صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ قِرَاءَۃِ الْقرْآنِ · حديث 735
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُبَيْدَةَ
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "اقْرَأْ عليَّ". قَالَ: قُلْتُ: أَقْرَأُ عَلَيْكَ، وَإِنَّمَا أُنْزِلَ الْقُرْآنُ عَلَيْكَ؟ قَالَ: "إِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِي". فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ سُورَةَ النِّسَاءِ حَتَّى إِذَا بَلَغْتُ: {فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلاءِ شَهِيداً} [النساء:41] نظرت إليه فإذا عيناه تهراقان"1""2".
1 في البخاري: تذران، وفي مسلم: فرأيت دموعه تسيل، وفي الترمذي: تهملان.
2 إسناده صحيح، عبد الغفار بن عبد اللَّه ذكره ابن حبان في "الثقات"، وترجمه ابن أبي حاتم ولم يذكر فيه جرحا ولا تعديلاً، وقد توبع عليه كما سيأتي، وباقي رجال الإسناد ثقات، إبراهيم هو النخعي، وعَبيدة -بفتح العين- هو ابن عمرو السلماني المرادي، وهو في "مسند أبي يعلى" "5069".
وأخرجه مسلم "800" في صلاة المسافرين: باب فضل استماع القرآن، والطبراني "8461"، من طريق هناد بن السري ومنجاب بن الحارث التميمي، كلاهما عن علي بن مسهر، بهذا الإسناد.
وأخرجه ابن أبي شيبة 10/1563، وأحمد 1/380 و 433، والبخاري "4582" في التفسير: باب {فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلاءِ شَهِيداً} و "5049" في فضائل القرآن: باب من أحب أن يستمع القرآن من غيره، و "5050" باب قول المقرئ للقارئ: حسبك، و "5055" و "5056" باب البكاء عند قراءة القرآن، ومسلم "800" في صلاة المسافرين، وأبو داود "3668" في العلم: باب في القصص، والترمذي "3028" في التفسير: باب ومن سورة النساء، وفي "الشمائل" برقم "316"، والبيهقي 10/231، والبغوي في "شرح السنة" "1220"، والطبراني "8460"، و "8461" وأبو يعلى "5228" من طرق عن الأعمش، به. وأخرجه مسلم "800" "248" من طريق عمرو بن مرة، والطبراني "8462" من طريق إبراهيم بن مهاجر، كلاهما عن إبراهيم، به.
وأخرجه الطبراني "8463" و "8467" من طريق الأعمش، ومغيرة عَنْ إِبْرَاهِيمَ؛ عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ.
وأخرجه الطبراني "8464" وأبو نعيم في "الحلية" 7/203 من طريق عمرو بن مرزوق، والطبراني "8465" من طريق سليمان بن حرب، كلاهما عن شعبة، عن إبراهيم بن المهاجر، عن إبراهيم النخعي عن علقمة وأخرجه الحميدي "101" عن سفيان، عن المسعودي، عن القاسم، عن عبد اللَّه بن مسعود.
وأخرجه ابن أبي شيبة 10/ 564، والطبراني "8459" عن حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّه بْنِ مَسْعُودٍ، به.
وأخرجه أحمد 1/374، والطبراني "8466" من طريق هشيم، عن مغيرة بن مقسم، عن أبي رزين مسعود بن مالك، عن ابن مسعود.
وأخرجه أبو يعلى "5150" من طريق هلال بن يساف، عن أبي حيان عن عبد اللَّه وصححه الحاكم 3/319 ووافقه الذهبي، من حديث عمرو بن حريث، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لابن مسعود: اقرأ..
وصححه الحاكم 3/319 ووافقه الذهبي، من حديث عمرو بن حريث، أن الني صلى اللَّه عليه وسلم قال لابن مسعود: اقرأ..
وانظر "فتح الباري" 9/94 و 99.ذِكْرُ أَمْرِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْضَ أُمَّتِهِ أَنْ يَقْرَأَ عَلَيْهِ الْقُرْآنَ
[735] أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُبَيْدَةَ
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "اقْرَأْ عليَّ". قَالَ: قُلْتُ: أَقْرَأُ عَلَيْكَ، وَإِنَّمَا أُنْزِلَ الْقُرْآنُ عَلَيْكَ؟ قَالَ: "إِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِي". فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ سُورَةَ النِّسَاءِ حَتَّى إِذَا بَلَغْتُ: {فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلاءِ شَهِيداً} [النساء:41] نظرت إليه فإذا عيناه تهراقان"1""2".
1 في البخاري: تذران، وفي مسلم: فرأيت دموعه تسيل، وفي الترمذي: تهملان.
2 إسناده صحيح، عبد الغفار بن عبد اللَّه ذكره ابن حبان في "الثقات"، وترجمه ابن أبي حاتم ولم يذكر فيه جرحا ولا تعديلاً، وقد توبع عليه كما سيأتي، وباقي رجال الإسناد ثقات، إبراهيم هو النخعي، وعَبيدة -بفتح العين- هو ابن عمرو السلماني المرادي، وهو في "مسند أبي يعلى" "5069".
وأخرجه مسلم "800" في صلاة المسافرين: باب فضل استماع القرآن، والطبراني "8461"، من طريق هناد بن السري ومنجاب بن الحارث التميمي، كلاهما عن علي بن مسهر، بهذا الإسناد.
