Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الأضحية والعقيقة

Qurbani & Aqiqah

11564 hadiths

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَضَاحِيِّ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7557

7557 - أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثَنَا يَزِيدُ بْنُ الْحُبَابِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي أَبُو الزَّاهِرِيَّةِ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ ثَوْبَانَ، مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ذَبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُضْحِيَّتَهُ فِي السَّفَرِ ثُمَّ قَالَ: «يَا ثَوْبَانُ، أَصْلِحْ لَحْمَهَا» فَلَمْ أَزَلْ أُطْعِمَهُ مِنْهَا حَتَّى قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7557 - صحيح

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں بھی قربانی کا جانور ذبح کیا ۔ پھر فرمایا اے ثوبان اس کا گوشت سنبھال لو ہم مدینہ منورہ واپس آنے تک اس کا گوشت کھاتے رہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔

ذَبَحَ رَسُولُ اللَّهِ أُضْحِيَّتَهُ فِي السَّفَرِ ثُمَّ ← ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ ← جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، ← أَبُو الزَّاهِرِيَّةِ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← يزيد بن الحباب ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Sacrificial Book › The merits of all Arabs · Hadith 7557

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَضَاحِيِّ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7558

7558 - أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ عِيسَى الْحِيرِيُّ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: نَحَرْنَا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ سَبْعِينَ بَدَنَةً الْبَدَنَةُ عَنْ عَشَرَةٍ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِيَشْتَرِكِ الْبَقَرُ فِي الْهَدْيِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَقَدْ رُوِيَ الْبَدَنَةُ عَنْ عَشَرَةٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَيْضًا " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7558 - على شرط مسلم

حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حدیبیہ کے موقع پر ہم نے ستر اونٹ قربان کیے ایک اونٹ دس آدمیوں کی طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قربانی کے لیے گائے میں شراکت ہو سکتی ہے ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیاد کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ ایک اونٹ دس آدمیوں کی طرف سے قربان کرنے کے متعلق ایک حدیث حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے ۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَيْضًا على شرط مسلم ← عَشَرَةٌ. ← عَشَرَةٌ. ← نَحَرْنَا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ سَبْعِينَ بَدَنَةً، الْبَدَنَةُ ← جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← عَلِيُّ بْنُ عِيسَى الْحِيرِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Sacrificial Book › The merits of all Arabs · Hadith 7558

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَضَاحِيِّ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7560

7560 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَتَّابٍ الْعَبْدِيُّ، بِبَغْدَادَ، ثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ مُحَمَّدُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْقَاضِي، ثَنَا أَبُو صَالِحٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ بُزُرْجٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: «أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعِيدَيْنِ أَنْ نَلْبَسَ أَجْوَدَ مَا نَجِدُ، وَأَنْ نَتَطَيَّبَ بِأَجْوَدَ مَا نَجِدُ، وَأَنْ نُضَحِّيَ بِأَسْمَنِ مَا نَجِدُ، الْبَقَرَةُ عَنْ سَبْعَةٍ وَالْجَزُورُ عَنْ عَشَرَةٍ، وَأَنْ نُظْهِرَ التَّكْبِيرَ وَعَلَيْنَا السَّكِينَةُ وَالْوَقَارُ» لَوْلَا جَهَالَةُ إِسْحَاقَ بْنِ بُزُرْجٍ لَحَكَمْتُ لِلْحَدِيثِ بِالصِّحَّةِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7560 - لولا جهالة إسحاق لحكمت بصحته

حضرت زید بن حسن بن علی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم عید کے دن نئے کپڑے پہنیں اور بہترین خوشبو لگائیں اور موٹا تازہ جانور ذبح کریں گائے سات آدمیوں کی طرف سے اور اونٹ دس ادمیوں کی طرف سے بلند آواز سے تکبیر کہیں اور سکون اور وقار کے ساتھ چلیں ۔ اگر اس حدیث میں اسحا ق بن بز رج کی جہالت نہ ہوتی تو اس حدیث کو صحیح قرار دے دیتا ۔

أَبِيهِ ← زَيْدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، ← إسحاق بن بزرج ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← أَبُو صَالِحٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ ← أَبُو الْأَحْوَصِ مُحَمَّدُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْقَاضِي، ← أبو بكر محمد بن عبد الله بن عتاب العبدي

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Sacrificial Book › The merits of all Arabs · Hadith 7560

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَضَاحِيِّ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7561

7561 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا أَبُو عُتْبَةَ أَحْمَدُ بْنُ الْفَرَجِ، ثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ زُفَرَ الْجُهَنِيِّ، حَدَّثَنِي أَبُو الْأَسْوَدِ السُّلَمِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: كُنْتُ سَابِعَ سَبْعَةٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرِهِ فَأَدْرَكَنَا الْأَضْحَى فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَمَعَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا دِرْهَمًا فَاشْتَرَيْنَا أُضْحِيَّةً بِسَبْعَةِ دَرَاهِمَ وَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَقَدْ غَلِينَا بِهَا فَقَالَ: «إِنَّ أَفْضَلَ الضَّحَايَا أَغْلَاهَا وَأَسْمَنُهَا» قَالَ: ثُمَّ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ رَجُلٌ بِرِجْلٍ وَرَجُلٌ بِرِجْلٍ، وَرَجُلٌ بِيَدٍ وَرَجُلٌ بِيَدٍ، وَرَجُلٌ بِقَرْنٍ وَرَجُلٌ بِقَرْنٍ، وَذَبَحَ السَّابِعُ وَكَبِّرُوا عَلَيْهَا جَمِيعًا [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7561 - عثمان بن زفر ثقة

ابو الاسود سلمی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ ایک سفر میں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا ہم کل سات لوگ تھے سفر میں ہی قربانی کادن آگیا حضور اکرمصلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر ہم نے ایک ایک درہم جمع کر کے سات درہموں کی ایک گائے خریدی ہم نے عرض کیا یار سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ گائے ہمیں بہت مہنگی ملی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے بہترین قربانی وہی ہے جو مہنگی ہو اور فربہ ہو ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر ایک نے اس گائے کا پچھلا پاؤں پکڑ لیا ایک نے دوسرا پچھلا پاؤں پکڑ لیا ایک نے اگلا ایک پاؤں پکڑا ایک نے اگلا دوسرا پاؤں پکڑا ایک نے ایک سینگ پکڑا ایک نے دوسرا سینگ پکڑا اور ساتویں نے اس کی ذبح کیا ، اور تکبیر تمام نے مل کر پڑھی ۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← أَبُو الْأَسْوَدِ السُّلَمِيُّ، ← عُثْمَانُ بْنُ زُفَرَ الْجُهَنِيُّ ← بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ← أَبُو عُتْبَةَ أَحْمَدُ بْنُ الْفَرَجِ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Sacrificial Book › The merits of all Arabs · Hadith 7561

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَضَاحِيِّ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7567

