Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الأضحية والعقيقة

Qurbani & Aqiqah

11564 hadiths

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ هُودٍ · حديث 3313

3313 - حَدَّثَنَا الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى الْأَشْيَبُ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى عَلَى وَادِي الْأَزْرَقِ فَقَالَ: «مَا هَذَا؟» قَالُوا: وَادِي الْأَزْرَقِ فَقَالَ: «كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى مُوسَى بْنِ عِمْرَانَ مُهْبِطًا لَهُ خُوَارٌ إِلَى اللَّهِ بِالتَّكْبِيرِ» ثُمَّ أَتَى عَلَى ثَنِيَّةٍ، فَقَالَ: «مَا هَذِهِ الثَّنِيَّةُ؟» قَالُوا: ثَنِيَّةُ كَذَا وَكَذَا؟ فَقَالَ: «كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى يُونُسَ بْنِ مَتَّى عَلَى نَاقَةٍ حَمْرَاءَ جَعْدَةٍ خِطَامُهَا لِيفٌ وَهُوَ يُلَبِّي، وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ صُوفٌ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3313 - على شرط مسلم

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ وادی ازرق کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: یہ کون سا مقام ہے ؟ لوگوں نے جواب دیا یہ وادی ازرق " ہے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: گویا کہ میں حضرت موسیٰ بن عمران رضی اللہ عنہ کو اترتے ہوئے دیکھ رہا ہوں اور وہ بلند آواس سے تکبیر پڑھ رہے ہیں۔ پھر آپ ﷺ مقام "ثنیہ " پر تشریف لائے، آپ ﷺ نے پوچھا : یہ کون سے جگہ ہے؟ لوگوں نے کہا : فلاں فلاں ثنیہ ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: گویا کہ حضرت یونس علیہ السلام بن متی کو سرخ رنگ کی گھنگریالے بالوں والی اونٹنی پر سوار دیکھ رہا ہوں ، جس کی لگام کھجوری چھال کی ہے اور تلبیہ کہہ رہےہیں اور آپ اونی جبہ زیب تن کئے ہوئے ہیں۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہمانے اسے نقل نہیں کیا۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي الْعَالِيَةِ ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى الْأَشْيَبُ، ← الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ بِشْرُ بْنُ مُوسَى،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Hud · Hadith 3313

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابٌ فِي فَضْلِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ · حديث 780

780 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، قَالَا: ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ سَمُرَةَ بْنَ جُنْدُبٍ، وَعِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ، تَذَاكَرَا فَحَدَّثَ سَمُرَةُ بْنُ جُنْدُبٍ، أَنَّهُ حَفِظَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَكْتَتَيْنِ: «سَكْتَةً إِذَا كَبَّرَ، وَسَكْتَةً إِذَا فَرَغَ مِنْ قِرَاءَتِهِ عِنْدَ رُكُوعِهِ» . " هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذَا اللَّفْظِ، إِنَّمَا اتَّفَقَا عَلَى حَدِيثِ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَبَّرَ سَكَتَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ، وَحَدِيثُ سَمُرَةَ لَا يَتَوَهَّمُ مُتَوَهِّمٌ أَنَّ الْحَسَنَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ سَمُرَةَ فَإِنَّهُ قَدْ سَمِعَ مِنْهُ وَلَهُ شَاهِدٌ بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 780 - على شرطهما

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ اور عمران بن حصین رضی اللہ عنہ آپس میں گفتگو کر رہے تھے ، سمرہ بن جندب نے بتایا : کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے دو سکتے سیکھے ہیں ( 1) اس وقت کا سکتہ جب امام تکبیر کہے اور ( 2) رکوع سے پہلے اس وقت کا سکتہ ، جب امام قرات سے فارغ ہو جائے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ و امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔ امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ دونوں نے " عمارہ بن قعقاع " کی وہ حدیث نقل کی ہے ، جس میں انہوں نے ابو زرعہ کے حوالے سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا یہ بیان روایت کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب تکبیر کہتے تو تکبیر اور قرات کے درمیان کچھ دیر وقفہ کرتے ۔ سمرہ کی حدیث کے متعلق کسی کو یہ غلط فہمی نہ رہے کہ حسن نے سمرہ نے حدیث کا سماع نہیں کیا ہے ( کیونکہ حقیقت بات یہ ہے کہ ) انہوں نے سمرہ سے حدیث کا سماع کیا ہے ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے ۔ سابقہ حدیث کی ایک شاہد حدیث بھی موجود ہے جو کہ سند صحیح کے ساتھ مروی ہے ۔ جیسا کہ درج ذیل ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ تَذَاکَرَا فَحَدَّثَ سَمُرَةُ بْنُ جُنْدُبٍ أَنَّهُ حَفِظَ ← الْحَسَنِ: أَنَّ سَمُرَةَ بْنَ جُنْدُبٍ ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَزِيعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ ← مُسَدَّدٌ ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُثَنَّى،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Chapter on the virtue of the five daily prayers · Hadith 780

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 813

813 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَلِيمِيُّ، بِبَغْدَادَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ثنا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: اشْتَكَى أَبُو هُرَيْرَةَ أَوْ غَابَ فَصَلَّى لَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ فَجَهَرَ بِالتَّكْبِيرِ حِينَ افْتَتَحَ الصَّلَاةَ، وَحِينَ رَكَعَ، وَحِينَ قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، وَحِينَ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ، وَحِينَ سَجَدَ، وَحِينَ رَفَعَ، وَحِينَ قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ حَتَّى قَضَى صَلَاتَهُ عَلَى ذَلِكَ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ النَّاسَ قَدِ اخْتَلَفُوا فِي صَلَاتِكَ، فَخَرَجَ فَقَامَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَقَالَ: «أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي وَاللَّهِ مَا أُبَالِي اخْتَلَفَتْ صَلَاتُكُمْ، أَوْ لَمْ تَخْتَلِفْ هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذِهِ السِّيَاقَةِ» . إِنَّمَا اتَّفَقَا عَلَى حَدِيثِ غَيْلَانَ بْنَ جَرِيرٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ مُخْتَصَرًا. " وَقَدْ تَفَرَّدَ الْبُخَارِيُّ بِحَدِيثِ عِكْرِمَةَ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: صَلَّيْتُ الظُّهْرَ بِالْبَطْحَاءِ خَلْفَ شَيْخٍ أَحْمَقَ فَكَبَّرَ اثْنَتَيْنِ وَعِشْرِينَ تَكْبِيرَةً، الْحَدِيثَ عَلَى الِاخْتِصَارِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 813 - على شرطهما وشاهده في الصحيح

حضرت سعید بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ، ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیماری یا کسی اور وجہ سے غیر حاضر تھے تو حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی ، انہوں نے تکبیر اولیٰ بلند آواز سے کہی اور رکوع کے وقت بھی تکبیر کہی اور " سمع اللہ لمن حمدہ " بلند آواز سے کہا ! ( یونہی ) جب انہوں نے سجدے سے سر اٹھایا اور جب سجدہ کیا اور جب وہ سجدے سے اتھے اور جب وہ دو رکعتوں کے بعد ( تیسری رکعت کے لئے ) اٹھے ، یہاں تک کہ اسی طرح ( تمام مقامات پر بلند آواز سے تکبیرات کہتے ہوئے ) نما زمکمل کی ، آپ سے کہا گیا : لوگ اپ کی نماز کے حوالے سے اختلاف میں ہیں ۔ تو ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ منبر پر کھڑے ہو کر کہنے لگے : اے لوگو ! خدا کی قسم ! مجھے اس بات کی پرواہ نہیں ہے کہ تمہاری نماز میں کوئی فرق پڑا ہے یا نہیں ؟ میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو ایسے ہی نماز پڑھتے دیکھا۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ و امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس حدیث کو اس انداز میں نقل کیا ، امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور مام مسلم رحمتہ اللہ علیہ دونوں نے عمران بن حصین رحمتہ اللہ علیہ کی وہ مختصر حدیث نقل کی ہے ، جس کی سند " غیلان بن جریر " کے واسطے سے " مطرف " سے ہوتی ہوئی ، ان تک پہنچتی ہے اور امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے عکرمہ سے یہ بیان نقل کیا ہے کہ میں نے ابن اعباس رضی اللہ عنہ سے کہا: میں نے ظہر کی نماز بیابان کے اندر ایک احمق بڈھے کے پیچھے پڑھی ۔ اس نے ( اس نماز میں ) بائیس مرتبہ تکبیر کہی ، اس کے بعد مختصر حدیث مکمل بیان کی ۔

سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ، ← فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَلِيمِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 813

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 822

822 - فَحَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا الْعَلَاءُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْعَطَّارُ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَبَّرَ فَحَاذَى بِإِبْهَامَيْهِ أُذُنَيْهِ ثُمَّ رَكَعَ حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ مَفْصِلٍ مِنْهُ، وَانْحَطَّ بِالتَّكْبِيرِ حَتَّى سَبَقَتْ رُكْبَتَاهُ يَدَيْهِ» . «هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَا أَعْرِفُ لَهُ عِلَّةً وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» وَأَمَّا حَدِيثُ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «إِذَا سَجَدَ يَقَعُ رُكْبَتَاهُ قَبْلَ يَدَيْهِ، وَإِذَا رَفَعَ رَفَعَ يَدَيْهِ قَبْلَ رُكْبَتَيْهِ» . «قَدِ احْتَجَّ مُسْلِمٌ بِشَرِيكٍ وَعَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، وَلَعَلَّ مُتَوَهِّمًا يَتَوَهَّمُ أَنْ لَا مُعَارِضَ لِحَدِيثٍ صَحِيحِ الْإِسْنَادِ آخَرُ صَحِيحٌ، وَهَذَا الْمُتَوَهِّمُ يَنْبَغِي أَنْ يَتَأَمَّلَ كِتَابَ الصَّحِيحِ لِمُسْلِمٍ حَتَّى يَرَى مِنْ هَذَا النَّوْعِ مَا يَمَلُّ مِنْهُ، فَأَمَّا الْقَلْبُ فِي هَذَا فَإِنَّهُ إِلَى حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ أَمْيَلُ لِرِوَايَاتٍ فِي ذَلِكَ كَثِيرَةٍ عَنِ الصَّحَابَةِ وَالتَّابِعِينَ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 822 - على شرطهما ولا أعرف له علة

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو دیکھا : آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے تکبیر کہی اور اپنے دونوں انگوٹھے کانوں کے برابر تک اٹھائے ، پھر رکوع ( اس انداز سے ) کیا کہ آ پ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ہر جوڑ مضبوط تھا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تکبیر کہتے ہوئے جھکے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ہاتھ گھٹنوں کے نیچے تک گئے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ و امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔اور اس میں کوئی نقص بھی نہیں ہے ۔ وائل بن حجر کی حدیث ۔ وائل بن حجر کہتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سجدہ کرتے تو ہاتھوں سے پہلے گھٹنے زمین پر لگاتے اور جب اٹھتے تو گھٹنوں سے پہلے ہاتھ اٹھاتے ، امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے شریک اور عاصم بن کلیب کی احادیث نقل کی ہیں اور ہو سکت اہے کسی کو یہ غلط فہمی لگے کہ کوئی صحیح الاسناد حدیث دوسری صحیح حدیث کے معارض نہیں ہو سکتی ۔ اس غلط فہمی کے شکار شخص کو چاہیے کہ وہ امام مسلم کی الصحیح کا غور سے مطالعہ کرے ، تو اس کو اس کتاب میں اس طرح کی بہت ساری مثالیں مل جائیں گی۔ اور جہاں تک دل کا معاملہ ہے تو وہ ابن عمر کی حدیث کی طرف زیادہ مائل ہے کیونکہ ان کی روایت کے مطابق کثیر صحابہ اور تابعین سے احادیث مروی ہیں ۔

أَنَسٍ، ← عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ← الْعَلَاءِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الْعَطَّارِ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 822

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 913

913 - أَخْبَرَنِي أَبُو الْحَسَنِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الشَّعْرَانِيُّ، ثنا جَدِّي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: سَمِعْتُ سَلَمَةَ بْنَ الْأَكْوَعِ، يَقُولُ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: أَكُونُ فِي الصَّيْدِ وَلَيْسَ عَلَيَّ إِلَّا قَمِيصٌ وَاحِدٌ، أَوْ جُبَّةٌ وَاحِدَةٌ فَأَشُدُّهُ؟ - أَوْ قَالَ: فَأَزُرُّهُ؟ - قَالَ: «نَعَمْ، وَلَوْ بِشَوْكَةٍ» . «هَذَا حَدِيثٌ مَدِينِيٌّ صَحِيحٌ، فَإِنَّ مُوسَى هَذَا هُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمَخْزُومِيُّ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 913 - والحديث صحيح

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے نبی اکرم ﷺ سے پوچھا:( یاِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )میں جب شکار کے لئے نکلا ہوا ہوتا ہوں تو میں نے صرف ایک قمیص یاایک جبہ پہنا ہوا ہوتا ہے تو کیا(نماز کے لئے) میں اس کو باندھ لیاکروں؟ یا (شاید فرمایا) میں اس کا بٹن بند کر لیا کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں(اس کو ضرور بند کر لیا کرو) اگرچہ کسی کانٹے کے ساتھ ہی کرنا پڑے۔ یہ حدیث مدینی ہے "صحیح" ہے، اس میں جو موسیٰ (نامی راوی ہے) یہ ابراہیم بن عبداللہ المخزومی کا بیٹا ہے۔

سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ← مُوسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، ← جَدِّي، ← أبو الحسن إسماعيل بن محمد بن الفضل الشعراني

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 913

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1107

1107 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، قَالَ: «كَانُوا فِي التَّكْبِيرِ فِي الْفِطْرِ أَشَدَّ مِنْهُمْ فِي الْأَضْحَى»

حضرت ابو عبدالرحمان سلمی کہتے ہیں:صحابہ کرام رضی اللہ عنہ عید الاضحیٰ کے دن تکبیروں کی نسبت عید الفطر میں زیادہ تکبیریں کہا کرتے تھے۔

«كَانُوا فِي التَّكْبِيرِ فِي الْفِطْرِ أَشَدَّ مِنْهُمْ فِي الْأَضْحَى» ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← سُفْيَانَ، ← قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The two Eid prayers book › Insurance section · Hadith 1107

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1111

1111 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ الشَّيْبَانِيُّ بِالْكُوفَةِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَنْبَسِ الْقَاضِي، ثنا سَعِيدُ بْنُ عُثْمَانَ الْخَرَّازُ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعِيدٍ الْمُؤَذِّنُ، ثنا فِطْرُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلٍ، عَنْ عَلِيٍّ، وَعَمَّارٍ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَجْهَرُ فِي الْمَكْتُوبَاتِ بِبِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، وَكَانَ يَقْنُتُ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ، وَكَانَ يُكَبِّرُ مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ صَلَاةَ الْغَدَاةِ، وَيَقْطَعُهَا صَلَاةَ الْعَصْرِ آخِرَ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَا أَعْلَمُ فِي رُوَاتِهِ مَنْسُوبًا إِلَى الْجَرْحِ «وَقَدْ رُوِيَ فِي الْبَابِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَغَيْرِهِ،» فَأَمَّا مِنْ فِعْلِ عُمَرَ وَعَلِيٍّ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ فَصَحِيحٌ عَنْهُمُ التَّكْبِيرُ مِنْ غَدَاةِ عَرَفَةَ إِلَى آخِرِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ، فَأَمَّا الرِّوَايَةُ فِيهِ عَنْ عُمَرَ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 1111 - بل خبر واه كأنه موضوع

حضرت علی رضی اللہ عنہ اور عمار رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرضی نمازوں میں بسم اللہ الرحمٰن الرحیم بلند آواز سے پڑھا کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فجر کی نماز میں دعائے قنوت پڑھتے اور عرفہ کے دن فجر کی نماز سے تکبیرات تشریق شروع کرتے اور ایام تشریق کے آخری دن عصر کی نماز میں ختم کر دیتے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور میں نہیں جانتا کہ اس کے راویوں میں سے کسی کو بھی جرح کی طرف منسوب کیا گیا ہو اور اس موضوع پر جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ اور دیگر اصحاب سے بھی روایت منقول ہے اور حضرت عمر ، علی، عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن سعید (رضی اللہ عنہم ) کا یہ عمل صحیح طور پر ثابت تھا کہ عرفہ کی فجر سے ایام تشریق کے آخری دن تک تکبیر کہتے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی روایت:۔

عَلِيٍّ، وَعَمَّارٍ، ← أَبِي الطُّفَيْلِ، ← فِطْرِ بن خليفة ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعِيدٍ الْمُؤَذِّنُ، ← سَعِيدُ بْنُ عُثْمَانَ الْخَرَّازُ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَنْبَسِ الْقَاضِي ← أَبُو الْحَسَنِ، عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ الشَّيْبَانِيُّ بِالْكُوفَةِ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The two Eid prayers book › Insurance section · Hadith 1111

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْوِتْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1141

1141 - أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَالِحٍ السَّمَرْقَنْدِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ، قَالَ: قِيلَ لِلْحَسَنِ: إِنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يُسَلِّمُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ مِنَ الْوِتْرِ فَقَالَ: «كَانَ عُمَرُ أَفْقَهُ مِنْهُ، كَانَ يَنْهَضُ فِي الثَّالِثَةِ بِالتَّكْبِيرِ»

حضرت حبیب المعلم کہتے ہیں :حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے کہا گیا : ابن عمر رضی اللہ عنہ وتر کی دو رکعتیں پڑھنے کے بعد سلام پھیرتے تھے تو (حضرت حسن رضی اللہ عنہ ) نے جواب دیا: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی فقہی بصیرت ان سے زیادہ تھی اور وہ (دوسری رکعت کے بعد ) تکبیر کہتے ہوئے تیسری رکعت کے لئے اٹھ جاتے تھے ۔شاہد (3)

قِيلَ لِلْحَسَنِ: إِنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يُسَلِّمُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ مِنَ الْوِتْرِ ← حَبِيبٍ الْمُعَلِّمِ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ1، ← أَبُو جَعْفَرٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ ← أحمد بن محمد بن صالح السمرقندي

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Witr Book › Insurance section · Hadith 1141

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8381

8381 - أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْقَنْطَرِيُّ بِبَغْدَادَ، ثَنَا أَبُو قِلَابَةَ، ثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، ثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا يَذْهَبُ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ حَتَّى تُعْبَدَ اللَّاتُ وَالْعُزَّى» فَقَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي كُنْتُ أَظُنُّ حِينَ أَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ} [التوبة: 33] أَنَّ ذَلِكَ يَكُونُ تَامًّا، فَقَالَ: «إِنَّهُ سَيَكُونُ مِنْ ذَلِكَ مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ يَبْعَثُ اللَّهُ رِيحًا طَيِّبًا، فَيُتَوَفَّى مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ خَيْرٍ، فَيَبْقَى مَنْ لَا خَيْرَ فِيهِ فَيَرْجِعُونَ إِلَى دَيْنِ آبَائِهِمْ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8381 - على شرط مسلم

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ دن اور راتیں ختم نہیں ہوں گی، حتیٰ کہ لات اور عزیٰ کی عبادت کی جائے گی۔ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتی ہیں: میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی :" ھوا لذی ارسل رسولہ بالھدیٰ ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ ولو کرہ المشرکون"۔ " وہی ہے جس نے اپنا رسول ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا کہ اسے سب دینوں پر غالب کر دے، پڑے برا مانیں مشرک" (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) میں تو سمجھی تھی کہ دین مکمل ہو چکا ہے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس کے بعد جو اللہ چاہے گا وہ ہو گا، پھر اللہ تعالیٰ پاکیزہ ہوا بھیجے گا، وہ سونگھتے ہی وہ تمام لوگ مر جائیں گے، جن کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو گا، پھر صرف وہی لوگ باقی بچیں گے جن میں کوئی خیر نہیں ہو گی، یہ لوگ اپنے آباء کے دین کی طرف لوٹ جائیں گے۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔

عَائِشَةَ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الْأَسْوَدِ بْنِ الْعَلَاءِ، ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو عَاصِمٍ ← أَبُو قِلَابَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْقَنْطَرِيُّ بِبَغْدَادَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of charms and epics › The merits of all Arabs · Hadith 8381

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8488

8488 - أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي نَصْرٍ الْمُزَكِّي، بِمَرْوَ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْقَاضِي، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، ثَنَا كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِيُّ، وَحَدَّثَنَا الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، وَلَهُ اللَّفْظُ، أَنْبَأَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثَنَا كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ: «لَا تَذْهَبُ الدُّنْيَا يَا عَلِيُّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ» قَالَ عَلِيٌّ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " اعْلَمْ أَنَّكُمْ سَتُقَاتِلُونَ بَنِي الْأَصْفَرِ أَوْ يُقَاتِلُهُمْ مَنْ بَعْدَكُمْ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، وَتَخْرُجُ إِلَيْهِمْ رُوقَةُ الْمُؤْمِنِينَ أَهْلِ الْحِجَازِ الَّذِينَ يُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، لَا تَأْخُذُهُمْ فِي اللَّهِ لَوْمَةُ لَائِمٍ حَتَّى يَفْتَحَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِمْ قُسْطَنْطِينِيَّةَ، وَرُومِيِّةَ بِالتَّسْبِيحِ وَالتَّكْبِيرِ فَيَنْهَدِمُ حِصْنُهَا فَيُصِيبُونَ نَبْلًا عَظِيمًا لَمْ يُصِيبُوا مِثْلَهُ قَطُّ، حَتَّى إِنَّهُمْ يَقْتَسِمُونَ بِالتُّرْسِ، ثُمَّ يَصْرُخُ صَارِخٌ: يَا أَهْلَ الْإِسْلَامِ قَدْ خَرَجَ الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ فِي بِلَادِكُمْ وَذَرَارِيِّكُمْ، فَيَنْفَضُّ النَّاسُ عَنِ الْمَالِ، فَمِنْهُمُ الْآخِذُ، وَمِنْهُمُ التَّارِكُ، فَالْآخِذُ نَادِمٌ، وَالتَّارِكُ نَادِمٌ، يَقُولُونَ: مَنْ هَذَا الصَّائِحُ؟ فَلَا يَعْلَمُونَ مَنْ هُوَ، فَيَقُولُونَ: ابْعَثُوا طَلِيعَةً إِلَى لُدٍّ، فَإِنْ يَكُنِ الْمَسِيحُ قَدْ خَرَجَ فَيَأْتُونَكُمْ بِعِلْمِهِ، فَيَأْتُونَ فَيَنْظُرُونَ فَلَا يَرَوْنَ شَيْئًا، وَيَرَوْنَ النَّاسَ شَاكِّينَ، فَيَقُولُونَ: مَا صَرَخَ الصَّارِخُ إِلَّا لِنَبَأٍ فَاعْتَزِمُوا، ثُمَّ ارْشُدُوا فَيَعْتَزِمُونَ أَنْ نُخْرِجَ بِأَجْمَعِنَا إِلَى لُدٍّ، فَإِنْ يَكُنْ بِهَا الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ نُقَاتِلْهُ حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ وَهُوَ خَيْرُ الْحَاكِمِينَ، وَإِنْ يَكُنِ الْأُخْرَى فَإِنَّهَا بِلَادُكُمْ وَعَشَائِرُكُمْ وَعَسَاكِرُكُمْ رَجَعْتُمْ إِلَيْهَا " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8488 - كثير واه

کثیر بن عبد اللہ اپنے والد سے ، وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے ارشادفرمایا: اے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ !دنیا مت لے جانا، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: لبیک یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم ، آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا: جان لو عنقریب تم بنی الاصفرسے جنگ کرو گے ، یا تمہارے بعد کوئی مومن جماعت ان سے جنگ کرے گی، اور ان کی مدد کے لئے اہل حجاز کے مجاہدین کی ایک جماعت نکلے گی ، اللہ کے دین کے معاملے میں ان کو کسی ملامت گر کی ملات کی کوئی پرواہ نہیں ہوگی ، انہی کے ہاتھوں پر الله تعالى قسطنطنیہ اور سلطنت رومی فتح کرے گا، یہ لوگ صرف سبحان اللہ اور اللہ اکبر کی صدائیں لگائیں گے ، اور ان کا قلع ٹوٹ جائے گا، بہت بڑامال غنیمت ان کے ہاتھ لگے گا، اس جیسامال کبھی بھی ان کو نہیں ملا ہوگا۔ یہ لوگ وہ مال اپنی ڈھالیں بھر بھر کے تقسیم کر رہے ہوں گے، پھر ایک چیخنے والا چیخ کر کہے گا: اے مسلمانو!مسیح دجال تمہارے شہر اورتمہاری اولادوں میں ظاہر ہو چکا ہے، لوگ اس مال سے بے نیاز ہو جائیں گے، کچھ لوگوں نے مال رکھا اور کچھ نے وہیں چھوڑ دیا، لیکن مال رکھنے والا بعد میں بہت پچھتائے گا، اور مال چھوڑنے والابھی پچھتائے گا۔ لوگ کہیں گے: یہ چیخ کر آواز دینے والا کون ہے؟ لیکن کسی کوپتانہیں چلے گا کہ آواز کس نے دی ہے ، لوگ کہیں گے: ایک جماعت کو معلومات لینے کے لئے (مقام)" لد" کی جانب بھیج دو، اگر واقعی دجال ظاہر ہو چکا ہو گا وہ آ کر ہمیں بتادیں گے ، یہ جماعت وہاں پر آئے گی ، ان کو دجال کے بارے کوئی اطلاع نہ ملے گی ، اور وہ لوگوں کو بھی شک و شبہ میں مبتلا دیکھیں گے۔ وہ مشورہ کریں گے کہ آواز دینے والے نے ہمیں ایک خبرہی دی ہے، ہمیں اپنے علاقے کی طرف کوچ کرنا چاہئے ، پھر ہمیں اصل حقیقت حال کا علم ہوگا۔ ہم سب کو مقام "لد" کی جانب جانا چاہئے، اگر وہاں مسیح دجال ہوا تو ہم اس کے ساتھ اس وقت تک لڑیں گے یہاں تک کہ الله تعالی ہمارے اور اس کے در میان فیصلہ فرمادے اور وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے ، اور اگر دجال کے ظاہر ہونے کی بات جھوٹی نکلی تب بھی کوئی بات نہیں ، وہ ہمارا علاقہ ہے، ہمارے خاندان وہیں آباد ہیں، اور ہماری فوجیں وہاں ہیں ، ہم ان کی طرف ہی لوٹ کر گئے ہوں گئے۔

