زندہ ہے عالم ہے قادر ہے ؟ اس کی کیا دلیل ہے ؟ جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فعل کا ظہور اس کی حیات ۔ اس کی قدر اور اس کے علم کی دلیل ہے اس لئے کہ اس فعل کا ظہور اور وقوع میت سے اور عاجز سے اور لا علم اور جاہل سے ممکن نہیں ہے جب اس کے افعال و جود میں آ چکے ہیں جو کہ میت سے عاجز سے جاہل سے وجود میں نہیں آ سکتے تو لا محالہ ثابت ہوا کہ جس سے یہ افعال صادر ہوئے ہیں یقینا وہ ہی قادر ہے عالم ہے اگر کوئی سوال کرے کہ اس بات کی کیا دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ مرید ہے یعنی ارادہ کرتا ہے ؟ جواب دیا جائے گا کہ وہ زندہ ہے ۔ عالم ہے نہ وہ مجبور ہے نہ وہ مغلوب اور عاجز ہے نہ ہی اس کے ساتھ کوئی ایسی مشکل ہے جو اس کو ان امور سے روک سکے ہر وہ ذات جو زندہ ہو جاہل نہ ہو اور اس کے ساتھ کوئی ایسی مشکل نہ ہو جو اس کے ارادے کو روک دے وہ اپنے ارادے کا مالک ہوتا ہے ۔ مختار ہوتا ہے قصد کرنے والا ہوتا ہے ۔ اگو کوئی سوال کرے کہ اس بات کی کیا دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ سمیع ہے بصیر ہے ؟ جواب دیا جائے گا کہ وہ زندہ ہے اور زندہ وجود کے لئے یہ محال ہوتا ہے کہ وہ سمع بصر کی صفت سے خالی ہو جب کہ ہو کسی مانع صفت سے خالی ہو کیونکہ منع مانع اور ممنوع کو تقاضا کرتا ہے اور جو ممنوع ہو وہ مغلوب ہوتا ہے اور جو مغلوب ہو یہ صفت حادث کی ہوتی ہے جب کہ باری تعالیٰ قدیم ہے ہمیشہ ہے وہ سمیع ہے بصیر ہے ہمیشہ ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ اگر کوئی سوال کرے کہ اس بات کی کیا دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ متکلم ہے ؟ جواب دیا جائے گا کہ اللہ حی ہے زندہ ہے ساکت نہیں ہے اور اس کے ساتھ کوئی ایسی آفت نہیں لگی ہوئی جس کی وجہ سے وہ کلام نہ کر سکے ۔ اور ہر وہ زندہ جو ایسا ہو وہ متکلم ہوتا ہے لہذا ثابت ہوا کہ متکلم ہے دوسری دلیل یہ ہے کہ جس کو کلام کرنا محال ہو اس کی طرف سے خطاب کرنا اور حکم و امر کا پایا جانا بھی محال ہوتا ہے جب کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے خطاب بھی موجود ہے امر بھی موجود میں تو لازمی بات ہے کہ وہ متکلم ہے اگر سوال کیا جائے کہ اس بات کی کیا دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے زندہ ، قادر عالم ارادہ کرنے والا۔ سمیع بصیر متکلم تھا اور رہے گا۔ جواب یہ ہے کہ ، کہ اگر اللہ ہمیشہ سے زندہ ۔ قادر ، عالم ۔ ارادہ کرنے والا، سننے والا دیکھنے والا، کلام کرنے والا، نہ ہوتا تو لا محالہ وہ میت ہوتا۔ عاجز ہوتا جاہل ہوتا ۔ ارادہ نہ کر سکتا ۔ نہ سن سکتا نہ دیکھ سکتا نہ کلام کر سکتا۔ اگر ایسا ہوتا تو لازمی بات ہے کہ پھر وہ کچھ کر بھی نہ سکتا اس سے کوئی چھوتا بڑا فعل اور کام بھی وجود میں نہ آس سکتا جب کہ مشاہدہ اس سب کچھ کو غلط بتا رہا ہے ۔ بلکہ وہ سب کچھ کر چکا ہے اور کر رہا ہے تو یہ دلیل ہے اس بات کی کہ وہ ہمیشہ ایسے تھا اور ہمیشہ ایسے رہے گا۔ اگر کوئی سوال کرے کہ کیا دلیل ہے اس بات کی کہ اللہ تعالیٰ حی ہے ۔ قادر ہے عالم مرید ہے سمیع ہے بصیر ہے متکلم ہے حیات کام مالک ہے قدرت اور علم ارادے ، سمع بصر اور کلام کا مالک ہے جواب دیا جائے گا کہ ایسی موجود ہستی کا سرے سے اثبات محال ہے جو موجود تو ہو الہ بھی ہو حی قادر عالم مرید سمیع بصیر متکلم تو ہو لیکن وہ حیات قدرت علم ارادہ سمع بصر کلام کا مالک نہ ہو بلکہ ان صفات کے ہوتے ہوئے ان صفات کا اثبات اس کے لئے لازم ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ( ولا یحیطون بشئی من علم الا بماشاء ) ( البقرہ ۲۵۵) کائنات کے سارے لوگ اللہ کے علم میں سے کسی شئی کا بھی احاطہ نہیں کر سکتے مگر جس قدر وہ خود چاہے ۔ دوسرے مقام پر ارشاد ہے : ( وسع کل شیئی علما ) ( طہ ) ہر شے سے اس کا علم فراخ ہے ۔ تیسرے مقام پر فرمایا : ( و ان اللہ قد احاط بکل شی ء علما ) ( الطلاق ۱۲) اللہ تعالیٰ نے ہر شئی کو اپنے علم کے احاطہ میں لیا ہوا ہے ۔ یعنی اس کے علم نے تمام معلومات کا احاطہ کر لیا ہے ۔ علاوہ ازیں دیگر وہ تمام آیات جو اس مفہوم میں وارد ہوئی ہیں اسی مذکورہ بات کی دلیل ہیں ۔ ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا : ( ان اللہ وھ الرزاق ذو القوۃ المتین ) ( الذاریات ۵۸) بے شک اللہ ہی رزاق ہے اور وہ بڑی مضبوط قوت والا ہے ۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے لئے طاقت و قوت کو ثابت فرمایا ہے اور یہی قدرت ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے لئے علم کو ثابت فرمایا ہے ۔ لہذا یہ آیات دلالت کرتی ہیں کہ وہ عالم ہے علم کے ساتھ اور قادر ہے قدرت کے ساتھ اس لئے کہ اگر یہ ممکن ہوتا کہ عالم تو ہو لیکن اس کو علم نہ ہو یہ بھی ممکن ہوتا کہ علم تو ہو مگر کوئی اس کا عالم نہ ہو ۔ جیسے اگر یہ ممکن ہوتا کہ فاعل تو ہو مگر اس کا کوئی فعل نہ ہو۔ تو یہ بھی ممکن ہوتا کہ فعل تو ہو مگر اس کا فاعل نہ ہو جب یہ محال ہے کہ فاعل ہو مگر اس کو کوئی فعل نہ ہو ۔ جیسے یہ محال ہے کہ فعل ہو مگر فاعل نہ ہو اسی طرح یہ بھی محال ہے کہ عالم تو ہو مگر اس کا علم نہ ہو جیسے یہ محال ہے کہ علم ہو لیکن اس کا کوئی عالم نہ ہو۔ اس لئے کہ عالم کے عالم ہونے میں اگر علم شرط نہ ہوتا تو اس کا عدم بھی ہر عالم میں نقصان دہ نہ ہوتا یہاں تک کہ صحیح ہونا ہر عالم کہ وہ عالم ہو عدم علم کے باوجود۔ جب عالم کے لئے علم شرط تھا بعض میں تو یہ واجب ہوا کہ ہر عالم میں علم ہو بوجہ امتناع اختلاف حقائق کے دو موصوفوں میں ۔ دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ فعل کے احکام عدم علم کے ساتھ ممتنع ہیں ہماری طرف سے جیسے ممتنع ہے ہمارے غیر عالم ہونے کے ساتھ ۔ جیسے علماء ہونے میں تمام محکمین میں برابری واجب ہے ایسے اس بات میں بھی ان میں برابری واجب ہے کہ عللم بھی ان کے لئے ہو۔ بوجہ محال ہونے اس کے قوع کے غیر ذی علم سے ہماری طرف سے ۔ مثل مھال ہونے اس کے وقوع کے غیر عالم سے ہماری طرف سے ( ایک وجہ یہ ہے ) کہ علم کی حقیقت وہ ہوتی ہے جس کو علم والا جانتا ے جس کے عدم کے ساتھ وہ عالم نہیں ہوتا پس اگر قدیم بذات خود عالم ہو تو ذات اس کی علم ہو گی ۔ اور عالم بمعنی علم ہونا درست نہیں اگر اس بات پر جو ہم نے ذکر کی آیات سے معارضہ کریں جیسے ارشاد باری ہے : ( و فوق کل ذی علم علیم ) ( یوسف ۷۶) کہ ہر ذی علم سے بڑے علم والا ہوتا ہے ۔ تو ہم یہ جواب دیں گے کہ ہم یہ نہیں کہہ رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ذو علم ہے بطور نکرہ بلکہ ہم کہہ رہے ہیں وہ علم والا ہے بطور معرفہ جیسے ہم کہتے ہیں وہ ذالجلال و الاکرام ہے بطور معرفہ ہم اس کو ذوجلال و اکرام نہیں کہتے بطور نکرہ ۔ لہذا آیت مذکورہ کا معنی اس وقت فوق کل ذی علم محدث من اعلم منہ ہو گا یعنی ہر ذی علم حادث سے کوئی بڑا علم والا بھی ہوتا ہے ۔ اگر کچھ لوگ اعتراض کریں کہ اس کا علم قدیم ہے حالانکہ وہ خود قدیم ہے جواب میں کہا جائے گا کہ ہمارے اصحاب میں سے جو اللہ تعالیٰ کے لئے ازلی ہونے کا اثبات کرنے کے ساتھ اس بات کے قائل نہیں ۔ اور ان میں سے بعض اس کے قائل ہیں اور اس کے ساتھ کوئی اشتباہ بھی واقع نہیں ہوتا ۔ اس لئے کہ قدیم وہ ہوتا ہے جو اپنے وجود میں مقتدم ہو بشرط مبالغہ اور متقدم فی الوجود وہی وجود ہوتا ہے اور وجود کسی ایک کے نزدیک بھی اشتباہ کو لازم نہیں کرتا ۔ تو اسی طرح متقدم فی الوجود اشتباہ واجب نہیں کرتا اور اس لئے بھی کہ قدیم ہونا وصف مشترک ہے ۔ جو استعمال سے ثابت ہے یوں کہا جاتا ہے ۔ شیخ قدیم ، بناء قدیم ، عرجوں قدیم ، پرانا بزرگ، پرانی عمارت، پرانی شاخ وغیرہ تو مشترک وصف میں اشتراک کے ساتھ اشتباہ واقع نہیں ہوتا۔ اس لئے کہ اگر قدیم ہونے میں اشتراک کے ساتھ اگر اشتباہ واقع ہوتا اشتراک فی الحدث کے ساتھ بھی اشتباہ واقع ہوتا۔ جب اشتراک فی الحدث کے ساتھ اشتباہ واقع ہوتا تو اشتراک فی القدم کے ساتھ بھی واقع ہوتا۔ اور اس لئے کہ ہمارے نزدیک مشتبہین کی حقیقت ۔ دو غیر چیز ہوتی ہیں ایسی دو غیر کہ ایک پر جو سب کچھ جائز ہو دوسرے پر بھی صحیح ہو اور ایک دوسرے کے قائم مقام ہو۔ جب کہ اللہ کی صفات اس کی غیر نہیں ہیں ۔ اگر کچھ لوگ اعتراض کریں کہ اگر اللہ تعالیٰ کا علم ہو تو وہ تین حال سے خالی نہ ہوگا۔ یا تو وہ خود وہی ہوگا۔ یا اس کا غیر ہوگا۔ یا اس کا بعض ہوگا۔ ( تینوں صورتیں غلط ہیں ) جواب دیا جائے گا کہ یہ محض دعویٰ ہے ۔ بلکہ اللہ کے علم کا انکار ہے یہ جائز نہیں کہ یہ کہا جائے کہ عہم وہی خود اللہ ہے اس لئے کہ یہ محال ہے کہ علم عالم ہو۔ اور یہ بھی جائز نہیں کہ یہ کہا جائے اس کا علم اس کا غیر ہے ۔ اس لئے کہ علم کی مفارقت اس سے محال ہے اور دو غیروں کا مطلب یہ ہے کہ دونوں میں سے کسی ایک کی مفارقت کسی بھی صورت میں دوسرے سے محال ہو۔ اور اللہ کا بعض کہنا بھی جائز نہیں ۔ اس لئے کہ اس کا موصوف یعنی اللہ تعالیٰ کے حصے نہیں ہو سکتے وہ جزئیت اور بعضیت سے پاک ہے اگر اعتراض کریں کہ اگر اس کا علم ہو تو وہ عرض ہو جو مکتسب اور حاصؒ کردہ ہوگا۔ مضطرالیہ ہوگا یعنی وہ اس کی طرف مجبور ہوگا ۔ تو اعتقاد ی طور پر وہ ہمارے علم یعنی مخلوق کے علوم کی جنس سے ہوگا اس لئے کہ یہ یہی حخم علم معقود کا ہے ۔ جواب دیا جائے گا کہ معماملہ اس طرح نہیں ہے ۔ اس لئے کہ یہ علم ، علم نہیں ہے اس لئے کہ عرض ہے یا اس کیفیت و صفت پر ہے جو تم نے ذکر کی ہے بلکہ علم تھا اس لئے کہ علم بہ جانا گیا پھر مجبور کیا گیا۔ اگر علم محدث ہوتا تو اس کا علم عرض ہوتا کسبی ہوتا یا اس کی طرف مجبوری ہوتی ۔ اور اگر وہ علم حادث نہیں تو جو چیز حادث کو لازم ہے کہ اس کے ساتھ موصوف ہونا صحیح نہیں ہوگا۔ جب لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ عالم ہو غیر معتقد غیر مکتسب ہو غیر مضطر ہو تو لازم ہوا کہ اس کا ایسا علم ہو جو ان صفات سے موصوف ہو سکے جو تم نے ذکر کی ہیں ۔ اگر لوگ یہ اعتراض کریں کہ اللہ تعالیٰ عالم ہے علم کے ساتھ تو وہ اپنے علم کا محتاج ہوتا ہے جواب دیا جائے گا کہ حاجت و ضرورت اس پر جائز نہیں کیونکہ وہ غنی ہے اس کا علم اس کا غیر نہیں ہے اور اسی طرح اس کی تمام صفات ذاتیہ اس کی غیر نہیں ہیں ۔ اس کی بعض بھی نہیں ہیں یہاں تک کہ اس کو اپنے غیر اپنے بعض کی طرف ضروریات و حاجت کے ساتھ موصوف کیا جا سکے ۔ اگر لوگ کہیں کہ اللہ تعالیٰ کا علم ہر اس شئی کا علم ہے جس کا معلوم کیا جانا صحیح اور ممکن ہو جواب دیا جائے گا۔ کہ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کی یہ صفت بیان کی ہے ۔ ( لتعلموا ان اللہ علی کل شیء قدیر وان اللہ قد احاط بکل شیئی علما ) ( طلاق ۱۲) تانکہ تم جان لو کہ اللہ تعالیٰ ہر شئی پر قادر ہے اور اللہ نے ہر شئی کو علم کے احاطہ میں لے لیا ہے ۔ بہر حال غیراللہ یعنی اللہ کے ما سوا کے لئے ممکن نہیں کہ ہر سئی کے علم کے ساتھ عالم ہو۔ ہر شئی کے بارے میں علم ہونا ممکن بھی نہیں ، اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ہر معلوم کا عالم ہونا لازم ہے ۔ اسی طرح لازم ہے کہ اس کا علم ہر اس چیز کا علم ہو جس کا معلوم ہونا ممکن ہو۔ اللہ تعالیٰ کی تمام ذاتی صفات میں ہی کلام ہے جو اس کے علم کے بارے میں ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی تمام صفات میں سے کسی صفت کے بارے میں یہ جائز نہیں ہے کہ یہ کہا جائے کہ یہ اس کی مجاور ہیں کیونکہ مجاورت تقاضا کرتی ہے ایک دوسرے سے چھونے اور مس کرنے کو یا مقاربت کو مکان و جگہ کے اعتبار سے جب سب کچھ اجسام کی صفت ہے اور اجسام حوادث کا محل ہوتے ہیں ۔ اور یہ بھی نہ کہا جائے کہ صفات اس میں داخل ہو گئی ہیں اس لئے کہ حلول مجاورت کو تقاضا کرتا ہے جب کہ مجاورت کے باطل ہونے پر دلیل قائم ہو چکی ہے اور یہ بھی نہ کہا جائے کہ اس کی صفات اس کی مخالف ہیں یا اس کے مفارق اور جدا ہیں اس لئے کہ مخالفت اور مفارقت فرع ہیں غیریت کی ۔ جب کہ اللہ اور اس کی صفات کے درمیان تغایر محال ہے اور یہ بھی نہ کہا جائے کہ وہ اس کی ملکیت ہیں اس لئے کہ جو چیز ملک ہوتی ہے اس میں تصرف وغیرہ ممکن ہوتا ہے جب کہ اللہ تعالیٰ کی صفات ازلی ہیں اور اللہ تعالیٰ کی صفات ذاتیہ کے بارے میں یہ نہ کہا جائے کہ وہ اپنی ذات میں مختلف میں نہ ہی یہ کہا جائے کے متفق ہیں اس لئے کہ وہ ایک دوسری سے متغایر نہیں ہیں ۔ اور یہ بھی نہ کہا جائے کہ وہ صفات اللہ کے ساتھ ہیں یا اللہ کے اندر ہیں بلکہ یہ کہا جائے کہ صفات اس کی ذات کے ساتھ مختص ہیں اسی کے ساتھ قائم ہیں ۔ وہ ہمیشہ سے ان کے ساتھ موصوف تھا اور ہمیشہ ان کے ساتھ موصوف رہے گا۔ اللہ تعالیٰ کی کچھ صفات خبری ہیں بعض ان میں سے ( وجہ ) چہرہ ( دایاں ) ہاتھ ہے ان کے اثبات کا طریقہ ان کے بارے میں خبر صادق کا وارد ہونا ہے ہم انہیں ثابت تو کریں گے لیکن ان کی کیفیت بیان نہیں کریں گے ۔ بہر حال صفات فعل مثلا خلق ، رزق۔ یہ اغیار ہیں اور یہ سب لایزال ہیں دائمی ہیں ان کے ساتھ ازل میں اللہ کو موصوف کرنا درست نہیں ۔ ہمارے اصحاب میں سے محققین نے یہ کہنے سے انکار کیا ہے کہ وہ اللہ عزوجل کے بارے میں یہ کہیں کہ وہ ازل سے خالق اور رازق تھا مگر یہ کہتے ہیں کہ ہمارا خالق ازلی ہے ہمارا رازق ازل سے جو کہ خلق اور رزق پر قادر تھا اس لئے کہ اس نے ازل میں پیدا نہیں کیا تھا پھر پیدا کیا۔ جب خالق کا نام وجود خلق کے بعد دیا گیا تو لازم نہیں کرتا تغیر کو اس کی ذات میں ہمارے اصحاب میں سے وہ بھی ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ یہ قول کرنا جائز ہے ۔ کہ وہ ازل سے خالق تھا رازق تھا اس معنی میں کہ عنقریب پیدا کرے گا اور عنقریب رزق دے گا۔
يَحْيَى بْنَ مُعَاذٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الرَّازِيُّ، ← أبو عبد الله الحافظ أنبأ علي بن محمد المروزي
Shuab ul Iman · Book › Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world · Hadith 121
شعب الإيمان · الثاني من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الإيمان يرسل الله صلوات الله عليهم عامة ـ · حديث 133
133 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو زكريا العنبري ثنا محمد بن عبد السلام ثنا إسحاق بن إبراهيم أنبأ عمرو بن محمد ثنا إسرائيل عن سماك بن حرب عن عكرمة عن ابن عباس : في قوله عز و جل :
{ و اذكر في الكتاب إبراهيم إنه كان صديقا نبيا }
قال : كان الأنبياء من بني إسرائيل إلا عشرة : نوح و صالح و هود و لوط و شعيب و إبراهيم و إسماعيل و إسحاق و يعقوب و محمد صلى الله عليه و سلم
و لم يكن من الأنبياء من له اسمان إلا إسرائيل و عيسى فإسرائيل يعقوب و عيسى : المسيح
قال البيهقي ـ رحمه الله ـ
و الإيمان برسول الله صلى الله عليه و سلم يتضمن الإيمان له و هو قبول ما جاء به من عند الله عنه و العزم على العمل به لأن تصديقه في أنه رسول الله إلزام لطاعته و هو راجع إلى الإيمان بالله و الإيمان له لأنه من تصديق الرسل و في طاعة الرسول طاعة المرسل لأنه بأمره أطاعه
قال الله تعالى :
{ من يطع الرسول فقد أطاع الله }
قال : و النبوة اسم مشتق من النبأ و هو الخبر إلا أن المراد
به في هذا الموضع خبر خاص و هو الذي يكرم الله عز و جل به أحدا من عباده فيميزه عن غيره بإلقائه إليه و يوقفه به على شريعته بما فيها من أمر و نهي و وعظ و إرشاد و وعد و وعيد فتكون النبوة على هذا الخبر و المعرفة بالمخبرات الموصوفة فالنبي صلى الله عليه و سلم هو المخبر بها فإن انضاف إلى هذا التوقيف أمر بتبليغه الناس و دعائهم إليه كان نبيا و رسولا
و إن ألقي إليه ليعمل به في خاصته و لم يؤمر بتبليغه و الدعاء إليه كان نبيا و لم يكن رسولا فكل رسول نبي و ليس كل نبي رسولا
قال : و قد أرشد الله تعالى إلى أعلام النبوة في القرآن كما أرشد إلى آيات الحدث الدالة على الخالق و الخلق فقال عز اسمه :
{ لقد أرسلنا رسلنا بالبينات وأنزلنا معهم الكتاب والميزان ليقوم الناس بالقسط }
و قال : { رسلا مبشرين ومنذرين لئلا يكون للناس على الله حجة بعد الرسل }
و قال : { ولو أنا أهلكناهم بعذاب من قبله لقالوا ربنا لولا أرسلت إلينا رسولا فنتبع آياتك من قبل أن نذل ونخزى }
فأخبر تعالى أنه بعث الرسل لقطع حجة العباد
و قيل في ذلك وجوه :
أحدها : أن الحجة التي قطعت على العباد هي أن يقولوا أن الله جل ثناؤه إن كان خلقنا لنعبده فقد كان ينبغي أن يبين لنا العبادة التي يريدها منا و يرضاها لنا ما هي ؟ و كيف هي
فإنه و إن كان في عقولنا الاستجداء له و الشكر على نعمه التي أنعمها علينا فلم يكن فيها أن التذلل و العبودية منا بماذا ينبغي أن تكون و على أي وجه ينبغي أن تظهر فقطعت حجتهم بأن أمروا و نهوا و شرعت لهم الشرائع و نهجت لهم المناهج فعرفوا ما يراد منهم و زالت الشبهة عنهم
و الآخر : أن الحجة التي قطعت هي ألا يقولوا إنا ركبنا تركيب شهوة و غفلة و سلط علينا الهوى و وضعت فينا الشهوات فلو أمددنا بمن إذا سهونا نبهنا و إذا مال بنا الهوى إلى وجه قومنا لما كان منا إلا الطاعة و لكن لما خلينا و نفوسنا و وكلنا إليها و كانت أحوالنا ما ذكرنا غلبت الأهواء علينا و لم نملك قهرها و كانت المعاصي منا لذلك
و الثالث : أن الحجة التي قطعت هي أن لا يقولوا قد كان في عقولنا حسن الإيمان و الصدق و العدل و شكر المنعم و قبح الكذب و الكفر و الظلم و لكن لم يكن فيها أن من ترك الحسن إلى القبيح عذب بالنار خالدا مخلدا فيها و أن من ترك القبيح إلى الحسن أثيب بالجنة خالدا مخلدا فيها لأنه إذا كان لا يدرك بالعقل أن لله جل جلاله خلقا هو الجنة أو خلقا هو النار الغائبة
فكيف يدرك أن أحدهما معد للعصاة و الآخر لأهل طاعته
و لو علمنا أنا نعذب على معاص و ذنوب متناهية عذابا متناهيا أو غير متناه أو نثاب بالطاعات المتناهية ثوابا غير متناه لما كان منا إلا الطاعة فقطع الله تبارك و تعالى هذه الحجج كلها ببعثة الرسل و بالله التوفيق
ثم إن الحليمي ـ رحمه الله تعالى ـ احتج في صحة بعث الرسل بما عرف من بروج الكواكب و عددها و سيرها ثم بما في الأرض مما يكون قوتا و ما يكون دواء لداء بعينه و ما يكون سما و ما يختص بدفع ضرر السم و ما يختص بجبر الكسر و غير ذلك من المنافع و المضار التي لا تدرك إلا بخير
ثم بوجود الكلام من الناس فإن من ولد أصم لم ينطق أبدا و من سمع لغة و نشأ عليها تكلم بها فبان بهذا أن أصل الكلام سمع و أن أول من تكلم من البشر تكلم عن تعليم و وحي كما قال الله عز و جل :
{ وعلم آدم الأسماء كلها }
و قال تعالى :
{ خلق الإنسان * علمه البيان }
ثم إن كل رسول أرسله الله تعالى إلى قوم فلم يخله من آية أيده بها و حجة آتاها إياه و جعل تلك الآية مخالفة للعادات إذ كان ما يريد الرسول إثباته بها من رسالة الله عز و جل أمرا خارجا عن العادات ليستدل باقتران تلك الآية بدعواه أنه رسول الله
و بسط الحليمي ـ رحمه الله تعالى ـ الكلام في ذلك إلى أن قال : و الكذب على الله تعالى و الافتراء عليه بدعوى الرسالة من عنده من أعظم الجنايات فلا يليق بحكمة الله تعالى أن يظهر على من تعاطى ذلك آية ناقضة للعادات فيفتتن العباد به و قد تبرأ الله عز و جل من هذا الصنيع نصا في كتابه فقال يعني نبيه صلى الله عليه و سلم :
{ ولو تقول علينا بعض الأقاويل * لأخذنا منه باليمين * ثم لقطعنا منه الوتين }
قال : و كل آية آتاها الله رسولا فإنه يقرر بها عند الرسول أولا أنه رسوله حقا ثم عند غيره و قد يجوز أن يخصه بآية يعلم بها نبوة نفسه ثم يجعل له على قومه دلالة سواها
و معجزات الرسل كانت أصنافا كثيرة و قد أخبر الله عز و جل أنه أعطى موسى عليه أفضل الصلاة و السلام تسع آيات بينات : العصا و اليد و الدم و الطوفان و الجراد و القمل و الضفادع و الطمس و البحر
فأما العصا فكانت حجته على الملحدين و السحرة جميعا و كان السحر في ذلك الوقت فاشيا فلما انقلبت عصاه حية تسعى و تلقفت حبال السحرة و عصيهم علموا أن حركتها عن حياة حادثة فيها بالحقيقة و ليست من جنس ما يتخيل بالحيل فجمع ذلك الدلالة على الصانع و على نبوته جميعا
و أما سائر الآيات التي لم يحتج إليها مع السحرة فكانت دلالات على فرعون و قومه القائلين بالدهر فأظهر الله تعالى صحة ما أخبرهم به موسى عليه أفضل الصلاة و السلام من أن له و لهم ربا و خالقا
و ألان الله عز و جل الحديد لداود و سخر له الجبال و الطير و كانت تسبح معه بالعشي و الإشراق
و أقدر عيسى بن مريم عليه أفضل الصلاة و السلام على الكلام في المهد و كان يتكلم فيه كلام الحكماء و كان يحيي له الموتى و يبرئ ـ بدعائه أو بيده إذا مسح الأكمه و الأبرص و جعل له أن يخرج من الطين كهيئة الطير فينفخ فيه فيكون طيرا بإذن الله ثم أنه رفعه من بين اليهود لما أن أرادوا قتله و صلبه فعصمه الله تعالى بذلك من أن يخلص ألم القتل و الصلب إلى بدنه و كان الطب عاما غالبا في زمانه فأظهر الله تعالى بما أجراه على يديه و عجز الحذاق من الأطباء عما هو أقل من ذلك بدرجات كثيرة أن التعويل على الطبائع و إمكان ما خرج عنها باطل بأن للعالم خالقا و مدبرا و دل بإظهاره ذلك له و بدعائه على صدقه و بالله التوفيق
و أما المصطفى نبينا صلى الله عليه و سلم خاتم النبيين صلوات الله عليهم و عليه و على آله الطيبين و صحبه أجمعين فإنه أكثر الرسل آيات بينات و ذكر بعض أهل العلم أن أعلام نبوته تبلغ ألفا فأما العلم الذي اقترن بدعوته و لم يزل يتزايد أيام حياته و دام في أمته بعد وفاته فهو القرآن المعجز المبين و حبل الله المتين الذي كما وصفه به من أنزله فقال :
{ وإنه لكتاب عزيز * لا يأتيه الباطل من بين يديه ولا من خلفه تنزيل من حكيم حميد }
و قال تعالى :
{ إنه لقرآن كريم * في كتاب مكنون * لا يمسه إلا المطهرون * تنزيل من رب العالمين }
و قال : { بل هو قرآن مجيد * في لوح محفوظ }
و قال : { إن هذا لهو القصص الحق }
و قال : { وهذا كتاب أنزلناه مبارك فاتبعوه واتقوا لعلكم ترحمون }
و قال : { كلا إنها تذكرة * فمن شاء ذكره * في صحف مكرمة * مرفوعة مطهرة * بأيدي سفرة * كرام بررة }
و قال : { قل لئن اجتمعت الإنس والجن على أن يأتوا بمثل هذا القرآن لا يأتون بمثله ولو كان بعضهم لبعض ظهيرا }
فأبان ـ جل ثناؤه ـ أنه أنزله على وصف مباين لأوصاف كلام البشر لأنه منظوم و ليس بمنثور و نظمه ليس نظم الرسائل و لا نظم الخطب و لا نظم الأشعار و لا هو كأسجاع الكهان و أعلمه أن أحدا لا يستطيع أن يأتي بمثله ثم أمره أن يتحداهم على الإتيان بمثله إن ادعوا أنهم يقدرون عليه أو ظنوه فقال تعالى :
{ قل فاتوا بعشر سور مثله مفتريات }
ثم نقصهم تسعا فقال :
{ فاتوا بسورة من مثله }
فكان من الأمر ما نصفه غير أن من قبل ذلك دلالة : و هي أن النبي صلى الله عليه و سلم كان غير مدفوع عند الموافق و المخالف عن الحصافة و المتانة و قوة العقل و الرأي
و من كان بهذه المنزلة و كان مع ذلك قد انتصب لدعوة الناس إلى دينه لم يجز بوجه من الوجوه أن يقول للناس : أن ائتوا بسورة من مثل ما جئتكم به من القرآن و لن تستطيعوه إن أتيتم به فأنا كاذب و هو يعلم من نفسه أن القرآن لم ينزل عليه و لا يأمن أن يكون في قومه من يعارضه و إن ذلك إن كان بطلت دعواه فهذا إلى أن يذكر ما بعده دليل قاطع على أنه لم يقل للعرب : أن ائتوا بمثله إن استطعتموه و لن تستطيعوه إلا و هو واثق متحقق أنهم لا يستطيعونه و لا يجوز أن يكون هذا اليقين وقع له إلا من قبل ربه الذي أوحى إليه به فوثق بخبره ـ و بالله التوفيق
