Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

القرآن الكريم

Quran

6097 hadiths

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْفِدَاءِ وَفَكِّ الْأَسْرَى · حديث 4859

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: أَسَرَتْ ثَقِيفٌ رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَسَرَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ، فَمَرَّ بِهِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُوثَقٌ، فَنَادَاهُ يَا مُحَمَّدُ يَا مُحَمَّدُ فَأَقْبَلَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «عَلَامَ أُحْبَسُ؟ »، فَقَالَ بِجَرِيرَةِ حُلَفَائِكَ، ثُمَّ مَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَادَاهُ، فَأَقْبَلَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ الْأَسِيرُ إِنِّي مُسْلِمٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ قُلْتَهَا، وَأَنْتَ تَمْلِكُ أَمْرَكَ، أَفْلَحْتَ كُلَّ الْفَلَاحِ»، ثُمَّ مَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَادَاهُ أَيْضًا، فَأَقْبَلَ إِلَيْهِ فَقَالَ إِنِّي جَائِعٌ فَأَطْعِمْنِي، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ حَاجَتُكَ، ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَاهُ بِالرَّجُلَيْنِ اللَّذَيْنِ [ص:199] كَانَتْ ثَقِيفٌ أَسَرَتْهُمَا. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «قَوْلُ الْأَسِيرِ إِنِّي مُسْلِمٌ وَتَرْكُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ مِنْهُ، كَانَ لِأَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَلِمَ مِنْهُ بِإِعْلَامِ اللَّهِ جَلَّ وَعَزَّ إِيَّاهُ، أَنَّهُ كَاذِبٌ فِي قَوْلِهِ، فَلَمْ يَقْبَلْ ذَلِكَ مِنْهُ فِي أَسْرِهِ، كَمَا كَانَ يَقْبَلُ مِثْلَهُ مِنْ مِثْلِهِ، إِذَا لَمْ يَكُنْ أَسِيرًا، فَأَمَّا الْيَوْمُ فَقَدِ انْقَطَعَ الْوَحْيُ، فَإِذَا قَالَ الْحَرْبِيُّ إِنِّي مُسْلِمٌ قَبْلَ ذَلِكَ مِنْهُ، وَرُفِعَ عَنْهُ السَّيْفَ سَوَاءٌ كَانَ أَسِيرًا أَوْ مُحَارِبًا»

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ثقیف قبیلے سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے نبی اکرمﷺ کے دو اصحاب کو قید کر دیا۔ نبی اکرم ﷺ کے اصحاب نے بنوعامر بن صعصعہ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو قید کر دیا۔ نبی اکرم ﷺ اس کے پاس سے گزرے وہ بندھا ہوا تھا اس نے آپ ﷺ کو مخاطب کیا: اے حضرت محمدﷺ، اے حضرت محمد ﷺ! نبی اکرم ﷺ اس کی طرف متوجہ ہو گئے اس نے دریافت کیا مجھے کیوں قید کیا گیا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشادفرمایا: تمہارے حلیفوں کی زیادتی کی وجہ سے۔ نبی اکرم ﷺ آگے تشریف لے گئے، تو اس نے پھر آپﷺ کو بلایا۔ نبی اکرم ﷺ اس کی طرف متوجہ ہوئے اس قیدی نے آپﷺ کی خدمت میں گزارش کی : میں مسلمان ہوتا ہوں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اگ تم یہ بات کہتے ہو، تو تم اپنے معاملے کے مالک ہو گے اور تم مکمل طور پر کامیابی حاصل کر لو گے۔ پھر نبی اکرم ﷺ آگے تشریف لے گئے، تو اس نے پھر آپﷺ کو بلایا۔ نبی اکرم ﷺ اس کی طرف متوجہ ہوئے وہ بولا: میں بھوکا ہوں مجھے کچھ کھانے کے لیے دیجئے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: یہ تمہاری ضرورت کا سامان ہے۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے اسے ان دوآدمیوں کے فدیے کے طور پر ادا کیا جسے ثقیف قبیلے کے لوگوں نے قید کیا تھا۔ (امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) اس قیدی کا یہ کہنا کہ میں مسلمان ہوں اور نبی اکرمﷺ کا اس کی بات پر کوئی توجہ نہ دینا اس کی وجہ یہ ہے: نبی اکرم ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس بات کی اطلاع مل گئی تھی کہ وہ شخص اپنے اس بیان میں جھوٹا ہے اس لیے نبی اکرمﷺ نے اس کی قید کے دوران اس سے اعتراف کو قبول نہیں کیا جس طرح کا اعتراف آپﷺ اس طرح کی صورت حال میں قبول کر لیتے تھے جب کہ وہ آدمی قیدی نہ ہوتا۔ جہاں تک آپﷺ کے دن کا تعلق ہے، تو وحی کا سلسلہ منقطع ہو گیا جب کوئی حربی شخص یہ کہے: میں مسلمان ہوں، تو اس سے اس بات کو قبول کیا جائے گا اور اس سے تلوار کو اٹھا لیا جائے گا خواہ وہ شخص قیدی ہو ، یا جنگجو ہو۔

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← أَبِي الْمُهَلَّبِ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › The door of redemption and the release of prisoners · Hadith 4859

صیح ابن حبان · بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ ‹ بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ · حديث 7327

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَاتِ يَوْمًا عَلَى الْمِنْبَرِ: {وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ}، وَرَسُولُ اللَّهِ يَقُولُ: «هَكَذَا بِإِصْبَعِهِ يُحَرِّكُهَا يُمَجِّدُ الرَّبَّ جَلَّ وَعَلَا نَفْسَهُ، أَنَا الْجَبَّارُ، أَنَا الْمُتَكَبِّرُ، أَنَا الْمَلِكُ، أَنَا الْعَزِيزُ، أَنَا الْكَرِيمُ»، فَرَجَفَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِنْبَرُ، حَتَّى قُلْنَا: لَيَخِرَّنَّ بِهِ.

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن منبر پر یہ آیت تلاوت کی۔ "ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی اس طرح سے قدر نہیں کی جو اس کی قدر کا حق تھا، اور تمام زمین قیامت کے دن اس کے قبضہ قدرت میں ہوگی، اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے"۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس طرح آپ نے اپنی انگلی کو حرکت دی کہ پروردگار اپنی ذات کی بزرگی بیان کرتے ہوئے فرمائے گا۔" میں زبردست ہوں میں بڑائی والا ہوں میں بادشاہ ہوں میں غالب ہوں میں معزز ہوں"۔

ابْنِ عُمَرَ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Sahih Ibn Hibban · Chapter News on the Resurrection › Chapter News on the Resurrection · Hadith 7327

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ المَسحِ عَلَی الخُفَّینِ · حديث 204

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، نَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ (1)، نَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: إِنَّكُمْ تَعُدُّونَ الْآيَاتِ عَذَابًا، وَإِنَّا كُنَّا نَعُدُّهَا بَرَكَةً عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. قَدْ كُنَّا نَأْكُلُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَحْنُ نَسْمَعُ تَسْبِيحَ الطَّعَامِ. قَالَ: وَأُتِيَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِإِنَاءٍ، فَوَضَعَ يَدَهُ فِيهِ فَجَعَلَ الْمَاءُ يَنْبُعُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "حَيَّ عَلَى الطَّهُورِ الْمُبَارَكِ، وَالْبَرَكَةُ مِنَ اللَّهِ". حَتَّى تَوَضَّأْنَا كُلُّنَا.

"حضرت عبد اللہ ؓ فرماتے ہیں:"بے شک تم آپات (معجزات اور نشانیوں) کو عذاب شمار کرتے ہو، اور ہم انہیں رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں برکت شمار کرتے تھے۔ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کھانا کھایا کرتے تھے اور کھانے کی تسبیح سنا کرتے تھے۔فرمایا:نبی اکرم ﷺ کے پاس پانی کا برتن لایا کیا، آپ نے اپنا ہاتھ مبارک اس میں رکھا تو آپ لی انگلیوں کے درمیان سے پانی پھوٹنے لگا، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:’’مبارک پانی کی طرف آؤ اور برکت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔‘‘ حتی کہ ہم سب نے وضو کر لیا۔‘‘

عَبْدُ اللَّهِ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← اِسْرَائِیْلُ ← أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › The sack gate intercourse on the socks · Hadith 204

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ التَّیَمُّمِ عِندَا الاِعوَازِ مِنَ ءِ فِی السَّفَرِ · حديث 263

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ الْقُرَشِيُّ، نَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ أَبِي مَالِكٍ -وَهُوَ سَعْدُ (1) بْنُ طَارِقٍ الْأَشْجَعِيُّ-، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "فُضِّلَتْ هَذِهِ الْأُمَّةُ عَلَى النَّاسِ بِثَلَاثٍ: جُعِلَتْ لَنَا الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا، وَجُعِلَتْ صُفُوفُنَا كَصُفُوفِ الْمَلَائِكَةِ، وَأُعْطِيتُ هَذِهِ الْآيَاتِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ، مِنْ بَيْتِ كَنْزٍ تَحْتَ الْعَرْشِ لَمْ يُعْطَ مِنْهُ أَحَدٌ قَبْلِي وَلَا أَحَدٌ بَعْدِي".

لوگوں پر تین چیزوں سے فضیلت دی گئی ہے ۔ ہمارے لیے زمین کو مسجد اور پاک کرنے والی بنا دیا گیا ہے ۔ ہماری صفیں فرشتوں کی صفوں کی طرح بنا دی گئی ہے ۔ اور مجھے سورہ بقرہ کی یہ آخری آیات عرش کے نیچے خزانے کے گھر سے عطا کی گئی ہیں ۔ اس سے مجھ سے پہلے کسی کو کچھ دیا گیا ہے نہ میرے بعد کسی کو دیا جائے گا۔"

حُذَيْفَةَ ← رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ← أَبِي مَالِكٍ -وَهُوَ سَعْدُ بْنُ طَارِقٍ الْأَشْجَعِيُّ-، ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ الْقُرَشِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling · Hadith 263

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ التَّیَمُّمِ عِندَا الاِعوَازِ مِنَ ءِ فِی السَّفَرِ · حديث 264

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، نَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "فُضِّلْنَا عَلَى النَّاسِ بِثَلَاثٍ؛ جُعِلَتْ لَنَا الْأَرْضُ كُلُّهَا مَسْجِدًا، وَجُعِلَ تُرَابُهَا لَنَا طَهُورًا إِذَا لَمْ نَجِدِ الْمَاءَ، وَجُعِلَتْ صُفُوفُنَا كَصُفُوفِ الْمَلَائِكَةِ، وَأُوتِيتُ هَؤُلَاءِ الْآيَاتِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ مِنْ بَيْتِ كَنْزٍ تَحْتَ الْعَرْشِ لَمْ يُعْطَ مِنْهُ أَحَدٌ قَبْلِي، وَلَا أَحَدٌ بَعْدِي".

