شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر السبع الطوال · حديث 2426
2426 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو منصور ثنا أحمد بن نجدة ثنا سعيد بن منصور ثنا سفيان عن مسعر : فذكره بإسناده قال : و قال عبد الله :
أن في النساء لخمس آيات ما يسرني بهن الدنيا و ما فيها لقد علمت أن العلماء إذ ارموا بها يعرفونها ثم ذكر الآيات و قال في آخره : { و من يعمل سوءا أو يظلم نفسه } الآية
ہمیں خبر دی ہے ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو منصور نے ان کو احمد بن نجدہ نے ان کو سعید بن منصور نے ان کو سفیان نے ان کو مسعر نے پھر مذکور کو ذکر کیا اس کی اسناد کے ساتھ اس نے کہا کہ عبداللہ بن مسعود نے فرمایا بے شک سورۃ نساء میں پانچ آیات ہیں مجھے یہ پسند نہیں ہے کہ مجھے ان کے بدلے میں دنیا مافیہا مل جائے ۔ میں جانتا ہوں کہ علماء جب ان آیات پر گزریں گے تو ان کو پہچان لیں گے اس کے بعد انہوں نے ان آیات کو ذکر کر دیا اور ان کے آخر میں یہ کہا کہ : " ومن یعمل سوء اویظلم نفسہ الخ"
Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned the seven sleepless · Hadith 2426
شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل العقل الذي هو من النعم العظام التي كرم بها عباده · حديث 4702
4702 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان ببغداد أنا أبو سهل بن زياد القطان نا بشر بن موسى نا محمد بن الفضيل بن صالح نا حسين الجعفي عن محمد بن أبي إسماعيل قال : كنا نجالس منصور بن المعتمر إذا أراد أن يقوم اعتمد على يديه و قال : اللهم اجمع على الهدى أمرنا و اجعل التقوى زادنا و الجنة مآبنا و ارزقنا شكرا يرضيك عنا و ورعا يحجزنا عن معاصيك و خلقا نعيش به من الناس و عقلا ينفعنا به قال : فكان إذا قال : و عقلا ينفعنا به يأخذني الضحك فيقول : من أي شيء تضحك يا ابن أبي إسماعيل إن الرجل ليكون عنده و لا يكون له عقل فلا يكون عنده شيء
قال الحليمي : و من أعظم فوائد نعم الله تعالى جده الاستدلال بها على المنعم فإن فيها الدليل عليه و على قدرته و علمه و حكمته و وجدانيته و قد نبه الله تعالى على ذلك في غير موضع من كتابه فإنه تبارك و تعالى امتن علينا بأن جعل لنا السمع و الأبصار و الأفئدة بعد أن أخرجنا من بطون أمهاتنا لا نعلم شيئا فذكر بعض الآيات التي وردت في ذلك ثم قال :
و قال في آية آخرى :
{ و في أنفسكم أفلا تبصرون }
فكان معنى ذلك في أنفسكم دلالات الحدث و هي الأحوال المتقلبة بهم من حيث لم ينفكوا عنها فإن تلك الأحوال إذا كانت أحداثا و لم يكونوا خلوا منها قط فواجب أن يعلموا أنهم أحداث و الحدث لا يخلو من محدث
و قيل معنى ذلك أنكم تعلمون من أنفسكم أنكم لم تكونوا ثم كنتم فلا يخلو أحدكم من أن يكون هو الذي خلق نفسه أو أبواه خلقاه أو غيره و غيرهما فلا يمكن أن يكون خلق نفسه لأنه لو شاء أحد ما تمت قواه و كمل عقله أن يتم من نفسه عضوا ناقصا لم يقدر عليه فوجب أن يعلم أنه إذا كان نطفة مواتا من أن يقلب نفسه حالا فحالا أبعد و عنه أعجز ثم يعلم أنه إذا كان موجودا غير أنه ضعيف أو موات لا يقدر من أمره على شيء فهو إذا كان عدما من بعد ذلك أبعد و لا يمكن أن يكون أبواه فعلا لأن الأبوين في العجز الذي ذكرنا مثله فإذا استحال أن يكون فاعلا لنفسه و استحال أن يكون فاعلا لأبويه فحق أذا أنه فعل فاعل غيره و غير أبويه و إنما يراد الله بذلك الفاعل أفلا تبصرون ألا تدركون بعقولكم ما فيها من هذه الهداية فتهتدوا بها و لا يكفروا فإن قال قائل إن الفاعل هو الطبع قيل له و ما الطبع فإذا هذا الاسم نفسه يدل على أن للمسمى به فاعلا لأن الطبع لا يكون إلا فعل الطابع كما لا يكون الضرب إلا فعل الضارب فإن الطبيعة هي المطبوعة كما أن القتيلة هي المقتولة و الذبيحة هي المذبوحة و الصنيعة هي المصنوعة و المفعول في افتضاء الفعل كالفعل و إن قالوا الطبيعة قوة مخصوصة فذكروها و نعتوها قيل لهم القوة عرض لا بقاء لهها فيستحيل أن يؤلف الأجسام كما يستحيل على اللون أن يفعل ذلك و على الصوت و الطعم و لأن خلق الإنسان فعل سديد متقن فلا يمكن أن يكون صدر إلا من عالم حكيم و القوة لا تليق بها الحياة و لا القدرة و لا العلم و لا الحكمة فأين يمكن أن يكون الخلق وقع منها و إن وصفوا الطبيعة بهذه الصفات كانوا مشيرين بمن هي له إلا البارئ إلا أنهم يلحدون في اسمه فيسمون به غيره و يثبتونه و عندهم أنهم ينفونه و هذا نهاية الجهل فيقال لهم ما قال الله عز و جل لهم :
{ أفلا تبصرون }
أي لا عقول لكم تدركون بها خطأ هذا القول و فساده فترجعوا عنه إلى ما يصح و يسلم على النظر و بالله التوفيق
و قد ذكر الله تعالى في كتابه ما جعل الناس من نعمة و إنه إن نزع عنهم تلك النعم أو نزع بعضها فمن إله غير الله يأتيهم بها و في ذلك على نفي الشرك و بالله التوفيق
ہمیں خبر دی ابوالحسین بن فضل نے بغداد میں ۔ ان کو ابوسہل بن زیا دقطان نے ان کو بشر بن موسیٰ نے ان کومحمد بن فضل بن صالح نے ان کو حسین جعفی نے ان کو تجھ بن اسماعیل نے وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ منصور بن معتمر کے پاس بیٹھا کرتے تھے۔ وہ جب اٹھنا چاہتے تھے تو زمین پر اپنے ہاتھوں کا سہارا لیتے تھے اور یہ دعا کرتے تھے اے اللہ ہمارا معاملہ ہدایت پر مجتمع فرما۔ اور تقوی کو ہمارا زادراہ بنا۔ اور جنت کو ہمارا ٹھکانہ بنا۔ اور ہمیں شکر کرنے کی توفیق عطافرما جو تجھے ہم سے راضی کر دے اور ہمیں پرہیز گاری عطافرما جو ہیں تیری نافرمانی سے روک دے۔ اور ہمیں اخلاق عطافرما جس کے ساتھ ہم لوگوں سے عزت پائیں۔ اور ہمیں عقل عطا فرما جس کے ساتھ ہم فائدہ اٹھائیں۔ کہتے ہیں کہ ۔ وہ جب یہ کہتے تھے کہ ایسی عقل عطافرما جس کے ساتھ ہم فائدہ اٹھائیں۔ تو مجھے آ جاتی تھی تو وہ مجھ سے پوچھتے تھے کہ تم کس وجہ سے ہنس رہے ہو؟ اے ابن ابو اسماعیل بے شک آدمی کے پاس یہ بھی ہوتا ہے وہ بھی ہوتا ہے( سب کچھ ہوتا ہے) مگر اس کے پاس عقل نہیں ہوتی لہذااس کے پاس کوئی شئی نہیں ہوتی۔ شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا۔ کہ اللہ کی نعمتوں کے اعظم فوائد میں سے ہے عقل کے ساتھ دلیل پکڑنا منعم پر بے شک اس میں اللہ کے بارے میں دلیل ہے اس کی قدرت پر اس کے علم پر اور اس کی حکمت پر اور اس کی وحدانیت پر اور تحقیق ہمیں اللہ نے اس بات پر کئی مقامات پر متنبہ فرمایا ہے اپنی کتاب میں بے شک اللہ تعالیٰ نے ہمارے اوپر احسان فرمایا ہے کہ اس نے ہمیں کان دیئے اور آنکھیں عطا کیں اور دل دیا اس کے بعد کہ اس نے ہمیں نکالا ہماری ماؤں کے پیٹوں سے جب کہ ہم کچھ بھی نہیں جانتے تھے۔ اس کے بعد انہوں نے بعض آیات ذکر فرمائی ہیں۔ جو اس بارے میں آئی ہیں اس کے بعد فرمایا۔ کہ اللہ تعالیٰ نے دوسری آیت میں ارشاد فرمایا ہے۔ وفی انفسکم افلا تبصرون. کہ تمہارے اپنے اندر اللہ کی قدرت وحدانیت کے دلائل میں کیا تم دیکھتے نہیں ہو۔ تو اس کا معنی ہے کہ تمہارے نفسوں میں حادث اور مخلوق ہونے کے دلائل ہیں اور یہ بہت سارے احوال ہیں جوان نفسوں کے ساتھ اس طرح لگے ہوئے ہیں کہ ان سے جدانہیں ہوتے۔ یہ احوال جب نو پیدا ہیں اور ان سے علیحدہ بھی نہیں ہیں قطعاً تو ضروری ہے کہ یہ جانا جائے کہ وہ احداث ہیں اور حدث محدث سے اور بنانے والے سے خالی نہیں ہوتی۔ اور کہا گیا ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ تم اپنے نفسوں سے جانتے ہو کہ تم لوگ نہیں تھے اس کے بعد تم پیدا ہو گئے۔ اور تم میں سے کوئی ایسا بھی نہیں کہ اس نے اپنے آپ کو خود پیدا کر لیا ہو یا اس کے ماں باپ نے اس کو پیدا کر لیا ہے یا کسی اور انسان نے پیدا کر لیا ہو۔ یہ بھی ممکن نہیں ہے کہ کسی نے اپنے نفس کو خود پیدا کر لیا ہے کیونکہ اگر کوئی یہ چاہے بھی تو اس کی قوتیں پوری نہیں ہوسکتیں اور نہ ہی اس کی عقل ایسی کامل ہے کہ وہ اپنے نفس کے اور اپنے آپ کے عضو ناقص کو پورا کر سکے اس پر کوئی بھی قادر نہیں ہے لہذ اواجب ہے کہ وہ یہ جان لے کہ جب وہ نطفہ بے جان تھا اور اس بات سے عاجز تھا کہ اپنے آپ کو ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف تبدیل کرے یہ اس سے بعید تھا اور وہ اس سے عاجز تھا۔ پھر یہ جان لے کہ جب وہ موجود ہے قطع نظر اس سے کہ وہ ضعیف ہو یا بے جان ہو وہ اپنے کسی بھی معاملے میں کسی شئی پر قادر نہیں ہے۔ تو کیا حال ہوگا اس عاجزی کا اسوقت جب اس کے بعد پھر ایک دفعہ عدم ہوگا اور نہیں ہوگا۔ اور اس کے ماں باپ بھی عاجز ہوں گے کیونکہ ہم اسے ذکر چکے میں کہ وہ بھی اس کے بنانے سے عاجز ہوں گے جب یہ بات محال ہے کہ وہ اپنے آپ کا خالق اور بنانے والا ہو سکے تو یہ بھی محال ہے کہ اپنے والدین کا خالق اور بنانے والا ہو سکے؟ پھر اس وقت حق ہے کہ یہ یقین کر لے کہ پھر اس کے علاوہ کوئی اور فاعل اس کا بنانے والا ہے جو ا سکے سوا ہے اور اس کے ماں باپ کے سوا ہے۔ سوائے اس کے نہیں کہ اللہ نے اسی فاعل حقیقی کو ہی مرا دلیا ہے یہ کہہ کر کے:وفي انفسكم افلا تبصرون. یعنی کیا تم لوگ اپنی اپنی عقلوں کے ساتھ اس کا ادراک نہیں کر سکتے جواس میں ہدایت ہے لہذا تم اس کے ساتھ ہدایت حاصل کرو اور انکار نہ کرو۔ اگر کوئی کہنے والا یہ کہے کہ اصل میں فاعل و خالق طبع ہے۔ تو اس سے کہا جائے گا کہ طبع کیا ہے؟ اس لئے کہ یہ نام بذات خود دلالت کرتا ہے کہ جس چیز کا یہ نام رکھا گیا ہے اس کا بھی کوئی فاعل اور بنانے والا ہے۔ اس لئے کہ طبع اس کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا کہ وہ طابع کا فعل ہوتا ہے جیسی ضرب اس کے سوا کچھ نہیں ہوتا کہ وہ ضارب کا فعل ہوتا ہے۔ اور طبیعت بمعنی مطبوعہ ہے جیسے قتیلہ بمعنی مقتولہ ہے ذبیحہ بمعنی مذبوحہ ہے۔ صنیعہ بمعنی مصنوعہ ہے۔ طبیعت بنائی ہوئی۔ قتل کی ہوئی۔ ذبح کی ہوئی بنائی ہوئی چیز کو کہتے ہیں۔ مفعول فاعل کو تقاضا کرنے میں فعل کی طرح ہوتا یعنی جیسے وہ فاعل کو اور کرنے والے کو تقاضا کرتا ہے یہ بھی کرتا۔ (یعنی جیسے کوئی فعل فاعل کے بغیر وجود میں نہیں آ سکتا ایسے ہی کوئی مفعول بھی نہیں آ سکتا۔) اور اگر یہ کہا جائے کہ طبیعت ایک قوت مخصوصہ ہوتی ہے چنانچہ اس کو ذکر کرتے ہیں اور اس کی وصف بیان کرتے ہیں۔ تو ان سے کہا جائے گا کہ قوت تو عرض ہوتی ہے جو بذات خود قائم بھی نہیں ہوتی نہ ہی اس کی کوئی بقا ہوتی ہے لہذا یہ محال ہے کہ وہ اجسام کو مرکب کرے اور ان کی تالیف و ترکیب کرے مثال کے طور پر رنگ کو لے لیجئے وہ بچارے اپنے وجود بقا کے لئے محتاج ہے کہ کسی اور شئی کے سہارا موجود ہو جائے لہذا اس کے لئے یہ محال ہے کہ وہ کسی شئی کا فاعل ہو سکے یا اس کو وجود عطا کر سکے۔ اسی طرح آواز ہے اور طعم اور ذائقہ ہے اس کے لئے یہ محال ہے کہ وہ کسی اور چیز کو وجود عطا کر سکے۔ اور دوسرے یہ کہ انسان کی تخلیق ایک درست فعل ہے۔ یقینی ہے جس کا صدور ممکن نہیں ہے مگر ایک عالم سے جو کہ حکمت والا ہے۔ اور وہی محض قوت یعنی طبیعت تو حیات اس کے لائق ہے اور نہ ہی قدرت اس میں ہے اور نہ ہی علم ہے اس میں نہ ہی حکمت لہذا کہاں سے ممکن ہوسکتا ہے کہ تخلیق اس سے واقع ہوئی ہو۔ یاواقع ہو سکے۔ اور اگر وہ قائلین طبیعت کو ان مذکورہ اوصاف سے متصف کریں تو وہ ان صفات خداوندی کو جو کہ صرف باری تعالیٰ کی ہیں، طبیعت میں ثابت کریں گے۔ ہاں مگر یہ کہ وہ اللہ کے نام میں الحاد اور کجروی کریں۔ اور اللہ کے نام کے ساتھ کسی اور کو موسوم کریں اور اللہ کا نام غیراللہ کے لئے ثابت کریں۔ اور اللہ سے اس کی نفی کریں جب کہ یہ انتہائی جہل ہے۔ لہذا ان سے کہا جائے گا جو اللہ نے ان کے لئے کہا ہے افلا تبصرون کیا تم دیکھتے نہیں ہو۔ یعنی تمہارے پاس وہ عقلیں نہیں ہیں جن کے ساتھ تم اپنے اس قول کے غلط ہونے کا ادراک کر سکو اور اس کے فاسد ہونے کو جان سکو اور پھر تم اس قول فاسد سے رجوع کرسکو انہیں قول کی طرف جو صحیح ہے اور درست ہے نظریاتی اعتبار سے۔ تحقیق اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ذکر فرمایا ہے۔ ان تمام نعمتوں کاوجود اس نے لوگوں کے لئے بنائی ہیں۔ اگر وہ پوری نعمتیں ان سے چھین لے یابعض چھین لے تو پھر دوسرا کون الہٰ ہے اور معبود ہے اللہ کے سوا جو ان کو ان کے پاس لے آئے اور ان کو دے دے لہذا اس میں شرک کی نفی پر دلیل موجود ہے۔
كنا نجالس منصور بن المعتمر إذا أراد ← مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي إسْمَاعِيلَ ← حُسَيْنٌ الْجُعْفِيُّ ← محمد بن الفضيل بن صالح ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،
Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › A chapter on the virtue of the mind, which is one of the great blessings with which he honored his servants · Hadith 4702
شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4828
4828 - أخبرنا أبو عمرو الأديب أنا أبو بكر الإسماعيلي أخبرني الحسن بن سفيان نا محمد بن أبي بكر المقدمي نا يحيى يعني ابن سعيد عن عوف نا رجاء عن سمرة بن جندب : عن النبي صلى الله عليه و سلم في رؤياه قال : فانطلقنا فأتينا على رجل مستلق لقفاه و إذا آخر قائم عليه بكلوب من حديد و إذا هو يأتي أحد شقي وجهه فيشرشر شدقه إلى قفاه و منخره إلى قفاه و عينه إلى قفاه قال : ثم يتجول إلى الجانب الآخر فيفعل به مثل ما فعل بالجانب الأول فما يفرغ من ذلك الجانب حتى يصح الأول كما كان ثم يعود فيفعل كما كان فعل به في المرة الأولى قال : قلت سبحان الله ما هذان قالا : انطلق فذكر الحديث ثم قال في التفسير فأما الرجل الذي أتيت عليه يشرشر شدقه إلى قفاه و عينه إلى قفاه و منخراه إلى قفاه فإنه الرجل يغدو من بيته فيكذب الكذبة تبلغ الآفاق أخرجه البخاري في الصحيح من حديث عوف