7567 - أَخْبَرَنِي الْأُسْتَاذُ أَبُو الْوَلِيدِ، وَأَبُوبَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَا: ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثَنَا عُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ السَّهْمِيُّ، أَنَّ زُرَارَةَ بْنَ كَرِيمِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَمْرٍو، حَدَّثَهُ أَنَّ الْحَارِثَ بْنَ عَمْرٍو، حَدَّثَهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ شَاءَ فَرَّعَ وَمَنْ شَاءَ لَمْ يُفَرِّعْ، وَمَنْ شَاءَ عَتَرَ وَمَنْ شَاءَ لَمْ يَعْتِرْ، وَفِي الْغَنَمِ أُضْحِيَّتُهَا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7567 - صحيح

حار ث بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو فرع کرنا چاہے وہ فرع کر لے اور جو عتر کرنا چاہے وہ عتر کر لے اور بکریوں میں ان کی قربانی کرے (زمانہ جاہلیت میں لوگ نذر مانتے تھے کہ اگر ان کا فلاں کام ہو جائے یا انکی بکریاں فلاں تعداد تک پہنچ جائیں تو وہ ہر دس کے بدلے میں ایک بکری ذبح کریں گے اس کانام وہ عتیرہ رکھتے تھے ۔ ابتدائے اسلام میں یہ سلسلہ جاری تھا لیکن بعد میں اس کو منسوخ کر دیا گیا ۔ خطابی کہتے ہیں عتیرہ اس بکری کو کہتے ہیں جو زمانہ جاہلیت میں لوگ بتوں کے نام پر ذبح کیا کرتے تھے اور جب کسی کے اونٹوں کی تعداد ایک سو تک پہنچ جاتی تو وہ ایک گائے بت کے نام پر ذبح کرنا اس کو فرع کہتے تھے ابتدائے اسلام میں یہ جائز تھا بعد میں اسے بھی منسوخ کر دیا گیا ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔

عُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ السَّهْمِيُّ ← أَبِي ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← الْأُسْتَاذُ أَبُو الْوَلِيدِ، وَأَبُوبَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Sacrificial Book › The merits of all Arabs · Hadith 7567

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الذَّبَائِحِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7586

7586 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَضْلِ الْبَجَلِيُّ، وَإِسْحَاقُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْحَرْبِيُّ، قَالَا: ثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ زُرَارَةَ بْنِ كَرِيمٍ السَّهْمِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّهِ الْحَارِثِ بْنِ عَمْرٍو السَّهْمِيِّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: اسْتَغْفِرْ لِي. قَالَ: «غَفَرَ اللَّهُ لَكُمْ» قُلْتُ لَهُ ذَلِكَ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا تَرَى فِي الْعَتَائِرِ وَالْفَرَائِعِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ شَاءَ عَتَرَ وَمَنْ شَاءَ لَمْ يَعْتِرْ، وَمَنْ شَاءَ فَرَّعَ وَمَنْ شَاءَ لَمْ يُفَرِّعُ وَفِي الشَّاةِ أُضْحِيَّتُهَا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، فَإِنَّ الْحَارِثَ بْنَ عَمْرٍو السَّهْمِيَّ صَحَابِيٌّ مَشْهُورٌ، وَوَلَدُهُ بِالْبَصْرَةِ مَشْهُورُونَ «وَقَدْ حَدَّثَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيِّ بْنِ قُتَيْبَةَ، وَغَيْرُهُمْ عَنْ يَحْيَى بْنِ زُرَارَةَ،» قَدْ اتَّفَقَ الشَّيْخَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَلَى سَعِيدٍ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا فَرَعَ وَلَا عَتِيرَةَ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7586 - صحيح على شرط البخاري ومسلم

حارث بن عمرو سہمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے لیے مغفرت کی دعا فرمائیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے مغفرت کی دعا فرمادی ۔ میں نے ایک یا دو مرتبہ مزید حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی دعا کروائی اسی اثناء میں ایک شخص بولا کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عتیرہ اور فرع کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو چاہے عتیرہ ذبح کر لے اور جو چاہے نہ کرے جو چاہے فرع ذبح کر لے اور جو چاہے نہ کرے اور بکری میں تمہاری قربانی ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ حارث بن عمرو سہمی رضی اللہ عنہ مشہور صحابی ہیں ان کی اولاد یں بصرہ میں مشہور ہیں اور عبداللہ بن مہدی بن قتیبہ عمرو سہمی رضی اللہ عنہ مشہور صحابی ہیں ان کی اولادیں بصرہ میں مشہور ہیں اور عبدالرحمن بن مہدی بن قتیبہ اور دیگر محدثین نے یحییٰ بن زرارہ سے حدیث روایت کی ہے جبکہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے سعید زہری کے واسطے سے حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ کے حوالے سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہ کوئی فرع ہے اور نہ کوئی عتیرہ ( اس حکم سے فرع اور عتیرہ کے احکام منسوخ ہو گئے )۔

«غَفَرَ اللَّهُ لَكُمْ» قُلْتُ لَهُ ذَلِكَ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ فَقَالَ رَجُلٌ: ← رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ فَقُلْتُ: اسْتَغْفِرْ لِي. ← جَدِّهِ الْحَارِثِ بْنِ عَمْرٍو السَّهْمِيِّ، ← أَبِي ← يَحْيَى بْنُ زُرَارَةَ بْنِ كَرِيمٍ السَّهْمِيُّ، ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَضْلِ الْبَجَلِيُّ، وَإِسْحَاقُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْحَرْبِيُّ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Offering Book › The merits of all Arabs · Hadith 7586

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الذَّبَائِحِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7587

7587 - أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أَنْبَأَ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْغُلَامُ مُرْتَهَنٌ بِعَقِيقَتِهِ تُذْبَحُ عَنْهُ يَوْمَ سَابِعِهِ وَيُحْلَقُ رَأْسُهُ وَيُسَمَّى يَوْمَ السَّابِعِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7587 - صحيح

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بچے کا عقیقہ لازمی کرو اس کی جانب سے ساتویں دن جانور ذبح کیا جائے ( یعنی عقیقہ کیا جائے ) اس کا سر مونڈا جائے اور ساتویں دن ہی اس کا نام رکھا جائے ۔

سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أَنْبَأَ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← الْحُسَيْنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Offering Book › The merits of all Arabs · Hadith 7587

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الذَّبَائِحِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7592

7592 - أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْفَضْلِ، ثَنَا جَدِّي، ثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ الْحِزَامِيُّ، ثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْعَقِيقَةِ فَقَالَ: «لَا أُحِبُّ الْعُقُوقَ مَنْ وُلِدَ لَهُ مِنْكُمْ مَوْلُودٌ فَأُحِبُّ أَنْ يُنْسِكَ عَنْهُ فَلْيَفْعَلْ عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7592 - صحيح

حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیقہ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نا پسند نہیں کرتا جس کے ہاں بچہ پیدا ہو مجھے یہ پسند ہے کہ اس کی جانب سے جانور ذبح کیا جائے لڑکے کی طرف سے دو بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔

الْعَقِيقَةِ. ← سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ الْحِزَامِيُّ، ← جَدِّي، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْفَضْلِ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Offering Book › The merits of all Arabs · Hadith 7592

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الذَّبَائِحِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7593