"حضرت حذیفہ بن یمان ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:ہمہں لوگوں پر تین چیزوں سے فضیلت دی گئی ہے:ہمارے لیے پوری زمین مسجد بنائی گئی ہے، جب ہمیں پانی نہ ملے تو اس کی مٹی ہمارے لیے پاک کرنے الی بنائی گئی ہے اور ہماری صفیں فرشتوں کی صفوں کی مانند بنائی گئی ہیں اور سورہ بقرہ کے آخر سے یہ آیات مجھے عرش تلے کےخزانے کے گھر سے عطا کی گئی ہیں۔اس میں سے مجھ سے پہلے کوئی (نبی )دیا گیا ہے نہ میرے بعد کسی کو دیا جاۓ گا۔"

حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ ← رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ← أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ← ابْنُ فُضَيْلٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling · Hadith 264

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الکَلَامِ المُبَاحِ فِی الصَّلاَۃِ وَالدُّعَاءِ وَالذِّکرِ، وَمَساَلَۃِ الرَّبِّ عَذَّوَجَلَّ وَمَا یُضَاھِی ھٰذَا وَیُقَارِبُہُ · حديث 859

وَأَخْبَرَنَا الشَّيْخُ الْفَقِيهُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ الْمُسْلِمِ السُّلَمِيُّ بِدِمِشْقَ، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَحْمَدَ، أَنَا أَبُو عُثْمَانَ الصَّابُونِيُّ، قَالَ: أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بُنْدَارٌ، نَا يَحْيَى، ثَنَا الْحَجَّاجُ -وَهُوَ الصَّوَّافُ- عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ [98 - ب] ح وَحَدَّثَنَا أَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، نَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، حَدَّثَنِي الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ؛ ح وَثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ (1)، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنِي الْحَجَّاجُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ؛ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَيْمُونٍ، ثَنَا الْوَلِيدُ -يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ- عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى؛ وَثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، أَخْبَرَنَا بِشْرٌ -يَعْنِي ابْنَ بَكْرٍ- عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ، ثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ الْحَكَمِ السُّلَمِيُّ؛ ح وَثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، ثَنَاهُ بِشْرٌ -يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ الْحَلَبِيَّ- عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي هِلَالُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ (2)، حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ الْحَكَمِ السُّلَمِيُّ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّا كُنَّا حَدِيثَ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ فَجَاءَ اللَّهُ بِالْإِسْلَامِ، وَإِنَّ رِجَالًا مِنَّا يَتَطَيَّرُونَ. قَالَ: "ذَلِكَ شَيْءٌ يَجِدُونَهُ فِي صُدُورِهِمْ، فَلَا يَصُدَّنَّهُمْ". قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! رِجَالٌ يَأْتُونَ الْكَهَنَةَ. قَالَ: "فَلَا تَأْتُوهُمْ" (1). قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! رِجَالٌ مِنَّا يَخُطُّونَ. قَالَ: "كَانَ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ يَخُطُّ فَمَنْ وَافَقَ خَطَّهُ فَذَاكَ". قَالَ: وَبَيَّنَا أَنَا أُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ عَطَسَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ، فَقُلْتُ لَهُ: يَرْحَمُكُ اللَّهُ. فَحَدَّقَنِي الْقَوْمُ بِأَبْصَارِهِمْ، فَقُلْتُ: وَاثُكْلَ أُمِّيَاهُ، مَا لَكُمْ تَنْظُرُونَ إِلَيَّ. قَالَ: فَضَرَبَ الْقَوْمُ بِأَيْدِيهِمْ عَلَى أَفْخَاذِهِمْ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ [يُصَمِّتُونَنِي] لَكِنِّي سَكَتُّ. فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَانِي، فَبِأَبِي هُوَ وَأُمِّي مَا رَأَيْتُ مُعَلِّمًا قَطُّ قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ أَحْسَنَ تَعْلِيمًا مِنْهُ، وَاللَّهِ مَا ضَرَبَنِي، وَلَا كَهَرَنِي، وَلَا شَتَمَنِي، وَلَكِنْ قَالَ: "إِنَّ صَلَاتَنَا هَذِهِ لَا يَصْلُحُ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ كَلَامِ النَّاسِ، إِنَّمَا هِيَ التَّكْبِيرُ، وَالتَّسْبِيحُ، وَتِلَاوَةُ الْقُرْآنِ". هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ مَيْسَرَةَ. قَالَ بُنْدَارٌ: بَيْنَمَا أَنَا أُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهَكَذَا قَالَ الْبَاقُونَ. وَقَالَ بُنْدَارٌ: فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ يُصَمِّتُونِي لَكِنِّي سَكَتُّ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: خَرَّجْتُ فِي "التَّصْنِيفِ" حَدِيثَ الْبَاقِينَ فِي عَقِبِ حَدِيثِ بُنْدَارٍ بِمِثْلِهِ، وَلَمْ أُخَرِّجْ أَلْفَاظَهُمْ".

حضرت معاویہ بن حکم سلمی ؓ بیان کرتے ہیں میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم نئے نئے جاہلیت سے نکلے ہیں ، پھر اللہ تعالیٰ اسلام کی نعمت لے آئے ، بے شک ہم میں کچھ لوگ بد شگونی لیتے ہیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : یہ وہ چیز ہے جسے وہ اپنے دلوں میں پاتے ہیں تو یہ ان کو ( ان کے کاموں سے ) ہرگز نہ روکے۔ انہوں نے عرض کی : اللہ کے رسول ﷺ! کچھ لوگ کاہنوں کے پاس چلے جاتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا ؛ تم ان کے پاس مت جاو۔ وہ کہنے لگے : اے اللہ کے رسول ! ہم میں سے کچھ لوگ لکیریں لگاتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : انبیائے کرام میں سے ایک نبی لکیریں لگاتے تھے جس کی لکیریں ان کی لکیروں کے موافق ہو جائیں تو وہ درست ہے ( اس میں کوئی حرج نہیں ) حضرت معاویہ فرماتے ہیں : اس اثنا میں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا کہ لوگوں میں سے ایک شخص نے چھینک ماری ، تو میں نے اسے کہا : یر حمک اللہ ( اللہ تجھ پر رحم فرمائے) ۔ تو لوگوں نے مجھے گھورنا شروع کر دیا ۔ تو میں نے کہا : ہائے میری ماں مجھے روئے( یعنی میں مر جاوں ) تم مجھے اس طرح کیوں دیکھ رہے ہو؟ تو لوگوں نے اپنی رانوں پر ہاتھ مارنے شروع کر دیے، تو جب میں نے دیکھا کہ وہ مجھے خاموش کرا رہے ہیں تو میں خاموش ہو گیا۔ جب رسول اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو مجھے بلایا۔ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، میں نے آپ سے اور آپ کے بعد آپ سے بہتر تعلیم دینے والا معلم نہیں دیکھا ۔ اللہ کی قسم ! آپ نے نہ مجھے مارا ، نہ جھڑکا ، نہ برا بھلا کہا، آپ نے فرمایا: " بے شک ہماری اس نماز میں لوگوں کی بات چیت درست نہیں ہے ۔ بلکہ یہ تو تکبیر ، تسبیح اور قرآن مجید کی تلاوت کرنے کانام ہے۔" یہ میسرہ کہ حدیث کے الفاظ ہیں ۔ جناب بندار کی روایت کے یہ الفاظ ہیں : " اس دوران میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا ۔" اسی طرح دیگر راویوں نے بیان کیا ہے اور بندار کہتے ہیں : " پھر جب میں نے انہں دیکھا کہ وہ مجھے خاموش کرا رہے ہیں تو میں خا موش ہو گیا ۔" امام ابو بکر فرماتے ہیں : " میں نے " التصنیف الکبیر " میں باقی راویوں کی حدیث بھی بندار کی روایت کے مثل بیان کر دی ہے مگر میں نے ان کے الفاظ بیان نہیں کیے۔

قُلْتُ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ الْحَكَمِ السُّلَمِيُّ ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← هِلَالُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← وَثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، ثَنَاهُ بِشْرٌ -يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ الْحَلَبِيَّ- ← مُعَاوِيَةُ بْنُ الْحَكَمِ السُّلَمِيُّ ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← هِلَالُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ ← يَحْيَى ← الْاَوْزَاعِیُّ ← بِشْرٌ -يَعْنِي ابْنَ بَكْرٍ- ← يَحْيَى؛ وَثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِيدُ -يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ-، ← وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَيْمُونٍ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْحَجَّاجِ، ← إِسْمَاعِيلُ ← وَثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْحَجَّاجُ بْنُ أَبَى عُثْمَانَ ← إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، ← وَحَدَّثَنَا أَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ب] ← الْحَجَّاجُ -وَهُوَ الصَّوَّافُ- ← يَحْيَى ← بُنْدَارٌ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ، ← أَبُو عُثْمَانَ الصَّابُونِيُّ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَحْمَدَ، ← وَأَخْبَرَنَا الشَّيْخُ الْفَقِيهُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ الْمُسْلِمِ السُّلَمِيُّ بِدِمِشْقَ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance · Hadith 859

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ اکُسُوفِ · حديث 1371

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ، ثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدٍ -يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ- عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ فِي زَمَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ فَزِعًا يَخْشَى أَنْ تَكُونَ السَّاعَةُ، فَقَامَ، حَتَّى أَتَى الْمَسْجِدَ، فَقَامَ يُصَلِّي أَطْوَلَ قِيَامٍ وَرُكُوعٍ وَسُجُودٍ رَأَيْتُهُ يَفْعَلُهُ فِي صَلَاةٍ قَطُّ، ثُمَّ قَالَ: "إِنَّ هَذِهِ الْآيَاتِ الَّتِي يُرْسِلُ اللَّهُ لَا تَكُونُ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، وَلَكِنَّ اللَّهَ يُرْسِلُهَا، يُخَوِّفُ بِهَا عِبَادَهُ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْهَا شَيْئًا فَافْزَعُوا إِلَى ذِكْرِهِ وَدُعَائِهِ وَاسْتِغْفَارِهِ".

