Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الأضحية والعقيقة

Qurbani & Aqiqah

11564 hadiths

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصِّيَامِ ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ رُؤْيَةِ الْهِلَالِ · حديث 7350

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: بَيْنَا رَجُلٌ يَسِيرُ فِي فَلَاةٍ مِنَ الْأَرْضِ إِذْ أَهَلَّ هِلَالٌ، فَجَعَلَ يَنْظُرُ إِلَيْهِ فَسَمِعَ قَائِلًا يَقُولُ - وَلَا يَرَاهُ -: «اللَّهُمَّ أَهِلَّهُ عَلَيْنَا بِالْأَمْنِ، وَالْإِيمَانِ، وَالسَّلَامَةِ، وَالْإِسْلَامِ، وَالْهُدَى، وَالْمَغْفِرَةِ، وَالتَّوْفِيقِ لِمَا تَرْضَى، وَالْحِفْظِ مِمَّا تَسْخَطُ، رَبِّي، وَرَبُّكَ اللَّهُ، فَلَمْ يَزَلْ يُرَدِّدُهَا حَتَّى حَفِظَهَا الرَّجُلُ»

عطا ء بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ایک شخص ویرانے میں سفر کر رہا تھا اسی دوران اُسے پہلی کا چاند نظر آگیا اُس نے چاند کی طرف دیکھا شروع کیا تو کسی شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا کہنے والا شخص اُسے نظر نہیں آیا ۔ اے اللہ! اس پہلی کے چاند کو ہم پر امن سلامتی اسلام ہدایت اور مغفرت کے مطابق توفیق اور تیری ناراضکی سے حفاظت کے ہمراہ طلوع کرنا میرا پروردگار اور تمہارا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے ۔

عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The fasting book › Chapter on saying when seeing the crescent · Hadith 7350

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ قِرَاءَةِ «بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ» · حديث 2618

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ بْنِ سَعْدٍ: أَنَّ مُعَاوِيَةَ صَلَّى بِالْمَدِينَةِ لِلنَّاسِ الْعَتَمَةَ، فَلَمْ يَقْرَأْ: {بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} [الفاتحة: 1]، وَلَمْ يُكَبِّرْ بَعْضَ هَذَا التَّكْبِيرِ الَّذِي يُكَبِّرُ النَّاسُ، فَلَمَّا انْصَرَفَ نَادَاهُ مَنْ سَمِعَ ذَلِكَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ فَقَالُوا: " يَا مُعَاوِيَةُ، أَسَرَقْتَ الصَّلَاةَ أَمْ نَسِيتَ؟ أَيْنَ: {بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} [الفاتحة: 1]؟ وَاللَّهُ أَكْبَرُ حَتَّى تَهْوِيَ سَاجِدًا؟ " فَلَمْ يَعُدْ مُعَاوِيَةُ لِذَلِكَ بَعْدُ

2618 - عبداللہ بن ابو بکر بیان کرتے ہیں: حضرت معاویہ نے لوگوں کو مدینہ منورہ میں عشا ء کی نماز پڑھائی تو اُنہوں نے اس میں بسم اللہ الرحمٰن الرحیم نہیں پڑھی اور لوگوں کے عام معمول کے مطابق تکبر بھی نہیں کہی جب اُنہوں نے نماز مکمل کی تو مہاجرین اور انصار سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے اُنہیں بلند آواز میں پکار کے کہا : اے معاویہ ! کیا آ پ نے نماز میں چوری کی ہے ؟ یا آپ بھول گئے ہیں؟ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کیوں نہیں پڑھی ؟ اور آپ جب سجدہ کرنے کے لیے جھکتے تھے تو اللہ اکبر کیوں نہیں کہا؟ اُس کے بعد حضرت معاویہ نے دوبارہ ایسا نہیں کیا ۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ بْنِ سَعْدٍ: ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › Chapter of reading “In the name of God, the Most Gracious, the Most Merciful” · Hadith 2618

