حضرت ابن اسحاق رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں : نجاشی کا اصل نام "مصحمہ " تھا ۔ عربی میں میں اس کا مطلب "عطیہ " ہے ۔ نجاشی تو اس ملک کے بادشاہ کا لقب تھا جیسے کسریٰ اور ہرقل ۔ ابن اسحاق رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں : یہ نبی اکرم ﷺ کی طرف سے نجاشی کی طرف مکتوب تھا۔ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔ یہ خط ہے محمد رسول اللہ ﷺ کی جانب سے اصحم نجاشی عظیم الجیش کی طرف سامتی ہو اس پر جس نے ہدایت کی پیروی کی اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لایا اور اس بات کی گواہی دی کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ وحدہ لاشریک ہے ، نہ اس کی کوئی بیوی ہے نہ بیٹا اور یہ کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔میں تجھے اللہ تعالیٰ کا پیغام پیش کرتا ہوں کیونکہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں تو اسلام قبول کر لے سامتی پائے گا۔ ﴿ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ ٦٤﴾ [آل عمران: 64]" تم فرماؤ ! اے کتابیو! ایسے کمہ کی طرف آؤ جو ہم میں تم میں یکساں ہے یہ کہ عبادت نہ کریں مگر خداکی اور اس کا شریک کسی کو نہ کریں اور ہم میں کوئی ایک دوسرے کو رب نہ بنا لے اللہ کے سوا"۔ (ترجمہ کنزالایمان،امام احمد رضارحمۃاللہ علیہ) اور اگر تو انکار کرے تو تجھ پر نصاریٰ کا گناہ ہے۔ محمد بن اسحاق قرشی کی اس بات میں کسی نے متابعت نہیں کہ کہ نجاشی کا م مصحمہ تھا کیونکہ بخاری و مسلم میں صحیح احادیث موجود ہیں جن میں یہ نام الف کے ساتھ ہے اور ان میں رسول اللہ ﷺ کے مکتوب کا ذکر موجود ہے۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4244
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْهِجْرَةِ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4274
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیا رے صحا بی حضرت ہشا م بن حبیش بن خو یلد رضی اللہ تعالی عنہ فر ما تے ہیں : جب رسو ل صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ اور ان کے غلا م حضرت عا مر بن فہیر ہ رضی اللہ تعالی عنہ کی معیت میں مکہ سے ہجرت کر کے مد ینہ شر یف کی جا نب روا نہ ہو ئے اور ا ن کے راہ بتا نے والے حضرت عبد اللہ بن اریقط لیثی رضی اللہ تعالی عنہ تھے ۔ یہ لوگ امام معبد خز ا عیہ رضی اللہ تعالی عنہ کے خیمو ں کے پا س سے گز رے ( امام معبد بہت دلیر اور طا قتور خا تون تھیں اور یہ خیمے کے صحن میں چا در لپیٹ کر بیٹھ جا تی تھیں اور یہیں کھا نا و غیر ہ تھا یا کر تی تھیں ) انہو ں نے ( اما م معبد سے) پو چھا : تمہا رے پاس گو شت یا کھجو ر یں وغیر ہ ہو ں تو ہم خر ید نا چا ہتے ہیں ۔ لیکن امام معبد رضی اللہ تعالی عنہ کے پا س بیچنے کے لئے کچھ نہ تھا ۔ کیو نکہ یہ لو گ بہت نا دار اور قحط زدہ تھے ۔ رسول اللہ نے ان کے خیمے کے ایک کو نے میں بکری کھڑی د یکھی تو فر ما یا : اے ام معبد ! یہ بکری یہا ں کیو ں کھڑی ہے ؟ امام معبد رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا : اس میں ریو ڑ کے ہمرا ہ چلنے کی سکت نہ تھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پو چھا : کیا یہ دودھ دیت ہے ؟ اس نے بتا یا کہ یہ دودھ دینے سے بھی عا جز ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فر ما یا : کیا تم مجھے اس کا دودھ دو ہنے کی اجا زت دیتی ہو ؟ اس نے کہا : حضور ! میرے ماں با پ آپ پر قر با ن ہو ں اگر آپ اس میں دودھ دیکھتے ہیں تو دودہ لیجئے ۔ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو اپنے پا س منگوا کر اس کے تھنو ں پر اپنے دست مبا رک لگا ئے ، اللہ تعا لیٰ کا نا م لیا اور اس کے لئے دعا فر ما ئی ،( نبی اکر م صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہا تھو ں اور دعا کی بر کت سے ) بکری نے اپنی ٹا نگیں کھول دیں اور خوب دودھ اتا ر لیا ۔ نبی اکر م صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تما م لو گو ں کو بٹھا لیا اور ایک برتن منگوا کر اس میں دودھ دوہا ، حتی کہ وہ برتن بھر گیا ، حضو رصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ دودھ امام معبد رضی اللہ تعالی عنہ کو پلا یا ،اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سا تھیو ں نے بھی یہ دودھ پیٹ بھر کر پی لیا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوبا رہ پھر اس بر تن میں دودھ دوہا حتی کہ بر تن بھر گیا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ دودھ اس طر ح رہنے دیا ، پھر وہ بکری اس سے خر ید کر و ہیں چھو ڑ دی اور وہا ں سے روانہ ہو گئے ۔ ابھی زیا دہ دیر نہیں گز ری تھی کہ اس کا شو ہر ابو معبد کچھ لا غر بکر یا ں ہا نکتے ہو ئے آ گیا ، وہ بکر یا ں کمز وری کی وجہ سے بہت سست چل ر ہی تھیں ، ان کی ہڈ یو ں کا گو دا کم ہو چکا تھا ۔ جب ابو معبد نے گھر میں دودھ دیکھا تو بہت حیران ہو کر پو چھنے لگا : اےام معبد ! گھر میں تو کو ئی دودھ دینے وا لی بکری نہ تھی ، یہ دودھ کہا ں سے آیا ؟ اس نے کہا : خدا کی قسم ! ایک آ دمی ادھر سے گز را ہے جو بہت بر کت وا لا تھا ، پھر تما م ما جرا سنا دیا ۔ابو معبد نے کہا : تم مجھے اس کے اوصا ف بتا ؤ ، اس نے کہا : میں نے آج جس آدمی کو د یکھا ہے وہ خو بصورت ، ہنس مکھ ، اور روشن چہر ے وا لا تھا اس کا ثجلہ تھکا تا نہیں ہے ( ثجلہ کا مطلب ہے ’’ مو ٹے پیٹ وا لا ہو نا ‘‘ معنی یہ ہو گا کہ اس کا پیٹ اتنا مو ٹا نہیں تھا کہ چلنے میں اس کی و جہ سے تھکا وٹ ہو تی ہو)اس میں صعلہ کا عیب بھی نہیں تھا ( صعلہ کا مطلب ہے ، چھو ٹی اور پتلی گر دن وا لا ہو نا ) بہت ہی خبصو رت ہے ، اس کی آ نکھیں بڑی اور سیا ہ تھیں ، اس کی پلکیں گھنی تھیں، اس کی آ واز میں تیز ی تھی ، گر دن بلند تھی ، ڈاڑھی گھنی تھی، با ر یک دراز ملے ہوئے ابر و تھے ، اگر وہ چپ ہو تو اس کی شخصیت پر ایک وقا ر ہوتا ہے ، اگر گفتگو کرے تو اس وقار میں مزید اضا فہ ہو جا تا ہے ،اس کو دور سے دیکھو تو سب سے زیادہ خو بصورت نظر آتا ہے ،اور قریب سے دیکھو تو حسن و جما ل اس سے بھی بڑھ کر دکھتاہے ، ٹھہر ٹھہر کر میٹھی با تیں کر نے والا ہے ،نہ بے بر کت ہے ،نہ بے ہو دہ گفتگو کر نے والا ہے ،اس کی باتیں ایسی ہیں گو یا کہ قیمتی مو تیو ں کو پرو کر عطر فر وش کے ڈبے میں اتا ر دیا گیا ہو ،نہ اتنے لمبے تھے کہ د یکھنے والا نفرت کرے اور نہ اس قدر پستہ قد تھے کہ آنکھ کو