حضرت ابو موسیٰ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ مبارک میں سورج گرہن لگا تو آپ گھبراہٹ اور پریشانی کے عالم میں اٹھ کھڑے ہوئے ، اس ڈر سے کہ کہیں یہ قیامت ہی نہ ہو ۔ آپ اٹھ کر مسجد میں تشریف لے آئے آپ نے کھڑے ہو کر نہایت طویل قیام ، رکوع اور سجدوں کے ساتھ نماز پڑھنی شروع کر دیں ۔ میں نے آپ کو ایسی طویل ترین نماز پڑھتے کبھی نہیں دیکھا ۔ پھر (نماز کے بعد) آپ نے فرمایا : بلا شبہ یہ نشایناں جنہیں اللہ تعالی بھیجتا ہے یہ کسی شخص کی موت یا زند گی کی وجہ سے وقوع پذیر نہیں ہوتیں ۔ بلکہ اللہ تعالی انہیں بھیج کر اپنے بندوں کو ڈراتا ہے ۔لہذا جب تم ان میں سے کوئی چیز دیکھو تو اللہ تعالی کے ذکر، اس سے دعا و التجا اور اس سے اپنے گناہوں کی بخشش طلب کرنے کی طرف جلدی کرو۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← بُرَيْدٍ -يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ- ← أَبُو أُسَامَةَ ← مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Collections of the gates of an eclipse prayer · Hadith 1371

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابِ الاِمَامَۃِ فِی الصَّلاَۃِ وَمَا فِیھَا مِنَ السُّنَنِ مُختَصَرٌ مِن کِتَابِ المُسنَدِ · حديث 1509

أنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَينُ بْنُ حُرَيْثٍ (1)، نَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عَطَاءٍ مَوْلَى أَبِي أَحْمَدَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْثًا وَهُمْ نَفَرٌ، فَدَعَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، قَالَ: "مَاذَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ"؟ فَاسْتَقْرَأَهُمْ، حَتَّى مَرَّ عَلَى رَجُلٍ مِنْهُمْ وَهُوَ مِنْ أَحْدَثِهِمْ سِنًّا، قَالَ: "مَاذَا مَعَكَ يَا فُلَانُ؟ " قَالَ: مَعِي كَذَا وَكَذَا، وَسُورَةُ الْبَقَرَةِ. قَالَ: "مَعَكَ سُورَةُ الْبَقَرَةِ؟ " قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: "اذْهَبْ فَأَنْتَ أَمِيرُهُمْ". فَقَالَ رَجُلٌ -هُوَ مِنْ أَشْرَفِهِمْ- وَالَّذِي كَذَا وَكَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا مَنَعَنِي أَنْ أَتَعَلَّمَ الْقُرْآنَ إِلَّا خَشْيَةَ أَنْ لَا أَقُومَ بِهِ. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "تَعَلَّمِ الْقُرْآنَ، فَاقْرَأْهُ وَارْقُدْ، فَإِنَّ مَثَلَ الْقُرْآنِ لِمَنْ تَعَلَّمَهُ فَقَرَأَهُ، وَقَامَ (2) بِهِ كَمَثَلِ جِرَابٍ مَحْشُوٍّ مِسْكًا يَفُوحُ رِيحُهُ (3) عَلَى كُلِّ مَكَانٍ، وَمَنْ تَعَلَّمَهُ وَرَقَدَ وَهُوَ فِي جَوْفِهِ كَمَثَلِ جِرَابٍ أُوكِئَ عَلَى مِسْكٍ".

"حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ایک لشکر روانہ کرنا چاہا جبکہ وہ چند افراد پر مشتمل تھا۔رسول اللہﷺ نے انہیں بلایا اور پوچھا: تمہیں کتنا قرآن یاد ہے؟ پھر آپ نے ان سے قرآن سنا،حتی کہ جب آپ ان میں سے ایک کم سن شخص کے پاس پہنچے تو اس سے پوچھا:اے فلاں! تمہیں کون کون سی سورتیں یاد ہیں؟ اس نے جواب دیا کہ مجھے فلاں فلاں سورت اور سورۂ بقرہ یادہے۔آپ نے پوچھا : تمہیں سورۂ بقرہ بھی یاد ہے؟ اس نے جواب دیا: جی ہاں! اس پر آپ نے فرمایا: جاؤ تم ان کے امیر ہو۔ایک شخص جو اُن میں شرف و منزلت والا تھا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس ذات کی قسم! جس کی صفات اس اس طرح ہیں، میں نے قرآن مجید صرف اس ڈر کی وجہ سے نہیں سیکھا کہ میں اس پر عمل نہیں کر سکوں گا (اسے نماز تہجد میں پڑھ نہیں سکوں گا)۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:" قرآن مجید سیکھو، اسے پڑھو اور سو بھی جایاکرو۔بے شک قرآن مجید کی مثال اس شخص کے لیے جو اسے سیکھتا ہے،اسے پڑھتاہے اور نماز تہجد میں اس کی تلاوت کرتاہے، اس تھیلے جیسی ہے جس میں کستوری بھری ہواور اس کی خوشبو ہر جگہ مہک رہی ہو اور اسے اپنے سینے میں محفوظ کر کے سویا رہا (نمازتہجد میں اسے تلاوت نہ کیا) تو اس کی مثال اس تھیلے جیسی ہے جس کی کستوری کو تسمے سے بند کر دیا گیا ہو(لہذا س کی مہک بکھرتی نہیں)۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَطَاءٍ، مَوْلَى أَبِي أَحْمَدَ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی ← أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad · Hadith 1509

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2670

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، حَدَّثَنِي صَفْوَانُ بْنُ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ؛ أَنَّ يَعْلَى بْنَ أُمَيَّةَ قَالَ لِعُمَرَ: لَيْتَ أَنِّي أَرَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ يَتَنَزَّلُ عَلَيْهِ، فَلَمَّا كَانَ بِالْجِعْرَانَةِ وَعَلَيْهِ ثَوْبٌ قَدْ ظُلِّلَ عَلَيْهِ، مَعَهُ فِيهِ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، قَالَ: فَجَاءَهُ رَجُلٌ قَدْ تَضَمَّخَ بِطِيبٍ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَيْفَ تَرَى فِي رَجُلٍ أَحْرَمَ فِي جُبَّةٍ بَعْدَمَا تَضَمَّخَ بِطِيبٍ؟ قَالَ: فَنَظَرَ إِلَيْهِ سَاعَةً، ثُمَّ أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ، فَأَرْسَلَ عُمَرُ إِلَى يَعْلَى أَنْ تَعَالَ، فَجَاءَهُ، فَأَدْخَلَ رَأْسَهُ، فَإِذَا مُحْمَرٌّ وَجْهُهُ كَذَلِكَ سَاعَةً، ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ، ثُمَّ قَالَ: "أَيْنَ الَّذِي يَسْأَلُنِي عَنِ الْعُمْرَةِ آنِفًا؟ فَالْتُمِسَ الرَّجُلُ، فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَقَالَ: "أَمَّا الطِّيبُ الَّذِي بِكَ فَاغْسِلْهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَأَمَّا الْجُبَّةُ فَانْزَعْهَا ثُمَّ اصْنَعْ فِي عُمْرَتِكَ مَا تَصْنَعُ فِي حَجَّتِكَ".

۔۔ حضرت صفوان بن یعلی بن امیہ سے روایت ہے کہ حضرت یعلی بن امیہ ؓ نے حضرت عمرؓ سے اپنی خواہش کا اظہا ر کیا کہ کاش میں نبی کریم ﷺ کو اس حالت میں دیکھ سکوں جب آپ پر وحی نازل ہو رہی ہو ۔پھر اتفاق سے جب آپ جعرانہ مقام پر تھے اور آپ پر ایک کپڑے سے سایہ کیا ہو ا تھا۔اس سایہ کے نیچے آپ کے کچھ صحابہ کرام بھی تھے ۔اسی اثناء میں ایک شخص آپ کے پا س اس حالت میں آیا کہ وہ خوشبو میں لتھڑا ہوا تھا ۔اس نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول اللہ ﷺ!اس شخص کے بارے میں آپ کا کیا حکم ہے جس نے خوشبو میں لت پت ہونے کے بعد ایک جبے میں احرام باندھ لیا ہو ؟آپ نےکچھ دیر اس کی طرف دیکھا ،پھر آپ پر وہی نازل ہونا شروع ہو گئی ۔تو حضرت عمر نے حضرت یعلی ؓ کو پیغام بھیجا کہ آجاؤ (اور اپنی خواہش پوری کر لو ) لہذ ا وہ آ گئے اور اپنا سر اس سائبان میں داخل کر دیا ۔اچانک انہوں نے دیکھا کہ نبی اکرم ﷺ کا چہرہ مبارک سرخ ہے ، کچھ دیر یہی کیفیت رہی پھر وحی پوری ہونے کے بعد یہ کیفیت ختم ہوئی ۔پھر آپ نے فرمایا : جس شخص نے ابھی ابھی مجھ سے عمرے کے متعلق پوچھا تھا وہ کہاں ہے ؟اس شخص کو تلاش کرکے حاضر کیا گیا تو نبی کریم ﷺ نے اسے حکم دیا کہ " اپنے جسم پر لگی خوشبو کو تین بار دھو ڈالو اور جبہ اتا ر دو ( دوسری دو چادریں پہن لو ) پھر اپنے عمرے میں وہی اعمال کرو جو تم اپنے حج میں کرتے ہو۔ "

صَفْوَانُ بْنُ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ؛ أَنَّ يَعْلَى بْنَ أُمَيَّةَ ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2670