7593 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُخْتَارِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ مَعَ الْغُلَامِ عَقِيقَةً فَأَهْرِيقُوا عَنْهُ دَمًا وَأَمِيطُوا عَنْهُ الْأَذَى» قَالَ جَرِيرٌ: سُئِلَ الْحَسَنُ، عَنِ الْأَذَى؟ فَقَالَ: «هُوَ الشَّعْرُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7593 - صحيح

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا لڑکے کا عقیقہ کیا جائے اسکی جانب سے جانور ذبح کیا جائے اور اس سے اذی صاف کر دی جائے حضرت جریر فرماتے ہیں حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے اذی کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا اس سے مراد سر کے بال ہیں ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیاد کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔

الْأَذَى؟ ← جَرِيرٌ: سُئِلَ الْحَسَنُ ← إِنَّ مع الغلام عقيقة فأهريقوا عنه دما وأميطوا عنه الأذى. ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُخْتَارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Offering Book › The merits of all Arabs · Hadith 7593

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الذَّبَائِحِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7600

7600 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ، ثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ مُرِّيِّ بْنِ قَطَرِيٍّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نَصِيدُ الصَّيْدَ فَلَا نَجِدُ سِكِّينًا إِلَّا الظِّرَارَ وَشِقَّةَ الْعَصَا فَقَالَ: «أَمِرَّ الدَّمَ بِمَا شِئْتَ وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ «آخِرُ كِتَابِ الذَّبَائِحِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7600 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت عدی بن حاتم (رر ) فرماتے ہیں میں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم شکار کرتے ہیں ( کئی مرتبہ ) ہمارے پاس چھری نہیں ہوتی صرف دھاری دار پتھر یا بانس کا چھلکا ہوتا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس چیز کے ساتھ بھی ہو خؤن بہانا ضروری ہے اور اللہ کا نام لینا ضروری ہے ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیاد کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔

قُلْتُ ← عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ← مُرِّيَّ بْنَ قَطَرِيٍّ ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Offering Book › The merits of all Arabs · Hadith 7600

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2481

2481 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَنْبَأَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ سَفَرًا فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَوْصِنِي. قَالَ: «أُوصِيكَ بِتَقْوَى اللَّهِ وَالتَّكْبِيرِ عَلَى كُلِّ شَرَفٍ» فَلَمَّا مَضَى قَالَ: «اللَّهُمَّ ازْوِ لَهُ الْأَرْضَ وَهَوِّنْ عَلَيْهِ السَّفَرَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2481 - على شرط مسلم

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا جو کہیں سفر کا ارادہ رکھتا تھا وہ کہنے لگا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی نصیحت فرمائیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تجھے اللہ تعالیٰ سے ڈرنے اور ہر بلندی پر چڑھتے ہوئے اللہ اکبر کہنے کی نصیحت کرتا ہوں جب وہ شخص چلا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں دعا مانگی " اے اللہ اس کے لیے زمین کو لپیٹ دے اور اس پر سفر آسان فرما " یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔

جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ يُرِيدُ سَفَرًا، فَقَالَ: ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَنْبَأَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، ← سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Jihad › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2481

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ وَهُوَ آخِرُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2656