و أما ما بعد هذا فهو أن النبي صلى الله عليه و سلم قال لهم ائتوا بسورة من مثله إن كنتم صادقين فطالت المهلة و النظرة لهم في ذلك و تواترت الوقائع و الحروب بينه و بينهم فقتلت صناديدهم و سيبت ذراريهم و نساؤهم و انتهبت أموالهم و لم يتعرض أحد لمعارضته فلو قدروا عليها لافتدوا بها أنفسهم و أولادهم و أهاليهم و أموالهم و لكان الأمر في ذلك قريبا سهلا عليهم إذ كانوا أهل لسان و فصاحة و شعر و خطابة فلما لم يأتوا بذلك و لا ادعوا صح أنهم كانوا عاجزين عنه و في ظهور عجزهم بيان أنه في العجز مثلهم إذ كان بشرا مثلهم لسانه لسانهم و عادته عادتهم و طباعه طباعهم و زمانه زمانهم و إذا كان كذلك و قد جاء القرآن فوجب القطع بأنه من عند الله تعالى جده لا من عنده و بالله التوفيق
فإن ذكروا سجع مسيلمة فكل ما جاء به مسيلمة لا يعدو أن يكون بعضه محاكاة و سرقة و بعضه كأساجيع الكهان و أراجيز العرب و قد كان النبي صلى الله عليه و سلم يقول ما هو أحسن لفظا و أقوم معنى و أبين فائدة ثم لم تقل له العرب ها أنت تتحدانا على الإتيان بمثل القرآن و تزعم أن الإنس و الجن لو اجتمعوا على أن يأتوا بمثله لم يقدروا عليه ثم قد جئت يمثله مفترى بأنه ليس من عند الله و ذلك قوله :
( أنا النبي لا كذب أنا ابن عبد المطلب )
و قوله :
( تالله لولا الله ما اهتدينا و لا تصدقنا و لا صلينا )
( فأنزلن سكينة علينا و ثبت الأقدام إن لاقينا )
و قوله :
( إن العيش عيش الآخره فارحم الأنصار و المهاجره )
و قوله :
تعس عبد الدينار و الدرهم و عبد الخميصة إن أعطي منها رضي و إن لم يعط سخط تعس و انتكس و إن شيك فلا انتقش
فلم يدع أحد من العرب أن شيئا من هذا يشبه القرآن و أن فيه كثيرا كقوله
و حكى الأستاذ أبو منصور الأشعري ـ رحمه الله ـ فيما كتب إلي عن بعض أصحابنا أنه قال : يجوز أن يكون هذا النظم قد كان فيما بينهم فعجزوا عنه عند التحدي فصار معجزة لأن إخراج ما في العادة عن العادة نقض للعادة كما أن إدخال ما ليس في العادة في الفعل نقض للعادة
و بسط الكلام في شرحه
و أيهما كان فقد ظهرت بذلك معجزته و اعترفت العرب بقصورهم عنه و عجزهم عن الإتيان بمثله
ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو زکریا عنبری نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے عبدالسلام سے انہوں نےکہا ہمیں حدیث بیان کی ہے اسحٰق بن ابراہیم نے انہوں نے کہا خبر دی ہے عمرو بن محمد نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے اسرائیل سے انہوں نے سماک بن حرب سے انہوں نے عکرمہ سے انہوں نےابن عباس سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں : ( و اذ کر فی الکتاب ابراہیم انہ کان صدیقا نبیا) ( مریم ۴۱) اے پیغمبر قرآن مجید میں حضرت ابراہیم کا تذکرہ پڑھئے بیشک وہ سچا نبی تھا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ سارے انبیاء اکرام بنی اسرائیل میں سے تھےمگر دس۔ 1۔ حضرت نوح علیہ السلام ، 2۔ حضرت صالح علیہ السلام ، 3۔ حضرت ہود علیہ السلام ، 4۔ حضرت لوط علیہ السلام ، 5۔ حضرت شعیب علیہ السلام ، 6۔ حضرت ابرہیم علیہ السلام ، 7۔ حضرت اسمٰعیل علیہ السلام ، 8۔ حضرت اسحٰق علیہ السلام ، 9۔ حضرت یعقوب علیہ السلام ، 10۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و الہ وسلم ، انبیاء میں سے صرف دو ایسے تھے جن کے دو نام تھے : ( 1۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوسرا نامسیح ہے ۔ 2۔ حضرت یعقوب علیہ السلام ان کا دوسرا نام اسرائیل تھا۔ امام بیہقی کا فرمان : ( ایمان با لرسول ، ایمان با للہ ) کو بھی متضمن ہے ۔ ایمان بالرسول اور درحقیقت اس کتاب کو بھی قبول کرنا ہے جو وہ اللہ کی طرف سے لائے ہیں اور اس پر عمل کرنے کا عزم ہوتا ہے ۔ اس لئے کہ اس بات کی تصدیق کرنا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں درحقیقت ان کی اطاعت کو اپنے اوپر لازم کرنا ہے ۔ اور یہی چیز ایمان با للہ اور ایمان بالرسول کے طرف راجع ہوتی ہے اس لئے کہ وہ رسل کی تصدیق اور اطاعت رسول میں درحقیقت اطاعت مرسل ( یعنی اللہ تعالیٰ کی اطاعت ) ہے ۔ اس لئے کہ اسی کے حکم سے ہی تو اس کی اطاعت اس نے کی ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے ( من یطع الرسول فقد اطاع اللہ ) ( النساء ۸۰) جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے درحقیقت اللہ کی اطاعت کی ۔ امام بیہقی نے فرمایا : نبوۃ اسم ہے نباء سے مشتق ہے اور نباء خبر کو کہتے ہیں ۔ مگر اس موقع پر خبر سے مراد خاص خبر ہے اور نبی وہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے میں سے کسی ایک بندے کو یہ عزت و اکرم عطا کرتے ہیں اور اس کو باقی لوگوں سے ممتاز بنا دیں گے اس کی طرف وحی بھیج کر ۔ جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ اسے اپنی شریعت پر مطلع کرتے ہیں امر نہی و عظ ۔ ارشاد و عد ، وعید وغیرہ امور سے لہذا نبوت اس طرح کی خبر اور ایسی ہی اطلاعات جو ان مذکورہ صفات سے متصف ہو کانام ہے ۔ ۔ تو بنی وہ ذات مقدس ہوتی ہے جس کو ان امور کی خبر دی جاتی ہے ۔ ان اطلاعات کے ساتھ اگر ان امور کو لوگوں تک پہچانے اور تبلیغ کرنے اور لوگوں کو اس کی دعوت دینے کا حکم دینے کا حکم بھی ہوتا ہے تو وہی انسان نبی اور رسول ہوتا ہے ۔ اور اگر اس کی طرف وحی اس لئے القا کی جاتی ہے تانک وہ خود بذاتہ اس پر عمل کرے اور اس کو ا سکی تبلیغ اور اس کی دعوت کا حکم نہیں دیا جاتا تو تو وہ نبی ہوتا ہے رسول نہیں ہوتا لہذا ہر رسول نبی ہوتا ہے اور ہر نبی رسول نہیں ہوتا۔ امام بیہقی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جیسے تخلیق کائنات کے بارے میں واضح آیات کے ساتھ جو اللہ تعالیٰ کے خالق ہونے اور مخلوق کے مخلوق ہونے پر دلالت کرتی ہیں اور کائنات کے حادث ہونے پر دلالت کرتے ہیں اطلاع اور رہنمائی فرمائی ہے بلکل اسی طرح اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں نبوت کے اظہار و اعلان کے لئے بھی رہنمائی فرمائی ہے ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ( لقد ارسلنا رسلنا بالبیت و انزلنا معھم الکتاب و المیزن لیقوم الناس بالقسط ) ( الحدید ۲۵) البتہ تحقیق بھیجا ہم نے اپنے رسولوں کو واضح دلائل کے ساتھ اور نازل کی ہم نے ان کے ساتھ کتاب اور میزان عمل تانکہ لوگ انصاف پر قائم رہیں ۔ ( رسلا مبشرین و منذرین لئلایکون للناس علی اللہ حجۃ بعد الرسول ) ( النساء ۱۶۵) بہت سے رسول بھیجے ہم نے خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے تانکہ نہ رہ جائے لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ پر کوئی حجت رسولوں کے بعد ۔ ( ولوانا اھلکنا ھم بعذاب من قبلہ لقالوا ربنا لو لا ارسلت الینا رسولا ، فنتبع ایاتک من قبل ان نذل و نخری ) ( طہ ۱۳۴) اگر ہم ان لوگوں کو رسول کے آنے قبل عذاب کے ساتھ ہلاک کر دیتے تو وہ قیامت میں یہ کہتے اے ہمارے رب ہماری طرف آپ نے کوئی رسول کیوں نہ بھیجا ( اگر آپ رسول بھیجتے ) تو ہم تیری آیات کی اتباع کرتے اس سے پہلے کہ ہم ذلیل و رسوا ہوتے ۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی ہے کہ اس نے رسولوں کو اپنے بندوں پر تمام حجت کرنے کے لئے بھیجا اور اس کی طرف سے اللہ تعالیٰ پر الزام ختم کرنے کے لئے کہا گیا کہ اس میں کئی وجوہات ہیں : پہلی وجہ : (بسلسلہ رسل جاری فرما کر ) اللہ تعالیٰ نے جس الزام اور جس حجت کو کاٹ دیا اور ختم کر دیا وہ یہ ہو سکتی تھی کہ لوگ قیامت میں یہ کہتے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس لئے پیدا کیا تھا تاکہ ہم اس کی عبادت کریں تو چاہیئے تھا کہ ہمارے لئے اس عبادت کو بھی بیان کر دیا جاتا جو ہم سے مطلوب تھی اور جس عبادت کو ہمارے لئے پسند کیا تھا ۔ یہ بیان کیا جاتا کہ وہ عبادت کیا ہے ؟ اور کیسی ہے ؟ اگرچہ ہماری عقلوں میں اس سے فائدے کا حاصل کرنا اور اس کا شکر کرنا ان نعمتتوں پر جن کا ہمارے اوپر اس نے انعام فرمایا ہے تو تھا لیکن یہ ہماری عقلوں میں نہیں آتا تھا کہ اطہار عجر و ذلت اس کے آگے کیسے کریں ؟ اور اظہار عبدیات ہماری طرف سے کس طرح ہونا چاہیے اور کس طور پر مناسب ہے کہ اس کا اظہار ہو لہذا یہ ان کی حجت اور ان کا یہ اعتراض اس طرح ختم کر دیا گیا کہ انہیں حکم دئیے گئے ۔ انہیں کہی گئی اور ان کے لئے احکامات جاری کئے گئے ۔ ان کے لئے راستے اور مناہج متعین کئے گئے لہذا وہ اچھی طرح جان گئے کہ ان سے کیا کچھ مطلوب ہے اور اور ان کے سارے شبہات دور ہو گئے ۔ دوسری وجہ : ( بے شک وہ حجت جو کاٹ دی گئی یہ تھی کہ لوگ یہ کہتے ہم لوگ شہوت و غفلت سے مرکب بنائے گئے تھے ہمارے اوپر حرص و ہوا مسلط کئی تئی تھی ۔ ہمارے اندر شہوات و لذات رکھی گئی تھیں ۔ اگر ہماری کسی ایسی انسان کو بھیج مدد کر دی جاتی کہ جب ہم بھول چوک اور سہو غلطی کا شکار ہوتے تو وہ ہمیں تنبیہ کر دیتا اور جب ہمیں ہو اوخواہش اس طرف مائل کرتی تو وہ ہمیں سیدھا چلاتا کیونکہ ہم سے مطلوب تو صرف اطاعت ہی تھی ۔ لیکن ہمارے ساتھ ایسا نہ کیا گیا بلکہ ہمارے درمیان اور ہمارے نفسوں کے درمیان تخلیہ چھوڑ دیا گیا ۔ اور ہمیں مکمل طورپر اپنے نفوس کے حوالے کر دیا گیا خصوصا اس وقت جب ہماری کیفیات وہ تھی جو ہم نے بتلائی ہیں تو بلا محالہ ہمارے اوپر ہماری خواہشات غالب آ گئیں ۔ ہم ان پر جبر کرنے پر قادر نہ رہ سکے تھے لہذا اسی واسطے ہم سے نافرمانیاں اور معاصی ہو گئے تھے ۔ تیسری وجہ : رسولوں کو بھیج کر جو الزم ختم کر دیا گیا اور جو حجت کاٹ دی گئی یہ تھی کہ لوگ یہ نہ کہیں کہ ہمارے عقلوں میں آتی تھی ۔ لیکن ہماری عقلوں میں از خود یہ بات آتی تھی کہ جو شخص اچھائی کو ترک کر کے برائی کی طرف چلا جائے حسن کو چھوڑ کر قبیح کا ارتکاب کرے وہ آگ کے عذاب میں ڈال دیا جائے گا اور ہمیشہ ہمیشہ اسی میں رہے گا ۔ اور جو شخص قبیح کو چھوڑ کر حسن کا ارتکاب کرے گا برے کام چھوڑ کر اچھے کام کرے گا وہ جنت کا ثواب اور بدلہ دیا جائے گا اور وہ ہمیشہ ہمیشہ جنت میں رہے گا یہ بات ہماری عقل میں نہیں آ سکتی تھی ۔ کیونکہ یہ بات عقل سے معلوم نہیں ہو سکتی تھی اور عقل کے ساتھ نہیں سمجھا سکتی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ایک مخلوق ایسی بنائی ہے جس کو جنت کہتے ہیں اور ایک مخلوق وہ بنائی ہے جس کو جہنم کہتے ہیں اور وہ آگ سے ہے اور وہ دونوں مخفی اور غائب تھیں لہذا اس بات کا ادراک کیسے ہو سکتا تھا کہ ایک گنہگاروں کے لئے بنائی گئی ہو اور دوسری اہل اطاعت کے لئے اگر ہم جان لیتے کہ ہم گناہ کرنے پر عذاب دیئے جائیں گے اور محدود گناہوں پر محدود عذاب اور غیر محدود گناہ کرنے پر عذاب بھی غیر محدود دیئے جائیں گے اور محدود اطاعات پر غیر محدود ثواب دیئے جائیں گے اس لئے کہ ہم سے مطلوب صرف اطاعت تھی ۔ لہذا اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول بھیج کر یہ تمام حجتیں کاٹ دیں اور یہ سارے الزام ختم کر دیئے ۔ شیخ حلیمی رحمتہ اللہ علیہ نے رسولوں کی بعث کی صحت و ضرورت پر حجت پکڑی ہے اور دلیل دی ہے ۔ ان امور کے ساتھ جو مشہور و معروف ہیں ستاروں کے برج ان کی تعداد۔ اور ان کی رفتار کے ساتھ پھر ان چیزوں کے ساتھ جو زمین میں غذا کی بابت نہیں ان کے ساتھ ۔ اور ان چیزوں کے ساتھ جو دور میں کسی خاص بیماری کے لئے اور ان چیزوں کے ساتھ جو زہر ہیں ۔ اور ان کے ساتھ جو زہر کے نقصان کو دور کرنے کے ساتھ مختص ہیں اور انکے ساتھ جو کسر اور ٹوٹنے کو درست کرنے کے لئے مخصوص ہیں ۔ اور علاوہ اس کے منافع اور نقصانات کے ساتھ جن کا ادراک بجز وحی کے نہیں ہو سکتا۔ پھر لوگوں کے کلام کے وجود سے بیشک وہ انسان جو بہرہ پیدا ہوتا ہے وہ کبھی بھی نہیں بول سکتا۔ اور جو بچہ کسی بھی لغت سنتا ہے اور اسی پر پرورش پاتا ہے اسی لغت کے ساتھ کلام بھی کرتا ہے ۔ اس سے یہ بات ظاہر ہو گئی کہ کلام کی اصل سننا ہے اور بے شک وہ پہلا انسان جس نے کلام کیا تھا اس نے تعلیم سے اور وحی سے تکلم کیا تھا جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا ۔ ( و علم ادم الا سماء کلھا ) ( البقرۃ ۳۱) اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو تمام نام سکھلائے ۔ اور ارشاد فرمایا : ( خلق الانسان ۔ علمہ البیان ) ( الرحمن ۴۰۳) انسان کو پیدا کیا ۔ اس کوبیان کرنا سکھلایا۔ پر ہر رسول جسے اللہ تعالیٰ نے کسی بھی قوم کی طرف بھیجا اسی کوئی نہ کوئی معجزہ اور نشانی ضرور عطا کی جس کے ساتھ اس کو تائید دی۔ اور ضرور اے کوئی نہ کوئی حجت و دلیل بھی ساتھ دی اور رسول کو دی جانے والی آیت یا نشانی یا معجزہ کو عادات کے خلاف بنا دیا۔ اس لئے کہ رسول جس چیز کا اس معجزے یا نشانی کے ساتھ اثبات چاہتا تھا یعنی اللہ کی عطا کردہ رسالت وہ خود ایسا امر تھا جو خارج تھا عادات سے تاکہ اس معجزے یا نشانی کے ساتھ اثبات چاہتا تھا یعنی اللہ کی عطا کردہ رسالت وہ خود ایسا امر تھا جو خارج تھا عادات سے تاکہ اس معجزے یا نشانی کے اپنے دعوے کے ساتھ ملنے سے اس بات پر استدلال کر سکے کہ وہ رسول ہے ۔ شیخ حلیمی رحمتہ اللہ علیہ نے اس بارے میں تفصیلی کلام کیا ہے یہاں تک کہ انہوں نے کہا ۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک رسالت کا چھوٹا دعویٰ کر کے اللہ پر افتراء اور جھوٹ بولنا سب سے بڑا جرم ہے ۔ لہذا اللہ تعالیٰ کی حکمت و فراست کے لائق نہیں ہے کہ وہ ہر کسی و ناکس کے ہاتھ پر ایسی امور کو ظاہر کر دے جو عادات کے خلاف ہوں اور پھر وہ اس کے ذریعے بندوں کو فتنے میں واقع کرتا پھرے اور اللہ تعالیٰ نے اس فعل سے برأت و بیزاری کرتے ہوئے اپنی کتاب میں واضح طور پر ارشاد فرمایا ہے اور اپنے نبی کا ارادہ فرماتے ہوئے فرمایا : ( ولو تقول علینا بعض الا قاویل ،لا خذنا منہ بالیمین، ثم لقطعنا منہ الوتین ) ( الحاقہ ۴۴-۴۶) اگر یہ پیغمبر ہماری نسبت کوئی بات جھوٹ بنا لاتا تو ہم اس کا داہنا ہاتھ پکڑ لیتے پھر اس کی رگ گردن کاٹ ڈالتے ۔ ہر وہ نشانی جو اللہ تعالیٰ نے کسی رسول کو عطا فرمائی پہلے تو وہ اس سے یہ ثابت فرماتا ہے رسول کے متعلق کہ وہ اللہ کا سچا رسول ہے ۔ پھر دوسرے لوگوں کے سامنے یہی ثابت کرتا ہے کہ وہ سچا رسول ہے ۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کوئی نشانی صرف اور صرف رسول کے لئے مخصوص کر کے اس کو اس کی اپنی نبوت کا علم دے پھر اس کی قوم کے لئے اس کے علاوہ کوئی ثبوت عطا کرے ۔ رسولوں کے معجزات کی اقسام بہت ساری تھیں ۔ اللہ تعالیٰ نے اطلاع فرمائی ہے کہ اس ے موسیٰ رحمتہ اللہ علیہ کو نو آیت بینات عطا فرمائی تھیں ۔ 1۔ عصا کا معجزہ ، 2 ۔ یدبیضء کا معجزہ ، 3۔ خون ، 4،۔طوفان ، 5۔ ٹڈیوں کا ، 6۔ چچڑیاں ، 7۔ مینڈک ، 8۔ چہروں کا مٹانا، 9۔ دریا چیرنا ۔ عصاءکا معجزہ یعنی موسیٰ علیہ السلام کی لاٹھی کا اژدھا بن جانا یہ تمام ملحدوں اور جادو گروں کے خلاف حجت تھی ۔ اس وقت جادو زوروں پر تھا ۔ جب موسیٰ علیہ السلام کا عصاء دوڑتا ہوا سابپ بن گیا اور جادوگروں کی رسیوں اور لاٹھیوں کو نگل گیا تو انہیں یقین آ گیا کہ اس کی حرکت نو پیدا حیات اور زندگی کی وجہ سے ہے جو کہ حقیقی زندگی ہے یہ اس طرح کی اور اس جنس کی نہیں ہے جو مختلف حیلوں اور تدبیروں سے جادوگروں نے وہم و خیال پیدا کر دیا ہے ۔ لہذا موسیٰ علیہ السلام کا یہ معجزہ ایک طرف تو حقیقی صانع کی صنعت پر یعنی اللہ تعالیٰ کی قدرت پر دلالت کر رہا تھا اور دوسری طرف موسیٰ علیہ السلام کی نبوت و رسالت پر اکٹھے دو چیزوں کا ثبوت پیش کر رہا تھا۔ ہر حال باقی تمام نشانیاں جن کا تعلق ساحروں وغیرہ سے نہیں تھا وہ نشانیاں فرعون اور اس کی قوم کے خلاف تھیں جو اس بات کے قائل تھے کہ زمانہ ہی خالق ہے دھریت کا نظریہ رکھتے تھے ۔ اور اللہ تعالیٰ کا انکار کرتے تھے ۔ تو اللہ تعالیٰ نے وہ نشانیاں موسیٰ علیہ السلام کو عطا فرما کر ان کے ذریعے یہ ظاہر فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام نے انہیں جو کچھ خبر دی ہے وہ صحیح ہے اور جو پیغام دیا ہے وہ سچا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کا اور ان سب کا ایک رب ہے اور ان کا خالق ہے ۔ داؤد علیہ السلام کے معجزے : 1۔ اللہ عزوجل نے داؤد علیہ السلام کے لئے لوہے کو نرم فرما دیا تھا۔ 2۔ اسی طرح ان کے لئے پہاڑوں کو مسخر کر دیا تھا۔3۔ اور پرندوں کو مسخر کر دیا تھا جو کہ شام کو بھی اور صبح کو بھی ان کے ساتھ اللہ کی پاکیزگی بیان کرتے تھے ۔ عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات ، 1۔ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کو جھولے میں کلام کرنے پر قادر بنا دیا تھا کہ وہ جھولے میں حکماء اور داناؤں کی طرح کلام کرتے تھے ۔ 2۔ اللہ تعالیٰ ان کے لئے مردوں کو زندہ کرتا تھا۔ 3۔ اور ان کی دعا سے اور ان کے ہاتھ کے ساتھ جب وہ ہاتھ لگاتے مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو اللہ تعالیٰ ٹھیک کر دیتے تھے ۔ 4۔ اور انہیں یہ قدرت کہ وہ مٹی کا پرندہ بنا کر اس میں پھونک مارتے اور وہ اللہ کے حکم کے ساتھ پرندہ بن جاتا۔ 5۔ پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں یہودیوں کے بیچوں سے اس وقت اوپر اٹھا لیا جب وہ اسے قتل کرنا چاہتے تھے اور ضلیب پر لٹکا نا چاہتے تھے ۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اوپر اٹھا کر ان کے جسم کو قتل اور پھانسی کی اذیت و تکلیف سے نجات دے دی۔ اس دور میں طب عام تھی اور عروج پر تھی ۔ اللہ تعالیٰ نے جو معجزات ان کے ہاتھ پر جاری کئے ان کی نوعیت کچھ ایسی تھی کہ حاذق طیب اور حکما ان نشانیوں اور معجزات سے کئی گناہ کم درجات کے کارناموں سے بھی عاجزت تھے ۔ اور اسی زمانہ میں طبائع کی کیفیت ایسی تھی کہ ان کے آگے چیخ چیخ کر یہ بتانا بلکہ اس کا امکان ظاہر کرنا کہ عالم کا خالق ہے اور کوئی مدبر ہے سب کچھ بے کار تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے مذکورہ معجزات اور نشانیوں کے اظہار سے اس پر دلیل قائم کر دی اور ان کی دعوت کے ساتھ ان کے صدق پر حجت قائم کر دی ۔ بہر حال ہمارے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خاتم النبین اللہ کی رحمتیں ہوں ان سب پر اور حضور پر اور آپ کی آل پاک پر اور سب کے سب صحابہ پر۔ آپ کے معجزات تمام رسولوں سے زیادہ ہیں ۔ بعض اہل علم نے ذکر کیا ہے کہ آپ کی نبوت کے نشانات و معجزات ایک ہزار تک پہنچتے ہیں ۔ مگر ان تمام نشانیوں میں سے وہ نشانی معجزات میں سے وہ معجزہ جو آپ کی دعوت سے مقترن ہے اور ملا ہوا ہے ۔جو آپ کی زندگی کے ایام میں برابر بڑھتا گیا اور آپ کی وفات کے بعد آپ کی امت میں ہمیشہ سے ہے وہ قرآن مجید ہے جو واضح طور پر معجز ہے ۔ جو اللہ کی مضبوط رسی ہے ۔ وہ بالکل اسی کا مصداق ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس کی خود تعریف بیان فرمائی ہے ۔ ارشاد فرمایا : ( و انہ لکتاب عزیز لا یا تیہ الباطل من بین یدیہ ولا من خلفہ تنزیل من حکیم حمید ) ( حم سجدہ ۴۱-۴۲) بے شک وہ قرآن مضبوط کتا ایسی ہے کہ باطل اس کے قریب بھی نہیں آ سکتا نہ اس کے آگے نہ اس کے پیچھے حکمت والی اور محمود ذات نے اسے نازل فرمایا ہے ۔ اور ارشاد فرمایا ہے : ( انہ لقران کریم فی کتاب مکنون لا یمسہ الا المطھرون ) (12) تنزیل من رب العالمین ) ( واقعہ ۷۷-۸۰) بے شک یہ قرآن ہے عزت والا ، جو کتاب محفوظ میں لکھا ہوا ہے ۔ اس کو وہی ہاتھ لگاتے ہیں جو پاک ہے پروردگار عالم کی طرف سے اتارا گیا ہے ۔ (۳) بل ھوقرآن مجید فی لوح محفوط ) ( بروخ ۲۱-۲۲) ( یہ کتاب ہزل و بطلان نہیں ) بلکہ یہ عظیم الشان قرآن ہے لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے ۔ ( 4) ان ھذا لھوا لقصص الحق ) ( آل عمران ۶۲) بے شک یہ قرآن سچے واقعات ہیں ۔ ( ۵) و ھذا کتاب انزلناہ مبارک فاتبعوہ و اتقوا لعلکم ترحمون ) ( انعام ۱۵۵) یہ وہ کتاب ہے جسے ہم نے اتارا ہے ۔ برکت والی ہے اسی کی اتباع کرو اور اللہ سے ڈرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے ۔ (۶) انھا تذکرہ فمن شا ذکرہ فی صحف مکرمہ ، مرفوعۃ مطھرۃ ، بایدی سفرۃ کرام بررۃ ) ( عبس ۱-۱۶) دیکھو یہ قرآن نصیحت ہے ۔ جو چاہے اسے یاد رکھے ۔ قابل ادب ورقوں میں لکھا ہوا ہے جو بلند مقام پر رکھے ہوئے اور پاک ہیں ۔ ایسے لکھنے والوں کے ہاتھوں میں جو سردار اور نیکوکار ہیں ۔ (۷ ) قل لئن اجتمعت الانس و الجن علی ان یاتو ابمثل ھذا القران لا یاتون بمثلہ ولو کان بعضھم لبعض ظھیرا) ( اسراء ۸۸) کہہ دیجئے اگر تمام انسان اور جن اکٹھے ہو جائیں اس بات پر کہ اس قرآن کی مثل بنا کر لے آئیں تو اس کی مثل نہیں لا سکیں گے اگرچہ وہ ب ایک دوسرے کے معاون بن جائیں ۔ ان آیات میں اللہ جل شانہ نے یہ بیان فرمایا ہے کہ اس نے قرآن مجید کو ایک ایسی صفت پر اتارا ہے جو بشر کے کلام کے مبائن ہے یعنی اس سے جدا ہے اور مختلف ہے ۔ اس لئے کہ یہ نہ تو نظم ہے اور نہ ہی نثر ہے ۔ ( نظم ہے مگر ) اس کی نظم خطوط و رسائل والی نظم نہیں ہے و عظ و تقریر والی نظم نہیں ہے ۔ اشعاروں والی نظم نہیں ہے ۔ کاھنوں کے سجعوں جیسانہیں ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو یہ بتایا ہے کہ کوئی بھی اس کی مثل لانے کی استطاعت نہیں رکھتا ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو حکم دیا ہے کہ لوگوں کو چیلنج کر دیں کہ وہ اس کی مثل بنا کر لائیں اگر انہیں اس بات کا ادعاء ہو یا وہم گمان ہو کہ وہ اس پر قادر ہیں ۔ چنانچہ ارشاد ہوا : ( قل فاتوا بعشر سور مفتریات ) ( ھود ۱۳) فرما دیجیے کہ لے آؤ تم دس سورتیں افترا کی ہوئی ۔ پھر انکے لئے نو سورتیں کم کرنے فرمایا : ( فاتوا بسورۃ من مثلہ) ( بقرہ ۲۳) لاؤ تم کوئی ایک سورۃ اس جیسی۔ قرآن مجید کی حقانیت کی ایک فطری اور عقلی دلیل یہ ہے کہ خود حاصل قرآن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہر مخالف و موافق کی نظر میں اور اپنے اوپرائے کی نظر میں ہر الزام اور ہر اعتراض سے پاک تھے سب کی نظروں میں مقبول تھے عمدہ دائرے اور پختہ سمجھ رکھنے والے تھے متناسب اور سنجیدگی کے مالک تھے قوت عقل اور اصابت رائے سے آراستہ تھے ۔ ظاہر ہے جو انسان شرافت ومتانت و سنجیدگی کے اس مرتبہ و مقام پر فائز ہو۔ اور اس کے ساتھ ساتھ وہ لوگوں کو اپنے دین کی دعوت دینے کے لئے کھڑا ہو عقل نہیں مان سکتی اور کسی بھی اعتبار سے ممکن بھی نہیں کہ وہ لوگوں سے یہ کہے کہ تم کوئی ایک سورۃ اس جیسی لے آؤ جو تمہارے پاس لے کر آیا ہوں یعنی قرآن اور تم ہر گز اس کو نہیں لا سکو گے ۔ اور اگر تم اس کو لے آؤ گے تو میں اپنے اس دعوے میں کاذب ہوں گا کہ میں اس کو اللہ کی طرف سے لے آیا ہوں ، یہ میرا اپنا کلام نہیں میری اختراع ایجاد نہیں ہے نہ ہی کسی اور بندے کی ہے ۔ خصوصاً اس صورت میں تو آپ کبھی یہ چیلنج نہیں کر سکتے تھے جب اپنے دل میں یہ جانتے ہوئے کہ یہ قرآن ان پر نہیں اترا ( اگر واقعتہ نہ اترا ہوتا تو وہ کبھی یہ چیلنج نہ کرتے ) جب کہ انہیں یہ بھی خطرہ تھا کہ ان کی قوم میں فصحیوں بلیغوں اور ادیبون کی کمی نہیں ہے کوئی ایک بھی میری قوم میں سے میرے مقابلے کے لئے کھڑا ہو جائے گا۔ اگر آپ کا دعویٰ باطل ہوتا تو آپ کبھی یہ چیلنج نہ کرتے ۔ جب آپ نے یہ چیلنج کیا تو یہ قطعی دلیل ہے اس بات کی کہ آپ نے پورے عرب کو ایسے نہیں کہہ دیا تھا کہ اس کی مثل پیش کرو اگر کر سکتے ہو تو لیکن میں کہتا ہوں تم ہر گز ایسا نہیں ک سکو گے ۔ آپ اسے نہیں کہہ سکتے تھے مگر اس وقت جب آپ کو یقین محکم ہو کہ وہ ایسا نہیں کر سکتے اور بالکل نہیں کر سکتے ۔ اور یہ بھی ممکن نہیں ہے کہ آپ نے محض اپنے اندازے سے یہ یقین بنا لیا ہو جب تک کہ یہ یقین ان کو انکے رب کی طرف سے نہ دلایا گیا ہو جن کی طرف سے اپ کے پاس وحی آ رہی تھی لہذا آپ نے اس رب کی خبر پر یقین کرتے ہوئے اتنا بڑا چیلنج انتہائی وثوق و اعتماد کے ساتھ کر دیا تو یہ فطری اور عقلی اور حسی دلیل ہے اس بات کی قرآن اللہ کا بے مثل کالم ہے کسی بندے کی اختراع و ایجاد نہیں ہے ۔ پس منظر سے پیش منظر کی طرف آئیے ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ چیلنج دے دیا کہ اگر تم لوگ میری مخالفت اور قرآن کی مخالفت میں سچے ہو یہ کہنے میں اگر سچے ہو کہ یہ اللہ کا نازل کردہ کلام نہیں بلکہ کسی بندے کی اختراع ہے ایجاد ہے تو تم بھی بندے ہو صاحب زبان ہو ادیب ہو تمہارے اندر بھی فصحاء کی کمی نہیں ہے زبان کا ماہرین کا قحط الرجال نہیں ہے اس پورے قران کا مقابلہ نہ کرو صرف ایک سورت اس جیسی بنا کر لے آؤ اگر تم سچے ہو ۔ دنیا گواہ ہے آسمان شاہد ہے ۔ مہلت لمبی ہوتی چلی گئی اس بارے میں ان کو پوری پوری مدت مہلت اور ڈھیل دی گئی ، یہاں تک کہ اس چیلنج کے بعد مسلسل حوادث و مصائب پیش آتے رہے اسی چیلنج کرنے والے عظیم انسان کے چیلنج کے ہوتے ہوئے دونوں کے درمیان جنگیں ہوتی رہیں ۔ اہل عرب کے سردار اور صنادیدمکہ قتل ہوتے رہے ۔ ان کی اولادیں قید ہوتی رہیں عورتیں لونڈیاں بنتی رہیں ۔ ان کے مالٹتے رہے لیکن چشم فلک نے پہلی بار یہ منظر دیکھا کہ ان مصائب سے دو چار ہونے والی قوم میں سے کوئی مائی کا لال یہ جرات نہ کر سکا کہ میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اس قرآن کا مقابلہ کرتا ہوں اور پورے عرب کو اس مصیبت سے نجات دلاتا ہوں ۔ عقل پکار پکار کر کہتے ہے کہ اگر وہ لوگ اس پر قادر ہوتے تو وہ ضرور اس کے ساتھ اپنے نفسوں کا فدیہ دیتے اپنی اولادوں کو بچاتے اپنے مالوں کو بچاتے اپنی عورتوں کو بچاتے تو معاملہ اس طرح ان پر آسان ہو جاتا خصوصا جب کہ وہ اہل زبان تھے اہل فصاحت تھے شعرو خطابت کے ماہر تھے۔ جب وہ قرآن کی ایک بھی سورۃ کی مثال بنا کر نہ لا سکے نہ ہی وہ اس بات کا ادعا کر سکے تو یہ حقیقت مسلم ہو گئی کہ وہ اس بات سے عاجز تھے ۔ اور ان کے عجر کے ظاہر ہونے میں اس بات کا بیان بھی ہے کہ خود آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی اس کام سے عاجز ہونے میں انہیں کی مثل تھے ۔ اس لئے کہ انہیں کی مثل بشر تھے ۔ ان کی زبان انہیں کی زبان تھی ، ان کی عادت انہیں عالی عادت تھی ۔ ان کی طبیعت انہیں والی طبیعت تھی ۔ ان کا زمانہ انہیں والا زمانہ تھا جب یہ سب باتیں ویدی ہی تھیں مگر اس کے باوجود قران مجید جیسی بے مثل و بے معارضہ کتاب آ گئی تو پھر واجب ہے کہ یہ یقین کر لیا جائے کہ وہ اللہ کی طرف سے ہے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف سے نہیں ہے ۔ اگر مسیلمہ کے سجعوں کا ذکر کریں تو حقیقت یہ ہے کہ اس کا سارا کلام اس سے تجاوز نہیں کرتا اس کا کچھ حصہ ایک دوسرے کی حکایت گوئی سے ہے اور سرقہ یعنی چرایا ہوا کلام ہے ، کچھ حصہ کاہنوں کے سجع ہیں اور عرب کے رجز ہیں ۔ اس سے تو خود محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا کلام احسن ہوتا تھا اعتماد سے اور معنوی اعتبار سے زیادہ درست تھا۔ اور فائدہ کے اعتبار سے زیادہ واضح تھا ۔پھر اس کے باوجود اہل عرب نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ الزام نہیں دیا اور ان پر یہ اعتراض نہیں کیا کہ آپ ہمیں تو قرآن کی مثل لے آنے کا چیلنج کرتے ہیں اور دیہ دعویٰ کرتے ہیں کہ تمام انسان اور تمام جن مل کر اگر قرآن کی مثل لانا چاہیں تو نہیں لا سکتے نہیں ہے بلکہ آپ کا اپنا کلام ہے ۔ یہ آپ کا قول تھا۔ ( انا النبی لا کذب ۔ انا ابن عبدالمطلب ) میں نبی ہوں جھوٹ نہیں ۔ میں عبدالمطلب کا پوتا ہوں ۔ ( تاللہ لو لا اللہ ما ھتدینا۔ ولا تصدقنا ولا صلینا) قسم بخدا اگر اللہ پاک نہ ہوتا ہمیں راستہ نہ ملتا ۔ نہ ہم صدقہ کرتے نہ ہم نماز پڑھتے ۔ ( ان العیش عیش الا خرۃ۔ فارحم الا نصار و المھاجرۃ ) بے شک اصل زندگی تو آخرت کی زندگی ہے ۔ اللہ تو مہاجرین و انصارپر رحم فرما۔ ( تعیس عبدالدینار و الدرھم ، و عبدالخمیصیۃ ان اعطی منھا رضی و ان لم یعط سخط، تعیس و انتکس ( ون شیک ) فلا انتفش ) دوہم و دینار کا بندہ ہلاک ہو جائے کپڑے لٹے کا بندہ تو اگر اس یں سے کچھ مل جائے خوش ہو جائے اگر نہ ملے تو ناراض ہو جائے ۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ کلام اور اس جیسا اور بہت سارا کلام جو الفاظ کی دنیا میں حسین ترین کلام ہے اور معنی اور مطلب کی دنیا میں سب سے زیادہ فٹ اور درست ہے ۔ تکلف و تضع سے پاک ہے ۔ عرب میں سے کسی اک نے بھی اس بات کا دعویٰ نہ کیا کہ اس کے کلام میں سے کوئی شے قرآن کے مشابہ ہے ۔ استاذ ابو منصور اشعری رحمتہ اللہ علیہ نے میری طرف ہمارے بعض اصحاب کی طرف سے لکھا کہ انہوں نے کہا عین ممکن ہے کہ یہ نظم بھی اہل عرب کے درمیان زیر بحث آئی ہو اور چیلنج کے وقت وہ اس سے بھی عاجز ہو گئے ہوں لہذا یہ بھی معجزہ بن گیا ہو اس لئے کہ جو چیز عادت میں شمار ہوتی ہو اس کو عادت سے نکال دینا عادت کو توڑ دینا ہوتا ہو بالکل اسی طرح جیے اس چیز کو عادت میں داخل کرنا جو عادت میں نہیں ہے عادت کو توڑ دیتا ہے ۔ شیخ نے اس کی شر ح میں تفصیلی کلام کیا ہے ۔ دونوں میں سے جو بھی بات ہو اس کے ساتھ آپ کا معجزہ ظاہر ہو گیا اور عرب نے اپنے عجز کا اعتراف کر لیا اور اس کی مثل لانے سے عاجز ہونے کا اقرار کر لیا۔
ابن عباس في قوله عز و جل ← عِكْرِمَةَ، ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← اِسْرَائِیْلُ ← إسحاق بن إبراهيم أنبأ عمرو بن محمد ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · The second of the people of faith › And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general · Hadith 133
شعب الإيمان · الثاني من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الإيمان يرسل الله صلوات الله عليهم عامة ـ · حديث 138
138 - و بهذا الإسناد ثنا ورقاء عن حصين بن عبد الرحمن عن عبيد الله بن مسلم الحضرمي قال : كان لنا غلامان نصرانيان من أهل عين التمر يسمى أحدهما يسار و الآخر جبر و كان يقرآن كتابا لهما فربما مر رسول الله صلى الله عليه و سلم فقام عليهما فقال المشركون : إنما يتعلم محمد منهما فأنزل الله عز و جل هذه الآية
و زعم الكلبي فيما روى عن أبي صالح عن ابن عباس رضي الله عنهما أنهما كانا أسلما فكان رسول الله صلى الله عليه و سلم يأتيهما فيحدثهما و يعلمهما و كانا يقرآن كتابهما بالعبرانية
قال البيهقي ـ رحمه الله ـ و من تعلق بهذا الضعيف لم يسكت عن شيء يتهمه به فدل على أنهم لو اتهموه بشيء مما نفيناه عنه لذكروه و لم يسكتوا عنه و بالله التوفيق
و بسط الحليمي ـ رحمه الله تعالى ـ كلامه في الإشارة إلى ما في كتاب الله عز و جل من أنواع العلوم و ما في ذلك من الإعجاز
ثم إن له وراء القرآن من الآيات الباهرة إجابة الشجرة إياه لما دعاها و تكلم الذراع المسمومة إياه و ازدياد الطعام لأجله حتى أصاب منه ناس كثير و خروج الماء من بين أصابعه في المخصب حتى توضأ منه ناس كثير و حنين الجذع و ظهور صدقه في مغيبات كثيرة أخبر عنها و غير هذه مما قد ذكر و دون و في الواحد منها كفاية غير أن الله ـ جل ثناؤه ـ لما جمع له بين أمرين :
أحدهما : بعثه إلى الجن و الإنس عامة
و الآخر : ختمه النبوة به ظاهر له بين الحجج حتى إن شذت واحدة عن فريق بلغتهم أخرى و إن لم تنجع واحدة نجعت أخرى و إن درست على الأيام واحدة بقيت أخرى
و لله في كل حال الحجة البالغة و له الحمد على نظره لخلقه و رحمته إياهم كما يستحقه
و ذكر الحليمي ـ رحمه الله ـ فصولا في الكهنة و مسترقي السمع
و قد ذكرنا في كتاب دلائل النبوة ما ورد في ذلك من الأخبار ما وجد من الكهنة و الجن في تصديق نبينا صلى الله عليه و سلم و إشاراتهم إلى أوليائهم الإنس و بالإيمان به و لا يجوز على مؤمني الجن أن يحملوا أولياءهم على الكذب على الله أو على متابعة من يكذب على الله و على كفارهم أن يأمروا أولياءهم بالإيمان بمن كفروا به فدل على أن أمر من آمن به منهم إنما هو لمعرفة وقعت له بصدقه لمن آمن به من الإنس و بالله التوفيق
اسی مذکورہ اسناد کے ساتھ ہمیں بیان کیا ہے ورقاء نے حصین بن عبدالرحمن سے عبداللہ بن مسلم بن حضرمی سے انہوں نے کہا ہمارے دعائی غلام لڑکے تھے اہل عین تمر سے دونوں میں سے ایک کا نام یسار دوسرے کا نام جبر تھا اور وہ اپنی کتاب پڑھتے رہتے تھے کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وہاں سے گزرتے تو وہاں ذرا سا کھڑے ہو جاتے لہذا مشرکین نے یہ کہنا شروع کیا کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان دونوں سے سیکھتے ہیں لہذا اللہ تعالیٰ نے مذکورہ آیت نازل فرما ان کا رد فرما دیا۔ کلبی کا گمان ہے کہ اس روایت کے مطابق جو ابو صالح سے ابن عباس سے مروی ہے کہ وہ دونوں عیسائی لڑکے مسلمان ہو گئے تھے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے پاس تشریف لاتے ان کو سکھاتے اور ان سے باتیں بھی کرتے اور وہ دونوں اپنی کتاب کو عبرانی زبان سے پڑھتے تھے ۔ امام بیہقی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا : جو شخص اس مذکورہ کمزور کہانی کے پیچھے پڑا وہ کسی بات سے خاموش نہیں رہ سکتا۔ وہ اسی طرح کی تہمت آپ کو لگاتا رہے گا یہ بات دلیل ہے اس کی کہ اگر وہ لوگ کسی ایسی چیز کی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو تہمت لگائیں جس کی ہم نفی کر چکے ہوں تو بھی اس کو ذکر کرتے رہیں گے اور اس اتہام سے خاموش نہیں ہوں گے ۔ شیخ حلیمی نے تفصیلی کلام کیا ہے اس اشارے کے بارے میں جو علوم کے انواع و اقسام کے بارے میں کتاب اللہ میں ہے اور اس کے بارے میں اسی میں جو اعجاز ہے ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے قرآن مجید کے علاوہ جو آیات باہرہ ہیں : ( 1۔ مثلاً آپ کے لئے درخت کا آپ کا کہنا مان کر چلے آنا جب آپ نے اس کو بلایا تھا۔ 2۔ زہر آلود بکری کی نلی کا آپ کے ساتھ کلام کرنا۔ 3۔ آپ کے لئے کھانے کا بڑھ جانا اور لوگوں کی بڑی تعداد کو کافی ہو جانا۔4۔ اور آپ کے ہاتھ کی انگلیوں سے بڑے ٹپ میں پانی کا بہنا یہاں تک کہ اس سے لوگوں کی کثیر تعداد نے وضو کر لیا۔ 5۔ کھجور کے خشک تنے کا بول پڑنا اور رو پڑنا۔ 6۔ آپ کا بہت سی غیب کی خبروں کی خبر دینا اور اس کا سچا ہو جانا علاوہ اس کے جو کچھ معجزات مذکور ہیں اور مدون ہیں ۔ کسی ایک بات میں کفایت ہے یعنی ان باتوں میں سے کوئی بات بھی یقین کرنے کے لئے کافی ہے علاوہ ازیں جب اللہ عزوجل نے آپ کے لئے دو امر جمع فرمائے ہیں ایک آپ کی جنات اور انسانوں کی طرف بعشت عامہ اور دوسری آپ کے ساتھ نبوت و رسالت کے سلسلہ کو ختم کر دینا یہ واضح طور پر آپ کے لئے حج واضحہ میں سے ہے حتیٰ کہ اگر ایک چیز کسی فریق سے رہ جائے تو دوسری ان کو ضرور پہنچ جائے گی۔ ایک چیز فائدہ نہ دے اس کی تو دوسری فائدہ دے گی گردش زمانہ سے اگر ایک چیز مٹ گئی تو دوسری باقی رہے گی ۔ ہر حال میں اللہ تعالیٰ کے لئے حجت بالغہ ہے اسی کا شکر ہے ۔ اس کی حفاظت پر اور شفقت پر اپنی مخلوق کے لئے خاص طور پر ایسا جس کا وہ مستحق ہے ۔ شیخ حلیمی رحمتہ اللہ علیہ نے کاہنوں اور بات چرانے والوں کے بارے میں کئی فصل ذکر کئے ہیں ہم نے اپنی کتاب دلائل النبورۃ میں ذکر کیا ہے ۔ ان اخبار کو جو اس بارے میں وارد ہوئے ہیں جو کاہنوں اور جنوں کے بارے میں پائے گئے ہیں ۔ ہمارے نبی کریم کی تصدیق کی بابت اور ان کے اشارت کی بابت ان کے انسانی دوستوں کے بارے میں آپ کے ساتھ ایمان کے بارے میں مومن جنوں کے لئے درست نہیں ہے کہ وہ اپنے دوستوں کو اللہ پر جھوٹ بولنے پر آمادہ کریں ۔ یا اس کی تابعداری پر آمادہ کریں ۔ جو اللہ پر جھوٹ بولے اور کافر جنوں کے لئے ممکن ہے کہ وہ اپنے اولیاء کو حکم کریں ایمان کا اس انسان کے ساتھ جو اللہ کے ساتھ کفر کرے ۔ تو یہ بات دلالت کرتی ہے ۔ اس پر کہ اس کا حکم جو ان میں سے اللہ رسول پر ایمان لایا سو وہ معرفت کی وجہ سے ہے جو اس کے لئے واقع ہو چکی ہے بسبب اس کی تصدیق کرنے کے اس شخص کی جو اللہ رسول کے ساتھ ایمان لا چکا انسانوں میں سے ۔
Shuab ul Iman · The second of the people of faith › And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general · Hadith 138
شعب الإيمان · الرابع من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الإيمان بالقرآن المنزل على نبينا محمد صلى الله عليه و سلم و سائر الكتب المنزلة على الأنبياء صلوات الله عليهم أجمعين · حديث 170
170 - أخبرنا أبو منصور الفقيه أنا أبو أحمد الحافظ أخبرنا أبو عروبة السلمي قال أخبرنا سلمة بن شبيب : فذكره
و كذلك رواه غير الحكم بن محمد عن سفيان
قال البيهقي رحمه الله : مشيخة عمرو بن دينار جماعة من الصحابة منهم عبد الله بن عباس و عبد الله بن عمر و جابر بن عبد الله و عبد الله بن الزبير و أكابر التابعين
و روينا هذا القول عن علي بن الحسين و جعفر بن محمد الصادق و مالك بن أنس و الليث بن سعد و سفيان بن عيينة و حماد بن زيد و عبد الله بن المبارك و عبد الرحمن بن مهدي و محمد بن إدريس الشافعي و يحيى بن يحيى و أحمد بن حنبل و أبي عبيد و محمد بن إسماعيل البخاري في مشيخة أجلة سواهم و إنما أحدث هذه البدعة الجعد بن درهم و منه كان يأخذ جهم فذبحه خالد بن عبد الله القسري يوم الأضحى
قال الأستاذ أبو بكر بن فورك رحمه الله : لو كان كلام الباري جل و عز محدثا كان قبل حدوثه موصوفا بأنه يمنع منه كما لو كان غير عالم كان موصوفا بجهل و آفة مانعة منه و لو كان كذلك لما صح أن يتكلم في حال كما لا يصح أن يعلم لو كان لم يزل غير عالم فوجب أنه لم يزل متكلما لما لم يلحق به أضداد الكلام من السكوت و الخرس و الطفولية
و إن شئت قلت : كلام الله سبحانه لو كان مخلوقا كان يجب أن يكون موصوفا بضده قبل خلقه له لاستحالة أن يخلو الحي من الكلام و ضده و ضد الكلام و كان قديما لم يجز عدمه و كان يؤدي إلى إحالة وصفه بالأمر و النهي و الخبر و ذلك خلاف الدين
و لأن الكلام لو كان مخلوقا كان لا يخلو من أن خلقه في نفسه أو في غيره أو في لا شيء و يستحيل أن يخلقه في لا شيء لأنه عرض و العرض لا يقوم بنفسه و يستحيل أن يخلقه في نفسه لاستحالة أن يكون محلا للحوادث و يستحيل أن يخلقه في غيره لأنه لو كان مخلوقا في غيره لكان مضافا إلى ذلك الغير بأخص أوصافه كسائر الأعراض التي هي علم و قدرة و حياة إذ خلقها في غيره و لو كان كذلك لم يكن كلاما لله و لا أمرا له
فإن قيل : يكون كلاما له كما يكون فعله تفضلا له و إن كان في غيره
قيل : التفضل هو اسم يعم أجناسا و نحن قلنا يضاف إليه بأخص أوصافه فإن كان قوة أضيفت إلى ما خلقت فيه و إن كان سمعا و بصرا فكذلك فقولوا بأنه يضاف إليه باسم الأمر و النهي بلفظ الكلام و القول فإن لم يضيفوه لا بالأخص ولا بالأعم و لا إلى الجملة و لا إلى المحل فقد افترق الأمر فيهما
فإن قيل لو كان كلامه غير مخلوق لكان لم يزل مخبرا :
{ إنا أرسلنا نوحا }
و لم يزل يرسل ذلك كذب قيل : أو ليس قد قال :
{ و قال الشيطان لما قضي الأمر إن الله وعدكم وعد الحق }
و لم يقل بعد أفهو كذب ؟ فإن قال معناه سيقول
قيل ذلك قوله :
{ إنا أرسلنا نوحا إلى قومه }
في أزله خبرا عن أن سنرسل نوحا قبل إرساله فإذا أرسل يكذب خبرا عن إرساله أنه وقع من غير أن يحدث خبرا كما أن علمه بأن سيكون الدنيا علمه بأنه كائن و إذا كان لم يحدث علم إنما حدث المعلوم و المخبر عنه دون العلم و الخبر
فإن قالوا : لو كان لم يزل متكلما لكان لم يزل آمرا وأمر من ليس بموجود محال
قيل من قال من أصحابنا لم يزل آمرا فهو يقول لم يزل آمرا له يكون على معنى إذا خلقت و بلغت و كمل عقلك فافعل كذا كأوامر الرسول صلى الله عليه و سلم لمن يأتي بعده و من قال لم يزل غير آمر و إنما يكون كلامه أمرا لحدوث معنى فنقول لا يجب إذا كان لم يزل متكلما أن يكون لم يزل آمرا لأن حقيقة الكلام غير حقيقة الأمر و لم يكن كلاما لأنه أمر و إنما كان كلاما لأنه مسموع يفيد معاني المتكلم و ينفي السكوت و الخوص و يكون أمرا لعلة الإفهام أن كذا يلزمه أن يفعله
فإن قيل : لو كان لم يزل متكلما لكان هاذيا إذ لا يسمع كلامه أحد
قيل أليس المسبح لا يسمع كلامه أحد و لا يكون هذيا فإن قيل : الله يسمعه قيل : فهو يسمع الهذيان أيضا و لا يخرجه من أن يكون هذيانا و لأن معنى الهذيان أنه كلام لا يفيد و كلام الله يفيد المعاني الجليلة
فإن احتج محتج بالحروف و تأخر بعضها عن بعض و في ذلك دلالة على الحدث و كلام الباري ليس بحروف و إنما هو معنى موجود قائم بذاته يسمع و تفهم معانيه و الحروف تكون أدلة عليه كما تكون الكتابة أمارات الكلام و دلالات عليه و كما يعقل متكلما لا مخارج له و لا أدوات كذلك يعقل له كلاما ليس بحروف و لا أصوات وقوله :
{ ما يأتيهم من ذكر من ربهم محدث }
دليلنا لأنه لولا أن في الأذكار ذكرا غير محدث ما كانت له فائدة كما أن من قال جاءني رجل له رأس ما كانت له فائدة إذ لا يخلو منه رجل
و معنى الذكر كلام الرسول صلى الله عليه و سلم أو نفس الرسول لأنه هو الذي يأتي في الحقيقة و أما النسخ و التبديل و الحفظ فكل ذلك راجع إلى الأحكام و إلى القراءة الدالة على الكلام لا إلى عين الكلام و كذلك التبعيض إنما هو في القراءة الدالة عليه و القراءة غير المقروء كما أن ذكر الله غير الله و قوله :
{ إنا جعلناه قرآنا عربيا }
يريد به سميناه كقوله { وجعلوا الملائكة الذين هم عباد الرحمن إناثا } يعني وصفه الملائكة إناثا ـ
قال الحليمي رحمه الله و قوله عز و جل :
{ إنه لقول رسول كريم }
{ و لا بقول كاهن }
و قال { إنه لقول رسول كريم * ذي قوة عند ذي العرش مكين * مطاع ثم أمين }
فإنما معناه إنه لقول رسول كريم أي قول تلقاه عن رسول كريم أو قول سمعه عن رسول كريم إذ نزل به عليه رسول كريم و قد قال في آية أخرى :
{ وإن أحد من المشركين استجارك فأجره حتى يسمع كلام الله } فأثبت أن القرآن كلامه و لا يجوز أن يكون كلامه و كلام جبريل معا فدل أن معناه ما قلنا
قال البيهقي رحمه الله : و المقصود من تلك الآية تكذيب المشركين فيما كانوا يزعمون من وضع النبي صلى الله عليه و سلم هذا القرآن ثم قد أخبر الله عز و جل أنه هو الذي نزل به الروح الأمين عليه السلام على قلب محمد صلى الله عليه و سلم و أن جبريل نزل به من عنده و بالله التوفيق
و أما الوجه الثاني و هو الاعتراف بأنه معجز النظم فقد مضى الكلام فيه و الإعجاز عند أكثر أصحابنا يقع في قراءة القرآن فنظم حروفه و دلالاته في عين كلامه القديم و لما كان الجن و الإنس عاجزين عن الإتيان بمثله و الملائكة أيضا عاجزون عن الإتيان بمثله لأنه في قول أكثر أهل العلم ليس من جنس نظوم كلام الناس و لا يهتدى إلى وجهه ليحتذى و يمثل و هو كتركيب الجواهر لتصير أجساما و قلب الأعيان إذ كما لا يقدر عليه الجن و الإنس لا يقدر عليه الملائكة و إنما وقع التحدي عليه للجن و الإنس دون الملائكة لأن النبي صلى الله عليه و سلم إنما أرسل إلى الجن و الإنس دون الملائكة و في ذلك ما أبان أن نظم القرآن ليس من عند جبريل و لكنه من عند اللطيف الخبير و هذا معنى كلام الحليمي رحمه الله الوجه الثالث : فبيانه أن الله عز و جل ضمن حفظ القرآن فقال :
{ إنا نحن نزلنا الذكر و إنا له لحافظون } و قال : { وإنه لكتاب عزيز * لا يأتيه الباطل من بين يديه ولا من خلفه تنزيل من حكيم حميد }
فمن أجاز أن يتمكن أحد من زيادة شيء في القرآن أو نقصانه منه أو تحريفه فقد كذب الله في خبره و أجاز الخلف فيه و ذلك كفر
و أيضا فإن ذلك لو كان ممكنا لم يكن أحد من المسلمين على ثقة من دينه و يقين مما هو متمسك به لأنه كان لا يأمن أن يكون فيما كتم من القرآن أوضاع بنسخ شيء مما هو ثابت من الأحكام أو تبديله بغيره
و بسط الحليمي رحمه الله الكلام فيه فصح أن من تمام الإيمان بالقرآن الاعتراف بأن جميعه هو هذا المتوارث خلفا عن سلف لا زيادة فيه و لا نقصان منه و بالله التوفيق