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2011

حدثنا محمد بن بشار حدثنا عبد الوهاب حدثنا أيوب عن عكرمة عن خالد عن أبي بكر بن عبد الرحمن قال : إني لأعلم الناس بهذا الحديث بلغ مروان أن أبا هريرة يحدث عن رسول الله صلى الله عليه و سلم و حدثنا بندار حدثنا يحيى عن ابن جريح حدثني عبد الملك بن أبي بكر عن أبيه أنه سمع أبا هريرة يقول : من أصبح جنبا فلا يصوم قال : فانطلق أبو بكر و أبوه عبد الرحمن حتى دخل على أم سلمة و عائشة و كلاهما قالت : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يصبح جنبا ثم يصوم فانطلق أبو بكر و أبوه حتى أتيا مروان فحدثاه فقال : عزمت عليكما لما انطلقتما إلى أبي هريرة فحدثاه فقال : أهما قالتا لكما ؟ قالا : نعم قال هما أعلم إنما أنبأنيه الفضل قال أبو بكر : قال أبو هريرة أحال الخبر على مليء صادق بار في خبره إلا أن الخبر منسوخ لا أنه و هم لا غلط و ذلك أن الله تبارك و تعالى عند ابتداء فرض الصوم على أمة محمد صلى الله عليه و سلم كان حظر عليهم الأكل و الشرب في ليل الصوم بعد النوم كذلك الجماع فيشبه أن يكون خبر الفضل بن العباس : من أصبح و هو جنب فلا يصوم في ذلك الوقت قبل أن يبيح الله الجماع إلى طلوع الفجر فلما أباح الله تعالى الجماع إلى طلوع الفجر كان للجنب إذا أصبح قبل أن يغتسل أن يصوم ذلك اليوم إذ الله عز وجل لما أباح الجماع إلى طلوع الفجر كان العلم محيطا بأن المجامع قبل طلوع الفجر يطرقه فاعلا ما قد أباحه الله له في نص تنزيله و لا سبيل لمن هذا فعله إلى الإغتسال إلا بعد طلوع الفجر و لو كان إذا أدركه الصبح قبل أن يغتسل لم يجز له الصوم كان الجماع قبل طلوع الفجر بأقل وقت يمكن الإغتسال فيه محظورا غير مباح و في إباحة الله عز و جل الجماع في جماع الليل بعدما كان محظورا بعد النوم بان وثبت أن الجنابة الباقية بعد طلوع الفجر بجماع في الليل مباح لا يمنع الصوم فخبر عائشة و أم سلمة رضي الله عنهما في صوم النبي صلى الله عليه و سلم بعد ما كان يدركه الصبح جنبا ناسخ لخبر الفضل بن عباس لأن هذا الفعل من النبي صلى الله عليه و سلم يشبه أن يكون بعد نزول إباحة الجماع إلى طلوع الفجر فاسمع الآن خبرا عن كاتب الوحي للنبي صلى الله عليه و سلم بصحة ما تأولت خبر الفضل بن عباس رحمه الله

"جناب ابوبکر بن عبدالرحمٰن بیان کرتے ہیں :"بے شک میں اس روایت کو سب لوگوں سے زیادہ جانتا ہوں ۔ مروان کو یہ بات پہنچی کہ حضرت ابوہریرہؓ رسول اللہﷺ سے یہ بیان کرتے ہیں ۔ جناب ابوبکر بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوہریرہ ؓ کو بیان کرتے ہوئے سنا: "جس شخص نے جنابت کی حالت میں صبح کی تو اس کا روزہ نہیں ہے۔"(وہ روزہ نہیں رکھا سکتا ) چنانچہ ابوبکر کی رو اس ابوبکر اور ان کے والد حضرت ام سلمہ اور حضرت عائشہ ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے ( اور مسئلہ پچوچھا تو ) دونوں نے فرمایا:"رسول اللہﷺ جناب کی حالت میں صبح کرتے تھے ( پھر روزہ رکھ لیتے تھے ) پھر ابوبکر اور ان کے والد مروان کے پاس آئے اور انہیں صورت حال بیان کی تو اس نے کہا: میں تمہیں پختہ حکم دیتا ہوں کہ تم دونوں حضرت ابوہریرہؓ کے پاس جاؤاور انہیں یہ صورت حال بتاؤ۔ (وہ گئے اور اصل واقعہ بیان کیا ) تو حضرت ابوہریرہؓ نے فرمایا: کیا دونوں امہات المومنین نے یہ بات فرمائی ہے؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ۔ حضرت ابوہریرہ نے فرمایا: وہ دنووں بہتر جانتی ہیں مجھے تو حضرت فضل نے یہ حدیث سنائی تھی ۔ ( کہ جنابت کی حالت میں صبح ہو جائے تو پھر روزہ نہیں رکھا جاسکتا ) امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں: " حضرت ابوہریرہؓ نے روایت کا حوالہ ایک معزز اور سچے شخص کی طرف کیا جو اپنی روایت کے بیان میں صادق ہے ( یعنی حضرت فضل ؓ )مگر یہ روایت منسوخ ہوچکی ہے ۔ یہ بات نہیں کہ انہیں وہم ہوا ہے کیا انہیں روایت بیان کرنے میں غلطی لگی ہے ۔ وہ اس طرح کہ جب اللہ تعالیٰ نے ابتداء میں امت محمد ﷺپر روزے فرض کیے تو ان کےلیے روزے کی رات سونے کے بعد کھانا ، پینا اور جماع کرنا ممنوع تھا ۔ لہٰذا یہ ممکن ہے کہ حضرت فضل بن عباسؓ کی اس روایت "جس شخص نے جنابت کی حالت میں صبح کر لی تو وہ روزہ نہ رکھے" کا تعلق اس وقت سے ہو جبکہ ابھی اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کےلیے طلوع فجر تک جماع کرنے کی اجازت نہیں دی تھی ۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے طلوع فجر تک جماع کرنے کی اجازت دے دی تو جنبی شخص کو اجازت مل گئی کہ اگر وہ حالت جنابت میں صبح کرے تو وہ اس دن کا روزہ رکھ لے ۔ کیونکہ جب اللہ تعالیٰ نے طلوع فجر تک جماع کرنے کی اجازت دے دی تو پھر یہ یقینی بات ہے کہ طلوع فجر سے چند لمحے پہلے مجامعت کرنے والے شخص نے ایک جائز کام کیا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب کی نص میں جائز قرار دیا ہے ۔ اور جو شخص یہ کام ( طلوع فجر سے کچھ پہلے جماع ) کرے تو وہ طلوع فجر کے بعد ہی غسل کر سکے گا ۔ اور اگر بات یہ ہوتی کہ غسل کرنے سے پہلے صبح ہو جانے کی صورت میں ا سکےلیے روزہ جائز نہ ہوتا پھر طلوع فجر سے پہلے اس کم سے کم وقت میں جس میں غسل کرنا ممکن ہےھ ، اس میں جماع کرنا منع ہوتا اور جائز نہ ہوتا ۔ اللہ تعالیٰ کے ساری رات میں جماع کرنے کی اجازت دینے میں جبکہ شروع میں سو جانے کے بعد جماع کرنا ممنوع تھا ، اس بات کا ثبوت اور وضاحت ہے کہ رات کے وقت جماع کرنے سے طلوع فجر کے وقت باقی رہنے والی جنابت روزہ رکھنے میں رکاوٹ نہیں ہے ۔ اس طرح حضرت عائشہ اور ام سلمہؓ کی یہ حدیث کہ نبی کریمﷺ جنابت کی حالت میں صبح کرنے کے بعد روزہ رکھ لیتے تھے ، یہ حضرت فضل بن عباسؓ کی حدیث کے لیے ناسخ ہے ۔ کیونکہ نبی کریمﷺکا یہ فعل اس بات کے زیادہ مشابہ ہے کہ یہ طلوع فجر تک جماع کرنے کی اباحت و اجازت کے بعد کا ہوگا ۔ میں نے حضرت فضل بن عباسؓ کی روایت کی جو تاویل کی ہے اس کے صحیح ہونے کی دلیل نبی کریمﷺ کے کاتب وحی سے سنیے۔"

أَبِی بکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← خَالِدٌ، ← عِكْرِمَةَ، ← أَيُّوبَ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2011

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 438

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، نَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو -وَهُوَ ابْنُ دِينَارٍ- قَالَ: قَرَأَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَنُلْزِمُكُمُوهَا مِنْ شَطْرِ أَنْفُسِنَا: مِنْ تِلْقَاءِ أَنْفُسِنَا. قَدْ خَرَّجْتُ هَذَا الْبَابَ بِتَمَامِهِ فِي كِتَابِ التَّفْسِيرِ.

"حضرت عمرو بن دینا رؒ بیان کر تے ہیں کہ حضرت ابن عباس ؓ نے ( یہ آیت ) اس طرح پڑھی : کیا ہم تمہیں اس بات پر اپنی طرف سے مجبور کر سکتے ہیں ۔ میں نے اس پہلو کو کتاب التفسیر میں مکمل طور پر بیان کر دیا ہے ۔

عَمْرٍو -وَهُوَ ابْنُ دِينَارٍ- ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 438

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 531

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر نا يعقوب بن إبراهيم نا خلف بن الوليد نا إسرائيل عن سماك عن جابر - هو ابن سمرة - قال : كان النبي صلى الله عليه وسلم يصلي نحوا من صلاتكم ولكنه كان يخفف الصلاة كان يقرأ في صلاة الفجر بالواقعة ونحوها من السور قال أبو بكر : روى هذا الخبر من ليس الحديث صناعته فجاء بطامة رواه عن سليمان التيمي فقال : عن أنس بن مالك عن رسول الله صلى الله عليه وسلم

"حضرت جابر بن سمرۃ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ تمہاری نمازوں جیسی نماز پڑھایا کرتے تھے لیکن آپ مختصر اور ہلکی نماز پڑھاتے تھے آپ نماز فجر میں سورۃ واقعہ اور اسی جیسی سورتیں پڑھا کرتے تھے۔"امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : اس حدیث کو فن حدیث سے ناواقف شخص نے روایت کیا تو اس سے بہت بڑی غلطی ہوئی ہے ، اس نے اس روایت کو سلیمان تیمی کی سند سے حضرت انس بن مالک سے مرفوعاً بیان کیا ہے ( حالانکہ یہ روایت حضرت ابوبرزہ اور حضرت جابر بن سمرہ ؓ سے مروی ہے ۔)"

جابر هو ابن سمرة ← سِمَاكٍ، ← اِسْرَائِیْلُ ← خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 531

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 539

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، نَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، نَا كَهْمَسٌ؛ وَحَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، نَا وَكِيعٌ، عَنْ كَهْمَسِ بْنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَفِيقٍ الْعُقَيْلِيِّ قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَجْمَعُ بَيْنَ السُّوَرِ فِي الرَّكْعَةِ؟ قَالَتِ: الْمُفَصَّلُ. هَذَا حَدِيثُ وَكِيعٍ. وَقَالَ الدَّوْرَقِيُّ فِي حَدِيثِهِ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي الضُّحَى؟ قَالَتْ: إِذَا جَاءَ مِنْ مَغِيبِةٍ. قُلْتُ: أَكَانَ يَقْرِنُ السُّوَرَ؟ قَالَتِ: الْمُفَصَّلَ. قُلْتُ: أَكَانَ يُصَلِّي جَالِسًا؟ قَالَتْ: بَعْدَمَا حَطَمَهُ النَّاسُ.