عَلِيٌّ: لَبَّيْكَ ← «لَا تَذْهَبُ الدُّنْيَا يَا عَلِيُّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ» ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ اُوَیْسٍ ← الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، وَلَهُ اللَّفْظُ، أَنْبَأَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ، ← كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِيُّ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْقَاضِي ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي نَصْرٍ الْمُزَكِّي،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of charms and epics › The merits of all Arabs · Hadith 8488

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8585

8585 - أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ الشَّيْبَانِيُّ، بِالْكُوفَةِ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ، ثَنَا يُوسُفُ بْنُ صُهَيْبٍ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ أَبِي الْمُخْتَارِ، عَنْ بِلَالِ بْنِ يَحْيَى الْعَبْسِيِّ، عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْثًا إِلَى دُومَةِ الْجَنْدَلِ، فَقَالَ: «انْطَلِقُوا فَإِنَّكُمْ تَجِدُونَ أُكَيْدِرَ دُومَةَ خَارِجًا يَقْتَنِصُ الصَّيْدَ فَخُذُوهُ أَخْذًا» فَانْطَلَقُوا فَوَجَدُوهُ كَمَا قَالَ لَهُمْ، فَأَخَذُوهُ وَتَحَصَّنَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ وَأَشْرَفُوا عَلَى الْمُسْلِمِينَ يُكَلِّمُونَهُمْ، قَالَ: يَقُولُ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ لِبَعْضِ مَنْ أَشْرَفَ: أُذَكِّرُكَ اللَّهَ هَلْ تَجِدُونَ مُحَمَّدًا فِي كِتَابِكُمْ؟ قَالَ: لَا، قَالَ آخَرُ إِلَى جَنْبِهِ: نَجِدُهُ فِي كِتَابِنَا يُشْبِهُ قُرَشِيَّانِ يَخْطُرُهُ قَلَمٌ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا أَبَا بَكْرٍ أَلَيْسَ قَدْ كَفَرَ هَؤُلَاءِ، قَالَ: «بَلَى، وَأَنْتُمْ سَتَكْفُرُونَ» ، فَلَمَّا رَجَعَ الْجَيْشُ وَخَرَجَ مُسَيْلِمَةُ فَتَنَبَّأَ، قَالَ الرَّجُلُ لِأَبِي بَكْرٍ: أَمَا تَذْكُرُ قَوْلَكَ وَنَحْنُ بِدَوْمَةِ الْجَنْدَلِ وَأَنْتُمْ سَوْفَ تَكْفُرُونَ ذَاكَ أَمْرُ مُسَيْلِمَةَ؟ قَالَ: «لَا، ذَاكَ فِي آخِرِ الزَّمَانِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8585 - صحيح

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہصلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے ایک لشکر دومتہ الجندل ( علاقے) کی جانب روانہ فرمایا، اور ان کو یہ کہتے ہوئے روانہ فرمایا کہ "تم جاؤ، تم دومہ کے ایک شیالے رنگ کے شخص کو باہر شکار کرتے ہوئے پاؤ گے۔ تم اس کو گرفتارکر لینا"۔ وہ لوگ روانہ ہوگئے ، اور اس آدمی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے فرمان کے مطابق اسی مقام پر پایا، ان لوگوں نے اس کو گرفتار کرلیا۔ شہر والے لوگ محفوظ مقام پر ہوں گے اور وہ مسلمانوں سے بات چیت کرنے لگ جائیں گے ،ایک مسلمان غلبہ پانے والے سے کہے گا: میں تجھے اللہ کی قسم دیتا ہوں، کیا تم نے اپنی کتاب میں محمد صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کا ذکر پایا؟ اس نے کہا: نہیں۔ اس کے پہلو میں ایک دوسرا آدمی موجود تھا ، اس نے کہا: ہم نے اپنی کتاب میں ان کا ذکر پایا ہے ، وہ دوقر یشی آدمیوں کے ساتھ مشابہت رکھتا ہو گا ، اس کو شیطان کے قلم نے تراشا ہوگا ۔ ایک آدمی نے کہا: اے ابو بکر! کیا ان لوگوں نے کفر نہیں کیا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں ۔ اور تم بھی عنقریب کفر کرو گے۔ جب لشکر واپس آیا اور مسیلمہ نے نبوت کا دعویٰ کر دیا، تو اس آدمی نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کہا: تمہیں اپنی وہ بات یاد ہے جب ہم لوگ دومتہ الجندل میں تھے۔( اس وقت آپ رضی اللہ عنہ نے کہا تھا ) تم عنقریب کفر کرو گے ، کیا اس سے آپ کی مراد مسیلمہ والا معاملہ تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نہیں، وہ آخری زمانے میں ہوگا۔

حُذَيْفَةَ ← بِلاَلِ بْنِ يَحْيَى الْعَبْسِيِّ ← مُوسَى بْنِ أَبِي الْمُخْتَارِ، ← يُوسُفُ بْنُ صُهَيْبٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ الشَّيْبَانِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of charms and epics › The merits of all Arabs · Hadith 8585

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8655

8655 - أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مِهْرَانَ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الْمِصْرِيَّانِ قَالَا: ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ سَيْفٍ الْمَعَافِرِيِّ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَوْفَ بْنَ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيَّ، أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي فَتْحٍ لَهُ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: هَنِيئًا لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ أَعَزَّ اللَّهُ نَصْرَكَ وَأَظْهَرَ دِينَكَ وَوَضَعَتِ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا بِجِرَانِهَا، قَالَ: وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ، فَقَالَ: «ادْخُلْ يَا عَوْفُ» فَقَالَ: أَدْخُلُ كُلِّي أَوْ بَعْضِي؟ فَقَالَ: «ادْخُلْ كُلُّكَ» فَقَالَ: «إِنَّ الْحَرْبَ لَنْ تَضَعَ أَوْزَارَهَا حَتَّى تَكُونَ سِتٌّ أَوَّلُهُنَّ مَوْتِي» فَبَكَى عَوْفٌ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قُلْ: إِحْدَى، وَالثَّانِيَةُ فَتْحُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ، وَالثَّالِثَةُ: فِتْنَةٌ تَكُونُ فِي النَّاسِ كَعُقَاصِ الْغَنَمِ، وَالرَّابِعَةُ فِتْنَةٌ تَكُونُ فِي النَّاسِ لَا يَبْقَى أَهْلُ بَيْتٍ إِلَّا دَخَلَ عَلَيْهِمْ نَصِيبُهُمْ مِنْهَا، وَالْخَامِسَةُ يُولَدُ فِي بَنِي الْأَصْفَرِ غُلَامٌ مِنْ أَوْلَادِ الْمُلُوكِ يَشِبُّ فِي الْيَوْمِ كَمَا يَشِبُّ الصَّبِيُّ فِي الْجُمُعَةِ، وَيَشِبُّ فِي الْجُمُعَةِ كَمَا يَشبُّ الصَّبِيُّ فِي الشَّهْرِ، وَيَشِبُّ فِي الشَّهْرِ كَمَا يَشِبُّ الصَّبِيُّ فِي السَّنَةِ، فَمَا بَلَغَ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ سَنَةً مَلَّكُوهُ عَلَيْهِمْ، فَقَامَ بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ، فَقَالَ: إِلَى مَتَى يَغْلِبُنَا هَؤُلَاءِ الْقَوْمُ عَلَى مَكَارِمٍ أَرْضِنَا، إِنِّي رَأَيْتُ أَنْ أَسِيرَ إِلَيْهِمْ حَتَّى أُخْرِجَهُمْ مِنْهَا، فَقَامَ الْخُطَبَاءُ فَحَسَّنُوا لَهُ رَأْيَهُ، فَبَعَثَ فِي الْجَزَائِرِ وَالْبَرِّيَّةِ بِصَنْعَةِ السُّفُنِ، ثُمَّ حَمَلَ فِيهَا الْمُقَاتِلَةَ حَتَّى نَزَلَ بَيْنَ أَنْطَاكِيَّةَ وَالْعَرِيشِ - قَالَ ابْنُ شُرَيْحٍ: فَسَمِعْتُ مَنْ يَقُولُ: إِنَّهُمُ اثْنَا عَشَرَ غَايَةً تَحْتَ كُلِّ غَايَةٍ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا، فَيَجْتَمِعُ الْمُسْلِمُونَ إِلَى صَاحِبِهِمْ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ، وَأَجْمَعُوا فِي رَأْيِهِمْ أَنْ يَسِيرُوا إِلَى مَدِينَةِ الرَّسُولِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يَكُونَ مَسَالِحُهُمْ بِالسَّرْحِ وَخَيْبَرَ - قَالَ ابْنُ أَبِي جَعْفَرٍ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُخْرِجُوا أُمَّتِي مِنْ مَنَابِتِ الشِّيحِ» قَالَ: أَوْ قَالَ الْحَارِثُ بْنُ يَزِيدَ: «إِنَّهُمْ سَيُقِيمُوا فِيهَا هُنَالِكَ فَيَفِرُّ مِنْهُمُ الثُّلُثُ وَيُقْتَلُ مِنْهُمُ الثُّلُثُ فَيَهْزِمُهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِالثُّلُثِ الصَّابِرِ» ، وَقَالَ خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ: «يَوْمَئِذٍ يَضْرِبُ وَاللَّهِ بِسَيْفِهِ وَيَطْعَنُ بِرُمْحِهِ وَيَتْبَعُهُ الْمُسْلِمُونَ حَتَّى يَبْلُغُوا الْمَضِيقَ الَّذِي عِنْدَ الْقُسْطَنْطِينِيَّةِ، فَيَجِدُونَهُ قَدْ يَبِسَ مَاؤُهُ فَيُجِيزُونَ إِلَى الْمَدِينَةِ حَتَّى يَنْزِلُوا بِهَا، فَيَهْدِمُ اللَّهُ جُدْرَانَهُمْ بِالتَّكْبِيرِ، ثُمَّ يَدْخُلُونَهَا فَيَقْسِمُونَ أَمْوَالَهُمْ بِالْأَتْرِسَةِ» ، وَقَالَ أَبُو قَبِيلٍ الْمَعَافِرِيُّ: " فَبَيْنَمَا هُمْ عَلَى ذَلِكَ إِذَا جَاءَهُمْ رَاكِبٌ، فَقَالَ: أَنْتُمْ هَاهُنَا وَالدَّجَّالُ قَدْ خَالَفَكُمْ فِي أَهْلِيكُمْ، وَإِنَّمَا كَانَتْ كَذِبَةً، فَمَنْ سَمِعَ الْعُلَمَاءَ فِي ذَلِكَ أَقَامَ عَلَى مَا أَصَابَهُ، وَأَمَّا غَيْرُهُمْ فَانْفَضُّوا وَيَكُونُ الْمُسْلِمُونَ يَبْنُونَ الْمَسَاجِدَ فِي الْقُسْطَنْطِينِيَّةِ وَيَغْزُونَ وَرَاءَ ذَلِكَ حَتَّى يَخْرُجَ الدَّجَّالُ السَّادِسَةَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8655 - فيه انقطاع

