حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حضرت سلیمان بن داؤد علیہ السلام کھڑے کھڑے نماز پڑھتے ہوئے فوت ہوئے اور شیاطین کو آپ کی وفات کا پتہ نہ چلا ۔ یہاں تک کہ مٹی نے اس کے عصا کو کھالیا تو آپ کر پڑے (اصل بات یہ تھی) جب بھی کوئی پودا اگتا تو آپ اس سے پوچھتے : تو کس مرض کی دوا ہے؟ تو وہ پودا آپ کو اپنے تمام فوائد اور نقصانات بتاتا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : السلیمان الریح غدوھا شہر ورواحھا شھر واسلنا لہ عین القطر (سبا:12) ۔ " اور سلیمان کے بس میں ہوا کر دی اس کی صبح کی منزل ایک مہینہ کی راہ اور شام کی منزل ایک مہینہ کی راہ اور ہم نے اس کے لئے پگھلے ہوئے تانبے کا چشمہ بہایا"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) اس کے بعد کی تمام آیات ۔ جب خرنوب اگا ، تو آپ نے اس سے پوچھا: تو کس لئے اگا ہے؟ اس نے کہا: اس مسجد کو برباد کرنے کےلئے ۔ آپ نے فرمایا: اس مسجد کی بربادی میری موت کے وقت ہو گی (تو یقیناً اب میری موت کا وقت قریب ہے) تب وہ کھڑے ہو کر نماز میں مصروف ہو گئے۔ (خرنوب : سیاہ رنگ کا ایک درخت ہوتا ہے جو کہ ملک شام کے پہاڑی علاقوں میں اگتا ہے، عراقی بچے اس کو شامی کھیرا کہتے ہیں۔ شفیق) یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتےہیں : عاص بن وائل رضی اللہ عنہ م، رسول اللہ ﷺ کے اپس ایک بوسیدہ ہڈی لے کر آیا: اس نے وہ ہڈی توڑ کر چورا چورا کر ڈالی اور بولا: کیا میرے اس ہڈی کو چورا چورا کرکے پھینک دینے کے بعد بھی اللہ تعالیٰ اس کو دوبارہ زندہ کرے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جی ہاں۔ اللہ تعالیٰ اسے زندہ کرے گا، وہ تجھے موت دے گا پھر تجھے زندہ کرے گا پھر تجھے دوزخ میں ڈالے گا۔ تب یہ درج ذیل آیات اختتام سورت تک نازل ہوئی:۔"اولم یر الانسان انا خلقناہ من نطفۃ فاذا ھوا خصیم مبین (یس:77) " کیا آدمی نے نہ دیکھا کہ ہم نے اسے پانی کی بوند سے بنایا جبھی وہ صریح جھگڑالو ہے"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ)۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔
فَنَزَلَتِ الْآيَاتُ {أَوَلَمْ يَرَ الْإِنْسَانُ ← «نَعَمْ، يَبْعَثُ اللَّهُ هَذَا يُمِيتُكَ، ثُمَّ يُحْيِيكَ، ثُمَّ يُدْخِلُكَ نَارَ جَهَنَّمَ» ← يَا مُحَمَّدُ أَيَبْعَثُ اللَّهُ هَذَا بَعْدَ مَا أَرَمَ؟ ← جَاءَ الْعَاصِ بْنُ وَائِلٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ بِعَظْمِ حَائِلٍ فَفَتَّهُ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← هُشَيْمٌ، أَنْبَأَ أَبُو بِشْرٍ، ← عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ← جَدِّي، ← إسماعيل بن محمد بن الفضل بن محمد الشعراني،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Ya-Seen · Hadith 3606
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الزُّمَرِ · حديث 3628
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم یہ سمجھتے تھے کہ دین سے پھرنے والے کی نہ ہی توبہ قبول ہے اور نہ اللہ تعالیٰ اس کا کوئی عمل قبول فرمائے گا۔ پھر جب رسول اللہ ﷺ مدینہ المنورہ تشریف لائے تو ان کے متعلق یہ آیات :۔" یاعبادی الذین اسرفو ا علیٰ انفسہم لا تقنطو ا من رحمۃ اللہ، ان اللہ یغفر الذنوب جمیعا، انہ ھوا لغفور الرحیم (الزمر:53)" اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہو بے شک اللہ سب گناہ بخش دیتا ہے بے شک وہی بخشنے ولا مہربان ہے"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) یہ آیت اور اس کے بعد کی آیات نازل ہوئیں ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، میں نے ان آیات کو لکھا اور پھر مدینہ میں گھوما۔ پھر رسول اللہ ﷺ اپنے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے لئے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہجرت کی اجازت کے انتظار میں مکہ میں ٹھہرے اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ بھی اسی انتظار میں وہاں ٹھہرے ہوئے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کو ہجرت کی اجازت ملے تو وہ آپ کی معیت میں نکلیں۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔
عُمَرَ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، ← الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِیْعِ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أبو إسحاق إبراهيم بن إسماعيل القاري
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat al-Zumar · Hadith 3628
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم الْمُؤْمِنِ · حديث 3640
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اگر اتنا سا کنکر (ایک کنویں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) اس طرح آسمان سے زمین کی طرف پھینکا جائے تو رات سے پہلے یہ زمین تک پہنچ جائے گا حالانکہ یہ 500 سال کی مسافت ہے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔
بیت المقدس کے موذن حضرت بلال بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کو مسجد بیت المقدس میں دیکھا کہ وہ مشرق کی جانب رخ کئے ، اس آیت کی تلاوت کرتے ہوئے رو رہے تھے۔ ﴿ فَضُرِبَ بَيْنَهُمْ بِسُورٍ لَهُ بَابٌ بَاطِنُهُ فِيهِ الرَّحْمَةُ﴾[الحديد: 13]"ان کے درمیان ایک دیوار کھڑی کردی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہے " (ترجمہ کنزالایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) پھر انہوں نے کہا : اس مقام پر رسول اللہ ﷺ نے ہمیں دوزخ دکھائی تھی۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔
أَشُكُّ، وَهُوَ يَبْكِي وَهُوَ يَتْلُو هَذِهِ الْآيَةَ ثُمَّ ← رَأَيْتُ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ فِي مَسْجِدِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ مُسْتَقْبِلَ الشَّرْقَ أَوِ السُّوَرَ، ← بِلَالِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ مُؤَذِّنِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ، ← ضَمْرَةُ بْنُ رَبِيعَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ هَاشِمٍ الرَّمْلِيُّ ← أَبُو زُرْعَةَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ، ← أبو جعفر محمد بن أحمد بن سعيد الرازي
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of Surat al-Hadid › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3786
المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ الْمُجَادَلَةِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3791
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں : برکت والی ہے وہ ذات جس کی سماعت ہر چیز پر حاوی ہے ، بے شک خولہ بنت ثعلبہ رضی اللہ عنہ کا کلا سنتی ہوں جبکہ یہ بعض لوگوں پر مخفی ہے ، وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں اپنے شوہر کی شکایت لے کر ائیں وہ کہہ رہی تھیں : یا رسول اللہ ﷺ اس نے میری جوانی برباد کر دی ، میرا پیٹ اس کے لئے پھیل چکا ہے لیکن اب جبکہ مجھے بڑھاپے نے آ لیا اور اس کے لئے میری اولاد کا سلسلہ ختم ہ چکا تو اس نے مجھے سے ظہار کر لیا ۔ اے اللہ ! تیری بارگاہ میں یہ شکایت لاتی ہوں ۔ اما المومنین رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں : وہ مسلسل یونہی دعا مانگتی رہی حتیٰ کہ حضرت جبرائیل امین علیہ السلام یہ آیات لے کر نازل ہوئے : " ﴿قَدۡ سَمِعَ ٱللَّهُ قَوۡلَ ٱلَّتِي تُجَٰدِلُكَ فِي زَوۡجِهَا وَتَشۡتَكِيٓ إِلَى ٱللَّهِ وَٱللَّهُ يَسۡمَعُ تَحَاوُرَكُمَآۚ إِنَّ ٱللَّهَ سَمِيعُۢ بَصِيرٌ﴾ ( المجادلۃ : 1) " بے شک اللہ نے سنی اس کی بات جو تم سے اپنے شوہر کے معاملہ میں بحث کرتی ہے ۔ " ( راوی کہتے ہیں : اس کا شوہر عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل کیا ۔ ہشام بن عروہ اپنے والد کے حوالے سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے مختصراً روایت کیا ہے ( جیسا کہ درج ذیل ہے )
