Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

القرآن الكريم

Quran

6097 hadiths

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23092

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ عَنِ ابْنِ الصَّامِتِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ أَثَّرَ عَلَيْهِ كَرَبَ لِذَلِكَ وَتَرَبَّدَ وَجْهُهُ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ذَاتَ يَوْمٍ فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ قَالَ خُذُوا عَنِّي قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلًا الثَّيِّبُ بِالثَّيِّبِ وَالْبِكْرُ بِالْبِكْرِ الثَّيِّبُ جَلْدُ مِائَةٍ وَرَجْمٌ بِالْحِجَارَةِ وَالْبِكْرُ جَلْدُ مِائَةٍ ثُمَّ نَفْيُ سَنَةٍ

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نزول وحی کے وقت شدت کی کیفیت ہوتی تھی اور روئے انور کا رنگ بدل جاتا تھا ایک دن وحی نازل ہوئی اور وہ کیفیت دور ہونے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھ سے یہ بات حاصل کرلو مجھ سے یہ بات حاصل کرلو اللہ تعالیٰ نے عورتوں کے لئے یہ راستہ متعین کر دیا ہے کہ اگر کوئی کنوارہ لڑکا کنواری لڑکی کے ساتھ بدکاری کرے تو اسے سو کوڑے مارے جائیں اور ایک سال کے لئے جلا وطن کیا جائے اور اگر شادی شدہ مرد شادی شدہ عورت کے ساتھ بدکاری کرے تو اسے سو کوڑے مارے جائیں اور رجم بھی کیا جائے ۔

ابْنِ الصَّامِتِ ← حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ، ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23092

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23114

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَخِي بَنِي رَقَاشٍ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَزَلَ الْوَحْيُ عَلَيْهِ كَرَبَ لِذَلِكَ وَتَرَبَّدَ وَجْهُهُ فَأُوحِيَ إِلَيْهِ ذَاتَ يَوْمٍ فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُذُوا عَنِّي قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلًا الثَّيِّبُ بِالثَّيِّبِ وَالْبِكْرُ بِالْبِكْرِ الثَّيِّبُ جَلْدُ مِائَةٍ ثُمَّ رَجْمًا بِالْحِجَارَةِ وَالْبِكْرُ بِالْبِكْرِ جَلْدُ مِائَةٍ ثُمَّ نَفْيُ سَنَةٍ

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جب وحی نازل ہوتی تھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت تکلیف ہوتی تھی اور روئے انور پر اس کے آثار نظر آتے تھے ایک مرتبہ یہ کیفیت دور ہونے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھ سے یہ بات حاصل کرلو مجھ سے یہ بات حاصل کرلو اللہ تعالیٰ نے عورتوں کے لئے یہ راستہ متعین کر دیا ہے کہ اگر کوئی کنوارہ لڑکا کنواری لڑکی کے ساتھ بدکاری کرے تو اسے سو کوڑے مارے جائیں اور ایک سال کے لئے جلا وطن کیا جائے اور اگر شادی شدہ مرد شادی شدہ عورت کے ساتھ بدکاری کرے تو اسے سو کوڑے مارے جائیں اور رجم بھی کیا جائے ۔

عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّهُ ← حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَخِي بَنِي رَقَاشٍ ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23114

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23138

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ حَدَّثَنِي يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي زِيَادٍ عَنْ عِيسَى بْنِ فَائِدٍ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ أَمِيرِ عَشَرَةٍ إِلَّا يُؤْتَى بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَغْلُولًا لَا يَفُكُّهُ مِنْهَا إِلَّا عَدْلُهُ وَمَا مِنْ رَجُلٍ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ ثُمَّ نَسِيَهُ إِلَّا لَقِيَ اللَّهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَجْذَمُ

حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص بھی دس آدمیوں کا امیر رہا وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے ہاتھ بندھے ہوں گے جنہیں اس کے عدل کے علاوہ کوئی چیز نہیں کھول سکے گی اور جس شخص نے قرآن کریم سیکھا پھر اسے بھول گیا تو وہ اللہ سے کوڑھی بن کر ملے گا۔

عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← عِيسَی بْنِ فَائِدٍ ← يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي زِيَادٍ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ ← عَبْدُ الصَّمَدِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23138

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23161

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ قَالَ قَالَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ نَزَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللَّاتِي يَأْتِينَ الْفَاحِشَةَ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ قَالَ فَفَعَلَ ذَلِكَ بِهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ وَنَحْنُ حَوْلَهُ وَكَانَ إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ أَعْرَضَ عَنَّا وَأَعْرَضْنَا عَنْهُ وَتَرَبَّدَ وَجْهُهُ وَكَرَبَ لِذَلِكَ فَلَمَّا رُفِعَ عَنْهُ الْوَحْيُ قَالَ خُذُوا عَنِّي قُلْنَا نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلًا الْبِكْرُ بِالْبِكْرِ جَلْدُ مِائَةٍ وَنَفْيُ سَنَةٍ وَالثَّيِّبُ بِالثَّيِّبِ جَلْدُ مِائَةٍ ثُمَّ الرَّجْمُ قَالَ الْحَسَنُ فَلَا أَدْرِي أَمِنَ الْحَدِيثِ هُوَ أَمْ لَا قَالَ فَإِنْ شَهِدُوا أَنَّهُمَا وُجِدَا فِي لِحَافٍ لَا يَشْهَدُونَ عَلَى جِمَاعٍ خَالَطَهَا بِهِ جَلْدُ مِائَةٍ وَجُزَّتْ رُءُوسُهُمَا

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی وہ عورتیں جو بے حیائی کا کام کریں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی عورتوں کے ساتھ یہی سلوک کیا ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے ہم بھی ان کے گرد بیٹھے ہوئے تھے ( کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہونے لگی) اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جب بھی وحی نازل ہوتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی توجہ ہماری طرف سے ہٹ جاتی اور ہم بھی ہٹ جاتے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رخ انور کا رنگ بدل جاتا اور سخت تکلیف ہوتی تھی ، بہر حال ! جب وحی کی کیفیت ختم ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھ سے یہ بات حاصل کرلو مجھ سے یہ بات حاصل کرلو اللہ تعالیٰ نے عورتوں کے لئے یہ راستہ متعین کر دیا ہے کہ اگر کوئی کنوارہ لڑکا کنواری لڑکی کے ساتھ بدکاری کرے تو اسے سو کوڑے مارے جائیں اور ایک سال کے لئے جلا وطن کیا جائے اور اگر شادی شدہ مرد شادی شدہ عورت کے ساتھ بدکاری کرے تو اسے سو کوڑے مارے جائیں اور رجم بھی کیا جائے ۔

الْحَسَنِ، ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23161

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23162

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ شُعَيْبٍ الْبَزَّارُ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَضْرَمِيُّ أَخْبَرَنِي أَبُو عَوَانَةَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنْ عِيسَى قَالَ وَكَانَ أَمِيرًا عَلَى الرَّقَّةِ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ أَمِيرِ عَشَرَةٍ إِلَّا جِيءَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَغْلُولَةٌ يَدُهُ إِلَى عُنُقِهِ حَتَّى يُطْلِقَهُ الْحَقُّ أَوْ يُوبِقَهُ وَمَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ ثُمَّ نَسِيَهُ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ أَجْذَمُ

حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص بھی دس آدمیوں کا امیر رہا وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے ہاتھ بندھے ہوں گے جنہیں اس کے عدل کے علاوہ کوئی چیز نہیں کھول سکے گی اور جس شخص نے قرآن کریم سیکھا پھر اسے بھول گیا تو وہ اللہ سے کوڑھی بن کر ملے گا۔

عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← وَكَانَ أَمِيرًا عَلَى الرَّقَّةِ ← عِيسَى؛ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← يعقوب بن إسحاق الحضرمي ← عَلِيُّ بْنُ شُعَيْبٍ الْبَزَّارُ ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23162

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23382

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْعِشَاءِ بِالشَّمْسِ وَضُحَاهَا وَأَشْبَاهِهَا مِنْ السُّوَرِ

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز عشاء میں سورت الشمس اور اس جیسی سورتوں کی تلاوت فرماتے تھے۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23382

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23396

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنِي حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي بُرَيْدَةَ يَقُولُ إِنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ يَقُولُ صَلَّى بِأَصْحَابِهِ صَلَاةَ الْعِشَاءِ فَقَرَأَ فِيهَا اقْتَرَبَتْ السَّاعَةُ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَفْرُغَ فَصَلَّى وَذَهَبَ فَقَالَ لَهُ مُعَاذٌ قَوْلًا شَدِيدًا فَأَتَى الرَّجُلُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاعْتَذَرَ إِلَيْهِ فَقَالَ إِنِّي كُنْتُ أَعْمَلُ فِي نَخْلٍ فَخِفْتُ عَلَى الْمَاءِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلِّ بِالشَّمْسِ وَضُحَاهَا وَنَحْوِهَا مِنْ السُّوَرِ

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نماز عشاء پڑھائی تو اس میں سورت قمر پوری تلاوت کی ایک آدمی ان کی نماز ختم ہونے سے پہلے اٹھا اور اپنی نماز تنہا پڑھ کر واپس چلا گیا حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے اس کے متعلق سخت باتیں کہیں وہ آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں باغات میں کام کرتا ہوں اور مجھے پانی ختم ہو جانے کا اندیشہ تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (اے معاذ) سورت الشمس اور اس جیسی سورتیں نماز میں پڑھا کرو ۔

أَبي بُرَيْدَةَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← حُسَيْنٌ ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23396

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23640

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ فُضِّلَتْ هَذِهِ الْأُمَّةُ عَلَى سَائِرِ الْأُمَمِ بِثَلَاثٍ جُعِلَتْ لَهَا الْأَرْضُ طَهُورًا وَمَسْجِدًا وَجُعِلَتْ صُفُوفُهَا عَلَى صُفُوفِ الْمَلَائِكَةِ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ذَا وَأُعْطِيتُ هَذِهِ الْآيَاتِ مِنْ آخِرِ الْبَقَرَةِ مِنْ كَنْزٍ تَحْتَ الْعَرْشِ لَمْ يُعْطَهَا نَبِيٌّ قَبْلِي قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ كُلُّهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے (مرفوعاً) مروی ہے کہ اس امت کو دیگر امتوں پر تین چیزوں میں فضیلت دی گئی ہے اس امت کے لئے روئے زمین کو سجدہ گاہ اور باعث طہارت بنایا گیا ہے اس کی صفیں فرشتوں کی صفوں کی طرح بنائی گئی ہیں یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے اور اس امت کو سورت بقرہ کی آخری آیتیں عرش الہٰی کے نیچے ایک خزانے سے دی گئی ہیں اور مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں ۔

حُذَيْفَةَ ← رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ← أَبُو مَالِکٍ الْأَشْجَعِيُّ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23640