اسحاق بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے موقع پر حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بار گاہ میں حاضر ہوئے ، سلام کی عرض کرنے کے بعد فتح کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ تعالی نے آپ کو فتح و نصرت عطا فرما کر آپ کی عزت افزائی فرمائی ہے اور آپ کے دین کو غالب کیا ہے ، اور جنگ مکمل طور پر ختم ہو گئی ہے ۔ راوی کہتے ہیں : اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چمڑے کے خیمے میں موجود تھے ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : اے عوف ، اند آ جاؤ ، حضرت عوف نے کہا : پورا اندر آ جاؤں یا تھوڑا سا ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : پوری ہی اند ر آ جاؤ ، پھر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : جنگ اس وقت تک ختم نہیں ہو گی جب تک 6 امور وقوع پذیر نہیں ہو جائیں گے ۔ (1) ان میں سب سے پہلے میری موت ہے ۔ یہ سن کر حضرت عوف رضی اللہ عنہ رو پڑے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : کہو : ایک ۔ (2) اور دوسرا واقعہ بیت المقدس کی فتح کا ہے ۔(3) تیسرا لوگوں میں ایک فتنہ ہو گا ۔ جو کہ بھیڑ بکریوں کی وبائی امراض میں موت کی مانند ہو گا ۔ (4) چوتھا ، لوگوں میں ایک فتنہ ہوگا جس کا حصہ ہر گھر میں داخل ہو گا ۔ (5) پانچواں ، بنی الاصفر میں ایک بچہ پیدا ہو گا جو کہ بادشاہوں کی اولاد ہو گا ، وہ ایک دن میں اتنا بڑا ہو گا جتنا عام بچے ایک ہفتے میں بڑھتے ہیں ، اور وہ ایک ہفتے میں اتنا بڑھے گا جتنا عام بچے ایک مہینے میں بڑھتے ہیں ، اور وہ ایک مہینے میں اتنا بڑھے گا جتنا عام بچے ایک سال میں بڑھتے ہیں ، جب وہ 12 سا کا ہو جائے گا تو اس کو اپنا حکمران بنا لیں گے ، وہ ان لوگوں کے درمیان کھڑا ہو کر کہے گا : یہ لوگ ہماری سر زمین پر کب تک ہم پر غالب رہیں گے ؟ میرا خیال ہے کہ ہم ان پر چڑھائی کریں اور ان کو اپنی سر زمین سے نکال باہر کریں ، خطبا ء کھڑے ہو کر اس کی رائے کی تائید کریں گے ، یہ خشکی میں اور جزیروں میں بحری بیڑے بھیجے گا ، ان میں جنگ کرے گا ، اور انطاکیہ اور عریش کے درمیان ایک ساحل پر وہ رکے گا ، ابن شریح کہتے ہیں : میں نے ایک آدمی کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ ان کے 12 جھنڈے ہوں گے اور ہر جھنڈے کے نیچے 12 ہزار کا لشکر ہو گا ، مسلمان اپنے بھائی کے پاس بیت المقدس میں جمع ہوں گے ، اور سب متفقہ فیصلہ کریں گے کہ ہمیں مدینہ منورہ چلے جانا چاہئے ، تاکہ ان کی سرحدیں مقام سرح ، اور خیبر تک پہنچ جائیں ، ابن ابی جعفر کہتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میری امت کو شیح ( نامی گھاس ) کے اگنے کے مقام( یعنی عرب ) سے نکالا جائےگا ، انہوں نے ہی یا حارث بن زید نے کہا : یہ لوگ وہاں پر قیام کریں گے ، وہاں سے ایک تہائی لوگ بھاگ جائیں گےب ، ایک تہائی لوگ جنگ کریں گے ، اللہ تعالی صبر کرنے والے تیسرے حصے کی وجہ سے ان کو شکست دے گا ۔خالد بن یزید کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! وہ شخص اس دن تلوار کے ساتھ جنگ کرے گا ، اپنے نیزے استعمال کرے گا ۔ مسلمان اس کا تعاقب کریں گے ، حتی کہ قسطنطنیہ کے قریب مضیق کے مقام پر پہنچ جائیں گے ، وہاں کا پانی خشک ہو چکا ہو گا ، یہ لوگ شہر کا رخ کریں گے اور وہاں آ کر ٹھہر جائیں گے ، تکبیر کی وجہ سے اللہ تعالی ان کی دیواریں گرا دے گا ، پھر یہ لوگ اس میں داخل ہو جائیں گے اور اپنا مال ڈھال سے تقسیم کریں گے ۔ ابو قبیل معافری کہتے ہیں ، اسی اثناء میں ان کے پاس ایک سوار آئے گا اور کہے گا : تم یہاں پر ہو اور ادھر دجال نے تمہارے گھر والوں میں تمہاری مخالفت شروع کر رکھی ہے ، یہ سراسر جھوٹ ہو گا ۔ جس شخص نے علماء سے اس بارے میں سن رکھا ہو گا وہ ثابت قدم رہے گا ، جبکہ دیگر لوگ وہاں سے بھاگ نکلیں گے اور مسلمان قسطنطنیہ میں مساجد تعمیر کریں گے اور وہاں جہاد کریں گے حتی کہ دجال ظاہر ہو گا اور یہ چھٹی نشانی ہو گی ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، ← رَبِيعَةُ بْنُ سَيْفٍ الْمَعَافِرِيُّ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شُرَيْحٍ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← أَبُو الطَّاهِرِ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الْمِصْرِيَّانِ ← أَبِي ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مِهْرَانَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of charms and epics › The merits of all Arabs · Hadith 8655

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْحَجِّ · حديث 3466

3466 - أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ، أَنْبَأَ جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، وَمَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قُلْتُ لَهُ: قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَالْبُدْنَ جَعَلْنَاهَا لَكُمْ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ لَكُمْ فِيهَا خَيْرٌ فَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهَا صَوَافَّ} [الحج: 36] قَالَ: " إِذَا أَرَدْتَ أَنْ تَنْحَرَ الْبَدَنَةَ فَأَقِمْهَا، ثُمَّ قُلِ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ مِنْكَ وَلَكَ، ثُمَّ سَمِّ، ثُمَّ انْحَرْهَا ". قَالَ: قُلْتُ: وَأَقُولُ ذَلِكَ فِي الْأُضْحِيَّةِ؟ قَالَ: «وَالْأُضْحِيَّةِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3466 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اللہ تعالی کے ارشاد: والبدن جعلنا ھا لکم من شعائر اللہ لکم فیھا خیر فاذکرو ااسم اللہ علیہا صواف (الحج:36) " اور قربانی کے ذیل دار جانور اونٹ اور گائے ہم نے تمہارے لئے اللہ کی نشانیوں سے کئے تمہارے لئے ان میں بھلائی ہے"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) کے متعلق فرماتے ہیں : جب تم بدنہ کہ ذبح کرنا چاہو تو اس کو کھڑا کر لو پھر پڑھو "اللہ اکبر اللہ اکبر منک ولک " پھر اللہ کا نام لے کر اس کو ذبح کر دو۔ آپ فرماتے ہیں: میں نے پوچھا: کیا میں قربانی میں بھی ایسا کر سکتا ہوں؟ آپ نے فرمایا: (جی ہاں) اور قربانی میں بھی۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي ظَبْيَانَ، ← الْأَعْمَشِ وَمَنْصُورٍ ← إسحاق أنبا جرير ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Al-Hajj · Hadith 3466

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْحَجِّ · حديث 3468

3468 - أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ الْعَدْلُ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَيَّاشٍ الْقِتْبَانِيِّ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ وَجَدَ سَعَةً لِأَنْ يُضَحِّيَ فَلَمْ يُضَحِّ، فَلَا يَحْضُرْ مُصَلَّانَا» وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَيَّاشٍ الْمِصْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ بَاعَ جِلْدَ أُضْحِيَّتِهِ فَلَا أُضْحِيَّةَ لَهُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ مِثْلُ الْأَوَّلِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3468 - ابن عياش ضعفه أبو داود

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص صاحب استطاعت ہو نے کے باوجود قربانی نہ کرے وہ ہماری عید گاہ کے قریب نہ آئے۔ ایک دوسری سند کےہمراہ رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد منقول ہے : جو شخص قربانی کی کھال بیچے اس کی قربانی قبول نہیں۔ یہ حدیث بھی سابقہ حدیث کی مثل صحیح ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← عبد الله بن عياش القتباني، ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ الْعَدْلُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Al-Hajj · Hadith 3468

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْعَنْكَبُوتِ · حديث 3538

3538 - حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي اللَّيْثِ ثنا الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبِيعَةَ، قَالَ: سَأَلَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنْ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ} [العنكبوت: 45] فَقُلْتُ: ذِكْرُ اللَّهِ بِالتَّسْبِيحِ وَالتَّهْلِيلِ وَالتَّكْبِيرِ، فَقَالَ: «لَا ذِكْرَ اللَّهِ أَكْبَرُ مِنْ ذِكْرِكُمْ إِيَّاهُ» صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3538 - صحيح

حضرت عبداللہ بن ربیعہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مجھ سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کے ارشاد: " ولذکر اللہ اکبر (العنکبوت: 45) " اور بے شک اللہ کا ذکر سب سے بڑا ہے"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) کے متعلق دیافت کیا تو میں نے کہا: اللہ تعالیٰ کا ذکر تسبیح ، تحلیل اور تکبیر کے ساتھ۔ آپ نے فرمایا: جس طرح تم اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے ہو ، اس سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

لَا۔ ← اللَّهِ بِالتَّسْبِيحِ وَالتَّهْلِيلِ وَالتَّكْبِيرِ، ← قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ }العنكبوت: فَقُلْتُ: ← سألني ابن عباس ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَبِيعَةَ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← سُفْيَانَ، ← الْأَشْجَعِيُّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي اللَّيْثِ ← يَزِيدُ بْنُ الْهَيْثَمِ، ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Al-Ankaboot · Hadith 3538

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3659

3659 - حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى الْأَشْيَبُ، ثنا قَزَعَةُ بْنُ سُوَيْدٍ الْبَاهِلِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَى مَا أَتَيْتُكُمْ مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى أَجْرًا إِلَّا أَنْ تُوَادُّوا اللَّهَ وَأَنْ تَقَرَّبُوا إِلَيْهِ بِطَاعَتِهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، إِنَّمَا اتَّفَقَا فِي تَفْسِيرِ هَذِهِ الْآيَةِ عَلَى حَدِيثِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ الزَّرَّادِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ فِي قُرْبَى آلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3659 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشادفرمایا: میں نے تمہیں جو معجزات اور ہدایت دی ہے، اس کے عوض میں تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتا ہوں مگر یہ کہ تم اللہ تعالیٰ سے محبت کرو اور اس کی اطاعت کر کے اس کا قرب اختیار کرو۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ تاہم انہوں نے اس آیت کی تفسیر میں عبدالملک بن مسیرۃ الزراد کی طاؤس کے واسطے سے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کردہ اس حدیث پر اتفاق کیا ہے کہ یہ حکم آل محمد کے تمام رشتہ داروں کے متعلق ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مُجَاهِدٍ ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← قَزَعَةُ بْنُ سُوَيْدٍ الْبَاهِلِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى الْأَشْيَبُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3659

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ سَعْدِ الْقَرَظِ الْمُؤَذِّنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 6554

6554 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْإِمَامُ، وَعَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، قَالَا: ثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى الْأَسَدِيُّ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ الْحُمَيْدِيُّ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمَّارِ بْنِ سَعْدِ الْقَرَظِ، مُؤَذِّنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَرَ بِلَالًا أَنْ يُدْخِلَ إِصْبَعَهُ فِي أُذُنِهِ وَقَالَ: إِنَّهُ أَرْفَعُ لِصَوْتِكَ «، وَإِنَّ أَذَانَ بِلَالٍ كَانَ مَثْنَى مَثْنَى، وَإِقَامَتَهُ مُفْرَدَةٌ، وَقَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ مَرَّةً مَرَّةً، وَإِنَّهُ كَانَ يُؤَذِّنُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ الْفَيْءُ مِثْلَ الشِّرَاكِ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» كَانَ إِذَا خَرَجَ إِلَى الْعِيدَيْنِ سَلَكَ عَلَى دَارِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ثُمَّ عَلَى أَصْحَابِ الْفَسَاطِيطِ، ثُمَّ يَبْدَأُ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ، ثُمَّ كَبَّرَ فِي الْأُولَى سَبْعًا قَبْلَ الْقِرَاءَةِ، وَفِي الْآخِرَةِ خَمْسًا قَبْلَ الْقِرَاءَةِ، ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ، ثُمَّ انْصَرَفَ مِنَ الطَّرِيقِ الْآخَرِ مِنْ طَرِيقِ بَنِي زُرَيْقٍ فَذَبَحَ أُضْحِيَّةً عِنْدَ طَرَفِ الرِّقَاقِ بِيَدِهِ بِشَفْرَةٍ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى دَارِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ وَدَارِ أَبِي هُرَيْرَةَ بِالْبَلَاطِ، وَكَانَ يَخْرُجُ إِلَى الْعِيدَيْنِ مَاشِيًا وَيَرْجِعُ مَاشِيًا، وَكَانَ يُكَبِّرُ بَيْنَ أَضْعَافِ الْخُطْبَةِ وَيُكْثِرُ التَّكْبِيرَ فِي الْخُطْبَةِ وَيَخْطُبُ عَلَى عَصًا "، وَإِنَّ بِلَالًا كَانَ إِذَا كَبَّرَ بِالْأَذَانِ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، ثُمَّ يَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مَرَّتَيْنِ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ مَرَّتَيْنِ وَيَسْتَقْبِلُ الْقِبْلَةَ، ثُمَّ يَنْحَرِفُ عَنِ الْقِبْلَةِ فَيَقُولُ: حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ يَنْحَرِفُ عَنْ يَسَارِ الْقِبْلَةِ فَيَقُولُ: حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ يَسْتَقْبِلُ الْقِبْلَةَ فَيَقُولُ: «اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ»