"جناب عبداللہ بن شقیق العقیلی ؒ سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں میں نے حضرت عائشہ ؓ سے پوچھا : کیا رسول اللہﷺ ایک رکعت میں کئی سورتیں جمع کر ک پڑھ لیتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا: ( ہاں آپ) مفصل سورتیں ( پڑھ لیا کرتے تھے) یہ وکیع کی حدیث ہے۔ جناب دورقی کی روایت میں یہ الفاظ ہیں: میں ( عبداللہ بن شقیق العقیلی) نے کہا: حضرت عائشہ ؓ سے پوچھا : کیا رسول اللہﷺ چاشت کی نماز پڑھا کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا: ( ہاں) جب آپ کسی سفر سے واپس آتے ( تو پڑھتے تھے) میں نے عرض کی: کیا آپ سورتوں کو ملا کر پڑھ لیتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا: ( ہاں ) آپ مفصل سورتیں ( ملا کر پرھ لیتے تھے) میں نے دریافت کیا: کیا آپ بیٹھ کر نماز پڑھ لیا کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا: ( ہاں) جب لوگوں نے آپ کو بوڑھا اور کمزور کر دیا ( تو آ پ بیٹھ کر نماز پڑھ لیتے تھے)۔

"بَعْدَمَا حَطَمَهُ النَّاسُ". ← الْمُفَصَّلَ. قُلْتُ: أَكَانَ يُصَلِّي جَالِسًا؟ ← إِذَا جَاءَ مِنْ مَغِيبِةٍ. قُلْتُ: أَكَانَ يَقْرِنُ السُّوَرَ؟ ← الدَّوْرَقِيُّ فِي حَدِيثِهِ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ يُصَلِّي الضُّحَى؟ ← الْمُفَصَّلُ. هَذَا حَدِيثُ وَكِيعٍ. ← قُلْتُ لِعَائِشَةَ: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يَجْمَعُ بَيْنَ السُّوَرِ فِي الرَّكْعَةِ؟ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَفِيقٍ الْعُقَيْلِيِّ ← کهمس بن الحسن ← وَكِيعٌ، ← سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ← كَهْمَسٍ، ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 539

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 539

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، نَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، نَا كَهْمَسٌ؛ وَحَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، نَا وَكِيعٌ، عَنْ كَهْمَسِ بْنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَفِيقٍ الْعُقَيْلِيِّ قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَجْمَعُ بَيْنَ السُّوَرِ فِي الرَّكْعَةِ؟ قَالَتِ: الْمُفَصَّلُ. هَذَا حَدِيثُ وَكِيعٍ. وَقَالَ الدَّوْرَقِيُّ فِي حَدِيثِهِ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي الضُّحَى؟ قَالَتْ: إِذَا جَاءَ مِنْ مَغِيبِةٍ. قُلْتُ: أَكَانَ يَقْرِنُ السُّوَرَ؟ قَالَتِ: الْمُفَصَّلَ. قُلْتُ: أَكَانَ يُصَلِّي جَالِسًا؟ قَالَتْ: بَعْدَمَا حَطَمَهُ النَّاسُ.

حضرت جسرہ بنت وجاجہ بیان کرتی ہیں کہ میں نے حضرت ابوذر ؓ کو فرماتے ہوئے سنا: نبی اکرمﷺ نماز میں ایک ہی آیت مبارکہ ( ساری رات) بار بار پڑھتے رہے حتیٰ کہ صبح ہوگئی ۔ وہ آیت مبارکہ یہ ہے : ( اِنْ تُعَذِّبْھُمْ فَاِنَّھُمْ عِبَادُکَ وَاِنْ تَغْفِرْ لَھُمْ فَاِنَّکَ اَنْتَ الْعَذِیْزُ الْحَکِیْمْ) (المائدۃ:۱۱۸) "( اے اللہ!) اگر تو انہیں عذاب دے گا تو وہ تیرے ہی بندے ہیں اور اگر تو انہیں بخش دے گا تو بے شک تو ہی غالب نہایت حکمت والا ہے ۔"

"بَعْدَمَا حَطَمَهُ النَّاسُ". ← الْمُفَصَّلَ. قُلْتُ: أَكَانَ يُصَلِّي جَالِسًا؟ ← إِذَا جَاءَ مِنْ مَغِيبِةٍ. قُلْتُ: أَكَانَ يَقْرِنُ السُّوَرَ؟ ← الدَّوْرَقِيُّ فِي حَدِيثِهِ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ يُصَلِّي الضُّحَى؟ ← الْمُفَصَّلُ. هَذَا حَدِيثُ وَكِيعٍ. ← قُلْتُ لِعَائِشَةَ: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يَجْمَعُ بَيْنَ السُّوَرِ فِي الرَّكْعَةِ؟ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَفِيقٍ الْعُقَيْلِيِّ ← کهمس بن الحسن ← وَكِيعٌ، ← سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ← كَهْمَسٍ، ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 539

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ السَّھوِ فِی الصَّلاَۃِ · حديث 1040

وقال إسماعيل بن أبي خالد عن قيس بن أبي حازم سمعت أبا هريرة يقول : صحبت النبي صلى الله عليه وسلم ثلاث سنوات ثناه بندار نا يحيى بن سعيد عن إسماعيل بن أبي خالد و أبو هريرة إنما صحب النبي صلى الله عليه وسلم بخيبر وبعده وهو يخبر أنه شهد هذه الصلاة مع النبي صلى الله عليه وسلم فمن يزعم أن خبر ابن مسعود ناسخ لقصة ذي اليدين لو تدبر العلم وترك العناد ولم يكابر عقله علم استحالة هذه الدعوى إذ محال أن يكون المتأخر منسوخا والمتقدم ناسخا وقصة ذي اليدين بعد نهي النبي صلى الله عليه وسلم عن الكلام في الصلاة بسنين فيكف يكون المتأخر منسوخا والمتقدم ناسخا على أن قصة ذي اليدين ليس من نهي النبي صلى الله عليه وسلم عن الكلام في الصلاة بسبيل وليس هذا من ذلك الجنس إذ الكلام في الصلاة على العمد من المصلي مباح والمصلي عالم مستيقن أنه في الصلاة فنسخ ذلك وزجروا أن يتعمدوا الكلام في الصلاة على ما كان قد أبيح لهم قبل لا أنه كان أبيح لهم أن يتكلموا في الصلاة ساهين ناسين لا يعلمون أنهم في الصلاة فنسخ ذلك وهل يجوز للمركب فيه العقل يفهم أدنى شيء من العلم أن يقول : زجر الله المرء إذا لم يعلم أنه في الصلاة أن يتكلم أو يقول : نهى الله المرء أن يتكلم في الصلاة وهو لا يعلم أن الله قد زجر عن الكلام في الصلاة وإنما يجب على المرء أن لا يتكلم في الصلاة بعد علمه أن الكلام في الصلاة محظور غير مباح و معاوية بن الحكم السلمي إنما تكلم وهو لا يعلم أن الكلام في الصلاة محظور فقال في الصلاة خلف النبي صلى الله عليه وسلم لما شمت العاطس ورماه القوم بأبصارهم : واثكل أمياه ما لكم تنظرون إلي ؟ فلما تكلم في الصلاة بهذا الكلام وهو لا يعلم أن هذا الكلام محظور في الصلاة علمه صلى الله عليه وسلم أن كلام الناس في الصلاة محظور غير جائز ولم يأمره صلى الله عليه وسلم بإعادة تلك الصلاة التي تكلم فيها بهذا الكلام والنبي صلى الله عليه وسلم في قصة ذي اليدين إنما تكلم على أنه في غير الصلاة وعلى أنه قد أدى فرض الصلاة بكماله وذو اليدين كلم النبي صلى الله عليه وسلم وهو غير عالم أنه قد بقي عليه بعض الفرض إذ جائز عنده أن يكون الفرض قد رد إلى الفرض الأول إلى ركعتين كما كان في الابتداء ألا تسمعه يقول للنبي صلى الله عليه وسلم : أقصرت الصلاة أم نسيت ؟ فأجابه النبي صلى الله عليه وسلم بأنه لم ينس ولم تقصر وهو عند نفسه في ذلك الوقت غير مستيقن أنه قد بقي عليه بعض تلك الصلاة فاستثبت أصحابه وقال لهم أكما يقول ذو اليدين ؟ فلما استيقن أنه قد بقي عليه ركعتان من تلك الصلاة قضاهما فلم يتكلم صلى الله عليه وسلم في هذه القصة بعد علمه ويقينه بأنه قد بقي عليه بعض تلك الصلاة فأما أصحابه الذين أجابوه وقالوا للنبي صلى الله عليه وسلم بعد مسألته إياهم : أكما يقول ذو اليدين قالوا نعم فهذا كان الجواب المفروض عليهم أن يجيبوه عليه السلام وإن كانوا في الصلاة عالمين مستيقنين أنهم في نفس فرض الصلاة إذالله عز وجل فرق بين نبيه المصطفى وبين غيره من أمته بكرمه له وفضله بأن أوجب على المصلين أن يجيبوه وإن كانوا في الصلاة في قوله { يا أيها الذين آمنوا استجيبوا لله وللرسول إذا دعاكم لما يحييكم } وقد قال المصطفى صلى الله عليه وسلم لأبي بن كعب و لأبي سعيد بن المعلي لما دعا كل واحد منهما على الانفراد وهو في الصلاة فلم يجبه حتى فرغ من الصلاة : ألم تسمع فيما أنزل علي أو نحوه هذه اللفظة { يا أيها الذين آمنوا استجيبوا لله وللرسول إذا دعاكم لما يحييكم } قد خرجت هذين الخبرين في غير هذا الموضع فبين أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم في كلامهم الذي تكلموا به يوم ذي اليدين وكلام ذي اليدين على الصفة التي تكلم بها وبين من بعدهم فرق في بعض الأحكام أما كلام ذي اليدين في الابتداء فغير جائز لمن كان بعد النبي صلى الله عليه وسلم أن يتكلم بمثل كلام ذي اليدين إذ كل مصل بعد النبي صلى الله عليه وسلم إذا سلم في الركعتين من الظهر أو العصر يعلم ويستيقن أنه قد بقي عليه ركعتان من صلاته إذ الوحي منقطع بعد النبي صلى الله عليه وسلم ومحال أن ينتقص من الفرض بعد النبي صلى الله عليه وسلم فكل متكلم يعلم أن فرض الظهر والعصر أربعا كل واحد منهما على الانفراد إذا تكلم بعد ما قد صلى ركعتين وبقيت عليه ركعتان عالم مستيقن بأن كلامه ذلك محظور عليه منهي عنه وأنه متكلم قبل إتمامه فرض الصلاة ولم يكن ذو اليدين لما سلم النبي صلى الله عليه وسلم من الركعتين عالم ولا مستيقن بأنه قد بقي عليه بعض الصلاة ولا كان عالما أن الكلام محظور عليه إذ كان جائز عنده في ذلك الوقت أن يكون فرض تلك الصلاة قد رد إلى الفرض الأول إلى ركعتين كما كان في الابتداء وقوله في مخاطبته النبي صلى الله عليه وسلم دال على هذا ألا تسمعه يقول للنبي صلى الله عليه وسلم أقصرت الصلاة أم نسيت وقد بينت العلة التي لها تكلم أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم بعد قول النبي صلى الله عليه وسلم لذي اليدين : لم أنس ولم تقصر وأعلمت أن الواجب المفترض عليهم كان أن يجيبوا النبي صلى الله عليه وسلم وإن كانوا في الصلاة وهذا الفرض اليوم ساقط غير جائز لمسلم أن يجيب أحدا ـ وهو في الصلاة ـ بنطق فكل من تكلم بعد انقطاع الوحي فقال لمصل قد سلم من ركعتين : أقصرت الصلاة أم نسيت ؟ فواجب عليه إعادة تلك الصلاة إذا كان عالما أن فرض تلك الصلاة أربع لا ركعتين وكذاك يجب على كل من تكلم وهو مستيقن بأنه لم يؤد فرض تلك الصلاة بكماله فتكلم قبل أن يسلم منها في ركعتين أو بعدما سلم في ركعتين وكذاك يجب على كل من أجاب إنسانا وهو في الصلاة إعادة تلك الصلاة إذالله عز وجل لم يجعل لبشر أن يجيب في الصلاة أحدا في الصلاة غير النبي صلى الله عليه وسلم الذي خصه الله بها وهذه مسألة طويلة قد خرجتها بطولها مع ذكر احتجاج بعض من اعترض على أصحابنا في هذه المسألة وأبين قبح ما احتجوا على أصحابنا في هذه المسألة من المحال وما يشبه الهذيان إن وفقنا الله

حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے تین سال نبی اکرم ﷺ کی صحبت کا شرف حاصل کیا ۔ حضرت ابو ہریرہ نبی کریم ﷺ کی صحبت میں جنگ خیبر اور اس کے بعد کے عرصے میں رہے ہیں ۔ اور وہ یہ بتا رہے ہیں کہ انہوں نے یہ نماز نبی کریم ﷺ کے ساتھ ادا کی تھی ، لہٰذ اجو شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ حضرت ابن مسعود ؓ کی حدیث ذوالیدین کے قصے کی ناسک ہے، اگر یہ شخص علم میں غورو فکر کرے ، جد چھوڑ دے اور اپنی عقل ہی کو اہمیت و بڑائی نہ دے تو اس دوعوے کے نا ممکن ہونے کو جان لے گا۔ کیونکہ یہ نا ممکن ہے کہ متاخر حکم منسوخ ہوا اور متقدم حکم ناسخ ہوا۔ اور ذوالیدین کا قصہ نبی اکرم ﷺ کے نماز میں گفتگو سے منع کرنے کے کئی سال بعد کا ہے ، چنانچہ متاخر حکم منسوخ اور متقدم حکم ناسخ کیسے ہو سکتا ہے ۔ جبکہ ذوالیدین کے قصے کو نبی کریم ﷺ کے نماز میں بات چیت کے منع قرار دینے کے ساتھ کوئی تعلق بھی نہیں ۔ اور یہ مسئلی اس جنس کے ساتھ تعلق بھی نہین رکھتا، کیونکہ ( جس کلام سے منع کیا گیا وہ ) جائز کلام تھا جسے نمازی عمد ا نماز میں کرتا اور اسے یقینی علم ہوتا ہے کہ وہ نماز کی حالت میں ہے ۔ تو یہ کلام منسوخ ہو گیا اور نمازیوں کو روک دیا گیا ہے کہ وہ عمدا نماز کے دوران میں کلام کریں جبکہ پہلے ان کے لیے یہ جائز تھا ۔ یہ نہیں کہ ان کے لیے نماز میں بھول چوک کی صورت میں گفتگو کرنا جائز قرار دیا گیا تھا ، جبکہ انہیں یہ معلوم نہ ہو کہ وہ حالت نماز میں ہیں ، پھر یہ حکم منسوخ ہو گیا ۔ کیا کسی عقل مند شخص ، جو معمولی سی علمی سوجھ بوجھ رکھتا ہو ، کے لیے یہ کہنا جائز ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نمازی کو بات چیت کرنے سے منع کیا ہے جبکہ اسے علم ہی نہ ہو کہ وہ نماز کی حالت میں ہے ، یا وہ کہے کہ اللہ تعالیٰ نے نمازی کو نماز میں بات چیت کرنے سے منع کیا ہے حالانکہ اسے علم ہی نہ ہو کہ اللہ تعالیی نے نماز میں گفتگو سے منع کیا ہے ۔ بے شک نمازی کو جب علم ہو جائے کہ اللہ تعالیی نے نماز میں کلام کرنے سے منع کر دیا ہے تو اس کے لیے واجب ہے کہ وہ نماز میں کالم نہ کرے ۔ حضرت معاویہ بن سلمیٰ ؓ نے ( نماز کے دوران میں ) گفتگو کی حا لانکہ انہیں علم نہیں تھا کہ نماز میں گفتگو گرنا ممنوع ہے۔ لہٰذ اانہوں نے نبی کریم ﷺ کے پیچھے نماز ادا کرتے ہوئے چھینک مارنے والے کو جواب دیا (اسے یَرْحَمْکَ اللہُ کہا ) اور نمازیوں نے انہیں گھورنا شروع کر دیا ، تو انہوں نے کہا : ہائے میری ماں مجھے روئے تم مجھے کیوں گھور رہے ہو؟ چنانچہ جب انہوں نے دوران نماز میں یہ کلام کی حالانکہ انہیں معلوم نہ تھا کہ نماز کی حالت میں ایسا کلام کرنا منع ہے تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں سکھایا کہ نماز میں لوگوں سے ہم کلامی ممنوع اور ناجائز ہے۔ مگر آپ نے اسے اس نماز کو دوبارہ پڑھنے کا حکم نہیں دیا جس میں انہون نے کلام کی تھی۔ جبکہ ذویالیدین کے قصے میں نبی کریم ﷺ نے اس بنا پر کلام کی تھی کہ آپ کے خیال میں آپ مکمل نماز ادا کر چکے تھے اور حالت نماز میں نہیں تھے ۔ اور ذوالیدین نے آپ سے گفتگو کی تو اسے معلوم نہیں تھا کہ اس پر ابھی فرضی نماز کچھ باقی ہے۔ کیونکہ اس کے نزدیک یہ ممکن تھا کہ فرض نماز پہلے کی طرح دو رکعت کر دی گئی ہو جیسا کہ ابتدائے اسلام میں تھا ۔ کیا تم اسے یہ کہتے ہوئے نہیں سنتے کہ وہ نبی کریم ﷺ سے عرض کرتا ہے : " کیا نماز کم ہو گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں ؟ تو نبی کریم ﷺ نے اسے جواب دیا کہ نہ نمازز کم ہوئی ہے نہ میں بھولا ہوں ۔ حالانکہ اس وقت آپ کو یقین نہیں تھا کہ آپ پر کچھ نماز باقی ہے ۔ لہٰذا آپ نے صحا بہ کرام سے تحقیق کی اور ان سے پوچھا: کیا معاملہ اسی طرح ہے جیسے ذوالیدین کہہ رہا ہے؟ پھر جب آپکو یقین ہو گیا کہ آپ کی نماز کی دو رکعتیں باقی رہ گئی ہیں تو پھر آپ نے مزید گفتگو نہیں کی ۔ البتہ صحابہ کرام کی گفتگو آپ ﷺ کے سوال کے جواب میں تھی ، جب ااپ نے ان سے پوچھا کہ کیا معاملہ اسی طرح ہے جس طرح ذوالیدین کہہ رہا ہے ؟ تو انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! ( آپ کے سوال پر) ان کا جواب دینا فرض تھا اگرچہ وہ نماز کی حالت میں ہی ہوں ، اور انہیں اپنے نماز میں ہونے پورا علم و یقین بھی ہو ، کیونکہ اللہ تعالیی نے اپنے خصوصی فضلو کرم کی بنا پر اپنے نبی مسطفیٰ اور دیگر لوگوں میں فرق رکھا ہے ۔ وہ اس طرح کہ اللہ تعالیی نے نمازیوں پر رسول اللہ ﷺ کی لبیک کہنا واجب قرار دیا گیا ہے اگرچہ وہ نماز ہی پڑھ رہے ہون ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔ ( یَااَیُھَا الّذِیْنَ اٰمَنُوْسْتَجِیْبُوْ ا لِلّہِ ا للرَّسُوْلِ اِذَدَعَاکُمْ لِمَا یُحْیِیْکُمْ) " اے ایمان والو! تم اللہ اور اس کا رسول کا کہنا مانو جب وہ تمہیں اس امر کی طرف بلائیں جو تمہیں زندگی بخشتا ہے ۔" نبی کریم ﷺ نے حضرت ابی بن کعب اور حضرت ابو سعید بن معلیٰ ؓ سے فرمایا جبکہ آپ نے ان دونوں کو الگ الگ بلایا تھا اور وہ نماز پڑھ رہے تھے اور انہوں نے نماز سے فارغ ہونے تک آپ کی پکار کا جواب نہیں دیا تھا : کیا تم نے وہ حکم نہیں سنا جو مجھ پر نازل کیا گیا ہے یا آپ نے اس قسم کے الفاظ فرمائے ( یَااَیُھَا الّذِیْنَ اٰمَنُوْسْتَجِیْبُوْ ا لِلّہِ ا للرَّسُوْلِ اِذَدَعَاکُمْ لِمَا یُحْیِیْکُمْ)( یَااَیُھَا الّذِیْنَ اٰمَنُوْسْتَجِیْبُوْ ا لِلّہِ ا للرَّسُوْلِ اِذَدَعَاکُمْ لِمَا یُحْیِیْکُمْ) اے ایمان والو ! اللہ اور اس کے رسول کی بات مانو جب وہ تمہیں اس بات کی طرف بلائیں جو تمہیں زندگی بخشتا ہے ۔" میںن نے یہ دو احادیث اس جگہ کے علاوہ دوسرے مقام پر بھی باین کی ہیں ۔ ذوالیدین والے دن نبی کے صحابہ ؓ کے کلام میں اور ذوالیدین کی گفتگو میں جس انداز سے انہوں نے گفتگو کی اور ان کے بعد آنے والے لوگوں کی کلام میں بعض احکام کا فرق ہے ۔ نبی کریم ﷺ کے ( اس دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد ) بعد کسی شخص کے لیے جائز نہیں کہ وہ ذوالیدین کی طرح کلام کرے جیسا کہ انہوں نے ابتدا میں کلام کیا ۔ کیونکہ نبی اکرم ﷺ کے بعد ہر نمازی جب ظہر یا عصر کی دو رکعتون کے بعد سلام پھیر ے گا تو اسے بخوبی علم و یقین ہو گا کہ ابھی اس کی نماز سے دو رکعتیں باقی ہیں ، کیونکہ نبی اکرم ﷺ کے بعد وحی کا سلسلہ منقطع ہو چکا ہے ، اور یہ نا ممکن ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے بعد فرض نماز میں کمی واقع ہو۔ لہٰذا ہر بات کرنے والا جانتا ہے کہ ظہر اور عصر کی نماز کی چار چار رکعات فرض ہیں ۔ جب وہ دو رکعتوں کے بعد کلام کرے گا ۔اور دو رکعتیں ابھی باقی ہوں گی تو اسے مکمل یقین ہو گا کہ اس کا یہ بات چیت کرنا اس کے لیے حرام اور منع ہے ۔

