Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

القرآن الكريم

Quran

6097 hadiths

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ الصَّحَابِيَّاتِ مِنْ أَزْوَاجِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِنَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ، فَأَوَّلُ مَنْ نَبْدَأُ بِهِنَّ الصِّدِّيقَةَ بِنْتَ الصِّدِّيقِ عَائِشَةَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 6728

6728 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي بِمَرْوَ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ عَوْفِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الطُّفَيْلِ، عَنْ رُمَيْثَةَ أُمِّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَلَّمْنَنِي صَوَاحِبِي أَنْ أُكَلِّمَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْمُرَ النَّاسَ فَيُهْدُونَ لَهُ حَيْثُ كَانَ، فَإِنَّ النَّاسَ يَتَحَرَّوْنَ بِهَدَايَاهُمْ يَوْمَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، وَإِنَّا نُحِبُّ الْخَيْرَ كَمَا تُحِبُّهُ عَائِشَةُ، فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُرَاجِعْنِي، فَجَاءَنِي صَوَاحِبِي فَأَخْبَرْتُهُنَّ بِأَنَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُكَلِّمْنِي، فَقُلْنَ: وَاللَّهُ لَا تَدَعِيهِ وَمَا هَذَا حِينَ تَدَعِيهِ قَالَتْ: فَدَارَ فَكَلَّمْتُهُ فَقُلْتُ: إِنَّ صَوَاحِبِي قُلْنَ لِي أَنْ أُكَلِّمَكَ تَأْمُرُ النَّاسَ فَيُهْدُونَ لَكَ حَيْثُ كُنْتَ، فَقُلْتُ لَهُ مِثْلَ الْمَقَالَةِ الْأُولَى مَرَّتَيْنِ أَو ثَلَاثًا، كُلُّ ذَلِكَ يَسْكُتُ عَنْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: «يَا أُمَّ سَلَمَةَ، لَا تُؤْذِينِي فِي عَائِشَةَ، فَإِنِّي وَاللَّهِ مَا نَزَلَ الْوَحْيُ عَلَيَّ وَأَنَا فِي ثَوْبِ امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِي غَيْرَ عَائِشَةَ» قَالَتْ: فَقُلْتُ: أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أَسُوءَكَ فِي عَائِشَةَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 6728 - صحيح

ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : میری ساتھیوں ( دیگر ازواج ) نے مجھے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے بات کروں کہ آپ لوگوں کو حکم دیں کہ وہ جس زوجہ کے گھر ہوں وہ وہیں پر اپنے تحائف بھیجا کریں ۔ کیونکہ لوگ تحائف بھیجنے کے لئے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی باری آنے کا انتظار کیا کرتے تھے ، اور یہ کہہ م بھی اسی طرح بھلائی چاہتی ہیں ، جیسے عائشہ رضی اللہ عنہا چاہتی ہے ۔ ( میں نے یہ بات کہی تو ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے خاموشی اختیار فرمائی ، اور مجھے کوئی جواب نہ دیا ۔ میری ساتھی میرے پاس آئیں ، میں نے ان کو بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے تو مجھے کوئی جواب نہیں دیا۔ انہوں نے کہا: تم حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پیچھے لگی رہ، اور بار بار یہ بات کہتی رہو۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جب اگلی مرتبہ ان کی باری پر ان کے گھر تشریف لائے تو انہوں نے کہا: میری سہیلیوں نے کہا ہے کہ میں آپ سے بات کروں کہ آپ لوگوں کو حکم دے دیں کہ میں جہاں ہوں ، اپنے تحائف وغیرہ وہیں بھیجا کرو، میں نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بارگاہ میں دو یا تین مرتبہ یہ بات کہی ، لیکن ہر بار حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم خاموشی اختیار فرماتے ۔ ( آخری بار جب میں نے یہی بات کہی تو ) حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : اے ام سلمہ ! تم عائشہ کے حوالے سے مجھے ٹینشن مت دیا کرو ۔ کیونکہ صرف عائشہ وہ خاتوں ہیں جن کے بستر میں بھی مجھ پر وحی نازل ہوتی ہے ۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: عائشہ کے حوالے سے آپ کو تکلیف دینے سے میں اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتی ہوں ۔

كَلَّمْنَنِي صَوَاحِبِي ← أُمِّ سَلَمَةَ ← رُمَيْثَةَ أُمِّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ ← عَوْفِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الطُّفَيْلِ، ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Male Sahaabiyaat of the Messenger of Allah pairs peace be upon him, and others may Allah be pleased about them, the first of them to begin friendly girl friend Aisha girl Abu Bakr, may Allah be pleased · Hadith 6728

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ الصَّحَابِيَّاتِ مِنْ أَزْوَاجِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِنَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ، فَأَوَّلُ مَنْ نَبْدَأُ بِهِنَّ الصِّدِّيقَةَ بِنْتَ الصِّدِّيقِ عَائِشَةَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 6730

6730 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا أَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْحَسَّانِيُّ، ثنا مَالِكُ بْنُ سُعَيْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الضَّحَّاكِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ صَفْوَانَ أَتَى عَائِشَةَ وَآخَرَ مَعَهُ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ، لِأَحَدِهِمَا: أَسَمِعْتَ حَدِيثَ حَفْصَةَ يَا فُلَانُ؟ قَالَ: نَعَمْ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، فَقَالَ لَهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَفْوَانَ: وَمَا ذَاكَ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَتْ: «خِلَالٌ لِي تِسْعٌ لَمْ تَكُنْ لِأَحَدٍ مِنَ النِّسَاءِ قَبْلِي إِلَّا مَا آتَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَرْيَمَ بِنْتَ عِمْرَانَ، وَاللَّهِ مَا أَقُولُ هَذَا إِنِّي أَفْخَرُ عَلَى أَحَدٍ مِنْ صَوَاحِبَاتِي» ، فَقَالَ لَهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَفْوَانَ: وَمَا هُنَّ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَتْ: «جَاءَ الْمَلَكُ بِصُورَتِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا ابْنَةُ سَبْعِ سِنِينَ، وَأُهْدِيتُ إِلَيْهِ وَأَنَا ابْنَةُ تِسْعِ سِنِينَ، وَتَزَوَّجَنِي بِكْرًا لَمْ يَكُنْ فِي أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ، وَكَانَ يَأْتِيِهِ الْوَحْيُ وَأَنَا وَهُوَ فِي لِحَافٍ وَاحِدٍ، وَكُنْتُ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيْهِ، وَنَزَلَ فِيَّ آيَاتٌ مِنَ الْقُرْآنِ كَادَتِ الْأُمَّةُ تَهْلِكُ فِيهِ، وَرَأَيْتُ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ وَلَمْ يَرَهُ أَحَدٌ مِنْ نِسَائِهِ غَيْرِي، وَقُبِضَ فِي بَيْتِي لَمْ يَلِهِ أَحَدٌ غَيْرُ الْمَلَكِ إِلَّا أَنَا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 6730 - صحيح

عبدالرحمن بن ضحاک بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن صفوان اور ایک دوسرا شخص ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے ، ام المومنین حضرت عاشئہ رضی اللہ عنہا نے ان میں سے ایک سے فرمایا : اے فلاں ! کیا تم نے حفصہ والی بات سنی ہے ؟ اس نے کہا: جی ہاں اے ام المومنین ۔ حضرت عبداللہ بن صفون رضی اللہ عنہ نے پوچھا : اے ام المومنین ! وہ کون سی بات ہے ؟ ام المومنین نے فرمایا : میری نو خاصیتیں ایسی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی خاتون کو نصیب نہیں ہوئیں، سوائے اس فضیلت کے جو کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم بنت عمران رضی اللہ عنہا کو عطا فرمائی ہے ۔ اللہ کی قسم ! میں اپنی ساتھیوں ( دیگر امہات المومنین ) پر فخر کرتے ہوئے نہیں کہہ رہی ہوں۔ حضرت عبداللہ بن صفوان رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ام المومین ! وہ خاصیتیں کون کون سی ہیں ؟ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : ٭فرشتہ میری تصویر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس لایا ۔ ٭ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مجھ سے نکاح کیا ، اس وقت میری عمر 7 برس تھی ۔ ٭ میری رخصتی عمل میں آئی تو اس وقت میری عمر 9 برس تھی ۔ ٭ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ازواج کنواری صرف میں ہوں۔ ٭ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور میں ایک لحاف میں ہوتے تھے اور عین اس حال میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر وحی نازل ہوا کرتی تھی ۔ ٭ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سب سے زیادہ مجھ سے محبت کرتے تھے ۔ ٭ میرے حق میں قرآن کریم کی آیات نازل ہوئیں جبکہ لوگ ہلاک ہونے کے قریب ہو چکے ہیں ۔ ٭ میں نے حضرت جبرائیل امین علیہ السلام کی زیارت کی ہے ۔ ٭ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا وصال میرے حجرے میں ہوا،اس وقت ملک الموت کے علاوہ صرف میں ہی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس تھی ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔

إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الضَّحَّاكِ، ← مَالِكُ بْنُ سُعَيْرٍ، ← أَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْحَسَّانِيُّ، ← مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Male Sahaabiyaat of the Messenger of Allah pairs peace be upon him, and others may Allah be pleased about them, the first of them to begin friendly girl friend Aisha girl Abu Bakr, may Allah be pleased · Hadith 6730