2656 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، ثنا أَبُو أُمَيَّةَ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الطَّرَسُوسِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ بْنِ الْقَاسِمِ الْيَمَامِيُّ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ الْعِجْلِيُّ، ثنا أَبُو زُمَيْلٍ سِمَاكٌ الْحَنَفِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: لَمَّا خَرَجَتِ الْحَرُورِيَّةُ اجْتَمَعُوا فِي دَارٍ، وَهُمْ سِتَّةُ آلَافٍ، أَتَيْتُ عَلِيًّا، فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَبْرِدْ بِالظُّهْرِ لَعَلِّي آتِي هَؤُلَاءِ الْقَوْمَ فَأُكَلِّمُهُمْ. قَالَ: إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكَ. قُلْتُ: كَلَّا. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَخَرَجْتُ إِلَيْهِمْ وَلَبِسْتُ أَحْسَنَ مَا يَكُونُ مِنْ حُلَلِ الْيَمَنِ، قَالَ أَبُو زُمَيْلٍ كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ جَمِيلًا جَهِيرًا. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَأَتَيْتُهُمْ، وَهُمْ مُجْتَمِعُونَ فِي دَارِهِمْ، قَائِلُونَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِمْ فَقَالُوا: مَرْحَبًا بِكَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ فَمَا هَذِهِ الْحُلَّةُ؟ قَالَ: قُلْتُ: مَا تَعِيبُونَ عَلَيَّ، لَقَدْ رَأَيْتُ عَلَىَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ مَا يَكُونُ مِنَ الْحُلَلِ، وَنَزَلَتْ: {قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللَّهِ الَّتِي أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ وَالطَّيِّبَاتِ مِنَ الرِّزْقِ} [الأعراف: 32] قَالُوا: فَمَا جَاءَ بِكَ؟ قُلْتُ: أَتَيْتُكُمْ مِنْ عِنْدِ صَحَابَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ، لِأُبَلِّغُكُمْ مَا يَقُولُونَ الْمُخْبَرُونَ بِمَا يَقُولُونَ فَعَلَيْهِمْ نَزَلَ الْقُرْآنُ، وَهُمْ أَعْلَمُ بِالْوَحْيِ مِنْكُمْ، وَفِيهِمْ أُنْزِلَ: وَلَيْسَ فِيكُمْ مِنْهُمْ أَحَدٌ. فَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَا تُخَاصِمُوا قُرَيْشًا، فَإِنَّ اللَّهَ يَقُولُ: {بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ} [الزخرف: 58] قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَأَتَيْتُ قَوْمًا لَمْ أَرْ قَوْمًا قَطُّ أَشَدَّ اجْتِهَادًا مِنْهُمْ مُسْهِمَةٌ وجُوهُهُمْ مِنَ السَّهَرِ، كَأَنَّ أَيْدِيَهِمْ وَرُكَبَهُمْ تُثَنَّى عَلَيْهِمْ، فَمَضَى مَنْ حَضَرَ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَنُكَلِّمَنَّهُ وَلَنَنْظُرَنَّ مَا يَقُولُ. قُلْتُ: أَخْبِرُونِي مَاذَا نَقَمْتُمْ عَلَى ابْنِ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَصِهْرِهِ وَالْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ؟ قَالُوا: ثَلَاثًا. قُلْتُ: مَا هُنَّ؟ قَالُوا: أَمَّا إِحْدَاهُنَّ فَإِنَّهُ حَكَّمَ الرِّجَالَ فِي أَمْرِ اللَّهِ، وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى: {إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ} [الأنعام: 57] وَمَا لِلرِّجَالِ وَمَا لِلْحَكَمِ؟ فَقُلْتُ: هَذِهِ وَاحِدَةٌ. قَالُوا: وَأَمَّا الْأُخْرَى فَإِنَّهُ قَاتَلَ، وَلَمْ يَسْبِ وَلَمْ يَغْنَمْ، فَلَئِنْ كَانَ الَّذِي قَاتَلَ كُفَّارًا لَقَدْ حَلَّ سَبْيُهُمْ وَغَنِيمَتُهُمْ، وَلَئِنْ كَانُوا مُؤْمِنِينَ مَا حَلَّ قِتَالُهُمْ. قُلْتُ: هَذِهِ اثْنَتَانِ، فَمَا الثَّالِثَةُ؟ قَالَ: إِنَّهُ مَحَا نَفْسَهُ مِنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ فَهُوَ أَمِيرُ الْكَافِرِينَ. قُلْتُ: أَعِنْدَكُمْ سِوَى هَذَا؟ قَالُوا: حَسْبُنَا هَذَا. فَقُلْتُ لَهُمْ: أَرَأَيْتُمْ إِنْ قَرَأْتُ عَلَيْكُمْ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ وَمِنْ سُنَّةِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يُرَدُّ بِهِ قَوْلُكُمْ أَتَرْضَوْنَ؟ قَالُوا: نَعَمْ. فَقُلْتُ: أَمَّا قَوْلُكُمْ: حَكَّمَ الرِّجَالَ فِي أَمْرِ اللَّهِ فَأَنَا أَقْرَأُ عَلَيْكُمْ مَا قَدْ رَدَّ حُكْمَهُ إِلَى الرِّجَالِ فِي ثَمَنِ رُبْعِ دِرْهَمٍ فِي أَرْنَبٍ، وَنَحْوِهَا مِنَ الصَّيْدِ، فَقَالَ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ} [المائدة: 95] إِلَى قَوْلِهِ {يَحْكُمُ بِهِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْكُمْ} [المائدة: 95] فَنَشَدْتُكُمُ اللَّهَ أَحُكْمُ الرِّجَالِ فِي أَرْنَبٍ وَنَحْوِهَا مِنَ الصَّيْدِ أَفْضَلُ، أَمْ حُكْمُهُمْ فِي دِمَائِهِمْ وَصَلَاحِ ذَاتِ بَيْنِهِمْ؟، وَأَنْ تَعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ لَوْ شَاءَ لَحَكَمَ وَلَمْ يُصَيِّرْ ذَلِكَ إِلَى الرِّجَالِ، وَفِي الْمَرْأَةِ وَزَوْجِهَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا إِنْ يُرِيدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقِ اللَّهُ بَيْنَهُمَا} [النساء: 35] فَجَعَلَ اللَّهُ حُكْمَ الرِّجَالِ سُنَّةً مَأْمُونَةً، أَخَرَجْتُ عَنْ هَذِهِ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: وَأَمَّا قَوْلُكُمْ: قَاتَلَ وَلَمْ يَسْبِ وَلَمْ يَغْنَمْ، أَتَسْبُونَ أُمَّكُمْ عَائِشَةَ ثُمَّ يَسْتَحِلُّونَ مِنْهَا مَا يُسْتَحَلُّ مِنْ غَيْرِهَا؟ فَلَئِنْ فَعَلْتُمْ لَقَدْ كَفَرْتُمْ وَهِيَ أُمُّكُمْ، وَلَئِنْ قُلْتُمْ: لَيْسَتْ أَمَّنَا لَقَدْ كَفَرْتُمْ فَإِنَّ اللَّهَ يَقُولُ: {النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ} [الأحزاب: 6] فَأَنْتُمْ تَدْورُونَ بَيْنَ ضَلَالَتَيْنِ أَيُّهُمَا صِرْتُمْ إِلَيْهَا، صِرْتُمْ إِلَى ضَلَالَةٍ فَنَظَرَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، قُلْتُ: أَخَرَجْتُ مِنْ هَذِهِ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: وَأَمَّا قَوْلُكُمْ مَحَا اسْمَهُ مِنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ، فَأَنَا آتِيكُمْ بِمَنْ تَرْضَوْنَ، وَأُرِيكُمْ قَدْ سَمِعْتُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ كَاتَبَ سُهَيْلَ بْنَ عَمْرٍو وَأَبَا سُفْيَانَ بْنَ حَرْبٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ: " اكْتُبْ يَا عَلِيُّ: هَذَا مَا اصْطَلَحَ عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ " فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ: لَا وَاللَّهِ مَا نَعْلَمُ إِنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ لَوْ نَعْلَمُ إِنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ مَا قَاتَلْنَاكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، اكْتُبْ يَا عَلِيُّ: هَذَا مَا اصْطَلَحَ عَلَيْهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ " فَوَاللَّهِ لَرَسُولُ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ عَلِيٍّ، وَمَا أَخْرَجَهُ مِنَ النُّبُوَّةِ حِينَ مَحَا نَفْسَهُ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ: فَرَجَعَ مِنَ الْقَوْمِ أَلْفَانِ، وَقُتِلَ سَائِرُهُمْ عَلَى ضَلَالَةٍ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2656 - على شرط مسلم