برا لگے ،بلکہ میا نہ قد تھے ،آپ پتیو ں سے زیا دہ تر و تا زہ خو بصورت اور با عز ت تھے ،اس کے دوست ہمیشہ اس کے سا ئبا ن کی طرح رہتے تھے ، وہ با ت کرے تو بہت تو جہ سے سنتے ہیں، کسی چیز کا حکم سے تو ایک دوسرے سے بڑھ کر عمل کر تے ہیں ،وہ مخدوم ہے ،جلد با ت ما ننے وا لے ہیں ، تر ش رو ملا ت گر نہیں ہیں ، (یہ سن کر) ابو معبد بولا : خدا کی قسم ! یہ آدمی وہی ہے جس کے با رے میں قر یش نے مجھے بتا یا تھا، میں اس کی سنگت اختیا ر کر نے کی کو شش کرتا ہوں اگر میں مجھے اس کی طرف راہ ملا تو میں کا م ضرور کر وں گا ۔ اور مکہ میں ایک آواز بلند ہوئی لو گوں نے یہ آواز سنی مگر کسی کو پتہ نہ چل سکا کہ یہ آواز کہا ں سے آ رہی ہے ۔کہنے والا کہہ رہا تھا ۔ اللہ تعا لیٰ ان دو سا تھیوں کو جزائے خیر عطا فرما ئے جو امام معبد کے دو خیمو ں میں آئے۔وہ دونوں ہدا یت کے سا تھ وہا ں سے اترے اور اس (امام معبد )کو بھی اس سے ہد ایت ملی پس وہ کا میا ب ہو گیا جو محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سا تھی ہوا۔ابو بکر کو ان کے آبا ؤ اجداد ک نیک بختی ملی ان کے صحبت کی بر کت سے سعا دت مند ہوا جس کو اللہ تعا لی ٰسعادت مند کرے ۔اور نبی کعب کو ان کی سخا وت ملی اور ان کے بیٹھنے کی جگہ مو منو ں کیلئے بد لہ و جزا کا مقا م ہے ۔تم اپنی بہن سے اس کی بکری اور برتن کے متعلق پو چھو۔ بے شک اگر تم بکری سے پو چھو گے تووہ بھی گوا ہی دے گی ۔ انہوں نے ایسی بکری منگوا ئی جو دودھ دینے کی صلا حیت نہیں رکھتی تھی، لیکن اس بکری نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سا منے جھاگ پھینکتا(یعنی خا لص) دودھ دیا ۔پھر انہوں نے وہ بکری اسی کے پا س رہن چھوڑ دی اور وہ دودھ دوہنے والا باربار اس کا دودھ دوہتا رہا۔جب حضرت حسان رضی اللہ تعالی عنہ نے ہاتف غیبی کی یہ آواز سنی تو فو راً اس کے جواب میں آپ نے فر ما یا : وہ قوم بربا د ہو گئی جن سے ان کا نبی چلا گیا اور وہ لوگ خوش قسمت ہیں جن کی طرف اللہ کا نبی روانہ ہوا۔وہ اس قو م سے کو چ کر گئے ہیں جن کی عقلیں زائل ہو چکی ہیں اور ایک قوم کے پا س بز رگی والے نور کے ساتھ تشریف لے گئے ہیں۔ان کے رب نے ان کو گمراہی کے بعد ہدا یت عطا فرمائی اور ان کو ہدا یت دی جو حق کی پیروی کرتے ہو ئے ہد ایت ڈھو نڈتا ہے ،اورکیا برابر ہے بے وقو ف اندھی قوم کی گمراہی اور وہ راہنماجو مر شدکامل سےہدا یت حا صل کر تے ہیں۔ اور تحقیق اس سے اتری ہے اہل یژربپر ہد ا یت کی رکا ب جو ان پر نیک بختی لے کر آئی۔ یہ نبی ہیں جو اپنے اردگرد وہ سب کچھ د یکھتے ہیں جو دوسر وںکو نظر نہیں آتا اوریہ ہر مقا م پر اللہ کی کتا ب کی تلا وت کر تے ہیں۔اور اگر یہ کسی دن کو ئی پیشین گو ئی کر دیں تو اسی دن یا اس سے اگلے دن تصد یق ہو جا تی ہے ۔ یہ حد یث صحیح الا سنا د ہے لیکن شیخین رحمۃاللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اور اس کی صحت اور اس کی راویوں کی صدا قت پر درج ذیل دلا ئل مو جو د ہیں۔(۱)رسولاللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دو خیمو ں میں تشریف لا نا متعدد احا دیث صحیحہ سے ثا بت ہے (۲) جنہوں نے یہ حد یث اس انداز سے بیا ن کی ہے وہ لوگ ہیں جن پر حد یث گھڑنے اور اس میں کمی زیا دتی کی کو ئی تہمت نہیں ہے۔