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ قِرَاءَةِ «بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ» · حديث 2619

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: " نَسِيَ النَّاسُ: {بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} [الفاتحة: 1]، وَهَذَا التَّكْبِيرَ "

2619 – مجاہد بیان کرتے ہیں: لوگ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھنا اور یہ تکبیر کہنا بھول گئے ہیں۔

نَسِيَ النَّاسُ: {بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} [الفاتحة: وَهَذَا التَّكْبِيرَ ← مُجَاهِدٍ ← اِبْرَاھِیْمَ بْنِ مَیْسَرَۃَ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › Chapter of reading “In the name of God, the Most Gracious, the Most Merciful” · Hadith 2619

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ آمِينَ · حديث 2634

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ مَيْسَرَةَ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَكَانَ إِذَا قَالَ: {غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ} [الفاتحة: 7] قَالَ: «آمِينَ»، حَتَّى يُسْمِعَنَا فِيُؤَمِّنُ مَنْ خَلْفَهُ قَالَ: «وَكَانَ يُكَبِّرُ بِنَا هَذَا التَّكْبِيرَ إِذَا رَكَعَ، وَإِذَا سَجَدَ»

26234 – منصور بن مسیرہ بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت ابو ہریرہ کی ا قتدا میں نماز ادا کی جب انہوں نے غیر المغضرب ولاالضالین پڑھ لیتے تھے تو آمین کہا یہاں تک کہ آپ تک آواز آئی تو اُن کے پیچھے لوگوں نے بھی آمین کہا ۔ راوی بیان کرتے ہیں: اُنہوں نے رکوع میں جاتے ہوئے اور سجدہ میں جاتے ہوئے تکبیر بھی کہی تھی ۔

«وَكَانَ يُكَبِّرُ بِنَا هَذَا التَّكْبِيرَ إِذَا رَكَعَ، وَإِذَا سَجَدَ» ← «آمِينَ»، حَتَّى يُسْمِعَنَا فِيُؤَمِّنُ مَنْ خَلْفَهُ ← {غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ} [الفاتحة: ← صَلَّيْتُ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَكَانَ إِذَا ← مَنْصُورِ بْنِ مَيْسَرَةَ ← دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › Amen door · Hadith 2634

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّسْبِيحِ وَالْقَوْلِ وَرَاءَ الصَّلَاةِ · حديث 3201

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ مُغِيرَةَ قَالَ: «لَا بَأْسَ بِعَدَدِ التَّكْبِيرِ وَالتَّسْبِيحِ فِي الصَّلَاةِ بِمَا جَاءَ فِيهِ الْأَحَادِيثُ»

حضرت مغیرہ فرماتے ہیں: نماز میں تکبیر یا تسبیح کی تعداد میں کوئی حرج نہیں ہے جیسا کہ احادیث میں منقول ہے ۔

«لَا بَأْسَ بِعَدَدِ التَّكْبِيرِ وَالتَّسْبِيحِ فِي الصَّلَاةِ بِمَا جَاءَ فِيهِ الْأَحَادِيثُ» ← مُغِيرَةَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › Chapter of praise and utterance after prayer · Hadith 3201

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ جُلُوسِ الرَّجُلِ فِي مَجْلِسِهِ بَعْدَ الصَّلَاةِ · حديث 3204