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4843

4843 - حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، ثنا يَزِيدُ بْنُ الْهَيْثَمِ الدَّقَّاقُ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُسَيَّبِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنِ مُعَاذٍ الصَّنْعَانِيُّ، حَدَّثَنِي مَعْمَرُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْوَحْيِ الرُّؤْيَا الصَّادِقَةُ فِي النَّوْمِ، كَانَ لَا يَرَى رُؤْيَا إِلَّا جَاءَتْهُ مِثْلُ فَلَقِ الصُّبْحِ، ثُمَّ حُبِّبَ إِلَيْهِ الْخَلَاءُ فَكَانَ يَأْتِي جَبَلَ حِرَاءٍ فَيَحْنَثُ وَهُوَ التَّعَبُّدُ حَتَّى فَاجَأَهُ الْحَقُّ وَهُوَ فِي غَارِ حِرَاءٍ فَجَاءَهُ الْمَلَكُ فِيهِ، فَقَالَ: اقْرَأْ، قَالَ: فَقُلْتُ: «مَا أَنَا بِقَارِئٍ» قَالَ: " فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدُ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي، فَقَالَ لِي: {اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ} [العلق: 2] " قَالَ: فَرَجَعَ بِهَا تَرْجُفُ بَوَادِرُهُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى خَدِيجَةَ، فَقَالَ: «زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي» فَزَمَّلُوهُ حَتَّى ذَهَبَ عَنْهُ الرَّوْعُ، فَقَالَ: «يَا خَدِيجَةُ، مَا لِي؟» فَأَخْبَرَهَا الْخَبَرَ، وَقَالَ: «قَدْ خَشِيتِ عَلَيَّ» فَقَالَتْ لَهُ: كَلَّا، أَبْشِرْ فَوَاللَّهِ لَا يُخْزِيكَ اللَّهُ أَبَدًا، إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ، وَتَصْدُقُ فِي الْحَدِيثِ، وَتَحْمِلُ الْكَلَّ، وَتَقْرِي الضَّيْفَ، وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ، ثُمَّ انْطَلَقَتْ بِهِ خَدِيجَةُ حَتَّى أَتَتْ بِهِ وَرَقَةَ بْنَ نَوْفَلِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ قُصَيٍّ وَهُوَ عَمُّ خَدِيجَةَ أَخُو أَبِيهَا، وَكَانَ امْرَأً تَنَصَّرَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَكَانَ يَكْتُبُ الْعَرَبِيَّةَ وَيُكْتَبُ بِالْعَرَبِيَّةِ مِنَ الْإِنْجِيلِ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَكْتُبَ فَكَانَ شَيْخًا كَبِيرًا قَدْ عَمِيَ، قَالَتْ خَدِيجَةُ: أَيْ عَمُّ، اسْمَعْ مِنَ ابْنِ أَخِيكَ، قَالَ وَرَقَةُ بْنُ نَوْفَلٍ: يَا ابْنَ أَخِي، مَاذَا تَرَى؟ فَأَخْبَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَبَرَ مَا رَأَى، فَقَالَ وَرَقَةُ: هَذَا النَّامُوسُ الَّذِي أُنْزِلَ عَلَى مُوسَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4843 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ارشاد فرماتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ پر وحی کا آغاز سچی خوابوں کے ذریعے ہوا، آپ جوخواب بھی دیکھتے وہ پورا ہو جاتا تھا، پھر آپ کے دل میں گوشہ نشینی کی محبت ڈال دی گئی ، آپ غار حراء میں تشریف لے جاتے اور کئی کئی راتیں وہاں عبادت الٰہی میں مشغول رہتے، حتی کہ اسی غار میں فرشتہ آپ کے پاس آیا، اس نے کہا: پڑھئے ! میں نے کہا: میں نہیں پڑھوں گا۔ اس نے مجھے پکڑ کر سینے سے لگا کر زور سے دبایا، جب مجھے تکلیف محسوس ہونے لگی تو اس نے مجھے چھوڑ دیا، پھر کہا: پڑھئے: "﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ١ خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ٢ اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ٣ الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ٤ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ٥﴾[العلق: 1-5]"پڑھو اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا آدمی کو خون کی پھٹک سے بنایا پڑھو اور تمہارا رب ہی سب سے بڑا کریم جس نے قلم سے لکھنا سکھایا آدمی کو سکھایا جو نہ جانتا تھا"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ)۔ آپ وہاں سے کانپتے ہوئے واپس حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس تشریف لائے، اور فرمایا: مجھے کمبل اوڑھا دو، مجھے کمبل اوڑھا دو، اہل خانہ نے آپ ﷺ کو کمبل اوڑھا دیا، آہستہ آہستہ آپ کی وہ کیفیت ختم ہو گئی تو آپ ﷺ نے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کہا: میرے قریب آؤ، پھر حضور ﷺ نے ان کو تمام واقعہ سنایا، اور فرمایا: مجھے تو آپ پر خوف آ رہا ہے ۔ ام المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا: ہر گز نہیں، بلکہ آپ کو تو خوش ہونا چاہئے ، خدا کی قسم اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا۔ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، سچ بولتے ہیں، مشکل میں لوگوں کے کام آتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں، لوگوں کی حاجت روائی کرتے ہیں۔ پھر حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا حضور ﷺ کو اپنے ہمراہ اپنے چچا زاد بھائی حضرت ورقہ بن نوفل بن اسد بن عبدالعزی بن قصی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس لے گئیں۔ ورقہ بن نوفل زمانہ جاہلیت میں نصرانی مذہب پر عمل پیرا تھے، آپ عربی لکھنا پڑھنا جانتے تھے اور انجیل مقدس کا عربی میں ترجمہ بھی کیا کرتے تھے۔ یہ کافی بوڑھے تھےاور اس وقت ان کی بینائی بھی جواب دے چکی تھی۔ ام المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ورقہ بن نوفل سے کہا: اے میرے چچا کے بیٹے ! ذرا اپنے بھتیجے کی بات غور سے سنئے۔ حضرت ورقہ بن نوفل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: اے میرے بھتیجے! تم نے کیا دیکھا ہے؟تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو کچھ دیکھا تھا سب کہہ سنایا۔ تو حضرت ورقہ بن نوفل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: یہ وہی فرشتہ ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوا کرتا تھا۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔

عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرِ بْنِ رَاشِدٍ، ← عبد الله بن معاذ الصنعاني ← مُحَمَّدُ بْنُ اِسْحَاقَ الْمُسَیَّبِیُّ ← يَزِيدُ بْنُ الْهَيْثَمِ الدَّقَّاقُ، ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4843

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الدُّعَاءِ، وَالتَّكْبِيرِ، وَالتَّهْلِيلِ، وَالتَّسْبِيحِ وَالذِّكْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1961

1961 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّنْعَانِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبَّادٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، وَأَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ سُلَيْمٍ، قَالَ: أَمْلَى عَلَيَّ يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ الْأَيْلِيُّ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: كَانَ إِذَا أُنْزِلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ الْوَحْيُ نَسْمَعُ عِنْدَ وَجْهِهِ كَدَوِيِّ النَّحْلِ، فَأُنْزِلَ عَلَيْهِ يَوْمًا فَسَكَتْنَا سَاعَةً، فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ، فَقَالَ: «اللَّهُمَّ زِدْنَا وَلَا تَنْقُصْنَا، وَأَكْرِمْنَا وَلَا تُهِنَّا، وَأَعْطِنَا وَلَا تَحْرِمْنَا، وَآثِرْنَا، وَلَا تُؤْثِرْ عَلَيْنَا، وَارْضَ عَنَّا وَأَرْضِنَا» ثُمَّ قَالَ: " لَقَدْ أُنْزِلَ عَلَيَّ عَشْرُ آيَاتٍ مَنْ أَقَامَهُنَّ دَخَلَ الْجَنَّةَ، ثُمَّ قَرَأَ: {قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ} [المؤمنون: 1] حَتَّى خَتَمَ عَشْرَ آيَاتٍ " قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَيُونُسُ بْنُ سُلَيْمٍ هَذَا كَانَ عَمُّهُ وَالِيًا قَالَ: أَرْسَلَنِي عَمِّي إِلَى يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ حَتَّى أَمْلَى عَلَيَّ أَحَادِيثَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پروحی نازل ہوا کرتی تھی تو ہمیں آپ کے چہرہ اطہر سے شہد کی مکھی کی بھنبھناہٹ کی آواز سنائی دیا کرتی تھی ۔ ایک دن آپ پر وحی نازل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تھوڑی دیر کے لئے ہم سے گفتگو بند کر دی ( جب وحی کا سلسلہ ختم ہواتو) قبلہ رو ہوکر ہاتھ بلند کئے اور یوں دعا مانگی’’اے اللہ ! ہمیں زیادہ کر اور کم نہ کر ہمیں عزت دے، ذلت نہ دے، اور ہمیں عطافرما اور ہمیں محروم نہ ر کھ اورہمیں غلبہ عطا فرما اور ہمیں مغلوب نہ کر اور ہم سے راضی ہو جا اور ہمیں راضی کر‘‘۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے او پر دس آیتیں نازل ہوئی ہیں جوشخص ان کو پابندی سے پڑھتار ہے گا۔(ان پرعمل کرے گا وہ جنت میں داخل ہو گا پھر آپ نے’’قد افلح المؤمنون ‘‘سے دس آیتیں پڑھیں ۔عبدالرزاق فرماتے ہیں : اس یونس بن سلیم کے چچا گورنر تھے ( یونس ) فرماتے ہیں انہوں نے مجھے یونس بن یزید کے پاس بھیجا تا کہ وہ مجھے احادیث کی املاءکروادے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا۔

يُونُسُ بْنُ سُلَيْمٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، وَأَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبَّادٍ ← أبو عبد الله محمد بن علي الصنعاني

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of supplication, takbeer, exultation, praise and remembrance › Insurance section · Hadith 1961

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ مَنَاقِبِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ الْمَخْزُومِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 5213

5213 - حَدَّثَنَا أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ثنا عَامِرُ بْنُ صَالِحٍ الزُّبَيْرِيُّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يَنْزِلُ عَلَيْكَ الْوَحْيُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فِي مِثْلِ صَلْصَلَةِ الْجَرَسِ فَيَفْصِمُ عَنِّي وَقَدْ وَعَيْتُ مَا قَالَ وَهُوَ أَشَدُّهُ عَلَيَّ، وَأَحْيَانًا يَأْتِينِي الْمَلَكُ، فَيَتَمَثَّلُ لِي فَيُكَلِّمُنِي فَأَعِي مَا يَقُولُ» لَا أَعْلَمُ أَحَدًا قَالَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ الْحَارِثِ غَيْرَ عَامِرِ بْنِ صَالِحٍ " وَقَدْ رَوَاهُ أَصْحَابُ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ سَأَلَ الْحَدِيثَ