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: جب خوارج نے بغاوت کی تو وہ ایک حویلی میں جمع ہوئے ، اس وقت ان کی تعداد چھ ہزار تھی ۔ میں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس آیا اور کہا: : اے امیر المومنین رضی اللہ تعالی عنہ آج ظہر کی نماز ذرا تا خیر سے پڑھائیے گا۔ میں ارادہ رکھتا ہوں کہ ان لوگوں کے پاس آکر ان سے مذاکرات کروں ۔آپ نے فرمایا: : مجھے تیرے بارے میں خدشہ ہے۔ (کہ یہ لوگ تجھے کوئی نقصان نہ پہنچا دیں)میں نے کہا:: ایسا نہیں ہوگا (ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: ) میں بہت ہی قیمتی یمنی جبہ زیب تن کرکے ان کی طرف روانہ ہوا ۔ ابو زمیل فرماتے ہیں: : ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ بہت خوبصورت نوجوان تھے ۔ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: میں ان کے پاس آیا اس وقت وہ اس حویلی میں موجود باتیں کر رہے۔ تھے ۔ میں نے ان کو سلام کیا انہوں نے جواباً مجھے خوش آمدید کہا: ۔ یہ کیسا جبہ ہے۔ ؟ میں نے کہا: تم اس کی وجہ سے مجھ پر کیوں عیب لگا رہے۔ ہو ؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے بھی زیادہ قیمتی جبہ پہنے دیکھا ہے۔ اور قرآن کریم کی اس آیت میں اس کی اجازت بھی موجود ہے۔ : ﴿قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللَّهِ الَّتِي أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ وَالطَّيِّبَاتِ مِنَ الرِّزْقِ ﴾ [الأعراف: 32] ’’تم فرماؤ کس نے حرام کیا اللہ کی وہ زینت جو اس نے اپنے بندوں کے لئے نکالی اور پاک رزق ‘‘ (ترجمہ کنزالایما ن ، امام احمد رضا ) ۔ وہ کہنے لگے تم کہنے کیا آئے ہو ؟ میں نے کہا: : میں تمہارے پاس مہاجرین اور انصار صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ کی پاس سے آیا ہوں تا کہ تمہارے پاس ان کی جانب سے جو خبر یں پہنچ رہی ہیں ، ان کی حقیقت ہے۔ حال تم تک پہنچاؤں ۔ان لوگوں کی موجودگی میں قرآن نازل ہوا ہے۔ اور وہ لوگوں وحی کو تم سے بہتر جانتے ہیں اور ان کے متعلق ہیں یہ حکم نازل ہوا ہے۔ اور تم میں ان میں سے کوئی نہیں ہے۔ ۔تو ایک شخص بولا : تم قریش سے بلاوجہ مت جھگڑو ۔کیونکہ قرآن کہتا ہے۔ : ﴿ بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ﴾ [الزخرف: 58] ’’ بلکہ وہ ہیں ہی جھگڑالو لوگ ‘‘ ۔ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: :میں ایسی قوم کے پاس آیا ہوں کہ ان سے بڑھ کر اجتہاد کی صلاحیت رکھنے والا میں نے کسی قوم کو نہیں پایا ۔شب بیداریوں کی وجہ سے ان کی چہرہ کی رنگت بدلی ہوئی تھی ۔یوں لگتا تھا کہ ان کے ہاتھ اور پاؤں ان کی تعریف کر رہے۔ ہیں ،ان میں سے بعض نے کہا: :ہمیں اس کے ساتھ گفت و شنید ضرور کرنی چاہیے تاکہ اس کے نظریات ہم پر آشکار ہو ں، لیکن میں نے کہا: : تم مجھے یہ بات بتاؤ کہ تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا زاد بھائی ، ان کے داماد اور مہاجرین و انصار پر کیا اعتراض ہے۔ ؟ انہوں نے کہا: : (ہمیں ان پر ) تین اعتراض ہیں۔ میں نے پوچھا : وہ کیا ؟ انہوں نے کہا: : پہلا تو یہ ہے۔ کہ انہوں نے اللہ تعالی کی بادشاہی میں بندوں کو حاکم بنا دیا ہے۔ جب کہ اللہ تعالی نے فرمایا: : ﴿ إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ ﴾ [يوسف: 40] ’’حکم نہیں مگر اللہ کا ‘‘ ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا ) بندوں کا امر سے کیا تعلق ؟ میں نے کہا: یہ تو ایک ہوا ۔انھوں نے کہا: دوسرا یہ ہے۔ کہ انہوں نے جنگ کی ہے۔ لیکن نہ تو کسی کو قیدی بنایا اور نہ مال غنیمت حاصل کیا ۔ یہ جن سے لڑ رہے۔ ہیں اگر وہ کافر ہیں تو ان کو قیدی بنانا اور ان کا مال غنیمت لینا جائز ہوتا اور اگر وہ مومن ہیں تو ان سے جہاد جائز نہیں ۔میں نے کہا: : دو ہوگئے ۔تیسرا اعتراض کیا ہے۔ ؟ انہوں نے کہا:: (تیسری بات یہ ہے۔ کہ ) انہوں نے اپنے نام سے لفظ ’’ امیرالمومنین ‘‘ ہٹا دیا ہے۔ ، اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ یہ ’’امیر الکافرین ‘‘ ہوئے ۔میں نے کہا: : اس کے علاوہ آپ لوگوں کے کوئی تحفظات ہو تو وہ بھی بتا دو ۔ انہوں نے کہا: ہمارے اعتراضات یہی تھے ۔میں نے ان سے کہا: اگر میں قرآن پاک کی وہ آیات اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ حدیث سنا دو ں جس سے تمہارے موقف کی تردید ہوتی ہے۔ تو کیا مان لو گے ؟ انہوں نے کہا: : جی ہاں ۔ میں نے کہا: جو تم نے یہ اعتراض کیا ہے۔ کہ بندوں کو حاکم بنا دیا ہے۔ اس سلسلے میں میں تمہیں ایک آیت سناتا ہوں جس میں خرگوش وغیرہ کے شکار کے متعلق ربع درہم کے آٹھ ویں حصے میں بندوں کو حاکم بنایا گیا ہے۔ ۔ وہ آیت یہ ہے۔ ’’ یا ایھا الزین امنو ا لا تقتلو ا الصید و انتم حرم الی قولہ یحکم بہ ذوا عدل منکم‘‘ ۔اے ایمان والو شکار نہ مارو جب تم احرام میں ہو اور تم میں سے جو اسے قصداً قتل کرے تو اس کا بدلہ یہ ہے۔ کہ ویسا ہی جانور مویشی سے دے تم میں کے دو ثقہ آدمی اس کا حکم کریں ۔(ترجمہ کنزالایمان امام احمد رضا ) میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ بندوں کا خرگوش وغیرہ کے شکار کے متعلق حاکم بننا افضل ہے۔ یا ان کے خونوں اور ان کے درمیان اصلاح کا حاکم بنا زیادہ افضل ہے۔ ؟ اور تم یہ بھی جانتے ہو کہ اگر اللہ تعالی چاہتا تو ان میں خود ہی فیصلہ کر دیتا اور ان کو دوسروں کے سپرد نہ کرتا ۔ نیز اللہ تعالی نے مرد اور عورت کے متعلق فرمایا: : ﴿وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا إِنْ يُرِيدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقِ اللَّهُ بَيْنَهُمَا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيرًا﴾ [النساء: 35]اور اگر تم کو میاں بیوی کے جھگڑے کا خوف ہو تو ایک پہنچ مرد والوں کی طرف سے سے اور 15 عورت والوں کی طرف سے یہ دونوں صلح کرانا اگر چاہے۔ اللہ تعالی ان میں رجحان پیدا کر دے گا ترجمہ کنزالایمان امام احمد رضا رضا تو اللہ تعالی کے بندوں کو حکم بنانا سنت ہے۔ مامون قرار دیا ہے۔ جو ان کو اس مشکل سے نکال سکتا ہے۔ انہوں نے کہا: کیا ہے۔ کہ یہ جنگ کر رہے۔ ہیں لیکن نہ کہہ دیں بنا رہے۔ ہیں نہ مال غنیمت کیا تم اپنی اماں عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ کو قیدی بنایا گے اور پھر ان کے ساتھ وہ سلوک کروگے آگے جو ایک قیدی خاتون کے ساتھ کرنا جائز ہے۔ اگر تم ایسا کرو گے تو تم کافر ہو جاؤ گے کیونکہ وہ تمہاری ماں ہے۔ اور ان کے ایمان کا انکار کرو تو بھی تمہیں کافر ہوگئے کیونکہ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: ہے۔ یہ نبی مسلمانوں کا ان کی جان سے زیادہ مالک ہے۔ اور اس کی بیویاں ان کی ماں ہے۔ ہے۔ ترجمہ کنجری امام احمد رضا تو تم لوگ دو گمراہیوں کے درمیان گھوم رہے۔ ہو ان میں سے کسی کی طرف بھی جاؤں بہرحال گمراہی ہیں تمہارا مقدر ہے۔ ہے۔ میری یہ دلیل سن کر انہوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا میں نے کہا: میں نے تمہارے دوسرے اعتراض کا بھی جواب دے دیا انہوں نے کہا: جی ہاں میں نے کہا: اور تمہارا یہ اعتراض تھا کہ انہوں نے اپنے نام سے امیر المومنین کا نام ہٹا دیا ہے۔ تو میں تمہیں ایسی شخصیت کی بات بتاتا ہوں سب لوگ راضی ہو اور میرا خیال ہے۔ کہ تم لوگوں نے سن رکھا ہوگا کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سہیل بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہ اور ابو سفیان بن حرب اللہ تعالی عنہ کی طرف جو محبوب لکھا تھا ہم نے امیرالمومنین سے فرمایا: تھا اے علی لکھو یہ وہ معاہدہ ہے۔ جس پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صلح کی ہے۔ ہے۔ اس پر مشرکین نے اعتراض کیا کہ نہیں خدا کی قسم ہم آپ کو رسول اللہ نہیں مانتے اگر ہم آپ کو رسول اللہ مانتے ہوتے تو تمہارے ساتھ جنگ کیوں کرتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم بولے اے اللہ تو جانتا ہے۔ کہ میں رسول اللہ تعالی اس کی عبارت یوں کر دو یہ وہ معاہدہ ہے۔ جس پر پر محمد بن عبداللہ نے صلح کی کی تو خدا کی قسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علی سے کہیں افضل ہے۔ لیکن جب آپ نے اپنے نام سے رسول اللہ مٹا دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت ختم نہیں ہوئی وی عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: میری یہ گفتگو سن کر دو ہزار آدمیوں نے ان کی جماعت سے رجوع کرلیا اور باقی سب گمراہی پر قتل ہوئے ہوئے یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبُو زُمَيْلٍ سِمَاكٌ الْحَنَفِيُّ، ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ الْعِجْلِيُّ ← عمر بن يونس بن القاسم اليمامي ← أَبُو أُمَيَّةَ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الطَّرَسُوسِيُّ ← أبو العباس محمد بن يعقوب من أصل كتابه،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Fighting the People of the Badghi, which is the last of jihad › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2656