عُرْوَةَ ← تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ السُّلَمِيِّ ← الْاَعْمَشِ ← أَبِي ← محمد بن أبي عبيدة بن معن المسعودي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ ← الشَّيْخُ أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of Surat al-Muqaddalah › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3791
المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3942
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ابو قحافہ رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کہا: میں تجھے دیکھتا ہوں کہ تو کمزور غلاموں کو آزاد کرتا ہے ، اگر تو طاقتور اور مضبوط غلاموں کو آزاد کرے تو تیرا دفاع کریں اور تیرے ساتھ مل کر دشمن کا مقابلہ کریں ۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ابا جی ! میں نے تو جو بھی ارادہ کیا ہے اس آیت کے نزول پر کیا ہے : ﴿فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى٥ وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى٦ فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى٧﴾ [الليل: 5-7]" تو وہ جس نے دیا اور پرہیز گاری کی اور سب سے اچھی کو سچ مانا " ۔ ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) اس آیت تک : ﴿وَمَا لِأَحَدٍ عِنْدَهُ مِنْ نِعْمَةٍ تُجْزَى١٩ إِلَّا ابْتِغَاءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْأَعْلَى٢٠ وَلَسَوْفَ يَرْضَى٢١﴾ [الليل: 19-21]"اور کسی کا اس پر کچھ احسان نہیں جس کا بدلہ دیا جائے صرف اپنے رب کی رضا چاہتا ہے جو سب سے بلند ہے اور بے شک قریب ہے کہ وہ راضی ہو گا" ۔ ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اس آیت ﴿ فَضُرِبَ بَيۡنَهُم بِسُورٖ لَّهُۥ بَابُۢ بَاطِنُهُۥ فِيهِ ٱلرَّحۡمَةُ وَظَٰهِرُهُۥ مِن قِبَلِهِ ٱلۡعَذَابُ١٣﴾(الحدید : 13)’’ان کے درمیان ایک دیوار کھڑی کر دی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہے اس کے اندر کی طرف رحمت اور اس کے باہر کی طرف عذاب ‘‘ ( ترجمعہ کنزالایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ ) میں جس دیوار کا ذکر کیا ہے وہ مشرقی دیوار ہے ، اس کے اندر کی جانب مسجد ہے ، اور اس کے باہر کی جانب دوزخ ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ہر مولود کے دل پر وسوسے ہوتے ہیں : اگر اللہ کا ذکر کیا جائے ( یعنی اذان پڑھ دی جائے ) تو وہ ختم ہو جاتے ہیں اور اگر غافل رہے تو وسوسہ قائم ہو جاتا ہے اور یہی مطلب ہے اللہ تعالیٰ کے ( درج ذیل ) ارشاد کا : ﴿ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ٤﴾ [الناس: 4]" جو دل میں بڑے خطرے ڈالے " ۔ ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of Surah an-Nas › I have mentioned the merits of this Surah in the virtues of the Qur’an. · Hadith 3991