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23822

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ اللَّيْثِيِّ عَنْ خَالِدِ بْنِ خَالِدٍ الْيَشْكُرِيِّ قَالَ خَرَجْتُ زَمَانَ فُتِحَتْ تُسْتَرُ حَتَّى قَدِمْتُ الْكُوفَةَ فَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا أَنَا بِحَلْقَةٍ فِيهَا رَجُلٌ صَدَعٌ مِنْ الرِّجَالِ حَسَنُ الثَّغْرِ يُعْرَفُ فِيهِ أَنَّهُ مِنْ رِجَالِ أَهْلِ الْحِجَازِ قَالَ فَقُلْتُ مَنْ الرَّجُلُ فَقَالَ الْقَوْمُ أَوَ مَا تَعْرِفُهُ فَقُلْتُ لَا فَقَالُوا هَذَا حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقَعَدْتُ وَحَدَّثَ الْقَوْمَ فَقَالَ إِنَّ النَّاسَ كَانُوا يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْخَيْرِ وَكُنْتُ أَسْأَلُهُ عَنْ الشَّرِّ فَأَنْكَرَ ذَلِكَ الْقَوْمُ عَلَيْهِ فَقَالَ لَهُمْ إِنِّي سَأُخْبِرُكُمْ بِمَا أَنْكَرْتُمْ مِنْ ذَلِكَ جَاءَ الْإِسْلَامُ حِينَ جَاءَ فَجَاءَ أَمْرٌ لَيْسَ كَأَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ وَكُنْتُ قَدْ أُعْطِيتُ فِي الْقُرْآنِ فَهْمًا فَكَانَ رِجَالٌ يَجِيئُونَ فَيَسْأَلُونَ عَنْ الْخَيْرِ فَكُنْتُ أَسْأَلُهُ عَنْ الشَّرِّ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيَكُونُ بَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ شَرٌّ كَمَا كَانَ قَبْلَهُ شَرٌّ فَقَالَ نَعَمْ قَالَ قُلْتُ فَمَا الْعِصْمَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ السَّيْفُ قَالَ قُلْتُ وَهَلْ بَعْدَ هَذَا السَّيْفِ بَقِيَّةٌ قَالَ نَعَمْ تَكُونَ إِمَارَةٌ عَلَى أَقْذَاءٍ وَهُدْنَةٌ عَلَى دَخَنٍ قَالَ قُلْتُ ثُمَّ مَاذَا قَالَ ثُمَّ تَنْشَأُ دُعَاةُ الضَّلَالَةِ فَإِنْ كَانَ لِلَّهِ يَوْمَئِذٍ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةٌ جَلَدَ ظَهْرَكَ وَأَخَذَ مَالَكَ فَالْزَمْهُ وَإِلَّا فَمُتْ وَأَنْتَ عَاضٌّ عَلَى جِذْلِ شَجَرَةٍ قَالَ قُلْتُ ثُمَّ مَاذَا قَالَ يَخْرُجُ الدَّجَّالُ بَعْدَ ذَلِكَ مَعَهُ نَهَرٌ وَنَارٌ مَنْ وَقَعَ فِي نَارِهِ وَجَبَ أَجْرُهُ وَحُطَّ وِزْرُهُ وَمَنْ وَقَعَ فِي نَهَرِهِ وَجَبَ وِزْرُهُ وَحُطَّ أَجْرُهُ قَالَ قُلْتُ ثُمَّ مَاذَا قَالَ ثُمَّ يُنْتَجُ الْمُهْرُ فَلَا يُرْكَبُ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ الصَّدْعُ مِنْ الرِّجَالِ الضَّرْبُ وَقَوْلُهُ فَمَا الْعِصْمَةُ مِنْهُ قَالَ السَّيْفُ كَانَ قَتَادَةُ يَضَعُهُ عَلَى الرِّدَّةِ الَّتِي كَانَتْ فِي زَمَنِ أَبِي بَكْرٍ وَقَوْلُهُ إِمَارَةٌ عَلَى أَقْذَاءٍ وَهُدْنَةٌ يَقُولُ صُلْحٌ وَقَوْلُهُ عَلَى دَخَنٍ يَقُولُ عَلَى ضَغَائِنَ قِيلَ لِعَبْدِ الرَّزَّاقِ مِمَّنْ التَّفْسِيرُ قَالَ عَنْ قَتَادَةَ زَعَمَ

خالد بن خالد یشکری کہتے ہیں کہ تستر جس زمانے میں فتح ہوا میں وہاں سے نکل کر کوفہ پہنچا میں مسجد میں داخل ہوا تو وہاں ایک حلقہ لگا ہوا تھا یوں محسوس ہوتا تھا کہ ان کے سر کاٹ دیئے گئے ہیں وہ ایک آدمی کی حدیث کو بڑی توجہ سے سن رہے تھے میں ان کے پاس جا کر کھڑا ہوگیا اسی دوران ایک اور آدمی آیا اور میرے پہلو میں کھڑا ہوگیا میں نے اس سے پوچھا کہ یہ صاحب کون ہیں ؟ اس نے مجھ سے پوچھا کیا آپ بصرہ کے رہنے والے ہیں میں نے کہا جی ہاں! اس نے کہا کہ میں پہلے ہی سمجھ گیا تھا کہ اگر آپ کوفی ہوتے تو ان صاحب کے متعلق سوال نہ کرتے یہ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ ہیں ۔ میں ان کے قریب گیا تو انہیں یہ کہتے ہوئے سنا کہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر کے متعلق سوال کرتے تھے اور میں شر کے متعلق کیونکہ میں جانتا تھا کہ خیر مجھے چھوڑ کر آگے نہیں جاسکتی ایک دن میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم کیا اس خیر کے بعد شر ہوگا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حذیفہ ! کتاب اللہ کو سیکھو اور اس کے احکام کی پیروی کرو (تین مرتبہ فرمایا میں نے پھر اپنا سوال دہرایا نبی کریم ، صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فتنہ اور شر ہوگا میں نے پوچھا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم کیا اس خیر کے بعد شر ہوگا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا حذیفہ رضی اللہ عنہ ! کتاب اللہ کو سیکھو اور اس کے احکام کی پیروی کرو میں نے پوچھا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم کیا اس خیر کے بعد شر ہوگا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دھوئیں پر صلح قائم ہوگی اور گندگی پر اتفاق ہوگا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! دھوئیں پر صلح قائم ہونے سے کیا مراد ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ اس صلح پر دل سے راضی نہیں ہوں گے۔ پھر میرے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان وہی سوال جواب ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک ایسا فتنہ آئے گا جو اندھا بہرا کر دے گا اس پر جہنم کے دروازوں کی طرف بلانے والے لوگ مقرر ہوں گے اے حذیفہ ! اگر تم اس حال میں مرو کہ تم نے کسی درخت کے تنے کو اپنے دانتوں تلے دبا رکھا ہو یہ اس سے بہتر ہوگا کہ تم ان میں سے کسی کی پیروی کرو۔ میں نے پوچھا پھر کیا ہوگا؟ فرمایا پھر دجال کا خروج ہوگا میں نے پوچھا اس کے ساتھ کیا چیز ہوگی؟ فرمایا اس کے ساتھ نہر یا پانی اور آگ ہوگی جو شخص اس کی نہر میں داخل ہوجائے گا اس کا اجر ضائع اور وبال پختہ ہو جائے گا اور جو شخص اس کی آگ میں داخل ہوگا اس کا اجر پختہ اور گناہ معاف ہو جائیں گے میں نے پوچھا پھر کیا ہوگا؟ فرمایا اگر تمہارے گھوڑے نے بچہ دیا تو اس کے بچے پر سوار ہونے کی نوبت نہیں آئے گی کہ قیامت قائم ہو جائے گی ۔

خَالِدِ بْنِ خَالِدٍ الْيَشْكُرِيِّ ← نَصْرُ بْنُ عَاصِمٍ اللَّيْثِيُّ ← قَتَادَةَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23822

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ كِتَابُ الطَّلَاقِ · حديث 4268