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: الَّذِي ذَكَرْتَ مِنْ عَدَدِ التَّسْبِيحِ وَالتَّكْبِيرِ وَالتَّحْمِيدِ وَرَاءَ الْمَكْتُوبَةِ أَحَبُّ إِلَيْكَ أَمْ نَزِيدُ عَلَى ذَلِكَ؟ قَالَ: «نَعَمْ» قَالَ: قُلْتُ: أَحَبُّ إِلَيْكَ أَنْ لَا تَقُومَ حَتَّى تَفْرُغَ مِنْ تَسْبِيحِكَ؟ قَالَ: «نَعَمْ»، قُلْتُ: لِمَ؟ قَالَ: " لِأَنَّهُمْ يَقُولُونَ: لَا تَزَالُ الْمَلَائِكَةُ تُصَلِّي عَلَى الْمَرْءِ مَا لَمْ يَقُمْ مَنْ مُصَلَّاهُ الَّذِي صَلَّى فِيهِ مَا لَمْ يُحْدِثْ " قَالَ: «وَإِنِّي لَأُحِبُّ أَنْ يَكُونَ ذَلِكَ فِي دُبُرِ الْمَكْتُوبَةِ»، قُلْتُ: أَتَسْتَحِبُّ أَنْ لَا تَتَكَلَّمَ حَتَّى تَفْرُغَ مِنْهُ؟ قَالَ: «نَعَمْ، وَاللَّهِ، وَلَكِنْ مَا يَدَعُونَنَا»

3204 – ابن جریح بیان کرتے ہیں: میں نے عطا ء سے دریافت کیا: آپ نے فرض نماز کے بعد سبحان اللہ اللہ اکبر اور الحمد اللہ پڑھنے کے بارے میں جو تعداد ذکر کی ہے اسی پر اکتفا کرنا آپ کے لیے زیادہ پسندیدہ ہے یا ہم اس سے زیادہ پڑھ سکتے ہیں؟ اُنہوں نے جواب دیا: جی ہاں! میں نے دریافت کیا: کیا آپ کے نزدیک یہ چیز زیادہ پسندیدیہ ہے جب تک آپ نماز پڑھنے کے بعد تسبیح نہیں پڑھ لیتے اُس وقت تک نہ اُٹھیں ؟ اُنہوں نے جواب دیا: جی ہاں! میں نے دریافت کیا: کیوں ؟ اُنہوں نے فرمایا: کیونکہ لوگ یہ کہتے ہیں: فرشتے اُس آدمی کے لیے مسلسل دعا کرتے رہتے ہیں جب تک وہ آدمی اپنی جگہ سے کھڑا نہیں ہوجاتا جہاں اُس نے نماز ادا کی ہے اور جب تک وہ بے وضو نہیں ہو جاتا ۔ عطاء بیان کرتے ہیں: مجھے یہبات پسند ہے یہ ہر نماز کے بعد ہونا چاہیے ۔ میں نے دریافت کیا: کیا آپ اس بات کو مستحب سمجھتے ہیں ان کلمات کو پڑھنے سے پہلے آپ کسی کے ساتھ کلام نہ کریں؟ اُنہوںں نے جواب دیا: جی ہاں! اللہ کی قسم! لیکن لوگ ہمیں چھوڑتے نہیں ہیں۔

قُلْتُ: أَحَبُّ إِلَيْكَ ← نَعَمْ ← التَّكْبِيرِ وَالتَّحْمِيدِ وَرَاءَ الْمَكْتُوبَةِ أَحَبُّ إِلَيْكَ أَمْ نَزِيدُ عَلَى ذَلِكَ؟ ← قُلْتُ لِعَطَاءٍ: الَّذِي ذَكَرْتَ مِنْ عَدَدِ التَّسْبِيحِ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › The door for a man to sit in his sitting after prayer · Hadith 3204

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْعَقِيقَةِ ‹ بَابُ الْعَقِيقَةِ · حديث 7953

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ حَبِيبَةَ ابْنَةِ مَيْسَرَةَ بْنِ أَبِي خَيْثَمٍ، عَنْ أُمِّ بَنِي كُرْزٍ الْكَعْبِيَّةِ أَنَّهَا سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْعَقِيقَةِ، فَقَالَ: «عَلَى الْغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافَأَتَانِ، وَعَلَى الْجَارِيَةِ شَاةٌ» قَالَتْ: قُلْتُ: وَمَا الْمُكَافَأَةُ؟ قَالَ: «الْمِثْلَانِ، وَإِنَّ الضَّأْنَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الْمَعْزِ، ذُكْرَانُهَا أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ إِنَاثِهَا رَأْيًا مِنْهُ»