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب رسول اللہ ﷺ مقام حجر پر پہنچے تو آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کے بعد فرمایا : تم اپنے رسول اسے معجزات کا مطالبہ مت کرنا ۔ یہ قوم صالح علیہ السلام ہے ، انہوں نے اپنے رسول سے نشانی کا مطالبہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی جانب اونٹنی بھیجی وہ ایک پھٹن سے داخل ہوتی اور دوسری سے نکل آتی ۔ وہ اپنی باری پر ان کا سارا پانی پی جاتی تھی ۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The good mention of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 4070
حضرت نوف ابکالی فرماتے ہیں: حضرت زکریا علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یوں دعامانگی : ﴿ رَبِّ هَبْ لِي مِنْ لَدُنْكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً إِنَّكَ سَمِيعُ الدُّعَاءِ٣٨﴾[آل عمران: 38]"اے میرے رب ! دے مجھے اپنے پاس سے ستھری اولاد، بے شک تو ہی ہے دعا سننے والا"۔ (ترجمہ کنزالایمان،امام احمد رضارحمۃاللہ علیہ) ﴿ إِنِّي وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّي وَاشْتَعَلَ الرَّأْسُ شَيْبًا ٤﴾[مريم: 4] " اور سر سے بڑھاپے کا بھبھوکا پھوٹا"۔ (ترجمہ کنزالایمان،امام احمد رضارحمۃاللہ علیہ) پھر کہنے لگے: ﴿قَالَ رَبِّ أَنَّى يَكُونُ لِي غُلَامٌ وَكَانَتِ امْرَأَتِي عَاقِرًا وَقَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْكِبَرِ عِتِيًّا٨﴾[مريم: 8]"میرے لڑکا کہاں سے ہوگا میری عورت تو بانجھ ہے اور میں بڑھاپے سے سوکھ جانے کی حالت کو پہنچ گیا"۔ (ترجمہ کنزالایمان،امام احمد رضارحمۃاللہ علیہ) ﴿قَالَ كَذَلِكَ قَالَ رَبُّكَ هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٌ وَقَدْ خَلَقْتُكَ مِنْ قَبْلُ وَلَمْ تَكُ شَيْئًا٩﴾[مريم: 9] " فرمایا :ایسا ہی ہے تیرے رب نے فرمایا : وہ مجھے آسان ہے اور میں نے تو اس سے پہلے تجھے اس وقت بنایا جب تو کچھ بھی نہیں تھا"۔ (ترجمہ کنزالایمان،امام احمد رضارحمۃاللہ علیہ) ﴿قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِي آيَةً قَالَ آيَتُكَ أَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلَاثَ لَيَالٍ سَوِيًّا١٠﴾[مريم: 10]"عرض کی: اے میرے رب ! مجھے کوئی نشانی دے دے ۔ فرمایا تیری نشانی یہ ہے کہ تو تین رات دن لوگوں سے کلام نہ کرے بھلا چنگا ہوکر"۔ (ترجمہ کنزالایمان،امام احمد رضارحمۃاللہ علیہ) چنانچہ آپ کی زبان سیل کردی گئی ، آپ بالکل صحیح سلامت ہونے کے باوجود تین دن اور تین راتیں کسی سے بات نہ کر سکے ۔ ﴿فَخَرَجَ عَلَى قَوْمِهِ مِنَ الْمِحْرَابِ فَأَوْحَى إِلَيْهِمْ أَنْ سَبِّحُوا بُكْرَةً وَعَشِيًّا١١﴾﴿يَا يَحْيَى خُذِ الْكِتَابَ بِقُوَّةٍ وَآتَيْنَاهُ الْحُكْمَ صَبِيًّا١٢﴾[مريم: 12-11]"تو وہ اپنی قوم پر مسجد سے باہر آیا تو انہیں اشارہ سے کہا کہ صبح و شام تسبیح کرتے رہو ۔ اے یحییٰ کتاب مضبوط تھام اور ہم نے اسے بچپن ہی میں نبوت دی"۔ (ترجمہ کنزالایمان،امام احمد رضارحمۃاللہ علیہ) یہ آیات" یبعث حیا " تک نازل ہوئیں ۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of Yahya ibn Zakariyyah, the Prophet of God, on whom be blessings and peace · Hadith 4147
عبدالملک بن عبداللہ بن ابی سفیان بن العلاء بن جاریہ ثقفی کہتے ہیں : جب حضرت خدیجۃ الکبریٰ نے ورقہ بن توفل کو رسول اللہ ﷺ کی باتیں بتائیں تو انہوں نے کہا: اے لوگو گردش زمانہ اور تقدیر اور کسی چیز کے بھی متعلق اللہ تعالیٰ کے فیصلے کو کوئی تبدیل کرنے والا نہیں ہے۔خدیجہ نے مجھے کہا ہے کہ میں اسے غیب کی چھپی ہوئی خبر بتاؤں ۔ وہ میرے پاس آئی ہے، اس کے بارے میں دریافت کرنے کے لئے تاکہ میں اس کو اس معاملہ کی خبر دوں جس کو میں دیکھتا ہوں عنقریب وہ معاملہ لوگوں کے سامنے آئے گا۔چنانچہ اس نے مجھے اس بات کی خبر دی جو عرصہ دراز سے سنی جارہی تھی۔ یہ کہ احمد تشریف لائیں گے اور جبریل ان کو خبر دیں گے کہ وہ انسانوں کی طرف ( نبی بناکر) بھیجے گئے ہیں۔ میں نے کہا : وہ بیمار ہے جس کا تم خوف کررہی ہو ۔ اللہ تعالیٰ تیری امید پوری کرے گا تو خیر کی امید رکھ اور انتظار کر۔اور اس کو ہمارے پاس بھیج تاکہ ہم اس سے ان امور کے بارے میں پوچھیں جو اس نے خواب میں اور بیداری کی حالت میں دیکھے ۔جب وہ آئے تو انہوں نے ہمیں ایسی عمدہ باتیں سنائیں جس سے ہمارے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔( آپ نے کہا) میں نے اللہ تعالیٰ کے امین کو دیکھا ہےاور میں نے ایک ایسی صورت کا سامنا کیا جو ہر صورت سے زیادہ رعب والی ہے۔ پھر یہ سلسلہ بدستور قائم رہا اور میں خوف کی وجہ سے کانپنے لگ گیا کیونکہ میرے ارد گرد درخت سلام کرنے لگ گئے۔ میں نے کہا: میرا ظن غالب یہ ہے اور میں جانتا نہیں کہ یہ میری بات سچ ہو جائے گی کہ یہ عنقریب نبی بنے گا اور سورۃ کی منزلیں تلاوت کرے گا۔اگر تو نے جہاد کا اعلان کیا تو عنقریب میں بغیر کسی احسان کے اور بغیر ناپسندیدگی کے تیرے پاس آؤں گا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › And the family of divine from the time of his birth said news of the Messengers and the Seal of the Prophets Mohammed bin Abdullah bin Abdul Muttalib Mustafa peace be upon him to the time of his death are true, including p · Hadith 4212
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہما فرماتی ہیں : جب رسول اللہ ﷺ پر ( کچھ دنوں کے لئے) وحی نہ آئی تو اس وجہ سے آپ بہت زیادہ پریشان ہوئے ۔ میں نے آپ کی یہ پریشانی دیکھ کر کہا : آپ کی پریشانی دیکھ کر تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ آپ کے رب نے آپ کو تنہا چھوڑ دیا ہے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : ماودعک ربک وماقلیٰ " آپ کے رب نے آپ کو نہیں چھوڑا "۔ (ترجمہ کنزالایمان،امام احمد رضارحمۃاللہ علیہ) یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن اس میں ارسال کی وجہ سے شیخین رحمۃ اللہ علیہمانے اس کو نقل نہیں کیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › And the family of divine from the time of his birth said news of the Messengers and the Seal of the Prophets Mohammed bin Abdullah bin Abdul Muttalib Mustafa peace be upon him to the time of his death are true, including p · Hadith 4214
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ کثرت سے ذکر کریا کرتے تھےاور فضول گوئی نہیں کرتے تھے اور نماز لمبی پڑھاتے تھے اور خطبہ مختصر دیتے تھے۔ آپ غلاموں اور مسکینوں کی حاجت روائی کے لئے ان کے ہمراہ چلنے میں عار محسوس نہیں کرتے تھے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں : میں نے یہ صحیح احادیث سیدنا محمد مصطفیٰ ﷺ کے اخلاق میں سے دلائل نبوت کے ضمن میں درج کی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : ﴿وَلَقَدِ اخْتَرْنَاهُمْ عَلَى عِلْمٍ عَلَى الْعَالَمِينَ٣٢﴾ [الدخان: 32]" بے شک ہم نے ان کو تمام جہانوں پر منتخب کر لیا "۔ (ترجمہ کنزالایمان،امام احمد رضارحمۃاللہ علیہ) اور ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿ اللَّهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ ١٢٤﴾ [الأنعام: 124]"اللہ خوب جانتا ہے جہاں اپنی رسالت رکھے"۔ (ترجمہ کنزالایمان،امام احمد رضارحمۃاللہ علیہ) اور فرمایا: ﴿ن وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ١ مَا أَنْتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُونٍ٢ وَإِنَّ لَكَ لَأَجْرًا غَيْرَ مَمْنُونٍ٣ وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ٤﴾ [القلم: 1-4]"قلم اور اس کے لکھے کی قسم تم اپنے رب کے فضل سے مجنون نہیں اور ضرور تمہارے لئے بے انتہا ء ثواب ہے اور بے شک تمہاری خوبو بڑی شان کی ہے"۔ (ترجمہ کنزالایمان،امام احمد رضارحمۃاللہ علیہ) تو ان کے بعد یہ آیات صحیحہ سنو۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › And from the Book of the Signs of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, which are the signs of prophethood · Hadith 4226
