Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

القرآن الكريم

Quran

6097 hadiths

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْأَعْرَافِ · حديث 3248

3248 - أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّنْعَانِيُّ، بِمَكَّةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبَّادٍ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: لَمَّا مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحِجْرِ قَالَ: «لَا تَسْأَلُوا الْآيَاتِ، فَقَدْ سَأَلَهَا قَوْمُ صَالِحٍ فَكَانَتْ يَعْنِي النَّاقَةَ تَرِدُ مِنْ هَذَا الْفَجِّ، وَتَصْدُرُ مِنْ هَذَا الْفَجِّ، فَعَتَوْا عَنْ أَمْرِ رَبِّهِمْ، فَعَقَرُوهَا، فَأَخَذَتْهُمُ الصَّيْحَةُ، فَأَهْمَدَ اللَّهُ مَنْ تَحْتَ السَّمَاءِ مِنْهُمْ إِلَّا رَجُلًا وَاحِدًا، كَانَ فِي حَرَمِ اللَّهِ» قِيلَ: مَنْ هُوَ؟ قَالَ: «أَبُو رِغَالٍ، فَلَمَّا خَرَجَ مِنَ الْحَرَمِ أَصَابَهُ مَا أَصَابَ قَوْمَهُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3248 - صحيح على شرط البخاري ومسلم

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب نبی اکرم ﷺ حجر اسود کے پاس سے گزرے تو فرمایا: نشانیوں کا سوال مت کیا کرو۔ حضرت صالح علیہ السلام کی قوم نے اس کا سوال کیا تھا، وہ ایک اونٹنی تھی جو پہاڑ کے ایک راستے سے داخل ہوتی اور دوسرے سے نکل آتی، انہوں نے اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کی اور اس انٹنی کو مار ڈالا۔ اللہ تعالیٰ نے (اس نافرمانی کی پاداش میں) آسمان کے نیچے بسنے والے ہر شخص کو ہلاک کر دیا، سوائے ایک آدمی کے جو کہ اللہ تعالیٰ کے حرم میں تھا، آپ سے پوچھا گیا: وہ کون تھے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ابورغال۔ جب وہ حرم سے باہر نکلا تو اس کو بھی وہی عذاب آگیا جو اس کی قوم کو آیا تھا ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

لَمَّا مَرَّ النَّبِيُّ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبَّادٍ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، ← محمد بن علي الصنعاني

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Al-Arif · Hadith 3248

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْأَعْرَافِ · حديث 3254

3254 - حَدَّثَنَا الْحَاكِمُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ إِمْلَاءً فِي ذِي الْحِجَّةِ سَنَةَ تِسْعٍ وَتِسْعِينَ وَثَلَاثِ مِائَةٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أَنْبَأَ الشَّافِعِيُّ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، وَهُوَ يَقْرَأُ فِي الْمُصْحَفِ قَبْلَ أَنْ يَذْهَبَ بَصَرُهُ، وَهُوَ يَبْكِي، فَقُلْتُ: مَا يُبْكِيكَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاكَ؟ قَالَ: فَقَالَ: هَلْ تَعْرِفُ أَيْلَةَ؟ قُلْتُ: وَمَا أَيْلَةَ؟ قَالَ: قَرْيَةٌ كَانَ بِهَا نَاسٌ مِنَ الْيَهُودِ فَحَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِمُ الْحِيتَانِ يَوْمَ السَّبْتِ، فَكَانَتْ حِيتَانُهُمْ تَأْتِيهِمْ يَوْمَ سَبْتِهِمْ، شُرَّعًا بَيْضَاءَ سِمَانَ، كَأَمْثَالِ الْمَخَاضِ بَأَفْنِيَاتِهِمْ وَأَبْنِيَاتِِهِمْ، فَإِذَا كَانَ فِي غَيْرِ يَوْمِ السَّبْتِ، لَمْ يَجِدُوهَا، وَلَمْ يُدْرِكُوهَا إِلَّا فِي مَشَقَّةٍ وَمَئُونَةٍ شَدِيدَةٍ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ أَوْ مَنْ قَالَ ذَلِكَ مِنْهُمْ: لَعَلَّنَا لَوْ أَخَذْنَاهَا يَوْمَ السَّبْتِ، وَأَكَلْنَاهَا فِي غَيْرِ يَوْمِ السَّبْتِ. فَفَعَلَ ذَلِكَ أَهْلُ بَيْتٍ مِنْهُمْ، فَأَخَذُوا فَشَوَوْا، فَوَجَدَ جِيرَانُهُمْ رِيحَ الشِّوَاءِ، فَقَالُوا: وَاللَّهِ مَا نََرََى أَصْحَابَ بَنِي فُلَانٍ شَيْءٌ، فَأَخَذُوهَا آخَرُونَ حَتَّى فَشَا ذَلِكَ فِيهِمْ، وَكَثُرَ فَافْتَرَقُوا فِرَقًا ثَلَاثًا، فِرْقَةٌ أَكَلَتْ، وَفِرْقَةٌ نَهَتْ، وَفِرْقَةٌ قَالَتْ: {لِمَ تَعِظُونَ قَوْمًا اللَّهُ مُهْلِكُهُمْ أَوْ مُعَذِّبُهُمْ} [الأعراف: 164] عَذَابًا شَدِيدًا. فَقَالَتِ الْفِرْقَةُ الَّتِي نَهَتْ: إِنَّا نُحَذِّرُكُمْ غَضَبَ اللَّهِ وَعِقَابَهُ، أَنْ يُصِيبَكُمْ بِخَسْفٍ أَوْ قَذْفٍ أَوْ بِبَعْضِ مَا عِنْدَهُ مِنَ الْعَذَابِ، وَاللَّهِ لَا نُبَايِتُكُمْ فِي مَكَانٍ وَأَنْتُمْ فِيهِ، وَخَرَجُوا مِنَ السُّورِ، فَغَدَوْا عَلَيْهِ مِنَ الْغَدِ، فَضَرَبُوا بَابَ السُّورِ، فَلَمْ يُجِبْهُمْ أَحَدٌ، فَأَتَوْا بِسُلَّمٍ فَأَسْنَدُوهُ إِلَى السُّورِ، ثُمَّ رَقِيَ مِنْهُمْ رَاقٍ عَلَى السُّورِ، فَقَالَ: يَا عِبَادَ اللَّهِ قِرَدَةٌ، وَاللَّهِ لَهَا أَذْنَابٌ تَعَاوَى ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ نَزَلَ مِنَ السُّورِ فَفَتَحَ السُّورَ، فَدَخَلَ النَّاسُ عَلَيْهِمْ، فَعَرَفَتِ الْقِرَدَةُ أَنْسَابَهَا مِنَ الْإِنْسِ، وَلَمْ تَعْرِفِ الْإِنْسُ أَنْسَابَهَا مِنَ الْقِرَدَةِ، قَالَ: فَيَأْتِي الْقَرَدُ إِلَى نَسِيبِهِ وَقَرِيبِهِ مِنَ الْإِنْسِ، فَيَحْتَكُّ بِهِ، وَيَلْصَقُ، وَيَقُولُ الْإِنْسَانُ: أَنْتَ فُلَانٌ؟ فَيُشِيرُ بِرَأْسِهِ أَيْ نَعَمْ، وَيَبْكِي، وَتَأْتِي الْقِرَدَةُ إِلَى نَسِيبِهَا وَقَرِيبِهَا مِنَ الْإِنْسِ، فَيَقُولُ لَهَا: أَنْتِ فُلَانَةٌ؟ فَتُشِيرُ بِرَأْسِهَا أَيْ نَعَمْ، وَتَبْكِي، فَيَقُولُ لَهُمُ الْإِنْسُ: أَمَا إِنَّا حَذَّرْنَاكُمْ غَضَبَ اللَّهِ وَعِقَابَهُ أَنْ يُصِيبَكُمْ بِخَسْفٍ أَوْ مَسْخٍ أَوْ بِبَعْضِ مَا عِنْدَهُ مِنَ الْعَذَابِ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَاسْمَعِ اللَّهَ يَقُولُ «فَأَنْجَيْنَا الَّذِينَ يَنْهَوْنَ عَنِ السُّوءِ وَأَخَذْنَا الَّذِينَ ظَلَمُوا بِعَذَابٍ بَئِيسٍ بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ» فَلَا أَدْرِي مَا فَعَلَتِ الْفُرْقَةُ الثَّالِثَةُ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَكَمْ قَدْ رَأَيْنَا مِنْ مُنْكَرٍ فَلَمْ نَنْهَ عَنْهُ قَالَ عِكْرِمَةُ: فَقُلْتُ: مَا تَرَى جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاكَ؟ إِنَّهُمْ قَدْ أَنْكَرُوا، وَكَرِهُوا حِينَ قَالُوا لِمَ تَعِظُونَ قَوْمًا اللَّهُ مُهْلِكُهُمْ أَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا؟ فَأَعْجَبَهُ قُولِي ذَلِكَ، وَأَمَرَ لِي بِبُرْدَيْنِ غَلِيظَيْنِ فَكَسَانِيهُمَا «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3254 - صحيح

حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں ایک دفعہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، اس وقت وہ قرآن پاک کی تلاوت کر رہے تھے اور رو رہے تھے۔ یہ ان کی بینائی ختم ہو جانے سے پہلے کا واقعہ ہے۔ میں نے ان سے کہا: میری جان آپ پر فدا ہو جائے، آپ رو کیوں رہے ہیں؟ انہوں نے جواباً کہا: کیا تم "ایلہ" کے بارے میں جانتے ہو؟ میں نے پوچھا : ایلہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: یہ ایک بستی ہے ، جس میں یہودی آباد تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر ہفتہ کے دن مچھلیوں کا شکار حرام کیا تھا لیکن ہفتہ کے دن سفید رنگ کی موٹی تازی مچھلیاں جو بچھڑے کے برابر ہوتیں ، بہت وافر مقدار میں امنڈ کر آتیں اور جب ہفتہ کا دن گزر جاتا تو ایک آدھ مچھلی وہ بھی بہت محنت اور مشقت کے بعد ہاتھ لگتی۔ انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ اگر ہم ہفتہ کے دن مچھلیاںصرف پکڑ لیں اور یہ دن گزار کر کھا لیا کریں (تو حکم الٰہی کی نافرمانی سے بھی بچ جائیں اور مچھلیاں بھی ہاتھ سے نہ جائیں) چنانچہ ان میں سے ایک گھرانے نے اس پر عمل کر لیا۔ انہوں نے اسی طریقہ سے مچھلیاں پکڑ لیں اور ان کو بھون لیا، جب بھوننے کی خوشبو ان کے پڑوسیوں تک پہنچی تو وہ بولے: خدا کی قسم! فلاں قبیلے کے لوگ تو اس معاملہ میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ پھر دوسروں نے بھی اس عمل کو اپنا لیا اور ( آہستہ آہستہ) ان میں یہ عمل بہت کثرت سے پھیل گیا (اس کے نتیجے میں) ان کے تین گروپ بن گئے۔ ایک جماعت تو مچھلیاں کھاتی تھی اور ایک جماعت اس کی سخت مخالف تھی اور ایک جماعت ایسی تھی جو کہتی تھی: تم اس قوم کو نصیحت کیوں کر رہے ہو جن کو خود اللہ تعالیٰ نے ہلاک کیا یا جن کو سخت عذاب دے گا۔ روکنے والی جماعت نے کہا: ہم تمہیں اللہ تعالیٰ کے غضب اور عذاب سے ڈراتے ہیں کہ کہیں تم زمین میں دھنسا دئیے جاؤ یا اللہ تعالیٰ کا کوئی عذاب تم تک پہنچے۔ خدا کی قسم ہم تمہیں خبردار کرتے ہیں کہ تم مکان میں ہو (یہیں تم پر عذاب آئے گا۔ یہ کہہ کر) وہ لوگ دیواروں سے باہر نکل آئے۔ اور اگلے دن صبح سویرے ان کے دروازوں پر دستک دی لیکن ان میں سے کسی نے بھی جواب نہ دیا وہ سیڑھی لگا کر دیوار سے چڑھے اور جھانک کر دیکھا تو بولے: اے اللہ تعالیٰ کے بندو! (یہاں پر تو) بندر ہیں، خدا کی قسم ان کی دمیں ہیں ، وہ تین مرتبہ بھونکے ، پھر وہ لوگ دیوراوں سے نیچے اترے اور دروازہ کھولا اور لوگ مکان کے اندر داخل ہو گئے تو ان بندروں نے انسانوں میں سے اپنے رشتہ داروں کو پہچان لیا لیکن انسان ان بندروں میں اپنے رشتہ داروں کو نہ پہچان سکے (آپ فرماتے ہیں) بندر اپنے انسان رشتہ دار کے پاس آتا اور اس کے ساتھ لپٹتا، وہ انسان اس سے پوچھتا: تو فلاں ہے؟ تو وہ اپنے سر کے اشارے سے کہتا: ہاں، اور وہ رونے لگ جاتا اور بندریا، اپنے انسان رشتہ دار کے پاس آتی ، انسان اس سے پوچھتا: تو فلاں عورت ہے؟ وہ اپنے سر کے اشارے سے کہتی: ہاں، اور وہ رو پڑتی، تو انسان اس کو کہتا : کیا ہم تمہیں اس بات سے ڈراتے نہیں تھے کہ کہیں تم دھنسا دئیے جاؤ یا تمہاری شکلیں بگاڑ دی جائیں یا کوئی اور عذاب تم پر آ جائے؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: تو اللہ تعالیٰ نے سنایا کہ وہ یہ کہے: "فانجینا الذین ینھون عن السوء واخذنا الذین ظلمو ا بعذاب یئس بما کانو ا یفسقون"۔ (الاعراف:165)۔ " ہم نے بچا لئے وہ جو برائی سے منع کرتے تھے اور ظالموں کو برے عذاب میں پکڑا بدلہ ان کی نا فرمانی کا"۔(ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔ اور تیسری جماعت کے ساتھ کیا ہوا؟ مجھے یہ معلوم نہیں ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم کتنے ہی لوگوں کو گناہوں میں مبتلا دیکھتے ہیں لیکن انہیں منع نہیں کرتے۔ حضرت عکمرمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے کہا: اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر فدا کر دے ، انہوں نے جب نا فرمانوں کو اتنا کہہ دیا" تم ایسی قوم کو کیوں نصیحت کرتے ہوں اللہ تعالیٰ خود جن کو ہلاک کرنے والاہے " تو گویا کہ انہوں نے ان کو اس گناہ سے روکا ہی ہے اور اس سے نفرت کی ہے تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو میری یہ بات بہت اچھی لگی، آپ نے (اس کے انعام میں) مجھے دو قیمتی جبے پہنائے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

دَخَلْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، وَهُوَ يَقْرَأُ فِي الْمُصْحَفِ قَبْلَ ← عِكْرِمَةَ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، ← أبو العباس محمد بن يعقوب أنبأ الربيع بن سليمان أنبأ الشافعي ← الْحَاكِمُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ إِمْلَاءً

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Al-Arif · Hadith 3254

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ التَّوْبَةِ · حديث 3272

3272 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ كَامِلٍ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ الْعَوْفِيُّ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا عَوْفُ بْنُ أَبِي جَمِيلَةَ، عَنْ يَزِيدَ الْفَارِسِيِّ، قَالَ: ثنا ابْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ: مَا حَمَلَكُمْ عَلَى أَنْ عَمَدْتُمْ إِلَى الْأَنْفَالِ وَهِيَ مِنَ الْمَثَانِي وَإِلَى بَرَاءَةَ، وَهِيَ مِنَ الْمِئِينَ، فَقَرَنْتُمْ بَيْنَهُمَا، وَلَمْ تَكْتُبُوا بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، وَوَضَعْتُمُوهَا فِي السَّبْعِ الطِّوَالِ فَمَا حَمَلَكُمْ عَلَى ذَلِكَ؟ فَقَالَ عُثْمَانُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا يَأْتِي عَلَيْهِ الزَّمَانُ، وَهُوَ يَنْزِلُ عَلَيْهِ مِنَ السُّوَرِ ذَوَاتِ الْعَدَدِ قَالَ: وَكَانَ إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ الشَّيْءُ دَعَا بَعْضَ مَنْ يَكْتُبُ لَهُ، فَيَقُولُ: «ضَعُوا هَذِهِ فِي السُّورَةِ الَّتِي فِيهَا كَذَا وَكَذَا» وَكَانَتِ الْأَنْفَالُ مِنْ أَوَائِلِ مَا نَزَلَتْ بِالْمَدِينَةِ، وَكَانَتْ بَرَاءَةُ مِنْ آخِرِ الْقُرْآنِ، وَكَانَتْ قِصَّتُهَا شَبِيهَةً بِقِصَّتِهَا، فَظَنَنْتُ أَنَّهَا مِنْهَا، فَقُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يُبَيِّنْ لَنَا أَنَّهَا مِنْهَا، فَلَمْ أَكْتُبْ بَيْنَهُمَا سَطْرَ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3272 - تقدم هذا وأنه صحيح

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے کہا: سورہ انفال کا تعلق "مثانی" سے ہے اور سورہ براۃ کا تعلق " مئین" سے ہے لیکن آپ نے ان دونوں سورتوں کو ملا دیا اور ان کے درمیان " بسم اللہ الرحمٰن الرحیم" نہیں لکھی اور اس کو آپ نے " سبع طوال" میں ڈال دیا ہے، اس کی کیا وجہ ہے؟ تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے جواب دیا" رسول اللہ ﷺ پر بیک وقت متعدد سورتیں بھی نازل ہوا کرتی تھیں (ایسے حالات میں) جب کوئی آیت نازل ہوتی تو آپ کسی کاتب کو بلا کر یہ یدایت فرما دیا کرتے تھے کہ اس کو فلاں سورۃ میں لکھ دو اور سورۃ الانفال مدینہ میں نازل ہونے والی ابتدائی سورتوں میں سے ہے جبکہ سورۃ براۃ سب سے آخر میں نازل ہونے والی سورت ہے اور اس (توبہ) کے مضامین بھی اس سے پچھلی سورۃ (الفال) سے ملتے جلتے تھے تو میں نے یہ سمجھ لیا کہ یہ سورۃ گزشتہ سورۃ ہی کا تتمہ ہے اور رسول اکرم ﷺ نے اپنی زندگی میں ہمیں اس بات کی وضاحت نہیں فرمائی کہ اس سورۃ کا تعلق کس سے ہے۔ اس لئے میں نے ان دونوں سورتوں کے درمیان " بسم اللہ الرحمٰن الرحیم"۔ نہیں لکھی۔ (نوٹ: مئین سے مراد وہ سورتیں ہیں جن کی آیات کی تعداد 100 سے زائد ہے اور مثانی سے مراد ابتدائی سات طویل سورتیں ہیں تفسیر بغوی میں ہے : حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سبع مثانی درج ذیل سات طویل سورتیں ہیں سورہ بقرہ، سورہ آل عمران، سورۃ النساء، سورہ مائدہ، سورہ اعراف، سورہ انفال، سورہ توبہ یا یونس۔ شفیق) ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← يَزِيدَ الْفَارِسِيِّ ← عَوْفُ بْنُ أَبِي جَمِيلَةَ ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ الْعَوْفِيُّ، ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ كَامِلٍ الْقَاضِي

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of the chapter of repentance · Hadith 3272

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ هُودٍ · حديث 3304

3304 - أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زَكَرِيَّا الْمَكِّيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ الْأَزْرَقِيُّ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا نَزَلَ الْحِجْرَ، فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ قَامَ فَخَطَبَ النَّاسَ، فَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ، لَا تَسْأَلُوا نَبِيَّكُمْ عَنِ الْآيَاتِ، فَهَؤُلَاءِ قَوْمُ صَالِحٍ سَأَلُوا نَبِيَّهُمْ أَنْ يَبْعَثَ لَهُمْ آيَةً، فَبَعَثَ اللَّهُ لَهُمُ النَّاقَةَ، فَكَانَتْ تَرِدُ مِنْ هَذَا الْفَجِّ فَتَشْرَبُ مَاءَهُمْ يَوْمَ وِرْدِهَا، وَيَشْرَبُونَ مِنْ لَبَنِهَا، مِثْلَ مَا كَانُوا يَتَرَوُّونَ مِنْ مَائِهِمْ، فَعَتَوْا عَنْ أَمْرِ رَبِّهِمْ، فَعَقَرُوهَا، فَوَعَدَهُمُ اللَّهُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، وَكَانَ مَوْعِدًا مِنَ اللَّهِ غَيْرَ مَكْذُوبٍ، ثُمَّ جَاءَتْهُمُ الصَّيْحَةُ فَأَهْلَكَ اللَّهُ مَنْ كَانَ تَحْتَ مَشَارِقِ السَّمَاوَاتِ وَمَغَارِبِهَا، مِنْهُمْ إِلَّا رَجُلًا كَانَ فِي حَرَمِ اللَّهِ، فَمَنَعَهُ حَرَمُ اللَّهِ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ هُوَ؟ قَالَ: «أَبُو رِغَالٍ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3304 - صحيح

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ غزوہ تبوک کے موقع پر جب سورۃ "حجر" نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے خطبہ دیتے ہوئے لوگوں سے فرمایا: اے لوگو! اپنے نبی سے معجزات کا مطالبہ مت کیا کرو کیونکہ یہ صالح کی قوم ہے ، انہوں نے اپنے بنی سے مطالبہ کیا کہ ان کو کوئی معجزہ دکھایا جائےتو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف ایک اونٹنی بھیجی تو وہ پہاڑ کی پھٹن سے نکلتی ، وہ ان کے حصہ کا پانی پیتی اور وہ لوگ اپنے پانی کی مقدار میں اس کا دودھ پیتے تھے، پھر انہوں نے اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کی اور اس کو قتل کر ڈالا، پھر اللہ تعالیٰ نے ان سے تین دن کا وعدہ کیا اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ جھوٹا نہیں ہوتا۔ پھر ان پر ایک زور دار چیخ کی آواز آئی تو اللہ تعالیٰ نے ان تمام لوگوں کو ہلاک کر ڈالا جو مشارق اور مغارب کے نیچے موجود تھے، سوائے ایک شخص کے جو حرم میں موجود تھا اور اللہ تعالیٰ کے حرم نے اس کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا رکھا تھا۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ ! وہ کون تھا؟ آپ نے فرمایا: "ابورغال"۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← ابْنُ1 خُثَيْمٍ ← مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، ← أحمد بن محمد بن الوليد الأزرقي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زَكَرِيَّا الْمَكِّيُّ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Hud · Hadith 3304

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ يُوسُفَ · حديث 3328

3328 - حَدَّثَنَا الشَّيْخُ أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا هِشَامُ بْنُ بِشْرٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي غَنِيَّةَ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أبِيْ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ لِيَعْقُوبَ النَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَخٌ مُؤَاخِيًا فِي اللَّهِ، فَقَالَ ذَاتَ يَوْمٍ: يَا يَعْقُوبُ مَا الَّذِي أَذْهَبَ بَصَرَكَ وَمَا الَّذِي قَوَّسَ ظَهْرَكَ؟ فَقَالَ: أَمَّا الَّذِي أَذْهَبَ بَصَرِي فَالْبُكَاءُ عَلَى يُوسُفَ، وَأَمَّا الَّذِي قَوَّسَ ظَهْرِي فَالْحُزْنُ عَلَى ابْنِي بِنْيَامِينَ قَالَ: فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَقَالَ: يَا يَعْقُوبُ، إِنَّ اللَّهَ يُقْرِئُكَ السَّلَامَ، وَيَقُولُ لَكَ أَمَا تَسْتَحْيِي تَشْكُونِي إِلَى غَيْرِي؟ قَالَ: فَقَالَ يَعْقُوبُ إِنَّمَا أَشْكُوا بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللَّهِ قَالَ: فَقَالَ جِبْرِيلُ: أَعْلَمُ مَا تَشْكُوا يَا يَعْقُوبُ قَالَ: ثُمَّ قَالَ يَعْقُوبُ: أَيْ رَبِّ أَمَا تَرْحَمُ الشَّيْخَ الْكَبِيرَ، أَذْهَبْتَ بَصَرِي، وَقَوَّسْتَ ظَهْرِي، فَارْدُدْ عَلَيَّ رَيْحَانَتِي أَشُمُّهُ شَمًّا قَبْلَ الْمَوْتِ، ثُمَّ اصْنَعْ بِي مَا أَرَدْتَ قَالَ: فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ يُقْرِئُكَ السَّلَامَ، وَيَقُولُ لَكَ أَبْشِرْ، وَلْيَفْرَحْ قَلْبُكَ، فَوَعِزَّتِي لَوْ كَانَا مَيِّتَيْنِ لَنَشَرْتُهُمَا فَاصْنَعْ طَعَامًا لِلْمَسَاكِينِ، فَإِنَّ أَحَبَّ عِبَادِي إِلَيَّ الْأَنْبِيَاءُ، وَالْمَسَاكِينُ، أَتَدْرِي لِمَ أَذْهَبْتُ بَصَرَكَ، وَقَوَّسْتُ ظَهْرَكَ، وَصَنَعَ إِخْوَةُ يُوسُفَ بِهِ مَا صَنَعُوا؟ إِنَّكُمْ ذَبَحْتُمْ شَاةً، فَأَتَاكُمْ مِسْكِينٌ يَتِيمٌ، وَهُوَ صَائِمٌ، فَلَمْ تُطْعِمُوهُ مِنْهُ شَيْئًا قَالَ: فَكَانَ يَعْقُوبُ بَعْدَهَا إِذَا أَرَادَ الْغَدَاءَ أَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى أَلَا مَنْ أَرَادَ الْغَدَاءَ مِنَ الْمَسَاكِينِ، فَلْيَتَغَدَّ مَعَ يَعْقُوبَ وَإِذَا كَانَ صَائِمًا أَمَرَ مُنَادِيًا، فَنَادَى أَلَا مَنْ كَانَ صَائِمًا مِنَ الْمَسَاكِينِ فَلْيُفْطِرْ مَعَ يَعْقُوبَ " قَالَ الْحَاكِمُ: هَكَذَا فِي سَمَاعِي بِخَطِّ يَدِ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الزُّبَيْرِ وَأَظُنُّ الزُّبَيْرَ وَهْمًا مِنَ الرَّاوِي فَإِنَّهُ حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيُّ ابْنُ أَخِي أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فَإِنْ كَانَ كَذَلِكَ فَالْحَدِيثُ صَحِيحٌ، وَقَدْ أَخْرَجَ الْإِمَامُ أَبُو يَعْقُوبَ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ هَذَا الْحَدِيثَ فِي التَّفْسِيرِ مُرْسَلًا " [ص:379]

