Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الأضحية والعقيقة

Qurbani & Aqiqah

11564 hadiths

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ الضَّحَايَا · حديث 8148

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: «لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَدَعَ الْأُضْحِيَةَ، وَإِنِّي لَمِنْ أَيْسَرِكُمْ بِهَا مَخَافَةَ أَنْ يُحْسَبَ أَنَّهَا حَتْمٌ وَاجِبٌ».

8148 -عقبہ بن عمرو بیان کرتے ہیں: میں نے یہ ارادہ کیا کہ قربانی تر ک کر دیتا ہوں حالانکہ میں تم سب سے زیادہ آسانی سے قربانی کر سکتا تھا لیکن اس اندیشہ کے تحت یہ ارادہ کیا کہ کہیں یہ گمان نہ کیا جائے کہ یہ لازم اور واجب ہے۔

عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِي وَائِلٍ ← مَنْصُورٌ، ← الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Rituals › The door of the victims · Hadith 8148

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ الضَّحَايَا · حديث 8161

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: «إِذَا اشْتَرَى الرَّجُلُ أُضْحِيَتَهُ فَمَرِضَتْ عِنْدَهُ، أَوْ عَرَضَ لَهَا مَرَضٌ فَهِيَ جَائِزَةٌ»

8161 – زہری بیان کرتے ہیں: جب کوئی شخص اپنے قربانی کے جانور کو خرید لے وہ اُس کے پاس بیما ر ہو جائے یا اُسے کوئی بیماری لاحق ہو جائے تو وہ قربانی جائز ہو گی ۔

«إِذَا اشْتَرَى الرَّجُلُ أُضْحِيَتَهُ فَمَرِضَتْ عِنْدَهُ، أَوْ عَرَضَ لَهَا مَرَضٌ فَهِيَ جَائِزَةٌ» ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Rituals › The door of the victims · Hadith 8161

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ فَضْلِ الضَّحَايَا وَالْهَدْيِ، وَهَلْ يَذْبَحُ الْمُحْرِمُ · حديث 8164

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ أَبِي ضَمْرَةَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ بِإِبِلٍ لِي، فَقُلْتُ: لَوْ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ قَالَ: فَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَخْطُبُ وَهُوَ يَقُولُ: «يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ حُجُّوا وَأَهْدُوا، فَإِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْهَدْيَ» قَالَ: فَرَجَعْتُ إِلَى إِبِلِي، فَإِذَا كُلُّ رَجُلٍ مَعْتَنِقٌ مِنْهَا بَعِيرًا قَالَ: وَجَاءَ عُمَرُ فَنَظَرَ إِلَيْهَا، فَقَالَ: «هَذِهِ إِبِلُ رَجُلٍ مُهَاجِرٍ»

8164 – اسود بن ہلال بیان کرتے ہیں: میں اپنا اونٹ لے کر مدینہ منورہ آیا میں نے سوچا اگر میں مسجد جاؤں ۔ راوی کہتے ہیں: میں مسجد گیا تو وہاں حضرت عمر بن خطاب خطبہ دے رہے تھے وہ یہ فرما رہے تھے : اے اہل مدینہ! تم لوگ حج کرو اور قربانی کے جانور کو ساتھ لے کر جاؤ کیونکہ اللہ تعالیٰ ہدی کو پسند کرتا ہے ۔ راوی کہتے ہیں: میں اپنے اونٹ کے پاس واپس آیا ہر شخص اونٹ کا جائز ہ لے رہا تھا پھر حضرت عمر آئے اُنہوں نے اُس اونٹ کو دیکھا اور بولے : یہ کسی مہاجر شخص کا اونٹ ہے ۔