اُم بنوکر زکعبیہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ اُنہوں نے نبی اکرمﷺ سے عقیقہ کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے ارشاد فرمایا: لڑکے کی طرف سے دو برابر کی بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری قربان کی جائے گی ۔ وہ خاتون بیان کرتی ہیں : میں نے دریافت کیا: لفظ مکافات سے کیا مراد ہے ؟ تو آپ نے فرمایا: وہ دونوں ایک دوسرے کی مثل ہوں ویسے بکرے کے مقابلہ میں دنبہ میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے اور مؤنث کے مقابلہ میں مذکر میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے ۔

قُلْتُ: وَمَا الْمُكَافَأَةُ؟ ← «عَلَى الْغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافَأَتَانِ، وَعَلَى الْجَارِيَةِ شَاةٌ» ← الْعَقِيقَةِ. ← أُمِّ بَنِي كُرْزٍ الْكَعْبِيَّةِ أَنَّهَا سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ ← حَبِيبَةَ ابْنَةِ مَيْسَرَةَ بْنِ أَبِي خَيْثَمٍ، ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Aqeeqah Book › Bab Al Aqiqah · Hadith 7953

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْعَقِيقَةِ ‹ بَابُ الْعَقِيقَةِ · حديث 7954

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ، أَنَّ سِبَاعَ بْنَ ثَابِتٍ، يَزْعُمُ أَنَّ مُحَمَّدَ بنَ ثَابِتِ بْنِ سِبَاعٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أُمَّ كُرْزٍ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْعَقِيقَةِ فَقَالَ: «نَعَمْ عَلَى الْغُلَامِ ثِنْتَانِ، وَعَلَى الْجَارِيَةِ الْأُنْثَى وَاحِدَةٌ، وَلَا يَضُرُّكُمْ ذُكْرَانًا كُنَّ أَمْ إِنَاثًا»

7954 - سیدہ اُم کرز بیان کرتی ہیں: اُنہوں نے نبی اکرمﷺ سے عقیقہ کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے ارشاد فرمایا: لڑکے کی طرف سے دو اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری قربان کی جائے گی تمہیں کوئی نقصان نہیں ہو گا خواہ وہ بکری ہو یا بکرہ ہو ۔

عُبَيْدِ اللَّهِ1 بْنِ أبي يزيد، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Aqeeqah Book › Bab Al Aqiqah · Hadith 7954

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْعَقِيقَةِ ‹ بَابُ الْعَقِيقَةِ · حديث 7958

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنِ الرَّبَابِ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَعَ الْغُلَامِ عَقِيقَةٌ، فَأَهْرِيقُوا عَنْهُ دَمًا، وَأَمِيطُوا عَنْهُ الْأَذَى» عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

7958 - حضرت سلمان بن عامر ضبی بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے :لڑکے کا عقیقہ کیا جائے گا تم اُس کی طرف سے خون بہاؤ اور اُس سے گندگی دور کر دو۔

سَلْمَانُ بْنُ عَامِرٍ الضَّبِّيُّ ← الرَّبَابِ ← حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Aqeeqah Book › Bab Al Aqiqah · Hadith 7958

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْعَقِيقَةِ ‹ بَابُ الْعَقِيقَةِ · حديث 7961

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ شُعَيْبٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْعَقِيقَةِ؟ فَقَالَ: «لَا أُحِبُّ الْعُقُوقُ، كَأَنَّهُ كَرِهَ الِاسْمَ» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَسْأَلُكَ عَنْ أَحَدِنَا يُولَدُ لَهُ، فَقَالَ: «مَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَنْسُكَ عَنْ وَلَدِهِ فَلْيَفْعَلْ، عَلَى الْغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافَأَتَانِ، وَعَلَى الْجَارِيَةِ شَاةٌ»