ہمیں خبر دی ابوعمر ادیب نے ان کو ابوبکر اسماعیلی نے ان کو خبر دی حسن ابن سفیان نے ان کو محمد بن بکر مقدمی نے ان کو یحییٰ نے یعنی ابن سعید نے ان کو عوف نے ان کو ابورجآء نے ان کو سمرہ بن جندب نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے خواب کے بارے میں وہ فرماتے ہیں کہ (اس نے خواب دیکھا) ہم دو آدمی چلے جا رہے ہیں اتنے ہم ایک ایسے آدمی کے اوپر جا پہنچتے ہیں جو کہ چت لیٹا ہوا ہے اور دوسرا آدمی لوہے کا کدال یا کونڈی سنبھالے ہوئے ہے وہ لیٹنے والے کے چہرے کی ایک طرف سے آتا ہے اور اس اوزار کو اس کے ایک طرف کی باچھ میں ڈال کر کھینچتا ہے جس کے ساتھ وہ اس کو اس کی گدی تک چیر دیتا ہے۔ پھر اس کے ایک نتھنے کو گدی تک چیر دیتا ہے پھر آنکھ گدی تک چیر دیتا ہے۔ اس کے بعد وہ دوسری جانب آ جاتا ہے اور دوسری باچھ کے ساتھ اور نتھنے کے ساتھ اور آنکھ کے ساتھ بھی وہی حشر کرتا ہے جو اس نے پہلے کے ساتھ کیا تھا اتنے میں پہلا حصہ درست ہو چکا ہوتا ہے پھر وہ اس پر آ جاتا ہے اور اس کے ساتھ بھی وہی پہلے والا عمل دہراتا ہے کہتے ہیں کہ میں نے کہا سبحان اللہ یہ دونوں کون ہیں؟ دونوں نے کہا کہ آپ چلے۔ آپ نے حدیث ذکر کی اور اس کی تعبیر میں فرمایا کہ بہر حال وہ آدمی جس کے کلے ے جا رہے تھے اور ناک اور آنکھیں گدی تک وہ انسان تھا جو صبح کو اپنے گھر سے نکلتا ہے اور جھوٹ بولنا شروع کرتا ہے یہاں تک کہ وہ جھوٹ تمام اطراف میں پھیل جاتا ہے۔ بخاری نے اس کو نقل کیا حدیث عوف سے۔
Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › And it is the door in keeping the tongue · Hadith 4828
شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4858
4858 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو العباس محمد بن إسحاق بن أيوب الضبعي نا الحسن بن علي بن زياد نا عبد العزيز بن عبد الله بن العامري الأويسي نا إبراهيم بن أبي عثمان عن أبي حرزة : أن العشر الآيات التي كتب الله تبارك و تعالى لموسى في الألواح :
أن اعبدني و لا تشرك بي شيئا و لا تحلف باسمي كاذبا فإني لا أزكي و لا أطهر من حلف باسمي كاذبا و اشكر لي و لوالديك أنسألك في أجلك و أقيك المتالف و لا تسرق و لا تزن فاحجب عنك نور وجهي و تغلق عن دعائك أبواب سمواتي و لا تغدر بحليل جارك و أحب للناس ما تحب لنفسك و لا تشهد بما لم يعه سمعك و يفقه قلبك فإني واقف أهل الشهادات على شهاداتهم يوم القيامة ثم سائلهم عنها و لا تذبح لغيري فإنه لا يصعد إلي من قربان أهل الأرض إلا ما ذكر عليه اسمي
أما الكذب الذي يضربه الكذب غيره فنحو أن يشتمه بالباطل و يضيف إليه ما يشينه به و منه القذف بالزنا و قد شرع الله فيه الحد أو يشهد عليه زورا بمال أو طلاق أو عتق أو قتل فيجمع ذلك ذنوبا منها الكذب و منها الإضرار بالمشهود عليه
و منها أنه نصب نفسه منصب الأمناء و نصبه الحاكم ذلك المنصب ثم أنه كان و منها الجرأة على الله تعالى فإنه يشهد عليه الحاكم المنفذ عن الله تعالى في مجلس يمضي فيه أحكامه و لم يوضع إلا للعدل بين الناس
ہمیں خبر دی ابونصر بن قتادہ نے ان کو ابو العباس محمد بن اسحٰق بن ایوب ضبعی نے ان کو حسن بن علی بن زیاد نے ان کو عبدالعزیز بن عبداللہ بن عامری اویسی نے ان کو ابراہیم بن ابوعثمان نے ان کو ابوحرزہ نے کہ وہ دس آیات جنہیں اللہ نے موسیٰ علیہ السلام کے لئے تختیوں پرلکھوا دیا تھا یہ تھیں کہ تم میری ہی عبادت کرنا۔ میرے ساتھ کسی شئی کوشریک نہ کرنا۔ اور میرے نام کے ساتھ جھوٹی قسم نہ کھانا بیشک میں اس شخص کو پاک نہیں کروں گا نہ ہی مطہر کروں گا جو شخص میرے نام کے ساتھ جھوٹی قسم کھائے گا۔ تم میرا شکر کرنا اور اپنے والدین کا شکر کرنا۔ میں تیرے لئے تیرے اجل میں تاخیر کر دوں گا۔ اور تجھے بچاؤں گا متفق ہوکر۔ اور تم چوری نہ کرنا۔ زنا نہ کرنا۔ ( ورنہ تجھ سے میری ذات کا نور چپ جائے گا۔ اور تیری دعا کے آگے میرے آسانوں کے دروازے بند ہوجائیں گے۔ اور اپنے پڑوسی کی عزت کے ساتھ دھوکہ نہ کرنا۔ اور لوگوں کے لئے وہی پسند کرنا جو کچھ تم اپنے لئے پسند کرو۔ اور تم اس چیز کی شہادت نہ دینا جس کو تیرے کانوں نے سن کر محفوظ نہ کیا ہو اور تیرے دل نے اس کو نہ سمجھا ہو۔ بیشک میں اہل شہادات کو ان کی شہادتوں پر قیامت کے دن کھڑا کروں گا۔ پھر میں ان سے ان کے بارے میں پوچھوں گا۔ اور تم میرے سواکسی اور کے نام پر جانور ذبح نہ کرنا( غیر اللہ کے نام پر) بے شک حال یہ ہے کہ اہل زمین کی قربانیاں میری طرف( قبولیت کے لئے) اس وقت تک نہیں چڑھتیں جب تک ان پر میرا نام نہ لیا جائے۔ بہر حال جو جھوٹ کے ذریعے دوسرے کو نقصان پہنچائے اس کی مثال ایسی ہے جیسے اس کو جھوٹی اور باطل گالی اور الزام دے اور اس کے اوپر اس کا اضافہ کرے کہ اس کو عیب لگائے۔ اسی قبیلے سے ہے زنا کی تہمت لگانا حالانکہ اللہ نے اس میں حد مقرر کر رکھی ہے۔ یا کسی کے خلاف جھوٹی گواہی دے دے۔ مال کے بارے میں یا طلاق کے بارے میں۔ یا غلام آزاد کرنے کے بارے میں۔ یا قتل کے بارے میں( اس طرح کا فعل) کئی کئی گناہوں پر مشتمل ہے منجملہ ان کے ایک ان میں سے جھوٹ بھی ہے۔ ایک ان میں سے اضرار با مشہود ہے( یعنی جس کے خلاف شہادت دی ہے اس کو نقصان پہنچانا۔ اور ان گناہوں میں سے ایک یہ بھی ہیکہ وہ اپنے آپ کو امینوں کے منصب پر کھڑا کرتا ہے اور اپنے آپ کو اس منصب کا حاکم گردانتا ہے۔ پھر یہ کہ وہ اس کے بارے گویا حاکم ہے۔ اور ان مجموعہ گناہوں میں سے ایک اللہ تعالیٰ پر جسارت کرتا ہے کیونکہ یہ حقیقت ہے اس طرح کی شہادت وہ حاکم دیتا ہے جو اللہ کی طرف سے نافذ کرنے والا ہوتا ہے۔ ایسی مجلس میں جس میں اس کے احکام جاری ہوتے ہیں جو کہ صرف لوگوں کے درمیان انصاف کرنے کے لئے قائم کی گئی اور بر پاہوگئی ہوتی ہے۔
أبي حرزة أن العشر الآيات التي ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ، ← عبد العزيز بن عبد الله بن العامري الأويسي ← الحسن بن علي بن زياد ← أبو العباس محمد بن إسحاق بن أيوب الضبعي ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،
Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › And it is the door in keeping the tongue · Hadith 4858
شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر سورة بني إسرائيل و الكهف و مريم و طه و الأنبياء · حديث 2449
2449 - أخبرنا أبو علي الروذباري ثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن محمديه العسكري ثنا جعفر بن محمد القلانس ثنا آدم بن أبي إياس ثنا شعبة عن أبي إسحاق قال : سمعت عبد الرحمن بن يزيد يقول : سمعت ابن مسعود يقول في بني إسرائيل و الكهف و مريم و طه و الأنبياء أنهم من العتاق الأول و هن من تلادي
رواه البخاري في الصحيح عن آدم بن أبي إياس
و العتاق جمع عتيق و العرب تجعل كل شيء بلغ الغاية في الجودة عتيق يريد تفضيل هذه السور لما تضمن من ذكر القصص و أخبار الأنبياء عليهم الصلاة السلام و أخبار الأمم و التلاد ما كان قديما من المال يريد أنهما من أوائل السور المنزلة في أول الإسلام لأنها مكية و أنها من أول ما قرأه و حفظه من القرآن و الله أعلم