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْعِلْمِ ‹ باب · حديث 353

353 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَيَّارٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، مِثْلَهُ. «هَذَا حَدِيثٌ مُسْنَدٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِهِمَا، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» إِنَّمَا أَخْرَجَا فِي هَذَا النَّوْعِ حَدِيثَ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ «وَإِنَّمَا هُمَا اثْنَتَانِ الْهَدْيُ وَالْكَلَامُ، فَأَفْضَلُ الْكَلَامِ كَلَامُ اللَّهِ، وَأَحْسَنُ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» الْحَدِيثَ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 352 - على شرطهما

حضرت اعمش ؓکی سند سے بھی یہ روایت منقول ہے۔ یہ حدیث مسند ہے "صحیح " ہے، امام بخاری ؒ اور امام مسلم ؒ دونوں کے معیار پر ہے لیکن دونوں میں سے کسی نے بھی اسے روایت نہیں کیا۔ تاہم اس موضوع پر ابواسحاق کی وہ روایت نقل کی ہے، جس کی سند "ابوالاحوص‘‘ کے ذریعے "عبدالله" تک پہنچتی ہے (حدیث یہ ہے ) چیز یں دو ہی ہیں، ہدایت اور کلام۔ سب سے اچھا کلام "اللہ کا کلام "ہے اور سب سے اچھی ہدایت رسول اللہ ﷺکی ہدایت ہے(اس کے بعد پوری حدیث ذکر کی ہے)

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Science Book › Door · Hadith 353

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّهَارَةِ ‹ باب · حديث 457

457 - وَحدثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا أَبُو الْمُثَنَّى الْعَنْبَرِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو عَمْرٍو الضَّرِيرُ، ثنا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مِفْتَاحُ الصَّلَاةِ الْوُضُوءُ، وَتَحْرِيمُهَا التَّكْبِيرُ، وَتَحْلِيلُهَا التَّسْلِيمُ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَشَوَاهِدُهُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ كَثِيرَةٌ، فَقَدْ رَوَاهُ أَبُو حَنِيفَةَ وَحَمْزَةُ الزَّيَّاتُ، وَأَبُو مَالِكٍ النَّخَعِيُّ وَغَيْرَهُمْ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ وَأَشْهُرُ إِسْنَادٍ فِيهِ حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِيَّةِ، عَنْ عَلِيٍّ، وَالشَّيْخَانِ قَدْ أَعْرَضَا عَنْ حَدِيثِ ابْنِ عَقِيلٍ أَصْلًا» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 457 - على شرط مسلم

حضرت ابو سعید روایت کرتےہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : نماز کی کنجی وضو ہے، اس کی تحریم " تکبیر" ہے اور اس کی تحلیل " تسلیم " ہے ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ اور اس حدیث کے شواہد ابو سفیان کی ابو نصرہ کی سند کےہمراہ کثیر ہیں ۔ اس حدیث کو ابو حنیفہ ، حمزہ الزیات ، ابو مالک النخعی اور دیگر محدثین رحمۃ اللہ علیہم نے ابوسفیان کےحوالےسے نقل کیا ہے اور اس حدیث کی سب سے مشہور سند وہ ہے جو عبداللہ بن محمد بن عقیل ، پھر محمد بن حنفیہ سے ہوتی ہوئی حضرت علی رضی اللہ عنہ تک پہنچتی ہے ۔ جب کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے ابن عقیل کی روایات کو بالکل نقل نہیں کیا۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِي نَضْرَةَ ← سَعِيدُ بْنُ مَسْرُوقٍ الثَّوْرِيُّ، ← حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو عَمْرٍو الضَّرِيرُ، ← أَبُو الْمُثَنَّى الْعَنْبَرِيُّ ← وحدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالويه،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Purity › Door · Hadith 457

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّهَارَةِ ‹ باب · حديث 493

493 - حَدَّثَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، أَنْبَأَ عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ شَرِيكٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ بَكْرٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، حَدَّثَنِي الْجُلَاحُ أَبُو كَثِيرٍ، أَنَّ ابْنَ سَلَمَةَ الْمَخْزُومِيَّ، حَدَّثَهُ، أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ أَبِي بُرْدَةَ، أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَجَاءَهُ صَيَّادٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نَنْطَلِقُ فِي الْبَحْرِ نُرِيدُ الصَّيْدَ فَيَحْمِلُ مَعَهُ أَحَدُنَا الْإِدَاوَةَ وَهُوَ يَرْجُو أَنْ يَأْخُذَ الصَّيْدَ قَرِيبًا، فَرُبَّمَا وَجَدَهُ كَذَلِكَ، وَرُبَّمَا لَمْ يَجِدِ الصَّيْدَ حَتَّى يَبْلُغَ مِنَ الْبَحْرِ مَكَانًا لَمْ يَظُنَّ أَنْ يَبْلُغَهُ، فَلَعَلَّهُ يَحْتَلِمُ أَوْ يَتَوَضَّأُ، فَإِنِ اغْتَسَلَ أَوْ تَوَضَّأَ بِهَذَا الْمَاءِ فَلَعَلَّ أَحَدُنَا يُهْلِكُهُ الْعَطَشُ فَهَلْ تَرَى فِي مَاءِ الْبَحْرِ أَنْ نَغْتَسِلَ به أَوْ نَتَوَضَّأَ بِهِ إِذَا خِفْنَا ذَلِكَ، فَزُعِمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اغْتَسِلُوا مِنْهُ وَتَوَضَّئُوا بِهِ فَإِنَّهُ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحِلُّ مَيْتَتُهُ» . «وَقَدِ احْتَجَّ مُسْلِمٌ بِالْجُلَاحِ أَبِي كَثِيرٍ وَقَدْ تَابَعَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ وَيَزِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ سَعِيدَ بْنَ سَلَمَةَ الْمَخْزُومِيَّ عَلَى رِوَايَةِ هَذَا الْحَدِيثِ وَاخْتُلِفَ عَلَيْهِ فِيهِ» .