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نبی حضرت یعقوب علیہ السلام کے ایک منہ بولے بھائی تھے ، ایک دن انہوں نے پوچھا: اے یعقوب علیہ السلام ! آپ کی بینائی کیوں زائل ہو گئی ہے؟ اور آپ کی کمر کیوں جھک گئی ہے؟ یعقوب علیہ السلام نے فرمایا: میری بینائی زائل ہونے کی وجہ یوسف علیہ السلام کے فراق میں رونا ہے اور میرے بیٹے " یامین" کے غم میں میری کمر خم ہو گئی ہے ( آپ ﷺ نے فرمایا) حضرت جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس آئے اور کہنے لگے: اے یعقوب علیہ السلام ! اللہ تعالیٰ آپ کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے: تمہیں اس بات سے حیاء نہیں آئی، تم میرے غیر کے پاس میرا شکوہ کر رہے ہو ( آپ ﷺ نے ) فرمایا: پھر حضرت یعقوب علیہ السلام نے کہا: میں تو اپنی پریشانی اور غم کی فریاد اللہ تعالیٰ ہی سے کرتا ہوں۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا: اے یعقوب علیہ السلام ! میں جانتا ہوں جو آپ شکایت کر رہے ہیں۔ پھر حضرت یعقوب علیہ السلام نے کہا: اے میرے رب کیا تو اس بوڑھے ضعیف پر رحم نہیں کرتا تو نے میری بینائی زائل کر دی ہے اور مجھے کج پشت کر دیا ہے تو میری خوشبو مجھے لوٹا دے، میں مرنے سے پہلے اس کو سونگھ لوں پھر تو جو چاہے میرے ساتھ معاملہ کر لے۔ پھر حضرت جبرائیل علیہ السلام ان کے پاس آئے اور فرمایا: اللہ تعالیٰ آپ کو سلام کہ رہا ہے اور آپ سے فرما رہا ہے : تو خوش ہو جا اور تیرا دل شادمان ہو جائے ،مجھے میری عزت کی قسم ہے اگر وہ (تیرے بیٹے) مر بھی گئے ہوتے تب بھی ہم ان کو زندہ کر کے آپ سے ملا دیتے۔ آپ مسکینوں کے لئے کھانا تیار کریں ( اور ان کو کھلائیں) کیونکہ میرے بندوں میں سے انبیاء کرام اور مساکین مجھے سب سے زیادہ پیارے ہیں۔ کیا تمہیں معلوم ہے کہ میں نے تمہاری بینائی کیوں زائل کی اور تمہاری پشت ٹیڑھی کیوں کی؟ اور یوسف علیہ السلام کے سات اس کے بھائیوں نے جو رویہ اختیار کیا تھا وہ کیوں ہوا؟ ( اس کی وجہ یہ تھی کہ ) ایک دفعہ تم نے بکری ذبح کی تھی تمہارے پاس ایک یتیم مسکین آیا تھا اور وہ روزہ دار تھا لیکن تم نے اس کو کچھ بھی نہ کھلایا ( آپ ﷺ نے ) فرمایا: اس کے بعد یعقوب علیہ السلام نے ی عادت بنا لی تھی کہ جب ناشتہ کرنے لگتے تو منادی کو حکم دیتے وہ ندا دیتا کوجو کوئی ناشتہ کرنا چاہتا ہے، وہ یعقوب علیہ السلام کے ہمراہ ناشتہ کر لے اور آپ روزہ رکھتے ( اور افطار کرنے لگتے) تو منادی کو حکم دیتے، وہ یہ اعلان کرتا جو کوئی مسکین روزہ دار ہو، وہ یعقوب علیہ السلام کے ہمراہ روزہ افطار کرے۔ امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں: حفص بن عمر الزبیر کے ہاتھ کی تحریر کے بارے میں میری اطلاع یہی ہے اور میرا خیال ہے کہ "الزبیر"راوی کی غلطی ہے کیونکہ یہ حفص بن عمر بن عبداللہ بن ابی طلحہ انصاری ہیں جو کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے بھتیجے ہیں اور اگر حقیقت یہی ہے تو یہ حدیث صحیح ہے۔ اور امام ابو یعقوب اسحق بن ابراہیم الحنظلی نے اس حدیث کو تفسیر میں مرسلاً درج کیا ہے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← حُصَيْنِ بْنِ عُمَرَ ← يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي غَنِيَّة ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← هِشَامُ بْنُ بِشْرٍ، ← الشَّيْخُ أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Yusuf · Hadith 3328

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْحِجْرِ · حديث 3351

3351 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحَارِثِيُّ، بِالْكُوفَةِ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ، مَوْلَى الْحُرَقَةِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «السَّبْعُ الْمَثَانِي فَاتِحَةُ الْكِتَابِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ الْإِسْنَادِ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ «وَقَدْ أَمْلَيْتُ طُرُقَ هَذَا الْحَدِيثِ فِي كِتَابِ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ»

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:" سبع مثانی" سورہ فاتحہ ہے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے نقل نہیں کیا۔ اور اس حدیث کی دیگر سندیں میں نے کتاب " فضائل القرآن " میں ذکر کر دی ہیں۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ مَوْلَى الْحُرَقَةِ ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَنْصَارِيُّ، ← أَبُو أُسَامَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحَارِثِيُّ، بِالْكُوفَةِ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Al-Hijr · Hadith 3351

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ وَمِنْ تَفْسِيرِ سُورَةِ بَنِي إِسْرَائِيلَ · حديث 3379

3379 - أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " سَأَلَ أَهْلُ مَكَّةَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَجْعَلَ لَهُمُ الصَّفَا ذَهَبًا وَأَنْ تُنَحَّى عَنْهُمُ الْجِبَالُ فَيَزْرَعُوا فِيهَا فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: إِنَّ شِئْتَ آتَيْنَاهُمْ مَا سَأَلُوا فَإِنْ كَفَرُوا أُهْلِكُوا كَمَا أَهْلَكْتُ مَنْ قَبْلَهُمْ، وَإِنْ شِئْتَ أَنْ أَسْتَأْنِيَ بِهِمْ لَعَلَّنَا نَسْتَحْيِي مِنْهُمْ. فَأَنْزَلَ اللَّهُ هَذِهِ: {وَمَا مَنَعَنَا أَنْ نُرْسِلَ بِالْآيَاتِ إِلَّا أَنْ كَذَّبَ بِهَا الْأَوَّلُونَ وَآتَيْنَا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً} [الإسراء: 59] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3379 - صحيح

حضرت (عبداللہ ) بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :اہل مکہ نے رسول اللہ ﷺ سے مطالبہ کیا کہ ان کے لئے کوہ صفا کو سنا بنا دیا جائے اور یہ کہ پہاڑ وہاں سے ہٹا دیے جائیں تاکہ ہم کھیتی باڑی کر سکیں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اگر تم چاہو تو میں تمہارا یہ مطالبہ پورا کر سکتا ہوں لیکن اگر اس کے بعد کسی نے انکار کیا تو تمہیں اسی طرح ہلاک کر دیا جائے گا جیسے سابقہ قومون کو ہلاک کیا گیا اور اگر آپ ﷺ چاہیں تو میں ان کو مہلت دے دیتا ہوں۔ شاید کہ ہم اس سے حیا کریں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ناز ل فرمائی: وما منعنا ان نرسل بالآیات الا ان کذب بہا الاولون وآتینا ثمود الناقۃ مبصرۃ (الاسراء : 59) " اور ہم ایسی نشانیاں بھیجنے سے یونہی بازر ہے کہ انہیں اگلوں نے جھٹلایا ور ہم نے ثمود کو ناقہ دیا آنکھیں کھولنے کو تو انہوں نے اس پر ظلم کیا" (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضارحمۃ اللہ علیہ ) یہ حدیث صحیح الاسناد ہےلیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ، ← الْاَعْمَشِ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ جَرِيرٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › And from the interpretation of the wall of the children of Israel · Hadith 3379

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 875

875 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزَّاهِدُ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مِهْرَانَ بْنِ خَالِدٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «يُصَلِّي نَحْوًا مِنْ صَلَاتِكُمْ وَلَكِنَّهُ كَانَ يُخَفِّفُ الصَّلَاةَ كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ بِالْوَاقِعَةِ وَنَحْوِهَا مِنَ السُّوَرِ» . " هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَإِنَّمَا خَرَّجَ مُسْلِمٌ بِإِسْنَادِهِ: كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ بِالْوَاقِعَةِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 875 - على شرط مسلم

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تمہاری طرح نماز پڑھایا کرتے تھے لیکن آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نماز میں تخفیف کرتے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فجر کی نماز میں سورۃ واقعہ اور اس جیسی دوسری سورتیں پڑھا کرتے تھے ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی سند کے ساتھ یہ حدیث نقل کی ہے : کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نماز فجر میں سورۃ واقعہ پڑھا کرتے تھے ۔

جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← سِمَاكٍ، ← اِسْرَائِیْلُ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← إِسْحَاقُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مِهْرَانَ بْنِ خَالِدٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزَّاهِدُ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 875

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْحُدُودِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8164