ہمیں خبر دی ہے ابو منصور فقیہ نے کہ خبر دی ہے ابو احمد حافظ نے کہ ہمیں خبر دی ہے ابو عروبہ سلمیٰ نے انہوں نے کہا ہمیں خبر دی ہے سلمہ بن شبیب نے پھر مذکورہ قول کو نقل کیا اور اسی کو حکم بن محمد نے سفیان سے روایت کیا ہے ۔ امام بیہقی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں : عمرو بن دینار کے مشائخ صحابہ کرام کی ایک جماعت ہیں ان میں سے : 1۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ 2۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ 3۔ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ ، 4۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اور اکابر تابعین ہیں ۔ ہم نے یہی قول علی بن حسین سے اور جعفر بن محمد صادق سے اور مالک بن انس رحمتہ اللہ علیہ لیث بن سعد، سفیان بن عیینہ ، حماد بن زید، عبداللہ بن مبارک ، عبدالرحمن بن مہدی، محمد بن ادریس شاعی، یحییٰ بن یحییٰ ، احمد بن حنبل ابوعبید، محمد بن اسماعیل بخاری اور ان کے سوا جلیل القدر مشائخ سے یہی قول نقل کیا ہے جب کہ ( قرآن کے مخلوق ہونے ) والی بدعت کو جعد بن درہم نے ایجاد کیا تھا اور اس سے جھم نے نقل کیا تو اس کو خالد بن عبداللہ نے قسری عید قربانی کے دن ذبح کر دیا تھا۔ استاذ ابو بکر بن فورک رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ کا کلام حادث و نو پیدا ہوتا اس کے لئے اور پہلی بار وجود میں آنے سے قبل اللہ تعالیٰ عدم کلام یعنی متکلم نہ ہونے کی صفت کے ساتھ موصوف ہوتا۔ جیسے کہ اگر اللہ تعالیٰ غیر عالم ہوتا تو جھل و نادانی سے اور علم سے مانع آفت سے موصوف ہوتا۔ اگر بالفرض و المحال ایسے ہوتا تو ضرور ایسا وقت بھی اس پر گزرا ہوتا کہ وہ اس حال میں متکلم نہ ہوتا ۔ جیسے اگر وہ شروع سے ہی نہ جانتا ہوتا تو ، تو ایک ایسا وقت بھی اس پر گزرا ہوتا کہ وہ اس وقت علم سے موصوف نہ ہوتا ( تو یہ تمام صفات و کیفیات نقص ہیں جب کہ اللہ تعالیٰ ہمہ قسم کے نقائص سے پاک ہے ) لہذا واجب ہوا کہ اللہ تعالیٰ ازل سے متکلم تھا اس لئے کہ اس کو کلام کی منافی صفات مثلاً سکوت گونگا پن ۔ بچپن لاحق نہیں ہوتیں۔ اگر آپ چاہیں تو یوں کہہ سکتے ہیں کہ کلام اللہ اگر مخلوق ہوتا تو ضروری ہوتا کہ اس کے پیدا کرنے سے قبل اللہ تعالیٰ اس کی ضد اور مخالف صفت سے بھی موصوف ہوتے ۔ اس لئے کہ یہ محال ہے کہ کوئی حی اور زندہ صفت کلام سے بھی خالی ہو اور اس کے عدم سے بھی خالی ہو اور اگر عدم کلام اللہ تعالیٰ کے لئے قدیم ہوتا تو اس کا عدم یعنی متکلم ہونا ممکن نہ ہوتا اور یہ مفروضہ یہاں پر ختم نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ کی تمام ان صفات کا محال ہونا لازم آتا ہے جیسے امر ہوا نہی ہوئی خبر ہوئی اور یہ سب دین کے خلاف ہے ۔ اس لئے کہ اللہ کا کلام اگر مخلوق ہوتا تو تین حال سے خالی نہ ہوتا یا تو اسے اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات میں پیدا کیا ہوتا۔ یا اپنے ما سوا اور غیر میں ۔ یا بالکل لاشی میں ۔ جب کہ یہ تیسری صورت عقلا محال ہے یعنی کلام کو پیدا کرتا لاشئی میں ۔ اس لئے کہ یہ عرض ہے اور عرض قائم بذات نہیں ہوتا۔ اور یہ بھی محال ہے کہ اس کو اپنی ذات میں پیدا کرتا اس لئے کہ اس کا مطلب یہ ہوتا کہ اللہ تعالیٰ اپنے اندر تغیر و تصرف کر رہا ہے جب کہ اللہ تعالیٰ کسی بھی تغیر و حوادث کا محل نہیں ہے ( بلکہ اس سے پاک ہے ) اور یہ بھی محال ہے کہ وہ کلام و اپنے سوا اور غیر میں پیدا کرتا۔ کیونکہ کلام اگر اللہ کے ماسوا اور غیر میں پیدا ہوتا تو اس کی نسبت اور اضافت بھی اسی غیر کی طرف ہوتی اسی کے خاص اوصاف کے طور پر تمام اعراض کی طرح جیسے علم ہو قدرت ہوئی حیات ہوئی تو جب ان کو غیر اللہ اور ماسوا اللہ میں پیدا کرتا تو وہ کلام اللہ نہ ہوتا۔ (بلکہ کلام غیر اور کلام فلاں ہوتا اور اس صورت میں کوئی امر اللہ کاامر نہ ہوتا اور کوئی نہی اللہ کی ہی نہ ہوتی۔ تو مطلب یہ برآمد ہوا کہ اللہ کا کلام اللہ کی صفت ہے اور قدیم ہے حادث نہیں ہے مخلوق نہیں ہے اس کا مخلوق ہونا محال ہے ( مترجم ) اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اللہ کا کلام ما سوا اللہ میں از راہ تفصل و عنایت ہو سکتا تھا جیسے اس کا فعل بطور تفض و عنایت اسی کا ہو سکتا ہے اگرچہ وہ غیر میں ہو۔ تو اس کا یہ جواب دیا جائے گا کہ تفضل اسم ہے کئی کئی جنسوں کو شامل ہے اور ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ اس کے خصوصی اوصاف کے طور پر ۔ پس اگر ایک قوت ہو جو منسوب کی گئی ہو اسی مخلوق کی طرف جس میں وہ پیدا کی گئی ہے اگرچہ سمع یا بصر ہو تو بھی اسی طرح ہوگا تو کہہ دو کہ بایں طور کہ امر اور نہی کے نام کے ساتھ اسی کی طرف منسوب کیا جائے گا کہ یہ فلاں کا قول ہے یا فلاں کا کلام ہے پس اگر نہ منسوب کریں اس کو نہ خصوصی طور نہ عمومی طور پر نہ جملہ کی طرف اور نہ ہی محل و جگہ کی طرف تو دونوں میں معاملہ جدا ہو جائے گا۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اگر اللہ کا کلام مخلوق نہ ہوتا تو ہمیشہ مخبر ہوتا۔ ( انا ارسلنا نوحا) ( نوح ا) ہم نے نوح علیہ السلام کو بھیجا ۔ ہمیشہ بھیجتا جب کہ یہ جھوٹ ہے جاب میں کہا جائے گا۔ کہ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا ؟ ( و قال الشیطان لما قضی الا مر ان اللہ و عد کم و عد الحق ) ( ابراہیم ۲۲) شیطان کہے گا اس وقت جب فیصلہ ہو چکے گا بیشک اللہ نے ہمیں سچا وعدہ دیا تھا اور میں نے تمہیں جھوٹا وعدہ دیا تھا۔ اور یہ نہیں کہا کہ بعد میں کیا وہ جھوٹ ہے ؟ اگر مقرض کہے اس کا معنی ہے عنقریب کہے گا تو جواب دیا جائے گا کہ یہی جواب ہے انا ارسلناک نوحا کا بھی ہے کہ اس کے ازل میں خبر تھی اس بارے میں کہ عنقریب ہم نوح کو رسول بنا کر بھیجیں گے ۔ یہ خبر نوح کو بھیجنے کے بارے پہلے تھی ۔ اگر لوگ یہ اعتراض کریں کہ اگر اللہ تعالیٰ ہمیشہ متکلم ہوتا تو اس کا مطلب ہوگا کہ وہ ہمیشہ امر کرنے والا ہوتا حالانکہ اس طرح مخلوق کو امر کرنا لازم آتا ہے جو کہ موجود ہی نہیں کیونکہ ازل میں مخلوق موجود نہیں تھی لہذا اس کو امر کرنا جو موجود ہی نہ ہو محال ہے ۔ جواب دیا جائے کہ ہمارے اصحاب میں سے جس نے یہ کہا ہے کہ ہمیشہ امر کرنے والا تھا ۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ امر اس کیفیت سے تھا کہ ( اے مامور ) جب تو پیدا ہوگا اور پھر بالغ ہو گا اور تیری عقل مکمل ہو جائے گی تو یہ امر ( تجھ پر لاگو ہو جائے گا پھر ) تم اس وقت ایسے ایسے کرنا ۔ اسی کی مثال ایسی ہے جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے وہ امر ہیں جو بعد میں آنے والے لوگوں کے لئے ہیں ۔ اور ہمارے اصحاب میں سے جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ازل میں غیر امر تھا یعنی امر کنے والا نہیں تھا تو یہ مطلب ہوگا کہ اس کا کلام امر ہو گا معنی اور مفہوم کے حدوث و وجود کے لئے ۔ تو ہم یہ کہیں گے کہ یہ لازم نہیں ہے کہ جب ازل میں متکلم ہو تو ازل ہمیشہ امر کرنے والا بھی ہو اس لئے کہ کلام کی حقیت امر کی حقیقت کی غیر ہے اور مختلف ہے ۔ کلام نہیں تھا کیونکہ امرت تھا ۔ کلام اس لئے تھا کہ مسموع تھا ایسا مسموع جو متکلم کے معانی و مطالب کا فائدہ دیتا تھا۔ جو سکوت کی نفی کرتا ہے جو گونگے پن کی نفی کرتا ہے اور امر ہوگا یہ سمجھانے کے لئے کہ اس کو ایسا کرنا لازم ہوگا۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اللہ تعالیٰ ازل سے کلام کرنے والا اور ہمیشہ متکلم تھا کہ مطلب تو یہ ہوگا کہ وہ ایسی غیر مفید اور غیر ضروری باتیں کرنے والا تھا جس کو کوئی سننے والا ہی نہیں تھا ؟ تو جواب یہ دیا جائے گا کہ کیا تسبیح کرنے والا ایسے ہی نہیں ہوتا ؟ کہ اس کے کلام کو کوئی نہیں سنتا اس کے باوجود وہ بے ہودہ بکواس اور بڑبڑانا نہیں کہلاتا ۔ اگر کہا جائے کہ اس کو تو اللہ سنتا ہے تو جواب دیا جائے گا کہ اللہ تعالیٰ تو ھذیان کو اور بکواس کو بھی سنتا ہے مگر اللہ کا سننا ھذیان کو ھذیان سے خارج نہیں کرتا کیونکہ ھذیان کا مطلب غیر مفید کلام ہے جب کہ اللہ کا کلام بڑے عظیم معنی کا فائدہ دیتا ہے ۔ اگر کوئی دلیل پکڑنے ولاا حروف سے دلل پکڑے کہ حروف حادث ہیں اور مخلوق ہیں اور ایک دوسرے سے اگے پیچھے موخر ہیں ۔ اس میں حادث اور مخلوق ہونے کی دلیل ہے تو یہ بات درست نہیں ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کا کلام حروف نہیں ہیں ۔ بلکہ وہ ایک ایسا معنی اور مفہوم ہے جو اللہ کی ذات کے ساتھ قائم ہے جو سنا جاتا ہے اور جس کے معانی سمجھے جاتے ہیں ۔ جب کہ حروف اس معنی اور مفہوم پر دلیل ہوتے ہیں ۔ جیسے تحریر اور حکمت کلام کے علامات ہوتے ہیں اور اس پر دلالت کرنے والے ہوتے ہیں ۔ جیسے وہ معانی بطور متکلم سمجھے جاتے ہیں ۔ جب کہ نہ اس کے مخارج ہوتے ہیں نہ ہی حروف ۔ اسی طرح اس کا کلام سمجھا جاتا ہے جب کہ وہ کلام حروف ہوتے ہیں نہ ہی آواز ہوتے ہیں ۔ باقی رہا اللہ کا یہ فرمان : ( ما یاتیھم من ذکر من ربھم محدث ) ( الانبیاء ۲) کہ نہیں آتا کافروں کے پاس کوئی نیا ذکر ان کے رب کی طرف سے ۔ اس آیت میں اللہ کی طرف سے جو کلام آتا ہے اس کو حادث اور نیا قرار دیا ہے ۔ اس سے بھی حادث اور مخلوق ہونے کی دلیل نکلتی ہے ۔ ( مترجم ) ہماری دلیل یہ ہے کہ اگر اذکار میں سے کوئی ذکر غیر محدث ہو تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا س کی مثال ایسے ہو گی جیسے کوئی شخص کہے کہ میرے پاس آدمی آیا ہے جس کا سر ہے تو اس کلام کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا اس لئے کہ سر سے خالی تو کوئی بھی نہیں ہے ۔ ( اور یا یہ تو جیہ کی جائے گی کہ ) ذکر سے مراد کلام رسول ہے ۔ یا نفس رسول ہے اس لئے کہ اتیان یعنی آنے کا لفظ استعمال ہوا ہے جب کہ حقیقتا آنا تو رسول کا ہی ہوتا ہے ۔ اگر کلام اللہ کے مخلوق ہونے اور حادث ہونے پر کوئی شخص اس کے نسخ ور تبدیل اور حفاظت سے دلیل پکڑے اور کہے کہ ( منسوخ تبدیل اور قابل حفاظت چیز مخلوق ہوتی ہے اور حادث ہوتی ہے ) تو جواب یہ دیا جائے گا کہ یہ تمام باتیں احکام و قرآت کی طرف راجح ہے میں جو کلام پر دلالت کرتی ہیں نہ کہ کلام کے عین کے طرف۔ اسی طرح ہے تبعیض یعنی کم کرنا یہ قرات میں ہوتی ہے جو اس پر دلالت کرتی ہے اور باقی رہی قرآت غیر معرف جیسے کہ ذکر اللہ ۔ اللہ کا غیر اور ماسوا ہے اور اس آیت سے مخلوق ہونے اور حادث ہونے پر دلیل پکڑنا۔ ( انا جعلناہ قرانا عربیا) ( زحرف ۳) کہ ہم نے اس کو بنا دیا ہے قرآن عربی۔ اس سے دلیل پکڑنا کہ چونکہ اللہ نے بنایا ہے تو مطلب یہی ہوا کہ وہ مخلوق ہے تو جواب یہ ہے کہ بنانے سے مراد تخلیق کرنا۔ از سرے تو بنانا نہیں بلکہ اس سے مراد ہے سمیناہ کہ ہم نے اس کا یہی نام رکھا ہے ۔ جیسے اس آیت میں جعل سے مراد بنان نہیں بلکہ نام رکھنا مراد ہے ۔ ( و جعلوا الملائکہ الذین ھم عباد الرحمن اناثا ) کہ مشرکوں نے ملائکہ جو کہ رحمن کے بندے ہیں مشرکوں نے ان کا مونث کر دیا ہے اور بنا دیا ہے اس سے مراد بنانا تخلیق کرنا نہیں جب کہ مراد ہے کہ انہوں نے ملائکہ کو مونث ہونے کے ساتھ منسوب و موصوف کر دیا ہے ۔ شیخ حلیمی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ : ( انہ لقول رسول کریم ٭) ( الحاقتہ ۴۰) بے شک قرآن قول ہے عزت والے قاصد کا ۔ ( ولا بقول کا ھن ) ( الحاقہ ۴۲) نہیں ہے قول کسی کاہن کا ۔ ( انہ لقول رسول کریم ذی قوۃ عند ذی العرش مکین مطاع ثم امین ) ( التکویر ۱۹-۲۱) بے شک قرآن قول ہے عزت والے قاصد کا طاقت ور ہے عرش والے کے پاس قرار پکڑنے والا ۔ وہاں اطاعت کیا ہوا۔ ان تینوں آیات میں یہ بتایا گیا ہے کہ قرآن مجید عزت والے قاصد کا قول ہے یعنی جبرائیل نے اس کو بول کر اور پڑھ کر رسول اللہ کو سنایا ہے اور کسی کاہن کا قول نہیں ہے یعنی ایسے کسی نا پاک کے منہ اور زبان کے الفاظ نہیں ہیں ۔ بلکہ مقدس فرشتے نے اللہ سے حاصل کر کے سب سے پہلے اس کا نطق کیا ہے ( مترجم ) شیخ حلیمی فرماتے یں کہ اس کا معنی ہے کہ وہ عزت والے قاصد کا بولا ہوا اور نطق کیا ہوا ہے یعنی رسول اللہ نے قرآن کو عزت والے رسول سے اور قاصد سے حاصل کیا ہے ۔ یا یہ مطلب ہے کہ ایسا قول جس کو حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے عزت والے قاصد اور نمائندنے سے سنا ہے جب وہ عزت والا رسول اور نمائندہ قرآن کو لے کر حضور پر اترا ہے اور دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ( و ان احد من المشرکین استجارک فاجرہ حتی یسمع کلام اللہ ) اور اگر مشرکوں میں سے کوئی ایک بھی آپ سے پناہ مانتگے تو اسے پناہ دے دیجئے جہاں تک کہ وہ اللہ کا کلام سنے ۔ شیخ حلیمی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں ثابت فرما دیا ہے کہ قرآن اللہ کا کلام ہے اور یہ بات نا ممکن ہے کہ اللہ کا کلام جبرائیل کا کلام بھی ہو ایک ساتھ یعنی خالق کا کلام بعینہ مخلوق کا کلام ہو ایسا ہونا ممکن نہیں لہذا ثابت ہوا کہ وہی معنی ہوگا جو ہم پہلے کہہ چکے ہیں ۔ امام بیہقی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ گزشتہ آیات سے مقصود مشرکین کی تکذیب ہے ان کے اس گمان کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے اس قرآن کو ازخود وضع کر لیا ہے ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ یہ قرآن وہی ہے حضرت جبرائیل امین نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے قلب اطہر پر اتار ہے اور جبرائیل نے اس کو اللہ کی طرف سے اتارا ہے ۔ دوسری وجہ : بہرحال دوسری وجہ یعنی ایمان بالقرآن کا دوسرا شعبہ وہ ہے اس بات کا اعتراف و اقرار کرنا کہ قران معجز نظم ہے ۔ چنانہ اس پر بات چیت گزر چکی ہے ۔ باقی قرآن کا اعجاز ہمارے اکثر اصحاب کے نزدیک قرآن کی قرآت میں واقع ہے ۔ قرآن کے حروف کی نظم اور اس کی دلالت عین کلام قدیم میں ہے جب جن اور انسان قرآن کی مثل لانے سے عاجز تھے اور فرشتے بھی اس کی مثل لانے سے عاجز تھے اس لئے کہ اکثر اہل علم کے قول کے مطابق قرآن نظم ہے مگر لوگوں کے منظوم کلام کی جنس میں سے نہیں ہے اور اس کی ذات یاٍ اس کی توجیہ کی طرف راہ بھی ٍنہیں پائی جا سکتی تانکہ اس کا مقابلہ کیا جا سکے اور اس کی مثال بنائی جا سکے ۔ اور وہ مثل ترکیب جواہر کے ہے تانکہ اجسام بن سکیں ۔ اور ذوات کی الٹ پھیر ہو سکے کیونکہ جس طرح جن و انس اس کی مثل لانے سے عاجز ہیں اسی طرح اس کی مثل لانے سے فرشتے بھی عاجز ہیں ۔ باقی رہی یہ بات کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے چیلنج جو واقع ہوا ہے وہ حرف جنوں اور انسانوں کو ہے فرشتوں کو نہیں ہے ۔ اس لئے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم جنوں اور انسانوں کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے ۔ فرشتوں کی طرف نہیں ۔ اس قرآن میں وہ آیات موجود ہیں جو یہ واضح کرتی ہیں کہ قرآن کی نظم جبرائیل کی طرف سے بھی نہیں ہے لیکن یہ تکلیف اور خبیر کی طرف سے ہے ۔ یعنی باریک میں اور خبر رکھنے والی ذات کی طرف سے ہے یہی معنی ہے حلیمی رحمتہ اللہ علیہ کے کلام کا۔ تیسری وجہ : یعنی ایمان بالقرآن کا تیسرا شعبہ ۔ اس کا یہاں یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی حفاظت کی خود ضمانت دی ہے اور ارشاد فرمایا ہے کہ : ( انا نحن نزلنا الذکر و انا لہ لحافظون ) ( الحجر ۹) بے شک ہم ہی نے اس ذکو کو اتارا ہے اور بیشک ہم ہی ہیں اس کی حفاظت کرنے والے ۔ ( و انہ لکتاب عزیز لا یاتیہ الباطل مین بین یدیہ ولا من خلفہ تنزیل من حکیم حمید ) ( فصلت ۴۱-۴۲) بے شک وہ قرآن مجید ایک کتاب عزیز ہے جس کے پاس باطل نہیں آ سکتا نہ اس کے آگے اور نہ ہی اس کے پیچھے یہ حکمت والے اور حمد والے رب کا اتارا ہوا ہے ۔ جس شخص نے اس بات کا امکان مانا ہے کہ کسی کو قرآن میں کسی قسم کی کمی یا زیادتی کرنے کی قدرت حاصل ہے یا اس سے کچھ کم کرنے یا اس کی تحریف کرنے کی قدرت ہے اس شخص نے اللہ تعالیٰ کی تکذیب کی ہے اس کی خبر کے اندر اور اس خبر کے خلاف کا جواز و امکان مانا ہے جب کہ یہ بات کفر ہے ۔ ( اور اس کے غلط ہونے کی ایک عقلی وجہ بھی ہے وہ یہ ہے کہ ) اگر یہ بات ممکن ہوتی تو کوئی مسلمان شخص بھی اپنے دین کے معاملے وثوق اور یقین پر نہ ہوگا۔ جس جس چیز میں بھی وہ قرآن سے تمسک اور استدلال کرے گا۔ اس لئے کہ اس کے پاس اس بات کی کوئی گارنتٹی نہیں ہو گی کہ جو کچھ ہے وہ صحیح ہے اور درست ہے ۔ بلکہ امکان پیدا ہو جائے گا کہ کوئی مسئلہ اس میں نہ ہو جس میں کتمان ہوا ہے یا جو ضائع ہوا ہے یا کوئی احکام جو ثابت تھے اس میں کوئی نسخ یا تبدیلی ہو گئی ہو۔ وغیرہ وغیرہ تو گویا اس طرح پورا دین و ایمان مشکوک ہو جائے گا۔ شیخ حلیمی رحمتہ اللہ علیہ نے اس میں تفصیلی کلام کیا ہے لہذا یہ صحیح ہے کہ ایمان کی تکمیل اسی میں ہے اور ایمان کی تکمیل کے لئے ضروری ہے کہ اس بات کا اقرار کیا جائے کہ پورا قران مجید یہی ہے جو خلفا عن سلف متوارث چلا ا رہا ہے نہ اس میں کوئی زیادتی ہے اور نہ ہی اس سے کوئی چیز کم ہے ۔
سُفْيَانَ، ← سلمة بن شبيب فذكره و كذلك رواه غير الحكم بن محمد ← أَبُو عَرُوبَةَ السُّلَمِيُّ ← أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ ← أبو منصور الفقيه
Shuab ul Iman · Fourth of the people of faith › And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all · Hadith 170
شعب الإيمان · الرابع من شعب الإيمان ‹ ذكر حديث جمع القرآن · حديث 171
171 - أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحافظ أنا أبو الحسن علي بن محمد بن سختويه ثنا بشر بن موسى ثنا الحسن بن موسى الأشيب عن إبراهيم بن سعد الزهري عن ابن شهاب ـ ح ـ
و أخبرنا أبو نصر محمد بن محمد بن علي بن مقاتل الهاشمي الفروي ثنا أبو محمد أحمد بن عبد الله المزني أنا أبو خليفة الفضل بن الحباب ثنا أبو الوليد الطيالسي ثنا إبراهيم بن سعد ثنا ابن شهاب عن عبيد بن السباق عن زيد بن ثابت قال : أرسل إلى أبو بكر الصديق رضي الله عنه بمقتل أهل اليمامة فإذا عمر جالس عنده فقال أبو بكر : إن عمر جاءني فقال : إن القتل قد استحر بقراء القرآن يوم اليمامة و إني أخشى أن يستحر القتل بالقراء في المواطن فيذهب كثير من القرآن و إني أرى أن تأمر بجمع القرآن فقلت لعمر : كيف أفعل شيئا لم يفعله رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ فقال عمر : هو و الله خير فلم يزل يراجعني في ذلك حتى شرح الله لذلك صدري و رأيت في ذلك الذي رأى عمر رضي الله عنه
قال زيد : قال أبو بكر :
إنك رجل شاب عاقل لا نتهمك و قد كنت تكتب الوحي لرسول الله صلى الله عليه و سلم فتتبع القرآن و اجمعه
قال زيد :
فو الله لو كلفوني نقل جبل من الجبال ما كان أثقل علي مما أمروني به من جمع القرآن قال قلت : و كيف تفعلون شيئا لم يفعله رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ قال هو و الله خير فلم يزل أبو بكر يراجعني حتى شرح الله صدري للذي شرح له صدر أبي بكر و عمر قال فتتبعت القرآن اجمعه من الرقاع و العسب و صدور الرجال حتى وجدت آخر سورة التوبة مع أبي خزيمة
و في رواية أبي الوليد مع خزيمة أو أبي خزيمة الأنصاري :
لم أجدها مع أحد غيره
{ لقد جاءكم رسول من أنفسكم }
قال و كانت الصحف عند أبي بكر حياته حتى توفاه الله عز و جل ثم عند عمر حياته حتى توفاه الله عز و جل ثم عند حفصة بنت عمر أم المؤمنين انتهى حديث الأشيب
و زاد أبو الوليد في روايته قال إبراهيم بن سعد حدثني ابن شهاب عن أنس بن مالك :
أن حذيفة قدم على عثمان بن عفان و كان يغازي أهل الشام مع أهل العراق في فتح أرمينية و آذربيجان فأفزع حذيفة اختلافهم في القراءة فقال لعثمان يا أمير المؤمنين أدرك هذه الأمة قبل أن يختلفوا في الكتاب كما اختلفت اليهود و النصارى فبعثت عثمان إلى حفصة : أن أرسلي المصحف أو قال الصحف نسخها في المصاحف ثم نردها إليك فبعث بها إليه فدعا زيد بن ثابت فأمره و أمر عبد الله بن الزبير و سعيد بن العاص
و قال غير أبي الوليد و عبد الرحمن بن الحارث بن هشام
و أمرهم أن ينسخوا الصحف في المصاحف و قال لهم : ما اختلفتم أنتم و زيد بن ثابت في شيء فاكتبوه بلسان قريش فإنما نزل بلسانهم
فكتبت الصحف في المصاحف فبعث إلى كل أفق بمصحف و أمر بما سوى ذلك من القرآن في كل صحيفة أو مصحف أن يمحى أو يحرف
قال ابن شهاب و أخبرني خارجة بن زيد أنه سمع زيد بن ثابت يقول : فقدت آية من سورة الأحزاب حين نسخت الصحف كنا نسمع رسول الله صلى الله عليه و سلم يقرأها فالتمستها فوجدتها مع خزيمة بن ثابت الأنصاري :
{ من المؤمنين رجال صدقوا ما عاهدوا الله عليه }
فالحقتها به في سورتها في المصحف
قال ابن شهاب فاختلفوا يومئذ في التابوت فقال زيد بن ثابت التابوه و قال ابن الزبير و سعيد بن العاص التابوت فرفع كلامهم إلى عثمان فقال اكتبوه التابوت
رواه البخاري في الصحيح عن موسى بن اسمعيل عن إبراهيم بن سعد دون قول ابن شهاب قال البيهقي رحمه الله و تأليف القرآن على عهد النبي صلى الله عليه و سلم
روينا عن زيد بن ثابت أنه قال :
كنا عند رسول الله صلى الله عليه و سلم نؤلف القرآن من الرقاع
و إنما أراد ـ و الله تعالى أعلم ـ تأليف ما نزل من الآيات المتفرقة في سورتها و جمعها فيها بإشارة النبي صلى الله عليه و سلم ثم كانت مثبتة في الصدور مكتوبة في الرقاع و اللخف و العسب فجمعت منها في صحف بإشارة أبي بكر و عمر و غيرهما من المهاجرين و الأنصار ثم نسخ ما جمع في الصحف في مصاحف بإشارة عثمان بن عفان على ما رسم المصطفى صلى الله عليه و سلم
و روينا عن سويد بن غفلة أنه قال : قال علي بن أبي
طالب : يرحم الله عثمان ! لو كنت أنا لصنعت في المصاحف ما صنع عثمان
و قد ذكرنا في كتاب المدخل وفي آخر كتاب دلائل النبوة ما يقوي هذا الإجماع و يدل على صحته و الحمد لله على حفظ عباده كتابه و تركهم على الواضحة وفقنا لمتابعة السنة و مجانبة البدعة
ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ حافط نے کہ خبر دی ہمیں ابو الحسن علی بن محمد بن سختویہ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے بشر بن موسیٰ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے حسن بن موسیٰ اشیب نے ابراہیم بن سعدزہری سے انہوں نے ابن شہاب سے انہوں نے کہا ہمیں خبر دی ابو نصر محمد بن محمد بن علی بن مقاتل ہاشمی فروی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو محمد احمد بن عبداللہ مزنی نے کہ ہمیں خبر دی ہے ابو خلیفۃ الفضل بن حیاب نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو الولید طیالسی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابراہیم بن سعد نے انہوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابن شہاب نے عبید بن سباق سے انہوں نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے وہ فرماتے ہیں کہ : میرے پاس صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اہل یمامہ ی شہادت کے موقع پر بلاوا بھیجا۔ میں حاضر ہوا تو۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان کے پاس تشریف فرما تھے ۔ ابو بکر صدیق نے فرمایا کہ میرے پاس حضرت عمر تشریف لائے ہیں کہ یمامہ کی جنگ قتل قرا کے ساتھ بڑی شدید ہوئی ہے ( کیونکہ اس جنگ میں قرآن مجید کے ستر قاری شہید ہو گئے تھے ) جس سے مجھے یہ خطرہ پیدا ہو گیا ہے کہ اگر اسی طرح دیگر جنگوں میں بھی قراء قتل ہوتے رہے تو قرآن مجید کا بہت سارا حصہ ضائع ہو سکتا ہے ( اس لئے کہ اس وقت تک قرآن مجید پورا ضبط تحریر میں ایک کتاب کی صورت میں نہیں تھا بلکہ قراء کے سینوں میں جمع تھا پھر الگ سورتوں کی صورت میں محفوظ تھا ) عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں مناسب سمجھتا ہوں کہ آپ قرآن مجید جمع کرنے کا حکم فرمائیں گے ۔ مگر میں نے عمر سے جواباً یہ کہا ہے کہ میں اس کام کو کیسے کروں ؟ جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نہیں کیا ۔ عمر نے جواب دیا ہے کہ یہ کام اللہ کی قسم خیر ہے ( بہتر ہے ) نے ہمیشہ اور بار بار میرے ساتھ اس بات پر حضرت عمر بات چیت اور بحث و تمحیص کرتے رہے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے اس کام کے لئے میرا سینہ کھول دیا ہے لہذا اب اس بارے میں میری رائے بھی وہی ہے ۔ جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی ہے ۔ حضرت زید فرماتے ہیں ابو بکر صدیق نے فرمایا ( اے زید ) بے شک آپ جو ان آدمی ہو عقلمند ہو، ہم لوگ آپ کو تہمت بھی نہیں لگاتے ( یعنی آپ ہمارے نزدیک بدنام نہیں ہیں بلکہ با اعتماد ہیں) اور آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے آپ کے لئے وحی کی کتابت بھی کیا کرتے تھے ۔ لہذا آپ قرآن میں ڈھونڈ بھال کریں اور اسے جمع کریں ۔حضرت زید فرماتے ہیں ۔ اللہ کی قسم اگر یہ لوگ مجھے پہاڑوں میں سے کسی پہاڑ کو اپنی جگہ سے ہٹانے کی تکلیف اور ذمہ داری دیتے تو مجھ پر کوئی زیادہ بھاری نہ ہوتی اس ذمہ داری سے جس کا انہوں نے مجھے حکم دیا تھا یعنی قرآن مجید جمع کرنے کی ذمہ داری ہے۔ حضرت زید فرماتے ہیں کہ میں نے کہا آپ لوگ وہ کام کیونکر کرتے ہو جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نہیں کیا۔ ابو بکر صدیق نے فرمایا اللہ کی قسم یہ کام خیر ہے ( یعنی بہتر ہے ) چنانچہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ بار بار میرے سے مسلسل بات چیت اور بحث و تمحیص کرتے رہے ۔ حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے یرا سینہ بھی کھول دیا اس کام کے لئے جس کے لئے ابو بکر رضی اللہ عنہ اور عمررضی اللہ عنہ کا سینہ کھول دیا تھا۔ حضرت زید فرماتے ہیں کہ میں نے جستجو ڈھونڈھو بھال اور تلاش قرآن شروع کر دی ۔ میں اسے کاغذ کے ٹکڑوں سے اور کھجور کے پتوں سے اور لوگوں کے سینوں سے جمع کرتا تھا۔ حتیٰ کہ سورۃ توبہ کا آخر میں نے حضرت ابو خزیمہ کے پاس لیا۔ اور ابو الولوید کی ایک روایت میں ہے کہ حضرت خزیمہ کے ساتھ یا ابو خزیمہ انصاری کے پاس کہ نہیں پایا تھا میں نے اس کو کسی ایک کے پاس ان کے سوا یعنی یہ آیت : ( لقد جاء کم رسول من انفسکم ) یعنی خاتمہ سورۃ براۃ ، حضرت زید فرماتے ہیں کہ صحیفے ( قرآن مجید مرتب دمدون شدہ ) حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی زندگی میں ان کے پاس محفوظ تھے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو وفات دے دی۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی زندگی میں ان کے پاس محفوظ تھے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو وفات دے دی ۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی زندگی میں ان کے پاس محفوظ تھے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو وفات دے دی۔ پھر ان کے بعد الم المومنین سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تھے ۔ حدیث اشیب پوری ہوئی۔ ابو الولید نے اپنی روایت میں یہ زیادہ کیا ہے کہ ابراہیم بن سعد نے کہا مجھے حدیث بیان کی ہے ابن شہاب نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ۔ کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور وہ ارمینیہ اور آذربیجان کی فتح میں اہل عراق کے ساتھ مل کر اہل شام کے خلاف جنگ کرتے تھے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کو قراۃ میں ان کے اختلاف نے خوف زدہ کر دیا تھا۔ لہذا انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اے امیر المومنین آپ اس امت کو بچا لیجئے اس سے پہلے کہ وہکتاب اللہ میں اختلاف کریں جیسے یہود و نصاریٰ نے اختلاف کر لیا تھا۔ چنانچہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ام المومنین سیدہ حفصۃ رضی اللہ عنہ کے پاس نمائندہ بھیجا ( اور گزارش کی کہ ) آپ مصحف ( صدیق و فاروق والا قرآنی نسخہ ) میرے پاس بھیجیں یا یہ کہا کہ صحیفے بھیجے ۔ ہم انہیں مصاحف ( قرآنوں ) میں لکھ لیں گے پھر وہ ( اصل نسخہ ) آپ کے پاس واپس لوٹا دیں گے ۔ چنانچہ ام المومنین سیدہ حفصۃ نے وہ مصحف حضرت عثمان کے پاس بھیج دیا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے زید بن ثابت کو بلایا اور انہیں حکم دیا اور عبداللہ بن زبیر کو اورسعید بن عاص کو ( یہاں تک کا اضافہ تو ابو الولید کی روایت کا تھا ) اورابو الولوید کے ماسوا نے اور عبدالرحمن بن حارث بن ہشام نے کہا ہے ۔ کہ ( حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ) ان لگوں کو حکم دیا کہ ( مختلف ) صحیفوں کو مصاحف ( قرآنی نسخوں ) میں نقل کریں اور ان سے کہا کہ جس چیز میں تم لوگ اور زید بن ثابت اختلاف کرو و اس کو قریش کی لغت کے ساتھ لکھ لو سوائے اس کے کچھ نہیں کہ قرآن انہیں کی زبان کے ساتھ نازل ہوا ہے لہذا تمام صحیفے ۔ مصاحف میں لکھ لئے گئے پھر حضرت عثمان نے ( مملکت اسلامی ) کے ہر کونے میں ایک ایک مصحف بھیج دیا۔ اور باقی ماندہ مصحف یا صحیفوں اور قرآنی اوراق کے لئے یہ حکم دیا کہ یا تو انکو مٹا دیا جائے یا جلا دیا جائے ۔ ( اور راکھ پہاڑوں میں دفن کرا دی گئی ۔ ) ابن شہاب نے کہا کہ مجھے خبر دی ہے خارجہ بن زید نے کہ اس نے زید بن ثابت سے سنا وہ فرماتے تھے کہ میں نے سورۃ احزاب کی ایک آیت کم پائی جب صحیفے لکھے جا رہے تھے ۔ ہم حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنتے تھے آپ اس آیت کو پڑھتے رہتے تھے ۔ میں نے اسے تلاش کیا تو میں نے اسے خزیمہ بن ثابت انصاری کے ساتھ پا لیا ۔ وہ یہ آیت تھی ۔ ( من المومن رجال صدقوا ما عاھدو اللہ علیہ ) (الاحزاب ۲۳) لہذا میں نے اس کو قرآن میں اسی سورۃ کے ساتھ لاحق کر دیا ۔ ابن شہاب نے کہا کہ اس دن لفظ تابوت کے بارے میں اختلاف ہوا حضرت زید بن ثابت نے فرمایا لفظ ہے التابوہ اور ابن زبیر اور سعید بن عاص نے التابوت کہا ان کا اختلاف حضرت عثمان کی خدمت میں لے جایا گیا آپ نے فرمایا اس کو التابوت لکھو اس کو بخاری نے صحیح میں موسیٰ بن اسماعیل سے انہوں نے ابراہیم بن سعد سے روایت کیا ہے ۔ سوائے قول ابن شہاب کے : امام بیہقی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ قرآن مجید کی تالیف و ترتیب عہد نبوی میں ہوئی تھی اور ہم نے زید بن ثابت سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا : ( کنا عند رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) نؤلف القران من الدقاع) ہم رسول اللہ کے پاس قرآن مجید کو ( کاغذ یا چمڑے ) کے ٹکڑوں سے جمع کرتے اور ترتیب دیتے تھے ۔ سوائے اس کے نہیں ہ زید بن ثابت کی مراد ہے ۔ جمع و ترتیب متفرق آیات کی جو نازل ہو چکی تھیں ان کی سورتوں میں اور ان کو جمع کرنا سورتوں میں نبی علیہ السلام کے اشارے سے تھا۔ اس کے بعد پھر سینوں میں محفوظ تھا ( کاغذ اور چمڑے کے ) ٹکڑوں میں اور سفید پتھروں اور کھجور کے پتوں میں لکھا ہوا تھا۔ تو ان تمام چیزوں سے صحیفوں میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور ان دونوں کے سواء مہاجرین و انصار کے اشارے سے صحیفوں میں جمع کیا گیا ۔ پھر جو کچھ صحیفوں میں لکھا گیا تھا اس کو مصاحف میں جمع کیا گیا تھا ۔ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے اشارے سے مصطفٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نشان کے مطابق۔ اور ہم نے روایت کیا ہے سوید بن غفلہ سے کہ انہوں نے کہا علی بن ابی طالب نے فرمایا اللہ تعالیٰ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر رحم فرمائے اگر میں ہوتا تو میں بھی مصاحف میں وہی کچھ کرتا جو کچھ حضرت عثؐان نے کیا۔ تحقیق ہم ذکر کر چکے ہیں کتاب المدخل میں اور کتاب دلائل النبوۃ کے آخر میں ( وہ مواد ) جو اس اجماع کو تقویت دیتا ہے اور اس کی صحت پر دلالت کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ہے اس بات پر اللہ کے بندوں نے اللہ کی کتاب کی حفاظت کی اور اس نے پوری امت کو واضح راستے پر چھوڑا اور ہمیں سنت کی متابعت کی توفیق عطا فرمائی اور بدعت سے اجتناب کی توفیق دی ۔
أَبُو بَکْرٍ ← أرسل إلى أبو بكر الصديق بمقتل أهل اليمامة فإذا عمر جالس عنده ← زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ← عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← اَبُوْ خَلِیْفَۃَ الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، ← أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ ← أبو نصر محمد بن محمد بن علي بن مقاتل الهاشمي الفروي ← و، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ الزُّهْرِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى الْأَشْيَبُ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ،
Shuab ul Iman · Fourth of the people of faith › He mentioned the hadith of the Qur’an collection · Hadith 171
شعب الإيمان · الخامس من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في أن القدر خيره و شره من الله عز و جل ـ · حديث 189
189 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا أبو عبد الله محمد بن أحمد بن يعقوب المتوثي بالبصرة إملاء ثنا أبو داود هو السجستاني ثنا محمد بن يزيد الأعور قال : رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم في المنام جالسا مع عمر بن الخطاب و علي بن أبي طالب فقلت يا رسول الله حديث عبد الله بن مسعود حديث الصادق المصدوق أريد حديث القدر قال أنا و الله الذي لا إله إلا هو حدثته به ـ فأعادها ثلاثا غفر الله للأعمش ـ كما حدث به غفر الله لمن حدث به قبل الأعمش و غفر الله لمن حدث به بعد الأعمش
قال البيهقي رحمه الله و في الحديث دلالة على أن الاعتبار بما يختم عليه عمله و إنه إنما يختم بما سبق كتابه و في ذلك كله دلالة على أن الله سبحانه و تعالى يهدي من يشاء و يضل من يشاء و إن أعمال عباده مخلوقة له مكتسبة للعباد و مما دل عليه قوله عز و جل :
{ و الله خلقكم و ما تعملون }
و ما يعمله ابن آدم ليس هو الصنم و إنما هو حركاته و اكتساباته و قد حكم بأنه خلقنا و خلق ما نعمله و هو حركاتنا و اكتساباتنا
و قال : { الله خالق كل شيء }
و قال : { خلق السموات و الأرض و ما بينهما }
و أفعال الخلق بينهما و لا يتناول ذلك شيئا من صفات ذاته لأن صفات ذاته ليست بأغيار له فلا يتناولها كما لا يتناول ذاته و قال :
{ هل من خالق غير الله }
كما قال :
{ من إله غير الله }
فكما لا إله إلا هو كذلك لا خالق إلا هو و قال :
{ فمن يرد الله أن يهديه يشرح صدره للإسلام ومن يرد أن يضله يجعل صدره ضيقا حرجا كأنما يصعد في السماء كذلك يجعل الله الرجس على الذين لا يؤمنون }
و هذه الآية كما هي حجة في الهداية و الإضلال فهي حجة في خلق الهداية و الضلال لأنه قال : يشرح و يجعل و ذلك يوجب الفعل و الخلق و الآيات في هذا المعنى كثيرة و روينا عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال :
اعملوا فكل ميسر لما خلق له
و عن حذيفة بن اليمان عن النبي صلى الله عليه و سلم : إن الله خالق كل صانع و صنعته
ہمیں خبر دی ہے ابو علی روذباری نے کہ خبر دی ہے ابو عبداللہ محمد بن احمد بن یعقوب متوثی نے بصرہ میں بطور املاء کے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو داؤد سجستانی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن یزید اعور نے اس نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کو خواب میں دیکھا بیٹھے ہوئے حضرت عمر بن خطاب کے ساتھ اور علی بن ابی طالب کے ساتھ میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم عبداللہ بن مسعود کی حدیث کیا صادق و مصدوق کی حدیث ہے ؟ میں ارادہ کر رہا تھا تقدیر والی حدیث کا حضور نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے ابن مسعود کو وہ حدیث میں نے بیان کی تھی آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے ان الفاظ کا تین بار اعادہ فرمایا ۔ اللہ تعالیٰ اعمش کی مغفرت فرمائے ۔ جیسے اس نے یہ حدیث بیان کی ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ ہر اس شخص کی مغفرت کرے جس نے وہ حدیث اعمش سے پہلے بیان کی ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ ا س شخص کی بھی مغفرت کرے جس نے اعمش کے بعد یہ حدیث بیان کی ہے ۔ امام بیہقی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مذکورہ حدیث میں اس بات پر دلالت ہے کہ اس حالت کا اعبار ہوتا ہے جس پر انسان کے عمل کا خاتمہ ہوتا ہے ساتھ ساتھ اس کا کہ اس کا لکھا کس چیز کی طرف سبقت کرتا ہے اور اس سب کچھ میں اس بات پر بھی دلالت ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے ۔ اور اس کے بندوں کے اعمال اسی کے پیدا شدہ ہیں اور اسی کی مخلوق ہیں اور بندوں کے وہ کسب کردہ ہیں اور اس بات کی دلیل ہے کہ بندوں کے اعمال اللہ کی مخلوق ہیں ۔ یہ آیت ہے ( و اللہ خلقکم و ما تعملون ) ( الصافات ۹۶) اللہ نے تمہیں پیدا کیا ہے اور اس کو بھی اسی نے پیدا کیا ہے جو کچھ تم عمل کرتے ہو۔ ابن آدم جو کچھ عمل کرتا ہے وہ ضم نہیں سوائے اس کے نہیں کہ وہ اس کی حرکات ہیں اور اس کے فعل اور کسب میں یعنی بندہ ان افعال کا سبب ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے حکم فرما دیا ہے کہ اس نے ہمیں پیدا کیا ہے اور جو کچھ ہم عمل کرتے ہیں اس کو بھی پیدا کیا ہے ہمارا کام یہ ہے کہ وہ ہماری حرکات ہیں اور ہمارے اکتسابات ہیں اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ( اللہ خالق کل شیئ ) ( الزمر ۶۲) اللہ تعالیٰ ہر چیز کو پیدا کرنے والا ہے ۔ اعمال بھی شے ہیں لہذا اللہ تعالیٰ اس کا بھی خالق ہے ۔ ( مترجم ) دوسری جگہ ارشاد ہے : ( خلق السموات و الارض و ما بینھما ) ( السجدہ ۴ وغیرہ ) اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے پیدا فرمایا ہے ۔ بندو کی طرح ان کے اعمال بھی ارض و سماء کے مابین ہیں لہذا ثابت ہوا کہ ان کا خالق بھی اللہ تعالیٰ ہے ۔ یہ آیت اللہ تعالیٰ کی صفات ذات میں سے کسی شے کو شامل نہیں ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات ذات اس کے غیر نہیں ہیں لہذا آیت ان کو شامل نہیں ہے ۔ جیسے اللہ تعالیٰ کی ذات کو شامل نہیں ہے ۔ اور ارشاد ہے : ( ھل من خالق غیر اللہ ) ( فاطر ۳) کیا اللہ کے سوا اور کوئی خالق ہے ۔ اور جیسے یہ ارشاد ہے : ( من الہ غیر اللہ ) ( قصص ۷۱-۷۲) کون ہے معبود اللہ کے سوا ۔ جیسے اللہ کے سوا کوئی اور معبود نہیں ایسے ہی اس کے سوا کوئی خالق بھی نہیں ہے ۔ اور ارشاد ہے : ( فمن یرداللہ ان یھدیہ یشرح صدرہ للاسلام ، و من یردان یضلہ یجعل صدرہ ضیقا حرجا کانما یصعد فی السمآء کذالک یجعل اللہ الرجس علی الذین لا یؤمنون ) ( انعام ۱۲۵) تو جس شخص کو اللہ چاہتا ہے کہ ہدایت بخشے اس کا سینہ اسلام کے لئے کھول دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے گمراہ تو اس کا سینہ تنگ اور گھٹا ہوا کر دیتا ہے ۔ گویا وہ آسمان پر چڑھ رہ ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ ان لوگوں پر جو ایمان نہیں لائے عذاب بھیجتا ہے ۔ یہ مذکورہ آیت جس طرح ہدایت اور ضلالت کے بارے میں حجت ہے ایسی ہی ہدایت اور ضلالت کی تخلیق کے بارے میں بھی حجت ہے ۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : یشرح سینہ کھولتا ہے ۔ یجعل بناتا ہے پیدا کرتا ہے ، یہ الفاظ فعل کو اور خلق کو بھی پیدا کرنے کو لازم کرتے ہیں ۔ اور اس کے علاوہ اس مفہوم میں آیات قرآنیہ کثیر ہیں ۔ اور ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : ( اعملوا فکل میسر لما خلق لہ ) عمل کرو ہر انسان کے لئے وہ اعمال آسان کر دیئے جاتے ہیں جن کے لئے وہ پیدا کیا گیا ہے ۔ اور حذیفہ بن یمان کی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : ( ان اللہ خالق کل صانع و صنعتہ ) اللہ تعالیٰ ہر صانع کا خالق ہے اور اس کی صنعت کا بھی ۔
مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْأَعْوَرُ، ← أبو داود هو السجستاني ← أبو عبد الله محمد بن أحمد بن يعقوب المتوثي بالبصرة إملاء ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ
Shuab ul Iman · Fifth from the people of faith › And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty · Hadith 189
شعب الإيمان · الخامس من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في أن القدر خيره و شره من الله عز و جل ـ · حديث 191
191 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا أحمد بن يحيى الحلواني ثنا علي بن حكيم الأودي أنا شريك عن يحيى ابن سعيد و عاصم عن القاسم عن عائشة رضي الله عنه قالت : فقدت النبي صلى الله عليه و سلم فاتبعته فانتهى إلى المقابر فقال السلام عليكم ديار قوم مؤمنين أنتم فرط لنا ثم التفت إلي فقال ويحها ! لو استطاعت ما فعلت و هذا يدل على ما قلنا في الاستطاعة لأنه نفى عنها الاستطاعة في المكث دون اتباع
فإن قيل : يقولون إن الله كلف العبد ما لا يطيقه إلا به و هذا معنى قول المسلمين لا حول و لا قوة إلا بالله و لذلك أمر الله عباده أن يقولوا :
{ إياك نعبد و إياك نستعين }
و لا تكون عبادة العبد إلا بمعونة الرب و قوله :
{ لا يكلف الله نفسا إلا وسعها }
فمعناه إلا ما يحل لها أو لا تعجز عن فعله بزمانه أو غيرها أو أراد لا يكلف الله نفسا مؤمنة إلا وسعها لأنها نزلت في العفو عن المؤاخذة بحديث النفس و قد قال فيما علمنا :
{ ربنا ولا تحملنا ما لا طاقة لنا به }
و لولا جواز ذلك لما عملنا هذه المسألة و إذا جاز تكليف ما قد علم أنه لا يكون فقد جاز تكليف ما لا يوفق له و لا يعان عليه
فإن قيل : أفتقولون إن في مقدور الله لطفا لو فعله بالكافر لآمن ؟
قيل : نعم و ذلك اللطف هو القدرة التي بها يفعل الطاعة و هو ضد ما فعله بالكافر قال الله عز و جل :
{ و لو شئنا لآتينا كل نفس هداها }
قال : { ولو شاء الله لجعلكم أمة واحدة ولكن يضل من يشاء ويهدي من يشاء ولتسألن عما كنتم تعملون }
و قال : { ولولا فضل الله عليكم ورحمته لاتبعتم الشيطان إلا قليلا }
و الآيات في هذا المعنى كثيرة و كذلك الأخبار و لا يجب على الله ذلك و هو متفضل في فعله : إن شاء فعل و إن شاء ترك و من زعم أنه سوى بين الكافر في النظر بطل قوله بنفسين : أمات أحدهما قبل البلوغ و أمات الآخر بالغا كافرا مع علمه بأنه لو بلغ كان كافرا و نفسين أمات أحدهما مؤمنا و أبقى الآخر سنة أخرى حتى كفر مع علمه بأنه يكفر و الكلام في هذا يكثر
ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے کہ خبر دی ہے احمد بن عبید صفار نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے احمد بن یحیٰ حلوانی نے کہ ہمیں میں حدیث بیان کی ہے علی بن حکیم اودی نے کہ خبر دی ہے شریک بن یحییٰ بن سعید سے اور عاصم نے قام سے انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے وہ فرماتی ہیں کہ : میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کو گھر میں نہ پایا تو میں آپ کے پیچھے پیچھے چلی گئی چنانچہ آپ قبرستان جا پہنچے اور جا کر کہا تم پر سلامتی ہو اہل ایمان کے گھرو تم ہم سب کے لئے پیش رو ہو۔ پھر آپ نے میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : اوہو اور اگر استطاعت رکھتی تو یہ کام نہ کرتی ۔ یہ حدیث اس پر دلالت کرتی ہے جو ہم نے استطاعت کے بارے میں کہا ہے کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے سیدہ عائشہ سے استطاعت کی نفی ی تھی ٹھہرے رہنے کے لئے پیچھے چلنے سے نہیں ۔ اعتراض نہم اگر یہ کہا جائے کہ کہتے ہیں بے شک اللہ نے بندے کو اس چیز کی تکلیف دی ہے جس کی طاقت وہ اللہ کی توفیق کے بغیر نہیں رکھتا ۔ مسلمانوں کے اس قول کا مطلب یہی ہے ۔ لا حول ولا قوۃ الا باللہ کہ گناہوں سے بچنے اور نیکی کرنے کی طاقت اللہ کی توفیق کے بغیر نہیں ہوتی ۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو حکم دیا ہے کہ وہ یہ کہیں : ایاک نعبدو ایاک نستعین ) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں ۔ بندے کی عبادت بھی رب کی معاونت کے بغیر نہیں ہوتی ۔ اور اللہ تعالیٰ یہ قول : ( لا یکلف اللہ نفسا الا وسعھا ) ( بقرہ ۲۸۶) اللہ تعالیٰ کسی نفس کو تلیف نہیں دیتا مگر اس کی طاقت کے مطابق۔ اس کا مطلب ہے کہ اس چیز کی تکلیف دیتا ہے جو اس کے لئے حلال ہو۔ یا جس کے اس کے وقت وغیرہ پر کرنے سے وہ عاجز نہ ہو۔ یا یہ ارادہ کیا ہے کہ ایمان والے نفس کو نہیں تکلیف دیتا مگر اس کی طاقت کے مطابق اس لئے کہ یہ آیت مواخذ سے عفو و درگزر کے تحت نازل ہوئی ہے ۔ تحقیق اللہ تعالیٰ نے جو ہم چاہتے ہیں اس کے بارے میں فرمایا ہے : ( ربنا ولا تحملنا مالا طاقۃ لنا بہ ) اے ہمارے رب ہم سے وہ بوجھ نہ اٹھوا جس کی ہمیں کوئی طاقت نہیں ہے ۔ اگر اس کا جواز ہوتا تو ہم اس سوال و دعا کو نہ جانتے جب اس چیز کی تکلیف جائز ہے جو چیز معلوم ہے کہ وہ نہیں ہو گی تو اس چیز کی تکلیف بھی جائز ہے جس کی توفیق نہیں دی گئی اور اس پر معاونت بھی نہیں کی گئی ۔ اعتراض دہم : اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ کیا تم لوگ یہ کہتے ہو کہ اللہ کی قدرت میں ایسا لطف اور مہربانی بھی ہے کہ اگر اسے وہ کافر کے ساتھ کرے تو وہ مسلمان ہو جائے ؟ جوابا کہا جائے گا کہ جی ہاں وہ لطف وہی قدرت ہے ۔ جس کے ساتھ اطاعت انجام پاتی ہے اور وہ مقابل ہے اور ضد ہے اس کی جس کو کافر کے ساتھ کرتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ( ولو شئنا لا تینا کل نفس ھداھا ) ( السجدہ ۱۳) اگر ہم چاہتے تو ہر شخص کو ہدایت دے دیتے ۔ اور ارشاد فرمایا: ( ولو شاء اللہ لجعلکم امۃ و احدۃ ولکن یضل من یشاء و یھدی من یشاء ولتسئلن عما کنتم تعملون ) ( النحل ۹۳) اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو تم لوگوں کو ایک ہی جماعت بنا دیتا لیکن وہ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے ۔ اور جو عمل تم کرتے ہو ( اس دن ) ان کے بارے میں ضرور پوچھا جائے گا۔ اور ارشاد ہے : ( ولو لا فضل اللہ علیکم و رحمتہ لا تبعتم الشیطان الا قلیلا ) ( النساء ۸۳) اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی مہربانی نہ ہوتی تو چند اشخاص کے سوا سب کے سب شیطان کے پیروگار ہو جاتے ۔ اس مفہوم کی آیات بہت ہیں ۔ اسی طرح اس مفہوم کی احادیث بھی بہت ہیں ۔ یہ لطف یہ مہربانی یہ ہدایت عطا کرنا یہ رحمت کرنا اور اللہ تعالیٰ پر واجب نہیں ہے ۔ بلکہ وہ اپنے اس فعل میں متفصل اور عنایت و مہربانی کرنے والا ہے اگر چاہے تو کرے اور نہ چاہے تو ترک کر دے اور جس شخص نے یہ خیال کیا ہے کہ اس نے برابری کی ہے درمیان کافر کے عنایت اور نظر میں وہ طابط ہے اس کا قول دو شخصوں کی مثال کے ساتھ ۔ کہ دونوں میں سے ایک کو اس نے وفات دی تھی بالغ ہونے سے پہلے اور دوسرے کو وفات دی تھی اس حال میں کہ وہ بالغ تھا اور کافر تھا باوجود یہ کہ اللہ تعالیٰ جانتا تھا کہ اگر وہ بالغ ہوگا تو کافر ہوگا۔ اور ان شخصوں کی مثال کے ساتھ اس کا قول باطل ہے جن میں سے ایک کو اس حال میں موت دی کہ وہ مومن تھا اور دوسرے کو ایک سال تک مزید زندہ رکھا یہاں تک کہ وہ کافر ہو گیا باوجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ جانتا تھا کہ وہ کافر ہو جائے گا اور اس سلسلہ میں کلام کثیر ہے ۔
فقدت النبي صلى الله عليه و سلم فاتبعته فانتهى إلى المقابر ← عَائِشَةَ ← الْقَاسِمِ، ← يحيى ابن سعيد و عاصم ← شَرِيکٍ ← عَلِيُّ بْنُ حَکِيمٍ الْأَوْدِيُّ ← أَحْمَدَ بْنِ يَحْيَى الْحُلْوَانِيِّ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ
Shuab ul Iman · Fifth from the people of faith › And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty · Hadith 191
شعب الإيمان · الخامس من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في أن القدر خيره و شره من الله عز و جل ـ · حديث 192
192 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا الحسن بن محمد بن إسحاق قال سمعت أبا عثمان الخياط يقول سمعت ذا النون يقول : ثلاثة من علامات التوفيق : الوقوع في أعمال البر بلا استعداد له و السلامة من الذنب مع الميل إليه و قلة الهرب منه و استخراج الدعاء و الابتهال و ثلاثة من علامات الخذلان : الوقوع في الذنب مع الهرب منه و الامتناع من الخير مع الاستعداد له و انغلاق باب الدعاء و التضرع
قال البيهقي رحمه الله و قد روينا في هذه المسائل ما جاء في الأخبار و الآثار في كتاب القدر و أجبنا عما يحتجون به من الآيات و الأخبار و اقتصرنا على ما نقلنا في هذا الكتاب نحو الاختصار و بالله التوفيق
و مما يحق معرفته في هذا الباب أن الله عز و جل لا يجب عليه شيء و لا علة لصنعه و لا يقال لم فعل لأنه لو كان لفعله علة فإن كانت قديمة اقتضت قدم معلولها و ذلك محال و إن كانت حادثة كانت لها علة أخرى و لتلك العلة علة أخرى حتى تؤدي إلى ما لا يتناهى و ذلك محال و إن استغنت العلة عن العلة استغنى الحوادث عن العلة و ذلك محال فدل أن ربنا جل و عز فعال لما يريد لا علة لفعله و لا معقب لحكمه و أنه علم في الأزل ما يكون من الحوادث بخلقه فقدره على ما لم يزل عالما به ثم خلقه على ما قدره فلا تبديل لحكمه ولا مرد لقضائه و في الإيمان به وجوب التبري من الحول و القوة إلا إليه و الاستسلام للقضاء و القدر بالقلب و اللسان
أما بقلب بأن لا ينظر و لا يباشر مما يجري به القضاء مما يوافقه و لا يأسف و لا يحزن لما يأتي به القضاء مما لا يوافقه
و أما باللسان فهو أن لا يفتخر بما يعجبه على غيره و لا ينسب ذلك إلى سبب يكون مرجعه إلى نفسه و لا يتضجر مما يسوءه فعل من يشكو أحدا أو ينسبه إلى ظلم أصابه من قبله لكن يضيف الأمرين إلى الله جل ثناؤه و ينسبهما إلى فضله و قدره و يذعن و يستسلم لما يكرهه و يحمد الله على ما يسره
قال البيهقي رحمه الله و قد روينا أحاديث و حكايات في الترغيب في الاستسلام للقضاء و القدر و التبري من الحول و القوة من ذلك
ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے کہ ہمیں خبر دی ہے حسن بن محمد بن اسحٰق نے انہوں نے کہا میں نے سنا ابو عثمان خیاط سے کہتے ہیں میں نے سنا ذوالنون ( مصری) سے کہتے ہیں توفیق ملنے کی تین علامات ہیں : 1۔ نیک اعمال میں لگنا بغیر اس کی استعداد کے ۔ 2۔ گناہ سے سلامت رہنا اس کی طرف میلان کے باوجود اور اس سے بچنے کی کم تدبیر کے باوجود، 3۔ دعا کرنا اور دعا میں اللہ کے آگے عاجزی و انکساری کرنا۔ اور تین علامات ہیں توفیق سے محروم کرنے کی ۔ 1۔ گناہوں سے دور بھاگنے کے باوجود ان میں واقع ہونا، 2۔ چیز کی استعداد کے باوجود خیر سے رکنا اور باز رہنا ۔ 3۔ دعا کرنے اور اللہ کے آگے عجز و نیاز کرنے کا دروازہ بند ہونا۔ امام بیہقی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ ہم نے کتاب القدر میں وہ اخبار و آثار روایت کئے ہیں جو ان مسائل کے بارے میں آئی ہیں ۔ اور ہم نے ان آیات و اخبار کے بارے میں جواب دیئے ہیں جن سے استدلال کرتے ہیں اور اس کتاب میں ہم نے اختصار سے کام لیتے ہوئے اسی پر اکتفا کیا ہے جن کو ہم نے نقل کیا ہے ۔ اس باب میں جس چیز کی معفت لازم ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پر کوئی چیز لازم نہیں ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ کی صنعت اور فعل کے لئے کوئی علت نہیں ہے اور نہ ہی یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس نے کیوں کیا ؟ اس لئے کہ اگر اس کے کسی فعل کی علت ہو تو وہ دو حال سے خالی نہ ہو گی یا تو وہ قدیم ہو گی یا حادث ہو گی ۔ اگر علت قدیم ہو تو وہ اس بات کو تقاضا کرے گی کہ پھر اس کا معلول بھی قیم ہو اور یہ محال ہے اور اگر علت حادث ہو تو پھر اس کی کوئی اور علت ہو گی پھر اس اور کی بھی کوئی علت اور ہو گی یہاں تک کہ یہ علت در علت کا لا متناہی سلسلہ یعنی نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جائے گا یہ بھی محال ہے ۔ اور اگر علت دوسری علت سے مستغنی ہو تو حوادث کا علت سے مستغنی ہونا لازم آئے گا اور یہ بھی محال ہے ۔ تو یہ ساری تقریر اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ہمارا رب جل جلالہ فعال لما یرید ہے جو چاہتا ہے کر ڈالتا ہے اس کے کسی فعل کی کوئی علت نہیں ہے ۔ اس کے فیصلہ کی کوئی باز پرس کرنے والا نہیں ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ ازل میں ان حوادث کو جانتا تھا جو اس کی مخلوق کے ساتھ پیش آئیں گے ۔ پھر اس نے اس کی تقدیر مقرر کی جس چیز کو وہ ازل میں جانتا تھا پھر اس نے اپنی مخلوق کو اسی اندازے پر پیدا کیا جو مقدر کیا تھا۔ لہذا اس کے حکم کے لئے کوئی تبدیلی نہیں ہے اور اس کے فیصلے کے لئے رد ہونا نہیں ہے اور اس کے ساتھ ایمان لانے میں واجب ہے بیزار ہونا ( غیر اللہ سے ) گناہوں سے بچنے اور نیکی کرنے کی طاقت مانگنے سے مگر صرف اللہ سے اور واجب ہے دل و زبان سے تسلیم کرنا اس کی قضا اور تقدیر کو۔ بہر حال قضاء و قدر آگے گردن جھکا دینا دل کے ساتھ بایں صورت ہوگا کہ تقدیر جن کاموں میں انسان کی موافقت میں جاری ہو جائے خوش ہو کر اس میں غور و فکر نہ کرے اور قضاء قدر کے ناموافق فیصلوں سے نہ ہی افسردہ ہو نہ ہی غمگین ہو۔ اور زبان کے ساتھ قضاء قدر کے تابع ہونا یہ ہے کہ جو چیز اسے اچھی لگے اس کے ساتھ اس پر فخر نہ کرے جو اسے اچھی نہ لگے اور پسندیدہ چیز کو کسی ایسے سبب کی طرف منسوب نہ کرے جس کا تعلق انسان کی ذات سے ہو اور تقدیر کا جو فیصلہ اس کو اچھا نہ لگے اس پر زیادہ غمگین نہ ہو اور اس کا کسی ایسے سے شکوہ نہ کرے اور یہ بھی نہ کہے کہ یہ اس پر تقدیر کا عمل ہے بلکہ دونوں امور کی نسبت اللہ کی طرف کرے اور اس کے فضل کی طرف اور اس کی تقدیر کی طرف کرے اور یقین لائے اور قضاء و قدر کے آگے مطیع ہو جائے اور گردن جھکا لے اس چیز میں بھی جو اسے مکروہ یا نا پسند ہو یا جو اسے مجبور کر دے اور اللہ کی طرف سے اس کو آسان کرنے پر اللہ کا شکر ادا کرے ۔ امام بیہقی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ ہم قضاء و ادر کے اگے سر تسلیم خم کرنے کی ترغیب کی بابت اور نیکی اور بدی کرنے کی ذات طاقت سے اظہار برات کی بابت کئی احادیث اور کئی حکایات نقل کی ہیں ۔
ذَا النُّونِ، ← أبا عثمان الخياط ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · Fifth from the people of faith › And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty · Hadith 192
شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حشر الناس بعد ما يبعثون من قبورهم إلى الموقف الذي بين لهم من الأرض ـ · حديث 274
274 - قال و أنا ابن أبي الدنيا ثنا سعدويه عن مبارك بن فضالة عن الحسن يقول : إن الله لا يجازي عبده بذنوبه و الله ما جازى الله عبدا قط بالخير و الشر إلا هلك و لكن الله إذا أراد بعبد خيرا أضعف له الحسنات و ألقى عنه السيئات
قال الحليمي رحمه الله و إذا كان من المؤمنين من يكون أدنى إلى رحمة الله فيدخله الجنة بغير حساب فليس ببعيد أن يكون من الكفار من هو أدنى إلى سخط الله فيدخله النار بغير حساب
قال البيهقي رحمه الله و قد قال الله عز و جل :
{ و لا يسأل عن ذنوبهم المجرمون }
و قال : { فإذا انشقت السماء فكانت وردة كالدهان }
{ فيومئذ لا يسأل عن ذنبه إنس و لا جان }
{ يعرف المجرمون بسيماهم فيؤخذ بالنواصي و الأقدام }
و قال : { احشروا الذين ظلموا وأزواجهم وما كانوا يعبدون * من دون الله فاهدوهم إلى صراط الجحيم * وقفوهم إنهم مسؤولون }
{ فوربك لنسألنهم أجمعين * عما كانوا يعملون }
و لا اختلاف بين هذه الآيات و وجه الجمع بينها ما روينا عن علي بن أبي طلحة عن ابن عباس أنه قال لا يسألهم عن عملهم كذا و كذا لأنه أعلم بذلك منهم و لكن يقول عملتم كذا و كذا
و روينا عن الكلبي عن أبي صالح عن ابن عباس في قوله :
{ و لا يسأل عن ذنوبهم المجرمون }
يقول لا يسأل كافر عن ذنبه كل كافر معروف بسيماه و في قوله :
{ فيومئذ لا يسأل عن ذنبه إنس و لا جان }
يعني يوم تشقق السماء و تكور لا يسأل عن ذنبه إنس و لا جان و ذلك عند الفراغ من الحساب و كل معروف يعرف المجرمون بسيماهم أما الكافر فبسود وجهه و زرقة عينيه و أما المؤمن فاغر محجل من أثر الوضوء
فرمایا کہ خبر دی ہے ابن ابی دنیا نے کہ ہمیں حدیث بتائی ہے سعدویہ نے ابن مبارک بن فضالہ سے ، انہوں نے حسن سے، وہ کہتے تھے کہ: اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اس کے گناہ کی جزا نہیں دیتے، اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ نے ہر گز کسی بندے کو خیر اور شر کی جزا ء اور بدلہ نہیں دیا مگر وہ ہلاک ہو گیا لیکن جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کی نیکیاں دوگنی کر دیتے ہیں اور اس کی غلطیاں اس سے ساقط کر دیتے ہیں۔ شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ کا ارشاد: شیخ حلمی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ اہل ایمان میں سے جو شخص اللہ کی رحمت سے قریب تر ہو گا اس کو بغیر حساب کتاب کے جنت میں داخل کر دیں گے اور کچھ بعید نہیں ہے کہ کفار میں سے بھی کوئی شخص اللہ کی ناراضگی کے قریب تر ہو لہذا اس کو بھی بغیر حساب کے جہنم میں داخل کر دیں۔ امام بیہقی کا قول: امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "ولا یسئل عن ذنوبھم المجرمون" (القصص 78) کہ مجرم اپنے گناہوں کی بابت نہیں پوچھے جائیں گے۔ (یعنی ان سے ان کے گناہوں کے بارے میں سوال نہیں ہو گا)۔ اور دوسری آیت میں ارشاد ہے: 1۔۔۔ فاذانشقت اسماء فکانت وردۃ کالدھان (الرحمٰن 37) جب آسمان پھٹ پڑے گا اور رنگے ہوئے چمڑی کی طرح سرخ ہو جائے گا۔ 2۔۔۔ فیومئذ لا یسئل عن ذبنہ ان ولا جان" (الرحمٰن 39) اس دن کوئی انسان اور نہ کوئی جن سے اس کے گناہوں کے بارے میں سوال نہیں کیا جائے گا۔ 3۔۔۔ یعرف المجرمون بسیماھم فیؤخذ بالنواصی والاقدام " (الرحمٰن 41) مجرم اپنی اپنی نشانیوں سے پہچانے جائیں گے، لہذا اپنی پیشانیوں اور قدموں سے پکڑے (اور گھسیٹے جائیں گے)۔ ان مذکورہ تینوں آیات کا ظاہر مفہوم یہی ہے کہ قیامت میں گناہگاروں سے ان کے گناہوں کے بارے میں سوال و جواب نہیں کیا جائےگا۔ یعنی حساب و کتاب نہیں ہو گا بلکہ ان کی پیشانیوں سے پہچان کر ان کو پیشانیوں اور قدموں سے گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ جبکہ آنے والی چند آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ سب کا حساب ہو گا، پوچھ گچھ ہو گی۔ (مترجم) اور ارشاد باری تعالیٰ ہے: 1۔۔۔ احشرو الذین ظلمو اوازواجھم وما کانو ا یعبدون من دون اللہ فاھد وھم الیٰ صراط الجحیم وقفو ھم انھم مسئولون (الصافات 22-24) جمع کرو ظالموں (گناہگاروں ) کو اور ان کے ہم جنسوں کو اور (اللہ کے سوا) جن کی وہ عبادت کرتے تھے پھر ان کو جہنم کے راستے پر روانہ کردو۔ اور ہاں روک لو ان کو بے شک ان سےسوال و جواب ہو گا۔ 2۔۔۔فورب لتسئلنھم اجمعین عما کانو ا یعملون (الحجر 92-93) پس قسم ہے تیرے رب کی ، ہم ان سب سے ضرور پوچھیں گے اس کے بارے میں جو کچھ وہ عمل کرتے تھے۔ ان آیات میں واضح طور پر موجود ہے کہ گناہگاروں سے ضرور پوچھا جائے گا بلکہ کلام میں زور اور تاکید کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے اس بات پر قسم بھی کھائی ہے کہ ضرور سوال ہو گا۔ سورۃ قصص اور سورۃ رحمٰن کی مذکورہ آیات سے سوال و جواب کی نفی ثابت ہو رہی ہے اور صافات اور حجر کی آیات سے اثبات ہو رہا ہے۔ بظاہر آیات کےمفہوم میں تضاد اور اختلاف ہے، جبکہ قرآن نے واضح طورپر اس بات کومسترد کر دیا ہے سورۃ النساء میں کہ : "لوکان من عند غیر اللہ لوجد و ا فیہ اختلافاً کثیرا" اگر قرآن غیر اللہ کی طرف سے ہوتا تو اس میں بہت اختلاف ہوتا۔ یعنی اس میں کوئی اختلاف و تضاد نہیں ہے۔ لہذا امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے یہ آیات نقل کرنے کے بعد ان میں تطبیق یعنی باہم مطابق ہونا بیان فرمایا ہے اور ظاہر تضاد کو رفع فرمایا ہے۔(مترجم) فرماتے ہیں کہ : ان آیات میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ ان آیات کے مفہوم میں جمع وتطبیق کی صورت وہ ہے جو ہم نے روایت نقل کی ہے علی بن ابی طلحہ سے۔ انہوں نے ابن عباس سے کہ انہوں نے فرمایا تھا کہ (جن آیات میں سوال نہ کیا جانا مذکور ہے ان سے مراد یہ ہے کہ ) اللہ تعالیٰ ان سے ان کے گناہوں کے بارے میں یہ نہیں پوچھے گا کہ وہ کیا کیا تھے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کے گناہوں کی تفصیل ان سے بھی زیادہ جانتا ہےبلکہ ان سے پوچھنے کی بجائے ان سے کہے گا کہ تم نے ایسے ایسے گناہ کئے تھے (لہذا تمہیں پیشانی اور قدموں سے پکڑ کر جہنم میں ڈالا جائے گا)۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایک اور روایت: ہم نے کلبی سے ابی صالح سے حضرت ابن عباس کی روایت اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں نقل کی ہے: "ولا یسئل عن ذنوبھم المجرمون (قصص 78) کہ مجرم اپنے جرائم کے بارے میں نہیں پوچھےجائیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کافروں سے ان کے گناہ کے بارے میں سوال نہیں ہو گا بلکہ ہر کافر اپنی خاص علامات سے پہچانا ہوا ہو گااور معروف ہو گا کہ یہ کافر ہے۔ اس پہچان کی بناء پر اس کے لئے جہنم میں داخل ہو گا۔ جرم کی تفصیل پوچھنے کی ضرورت نہ ہو گی۔ (مترجم) یعنی اس روایت کے مطابق ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بقول یہ آیت کافروں پر محمول ہے۔ اور سورۃ الرحمٰن کی آیت: "فیومئذ لا یسئل عن ذنبہ انس ولا جان" (الرحمٰن 39) کہ اپنے گناہ کے بارے میں کسی جن و انس سے سوال نہیں ہو گا۔ یعنی جس دن آسمان پھٹ جائےگا اور لپیٹ دیا جائے گا اس دن کسی جن وانس سےاس کے گناہ کے بارے میں نہیں پوچھا جائے گا اور یہ عمل حساب و کتاب سے فارغ ہو جانے کے بعد ہو گا۔ علاوہ ازیں ہر ایک مصروف بھی ہو گا۔ لہذا مجرم اپنی اپنی نشانیوں سے پہچانے جائیں گے ۔ کافر اپنے چہرے کی سیاہی سے اور آنکھوں کے نیل گوں ہونے سے اور مؤمن وضو کے اثر سے ہاتھوں اور چہرے کے روشن ہونے سے۔
Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground · Hadith 274
شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حشر الناس بعد ما يبعثون من قبورهم إلى الموقف الذي بين لهم من الأرض ـ · حديث 277
277 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا عبد الرحمن بن الحسن القاضي ثنا إبراهيم بن الحسين ثنا آدم ثنا ورقاء عن ابن أبي نجيح عن مجاهد : في قوله :
{ فيومئذ لا يسأل عن ذنبه إنس و لا جان }
قال يقول لا تسأل الملائكة عن المجرم إنسا و لا جانا يقول يعرفون بسيماهم
قال البيهقي رحمه الله : من زعم أن الكافرين غير مخاطبين بشرائع الإسلام زعم أنهم لا يسألون عما يعلمون مما كانت مللهم تقتضيه و إن كان في الإسلام ذنبا و يسألون عن الله و عن رسله صلوات الله عليهم و عن الإيمان في الجملة و ما نقلناه عن أهل التفسير أصح و الله أعلم
ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے کہ خبر دی ہے عبدالرحمٰن بن حسن قاضی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابراہیم بن حسین نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے آدم نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ورقاء نے ابن ابی نجیح سے، انہوں نے مجاہد سے اس آیت کے بارے میں کہ کوئی جن وانس اپنے گناہ کے بارے میں نہیں پوچھا جائے گا۔ مجاہد نے کہا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ فرشتے مجرم کے بارے میں سوال نہیں کریں گے، نہ کسی انسان سے اور نہ ہی کسی جن سے، بلکہ ان کو ان کی علامتوں سے پہچانیں گے۔ یعنی مجاہد کے بقول عدم سوال کا تعلق فرشتوں کےساتھ ہے۔ (مترجم) امام بیہقی ؒ کا قول: امام بیہقی فرماتے ہیں کہ جس نے یہ گمان کیا ہے کہ کفار اسلامی شرائع کے مخاطب نہیں ہیں۔ اس نے یہ بھی گمان کیا ہے کہ وہ ان امور کے بارے میں نہیں پوچھے جائیں گے جو کچھ وہ جانتے ہیں۔ ان کی ملتیں جس امر کو تقاضا کرتی ہیں اگر چہ وہ امور اسلام میں گناہ ہوں، ہاں البتہ وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں اور اس کے رسولوں کے بارے میں اور فی الجملہ ایمان کے بارے میں پوچھے جائیں گے اور ہم نے اہل تفسیر سے جو کچھ نقل کیا ہے وہ زیادہ صحیح ہے۔ واللہ اعلم۔ فصل۔۔۔ اعمال کا وزن کرنا: جب حساب و کتاب کا مرحلہ گذر چکے گا تو اس کے بعد اعمال وزن کئے جائیں گے اور یک خاص ترازو میں تولے جائیں گے ۔ یہ وزن اجر اور جزا دینے کے لئے ضروری ہے۔ اس لئے مناسب یہی ہے کہ یہ وزن کامعاملہ محاسبہ کے بعد ہو کیونکہ حساب تو اعمال ثابت کرنے کے لئے ہے اور وزن ان کی مقداریں واضع کرنے کے لئے تا کہ اجر و ثواب اسی اندازے اور مقدار کے مطابق دیا جائے۔ وزن اعمال کا اثبات قرآ ن مجید سے: ارشا د باری تعالیٰ ہے: "(1)۔۔ ونضع الموازین القسط لیوم القیمۃ فلا تظلم نفس شیئاً (الانبیاء 47) ہم قیامت کے دن انصار کے ترازو رکھیں گے ، کسی نفس پر ذرا سا بھی ظلم نہیں کیا جائے گا۔ اعمال کا وزن کیا جانا حق ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: " (2)۔۔ والوزن یومئذ الحق (اعراف 8) قیامت کے دن اعمال کا تولنا حق اور سچ ہے۔ جس کے اعمال کا پلہ بھاری ہو ا وہ کامیاب ہو گیا ۔ "(3)۔۔ فمن ثقلت موازینہ فالئک ھم المفلحون (اعراف 8) جن اشخاص کے اعمال کے پلڑے بھاری ہو گئے بس وہی لوگ کامیاب ہوں گے۔ جن لوگوں کے پلڑے ہلکے پڑ گئے وہ لوگ خسارے میں ہوں گے: "(4)۔۔ومن خفت موازینہ فالئک الذین خسرو ا انفسھم بما کانو ا بایا تنا یظلمون (اعراف 8-9) جن لوگوں کے پلڑے اور ترازو ہلکے ہو گئے بس وہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو خسارے میں ڈالا تھا، اس وجہ سے کہ وہ ہماری آیات کے ساتھ ظلم کرتے تھے۔ قیامت کا سائرن بجتے ہی لوگ تمام رشتے ناتے خوف کے مارے ختم کر بیٹھیں گے ارشاد باری تعالیٰ ہے: "(5)۔۔فاذا نفخ فی الصور فلا انساب بینھم یومئذ ولا یتسا ء لون" (المومنون 101) جب صور پھونکا جائے گا تو ان کے درمیان رشتے ناتے نہیں رہیں گے اور نہ ہی وہ ایک دوسرے کو پوچھیں گے۔ جن کے پلڑے اعمال کے بھاری ہو ئے وہ کامیاب ہوں گے: "(6) ۔۔ فمن ثقلت موازینہ فاولئک ھم المفلحون" (المومنون 102) جس کے (نیکیوں) کے پلڑے بھاری ہوں گے وہ کامیاب ہوں گے۔ جن کے ترازو ہلکے ہوں گے وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے "(7) ۔۔ ومن خفت موازینہ فاولئک الذین خسر وانفسھم فی جھنم خلدون (المومنون 103) جن کے (نیکیوں کے) پلڑے ہلکے ہو گئے وہی لوگ تھے۔ جنہوں نے اپنے آپ کو خسارے میں رکھا تھا، وہ جہنم میں ہمیشہ رہیں گے۔ ہلکے پلڑے والے جہنم میں جھلس جائیں گے: "(8) تلفح وجھھم النار وھم فیھا کالحزن (المومنون 104)۔ ان کے چہروں کو آگ جھلس دے گی اور وہ اس میں بد شکل بنے ہوں گے۔ اور ارشاد باری تعالیٰ ہے: " (9)۔۔ فامان ثقلت موازینہ فھو فی عیشۃ راضیۃ (القارعۃ 6/7) الی آخرہ جس کے اعمال کے وزن بھاری نکلیں گے وہ دلپسند عیش میں ہو گا۔ (10)۔۔۔ واما من خفت موازینہ فامہ ھاویہ" (9) وما ادراک ماھیۃ (10) " اور جس کے وزن ہلکے نکلیں گے اس کا ٹھکانہ ھاویہ ہے ، تم کیا سمجھے کہ ھاویہ کیا چیز ہے۔ (11)۔۔ نار حامیۃ (11) وہ دھکتی ہوئی آگ ہے۔ وزن اعمال کا اثبات حدیث سے میزان کا ذکر حدیث ایمان میں وارد ہوا ہے۔ لہذا اعمال کے وزن کے ساتھ ایمان لانا اسی طرح ضروری ہے اور لازم ہے جس طرح دوبارہ اٹھائے جانے کے ساتھ اور جنت اور جہنم کے ساتھ ضرور ی اور لازم ہے۔
Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground · Hadith 277
شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل ـ · حديث 281
281 - حدثنا الإمام أبو الطيب سهل بن محمد بن سليمان أنا أبو عبد الله محمد بن يزيد الجوزي ثنا زكريا بن يحيى البزاز ثنا زيد بن أخزم الطائي ثنا عامر بن مدرك ثنا عتبة بن يقظان عن قيس بن مسلم عن طارق بن شهاب عن عبد الله بن مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم :
ما أحسن من محسن كافر أو مسلم إلا أثابه الله عز و جل
قلنا يا رسول الله ! و ما إثابه الله الكافر ؟ قال : إن كان وصل رحما أو تصدق بصدقة أو عمل حسنة أثابه الله تعالى و إثابته إياه المال و الولد و الصحة وأشباه ذلك قال قلنا : و ما أثابته في الآخرة ؟ قال : عذاب دون العذاب و قرأ : { أدخلوا آل فرعون أشد العذاب }
قال البيهقي رحمه الله : و هذا أن ثبت ففيه الحجة و إن لم يثبت لأن في إسناده من لا يحتج به
و حديث أبي طالب صحيح و لا معنى لإنكار الحليمي رحمه الله الحديث و لا أدري كيف ذهب عنه صحة ذلك فقد روي من أوجه عن عبد الملك بن عمير و روي من وجه آخر صحيح عن أبي سعيد الخدري عن النبي صلى الله عليه و سلم بمعناه
و قد أخرجه صاحب الصحيح و غيرهما من الأئمة في كتبهم الصحاح و إنما يصح لمن ذهب المذهب الثاني في خيرات الكافر أن يقول حديث أبي طالب خاص في التخفيف عن عذابه بما صنع إلى النبي صلى الله عليه و سلم خص به أبو طالب لأجل النبي صلى الله عليه و سلم تطيبا لقلبه و ثوابا له في نفسه لا لأبي طالب فإن حسنات أبي طالب صارت بموته على كفره هباء منثورا
و مثل هذا حديث عروة بن الزبير في اعتاق أبي لهب ثويبة و إرضاعها رسول الله صلى الله عليه و سلم فلما مات أبو لهب أريه بعض أهله في النون بشر خيبة فقال له : ما لقيت ؟ فقال أبو لهب : لم نر بعدكم رجاء غير أني سقيت في هذه مني بعتاقتي ثويبة و أشار إلى النقيرة التي بين الإبهام و التي تليها
و هذا أيضا لأن الإحسان كان مرجعه إلى صاحب النبوة فلم يضيع و الله أعلم
و أما المؤمنون يحاسبون فإن أعمالهم توزن و هم فريقان : أحدهما المؤمنون المتقون لكبائر الذنوب فهؤلاء توضع حسناتهم في الكفة النيرة و و صغائرهم ـ إن كانت لهم ـ في الكفة الأخرى فلا يجعل الله لتلك الصغائر وزنا و تثقل الكفة النيرة و ترتفع الكفة الأخرى ارتفاع الفارع الخالي فيؤمر بهم إلى الجنة و يثاب كل واحد منهم على قدر حسناته و طاعاته كما تلونا في الآيات التي ذكرناها في الموازين
و الآخر : المؤمنون المخئطون : و هم الذين يوافون القيامة بالكبائر و الفواحش غير أنهم لم يشركوا بالله شيئا فحسناتهم توضع في الكفة النيرة و آثامهم و شيئاتهم في الكفة المظلمة فيكون يومئذ لكبائرهم التي جاؤوا بها ثقل و لحسناتهم ثقل إلا أن الحسنات تكون بكل حال أثقل لأن معها أصل الإيمان و ليس مع السيئات كفر و يستحيل وجود الإيمان و الكفر معا لشخص واحد و لأن الحسنات لم يرد بها إلا وجه الله تعالى و السيئات لم يقصد بها مخالفة الله و عناده بل كان تعاطيها لداعية الهوى و على خوف من الله عز و جل و إشفاق من غصبه فاستحال توازي السيئات ـ و إن كثرت ـ حسنات المؤمن و لكنها عند الوزن لا تخلوا من تثقيل و يقع بها الميزان حتى يكون ثقلها كبعض ثقل الحسنات فيجزي أمر هؤلاء على ما ورد به الكتابة جملة و دلت سنة المصطفي صلى الله عليه و سلم على تفصيلها و هو قوله عز و دل :
{ إن الله يغفر الذنوب جميعا }
و قوله : { و يغفر ما دون ذلك لمن يشاء }
فيغفر لمن يشاء بفضله و يشفع فيمن شاء منهم بإذنه و يعذب من شاء منهم بمقدار ذنبه ثم يخرجه ثم يخرجه من النار إلى الجنة برحمته كما ورد به خبر الصادق
و قد دل الكتاب على وزن أعمال المخلطين من المؤمنين و هو قوله عز و جل :
{ ونضع الموازين القسط ليوم القيامة فلا تظلم نفس شيئا وإن كان مثقال حبة من خردل أتينا بها وكفى بنا حاسبين }
و إنما أراد ـ و الله أعلم ـ أنه لا يترك له حسنة إلا توزن و هذا بالمؤمن المخلط لأنه لو تركت له حسنة لم توزن لزاد ذلك في ثقل سيئاته فأوجب ذلك زيادة في عذابه
فأما أن الوزن كيف يكون ؟ ففيه وجهان :
أحدهما أن صحف الحسنات توضع في الكفة النبيرة و صحف السيئات في الكفة المظلمة لأن الأعمال لا تنسخ في صحيفة واحدة و لا كاتبها يكون واحدا لكن الملك الذي يكون عن اليمين يكتب الحسنات و الملك الذي يكون على الشمال يكتب السيئات فيتفرد كل واحد منهما بما ينسخ فإذا جاء وقت الوزن وضعت الصحف في الموازين فيثقل الله عز و جل ما يحق تثقيله و يخفف ما يحق تخفيفه
و الوجه الآخر أن يجوز أن يحدث الله تبارك و تعالى أجساما مقدرة بعدد الحسنات و السيئات و يميز إحداهما عن الأخرى بصفات تعرف بها فتوزن كما توزن الأجسام بعضهما ببعض في الدنيا و الله أعلم و يعتبر في وزن الأعمال مواقعها من رضي الله عز و جل و سخطه
و ذهب أهل التفسير إلى إثبات هذا الميزان بكفتيه و جاء في الأخبار ما دل عليه و قد روى الكلبي عن أبي صالح عن ابن عباس أنه قال :
الميزان له لسان و كفتان يوزن فيه الحسنات و السيئات فيؤتي بالحسنات في أحسن صورة فتوضع في كفة في كفة الميزان فيثقل على السيئات قال : فيؤخذ فيوضع في الجنة عند منازله ثم يقال للمؤمن : الحق بعملك قال فينطلق إلى الجنة فيعرف منازله بعمله قال : و يؤتى بالسيئات في أقبح صورة فتوضع في كفة الميزان فتخفف ـ و الباطل خفيف ـ فيطرح في جهنم إلى منازله منها و يقال له : الحق بعملك إلى النار قال : فيأتي النار فيعرف منازله بعمله و ما أعد الله فيها من ألوان العذاب قال ابن عباس : فلهم أعرف بمنازلهم في الجنة و النار بعملهم من القوم ينصرفون يوم الجمع راجعين إلى منازلهم