ہمیں خبر دی ابو علی روز باری نے ان کو ابو بکر محمد بن احمد بن محمدیہ عسکری نے ان کو جعفر بن محمد قلانس نے ان کو آدم بن ابو ایاس نے ان کو شعبہ نے ان کو ابو اسحٰق نے انہوں نے کہا کہ میں نے سنا عبدالرحمٰن بن یزید سے وہ کہتے تھے میں نے سنا ابن مسعود سے وہ فرماتے تھے کہ سورۃ بنی اسرائیل ، سورۃ کہف ، سورۃ مریم ، سورۃ طہ ، سورۃ انبیاء ، یہ ساری سورتیں عتاق اول ہیں جو اپنی جودۃ میں اعلیٰ درجے پر ہیں اور قرآن کی پہلی پہلی سورتوں میں سے ہیں ۔ اس کو بخاری نے صحیح میں روایت کیا ہے آدم بن ابو ایاس نے ۔ عتاق تقیق کی جمع ہے۔ عربوں کی عادت تھی کہ وہ ہر اس چیز کو جو جودۃ میں اچھی ہونے میں اپنی انتہا کو پہنچ جاتی اس کو عتیق کہتے تھے گویا کہ بقول ابن مسعود رضی اللہ عنہ ان سورتوں میں لفظی اور معنوی اعلیٰ درجے کی جودۃ ہے فصاھت ہے بلاغت ہے ۔ امام بیہقی فرماتے ہیں کہ مذکورہ الفاظ سے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان سورتوں کی فضیلت مراد لی ہے جو بوجہ اس کے کہ یہ سورتیں مشتمل ہیں ذکر قصص پر اور اخبار انبیاء علیہم السلام پر اور اجتہاد و الم پر اور حلاد کہتے ہیں اس مال کو جو قدیم اور پرانا ہو ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی اس سے مراد ہے کہ یہ پانچوں سورتیں ان پہلی پہلی سورتوں میں سے ہیں جو ابتداء اسلام میں نازل ہوئی تھیں کیونکہ یہ پانچوں سورتیں مکی ہیں اور ان سورتوں میں سے ہیں جن کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلے پہلے پڑھا تھا اور حفظ کیا تھا۔
ابْنِ مَسْعُودٍ، ← عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ← جعفر بن محمد القلانس ← أبو بكر محمد بن أحمد بن محمديه العسكري ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ
Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned Surat Bani Israel, the Cave, Maryam, Taha, and the Prophets · Hadith 2449
شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص سورة الإخلاص بالذكر · حديث 2554
2554 - أخبرنا أبو بكر القاضي أنا حاجب بن أحمد الطوسي ثنا عبد الرحيم بن منيب ثنا يزيد بن هارون أنا أبو محمد بن العلاء الثقفي قال : سمعت أنس بن مالك يقول : غزونا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم غزوة تبوك فطلعت الشمس ذات يوم و نحن بتبوك بنور و شعاع و ضياء لم نرها قبل ذلك فيما مضى فجعل رسول الله صلى الله عليه و سلم يعجب من ضيائها و نورها إذ آتاه جبريل عليه السلام بالوحي قال : فقال لجبريل ما للشمس طلعت لها ضياء و نورا و شعاع لم أرها طلعت فيما مضى قال : يا نبي الله مات اليوم معاوية بن أبي معاوية الليثي فبعث الله إليه سبعين ألف ملك يصلون عليه ثم قال : بم ذاك يا جبريل قال كان يكثر تلاوة { قل هو الله أحد } قائما و قاعدا و ماشيا و آناء الليل و النهار فهل لك يا نبي الله أن تصلي عليه ثم ترجع فأقبض لك الأرض ففعل لك الأرض ففعل فصلى عليه ثم رجع
ہمیں خبر دی ہے ابو بکر قاضی نے ، ان کو حاجب بن احمد بن احمد طوسی نے ، ان کو عبدالرحیم بن منیب نے ، ان کو یزید بن ہارون نے ، ان کو ابو محمد بن علاء ثقفی نے ۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا انس بن مالک سے ، وہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تبوک کا جہاد کیا۔ ایک دن سورج طلوع ہوا اور ہم تبوک میں تھے ۔ نور اور شعاع اور ضیاء و روشنی ایسی تھی کہ جس کو ہم نے اس سے قبل نہیں دیکھا تھا۔ جو وقت گذرا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس دن کی ضیاء اور نور سے حیران ہونے لگے ۔ اچانک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جبرائیل امین آئے اور وحی لائے تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا سورج کو کیا ہوا جیسے طلوع ہے ۔ آج اس کی ضیاء اور روشنی او رشعاع ایسی ہے جسے میں نے نہیں دیکھا تھا کہ کبھی ایسا سورج طلوع ہوا ہو۔ جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آج معاویہ بن ابو معاویہ لیثی کا انتقال ہو گیا ۔ جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے ستر ہزار فرشتے بھیجے ہیں جو اس کا نماز جنازہ پڑھیں گے ۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا کہ یہ کس وجہ سے ہے اے جبرائیل ؟ جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ وہ کثرت کے ساتھ قل ھواللہ احد کی تلاوت کرتے تھے ۔ بحالت قیام ہو یا بحالت قعود ہو یا چلنے کی حالت ہو۔ دن رات ہو ۔ اے اللہ کے نبی کیا آپ کو دلچسپی ہے کہ آپ اس کا جنازہ پڑھیں پھر واپس جہاد میں ( تبوک میں) لوٹ آئیں تو میں آپ کے لئے زمین کو قبض کر لوں گا۔ جبرائیل علیہ السلام نے ایسا کیا۔ لہذا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے معاویہ بن ابو معاویہ کا جنازہ پڑھایا۔ پھر واپس تبوک کے غزوے میں لوٹ آئے۔
اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أبو محمد بن العلاء الثقفي ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مُنِيبٍ، ← حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ الطُّوسِيُّ، ← أَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي
Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Assigning Surat Al-Ikhlas to mention · Hadith 2554
شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص المعوذتين بالذكر · حديث 2571
2571 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني عبد الرحمن بن الحسن القاضي بهمدان ثنا عمير بن مرداس ثنا عبد الله بن نافع الصائغ ثنا يحيى بن عمير عن أبيه عمير مولى نوفل بن عدي عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لا ينامن من أحدكم حتى يقرأ ثلث القرآن قالوا يا رسول الله صلى الله عليه و سلم و كيف يستطيع أحدنا أن يقرأ ثلث القرآن قال : لا يستطيع أن يقرأ بقل هو الله و قل أعوذ برب الفلق و قل أعوذ برب الناس
2571 - مكرر و روينا في كتاب الدعوات عن معاذ بن عبد الله بن حبيب عن أبيه : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : اقرأ { قل هو الله أحد } و المعوذتين حين تمسي و حين تصبح ثلاث مرات تكفيك كل شيء يعني قرائتهم
و قد ذكرنا أخبارا تدل على جواز المفاضلة بين السور و الآيات قال الله عز و جل :
{ ما ننسخ من آية أو ننسها نأت بخير منها أو مثلها }
قال الحليمي رضي الله عنه :
و معنى ذلك يرجع إلى أشياء :
أحدها : أن يكون أما عمل ما ببيان في التلاوة إلا أن أحدهما منسوخة و الأخرى ناسخة فنقول أن الناسخة خير أي العمل بها أولى بالناس و أعود عليهم و على هذا يقال آيات الأمر و النهي و الوعد و الوعيد خير من آيات القصص لأن القصص إنما أريد بها تأكيد الأمر و النهي و الإنذار و التبشير و لا غنى بالناس عن هذه الأمور و قد يستغنون عن القصص و كان ما هو أعود عليهم و أنفع لهم مما يجري مجرى الأصول خيرا لهم مما يجعل تبعا لما لا بد منه
و الآخر : أن يقال أن الآيات التي تشتمل على تعديد أسماء الله جل ثناؤه و بيان صفاته و الدلالة على عظمته و قدسه أفضل و خير بمعنى أن مخبرا بها أسنى و أجل قدرا
و الثالث : أن يقال سورة خير من سورة و آية خير من آية بمعنى أن القارئ يتعجل له بقرائتها فائدة سوى الثواب الآجل و يتأدى منه بتلاوتها عبادة كقراءة آية الكرسي و سورة الإخلاص و المعوذتين فإن قارئها يتعجل بقرائتها الاحتراز مما يخشى و الاعتصام بالله جل ثناؤه و يتأدى بتلاوتها منه لله تعالى عبادة لما فيها من ذكر الله تعالى جده بالصفات العلى على سبيل الاعتقاد لها و سكون النفس إلى فضل ذلك الذكر و يمنه وبركته
