عطا ء بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ایک شخص ویرانے میں سفر کر رہا تھا اسی دوران اُسے پہلی کا چاند نظر آگیا اُس نے چاند کی طرف دیکھا شروع کیا تو کسی شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا کہنے والا شخص اُسے نظر نہیں آیا ۔ اے اللہ! اس پہلی کے چاند کو ہم پر امن سلامتی اسلام ہدایت اور مغفرت کے مطابق توفیق اور تیری ناراضکی سے حفاظت کے ہمراہ طلوع کرنا میرا پروردگار اور تمہارا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے ۔
عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · The fasting book › Chapter on saying when seeing the crescent · Hadith 7350
2618 - عبداللہ بن ابو بکر بیان کرتے ہیں: حضرت معاویہ نے لوگوں کو مدینہ منورہ میں عشا ء کی نماز پڑھائی تو اُنہوں نے اس میں بسم اللہ الرحمٰن الرحیم نہیں پڑھی اور لوگوں کے عام معمول کے مطابق تکبر بھی نہیں کہی جب اُنہوں نے نماز مکمل کی تو مہاجرین اور انصار سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے اُنہیں بلند آواز میں پکار کے کہا : اے معاویہ ! کیا آ پ نے نماز میں چوری کی ہے ؟ یا آپ بھول گئے ہیں؟ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کیوں نہیں پڑھی ؟ اور آپ جب سجدہ کرنے کے لیے جھکتے تھے تو اللہ اکبر کیوں نہیں کہا؟ اُس کے بعد حضرت معاویہ نے دوبارہ ایسا نہیں کیا ۔
26234 – منصور بن مسیرہ بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت ابو ہریرہ کی ا قتدا میں نماز ادا کی جب انہوں نے غیر المغضرب ولاالضالین پڑھ لیتے تھے تو آمین کہا یہاں تک کہ آپ تک آواز آئی تو اُن کے پیچھے لوگوں نے بھی آمین کہا ۔ راوی بیان کرتے ہیں: اُنہوں نے رکوع میں جاتے ہوئے اور سجدہ میں جاتے ہوئے تکبیر بھی کہی تھی ۔
3204 – ابن جریح بیان کرتے ہیں: میں نے عطا ء سے دریافت کیا: آپ نے فرض نماز کے بعد سبحان اللہ اللہ اکبر اور الحمد اللہ پڑھنے کے بارے میں جو تعداد ذکر کی ہے اسی پر اکتفا کرنا آپ کے لیے زیادہ پسندیدہ ہے یا ہم اس سے زیادہ پڑھ سکتے ہیں؟ اُنہوں نے جواب دیا: جی ہاں! میں نے دریافت کیا: کیا آپ کے نزدیک یہ چیز زیادہ پسندیدیہ ہے جب تک آپ نماز پڑھنے کے بعد تسبیح نہیں پڑھ لیتے اُس وقت تک نہ اُٹھیں ؟ اُنہوں نے جواب دیا: جی ہاں! میں نے دریافت کیا: کیوں ؟ اُنہوں نے فرمایا: کیونکہ لوگ یہ کہتے ہیں: فرشتے اُس آدمی کے لیے مسلسل دعا کرتے رہتے ہیں جب تک وہ آدمی اپنی جگہ سے کھڑا نہیں ہوجاتا جہاں اُس نے نماز ادا کی ہے اور جب تک وہ بے وضو نہیں ہو جاتا ۔ عطاء بیان کرتے ہیں: مجھے یہبات پسند ہے یہ ہر نماز کے بعد ہونا چاہیے ۔ میں نے دریافت کیا: کیا آپ اس بات کو مستحب سمجھتے ہیں ان کلمات کو پڑھنے سے پہلے آپ کسی کے ساتھ کلام نہ کریں؟ اُنہوںں نے جواب دیا: جی ہاں! اللہ کی قسم! لیکن لوگ ہمیں چھوڑتے نہیں ہیں۔
اُم بنوکر زکعبیہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ اُنہوں نے نبی اکرمﷺ سے عقیقہ کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے ارشاد فرمایا: لڑکے کی طرف سے دو برابر کی بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری قربان کی جائے گی ۔ وہ خاتون بیان کرتی ہیں : میں نے دریافت کیا: لفظ مکافات سے کیا مراد ہے ؟ تو آپ نے فرمایا: وہ دونوں ایک دوسرے کی مثل ہوں ویسے بکرے کے مقابلہ میں دنبہ میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے اور مؤنث کے مقابلہ میں مذکر میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے ۔
7954 - سیدہ اُم کرز بیان کرتی ہیں: اُنہوں نے نبی اکرمﷺ سے عقیقہ کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے ارشاد فرمایا: لڑکے کی طرف سے دو اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری قربان کی جائے گی تمہیں کوئی نقصان نہیں ہو گا خواہ وہ بکری ہو یا بکرہ ہو ۔
7958 - حضرت سلمان بن عامر ضبی بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے :لڑکے کا عقیقہ کیا جائے گا تم اُس کی طرف سے خون بہاؤ اور اُس سے گندگی دور کر دو۔