اور انہوں نے امام معبد اور ابو معبد سے لفظ بہ لفظ بیا ن کی ہے۔(۳)اس کی سند ایسی ہے جیسے بیٹابا پ سے ، وہ اس کے دادا سے ہا تھوں ہا تھ حد یث لے ۔ اس میں نہ تو کو ئی ارسا ل ہے اور نہ کو ئی ضعف ہے(۴)حربن الصبا ح النخعی نے اس کو ابو معبد سے اس طرح روایت کیا ہے جیسے ان کے بیٹےنے ان سے روا یت کی ہے۔ اور وہ اسنا د جو ہم نے کعبین کی حد یث م کی سند کے سا تھ روا یت کی ہے وہ اسنا د صحیح ہے اور عرب عر باءکی سند عالی ہے ۔ اور بے شک حر بن ا لصبا ح کی حد یث میں ہما ری سند عالی ہے ۔(جیسا کہ درج زیل ہے)
ابن اسحاق کہتے ہیں: عمرو بن عبدودقر یش کا ثالث تھا ، اس نے بد ر کا معرکہ لڑاتھا اوراس میں زخمی بھی ہوا تھا پھر یہ ا حد میں نہیں آیا تھا ۔ جب خندق کا موقع آیا تو یہ اپنے جنگی جواہر دکھانے کے لئے اعلان کرتا ہوا نکلا ، جب وہ اپنے گھوڑے سمیت کھڑ اہوا،تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا:اے عمرو! تو نے قریش سے عہد کر رکھا ہے کہ کوئی آدمی بھی اس سے دو چیز یں مانگے گا تو تو اس کی ایک قبول کر لے گا،عمرو نے کہا: جی ہاں ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تجھے اللہ ، اس کے رسول اور اسلام کی دعوت دیتا ہوں ۔اس نے کہا: مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا تو پھر میں تجھے جنگ کی دعوت دیتا ہوں ۔اس نے کہا :اے میرے چچا کے بیٹے ! کیوں؟ خدا کی قسم ! میں تجھے قتل نہیں کر نا چاہتا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لیکن تجھے قتل کرنا مجھے بہت پسند ہے۔ ( یہ سن کر )وہ آگ بگولا ہوگیا ، وہ گھوڑے کو حقیر جانتے ہوئے اس سے نیچے اتر اور اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی جانب بڑھنے لگا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے ساتھ کون لڑے گا ؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ لو ہے کا لباس پہنے ہوئے اٹھ کر کھڑے ہوئے اور عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ساتھ میں لڑوں گا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ عمر و بن عبدود ہے تم بیٹھ جاؤ ۔عمر و نے پھر آواز دی: کیا کوئی مرنہیں ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اجازت دی ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ درج ذیل اشعار پڑھتے ہوئے اس کی جانب بڑھےتو جلد بازی نہ کر ، بے شک تیرا چیلنج قبول کر نے والا آ گیا ہے اور وہ عاجز نہیں ہے جو کہ دانائی ، بصیرت اور سچائی والا ہے ۔ بے شک میں امید رکھتا ہوں کہ میں تجھ پر جنازوں پر رونے والیاں کھڑی کر دوں گا ۔ایسی چوڑی ضرب کے ساتھ جس کا ذکر جنگوں میں باقی رہے گا۔ عمرو بولا تم کون ہو؟ آپ رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں علی ہوں ۔اس نے کہا: کس کا بیٹا ؟ آپ رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:عبدمناف کی اولا د میں سے ۔ میں ابوطالب کا بیٹا ہوں ۔اس نے کہا: میرے چچا کے بیٹے تمہارے پاس تمہارے چچے موجود ہیں جوتم سے بڑے بھی ہیں۔ اس لئے تو واپس چلا جا، کیونکہ میں تیراخون بہانا اچھانہیں سمجھتا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فر مایا لیکن خدا کی قسم تیراخون بہانا مجھے ہرگز نا پسند نہیں ہے ،( اس بات پر) اس کوشد یدغصہ آ گیا۔ اس نے تلوارلہرائی گویا کہ آگ کا شعلہ ہو پھر وہ بہت غصے کی حالت میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی جانب بڑھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنی ڈھال اس کے آگے کر دی ،عمرو نے ڈھال پر تلوار ماری تو یہ تلوار کو چیرتی ہوئی آپ کے سر تک پہنچی جس سے آپ کے سر میں زخم ہو گیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس کے کند ھے کی رگ پر وار کیا ( جو کہ کاری ثابت ہوا) اور وہ گر گیا اور گر دوغبار پھیل گیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کی آوازسنی تو سمجھ گئے کہ علی رضی اللہ عنہ نے اس کو مار ڈالا ہے ۔ اس موقع پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہ اشعار پڑھے: اے علی !جنگجو ہمیں یوں حقیر جانتے ہیں اور میرے ان ساتھیوں کو جومیرے پیچھے ہیں۔ آج میرے جذ بہ حمیت نے مجھے فرار سے روکا اور میرے سر کا زخم میرے لئے کوئی بڑامسئلہ نہیں ہے ۔ مگر ابن عبد ودکو جب مارا گیا اور میں نے قسم کھائی تو تم غور سے کتاب سنو دوسخت لڑائی کر نے والوں میں سے میں اس کی تصدیق کرتا ہوں جومتقی ہو جب میں نے اس کوز مین پر ٹپکایا ہوا چھوڑ اتو وہ ایسا ہو گیا جیسے انسانی دھڑ سخت زمین اور محتاجی کے درمیان ہو۔ اور میں اس کے کپڑوں سے بچ کر ر ہا اگر میں ان کوا تار لیتا تو میرے کپڑوں کے برابر ہوتے ۔ وہ اپنی بے وقوفی کی وجہ سے پتھروں کی عبادت کرتا ہے اور میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے برحق رب کی درست عبادت کرتا ہوں ۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آئے، تو ان کا چہرہ چمک رہا تھا۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا:تم نے اس کی زرہ کیوں نہ اتار لی؟ کیونکہ اس کی زرہ سے اچھی زرہ پورے عرب میں نہیں ہے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے اس پر ضرب لگائی ، اس نے اپنالا شہ مجھ سے بچانے کی کوشش کی ۔تو مجھے اس بات سے حیاء آئی کہ میں اپنے چچا کے بیٹے کی زرہ اتاروں اور اس کا گھوڑ اواپس بھا گا تو خندق میں جا گرا۔
حضرت مرہ بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فتنوں کا تذکرہ کرتے سنا ہے، آپ ﷺ نے بیان کیا کہ فتنے بہت قریب ہیں ۔ اسی اثناء میں وہاں سے ایک آدمی گزرا جو چاردر میں لپٹا ہوا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا : یہ شخص اس ہدایت پر ہو گا ۔ تو میں اٹھ کر اس آدمی کے پاس گیا تو وہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ تھے۔ میں نے آپ کی جانب متوجہ ہو کر پوچھا : یہی ہے وہ شخص ؟َ انہوں نے کہا : جی ہاں۔ یہ حدیث اما م بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4552
الأدب المفرد · كتاب الْكَرَمِ وَ يَتِيمٌ ‹ باب · حديث 138
how ugly is misguidance after guidance! When you make a promise to your friend, fulfil your promise. If you do not, it will bring about enmity between you and him. Seek refuge in Allah from a companion who, when you mention something to him, does not help you and who does not remind you when you forget."