وَجَاءَ عُمَرُ فَنَظَرَ إِلَيْهَا، فَقَالَ: «هَذِهِ إِبِلُ رَجُلٍ مُهَاجِرٍ» ← فَرَجَعْتُ إِلَى إِبِلِي، فَإِذَا كُلُّ رَجُلٍ مَعْتَنِقٌ مِنْهَا بَعِيرًا ← «يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ حُجُّوا وَأَهْدُوا، فَإِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْهَدْيَ» ← فَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَخْطُبُ وَهُوَ ← قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ بِإِبِلٍ لِي، فَقُلْتُ: لَوْ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ ← الأَسْوَدِ بْنِ هِلاَلٍ ← أَبِي ضَمْرَةَ، ← مِسْعَرٍ، ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Rituals › Chapter on the virtue of the sacrifices and the sacrifice, and does the forbidden sacrifice · Hadith 8164

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ ذِكْرِ الصَّيْدِ وَقَتْلِهِ · حديث 8172

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ فِي قَوْلِهِ: {لَيَبْلُوَنَّكُمُ اللَّهُ بِشَيْءٍ مِنَ الصَّيْدِ تَنَالُهُ أَيْدِيكُمْ} [المائدة: 94] قَالَ: «أَخْذُكُمْ إِيَّاهُنَّ مِنْ بَيْضِهِنَّ، وَفِرَاخِهِنَّ» {وَرِمَاحُكُمْ} [المائدة: 94] «مَا رَمَيْتَ أَوْ طَعَنْتَ»

ابن ابو نجیح نے مجاہد کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے نقل کیا ہے : اللہ تعالیٰ تم لوگوں کو شکار کے حوالے سے ضرور آزمائے گا جس تک تمہارے ہاتھ پہنچتے ہیں ۔ مجاہد بیان کرتے ہیں : یعنی تمہارا اُن انڈوں اور بچوں کو پکڑنا اور تمہارے نیزے مجاہد کہتے ہیں : اس سے مراد یہ ہے کہ جسے تم تیر مارو یا جسے تم نیزہ چھبو دو ۔

«أَخْذُكُمْ إِيَّاهُنَّ مِنْ بَيْضِهِنَّ، وَفِرَاخِهِنَّ» {وَرِمَاحُكُمْ} [المائدة: «مَا رَمَيْتَ أَوْ طَعَنْتَ» ← مُجَاهِدٍ فِي قَوْلِهِ: {لَيَبْلُوَنَّكُمُ اللَّهُ بِشَيْءٍ مِنَ الصَّيْدِ تَنَالُهُ أَيْدِيكُمْ} [المائدة: ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Rituals › The door of mentioning the fishing and killing it · Hadith 8172

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ ذِكْرِ الصَّيْدِ وَقَتْلِهِ · حديث 8176

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ، عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: «يُحْكَمُ عَلَى الَّذِي أَصَابَ الصَّيْدَ كُلَّمَا عَادَ» قَالَ: وَقَالَ مُجَاهِدٌ: «لَا يُحْكَمُ عَلَيْهِ إِلَّا فِي الْمَرَّةِ الْأُولَى»

8176 – عبدالکریم جزری نے عطا ء کا یہ قول نقل کیا ہے : یہ حکم اُس شخص پر جاری ہو گا جو شکار کر لیتا ہے جب کبھی وہ دوبارہ ہو گا ۔ مجاہد بیان کرتے ہیں: ایسے شخص پر صرف پہلی مرتبہ یہ حکم جاری ہو گا ۔

وَقَالَ مُجَاهِدٌ: «لَا يُحْكَمُ عَلَيْهِ إِلَّا فِي الْمَرَّةِ الْأُولَى» ← «يُحْكَمُ عَلَى الَّذِي أَصَابَ الصَّيْدَ كُلَّمَا عَادَ» ← عَطَاءٍ، ← عَبْدِ الْکَرِيمِ الْجَزَرِيِّ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Rituals › The door of mentioning the fishing and killing it · Hadith 8176

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ ذِكْرِ الصَّيْدِ وَقَتْلِهِ · حديث 8184