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمْ أَزَلْ حَرِيصًا أَنْ أَسْأَلَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَنِ الْمَرْأَتَيْنِ اللَّتَيْنِ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ اللَّهُ: {إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا} [التحريم: 4]، حَتَّى حَجَّ عُمَرُ فَحَجَجْتُ مَعَهُ، فَلَمَّا كَانَ فِي بَعْضِ الطَّرِيقِ عَدَلَ لِيَتَوَضَّأُ، وَعَدَلْتُ مَعَهُ بِالْإِدَاوَةِ، فَتَبَرَّزَ، ثُمَّ أَتَانِي، فَسَكَبْتُ عَلَى يَدَيْهِ فَتَوَضَّأَ، فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، مَنِ الْمَرْأَتَانِ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّتَانِ قَالَ اللَّهُ: {إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا} [التحريم: 4]، فَقَالَ عُمَرُ: وَاعَجَبًا لَكَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، ثُمَّ قَالَ: هِيَ عَائِشَةُ، وَحَفْصَةُ، ثُمَّ أَنْشَأَ يَسُوقُ الْحَدِيثَ، فَقَالَ: كُنَّا مَعْشَرُ قُرَيْشٍ قَوْمًا نَغْلِبُ النِّسَاءَ، فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ وَجَدْنَاهُمْ قَوْمًا تَغْلِبُهُمْ نِسَاؤُهُمْ، فَطَفِقَ نِسَاؤُنَا يَتَعَلَّمْنَ مِنْ نِسَائِهِمْ، وَكَانَ مَنْزِلِي فِي بَنِي أُمَيَّةَ بْنِ زَيْدٍ فِي الْعَوَالِي، قَالَ: فَتَغَضَّبْتُ يَوْمًا عَلَى امْرَأَتِي، فَإِذَا هِيَ تُرَاجِعْنِي، فَأَنْكَرْتُ [ص:86] أَنْ تُرَاجِعَنِي، فَقَالَتْ: مَا تُنْكِرُ أَنْ أُرَاجِعَكَ، فَوَاللَّهِ إِنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَتُرَاجِعْنَهُ، وَتَهْجُرُهُ إِحْدَاهُنَّ الْيَوْمَ إِلَى اللَّيْلِ، قَالَ: فَانْطَلَقْتُ، فَدَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ، فَقُلْتُ: أَتُرَاجِعِينَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: نَعَمْ، وَتَهْجُرُهُ إِحْدَانَا الْيَوْمَ إِلَى اللَّيْلِ، قَالَ: قَدْ قُلْتِ، قَدْ خَابَ مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ مِنْكُنَّ، وَخَسِرَ، أَفَتَأْمَنُ إِحْدَاكُنَّ أَنْ يَغْضَبَ اللَّهُ عَلَيْهَا لِغَضَبِ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا هِيَ قَدْ هَلَكَتْ، لَا تُرَاجِعِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا تَسْأَلِيهِ شَيْئًا، وَسَلِينِي مَا بَدَا لَكِ، وَلَا يَغُرَّنَّكِ إِنْ كَانَتْ جَارَتُكِ هِيَ أَوْسَمُ وَأَحَبُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْكِ، - يُرِيدُ عَائِشَةَ - قَالَ: وَكَانَ لِي جَارٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، وَكُنَّا نَتَنَاوَبُ النُّزُولَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَنْزِلُ يَوْمًا، وأَنْزِلُ يَوْمًا، فَيَأْتِينِي بِخَبَرِ الْوَحْيِ وَغَيْرِهِ، وَأَنْزِلُ فَآتِيهِ بِمِثْلِ ذَلِكَ، وَكُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّ غَسَّانَ تُنْعِلُ الْخَيْلَ لِتَغْزُوَنَا، قَالَ: فَنَزَلَ صَاحِبِي يَوْمًا ثُمَّ أَتَانِي، فَضَرَبَ عَلَى بَابِي، ثُمَّ نَادَانِي، فَخَرَجْتُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: حَدَثَ أَمْرٌ عَظِيمٌ، فَقُلْتُ: مَاذَا؟ أَجَاءَتْ غَسَّانُ؟، قَالَ: بَلْ أَعْظَمُ مِنْ ذَلِكَ وَأَطْوَلُ، طَلَّقَ رَسُولُ اللَّهِ نِسَاءَهُ، فَقُلْتُ: خَابَتْ حَفْصَةُ وَخَسِرَتْ، قَدْ كُنْتُ أَظُنُّ هَذَا كَائِنًا، فَلَمَّا صَلَّيْتُ الصُّبْحَ شَدَدْتُ عَلَيَّ ثِيَابِي، ثُمَّ نَزَلْتُ، فَدَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ، فَإِذَا هِيَ تَبْكِي، فَقُلْتُ: أَطَلَّقَكُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: لَا أَدْرِي، هُوَ ذَا، هُوَ مُعْتَزِلٌ فِي هَذِهِ الْمَشْرُبَةِ، [ص:87] قَالَ: فَأَتَيْتُ غُلَامًا لَهُ أَسْوَدَ، فَقُلْتُ: اسْتَأْذَنْ لِعُمَرَ فَدَخَلَ الْغُلَامُ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَيَّ، وَقَالَ: قَدْ ذَكَرْتُكَ لَهُ فَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا، فَانْطَلَقْتُ حَتَّى أَتَيْتُ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا قَوْمٌ حَوْلَ الْمِنْبَرِ جُلُوسٌ يَبْكِي بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، قَالَ: فَجَلَسْتُ قَلِيلًا، ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَجِدُ، فَأَتَيْتُ الْغُلَامَ، فَقُلْتُ: اسْتَأْذَنْ لِعُمَرَ فَدَخَلَ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَيَّ، فَقَالَ: قَدْ ذَكَرْتُكَ لَهُ، فَصَمَتَ، فَرَجَعْتُ فَجَلَسْتُ إِلَى الْمِنْبَرِ، ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَجِدُ، فَأَتَيْتُ الْغُلَامَ، فَقُلْتُ: اسْتَأْذَنْ لِعُمَرَ فَدَخَلَ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَيَّ، فَقَالَ: قَدْ ذَكَرْتُكَ لَهُ فَسَكَتَ، فَوَلَّيْتُ مُدْبِرًا، فَإِذَا الْغُلَامُ يَدْعُونِي، وَيَقُولُ: ادْخُلْ فَقَدْ أَذِنَ لَكَ، فَدَخَلْتُ فَسَلَّمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا هُوَ مُتَّكِئٌ عَلَى رَمْلِ حَصِيرٍ قَدْ أَثَّرَ بِجَنْبِهِ، فَقُلْتُ: أَطَلَّقْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ نِسَاءَكَ؟ قَالَ: فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَيَّ، وَقَالَ: «لَا»، فَقُلْتُ: اللَّهُ أَكْبَرُ لَوْ رَأَيْتَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكُنَّا مَعْشَرُ قُرَيْشٍ قَوْمًا نَغْلِبُ النِّسَاءَ، فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ وَجَدْنَا قَوْمًا تَغْلِبُهُمْ نِسَاؤُهُمْ، فَطَفِقَ نِسَاؤُنَا يَتَعَلَّمْنَ مِنْ نِسَائِهِمْ، فَتَغَضَّبْتُ عَلَى امْرَأَتِي يَوْمًا، فَإِذَا هِيَ تُرَاجِعَنِي، فَأَنْكَرْتُ ذَلِكَ عَلَيْهَا، فَقَالَتْ: أَتُنْكِرُ أَنْ أُرَاجِعَكَ، فَوَاللَّهِ إِنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُرَاجِعْنَهُ، وَتَهْجُرُهُ إِحْدَاهُنَّ الْيَوْمَ إِلَى اللَّيْلِ، قَالَ: فَقُلْتُ: قَدْ خَابَ مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ مِنْهُنَّ، وَخَسِرَتْ، أَتَأْمَنُ إِحْدَاهُنَّ أَنْ يَغْضَبَ اللَّهُ عَلَيْهَا لِغَضَبِ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا هِيَ قَدْ هَلَكَتْ، قَالَ: فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا [ص:88] رَسُولَ اللَّهِ، فَدَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ، فَقُلْتُ لَهَا: لَا تُرَاجِعِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا تَسْأَلِيهِ شَيْئًا، وَسَلِينِي مَا بَدَا لَكَ، وَلَا يَغُرَّنَّكِ أَنْ كَانَتْ جَارَتُكِ هِيَ أَوْسَمُ، وَأَحَبُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْكِ، قَالَ: فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُخْرَى، فَقُلْتُ: أَسْتَأْنِسُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «نَعَمْ»، فَجَلَسْتُ، فَرَفَعْتُ رَأْسِي فِي الْبَيْتِ، فَوَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ فِيهِ شَيْئًا يَرُدُّ الْبَصَرَ إِلَّا أُهُبًا ثَلَاثَةً، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يُوَسِّعَ عَلَى أُمَّتِكَ، فَقَدْ وَسَّعَ اللَّهُ عَلَى فَارِسَ وَالرُّومِ وَهُمْ لَا يَعْبُدُونَهُ، قَالَ: فَاسْتَوَى جَالِسًا، وَقَالَ: «أَفِي شَكٍّ أَنْتَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ، أُولَئِكَ قَوْمٌ عُجِّلَتْ لَهُمْ طَيِّبَاتُهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا»، فَقُلْتُ: اسْتَغْفِرْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَكَانَ أَقْسَمَ لَا يَدْخُلُ عَلَيْهِنَّ شَهْرًا مِنْ شِدَّةِ مَوْجِدَتِهِ عَلَيْهِنَّ حَتَّى عَاتَبَهُ اللَّهُ