وأخرجه ابن أبي شيبة 10/1563، وأحمد 1/380 و 433، والبخاري "4582" في التفسير: باب {فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلاءِ شَهِيداً} و "5049" في فضائل القرآن: باب من أحب أن يستمع القرآن من غيره، و "5050" باب قول المقرئ للقارئ: حسبك، و "5055" و "5056" باب البكاء عند قراءة القرآن، ومسلم "800" في صلاة المسافرين، وأبو داود "3668" في العلم: باب في القصص، والترمذي "3028" في التفسير: باب ومن سورة النساء، وفي "الشمائل" برقم "316"، والبيهقي 10/231، والبغوي في "شرح السنة" "1220"، والطبراني "8460"، و "8461" وأبو يعلى "5228" من طرق عن الأعمش، به. وأخرجه مسلم "800" "248" من طريق عمرو بن مرة، والطبراني "8462" من طريق إبراهيم بن مهاجر، كلاهما عن إبراهيم، به.
وأخرجه الطبراني "8463" و "8467" من طريق الأعمش، ومغيرة عَنْ إِبْرَاهِيمَ؛ عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ.
وأخرجه الطبراني "8464" وأبو نعيم في "الحلية" 7/203 من طريق عمرو بن مرزوق، والطبراني "8465" من طريق سليمان بن حرب، كلاهما عن شعبة، عن إبراهيم بن المهاجر، عن إبراهيم النخعي عن علقمة وأخرجه الحميدي "101" عن سفيان، عن المسعودي، عن القاسم، عن عبد اللَّه بن مسعود.
وأخرجه ابن أبي شيبة 10/ 564، والطبراني "8459" عن حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّه بْنِ مَسْعُودٍ، به.
وأخرجه أحمد 1/374، والطبراني "8466" من طريق هشيم، عن مغيرة بن مقسم، عن أبي رزين مسعود بن مالك، عن ابن مسعود.
وأخرجه أبو يعلى "5150" من طريق هلال بن يساف، عن أبي حيان عن عبد اللَّه وصححه الحاكم 3/319 ووافقه الذهبي، من حديث عمرو بن حريث، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لابن مسعود: اقرأ..
وصححه الحاكم 3/319 ووافقه الذهبي، من حديث عمرو بن حريث، أن الني صلى اللَّه عليه وسلم قال لابن مسعود: اقرأ..
وانظر "فتح الباري" 9/94 و 99.
حضرت عبد اللہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے مجھ سے فرمایا : میرے سامنے تلاوت کرو میں نے عرض کی : کیا میں آپ کے سامنے تلاوت کروں جبکہ قرآن آپ پر نازل ہوا ہے ؟ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : میں یہ چاہتا ہوں میں دوسرے کی زبانی اسے سنوں۔
حضرت عبد اللہ ؓ بیان کرتےہیں: میں آپ کے سامنے سورۃنساء پڑھنی شروع کی جب میں نے اس آیت کی تلاوت کی۔
’’ اس وقت کیا عالم ہو گا ‘ جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لے کر آئیں گے اور تمہیں ان سب پر گواہ بنا کر لےآئیں گے‘‘۔ میں نے نبی اکرمﷺ کی طرف دیکھا ‘ تو آپ کی آنکھوں میں آنسو جاری تھے۔
Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter Recitation of the Qur’an · Hadith 735
صیح ابن حبان · کِتَابُ الْعِلْمِ ‹ کِتَابُ الْعِلْمِ · حديث 118
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں: سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بھاری رقم خاتون تھیں۔ وہ جب رات کے وقت قضائے حاجت کے لئے جاتی تھیں تو خواتین کے درمیان نمایاں ہوتی تھیں۔ ایک مرتبہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انہیں دیکھا اور بولے: آپ اس بات کاجائزہ لیں کہ آپ کسی حالت میں باہر آئی ہیں۔ اللہ کی قسم! جب آپ باہر آتی ہیں، تو ہم سے پوشیدہ نہں رہتی ہیں۔ سیدہ سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا۔ اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک میں ایک بوٹی تھی۔ ابھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے دست مبارک سے واپس نہیں رکھا تھا یہاں تک کہ وحی مکمل ہوگئی۔ آپ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تم خواتین کے لئے یہ رخصت دی ہے، تم قضائے حاجت کے لئے گھر سے باہر نکل سکتی ہو۔
حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ہمیں دو پہر کی ایک نماز پڑھائی (راوی کہتے ہیں) شاید انہوں نے ظہر کی نماز کا ذکر کیا تھا یا عصر کا ذکر کیا تھا۔ لیکن میرا غالب گمان یہ ہے وہ عصر کی نماز تھی۔ راوی کہتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ہمیں دو رکعات پڑھائیں اس کے بعد سلام پھیردیا۔ پھر آپ مسجد میں آگے کی طرف رکھی ہوئی لکڑی کی طرف بڑھ گئے آپ نے اپنے دونوں ہاتھ اس پر رکھ دیئے ان میں سے ایک ہاتھ دوسرے پر تھا۔ جلد باز لوگ (مسجد سے ) باہر نکل گئے وہ یہ کہہ رہے تھے نماز مختصر ہوگئی ہے۔ حاضرین میں حضرت ابوبکر ؓ اور حضر ت عمرؓ بھی موجود تھے لیکن انہیں اس بارے میں نبی اکرمﷺ سے گزارش کرنے کی جرأت نہیں ہوئی ایک صاحب جن کا نام ذوالیدین تھا انہوں نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ ! کیا نماز مختصر ہوگئی ہےیا آپ بھول گئے ہیں۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: نماز مختصر نہیں ہوئی اور میں بھی بھولا نہیں ہوں۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہﷺ شاید آپ بھول گئے ہیں ۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا: کیا اسی طرح ہے لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرمﷺ واپس آئے آپ نے ہمیں دو رکعات پڑھائیں پھر آپ نے سلام پھیرا پھر دو مرتبہ سجدہ سہو کیا جو آپ کے عام سجدوں جتنا طویل تھا پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا پھر آپ نے دوسری مرتبہ سجدہ کی آپ نے عام سجدوں جتنا طویل سجدہ کیا پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا۔
محمد بن سیرین نامی راوی سے دردیافت کیا گیا: روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں:پھر آپ نے سلام پھیردیا تو انہوں نے بتایا: حضرت ابوہریرہؓ کے حوالے سے مجھے یہ الفاظ یاد نہیں ہیں البتہ مجھے یہ بات بتائی گئی ہے حضرت عمران بن حصین ؓ نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں پھر آپ نے سلام پھیردیا۔
(امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں) حضرت ذوالیدین ؓ کی اطلاع کا مطلب یہ ہے کہ نبی اکرمﷺ نے نماز کے دوران کلام کیا تھا۔ اس بنیاد پر کہ ان کی نماز مکمل ہوچکی ہے۔ اور آپ نے وہ فرض ادا کرلیا ہے۔ جو آپ کے ذمے لازم تھا ۔ حضرت ذوالیدین یہ سمجھے کہ شاید نماز اپنے پہلے والے فرض کی طرف لوٹادی گئی ہے۔ انہوں نےاس صورت میں کلام کر دیا کہ وہ نماز کی حالت میں نہیں ہیں اور نماز مکمل ہوچکی ہے۔ لیکن جب نبی اکرمﷺ نے اپنے اصحاب سے تصدیق چاہی اور آپ کو اس بات کا یقین ہوگیا تو پھر آپ نے اپنی نماز کو مکمل کر لیا۔ جہاں تک صحابہ کرامؓ کا آپ کو جواب دینے کا تعلق ہے۔ کہ انہوں نے جی ہاں کہا تو اب ان لوگوں پر یہ بات لازم تھی کہ بنی اکرمﷺ کو جواب دیتے اگرچہ وہ نماز ادا کر رہے ہوتے ۔ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:
اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کی پکار پر جواب دو جب وہ تمہیں بلائیں تاکہ یہ چیز تم کو زندگی دے۔
جہاں تک آج کے دن کا تعلق ہے۔ تو اب وحی کا سلسلہ منقطع ہوچکا ہے اور فرض بر قرار ہو چکے ہیں۔ تو جب امام کلام کرے اور اس کا خیال یہ ہو کہ سلام پھیر نے کے بعد اس کی نماز مکمل ہوچکی ہےتو اس کی نماز باطل نہیں ہوگی۔ لیکن اگر وہ مقتدیوں سے سوال کرتا ہے۔ مقتدی اس کو جواب دیتے ہیں۔ تو ان لوگوں کی نماز باطل ہوجائے گی اور اگر امام نے بعض مقتدیوں سے اس بارے میں دریافت کیا۔تو امام کی نماز بھی باطل ہوجائے گی۔ کیونکہ اب فرائض مستحکم ہوچکے ہیں۔ اور وحی سلسلہ منقطع ہوچکا ہے۔ نبی کرمﷺ کے نماز کے دوران سہو لاحق ہونے میں علت یہ تھی کہ نبی اکرمﷺ کو تعلیم دینے والا بھیجا گیاہے۔ آپ قولی طور پر بھی اور عملی طور پر بھی تعلیم دیتے تھے۔ تو بعض اوقات آپ پر ایسی کیفیت طاری ہوجاتی تھی۔ جس کا مقصد آپ کی امت کو اطلاع دینا ہوتا تھا۔ کہ اس طرح کی صورتحال در پیش ہونے پر ان پر کیا چیز لازم ہوگی؟ یعنی وہ صورت حال جب نبی اکرمﷺ کے بعد ان کو پیش آئے گی ۔
حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ایک مہم روانہ کی وہ کچھ افراد تھے۔ نبی اکرمﷺ نے انہیں بلایا اور دریافت کیا: تمہیں کتنا قرآن آتا ہے؟ نبی اکرمﷺ نے ان سے تلاوت سنی یہاں تک کہ آپ ایسے شخص کے پاس سے گزرے جو ان میں سے سب سے کم سن تھا۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا: اے فلاں تمہیں کتنا قرآن آتا ہے۔ اس نے جواب دیا: مجھے فلاں اور فلاں وسورۃ اور سورۃ البقرہ بھی آتی ہے آپ نے دریافت کیا: کیا تمہیں سورۃ البقرہ آتی ہے؟ اس نے عرض کی : جی ہاں۔نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم جاؤ تم ان لوگوں کے امیر ہو، تو اس گروہ کے معزز افراد میں سے ایک آدمی نے عرض کی : اس ذات کی قسم جس میں یہ یہ خوبی ہے۔ یا رسول اللہ(ﷺ)! میں نے قرآن کا علم صرف اس لئے حاصل نہیں کیا، مجھے یہ اندیشہ تھا، میں نوافل میں اس کی تلاوت نہیں کروں گا، تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : تم قرآن کا علم حاصل کر کے اس کی تلاوت کرتے ہے اسے نوافل میں ادا کرتا ہے۔ اس کی مثال ایک ایسی تھیلی کی مانند ہے، جس میں مشک موجود اور اس کا منہ کھلا ہوا ہو۔ اس کی خوشبو ہر جگہ پھیل رہی ہو اور جو شخص قرآن کا علم حاصل کر کے سویا رہتا ہے، لیکن وہ قرآن اس کے ذہن میں ہوتا ہے اس کی مثال ایسی تھیلی کی مانند ہے، جس میں مشک موجود ہو اور اس کا منہ بند ہو۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سیّدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:
”وہ اونٹ جس کی گردن میں گھنٹی موجود ہو فرشتے اس کے ساتھ نہیں چلتے“۔
(امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) اس بات کا امکان موجود ہے، نبی اکرم ﷺ نے اس کے ذریعے وہ اونٹ مراد لیا ہو، جس قافلے میں نبی اکرم ﷺ ساتھ موجود ہوں، کیونکہ نبی اکرم ﷺ پر وحی نازل ہوتی تھی۔
سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں:
’’ نشانی ظاہر ہونے پر ادا کی جانے والی نماز میں چھ رکوع ہوں گے اور چار سجدے ہوں گے‘‘۔
( امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) اس سے آپ کی مراد یہ ہے کہ نشانیاں ظاہر ہونے کے وقت ادا کی جانے والی نماز میں یہ بات ضروری ہے کہ آدمی دو رکعات ادا کرے۔ جن میں سے ایک رکعت میں تین مرتبہ رکوع کرے۔ اور سجدے کرے۔
اس کی وضاحت عبد الملک بن ابو سلیمان کی عطاء کے حوالے سے حضرت جابرؓ سے نقل کررہ روایت ہے۔
حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ کے زمانہ اقدس میں سورج گرہن ہو گیا تو آپ گھبرا کر کھڑے ہوئے ہمیں یہ اندیشہ ہوا قیامت آنے والی ہے آپ مسجد میں تشریف لائے آپ کھڑے ہوئے اور آپ نے طویل قیام رکوع اور سجدے والی نماز ادا کی میں نے آپ کو کسی نماز میں اتنا طویل قیام رکوع اور سجدہ کرتے ہوئے نہیں دیکھا پھر آپ نے ( خطبہ دیتے ہوئے ) ارشاد فرمایا:
’’ بے شک یہ نشانیاں ہے ‘ جو اللہ تعالیٰ بھیجتا ہے یہ کسی کے مرنے یا جینے کی وجہ سے نمودار نہیں ہوتی ہیں ‘ بلکہ اللہ تعالیٰ انہیں بھیجتا ہے ‘ تاکہ ان کے زریعے اپنے بندوں کو خوف دلائے ‘ تو جب تم ان میں سے کسی کو دیکھو تو اللہ کے ذکر اس سے دعا مانگنے اس سے مغفرت طلب کرنے کی طرف جاؤ‘‘۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The door of the lilac prayer · Hadith 2836
صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ الْکُسُوْفِ · حديث 2847
أخبرنا بْنِ خُزَيْمَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ
عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ زَمَنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ فَزِعًا ثُمَّ قَالَ: "إِنَّ هَذِهِ الآيات التي يرسل الله لا تكون لموت أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ وَلَكِنَّ اللَّهَ يُرْسِلُهَا يُخَوِّفُ بِهَا عِبَادَهُ فَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْهَا شَيْئًا فَافْزَعُوا إِلَى ذِكْرِهِ وَاسْتِغْفَارِهِ" 1. [34:5]
قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "فَافْزَعُوا إِلَى ذِكْرِهِ" يُرِيدُ بِهِ إِلَى صَلَاةِ الْكُسُوفِ لِأَنَّ الصَّلَاةَ تسمى ذكرا أو فيها ذكر ذكر الله فسمى الصلاة ذكرا.
حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ کے زمانہ اقدس میں سورج گرہن ہو گیا آپ ﷺ گھبراہٹ کے عالم میں اٹھے آپﷺ نے ارشاد فرمایا :
’’ یہ وہ نشانیاں ہیں ‘ جنہیں اللہ تعالیٰ بھیجتا ہے یہ کسی کے مرنے یا جینے کی وجہ سے ظاہر نہیں ہوتی ہیں ‘ بلکہ اللہ تعالیٰ انہیں بھیجتا ہے ‘ تاکہ ان کے ذریعے اپنے بندوں کو خوف دلائے جب تم ان میں سے کسی چیز کو دیکھو تو اللہ کےذکر اور اس سے مغفرت طلب کرنے کے طرف آؤ‘‘۔
( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں : ) نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان کہ ’’ تم اس کے ذکر کے طرف آؤ ‘‘ اس سے آپ کی مراد نماز کسوف ہے کیونکہ نماز کے لیے لفظ ذکر استعمال ہوتا ہے یا پھر یہ کہ اس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر ہوتا ہے ۔ اس لیے نماز کے لئے لفظ ذکر استعمال ہوا ہے۔
حضرت عبد اللہؓ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرمﷺ کے زمانہ اقدس میں ( ظاہر ہونے والی ) نشانیوں کو برکت کا نشان سمجھتے تھے جبکہ تم انہیں خوف دلانے والی چیز سمجھتے ہو۔
( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں : ) حبیب بن ابو ثابت نے طاؤس کے حوالے سے حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے ۔ نبی اکرمﷺ نے سورج گرہن کی نماز میں آٹھ رکوع کیے تھے۔ چار سجدے کیے تھے۔ یہ روایت صحیح نہیں ہے۔ کیونکہ حبیب نے طاؤس کے حوالے سے یہ روایت نہیں سنی ہے۔ اسی طرح حضرت علی ؓ کے حوالے سے منقول یہ روایت کہ نبی اکرمﷺ نے نماز کسو ف اس طرح ادا کی تھی وہ بھی درست نہیں ہے کیونکہ ہم حنش اور اس جیسے راویوں کی احادیث سے استدلال نہیں کرتے ہیں۔ اسی طرح ہم ان کی املاء کروائی ہوئی روایت سے بھی چشم پوشی کرتے ہیں۔