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ نے رسول اللہﷺ سے پوچھا : یارسول اللہﷺ آپ پر وحی کس طرح نازل ہوتی ہے ؟رسول اللہﷺ نے فرمایا : گھنٹی بجنے کی آواز کی طرح ۔ اور جب وہ مجھ سے ختم ہوتی ہے تو میں اس کو یاد کر چکا ہوتا ہوں ، اور یہ کیفیت مجھ پر بہت بھاری ہوتی ہے ۔ اور کبھی کبھی فرشتہ انسانی شکل میں آتا ہے اور مجھ سے ہمکلام ہوتا ہے تو میں اس کی باتوں کو یاد کر لیتا ہوں ۔(امام حاکم کہتے ہیں ) میں نہیں جانتا کہ عامر بن صالح کے علاوہ راوی نے اس کی سند میں کہا ہو ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں حارث بن ہشام سے ۔ البتہ ہشام کے کئی ساتھیوں نے ان ع کے والد کے حوالے بیان کیا ہے کہ ام المومنین نے روایت کیا ہے کہ حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ نے رسول اللہﷺ سے یہ سوال کیا تھا ۔

عَائِشَةَ، أَنَّ الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ سَأَلَ الْحَدِيثَ ← أَبِيهِ ← الْحَارِثِ غَيْرَ عَامِرِ بْنِ صَالِحٍ وَقَدْ رَوَاهُ أَصْحَابُ هِشَامٍ، ← عَائِشَةَ ← فِيَ هَذَا الْحَدِيثِ ← لَا أَعْلَمُ أَحَدًا ← وَهُوَ أَشَدُّهُ عَلَيَّ، وَأَحْيَانًا يَأْتِينِي الْمَلَكُ، فَيَتَمَثَّلُ لِي فَيُكَلِّمُنِي فَأَعِي مَا ← رَسُولُ اللَّهِ «فِي مِثْلِ صَلْصَلَةِ الْجَرَسِ فَيَفْصِمُ عَنِّي وَقَدْ وَعَيْتُ مَا ← الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ كَيْفَ يَنْزِلُ عَلَيْكَ الْوَحْيُ؟ ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عامر بن صالح الزبيري ← أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ ← أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning of al-Harith bin Hisham al-Makhzoumi, may God be pleased with him · Hadith 5213

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2328

2328 - مَا حَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ عَارِمٍ، وَهُدْبَةَ بْنِ خَالِدٍ، قَالَا: ثنا سَلَّامُ بْنُ مِسْكِينٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ سَارَ إِلَى مَكَّةَ لِيَفْتَحَهَا قَالَ لِأَبِي هُرَيْرَةَ: «اهْتِفْ بِالْأَنْصَارِ» فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، أَجِيبُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَجَاءُوا كَأَنَّمَا كَانُوا عَلَى مِيعَادٍ، ثُمَّ قَالَ: " اسْلُكُوا هَذِهِ الطَّرِيقَ وَلَا يَشْرُفَنَّ لَكُمْ أَحَدٌ إِلَّا أَمَّنْتُمُوهُ فَسَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفَتَحَهَا اللَّهُ عَلَيْهِ فَطَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَيْتِ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ خَرَجَ مِنَ الْبَابِ الَّذِي يَلِي الصَّفَا، فَصَعِدَ الصَّفَا، فَخَطَبَ النَّاسَ وَالْأَنْصَارُ أَسْفَلَ مِنْهُ فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: أَمَّا الرَّجُلُ فَأَخَذَتْهُ الرَّأْفَةُ بِقَوْمِهِ وَالرَّغْبَةُ فِي قَرْيَتِهِ وَأَنْزَلَ اللَّهُ الْوَحْيَ بِمَا قَالَتِ الْأَنْصَارُ فَقَالَ: «يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، تَقُولُونَ أَمَّا الرَّجُلُ فَقَدْ أَخَذَتْهُ الرَّأْفَةُ بِقَوْمِهِ وَالرَّغْبَةُ فِي قَرْيَتِهِ» قَالَ: «فَمَنْ أَنَا إِذًا، كَلَّا وَاللَّهِ إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ حَقًّا، فَالْمَحْيَا مَحْيَاكُمْ، وَالْمَمَاتُ مَمَاتُكُمْ» قَالُوا: وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا قُلْنَا ذَلِكَ إِلَّا مَخَافَةَ أَنْ يُعَادُونَا. قَالَ: «أَنْتُمْ صَادِقُونَ عِنْدَ اللَّهِ وَعِنْدَ رَسُولِهِ» قَالَ: «فَوَاللَّهِ مَا مِنْهُمْ أَحَدٌ إِلَّا بَلَّ نَحْرَهُ بِالدُّمُوعِ» وَمِنْهَا [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2328 - صحيح

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب فتح مکہ کے لیے روانہ ہوئے تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ انصار کو بلاؤ ، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے آواز دی اے انصار یو ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آؤ تو وہ سب لوگ ( اتنی جلدی ) آ گئے گویا کہ انہوں نے پہلے سے وعدہ کر رکھا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا اس راستے سے چلو اور راستے میں جو بھی ملے اسے امن دو پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہو گئے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو فتح مکہ سے سرفراز فرمایا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ اللہ کا طواف کیا اور دورکعت نوافل ادا کئے پھر کوہ صفا سے متصل دروازے سے باہر نکلے اور کوہ صفا پر چڑھ کر لوگوں کو خطبہ دیا اس وقت انصاری لوگ آپ کے قریب ہی تھے انصاری ایک دوسرے سے باتیں کرنے لگے کہ آدمی بحر حال اپنی قوم پر ہی نرمی کرتا ہے اور اپنے علاقے میں دلچسپی لیتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے انصاریوں کی یہ گفتگو وحی کے ذریعے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتا دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے انصاریو ! تم یہ کہتے ہو کہ آدمی اپنی قوم پر نرمی کر ہی لیتا ہے اور اپنے علاقے میں دلچسپی لیتا ہے ۔ آپصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو میں کون ہوں ؟ خدا کی قسم ! میں اللہ کا بندہ اور اس کا سچا رسول ہوں میرا جینا تمہارا ساتھ ہے اور میرا مرنا تمہارے ساتھ ہے ۔ انصاریوں نے جواباً کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے تو یہ بات صرف اس خوف کی وجہ سے کی ہے کہیں وہ ہم سے دشمنی نہ کریں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں سچے ہو ( ابو ہریرہ ) فرماتے ہیں : خدا کی قسم ! ( اس دن لوگ اس قدر روئے) کہ آنسوؤں کے ساتھ ہر شخص کا دامن تر ہو گیا ( ان میں سے ایک حدیث یہ بھی ہے )۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ رَبَاحٍ ← ثَابِتٍ، ← سَلَامُ بْنُ مِسْكِينٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ عَارِمٍ، وَهُدْبَةَ بْنِ خَالِدٍ، ← أبو بكر بن إسحاق الفقيه أنبأ علي بن عبد العزيز ← مَا

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2328

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ مَنَاقِبِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 5313

5313 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رُسْتَةَ، ثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، فَذَكَرَ النَّسَبَ بِنَحْوِهِ وَزَادَ وَشَهِدَ الْعَقَبَةَ فِي السَّبْعِينَ مِنَ الْأَنْصَارِ، «وَكَانَ يَكْتُبُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَحْيَ، وَقَدِ اخْتُلِفَ فِي وَقْتِ وَفَاتِهِ فَقِيلَ أَنَّهُ مَاتَ فِي خِلَافَةِ عُمَرَ سَنَةَ اثْنَتَيْنِ وَعِشْرِينَ، وَقِيلَ مَاتَ فِي خِلَافَةِ عُثْمَانَ سَنَةَ ثَلَاثِينَ، وَهَذَا أَثْبَتُ الْأَقَاوِيلِ بِأَنَّ عُثْمَانَ أَمَرَهُ بِأَنْ يَجْمَعَ الْقُرْآنَ»

محمد بن عمر نے بھی ان کا نسب اسی طرح بیان کیا ہے اور اس میں یہ اضافہ بھی ہے" اور آپ ستر انصاری صحابہ رضوان اللہ علییہم اجمعین کے ہمراہ بیعت عقبہ میں بھی شریک ہوئے، آپ ﷺ کےلئے وحی لکھا کرتے تھے۔آپ کے دور وفات میں اختلاف پایا جاتا ہے ، کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ آپ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں 26 ہجری میں فوت ہوئے اور بعض لوگوں کا موقف یہ ہے کہ آپ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دور خلاف میں سن 30 ہجری میں فون ہوئے۔ (امام حاکم کہتے ہیں کہ ) دونوں میں سے یہ دوسرا مؤقف زیادہ مضبوت ہے کیونکہ یہ بات بھی ثابت ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کی قرآن جمع کرنے کی ذمہ داری لگائی تھی۔

مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رُسْتَهْ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning the virtues of Abu Bin Kaab, may God be pleased with him · Hadith 5313

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ وَهُوَ آخِرُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2656