7961 - عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ سے عقیقہ کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا: میں عقوق کو پسند نہیں کرتا گویا نبی اکرمﷺ نے اس نام کو ناپسند کیا ۔ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ! ہم آپ سے اس بارے میں دریافت کر رہے ہیں کہ جب کسی کے ہاں بچہ پیدا ہو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : تم میں سے جو شخص پسند کرے تو وہ ایک بچہ کی طرف سے قربانی کر لے لڑکے کی طرف سے دو بکریاں قربان کی جائیں گی اور لڑکی کی طرف سے ایک قربان کی جائے گی۔

الْعَقِيقَةِ؟ فَقَالَ: «لَا أُحِبُّ الْعُقُوقُ، كَأَنَّهُ كَرِهَ الِاسْمَ» ← سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Aqeeqah Book › Bab Al Aqiqah · Hadith 7961

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْعَقِيقَةِ ‹ بَابُ الْعَقِيقَةِ · حديث 7963

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: حُدِّثْتُ حَدِيثًا، رُفِعَ إِلَى عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: «عَقَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ حَسَنٍ شَاتَيْنِ، وَعَنْ حُسَيْنٍ شَاتَيْنِ ذَبَحَهُمَا يَوْمَ السَّابِعِ» قَالَ: «وَمَشَقَهُمَا وَأَمَرَ أَنْ يُمَاطَ عَنْ رُءُوسِهِمَا الْأَذَى» قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اذْبَحُوا عَلَى اسْمِهِ، وَقُولُوا: بِاسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ لَكَ وَإِلَيْكَ، هَذِهِ عَقِيقَةُ فُلَانٍ " قَالَ: وَكَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يُخَضِّبُونَ قُطْنَةً بِدَمِ الْعَقِيقَةِ، فَإِذَا حَلَقُوا الصَّبِيَّ وَضَعُوهَا عَلَى رَأْسِهِ، فَأَمَرَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنْ يَجْعَلُوا مَكَانَ الدَّمِ خَلُوقًا، يَعْنِي مَشَقَهُمَا: وُضِعَ عَلَى رَأْسِهِمَا طِينُ مَشْقٍ مِثْلُ الْخَلُوقِ "

7963 – سیدہ عائشہ بیان کرتی ہیں : نبی اکرمﷺ نے حضرت امام حسن کی طرف سے دو بکریاں قربان کی تھی اور حضرت امام حسین کی طرف سے دو بکریاں قربان کی تھی آپ نے ا ُن کی پیدائش کے ساتویں دن یہ قربانی کی تھیں آپ نے اُن دونوں پر مشق لگوائی تھی اور یہ ہدایت کی تھی کہ ان کے سر سے گندگی دو ر کر دی جائے ۔ سیدہ عائشہ بیان کرتی ہیں : نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم اس کا نام لے کر قربانی کرو اور تم لوگ یہ کہو: اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے اے اللہ! یہ تیرے لیے ہے اور تیری طرف جا رہی ہے یہ فلاں کا عقیقہ ہے ۔ راوی بیان کرتےے ہیں: زمانہ جاہلیت میں لوگ عقیقہ کے جانو ر کے خون کو روئی کو ڈبوتے تھے اور جب بچہ کا سر منڈتے تھے تو وہ روئی اُس کے سر پر رکھ دیتے تھے ۔

رُءُوسِهِمَا الْأَذَى» ← «وَمَشَقَهُمَا وَأَمَرَ أَنْ يُمَاطَ ← حَسَنٍ شَاتَيْنِ، وَعَنْ حُسَيْنٍ شَاتَيْنِ ذَبَحَهُمَا يَوْمَ السَّابِعِ» ← «عَقَّ رَسُولُ اللَّهِ ← حَدِيثًا، رُفِعَ إِلَى عَائِشَةَ أَنَّهَا ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Aqeeqah Book › Bab Al Aqiqah · Hadith 7963

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْعَقِيقَةِ ‹ بَابُ الْعَقِيقَةِ · حديث 7964