حضرت ابو برزہ ؓ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ایک کنیز ایک اونٹ پر سوار تھی جس پر لوگوں کا سامان رکھا ہوا تھا وہ دو پہاڑوں کے درمیان میں سے گزر رہی تھی پہاڑ کا راستہ تنگ تھا نبی اکرمﷺ اس پہاڑ پر تشریف لائے جب اس لڑکی نے نبی اکرمﷺ کو دیکھا ‘ تو یہ کہنے لگی اٹھواے اللہ اس پر لعنت کر ‘ اے اللہ ! اس پر لعنت کر ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ہمارے ساتھ کوئی ایسی سواری نہیں رہے گی ‘ جس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے لعنت ہوئی ہو۔
( امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں : ) نبی اکرمﷺ کا اس سواری کو چھوڑ دینے کا حکم دینا جس پر لعنت کی گئی تھی اس میں یہ حکم پوشیدہ ہے ‘ جو اس کا سبب ہے اور وہ یہ کہ لعنت کرنے والے کی دعا مستجاب نہ ہو جائے‘ تو جب لعنت کرنے والے کی دعا کے مستجاب ہونے کے بارے میں علم ہو جائے ‘ تو پھر ہم اسے یہ حکم دیں گے کہ وہ اس سواری کو چھوڑ دے لیکن وحی کے منقطع ہونےکی وجہ سے اس کا علم حاصل کرنے کا امکان نہیں رہا اس لئے اب کسی لئے اس فعل پر عمل کرنا جائز نہیں ہے۔
سیدہ عائشہ صدیقہؓؓ بیان کرتی ہیں :سود کے بارے میں سورہ بقرہ کی آخری آیات جب نازل ہوئیں۔ تو نبی اکرمﷺ تشریف لے گئے اور آپ نے شراب کی تجارت کو حرام قرار دیا۔
حضرت معاویہ بن حکم سلمیؓ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ (ﷺ)! ہم لوگ زمانہ جاہلیت سے زیادو دور نہیں ہیں پھر اللہ تعالیٰ اسلام کو لےآیا ہم میں سے کچھ لوگ فال نکالتے ہیں ۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: یہ ایک ایسی چیز ہے‘ جسے وہ اپنے سینوں میں پاتے ہیں ۔ یہ انہیں کوئی نقصان نہیں دیتی۔ راوی کہتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ (ﷺ)! ہم میں سے کچھ لوگ کاہنوں کے پاس جاتے ہیں ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم ان کے پاس نہ جاؤ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی: ہم میں سے کچھ لوگ لکیریں لگاتے ہیں ( یعنی علم رمل کرتے ہیں ) ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ایک نبی لکیریں لگایا کرتے تھے‘ تو ( ہمارے زمانے میں ) جس شخص کی لکیر اس کے موافق ہو ( اس کی بات درست ثابت ہوتی ہے )
راوی کہتے ہیں: میں نبی اکرمﷺ کی اقتداء میں نماز ادا کر رہا تھا۔ حاضرین میں سے کسی صاحب کو چھینک آگئی تو میں نے ان سے کہا: اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرے تو لوگوں نے مجھے گھور کے دیکھا میں نے کہا: تمہارا ستیاناس ہو تم لوگ میری طرف اس طرح کیوں دیکھ رہے ہو‘ تو لوگوں نے اپنے ہاتھ اپنے زانوں پر مارے جب میں نے انہیں دیکھا‘ وہ لوگ مجھے خاموش کروانے کی کوشش کر رہے ہیں‘ تو میں خاموش ہو گیا جب نبی اکرمﷺ نےنماز مکمل کی تو آپ نےمجھے بلایا۔ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ میں نے آپ سے پہلے اور آپ کے بعد آپ سے اچھا معلم اور کوئی نہیں دیکھا۔ اللہ کی قسم! نہ آپ نے مجھے مارا نہ جھڑکا نہ برا کہا بلکہ یہ ارشاد فرمایا:
’’ ہماری اس نماز میں لوگوں کےکلام کی مانند بات چیت کرنا مناسب نہیں ہے۔ یہ تکبیر تسبیح اور قرآن کی تلاوت ( پر مشتمل ہوتی ہے)‘‘
حضرت ؓ بیان کرتےہیں :جب نبی اکرمﷺ قوم ثمود کی بستی کے پاس لائے تو آپﷺ نے ارشادفرمایا:تم اپنے نبی سے معجزات کے بارے میں مطالبہ نہ کرنا کیونکہ حضرت صالح ؑ کی قوم نے اپنے نبی سے معجزے کا مطالبہ کیا ،تو اس راستے سے ایک اونٹنی نکل کر ان کے پاس آئی وہ اس رادستے سے واپس چلی جایا کرتی تھی وہ لوگ اس اونٹنی کا دودھ پیا کرتےتھے جس دن وہ اونٹنی پانی پینے کیلئے آتی تھی اتنا ہی جتنا وہ ان کے پانی پر وقفہ کے ساتھ آتی تھی ہوتا تھا ان لوگوں نے اس اونٹنی کےپاؤںکاٹ دئے ،تو ان لوگوں نےساتھ تین دن کے اندر (عذاب آنے کا ) وعدہ کیا گیا یہ ایک ایسا وعدہ تھا جس کی خلاف ورزی نہیں ہونی چاہئے تھی ،تو ایک زبردست آواز نے انہیں اپنی گرفت میں لےلیا اس وقت آسمان کے نیچے موجود ہر شخص ہلاکت کا شکار ہو گیا ماسوائے اس شخص کے جو حرم کی حدود کے اندر تھا حرم نے انہیں اللہ کے عذاب سے محفوظ رکھا ۔ لوگوں نے عرض کی :یارسول اللہ (ﷺ)! وہ کون شخص تھا ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا:ثقیف قبیلے کاجدامجد ابورغال ۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: بڑے عرصے سے میری یہ خواہش تھی کہ میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ان دو خواتین کے بارے میں دریافت کروں جو نبی اکرم ﷺ کی ازواج سے تعلق رکھتی ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے۔
" اگر تم اللہ کی بار گاہ میں، تو بہ کر لو ( تو یہ بہتر ہے)، کیونکہ تمہارے دل مائل ہو گئے تھے"۔
(حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں)، یہا ں تک کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ حج پر گئے ان کے ساتھ میں بھی حج پر گیا وہ (قضائے حاجت کرنے کیلئے ) ایک طرف ہٹ گئے میں بھی ان کے ہمراہ برتن لے کر ایک طرف ہٹ گیا انہوں نے قضائے حاجت کی پھر وہ تشریف لائے میں نے ان
کے دونوں ہاتھوں پر برتن میں سے پانی انڈیلا انہوں نے وضو کیا میں نے کہا: اے امیر المومنین! نبی اکرم ﷺ کی ازواج سے تعلق رکھنے والی وہ دو خواتین کون تھیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔
" اگر تم دونوں اللہ کی بار گاہ میں، تو بہ کر لو (تو یہ مناسب ہو گا)،کیونکہ تم دونوں کے دل مائل ہو گئے تھے"۔
تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے ابن عباس تم پر حیرت ہے ( کہ تم نے پہلے اس بارے میں سوال کیو ں نہیں کیا ) وہ حفصہ اور عائشہ تھیں، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پورا واقعہ سنایا انہوں نے بیان کیا۔
میں اور بنو امیہ بن زید سے تعلق رکھنے والا میرا ایک پڑوسی (راوی کہتے ہیں: ) بنو امیہ بن زید مدینہ منورہ کے نواحی علاقے میں رہتے تھے، ہم دونوں باری باری نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے تھے۔ ایک دن وہ حاضر ہوتا تھا اور ایک دن میں حاضر ہوتا تھا جب میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا تو اس دن کی اطلاعات جن کا تعلق وحی سے ہوتا تھا یا دیگر امور سے ہوتا تھا وہ لے آتا تھا اور جب وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا تو وہ بھی ایسا ہی کیا کرتا تھا ہم قریش سے تعلق رکھنے والے افراد اپنی بیویوں پر غالب تھے جب ہم انصار کے ہاں آئے، تو وہ ایسے لوگ تھے کہ ان کی بیویاں ان پر غالب تھیں، تو ہماری عورتوں نے انصار کی خواتین سے یہ طریقہ سیکھنا شروع کر دیا ایک دن میں نے اپنی بیوی پر ناراضگی کا اظہار کیا، تو اس نے مجھےپلٹ کے جواب دیا: میں نے اس کے جواب دینے پر غصے کا اظہار کیا، تو اس نے کہا: میں نے آپ کو جواب دیا ہے: اس بات پر کیوں غصہ کر ہے ہیں اللہ کی قسم! نبی اکرم ﷺ کی ازواج بھی نبی اکرم ﷺ کو جواب دے دیتی ہیں اور ان میں سے ایک زوجہ محترمہ ایسی ہے، جو صبح سے لے کر شام تک نبی اکرم ﷺ سے ناراض رہتی ہے (حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) اس بات نے مجھے خوف زدہ کر دیا میں نے کہا: ان ازواج میں سے جو ایسا کرتی ہے وہ خسارے کا شکار ہو جائے گی، پھر میں نے اپنی چادر لپیٹی اور (مدینہ منورہ آ گیا) وہاں میں حفصہ بنت عمر کے پاس آیا میں نے اس سے کہا: اے حفصہ کیا تم (یعنی ازواج مطہرات ) میں سے کوئی ایک نبی اکرم ﷺ سے ناراض ہوتی ہے اور سارا دن آپ ﷺ سے ناراض رہتی ہے۔سیّدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: جی ہاں میں نے کہا: وہ تو رسوا ہو جائے گی اور خسارے کا شکار ہو جائے گی کیا تم لو گ خود کو اس سے محفوظ سمجھتی ہو کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کی ناراضگی کی وجہ سے ناراض ہو جائے گا اور تمہیں ہلاکت کا شکار کر دے گا۔ تم نبی اکرم ﷺ کی کسی بات پر اعتراض نہ کیا کرو۔ نبی اکرم ﷺ کو آگے سے جواب نہ دیا کرو۔ نبی اکرم ﷺ سے لاتعلق نہ رہا کرو تمہاری جو ضروریات ہوتی ہیں تم مجھ سے مانگ لیا کرو اور یہ چیز تمہیں غلط فہمی کا شکار نہ کرے کہ تمہاری پڑوسن (یعنی سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ) نبی اکرم ﷺ کے نزدیک زیادہ خوبصورت ہے اور آپ ﷺ کو زیادہ محبوب ہے (راوی کہتے ہیں) حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی مراد سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تھیں۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ان دنوں ہم یہ بات چیت کر رہے تھے کہ غسان قبیلے کے لوگ ہمارے ساتھ جنگ کیلئے سازو سامان تیار کر رہے ہیں، اپنی باری کے دن میرا انصاری پڑوسی (مدینہ منورہ ) آیا جب وہ شام کے وقت واپس آیا ،تو اس نے میرے دروازے پر زور سے دستک دی میں گھبرا گیا میں باہر نکل کر اس کے پاس آیا اس نے کہا: ایک عظیم واقعہ رونما ہو گیا ہے میں نے دریافت کیا: کیا ہوا؟ کیا غسان (قبیلے کے لوگ) آ گئے ہیں۔ اس نے جواب دیا : جی نہیں اس سے زیادہ بڑا اور اس سے زیادہ طویل ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے اپنی ازواج کو طلاق دے دی ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے کہا: حفصہ رسوا ہو گئی اور خسارے کا شکار ہو گئی مجھے یہ اندازہ تھا کہ ایسا ایک دن ہو کر رہے گا۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے اپنی چادر اوڑھی اور فجر کی نماز نبی اکرم ﷺ کی اقتداء میں ادا کی ( نماز ادا کرنے کے بعد ) نبی اکرم ﷺ اپنے بالا خانے میں تشریف لے گئے جہاں آپ ﷺ علیحدہ طور پر رہ رہے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں حفصہ کے پاس آیا، تو وہ رو رہی تھی میں نے دریافت کیا: تم کیوں رو رہی ہو کیا میں نے تمہیں ا س چیز سے ڈرانے کی کوشش نہیں کی تھی کیا اللہ کے رسول نے تم لوگوں کو طلاق دے دی ہے۔ سیّدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: مجھے نہیں معلوم نبی اکرم ﷺ اس بالا خانے میں علیحدہ آرام فرما ہیں ( حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں سیّدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر سے ) باہر آیا اور منبر کے قریب آ گیا وہاں منبر کے اردگرد کچھ لوگ موجود تھے وہ رہ رہے تھے میں تھوڑی دیر ان کے ساتھ بیٹھا رہا پھر مجھے جو اندیشہ تھا وہ مجھ پر غالب آیا، تو میں اس بالا خانے کے پاس آیا جس میں نبی اکرم ﷺ موجود تھے میں نے سیاہ فام لڑکے سے کہا : تم عمر کیلئے اندر آنے کی اجاز ت مانگو ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں وہ لڑکا اندر گیا اس نے باہر آ کے کہا: میں نے نبی اکرم ﷺ کے سامنے آپ کا ذکر کیا ، لیکن نبی اکرم ﷺ خاموش رہے، تو میں واپس آ گیا ( حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) میں واپس آ گیا اور ان لوگوں کے ساتھ آکے بیٹھ گیا جو منبر کے پاس موجود تھے پھر میری جو کیفیت تھی وہ مجھ پر غالب آئی اور میں نے آ کر لڑکے سے کہا تم عمر کیلئے اندر آنے کی اجازت مانگو وہ اندر گیا پھر واپس آیا اور بولا میں نے نبی اکرم ﷺ کے سامنے آپ کا ذکر کیا ، لیکن نبی اکرم ﷺ خاموش رہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں ابھی وہاں سے مڑا ہی تھا کہ اس لڑکے نے مجھے بلایا اور بولا: اللہ کے رسول نے آپ کو اجازت دے دی ہے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ کھجور کی چھال سے بنی ہوئی چٹائی کے اوپر لیٹے ہوئے تھے اور آپ ﷺ کے پہلو پر اس کا نشان موجود تھا آپﷺ نے چمڑے کے بنے ہوئے تکیے سے ٹیک لگائی ہوئی تھی جس کے اندر کھجور کے پتے بھرے ہوئے تھے میں نے نبی اکرم ﷺ کو سلام کیا پھر میں نے کھڑے ہوئے ہی عرض کی یا رسول ﷺ! آپ نے اپنی ازواج کو طلاق دے دی ہے؟ نبی اکرم ﷺ نے اپنی نظر آسمان کی طرف اٹھائی اور ارشاد فرمایا: جی نہیں۔ میں نے کہا: اللہ اکبر، یا رسول اللہﷺ! آپ نے ہمیں ملاحظہ کیا ہے ہم قریش سے تعلق رکھنے والے افراد اپنی بیویوں پر غالب ہوتے تھے جب ہم مدینہ آئے ، تو ہم ایک ایسی قوم کے پاس آ گئے جن کی بیویاں ان پرغالب تھیں ایک دن میں نے اپنی بیوی پر ناراضگی کا اظہار کیا، تو اس نے مجھے پلٹ کی جواب دیا: میں نے اس کی اس حرکت پر حیرانگی کا اظہار کیا، تو اس نے کہا کیا آپ اس بات پر حیران ہو رہے ہیں کہ میں نے آپ کو جواب دیا ہے ۔اللہ کی قسم! نبی اکرمﷺ کی ازواج بھی آپ ﷺ کو آگے سے جواب دے دیتی ہیں اور ان میں سے ایک تو صبح سے لے کر شام تک نبی اکرمﷺ سے ناراض رہتی ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے کہا: حفصہ رسو ا ہو جائے گی اور خسارے کا شکار ہو جائے گی کیا وہ ازواج اس بات سے محفوظ ہو گئی ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کی ناراضگی کی وجہ سے ناراض ہو جائے گا اور وہ عورت جس پر (نبی اکرمﷺ ناراض ہوئے ہیں) ہلاکت کا شکار ہو جائے گی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرمﷺ مسکرا دئیے پھر میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! میں حفصہ کے پاس گیا میں نے کہا: یہ چیز تمہیں غلط فہمی کا شکار نہ کرے کہ تمہاری پڑوسن نبی اکرم ﷺ کے نزدیک زیادہ خوبصورت اور زیادہ محبوب ہے۔ میری مرار عائشہ تھیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرمﷺ پھر دوسری مرتبہ مسکرا دئیے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب میں نے آپﷺ کو مسکراتے ہوئے دیکھا تو میں بیٹھ گیا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے جب اس بالا خانے کا جائزہ لیا تو اللہ کی قسم ! مجھے اس میں صرف تین خشک کھالیں نظر آئیں میں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ آپﷺ کی امت کو کشادگی عطا کرے، کیونکہ اہل فارس اور اہل روم کو کشادگی عطا کی گئی ہے ان لوگوں کو دنیا کی نعمتیں دی گئی ہیں حالانکہ وہ لوگ اللہ تعالیٰ کی عبادت نہیں کرتے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرمﷺ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے پہلے آپ ﷺ نے ٹیک لگائی ہوئی تھی آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے خطاب کے بیٹے کیا تمہیں شک ہے یہ وہ لوگ ہیں، جنہیں نعمتیں دیناوی زندگی میں پہلے دے دی گئی ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت کرتا ہوں۔
(حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں) نبی اکرمﷺ نے اپنی ازواج سے اس وجہ سے علیحدگی اختیار کی تھی آپﷺ نے ان ازواج پر شدید ناراضگی کی وجہ سے یہ کہا تھا کہ میں ایک ماہ تک ان کے پاس نہیں جاؤں گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس پر تنبیہ کی اور جب انتیس دن گزر گئے، تو آپﷺ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے آپﷺ سب سے پہلے ان کے پاس گئے تھے ۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپﷺ کی خدمت میں عرض کی یا رسول اللہﷺ! آ پنے تو یہ قسم اٹھائی تھی کہ آپﷺ ہمارے پاس ایک ماہ تک تشریف نہیں لائیں گے ابھی تو صرف انتیس دن گزرے ہیں میں نے ان کی گنتی کی ہے۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: مہینہ کبھی 29 دن کا بھی ہوتا ہے مہینہ کبھی 29 دن کا بھی ہوتا ہے۔
حضرت حذیفہ ؓ روایت کرتے ہیں ، نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: "مجھے لوگوں پر تین حوالے سے فضیلت دی گئی ہے ۔ ہمارے لئے تمام روئے زمین کو جائے نماز قرار دیا گیا ہے اور اس کی مٹی کو ہمارے لئے طہارت کے حصول کا ذریعہ قرار دیا گیا ، جب ہمیں پانی نہیں ملتا اور ہماری صفوں کو فرشتوں کی صفوں کی مانند قرار دیا گیا اور مجھے سورۃ بقرہ کی آخری آیات عر ش کے نیچے موجود خزانے سےعطا کی گئی ہیں اس جیسی آیات مجھ سے پہلے اور میرے بعد کسی کو عطا نہیں کی جائیں گی۔
حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں ، نبی اکرمﷺ نے ارشا د فرمایا:
"( قیامت سے پہلے کچھ ) نشانیاں ظہور پذیر ہوں گی وہ ایک دوسرے کے آگے پیچھے اس طرح آئیں گی ، جس طرح ( ہار ٹوٹ جائے ) تو دانے ایک دوسرے کے آگے پیچھے ہوتے ہیں ۔"
Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6833
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7008
سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں : نبی اکرمﷺ اکثر سیدہ خدیجہ ؓ کا ذکر کیا کرتے تھے میں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے آپﷺکو سرخ ہونٹوں والی قرشی کی اس بوڑھی کے بعد دیگر ازواج بھی عطا کی ہیں ، تو نبی اکرمﷺ کا چہرہ مبارک سرخ ہوگیا ۔ میں یہ کیفیت صرف وحی کے نزول کے وقت ہی آپﷺ میں دیکھی تھی اگر کوئی پردہ دار عورت بھی آپ ﷺ کو دیکھ لیتی تو اسے پتہ چل جاتا یہ مہربانی کی وجہ سے ہے یا ناراضگی کی وجہ سے ہے ۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7008
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7109
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں میری ساتھی خواتین (یعنی دیگر ازواج مطہرات ) نے میرے ساتھ یہ بت چیت کی کہ نبی اکرم ﷺ سے یہ بات کروں کہ آپ لوگوں کو یہ ہدایت کریں کہ نبی اکرمﷺ جہاں کہیں بھی ہوں ' تو وہ آ پ کی خدمت میں تحائف پیش کر دیا کریں کیونکہ لوگ تحائف پیش کرنے کے لئے صرف سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کے مخصوص دن کا اہتمام سے انتظار کرتے ہیں جبکہ ہم بھی بھلائی کو اسی طرح پسند کرتی ہیں ' جس طرح عائشہ اسے پسند کرتی ہے' تو نبی اکرم ﷺ خاموش رہے نبی ارکرم ﷺ نے مجھے کوئی جواب نہیں دیا میری ساتھی خواتین میرے پاس آئیں میں نے انہیں بتایا : نبی اکرمﷺ نے مجھے کوئی جواب نہیں دیا تو ان خواتین نے کہا : اللہ کی قسم ہم نبی اکرم ﷺ کو ایسے نہیں رہنے دیں گے(یعنی آپ سے یہ بات ضرور کریں گے) سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں پھر میں نے دو یا شاید تین مرتبہ نبی اکرم ﷺ سے اسی کی مانند بات کی ہر مرتبہ نبی اکرم ﷺ خاموش رہے پھر آپ نے فرمایا: اے ام سلمہ ! عائشہ کے بارے میں مجھے تکلیف نہ پہنچاؤ اللہ کی قسم میری ازواج میں سے عائشہ کےعلاوہ اور کسی خاتون کے گھر میں مجھ پر وحی نازل نہیں ہوتی ۔ سیدہ ام سلمہ ﷺ بیان کرتی ہیں میں نے کہا : میں اس بات سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں کہ میں عائشہ کے بارے میں آپ کے ساتھ کوئی برائی کروں ( یعنی آپ کو تکلیف پہنچاؤں )۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7109
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7130
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کےزمانہ اقدس میں چار لوگوں نےقرآن کو جمع کیا (یعنی تحریری صورت میں مخفوظ کیا ) وہ سب انصار سے تعلق رکھتے تھے ( وہ یہ حضرات ہیں ) حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ، حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ، حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ او رحضرت ابوزید رضی اللہ عنہ اللہ تعالی ان لوگوں پررحم کرے
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7130