2656 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، ثنا أَبُو أُمَيَّةَ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الطَّرَسُوسِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ بْنِ الْقَاسِمِ الْيَمَامِيُّ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ الْعِجْلِيُّ، ثنا أَبُو زُمَيْلٍ سِمَاكٌ الْحَنَفِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: لَمَّا خَرَجَتِ الْحَرُورِيَّةُ اجْتَمَعُوا فِي دَارٍ، وَهُمْ سِتَّةُ آلَافٍ، أَتَيْتُ عَلِيًّا، فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَبْرِدْ بِالظُّهْرِ لَعَلِّي آتِي هَؤُلَاءِ الْقَوْمَ فَأُكَلِّمُهُمْ. قَالَ: إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكَ. قُلْتُ: كَلَّا. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَخَرَجْتُ إِلَيْهِمْ وَلَبِسْتُ أَحْسَنَ مَا يَكُونُ مِنْ حُلَلِ الْيَمَنِ، قَالَ أَبُو زُمَيْلٍ كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ جَمِيلًا جَهِيرًا. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَأَتَيْتُهُمْ، وَهُمْ مُجْتَمِعُونَ فِي دَارِهِمْ، قَائِلُونَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِمْ فَقَالُوا: مَرْحَبًا بِكَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ فَمَا هَذِهِ الْحُلَّةُ؟ قَالَ: قُلْتُ: مَا تَعِيبُونَ عَلَيَّ، لَقَدْ رَأَيْتُ عَلَىَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ مَا يَكُونُ مِنَ الْحُلَلِ، وَنَزَلَتْ: {قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللَّهِ الَّتِي أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ وَالطَّيِّبَاتِ مِنَ الرِّزْقِ} [الأعراف: 32] قَالُوا: فَمَا جَاءَ بِكَ؟ قُلْتُ: أَتَيْتُكُمْ مِنْ عِنْدِ صَحَابَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ، لِأُبَلِّغُكُمْ مَا يَقُولُونَ الْمُخْبَرُونَ بِمَا يَقُولُونَ فَعَلَيْهِمْ نَزَلَ الْقُرْآنُ، وَهُمْ أَعْلَمُ بِالْوَحْيِ مِنْكُمْ، وَفِيهِمْ أُنْزِلَ: وَلَيْسَ فِيكُمْ مِنْهُمْ أَحَدٌ. فَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَا تُخَاصِمُوا قُرَيْشًا، فَإِنَّ اللَّهَ يَقُولُ: {بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ} [الزخرف: 58] قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَأَتَيْتُ قَوْمًا لَمْ أَرْ قَوْمًا قَطُّ أَشَدَّ اجْتِهَادًا مِنْهُمْ مُسْهِمَةٌ وجُوهُهُمْ مِنَ السَّهَرِ، كَأَنَّ أَيْدِيَهِمْ وَرُكَبَهُمْ تُثَنَّى عَلَيْهِمْ، فَمَضَى مَنْ حَضَرَ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَنُكَلِّمَنَّهُ وَلَنَنْظُرَنَّ مَا يَقُولُ. قُلْتُ: أَخْبِرُونِي مَاذَا نَقَمْتُمْ عَلَى ابْنِ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَصِهْرِهِ وَالْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ؟ قَالُوا: ثَلَاثًا. قُلْتُ: مَا هُنَّ؟ قَالُوا: أَمَّا إِحْدَاهُنَّ فَإِنَّهُ حَكَّمَ الرِّجَالَ فِي أَمْرِ اللَّهِ، وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى: {إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ} [الأنعام: 57] وَمَا لِلرِّجَالِ وَمَا لِلْحَكَمِ؟ فَقُلْتُ: هَذِهِ وَاحِدَةٌ. قَالُوا: وَأَمَّا الْأُخْرَى فَإِنَّهُ قَاتَلَ، وَلَمْ يَسْبِ وَلَمْ يَغْنَمْ، فَلَئِنْ كَانَ الَّذِي قَاتَلَ كُفَّارًا لَقَدْ حَلَّ سَبْيُهُمْ وَغَنِيمَتُهُمْ، وَلَئِنْ كَانُوا مُؤْمِنِينَ مَا حَلَّ قِتَالُهُمْ. قُلْتُ: هَذِهِ اثْنَتَانِ، فَمَا الثَّالِثَةُ؟ قَالَ: إِنَّهُ مَحَا نَفْسَهُ مِنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ فَهُوَ أَمِيرُ الْكَافِرِينَ. قُلْتُ: أَعِنْدَكُمْ سِوَى هَذَا؟ قَالُوا: حَسْبُنَا هَذَا. فَقُلْتُ لَهُمْ: أَرَأَيْتُمْ إِنْ قَرَأْتُ عَلَيْكُمْ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ وَمِنْ سُنَّةِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يُرَدُّ بِهِ قَوْلُكُمْ أَتَرْضَوْنَ؟ قَالُوا: نَعَمْ. فَقُلْتُ: أَمَّا قَوْلُكُمْ: حَكَّمَ الرِّجَالَ فِي أَمْرِ اللَّهِ فَأَنَا أَقْرَأُ عَلَيْكُمْ مَا قَدْ رَدَّ حُكْمَهُ إِلَى الرِّجَالِ فِي ثَمَنِ رُبْعِ دِرْهَمٍ فِي أَرْنَبٍ، وَنَحْوِهَا مِنَ الصَّيْدِ، فَقَالَ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ} [المائدة: 95] إِلَى قَوْلِهِ {يَحْكُمُ بِهِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْكُمْ} [المائدة: 95] فَنَشَدْتُكُمُ اللَّهَ أَحُكْمُ الرِّجَالِ فِي أَرْنَبٍ وَنَحْوِهَا مِنَ الصَّيْدِ أَفْضَلُ، أَمْ حُكْمُهُمْ فِي دِمَائِهِمْ وَصَلَاحِ ذَاتِ بَيْنِهِمْ؟، وَأَنْ تَعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ لَوْ شَاءَ لَحَكَمَ وَلَمْ يُصَيِّرْ ذَلِكَ إِلَى الرِّجَالِ، وَفِي الْمَرْأَةِ وَزَوْجِهَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا إِنْ يُرِيدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقِ اللَّهُ بَيْنَهُمَا} [النساء: 35] فَجَعَلَ اللَّهُ حُكْمَ الرِّجَالِ سُنَّةً مَأْمُونَةً، أَخَرَجْتُ عَنْ هَذِهِ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: وَأَمَّا قَوْلُكُمْ: قَاتَلَ وَلَمْ يَسْبِ وَلَمْ يَغْنَمْ، أَتَسْبُونَ أُمَّكُمْ عَائِشَةَ ثُمَّ يَسْتَحِلُّونَ مِنْهَا مَا يُسْتَحَلُّ مِنْ غَيْرِهَا؟ فَلَئِنْ فَعَلْتُمْ لَقَدْ كَفَرْتُمْ وَهِيَ أُمُّكُمْ، وَلَئِنْ قُلْتُمْ: لَيْسَتْ أَمَّنَا لَقَدْ كَفَرْتُمْ فَإِنَّ اللَّهَ يَقُولُ: {النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ} [الأحزاب: 6] فَأَنْتُمْ تَدْورُونَ بَيْنَ ضَلَالَتَيْنِ أَيُّهُمَا صِرْتُمْ إِلَيْهَا، صِرْتُمْ إِلَى ضَلَالَةٍ فَنَظَرَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، قُلْتُ: أَخَرَجْتُ مِنْ هَذِهِ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: وَأَمَّا قَوْلُكُمْ مَحَا اسْمَهُ مِنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ، فَأَنَا آتِيكُمْ بِمَنْ تَرْضَوْنَ، وَأُرِيكُمْ قَدْ سَمِعْتُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ كَاتَبَ سُهَيْلَ بْنَ عَمْرٍو وَأَبَا سُفْيَانَ بْنَ حَرْبٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ: " اكْتُبْ يَا عَلِيُّ: هَذَا مَا اصْطَلَحَ عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ " فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ: لَا وَاللَّهِ مَا نَعْلَمُ إِنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ لَوْ نَعْلَمُ إِنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ مَا قَاتَلْنَاكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، اكْتُبْ يَا عَلِيُّ: هَذَا مَا اصْطَلَحَ عَلَيْهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ " فَوَاللَّهِ لَرَسُولُ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ عَلِيٍّ، وَمَا أَخْرَجَهُ مِنَ النُّبُوَّةِ حِينَ مَحَا نَفْسَهُ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ: فَرَجَعَ مِنَ الْقَوْمِ أَلْفَانِ، وَقُتِلَ سَائِرُهُمْ عَلَى ضَلَالَةٍ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2656 - على شرط مسلم