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَمَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ لَا يَسْأَلُهُ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِهِ عَقِيقَةً إِلَّا أَعْطَاهَا إِيَّاهُ قَالَ: فَكَانَ يَقُولُ: «عَلَى الْغُلَامِ شَاةٌ، وَعَلَى الْجَارِيَةِ شَاةٌ»

7964- نافع بیان کرتے ہیں: حضرت عبداللہ بن عمر کے اہل خانہ میں سے جو بھی عقیقہ کی درخواست کرتا وہ اسے عطا ء کر دیا کرتے تھے اور وہ یہ فرماتے تھے : لڑکے کی طرف سے دو بکریاں قربان کی جائیں گی اور لڑکی کی طرف سے ایک قربان کی جائے گی۔

«عَلَى الْغُلَامِ شَاةٌ، وَعَلَى الْجَارِيَةِ شَاةٌ» ← فَكَانَ ← كَانَ ابْنُ عُمَرَ لَا يَسْأَلُهُ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِهِ عَقِيقَةً إِلَّا أَعْطَاهَا إِيَّاهُ ← نَافِعٍ ← أَيُّوبَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَمَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Aqeeqah Book › Bab Al Aqiqah · Hadith 7964

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْعَقِيقَةِ ‹ بَابُ الْعَقِيقَةِ · حديث 7965

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: أُخْبِرْتُ عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ مَكْحُولٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْمَوْلُودُ مُرْتَهَنٌ بِعَقِيقَتِهِ» قَالَ: وَبَلَغَنِي عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُهُ

7965 – مکحول نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: نومولود بچہ اپنے عقیقہ کے عوض میں رہن ہوتا ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں: حضرت عبداللہ بن عمر کے بارے میں بھی مجھ تک یہ روایت پہنچی ہے کہ وہ بھی یہ فرمایا کرتے تھے ۔

مَكْحُولٌ ← أَبِي النَّضْرِ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Aqeeqah Book › Bab Al Aqiqah · Hadith 7965

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْعَقِيقَةِ ‹ بَابُ الْعَقِيقَةِ · حديث 7966

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ رَجُلٍ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: «الْغُلَامُ مُرْتَهَنٌ بِعَقِيقَتِهِ، كَانَ يَرْوِيهِ، وَإِذَا ضُحِّيَ عَنْهُ أَجْزَأَ ذَلِكَ عَنْهُ مِنَ الْعَقِيقَةِ»

7966 - حسن بصری فرماتے ہیں: بچہ اپنے عقیقہ کے کے عوض رہن میں ہوتا ہے ۔ وہ یہ روایت نقل کرتے تے اور جب اُس کی طرف سے قربانی کر دی جائے گی تو اُس کی طرف سے عقیقہ ہو جائے گا ۔

الْحَسَنِ، ← رَجُلٌ: ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Aqeeqah Book › Bab Al Aqiqah · Hadith 7966

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْعَقِيقَةِ ‹ بَابُ الْعَقِيقَةِ · حديث 7967

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: «مَنْ لَمْ يُعَقَّ عَنْهُ أَجْزَأَتْهُ أُضْحِيَتُهُ»، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: " تُطْبَخُ بِمَاءٍ، وَمِلْحٍ أَعْضَاءً، أَوْ قَالَ: آرَابًا، وَيُهْدَى فِي الْجِيرَانِ، وَالصَّدِيقِ، وَلَا يُتَصَدَّقُ مِنْهَا بِشَيْءٍ "

7967 – قتادہ فرماتے ہیں: جس شخص کا عقیقہ نہ ہوا ہو اُس کی طرف سے قربانی بھی ہوتی ہے ۔ ابن جریح کہتے ہیں: اُس کے اعضا ء کو پانی اور نمک میں پکایا جائے گا اُس کے اعضا ء کو اور پھر آدمی اپنے پڑوسیوں اور دوستوں کو وہ گوشت تحفہ کے طور پر بھیجے گا اس گوشت کو صدقہ نہیں کیا جائے گا ۔