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں ایک طویل عرصے سے اس بات کا خواہش مند تھا کہ میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ان دو خواتین کے بارے میں دریافت کروں: جو نبی اکرمﷺ کی ازواج سے تعلق رکھتی ہیں، جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے۔ ”اگر تم دونوں اللہ کی بارگاہ میں ، توبہ کر لو( تو یہ مناسب ہو گا)، کیونکہ تم دونوں کے دل مائل ہو گئے تھے “۔ (حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں)، یہاں تک کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ حج کے لیے گئے ان کے ہمراہ میں بھی حج کے لیے گیا راستے میں کسی جگہ پر وہ ایک طرف ہٹ گئے (انہوں نے قضائے حاجت کی) پھر وہ وضو کرنے لگے میں بھی ان کے ہمراہ ایک برتن لے کر ہٹ گیا تھا انہوں نے قضائے حاجت کی پھر وہ میرے پاس آئے میں نے ان کے دونوں ہاتھوں پر پانی انڈیلا انہوں نے وضو کیا میں نے کہا: اے امیر المومنین ! نبی اکرمﷺ کی ازواج سے تعلق رکھنے والی وہ دو خواتین کو ن سی تھیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے۔ ”اگر تم دونوں اللہ کی بارگاہ میں ، توبہ کر لو( تو یہ مناسب ہو گا)، کیونکہ تم دونوں کے دل مائل ہو گئے تھے “۔ حضرت عمررضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے ابن عباس تم پر حیرت ہے (کہ تم نے پہلے اس بارے میں سوال کیوں نہیں کیا) پھر انہوں نے بتایا: عائشہ اور حفصہ تھیں اس کے بعد انہوں نے پورا واقعہ بیان کیا۔ انہوں نے بتایا : ہم قریش کے لوگ اپنی بیویوں پر غالب تھے جب ہم مدینہ آئے، تو ہمیں ایسے لوگوں سے واسطہ پڑا جن کی عورتیں ان پر غالب تھیں ہماری خواتین نے ان سے طریقہ سیکھنا شروع کر دیا میری رہائش نواحی علاقے میں بنو امیہ بن زید کے محلے میں تھی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک دن میں نے اپنی بیوی پر غصے کا اظہار کیا، تو اس نے مجھے پلٹ کر جواب دیا: میں اس کے پلٹ کر جواب دینے پر بہت حیران ہوا تو اس نے کہا: آپ اس بات پر اعتراض کر رہے ہیں کہ میں آپ کو جواب دے رہی ہوں حالانکہ! اللہ کی قسم ! نبی اکرمﷺ کی ازواج بھی نبی اکرم ﷺ کو جواب دے دیتی ہیں اور ان میں سے ایک تو صبح سے لے کر شام تک نبی اکرمﷺ سے لاتعلق (یا ناراض) رہتی ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں وہاں سے روانہ ہوا اور حفصہ کے پاس آیا میں کہا: کیا تم پلٹ کر نبی اکرمﷺ کو جواب دیتی ہو انہوں نے جواب دیا: جی ہاں اور ہم میں سے ایک تو صبح سےلے کر شام تک نبی اکرمﷺ سے لاتعلق رہتی ہے، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم یہ بات کہہ رہی ہو تم میں سے جو بھی ایسا کرتی ہے وہ رسواء ہو جائے گی اور خسارے کا شکار ہو جائے گی؟ کیا تمہیں اس بات سے ڈر نہیں لگتا کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کی ناراضگی کی وجہ سے اس پر ناراض ہو جائے گا اور اس صورت میں وہ ہلاکت کا شکار ہو جائے گی تم نبی اکرم ﷺ کو پلٹ کر جواب نہ دیا کرو اور نبی اکرمﷺ سے کسی چیز کا مطالبہ نہ کیا کرو تمہاری جو ضرورت ہو مجھے کہہ دیا کرو ار یہ چیز تمہیں غلط فہمی کا شکار نہ کرے کہ تمہاری پڑوسن نبی اکرمﷺ کے نزدیک زیادہ خوبصورت اور زیادہ محبوب ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی مراد سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تھیں۔ حضر ت عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میرا ایک انصاری پڑوسی تھا ہم لوگ باری باری نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے تھے ایک دن وہ چلا جاتا تھا ایک دن میں آ جایا کرتا تھا ایک مرتبہ وہ وحی یا اس سے متعلق دیگر کسی چیز کی اطلاع لے آتا تھا جب میں نبی اکرمﷺ کی خدمت میں آتا تھا تو اس طرح اطلاع میں بھی لے آتا تھا (اور اسے بتا دیتا تھا) ان دنوں ہم یہ بات چیت کر رہے تھے کہ غسان قبیلے کے لوگ ہمارے ساتھ لڑائی کی تیاریاں کر رہے ہیں ایک دن میرا ساتھی نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا پھر وہ میرے پاس آیا اس نے میرے دروازے کو کھٹکھٹایا اور مجھے آواز دی میں نکل کر اس کے پاس آیا، تو اس نے کہا: ایک عظیم واقعہ رونما ہو گیا ہے میں نے دریافت کیا: کیا ہو ا ہے کیا غسان قبیلے کے لوگ آ گئے ہیں اس نے کہا : نہیں اس سے زیادہ بڑا اور زیادہ لمبا واقعہ ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے اپنی ازواج کو طلاق دے دی ہے، تو میں نے کہا: حفصہ رسو ا ہو گئی اور خسارے کا شکار ہو گئی، مجھے اندازہ تھا کہ یہ ہو کے رہے گا۔ (حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں) جب میں نے صبح کی نماز ادا کی تو میں نے چادر لپیٹی اور (مدینہ منورہ کی طرف آ گیا) میں حفصہ کے پاس آیا وہ رو رہی تھی میں نے دریافت کیا: اللہ کے رسول نے تم لوگوں کو طلاق دے دی ہے؟ اس نے جواب دیا : مجھے نہیں معلوم وہ وہاں ہیں، آپﷺ اس بالا خانے میں علحدہ رہ رہے ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرمﷺ کے سیاہ فام غلام کے پاس آیا میں نے کہا: تم عمر کے لیے اندر آنے کی اجازت مانگو وہ لڑکا اندر گیا پھر وہ نکل کر باہر آیا اور بولا میں نے نبی اکرمﷺ کے سامنے آپ کا تذکرہ کیا ہے، لیکن نبی اکرمﷺ نے کچھ ارشاد نہیں فرمایا (حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتےہیں) میں وہاں سے چلا اور مسجد میں آ گیا اور وہاں منبر کے قریب کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے اور رو رہے تھے میں ان کے پاس تھوڑی دیر بیٹھا رہا پھر میری پریشانی مجھ پر غالب آ گئی میں اس لڑکے کے پاس آیا میں نے کہا: تم عمر کے لیے اجازت مانگو وہ اندر گیا پھر نکل کر باہر آیا اور بولا میں میں نے نبی اکرمﷺ کے سامنے آپ کا ذکر کیا تھا، لیکن نبی اکرمﷺ خاموش رہے (حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتےہیں) میں وہاں سے واپس آیا اور منبر کے پاس بیٹھ گیا پھر میری پریشانی مجھ پر غالب آ گئی میں اس لڑکے کے پاس آیا اور میں نےکہا: تم عمر کے لیے اند آنے کی اجازت مانگو وہ اندر گیا پھر وہ نکل کر باہر آیا اور بولا میں نے نبی اکرمﷺ کے سامنے آپ کا ذکر کیا، لیکن نبی اکرمﷺ خاموش رہے (حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتےہیں) میں مڑ کر واپس آیا اسی دوران اس لڑکے نے مجھے بلایا اور بولا آپ اند تشریف لے جائیں نبی اکرم ﷺ نے آپ کو اجازت د ےدی ہے۔ (حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) میں اندر داخل ہوا تو میں نے نبی اکرم ﷺ کو سلام کیا نبی اکرمﷺ اس وقت چٹائی پر ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے جس کا نشان آپﷺ کے پہلو پر موجود تھا میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ ! کیا آپ ﷺ نے اپنی ازواج کو طلاق دے دی ہے؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرمﷺ نے سر اٹھا کر میری طرف دیکھا اور فرمایا: جی نہیں، تو میں نے اللہ اکبر کہا (میں نے عرض کی) یا رسول اللہﷺ! آپ نے یہ بات ملاحظہ فرمائی ہے ہم قریش کے لوگ ایسے لوگ تھے جو اپنی بیویوں پر غالب تھے جب ہم مدینہ آئے، تو ہم نے وہاں ایسے لوگوں کو پایا جن کی عورتیں ان پر غالب تھیں ہماری خواتین نے ان کی خواتین سے طریقہ سیکھنا شروع کر دیا ایک دن میں اپنی بیوی پر غضب ناک ہوا تو اس نے مجھے پلٹ کر جواب دیا: میں نے اس کی اس بات پر حیرانگی کا اظہار کیا، تو اس نے کہا: آپ اس بات پر حیرانگی کا اظہار کر رہے ہیں کہ میں نے آپ کو پلٹ کر جواب دیا ہے: اللہ کی قسم ! نبی اکرمﷺ کی ازواج نبی اکرمﷺ کو جواب دے دیتی ہیں اور ان میں سے کوئی ایک صبح سے لے کر شام تک نبی اکرم ﷺ سے لا تعلق (یا ناراض) رہتی ہے، تو میں نے کہا: ان میں سے جو ایسا کرتی ہے وہ رسوا ہو جائے گی اور خسارے کا شکار ہو جائے گی کیا اسے اس بات کا ڈر نہیں ہے، اللہ تعالیٰ اپنے رسول کی ناراجگی کی وجہ سے اس سے ناراض ہو جائے گا اور اس صورت میں وہ ہلاکت کا شکار ہو جائےگی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتےہیں نبی اکرمﷺ مسکرا دئیے میں نے عرض کی: یارسول اللہ ﷺ! میں حفصہ کے پاس گیا میں نے اس سے کہا تم نبی اکرم ﷺ کو آگے سے جواب نہ دیا کرو او ر نبی اکرمﷺ سے کسی چیز کا مطالبہ نہ کیا کرو۔ تمہیں جو چاہئے ہو مجھ سے کہہ دیاکرو، اور یہ چیز تمہیں غلط فہمی کا شکار نہ کرے کہ تمہاری پڑوسن نبی اکرمﷺ کے نزدیک تمہارے مقابلے میں زیادہ خوب صورت اور زیادہ محبوب ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتےہیں: تو نبی اکرمﷺ دوسری مرتبہ مسکرا دئیے۔ میں نے عرض کی: یار سول اللہﷺ! کیا میں ٹھہر جاؤں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جی ہاں ، تو میں بیٹھ گیا میں نے اپنا سر اٹھا کر گھر کا جائزہ لیا اللہ کی قسم ! میری نگاہ صرف تین کھالوں پر پڑی میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ آپﷺ کی امت کو کشادگی عطاکرے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اہل فارس روم کو کشادگی عطا کی ہے حالانکہ وہ لوگ اللہ تعالیٰ کی عبادت بھی نہیں کرتے ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے آپﷺ نے ارشاد فرمایا: اے خطاب کے صاحبزادے! کیا تمہیں شک ہے یہ وہ لوگ ہیں، جنہیں ان کی نعمتیں دنیاوی زندگی میں پہلے دے دی گئی ہیں میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! آپ میرے لیے دعائے مغفرت کیجئے۔ نبی اکرمﷺ نے یہ قسم اٹھائی تھی کہ آپ اپنی ازواج کے پاس ایک ماہ تک تشریف نہیں لے جائیں گے یہ آپﷺ نے ان سے شدید ناراضگی کی وجہ سے فرمایا تھا ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس حوالے سے آپ کو تنبیہ کی۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیا ن کرتی ہیں: جب انتیس دن گزر گئے، تو نبی اکرمﷺ میرے ہاں تشریف ہائے آپﷺ نے سب سے پہلے مجھے شرف بخشا میں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! آپ نے تو یہ قسم اٹھائی تھی کہ آپ ایک ماہ تک ہمارے پاس تشریف نہیں لائیں گے اور آپﷺ انتیس دن کےبعد تشریف لے آئے ہیں میں نے ان کی گنتی کی ہے۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: مہینہ کبھی انتیس دن کا بھی ہوتا ہے ، پھر آپﷺ نے ارشاد فرمایا: اے عائشہ! میں تمہارے سامنے ایک معاملے کا ذکر کرنے لگا ہون میں یہ نہیں چاہتا کہ تم اس بارے میں جلد بازی کا مظاہر ہ کرو جب تک تم اس بارے میں اپنے والدین سے مشورہ نہیں کر لیتی۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: پھر نبی اکرم ﷺ نے میرے سامنے یہ آیت تلاوت کی۔ ”اے نبی! تم اپنی ازواج سے کہہ دو کہ اگر تم لوگ دنیاوی زندگی اور اس کی زینت حاصل کرنا چاہتی ہو، تو آگے آؤ میں تمہیں مال و دولت دیتا ہوں اور مناسب طریقے سے رخصت کر دیتا ہوں اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور آخرت کے گھر کو چاہتی ہو، تو بے شک اللہ تعالیٰ نے تم میں سے نیکی کرنے والوں کے لیے عظیم اجر تیار کیا ہوا ہے“۔سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرمﷺ یہ بات جانتے تھے کہ اللہ کی قسم ! میرے والدین مجھے کبھی بھی نبی اکرمﷺ سے علیحدگی کی ہدایت نہیں کریں گے میں نے عرض کی: کیا میں اس معاملے میں اپنے والدین سے مشورہ کروں؟ بے شک میں اللہ تعالیٰ، اس کے رسول اور آخرت کے گھر کو اختیار کرتی ہوں۔

لَمْ أَزَلْ حَرِيصًا ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْد اللَّهِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › The Divorce Book · Hadith 4268

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ شُرُوطِ الصَّلَاةِ · حديث 1697

أخبرنا الفضل بن حباب الْجُمَحِيُّ حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ عَنْ رِبْعِيٍّ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "فُضِّلْنَا عَلَى النَّاسِ بِثَلَاثٍ جُعِلَتِ الْأَرْضُ كُلُّهَا مَسْجِدًا وَجُعِلَ تُرْبَتُهَا لَنَا طَهُورًا وَجُعِلَتْ صُفُوفُنَا كَصُفُوفِ الْمَلَائِكَةِ وَأُوتِيتُ هَؤُلَاءِ الْآيَاتِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ مِنْ كَنْزٍ تَحْتَ الْعَرْشِ لَمْ يُعْطَهُ أَحَدٌ قَبْلِي وَلَا يعطى أحد بعدي" 1.