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: جب خوارج نے بغاوت کی تو وہ ایک حویلی میں جمع ہوئے ، اس وقت ان کی تعداد چھ ہزار تھی ۔ میں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس آیا اور کہا: : اے امیر المومنین رضی اللہ تعالی عنہ آج ظہر کی نماز ذرا تا خیر سے پڑھائیے گا۔ میں ارادہ رکھتا ہوں کہ ان لوگوں کے پاس آکر ان سے مذاکرات کروں ۔آپ نے فرمایا: : مجھے تیرے بارے میں خدشہ ہے۔ (کہ یہ لوگ تجھے کوئی نقصان نہ پہنچا دیں)میں نے کہا:: ایسا نہیں ہوگا (ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: ) میں بہت ہی قیمتی یمنی جبہ زیب تن کرکے ان کی طرف روانہ ہوا ۔ ابو زمیل فرماتے ہیں: : ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ بہت خوبصورت نوجوان تھے ۔ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: میں ان کے پاس آیا اس وقت وہ اس حویلی میں موجود باتیں کر رہے۔ تھے ۔ میں نے ان کو سلام کیا انہوں نے جواباً مجھے خوش آمدید کہا: ۔ یہ کیسا جبہ ہے۔ ؟ میں نے کہا: تم اس کی وجہ سے مجھ پر کیوں عیب لگا رہے۔ ہو ؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے بھی زیادہ قیمتی جبہ پہنے دیکھا ہے۔ اور قرآن کریم کی اس آیت میں اس کی اجازت بھی موجود ہے۔ : ﴿قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللَّهِ الَّتِي أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ وَالطَّيِّبَاتِ مِنَ الرِّزْقِ ﴾ [الأعراف: 32] ’’تم فرماؤ کس نے حرام کیا اللہ کی وہ زینت جو اس نے اپنے بندوں کے لئے نکالی اور پاک رزق ‘‘ (ترجمہ کنزالایما ن ، امام احمد رضا ) ۔ وہ کہنے لگے تم کہنے کیا آئے ہو ؟ میں نے کہا: : میں تمہارے پاس مہاجرین اور انصار صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ کی پاس سے آیا ہوں تا کہ تمہارے پاس ان کی جانب سے جو خبر یں پہنچ رہی ہیں ، ان کی حقیقت ہے۔ حال تم تک پہنچاؤں ۔ان لوگوں کی موجودگی میں قرآن نازل ہوا ہے۔ اور وہ لوگوں وحی کو تم سے بہتر جانتے ہیں اور ان کے متعلق ہیں یہ حکم نازل ہوا ہے۔ اور تم میں ان میں سے کوئی نہیں ہے۔ ۔تو ایک شخص بولا : تم قریش سے بلاوجہ مت جھگڑو ۔کیونکہ قرآن کہتا ہے۔ : ﴿ بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ﴾ [الزخرف: 58] ’’ بلکہ وہ ہیں ہی جھگڑالو لوگ ‘‘ ۔ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: :میں ایسی قوم کے پاس آیا ہوں کہ ان سے بڑھ کر اجتہاد کی صلاحیت رکھنے والا میں نے کسی قوم کو نہیں پایا ۔شب بیداریوں کی وجہ سے ان کی چہرہ کی رنگت بدلی ہوئی تھی ۔یوں لگتا تھا کہ ان کے ہاتھ اور پاؤں ان کی تعریف کر رہے۔ ہیں ،ان میں سے بعض نے کہا: :ہمیں اس کے ساتھ گفت و شنید ضرور کرنی چاہیے تاکہ اس کے نظریات ہم پر آشکار ہو ں، لیکن میں نے کہا: : تم مجھے یہ بات بتاؤ کہ تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا زاد بھائی ، ان کے داماد اور مہاجرین و انصار پر کیا اعتراض ہے۔ ؟ انہوں نے کہا: : (ہمیں ان پر ) تین اعتراض ہیں۔ میں نے پوچھا : وہ کیا ؟ انہوں نے کہا: : پہلا تو یہ ہے۔ کہ انہوں نے اللہ تعالی کی بادشاہی میں بندوں کو حاکم بنا دیا ہے۔ جب کہ اللہ تعالی نے فرمایا: : ﴿ إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ ﴾ [يوسف: 40] ’’حکم نہیں مگر اللہ کا ‘‘ ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا ) بندوں کا امر سے کیا تعلق ؟ میں نے کہا: یہ تو ایک ہوا ۔انھوں نے کہا: دوسرا یہ ہے۔ کہ انہوں نے جنگ کی ہے۔ لیکن نہ تو کسی کو قیدی بنایا اور نہ مال غنیمت حاصل کیا ۔ یہ جن سے لڑ رہے۔ ہیں اگر وہ کافر ہیں تو ان کو قیدی بنانا اور ان کا مال غنیمت لینا جائز ہوتا اور اگر وہ مومن ہیں تو ان سے جہاد جائز نہیں ۔میں نے کہا: : دو ہوگئے ۔تیسرا اعتراض کیا ہے۔ ؟ انہوں نے کہا:: (تیسری بات یہ ہے۔ کہ ) انہوں نے اپنے نام سے لفظ ’’ امیرالمومنین ‘‘ ہٹا دیا ہے۔ ، اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ یہ ’’امیر الکافرین ‘‘ ہوئے ۔میں نے کہا: : اس کے علاوہ آپ لوگوں کے کوئی تحفظات ہو تو وہ بھی بتا دو ۔ انہوں نے کہا: ہمارے اعتراضات یہی تھے ۔میں نے ان سے کہا: اگر میں قرآن پاک کی وہ آیات اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ حدیث سنا دو ں جس سے تمہارے موقف کی تردید ہوتی ہے۔ تو کیا مان لو گے ؟ انہوں نے کہا: : جی ہاں ۔ میں نے کہا: جو تم نے یہ اعتراض کیا ہے۔ کہ بندوں کو حاکم بنا دیا ہے۔ اس سلسلے میں میں تمہیں ایک آیت سناتا ہوں جس میں خرگوش وغیرہ کے شکار کے متعلق ربع درہم کے آٹھ ویں حصے میں بندوں کو حاکم بنایا گیا ہے۔ ۔ وہ آیت یہ ہے۔ ’’ یا ایھا الزین امنو ا لا تقتلو ا الصید و انتم حرم الی قولہ یحکم بہ ذوا عدل منکم‘‘ ۔اے ایمان والو شکار نہ مارو جب تم احرام میں ہو اور تم میں سے جو اسے قصداً قتل کرے تو اس کا بدلہ یہ ہے۔ کہ ویسا ہی جانور مویشی سے دے تم میں کے دو ثقہ آدمی اس کا حکم کریں ۔(ترجمہ کنزالایمان امام احمد رضا ) میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ بندوں کا خرگوش وغیرہ کے شکار کے متعلق حاکم بننا افضل ہے۔ یا ان کے خونوں اور ان کے درمیان اصلاح کا حاکم بنا زیادہ افضل ہے۔ ؟ اور تم یہ بھی جانتے ہو کہ اگر اللہ تعالی چاہتا تو ان میں خود ہی فیصلہ کر دیتا اور ان کو دوسروں کے سپرد نہ کرتا ۔ نیز اللہ تعالی نے مرد اور عورت کے متعلق فرمایا: : ﴿وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا إِنْ يُرِيدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقِ اللَّهُ بَيْنَهُمَا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيرًا﴾ [النساء: 35]اور اگر تم کو میاں بیوی کے جھگڑے کا خوف ہو تو ایک پہنچ مرد والوں کی طرف سے سے اور 15 عورت والوں کی طرف سے یہ دونوں صلح کرانا اگر چاہے۔ اللہ تعالی ان میں رجحان پیدا کر دے گا ترجمہ کنزالایمان امام احمد رضا رضا تو اللہ تعالی کے بندوں کو حکم بنانا سنت ہے۔ مامون قرار دیا ہے۔ جو ان کو اس مشکل سے نکال سکتا ہے۔ انہوں نے کہا: کیا ہے۔ کہ یہ جنگ کر رہے۔ ہیں لیکن نہ کہہ دیں بنا رہے۔ ہیں نہ مال غنیمت کیا تم اپنی اماں عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ کو قیدی بنایا گے اور پھر ان کے ساتھ وہ سلوک کروگے آگے جو ایک قیدی خاتون کے ساتھ کرنا جائز ہے۔ اگر تم ایسا کرو گے تو تم کافر ہو جاؤ گے کیونکہ وہ تمہاری ماں ہے۔ اور ان کے ایمان کا انکار کرو تو بھی تمہیں کافر ہوگئے کیونکہ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: ہے۔ یہ نبی مسلمانوں کا ان کی جان سے زیادہ مالک ہے۔ اور اس کی بیویاں ان کی ماں ہے۔ ہے۔ ترجمہ کنجری امام احمد رضا تو تم لوگ دو گمراہیوں کے درمیان گھوم رہے۔ ہو ان میں سے کسی کی طرف بھی جاؤں بہرحال گمراہی ہیں تمہارا مقدر ہے۔ ہے۔ میری یہ دلیل سن کر انہوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا میں نے کہا: میں نے تمہارے دوسرے اعتراض کا بھی جواب دے دیا انہوں نے کہا: جی ہاں میں نے کہا: اور تمہارا یہ اعتراض تھا کہ انہوں نے اپنے نام سے امیر المومنین کا نام ہٹا دیا ہے۔ تو میں تمہیں ایسی شخصیت کی بات بتاتا ہوں سب لوگ راضی ہو اور میرا خیال ہے۔ کہ تم لوگوں نے سن رکھا ہوگا کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سہیل بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہ اور ابو سفیان بن حرب اللہ تعالی عنہ کی طرف جو محبوب لکھا تھا ہم نے امیرالمومنین سے فرمایا: تھا اے علی لکھو یہ وہ معاہدہ ہے۔ جس پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صلح کی ہے۔ ہے۔ اس پر مشرکین نے اعتراض کیا کہ نہیں خدا کی قسم ہم آپ کو رسول اللہ نہیں مانتے اگر ہم آپ کو رسول اللہ مانتے ہوتے تو تمہارے ساتھ جنگ کیوں کرتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم بولے اے اللہ تو جانتا ہے۔ کہ میں رسول اللہ تعالی اس کی عبارت یوں کر دو یہ وہ معاہدہ ہے۔ جس پر پر محمد بن عبداللہ نے صلح کی کی تو خدا کی قسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علی سے کہیں افضل ہے۔ لیکن جب آپ نے اپنے نام سے رسول اللہ مٹا دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت ختم نہیں ہوئی وی عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: میری یہ گفتگو سن کر دو ہزار آدمیوں نے ان کی جماعت سے رجوع کرلیا اور باقی سب گمراہی پر قتل ہوئے ہوئے یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبُو زُمَيْلٍ سِمَاكٌ الْحَنَفِيُّ، ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ الْعِجْلِيُّ ← عمر بن يونس بن القاسم اليمامي ← أَبُو أُمَيَّةَ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الطَّرَسُوسِيُّ ← أبو العباس محمد بن يعقوب من أصل كتابه،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Fighting the People of the Badghi, which is the last of jihad › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2656

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2872

2872 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ الزَّاهِدُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَهْدِيِّ بْنِ رُسْتُمَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ثنا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " تَعَلَّمْنَا الْقُرْآنَ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ - يَعْنِي مَسْجِدَ الْبَصْرَةِ - وَكُنَّا نَجْلِسُ حِلَقًا حِلَقًا، وَكَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَيْهِ بَيْنَ ثَوْبَيْنِ أَبْيَضَيْنِ، وَعَنْهُ أَخَذْتُ هَذِهِ السُّورَةَ: {اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكِ الَّذِي خَلَقَ} [العلق: 1] قَالَ: وَكَانَتْ أَوَّلَ سُورَةٍ أُنْزِلَتْ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَلَهُ شَاهِدٌ بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2872 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ہم نے اس مسجد ( بصرہ کی مسجد ) میں قرآن کی تعلیم حاصل کی ہے ، ہم حلقے بنا کر بیٹھا کرتے تھے اور ان کا دو سفید کپڑوں میں ملبوس ہونا آج بھی میری نظروں میں اسی طرح ہے اور انہی سےمیں نے "اقرا باسم ربک الذی خلق " سورت پڑھی تھی ۔ انہوں نے فرمایا : محمد ﷺ پر نازل ہونے والی یہ سب سے پہلی سورت ہے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور اما م مسلم رحمۃاللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃاللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا ۔ درج ذیل حدیث مذکورہ حدیث کی شاہد ہے جو کہ امام مسلم رحمۃاللہ علیہ کے معیار کے مطابق "صحیح الاسناد " ہے ۔