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ هِشَامٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي الْمُحْرِمِ يُصِيبُ الصَّيْدَ، فَيُحْكَمُ عَلَيْهِ ثُمَّ يَعُودُ: قَالَ: «لَا يُحْكَمُ عَلَيْهِ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ عَفَا عَنْهُ، وَإِنْ شَاءَ أَخَذَهُ» قَالَ: وَقَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ: {وَمَنْ عَادَ فَيَنْتَقِمُ اللَّهُ مِنْهُ} [المائدة: 95]، قَالَ هِشَامٌ: وَقَالَ الْحَسَنُ: «يُحْكَمُ عَلَيْهِ كُلَّمَا أَصَابَ فِي الْخَطَأِ، وَالْعَمْدِ»

8184 – عکرمہ بیان کرتے ہیں: حضرت عبداللہ بن عباس نے احرام والے شخص کے بارے میں فرمایا ہے جو شکار کر لیتا ہے اور اُس پر حکم جاری ہو جاتا ہے پھر وہ دوبارہ ایسا کر لیتا ہے تو حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں : اب اُس پر حکم جاری نہیں ہو گا اگر اللہ تعالیٰ چاہے گا تو اُس سے درگزر کرے اور اگر چاہے گا تو اُس کی گرفت کرے گا ۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر اُنہوں نے یہ آیت تلاوت کی : جو شخص دوبارہ ایسا کرے گا تو اللہ تعالیٰ اُس سے انتقال کر لے گا ۔ہشام بیان کرتے ہیں: حسن بصری فرماتے ہیں: ایسا شخص جب بھی گلطی سے یا جان بوجھ کر شکار کرے گا اُس پر حکم جاری ہو گا ۔

هِشَامٌ: وَقَالَ الْحَسَنُ: «يُحْكَمُ عَلَيْهِ كُلَّمَا أَصَابَ فِي الْخَطَأِ، وَالْعَمْدِ» ← وَقَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ: {وَمَنْ عَادَ فَيَنْتَقِمُ اللَّهُ مِنْهُ} [المائدة: ← «لَا يُحْكَمُ عَلَيْهِ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ عَفَا عَنْهُ، وَإِنْ شَاءَ أَخَذَهُ» ← ابْنِ عَبَّاسٍ فِي الْمُحْرِمِ يُصِيبُ الصَّيْدَ، فَيُحْكَمُ عَلَيْهِ ثُمَّ يَعُودُ: ← عِكْرِمَةَ، ← هِشَامٍ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Rituals › The door of mentioning the fishing and killing it · Hadith 8184

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ ذِكْرِ الصَّيْدِ وَقَتْلِهِ · حديث 8186

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: «رُخِّصَ فِي قَتْلِ الصَّيْدِ مَرَّةً فِي الْحَرَمِ، فَإِنْ عَادَ لَمْ يَتْرُكْهُ اللَّهُ حَتَّى يَنْتَقِمَ مِنْهُ فِي الْعَمْدِ»

8186 – سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں: حرم کی حدود میں شکار کو ایک مرتبہ مارنے کی رخصت دی گئی ہے اگر کوئی شخص دوبارہ ایسا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اُسے نہیں چھوڑتا یہاں تک کہ جان بوجھ کر کر نے پر ا ُس سے انتقام لیتا ہے ۔

سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← خُصَيْفٍ ← الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Rituals › The door of mentioning the fishing and killing it · Hadith 8186

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ ذِكْرِ الصَّيْدِ وَقَتْلِهِ · حديث 8189

قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: وَسُئِلَ الثَّوْرِيُّ، وَأَنَا أَسْمَعُ عَنِ الْعَبْدِ، يُصِيبُ الصَّيْدَ؟ قَالَ: «يَصُومُ»، فَقِيلَ لَهُ: فَإِنْ أَعْطَاهُ مَوْلَاهُ مَا يَذْبَحُ؟ قَالَ: «الصَّوْمُ أَحَبُّ إِلَيَّ» ثُمَّ قَالَ: أَخْبَرَنِي لَيْثٌ عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: «لَيْسَ عَلَى الْمَمْلُوكِ إِلَّا الصِّيَامُ»