آرَابًا، وَيُهْدَى فِي الْجِيرَانِ، وَالصَّدِيقِ، وَلَا يُتَصَدَّقُ مِنْهَا بِشَيْءٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ: تُطْبَخُ بِمَاءٍ، وَمِلْحٍ أَعْضَاءً، أَوْ ← «مَنْ لَمْ يُعَقَّ عَنْهُ أَجْزَأَتْهُ أُضْحِيَتُهُ»، ← قَتَادَةَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Aqeeqah Book › Bab Al Aqiqah · Hadith 7967

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْعَقِيقَةِ ‹ بَابُ الْعَقِيقَةِ · حديث 7968

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ رَجُلٍ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: «يُعَقُّ عَنِ الْغُلَامِ شَاةٌ، وَلَا يُعَقُّ عَنِ الْجَارِيَةِ لَيْسَتْ عَلَيْهَا عَقِيقَةٌ»

حسن بصری فرماتے ہیں: لڑکے کی طرف سے دو بکریاں قربان کی جائیں گی اور لڑکی کی طرف سے ایک قربان کی جائے گی کیونکہ بچی کا عقیقہ لازم نہیں ہے۔

الْجَارِيَةِ لَيْسَتْ عَلَيْهَا عَقِيقَةٌ» ← الْغُلَامِ شَاةٌ، وَلَا يُعَقُّ ← «يُعَقُّ ← الْحَسَنِ، ← رَجُلٌ: ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Aqeeqah Book › Bab Al Aqiqah · Hadith 7968

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْعَقِيقَةِ ‹ بَابُ الْعَقِّ يَوْمَ سَابِعِهِ وَالْحَلْقِ وَالتَّسْمِيَةِ وَالذَّبْحِ وَالدَّمِ · حديث 7969

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً يَقُولُ: «يُعَقُّ عَنْهُ يَوْمَ سَابِعِهِ، فَإِنْ أَخْطَأَهُمْ، فَأَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ يُؤَخِّرُوهُ إِلَى السَّابِعِ الْآخَرِ» قَالَ: «وَرَأَيْتُ النَّاسَ يَتَحَرَّوْنَ بِالْعَقِّ عَنْهُ يَوْمَ سَابِعِهِ» قَالَ: «يَأْكُلُ أَهْلُ الْعَقِيقَةِ، وَيُهْدُونَهَا»، قُلْتُ لَهُ: أَسُنَّةٌ؟ قَالَ: «قَدْ أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ، زَعَمُوا»، قُلْتُ: أَتَصَدَّقُ؟ قَالَ: «لَا، إِنْ شِئْتَ كُلْ وَأَهْدِ»، قِيلَ: أَمَذْبُوحَتَانِ؟ قَالَ: «لَا، إِلَّا قَائِمَتَانِ»

ابن عیینہ بیان کرتے ہیں: میں نے عطا ء کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : بچہ کی پیدائش کے ساتویں دن اُس کی طرف سے عقیقہ کیا جائے گا اگر لوگ اُسے نہیں کر پاتے تو یہ چیز میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے کہ وہ اگلے سات دن تک اسے مؤخر کر دیں تاہم میں نے لوگوں کو دیکھا ہے کہ وہ اہتمام کے ساتھ پیدائش کے ساتویں دن ہی عقیقہ کرتے ہیں اُنہوں نے بتایا کہ عقیقہ کے کھانے میں شری ہونے والے لوگ اُس کا گوشت کھائیں گے اور وہ گوشت تحفہ کے طور پر بھی دیا جائے گا ۔ میںنے اُن سے دریافت کیا : کیا یہ سنت ہے ؟ اُنہوں نے جواب دیا: نبی اکرمﷺ نے اس بات کا حکم دیا ہے ۔ میں نے دریافت کیا : کیا میں اُسے صدقہ کر سکتا ہوں ؟ اُنہوں نے جواب دیا: جی نہیں! اگر تم چاہو تو تم خود کھاؤ یا پھر اُسے تحفہ کے طور پر کسی کو دے دو ۔ اُن سے دریافت کیا گیا: کیا یہ دونوں ذبح شدہ ہوں گے ؟ اُنہوں نے جواب دیا: جی نہیں! یہ دونوں کھڑے ہوئے ہوں گے ۔