أَبِي مُوسَی الأَشْعَرِيِّ ← أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ، ← قُرَّۃُ بْنُ خَالِدٍ ← أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ← أحمد بن مهدي بن رستم الأصبهاني ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ الزَّاهِدُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2872

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2875

2875 - حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا هَوْذَةُ بْنُ خَلِيفَةَ، ثنا عَوْفُ بْنُ أَبِي جَمِيلَةَ، ثنا يَزِيدُ الْفَارِسِيُّ، قَالَ: قَالَ لَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: قُلْتُ لِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: مَا حَمَلَكُمْ عَلَى أَنْ عَمَدْتُمْ إِلَى الْأَنْفَالِ، وَهِيَ مِنَ الْمَثَانِي وَإِلَى الْبَرَاءَةِ، وَهِيَ مِنَ الْمِئِينَ فَقَرَنْتُمْ بَيْنَهُمَا، وَلَمْ تَكْتُبُوا بَيْنَهُمَا سَطْرَ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، وَوَضَعْتُمُوهَا فِي السَّبْعِ الطِّوَالِ، مَا حَمَلَكُمْ عَلَى ذَلِكَ؟ فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْتِي عَلَيْهِ الزَّمَانُ تَنْزِلُ عَلَيْهِ السُّوَرُ ذَوَاتُ عَدَدٍ، فَكَانَ إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ الشَّيْءُ يَدْعُو بَعْضَ مَنْ كَانَ يَكْتُبُهُ، فَيَقُولُ: «ضَعُوا هَذِهِ فِي السُّورَةِ الَّتِي يُذْكَرُ فِيهَا كَذَا وَكَذَا» وَتَنْزِلُ عَلَيْهِ الْآيَةُ فَيَقُولُ: «ضَعُوا هَذِهِ فِي السُّورَةِ الَّتِي يُذْكَرُ فِيهَا كَذَا وَكَذَا» فَكَانَتِ الْأَنْفَالُ مِنْ أَوَائِلِ مَا نَزَلَ بِالْمَدِينَةِ، وَبَرَاءَةُ مِنْ آخِرِ الْقُرْآنِ، فَكَانَتْ قِصَّتُهَا شَبِيهَةً بِقِصَّتِهَا، فَقُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يُبَيِّنْ لَنَا أَنَّهَا مِنْهَا، فَمِنْ ثَمَّ قَرَنْتُ بَيْنَهُمَا، وَلَمْ أَكْتُبْ بَيْنَهُمَا سَطْرَ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ،میں نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے پوچھا : آپ نے سورہ انفال اور براۃ کو ایک دوسری کے ساتھ کیوں ملا دیا ؟ اور ان کے درمیان ایک سطر بسم اللہ الرحمن الرحیم نہیں لکھی ، حالانکہ انفال "مثانی" میں سے ہے اور براۃ "مئین" میں سے ہے ( مثانی ان سورتوں کو کہتے ہیں جن کی آیات کی 100سے کم ہیں اور مئین ان سورتوں کو کہا جاتا ہے جن کی آیات کی تعداد 100 سے زیادہ ہے ، شفیق ) اور آپ نے اس کو طوال مفصل میں شامل کیا ہے ۔ اس کی وجہ کیا ہے ؟ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے جواباً فرمایا :رسول اللہ ﷺ پر ایک وقت میں متعدد سورتوں کا نزول بھی ہوا کرتا تھا چنانچہ جب کوئی آیت نازل ہو تی تو آپ ﷺ کاتب بلوا کر بتا دیا کرتے تھے کہ اس آیت کو فلاں سورۃ میں درج کر دو ، جس میں فلاں فلاں مفہوم مذکور ہے ۔ کوئی دوسری آیت نازل ہو تی تو آپ اس کے متعلق بھی راہنمائی فرما دیا کرتے تھے کہ اس آیت کو فلاں سورۃ میں درج کر دو جس میں فلاں فلاں ذکر موجود ہے اور سورہ انفال مدینہ المنورہ میں ابتدائی ایام میں بازل ہوئی تھی جبکہ سورۃ براۃ نزول قرآن کے بلاکل اختتام میں نازل ہوئی ہے اور ان دونوں سورتوں کے مفاہیم بھی ایک دوسری سے ملتے جلتے ہیں اور رسول اللہﷺ نے اپنے آخری وقت تک اس بات کی وضاحت نہیں کی تھی کہ ان میں سے کون سی آیت کس سورۃ سے تعلق رکھتی ہے اس لئے میں ان دونوں کے درمیان" بسم اللہ الرحمن الرحیم" نہیں لکھی اور دونوں کو متصل کر دیا ۔

لَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ، قُلْتُ: لِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، مَا حَمَلَكُمْ عَلَى ← يَزِيدَ الْفَارِسِيِّ ← عَوْفُ بْنُ أَبِي جَمِيلَةَ ← هَوْذَةُ بْنُ خَلِيفَةَ ← الْحَسَنُ بْنُ الْفَضْلِ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2875

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2880

2880 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ الْعَدْلُ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ الْبَصْرِيُّ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُوحِيَ إِلَيْهِ لَمْ يَسْتَطِعْ أَحَدٌ مِنَّا يَرْفَعُ طَرْفَهُ إِلَيْهِ، حَتَّى يَنْقَضِيَ الْوَحْيُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2880 - على شرط مسلم

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب رسول اللہﷺ پر وحی نازل ہوا کرتی تھی تو جب تک وحی نازل ہوتی رہتی ، اس وقت تک ہم میں سے کسی میں بھی ہمت نہ ہوتی تھی کہ آپ کے چہرہ اطہر کی طرف نظر اٹھا کر دیکھ سکیں ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃاللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃاللہ علیہ نے ااے نقل نہیں کیا ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ الْأَنْصَارِيِّ ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ الْبَصْرِيُّ، ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو الْفَضْلِ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2880

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2901

2901 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السَّعْدِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا أَبِي، سَمِعْتُ يَحْيَىَ بْنَ أَيُّوبَ، يُحَدِّثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُؤَلِّفُ الْقُرْآنَ مِنَ الرِّقَاعِ، إِذْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «طُوبَى لِلشَّامِ» ، فَقُلْنَا: لِأَيِّ شَيْءٍ ذَاكَ؟ فَقَالَ: «لِأَنَّ مَلَائِكَةَ الرَّحْمَنِ بَاسِطَةٌ أَجْنِحَتَهَا عَلَيْهِمْ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَفِيهِ الْبَيَانُ الْوَاضِحُ: أَنَّ جَمْعَ الْقُرْآنِ لَمْ يَكُنْ مَرَّةً وَاحِدَةً، فَقَدْ جُمِعَ بَعْضُهُ بِحَضْرَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ جُمِعَ بَعْضُهُ بِحَضْرَةِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، وَالْجَمْعُ الثَّالِثُ هُوَ فِي تَرْتِيبِ السُّورَةِ كَانَ فِي خِلَافَةِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ أَجْمَعِينَ "

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ہم رسول اللہ ﷺ کی موجودگی مین کاغذ یا چمڑے کے ٹکڑوں پر قرآن جمع کیا کرتے تھے ، ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : شام کے لئے خوشخبری ہے ، ہم نے پوچھا : کس بناء پر ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ان پر رحمت کے فرشتے اپنے پر پھیلاتے ہیں ۔ یہ حدیث اما م بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا ۔ اور اس حدیث مین یہ واضح بیان موجود ہے کہ قرآن پاک صرف ایک دفعہ ہی جمع نہیں کیا گیا اس کا کچھ حصہ تو خود رسول اللہﷺ کی موجودگی میں جمع کر لیا گیا تھا ، پھر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے زمانے میں جمع کیا گیا اور تیسری دفعہ جب سورتوں کی ترتیب کے ساتھ اس کی تالیف ہو ئی ہے وہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی خلافت میں ہوا ہے ۔

كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ نُؤَلِّفُ الْقُرْآنَ مِنَ الرِّقَاعِ، إِذْ ← زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ← عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ شِمَاسَۃَ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السَّعْدِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2901

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّهَارَةِ ‹ باب · حديث 467

467 - فَأَخْبَرَنَاهُ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عِيَاضٍ، فَذَكَرَ بِنَحْوِهِ.» ، قَدِ اتَّفَقَ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ عَلَى إِخْرَاجِ أَحَادِيثَ مُتَفَرِّقَةٍ فِي الْمُسْنَدَيْنِ الصَّحِيحَيْنِ يُسْتَدَلُّ بِهَا عَلَى أَنَّ اللَّمْسَ مَا دُونَ الْجِمَاعِ مِنْهَا، حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ «فَالْيَدُ زِنَاهَا اللَّمْسُ» وَحَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ «لَعَلَّكَ مَسِسْتَ» وَحَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ «أَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ» وَقَدْ بَقِيَ عَلَيْهِمَا أَحَادِيثُ صَحِيحَةٌ فِي التَّفْسِيرِ وَغَيْرِهِ مِنْهَا "

امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی اپنی مسند میں ایسی متفرق احادیث نقل کی ہیں جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ "لمس" سے مراد " جماع" نہیں ہے۔ان میں سے ایک حدیث ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ( جس میں ہے کہ ) ہاتھ کا زنا "لمس" ہے اور ابن عباسرضی اللہ عنہما کی حدیث ہے جس میں لعلک مسست کے الفاظ ہیں اور تیسری عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی وہ روایت ہے جس میں اقم الصلواۃ طرفی النھار کے الفاظ ہیں۔ اب کچھ صحیح احادیث تفسیر کے حوالے سے باقی ہیں جن کو یہاں ذکر کرنا فائدہ سے خالی نہیں ہو گا۔ ان میں سے ایک حدیث تو یہ ہے۔