8164 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عَمْرِو بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ بَنُو أُبَيْرِقٍ رَهْطًا مِنْ بَنِي ظُفُرٍ وَكَانُوا ثَلَاثَةً بَشِيرٌ وَبِشْرٌ وَمُبَشِّرٌ، وَكَانَ بَشِيرٌ يُكْنَى أَبَا طُعْمَةَ وَكَانَ شَاعِرًا وَكَانَ مُنَافِقًا وَكَانَ يَقُولُ الشَّعْرَ يَهْجُو بِهِ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ يَقُولُ: قَالَهُ فُلَانٌ، فَإِذَا بَلَغَهُمْ ذَلِكَ، قَالُوا: كَذَبَ عَدُوُّ اللَّهِ مَا قَالَهُ إِلَّا هُوَ، فَقَالَ: [البحر الكامل] أَوَكُلَّمَا قَالَ الرِّجَالُ قَصِيدَةً ... ضَمُّوا إِلَيَّ بِأَنْ أُبَيْرِقَ قَالَهَا مُتَخَطِّمِينَ كَأَنَّنِي أَخْشَاهُمُ ... جَدَعَ الْإِلَهُ أُنُوفَهُمْ فَأَبَانَهَا وَكَانُوا أَهْلَ فَقْرٍ وَحَاجَةٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَالْإِسْلَامِ وَكَانَ عَمِّي رِفَاعَةُ بْنُ زَيْدٍ رَجُلًا مُوسِرًا أَدْرَكَهُ الْإِسْلَامُ فَوَاللَّهِ إِنْ كُنْتُ لَأَرَى أَنَّ فِي إِسْلَامِهِ شَيْئًا، وَكَانَ إِذَا كَانَ لَهُ يَسَارٌ فَقَدِمَتْ عَلَيْهِ هَذِهِ الضَّافِطَةُ مِنَ السَّدَمِ تَحْمِلُ الدَّرْمَكَ ابْتَاعَ لِنَفْسِهِ مَا يَحِلُّ بِهِ، فَأَمَّا الْعِيَالُ فَكَانَ يُقِيتُهُمُ الشَّعِيرَ فَقَدِمَتْ ضَافِطَةٌ - وَهُمُ الْأَنْبَاطُ - تَحْمِلُ دَرْمَكًا فَابْتَاعَ رِفَاعَةُ حِمْلَيْنِ مِنْ شَعِيرٍ فَجَعَلَهُمَا فِي عُلِّيَّةٍ لَهُ وَكَانَ فِي عُلِّيَّتِهِ دِرْعَانِ لَهُ وَمَا يُصْلِحُهُمَا مِنْ آلَتِهِمَا، فَطَرَقَهُ بَشِيرٌ مِنَ اللَّيْلِ فَخَرَقَ الْعُلِّيَّةَ مِنْ ظَهْرِهَا فَأَخَذَ الطَّعَامَ ثُمَّ أَخَذَ السِّلَاحَ، فَلَمَّا أَصْبَحَ عَمِّي بَعَثَ إِلَيَّ فَأَتَيْتُهُ، فَقَالَ: أُغِيرَ عَلَيْنَا هَذِهِ اللَّيْلَةَ فَذُهِبَ بِطَعَامِنَا وَسِلَاحِنَا، فَقَالَ بَشِيرٌ وَإِخْوَتُهُ: وَاللَّهِ مَا صَاحِبُ مَتَاعِكُمْ إِلَّا لَبِيدُ بْنُ سَهْلٍ - لِرَجُلٍ مِنَّا كَانَ ذَا حَسَبٍ وَصَلَاحٍ - فَلَمَّا بَلَغَهُ، قَالَ: أُصْلِتُ وَاللَّهِ بِالسَّيْفِ، ثُمَّ قَالَ: أَيْ بَنِي الْأُبَيْرِقِ وَأَنَا أَسْرِقُ، فَوَاللَّهِ لَيُخَالِطَنَّكُمْ هَذَا السَّيْفُ أَوْ لَتُبَيِّنُنَّ مَنْ صَاحِبُ هَذِهِ السَّرِقَةِ، فَقَالُوا: انْصَرِفْ عَنَّا فَوَاللَّهِ إِنَّكَ لَبَرِئٌ مِنْ هَذِهِ السَّرِقَةِ، فَقَالَ: كَلَّا وَقَدْ زَعَمْتُمْ، ثُمَّ سَأَلْنَا فِي الدَّارِ وَتَجَسَّسْنَا حَتَّى قِيلَ لَنَا: وَاللَّهِ لَقَدِ اسْتَوْقَدَ بَنُو أُبَيْرِقٍ اللَّيْلَةَ وَمَا نَرَاهُ إِلَّا عَلَى طَعَامِكُمْ، فَمَا زِلْنَا حَتَّى كِدْنَا نَسْتَيْقِنُ أَنَّهُمْ أَصْحَابُهُ، فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَلَّمَتْهُ فِيهِمْ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَهْلَ بَيْتٍ مِنَّا أَهْلَ جَفَاءٍ وَسَفَهٍ غَدَوْا عَلَى عَمِّي فَخَرَقُوا عُلِّيَّةً لَهُ مِنْ ظَهْرِهَا فَغَدَوْا عَلَى طَعَامٍ وَسِلَاحٍ، فَأَمَّا الطَّعَامُ فَلَا حَاجَةَ لَنَا فِيهِ وَأَمَّا السِّلَاحُ فَلْيَرُدَّهُ عَلَيْنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَأَنْظُرُ فِي ذَلِكَ» وَكَانَ لَهُمُ ابْنُ عَمٍّ يُقَالُ لَهُ أَسِيرُ بْنُ عُرْوَةَ فَجَمَعَ رِجَالَ قَوْمِهِ ثُمَّ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ رِفَاعَةَ بْنَ زَيْدٍ وَابْنَ أَخِيهِ قَتَادَةَ بْنَ النُّعْمَانِ قَدْ عَمَدَا إِلَى أَهْلِ بَيْتٍ مِنَّا أَهْلَ حَسَبِ وَشَرَفٍ وَصَلَاحٍ يَأْبِنُونَهُمْ بِالْقَبِيحِ وَيَأْبِنُونَهُمْ بِالسَّرِقَةِ بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ وَلَا شَهَادَةٍ، فَوَضَعَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلِسَانِهِ مَا شَاءَ ثُمَّ انْصَرَفَ، وَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَلَّمْتُهُ فَجَبَهَنِي جَبْهًا شَدِيدًا وَقَالَ: «بِئْسَ مَا صَنَعْتَ وَبِئْسَ مَا مَشَيْتَ فِيهِ، عَمَدْتَ إِلَى أَهْلِ بَيْتٍ مِنْكُمْ أَهْلِ حَسَبٍ وَصَلَاحٍ تَرْمِيهِمْ بِالسَّرِقَةِ وَتَأْبِنُهُمْ فِيهَا بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ وَلَا تَثَبُّتٍ» فَسَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَكْرَهُ، فَانْصَرَفْتُ عَنْهُ وَلَوَدِدْتُ أَنِّي خَرَجْتُ مِنْ مَالِي وَلَمْ أُكَلِّمْهُ، فَلَمَّا أَنْ رَجَعْتُ إِلَى الدَّارِ أَرْسَلَ إِلَيَّ عَمِّي: يَا ابْنَ أَخِي مَا صَنَعْتَ؟ فَقُلْتُ: وَاللَّهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي خَرَجْتُ مِنْ مَالِي وَلَمْ أُكَلِّمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ وَايْمُ اللَّهِ لَا أَعُودُ إِلَيْهِ أَبَدًا، فَقَالَ: اللَّهُ الْمُسْتَعَانُ، فَنَزَلَ الْقُرْآنُ {إِنَّا أَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ بِمَا أَرَاكَ اللَّهُ وَلَا تَكُنْ لِلْخَائِنِينَ خَصِيمًا} [النساء: 105] أَيْ طُعْمَةَ بْنِ أُبَيْرِقٍ، فَقَرَأَ حَتَّى بَلَغَ {ثُمَّ يَرِمْ بِهِ بَرِيئًا} [النساء: 112] أَيْ لَبِيدَ بْنَ سَهْلٍ {وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكَ وَرَحْمَتُهُ لَهَمَّتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ أَنْ يُضِلُّوكَ} [النساء: 113] يَعْنِي أَسِيرَ بْنَ عُرْوَةَ وَأَصْحَابَهُ، ثُمَّ قَالَ: {لَا خَيْرَ فِي كَثِيرٍ مِنْ نَجْوَاهُمْ} [النساء: 114]- إِلَى قَوْلِهِ - {وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ} [النساء: 48] أَيًّا كَانَ ذَنْبُهُ دُونَ الشِّرْكِ، فَلَمَّا نَزَلَ الْقُرْآنُ هَرَبَ فَلَحِقَ بِمَكَّةَ وَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيَّ الدَّرْعَيْنِ وَأَدَاتَهُمَا فَرَدَّهُمَا عَلَى رِفَاعَةَ. قَالَ قَتَادَةُ: فَلَمَّا جِئْتُهُ بِهِمَا وَمَا مَعَهُمَا، قَالَ: يَا ابْنَ أَخِي هُمَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَرَجَوْتُ أَنَّ عَمِّي حَسُنَ إِسْلَامُهُ وَكَانَ ظَنِّي بِهِ غَيْرَ ذَلِكَ، وَخَرَجَ ابْنُ أُبَيْرِقٍ حَتَّى نَزَلَ عَلَى سَلَّامَةَ بِنْتِ سَعْدِ بْنِ سَهْلٍ أُخْتِ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ وَكَانَتْ عِنْدَ طَلْحَةَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ بِمَكَّةَ، فَوَقَعَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ يَشْتُمُهُمْ فَرَمَاهُ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ بِأَبْيَاتٍ، فَقَالَ: [البحر الطويل] أَيَا سَارِقَ الدَّرْعَيْنِ إِنْ كُنْتَ ذَاكِرًا ... بِذِي كَرَمٍ بَيْنَ الرِّجَالِ أُوَادِعُهْ وَقَدْ أَنْزَلْتَهُ بِنْتُ سَعْدٍ فَأَصْبَحَتْ ... يُنَازِعُهَا جَلْدَ اسْتِهِ وَتُنَازِعُهْ فَهَلَّا أَسِيرًا جِئْتَ جَارَكَ رَاغِبًا ... إِلَيْهِ وَلَمْ تَعْمَدْ لَهُ فَتُدَافِعُهْ ظَنَنْتُمْ بِأَنْ يَخْفَى الَّذِي قَدْ فَعَلْتُمُ ... وَفِيكُمْ نَبِيٌّ عِنْدَهُ الْوَحْيُ وَاضِعُهْ فَلَوْلَا رِجَالٌ مِنْكُمُ تَشْتُمُونَهُمْ ... بِذَاكَ لَقَدْ حَلَّتْ عَلَيْهِ طَوَالِعُهْ فَإِنْ تَذْكُرُوا كَعْبًا إِلَى مَا نَسَبْتُمُ ... فَهَلْ مِنْ أَدِيمٍ لَيْسَ فِيهِ أَكَارِعُهْ وَجَدْتَهُمُ يَرْجُونَكُمْ قَدْ عَلِمْتُمُ ... كَمَا الْغَيْثُ يُرْجِيهِ السَّمِينُ وَتَابِعُهْ فَلَمَّا بَلَغَهَا شِعْرُ حَسَّانَ أَخَذَتْ رَحْلَ أُبَيْرِقٍ فَوَضَعَتْهُ عَلَى رَأْسِهَا حَتَّى قَذَفَتْهُ بِالْأَبْطَحِ، ثُمَّ حَلَقَتْ وَسَلَقَتْ وَخَرَقَتْ وَخَلَفَتْ إِنْ بِتَّ فِي بَيْتِي لَيْلَةً سَوْدَاءَ أَهْدَيْتَ لِي شِعْرَ حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ مَا كُنْتَ لِتَنْزِلَ عَلَيَّ بِخَيْرٍ، فَلَمَّا أَخْرَجَتْهُ لَحِقَ بِالطَّائِفِ فَدَخَلَ بَيْتًا لَيْسَ فِيهِ أَحَدٌ فَوَقَعَ عَلَيْهِ فَقَتَلَهُ، فَجَعَلَتْ قُرَيْشٌ تَقُولُ: وَاللَّهِ لَا يُفَارِقُ مُحَمَّدًا أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فِيهِ خَيْرٌ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8164 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت قتادہ بن نعمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتےہیں کہ بنو ابیرق، بنی ظفر کی ایک شاخ ہے،یہ تین بھائی تھے،بشیر ، بِشر اور مبشر۔ بشیر کی کنیت ابو طعمہ تھی ، وہ شاعر تھا، منافق تھا، یہ اپنی شاعری میں صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کوسب و شتم کیا کرتا تھا، اور یہ اشعار کسی اور کے نام منسوب کر دیا کرتا تھا، جب صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو اس کو حرکتوں کا پتاچلتا تو وہ سمجھ جاتے کہ یہ اشعار اس نے خود ہی لکھے ہیں، یہ ہمیں جھوٹ بتا رہا ہے۔ پھر اس نے کہا: جب کبھی بھی کوئی شخص قصیدہ کہتا ہے تو مجھے مغلوب کرنے کےلئے وہ میری طر ف منسوب کر کے کہتا ہے کہ یہ قصیدہ ابن ابیرق نےکہا ہے۔ میں ان سے ڈرتا نہیں ہوں، اللہ کرے کہ ان کے ناک کٹ کر الگ ہو جائیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم زمانہ جاہلیت میں اور اسلام میں بہت غریب ہوتے تھے، اور میرے چچا رفاعہ بن زید مالدار شخص تھے، انہوں نے اسلام کا زمانہ بھی پایا ہے، اللہ کی قسم! میں ان کے اسلام میں کوئی شک نہیں کرتا، ان کی عادت تھی کہ جب بھی ان کے پاس دولت آتی، ان کے پاس ضرورت مند مسافر آتے ، وہ آٹا بیچ کر اپنی ضرورت کی اشیاء خریدتے ، اور وہ بچوں کا گزارا جو پر کرواتے تھے۔ چنانچہ کچھ مسافر آٹا بیچنے کے لئے ان کے پاس آئے، رفاعہ نے جو کہ دو بورے ان سے خرید لئے، اور وہ بالا خانے میں رکھوا دئیے، اس بالا خانے میں دوزر ہیں اور ان سے متعلقہ سامان موجود تھا، بشیر نے رات کے وقت مکان کی پشت کی جانب سے بالا خانے کی دیوار پھاڑی،اور غلہ اور اسلحہ لے گیا، صبح ہوئی تو میرے چچا نے میری جانب پیغام بھیج کر مجھے بلوایا ، میں ان کے پاس گیا، انہوں نے بتایا کہ گزشتہ رات واردات ہوگئی اور ہمارا طعام اور ہتھیار چوری ہوگئے ہیں، بشیر اور اس کے ساتھیوں نے کہا: اللہ کی قسم! تمہارا یہ سامان لبید بن سہل نے چرایا ہے ، وہ شخص ہم میں حسب و نسب والا اور باعزت تھا، جب اس تک یہ بات پہنچی تو اس نے تلوار سونت کرکہا: اللہ کی قسم ! اے بنی الابیرق کیا میں چوری کروں گا؟ اللہ کی قسم ! میں تم پر یہ تلوار چلاؤں گا یا تم بتاؤ گے کہ یہ چوری کس نے کی ہے؟ انہوں نے کہا: ہماری جان چھوڑو، اللہ کی قسم! تو اس چوری سے بری ہے، اس نے کہا: ہر گز نہیں، تم تو مجھے چور سمجھتے ہو، پھر ہم نے اس گھر کا پوچھا اور تفتیش شروع کر دی، تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ بنو ابیرق نے گزشتہ رات آگ روشن کی تھی،اور ہم یہ سمجھتے ہیں کہ وہ صرف تمہارا غلہ چوری کرنے کے لئے ہی جلائی گئی ہو گی۔ ہم نے تفتیش کا سلسلہ جاری رکھا، حتیٰ کہ ہمیں یقین ہوگیا کہ یہی لوگ چور ہیں، پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بارگاہ میں آیا، اور آپ سے ان کے متعلق بات کی، میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے گھر والے مظلوم اور بھولے بھالے ہیں، کچھ لوگ میرے چچا پر چڑھ دوڑے ، ان کا بالا خانہ پشت کی جانب سے پھاڑا اور ان کا طعام اور ہتھیار وغیرہ چرا لئے، ہمیں طعام کی کوئی زیادہ ضرورت نہیں ہے، لیکن آپ ہمیں ہمارا اسلحہ واپس دلا دیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں اس پر غور کرتا ہوں۔ ان کاایک چچا زاد بھائی تھا، اس کواسیر بن عروہ کہاجاتا تھا، وہ اپنے قبیلے کے لوگوں کو جمع کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بارگاہ میں لے آیا، اور کہنے لگا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رفاعہ بن یزید اور اس کے بھتیجے ، قتادہ بن نعمان نے ہم با عزت شریف اور سادہ لوح لوگوں کو ذلیل و رسوا کردیا ہے۔ انہوں نے ہم پر بہت برے الزامات لگائے ہیں، انہوں نے ہم پر چوری کابھی الزام لگایا ہے، حالانکہ ان کے پاس کوئی گواہ نہیں ہے۔انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ان لوگوںکی بہت برائی کی، اور پھر واپس چلا گیا، پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا،اور آپ سے اس موضوع پر بات چیت کی، آپ نے مجھے بہت سختی سے جھنجوڑا اور فرمایا: تم نے جوکچھ بھی کیا ہے، اچھا نہیں کیا، تو نے اپنے قبیلے کے عزت دار، شریف اور سادہ لوح لوگوں پر چوری کا الزام لگایا ہے اور بغیر ثبوت کے ، بغیر گواہوں کے ان کو ذلیل کیا ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جو باتیں سنیں، وہ باتیں مجھے ذرا بھی اچھی نہیں لگیں، میں وہاں سے واپس آ گیا اور میرا ارادہ بن رہا تھا کہ میں اپنے مال کے قضیے سے ہی نکل جاؤں گا اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کلام نہیں کروں گا۔ جب میں اپنی حویلی میں واپس آیا تو میری چچا نے میری جانب پیغام بھجوایا کہ اے بھتیجے! تو نے کیا کیا؟ میں نے کہا : اللہ کی قسم ! میں نے ارادہ کر لیا ہے کہ میں اپنے مال کے قضیے سے نکل جاؤں گا اور اس سلسلے میں اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کوئی کلام نہیں کروں گا، اور اللہ کی قسم ! میں اس معاملے میں دوبارہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں نہیں جاؤں گا، انہوں نے فرمایا: اللہ ہی سے مددلی جاتی ہے۔ اس وقت قرآن کریم کی یہ آیت نازل ہوئی :"﴿إِنَّا أَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ بِمَا أَرَاكَ اللَّهُ وَلَا تَكُنْ لِلْخَائِنِينَ خَصِيمًا١٠٥﴾" (النساء:105)" اے محبوب بے شک ہم نے تمہاری طرف سچی کتاب اتاری کہ تم لوگوں میں جس طرح تمہیں اللہ دکھائے اور دغا والوں کی طرف سے نہ جھگڑو"(ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔اس میں خائن سے مراد طعمہ بن ابیرق ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ آیت پڑھی حتیٰ کہ آپ "ثم یرم بہ بریئا"۔"پھر اسے کسی بے گناہ پر تھوپ دے" (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) تک پہنچے ، اس میں بر سے مراد لبید بن سہل ہے۔ پھر فرمایا:" ولولا فضل اللہ علیک ورحمتہ لھمت طائفۃ منھم ان یضلوک" "اے محبوب اگر اللہ کا فضل و رحمت تم پر نہ ہوتا تو ان میں سے کچھ لوگ یہ چاہتے ہیں کہ تمہیں دھوکا دے دیں" (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔ اس سے مراد اسیر بن عروہ اور اس کے ساتھی ہیں،پھر فرمایا: "﴿لَا خَيْرَ فِي كَثِيرٍ مِنْ نَجْوَاهُمْ﴾" (النساء: 114) -الیٰ قولہ ٖ-ویغفر مادون ذالک لمن یشاء"۔" ان کے اکثر مشوروں میں کچھ بھلائی نہیں مگر جو حکم دے خیرات یا اچھی بات یا لوگوں میں صلح کرنے کا اور جو اللہ کی رضا چاہنے کو ایسا کرے اسے عنقریب ہم بڑا ثواب دیں گے اور جو رسول کا خلاف کرے بعد اس کے کہ حق راستہ اس پر کھل چکا اور مسلمانوں کی راہ سے جدا راہ چلے ہم اسے اس کے حال پر چھوڑ دیں گے اور اسے دوزخ میں داخل کریں گے اور کیا ہی بری جگہ پلٹنے کی، اللہ اسے نہیں بخشتا کہ اس کا کوئی شریک ٹھہرایا جائے اور اس سے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہے معاف فرما دیتا ہے اور جو اللہ کا شریک ٹھہرائے وہ دور کی گمراہی میں پڑا" (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔ یعنی شرک سے کمتر کوئی بھی گناہ ہو، اللہ تعالیٰ معاف فرما دے گا۔ جب قرآن کریم کی یہ آیات نازل ہوئیں تو ہو بھاگ کر مکہ چلا گیا ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دونوں زرہیں اور ان کا سامان میری جانب بھیج دیا، میں نے وہ رفاعہ کو واپس کر دیا۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں: جب میں ان کی دونوں زرہیں اور ان کا سامان لے کر ان کے پاس گیا تو انہوں نے فرمایا: اے میرے بھتیجے! یہ دونوں میں نے اللہ کی راہ میں وقف کیں، مجھے امید ہو گئی کہ میرا چچا مشرف با سلام ہو جائے گا، اس سے پہلے ان کے بارے میں میرا گمان کچھ اور تھا۔ اب ابیرق وہاں سے نکلا اور بنی عمرو بن عوف کی بہن سلامہ بنت سعد بن سہل کے پاس پہنچ گیا، سلامہ طلحہ بن ابی طلحہ کے نکاح میں ، مکہ میں تھیں، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بارے میں بہت بکواس کرتا ہوا آیا اور صحابہ کرام کو بھی برا بھلا کہنے لگا۔ حضرت حسان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اشعار میں اس کی بکواسات کا جواب دیا۔ جب حضرت حسان کے اشعار سلامہ تک پہنچے تو اس نے ابیرق کا کجاوہ پکڑا، اس کو اپنے سر پر رکھا اور اٹھا کر نالے میں پھینک دیا، اس کا سر مونڈ دیا، اس کو برا بھلا کہا، اس کے کپڑے پھاڑ ڈالے اور یہ قسم کھائی کہ تیری وجہ سے حسان نے میرے بارے میں یہ اشعار کہے ہیں تو نے میرے ساتھ اچھا نہیں کیا اگر تو نے میرے گھر میں رات گزاری تو تیری خیر نہیں ہو گی، جب سلامہ نے اس کو اپنے گھر سے نکال دیا تو وہ طائف میں چلا گیا، وہاں جا کر ایک خالی گھر میں گھس گیا، وہ مکان اس کے اوپر گر گیا اور وہ نیچے دب کر مر گیا، اس کے بعد قریش کہا کرتے تھے" اللہ کی قسم! محمد کے جس صحابی میں بھلائی ہوتی ہے و کبھی بھی محمد کو نہیں چھوڑتا۔یہ حدیث ا مام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔

جده قتادة بن النعمان ← أَبِيهِ ← عَاصِمِ بْنِ عَمْرِو بْنِ قَتَادَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Boundaries Book › The merits of all Arabs · Hadith 8164

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8319

8319 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ السَّعْدِيُّ، ثَنَا عَوْنُ بْنُ عُمَارَةَ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ جَدِّهِ ثُمَامَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «الْآيَاتُ بَعْدَ الْمِأَتَيْنِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8319 - أحسبه موضوعا

حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشادفرمایا: (قیامت کی بعض ) نشانیاں دو سالوں کے بعد (ہی رونما ہونا شروع ) ہو جائینگی۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔

النَّبِيِّ ← أَبِي قَتَادَةَ، ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← جَدِّهِ ثُمَامَةَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُثَنَّی ← عَوْنُ بْنُ عُمَارَةَ الْعَبْدِيُّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ السَّعْدِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of charms and epics › The merits of all Arabs · Hadith 8319

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8356

8356 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ السَّيَّارِيُّ بِمَرْوَ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُوَجَّهِ، أَنْبَأَ عَبْدَانُ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ، أَنْبَأَ سَعِيدُ بْنُ إِيَاسٍ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي فِرَاسٍ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «أَلَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا كُنَّا نَعْرِفُكُمْ إِذْ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِذْ يَنْزِلُ الْوَحْيُ، وَإِذْ بَيْنَنَا مِنْ أَخْبَارِكُمْ، أَلَا وَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِ انْطَلَقَ وَرُفِعَ الْوَحْيُ، وَإِنَّمَا نَعْرِفُكُمْ بِمَا أَقُولُ لَكُمْ، أَلَا وَمَنْ يُظْهِرُ مِنْكُمْ خَيْرًا ظَنَنَّا بِهِ خَيْرًا وَأَحْبَبْنَاهُ عَلَيْهِ، وَمَنْ يُظْهِرُ مِنْكُمْ شَرًّا ظَنَنَّا بِهِ شَرًّا وَأَبْغَضْنَاهُ عَلَيْهِ سَرَائِرُكُمْ فِيمَا بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ رَبِّكُمْ، أَلَا وَقَدْ أَتَى عَلَيَّ زَمَانٌ وَأَنَا أَحْسَبُ مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ يُرِيدُ بِهِ اللَّهَ تَعَالَى وَمَا عِنْدَهُ، وَلَقَدْ خُيِّلَ إِلَيَّ بِآخِرَهِ أَنَّ قَوْمًا يَقْرَأُونَهُ يُرِيدُونَ مَا عِنْدَ النَّاسِ، أَلَا فَأَرِيدُوا مَا عِنْدَ اللَّهِ بِقِرَاءَتِكُمْ وَبِعَمَلِكُمْ، أَلَا وَإِنِّي وَاللَّهِ مَا أَبْعَثُ عُمَّالِي لِيَضْرِبُوا أَبْشَارَكُمْ وَيَأْخُذُوا أَمْوَالَكُمْ، وَلَكِنِّي أَبْعَثُهُمْ لِيُعَلِّمُوكُمْ دِينَكُمْ وَسُنَنَكُمْ، وَيَعْدِلُوا بَيْنَكُمْ وَيَقْسِمُوا فِيكُمْ فَيْئَكُمْ، أَلَا مَنْ فُعِلَ بِهِ شَيْءٌ مِنْ ذَلِكَ فَلْيُرَافِعُهُ إِلَيَّ، وَالَّذِي نَفْسُ عُمَرَ بِيَدِهِ لَأَقُصَّهُ مِنْهُ» فَوَثَبَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ كَانَ عَلَى رَعِيَّةٍ، فَأَدَّبَ بَعْضَ رَعِيَّتِهِ إِنَّكَ لَمُقِصُّهُ مِنْهُ، قَالَ: «وَمَا لِي لَا أَقُصُّهُ وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُصُّ مِنْ نَفْسِهِ، أَلَا لَا تَضْرِبُوهُمْ فَتُذِلُّوهُمْ، وَلَا تَمْنَعُوهُمْ حَقَّهُمْ فَتُكَفِّرُوهُمْ، وَلَا تُجْبِرُوهُمْ فَتَفْتِنُوهُمْ، وَلَا تُنْزِلُوهُمُ الْغِيَاضَ فَتُضَيِّعُوهُمْ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8356 - على شرط مسلم