ہمیں حدیث بیان کی ہے امام ابو الطیب سھل بن محمد بن سلیمان نے خبر دی ہے ابو عبداللہ محمد بن یزید جوزی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے زکریا بن یحییٰ بزاز نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے زیدن بن احزم طائی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے عامر بن مدوک نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے عقبہ بن یقضان نے قیس بن مسلم سے، انہوں نے طارق بن شھاب سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا: "مااحسن من محسن کافر اورمسلم الا اثابہ اللہ عزوجل " کوئی بھی نیکی کرنے والا جو نیکی کرتا ہے مسلم ہو یا کافر ہو اللہ تعالیٰ اس کو ثواب دیتا ہے۔ ہم نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ کا کافر کو ثواب دینا کیسا ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اگر وہ صلہ رحمی کرتا تھا یا صدقہ کرتا تھا یا کوئی نیک عمل کرتا تھا اللہ تعالیٰ اس کو ثواب دیتا ہے اور اس کو مخصوص ثواب یہ ہے کہ اس کومال دیتا ہے، اولاد دیتا ہے، صحت دیتا ہے اور اس کی مثل کچھ اور بھی۔ ہم نے عرض کی کہ کافر کو آخرت میں ثواب کیسے دیا جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ، زیادہ عذاب کے مقابلے میں کم عذاب دیا جائے گا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: ''ادخلو ا اٰل فرعون اشد العذاب " (مومن 46) فرعونیوں کو سخت ترین عذاب میں داخل کر دو۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کچھ کفار کم عذاب اور کچھ کو کمترین عذاب بھی دیا جائے گا۔ (مترجم) اس روایت کو نقل کرتے کے بعد امام بیہقی تبصرہ کرتے ہیں کہ اگر یہ روایت ثابت ہو جائے تو اس میں حجت و دلیل ہے۔ اگر ثابت نہ وہ تو پھر دلیل بھی نہیں ہے۔ اس لئے کہ اس کی اسناد میں وہ راوی بھی ہے جس کے ساتھ حجت نہیں پکڑی جاتی۔ اور ابو طالب کے واقعہ والی حدیث صحیح ہے۔ باقی شیخ حلیمی کے اس حدیث کا انکار کرنے کا کچھ مطلب نہیں ہے۔ میں نہیں جانتا کہ اس حدیث کی صحت ان سے کیونکر اوجھل رہی ہے۔ وہ تو کئی وجوہ سے مروی ہے۔ عبدالملک بن عمیر سے اور ایک اور صحیح طریقہ سے حضرت ابو سعید خدری سے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی حدیث کے مفہوم میں مروی ہے۔ اور اس روایت کو صاحب صحیح نے بھی نقل کیا ہے اوران دونوں کے علاوہ کئی ائمہ نے اپنی صحاح کتب میں نقل کی ہے۔ جو شخص کافر کی نیکیوں کی بابت مذہب ثانی کی طرف گیا ہے اس کےلئے صحیح ہے کہ وہ یہ کہے کہ حدیث ابو طالب خاص ہے صرف اسی کے عذاب کی تخفیف کے لئے۔ اس نے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سلوک کیا تھا اسی کی وجہ سے اس تخفیف کے ساتھ ابو طالب مختص کیا گیا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تالیف قلف کےل ئے اور آپ کوفی نفسہ ثواب دینے کے لئے ابو طالب کے لئے نہیں اس لئے کہ ابو طالب کی نیکیاں اس کے کفر کی وجہ سے اس کی مغفرت پر اڑتا ہوا غبار ہو گئی تھیں۔ رحمۃ للعالمین کی وجہ سے ابو لہب کو پانی کا گھونٹ ملنا : اسی حدیث ابو طالب کی مثل ہے حدیث عروہ بن زبیر جس میں ابو لھب کی طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کی خوشی میں اپنی لوندی ثوبیہ کو آزاد کرنا اور ثوبیہ کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دودھ پلانا مذکور ہے۔ جب ابو لہب کا انتقال ہو گیا تو اس کے گھر والوں میں سے کسی ایک کو وہ خواب میں دکھایا گیا ۔ بڑی بری حالت میں اور ناکامی میں تھا۔ اس نے اس سے پوچھا تیرے ساتھ کیا سلوک کیا گیا۔ ابو لہب نے کہا کہ میں نے تم لوگوں سے جدا ہونے کے بعدمکمل مایوسی دیکھی، امید کی کہیں کوئی صورت نہیں تھی۔ ہاں ثوبیہ کو آزاد کرنے کے بدلے میں مجھے اتنا سا گھونٹ پلایا گیا ہے (یعنی تھوڑا سا) اس نے انگوٹھے اور شہادت کی انگلی کے درمیان جو فاصلہ یا سوراخ بنتا ہے اسی کا اشارہ کر کے دکھا یا۔ یہ بات بھی ایسی ہی ہے س لئے کہ اس واقعہ میں بھی احسان کا مرجع وہی ذات رسالت ہے، لہذا وہ نیکی ضائع نہ کی گئی۔ بہر حال ایمان کا حساب لیا جائے گا اور ان کے اعمال کا وزن کیا جائے گا اور وہ دو گروہ ہوں گے۔ پہلا گروہ: مومن متقی جو کبیرہ گناہوں سے بچتے رہتے تھے ۔ ان کی نیکیاں روشنی کے پلڑے میں رکھی جائیں گی اور ان کے صغیرہ گناہ اگر ہوئے تو وہ دوسرے پلڑے میں رکھے جائیں گے ۔ اللہ پاک ان صغیرہ گناہوں کا کوئی وزن نہیں بنائیں گے۔ لہذا روشنی والاپلڑا بھاری ہو جائے گا اور دوسرا پلڑا اٹھ جائے گا۔ جیسے فارغ اور خالی اٹھ جاتا ہے۔ پھر ان کے لئے جنت کا حکم ہو جائے گا اور ان میں سے ہر ایک کو اس کی حسنات اور طاعت کے بقدر ثواب دیا جائے گا ۔ جیسے ہم ونضع الموازین والی آیت بیان کر چکے ہیں۔ دوسرا گروہ: مؤمن خطا کاروں کا ہو گا۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جو قیامت میں کبیرہ گناہوں اور فواحش اور بے حیائیوں کی سزا دئیے جائیں گے۔مگر وہ شرک نہیں کرتے ہوں گے۔ ان کی نیکیاں بھی روشنی کے پلڑے میں رکھی جائیں گی اور ان کے گناہ اور سیئات تاریک پلڑے میں رکھے جائیں گے ۔ آج ان کے ان کبیرہ گناہوں کا جو وہ لائے ہوں گے بھی بوجھ ہو گا اور ان کی نیکیوں کا بھی بوجھ ہو گا۔ مگر نیکیاں ہر حال میں بھاری ہوں گی۔ اس لئے کہ ان کے ساتھ اصل ایمان بھی ہوگا۔ جبکہ سیئات اور گناہوں میں کفر نہیں ہوگا۔ اس لئے کہ ایک ہی شخص میں ایمان بھی ہو اور کفر بھی یہ محال ہے۔ اور دوسری یہ وجہ بھی ہے کہ حسنات اور نیکیوں کا مقصد اور منشاء صرف اللہ کی رضا تھا۔ جبکہ اس کے مقابلے میں گناہوں کا مقصد اللہ کی مخالفت کرنا یا اللہ سے بغض نہیں تھا بلکہ وہ محض نفسانی خواہشات کی بناء پر تھا۔ جس کے ساتھ ساتھ اللہ کا خوف ، اللہ کے غضب سے ڈرنا بھی ساتھ تھا۔ لہذا یہ تو محال ہو گا کہ سیئات بھی برابر ہوجائیں ، اگرچہ زیادہ بھی ہوں۔ تاہم نیکیوں کے برابر نہیں ہوں گے۔ لہزا لامحالہ گناہوں کا بوجھ تو ہو گا اور ان کے ساتھ ترازو بھی جھکے گا۔ یہاں تک کہ بعض سیئات کا بوجھ بعض حسنات کے بوجھ کی طرح ہو گا۔ سو اسوقت وہی معاملہ ہو گا جو قرآن میں مذکور ہو۔ آیت "ونضع الموازین القسط میں مذکور ہے کہ کوئی نفس ذرہ برابر ظلم نہ کیا جائے گا اور محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت بھی دلالت کرتی ہے اس کی تفصیلات کے بارے میں۔ اور اس کا خلاصہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: ان اللہ یغفر الذنوب جمیعا (الزمر 53) بے شک اللہ تعالیٰ سارے کے سارے گناہ بخش دے گا۔ اور ارشاد باری تعالیٰ ہے: "ویغفر مادون ذالک لمن یشاء " (الانبیاء 47) ہم انصاف کے ترازو قائم کریں گے قیامت کے روز لہذا کوئی نفس ذرہ برابر ظلم نہیں کیا جائے گا۔اگرچہ کسی کی کوئی نیکی رائی کےدانے برابر ہو گی تو ہم اس کو بھی ضرور لے آئیں گے اور ہم حساب کرنے کے لئے کافی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی اس آیت میں مراد یہ ہے کہ کسی انسان کی کوئی نیکی چھوڑی نہیں جائے گی۔ بلکہ وہ تولی جائے گی۔ یہ معاملہ ہو گا اس مؤمن کا جس کے ملے جلے اعمال ہوں گے، کیونکہ اگر اس کی کوئی نیکی چھوڑی جائے اوراس کا وزن رہ جائے تو اس کی جگہ اس کے گناہ کا وزن زیادہ ہو جائے گا اور یہ زیادتی اس کے لئے عذاب کو واجب کرسکتی ہے۔ وزن اعما ل کی کیفیت بہر حال وزن اعمال کیسے ہو گا؟ اس کی دو صورتیں ہیں۔ پہلی صورت: یہ ہے کہ نیکیوں کے صحیفے ایک روشن پلڑے میں رکھے جائیں گے اور گناہوں کے صحیفے تاریک پلڑے میں کیونکہ اعمال ایک ہی صحیفے میں نہیں لکھے جاتے اور ان کا لکھنے والا بھی ایک نہیں ہے۔ جو فرشتہ دائیں طرف ہوتا ہے وہ نیکیوں کو لکھتا ہے اور جو بائیں طرف ہوتا ہے وہ برائیوں اور گناہوں کو لکھتاہے۔ لہذا دونوں اپنے اپنے صحیفے لکھنے میں الگ الگ ہوتے ہیں۔ جب وزن کرنے کا وقت آئے گا تو وہی صحیفے میزان اور ترازو میں رکھے جائیں گے۔ سو جس کو بھاری کرنے کا حق ہو گا اللہ تعالیٰ اس کو بھاری کر دیں گے اور جس کو ہلکا کرنے کا حق ہو گا اس کو ہلکا کر دیں گے۔ دوسری صورت: یہ ہے کہ ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کچھ مخصوص اجسام پیدا فرما دیں جو حسنات اور سیئات کی تعداد کے مطابق ہوں اور وہ سب ایک دوسرے سے ایسی صفات کے ساتھ ممتاز اور نمایاں ہوں جن کے ذریعے وہ پہچانے جا سکیں ۔ پھر وہی اجسام وزن کئے جائیں۔ جیسے دنیا میں بعض اجسام بعض کے ساتھ وزن کئے جاتے ہیں۔ واللہ اعلم۔ اور وزن اعمال میں اعتبار اس بات کو ہو گا کہ اللہ کی رضا اور اللہ کی ناراضگی جس جگہ واقع ہو۔ اہل تفسیر اس میزان کو دو پلڑوں والا ثابت کرنے کی طرف گئے ہین اور احادیث میں بھی اس پر دلالت آئی ہے اور کلبی نے ابو صالح سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا میزان ایسی ہو گی کہ اس کی ایک زبان ہو گی اور اس کی دو ہتھیلیاں یا دو پلڑے ہوں گے۔ اس میں نیکیاں اور بدیاں تولی جائیں گی۔ نیکیاں خوبصورت شکل میں لائی جائیں گی اور میزان کے پلڑے میں رکھ دی جائیں گی۔ اوروہ گناہوں اور غلطیوں کا بھاری ہو جائیں گی۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ پھر وہ اٹھا کر جنت میں ان کے ٹھکانوں کے پاس رکھ جائیں گی۔ پھر مومن سے کہا جائے گا۔ آپ اپنے عمل کے ساتھ لاحق ہو جائیے۔ فرمایا کہ پھر وہ جنت کی طرف چلے گا اور اپنے اپنے ٹھکانے کو اپنے اپنے عمل سے پہچان لے گا۔ اور انہوں نے فرمایا کہ برائیاں بد ترین صورت میں لائی جائیں گی اور میزان کے پلڑے میں رکھ دی جائیں گی اور وہ ہلکی پڑجائیں گی ۔ ا س لئے کہ باطل ہلکا اور بے وزن ہوتا ہے۔ پھر وہ اٹھا کر جہنم میں ان کے ٹھکانے پر رکھ دی جائیں ۔ پھر اس بندے سے کہا جائے گا کہ آپ اپنے عمل کے ساتھ جہنم میں لاحق ہو جائیے۔ فرمایا کہ پھر وہ انسان جہنم کی طرف آئے گا اور اپنے عمل کے ذریعے اپنا ٹھکانہ پہچان لے گا اور اس کو بھی جو اللہ نے اس کے لئے مختلف اور رنگ رنگ اور قسم قسم کے عذاب تیار کر رکھے ہوں گے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ وہ سب لوگ اپنے اپنے اعمال کی وجہ سے اپنے اپنے منازل کو اور مقامات کو سب سے زیادہ پہچاننے والے ہوں گے وہ جمع ہونے کے دن جائیں گے۔اپنے اپنے مقامات ی طرف رجوع کرنے والے ہوں گے۔
عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، ← قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، ← عُتْبَةُ بْنُ يَقْظَانَ ← عَامِرُ بْنُ مُدْرِكٍ، ← زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ الطَّائِيُّ، ← زكريا بن يحيى البزاز، ← أبو عبد الله محمد بن يزيد الجوزي ← الْإِمَامُ أَبُو الطِّيبِ سَهْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ
Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › Separation · Hadith 281
شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل في أصحاب الكبائر من أهل القبلة إذا وافوا القيامة بلا توبة قدموها ـ · حديث 295
295 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو حامد بن بلال ثنا يحيى بن الربيع المكي ثنا سفيان عن الزهري عن أبي إدريس عن عبادة بن الصامت : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لهم في بيعة النساء :
تبايعوني على أن لا تشركوا بالله شيئا و لا تسرقوا و لا تزنوا ـ يعين الآية كلها ـ فمن وفى منكم فأجره على الله و من أصاب من ذلك شيئا فعوقب فهو كفارته و من أصاب من ذلك شيئا فستره الله عليه فهو إلى الله عز و جل إن شاء غفر له و إن شاء عذبه
أخرجاه في الصحيح من حديث سفيان بن عيينة
قال البيهقي رحمه الله : قوله في بيعة النساء أراد كما في بيعة النساء و هو في قوله عز و جل :
{ يا أيها النبي إذا جاءك المؤمنات يبايعنك على أن لا يشركن بالله شيئا ولا يسرقن ولا يزنين ولا يقتلن أولادهن ولا يأتين ببهتان يفترينه بين أيديهن وأرجلهن ولا يعصينك في معروف }
و قوله : من أصاب من ذلك شيئا فستره الله عليه أراد به ما خلا الشرك كما أراد بقوله : فعوقب به ما خلا الشرك فجعل الحد كفارة لما صاب من الذنب بعد الشرك و جعل ما لم يحد فيه موكولا إلى مشيئة الله عز و جل إن شاء غفر له و إن شاء عذبه ثم التعذيب لا يكون مؤبدا لدليل أخبار الشفاعة و ما ورد في معناها من كتاب الله عز و جل
فإن قيل : المعنى أنه يغفر الصغائر لمجتنب الكبائر و لا يغفرها لمن لا يجتنب الكبائر كما قال في آية أخرى :
{ إن تجتنبوا كبائر ما تنهون عنه نكفر عنكم سيئاتكم و ندخلكم مدخلا كريما }
قيل : المراد بالكبائر التي شرط في المغفرة اجتنابها هي الشرك فهي في هذه الآية مطلقة و تكفير السيئات بها مطلقة و هما في الآية التي احتججنا بها في الموضعين مقيدتان فوجب الجمع بينهما و حمل المطلق على المقيد
فإن قيل قد توعد أصحاب الكبائر بالنار و الخلود فيها و لم يستثن منهم إلا التائبين فقال :
{ ولا يقتلون النفس التي حرم الله إلا بالحق } إلى أن قال : { إلا من تاب }
قيل : هذا الوعيد ينصرف إلى جميع ما تقدم ذكره فإن الله جل ثناؤه افتتح هذه الآية بذكر الشرك فقال :
{ و الذين لا يدعون مع الله إلها آخر }
فانصرف قوله : { و من يفعل ذلك } إلى جميع ما تقدم ذكره و من جمع بين هذه الكبائر هذا الوعيد و الذين يدل على أنه قال : { يضاعف له العذاب } و إنما أراد ـ و الله أعلم ـ أن من جمع بين الشرك و غيره من الكبائر جمع عليه مع عذاب الشرك عذاب الكبائر فيصير العذاب مضاعفا عليه ثم قال : { إلا من تاب و آمن و عمل عملا صالحا } فذكر في التوبة الإيمان و العمل الصالح و ذلك ليحبط الإيمان كفره و يحبط إصلاحه في الإيمان ما تقدم من إفساده في الكفر كما روينا فيه عن النبي صلى الله عليه و سلم
فإن قيل : و قد قيل :
{ ومن يقتل مؤمنا متعمدا فجزاؤه جهنم خالدا فيها }
قيل : قد ذهل أهب التفسير إلى أن هذه الآية نزلت فيمن قتل و ارتد عن الإسلام و ذهب بعض أصحابنا إلى أن الآية مقصورة على سببها
ہمیں خبر دی ہے ابو طاہر فقیہ نے کہ خبر دی ہے ابو حامد بن بلال نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے یحییٰ بن ربیع مکی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے سفیان نے زھری سے ، انہوں نے اب ادریس سے، انہوں نے عبادہ بن صامت سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عورتوں کی بیعت کے بارے میں صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے فرمایا تھا: میرے ساتھ تم لوگ اس بات پر بیعت کرو کہ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک نہیں کرو گے، چوری نہیں کرو گے، بدکاری نہیں کرو گے۔ یعنی پوری آیت بیعت والی کا ذکر فرمایا۔ (پھر فرمایا کہ ) جو شخص تم میں سے ساری باتیں پوری کرے گا اس کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمے ہو گا اور جو شخص ان باتوں میں سے کسی چیز کا ارتکاب کر بیٹھا اور اس کو سزا دے دی گئی وہ سزا اس کے لئے کفارہ ہو گی اور جس نے کسی کام کا ارتکاب کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس پر پردہ ڈال دیا (یعنی اس کا گناہ سامنے نہ آ سکا) وہ اللہ عزوجل کے حوالے ہو گا۔ اگر وہ چاہے گا معاف کر دے گا اور چاہے گا تو اس کو عذاب دے گا۔ بخاری اور مسلم نے اپنی اپنی صحیح میں اس حدیث کو سفیان بن عیینہ کی روایت سے نقل کیا ہے۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ کا قول: امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: عبادہ بن صامت کا قول فی بیعۃ النسآء سے انہوں نے یہ مراد لی ہے کہ جیسے عورتوں کی بیعت میں ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: "یا ایھا النبی اذا جآء ک المومنات یبا یعنک علی ان لا یشرکن باللہ شیئاً ولا یسرقن ولا یزنین ولا یقتلن اولا دھن ولا یاتین ببھتان یفترینہ بین ایدیھن وار جلھن ولا یعصینک فی معروف الخ (12) اے نبی جب تیرے پاس ایمان والی عورتیں تیرے ساتھ بیعت ہونے کے لئے آئیں تو (ان شرائط پر ان کی بیعت قبول کر لیجئے) کہ : (1)۔۔اللہ کے ساتھ کسی شے کو شریک نہیں کریں گے۔ (2)۔۔چوری نہیں کریں گے۔ (3)۔۔زنا نہیں کریں گے۔ (4)۔۔اپنی اولاد کو قتل نہیں کریں گے۔ (5)۔۔اور بہتان نہیں باندھیں گی، جیسے وہ اپنے ہاتھوں اور پیروں کے اگے اختراز کریں۔ (6)۔۔اور ہر اچھے کام میں تیری نافرمانی نہیں کریں گی۔ (گزشتہ حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا) یہ قول کرنا: "ومن اصاب من ذالک شیئاً فسترہ اللہ علیہ" کہ جو شخص ان مذکورہ گناہوں میں سے کسی گناہ کا ارتکاب کرے اور اللہ تعالیٰ اس کے اوپر پردہ ڈال دے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد اس سے شریک کے ماسوا باقی گناہ ہے۔ جیسے آپ کا یہ قول کرنا (فعوقب بہ) یعنی جس نے مذکورہ گناہوں میں سے کسی کا ارتکاب کیا اور اس کی سزا دی گئی۔ اس سے مراد بھی ماسوائے شرک کے گناہ مراد ہے۔ جبھی تو سزا اور حد کو کفارہ قرار دے دیا۔ اس غلطی کا اور گناہ شرک کے بعد جس کاارتکاب کیا اور جس گناہ کے ارتکاب کے بعد اس میں حد جاری نہیں کی گئی اس کو اللہ کی مشیت کے سپرد کیا۔ اگر چاہے تو اس کے لئے معافی فرما دے اگر چاہے تو اس کو عذاب دے۔ پھر عذاب دائمی نہیں ہو گا۔ اس بات کی دلیل شفاعت قبول کر کے جنت میں بھیجنے والی احادیث میں اور وہ آیات ہیں جو کتا ب اللہ میں اس معنی میں آئی ہیں۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ آیت مغفرت میں یہ فقرہ کہ جس کو چاہے بخش دے گا مطلب یہ ہے کہ اس شخص کے صغیرہ گناہ معاف کر دے گا جو کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرنے والا ہو گا اور اس کے لئے بخشش نہیں کرے گا جو کبائر کا ارتکاب کرنے والا ہو گا جیسے کہ دوسری آیت میں ارشاد ہے: " ان تجتنبو ا کبائر ماتنھون عنہ نکفر عنکم سیئاتکم وند خلکم مدخلا ً کریما (النسآء31) اگر تم کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرو گے جس سے تم منع کئے گئے ہو تو مٹا دیں گے ہم تم سے تمہاری غلطیاں اور داخل کریں ہم تم کو با عزت مقام میں۔ تو جواب میں کہا جائے گا کہ وہ کبائر جن سے اجتناب کرنے کو مغفرت کے لئے شرط قرارد یا گیا ہے اس سے مراد شرک ہے اور یہ اس آیت میں مطلق ہے اور اس کے ساتھ سیئات کی تکفیر کرنا اور مٹنا بھی مطلق ہے اور وہ دونوں اس آیت میں جس کے ساتھ ہم نے حجت پکڑی ہے دونوں جگہ دونوں مفید ہیں۔ لہذا دونوں کے مابین جمع کرنا وجب ہے اور مطلق کو مقید پر محمول کرنا۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے کبیرہ گناہوں کے ارتکاب کرنے والوں کو آگ کی اور اس میں ہمیشہ رہنے کی وعید اور دھمکی دی ہے اور ان سے توبہ کرنے والوں کےسوا کسی کو علیحدہ نہیں کیا۔ چنانچہ ارشاد فرمایا: ولا تقتلو النفس التی حرم اللہ الا بالحق (تا) الا من تاب (الفرقان 68 تا 70) یہ قتل کرو کسی نفس کو جس کو اللہ نے حرام کیا ہے مگر حق کی تائید کے ساتھ۔ (یہاں تک کہ فرمایا) مگر وہ شخص جو توبہ کرے تو جواب میں کہا جائے گا کہ اس وعید اور دھمکی کا تعلق صرف اسی سے نہیں بلکہ تما م ان امور سے اور اشیاء سے ہے جن کا پہلے ذکر ہو چکا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس آیت کی ابتداء شرک کے ذکر کے ساتھ کی ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوا: "والذین لا ید عون مع اللہ الھا اخر (الفرقان 68) وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے الٰہ کو نہیں پکڑتے۔ (یعنی شرک کی نفی کی ہے) لہذا آیت میں یہ فقرہ : "ومن یفعل ذالک یلق اثاماً" جو شخص یہ کام کرے گا وہ ملے گا کئی کئی گناہوں کو بھرے گا۔ اور رجوع کرے گا ان تمام سابقہ چیزوں کی طرف جو پہلے مذکور ہوئی ہیں۔ جس نے ان کبائر اور اس وعید کے اور اس پر جو دلیل دلالت کرتی ہے وہ یہ قول ہے: "یضاعف لہ العذاب" کہ اس کے لئے دہرا عذاب ہے۔ کے درمیان جمع کیا ہے اس نے یہ ارادہ کیا ہے وہ شخص جس نے شرک اور اس کے علاوہ کبائر کے مابین جمع کیا ہے۔ اس پر جمع کر دئیے ہیں شرک کے عذاب کے ساتھ کبائر کے عذب ، لہذا اس پر عذاب دہرا ہو گیا ہے ۔ پھر فرمایا: "الا من تاب وامن وعمل عملا ً صالحاً " مگر جو شخص ایمان لایا اور نیک عمل کئے۔ تو یہ ایمان اور عمل صالح کا ذکر کیا ہے اور یہ اس لئے تاکہ ا س کا ایمان اس کے کفر کو تباہ کر دے اور ختم کر دے اور ایمان میں اس کی اصلاح اس کو تباہ کر دے جو پہلے سے کفر میں اس سے خرابی ہوئی جیسے ہم نے اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا ہے: ومن یقتل مؤمنا متعمدا فجزاؤہ جھنم خالدا فیھا (النسآء 3) جو شخص کسی مؤمن کو قتل کرے گا اس کی جزا جہنم ہے وہ اس میں ہمیشہ رہے گا۔ (جواب میں) کہا جائے گا کہ اہل تفسیر اس طرف گئے ہیں کہ آیت اس شخص کے بارے میں نازل ہوئی تھی جس نے قتل کیا تھا اور مرتد ہو گیا تھا اسلام سے اور ہمارے بعض اصحاب اس طرف گئے ہیں کہ یہ آیت اپنے سبب یا شان نزول پر بند ہے۔
Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it · Hadith 295
شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل في أصحاب الكبائر من أهل القبلة إذا وافوا القيامة بلا توبة قدموها ـ · حديث 298
298 - أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي الحافظ قال : سمعت عمر بن محمد الوكيل يقول : حدثني معاذ بن المثنى ثنا سوار بن عبد الله ثنا الأصمعي قال : جاء عمرو بن عبيد إلى أبي عمرو بن أبي العلاء فقال له :
يا أبا عمرو ! الله يخلف وعده ؟ قال : لن يخلف الله وعده قال عمرو : فقد قال : قال أين ؟ فذكر آية وعيد لم يحفظها عمرو فقال أبو عمرو : من العجمة أتيت و الوعد غير الإيعاد ثم أنشد أبو عمرو :
( و إني و إن أوعدته أو وعدته سأخلف إيعادي و أنجز موعدي )
قال البيهقي رحمه الله فإن قيل : فقد قال الله سبحانه :
{ و من يعص الله و رسوله و يتعد حدوده يدخله نارا خالدا فيها }
قيل هكذا نقول الحدود اسم جمع و إنما يصير متعديا لحدود الله تعالى اجمع بترك الإيمان و تارك الإيمان يخلد في النار
فإن قيل : قد قال :
{ وإن الفجار لفي جحيم * يصلونها يوم الدين * وما هم عنها بغائبين }
قيل : و قد قال :
{ إن الأبرار لفي نعيم }
و الفاسق المؤمن بر بإيمانه
فإن قيل ليس برا مطلقا
فإن قيل : فجوره أحبط إيمانه
قيل : لي الفصل بين هذا قول و بين من يقول من المرجئة أن إيمانه أحبط فجوره فدل أنه أراد بالفجار الذين قابل بنيهم وبين الأبرار الكفار لأن رأس البر الإيمان و كذلك رأس الفجور الكفر و الذي يدل على صحة ما ذهبنا إلى قوله الله عز و جل :
{ إنا لا نضيع أجر من أحسن عملا }
و قوله : { لا أضيع عمل عامل منكم }
و قوله : { إن الله لا يظلم مثقال ذرة و إن تك حسنة يضاعفها و يؤت من لدنه أجرا عظيما }
و قوله : { فمن يعمل مثقال ذرة خيرا يره }
و قوله : { يوم تجد كل نفس ما عملت من خير محضرا }
و قوله : { فالذين آمنوا منكم و أنفقوا لهم أجر كبير }
و قوله : { وعد الله المؤمنين والمؤمنات جنات }
و قوله : { هل جزاء الإحسان إلا الإحسان }
فهذه الآيات و ما ورد منها في معناها كلها تدل على أن الله تعالى لا يضيع أجر من أحسن عملا و أحسن إلأعمال الإيمان بالله و برسوله
و من قال : بتخليد المؤمن في النار كان قد أضاع أجر عمله و لم يجعل له عوضا و لأنا وجدنا الله عز و جل وعد على الطاعات ثوابا و على المعاصي عقابا فليس لأحد أن يقول يرى ما عمل من المعاصي دون ما عمل من الطاعات و قد عملها جميعا إلا و لآخر أن يعكس ذلك فلا يجد القائل بذلك فضلا و أنا قد جمعنا على حصول طاعاته و اختلفنا في زوال حكمها فلا يرفع حكم ما تيقناه من حصول الطاعات بمعصية لا تنفيها و لا تضادها
و احتجوا في إبطال الشفاعة بقوله عز و جل :
{ ما للظالمين من حميم و لا شفيع يطاع }
فالظالمون ها هنا هم الكافرون و يشهد لذلك مفتتح الآية إذا هي في ذكر الكافرين فإن احتجوا بقوله : { و لا يشفعون إلا لمن ارتضى }
قيل : هذا دليلنا لأن الفاسق مرتضى بإيمانه قال الله عز و جل :