'Abdullah ibn Mughaffal al-Muzani said, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, forbade slings. He said, 'They do not kill game nor injure the enemy. They gouge the eye and break the teeth.'"
'Abdullah ibn 'Abbas related that Abu Sufyan ibn Harb sent him to Heraclius, the Byzantine Emperor, and he called for the letter of the Messenger of Allah which Dihya had brought to the governor of Busra, who in turn passed it on to Heraclius. He read it out, saying, 'In the name of Allah, the Merciful, the Compassionate, from Muhammad, the slave of Allah and His Messenger, to Heraclius, ruler of the Byzantines. Peace be upon the one who follows guidance. I call you to Islam. If you become Muslim, you will be safe and Allah will double your reward. If you turn away, then you incur the wrong action of your subjects. "O People of the Book! Come to a proposition which is the same for us and you (to His words) Bear witness that we are Muslims." (3:54)'"
"In the Name of Allah, the All-Merciful, Most Merciful. To the slave of Prophet, Mu'awiya, the Amir al-Mu'minin, from Zayd ibn Thabit. Peace be upon you, Amir al-Mu'minin, and the mercy of Allah. I praise Allah to you. There is no god but Him. Following on from that, you asked me about the inheritance of the grandfather and brothers (and he mentioned the letter). We ask Allah for guidance, preservation and firmness in all our affairs. We seek refuge with Allah from being misguided or ignorant or taking on what we have no knowledge of. Peace be upon you, Amir al-Mu'minin, and the mercy of Allah and His blessings and His forgiveness. Wuhayb has written it on Thursday, the 20th Ramadan, 42 (AH)."
Al Adab Al Mufrad · The Book of Messages › Chapter · Hadith 1131
الأدب المفرد · كتاب الرِّفْقِ ‹ باب · حديث 468
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ قَابُوسَ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ: الْهَدْيُ الصَّالِحُ، وَالسَّمْتُ، وَالِاقْتِصَادُ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ.
Ibn 'Abbas reported that the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, said, "Right guidance, good behaviour and aiming for what is just and correct is a seventieth part of prophethood."
Ibn Mas'ud was heard to say, "You are living at a time when there are many men of understanding and few orators. There are few who ask and many who give. In it there is more action than diversion. After you there will come a time when there are few men of understanding and many orators. There will be many who ask and few who give. Guidance in it directs action. Know that right guidance at the end of time is better than some actions."
Al Adab Al Mufrad · Book of sayings › Chapter · Hadith 789
الأدب المفرد · كتاب الأقوال ‹ باب · حديث 791
حَدَّثَنَا فَرْوَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ قَابُوسَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ: الْهَدْيُ الصَّالِحُ، وَالسَّمْتُ الصَّالِحُ، وَالِاقْتِصَادُ، جُزْءٌ مِنْ خَمْسَةٍ وَعِشْرِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ.