حضرت حذیفہ ؓ روایت کرتے ہیں :نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے :ہمیں دوسر ے لوگوں سے تین حوالے سے فضلیت دی گی ہے ہمارے لئے تمام روئے زمین مسجد بنا دیا گیا ہے زمین کی مٹی کو ہمارے لئے طہارت کے حصول کا ذریعہ بنادیا گیا ہے ۔اور ہماری صفوں کو فرشتوں کی صفوں کی مانند قرار دیا گیا ہے ، اورمجھے سورہ بقرہ کی یہ آخری آیات عرش کے نیچے موجود خزانے میں سے دی گی ہے یہ مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں میرے بعد بھی کسی کو نہیں دی جائے گی ۔

حُذَيْفَةَ ← رِبْعِيٍّ ← أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← الفضل بن حباب الْجُمَحِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the terms of prayer · Hadith 1697

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ بَابُ اللِّعَانِ · حديث 4286

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يَقُولُ: سُئِلْتُ عَنِ الْمُتَلَاعِنِينَ فِي إِمْرَةِ مُصْعَبٍ، أَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا؟، فَمَا دَرَيْتُ مَا أَقُولُ فِيهِ، فَقُمْتُ مَكَانِي إِلَى مَنْزِلِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَهُوَ قَائِلٌ، فَاسْتَأْذَنْتُهُ، [ص:120] فَقَالَ الْغُلَامُ: إِنَّهُ قَائِلٌ، فَقُلْتُ: مَا بُدَّ مِنْ أَنْ أَدْخُلَ عَلَيْهِ فَسَمِعَ صَوْتِي، فَعَرَفَهُ، وَقَالَ: أَسَعِيدٌ؟، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: ادْخُلْ مَا جِئْتَ هَذِهِ السَّاعَةَ إِلَّا لِحَاجَةٍ، فَدَخَلْتُ، وَهُوَ مُفْتَرِشٌ بَرْذَعَةَ رَحْلِهِ مُتَوَسِّدٌ وِسَادَةً حَشْوهَا لِيفٌ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، الْمُتَلَاعِنَانِ، أَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا، فَقَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، نَعَمْ إِنَّ أَوَّلَ مَنْ سَأَلَ عَنْ ذَلِكَ فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ، أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ أَحَدَنَا رَأَى امْرَأَتَهُ عَلَى فَاحِشَةٍ كَيْفَ يَصْنَعُ؟ إِنْ تَكَلَّمَ تَكَلَّمَ بِأَمْرٍ عَظِيمٍ، وَإِنْ سَكَتَ سَكَتَ عَلَى مِثْلِ ذَلِكَ، فَلَمْ يُجِبْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا كَانَ بَعْدُ ذَلِكَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ: إِنَّ الَّذِي سَأَلْتُكَ عَنْهُ قَدِ ابْتُلِيتُ بِهِ، «فَأَنْزَلَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا هَؤُلَاءِ الْآيَاتِ فَدَعَا الرَّجُلَ، فَتَلَاهُنَّ عَلَيْهِ وَوَعَظَهُ وَذَكَّرَهُ، وَأَخْبَرَهُ أَنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الْآخِرَةِ»، فَقَالَ: لَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، مَا كَذَبْتُ عَلَيْهَا، «ثُمَّ دَعَا بِالْمَرْأَةِ فَوَعَظَهَا وَذَكَّرَهَا، وَأَخْبَرَهَا أَنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الْآخِرَةِ»، فَقَالَتْ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنَّهُ لَكَاذِبٌ، «فَبَدَأَ بِالرَّجُلِ، فَشَهِدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لِمَنِ الصَّادِقِينَ وَالْخَامِسَةُ أَنَّ لَعْنَةَ اللَّهِ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ مِنَ الْكَاذِبِينَ، ثُمَّ ثَنَّى بِالْمَرْأَةِ فَشَهِدَتْ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لِمَنِ الْكَاذِبِينَ وَالْخَامِسَةُ أَنَّ غَضِبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ، ثُمَّ فَرَّقَ بَيْنَهُمَا»

لعان کے اس طریقے کا تذکرہ جو ان دو میاں بیوی کے درمیان کرنا ضروری ہے جن کی حالت ہم نے بیان کی ہے

سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، ← عَبْدُ اللَّهِ ← حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › The curse section · Hadith 4286

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ الْاِخْلَاصِ وَاَعْمَالِ السِّرِّ · حديث 408

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ قَالَ أَنْبَأَنَا حيوة بن شريح قال حدثني الْوَلِیْدُ بْنُ اَبِیْ الْوَلِیْدِ اَبُوْ عُثْمَانَ الْمَدَنِیُّ اَنَّ عُقْبَۃَ بْنَ مُسْلِمِ حَدَّثَہٗ اَنَّ شُفَیًّا الْاَصْبَحِیَّ حَدَّثَہٗ اَنَّہٗ دَخَلَ مَسْجِدَ الْمَدِیْنَۃِ فَاِذَا ھُوَ بِرَجُلِ قَدِ اجْتَمَعَ عَلَیْہِ النَّاسُ فقَالَ مَنْ ھٰذَا قَالُوْا اَبُوْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ فَدَنَوْتُ مِنْہٗ حَتّٰی قَعَدْتُ بَیْنَ یَدَیْہِ وَھُوَ یُحَدِّثُ النَّاسَ فَلَمَّا سَکَتَ وَخَلَا قُلْتُ لَہٗ اَنْشُدْکَ بِحَقِّی لَمَا حَدِیْثًا سَمِعْتَہٗ مِنْ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عقلتہ وعلمتہ فقَالَ اَبُوْ ھُرَیْرَۃَ اَفْعَلُ لَاُحَدِّثَنَّکَ حَدِیْثًا حَدَّثَنِیْہِ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عقلتہ وَعَلِمْتُہٗ ثُمَّ نَشَغَ اَبُوْ ھُرَیْرَۃَ نَشْغَۃً فَمَکَتَ قَلِیْلًا ثُمَّ اَفَاقَ فقَالَ لَاْحَدِّثَنَّکَ ھَدِیْثًا ھَدَّثَنِیْہِ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَاَنَا وَھُوَ فِیْ ھٰذَا الْبَیْتِ مَا مَعَنَا اَحَدٌ غَیْرِیْ وَغَیْرُہٗ ثُمَّ نَشَغَ اَبُوْ ھُرَیْرَۃَ نَشْغَۃً اُخْری فَمَکَتَ کَذٰلِکَ ثُمَّ اَفَاقَ فَمَسَحَ عَنْ وَجْھِہِ فقَالَ لَاْحَدِّثَنَّکَ حَدَّثَنِیْہِ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَاَنَا وَھُوَ فِیْ ھٰذَا الْبَیْتِ مَا مَعَہٗ اَحَدٌ غَیْرِیْ وَغَیْرُہٗ ثُمَّ نَشَغَ نَشْغَۃً شَدِیدَۃً ثُمَّ مَالَ خَارًّا عَلٰی وَجْھِہِ وَاشْتَدَّ بِہٖ طَوِیْلًا ثُمَّ اَفَاقَ فقَالَ حَدَّثَنِیْ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنَّ اللہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی اِذَا کَانَ یَوْمُ الْقِیَامَۃِ یَنْزِلُ اِلَی الْعِبَادٍ لِیَقْضِیَ بَیْنَھُمْ وَکُلُّ اُمَّۃٍ جَاثِیَۃٌ فَاَوَّلُ مَنْ یَّدْعُوْ بِہٖ رَجُلٌ جَمَعَ الْقُرْآنَ وَرَجُلٌ یُقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ وَرَجُلٌ کَثِیْرُ الْمَالِ فَیَقُوْلُ اللہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی للقاریء اَلَمْ اُعَلِّمْکَ مَا اَنْزَلْتُ عَلٰی رَسُوْلِیْ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ بَلٰی یَا رَبِّ قَالَ فَمَاذَا عَمِلْتَ فِیمَا عَلِمْتَ قَالَ کُنْتُ اَقُومُ بِہٖ اٰنَاءَ اللَّیْلِ وَآنَاءَ النَّھَارِ فَیَقُوْلُ اللہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی لَہٗ کَذَبْتَ وَتَقُوْلُ لَہُ الْمَلَائِکِۃُ کَذَبْتَ وَیَقُوْلُ اللہُ بَلْ اَرَدْتَ أن یقال فلان قاریء فَقَدْ قِیْلَ ذَاکَ وِیُؤْتَی بِصَاحِبِ الْمَالِ فَیَقُوْلُ اللہُ لَہٗ اَلَمْ اُوَسِعْ عَلَیْکَ حَتّٰی لَمْ اَدَعْتَ تَحْتَاجُ اِلٰی اَحَدٍ قَالَ بَلٰی یَا رَبِّ قَالَ فَمَاذَا عَمِلْتُ فِیمَا اٰتَیْتُکَ قَالَ کُنْتُ اَصِلُ الرَّحِمَ وَاَتَصَدَّقُ فَیَقُوْلُ اللہُ لَہٗ کَذَبْتَ وَتَقُوْلُ الْمَلَائِکَۃُ لَہٗ کَذَبْتَ وَیَقُوْلُ اللہُ بل إنما أردت أن یقال فُلَانٌ جَوَادٌ فَقَدْ قِیْلَ ذَاکَ وَیُؤْتِی بِالَّذِیْ قُتِلَ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ فَیُقَالُ لَہٗ فِیْ مَاذَا قُتِلْتَ فَیَقُوْلُ اُمِرْتُ بِالْجِھَادِ فِیْ سَبِیْلِکَ فَقَاتَلْتُ حَتّٰی قُتِلْتُ فَیَقُوْلُ اللہُ لَہٗ کَذَبْتَ وَتَقُوْلُ لَہُ الْمَلَائِکَۃُ کَذَبْتَ وَیَقُوْلُ اللہُ بَلْ اٗردت أن یقال فلان جریء فَقَدْ قِیْلَ ذَاکَ ثُمَّ ضَرَبَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رُکْبَیتِیْ فقَالَ یَا اَبَا ھُرَیْرَۃَ اُولَئِکَ الثَّلَاثَۃُ اَوَّلُ خَلْقِ اللہِ تسعر بھم النار یوم القیامۃ قَالَ الْوَلِیْدُ بْنُ اَبِیْ الْوَلِیْدِ فَاَخْبَرَنِیْ عُقْبَۃُ اَنَّ شُفَیًّا ھُوَ الَّذِیْ دَخَلَ عَلٰ مُعَاوِیَۃَ فَاَخْبَرَہُ بِھٰذَا الْخَبَرِ قَالَ اَبُوْ عُثْمَانَ الْوَلِیْدُ وَحَدَّثَنِیْ الْعَلَاءُ بْنُ اَبِیْ حَکِیمِ اَنَّہٗ کَانَ سَیَّافًا لِمُعَاوِیَۃَ قَالَ فَدَخَلَ عَلَیْہِ رَجُلٌ فِحَدَّثَہٗ بِھٰذَا عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ فقَالَ مُعَاوِیَۃُ قَدْ فُعِلَ بِھٰؤُلَاءِ مِثْلُ ھٰذَا فَکَیْفَ بِمَنْ بَقِیَ مِنَ النَّاسِ ثُمَّ بَکَی مُعَاوِیَۃُ بُکَاءً شَدِیدًا حَتّٰی ظَنَنَّا اَنَّہٗ ھَالِکٌ وَقُلْنَا قَدْ جاءَ نَا ھٰذَا الرَّجُلُ بِشَرِّ ثُمَّ اَفَاقَ مُعَاوِیَۃُ وَمَسَحَ عَنْ وَجْھِہٖ فقَالَ صَدَقَ اللہُ وَرَسُوْلُہُ (مَنْ کَانَ یُرِیْدَ الْحَیَاۃَ الدُّنْیَا وَزِینَتَھَا نُوَفِّ اِلَیْھِمْ اَعْمَالِھُمْ فِیْھَا وَھُمْ فِیْھَا لَا یُبْخَسُوْنَ اُولَئِکَ الَّذِیْنَ لَیْسَ لَھُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ اِلَّا النَّارُ وَحَبِطَ مَا صَنَعُوا فِیْھَا وَبَاطِلٌ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ) (ھود:16،15) قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ اَلْفَاظُ الْوَعِیْدِ فِی الْکِتَابِ وَالسُّنَنِ کُلُّھَا مَقْرُوْنَۃٌ بِشَرْطٍ وَھُوَ اِلَّا اَنْ یَّتَفَضَّلَ اللہُ جَلَّ وَعَلَا عَلٰی مُرْتَکِبِ تِلْکَ الْخِصَالِ بِالْعَفْوِ وَغُفْرَانِ تِلْکَ الْخِصَالِ دُوْنَ الْعُقُوْبِہِ عَلَیْھَا وَکُلُّ مَافِی الْکِتَابِ وَالسُّنَنِ مِنْ اَلْفَاظِ الْوَعْدِمِقْرُوْنَۃٌ بِشَرْطٍ وَھُوَ اِلَّا اَنْ یَّرْتَکِبَ عَامِلُھَا مَا یَسْتَوْجِبُ بِہِ الْعُقُوْبَۃَ عَلٰی ذٰلِکَ الْفِعْلِ حَتّٰی یُعَاقَبَ اِنْ لَمْ یَتَضَّلَ عَلَیْہِ بِالْعَفْوِ ثُمَّ یُعْطَی ذٰلِکَ الثَّوَابَ الَّذِیْ وُعِدَ بِہٖ مِنْ اَجْلِ ذٰلِکَ الْفِعْلِ۔(109:2)

