صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْفِدَاءِ وَفَكِّ الْأَسْرَى · حديث 4859
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: أَسَرَتْ ثَقِيفٌ رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَسَرَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ، فَمَرَّ بِهِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُوثَقٌ، فَنَادَاهُ يَا مُحَمَّدُ يَا مُحَمَّدُ فَأَقْبَلَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «عَلَامَ أُحْبَسُ؟ »، فَقَالَ بِجَرِيرَةِ حُلَفَائِكَ، ثُمَّ مَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَادَاهُ، فَأَقْبَلَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ الْأَسِيرُ إِنِّي مُسْلِمٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ قُلْتَهَا، وَأَنْتَ تَمْلِكُ أَمْرَكَ، أَفْلَحْتَ كُلَّ الْفَلَاحِ»، ثُمَّ مَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَادَاهُ أَيْضًا، فَأَقْبَلَ إِلَيْهِ فَقَالَ إِنِّي جَائِعٌ فَأَطْعِمْنِي، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ حَاجَتُكَ، ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَاهُ بِالرَّجُلَيْنِ اللَّذَيْنِ [ص:199] كَانَتْ ثَقِيفٌ أَسَرَتْهُمَا. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «قَوْلُ الْأَسِيرِ إِنِّي مُسْلِمٌ وَتَرْكُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ مِنْهُ، كَانَ لِأَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَلِمَ مِنْهُ بِإِعْلَامِ اللَّهِ جَلَّ وَعَزَّ إِيَّاهُ، أَنَّهُ كَاذِبٌ فِي قَوْلِهِ، فَلَمْ يَقْبَلْ ذَلِكَ مِنْهُ فِي أَسْرِهِ، كَمَا كَانَ يَقْبَلُ مِثْلَهُ مِنْ مِثْلِهِ، إِذَا لَمْ يَكُنْ أَسِيرًا، فَأَمَّا الْيَوْمُ فَقَدِ انْقَطَعَ الْوَحْيُ، فَإِذَا قَالَ الْحَرْبِيُّ إِنِّي مُسْلِمٌ قَبْلَ ذَلِكَ مِنْهُ، وَرُفِعَ عَنْهُ السَّيْفَ سَوَاءٌ كَانَ أَسِيرًا أَوْ مُحَارِبًا»
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ثقیف قبیلے سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے نبی اکرمﷺ کے دو اصحاب کو قید کر دیا۔ نبی اکرم ﷺ کے اصحاب نے بنوعامر بن صعصعہ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو قید کر دیا۔ نبی اکرم ﷺ اس کے پاس سے گزرے وہ بندھا ہوا تھا اس نے آپ ﷺ کو مخاطب کیا: اے حضرت محمدﷺ، اے حضرت محمد ﷺ! نبی اکرم ﷺ اس کی طرف متوجہ ہو گئے اس نے دریافت کیا مجھے کیوں قید کیا گیا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشادفرمایا: تمہارے حلیفوں کی زیادتی کی وجہ سے۔ نبی اکرم ﷺ آگے تشریف لے گئے، تو اس نے پھر آپﷺ کو بلایا۔ نبی اکرم ﷺ اس کی طرف متوجہ ہوئے اس قیدی نے آپﷺ کی خدمت میں گزارش کی : میں مسلمان ہوتا ہوں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اگ تم یہ بات کہتے ہو، تو تم اپنے معاملے کے مالک ہو گے اور تم مکمل طور پر کامیابی حاصل کر لو گے۔ پھر نبی اکرم ﷺ آگے تشریف لے گئے، تو اس نے پھر آپﷺ کو بلایا۔ نبی اکرم ﷺ اس کی طرف متوجہ ہوئے وہ بولا: میں بھوکا ہوں مجھے کچھ کھانے کے لیے دیجئے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: یہ تمہاری ضرورت کا سامان ہے۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے اسے ان دوآدمیوں کے فدیے کے طور پر ادا کیا جسے ثقیف قبیلے کے لوگوں نے قید کیا تھا۔ (امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) اس قیدی کا یہ کہنا کہ میں مسلمان ہوں اور نبی اکرمﷺ کا اس کی بات پر کوئی توجہ نہ دینا اس کی وجہ یہ ہے: نبی اکرم ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس بات کی اطلاع مل گئی تھی کہ وہ شخص اپنے اس بیان میں جھوٹا ہے اس لیے نبی اکرمﷺ نے اس کی قید کے دوران اس سے اعتراف کو قبول نہیں کیا جس طرح کا اعتراف آپﷺ اس طرح کی صورت حال میں قبول کر لیتے تھے جب کہ وہ آدمی قیدی نہ ہوتا۔ جہاں تک آپﷺ کے دن کا تعلق ہے، تو وحی کا سلسلہ منقطع ہو گیا جب کوئی حربی شخص یہ کہے: میں مسلمان ہوں، تو اس سے اس بات کو قبول کیا جائے گا اور اس سے تلوار کو اٹھا لیا جائے گا خواہ وہ شخص قیدی ہو ، یا جنگجو ہو۔
عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← أَبِي الْمُهَلَّبِ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،
Sahih Ibn Hibban · Biography › The door of redemption and the release of prisoners · Hadith 4859