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4245
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نجاشی کی طرف بھیجا ۔ اس وقت ہم لگ بھگ 80 افراد تھے پھر اس کے بعد طویل حدیث بیان کی جیسا کہ میں نے کتاب التفسیر میں بیان کی ہے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔اور علم کے طلبگار کو جاننا چاہیے کہ نجاشی وہ بادشاہ ہے جس نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اس دربار میں پیش ہونے سے پہلے رسول اللہ ﷺ کا لکھا ہوا خط پھاڑ ڈالا تھا ۔ اس بات پر دلیل وہ حدیث ہے جو امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی صحیح میں درج کی ہے کہ ہشام بن عروہ اپنے والد کے حوالے سے روایت کرتے ہیں کہ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ام سلمہرضی اللہ عنہا اور ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے ایک گرجا کا ذکر کیا ہے جس میں تصاویر وغیرہ تھیں اور گرجا حبشہ میں ہی تھا۔( الحدیث)
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4245
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4575
حضرت عامر بن سعد فرماتے ہیں : حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے کہا : تم علی ابن ابی طالب کو برا بھلا کیوں نہیں کہتے؟ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ان کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے تین باتیں ارشاد فرمائی ہیں ان کو سوچ کر میں آپ کی سب و شتم سے رکا رہتا ہوں۔ اور ان باتوں میں سے کوئی ایک ہی مجھے مل جائے تو میرے نزدیک یہ سرخ اونٹوں سے بھی زیادہ محبوب ہے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابو اسحاق ! وہ تین چیزیں کیا ہیں؟ ابو اسحاق نے کہا: میں آپ کو گالی نہیں دیتا کیونکہ مجھے یاد ہے کہ ( ایک مرتبہ ) جب حضور ﷺ پر وحی نازل ہوئی تو آپ نے حضرت علی ، ان کے دونوں صاحبزادوں اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کو پکڑ کر اپنی چادر میں داخل فرمایا اور کہا: اے میرے رب ! یہ میرے اہل بیت ہیں۔ اور میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کو گالی نہیں دیتا کیونکہ مجھے یاد ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے ان کو غزوہ تبوک میں شرکت کرنے سے منع فرمادیا تھا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ بولے ( یا رسول اللہ ﷺ ) آپ مجھے عورتوں اور بچوں میں چھوڑ کر جارہے ہیں ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تمہاری نسبت میرے ساتھ ویسی ہی ہو جیسی نسبت ہاروں علیہ السلام کو موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھی؟ مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوسکتا۔اور میں آپ کو گالی نہیں دیتا کیونکہ مجھے یاد ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جنگ خیبر کے دن فرمایا تھا: میں جھنڈا کل اس شخص کو دونگا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر فتح عطا فرمائے گا۔ تو ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کی طرف ہاتھ لمبے کرنے لگے ، آپ ﷺ نے فرمایا : علی کہاں ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ ان کی آنکھوں میں تکلیف ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : اس کو بلاؤ ، چنانچہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ان کو بلایا ۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے چہرے پر اپنا لعاب دہن لگایا پھر ان کو جھنڈا عطا فرمایاتو اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ پر فتح عطا فرمائی ( حضرت عامر بن سعد ) فرماتے ہیں : خدا کی قسم ! اس کے بعد مدینہ سے نکل جانے تک حضرت معاویہ نے ایک لفظ تک نہیں کہا۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃاللہ علیہما نے اس کو اس اسناد کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ تاہم دونوں نے مواخاۃ والی حدیث اور جھنڈے والی حدیث نقل فرمائی ہے۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4575
our friends among you are those who have taqwa of Allah. If you are one of them, then that is good. If that is not the case, then look out. People will bring their actions on the Day of Rising and you will come with burdens and you will be shunned." Then he called out, "O people!" He raised his hands and put them on the heads of Quraysh. "O people! Quraysh are the people of trustworthiness. If anyone who oppresses them (and one of the transmitters thought that he said, 'faults them'), Allah will overturn him." He repeated that three times.
Tell us forbid bin Musa, for Bakir bin known, for a fighter Ben Hayan, a fighter said: I took this interpretation from a group keeping forbid them Mujahid Hassan and Dahhaak bin Muzahim in the words of Almighty God: {it is pardoned him from his brother something followers of Virtue [Baqarah: 178] The verse said: It was for the people of the Torah who killed a soul without a soul to be led by it, and it would not be forgiven or accepted from it. And impose on the people of the Gospel that is excused, does not kill and licenses for the nation of Muhammad peace be upon him willing killed, if he wishes to take blood money if he wishes he pardoned it is the verse: so ease your Lord and mercy [Baqarah: 178]. Says blood money relieve God as making blood money does not kill, and then said: {it is attacked after that hath a painful punishment.} [Al-Baqarah: 178]. He said in saying: {And you in retribution life} [Al-Baqarah: 179] ends one another for Some fear that he will be killed.
Musnad Imam Shafi · The Book of Murder, Qisas, Diyah, and Qassam › Chapter · Hadith 1634
مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ 3- ما يُروَى، عَن عطاء بن أبي رباح، عَن ابن عَبَّاس، عَن النبي صَلى الله عَليه وسَلم · حديث 2595
2595- أخبرنا وهب بن جرير بن حازم حدثني أبي قال: سمعت محمد بن إسحاق يحدث قال: حدثني عَبد الله بن أبي نجيح، عَن عطاء، عَن ابن عَبَّاس، قال: افترض الله عليهم أن يقاتل الواحد العشرة فثقل ذلك عليهم وشق ذلك عليهم فوضع الله عنهم ذلك إلى أن يقاتل الواحد الرجلين فأنزل الله عز وجل {إِنْ يَكُنْ مِنْكُمْ عِشْرُونَ صَابِرُونَ يَغْلِبُوا مِئَتَيْنِ} تلا إلى قوله إلى آخر الآيات، ثُم قال {لَوْلاَ كِتَابٌ مِنَ اللهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ} يعني: غنائم بدر يقول: لولا أني لا أعذب من عصاني حتى أتقدم إليه، ثُم قال {ياأيها النبي قل لمن في أيديكم من الأسرى إن يعلم الله في قلوبكم خيرا} الآية، قال العباس: في نزلت حين أخبرت رسول الله صَلى الله عَليه وسَلم بإسلامي وسألته أن لا يحاسبني بالعشرين أوقية التي أخذت مني فأعطاني عشرين عبدا كلهم قد تاجر بمال في يده مع ما ادخره من مغفرة الله.