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مؤذن ، عبدالرحمٰن بن عمار بن سعد القرظ اپنے والد کے حوالے سے ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا کہ اذان دیتے ہوئے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ڈال لیا کریں کیونکہ اس سے آواز زیادہ بلند ہوتی ہے۔ حضرت بلال کی اذان میں تمام جملے دو دو مرتبہ ہوتے تھے اور اقامت کے الفاظ ایک ایک فقرہ ہوتا تھا، قد قامت الصلاۃ ایک ایک مرتبہ کہتے تھے، آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب عیدین کے لئے نکلتے تو حضرت سعد بن ابی وقاص کے گھرکی طرف سے ہوتے ہوئے ، خیمہ والوں کے پاس گزر کر عید گاہ میں تشریف لے جاتے ، وہاں خطبہ سے پہلے نماز پڑھاتے، پھر پہلی رکعت میں قراءت سے پہلے سات تکبیریں کہتے اور دوسری رکعت میں قراءت سے پہلے 5 تکبیریں کہتے، پھر خطبہ دیتے، (خطبہ کے بعد دعا و غیرہ سے فارغ ہو کر جب واپس نکلتے تو بنی زریق کا راستہ اختیار کرتے ، پھر صحراء کی جانب اپنے ہاتھ سے قربانی کرتے ، پھر حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر کی جانب سے ہوتے ہوئے ہموار زمین میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر کی طرف سے آتے ، آپ عیدین میں پیدل ہی عید گاہ کی جانب تشریف لے جاتے اور پیدل ہے واپس تشریف لاتے، آپ دونوں خطبوں کے درمیان اللہ کبر کہتے، اور خطبہ کے دوران کثرت سے تکبیر کہتے، آپ عصا مبارک ہاتھ میں لئے خطبہ دیا کرتے تھے۔ اور حضرت بلال جب اذان دیتے تو چہرہ قبلہ کی جانب کرتے، پھر اللہ اکبر اللہ اکبر دو مرتبہ کہتے، اشھد ا لا الہ الا اللہ دو مرتبہ کہتے، اشھد ان محمد رسول اللہ دو مرتبہ کہتے،یہ کہتے ہوئے آپ کا رخ قبلہ کی جانب ہی ہوتا ، پھر قبلہ سے منہ پھیر کر (اپنا چہرہ دائیں جانب کرتے اور ) دو مرتبہ حی علی الصلاۃ کہتے، پھر اپنےبائیں جانب گھوم جاتے اور دو مرتبہ حی الفلاح کہتے، پھر چہرہ قبلہ کی جانب کر لیتے اور اللہ اکبر اللہ اکبر اور لا الہ الا اللہ کہتے۔

جَدِّي، ← أَبِي ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمَّارِ بْنِ سَعْدِ الْقَرَظِ، مُؤَذِّنِ رَسُولِ اللَّهِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ الْحُمَيْدِيُّ ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى الْأَسَدِيُّ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْإِمَامُ، وَعَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the blessing of the muezzin, may God be pleased with him · Hadith 6554

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ سَوَّادِ بْنِ قَارِبٍ الْأَزْدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 6558

6558 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، إِمْلَاءً ثَنَا هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ الرَّقِّيُّ، ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْوَقَّاصِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، قَالَ: بَيْنَمَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَاعِدٌ فِي الْمَسْجِدِ إِذْ مَرَّ رَجُلٌ فِي مُؤَخَّرِ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَتَعْرِفُ هَذَا الْمَارَّ، قَالَ: لَا، فَمَنْ هُوَ؟ قَالَ: سَوَادُ بْنُ قَارِبٍ وَهُوَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ مِنْ بَيْتٍ فِيهِمْ شَرَفٌ وَمَوْضِعٌ وَهُوَ الَّذِي أَتَاهُ رَئِيُّهُ بِظُهُورِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ عُمَرُ عَلَيَّ بِهِ فَدُعِيَ بِهِ، فَقَالَ: أَنْتَ سَوَادُ بْنُ قَارِبٍ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَنْتَ الَّذِي أَتَاكَ رَئِيُّكَ بِظُهُورِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَنْتَ عَلَى مَا كُنْتَ عَلَيْهِ مِنْ كَهَانَتِكَ فَغَضِبَ غَضَبًا شَدِيدًا، وَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَا اسْتَقْبَلَنِي بِهَذَا أَحَدٌ مُنْذُ أَسْلَمْتُ، فَقَالَ عُمَرُ: يَا سُبْحَانَ اللَّهِ وَاللَّهِ مَا كُنَّا عَلَيْهِ مِنَ الشِّرْكِ أَعْظَمَ مِمَّا كُنْتَ عَلَيْهِ مِنْ كَهَانَتِكَ، أَخْبَرَنِي بِإِتْيَانِكَ رَئِيُّكَ بِظُهُورِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: نَعَمْ، يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ بَيْنَا أَنَا ذَاتَ لَيْلَةٍ بَيْنَ النَّائِمِ وَالْيَقْظَانِ، إِذْ أَتَانِي رَئِيٌّ فَضَرَبَنِي بِرِجْلِهِ، وَقَالَ قُمْ يَا سَوَّادُ بْنُ قَارِبٍ فَافْهَمْ وَاعْقِلْ إِنْ كُنْتَ تَعْقِلُ إِنَّهُ قَدْ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ لُؤَيِّ بْنِ غَالِبٍ يَدْعُو إِلَى اللَّهِ وَإِلَى عِبَادَتِهِ، ثُمَّ أَنْشَأَ يَقُولُ: [البحر السريع] عَجِبْتُ لِلْجِنِّ وَتِجْسَاسِهَا ... وَشَدِّهَا الْعِيسَ بِأَحْلَاسِهَا تَهْوِي إِلَى مَكَّةَ تَبْغِي الْهُدَى ... مَا خَيْرُ الْجِنِّ كَأَنْجَاسِهَا فَارْحَلْ إِلَى الصَّفْوَةِ مِنْ هَاشِمٍ ... وَاسْمُ بِعَيْنَيْكِ إِلَى رَأْسِهَا قَالَ: فَلَمْ أَرْفَعْ بِقَوْلِهِ رَأْسًا وَقُلْتُ دَعْنِي أَنَمْ، فَإِنِّي أَمْسَيْتُ نَاعِسًا فَلَمَّا أَنْ كَانَتِ اللَّيْلَةُ الثَّانِيَةُ أَتَانِي، فَضَرَبَنِي بِرِجْلِهِ وَقَالَ أَلَمْ أَقَلْ يَا سَوَادُ بْنَ قَارِبٍ قُمْ فَافْهَمْ وَاعْقِلْ؟ إِنْ كُنْتَ تَعْقِلُ قَدْ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ مِنْ لُؤَيِّ بْنِ غَالِبٍ يَدْعُو إِلَى اللَّهِ وَإِلَى عِبَادَتِهِ ثُمَّ أَنْشَأَ الْجِنِّيُّ، يَقُولُ: عَجِبْتُ لِلْجِنِّ وَتَطَلَابِهَا ... وَشَدِّهَا الْعِيسَ بِأَقْتَابِهَا تَهْوِي إِلَى مَكَّةَ تَبْغِي الْهُدَى ... مَا صَادِقُ الْجِنِّ كَكَذَّابِهَا فَارْحَلْ إِلَى الصَّفْوَةِ مِنْ هَاشِمٍ ... بَيْنَ رَوَايَاهَا وَحِجَابِهَا، قَالَ: فَلَمْ أَرْفَعْ رَأْسًا فَلَمَّا أَنْ كَانَتِ اللَّيْلَةُ الثَّالِثَةُ أَتَانِي فَضَرَبَنِي بِرِجْلِهِ وَقَالَ: أَلَمْ أَقَلْ لَكَ يَا سَوَادُ بْنَ قَارِبٍ افْهَمْ وَاعْقِلْ إِنْ كُنْتَ تَعْقِلُ أَنَّهُ قَدْ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ مِنْ لُؤَيِّ بْنِ غَالِبٍ يَدْعُو إِلَى اللَّهِ وَإِلَى عِبَادَتِهِ ثُمَّ أَنْشَأَ، يَقُولُ: عَجِبْتُ لِلْجِنِّ وَأَخْبَارِهَا ... وَشَدِّهَا الْعِيسَ بِأَكْوَارِهَا تَهْوِي إِلَى مَكَّةَ تَبْغِي الْهُدَى ... مَا مُؤْمِنُو الْجِنِّ كَكُفَّارِهَا فَارْحَلْ إِلَى الصَّفْوَةِ مِنْ هَاشِمٍ ... لَيْسَ قُدَّامُهَا كَأَذْنَابِهَا، قَالَ: فَوَقَعَ فِي نَفْسِي حُبُّ الْإِسْلَامِ وَرَغِبْتُ فِيهِ، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ شَدَدْتُ عَلَى رَاحِلَتِي فَانْطَلَقْتُ مُتَوَجِّهًا إِلَى مَكَّةَ، فَلَمَّا كُنْتُ بِبَعْضِ الطَّرِيقِ أُخْبِرْتُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ هَاجَرَ إِلَى الْمَدِينَةِ فَأَتَيْتُ الْمَدِينَةَ، فَسَأَلْتُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقِيلَ لِي: فِي الْمَسْجِدِ فَانْتَهَيْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ فَعَقَلْتُ نَاقَتِي وَدَخَلْتُ، وَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ حَوْلَهُ فَقُلْتُ: اسْمَعْ مَقَالَتِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: ادْنُهُ فَلَمْ يَزَلْ حَتَّى صِرْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ، قَالَ: هَاتِ فَأَخْبِرْنِي بِإِتْيَانِكَ رَئِيُّكَ، فَقَالَ: [البحر الطويل] أَتَانِي نَجِيٌّ بَعْدَ هَدْءٍ وَرَقْدَةٍ ... وَلَمْ يَكُ فِيمَا قَدْ بَلَوْتُ بِكَاذِبِ ثَلَاثُ لَيَالٍ قَوْلُهُ كُلَّ لَيْلَةٍ ... أَتَاكَ رَسُولُ اللَّهِ مِنْ لُؤَيِّ بْنِ غَالِبِ فَشَمَّرْتُ مِنْ ذَيْلِي الْإِزَارَ وَوَسَطَتْ ... بِيَ الذِّعْلِبُ الْوَجْبَاءُ بَيْنَ السَّبَاسِبِ فَأَشْهَدْ أَنَّ اللَّهَ لَا رَبَّ غَيْرُهُ ... وَأَنَّكَ مَأْمُونٌ عَلَى كُلِّ غَالِبِ وَأَنَّكَ أَدْنَى الْمُرْسَلِينَ وَسِيلَةً ... إِلَى اللَّهِ يَا ابْنَ الْأَكْرَمِينَ الْأَطَائِبِ فَمُرْنَا بِمَا يَأْتِيكَ يَا خَيْرَ مَنْ مَشَى ... وَإِنْ كَانَ فِيمَا جَاءَ شَيْبُ الذَّوَائِبِ وَكُنْ لِي شَفِيعًا يَوْمَ لَا ذِي شَفَاعَةٍ ... سِوَاكَ بِمُغْنٍ عَنْ سَوَادِ بْنِ قَارِبِ « فَفَرِحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ بِإِسْلَامِي فَرَحًا شَدِيدًا حَتَّى رُئِيَ فِي وُجُوهِهِمْ» قَالَ: فَوَثَبَ عُمَرُ: فَالْتَزَمَهُ وَقَالَ: قَدْ كُنْتُ أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَ هَذَا مِنْكَ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 6558 - الإسناد منقطع