عَطَاءٍ، ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Aqeeqah Book › Bab al-Aqiq on the seventh day, and the shave, the name, the slaughter, and the blood · Hadith 7969

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْعَقِيقَةِ ‹ بَابُ الْعَقِّ يَوْمَ سَابِعِهِ وَالْحَلْقِ وَالتَّسْمِيَةِ وَالذَّبْحِ وَالدَّمِ · حديث 7970

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: «يُبْدَأُ بِالذَّبْحِ قَبْلَ الْحَلْقِ» قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: وَجَدْتُ كِتَابًا أَيْضًا عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: «يُبْدَأُ بِالْحَلْقِ قَبْلَ الذَّبْحِ»

7970 - ابن جریح بیان کرتے ہیں: سر منڈنے سے پہلے ذبح کیا جائے گا ۔ ابن جریح بیان کرتے ہیں: میں نے عطا ء کے حوالے سے ایک تحریر میں یہ بات پائی ہے کہ ذبح کرنے سے پہلے سر منڈ لیا جائے ۔

«يُبْدَأُ بِالْحَلْقِ قَبْلَ الذَّبْحِ» ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ: وَجَدْتُ كِتَابًا أَيْضًا ← «يُبْدَأُ بِالذَّبْحِ قَبْلَ الْحَلْقِ» ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Aqeeqah Book › Bab al-Aqiq on the seventh day, and the shave, the name, the slaughter, and the blood · Hadith 7970

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْعَقِيقَةِ ‹ بَابُ الْعَقِّ يَوْمَ سَابِعِهِ وَالْحَلْقِ وَالتَّسْمِيَةِ وَالذَّبْحِ وَالدَّمِ · حديث 7972

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: «يُعَقُّ عَنْهُ، وَيُسَمِّي يَوْمَ سَابِعِهِ، فَإِنْ لَمْ يَعُقَّ أَجْزَأَتْ عَنْهُ الْأُضْحِيَةُ»

7972 – حسن بصری بیان کرتے ہیں: ساتویں دن اُس کا عقیقہ کیا جائے گا اور اُس کا نام رکھا جائے گا اگر اُس کا عقیقہ نہیں کیا جاتا تو اُس کی طرف سے قربانی کر لینا بھی کفایت کر جائے گا ۔

«يُعَقُّ عَنْهُ، وَيُسَمِّي يَوْمَ سَابِعِهِ، فَإِنْ لَمْ يَعُقَّ أَجْزَأَتْ عَنْهُ الْأُضْحِيَةُ» ← الْحَسَنِ، ← أَبِيهِ ← ابْنُ التَّيْمِيِّ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Aqeeqah Book › Bab al-Aqiq on the seventh day, and the shave, the name, the slaughter, and the blood · Hadith 7972

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْعَقِيقَةِ ‹ بَابُ مَوْتِهِ قَبْلَ سَابِعِهِ وَمَتَى يُسَمَّى وَمَا يُصْنَعُ بِهِ · حديث 7978

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: بَلَغَنِي، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ قَالَ: «إِنْ مَاتَ قَبْلَ سَابِعِهِ فَلَا عَقِيقَةَ عَلَيْهِ»

حسن بصری فرماتے ہیں: اگر بچہ کے سات دن سے پہلے انتقال کر جائے تو اُس کا عقیقہ نہیں ہو گا ۔

«إِنْ مَاتَ قَبْلَ سَابِعِهِ فَلَا عَقِيقَةَ عَلَيْهِ» ← الْحَسَنِ أَنَّهُ ← بلغني ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Aqeeqah Book › The door of its death the seventh before it, when it is called, and what is done with it · Hadith 7978

chevron_left Previous
1…414243…579
Next chevron_right