Ibn 'Abbas reported that the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, said, "Right guidance, correct behaviour and being moderate form a twenty-fifth portion of prophethood."
Tell us Shafei may Allah be pleased with him, he said: Tell us Sufian bin appointment, for Shabib bin Grkdh, he heard the neighborhood happen, Urwah bin Ja'd: that the Prophet, peace be upon him and gave him dinars to buy him with a sheep or a sacrifice, he bought his two sheep, he sold one denarius A sheep and a dinar came to him, and the Messenger of God, peace and blessings of God be upon him, called for him in the sale of him through the blessing, so there was no more Yeh.
Tell us a Muslim, Abdul Majid, and Abdullah bin Harith, son of Greg, Abdullah bin Obaid bin Amir, the son of Abu Ammar, said: I asked Jabir bin Abdullah hyena Oshehad is? He said: Yes. I said: I eat? He said: Yes. I said: I heard it from the Messenger of God, may God bless him and grant him peace, said: Yes. Take out the first from the book of rituals, and the second from the book of hunting and sacrifices.
Tell us Shafei may Allah be pleased with him, said: Tell us Abdul Rahman bin Zaid bin Aslam from his father, from Ibn 'Umar said: The Messenger of Allah, peace be upon him: "referred to us Mattan Widmann, Almittan: Pisces and locusts, Waldman: I think he said: liver And the spleen. " Take it out from the book of hunting and sacrifices.
Tell us Sufian bin appointment, from Abu Said bin stolen, from his father, Abaya bin Rvaap, for Rafi Ben Khadeej, he said: O Messenger of God, I am lost their enemy tomorrow and not with us over Onzki Ballait? He said the Prophet, peace be upon him: «What rivers of blood and mentioned the name of God, so eat, but what was the age or the nail, the bone age of the human, and the nail over the turkey». Take the two hadiths out of the book of hunting and sacrifices.
Shafei said, which was narrated from Ibn Abbas in bringing their sacrifices, but it is from modern Ikrima, Okhbernih son Darorda and the son of Abu Yahya, from ox Daily, Ikrimah, from Ibn Abbas: that he was asked about the slaughter of Arab Christians, said the word speaks is replaced, and read: {He who takes care of you among them, it is from them} [Al-Ma'idah: 51], but our companions kept quiet about the name of Ikrimah, and a bull that did not meet a son. He brought the first out of the tribute book, and the second and the third from the book of hunting and sacrifices, and the fourth and fifth from the Book of Serab.
Yahya ibn Hassan, on the authority of Al-Lyth ibn Sa`d, told us about Al-Zuhri, on the authority of Sa’id ibn al-Musayyib: “He said: Ibn Shihab said: There were only men who said: He would straighten a good. Take the two hadiths out of the book of hunting and sacrifices.
Tell us Sufian bin appointment, Amr ibn Dinar, Ibn Abi Njih, Habib bin Abi Thabet, said: We were when Abdullah ibn Umar came and Bedouin, he said: I was given some of the sons of camel Hyate.qal Amr in the talk: and she Tnatjt, son said My father is successful in his hadith: and she is tired and disturbed, so he said: He has his life and his death, he said: he said: he said: The two hadiths were included in the book of the difference of Malik and al-Shafi’i, and the third from the book of hunting and sacrifices.
Tell us Sufian, Amr ibn Dinar, Tawoos, for stone Almadri, Zaid ibn Thabit, the Messenger of Allah peace be upon him: he said: «Imari for the heir» .okhrj four conversations in the book of the different owner and Shafei, V and VI of the book Fishing And sacrifices.
Muhammad ibn Idris said: I have narrated hadiths sent from the Prophet, peace and blessings of God be upon him, that he died and died. Take the two hadiths out of the book of hunting and sacrifices, the last of which is in it, and the third of the Book of Funerals, which is another.