بعده وهو يخبر ← إسماعيل بن أبي خالد و أبو هريرة إنما صحب النبي بخيبر ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← صحبت النبي ثلاث سنوات ثناه بندار ← أَبَا هُرَيْرَةَ ← قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ2 ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of forgetfulness in prayer · Hadith 1040

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ ذِکرِ الوِترِ وَمَا فِیہِ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1079

كذلك ثنا محمد بن يحيى نا عبد الصمد ثنا هشام ح وثنا علي بن سهل الرملي نا مؤمل بن إسماعيل نا عمارة بن زادان ثنا ثابت عن أنس قال : كان النبي صلى الله عليه وسلم يوتر بتسع ركعات فلما أسن وثقل أوتر بسبع وصلى ركعتين وهو جالس يقرأ فيهن بالرحمن والواقعة قال أنس : ونحن نقرأ بالسور القصار { إذا زلزلت } { قل يا أيها الكافرون } ونحوهما

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نو رکعات وتر ادا کرتے تھے۔ پھر جب آپ کی عمر شریف زیادہ ہو گئی اور جسم مبارک بھاری ہوگیا تو آپ نے سات رکعات وتر پڑھنے شروع کردیے۔ اور آپ دو رکعات بیٹھ کر ادا کرتے، ان میں سورہ رحمٰن اور سورہ واقعہ کی تلاوت کرتے۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: اور ہم چھوٹی سورتیں جیسے (إِذَا زُلْزِلَتْ) اور (قُلْ یَاأَیُّھَا الْکَافِرُوْنَ) اور ان جیسی سورتیں پڑھتے ہیں۔"

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← عُمَارَةُ بْنُ زَادَانَ ← مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ، ← هِشَامٍ ← عَبْدُ الصَّمَدِ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← كَذَلِكَ

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs · Hadith 1079

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ ذِکرِ الوِترِ وَمَا فِیہِ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1105

ثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ، نَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، نَا عُمَارَةُ بْنُ زَاذَانَ، نَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [122 - أ] يُوتِرُ بِتِسْعِ رَكَعَاتٍ، فَلَمَّا أَسَنَّ وَثَقُلَ أَوْتَرَ بِسَبْعٍ، وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ يَقْرَأُ فِيهَا (1) بِالرَّحْمَنِ وَالْوَاقِعَةِ. قَالَ أَنَسٌ: وَنَحْنُ نَقْرَأُ بِالسُّوَرِ الْقِصَارِ، (إِذَا زُلْزِلَتِ)، وَ (قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ) وَنَحْوِهِمَا.

حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺنو رکعات وتر پڑھتے تھے۔ پھر جب آپ کا جسم مبارک بھاری ہو گیا تو آپ سات رکعات وتر پڑھنے لگے، اور آپ بیٹھ کر دو رکعات ادا کرتے، ان میں سورہ رحمٰن اور سورہ واقعہ کی تلاوت کرتے ۔" حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں : " اور ہم چھوتی چھوٹی سورتیں ، جیسے (إِ ذَ زُلْزِلَتِ) اور ( قُلْ یَااَیُّھَا الْکٰفَرُوْنَ) اوران جیسی سورتیں پرھتے تھے۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← عُمَارَةِ بْنِ زَاذَانَ ← مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs · Hadith 1105

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1675

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ؛ ح وَثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَنَّ مَالِكًا حَدَّثَهُ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ: أَنَّهُ بَاتَ عِنْدَ مَيْمُونَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ وَهِيَ خَالَتُهُ، فَاضْطَجَعْتُ فِي عَرْضِ الْوِسَادِ، وَاضْطَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَهْلُهُ فِي طُولِهَا، فَنَامَ حَتَّى انْتَصَفَ اللَّيْلُ أَو قَبْلَهُ بِقَلِيلٍ [177 - أ] أَوْ بَعْدَهُ بِقَلِيلٍ، اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَلَسَ يَمْسَحُ وَجْهَهُ بِيَدِهِ، ثُمَّ قَرَأَ الْعَشْرَ الْآيَاتِ الْخَوَاتِمَ مِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ، ثُمَّ قَامَ إِلَى شَنٍّ مُعَلَّقَةٍ، فَتَوَضَّأَ مِنْهَا فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ، فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى رَأْسِي، وَأَخَذَ بِأُذُنِي الْيُمْنَى، فَفَتَلَهَا، وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الصُّبْحَ. هَذَا حَدِيثُ الرَّبِيعِ. جِمَاعُ أَبْوَابِ صَلَاةِ النِّسَاءِ فِي الْجَمَاعَةِ

’’حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنی خالہ ام المومنین حضرت میمونہ ؓ کے گھر رات گزاری ، توم میں تکیے کی چوڑائی کے رخ لیٹ گیا جبکہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے گھر والے تکیے کی لمائی کے رخ لیٹ گئے۔لہٰذاہ آپﷺ سے گئے حتٰی کی آدی رات ہو گئی یا آدھی رات سے کچھ کم یا کچھ زیادہ وقت ہو گیا تو رسول اللہ ﷺ بیدار ہو گئے۔ آپﷺ نے بیٹھ کر اپنے چہرہ مبارک کو ہاتھوں سے ملا پھر سورۂ آل عمران کی آخری دس آیات کی تلاوت کی۔پھر آپ لٹکے ہوۓ مشکیز ے کی طرف گئے اور اس سے )اپنی لے کر) اپنا بہترین وضو کیا۔پھر آپ ﷺ نے کھڑے ہو کر نماز پڑھتی شروع کردی۔حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں:’’تو میں بھی آپﷺ کے پہلو میں کھڑا ہو گیا۔‘‘تو رسول اللہ ﷺ نے اپنا دایاں ہاتھ میرے سر پر رکھا اور میرے دائیں کان کو پکڑ کر مسلا۔اور آپ نے دورکعات ادا کیں۔پھر دو ہلی سی رکعات پڑھیں۔پھر آپ تشریف لے گئے اور صبح کی نماز ادا کی‘‘۔یہ ربیع کی حدیث ہے:

ابْنُ وَهْبٍ، ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی ← مَالِكٍ، ← الشَّافِعِیُّ ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein · Hadith 1675

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَدَقَۃَ التَّطَوُّعِ · حديث 2482