محمد بن کعب قرظی فرماتے ہیں: ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے ، ایک آدمی مسجد کی دوسری جانب سےگزرا ، ایک آدمی نے کہا: اے امیرالمومنین! آپ اس گزرنے والے کو پہچانتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: نہیں ۔ یہ کون ہے؟ اس آدمی نے کہا: یہ سواد بن قارب ہے۔ یہ یمنی باشندہ ہے، یہ اپنے علاقے کے معزز خاندان کا آدمی ہے ، اسی شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ظہور کی پیشین گوئی کی تھی، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: اس کے میرے پاس بلا کر لاؤ، اس آدمی کو بلایا گیا، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس سے پوچھا: کیا تم سواد بن قارب ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا : کیا تمہی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ظہور کی پیشین گوئی کی تھی؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: تم آج تک اسی کہانت پر قائم ہو، جس پر پہلے تھے، پھر حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس پر بہت سخت غصہ ہوئے، اس نے کہا: اے امیر المومنین ! میں جب سے اسلام لایا ہوں مجھے اس طرح کسی نے سمجھایا ہی نہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: سبحان اللہ ! تم تو کاہن تھے، ہم اسلام لانے سے پہلے تم سے بھی بڑے گناہ شرک میں مبتلا تھے۔ تم مجھے اپنی اس پیشین گوئی کا کوئی واقعہ سناؤ جو تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں دی تھی۔ وہ کہنے لگا : اے امیر المومنین! ایک مرتبہ رات کے وقت میں نیند اور بیداری کی کشمکش میں تھا، ایک ناصح آیا اس نے اپنا پاؤں مجھے مار کر کہا: اے اسود بن قارب اگر تم عقل مند ہو تو خوب جان لو اور سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ کا روسول لؤی بن غالب کے قبیلے میں ظاہر ہو چکا ہے ، وہ اللہ تعالیٰ کی طرف اور اس کی عبادت کی طرف دعوت دیتا ہے۔ اس کے بعدانہوں نے درج ذیل اشعار پڑھے۔ "عجبت اللجن وتجسا سھا، وشد ھا العیس با حلاسھا ، تھوی الیٰ مکۃ تبغی الھدی ، ما خیر الجن کانجاسھا ، فارحل الی الصفوۃ من ھاشم ، واسم بعینیک الیٰ راسھا"۔ میں نے اس کی بات پر کان نہ دھرا، سر اوپر اٹھائے بغیر کہا کہ مجھے میرے حال پر چھوڑ دو، کیونکہ مجھے شام سے ہی بہت نیند آ رہی ہے، اگلی رات پھر یہی واقعہ ہوا، وہ آیا ، اپنا پاؤں مار کر مجھے جگایا اور کہا: اے سواد! میں نے تمہیں کہا نہیں تھا کہ اٹھ جا اور اگر تجھے کچھ عقل ہے تو خوب سمجھ لے کہ لؤی بن غالب میں اللہ کا رسول ظاہر ہو چکا ہے وہ اللہ تعالیٰ اور اس کی عبادت کی دعوت دیتا ہے، اس کے بعد اس جن نے وہی کل والے اشعار پڑھے۔"عجبت للجن اتطلابھا ، وشد ھا العیس باقتابھا ، تھوی الیٰ مکۃ تبغی الھدی ، ما صادق الجن ککذابھا ، فار حل الی الصفوۃ من ھاشم بین روایا ھا وحجابھا"۔آپ فرماتے ہیں : میں نے اس مرتبہ کو کوئی جواب نہ دیا، وہ تیسری رات پھر آ گیا، پاؤں مار کر مجھے جگایا اور بولا : اے سواد ! میں نے تجھے کہا نہیں تھا کہ اگر تجھے کچھ عق اور سمجھ ہے تو خوب جا ن لے کہ لؤی بن غالب میں اللہ کا نبی ظاہر ہو چکا ہے وہ اللہ تعالیٰ اور اس کی عبادت کی دعوت دیتا ہے، اس کے بعد اس نے یہ اشعار کہے۔" عجبت للجن واخبارھا ، وشدھا العیس باکوارھا، تھوی الیٰ مکۃ تبغی الھدی ، مامومنو الجن ککفارھافارحل الی اصفوۃ من ھاشم ، لیس قدامھا کازنا بھا، اس کے بعد میرے دل میں اسلام کی محبت اور دلچسپی پیدا ہو گئی، صبح ہوتے ہی میں نے سوار تیار کی اور مکہ مکرمہ کی جانب روانہ ہو گیا ، ابھی میں مکہ کے راستے ہی میں تھا کہ مجھے اطلاع ملی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں دریافت کیا تو مجھے بتایا گیا کہ آ پ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں تشریف فرما ہیں، میں مسجد میں چلا گیا، میں نے مسجد سے باہر اونٹنی باندھی اور اندر آ گیا اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے، اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارد گرد بیٹھے تھے ۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری بات سنئیے ، حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب جاؤ ، میں قریب ہوتے ہوتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بالکل سامنے پہنچ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اپنے نصیحت گر کا واقعہ سناؤ، تب انہوں نے یہ اشعار کہے۔ "اتانی نجی بعدھد ء ورقدۃ ، ولم یک فیما قد بلوت بکاذب ، تلاث لیال قولہ کل لیلۃ ، اتاک رسول اللہ من لؤی بن غالب ، فشمرت من ذیلی الازارووسطت ، بی الزھعلب الوجباء بین السباب ، فاشھد ان اللہ لارب غیرہ ، وانک مامون علی کل غالب ، وانک ادنی المرسلین ودسلیۃ ، الی ال لہ یابن الاکرمین الاطائب ، فمرنا بمایاتیک کاخیر مں منشی ، وان کان فیما جاء شیب الذوائب " میری آنکھ لگنے کے بعد ایک سرگوشی کرنے والا میرے پاس آیا اور وہ جو یہ سب کچھ دیکھا تھا اس میں کچھ بھی جھوٹ نہیں تھا۔ وہ تین راتیں مسلسل میرے پاس آ کر کہتا رہا تمہارا رسول لؤی بن غالب میں ظاہر ہو چکا ہے۔ میں نے آنے کی تیار ی کر لی اورتیز رفتار اونٹنی دشت و بیانان عبور کرتے ہوئے چلنے لگی، میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور بے شک آپ ہر غالب سے محفوظ ہیں۔ اے باعت اور شریف لوگوں کے بیٹے ، بے شک آپ کا مرتبہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تمام رسولوں سے اعلیٰ ہے۔ اے کائنات کے بہترین شخص آ پ جو پیغام لائے ہیں وہ ہمیں دیجئے، (ہم اس پر عمل کریں گے) اگرچہ اس میں ہماری زندگیاں صرف ہو جائیں۔ اور جس دن کسی کی شفاعت نہیں چلے گی، اس دن آپ میری شفاعت نہیں چلے گی، اس دن آپ میری شفاعت کرنا اور اسود بن قارب کو اپنے دامن رحمت میں چھپا لینا۔ مرے اسلام لانے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم بہت خوش ہوئے خوشی کے آثار اور ان سب کے چہروں پر واضح دکھائی دے رہے تھے ، حضرت عمر اچھل کر مجھ سے چپک گئے اور کہنے لگے: میں یہ باتیں تمہاری زبان سے سننا چاہتا تھا۔

بَيْنَمَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ قَاعِدٌ فِي الْمَسْجِدِ ← مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، ← عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْوَقَّاصِيِّ، ← هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ الرَّقِّيُّ، ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Sawad ibn Qarib al-Azdi, may God be pleased with him · Hadith 6558

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ مَنْ قَالَ إِنَّ الذَّبِيحَ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ · حديث 4049

4049 - فَأَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ الْبَرَاءِ، ثنا عَبْدُ الْمُنْعِمِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ: حَدِيثُ إِسْحَاقَ حِينَ أَمَرَ اللَّهُ إِبْرَاهِيمَ أَنْ يَذْبَحَهُ وَهَبَ اللَّهُ لِإِبْرَاهِيمَ إِسْحَاقَ فِي اللَّيْلَةِ الَّتِي فَارَقَتْهُ الْمَلَائِكَةُ، فَلَمَّا كَانَ ابْنَ سَبْعٍ أَوْحَى اللَّهُ إِلَى إِبْرَاهِيمَ أَنْ يَذْبَحَهُ وَيَجْعَلَهُ قُرْبَانًا، وَكَانَ الْقُرْبَانُ يَوْمَئِذٍ يُتَقَبَّلُ وَيُرْفَعُ فَكَتَمَ إِبْرَاهِيمُ ذَلِكَ إِسْحَاقَ وَجَمِيعَ النَّاسِ وَأَسَرَّهُ إِلَى خَلِيلٍ لَهُ، فَقَالَ الْغَازِرُ الصِّدِّيقُ وَهُوَ أَوَّلُ مَنْ آمَنَ بِإِبْرَاهِيمَ وَقَوْلُهُ: فَقَالَ لَهُ الصِّدِّيقُ: إِنَّ اللَّهَ لَا يَبْتَلِي بِمِثْلِ هَذَا مِثْلَكَ وَلَكِنَّهُ يُرِيدُ أَنْ يُجَرِّبَكَ وَيَخْتَبِرَكَ فَلَا تَسُوءَنَّ بِاللَّهِ ظَنَّكَ، فَإِنَّ اللَّهَ يَجْعَلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ لِإِبْرَاهِيمَ وَإِسْحَاقَ إِلَّا بِاللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، فَذَكَرَ وَهْبٌ حَدِيثًا طَوِيلًا إِلَى أَنْ قَالَ وَهْبٌ: وَبَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " سَبَقَ إِسْحَاقُ النَّاسَ إِلَى دَعْوَةٍ مَا سَبَقَهَا إِلَيْهِ أَحَدٌ وَيَقُومَنَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَلَيَشْفَعَنَّ لِأَهْلِ هَذِهِ الدَّعْوَةِ وَأَقْبَلَ اللَّهُ عَلَى إِبْرَاهِيمَ فِي ذَلِكَ الْمَقَامِ فَقَالَ: اسْمَعْ مِنِّي يَا إِبْرَاهِيمُ يَا أَصْدَقَ الصَّادِقِينَ، وَقَالَ لِإِسْحَاقَ: اسْمَعْ مِنِّي يَا أَصْبِرَ الصَّابِرِينَ، فَإِنِّي قَدِ ابْتَلَيْتُكُمَا الْيَوْمَ بِبَلَاءٍ عَظِيمٍ لَمِ ابْتَلِ بِهِ أَحَدًا مِنْ خَلْقِي ابْتَلَيْتُكَ يَا إِبْرَاهِيمُ بِالْحَرِيقِ، فَصَبَرْتَ صَبْرًا لَمْ يَصْبِرْ مِثْلَهُ أَحَدٌ مِنَ الْعَالَمِينَ، وَابْتَلَيْتُكَ بِالْجِهَادِ فِيَّ وَأَنْتَ وَحِيدٌ وَضَعِيفٌ، فَصَدَّقَتْ وَصَبَرَتْ صَبْرًا وَصِدْقًا لَمْ يُصَدِّقْ مِثْلَهُ أَحَدٌ مِنَ الْعَالَمِينَ، وَابْتَلَيْتُكَ يَا إِسْحَاقُ بِالذَّبْحِ، فَلَمْ تَبْخَلْ بِنَفْسِكَ وَلَمْ تُعَظِّمْ ذَلِكَ فِي طَاعَةِ أَبِيكَ، وَرَأَيْتَ ذَلِكَ هَنِيئًا صَغِيرًا فِي اللَّهِ كَمَا يَرْجُو مِنْ أَحْسَنِ ثَوَابِهِ وَيَسَّرَ بِهِ حُسْنَ لِقَائِهِ وَإِنِّي أُعَاهِدُكُمَا الْيَوْمَ عَهْدًا لَا أَحْبِسَنَّ بِهِ أَمَّا أَنْتَ يَا إِبْرَاهِيمُ، فَقَدْ وَجَبَتْ لَكَ الْجَنَّةُ عَلَيَّ، فَأَنْتَ خَلِيلِي مِنْ بَيْنِ أَهْلِ الْأَرْضِ دُونَ رِجَالِ الْعَالَمِينَ، وَهِيَ فَضِيلَةٌ لَمْ يَنَلْهَا أَحَدٌ قَبْلَكَ، وَلَا أَحَدٌ بَعْدَكَ فَخَرَّ إِبْرَاهِيمُ سَاجِدًا تَعْظِيمًا لِمَا سَمِعَ مِنَ قَوْلِ اللَّهِ مُتَشَكِّرًا لِلَّهِ، وَأَمَّا أَنْتَ يَا إِسْحَاقُ فَتَمَنَّ عَلَيَّ بِمَا شِئْتَ وَسَلْنِي وَاحْتَكِمْ أُوتِكَ سُؤْلَكَ، قَالَ: أَسْأَلُكَ يَا إِلَهِي أَنْ تَصْطَفِيَنِي لِنَفْسِكَ وَأَنْ تُشَفِّعَنِي فِي عِبَادِكَ الْمُوَحِّدِينَ فَلَا يَلْقَاكَ عَبْدٌ لَا يُشْرِكُ بِكَ شَيْئًا إِلَّا أَجَرْتُهُ مِنَ النَّارِ قَالَ لَهُ رَبُّهُ: أَوْجَبْتُ لَكَ مَا سَأَلْتَ وَضَمِنْتُ لَكَ وَلَايَتَكَ مَا وَعَدْتُكُمَا عَلَى نَفْسِي وَعْدًا لَا أُخَلِّفُهُ وَعَهْدًا لَا أَحْبِسَنَّ بِهِ وَعَطَاءً هَنِيئًا لَيْسَ بِمَرْدُودٍ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4049 - عبد المنعم بن إدريس لا شيء

