المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْأَعْرَافِ · حديث 3248
3248 - أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّنْعَانِيُّ، بِمَكَّةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبَّادٍ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: لَمَّا مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحِجْرِ قَالَ: «لَا تَسْأَلُوا الْآيَاتِ، فَقَدْ سَأَلَهَا قَوْمُ صَالِحٍ فَكَانَتْ يَعْنِي النَّاقَةَ تَرِدُ مِنْ هَذَا الْفَجِّ، وَتَصْدُرُ مِنْ هَذَا الْفَجِّ، فَعَتَوْا عَنْ أَمْرِ رَبِّهِمْ، فَعَقَرُوهَا، فَأَخَذَتْهُمُ الصَّيْحَةُ، فَأَهْمَدَ اللَّهُ مَنْ تَحْتَ السَّمَاءِ مِنْهُمْ إِلَّا رَجُلًا وَاحِدًا، كَانَ فِي حَرَمِ اللَّهِ» قِيلَ: مَنْ هُوَ؟ قَالَ: «أَبُو رِغَالٍ، فَلَمَّا خَرَجَ مِنَ الْحَرَمِ أَصَابَهُ مَا أَصَابَ قَوْمَهُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3248 - صحيح على شرط البخاري ومسلم
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب نبی اکرم ﷺ حجر اسود کے پاس سے گزرے تو فرمایا: نشانیوں کا سوال مت کیا کرو۔ حضرت صالح علیہ السلام کی قوم نے اس کا سوال کیا تھا، وہ ایک اونٹنی تھی جو پہاڑ کے ایک راستے سے داخل ہوتی اور دوسرے سے نکل آتی، انہوں نے اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کی اور اس انٹنی کو مار ڈالا۔ اللہ تعالیٰ نے (اس نافرمانی کی پاداش میں) آسمان کے نیچے بسنے والے ہر شخص کو ہلاک کر دیا، سوائے ایک آدمی کے جو کہ اللہ تعالیٰ کے حرم میں تھا، آپ سے پوچھا گیا: وہ کون تھے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ابورغال۔ جب وہ حرم سے باہر نکلا تو اس کو بھی وہی عذاب آگیا جو اس کی قوم کو آیا تھا ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔
لَمَّا مَرَّ النَّبِيُّ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبَّادٍ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، ← محمد بن علي الصنعاني
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Al-Arif · Hadith 3248