8189 – امام عبدالرزاق بیان کرتے ہیں: سفیان ثوری سے سوال کیا گیا میں یہ بات سن رہا تھا اُن سے ایسے غلام کے بارے میں دریافت کیا گیا جو شکار کر لیتا ہے تو اُنہوں نے فرمایا: وہ روزہ رکھے گا ۔ اُن سے دریافت کیا گیا : اگر اُس کا آقا اُسے قربانی کرنے کے لیے کوئی جانور دے دیتا ہے اُنہوں نے جواب دیا: اُس کے لیے روزہ رکھنا میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے ۔ پھر اُنہوں نے بتایا کہ لیث نے مجاہد کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے کہ غلام پر صرف روزہ رکھنا لازم ہوتا ہے ۔

«لَيْسَ عَلَى الْمَمْلُوكِ إِلَّا الصِّيَامُ» ← مُجَاهِدٍ ← لَيْثٌ، ← «الصَّوْمُ أَحَبُّ إِلَيَّ» ثُمَّ ← «يَصُومُ»، فَقِيلَ لَهُ: فَإِنْ أَعْطَاهُ مَوْلَاهُ مَا يَذْبَحُ؟ ← الْعَبْدِ، يُصِيبُ الصَّيْدَ؟ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ: وَسُئِلَ الثَّوْرِيُّ، وَأَنَا أَسْمَعُ

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Rituals › The door of mentioning the fishing and killing it · Hadith 8189

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابٌ: بِأَيِّ الْكَفَّارَاتِ شَاءَ كَفَّرَ · حديث 8191

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَقَتَادَةَ، وَعَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالُوا: «الرَّجُلُ مُخَيَّرٌ فِي الصِّيَامِ، وَالصَّدَقَةِ، وَالنُّسُكِ فِي جَزَاءِ الصَّيْدِ»

زہری قتادہ اور عطا ء فرماتے ہیں کہ شکار کی ا جزا میں روزہ رکھنے صدقہ کرنے یا قربانی کرنے کے درمیان آدمی کو اختیار ہو گا ۔

«الرَّجُلُ مُخَيَّرٌ فِي الصِّيَامِ، وَالصَّدَقَةِ، وَالنُّسُكِ فِي جَزَاءِ الصَّيْدِ» ← مُجَاهِدٍ ← الزُّهْرِيِّ، وَقَتَادَةَ، وَعَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Rituals › Chapter: With what atonement he desires to disbelieve · Hadith 8191

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابٌ: بِأَيِّ الْكَفَّارَاتِ شَاءَ كَفَّرَ · حديث 8193

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، وَالثَّوْرِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ فِي قَوْلِهِ: {فَجَزَاءٌ مِثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ يَحْكُمُ بِهِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْكُمْ} [المائدة: 95] قَالَ: «يَحْكُمُ عَلَيْهِ هَدْيًا، فَإِنْ وَجَدَ هَدْيًا، وَإِلَّا قُوِّمَ الْهَدْيُ طَعَامًا، ثُمَّ قُوِّمَ الطَّعَامُ صِيَامًا، مَكَانُ كُلِّ طَعَامِ مِسْكِينٌ صَوْمُ يَوْمٍ» قَالَ مُجَاهِدٌ: «مَكَانُ كُلِّ مُدَّيْنٍ صِيَامُ يَوْمٍ»