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: اے لوگو! ہم تمہیں پہچانتے تھے جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہم میں موجود تھے جب وحی کا نزول ہوتا تھا، جب اچھے لوگ ہم میں موجود تھے، سن لو ، خبردار! اللہ کے نبی جا چکے ہیں، وحی کا سلسلہ بند ہو چکا ہے، اب ہم تمہیں اسی بنیاد پر پہچانیں گے جو میں تمہیں کہوں گا۔ جس سے خیر ظاہر ہو گا، ہم اس کے بارے میں خیر کا گمان کریں گے، اور جس سے شر سرزد ہو گا، اس کو ہم شریر ہی سمجھیں گے، اور اس سے نفرت کریں گے، تمہارے اور تمہارے رب کے درمیان جو راز ہیں، وہ اللہ کے سپرد کریں گے، خبردار ! مجھ پر ایسا زمانہ آ چکا ہے کہ جو قرآن کریم پڑھتا ہے ، میں سمجھتا ہوں کہ اس کی نیت اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کی ہے اور ثواب کی ہے۔ جب کہ مجھے یہ سمجھانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ کچھ لوگ قرآن کریم پڑھتے ہیں اور اس سے دنیا چاہتے ہیں، اپنی قراءت اور اپنے علم سے اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی بارگاہ سے ثواب کی امید کرو۔ اللہ کی قسم! میں اپنے ملازمین کو اس لئے نہیں بھیجتا کہ وہ تمہیں مار پیٹ کر تمہارا مال لیں، بلکہ میں ان کو اس لئے بھیجتا ہوں تاکہ وہ تمہیں تمہارا دین اور سنتیں سکھائیں اور تمہارے درمیان انصاف کریں، اور تمہاری غنیمتیں تمہارے درمیان تقسیم کریں، خبردار! جس کے ساتھ کسی قسم کی بھی زیادتی ہو، وہ اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کی اطلاع مجھ تک پہنچائے، اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ میں عمر کی جان ہے، میں اس کو قصاص دلواؤں گا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا ہے ، آپ نے قصاص کے لئے خودکو پیش فرما دیا تھا، خبردار! ان کو مار کر انہیں زلیل مت کرنا، اور ان کا حق ان سے روک کر ان کو بدظن مت کرنا، اور ان پر جبر کر کے ان کو آزمائش میں مت ڈالنا، اور ان کا مرتبہ کم کرکے ان کو ضائع بھی مت کرنا۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔

عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ «أَلَا أَيُّهَا النَّاسُ ← أَبِي فِرَاسٍ ← أَبِي نَضْرَةَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of charms and epics › The merits of all Arabs · Hadith 8356

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8461

8461 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «الْآيَاتُ خَرَزَاتٌ مَنْظُومَاتٌ فِي سِلْكٍ، يُقْطَعُ السِّلْكُ فَيَتْبَعُ بَعْضُهَا بَعْضًا» قَالَ خَالِدُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ: كُنَّا نَادِينَ بِالصَّبَاحِ، وَهُنَاكَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، وَكَانَ هُنَاكَ امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي الْمُغِيرَةِ يُقَالُ لَهَا: فَاطِمَةُ، فَسَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو يَقُولُ: «ذَاكَ يَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ» ، فَقَالَتْ: أَكَذَاكَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو تَجِدُهُ مَكْتُوبًا فِي الْكِتَابِ؟ قَالَ: «لَا أَجِدُهُ بِاسْمِهِ وَلَكِنْ أَجِدُ رَجُلًا مِنْ شَجَرَةِ مُعَاوِيَةَ يَسْفِكُ الدِّمَاءَ، وَيُسْتَحَلُّ الْأَمْوَالَ، وَيَنْقُضُ هَذَا الْبَيْتَ حَجَرًا حَجَرًا، فَإِنْ كَانَ ذَلِكَ وَأَنَا حَيٌّ وَإِلَّا فَاذْكُرِينِي» ، قَالَ: " وَكَانَ مَنْزِلُهَا عَلَى أَبِي قُبَيْسٍ، فَلَمَّا كَانَ زَمَنُ الْحَجَّاجِ، وَابْنِ الزُّبَيْرِ وَرَأَتِ الْبَيْتَ يُنْقَضُ، قَالَتْ: رَحِمَ اللَّهُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو قَدْ كَانَ حَدَّثَنَا بِهَذَا " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8461 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے ارشاد فرمایا :آیات ایک دھاگے میں پروئے ہوئے نگینے ہیں ، ان میں سے ایک ٹوٹ جائے تو سب ایک دوسرے کے پیچھے چلے آتے ہیں ۔ حضرت خالد بن حویرث فرماتے ہیں: ہم صبح کے وقت ایک مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے، وہاں حضرت عبداللہ بن عمرو ج رضی اللہ عنہ بھی تھے، وہاں پر بنی مغیرہ کی ایک عورت بھی تھی، اس کو فاطمہ کہا جا تا تھا ، میں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ وہ یزید بن معاویہ ہے۔ اس عورت نے کہا: اے عبد اللہ بن عمرو! کیا تم کتاب اللہ میں اسی طرح لکھا پاتے ہو؟ انہوں نے کہا: میں کتاب اللہ میں اس کو اس نام کے ساتھ تو نہیں پاتا ہوں ، تاہم معاویہ کی نسل میں ایک ایسا آدمی پاتاہوں ، جوقتل و غارت گری کرے گا، جو لوگوں کے مال حلال سمجھے گا، اس گھر کی اینٹ سے اینٹ بجادے گا، اگر اس کی حکومت کے وقت تک میں زندہ رہا تو فبہا، ورنہ تو مجھے یاد کر لینا، آپ فرماتے ہیں ان کی رہائش ، ابو قبیس پر تھی ، جب حجاج اورابن زبیر کا زمانہ آیا اور اس عورت نے دیکھا کہ بیت الله کونقصان پہنچایا جارہا ہے تو بولی : اللہ تعالی عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ پر رحمت فرمائے ، اس نے یہ حالات میں پہلے ہی بتادیئے تھے۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← خَالِدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ← يزيد بن هارون، أنبأ ابن عون، ← سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of charms and epics › The merits of all Arabs · Hadith 8461

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8637

8637 - أَخْبَرَنِي أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الشَّيْبَانِيُّ بِالْكُوفَةِ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ الْغِفَارِيُّ، ثَنَا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: " مَضَتِ الْآيَاتُ غَيْرَ أَرْبَعَةٍ: الدَّجَّالُ، وَالدَّابَّةُ، وَيَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ، وَطُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، وَالْآيَةُ الَّتِي يَخْتِمُ اللَّهُ بِهَا الشَّمْسُ " ثُمَّ قَرَأَ: {هَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا أَنْ تَأْتِيَهُمُ الْمَلَائِكَةُ} [الأنعام: 158] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8637 - صحيح

حضرت عبداللہرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : چار نشانیوں کے علاوہ باقی سب پقری ہو چکی ہیں ، وہ چار نشانیاں یہ ہیں (1)دجال کا ظہور (2)دابۃ الارض کا ظہور (3) یاجوج و ماجوج کا نکلنا (4) مغرب کی جانب سے سورج کا طلوع ہونا (5) اور وہ نشانی جس کے ساتھ اللہ تعالی سورج پر مہر لگا دے گا ۔پھر حضرت عبداللہ نے یہ آیت پڑھی "﴿هَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا أَنْ تَأْتِيَهُمُ الْمَلَائِكَةُ [الأنعام: 158]""کاہے کے انتظار میں ہیں مگر یہ کہ آئیں ان کے پاس فرشتے "(ترجمہ کنزالایمان، امام احمد رضا ) ۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي عُبَيْدَةَ ← أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ← عَوْفٌ، ← سُفْيَانَ، ← قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ الْغِفَارِيُّ ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الشَّيْبَانِيُّ بِالْكُوفَةِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of charms and epics › The merits of all Arabs · Hadith 8637

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8645

8645 - حَدَّثَنَا أَبُو الْفَضْلِ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ الْعَدْلُ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ حَبِيبٍ الْعَبْدِيُّ، ثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ الْعُمَرِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، قَالَ: جَلَسَ إِلَى مَرْوَانَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ بِالْمَدِينَةِ، فَسَمِعُوهُ يُحَدِّثُ عَنِ الْآيَاتِ أَوَّلُهَا خُرُوجُ الدَّجَّالِ فَقَامَ النَّفْرُ مِنْ عِنْدِ مَرْوَانَ، فَجَلَسُوا إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فَحَدَّثُوهُ بِمَا قَالَ مَرْوَانُ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: لَمْ يَقُلْ مَرْوَانُ شَيْئًا، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «إِنَّ أَوَّلَ الْآيَاتِ خُرُوجًا طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، أَوِ الدَّابَّةُ أَيُّهُمَا كَانَتْ أَوَّلًا فَالْأُخْرَى عَلَى أَثَرِهَا قَرِيبًا» ثُمَّ نَشَأَ يُحَدِّثُ قَالَ: «وَذَلِكَ أَنَّ الشَّمْسَ إِذَا غَرَبَتْ أَتَتْ تَحْتَ الْعَرْشِ فَسَجَدَتْ وَاسْتَأْذَنَتْ فِي الرُّجُوعِ فَلَمْ يُرَدَّ عَلَيْهَا شَيْءٌ» قَالَ: " ثُمَّ تَعُودُ تَسْتَأْذِنُ فِي الرُّجُوعِ فَلَمْ يُرَدَّ عَلَيْهَا شَيْءٌ، قَالَ: يَا رَبِّ مَا أَبْعَدَ الْمَشْرِقِ مَنْ لِي بِالنَّاسِ، حَتَّى إِذَا كَانَ اللَّيْلُ أَتَتْ فَاسْتَأْذَنَتْ، فَقَالَ لَهَا: اطْلُعِي مِنْ مَكَانِكِ " قَالَ: وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَقْرَأُ الْكُتُبَ فَقَرَأَ: " وَذَلِكَ يَوْمَ {لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا} [الأنعام: 158] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخْرِجَاهُ»

ابو زرعہ بن عمرو بن جریر بیان کرتے ہیں کہ مدینہ منورہ میں مروان کے پاس تین آدمی بیٹھے ہوئے تھے ، انہوں نے مروان کو قیامت کی تین نشانیاں بیان کرتے ہوئے سنا ، سب سے پہلی یہ کہ دجال نکلے گا ، وہ لوگ مروان کے پاس اٹھے اور حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، اور مروان کی بیان کردہ حدیث ان کو سنائی ، (حدیث سن کر ) حضرت عبداللہ نے فرمایا : مروان کی بیان کردہ حدیث ، اس حدیچ کئ موافق نہیں ہے جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زبان مبارک سے سنی ہے ( میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ) سب سے پہلے سورج مغرب کی جانب سے طلوع ہو گا یا دابۃ الارض نکلے گا ، ان دونوں میں سے جو نشانی بھی پہلے ظاہر ہو جائے گی ، اس کے فوراً بعد دوسری وقوع پذیر ہو گی ،پھر آپ نے مزید حدیث بیان کرتے ہوئے فرمایا : اور یہ اس لئے ہے کہ جب سورج غروب ہو گا تو عرش کے نیچے آئے گا اور سجدہ کرے گا اور واپسی کی اجازت طلب کرے گا ، لیکن اس کو اجازت نہیں ملے گی ، وہ دوبارہ اجازت مانگے گا لیکن دوسری مرتبہ بھی اس کو اجازت نہیں ملے گی پھر وہ کہے گا : اے میرے رب ! مشرق بہت دور ہے مجھے وہآن تک پہنچنا ہے ۔ حتی کہ جب رات ہو گی تو وہ پھر اجازت مانگے گا ، تب اس کو اجازت مل جائے گی اور اس کو کہا جائے گا کہ تم جس جگہ پر ہو یہیں سے طلوع ہو جاؤ ، اور حضرت عبداللہ کتاب اللہ پڑھا کرتے تھے ، تب انہوں نے یہ آیت پڑھی " لَا يَنفَعُ نَفۡسًا إِيمَٰنُهَا لَمۡ تَكُنۡ ءَامَنَتۡ مِن قَبۡلُ أَوۡ كَسَبَتۡ فِيٓ إِيمَٰنِهَا خَيۡرٗاۗ (الانعام:158)""جس دن تمہارے رب کی وہ ایک نشانی آئے گی کسی جان کو ایمان لانا کام نہ دے گا جو پہلے ایمان نہ لائی تھی یا اپنے یا اپنے ایمان میں کوئی بھلائی نہ کمائی تھی "(ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا ) ۔ یہ حدیث اما م بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

اَبِیْ زُرْعَۃَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِیْرٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ الْعُمَرِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ حَبِيبٍ الْعَبْدِيُّ، ← أَبُو الْفَضْلِ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of charms and epics › The merits of all Arabs · Hadith 8645

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْكُسُوفِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1238

1238 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا وُهَيْبٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ قَبِيصَةَ الْهِلَالِيِّ، قَالَ: كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ فَزِعًا يَجُرُّ ثَوْبَهُ، وَأَنَا مَعَهُ يَوْمَئِذٍ بِالْمَدِينَةِ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، فَأَطَالَ فِيهِمَا الْقِيَامَ، ثُمَّ انْصَرَفَ وَانْجَلَتْ، فَقَالَ: «إِنَّمَا هَذِهِ الْآيَاتُ يُخَوِّفُ اللَّهُ بِهَا فَإِذَا رَأَيْتُمُوهَا - يَعْنِي - فَصَلُّوا كَأَحْدَثِ صَلَاةٍ صَلَّيْتُمُوهَا مِنَ الْمَكْتُوبَةِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَالَّذِي عِنْدِي أَنَّهُمَا عَلَّلَاهُ بِحَدِيثِ رَيْحَانَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ مَنْصُورٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ قَبِيصَةَ، وَحَدِيثٍ يَرْوِيهِ مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ وُهَيْبٍ لَا يُعَلِّلُهُ حَدِيثُ رَيْحَانَ، وَعَبَّادٍ "