حضرت وہب بن منبہ رضی اللہ عنہ حضرت اسحاق علیہ السلام کا قصہ " کہ جب اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ حضرت اسحاق علیہ السلام کو ذبح کریں" بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حضرت اسحاق علیہ السلام عطا فرمائے ، جس رات فرشتے ان سے جدا ہوئے ۔ پھر جب حضرت اسحاق علیہ السلام سات سال کے ہوئے تو الله تعالی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی جانب وحی فرمائی کہ اس کو ذبح کر کے ان کی قربانی پیش کریں۔ ان دنوں قربانی کی قبولیت کی یہ نشانی تھی کہ اسے اٹھالیا جاتا تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ بات حضرت اسحاق علیہ السلام اور تمام لوگوں سے پوشیدہ رکھی اور صرف اپنے ایک بہت قریبی دوست کو یہ راز بتایا۔ آپ کا یہی دوست سب سے پہلے آپ پر اور آپ کی تعلیمات پر ایمان لایا۔ اس گہرے قریبی دوست نے کہا: اللہ تعالی آپ کو ایسی آزمائش میں ہرگز نہیں ڈالے گا، البتہ وہ تمہارا امتحان لینا چاہتا ہے۔ اس لئے آپ اللہ تعالی کے بارے میں برا گمان ہرگز نہ کیجئے کیونکہ الله تعالی آپ کو لوگوں کا امام اور پیشوا بنانا چاہتا ہے اور کوئی ہمت اور طاقت نہیں ہے ابراہیم علیہ السلام اور اسحاق علیہ السلام کی، اس اللہ کے سوا جو رحمن اور رحیم ہے۔ پھر حضرت وہب رضی اللہ عنہ نے لمبی حدیث ذکر کی یہاں تک کہ حضرت وہب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ نے ارشاد فرمایا:حضرت اسحاق علیہ السلام ایک دعا کی طرف تمام لوگوں سے آگے نکل گئے اور کوئی بھی اس میں سبقت نہ کر سکا ۔ یہ قیامت کے دن اس دعا کے اہل لوگوں کی شفاعت کریں گے اور اسی مقام پر اللہ تعالی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف متوجہ ہوگا اور فرمائے گا:اے اصدق الصادقین! (این اے سب سچوں سے بڑے سچے ) میری بات سن اور حضرت اسحاق علیہ السلام سے فرمائے گا:اے اصبر الصابرین (یعنی اے تمام صبر کرنے والوں سے بڑے صبر کرنے والے) میری بات سنو! میں نے تم دونوں کو بہت بڑی آزمائش میں ڈالا ،ایسی آزمائش میں تم سے پہلے اپنی مخلوق میں سے کسی کو نہیں ڈالا ۔ اے ابراہیم ! میں نے تمہیں آگ کی آزمائش میں ڈالا ، جس پر تم نے ایسا صبر کیا کہ اس جیسا صبر دنیا میں کوئی نہ کر سکا اور تمہیں اپنی ذات کے متعلق جہاد میں مبتلا کیا حالانکہ تو اکیلا اور ضعیف تھا لیکن اس کے باوجودتم نے سچائی اختیار کی اور ایسا صبر کیا کہ اس کی شکل دنیا میں کوئی بھی صبر اور سپائی اختیار نہ کر سکا اور اے اسحاق علیہ السلام ! میں نے تمہیں ذبح کی آزمائش میں ڈالا لیکن تم نے اپنی جان کا بخل نہیں کیا اور تم نے اپنے والد کی فرمانبرداری میں اس معاملہ کو بہت بڑا نہیں سمجھا بلکہ تم نے اس معاملہ کو الله تعالی کے بارے میں ہلکا پھلکا اور چھوٹا جانا جیسا کہ وہ امید کرتا ہے کہ حسن ثواب کی اور اس کی ملاقات پر وہ خوش ہوتا ہے۔ میں آج تم دونوں سے ایک وعدہ کرتا ہوں جن کی خلاف ورزی نہیں ہوگی۔ اے ابراہیم علیہ السلام ! تمہارے لئے میرے اوپر جنت واجب ہے، ساری دنیا میں تم میرے دوست ہو اور یہ ایسی فضیلت ہے جو نہ تو تم سے پہلے کسی کو نصیب ہوئی اور نہ تمہارے بعد کسی کو ملی ۔ اللہ تعالی کی طرف سے یہ انعام سن کر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے سجدہ شکر ادا کیا اور اے اسحاق علیہ السلام ! تم مجھ سے جو چاہو مانگو میں تمہارا سوال پورا کروں گا۔ حضرت اسحاق علیہ السلام نے عرض کی : یا الہی! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو مجھے اپنے لئے چن لے اور تو اپنے توحید پرست بندوں کے حق میں میری شفاعت کو قبول فرما۔ چنانچہ تیری بارگاہ میں جو بھی آ ئے اور وہ مشرک نہ ہو تو اس کو دوزخ سے اپنی پناہ عطا فرما۔ اللہ تعالی نے ان سے فرمایا: تم نے جو سوال کیا ہے میں نے اس کو قبول کرلیا ہے اور میں تجھے تیری ولایت کی ضمانت دیتا ہوں کہ میں نے تم سے اپنے اور جس چیز کا وعدہ کیا ہے میں اس کی خلاف ورزی نہیں کروں گا اور تم سے ایسا عہد کیا ہے جس کوروکوں گا نہیں اور ایسی عطا کروں گا جو واپس نہیں لی جائے گی۔

وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← أَبِيهِ ← عبد المنعم بن إدريس ← أَبُو الْحَسَنِ بْنُ الْبَرَاءِ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْإِسْفَرَايِينِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › Mention of those who said that the sacrifice of Isaac bin Abraham, peace be upon them · Hadith 4049

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ النَّبِيِّ الْكَلِيمِ مُوسَى بْنِ عِمْرَانَ وَأَخِيهِ هَارُونَ بْنِ عِمْرَانَ · حديث 4097

4097 - أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْبَرَاءِ، ثنا عَبْدُ الْمُنْعِمِ بْنُ إِدْرِيسَ بْنِ سِنَانٍ الْيَمَانِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ: " ذِكْرُ مَوْلِدِ مُوسَى بْنِ عِمْرَانَ بْنِ قَاهَتَ بْنِ لَاوِي بْنِ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَحَدِيثِ عَدُوِّ اللَّهِ فِرْعَوْنَ حِينَ كَانَ يَسْتَعْبِدُ بَنِي إِسْرَائِيلَ فِي أَعْمَالِهِ بِمِصْرَ وَأَمْرِ مُوسَى وَالْخَضِرِ، قَالَ وَهْبٌ: وَلَمَّا حَمَلَتْ أُمُّ مُوسَى بِمُوسَى كَتَمَتْ أَمْرَهَا جَمِيعَ النَّاسِ، فَلَمْ يَطَّلِعْ عَلَى حَمْلِهَا أَحَدٌ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ وَذَلِكَ شَيْءٌ أَسَرَهَا اللَّهُ بِهِ لَمَّا أَرَادَ أَنْ يَمُنَّ بِهِ عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَلَمَّا كَانَتِ السَّنَةُ الَّتِي يُولَدُ فِيهَا مُوسَى بْنُ عِمْرَانَ بَعَثَ فِرْعَوْنُ الْقَوَابِلَ، وَتَقَدَّمَ إِلَيْهِنَّ وَفَتَّشَ النِّسَاءَ تَفْتِيشًا لَمْ يُفَتِّشْهُنَّ قَبْلَ ذَلِكَ وَحَمَلَتْ أُمُّ مُوسَى بِمُوسَى فَلَمْ يَنْتُ بَطْنُهَا، وَلَمْ يَتَغَيَّرْ لَوْنُهَا، وَلَمْ يَفْسَدْ لَبَنُهَا، وَلَكِنَّ الْقَوَابِلَ لَا تَعْرِضُ لَهَا، فَلَمَّا كَانَتِ اللَّيْلَةُ الَّتِي وُلِدَ فِيهَا مُوسَى وَلَدَتْهُ أُمُّهُ وَلَا رَقِيبَ عَلَيْهَا وَلَا قَابِلَ وَلَمْ يَطَّلِّعْ عَلَيْهَا أَحَدٌ إِلَّا أُخْتُهَا مَرْيَمُ وَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهَا أَنْ أَرْضِعِيهِ، فَإِذَا خِفْتِ عَلَيْهِ فَأَلْقِيهِ فِي الْيَمِّ وَلَا تَخَافِي وَلَا تَحْزَنِي إِنَّا رَادُّوهُ إِلَيْكِ وَجَاعِلُوهُ مِنَ الْمُرْسَلِينَ. قَالَ: فَكَتَمَتْهُ أُمُّهُ ثَلَاثَةَ أَشْهُرٍ تُرْضِعُهُ فِي حِجْرِهَا لَا يَبْكِي وَلَا يَتَحَرَّكُ فَلَمَّا خَافَتْ عَلَيْهِ وَعَلَيْهَا عَمِلَتْ لَهُ تَابُوتًا مُطْبَقًا وَمَهَّدَتْ لَهُ فِيهِ، ثُمَّ أَلْقَتْهُ فِي الْبَحْرِ لَيْلًا كَمَا أَمَرَهَا اللَّهُ وَعُمِلَ التَّابُوتُ عَلَى عَمَلِ سُفُنِ الْبَحْرِ خَمْسَةَ أَشْبَارٍ فِي خَمْسَةِ أَشْبَارٍ وَلَمْ يُقَيَّرْ فَأَقْبَلَ التَّابُوتُ يَطْفُو عَلَى الْمَاءِ، فَأَلْقَى الْبَحْرُ التَّابُوتَ بِالسَّاحِلِ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ، فَلَمَّا أَصْبَحَ فِرْعَوْنُ جَلَسَ فِي مَجْلِسِهِ عَلَى شَاطِئِ النِّيلِ فَبَصُرَ بِالتَّابُوتِ، فَقَالَ لِمَنْ حَوْلَهُ مِنْ خَدَمِهِ إِيتُونِي بِهَذَا التَّابُوتِ فَأَتَوْهُ بِهِ، فَلَمَّا وُضِعَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَتَحُوهُ فَوَجَدَ فِيهِ مُوسَى، قَالَ: فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيْهِ فِرْعَوْنُ قَالَ: غَيْرَ أَنِّي مِنَ الْأَعْدَاءِ فَأَعْظَمَهُ ذَلِكَ وَغَاظَهُ، وَقَالَ: كَيْفَ أَخْطَأَ هَذَا الْغُلَامَ الذَّبْحُ وَقَدْ أَمَرْتُ الْقَوَابِلَ أَنْ لَا يَكْتُمْنَ مَوْلُودًا يُولَدُ، قَالَ: وَكَانَ فِرْعَوْنُ قَدِ اسْتَنْكَحَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ يُقَالَ لَهَا آسِيَةُ بِنْتُ مُزَاحِمٍ، وَكَانَتْ مِنْ خِيَارِ النِّسَاءِ الْمَعْدُودَاتِ وَمِنْ بَنَاتِ الْأَنْبِيَاءِ، وَكَانَتْ أُمًّا لِلْمُسْلِمِينَ تَرْحَمُهُمْ وَتَتَصَدَّقُ عَلَيْهِمْ وَتُعْطِيهِمْ وَيَدْخُلُونَ عَلَيْهَا، فَقَالَتْ لِفِرْعَوْنَ وَهِيَ قَاعِدَةٌ إِلَى جَنْبِهِ هَذَا الْوَلِيدُ أَكْبَرُ مِنِ ابْنِ سَنَةٍ وَإِنَّمَا أَمَرْتَ أَنْ تَذْبَحَ الْوِلْدَانَ لِهَذِهِ السَّنَةِ فَدَعْهُ يَكُونُ قُرَّةَ عَيْنٍ لِي وَلَكَ لَا تَقْتُلُوهُ عَسَى أَنْ يَنْفَعَنَا أَوْ نَتَّخِذَهُ وَلَدًا وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ أَنَّ هَلَاكَهُمْ عَلَى يَدَيْهِ، وَكَانَ فِرْعَوْنُ لَا يُولَدُ لَهُ إِلَّا الْبَنَاتُ فَاسْتَحْيَاهُ فِرْعَوْنُ وَرَفَعَهُ وَأَلْقَى اللَّهُ إِلَيْهِ مَحَبَّتَهُ وَرَأْفَتَهُ وَرَحْمَتَهُ، وَقَالَ لِامْرَأَتِهِ: عَسَى أَنْ يَنْفَعَكِ أَنْتِ فَأَمَّا أَنَا فَلَا أُرِيدُ نَفْعَهُ، قَالَ وَهْبٌ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَوْ أَنَّ عَدُوَّ اللَّهِ قَالَ فِي مُوسَى كَمَا قَالَتِ امْرَأَتُهُ: عَسَى أَنْ يَنْفَعَنَا لَنَفَعَهُ اللَّهُ بِهِ وَلَكِنَّهُ أَبَى لِلشَّقَاءِ الَّذِي كَتَبَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَحَرَّمَ اللَّهُ عَلَى مُوسَى الْمَرَاضِعَ ثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ، كُلَّمَا أُتِيَ بِمُرْضِعَةٍ لَمْ يَقْبَلْ ثَدْيَهَا فَرَقَّ لَهُ فِرْعَوْنُ وَرَحِمَهُ وَطُلِبَتْ لَهُ الْمَرَاضِعُ، وَذَكَرَ وَهْبُ حُزْنَ أُمِّ مُوسَى وَبُكَاءَهَا عَلَيْهِ حَتَّى كَادَتْ أَنْ تُبْدِيَ بِهِ، ثُمَّ تَدَارَكَهَا اللَّهُ بِرَحْمَتِهِ فَرَبَطَ عَلَى قَلْبِهَا إِلَى أَنْ بَلَغَهَا خَبَرَهُ، فَقَالَتْ لِأُخْتِهِ تَنَكَّرِي وَاذْهَبِي مَعَ النَّاسِ وَانْظُرِي مَاذَا يَفْعَلُونَ بِهِ فَدَخَلَتْ أُخْتُهُ مَعَ الْقَوَابِلِ عَلَى آسِيَةَ بِنْتِ مُزَاحِمٍ، فَلَمَّا رَأَتْ وَجْدَهُمْ بِمُوسَى وَحُبَّهُمْ لَهُ وَرِقَّتَهُمْ عَلَيْهِ، قَالَتْ: هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَى أَهْلِ بَيْتٍ يَكْفُلُونَهُ لَكُمْ وَهُمْ لَهُ نَاصِحُونَ إِلَى أَنْ رُدَّ إِلَى أُمِّهِ فَمَكَثَ مُوسَى عِنْدَ أُمِّهِ حَتَّى فَطَمَتْهُ، ثُمَّ رَدَّتْهُ إِلَيْهِ فَنَشَأَ مُوسَى فِي حِجْرِ فِرْعَوْنَ وَامْرَأَتِهِ يُرَبِّيَانِهِ بِأَيْدِيهِمَا وَاتَّخَذَاهُ وَلَدًا فَبَيْنَا هُوَ يَلْعَبُ بَيْنَ يَدَيْ فِرْعَوْنَ وَبِيَدِهِ قَضِيبٌ لَهُ خَفِيفٌ صَغِيرٌ يَلْعَبُ بِهِ، إِذْ رَفَعَ الْقَضِيبَ فَضَرَبَ بِهِ رَأْسَ فِرْعَوْنَ وَنَظَرَ مَنْ ضَرَبَهُ حَتَّى هَمَّ بِقَتْلِهِ، فَقَالَتْ آسِيَةُ بِنْتُ مُزَاحِمٍ: أَيُّهَا الْمَلِكُ لَا تَغْضَبْ وَلَا يَشُقَّنَّ عَلَيْكَ فَإِنَّهُ صَبِيٌّ صَغِيرٌ لَا يَعْقِلُ جَرِّبْهُ إِنْ شِئْتَ اجْعَلْ فِي هَذَا الطَّشْتِ جَمْرَةً وَذَهَبًا فَانْظُرْ عَلَى أَيُّهُمَا يَقْبِضُ فَأَمَرَ فِرْعَوْنُ بِذَلِكَ، فَلَمَّا مَدَّ مُوسَى يَدَهُ لِيَقْبِضَ عَلَى الذَّهَبِ قَبَضَ الْمَلَكُ الْمُوَكَّلُ بِهِ عَلَى يَدِهِ فَرَدَّهَا إِلَى الْجَمْرَةِ فَقَبَضَ عَلَيْهَا مُوسَى فَأَلْقَاهَا فِي فِيهِ ثُمَّ قَذَفَهَا حِينَ وَجَدَ حَرَارَتَهَا، فَقَالَتْ آسِيَةُ لِفِرْعَوْنَ أَلَمْ أَقُلْ لَكَ إِنَّهُ لَا يَعْقِلُ شَيْئًا وَلَا يَعْلَمُهُ وَكَفَّ عَنْهُ فِرْعَوْنُ وَصَدَّقَهَا وَكَانَ أَمَرَ بِقَتْلِهِ وَيُقَالُ: إِنَّ الْعُقْدَةَ الَّتِي كَانَتْ فِي لِسَانِ مُوسَى أَثَرُ تِلْكَ الْجَمْرَةِ الَّتِي الْتَقَمَهَا، قَالَ وَهْبُ بْنُ مُنَبِّهٍ: وَلَمَّا بَلَغَ مُوسَى أَشَدَّهُ وَبَلَغَ أَرْبَعِينَ سَنَةً آتَاهُ اللَّهُ عِلْمًا وَحُكْمًا وَفَهْمًا فَلَبِثَ بِذَلِكَ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ سَنَةً دَاعِيًا إِلَى دِينِ إِبْرَاهِيمَ وَشَرَائِعِهِ وَإِلَى دِينِ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ فَآمَنَتْ طَائِفَةٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ " ثُمَّ ذَكَرَ الْقِصَّةَ بِطُولِهَا