عقبہ بن مسلم بیان کرتے ہیں : شفی اصحبی نے انہیں یہ بات بتائی کہ ایک مرتبہ وہ مدینہ منورہ کی مسجد میں داخل ہوئے ‘ تو وہاں ایک صاحب موجود تھے جن کے اردگرد لوگ بھی موجود تھے۔ شفی نے دریافت کیا : یہ کون صاحب ہیں ‘ تو لوگوں نے بتایا : یہ حضرت ابو ہریرہؓ ہیں ۔ شفی کہتے ہیں : میں ان کے قریب ہو گر ان کے سامنے آکر بیٹھ گیا۔ وہ لوگوں کے ساتھ بات چیت کر تے تھے جب وہ خاموش ہوئے اور تنہا رہ گئے‘ تو میں نے ان سے دریافت کیا : میں آپ کو اپنے حق کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ آپ مجھے کوئی ایسی حدیث سنائیے جو آپ نے نبی اکرمﷺ کی زبانی سنی ہو اور آپ نے اسے سمجھا ہو اور جان لیا ہو ‘ تو حضرت ابو ہریرہؓ نے فرمایا: میں ایسا کرتا ہوں میں تمہیں ایک ایسی حدیث بتاتا ہوں جو نبی اکرمﷺ نے مجھے بتائی تھی اور میں نے اسے سمجھا بھی تھا ‘اور جان بھی لیا تھا پھر حضرت ابو ہریرہ ؓ نے ایک سسکی لی پھر تھوڑا وقت گزر گیا جب ان کی طبیعت سنبھلی ‘ تو انہوں نے فرمایا میں تمہیں ایک ایسی حدیث سناتا ہوں جو نبی اکرم ﷺ نے مجھے سنائی تھی اس وقت اس گھر میں ‘میں اور نبی اکرمﷺ موجود تھے۔ میرے اور نبی اکرمﷺ کے علاوہ ہمارےساتھ اور کوئی موجود نہیں تھا پھر حضرت ابو ہریرہ ؓ نے دوسری مرتبہ سسکی لی پھر وہ تھوڑی دیر خاموش رہے ‘ جب ان کی طبیعت سنبھلی ‘ تو انہوں نے اپنےچہرے سے پسینہ صاف کیا اور بولے : میں ایسا کرتا ہوں میں ایک ایسی حدیث بیان کروں گا ‘ جو نبی اکرمﷺ نے مجھے بیان کی تھی۔ اس وقت اس گھر میں ‘ میں اور نبی اکرمﷺ تھے۔ میرے ساتھ کوئی موجود نہیں تھا پھر حضرت ابو ہریرہؓ نے زیادہ زور سے سسکی لی اور وہ اپنے چہرے کے بل گرنے کی طرح آگے کی طرف جھکے اس مرتبہ ان کی یہ کیفیت طویل ہوئی پھر جب ان کی طبیعت سنبھلی ‘ تو انہوں نے بتایا : نبی اکرمﷺ نے مجھے یہ بات بتائی تھی: ’’جب قیامت کا دن ہو گا‘ تو اللہ تعالیٰ بندوں کے درمیان فیصلہ کرنے کے لئے نزول فرمائے گا اور ہر اُمت گھٹنوں کے بل موجود ہو گی ‘ تو سب سے پہلے اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو بلائے گا‘ بس نے قرآن کو جمع کیا ( یعنی ا س کا علم حاصل کیا ) اور ایک ایسےشخص کو جس کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں شہید کیا گیا ہو اور ایک ایسے شخص کو جس کے پاس مال بہت زیادہ تھا ( انہیں بلایا جائے گا ) اللہ تعالیٰ قرآن کے عالم سے کہےگا : میں نے اپنے رسول پر جو نازل کیا تھا اس کا علم میں نے تمہیں نہیں دیا تھا ؟ وہ جواب دے گا: جی ہاں ! میرےے پروردگار اللہ تعالیٰ فرمائے گا تم نے جو علم حاصل کیا ہے اس بارے میں میں تم نے کا عمل کیا؟ وہ جواب دے گا ۔ میں رات دن اس کے ساتھ مصروف رہا۔ اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا تم نے جھوٹ کہا ہے ۔ فرشتے بھی اس شخص سےکہیں گے کہ تم نے جھوٹ کہا ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا :تم یہ چاہتے تھے کہ یہ کہا جائے :فلاں شخص قرآن کا عالم ہے ُ تو یہ با ت کہہ دی گئی۔ پھر مال دار شخص کو لایا جائے گا‘ پھر اللہ تعالیٰ دریافت کرے گا کیا میں نے تمہیں کشادگی عطا نہیں کی تھی‘ یہاں تک کہ میں نے تمہیں ایسی حالت میں رکھا تھا کہ تمہیں کسی کی بھی ٖضرورت نہ ہو؟ وہ عرض کرے گا جی ہاں ! یرے پروردگار ! اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں نے جو کچھ تمہیں دیا تھا اس بارے میں تم نے کیا عمل کیا ؟ وہ جواب دے گا میں صلہ رحمی کرتا رہا اور خیرات کرتا رہا ‘ تواللہ تعالیٰ فرمائے گا تم نے غلط کہا ہے۔ فرشتے بھی اس سے یہ کہیں گے تم نے غلط کہا ہے۔ اللہ فرمائے گا تم یہ چاہتے تھے کہ یہ کہا جائے : فلاں شخص سخی ہے ‘ تو یہ بات کہہ دی گئی۔ پھر اس شخص کو لایا جائے گا‘ جسے ( دنیا میں ) اللہ کی راہ میں قتل کیا گیا تھا ‘ تو اس سے یہ دریافت کیا جائے گا تمہیں کیوں قتل کیا گیا؟ وہ جواب دے گا مجھے تیری راہ میں جہاد کرنے کا حکم دیا گیا میں نے جنگ میں حصہ لیا ‘ یہاں تک کہ مجھےقتل کر دیا گیا ‘ تو اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا تم نے غلط کہا ہے فرشتے بھی اس سے کہیں گے تم نے غلط کہا ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : تم یہ چاہتے تھے کہ یہ کہا جائے کہ فلاں شخص کتنا بہادر ہ ‘ تو یہ بات کہہ دی گئی۔ (حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں ) پھر نبی اکرمﷺ نے میر گھٹنوں پر ہاتھ مار کر ارشاد فرمایا : ’’اے ابو ہریرہؓ ! یہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے پلے تین لوگ ہوں گے جن کے ذریعے قیامت کے دن جہنم کو بھڑکایا جائے گا ‘‘۔ ( یعنی جنہیں سب سے پہلے جہنم میں ڈالا جائے گا) ولید بن ابو ولید بیان کرتے ہیں : عقبہ نے مجھے یہ بتائی ہے ’’شفی‘‘ نامی راوی حضرت معاویہ ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہیں اس حدیث کے بارے میں بتایا ۔ ابو عثمان ولید نے یہ بات بیان کی ہے ۔ علاء بن ابو حکیم نے یہ بات بیان کی ہے کہ وہ حضرت معاویہ ؓ کے جلاد تھے وہ بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ ایک شخص ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور حضرت ابو ہریرہ ؓ کے حوالے سے یہ حدیث ان کے سامنے بیان کی ‘ تو حضرت معاویہ ؓ نے کہا ان لوگوں کے ساتھ اس طرح ہو گا‘ تو باقی لوگوں کے ساتھ کیا ہو گا‘ تو حضرت معاویہ ؓ انتہائی زیادہ روئے یہاں تک کہ ہم نے یہ گمان کیا کہ کہیں وہ ہلاکت کا شکار نہ ہو جائیں۔ ہم نے کہا : یہ شخص ایک برائی لے کر آیا ہے پھر حضرت معاویہ ؓ کو افاقہ ہوا‘ تو انہوں نے اپنے چہرے کو پونچھا اور کہا للہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا ہے۔ ’’جو شخص دنیا کی مانند اور اس کی زینت کا ارادہ کرتا ہے ‘ تو ہم دنیا میں اسے اس کے اعمال کا پورا بدلہ دے دیں گے اور انہیں اس میں کوئی کمی نہیں کی جائیگی ‘ یہ وہ لوگ ہیں ‘ جن کا آخرت میں حصہ صرف جہنم میں ہو گا ‘ اور انہوں نے دنیا میں جو کچھ کیا وہ ضائع ہو جائیگا ‘ اور جو عمل وہ کرتے رہے وہ باطل ہوں گے‘‘۔ (امام ابن حبان فرماتے ہیں : ) کتاب اور سنت میں وعید کے جتنے بھی الفاظ ہیں‘ وہ سب شرط کے ساتھ ملے ہوئے ہیں ‘ اور وہ یہ ہیں : اگر اللہ تعالیٰ چاہے ‘ توا پنے فضل کے ساتھ ان باتوں کے مرتکب شخص کو معاف کر سکتا ہے ‘ اور ان غلطیوں کی مغفرت کر سکتا ہے ۔ ان پر ( آدمی کو سزا نہ دے ) اور کتاب و سنت میں وعدے کے جتنے بھی الفاط ہیں‘ وہ اس شرط کے ساتھ ملے ہوئے ہیں کہ اس پر عمل کرنے والا شخص کسی ایسی چیز کا مرتکب نہیں ہو گا‘ جو اس فعل کے ارتکاب پر سزا کو لازم کر دے ‘ یہاں تک کہ اسے سزا دی جائے اگر اس پر معافی کا فضل نہیں کیا جاتا۔ پھر اس شخص کو اس چیز کا ثواب ملے گا ‘جو وعدہ اس فعل کے حوالے سے اس شکص کے ساتھ کیا گیا ہے۔

الْوَلِیْدُ بْنُ اَبِیْ الْوَلِیْدِ اَبُوْ عُثْمَانَ الْمَدَنِیُّ ← حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › The door of salvation and the work of secret · Hadith 408