7961 - عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ سے عقیقہ کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا: میں عقوق کو پسند نہیں کرتا گویا نبی اکرمﷺ نے اس نام کو ناپسند کیا ۔ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ! ہم آپ سے اس بارے میں دریافت کر رہے ہیں کہ جب کسی کے ہاں بچہ پیدا ہو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : تم میں سے جو شخص پسند کرے تو وہ ایک بچہ کی طرف سے قربانی کر لے لڑکے کی طرف سے دو بکریاں قربان کی جائیں گی اور لڑکی کی طرف سے ایک قربان کی جائے گی۔
7963 – سیدہ عائشہ بیان کرتی ہیں : نبی اکرمﷺ نے حضرت امام حسن کی طرف سے دو بکریاں قربان کی تھی اور حضرت امام حسین کی طرف سے دو بکریاں قربان کی تھی آپ نے ا ُن کی پیدائش کے ساتویں دن یہ قربانی کی تھیں آپ نے اُن دونوں پر مشق لگوائی تھی اور یہ ہدایت کی تھی کہ ان کے سر سے گندگی دو ر کر دی جائے ۔ سیدہ عائشہ بیان کرتی ہیں : نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم اس کا نام لے کر قربانی کرو اور تم لوگ یہ کہو: اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے اے اللہ! یہ تیرے لیے ہے اور تیری طرف جا رہی ہے یہ فلاں کا عقیقہ ہے ۔ راوی بیان کرتےے ہیں: زمانہ جاہلیت میں لوگ عقیقہ کے جانو ر کے خون کو روئی کو ڈبوتے تھے اور جب بچہ کا سر منڈتے تھے تو وہ روئی اُس کے سر پر رکھ دیتے تھے ۔
7964- نافع بیان کرتے ہیں: حضرت عبداللہ بن عمر کے اہل خانہ میں سے جو بھی عقیقہ کی درخواست کرتا وہ اسے عطا ء کر دیا کرتے تھے اور وہ یہ فرماتے تھے : لڑکے کی طرف سے دو بکریاں قربان کی جائیں گی اور لڑکی کی طرف سے ایک قربان کی جائے گی۔
7965 – مکحول نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: نومولود بچہ اپنے عقیقہ کے عوض میں رہن ہوتا ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں: حضرت عبداللہ بن عمر کے بارے میں بھی مجھ تک یہ روایت پہنچی ہے کہ وہ بھی یہ فرمایا کرتے تھے ۔
7966 - حسن بصری فرماتے ہیں: بچہ اپنے عقیقہ کے کے عوض رہن میں ہوتا ہے ۔ وہ یہ روایت نقل کرتے تے اور جب اُس کی طرف سے قربانی کر دی جائے گی تو اُس کی طرف سے عقیقہ ہو جائے گا ۔
7967 – قتادہ فرماتے ہیں: جس شخص کا عقیقہ نہ ہوا ہو اُس کی طرف سے قربانی بھی ہوتی ہے ۔ ابن جریح کہتے ہیں: اُس کے اعضا ء کو پانی اور نمک میں پکایا جائے گا اُس کے اعضا ء کو اور پھر آدمی اپنے پڑوسیوں اور دوستوں کو وہ گوشت تحفہ کے طور پر بھیجے گا اس گوشت کو صدقہ نہیں کیا جائے گا ۔
ابن عیینہ بیان کرتے ہیں: میں نے عطا ء کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : بچہ کی پیدائش کے ساتویں دن اُس کی طرف سے عقیقہ کیا جائے گا اگر لوگ اُسے نہیں کر پاتے تو یہ چیز میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے کہ وہ اگلے سات دن تک اسے مؤخر کر دیں تاہم میں نے لوگوں کو دیکھا ہے کہ وہ اہتمام کے ساتھ پیدائش کے ساتویں دن ہی عقیقہ کرتے ہیں اُنہوں نے بتایا کہ عقیقہ کے کھانے میں شری ہونے والے لوگ اُس کا گوشت کھائیں گے اور وہ گوشت تحفہ کے طور پر بھی دیا جائے گا ۔ میںنے اُن سے دریافت کیا : کیا یہ سنت ہے ؟ اُنہوں نے جواب دیا: نبی اکرمﷺ نے اس بات کا حکم دیا ہے ۔ میں نے دریافت کیا : کیا میں اُسے صدقہ کر سکتا ہوں ؟ اُنہوں نے جواب دیا: جی نہیں! اگر تم چاہو تو تم خود کھاؤ یا پھر اُسے تحفہ کے طور پر کسی کو دے دو ۔ اُن سے دریافت کیا گیا: کیا یہ دونوں ذبح شدہ ہوں گے ؟ اُنہوں نے جواب دیا: جی نہیں! یہ دونوں کھڑے ہوئے ہوں گے ۔
7970 - ابن جریح بیان کرتے ہیں: سر منڈنے سے پہلے ذبح کیا جائے گا ۔ ابن جریح بیان کرتے ہیں: میں نے عطا ء کے حوالے سے ایک تحریر میں یہ بات پائی ہے کہ ذبح کرنے سے پہلے سر منڈ لیا جائے ۔
7972 – حسن بصری بیان کرتے ہیں: ساتویں دن اُس کا عقیقہ کیا جائے گا اور اُس کا نام رکھا جائے گا اگر اُس کا عقیقہ نہیں کیا جاتا تو اُس کی طرف سے قربانی کر لینا بھی کفایت کر جائے گا ۔