فأما آيات الحكم فلا تقع بنفس تلاوتها إقامة الحكم و إنما يقع بها علم و إذكار فقط و كان ما قدمناه قبلها أحق باسم الخير و الأفضل و الله أعلم
ثم لو قيل في الجملة أن القرآن خير من التوراة و الإنجيل و الزبور بمعنى أن التعبد بالتلاوة و العمل واقع به و دونها و الثواب يجب بقرأته لا بقرأتها أو أنه من حيث الإعجاء حجة النبي صلى الله عليه و سلم المبعوث به و تلك الكتب لم تكن معجزه و لا كانت حجج أولئك الأنبياء بل كانت دعوتهم و الحجج غيرها لكان ذلك أيضا نظير ما مضى ذكره و الله أعلم و قد يقال أن سورة أفضل من سورة لأن الله تعالى إعتد قرأتها كقراءة أضعافها فما سواها و أوجب لها من الثواب ما لم يوجب لغيرها و إن كان المعنى الذي لأجله بلغ بها هذا المقدار لا يظهر لنا كما يقال أن يوما أفضل من يوم و شهرا أفضل من شهر بمعنى أن العبادة فيه تفضل على العبادة في غيره و الذنب فيه يكون أعظم منه في غيره و كما يقال أن الحرم أفضل من الحل لأنه يتأدى فيه من المناسك ما لا يتأدى في غيره و الله أعلم
ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو عبدالرحمٰن بن حسن قاضی نے ہمدان میں ان کو عمیر بن مرداس نے ان کو عبید اللہ بن نافع صائغ نے ان کو یحییٰ بن عمیر نے اپنے والد سے ( یہ مولی تو مل بن عدی میں) انہوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ۔تم میں سے کوئی آدمی اس وقت تک بالکل نہ سویا کرے یہاں تک کہ وہ قرآن مجید کی ایک تہائی پڑھ لے لوگوں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سونے سے قبل ہم میں سے کوئی آدمی ایک تہائی قرآن پڑھنے کی کیسے استطاعت رکھے گا فرمایا کہ یہ طاقت نہیں رکھے گا کہ قل ھواللہ احد قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذبرب الناس پڑھ لے ۔مکرر ہے اور ہم نے روایت کی ہے کتاب الدعوات میں معاذ بن عبداللہ بن حبیب سے اس نے اپنے والد سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آپ نے فرمایا تم جب صبح کرو اور شام کرو دونوں وقت تین تین مرتبہ قل ھواللہ اھد اور قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس پڑھ لیا کرو اور یہ پڑھنا آپ کو ہرشئی سے کفایت کرےگا۔
Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Allocating the two female pilgrims to mention · Hadith 2571
شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك قراءة القرآن في المساجد و الأسواق ليعطى و يستأكل به · حديث 2634
2634 - أخبرنا أبو عبد الله محمد بن نظيف الفراء بمكة ثنا أبو حفص عمر بن علي بن الحسن العتكي ثنا محمد بن جعفر الرزاز بمتيح ثنا صالح بن زياد أبو شعيب : سمعت الزبيدي يقول : عبر حمزة الزيات على باب قوم بالبصرة فاستسقى منهم فلما خرج إليه الكوز رده فقيل له في ذلك فقال أخشى أن يكون بعض صبيان هذه الدار قرأ علي فيكون ثوابي منه
قال البيهقي رضي الله عنه : ـ
و أما بيع المصاحف و اشتراؤها فقد ذكرنا في آخر كتاب البيوع من كتاب السنن أن الصحابة رضي الله عنهم فمن بعدهم تكلموا في ذلك فمنهم من كره ذلك و منهم من كره بيعها و لم يكره اشتراءها و معنى الكراهية و الله أعلم تعظيم المصحف من أن يجعل متجرا و قد رخص في بيعها جماعة من التابعين منهم جابر بن زيد و الحسن و الشعبي و عكرمة
و أما تعليم القرآن بالأجرة فقد كرهه جماعة و ورد فيه أخبار و رخص فيه آخرون و حديث أبي سعيد في الرقية بفاتحة الكتاب و أخذ الجعل عليها و الذي روى عن ابن عباس في تلك القصة أن النبي صلى الله عليه و سلم قال :
أن أحق ما أخذتم عليه أجرا كتاب الله عز و جل يدل على جواز ذلك و الله أعلم
و روينا عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه أنه كان يرزق المعلمين و عن عطاء و الحسن و ابن سيرين و أبي قلابة و الحكم الرخصة في ذلك
ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ محمد بن نظیف فراء نے مکہ مکرمہ میں ، ان کو ابو حفص عمر بن علی بن حسن عتکی نے ، ان کو محمد بن جعفر ازاز نےمقام میتح میں ان کو صالح بن زیاد نے ابو شعیب سے ، انہوں نے فرمایا کہ میں نے یزید سے سنا کہتے ہیں کہ حضرت حمزہ زیات بصرے میں ایک دروازے سے گذر رہے تھے ( پیاس لگی ہوئی تھی) لہذا ان کو لوگوں سے انہوں نے پینے کے لیے پانی مانگ لیا ۔ جب پانی کا گلاس ان کے لیے باہر آیا تو لے کر انہوں نے پھر واپس کردیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ ایسا کیوں کیا ہے ( تو بتایا کہ مجھے ایک خیال آیا جس کی وجہ سے میں نے پانی واپس کر دیا ہے ) کہ میں ڈر گیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس گھر کا کوئی بچہ مجھ سے قرآن پڑھا ہوا ہو ۔ لہذا میری اس محنت کا ثواب اس پانی کے بدلے میں چلا جائے۔
الزُّبَيْدِيِّ، ← صالح بن زياد أبو شعيب ← محمد بن جعفر الرزاز بمتيح ← أبو حفص عمر بن علي بن الحسن العتكي ← أبو عبد الله محمد بن نظيف الفراء
Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on giving up reading the Qur’an in mosques and markets, to be given and eaten · Hadith 2634
شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في تنوير موضع القرآن ـ · حديث 2696
2696 - و بهذا الإسناد عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم :
من تعلم القرآن في شبيبته اختلط القرآن بلحمه و دمه و من تعلمه في كبره و هو يتفلت منه و لا يتركه فله أجره مرتين
اور اسی اسناد کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنی جوانی میں قرآن یاد کرتا ہے قرآن اس کے گوشت اور خون میں گھل مل جاتا ہے اور جو شخص اس کو بری عمر میں سیکھتا ہے اور وہ اس سے اوکھا ہوتا ہے یا بار بار بھولتا ہے مگر اس کو چھوڑتا نہیں اس کے لیے دو مرتبہ اجر ہے ۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← و بهذا الإسناد
Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on enlightening the position of the Qur’an · Hadith 2696
شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في تنوير موضع القرآن ـ · حديث 2700
2700 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا إبراهيم بن منفذ الخولاني حدثني إدريس بن يحيى حدثني الفضل بن المختار عن عبيد الله بن موهب عن عصمة بن مالك الخطمي : فذكر أحاديث قال : و قال : رسول الله صلى الله عليه و سلم : ـ
لو جمع القرآن في إهاب ما أحرقه الله عز و جل بالنار
ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو ابراہیم بن منفذخولانی نے ان کو حدیث بیان کی ہے ادریس بن یحییٰ نے ان کو فضل بن مختار نے عبید اللہ بن موھب سے اس نے عصمہ بن مالک خطمی سے پھر کئی احادیث انہوں نے ذکر کی ہیں۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ۔ اگر قرآن مجید کچے چمڑے میں جمع کر دیا جائے تو اللہ تعالیٰ اس کو نہیں جلائے گا آگ میں ۔