حضرت قبیصہ ہلالی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن ہوا ، آپ گھبرائے ہوئے اپنی چادر کو گھسیٹتے ہوئے باہر تشریف لائے ،میں اس دن مدینہ میں آپ کے ہمراہ تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےدو رکعتیں پڑھائیں ، ان میں بہت لمبا قیام کیا پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہو ئے اور گرہن ختم ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ اللہ تعالی کی نشانیاں ہیں نا کے ذریعے اللہ تعالی خوف دلاتا ہے ۔ جب تم ان کو دیکھو تو اس طرح نماز پڑھو جیسے تم نے ابھی ابھی فرضی نماز پڑھی ہے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔اور جہاں تک میرا خیال ہے شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے اس کو ریحان بن سعید کی اس حدیث کی وجہ سے معلل قرار دیا ہے ۔ جس کی سند عباد بن منصور پھر ایوب پھر ابو قلابہ پھر ہلال بن عامر سے ہوتی ہوئی قبیصہ تک پہنچتی ہے اور وہ حدیث جس کو موسی بن اسماعیل نے وہیب سے روایت کیا ہے اس کو ریحان اور عباد کی حدیث معلل نہیں کرتی ۔

قَبِيصَةَ الْهِلَالِيِّ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← وُهَيْبٌ، ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Eclipse Book › Insurance section · Hadith 1238

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الزَّكَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1527

1527 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الْقَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَلِيٍّ الْغَزَّالُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَنْبَأَ حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي الْوَلِيدِ أَبُو عُثْمَانَ، أَنَّ عُقْبَةَ بْنَ مُسْلِمٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ شُفَيًّا حَدَّثَهُ أَنَّهُ دَخَلَ الْمَدِينَةَ، فَإِذَا هُوَ بِرَجُلٍ قَدِ اجْتَمَعَ النَّاسُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: فَدَنَوْتُ مِنْهُ حَتَّى قَعَدْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَهُوَ يُحَدِّثُ النَّاسَ، فَلَمَّا سَكَتَ وَخَلَا قُلْتُ: أَنْشُدُكَ اللَّهَ بِحَقٍّ، وَحَقٍّ لَمَا حَدَّثَتْنِي حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلِمْتَهُ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: أَفْعَلُ، لَأُحَدِّثَنَّكَ حَدِيثًا حَدَّثَنِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَقَلْتُهُ وَعَلِمْتُهُ، ثُمَّ نَشَغَ أَبُو هُرَيْرَةَ نَشْغَةً، فَمَكَثَ قَلِيلًا، ثُمَّ أَفَاقَ، فَقَالَ: لَأُحَدِّثَنَّكَ حَدِيثًا حَدَّثَنِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا وَهُوَ فِي هَذَا الْبَيْتِ مَا مَعَنَا أَحَدٌ غَيْرِي وَغَيْرُهُ، ثُمَّ نَشَغَ أَبُو هُرَيْرَةَ نَشْغَةً أُخْرَى فَمَكَثَ بِذَلِكَ، ثُمَّ أَفَاقَ وَمَسَحَ وَجْهَهُ، فَقَالَ: أَفْعَلُ لَأُحَدِّثَنَّكَ بِحَدِيثٍ حَدَّثَنِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا وَهُوَ فِي هَذَا الْبَيْتِ مَا مَعَنَا أَحَدٌ غَيْرِي وَغَيْرُهُ، ثُمَّ نَشَغَ أَبُو هُرَيْرَةَ نَشْغَةً أُخْرَى، ثُمَّ مَالَ خَارًّا عَلَى وَجْهِهِ وَأَسْنَدْتُهُ طَوِيلًا، ثُمَّ أَفَاقَ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا كَانَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ نَزَلَ إِلَى الْعِبَادِ لِيَقْضِيَ بَيْنَهُمْ، وَكُلُّ أُمَّةٍ جَاثِيَةٌ، فَأَوَّلُ مَنْ يَدْعُو بِهِ رَجُلٌ جَمَعَ الْقُرْآنَ، وَرَجُلٌ يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَرَجُلٌ كَثِيرُ الْمَالِ، فَيَقُولُ اللَّهُ لِلْقَارِئِ: أَلَمْ أُعَلِمْكَ مَا أَنْزَلْتُ عَلَى رَسُولِي؟ قَالَ: بَلَى يَا رَبِّ، قَالَ: فَمَاذَا عَمِلْتَ فِيمَا عَلِمْتَ؟ قَالَ: كُنْتُ أَقُومُ بِهِ آنَاءَ اللَّيْلِ، وَآنَاءَ النَّهَارِ، فَيَقُولُ اللَّهُ لَهُ: كَذَبْتَ وَتَقُولُ الْمَلَائِكَةُ لَهُ: كَذَبْتَ فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: أَرَدْتَ أَنْ يُقَالَ فُلَانٌ قَارِئٌ فَقَدْ قِيلَ، وَيُؤْتَى بِصَاحِبِ الْمَالِ فَيَقُولُ: أَلَمْ أُوَسِّعْ عَلَيْكَ حَتَّى لَمْ أَدَعَكَ تَحْتَاجُ إِلَى أَحَدٍ؟ قَالَ: بَلَى، قَالَ: فَمَاذَا عَمِلْتَ فِيمَا آتَيْتُكَ؟ قَالَ: كُنْتُ أَصِلُ الرَّحِمَ وَأَتَصَدَّقُ، فَيَقُولُ اللَّهُ: كَذَبْتَ وَتَقُولُ الْمَلَائِكَةُ: كَذَبْتَ، وَيَقُولُ اللَّهُ: بَلْ أَرَدْتَ أَنْ يُقَالَ فُلَانٌ جَوَادٌ، فَقَدْ قِيلَ ذَلِكَ، وَيُؤْتَى بِالرَّجُلِ الَّذِي قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيُقَالُ لَهُ: فِيمَ قُتِلْتَ؟ فَيَقُولُ: أُمِرْتُ بِالْجِهَادِ فِي سَبِيلِكَ فَقَاتَلْتُ حَتَّى قُتِلْتُ فَيَقُولُ اللَّهُ: كَذَبْتَ، وَتَقُولُ الْمَلَائِكَةُ لَهُ: كَذَبْتَ، وَيَقُولُ اللَّهُ: بَلْ أَرَدْتَ أَنْ يُقَالَ فُلَانٌ جَرِيءٌ فَقَدْ قِيلَ ذَلِكَ "، ثُمَّ ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رُكْبَتِي، فَقَالَ: «يَا أَبَا هُرَيْرَةَ أُولَئِكَ الثَّلَاثَةُ أَوَّلُ خَلْقِ اللَّهِ تُسَعَّرُ بِهِمُ النَّارُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ هَكَذَا «وَالْوَلِيدُ بْنُ أَبِي الْوَلِيدِ الْعُذْرِيُّ شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ لَمْ يَحْتَجَّ بِهِ الشَّيْخَانِ، وَقَدِ اتَّفَقَا جَمِيعًا عَلَى شَوَاهِدِ هَذَا الْحَدِيثِ بِغَيْرِ هَذِهِ السِّيَاقَةِ»

حضرت سفیان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ مد ینہ میں داخل ہوئے تو انہوں نے ایک شخص کو دیکھا کہ اس کے اردگرد بہت سارے لوگ جمع ہیں ۔ انہوں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے جواب دیا: یہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں ۔ حضرت سفیان فرماتے ہیں : میں ان کے قریب ہوا،اوران کے پاس جا کر بیٹھ گیا ، وہ لوگوں کو حد یثیں سنارہے تھے ۔ جب وہ حدیثیں سنا کر فارغ ہوئے اور لوگ چلے گئے ، تو میں نے کہا: میں تم سے اور کوئی چیز طلب نہیں کرتا سوائے اس کے کہ تم مجھے کوئی ایسی بات سناؤ جوتم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سمجھی اورسیکھی ہے ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بولے: میں بھی صرف ایک حدیث سنانا چاہتا ہوں جورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بتائی ہے ۔ پھر حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کافی دیر تک سسکیاں بھرتے رہے حتی کہ بے ہوش ہو گئے ۔ پھر جب ان کو افاقہ ہوا، تو کہنے لگے : میں تمہیں وہ حدیث بیان کرتا ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بتائی ہے (ایک مرتبہ) میں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس گھر میں تھے ،میرے اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ تیسرا کوئی آدمی ہمارے پاس نہ تھا پھر حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سسکیاں بھرنے لگے پھر آپ گر پڑے اور میں نے آپ کو بہت دیر تک سہارادیئے رکھا پھر جب افاقہ ہوا: تو فرمانے لگے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بتایا: قیامت کے دن اللہ تعالٰی بندوں کے درمیان فیصلے کرنے کے لیے ان کی طرف نزول فرمائے گا ، جبکہ سب امتیں انگلیوں کے بل کھڑی ہوں گی تو سب سے پہلے جن کوطلب فرمائے گا (ان میں سے ایک )وہ شخص ہو گا جس نے قرآن حفظ کیا ( اور ایک ایسا شخص ہوگا) جو جہاد فی سبیل اللہ کرتارہا( اور ایک ایسا شخص ہوگا جو بہت زیادہ مال و دولت والا ہوگا۔ اللہ تعالی قاری قرآن سے پوچے گا: کیا میں نے تجھے نہیں سکھایا تھاجو میں نے اپنے رسول پر نازل کیا ؟ وہ کہے گا: کیوں نہیں اے میرے رب! اللہ تعالی فرمائے گا: تو نے اپنے علم پر کیا عمل کیا ؟ وہ جواب دے گا : میں دن رات اسی کی تلاوت میں مشغول رہا۔ اللہ تعالی فرمائےگا تو جھوٹا ہے ۔ اورفر شتے کہیں گے تو جھوٹا ہے ۔ اللہ تعالی فرمائے گا تیراتو یہ ارادہ تھا کہ تیرے بارے میں کہا جائے کہ ’’فلاں شخص قاری ہے‘‘ وہ کہہ لیا گیا ہے۔ پھر مالدار کولا یا جائے گا اس کو اللہ تعالی فرمائے گا کیا میں نے تجھے اتنی دولت نہیں دی تھی کہ تجھے کسی انسان کا محتاج نہیں رہنے دیا ؟ وہ کہے گا کیوں نہیں ۔ اللہ تعالی فرمائے گا جو کچھ میں نے تجھے دیا تھا تو نے اس میں (میری رضا کے لئے) کیاعمل کیا؟ وہ جواب دے گا میں صلہ رحمی کرتا رہا اور صدقہ کرتارہا، اللہ تعالی فرمائےگا تو جھوٹا ہے اور فرشتے کہیں گے تو جھوٹا ہے ۔ اور اللہ تعالی فرمائے گا : بلکہ تیری نیت تو یہ تھی (کہ تیرے بارے میں) کہا جائے ’’فلاں شخص سخی ہے‘‘سووہ کہہ لیا گیا ۔ پھر اس شخص کو لایا جائے گا جو اللہ کے راستے میں جہاد کرتا رہا یہاں تک کہ شہید ہو گیا ، اس کو کہا جائے گا: تو کیوں قتل ہوا؟ وہ جواب دے گا تو نے اپنے راستے میں جہاد کا حکم دیا تھا، میں جہاد کر تا رہا یہاں تک قتل کر دیا گیا۔ اللہ تعالی فرمائے گا تو جھوٹا ہے اور فر شتے اس کو کہیں گے :تو جھوٹا ہے۔ اللہ تعالی فرمائے گا: بلکہ تیری نیت تو یہ تھی ( کہ تیرے بارے میں) کہا جائے ’’ فلاں شخص بہت بہادر ہے‘‘ سو وہ کہہ لیا گیا ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھٹنوں پر ہاتھ مارا اورفرمایا: اللہ کی مخلوق میں سب سے پہلے یہ تین لوگ ہوں گے جن کو جہنم میں ڈالا جائے گا۔ یہ حد یث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کو اس سند کے ہمر ا نقل نہیں کیا اور ولید بن ابی ولید عذری اہل شام کے شیخ ہیں ۔ امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے ان کی روایات نقل نہیں کیں ۔ حالانکہ دونوں نے اس حدیث کی شاہد حدیث نقل کی ہیں ۔ تاہم انکی سند کچھ مختلف ہے۔

الوليد بن أبي الوليد أبو عثمان ← عبد الله بن المبارك أنبأ حيوة بن شريح ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْقَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَلِيٍّ الْغَزَّالُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Zakat Book › Insurance section · Hadith 1527