حدثنا عتبة بن عبد الله أخبرنا عبد الله بن المبارك أخبرنا حيوة بن شريح حدثني الوليد بن أبي الوليد أبو عثمان أن عقبة بن مسلم حدثه : أن شفيا حدثه أنه دخل المدينة فإذا هو برجل قد اجتمع عليه الناس فقال : من هذا ؟ فقالوا : أبو هريرة فدنوت منه حتى قعدت بين يديه و هو يحدث الناس فلما سكت و خلا قلت : أنشدك بحق و حق لما حدثتني حديثا سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم عقلته و علمته فقال أبو هريرة : افعل لأحدثنك حديثا حدثنيه رسول الله صلى الله عليه وسلم و علمته ثم نشغ أبو هريرة نشغة فمكث قليلا ثم أفاق فقال : لأحدثنك حديثا حدثنيه رسول الله صلى الله عليه وسلم في هذا البيت ما معنا أحد غيري و غيره ثم نشغ أبو هريرة نشغة أخرى فمكث بذلك ثم أفاق و مسح وجهه قال : افعل لأحدثنك بحديث حدثنيه رسول الله صلى الله عليه وسلم و أنا و هو في هذا البيت ما معنا أحد غيري و غيره ثم نشغ أبو هريرة نشغة شديدة ثم مال خارا على وجهه أسندته طويلا ثم أفاق فقال : حدثني رسول الله صلى الله عليه وسلم إن الله تبارك و تعالى إذا كان يوم القيامة نزل إلى العباد ليقضي بينهم و كل أمة جاثية فأول من يدعوا به رجل جمع القرآن و رجل يقتل في سبيل الله و رجل كثير مال فيقول للقارىء : ألم أعلمك ما أنزلت على رسولي ؟ قال : بلى يا رب قال : فماذا عملت فيما علمت ؟ قال : كنت أقوم به أثناء الليل و آناء النهار فيقول الله له : كذبت و تقول الملائكة : كذبت و يقول الله : بل أردت أن يقال : فلان قارىء فقد قيل و يؤتى بصاحب المال فيقول الله : ألم أوسع عليك حتى لم أدعك تحتاج إلى أحد ؟ قال : بلى قال : فماذا عملت فيما آتيتك ؟ قال : كنت أصل الرحم و أتصدق فيقول الله : كذبت و تقول الملائكة : كذبت فيقول الله : بل أردت أن يقال فلان جواد فقد قيل ذاك و يؤتى بالذي قتل في سبيل الله فيقال له فيم قتلت ؟ فيقول : أمرت بالجهاد في سبيلك فقاتلت حتى قتلت فيقول الله : كذبت و تقول الملائكة : كذبت و يقول الله عز و جل له : بل أردت أن يقال فلان جريء فقد قيل ذلك ثم ضرب رسول الله صلى الله عليه وسلم على ركبتي فقال : يا أبا هريرة أولئك الثلاثة أول خلق الله تسعر بهم النار يوم القيامة قال الوليد فأخبرني عقبة أن شفيا هو الذي دخل على معاوية فأخبره بهذا قال أبو عثمان : و حدثني العلاء بن أبي حكيم أنه كان سيافا لمعاوية و أن رجلا دخل على معاوية فحدثه بهذا قال : صدق الله و رسوله { من كان يريد الحياة الدنيا و زينتها } إلى قوله { و باطل ما كانوا يعملون }

"جناب شفی اصحبی بیان کرتے ہیں کہ وہ مدینہ منورہ میں داخل ہوئے تو انھوں نے دیکھا کہ ایک شخص کے پاس کافی لوگ جمع ہیں ۔ تو انھوں نےپوچھا: یہ کون صاحب ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ حضرت ابوہریرہؓ ہیں ۔ لہٰذا میں ان کے قریب جاکر ان کے سامنے بیٹھ گیا ، جبکہ وہ لوگوں کو حدیث بیان کر رہے تھے ۔ پھر جب وہ خاموش ہوئے اور کیلے رہ گئے تو میں نے عرض کی : میں آپ کو اللہ تعالیٰ کی قسم اور اس کے حق کا واسطہ دے کر گزارش کرتا ہوں کہ آپ مجھے وہ حدیث بیان کریں جو آپ نے رسول اللہﷺ سےسن کر یاد رکھی ہو اور آپ اسے بخوبی جانتے ہوں۔ تو حضرت ابوہریرہؓ نے فرمایا: میں تمھیں ایسی ہی حدیث سناؤں گا جو میں رسول اللہﷺ سے سنی اور یاد رکھی ہے ۔ پھر ابوہریرہؓ سسکیاں لے کر رونے لگ گئے اور بےہوش ہوگئے پھر تھوڑی دیر کے بعد ہوش آیا تو فرمانے لگے : میں تمھیں ضرور ایسی حدیث سناؤں گا جو مجھے رسول اللہﷺ نے بیان کی تھی جبکہ میں اور آپ اس گھر میں اکیلے موجو د تھے ۔ پھر دوسری بار حضرت ابوہریرہؓ نے سسکیاں لے کر رونا شروع کر دیا اور بے ہوش ہوگئے ۔ پھر ہوش میں آئے اور اپنے چہرے کو صاف کیا ۔ پھر فرمایا: میں تمھیں حدیث سناتا ہوں ، میں ضرور تمھیں ایسی حدیث سناؤں گا جو رسول اللہﷺ نے مجھے اس وقت سنائی تھی جب میں اور آپ اس گھر میں اکیلے تھے ہمارے علاوہ کوئی اور موجود نہ تھا پھر حضرت ابوہریر ہ شدید سسکیاں لے کر رونے لگ گئے پھر بے ہوش ہو کر منہ کے بل گر گئے اور میں دیر تک آپ کو سہارا دے کر بیٹھا رہا ۔ پھر جب ہوش میں آئے تو فرمایا رسول اللہﷺنے مجھے بیان کیا:"جب قیامت کا دن ہوگا تو اللہ تعالیٰ مخلوق کے درمیان فیصلے کےلیے تشریف لائیں گے جبکہ ہر امت گھٹنوں کے بل بیٹھی ہوگی ۔ سب سے پہلے قاری قرآن کو بلایا جائے گا اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے مجاہد کو جو شہید ہوا تھا اور دولت مند شخص کو بلایا جائے گا اللہ قاری سے فرمائیں گے : کیا میں نے تمھیں وہ کتاب نہیں سکھائی تھی جو میں اپنے رسول پر نازل کی تھی؟ وہ کہے گا : کیوں نہیں اے میرے رب! تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : تو تم نے علم حاصل کرنے کے بعد کیا عمل کیا؟ وہ جواب دے گا: میں دن رات نماز میں اس کی تلاوت کرتا تھا تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : تم نے جھوٹ بولا ہے ۔ اور فرشتے بھی کہیں گے : تم نے جھوٹ کہا ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : بلکہ تم تو یہ چاہتے تھے کہ کہا جائے : فلاں بہت بڑا قاری ہے ۔ تو یہ بات تو ( دنیا میں ) کہہ دی گئی تھی ۔ اور مالدار شخص کو لایا جائے گا تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : کیا میں نے تمھیں اتنا مال ودولت عطا نہیں کیا تھا کہ تم کسی شخص کے محتاج نہیں رہے تھے ؟ وہ جواب دے گا : ضرور ایسے ہوا تھا ۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : تو تم نے میرے عطا کیے ہوئے مال میں کیا عمل کیا؟ وہ کہے گا : میں اس مال سے صلہ رحمی کرتا تھا ، او رصدقہ وخیرات کرتا تھا ۔ تو اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے کہیں گے : تم نے جھوٹ بولا ہے اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : بلکہ تمھارا ارادہ تو یہ تھا کہ لوگ کہیں : فلاں بڑا سخی ہے تو وہ کہہ دیا گیا تھا ۔ پھر اللہ کی راہ میں قتل ہونے والے مجاہد کو لایا جائے گا تو اس سے پوچھا جائے گا: تم نے کس مقصد کےلیے جان دی؟ تو وہ کہے گا : اللہ تم نے اپنے راستے میں جہاد کرنے کا حکم دیا تھا تو میں نے جنگ لڑی حتی کہ میں قتل ہوگیا تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : تم نے جھوٹ بولا ہے ۔ اور فرشتے بھی کہیں گے : تم جھوٹے ہو اور اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : بلکہ تمھارا ارادہ تو یہ تھا کہ کہا جائے : فلاں شخص بڑا بہادر ہے تو دنیا میں یہ کہہ دیا گیا تھا پھر رسول اللہﷺنے میرے گھٹنے پر ہاتھ مار کا فرمایا: اے ابوہریرہ! یہ تین افراد وہ پہلی اللہ کی مخلوق ہوں گے جن سے قیامت کے دن جہنم کی آگ بھڑکائی جاگے گی۔"جناب عقبہ کہتے ہیں : جناب شَفی نے ہی یہ حدیث حضرت معاویہ ؓ کی خدمت میں حاضر ہو کر بیان کی تھی ۔ جناب العلاء بن ابی حکیم بیان کرتے ہیں کہ شفی حضرت معاویہ کے جلاد تھے اور ایک شخص نے حضرت معاویہ ؓ کے پاس حاضر ہو کر یہ حدیث بیان کی تو انھوں نے فرمایا: اللہ اور اس رسول نے سچ فرمایا ہے ۔ پھر یہ آیت پڑھی : جو شخص دنیا کہ زندگی اور اس کی زینت چاہتا ہے تو ہم ان کے اعمال کا بدلہ اسی دنیا میں دےدیتے ہیں ۔ اور اس میں ان کی حق تلفی نہیں کی جاتی ۔ یہی لوگ ہیں جب کےلیے آخرت میں آگ کے سوا کچھ نہیں ، اور وہ برباد ہوگیا جو کچھ انھوں نے دنیا میں کمایا تھا اور جو وہ عمل کرتے رہے ، ضائع ہوگئے۔( سور ہ ھود:۱۶،۱۵)

الوليد بن أبي الوليد أبو عثمان ← حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← عتبة بن عبد الله

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The gates of the doors gave charity for volunteering · Hadith 2482

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4708

4708 - كَتَبَ إِلَيَّ أَبُو إِسْمَاعِيلَ مُحَمَّدُ بْنُ النَّحْوِيِّ يَذْكُرُ، أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَرَفَةَ، حَدَّثَهُمْ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ الْجَزَرِيُّ، ثنا بُكَيْرُ بْنُ مِسْمَارٍ، مَوْلَى عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، سَمِعْتُ عَامِرَ بْنَ سَعْدٍ يَقُولُ: قَالَ سَعْدٌ: نَزَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَحْيُ فَأَدْخَلَ عَلِيًّا وَفَاطِمَةَ وَابْنَيْهِمَا تَحْتَ ثَوْبَهُ ثُمَّ قَالَ: «اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلِي وَأَهْلُ بَيْتِي» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4708 - علي وبكير تكلم فيهما

حضرت سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ پر ﴿ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا٣٣﴾نازل ہوئی تو آپﷺ نے حضرت علی ، حضرت فاطمہ اوران کے حسنین کریمین کو اپنی چادر کے نیچے چھپایا پھر بولے : اے اللہ یہ میرے اہل اور میرے اہل بیت ہیں۔

عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ← بكير بن مسمار مولى عامر بن سعد ← عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ الْجَزَرِيُّ ← إِلَيَّ أَبُو إِسْمَاعِيلَ مُحَمَّدُ بْنُ النَّحْوِيِّ يَذْكُرُ، أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَرَفَةَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4708

chevron_left Previous
1…151617…305
Next chevron_right