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1823

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلَ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي نَحْوًا مِنْ صَلَاتِكُمْ كَانَ يُخَفِّفُ الصَّلَاةَ وَكَانَ يَقْرَأُ فِي صلاة الفجر بالواقعة ونحوها من السور1. [5: 34]

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تم لوگوں کی نماز کی مانند نماز ادا کرتے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مختصر نماز ادا کرتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز میں سورۃ واقعہ اور اس جیسی سورتوں کی تلاوت کرتے تھے۔

جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← سِمَاكٍ، ← اِسْرَائِیْلُ ← خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ← يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the description of prayer · Hadith 1823

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابُ الْإِحْرَامِ · حديث 3779

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا عَطَاءٌ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْجِعْرَانَةَ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ، وَعَلَيْهَا الْخَلُوقُ، أَوْ قَالَ: أَثَرَ صُفْرَةٍ، فَقَالَ: كَيْفَ تَأْمُرُنِي أَنْ أَصْنَعَ فِي عُمْرَتِي؟ قَالَ: وَأُنْزِلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَحْيُ، فَسُتِرَ بِثَوْبٍ. وَكَانَ يَعْلَى يَقُولُ: وَدِدْتُ أَنِّي أَرَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ. قَالَ: فَرَفَعَ عُمَرُ طَرَفَ الثَّوْبِ قَالَ: فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ وَلَهُ غَطِيطٌ، قَالَ: فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ، قَالَ: "أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ الْعُمْرَةِ اغْسِلْ عَنْكَ أَثَرَ الصُّفْرَةِ -أَوْ قَالَ: الْخَلُوقِ- وَاخْلَعْ عَنْكَ جُبَّتَكَ، وَاصْنَعْ فِي عُمْرَتِكَ مَا أَنْتَ صانع في حجتك" 1. [78:1]

حضرت صفوان بن یعلیٰ رضی اللہ عنہہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ اس وقت جعرانہ کے مقا م پر موجود تھے۔ اس شخص نے جبہ پہنا ہوا تھا اور اس جبے پر خوشبو لگائی ہوئی تھی (راوی کو شک ہے کہ شاید یہ الفاظ ہیں) اس پر زردرنگ کا نشان موجود تھا۔ اس نے دریافت کیا: آپ مجھے کیا ہدایت کرتے ہیں: میں اپنے عمرے میں کیا کروں؟ راوی بیان کرتے ہیں:۔ نبی اکرم ﷺ پر وحی نازل ہونا شروع ہوئی۔ آپ کو کپڑے میں چھپا دیا گیا ۔ حضرت یعلیٰ یہ بیان کرتے ہیں: میری یہ خواہش تھی کہ میں نبی اکرم ﷺ کو ایسی حالت میں دیکھوں کہ جب آپ پر وحی نازل ہو رہی ہو وہ بیان کر تے ہیں: حضرت عمر رضی اللہ عنہہ نے کپڑے کا کنارہ ہٹایا میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا، تو آپ خراٹے لے رہے تھے جب یہ کیفیت ختم ہوئی، توآپ نے ارشاد فرمایا : عمرہ کے بارے میں دریافت کرنے والا شخص کہاں ہے؟ تم اپنے اوپر سے زرد رنگ کے نشان کو دھو لو۔ (راوی کو شک ہے کہ شاید یہ الفاظ ہیں) خوشبو کو دھو لو اور اپنے جبے کو اتار دو اور اپنے عمرے میں بھی وہی کرو جو تم حج میں کرتے ہو۔ (یعنی اسی طرح کا احرام باندھو)

الْخَلُوقِ- وَاخْلَعْ عَنْكَ جُبَّتَكَ، وَاصْنَعْ فِي عُمْرَتِكَ مَا أَنْتَ صانع في حجتك" ← الْعُمْرَةِ اغْسِلْ عَنْكَ أَثَرَ الصُّفْرَةِ -أَوْ ← "أَيْنَ السَّائِلُ ← فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ، ← فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ وَلَهُ غَطِيطٌ، ← فَرَفَعَ عُمَرُ طَرَفَ الثَّوْبِ ← وَدِدْتُ أَنِّي أَرَى النَّبِيَّ وَقَدْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ. ← وَأُنْزِلَ عَلَى النَّبِيِّ الْوَحْيُ، فَسُتِرَ بِثَوْبٍ. وَكَانَ يَعْلَى ← أَثَرَ صُفْرَةٍ، فَقَالَ: كَيْفَ تَأْمُرُنِي أَنْ أَصْنَعَ فِي عُمْرَتِي؟ ← جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ وَهُوَ بِالْجِعْرَانَةَ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ، وَعَلَيْهَا الْخَلُوقُ، أَوْ ← أَبِيهِ ← صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ← عَطَاءٍ، ← هَمَّامٌ، ← شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › Chapter of respect · Hadith 3779

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1839

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ، قَالَ: حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَمَرَ مُعَاذًا أَنْ يَقْرَأَ فِي صَلَاةِ الْعِشَاءِ {وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا} ، {وَاللَّيْلِ إِذَا یَغْشَاھَا)، و (سِبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلَی )، (وَالضُّحَی) وَنَحْوَھَا مِنَ السُّوَرِ۔(34:5)

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ ہدایت کی کہ عشاء کی نماز میں سورۃ شمس اور سورہ لیل سورت اعلیٰ سورۃ ضحیٰ جیسی سورتوں کی تلاوت کریں۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← سُفْيَانَ، ← نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the description of prayer · Hadith 1839

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ صَلَاۃِ الضُّحَی · حديث 2527

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ، قَالَ: حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى؟ فَقَالَتْ: «لَا، إِلَّا أَنْ يَجِيءَ مِنْ مَغِيبِهِ» قُلْتُ: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَاعِدًا؟ قَالَتْ: «نَعَمْ، بَعْدَمَا حَطَمَهُ السِّنُّ» قُلْتُ: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرِنُ بَيْنَ السُّوَرِ؟ قَالَتْ: «نَعَمْ، مِنَ الْمُفَصَّلِ» قُلْتُ: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ شَهْرًا مَعْلُومًا سِوَى رَمَضَانَ؟ قَالَتْ: «وَاللَّهِ إِنْ صَامَ شَهْرًا مَعْلُومًا سِوَى رَمَضَانَ حَتَّى مَضَى لِوَجْهِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا أَفْطَرَهُ حَتَّى مَضَى لِوَجْهِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» (1) . [5: 15]

عبداللہ بن شقیق ؓ بیان کرتے ہیں: میں نے سیّدہ عائشہ ؓ سے دریافت کیا: نبی اکرمﷺ چاشت کے وقت نماز ادا کیا کرتے تھے تو انہوں نے جواب دیا: جی نہیں البتہ اگر آپ سفر سے آتے تھے (تو اس موقع پر اس وقت نماز ادا کرلیتے تھے) میں نے دریافت کیا: کیا نبی اکرمﷺ بیٹھ کر نماز ادا کرتے تھے انہوں نے فرمایا: جی ہاں! جب آپ کی عمر زیادہ ہوگئی (تو آپ بیٹھ کر نماز ادا کرلیتے تھے) میں نے دریافت کیا: کیا نبی اکرمﷺ سورتیں ملا کر پڑھتے تھے انہوں نے جواب دیا: جی ہاں !آپ مفصل سورتیں (ملاکر) پڑھتے تھے میں نے دریافت کیا: کیا نبی اکرمﷺ رمضان کے مہینے کے علاوہ کسی اور متعین مہینے میں روزے رکھتے تھے ۔ انہوں نے جواب دیا: اللہ کی قسم ! نبی اکرمﷺ رمضان کے علاوہ کسی بھی متعین مہینے میں روزے نہیں رکھتے تھے یہاں تک کہ آپ اس دنیا سے رخصت ہوگئے اور نہ ہی آپ نے کبھی کسی مہینے کے روزے چھوڑے ہیں یہاں تک کہ آپ اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔

قلت لعائشة هل كان رسول الله يصلي الضحى ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، ← الْجُرَيْرِيِّ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in the sacrifice’s prayer · Hadith 2527

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فِي الْخِلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ · حديث 4506

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ [ص:360] الطَّيَالِسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: أَرْسَلَ إِلَيَّ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رِضْوَانُ اللَّهُ عَلَيْهِ مَقْتَلَ أَهْلِ الْيَمَامَةِ، فَإِذَا عُمَرُ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ جَالِسٌ عِنْدَهُ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: «إِنَّ عُمَرَ جَاءَنِي، فَقَالَ: إِنَّ الْقَتْلَ قَدِ اسْتَحَرَّ يَوْمَ الْيَمَامَةِ بِقُرَّاءِ الْقُرْآنِ، وَإِنِّي أَخْشَى أَنْ يَسْتَحِرَّ الْقَتْلُ فِي الْمَوَاطِنِ كُلِّهَا فَيَذْهَبُ مِنَ الْقُرْآنِ كَثِيرٌ، وَإِنِّي أَرَى أَنْ تَأْمُرَ بِجَمْعِ الْقُرْآنِ، قَالَ: قُلْتُ: كَيْفَ أَفْعَلُ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، فَقَالَ عُمَرُ: هُوَ وَاللَّهِ خَيْرٌ، فَلَمْ يَزَلْ يُرَاجِعُنِي فِي ذَلِكَ حَتَّى شَرَحَ اللَّهُ صَدْرِي لِلَّذِي شَرَحَ لَهُ صَدْرَ عُمَرَ، وَرَأَيْتُ فِي ذَلِكَ الَّذِي رَأَى»، فَقَالَ لِي أَبُو بَكْرٍ: «إِنَّكَ شَابٌّ عَاقِلٌ، لَا نَتَّهِمُكَ، وَقَدْ كُنْتَ تُكْتَبُ الْوَحْيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَتَبَّعِ الْقُرْآنَ فَاجْمَعْهُ»، قَالَ زَيْدٌ: فَوَاللَّهِ لَوْ كَلَّفَنِي نَقْلَ جَبَلٍ مِنَ الْجِبَالِ مَا كَانَ أَثْقَلَ عَلَيَّ مِمَّا أَمَرَنِي بِهِ مِنْ جَمْعِ الْقُرْآنِ، قُلْتُ: فَكَيْفَ تَفْعَلُونَ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: هُوَ وَاللَّهِ خَيْرٌ، فَلَمْ يَزَلْ أَبُو بَكْرٍ يُرَاجِعُنِي حَتَّى شَرَحَ اللَّهُ صَدْرِي لِلَّذِي شَرَحَ لَهُ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ، قَالَ: فَتَتَبَّعْتُ الْقُرْآنَ أَجْمَعُهُ مِنَ الرِّقَاعِ، وَاللِّخَافِ، وَالْعُسُبِ، وَصُدُورِ الرِّجَالِ حَتَّى، وَجَدْتُ آخِرَ سُورَةِ التَّوْبَةِ مَعَ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ لَمْ أَجِدْهَا مَعَ أَحَدٍ غَيْرِهِ: {لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ} [التوبة: 128]، خَاتِمَةُ بَرَاءَةَ، قَالَ: فَكَانَتِ الصُّحُفُ عِنْدَ أَبِي بَكْرٍ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ، ثُمَّ [ص:361] عِنْدَ عُمَرَ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ، ثُمَّ عِنْدَ حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ قَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ: وَحَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ حُذَيْفَةَ قَدِمَ عَلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ وَكَانَ يُغَازِي أَهْلَ الشَّامِ، وَأَهْلَ الْعِرَاقِ، وَفَتَحَ أَرْمِينِيَةَ، وَأَذْرَبِيجَانَ، فَأَفْزَعَ حُذَيْفَةُ اخْتِلَافُهُمْ فِي الْقِرَاءَةِ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَدْرِكْ هَذِهِ الْأُمَّةَ قَبْلَ أَنْ يَخْتَلِفُوا فِي الْكِتَابِ كَمَا اخْتَلَفَ الْيَهُودُ، وَالنَّصَارَى، فَبَعَثَ عُثْمَانُ إِلَى حَفْصَةَ: أَنْ أَرْسِلِي الصُّحُفَ لِنَنْسَخَهَا فِي الْمَصَاحِفِ، ثُمَّ نَرُدُّهَا إِلَيْكِ، فَبَعَثَتْ بِهَا إِلَيْهِ، فَدَعَا زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ، وَسَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَنْسَخُوا الصُّحُفَ فِي الْمَصَاحِفِ، وَقَالَ لَهُمْ: «مَا اخْتَلَفْتُمْ أَنْتُمْ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ فِي شَيْءٍ فَاكْتُبُوهُ بِلِسَانِ قُرَيْشٍ، فَإِنَّهُ نَزَلَ بِلِسَانِهِمْ»، وَكَتَبَ الصُّحُفَ فِي الْمَصَاحِفِ، وَبَعَثَ إِلَى كُلِّ أُفُقٍ بِمُصْحَفٍ مِمَّا نَسَخُوا، وَأَمَرَ مِمَّا سِوَى ذَلِكَ مِنَ الْقُرْآنِ فِي كُلِّ صَحِيفَةٍ أَوْ مُصْحَفٍ أَنْ يُمْحَى أَوْ يُحْرِقَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَأَخْبَرَنِي خَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّهُ سَمِعَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ يَقُولُ: «فَقَدْتُ آيَةً مِنْ سُورَةِ الْأَحْزَابِ حِينَ نَسَخْتُ الْمُصْحَفَ، كُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَؤُهَا، فَالْتَمَسْتُهَا فَوَجَدْتُهَا مَعَ خُزَيْمَةَ بْنَ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ: {مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ} [الأحزاب: 23]، فَأَلْحَقْتُهَا فِي سُورَتِهَا فِي الْمُصْحَفِ» قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: اخْتَلَفُوا يَوْمَئِذٍ فِي التَّابُوتِ، فَقَالَ زَيْدٌ: التَّابُوهُ، وَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ وَسَعِيدُ بْنُ الْعَاصِ: التَّابُوتُ، فَرُفِعَ اخْتِلَافُهُمْ إِلَى عُثْمَانَ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ، فَقَالَ: «اكْتُبُوهُ التَّابُوتُ، فَإِنَّهُ لِسَانُ قُرَيْشٍ»