8193 – ابن ابو نجیح نے مجاہد کا یہ قول اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں نقل کیا ہے : تو اُس نے جو جانور کو مارا ہے اُس کی جگہ اُس کی مانند جانور ہو گا جس کے بارے میں تم میں سے دو عادل لوگ فیصلہ دیں گے ۔ مجاہد فرماتے ہیں: ایسے شخص کے خلاف قربانی کا جانور دینے کا فیصلہ ہو گا اگر اُس کے پاس یہ دینے کی گنجائش ہو ورنہ اُس جانور کی قیمت جتنا اناج دینا لازم ہو گا اور پھر اُس اناج کی قیمت کے مطابق روزے لازم ہوں گے ایک مسکین کے کھانے کی جگہ ایک روزہ لازم ہو گا ۔ مجاہد کہتے ہیں: ہر دو مد کی جگہ ایک دن کا روزہ لازم ہو گا ۔

مُجَاهِدٍ، فِي قَوْلِهِ ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← مَعْمَرٌ وَالثَّوْرِيُّ؛ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Rituals › Chapter: With what atonement he desires to disbelieve · Hadith 8193

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابٌ: بِأَيِّ الْكَفَّارَاتِ شَاءَ كَفَّرَ · حديث 8195

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: «إِذَا أَصَابَ الْمُحْرِمُ الصَّيْدَ يُحْكَمُ عَلَيْهِ مَا يَعْدِلُهُ مِنَ النَّعَمِ»، فَقِيلَ لَهُ: ابْتَعْهُ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ قُوِّمَ عَلَيْهِ قِيمَةُ ذَلِكَ طَعَامًا، فَإِنْ كَانَ لَا يَجِدُ نُظِرُ الطَّعَامُ كَمْ يَكُونُ؟ فَصَامَ مَكَانَ كُلِّ نِصْفِ صَاعٍ يَوْمًا قَالَ: وَقَالَ مُجَاهِدٌ: «إِنْ وَجَدَ بَعْضَ الطَّعَامِ، وَلَمْ يَجِدْ كُلَّهُ صَامَ، وَإِنْ أَصَابَ دَابَّةً لَمْ يَكُنْ ثَمَنُهَا نِصْفَ صَاعٍ صَامَ مَكَانَهَا يَوْمًا»، قَالَ الثَّوْرِيُّ: وَقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ: «إِنْ كَانَ مُوسِرًا فَهُوَ بِالْخِيَارِ إِنْ شَاءَ صَامَ [ص:397]، وَإِنْ شَاءَ ذَبَحَ، وَإِنْ شَاءَ أَطْعَمَ» وَقَالَ: {أَوْ عَدْلُ ذَلِكَ صِيَامًا} [المائدة: 95] قَالَ: «عَدْلُ الطَّعَامِ الصِّيَامُ عَنْ كُلِّ يَوْمٍ مُدٌّ»

8195 – ابراہیم نخعی فرماتے ہیں: جب محرم شکار کر لیتا ہے تو اُس کے خلاف برابر کے جانور کا فیصلہ دیا جائے گا اور اُس سے کہا جائےگا : تم اسے خریدو ! اگر وہ اس کی گنجائش نہیں پاتا تو اُس جانور کی قیمت کے مطابق اناج کا اندازہ لگایا جائے گا اگر وہ اس کی بھی گنجائش نہیں پاتا تو پھر اناج کا جائزہ لیا جائے گا کہ وہ کتنا ہے تو ہر نصف صاح کے عوض میں وہ آدمی ایک دن میں روزہ رکھے گا ۔ مجاہد فرماتے ہیں: اگر اُس کے پاس کچھ اناج ہے اور مکمل اناج نہیں ہے تو وہ روزے رکھے گا اور اگر اُس نے کسی ایسے جانور کو مارا ہو جس کی قیمت نصف صاح ہو تو وہ اُس کی جگہ ایک دن کا روزہ رکھے گا ۔

إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Rituals › Chapter: With what atonement he desires to disbelieve · Hadith 8195

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابٌ: بِأَيِّ الْكَفَّارَاتِ شَاءَ كَفَّرَ · حديث 8197

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: «أَدْنَى مَا يَكُونُ مِنَ الصَّيْدِ شَاةٌ»