و، ← عصمة بن مالك الخطمي فذكر أحاديث ← عُبَيْدِ اللهِ بْنِ مَوْهَبٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْمُخْتَارِ ← إِدْرِيسُ بْنُ يَحْيَى، ← إبراهيم بن منفذ الخولاني ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on enlightening the position of the Qur’an · Hadith 2700
شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ باب الحادي و العشرون من شعب الإيمان و هو باب في الصلوات · حديث 2799
2799 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو العباس قاسم بن القاسم السياري ثنا إبراهيم بن هلال أنا علي بن الحسن بن شقيق أنا الحسين بن واقد حدثني أبو غالب حدثني أبو أمامة قال : جاء علي إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال يا نبي الله إدفع إلينا خادما قال : إذهب فإن في البيت ثلاثة فخذ أحد الثلاثة
فقال : يا نبي الله إختر لي قال : إختر لنفسك
قال : يا نبي الله إختر لي قال : إختر لنفسك
قال : يا نبي الله إختر لي قال : إذهب فإن في البيت ثلاثة منهم غلام قد صلى فخذه و لا تضربه فإنا قد نيهنا عن ضرب أهل الصلاة
قال البيهقي رضي الله عن :
و من الدلالة على عظم أمر الصلاة أن الله عز اسمه ما ذكر الصلاة مع غيرها إلا قدم الصلاة عليه فقال :
{ الذين يؤمنون بالغيب ويقيمون الصلاة ومما رزقناهم ينفقون } و قال : { أقيموا الصلاة و آتوا الزكاة }
إلى غير ذلك من الآيات و قد ذكر الله جل جلاله الإيمان و الصلاة و لم يذكر معها غيرها دلالة بذلك على اختصاص الصلاة بالإيمان فقال :
فلا صدق و لا صلى
أي فلا هو صدق رسول الله صلى الله عليه و سلم فآمن به و لا صلى و قال :
{ وإذا قيل لهم اركعوا لا يركعون * ويل يومئذ للمكذبين * فبأي حديث بعده يؤمنون }
فوبخهم على ترك الصلاة كما وبخهم على ترك الإيمان و قد ذكر الله جل جلاله الصلاة وحدها دلالة على أنها عماد أعمال الدين فذكر الأنبياء و المتقدمين و مدحهم بأنهم كانوا إذا تتلى عليهم آيات الرحمن خروا سجدا و بكيا
ثم ذكر من خالف مذهبهم فذمهم فقال تعالى :
{ فخلف من بعدهم خلف أضاعوا الصلاة و اتبعوا الشهوات }
ثم أخبر بما يؤديهم ذلك إليه من سوء العاقبة فقال
{ فسوف يلقون غيا }
يعني ـ و الله أعلم ـ لا يرشد أمرهم مع إضاعة الصلاة و لكنهم يعودن فلا يزالون يقعون في فساد بعد فساد كمن يضل الطريق فلا يزال يقع في مهلكة بعد مهلكة إلى أن ينقطع به فيفسد فدل ذلك على عظم قدر الصلاة و جلال مواقعها من العبادات و الله أعلم
ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس قاسم بن قاسم سیار نے ان کو ابراہیم بن ہلال نے ان کو علی بن حسن بن شقیق نے ان کو حسین بن واقد نے ان کو حدیث بیان کی ابو غالب نے ان کو ابو امامہ نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئے اور عرض کی یا نبی اللہ ہمیں ایک خادم دیجیے۔ آپ نے فرمایا جائیے فلاں گھر میں تین ہیں تین میں سے ایک لے لیجئے۔ حضرت علی نے کہا کہ آپ میرے لیے منتخب کریں آپ نے کہا آپ اپنے لئے خود پسند کریں۔ تیسری بار انہوں نے عرض کی کہ میرے لیے آپ ہی منتخب فرمائیں۔ آپ نے فرمایا کہ تم جاو اس گھر میں تین ہیں ان میں ایک وہ غلام ہے جس نے نماز پڑھی ہے ابھی ابھی۔ اس کے لے جائیے دیکھئے اسے مارنا نہیں۔ اس لیے کہ ہم اہل صلوٰۃ کو مارنے سے منع کر دئیے گئے ہیں۔
Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter twenty-first of the people of faith and it is a chapter in prayers · Hadith 2799
شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل المشي إلى المساجد · حديث 2932
2932 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا علي بن حمشاد أنا بشر بن موسى ثنا معاوية بن عمرو ثنا أبو إسحاق الفزاري عن الأوزاعي قال : كان خمس كان عليها أصحاب محمد رسول الله صلى الله عليه و سلم و التابعون لهم بإحسان لزوم الجماعة و اتباع السنة و عمارة المسجد و تلاوة القرآن و الجهاد في سبيل الله عز و جل
ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو علی بن حمشاذ نے ان کو بشر بن موسیٰ نے ان کو معاویہ بن عمرو نے ان کو ابو اسحٰق فزاری نے ان کو اوزاعی نے کہتے ہیں کہا جاتا تھا کہ پانچ کام ایسے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام اور تابعین کرام ان پر عمل پیرا تھے (پابندی کے ساتھ ) جماعت کا التزام کرنا' سنت کی اتباع کرنا ، مسجد کی تعمیر کرنا، قرآن مجید کی تلاوت کرنا، اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔
Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated walk to mosques · Hadith 2932
شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل المشي إلى المساجد · حديث 2957
2957 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس الأصم ثنا محمد بن إسحاق الصغاني ثنا معاوية بن عمرو عن أبي إسحاق الفزاري عن الأوزاعي قال : كان يقال خمس كان عليها أصحاب محمد صلى الله عليه و سلم و التابعون بإحسان : لزوم الجماعة و اتباع السنة و عمارة المساجد و تلاوة القرآن و الجهاد في سبيل الله عز و جل
ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو محمد بن اسحٰق صنعانی نے ان کو معاویہ بن عمرو نے ان کو ابو اسحٰق خزاری نے ان کو اوزاعی نے وہ کہتے ہیں کہ کہا جاتا تھا کہ پانچ کام ہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ اور ان کی اتباع کرنے والے احسان و نیکی کے ساتھ ان پر پابندی سے عمل پیرا تھے۔ جماعت کا التزام کرنا' سنت کی اتباع کرنا' مساجد کو آباد کرنا' قرآن کی تلاوت کرنا' اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔
Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated walk to mosques · Hadith 2957
شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في زهد النبي صلى الله عليه و سلم و صبره على شدائد الدينا · حديث 1462
1462 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أحمد بن الحسن قالا : ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا محمد بن إسحاق الصغاني أنا مسلم بن إبراهيم ثنا أبان ثنا قتادة ثنا أنس : أن نبي الله صلى الله عليه و سلم لم يجتمع له غداء و لا عشاء من خبز و لحم إلا على ضعف يعني جماعة
قال البيهقي رحمه الله :
هكذا وجدت التفسير في الحديث لا أدري من قاله و قد قال أبو عبيد يقول : لم يأكل وحده و لكن مع الناس
قال أحمد بن يحيى : الضفف أن يكون الأكلة أكثر من مقدار الطعام
و الحفف أن يكون بمقداره و قيل الضفف الضيق و الشدة تقول :
لم يجتمع له و ذلك إلا بضيق و شدة
ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور احمد بن حسن نے دونوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن اسحاق صنعانی نے ان کو مسلم بن ابراہیم نے ان کو ابان نے ان کو قتادہ نے ان کو انس نے کہ اللہ کے نبی پر کوئی عشا اور صبح جمع نہیں ہوئی کہ آپ نے دونوں وقت کا کھانا گوشت روٹی کھایا ہو مگر جماعت کے ساتھ۔
أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← أَبَانُ، ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أحمد بن الحسن
Shuab ul Iman · Fourteenth of the people of faith › A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion · Hadith 1462
شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في براءة نبينا صلى الله عليه و سلم في النبوة ـ · حديث 1497
1497 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا الحسين بن الحسن بن أيوب الطوسي ثنا أبو يحيى عن أبي مسرة ثنا خلاد بن يحيى ثنا محمد بن زياد السكري ثنا ميمون بن مهران عن ابن عباس : أن النبي صلى الله عليه و سلم أول ما أنزل عليه الوحي كان يقوم على صدر قدميه فأنزل الله عز و جل : { طه * ما أنزلنا عليك القرآن لتشقى }
ہمیں خبر دی ابو علی روذباری نے ان کو حسین بن حسن بن ایوب طوسی نے ان کو ابو یحییٰ نے ان کو ابو مسرہ نے ان کو خلاد بن یحییٰ نے ان کو محمد بن زیادہ سکری نے ان کو میمون بن مہران نے ان کو ابن عباس نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے پہلی وحی جب آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے اوپر نازل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اپنے قدموں کے اگلے حصے پر کھڑے ہو کر عبادت کرتے پھر اللہ تعالیٰ نے وحی نازل فرمائی:۔ " طہ ما انزلنا علیک القران لتشقی" (طٰہ 1-2) ہم نے قرآن اس لئے نہیں اتارا تیرے اوپر کہ آپ پریشان ہوں۔
ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، ← محمد بن زياد السكري ← خَلاَّدُ بْنُ يَحْيَى، ← أبي مسرة ← أبو يحيى ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ الطُّوسِيُّ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ
Shuab ul Iman · Fourteenth of the people of faith › A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood · Hadith 1497
شعب الإيمان · الخامس عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعظيم النبي صلى الله عليه و سلمو إجلاله و توقيره صلى الله عليه و سلم · حديث 1515
1515 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا الحسن بن رشيق أجازة قال : ذكر زكريا الساجي قال : قال الحسين بن علي سمعت الشافعي يقول : يكره للرجل أن يقول الرسول و لكن يقول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم تعظيما له
ثم ذكر الحليمي رحمه الله :
الآيات التي وردت في لزوم طاعته ثم الآيات التي وردت في تحريم نكاح أزواجه من بعده ثم ذكر قول الله عز و جل :
{ يا أيها الذين آمنوا لا تقدموا بين يدي الله و رسوله و اتقوا الله إن الله سميع عليم } و ما بعده من الآيات وقد
ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو حسن بن رشیق نے بطور اجازت کے ۔ کہتے ہیں کہ زکریا ساجی نے ذکر کیا کہا کہ حسین بن علی نے وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے سنا شافعی سے وہ کہتے تھے مکروہ ہے کسی آدمی کے لئے کہ وہ یوں کہے رسول کہتا ہے بلکہ آپ کی تعظیم کرتے ہوئے یوں کہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا تھا۔ اس کے بعد شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ نے وہ آیات ذکر کی ہیں جو حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم اطاعت کے لازم ہونے کے بارے میں آئی ہیں ۔ اس کے بعد وہ آیات ذکر کی ہے ۔ جو حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بعد حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بیبیوں سے نکاح کرنے کی حرمت کے بارے میں آئی ہیں پھر اللہ تعالیٰ کا یہ قول ذکر کیا ہے۔ " یا ایھا الذین امنوا لا تقدموا بین یدی اللہ ورسولہ واتقو اللہ ان اللہ سمیع علیم (الحجرات1) اور اس کے بعد والی آیات تھی ۔ اے اہل ایمان اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے آگے نہ بڑھو اللہ سے ڈرو بے شک اللہ سننے جاننے والا ہے ۔
الرسول و لكن ← يكره للرجل أن ← الشَّافِعِیُّ ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، ← زَكَرِيَّا السَّاجِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ رَشِيقٍ إِجَازَةً ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ
Shuab ul Iman · The fifteenth of the people of faith › And it is a chapter in venerating the Prophet, may God bless him and grant him peace, reverence and reverence him, may God bless him and grant him peace · Hadith 1515
شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 4942
4942 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو الحسن علي بن الفضل السامري ببغداد نا الحسن بن عرفة نا يحيى بن سعيد السعدي البصري نا عبد الملك بن جريج عن عطاء عن عبيد بن عمير الليثي عن أبي ذر قال : دخلت على رسول الله صلى الله عليه و سلم فذكر الحديث بطوله إلى أن قال : قلت يا رسول الله أوصني قال : أوصيك بتقوى الله عز و جل فإنه أزين لأمرك كله قلت زدني قال عليك بتلاوة القرآن و ذكر الله عز و جل فإنه ذكر لك في السماء و نور لك في الأرض
قلت : زدني قال : عليك بطول الصمت فإنه مطردة للشيطان و عون لك على أمر دينك قلت زدني قال : إياك و كثرة الضحك فإنه يميت القلب و يذهب بنور الوجه
قلت : زدني
قال : قل الحق و إن كان مرا
قلت : زدني
قال : لا تخف في الله لومة لائم
قلت : زدني
قال : ليحجزك عن الناس ما تعلم من نفسك
ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالحسن علی بن فضل سامری نے بغداد میں ان کو حسن بن عرفہ نے ان کو یحییٰ بن سعید سعدی بصری نے ان کو عبدالملک بن جریج نے ان کو عطاء نے ان کو عبید بن عمیرلیتی نے ان کو ابوذر نے وہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ کے پاس گیا۔ پھر اس نے پوری لمبی حدیث ذکر کی۔ یہاں تک کہ یہ کہا کہ میں نے کہا یا رسول اللہ مجھے وصیت فرمائیے انہوں نے فرمایا کہ میں تجھے اللہ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں۔ بیشک حال یہ ہے کہ اس سے تیرا سارا معاملہ ایک ایک کر کے آراستہ اور درست ہوسکتا ہے۔ میں نے کہا کہ آپ مجھے اور زیادہ بتائیے آپ نے فرمایا کہ تم تلاوت قرآن کو لازم پکڑو اور ذکر اللہ کو۔ بے شک وہ آسمانوں میں تیرا تذکرہ فرمائے گا اور تیرے لئے زمین میں روشنی فرمائے گا۔ میں نے کہا اور بتائیے۔ فرمایا کہ تم لمبی خاموشی اختیار کر لو یہ چیز شیطان کو بھگاتی ہے اور تیرے دین کے معاملے میں معاون ہے۔ میں نے کہا کہ مجھے بتائیے۔آپ نے فرمایا کہ آپ اپنے آپ کو زیادہ ہنسنے سے بچائیے کیونکہ بے شک وہ دل کو مردہ کر دیتا ہے اور چہرے کے نور کو ختم کر دیتا ہے۔ میں نے کہا مجھے اور بتائیے آپ نے فرمایا کہ تم حق بات کہو اگرچہ وہ کڑوی ہو۔ میں نے کہا کہ اور بتائے مجھے آپ نے فرمایا کہ اللہ کے دین کے بارے میں تم کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا خوف نہ کرو میں نے کہا کہ مجھے اور بتائیے۔ آپ نے فرمایا۔ کہ تم اپنے نفس کے بارے میں جو کچھ جانتے ہو اس کو لوگوں سے روک کر رکھو (یعنی لوگوں کو مت بتاؤ۔)