عِيَاضٍ، ← يَحْيَى ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Purity › Door · Hadith 467

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ مَنَاقِبِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ كَاتَبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 5785

5785 - أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ التَّاجِرُ، ثَنَا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُثَنَّى الْأَنْصَارِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ أَخَذَ بِرِكَابِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، فَقَالَ لَهُ: تَنَحَّ يَا ابْنَ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، فَقَالَ: «إِنَّا هَكَذَا نَفْعَلُ بِكُبَرَائِنَا وَعُلَمَائِنَا» صَحِيحُ الْإِسْنَادِ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ. كَانَ مِنْ حُكْمِ مَنَاقِبِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنْ أَبْدَأَ فِيهِ بِحَدِيثِ جَمْعِ الْقُرْآنِ، فَإِنَّهُ لَهُ مَنَاقِبُ كَثِيرَةٌ لَكِنَّ الشَّيْخَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَدِ اتَّفَقَا عَلَى إِخْرَاجِهِ فَلِذَلِكَ تَرَكْتُهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 5785 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

ابو سلمہ فرماتےہیں:حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ نےحضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ کی رکاب تھامی،حضرت زید بن ثابت نےکہا:اےرسول اللہﷺکےچچاکے بیٹےآپ ہٹ جایئے،لیکن ابن عباس نےکہا:ہم اپنے بڑوں اور اپنے علماء کاایسےہی احترام کیا کرتے ہیں۔یہ حدیث امام مسلمؒ کےمعیار کےمطابق صحیح الاسنادہے،لیکن شیخینؒ نےاس کونقل نہیں کیا۔نوٹ:حضرت زید بن ثابت کے مناقب کاحق تو یہ تھا کہ ان کےمناقب کاآغازقرآن جمع کرنےکےبارےمیں احادیث سےکیا جائے،کیونکہ ان کےسلسلہ میں بہت سارےفضائل ہیں۔لیکن کیونکہ امام بخاریؒ اور امام مسلمؒ نے وہ روایات نقل کردی ہیں،اس لئے میں نےان کو چھوڑدیا۔

لَهُ: تَنَحَّ يَا ابْنَ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ أَخَذَ بِرِكَابِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُثَنَّى الْأَنْصَارِيُّ ← أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ التَّاجِرُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the muqib Zayd ibn Thabit who wrote the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 5785

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَدَبِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7771

7771 - حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ، ثَنَا عَفَّانُ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُكْثِرُ ذِكْرَ خَدِيجَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» فَقُلْتُ: لَقَدْ أَخْلَفَكَ اللَّهُ - وَرُبَّمَا قَالَ حَمَّادٌ: أَعْقَبَكَ اللَّهُ - مِنْ عَجُوزٍ مِنْ عَجَائِزَ قُرَيْشٍ حَمْرَاءَ الشِّدْقَيْنِ هَلَكَتْ فِي الدَّهْرِ الْأَوَّلِ قَالَ: «فَتَمَعَّرَ وَجْهُهُ تَمَعُّرًا مَا كُنْتُ أُرَاهُ إِلَّا عِنْدَ نُزُولِ الْوَحْيِ وَإِذَا رَأَى مَخِيلَةَ الرَّعْدِ وَالْبَرْقِ حَتَّى يَعْلَمَ أَرَحْمَةٌ هِيَ أَمْ عَذَابٌ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7771 - على شرط مسلم

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ، حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کو اکثر یاد کیا کرتے تھے میں نے کہا: قریش کی ایک بوڑھی خاتون کے وفات پانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپ کو ایک خوبصورت دوشیزہ سے نواز ہے ۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چہرے پر ناراضگی کے آثار نمودار ہوئے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی یہ کیفیت نزول وحی کے وقت ہوا کرتی تھی ، یا اس وقت ہوتی تھی جب رعد و باراں ہوتی ، جب تک حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ علم نہ ہو جاتا کہ یہ رعد اور برسات رحمت کی ہے یا عذاب کی ہے اس وقت تک آپ کی کیفیت بدستور وہی رہتی ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔

عَائِشَةَ ← مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ، ← إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Literature book › The merits of all Arabs · Hadith 7771

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْحُدُودِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8132

8132 - أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَغْدَادِيُّ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ عُفَيْرٍ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ فُلَيْحٍ أَبُو الْمُغِيرَةِ الْخُزَاعِيُّ، ثَنَا ثَوْرُ بْنُ زَيْدٍ الدِّيلِيُّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: إِنَّ الشُّرَّابَ كَانُوا يُضْرَبُونَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْأَيْدِي وَالنِّعَالِ وَالْعَصَا حَتَّى تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانُوا فِي خِلَافَةِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَكْثَرَ مِنْهُمْ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: لَوْ فَرَضْنَا لَهُمْ حَدًّا فَتَوَخَّى نَحْوًا مِمَّا كَانُوا يُضْرَبُونَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَجْلِدُهُمْ أَرْبَعِينَ حَتَّى تُوُفِّيَ، ثُمَّ قَامَ مِنْ بَعْدِهِ عُمَرُ فَجَلَدَهُمْ كَذَلِكَ أَرْبَعِينَ، حَتَّى أُتِيَ بِرَجُلٍ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ الْأَوَّلِينَ وَقَدْ كَانَ شَرِبَ فَأَمَرَ بِهِ أَنْ يُجْلَدَ، فَقَالَ: لِمَ تَجْلِدُنَي بَيْنِي وَبَيْنَكَ كِتَابُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فِي أَيِّ كِتَابِ اللَّهِ تَجِدُ أَنِّي لَا أَجْلِدُكَ؟ فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ فِي كِتَابِهِ {لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا} [المائدة: 93] الْآيَةَ فَأَنَا مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ، ثُمَّ اتَّقُوا وَآمَنُوا، ثُمَّ اتَّقُوا وَأَحْسِنُوا، شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَدْرًا وَالْحُدَيْبِيَةَ وَالْخَنْدَقَ وَالْمَشَاهِدَ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَلَا تَرُدُّونَ عَلَيْهِ مَا يَقُولُ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّ هَذِهِ الْآيَاتِ أُنْزِلَتْ عُذْرًا لِلْمَاضِينَ وَحَجَّةً عَلَى الْبَاقِينَ لِأَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، يَقُولُ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمِلِ الشَّيْطَانِ} [المائدة: 90] ثُمَّ قَرَأَ حَتَّى أَنْفَذَ الْآيَةَ الْأُخْرَى {لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا إِذَا مَا اتَّقَوْا وَآمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَآمَنُوا ثُمَّ اتَّقَوْا وَأَحْسَنُوا} [المائدة: 93] فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ نَهَى أَنْ يُشْرَبَ الْخَمْرُ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: صَدَقْتَ فَمَاذَا تَرَوْنَ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «نَرَى أَنَّهُ إِذَا شَرِبَ سَكِرَ، وَإِذَا سَكِرَ هَذَى، وَإِذَا هَذَى افْتَرَى، وَعَلَى الْمُفْتَرِي ثَمَانُونَ جَلْدَةً» فَأَمَرَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَجُلِدَ ثَمَانِينَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8132 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے میں شراب خوروں کو ہاتھوں ، جوتوں اور ڈنڈوں سے مار پڑتی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ظاہری وصال کے بعد حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت میں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے سے زیادہ لوگ اس فعل میں مبتلا ہونے لگے، حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: اگر ان کے لئے کوئی حد مقرر کر دی جائے (تو شاید اس جرم میں کمی واقع ہو جائے) چنانچہ جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے میں شراب نوشوں کو کوڑے مارا کرتے تھے، ان سے مشورہ کیا گیا (تو یہ بات سامنے آئی کہ ) حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کو 40 کوڑے مارا کرتے تھے۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کےوصال کے بعد حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی شراب خوروں کو 40 کوڑے ہی مارا کرتے تھے، آپ کے دور خلافت میں مہاجرین اولین میں سے ایک شخص کو شراب نوشی کے الزام میں آپ کے پاس لایا گیا، آپ نے اس کو کوڑوں کی سزا سنا دی ، اس صحابی نے اعتراض کر دیا کہ تم نے مجھے کوڑے کیوں مارے؟ جب کہ فیصلہ کرنے کے لئے آپ کے اور میرے درمیان اللہ کی کتاب موجود ہے، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےفرمایا: تم کتاب اللہ کے کس حصہ میں یہ بات پاتے ہو کہ میں تجھے کوڑے نہ ماروں؟ انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :"﴿لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا إِذَا مَا اتَّقَوْا وَآمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَآمَنُوا ثُمَّ اتَّقَوْا وَأَحْسَنُوا﴾"(المائدہ:93)" جو ایمان لائے اور نیک کام کئے ان پر کوئی گناہ نہیں جو کچھ انہوں نے چکھا جبکہ ڈریں اور ایمان رکھیں اور نیکیاں کریں پھر ڈریں ور ایمان رکھیں، پھر ڈریں اور نیک رہیں"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) اور میں انہی لوگوں میں سے ہوں جو ایمان لائے، نیک عمل کئے، پھر پرہیز گاری اختیار کی، اور ایمان لائے ، پھر پرہیز گاری اختیار کی اور ایمان لائے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ جنگ بدر ، حدیبیہ ، جنگ خندق اور دیگر کئی غزوات میں شرکت کی ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے(اپنے قریب دیگر صحابہ کرام سے) فرمایا: یہ جو کچھ کہہ رہے ہیں، تم لوگ اس کا جوا نہیں دے سکتے؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بولے : یہ آیات تو سابقہ گناہوں کی معافی کے لئے نازل ہوئی ہیں، اور یہ آیات بعد والے گناہوں کے خلاف تو دلیل ہیں، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے :"﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ﴾" (المائدہ :90)" اے ایمان والو ، شراب ، جوا اور بت اور پانسے ناپاک ہی ہیں، شیطانی کام ، تو ان سے بچتے رہنا کہ تم فلاح پاؤ" (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) یہ آیت ختم کرنے کے بعد آپ نے دوسری آیت پڑھی:"لیس علی الذین آمنو وعملو االصالحات جناح فیما طعموا اذا ما اتقو اوآمنو ا وعملو الصالحات ثم اتقو وآمنو ثم اتقو ا واحسنوا" "جو ایمان لائے اور نیک کام کئے ان پر کوئی گناہ نہیں جو کچھ انہوں نے چکھا جبکہ ڈریں اور ایمان رکھیں اور نیکیاں کریں پھرڈریں اور ایمان رکھیں ، پھر ڈریں اور نیک رہیں"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔ اللہ تعالیٰ نے شراب نوشی سے منع فرمایا ہے ، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: تم نے سچ کہا۔ (پھر دوسرے لوگوں سے مخاطب ہو کرفرمایا) تمہارا کیا خیال ہے؟ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ہمارا یہ خیال ہے کہ بندہ جب شراب پیتا ہے تو اسے نشہ آتا ہے ، اور جب نشہ آتا ہے تو ہذیان بکتا ہے ، اور جب ہذیان(اول فول) بکتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے اور جھوٹ بولنے والے کی سزا 80 کوڑے ہیں۔چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کو 80 کوڑے لگوائے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيِّ ← يَحْيَى بْنُ فُلَيْحٍ أَبُو الْمُغِيرَةِ الْخُزَاعِيُّ، ← سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ عُفَيْرٍ، ← يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَغْدَادِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Boundaries Book › The merits of all Arabs · Hadith 8132