افترض الله عليهم ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ، ← عبد الله بن أبي نجيح ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ
Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 2595
مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - بَقِيَّةُ أَحَادِيثِ الْبَصْرِيِّينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 276
حضرت عبداللہ ابن رباح فرماتے ہیں ہم حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس گئے اور ہم میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی تھے ۔ ہم میں سے ہرشخص ایک دن سب کے کھانے کا انتظام کرتا ت تھا جس دن میری باری تھی‘ سب لوگ میرے پاس جمع ہوئے ۔ ابھی ان کے لئے کھانا تیار نہ ہوا تھا تو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: میں فتح مکہ کے موقعہ پر رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم کے ساتھ حاضر تھا تو آپ نے مجھ سے فرمایا: اے ابو ہریرہ! انصار کو بلاؤ۔ میں ان کو بلا لایا تو وہ قدرے تیز رفتار سے آئے ۔ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اے انصار کے گروہ! کیا تم قریش کے بدمعاشوں کو دیکھتے ہو؟ كل جب ان سے مقابلہ ہو تو ان کو اچھی طرح کاٹ دو۔حضرت حماد (راوی) نے دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھ کر اشارہ کیا پھر ہم صفا پرملیں گے پھر رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو لشکر کے دائیں پہلو پر مقرر کیا اور حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بائیں پہلو پر مقرر فرمایا۔ فرماتے ہیں: حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو پیدل دستے پر مقرر فرمایا۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: جب دوسرا دن ہوا تو ہم ان کے مقابل ہوئے اور ان میں سے جو بھی سامنے آیا اس کو موت کی نیند سُلا دیا۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم کو فتح حاصل ہوئی حتیٰ کہ آپ صفا پر چڑھ گئے ۔ انصار آئے اور صفا پر رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم کے گرد بیٹھ گئے۔ حضرت ابوسفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آ کر عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ قریش کی جماعت کو بالکل ختم کر دیں گے؟ آج کے بعد قریش باقی نہیں رہیں گے؟ پس رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا جوشخص اپنے گھر میں داخل ہو جائے اسے امن ہے۔ جوآدمی ہتھیار ڈال دے اسے امن ہے۔ جو اپنا دروازہ بند کر دے اسے بھی امن ہے۔انصار نے کہا: رسول اللہ صلى الله علیہ وسلم کو اپنی قوم پر ترس آ گیا اور اپنے شہر کی طرف رغبت ہو گئی ہے۔ اس دوران رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم پروحی نازل ہوئی جب وحی کی حالت ختم ہو گئی تو آپ نے فرمایا: اے انصار کے گروہ! کیا تم لوگوں نے کہا ہے کہ رسول اللہ(صلى الله علیہ وسلم)کو اپنی قوم رحم آ گیا ہے اور اپنی بستی کی طرف رغبت پیدا ہو گئی ؟ اس وقت میرا نام کیا ہو گا۔ میں اللہ کابندہ اور اس کا رسول ہوں ۔ میں نے اللہ تعالیٰ کی طرف اور تمہاری طرف ہجرت کی ہے۔ اور زندگی تمہارے ساتھ اور موت بھی تمہارے ساتھ ہے۔انہوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ! ہم نے تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے لالچ میں یہ بات کہی ہے۔ فرمایا: بے شک اللہ اور اس کا رسول تمہاری تصدیق کرتے اور عذر قبول کرتے ہیں۔