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْمُؤْمِنُونَ · حديث 3479

3479 - أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ، قَالَا: أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ يُونُسُ بْنُ سُلَيْمٍ، قَالَ: أَمْلَى عَلَيَّ يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ الْأَيْلِيُّ صَاحِبُ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ سُمِعَ عِنْدَهُ دَوِيٌّ كَدَوِيِّ النَّحْلِ، فَمَكَثْنَا سَاعَةً فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ فَقَالَ: «اللَّهُمَّ زِدْنَا وَلَا تَنْقُصْنَا، وَأَكْرِمْنَا، وَلَا تُهِنَّا، وَأَعْطِنَا، وَلَا تَحْرِمْنَا، وَآثِرْنَا، وَلَا تُؤْثِرْ عَلَيْنَا، وَارْضِ عَنَّا وَأَرْضِنَا» ثُمَّ قَالَ: «لَقَدْ أُنْزِلَ عَلَيَّ عَشْرُ آيَاتٍ مَنْ أَقَامَهُنَّ دَخَلَ الْجَنَّةَ» ثُمَّ قَرَأَ {قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ} [المؤمنون: 2] الْآيَاتُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3479 - سئل عبد الرزاق عن شيخه ذا فقال لا أظنه شيء

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب رسول اللہ ﷺ پر وحی نازل ہوتی تو آپ سے ایسی آواز سنائی دیا کرتی تھی جیسی شہد کی مکھی کی بھنبھناہٹ ہوتی ہے۔ (ایک دفعہ اسی طرح آپ ﷺ پر وحی نازل ہورہی تھی) تھوڑی دیر کے بعد آپ نے قبلہ رو ہو کر ہاتھ بلند کئے اور یوں دعا مانگی" اے اللہ ! ہماری تعداد بڑھا ، کم نہ کر ،ہمیں عزت دے اور ہمیں بے عزت نہ فرما اور ہمیں عطا کر، ہمیں محروم نہ رکھ ہمیں غلبہ دے اور ہم پر کسی کو غلبہ نہ دے۔ ہم سے راضی ہو جا اور ہمیں راضی کر ، پھر آپ نے فرمایا: میرے اوپر دس آیتیں نازل ہوئی ہیں کہ جو شخص ان پر عمل پیرا ہو جائے ، جنتی ہے۔ پھر آپ نے یہ آیتیں تلاوت کیں۔ قد افلح المومنون (المومنون : 1) : "بے شک مراد کو2 پہنچے ایمان والے " (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) :" الذین ھم فی صلاتہم خاشعون (المومنون : 2) "وہ جو اپنی نماز میں گڑگڑاتے ہیں:"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) د س آیتیں تلاوت کیں۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

إِسْحَاقُ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of the Surah of the Believers · Hadith 3479

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ النُّورِ · حديث 3497

3497 - وَحَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا ثَابِتُ بْنُ عُمَارَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ غُنَيْمَ بْنَ قَيْسٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُّمَا امْرَأَةٍ اسْتَعْطَرَتْ فَمَرَّتْ عَلَى قَوْمٍ لِيَجِدُوا رِيحَهَا فَهِيَ زَانِيَةٌ» هَذَا حَدِيثٌ أَخْرَجَهُ الصَّغَانِيُّ فِي التَّفْسِيرِ عِنْدَ قَوْلِهِ تَعَالَى: {قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ} [النور: 30] وَهُوَ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3497 - صحيح

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو عورت خوشبو لگا کر لوگوں کے پاس سے اس لئے گزرتی ہے تاکہ لوگوں کو اس کو خوشبو محسوس ہو تو وہ " زانیہ" ہے۔ اس حدیث کو صنعانی نے اپنی تفسیر میں: "قل للمومنین یغضوا من ابصارھم" (النور : 30) "مسلمان مردوں کو حکم دو کہ اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں "۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) کے تحت نقل کی ہے اور یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ، ← غُنَيْمِ بْنِ قَيْسٍ ← ثَابِتُ بْنُ عُمَارَةَ ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← وَحَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat An-Nur · Hadith 3497

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الشُّعَرَاءِ · حديث 3523

3523 - حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ الشَّيْبَانِيُّ بِالْكُوفَةِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الزُّهْرِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أَنَّهُ تَلَا قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَأَوْحَيْنَا إِلَى مُوسَى أَنْ أَسْرِ بِعِبَادِي إِنَّكُمْ مُتَّبَعُونَ} [الشعراء: 52] الْآيَاتُ. فَقَالَ أَبُو بُرْدَةَ بْنُ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَعْرَابِيٍّ فَأَكْرَمَهُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَعَهَّدْنَا ائْتِنَا» فَأَتَاهُ الْأَعْرَابِيُّ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا حَاجَتُكَ؟» فَقَالَ: نَاقَةٌ بِرَحْلِهَا وَيَحْلِبُ لَبَنَهَا أَهْلِي. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَجَزَ هَذَا أَنْ يَكُونَ كَعَجُوزِ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَقَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ: مَا عَجُوزُ بَنِي إِسْرَائِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ: " إِنَّ مُوسَى حِينَ أَرَادَ أَنْ يَسِيرَ بِبَنِي إِسْرَائِيلَ ضَلَّ عَنْهُ الطَّرِيقُ فَقَالَ لِبَنِي إِسْرَائِيلَ مَا هَذَا؟ قَالَ: فَقَالَ لَهُ عُلَمَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ: إِنَّ يُوسُفَ عَلَيْهِ السَّلَامُ حِينَ حَضَرَهُ الْمَوْتُ أَخَذَ عَلَيْنَا مَوْثِقًا مِنَ اللَّهِ أَنْ لَا نُخْرِجَ مِنْ مِصْرَ حَتَّى تُنْقَلَ عِظَامُهُ مَعَنَا. فَقَالَ مُوسَى: أَيُّكُمْ يَدْرِي أَيْنَ قَبْرُ يُوسُفَ؟ فَقَالَ عُلَمَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ مَا يَعْلَمُ أَحَدٌ مَكَانَ قَبْرِهِ إِلَّا عَجُوزٌ لِبَنِي إِسْرَائِيلَ فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا مُوسَى فَقَالَ: دُلِّينَا عَلَى قَبْرِ يُوسُفَ قَالَتْ: لَا وَاللَّهِ حَتَّى تُعْطِيَنِي حُكْمِي. فَقَالَ لَهَا: مَا حُكْمُكِ؟ قَالَتْ: حُكْمِي أَنْ أَكُونَ مَعَكَ فِي الْجَنَّةِ. فَكَأَنَّهُ كَرِهَ ذَلِكَ قَالَ: فَقِيلَ لَهُ أَعْطِهَا حُكْمَهَا، فَأَعْطَاهَا حُكْمَهَا فَانْطَلَقَتْ بِهِمْ إِلَى بُحَيْرَةٍ مُسْتَنْقِعَةٍ مَاءً، فَقَالَتْ لَهُمُ أَنْضِبُوا هَذَا الْمَاءَ. فَلَمَّا أَنْضَبُوا قَالَتْ لَهُمُ: احْفِرُوا فَحَفَرُوا فَاسْتَخْرَجُوا عِظَامَ يُوسُفَ فَلَمَّا أَنْ أَقَلُّوهُ مِنَ الْأَرْضِ إِذِ الطَّرِيقُ مِثْلُ ضَوْءِ النَّهَارِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» وَلَعَلَّ وَاهِمٌ يُتَوَهَّمُ إِنَّ يُونُسَ بْنَ أَبِي إِسْحَاقَ سَمِعَ مِنَ أَبِي بُرْدَةَ حَدِيثَ «لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ» كَمَا سَمِعَهُ أَبُوهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3523 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت یونس بن اسحاق نے : واوحینا الیٰ موسیٰ ان اسر بعبادی انکم متبعون (الشعراء : 52) " ہم نے موسیٰ کو وحی بھیجی کہ راتوں رات میرے بندوں کو لے نکل بے شک تمہارا پیچھا ہونا ہے :"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) سے چند آیات پڑھیں پھر حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کیا:" ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ ایک دیہاتی کے پاس تشریف لے گئے، اس نے آپ ﷺ کی خوب مہمان نوازی کی۔ رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: تم ہم سے وعدہ کرو کہ ہمارے پاس آؤ گے۔ پھر ایک دفعہ وہ دیہاتی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا،رسول اللہ ﷺ نے اس سے پوچھا: تیری کیا حاجت ہے؟ اس نے کہا: ایک اونٹنی کجاوہ سمیت ، جس کا دودھ میرے گھر والے پئیں ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ بھی بنی اسرائیل کی بڑھیا کی طرح عاجز ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ ! بنی اسرائیل کی بڑھیا کا کیا قصہ ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کے ہمراہ روانگی کا ارادہ فرمایا تو راستہ بھول گئے۔ موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل سے پوچھا: ایسا کیوں ہوا؟ آپ کو بنی اسرائیل کے علماء نے بتایا کہ جب حضرت یوسف علیہ السلام کی وفات کا وقت قریب آیا ، تو انہوں نے ہم سے خدا کی قسم لے کر عہد لیا تھا کہ جب ہم مصر سے نکلیں گے تو ان جسم اطہر بھی اپنے ہمراہ منتقل کر کے لے جائیں گے۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: تم میں سے کوئی یہ جانتا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کی قبر مبارک کہاں ہے؟ بنی اسرائیل کے علماء نے جواباً کہا: اس چیز کا علم صرف بنی اسرائیل کی ایک بڑھیا کے پاس ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس بڑھیاکی طرف پیغام بھیجا کہ ہمیں یوسف علیہ السلام کی قبر کی نشاندہی کریں ۔ اس نے کہا: پہلے مجھ سے ایک وعدہ کریں پھر بتاؤں گی۔ موسیٰ علیہ السلام نے پوچھا: کیا وعدہ لینا چاہتی ہو؟ اس نےکہا: یہ کہ میں جنت میں آپ کے ساتھ رہوں ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو یہ وعدہ کچھ عجیب سا لگا۔ لیکن آپ سے کہا گیا کہ اس سے وعدہ فرما لیجئے تو آپ نے اس سے جنت کاوعدہ کر لیا ، تب وہ ان کے اپنے ہمراہ لے کر پانی کی ایک جھیل پر آئیں ، جس کے پانی کا رنگ بھی بدل چکا تھا۔ اس نے کہا اس جھیل کا پانی خشک کریں۔ انہوں نے پانی خشک کر دیا۔ جب پانی خشک ہو گیا تو اس نے کہا: یہاں کھدائی شروع کردیں، انہوں نے کھودنا شروع کر دیا تو وہاں سے ان کو حضرت یوسف علیہ السلام کا جسم مبارک مل گیا۔ جب انہوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کو زمین سے نکال لیا تو روز روشن کی طرح راستہ ان پر واضح ہو گیا۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ اور ہو سکتا ہے کہ کسی کو یہ وہم ہو کہ یونس بن ابی اسحاق نے ابو ہریرہ سے " لانکاح الا بولی" والی حدیث سنی ہے جیسا کہ ان کے والد نے سنی ہے۔

لَهُ أَصْحَابُهُ: مَا عَجُوزُ بَنِي إِسْرَائِيلَ ← نَاقَةٌ بِرَحْلِهَا وَيَحْلِبُ لَبَنَهَا أَهْلِي. ← لَهُ رَسُولُ اللَّهِ «مَا حَاجَتُكَ؟» ← لَهُ رَسُولُ اللَّهِ «تَعَهَّدْنَا ائْتِنَا» فَأَتَاهُ الْأَعْرَابِيُّ ← نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ بِأَعْرَابِيٍّ فَأَكْرَمَهُ ← أَبِيهِ ← أَبُو بُرْدَةَ بْنُ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ، ← يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أَنَّهُ تَلَا قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: الْآيَاتُ. ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← إبراهيم بن إسحاق الزهري ← أبو الحسن علي بن محمد بن عقبة الشيباني

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Al-Shuara · Hadith 3523

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ سَبَأٍ · حديث 3583

3583 - حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُزَنِيُّ، أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ الْقُرَشِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَقَدِّرْ فِي السَّرْدِ} [سبأ: 11] قَالَ: «لَا تَدُقَّ الْمَسَامِيرَ وَتُوَسِّعْ فَتَسْلُسَ، وَلَا تُغْلِظِ الْمَسَامِيرَ وَتُضَيِّقِ الْحِلَقَ فَتَنْفَصِمُ وَاجْعَلْهُ قَدْرًا» هَذَا حَرْفٌ غَرِيبٌ فِي التَّفْسِيرِ وَعَبْدُ الْوَهَّابِ مِمَّنْ لَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3583 - عبد الوهاب لم يخرجاه لضعفه

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ :" وقدر فی السرد (سبا:11) کے متعلق فرماتے ہیں : کڑیاں تنگ نہ ہوں بلکہ کھلی رکھو تاکہ ایک دوسرے سے جڑ جائیں اور کڑیاں زیادہ موٹی نہ رکھو اور حلقے تنگ نہ رکھو، ورنہ کٹ جائے گی اور اس ایک خاص اندازے سے بناؤ۔تفسیر کے سلسلے میں یہ الفاظ غریب ہیں اور عبدالوہاب کی روایات امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے نقل نہیں کیں۔

ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَقَدِّرْ فِي السَّرْدِ} [سبأ: ← أَبِيهِ ← عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ مُجَاهِدٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُزَنِيُّ، أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ الْقُرَشِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Saba · Hadith 3583

chevron_left Previous
1…171819…305
Next chevron_right