حضرت وہب بن منبہ رضی اللہ عنہ سے موسیٰ بن عمران بن قامت بن لاوی بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم علیہ السلام ان کی ولادت کا واقعہ اور الله تعالی کے دشمن فرعون کا قصہ جب وہ بنی اسرائیل سے اپنے اعمال میں اپنی عبادت کرواتا تھا اور حضرت موسٰی علیہ السلام اور حضرت خضر کا واقعہ مروی ہے۔ چنانچہ حضرت وہب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کو حمل ہوا (جس سے حضرت موسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے ) تو انہوں نے یہ معاملہ ہر کسی سے پوشیدہ رکھا اور اپنے حمل کے تعلق الله تعالی کی مخلوق میں سے کسی کونہ بتایا اور یہی چیز تھی جس کو الله تعالی نے چھپایا کیونکہ وہ اس کے ذریعے بنی اسرائیل پر احسان کرنا چاہتا تھا۔ جب وہ سال شروع ہوا جس میں حضرت موسیٰ بن عمران نام علیہ السلام پیدا ہوئے تو فرعون نے دائیاں بھیجیں جو عورتوں کی اس قدر سختی سے چھان بین کرتیں کہ اس سے پہلے کبھی ایسی تفتیس نہ ہوئی تھی۔ موسیٰ علیہ السلام کی والدہ حاملہ ہوئیں حمل میں حضرت موسیٰ علیہ السلام تھے تو آپ کی والدہ کا نہ تو پیٹ بڑھا ہوا اور نہ ان کا رنگ بدلا اور نہ ان کے دودھ میں کوئی فرق آیا یہی وجہ ہے کہ دائیاں ان کی جانب توجہ نہیں دیتیں تھیں۔ جب وہ رات آئی جس میں حضرت موی را پیدا ہوئے تو اس رات نہ کوئی وہاں نگران تھانہ کوئی دائی تھی اور ان (حضرت موسٰی علیہ السلام کی والدہ) کی بہن کے سوا کسی کو بھی اس معاملہ کا پتہ نہ چلا۔ اللہ تعالی نے ان کی طرف الہام فرمایا کہ اسے دودھ پلائیں پھر جب تجھے اس سے اندیشہ ہو تو اسے دریا میں ڈال دے اور نہ ڈر اور غم نہ کر بے شک ہم اسے تیری طرف پھیر لائیں گے اور اسے رسول بنائیں گے آپ کی والدہ نے تین مہینے تک آپ کو دودھ پلایا، آپ نے روتے تھے اور نہ حرکت کرتے۔ پھر جب ان کی والدہ نے ان کے اور خود اپنے متعلق خوف محسوس کیا تو ان کے لئے ایک مضبوط ( واٹر پروف ) صندوق بنایا اور اس میں ان کے لئے بستر بچھا کر اس میں لٹا دیا اور پھر یہ صندوق الله تعالی کے حکم کے مطابق رات کے وقت دریا میں ڈال دیا، یہ تابوت کشتی کی طرز پر پانچ بالشت مربع سائز میں بنایا گیا تھا جبکہ اس میں تارکول نہیں ملایا گیا تھا۔ یہ تابوت پانی پر تیرنے لگا، دریا نے یہ تابوت رات کے اندھیرے میں ساحل پر پہنچا دیا۔ جب صبح ہوئی تو فرعون دریائے نیل کے کنارے اپنی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے تابوت کو دیکھ لیا اور اپنے خدام سے کہا: یہ تابوت میرے پاس لے کر آؤ۔ انہوں نے تابوت لاکرفرعون کے سامنے رکھ دیا، جب اس کو کھولا تو اس میں موسیٰ علیہ السلام موجود تھے۔ جب فرعون نے آپ کو دیکھا تو بولا:بی تو مجھے میرے دشمنوں میں سے لگتا ہے وہ اس سے بہت گھبرایا اور بہت غصہ میں کہنے لگا: یہ بچہ نہ ذبح ہونے سے کیسے بچ گیا باوجود یکہ میں نے دائیوں کو حکم دے رکھا ہے کہ کوئی بھی نومولود ان کی نگاہ سے اوجھل نہیں رہنا چاہئے۔ فرعون نے بنی اسرائیل کی خاتون آسیہ بنت مزاحم سے نکاح کر رکھا تھامی خاتون بنی اسرائیل کی گنتی کی چند نیک خواتین میں سے ایک تھیں اور بنات انبیاء میں سے تھیں ۔ اس کے دل میں مسلمانوں کے لئے بہت نرم گوشہ تھا۔ یہ ان کا بہت خیال رکھتی تھیں ان پر صدقہ کرتیں اور بہت کچھ عطا کرتی رہتی تھیں اور مسلمان ان کے پاس آیا کرتے تھے، یہ اس وقت فرعون کے پاس ہی بیٹھی ہوئی تھیں۔ انہوں نے فرعون سے کہا: یہ بچہ تو ایک سال سے زیادہ عمر کا لگتا ہے جبکہ تو نے اس سال کے بچوں کو ذبح کرنے کا حکم دیا ہے، اس کو چھوڑ دے کہ یہ تیرے اور میرے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک ہو جائے ۔ تم لوگ اس کو قتل مت کرو، ہوسکتا ہے کہ یہ میں کوئی فائدہ دے یا ہم اسے اپنا بچہ بنالیں اور ان کو اس کا پتہ بھی نہ تھا کہ ان کی بربادی اس کے ہاتھوں ہوگی اور فرعون کا کوئی بیٹا زندہ نہ رہتا تھا، صرف بیٹیاں زندہ بچتی تھیں، تو فرعون کے دل میں اس کا حیا آگیا اور اس نے موسیٰ علیہ السلام کو اٹھا لیا، الله تعالی نے اس کے دل میں موسیٰ علیہ السلام کی محبت ، الفت اورشفقت ڈال دی۔ اس نے اپنی بیوی سے کہا: ہوسکتا ہے کہ یہ تمہیں کوئی فائدہ دے، بہرحال مجھے اس کا کوئی فائدہ نہیں چاہے۔ حضرت وہب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: یہ اللہ تعالی کا دشمن بھی اگر موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں اپنی بیوی کی طرح کہہ دیتا کہ ہوسکتا ہے کہ یہ ہمیں کوئی فائدہ دے توالله تعالی اسے بھی فائدہ دے دیتا لیکن اس کو اس کی بدبختی نے ایسا بولنے سے روک دیا جو ازل سے ہی اس کے نصیب میں لکھی جا چکی تھی۔ الله تعالی نے آٹھ دن اور آٹھ راتیں موسیٰ علیہ السلام پر دودھ پلانے والیاں حرام کیں۔ جب بھی کوئی دودھ پلانے کی کوشش کرتی تو آپ اس کا پستان قبول نہ کرتے۔ اس پر فرعون کو بہت ترس اورتم آیا، اس نے آپ کے لئے دودھ پلانے والیاں منگوائیں۔ حضرت وہب رضی اللہ عنہ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کی پریشانی اور ان کی آہ بکا کا ذکر کیا ہے ( آپ فرماتے ہیں) قریب تھا کہ وہ سب راز افشاء کر دیتی تو الله تعالی نے اپنی رحمت سے اس کا تدارک فرمایا، اس کے دل کو مضبوط کیا حتی کہ اس تک حضرت موسیٰ علیہ السلام کی خبر پہنچ گئی ۔ انہوں نے اپنی بہن سے کہا: تو بھیس بدل کر لوگوں کے ہمراہ وہاں پر جا اور دیکھ وہ کیا کرتے ہیں۔ چنانچہ ان کی بہن دوسری دائیوں کے ہمراہ آسیہ بنت مزاحم کے پاس گئی۔ وہاں پر اس نے موسٰی علیہ السلام کے ساتھ ان کی محبت اور شفقت دیکھی تو بولی: میں تمہیں ایک ایسا گھر بتا سکتی ہوں جو نیک جذبات کے ساتھ اس کی کفالت کر سکتے ہیں۔ المختصر کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کوان کی ماں کی طرف لوٹا دیا۔ اس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دودھ پینے کا پورا عرصہ اپنی ماں کے پاس رہے۔ جب وہ کھانا وغیرہ کھانے کے قابل ہو گئے تو انہوں نے موسیٰ علیہ السلام کو دوبارہ فرعون کے سپرد کر دیا پھر موسیٰ علیہ السلام فرعون اور اس کی بیوی کی گود میں پلتے رہے، وہ دونوں اپنے ہاتھوں سے ان کی پرورش کرتے رہے اور انہوں نے آپ کو اپنا بیٹا بنالیا۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام فرعون کے پاس کھیل رہے تھے، آپ کے ہاتھ چھوٹی سی ڈنڈی تھی، جس کے ساتھ آپ کھیل رہے تھے، اچانک آپ نے وہ ڈنڈی فرعون کے سر میں دے ماری ، فرعون نے آپ کی اس مار پر بہت غور و فکر کیا ، اور بالاخر آپ کو قتل کرنے کا ارادہ کرلیا، تو آسیہ بنت مزاحم بولیں: اے بادشاہ! غصہ مت کیجئے ! اور یہ بد بختی اپنے اوپر مت ڈالئے کیونکہ یہ تو چھوٹا نا سمجھ بچہ ہے۔ اگر تو چاہتا ہے تو اس کو آزما لے، میں اس تھال میں سونا اور انگارہ رکھ دیتی ہوں تو دیکھے کہ یہ کس کو اٹھاتا ہے۔ فرعون اس کے لئے تیار ہوگیا۔ جب موسیٰ علیہ السلام نے سونے کی جانب ہاتھ بڑھایا تو فرشتے نے ان کا ہاتھ پکڑ کر انگارے کی طرف کر دیا۔ آپ نے وہ انگارہ اٹھا کر اپنے منہ میں ڈال لیا۔ پھر جب اس کی تپش محسوس ہوئی تو اسے پھینک دیا۔ حضرت آسیہ رضی اللہ عنہ نے فرعون سے کہا: میں نے تمہیں کہا نہیں تھا کہ یہ نا سمجھ بے عقل بچہ ہے۔ اس طرح فرعون رک گیا اور آسیہ کی بات تسلیم کر گیا ورنہ اس نے تو آپ کو قتل کرنے کا حکم جاری کر دیا ہوا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کی زبان میں جو گرہ تھی وہ اسی انگارے کی وجہ سے تھی جو آپ نے اپنے منہ میں ڈالا تھا۔ حضرت وہب بن منبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب حضرت موسیٰ علیہ السلام جوان ہوئے اور آپ کی عمر چالیس سال کو بھی تو اللہ تعالی نے آپ کوعلم حکمت (نبوت) اور فہم و فراست عطا فرمائی تو آپ وہاں پر 12سال تک حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسحاق علیہ السلام اور یعقوب علیہ السلام کے دین اور شریعت کی تبلیغ کرتے رہے تو بنی اسرائیل کی ایک مختصر سی جماعت آپ پر ایمان لائی۔ پھر اس کے بعد تفصیلی قصہ بیان کیا۔یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا ۔

وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الْمُنْعِمِ بْنُ إِدْرِيسَ بْنِ سِنَانٍ الْيَمَانِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْبَرَاءِ ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْإِسْفَرَايِينِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of the Prophet Musa bin Amran and his brother Aaron bin Amran · Hadith 4097

chevron_left Previous
1…353637…579
Next chevron_right