قُلْتُ ← الحديث بطوله إلى أن ← دخلت على رسول الله صلى الله عليه و سلم ← اَبِیْ ذَرٍّ ← عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ اللَّيْثِيِّ ← عَطَاءٍ، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ جُرَيْجٍ ← يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ السَّعْدِيُّ الْبَصْرِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ← أبو الحسن علي بن الفضل السامري ببغداد ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 4942
شعب الإيمان · السابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تحريم الفروج و ما يجب من التعفف عنها · حديث 5418
5419 - أخبرنا أبو عمرو الأديب أنا أبو بكر الإسماعيلي أخبرني الحسن بن سفيان ثنا محمد بن أبي بكر المقدمي ثنا يحيى بن سعد عن عوف ثنا أبو رجاء ثنا سمرة بن جندب الفرازي : في رؤيا النبي صلى الله عليه و سلم قال : قالا لي : انطلق فانطلقنا فأتينا على مثل بناء التنور قال عوف : أحسب أنه قال : فإذا لغط و أصوات فاطلعنا فإذا فيه رجال و نساء و إذا هم يأتيهم اللهب من أسفل منهم فإذا أتاهم ذلك ضوضوا قال : قلت : من هؤلاء قال لي انطلق فذكر الحديث ثم قال في التفسير : أما الرجال و النساء العراة الذين في مثل بناء التنور فإنهم الزناة و الزواني أخرجه البخاري في الصحيح من حديث عوف
ہمیں خبر دی ابو عمرو ادیب نے ان کو ابو بکر اسماعیلی نے ان کو خبر دی ہے حسن بن سفیان نے ان کو محمد بن ابو بکر مقدمی نے ان کو یحییٰ بن سعید نے ان کو عوف نے ان کو ابو رجاء نے ان کو سمرہ بن جندب فزاری نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خواب کے بارے میں آپ فرماتے ہیں کہ دونوں فرشتوں نے مجھ سے کہا کہ چلئے لہذا ہم لوگ چلتے گئے۔ حتیٰ کہ ہم لوگ ایک تنور جیسی عمارت پر پہنچے۔ عوف کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ آپ نے فرمایا کہ اچانک شور اور چلانے کی آوازیں سنائی دینے لگیں ہم لوگوں نے اس طرف جھانک کر جو دیکھا تو اس میں بہت سے مرد اور عورتیں تھے۔اچانک آگ کا شعلہ ان کو نیچے سے اوپر کی طرف لے کر آتا تو ان کا یہ شور برپا ہوتا۔ حضور فرماتے ہیں کہ میں نے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں؟ پھر میرے ساتھی نے کہا کہ آگے چلئے۔ پھر راوی نے آگے حدیث ذکر کی۔ پھر تفسیر تشریح میں فرمایا۔ کہ بہر حال مرد اور عورتیں جو کہ ننگے تھے جو کہ تندور جیسی عمارت میں بند تھے بے شک وہ بدکار مرد اور بدکار عورتیں تھیں۔ بخاری نے اس کو نقل کیا ہے صحیح میں حدیث عوف سے۔
عوف أحسب ← لي انطلق فانطلقنا فأتينا على مثل بناء التنور ← سمرة بن جندب الفرازي في رؤيا النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبُو رَجَاءٍ، ← عَوْفٌ، ← يَحْيَى بْنِ سَعْدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ ← أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ
Shuab ul Iman · Thirty-seventh of the people of faith › And it is a chapter in the prohibition of broiler chickens and what must be abstained from them · Hadith 5418
شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الصلاة على النبي صلى الله عليه و سلم ـ ليلة الجمعة و يومها و فضل قراءة ـ سورة الكهف · حديث 3038
3038 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو الحسن علي بن الفضل بن محمد بن عقيل أنا أبو شعيب الحرانبي ثنا علي بن عبد الله بن المديني ثنا قبيصة بن عقبة ثنا سفيان عن أبي هاشم عن أبي مجلز عن قيس بن عباد عن أبي سعيد الخدري قال : من قرأ سورة الكهف يوم الجمعة فأدرك الدجال لم يسلط عليه أو قال : لم يضره و من قرأ خاتمة سورة الكهف أضاء الله نورا من حيث كان بينه و بين مكة قال البيهقي رحمه الله : و قد روينا هذا في كتاب فضائل القرآن من حديث هشيم عن أبي هاشم موقوفا و مرفوعا
ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو الحسن علی بن فضل بن محمد بن عقیل نے ان کو ابو شعیب حرانی نے ان کو علی بن عبداللہ بن مدینی نے ان کو قبیصہ بن عقبہ نے ان کو سفیان نے انکو ابو ہاشم نے ان کو ابو مجلز نے ان کو قیس بن عباد نے ان کو ابو سعید خدری نے وہ فرماتے ہیں جو شخص جمعہ کے دن سورۃ کہف پڑھے پھر وہ دجال کو پا لے وہ اس پر مسلط نہیں ہو سکے گا یا یوں کہا کہ وہ اس کو نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ اور جو شخص سورۃ کہف کا خاتمہ پڑھے گا اس کے لیے روشنی پھیلے گی نور کی وہ جہاں ہو وہاں سے لے کر مکی مکرمہ تک۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ ہم نے اس کو روایت کیا ہے کتاب فضائل قرآن میں ہیثم کی حدیث سے ابو ہاشم نے بطور موقوف روایت کے اور مرفوع روایت کے۔
Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The merit of praying upon the Prophet, may God bless him and grant him peace - Friday night and its day, and the virtue of reciting Surat Al-Kahf · Hadith 3038
شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تحسين الصلاة و الإكثار منها ليلا و نهارا و ما حضرنا عن السلف ـ الصالحين في ذلك · حديث 3134
3134 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أحمد بن سلمان ثنا الحسن بن مكرم ثنا شبابة ثنا شعبة عن عمرو بن مرة عن عاصم العنزي عن ابن جبير بن مطعم عن أبيه : أنه رأى النبي صلى الله عليه و سلم دخل في الصلاة و قال :
الله أكبر كبيرا ثلاثا و الحمد لله كثيرا و سبحان الله بكرة و أصيلا ثلاثا اللهم إني أعوذ بك من الشيطان الرجيم من همزه و نفخه و نفثه
قال عمرو : و همزه الموتة و نفخه الكبر و نفثه الشعر
قال شبابة قال شعبة قال لي مسعر إن عمرا روى هذا التفسير عن النبي صلى الله عليه و سلم
ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو احمد بن سلمان نے ان کو حسن بن مکرم نے ان کو شبابہ نے ان کو شعبہ نے ان کو عمرو بن مرہ نے ان کو عاصم عنزی نے ان کو ابن جبیر بن مطعم نے ان کو ان کے والد نے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا بحالت نماز آپ یہ دعا کر رہے تھے۔ اللہ اکبر کبیرا تین بار کہا۔ والحمدللہ کثیرا تین بار کہا اور سبحان اللہ بکرۃ واصیلا تین بار کہا اللھم انی اعوذ بک من الشیطن الرجیم من حمزہ ونفخہ ونفثہ۔ عمرو کہتے ہیں کہ شیطان کے ہمر سے مراد جنون ہے اور اس کی پھرنک سے مراد تکبیر ہے اور اس کے تھتکار نے سے مراد شعر گوئی ہے اور شبابہ کہتے ہیں کہ شعبہ نے کہا تھا مجھ سے مسعر نے کہا کہ بے شک عمر نے یہی تفسیر روایت کی تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے۔
Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Improving prayer and increasing it day and night, and what we have attended from the predecessors - the righteous in that · Hadith 3134