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ قِرَاءَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا لَمْ يُخَرِّجَاهُ وَقَدْ صَحَّ سَنَدُهُ · حديث 2993

2993 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ الزَّاهِدُ، وَأَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ، قَالَا: ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْجُنَيْدِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، وَأَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُحَدِّثُ عَنْ فَتْرَةِ الْوَحْيِ، قَالَ: " فَقُلْتُ: " زَمِّلُونِي فَدَثَّرُونِي، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: {يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ} [المدثر: 2] ، قُمْ فَأَنْذِرْ، وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ، وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ، وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ قَالَ: «هِيَ الْأَوْثَانُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذِهِ اللَّفْظَةِ "

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ وحی کے رک جانے کے متعلق بتا رہے تھے کہ میں نے کہا : مجھے چادر اوڑھا دو تو انہوں نے مجھے کمبل اوڑھا دیا تو اللہ تبارک و تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی ،" یایھا المدثر قم فانذر و ربک فکبر وثیابک فطھر والرجز فاھجر " آپ نے فرمایا " رجز " بت ہیں ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کےمعیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہما نے اسے ان الفاظ کے ہمراہ نقل نہیں کیا ۔

فَتْرَةِ الْوَحْيِ ← جَابِرٍ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ← عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْجُنَيْدِ ← أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ، مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ الزَّاهِدُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › The recitations of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, of what he did not produce, and his chain of narration is correct · Hadith 2993

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْفَاتِحَةِ · حديث 3021

3021 - حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} [الفاتحة: 2] قَالَ: «الْجِنُّ وَالْإِنْسُ» قَالَ الْحَاكِمُ: «لِيَعْلَمَ طَالِبُ هَذَا الْعِلْمِ أَنَّ تَفْسِيرَ الصَّحَابِيِّ الَّذِي شَهِدَ الْوَحْيَ وَالتَّنْزِيلَ عِنْدَ الشَّيْخَيْنِ حَدِيثٌ مُسْنَدٌ»

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالی کی ارشاد " الحمدللہ رب العالمین " ( الفاتحہ :1) کے متعلق فرمایا : ( العالمین سے مراد ) جنات اور انسان ہیں ۔ امام حاکم رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں : تا کہ اس علم کا طالب یہ سمجھ لے کہ جس صحابی نے وحی اور نزول قرآن کا زمانہ پایا ہو اس کی تفسیر شیخین رحمتہ اللہ علیہما کے نزدیک مسند حدیث (کا درجہ رکھتی ) ہے۔

«الْجِنُّ وَالْإِنْسُ» ← ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} [الفاتحة: ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← سُفْيَانَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surah Al-Fatihah · Hadith 3021

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ · حديث 3042

3042 - أَخْبَرَنِي الشَّيْخُ أَبُو بَكْرٍ بْنُ إِسْحَاقُ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ هَارُونَ بْنِ عَنْتَرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " كَانَتْ يَهُودُ خَيْبَرَ تُقَاتِلُ غَطَفَانَ، فَكُلَّمَا الْتَقَوْا هُزِمَتْ يَهُودُ خَيْبَرَ فَعَاذَتِ الْيَهُودُ بِهَذَا الدُّعَاءِ: اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ الَّذِي وَعَدْتَنَا أَنْ تُخْرِجَهُ لَنَا فِي آخِرِ الزَّمَانِ، إِلَّا نَصَرْتَنَا عَلَيْهِمْ. قَالَ: فَكَانُوا إِذَا الْتَقَوْا دَعَوْا بِهَذَا الدُّعَاءِ، فَهَزَمُوا غَطَفَانَ، فَلَمَّا بُعِثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَفَرُوا بِهِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: {وَكَانُوا مِنْ قَبْلُ يَسْتَفْتِحُونَ} [البقرة: 89] بِكَ يَا مُحَمَّدُ عَلَى الْكَافِرِينَ «. . . .» أَدَّتِ الضَّرُورَةُ إِلَى إِخْرَاجِهِ فِي التَّفْسِيرِ وَهُوَ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِهِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3042 - لا ضرورة في ذلك أي لإخراجه فعبد الله متروك هالك

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: خیبر کے یہودیوں کی قبیلہ غطفان کے ساتھ اکژ جنگ رہتی تھی ، لیکن جب بھی خیبر کے یہودی غطفان سے لڑتے تو شکست سے دو چار ہو تے ۔ پھر یہودیوں نے اس دعا کے ذریعے پناہ مانگنا شروع کی " اے اللہ ! ہم تجھ سے امی نبی محمد ﷺ کے واسطے سے پناہ مانگتے ہیں جن کو آخری زمانے میں مبعوث کرنے کا تو نے ہم سے وعدہ کر رکھا ہے ۔ یا اللہ ! تو ان کے خلاف ہماری مدد فرما " تو جب بھی وہ جنگ کرتے یہی دعا مانگتے ( اور اس دعا کی برکت سے ) "غطفان " کو شکست ہوئی لیکن جب نبی اکرم ﷺ کی بعثت ہوئی تو انہی کوگوں نے آپ ﷺ کا انکار کر دیا تو اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی : ﴿ وَكَانُوا مِنْ قَبْلُ يَسْتَفْتِحُونَ عَلَى الَّذِينَ كَفَرُوا (الْكَافِرِين)َ٨٩﴾ [البقرة: 89]" اور اس سے پہلے اسی نبی کے وسیلے سے کافروں پر فتح مانگتے تھے "۔( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ )

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ هَارُونَ بْنِ عَنْتَرَةَ، ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ← الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › From Surat Al-Baqarah · Hadith 3042

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْأَنْعَامِ · حديث 3240

3240 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ يُبَايِعُنِي عَلَى هَذِهِ الْآيَاتِ» ثُمَّ قَرَأَ {قُلْ تَعَالَوْا أَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ} [الأنعام: 151] حَتَّى خَتَمَ الْآيَاتِ الثَّلَاثَ، فَمَنْ وَفَّى فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ، وَمَنِ انْتَقَصَ شَيْئًا أَدْرَكَهُ اللَّهُ بِهَا فِي الدُّنْيَا كَانَتْ عُقُوبَتَهُ، وَمَنْ أَخَّرَ إِلَى الْآخِرَةِ، كَانَ أَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ، إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ وَإِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» إِنَّمَا اتَّفَقَا جَمِيعًا عَلَى حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ، عَنْ عُبَادَةَ «بَايِعُونِي عَلَى أَنْ لَا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا» وَقَدْ رَوَى سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ الْوَاسِطِيُّ كِلَا الْحَدِيثَيْنِ عَنِ الزُّهْرِيِّ فَلَا يَنْبَغِي أَنْ يُنْسَبَ إِلَى الْوَهْمِ فِي أَحَدِ الْحَدِيثَيْنِ إِذَا جَمَعَ بَيْنَهُمَا وَاللَّهُ أَعْلَمُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3240 - صحيح

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: کون شخص ان آیات پر میری بیعت کرے گا۔ پھر آپ نے "﴿قُلْ تَعَالَوْا أَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ١٥١﴾" (الانعام : 151) "(تم فرماؤ ! آؤ میں تمہیں پڑھ سناؤ جو تم پر تمہارے رب نے حرام کیا"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔ اور اس سے آگے مکمل تین آیات پڑھیں (پھر فرمایا) جو شخص (اپنے عہد کو) پورا کرے گا، اس کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے اور جو اس کو توڑے گا تو اگر دنیا میں اس کی پکڑ آ گئی تو یہ اس کی سزا ہو جائے گی اور جس کا معاملہ آخرت تک موخر کر دے گا تو پھر یہ معاملہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہو گا اگر چاہے تو اس کو عذاب دے اور چاہے تو اس کو معاف کر دے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ تاہم امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث نقل کی ہے ( کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا) تم اس بات پر میری بیعت کرو کہ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤ گے ۔ جبکہ سفیان بن حسین نے دونوں حدیثیں بھی زہری سے روایت کی ہیں، اس لئے جب انہوں نے دونوں حدیثوں کو ہی روایت کیا ہے تو یہ مناسب نہیں ہے کہ دونوں حدیثوں میں سے ایک کے متعلق ان کی طرف کوئی غلطی منسوب کی جائے۔

عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← أَبِي إِدْرِيسَ، ← الزُّهْرِيِّ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ الْوَاسِطِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat al-An'am · Hadith 3240

chevron_left Previous
1…161718…305
Next chevron_right