8197 – ہشام بن عروہ نے اپنے والد کا بیان نقل کیا ہے : شکار کم از کم بکری کو ۔

«أَدْنَى مَا يَكُونُ مِنَ الصَّيْدِ شَاةٌ» ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Rituals › Chapter: With what atonement he desires to disbelieve · Hadith 8197

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابٌ: بِأَيِّ الْكَفَّارَاتِ شَاءَ كَفَّرَ · حديث 8199

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ هُشَيْمٍ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ فِي جَزَاءِ الصَّيْدِ إِذَا لَمْ يَجِدْهُ الْمُحْرِمُ قَالَ: «يَصُومُ ثَلَاثَةً فِيمَا بَيْنَهُ، وَبَيْنَ عَشَرَةِ أَيَّامٍ»

8199 – سعید بن جبیر فرماتے ہیں: شکار کی اجزا میں جب محرم شخص کو کچھ نہیں ملتا تو وہ تین سے لے کر دس دن تک کے روزے رکھے گا ۔

«يَصُومُ ثَلَاثَةً فِيمَا بَيْنَهُ، وَبَيْنَ عَشَرَةِ أَيَّامٍ» ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ فِي جَزَاءِ الصَّيْدِ إِذَا لَمْ يَجِدْهُ الْمُحْرِمُ ← أَبِي بِشْرٍ، ← هُشَيْمٌ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Rituals › Chapter: With what atonement he desires to disbelieve · Hadith 8199

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ النَّعَامَةِ يَقْتُلُهَا الْمُحْرِمُ · حديث 8204

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: سَأَلْتُ عَنْ فِدَاءِ الصَّيْدِ؟ قَالَ: «الْحُكُومَةُ يَحْكُمُ عَلَيْهِ حِينَئِذٍ ذَوَا عَدْلٍ، إِنَّكَّ إِنْ نَظَرْتَ فِيمَا قَدْ حُكِمَ فِيهِ، كُسِرَ ذَلِكَ الْغَلَاءُ، وَالرُّخْصُ، وَلَكِنْ يُحْكَمُ عَلَيْهِ حِينَ يُصِيبُهُ»، قَالَ مَعْمَرٌ: وَقَالَهُ الْحَسَنُ أَيْضًا

8204 – زہری کے بارے میں معمر نے یہ بات نقل کی ہے : میں نے اُن سے شکار کے فدیہ کے بارے میں دریافت کیا تو اُنہوں نے فرمایا: وہ عادل لوگ اس بارے میں فیصلہ دیں گے تم اس بات کا جائزہ لو کہ تم اُس چیز کو دیکھو جس کے بارے میں فیصلہ دیا گیا ہے تو اس بارے میں چیز کا مہنگا سستا ہونا پیش نظر رکھا جائے گا اور اس بارے میں وہ فیصلہ اُس وقت کیا جائے گا جب آدمی نے وہ شکار کیا تھا ۔

فِدَاءِ الصَّيْدِ؟ ← سَأَلْتُ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Rituals › Gate of ostrich is killed by Muharram · Hadith 8204

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابٌ: حِمَارُ الْوَحْشِ وَالْبَقَرَةِ وَالْأَرْوَى · حديث 8212

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: «فِي الشَّاةِ مِنَ الظِّبَاءِ شَاةٌ، وَأَدْنَى مَا يَكُونُ فِي الصَّيْدِ شَاةٌ»

8212 - ہشام بن عروہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ایک ہرن میں بکری کی قربانی لازم ہو گی اور شکار میں کم از کم بکری کی قربانی لازم ہو گی ۔

«فِي الشَّاةِ مِنَ الظِّبَاءِ شَاةٌ، وَأَدْنَى مَا يَكُونُ فِي الصَّيْدِ شَاةٌ» ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Rituals › Bab: donkey, cow, and cattle · Hadith 8212