{ ثم أورثنا الكتاب الذين اصطفينا من عبادنا }
واصطفينا و ارتضينا واحد في اللسان ثم قال : { فمنهم ظالم لنفسه } أي من المصطفين ظالم لنفسه و الظلم هو الفسق فأخبر أن فيهم ظالما و قال في قصة يونس { إني كنت من الظالمين }
و قد روينا من أوجه عن النبي صلى الله عليه و سلم في قوله تعالى : { ثم أورثنا الكتاب الذين اصطفينا } قال : كلهم في الجنة و هو في الجزء السابع من كتاب البعث مذكور بشواهده
و قيل معناه :
{ إلا من ارتضى } أن يشفعوا له كما قال : { من ذا الذي يشفع عنده إلا بإذنه }
قال الحليمي رحمه الله : و لا تحتمل الآية غير لأن المرتضين عند الله لا يحتاجون إلى شفاعة ملك و لا نبي فصح أن المعنى ما قلناه و لا يجوز أن يقال إن عز و جل لا يرتضي أن يشفع لصاحب الكبيرة لأن المذنب الذين يحتاج إلى الشفاعة فكلما كان ذنبه أكبر كان إلى الشفاعة أحوج فكيف يجوز أن يكون اشتداد حاجته إلى الشفاعة حائلا بينه و بين الشفاعة ؟ و ليس امتناع الشفاعة للكافرين لأن ذنبه كبير و لكنه بجحده الباري المشفوع إليه أو الرسول الشافع له أو لأن الله تعالى أخبر أنه لا يشفع فيه أحدا و هذه المعاني كلها معدومة في صاحب الكبيرة من أهل القبلة
وقوله : { يوم لا تملك نفس لنفس شيئا } لا يدفع الشفاعة لأن المراد بالملك الدفع بالقوة و إنما الشفاعة تذلل من الشافع للمشفوع عنده و إقامة الشفيع بذلك من المشفوع له فلا يوم أليق به و أشبه بأحواله بيوم الدين
و قد ورد عن سيدنا المصطفي صلى الله عليه و سلم في إثبات الشفاعة و إخراج قوم من أهل التوحيد من النار و إدخالهم في الجنة أخبار صحيحة قد صارت من الاستفاضة و الشهرة بحيث قاربت الأخبار المتواترة و كذلك في مغفرة الله تبارك و تعالى جماعة من أهل الكبائر دون الشرك من غير تعذيب فضلا منه و رحمة و الله واسع كريم
قال البيهقي رحمه الله : و قد ذكرنا هذه الأخبار في كتاب البعث و النشور و نحن نشير ها هنا إلى طرف منها قال عز و جل لمحمد صلى الله عليه و سلم : { و من الليل فتهجد به نافلة لك عسى أن يبعثك ربك مقاما محمودا }
و رويان في الحديث الثابت عن يزيد الفقير عن جابر بن عبد الله ما دل على أن ذلك في الشفاعة و كذلك عن حذيفة بن اليمان و ابن عمر و غيرهم
ہمیں خبر دی ہے ابو سعد مالینی نے کہ خبر دی ہے ابو احمد بن عدی حافظ نے، انہوں نے کہا میں نے سنا عمر بن محمد وکیل سے، وہ کہتے ہیں مجھے حدیث بیان کی ہے معاذ بن مثنیٰ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے سوار بن عبداللہ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے اصمعی نے، انہوں نے کہا کہ عمرو بن عبید ابوعمرو بن ابی العلا کے پاس آئے اور ان سے کہا اے ابو عمرو ! کیا اللہ اپنے وعدے کے خلاف کرتا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے خلاف ہر گزنہیں کرتا۔ عمرو نے کہا اللہ نے خود فرمایا۔ انہوں نے پوچھا ، کیا فرمایا ہے؟ انہوں نے وعید کی کوئی آیت ذکر کی جو عمرو کو یاد نہیں رہی تو ابو عمرو نے کہ کونسی عجمیت تو دیا گیا ہے۔ وعد، ایعاد سے مختلف ہوتا ہے۔ پھر ابو عمرو نے شعر کہا: " وانی وان اوعدتہ او وعدتہ ، ساخلف ایعادی وانجز موعدی " اور بے شک میں نے اگرچہ دھمکی دی ہے اس کو یا وعدہ دیا ہے ۔ بہت جلدی میں اپنی دھمکی کے خلاف کروں گا۔ اور پورا کروں گا میں اپنا وعدہ۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ: اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نےفرمایا ہے: "ومن یعص اللہ ورسولہ ویتعد حدودہ ،ید خلہ نارا خالد ا فیھا (النساء 14) جو شخص اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نافرمانی کرے اور اللہ کی حدود سے تجاوز کرے اس کو اللہ تعالیٰ آگ میں داخل کرے گا اور وہ اس میں ہمیشہ رہے گا۔ (اس سے تو معلوم ہوتا ہے کہ مومن گناہگار ہمیشہ جہنم میں رہے گا؟) کہا گیا ہے کہ اسی طرح ہم کہیں گے۔ الحدود۔ اسم جمع ہے متعدی ہوتا اللہ کی حدود کے لئے ۔ جمع بنا یا گیا ہے بوجہ ترک ایمان کے اور تارک ایمان ہمیشہ آگ میں رکھا جائے گا۔ اگر اعتراض کیا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا ہے: "وان الفجار لفی جحیم یصلونھا یوم الدین وماھم عنھا بغائبین (القطار 14-16) بے شک گناہگار البتہ جہنم میں ہوں گے۔ قیامت کے دن اس میں داخل ہوں گے اور اس سے وہ غائب نہیں ہوں گے۔ کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ان الابرار لفی نعیم (القطار 13) بے شک نیکو کار لوگ البتہ نعمتوں میں ہوں گے۔ (جواب ہے) کہ ایسا فاسق جو ایمان رکھتا ہو وہ اپنے ایمان کی بدولت بر یعنی نیک ہوتا ہے۔ اگر اعتراض کیا جائے کہ وہ مطلق بر اور نیک نہیں ہے۔ جواب میں کہا جائے گا کہ اسی طرح وہ مطلق فاجر بھی نہیں ہے۔ اگر اعتراض کیا جائے کہ اس کے فجور نے اس کے ایمان کو تباہ کر دیا ہے۔ جواب دیا جائے گا کہ اس قول میں اور مرجئہ کے قول میں پھر کوئی فرق نہیں رہے گا جو یہ کہتے ہیں کہ اس کے ایمان نے اس کے فجور اور گناہوں کو تبا ہ کر دیا ہے۔ یہ بات دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نےفجار سے وہ لوگ مراد لئے ہیں جن کے درمیان اور ابرار کے درمیان تقابل ہے۔ اس لئے کہ تمام نیکیوں کی سردار نیکی ایمان ہے اور تمام فجور کاسردار فجور کفر ہے اور ہمارے موقف کی صحت پر جو چیز دلالت کرتی ہے وہ اللہ تعالیٰ کے مندرجہ ذیل فرمان ہیں: (1)۔۔ ان لانضیع اجر من احسن عملا ً (الکہف 30) بے شک ہم اس کا اجر ضائع نہیں کریں گے جس نے اچھا عمل کیا۔ (2)۔۔ لا اضیع عمل عامل منکم (آل عمران 195) تم میں سے کسی عمل کرنے والے کے عمل کو ضائع نہیں کروں گا۔ (3)۔۔ انا اللہ لا یظلم مثقال ذرۃ وان تک حسنۃ یضاعفھا ویؤت من لدنہ اجر اً عظیما (النساء 40) بے شک اللہ تعالیٰ نہیں ظلم کریں گے۔ ایک ذرے کی مقدار اگر نیکی ہو گی تواس کو دگنا کر دیں گے۔ اور اپنی طرف سے بہت بڑااجر عطاکریں گے۔ (4)۔۔ فمن یعمل مثقال ذرۃ خیراً یرہ (الزلزلہ 7) جو شخص ایک ذرے کی مقدار خیر کا عمل کرے گا اس کو عمل وہ دیکھ لے گا۔ (5)۔۔ یوم تجد کل نفس ماعملت من خیر محضرا( آل عمران 30) جس دن پالے گا ہر نفس جو کچھ اس نے خیر کا عمل کیا تھا حاضر کیا ہوا(پالے گا)۔ (6)۔۔ فالذین امنو امنکم وانفقو ا لھم اجر کبیر (الحدید 7) پس جو لوگ تم میں سے ایمان لائے ہیں اور خرچ کیا ہے ان کے لئے بہت بڑا اجر ہے۔ (7)۔۔ وعداللہ المومنین والمومنات جنات (التوبہ 72) اللہ تعالیٰ نے ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں کے لئے باغات (بہشتوں) کاوعدہ فرمایا ہے۔ (8)۔۔ ھل جزا ء الاحسان الا الاحسان (الرحمٰن 60) نیکی کا بدلہ صرف نیکی ہی ہے۔ یہ مذکورہ آیات اور دیگر وہ سب آیات جو اس مفہوم میں وارد ہوئی ہیں، وہ سب کی سب اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کا عمل ضائع نہیں فرمائیں گے جو اچھا عمل کرے گا اور سب اعمال سے احسن عمل اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ ایمان لانا ہے۔ جس شخص نے مؤمن کو دائمی طور پر آگ میں رکھنے کا قول کیا ہے۔ در حقیقت اس نےاس کے اعمال کے اجر کو ضائع کیا ہے اور اس کے لئے کوئی معاوضہ نہیں بنایا ہے۔ حالانکہ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے طاعات پر ثواب دینے کا وعدہ فرمایا ہے اور گناہوں پر عذاب کا۔ لہذا کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ یہ کہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے معاصی کے اعمال کو دیکھے گا اور طاعات کے عمل کو نہیں دیکھے گا۔ حالانکہ دوسرے کے اعمال طاعت ہوں یا معاصی اسی نے خود کئے ہیں۔ مگر پھر دوسرے کوبھی یہ حق ہو گا کہ وہ اس کے برعکس کہے یعنی یہ کہ اللہ تعالیٰ مومن کی طاعات کو دیکھے گا ۔ معاصی اور گناہوں کو نہیں دیکھے گا۔ مگر اس کا کہنا تو دور کی بات ہے کوئی بھی اس کا قائل موجود نہیں ہے۔ دوسرے یہ کہ ہم سب مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے اور اجماع ہے کہ طاعات کا اجر حاصل ہوگا اور طاعات کے حکم کے زوال میں ہم نے اختلاف کیاہے۔ لہذا ہم نے جس چیز کا یقین کیا ہے بعض طاعات پر اجر کا حصول معصیت کے سبب ہے اس کا حکم نہیں اٹھ جائے گا۔ بعض لوگوں نے عقیدہ شفاعت کو اس آیت سے استدلال کرتے ہوئے باطل قرار دیا ہے۔ "ما للظالمین من حمیم ولا شفیع یطاع (غافر 18) ظالموں کے لئے نہ کوئی ولی دوست ہو گا اور نہ ہی کوئی سفارشی جس کی شفاعت قبول کی جائے گی۔ (تو اس کا جواب یہ ہے کہ) یہاں پر ظالموں سے مراد کافر ہیں۔ اس آیت کا آغاز اس بات کی شہادت دیتا ہے کیونکہ یہ آیت کافروں کے ذکر میں واقع ہے۔ اگر ایسے لوگ اس آیت سے دلیل پکڑیں: " ولا یشفعون الا لمن ارتضیٰ (انبیاء 38) (سفارشی) سفارش نہیں کریں گے مگر اس شخص کےلئے جس کے لئے اللہ تعالیٰ پسند کرے گا۔ کہا گیا ہے کہ یہ ہماری دلیل ہے۔ اس لئے کہ فاسق بھی اپنے ایمان کے سبب مرتضیٰ اور پسند میں ہوتا ہے۔ (اور یہ آیت بھی قرآن مجید کی آیات سے ثابت ہے) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "ثم اورثنا الکتاب الذین اصطفینا من عبادہ" پھر ہم نے ان لوگوں کو کتاب کا وارث ٹھہرایا جن کو اپنے بندوں میں سے برگذیدہ کیا۔ سورۃ انبیاء کی مذکورہ آیت میں ارتضیٰ فرمایا اوراس آیت یعنی فاطر میں ہے اصطفینا فرمایا۔دونوں زبان کے لغت کے اعتبار سے ایک ہیں۔ اس کے بعد ارشاد فرمایا: "فمنھم ظالم لنفسہ " تو کچھ ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں۔ یعنی مصطفین اور برگزیدہ لوگوں میں سے بعض اپنے آپ پر ظلم و زیادتی کرتے ہیں اور ظلم سے مراد وہی فسق ہے۔ اسی طرح اللہ نے یہ خبر دی ہے کہ ان میں ظالم بھی ہیں ، یعنی فاسق ہیں اور اسی طرح حضرت یونس علیہ السلام کے قصہ میں فرمایا کہ یونس علیہ السلام نے اپنے بارے میں کہا تھا: انی کنت من الظالمین "الانبیاء 87) کہ بے شک میں ظالم ہوں (قصور وار ہوں)۔ اور ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کئی طریقوں سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں روایت کی ہے: "ثم اورثنا الکتاب الذین اصطفینا" پھر ہم نے ان لوگوں کو کتاب کا وارث ٹھہرایا جن کواپنے بندوں سے برگزیدہ کیا۔ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے) فرمایا کہ وہ سب کے سب جنت میں ہوں گے۔ یہ کتا ب البعث والنشور کی ساتویں جز میں اپنے شواہد سمیت مذکور ہیں۔ اور آیت الامن ارتضیٰ کی ایک توجیہ یہ کی گئی ہے کہ الامن ارتضیٰ ان یشفعولہ ہے۔ یعنی مگر جس کے لئے اللہ تعالیٰ پسند کرے گا کہ شفاعت کرنے والے اس کے لئے شفاعت کریں۔ اسی طرح کا قول یہ بھی ہے: "من ذالذی یشفع عندہ الا باذنہ (البقرہ 255) کوئی ہے جو اس کے آگے شفارش کر سکے مگر اس کی اجازت کے ساتھ۔ یعنی جس کے لئے اللہ تعالیٰ پسند کرے گا کہ اس کے لئے سفارش کی جائے اللہ تعالیٰ خود اجازت دیں گے۔ شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ کا قول: شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ آیت : "الا من ارتضیٰ" ( کی یہی مذکورہ توجیہ ہی ہے) اس کے علاوہ دوسری کسی توجیہ کااحتمال نہیں رکھنی۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں برگزیدہ لوگ نہ تو کسی فرشتے کی شفاعت کریں کے محتاج ہوتے ہیں اور نہ ہی کسی نبی کی شفاعت کے۔ (لہذا یہ بات ثابت ہوئی کہ) جو ہم نے کہا ہے وہی آیت کا معنی صحیح ہے۔ اور یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ پسند نہیں کرتے کہ کسی کبیرہ گناہ کے مرتکب کےلئے سفارش کی جائے۔ اس لئے کہ گناہگار ہی شفاعت کا محتاج ہوتا ہے اور اس کا ضرورت مند ہوتا ہے۔ تو جس قدر گناہگار کا گناہ بڑا ہوگا اسی قدر وہ شفاعت کا بھی زیادہ محتاج ہو گا۔ پھر یہ کیسے جائز ہو سکتا ہے اور یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ شفاعت کے لئے اس کی شدت احتیاج اس کے درمیان اور شفاعت کے درمیان حائل ہو جائے۔ (یعنی اللہ تعالیٰ صاحب کبیرہ کے لئے شفاعت کو پسند نہ کریں اور شفاعت نہ ہو سکے) (پھر سوال ہو سکتا ہے کہ پھر تو کافر کے لئے بھی شفاعت ممکن ہونی چاہیئے کیونکہ اس کا گناہ بھی بڑا ہے) تو جواب یہ ہو گا کہ شفاعت کا امتناع تو کافروں کے لئے بھی نہیں ہے۔ اس اعتبار سے کہ ان کا گناہ بڑا ہے۔ لیکن (کافر کے لئے سفارش اس لئے ممنوع ہے کہ وہ ) اس ذات باری کا منکر ہے جس کی بارگاہ میں سفارش کی جائے گی یا اس لئے کہ وہ رسول کا منکر ہے جو اس کے حق میں سفارشی ہے یا اس لئے ممنوع ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ کافر کے حق میں کسی کی سفارش قبول نہیں کرے گا جبکہ یہ سارے معانی اہل قبلہ مرتکب کبیرہ مومن کے حق میں معدوم و مفقود ہیں۔ پھر یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ قرآن مجید میں تو یہ بھی آیا ہے: "یوم لا تملک نفس لنفس شیئاً (انفطار 19) کہ اس دن کوئی نفس کسی نفس کے لئے کسی چیز کا بھی مالک نہیں ہو گا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی شخص کسی کے حق میں سفارش نہیں کر سکے گا۔ لہذا اس آیت سے شفاعت کا امتناع ثابت ہوا؟ توجواب یہ ہے کہ یہ آیت شفاعت کو منع نہیں کرتی۔ اس لئے کہ آیت میں تملک کا لفظ آیا ہے کہ کوئی مالک نہیں ہے۔ملک سے بنا ہے اور ملک سے مراد ہے قوت و طاقت کے ساتھ روک دینا تو واقعی اللہ تعالیٰ کو قوت و طاقت سے کسی معاملے میں کوئی نہیں روک سکے گا۔ اس آیت کا شفاعت کےمفہوم کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ ) اس لئے کہ شفاعت کرنے والے کی طرف سے بارگاہ الٰہی میں انتہائی تذلل اور عازجی پیش کرنے کا نام ہے اور اپنے آپ کو اس انتہائی اظہار عجز کے ذریعہ اس کے قائم مقام کرنا ہوتا ہے جس کے لئے سفارش کر رہا ہے۔ لہذا اس کام کے لئے سب سے زیادہ لائق اور اس کے احوال کے لحاظ سے زیادہ قیامت کے روز سے زیادہ کوئی موقع اور وقت نہیں ہو سکتا۔ تحقیق سیدنا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شفاعت کے اثبات میں اوراہل توحید کی ایک جماعت کو جہنم سے نکالنے اور ان کو جنت میں داخل کرنے کے بارے میں اخبار صحیحہ وارد ہو چکی ہیں جو اخبار متواتر ہ کے قریب قریب ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کی طرف سے اہل کبائر کی ایک جماعت کے بارے میں اہل شرک نہ ہوں مغفرت کرنا بغیر عذاب کے بطور اس کے فضل اور رحمت کے بارے میں احادیث آ چکی ہیں۔ اللہ تعالیٰ بڑا وسعت والا ہے ، کریم ہے۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ ہم نے یہ احادیث کتاب البعث والنشور میں ذکر کر دی گئی ہیں اور ہم یہاں ان سے بعض کی طرف اشارہ کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے ارشاد فرمایا ہے: "ومن اللیل فتھجد بہ نافلۃ لک عسی ان یبعثک ربک مقاما محمود (الاسراء 79) اور رات تہجد کی نماز ادا کر تو یہ حکم زیادہ اس کے قریب ہے کہ تیرا رب تجھے پہنچا دے مقام محمود پر۔ اور ہم نے حدیث ثابت میں روایت کیا ہے یزید الفقیر سے، انہوں نے جابر بن عبداللہ سے جو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ یہ آیت شفاعت کے بارے میں ہے۔ اور اسی طرح ہم نے حذیفہ بن یمان سے اور حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور دیگر سے بھی روایات کی ہیں۔
أَيْنَ ← عَمْرٌو: فَقَدْ ← لَنْ يُخْلِفِ اللَّهُ وَعْدَهُ. ← لَهُ: يَا أَبَا عَمْرٍو اللَّهُ يُخْلِفُ وَعْدَهُ؟ ← جاء عمرو بن عبيد إلى أبي عمرو بن أبي العلاء ← الْأَصْمَعِيُّ ← سَوَّارُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ← مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى ← عُمَرَ بْنَ مُحَمَّدٍ الْوَكِيلَ، ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ
Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it · Hadith 298
شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل في كيفية انتهاء الحياة الأولى و ابتداء الحياة الأخرى و صفة يوم القيامة ـ · حديث 351
351 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو الفضل بن إبراهيم ثنا أحمد بن سلمة ثنا محمد بن بشار ثنا محمد بن جعفر ثنا شعبة عن النعمان بن سالم قال : سمعت يعقوب بن عاصم بن عروة بن مسعود قال : سمعت رجلا قال لعبد الله بن عمرو : إنك تقول الساعة تقوم كذا و كذا فقال : لقد هممت ألا أحدثكم بشيء إنما قلت إنكم ترون بعد قليل أمرا عظيما فكان حريق البيت فقال شعبة هذا أو نحوه قال عبد الله بن عمرو قال رسول الله صلى الله عليه و سلم :
يخرج الدجال في أمتي فيمكث فيهم أربعين لا ندري أربعين يوما أو أربعين شهرا أو أربعين عاما فيبعث الله عز و جل عيسى ابن مريم كأنه عروة بن مسعود الثقفي فيطلبه فيهلكه ثم يلبث الناس بعده سبع سنين ليس بين اثنين عداوة ثم يرسل الله عز و جل ريحا باردا من قبل الشام فلا يبقى أحد في قلبه مثقال ذرة من الإيمان إلا قبضته حتى لو أن أحدكم دخل في كبد جبل لدخلت عليه قال سمعتها من رسول الله صلى الله عليه و سلم و يبقى شرار الناس في خفة الطير و أحلام السباع لا يعرفون معروفا و لا ينكرون منكرا فيتمثل لهم الشيطان فيقول ألا تستحيون فيأمرهم بالأوثان فيعبدونها و هم في ذلك دارة أرزاقهم حسن عيشهم ثم ينفخ في الصور فلا يسمعه أحد إلا أصغى ليتا ـ و رفع فيدار ( و هو خطأ ) إحدى منكبيه ـ و أول من يسمعه يلوط حوضه فيصعق ثم لا يبقى أحد إلا صعق ثم يرسل أو ينزل الله مطرا كأنه الطل أو الظل ـ النعمان الشاك ـ فينبت منه أجساد الناس ثم ينفخ فيه أخرى فإذا هم قيام ينظرون ثم يقال يا أيها الناس هلموا إلى ربكم عز و جل وقفوهم إنهم مسؤولون ثم يقال أخرجوا بعث النار فيقال كم ؟ فيقال من كل ألف تسعمائة و تسعة و تسعون
قال محمد بن جعفر و حدثني شعبة بهذا الحديث مرات و عرضته عليه
رواه مسلم في الصحيح عن محمد بن بشار
قال البيهقي رحمه الله و لم يذكر عبد الله بن عمرو في هذا الحديث سائر الاعلام من خروج يأجوج و مأجوج و الدابة و طلوع الشمس من مغربها و قد ذكر غيره خروج يأجوج و مأجوج بعد نزول عيسى بن مريم و إرسال الله عليهم النغف و موتهم في قيام الساعة بعد ذلك و ذكر هو عن النبي صلى الله عليه و سلم أن أول الآيات خروجا طلوع الشمس من مغربها و خروج الدابة على الناس ضحى فأيهما كانت قبل صاحبتها فالأخرى على أثرها و قال من قبل نفسه : فأظن أولها خروجا طلوع الشمس من مغربها و إنما قال ذلك عبد الله بن عمرو حين أخبر بقول مروان بن الحكم أن أول الآيات خروجا الدجال فإذا كان حديث عبد الله صحيحا فهو أولى من غيره و هو صحيح لا شك فيه لصحة إسناده و الله أعلم و لا شك في كون هذه الآيات قبل النفخ في الصور تقدم بعضها أو تأخر و كلما هو آت قريب
ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو الفضل بن ابراہیم نے ان کو احمد بن سلمہ نے ، ان کو محمد بن بشار نے ان کو محمد بن جعفر نے ، ان کو شعبہ نے ان کو نعمان بن سالم نے ، انہوں نے کہا کہ میں نے سنا یعقوب بن عاصم بن عروہ بن مسعود سے انہوں نے کہا کہ میں نے سنا ایک آدمی سے اس نے کہا میں نے سنا عبداللہ بن عمرو سے کہ آپ یہ کہتے ہیں کہ قیامت ایسے ایسے قائم ہو گی۔ انہوں نے فرمایا میں نے ارادہ کیا تھا کہ میں تم لوگوں کو کوئی حدیث بیان نہیں کروں گا۔ میں کہتا ہوں کہ تم لوگ تھوڑے ہی دنوں کے بعد بہت بڑا معاملہ دیکھو گے (تھوڑے ہی دنوں کے بعد ) بیت اللہ کے جلنے کا واقعہ پیش آ گیا ۔ شعبہ نے کہا یہ بات یہ اس جیسی بات۔ عبداللہ بن عمرو نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں دجال نکلے گا اور وہ چالیس رہے گا ان میں۔ میں نہیں جانتا کہ دن، مہینے یا سال۔ پھر اللہ تعالیٰ ان میں عیسیٰ بن مریم کو بھیجیں گے ۔ وہ عروہ بن مسعود ثقفی جیسے ہوں گے۔ آ کر دجال کو تلاش کریں گے اور اس کو قتل کر دیں گے۔ پھر سات برس تک لوگ اس طرح رہیں گے کہ دو آدمیوں میں بھی جھگڑا نہیں ہو گا۔ پھر اللہ تعالیٰ شام کی طرف سے ٹھنڈی ہوا چلائیں گے۔ جس سے ہر وہ آدمی انتقال کر جائے گا۔ جس کے دل میں ایک ذرہ کے برابر ایمان ہو گا یہاں تک کہ اگر کوئی شخص کسی پہاڑ کے جگر میں داخل ہو جائے تو وہ ہوا اس پر بھی پہنچ جائے گی۔ عبداللہ بن عمرو نے کہا کہ میں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی تھی اور بدترین لوگ زندہ باقی رہ جائیں گے۔ پرندوں کے ہلاک ہونے میں اور درندوں کے خوابوں میں (یعنی برائیوں کی طرف پرندوں کی طرح اڑ کر جائیں، اخلا میں درندوں کی طرح ) جو کسی نیکی کو نیکی نہیں سمجھیں گے اور کسی برائی کو برائی نہیں جانیں گے۔ شیطان ان کے سامنے بھیس بدل کر آئے گا اور ان سے کہے گا کیا تم لوگ شرم نہیں کرتے۔ وہ لوگوں کو کہے گا اور وہ بتوں کی عیادت کریں گے ۔ وہ اس کیفیت میں رزق کی فراوانی میں ہوں گے ، زندگی عیش کی ہو گی۔ اس کےبعد صور پھونک دیا جائے گا جو بھی سنے گا وہی کان لگائے گا اور کان لگاتے ہی مر جائے گا ۔ جو نظر اُٹھائے گا نیچے کرنے سے پہلے مر جائے گا جو کروٹ پھرے گا مڑنے سے پہلے مر جائے گا۔ پہلا شخص جو اس کی آواز سنے گا وہ پانی کو حوض پلاستر کر رہاہو گا سن کر بے ہوش ہو جائے گا۔ اس کے بعد کوئی بھی باقی نہیں رہےگا۔ سب لوگ بے ہوش ہو جائیں گے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ بارش کریں گے۔ پھنوار کی طرح یا سائے کی طرح۔ نعمان کو شک ہے۔ اس بارش سے لوگوں کے جسم اگیں گے۔ اس کے بعد دوسری بار صور پھونکا جائے گا۔ (جس کے نتیجے میں لوگ) اچانک کھڑے دیکھ رہے ہوں گے۔ (زندہ ہو کر) اس کے بعد لوگوں سے کہا جائے گا چلو تم اپنے رب کے پاس (اعلان ہو گا) روکو، ان کو ان کا حساب ہو گا۔ اس کے بعد کہا جائے گا کہ آگ اور جہنم کے لئے لوگوں کو نکالو۔ پوچھا جائے گا کہ کتنی تعداد میں؟ جواب آئے گا ہر ایک ہزار میں سے نو سو ننانوے جہنم میں بھیجو۔ محمد بن جعفر نے کہا کہ شعبہ نے مجھے یہ حدیث کئی بار بیان کی اور میں نے اس کو اس پر پیش بھی کیا تھا۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں محمد بن بشار سے۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ عبداللہ بن عمرو نے اس حدیث میں تمام بڑی بڑی نشانیاں ذکر نہیں فرمائیں جیسے یا جوج ماجوج کا نکلنا۔ دلبۃ الارض کا ظہور۔ سورج کا مغرب سے طلوع ۔ عبداللہ بن عمرو کے سوا باقیوں نے عیسیٰ بن مریم کے نزول کے بعد یا جوج ماجوج کا خروج ذکر کیا ہے اور اللہ تعالیٰ کا یاجوج ماجوج پر وبائی مرض کے ساتھ موت بھیجناقیامت قائم ہونے پر اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ بھی ذکر کیا ہے کہ قیامت کی نشانیوں میں سے ظہور کے اعتبار سے پہلی نشانی سورج کا مغرب کی طرف سے طلوع ہونا ہے اور دلبۃ الارض کا ظہور صبح چاشت کے وقت ہو گا۔ دونوں میں سے جو پہلے ظاہر ہو ئی دوسری چیز اس کے پیچھے ہو گی۔ پھر انہوں نے اپنی طرف سے یہ بات کہی کہ میرا گمان ہے کہ ظہور کے اعتبار سے پہلی نشانی سورج کا مغرب سے طلوع ہو نا ہو گا۔ ہاں یہ بات عبداللہ بن عمرو نے اس وقت کہی تھی جب انہوں نے مروان بن حکم کے قوم کے بارے میں خبر دی تھی کہ خروج کے اعتبار سے پہلی نشانی دجا ل کا ظہور ہو گا۔ جب حدیث عبداللہ صحیح ہے تو وہ اپنے ماسوا سے اولیٰ ہے۔ اور وہ صحیح ہے۔ اس میں کوئی شک بھی نہیں ہے۔ اس لیے کہ اس کی اسناد صحیح ہے۔ واللہ اعلم۔ ان نشانیوں کے صور پھونکنے سے قبل ہونے میں کوئی شک نہیں ہے ۔ بعض پہلے یا بعض بعد میں ہوں گی۔ مگر جو چیز آنے ولی ہے وہ قریب ہے۔
Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection · Hadith 351