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جنگ یمامہ کے بعد مجھے بلوایا وہاں ان کے پاس حضر عمر بن خطابرضی اللہ عنہ بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: عمر میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھ سے کہا کہ جنگ یمامہ میں بہت سے مسلمان شہید ہو گئے مجھے یہ اندیشہ ہے، اگر مختلف علاقوں میں اسی طرح لوگ شہید ہوتے رہے، تو قرآن کا بہت سا حصہ ضائع ہو جائے گا، جسے محفوظ نہیں کیا گیا میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ قرآن کو جمع کرنے کا حکم دیں۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے کہا: تم ایک ایسا کام کیسے کر سکتے ہو، جو نبی اکرم ﷺ نےنہیں کہا، تو حضر ت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ زیادہ بہتر ہے اس کے بعد یہ مسلسل اس بارے میں بات چیت کرتے رہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں مجھے شرح صدر عطا کر دیا اور اس بارے میں میری بھی وہی رائے ہوئی جو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی ہے (حضرت زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں) حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے کوئی بات نہیں کی حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم ایک نوجوان اور عقلمند آدمی ہو ہم تم پر کوئی الزام عائد نہیں کرتے تم نبی اکرم ﷺ کے لیے وحی نوٹ کرتے رہے ہو، تو تم قرآن کی تلاش کر کے اس کو جمع کرو۔حضرت زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اللہ کی قسم ! اگر مجھے وہ کسی پہاڑ کو منتقل کرنے کا پابند کر دیتے تو میرے لیے یہ اتنا مشکل نہ ہوتا جتنا ان کا قرآن جمع کرنے کا حکم دینا مشکل تھا۔ میں نے کہا: آپ لوگ ایک ایسا کام کیسے کر سکتے ہیں جو نبی اکرم ﷺ نے نہیں کیا، تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم ! یہ کام زیادہ بہتر ہے اس کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ مسلسل میرے ساتھ بات چیت کرتے رہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں مجھے بھی وہی شرح صد ر عطا کر دیا جو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو دیا تھا۔ حضرت زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : تو میں نے قرآن کو تلاش کرنے کا کام شروع کر دیا۔ میں اس تحریر کے پرزوں اور لوگوں کے سینوں سے اکٹھا کیا، یہاں تک کہ سورۃ توبہ کی آخری آیات مجھے حضرت خزیمہ انصاریرضی اللہ عنہ کے پاس ملیں مجھے یہ آیات ان کے علاوہ اور کسی کے پاس نہیں ملیں۔ ”تمہارے پاس ایک رسول آیا ہے، جو تم میں سے ہے“۔ وہ صحیفہ جسے میں نے جمع کیا تھا وہ حضر ت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس ان کی زندگی میں رہا، یہاں تک کہ جب ان کا انتقال ہو گیا تو وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آگیا، یہاں تک کہ جب ان کا انتقال ہو گیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی سیّدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس آ گیا۔

زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ← عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Gate in the Caliphate and the Emirate · Hadith 4506

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2578

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عَطَاءٍ مَوْلَى أَبِي أَحْمَدَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْثًا، وَهُمْ نَفَرٌ، فَدَعَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «مَاذَا مَعَكُمْ مِنَ الْقُرْآنِ؟» فَاسْتَقْرَأَهُمْ، حَتَّى مَرَّ عَلَى رَجُلٍ مِنْهُمْ، هُوَ مِنْ أَحْدَثِهِمْ سِنًّا، فَقَالَ: «مَاذَا مَعَكَ يَا فُلَانُ؟» قَالَ: مَعِي كَذَا وَكَذَا، وَسُورَةُ الْبَقَرَةِ، قَالَ: «مَعَكَ سُورَةُ الْبَقَرَةِ؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «اذْهَبْ فَأَنْتَ أَمِيرُهُمْ» ، فَقَالَ رَجُلٌ هُوَ أَشْرَفُهُمْ: وَالَّذِي كَذَا وَكَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ (1) ، مَا مَنَعَنِي أَنْ لَا أَتَعَلَّمَ الْقُرْآنَ إِلَّا خَشْيَةَ أَنْ لَا أَقُومَ بِهِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَعَلَّمِ الْقُرْآنَ وَاقْرَأْهُ وَارْقُدْ، فَإِنَّ مَثَلَ الْقُرْآنِ لِمَنْ تَعَلَّمَهُ فَقَرَأَهُ وَقَامَ بِهِ، كَمَثَلِ جِرَابٍ مَحْشُوٍّ مِسْكًا تَفُوحُ رِيحُهُ كُلَّ مَكَانٍ، وَمَنْ تَعَلَّمَهُ فَرَقَدَ وَهُوَ فِي جَوْفِهِ كَمَثَلِ جِرَابٍ وُكِئَ عَلَى مِسْكٍ» (2) . [3: 28]

حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ایک مہم روانہ کی وہ کچھ لوگ تھے نبی اکرمﷺ نے انہیں بلایا اور دریافت کیا: تمہیں کتنا قرآن آ تا ہے؟ نبی اکرمﷺ ان سے قرأت کے بارے میں دریافت کرتے رہے یہاں تک کہ آپ کا گزر ان میں سے ایک ایسے شخص پر ہوا جو ان میں سب سے کم سن تھا نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا: اے فلاں تمہیں کتنا قرآن آتا ہے؟ اس نے عرض کی: مجھے فلاں فلاں سورتیں اور سورۃ بقرہ بھی آتی ہے آپ نے دریافت کیا: کیا تمہیں سورۃ بقرہ آتی ہے؟اس نے عرض کی : جی ہاں! نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم جاؤ تم ہی ان لوگوں کے امیر ہو تو ایک صاحب جو ان میں بڑے معزز تھے۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ ! اس ذات کی قسم جس میں یہ یہ خوبیاں پائی جاتی ہیں میں نے قرآن کا علم صرف اس لئے حاصل نہیں کیا کیونکہ مجھے یہ اندیشہ تھا میں نوافل میں اس کی تلاوت نہیں کرسکوں گا نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: تم قرآن کا علم حاصل کرو اور اس کی تلاوت بھی کرو اور سو بھی جایا کرو جو شخص قرآن کا علم حاصل کرتاہے اور پھر (نوافل میں ) ان کی تلاوت کرتاہے اس کی مثال ایک ایسے مشکیزے کی مانند ہے جس میں مشک موجود ہو اور اس کا منہ کھلا ہوا ہو اور اس کی خوشبو ہر طرف پھیل رہی ہو اور جو شخص قرآن کا علم حاصل کرلے اور سو جائے وہ قرآن اس کے ذہن میں ہو تو اس کی مثال ایسے مشکیزے کی طرح ہے جس میں مشک موجود ہو لیکن اس کا منہ بند کردیا گیاہو۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَطَاءٍ، مَوْلَى أَبِي أَحْمَدَ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی ← أَبُو عَمَّارٍ، ← ابْنُ خُزَيْمَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in the rising of the night · Hadith 2578

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2579

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «نَامَ (1) رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا انْتَصَفَ اللَّيْلُ، أَوْ قَبْلَهُ، أَوْ بَعْدَهُ بِقَلِيلٍ، اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ النَّوْمَ عَنْ وَجْهِهِ بِيَدَيْهِ، ثُمَّ قَرَأَ الْعَشْرَ الْآيَاتِ الْخَوَاتِمَ مِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ، ثُمَّ قَامَ إِلَى شَنٍّ مُعَلَّقَةٍ، فَتَوَضَّأَ مِنْهَا» (2) . [5: 1]

حضرت عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ سوگئے یہاں تک کہ نصف رات ہوگئی۔ نصف رات سے کچھ پہلے یا بعد کا وقت تھا نبی اکرمﷺ بیدار ہوئے۔ آپ نے اپنے دونوں ہاتھ چہرے پر پھیر کر نیندکے اثرات کو دور کیا، پھر آپ نے سورہ آل عمران کی آخری دس آیات کی تلاوت کی اس کے بعد آپ لٹکے ہوئے مشکیزے کی طرف بڑھے اور آپ نے اس سے وضو کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← كُرَيْبٍ، ← مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in the rising of the night · Hadith 2579

chevron_left Previous
1…131415…305
Next chevron_right