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ الْقُمَّلِ · حديث 8262

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، سُئِلَ عَنِ الْمُحْرِمِ يَقْتُلُ الْقَمْلَةَ؟ فَقَالَ: «أَيَقْتُلُ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ، وَهُوَ يَسْأَلُ عَنِ الْقَمْلَةِ؟» فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: إِنَّهَا قَتَلَتْ قَمْلَةً وَهِيَ مُحْرِمَةٌ، فَمَا كفَّارَتُهَا؟ قَالَ ابْنُ عُمَرَ: «مَا نَعْلَمُ الْقَمْلَةَ مِنَ الصَّيْدِ» فَأَعَادَتْ، فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ، فَأَعَادَتْ عَلَيْهِ الثَّالِثَةَ، فَقَالَ: «شَاةٌ خَيْرٌ مِنْ قَمْلَةٍ، وَنَظَرَ إِلَيَّ لِكَيْ أَشْهَدَ مَعَهُ»، فَقُلْتُ: «أَجَلْ شَاةٌ خَيْرٌ مِنْ قَمْلَةٍ»

8262- ابو مجلز بیان کرتے ہیں: حضرت عبداللہ بن عمر سے احرام والے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا جو جُوں کو مار دیتا ہے ۔ تو اُنہوں نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص اپنے مسلمان بھائی کو قتل کر دیتا ہے اور پھر جُوں کے بارے میں مسئلہ دریافت کرنے آجاتا ہے ۔ پھر ا یک خاتون اُن کے پاس آئی اور بولی : اُس نے احرام کی حالت میں ایک جُوں کو مار دیا تھا تو اُس کا کفارہ کیا ہو گا ؟ حضرت عبداللہ بن عمر نے فرمایا: ہمارے علم کے مطابق جُوں شکار شمار نہیں ہوتی ۔ اُس عورت نے اپنا سوال دہرایا تو حضرت عبداللہ بن عمر نے اپنا جواب دہرایا اُس عورت نے تیسری مرتبہ سوال دہرایا تو حضرت عبداللہ بن عمر نے فرمایا: ایک بکری ایک جُوں سے زیادہ بہتر ہوتی ہے ۔ پھر اُنہوں نے میری طرف دیکھا تاکہ میں اُن کے حق میں گواہی دو تو میں نے کہا: جی ہاں! بکری جُوں سے زیادہ بہتر ہوتی ہے ۔

مِثْلَ ذَلِكَ، فَأَعَادَتْ عَلَيْهِ الثَّالِثَةَ، ← ابْنُ عُمَرَ: «مَا نَعْلَمُ الْقَمْلَةَ مِنَ الصَّيْدِ» فَأَعَادَتْ، ← إِنَّهَا قَتَلَتْ قَمْلَةً وَهِيَ مُحْرِمَةٌ، فَمَا كفَّارَتُهَا؟ ← الْقَمْلَةِ؟» فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ، ← «أَيَقْتُلُ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ، وَهُوَ يَسْأَلُ ← الْمُحْرِمِ يَقْتُلُ الْقَمْلَةَ ← أَبِي مِجْلَزٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، سُئِلَ ← أَبِيهِ ← ابْنُ التَّيْمِيِّ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Rituals › Lice section · Hadith 8262

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ الصَّيْدِ يَدْخُلُ الْحَرَمَ · حديث 8305

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَنَّ عَطَاءً، أَخْبَرَهُ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ كَانَ «يَنْهَى عَنْ أَكْلِ الصَّيْدِ إِذَا أُدْخِلَ الْحَرَمَ حَيًّا» قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: فَأَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُسْأَلُ عَنْهُ فَقَالَ: «لَوْ ذُبِحَ فِي الْحِلِّ كَانَ أَحَبَّ إِلَيَّ»

8305 - عطا ء بیان کرتے ہیں: حضرت عبداللہ بن عباس نے ایسے شکار کو کھانے سے منع کیا ہے جو زندہ حرم کی حدود میں داخل ہو گیا ہو ۔ ابن جریح بیان کرتے ہیں: ابو زبیر نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ اُنہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ کو سنا جن سے اس بارے میں دریافت کیا گیا تو اُنہوں نے فرمایا: اگر اُسے حرم کی حدود سے باہر ذبح کیا جاتا تو یہ چیز میرے نزدیک زیادہ محبوب تھی ۔

«لَوْ ذُبِحَ فِي الْحِلِّ كَانَ أَحَبَّ إِلَيَّ» ← جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُسْأَلُ عَنْهُ ← أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← أَكْلِ الصَّيْدِ إِذَا أُدْخِلَ الْحَرَمَ حَيًّا. ← إنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ كَانَ يَنْهَى ← ابْنِ جُرَيْجٍ، أَنَّ عَطَاءً ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Rituals › The Gate of Hunting enters the Haram · Hadith 8305

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ الصَّيْدِ يَدْخُلُ الْحَرَمَ · حديث 8306

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَعَنْ صَدَقَةَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: «لَا بَأْسَ بِلَحْمِ الصَّيْدِ أَنْ يُؤْكَلَ فِي الْحَرَمِ» قَالَ: «وَلَا يُذْبَحُ الصَّيْدُ فِي الْحَرَمِ، وَلَكِنْ لَوْ ذُبِحَ فِي الْحِلِّ، ثُمَّ أُدْخِلَ الْحَرَمَ مَذْبُوحًا لَمْ يَكُنْ بِهِ بَأْسٌ»

8306 – مجاہد فرماتے ہیں: حرم کی حدود میں شکار کا گوشت کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے وہ یہ فرماتے ہیں: شکار کو حرم کی حدود میں ذبح نہیں کیا جائے گا اگر اُسے حرم کی حدود سے باہر ذبح کیا گیا ہو اور پھر زبح شدہ حالت میں حرم لایا گیا ہو تو پھر اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔

لَا بَأْسَ بِلَحْمِ الصَّيْدِ أَنْ يُؤْكَلَ فِي الْحَرَمِ ← مُجَاهِدٍ ← صَدَقَةُ بْنُ يَسَارٍ، ← أَبِيهِ ← ابْنِ طَاوُسٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Rituals › The Gate of Hunting enters the Haram · Hadith 8306

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ الصَّيْدِ يَدْخُلُ الْحَرَمَ · حديث 8307

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: «لَا بَأْسَ أَنْ يَدْخُلَ الصَّيْدُ الْحَرَمَ، ثُمَّ يُذْبَحَ»

8307 - مجاہد فرماتے ہیں: اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ شکار کو حرم کی حدود میں آ نے کے بعد ذبح کیا جائے گا ۔

«لَا بَأْسَ أَنْ يَدْخُلَ الصَّيْدُ الْحَرَمَ، ثُمَّ يُذْبَحَ» ← مُجَاهِدٍ ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Rituals › The Gate of Hunting enters the Haram · Hadith 8307

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ الصَّيْدِ يَدْخُلُ الْحَرَمَ · حديث 8308

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: «إِذَا أُدْخِلَ الْحَرَمَ الصَّيْدُ حَيًّا، فَلَا بَأْسَ بِأَكْلِهِ»، فَقِيلَ لِعَمْرٍو: إِنَّ عَطَاءً قَدْ نَزَلَ عَنْ قَوْلِهِ هَذَا فَقَالَ: «عَهْدِي بِهِ يَأْكُلُهُ» فَكَانَ عَمْرٌو لَا يَرَى بِأَكْلِهِ بَأْسًا "

8308 – عطا ء فرماتے ہیں: جب شکار زندہ حرم کی حدود میں داخل ہو جائے تو اسے کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ عمرو سے دریافت کیا گیا : عطا ء نے تو اس قول سے رجوع کر لیا تھا اور زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ وہ اسے کھایا کرتے تھے لیکن عمرو بن دینار اسے کھانے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے ۔

عَطَاءٍ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Rituals › The Gate of Hunting enters the Haram · Hadith 8308

chevron_left Previous
1…424344…579
Next chevron_right