جلاح ابو کثیر کی سعید ابن سلمہ کی سند سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ایک دن ہم بارگاہ رسالت میں حاضر تھے تو ایک مچھیرا آپ ﷺ کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا : یارسول اللہ ﷺ ہم شکار کی غرض سے سمندروں کا سفر کرتےہیں ۔ اس لئے چھوٹے برتن میں پانی بھر کر ساتھ رکھ لیتے ہیں کیونکہ ہمیں امید ہوتی ہے کہ قریب ہی کہیں شکار مل جائے گا۔ کبھی ایسا ہو بھی جاتا ہے ( کہ قریب ہی شکار مل جاتا ہے) لیکن کئی مرتبہ شکار کی تلاش میں اتنی دور دور تک نکل جاتے ہیں کہ خود ہمارے وہم و گمان میں نہیں ہوتا کہ ہم ایسی جگہ پہنچ جائیں گے۔ اسی صورت میں کسی کو غسل یا وضو کی حاجت ہوتی ہے تو اگر ہم اس رکھے ہوئے پانی سے نہائیں یا وضو کریں تو یہ خدشہ ہوتا ہے کہ کوئی آدمی پیاس کی تاب نہ لا کر ہلاک ہوجائے ۔ حضور ﷺ! جب حالات اس قدر سخت ہوں تو کیا ہمیں سمندر کے پانی سے نہا نے یا وضو کرنے کی اجازت ہے؟ ( حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا خیال ہے کہ ) رسول اکرم ﷺ نے فرمایا سمندر کے پانی سے نہا بھی سکتے ہو اور وضو بھی کرسکتے ہو کیونکہ اس کا پانی پاک کنندہ ہے اور اس کا میتہ حلال ہے۔ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے الجلاح ابو کثیر کی روایات نقل کی ہیں ۔ اس حدیث کی روایت میں یحییٰ بن سعید الانصاری اور یزید بن محمد القرشی نے سیعد بن سلمہ المخزومی کی متابعت کی ہے لیکن لفظوں میں تھوڑی تبدیلی ہے۔( یحییٰ بن سعید کی روایت کردہ حدیث درج ذیل ہے۔)

كنا عند رسول الله يوما فجاءه صياد فقال ← أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَنَّهُ ← أَنَّ الْمُغِيرَةِ بْنَ أَبِي بُرْدَةَ، ← الْجُلَاحُ أَبُو كَثِيرٍ، أَنَّ ابْنَ سَلَمَةَ الْمَخْزُومِيَّ، ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← اللَّيْثُ ← يَحْيَى بْنُ بَكْرٍ، ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، أَنْبَأَ عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ شَرِيكٍ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Purity › Door · Hadith 493

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَدَبِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7700

7700 - كَمَا أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ، بِمَرْوَ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أَنْبَأَ شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عَلِيُّ، سَلِ اللَّهَ الْهُدَى وَالسَّدَادَ وَاذْكُرْ بِالْهُدَى هِدَايَتَكَ الطَّرِيقَ وَبِالسَّدَادِ تَسْدِيدَكَ السَّهْمَ» ، ثُمَّ أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَدَهُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ سَيِّدَ شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ بِمِثْلِ مَا أَمَرَ بِهِ أَبَاهُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا " حَدِيثُ يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ فِي دُعَاءِ الْقُنُوتِ الَّذِي عَلَّمَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ» أَشْهَرُ مِنْ أَنْ يُذْكَرَ إِسْنَادُهُ وَطُرُقُهُ، رَجَعْنَا إِلَى الْأَخْبَارِ الصَّحِيحَةِ فِي الْآدَابِ مِمَّا لَمْ يُخَرِّجْهَا الْإِمَامَانِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7700 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے علی ! اللہ تعالیٰ سے ہدایت اور سداد ( درستگی ) کا سوال کیا کرو اور ہدایت سے مراد سیدھا راستہ ہے اور سداد سے مراد تیروں کو درست کرنا ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے صاحبزادے حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہ جو کہ جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں ) کو بھی وہی حکم دیا جو ان کے والد محترم کو دیا تھا۔ یزید ابن ابی مریم کی ابولجوزاء کے واسطے سے حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت کردہ حدیث اس دعائے قنوت کے بارے میں ہے جو کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کو سکھائی تھی، وہ دعا ان الفاظ سے شروع ہوتی ہے " اللھم اھدنی فیمن ھدیت ، یہ حدیث اس قدر مشہور ہے کہ اس کی اسناد ذکر کرنے کی چنداں ضرورت نہیں ہے ۔ اور ہم آداب کے موضوع پر اب ان احادیث کی جانب لوٹتے ہیں جن کو امام بخار ی رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے نقل نہیں کیا۔

عَلِيٍّ، ← زِرٍّ ← عَاصِمٍ، ← النضر بن شميل أنبأ شعبة ← سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ، ← كَمَا

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Literature book › The merits of all Arabs · Hadith 7700

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الرِّقَاقِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7933

7933 - حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ الْعَنَزِيُّ، ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَنْبَأَ نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنِي عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَرَجَ إِلَى مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هُوَ بِمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عِنْدَ قَبْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْكِي، فَقَالَ: مَا يُبْكِيكَ يَا مُعَاذُ؟ قَالَ: يُبْكِينِي شَيْءٌ سَمِعْتُهُ مِنْ صَاحِبِ هَذَا الْقَبْرِ، قَالَ: وَمَا سَمِعْتُهُ؟ قَالَ: سَمِعْتَهُ يَقُولُ: «إِنَّ الْيَسِيرَ مِنَ الرِّيَاءِ شِرْكٌ، وَإِنَّ مَنْ عَادَى وَلِيَ اللَّهِ فَقَدْ بَارَزَ اللَّهَ تَعَالَى بِالْمُحَارَبَةِ، وَإِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْأَتْقِيَاءَ الْأَخْفِيَاءَ الَّذِينَ إِنْ غَابُوا لَمْ يُفْتَقَدُوا وَإِنْ حَضَرُوا لَمْ يُدْعَوْا وَلَمْ يُعْرَفُوا قُلُوبُهُمْ مَصَابِيحُ الْهُدَى يَخْرُجُونَ مِنْ كُلِّ غَبْرَاءَ مُظْلِمَةٍ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7933 - صحيح

حضرت زید بن اسلم اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ مسجد نبوی شریف کی جانب نکلے ، تو انہوں نے دیکھا کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مزار مبارک کے قریب بیٹھے رو رہے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ اے معاذ تم کیوں رو رہے ہو؟ حضرت معاذ نے کہا: مجھے ایک بات یاد آرہی ہے ، وہ میں نے اس صاحب مزار سے سنی تھی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا : وہ کون سی بات ہے؟ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تھوڑی سی ریاکاری بھی شرک ہے ۔ اور جس نے اللہ تعالیٰ کے کسی ولی کے ساتھ دشمنی کی ، اس نے اللہ کے ساتھ اعلان جنگ کر دیا ہے۔ اور بے شک اللہ تعالیٰ ان چھپے ہوئے متقی لوگوں کو پسند کرتا ہے جو کسی محفل سے غائب ہوں تو ان کی کمی کوئی محسوس نہیں کرتا، اور اگر کہیں موجود ہوں تو ان کو پہچانتے نہیں ہیں۔ ان کے دل ہدایت کے چراغ ہیں وہ غبار آلود اندھیرے والے مقامات پر ملتے ہیں ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔

أَبِيهِ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← عِیْسَی بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَنْبَأَ نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ الْعَنَزِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Slave Book › The merits of all Arabs · Hadith 7933

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ · حديث 3071

3071 - أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الشَّيْبَانِيُّ بِالْكُوفَةِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ الْغِفَارِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، ثنا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: أَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: أَبْدَأُ بِالصَّفَا قَبْلَ الْمَرْوَةِ، أَوْ أَبْدَأُ بِالْمَرْوَةِ قَبْلَ الصَّفَا، وَأُصَلِّي قَبْلَ أَنْ أَطُوفَ، أَوْ أَطُوفُ قَبْلَ أَنْ أُصَلِّيَ، وَأَحْلِقُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ، أَوْ أَذْبَحُ قَبْلَ أَنْ أَحْلِقَ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «خُذْ ذَاكَ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ فَإِنَّهُ أَجْدَرُ أَنْ يُحْفَظَ» ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ} [البقرة: 158] «فَالصَّفَا قَبْلَ الْمَرْوَةِ» ، وَقَالَ: {لَا تَحْلِقُوا رُءُوسَكُمْ حَتَّى يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ} «فَالذَّبْحُ قَبْلَ الْحَلْقِ» وَقَالَ: {طَهِّرَا بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْعَاكِفِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ} [البقرة: 125] : «فَالطَّوَافُ قَبْلَ الصَّلَاةِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3071 - صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ان کے پاس ایک آدمی آیا اور پوچھنے لگا : میں سعی کا آغاز صفا سے کروں یا مروہ سے ؟ اور پہلے نماز پڑھوں یا نماز سے پہلے طواف کروں ؟ اور پہلے حلق کراؤں یا پہلے قربانی کروں ؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ان تمام مسائل کا حل قرآن پاک سے حاصل کرو کیونکہ بہتر یہی ہے کہ اسی کو محفوظ کیا جائے ۔ اللہ تعالی نے فرمایا :﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ ﴾ [البقرة: 158]" بیشک صفااور مروہ اللہ کے نشانوں میں سے ہیں '۔ ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ )معلوم ہوا کہ صفا ، مروہ سے پہلے ہے ۔ اور اللہ تعالی نے فرمایا : ﴿ وَلَا تَحْلِقُوا رُءُوسَكُمْ حَتَّى يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ﴾ [البقرة: 196]" اور اپنے سرنہ منڈواؤ جب تک قربانی اپنے ٹھکانے نہ پہنچ جائے ۔ ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) معلوم ہوا کہ ذبح ، حلق سے پہلے ہے ۔ اور اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا : ﴿طَهِّرَا بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْعَاكِفِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ١٢٥﴾ [البقرة: 125]" کہ میرا گھر خوب ستھرا کرو طواف کرنے والوں اور اعتکاف والوں اور رکوع سجود والوں کے لئے " ۔ ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) معلوم ہوا کہ طواف ، نماز سے پہلے ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا ۔

أتاه رجل ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ الْغِفَارِيُّ ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الشَّيْبَانِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › From Surat Al-Baqarah · Hadith 3071

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ · حديث 3074

3074 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، ثنا طَلْحَةُ بْنُ عَمْرِو، أَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ: «لَوْلَا آيَةٌ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ مَا أَخْبَرْتُ أَحَدًا شَيْئًا» . قِيلَ: وَمَا هِيَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ؟ قَالَ: " آيَةُ {إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى مِنْ بَعْدِ مَا بَيَّنَّاهُ لِلنَّاسِ فِي الْكِتَابِ، أُولَئِكَ يَلْعَنُهُمُ اللَّهُ، وَيَلْعَنُهُمُ اللَّاعِنُونَ، إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا وَأَصْلَحُوا وَبَيَّنُوا} [البقرة: 160] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3074 - صحيح

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اگر ایک آیت نہ ہوتی تو میں کسی کو کچھ نہ بتاتا ۔ آپ سے پوچھا گیا : اے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ وہ کون سی آیت ہے ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہ آیت ہے :﴿إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى مِنْ بَعْدِ مَا بَيَّنَّاهُ لِلنَّاسِ فِي الْكِتَابِ أُولَئِكَ يَلْعَنُهُمُ اللَّهُ وَيَلْعَنُهُمُ اللَّاعِنُونَ١٥٩ إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا وَأَصْلَحُوا وَبَيَّنُوا ﴾ [البقرة: 159-160]" بیشک وہ جو ہماری اتاری ہوئی روشن باتوں اور ہدایت کو چھپاتے ہیں بعد اس کے کہ لوگوں کے لئے ہم اسے کتاب میں واضح فرما چکے ان پر اللہ کی لعنت ہے اور لعنت کرنے والوں کی لعنے مگر وہ جو توبہ کریں اور سنواریں اور ظاہر کریں " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا ۔

أَحَدًا شَيْئًا» قِيلَ: وَمَا هِيَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ؟ ← «لَوْلَا آيَةٌ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ مَا ← أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← طَلْحَةَ بْنِ عَمْرٍو، ← أَبُو أُسَامَةَ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › From Surat Al-Baqarah · Hadith 3074

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ وَمِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ · حديث 3154

3154 - حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ، بِمَرْوَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُلَاعِبِ بْنِ حَيَّانَ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، قَالَا: ثنا إِسْرَائِيلُ، ثنا خَالِدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَرْعَرَةَ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ {أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا} [آل عمران: 96] أَهُوَ أَوَّلُ بَيْتٍ بُنِيَ فِي الْأَرْضِ؟ قَالَ: لَا، وَلَكِنَّهُ " أَوَّلُ بَيْتٍ وُضِعَ فِيهِ الْبَرَكَةُ وَالْهُدَى، وَمَقَامُ إِبْرَاهِيمَ، وَمَنْ دَخَلَهُ كَانَ آمَنَّا، وَلَإِنْ شِئْتَ أَنْبَأْتُكَ كَيْفَ بَنَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، إِنَّ اللَّهَ أَوْحَى إِلَى إِبْرَاهِيمَ أَنِ ابْنِ لِي بَيْتًا فِي الْأَرْضِ فَضَاقَ بِهِ ذَرْعًا، فَأَرْسَلَ اللَّهُ إِلَيْهِ السَّكِينَةَ، وَهِيَ رِيحٌ خَجُوجٌ، لَهَا رَأْسٌ، فَاتَّبَعَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ حَتَّى انْتَهَتْ، ثُمَّ تَطَوَّقَتْ إِلَى مَوْضِعِ الْبَيْتِ تَطَوُّقَ الْحَيَّةِ، فَبَنَى إِبْرَاهِيمُ فَكَانَ يَبْنِي هُوَ سَاقًا كُلَّ يَوْمٍ، حَتَّى إِذَا بَلَغَ مَكَانَ الْحَجَرِ، قَالَ لِابْنِهِ: أَبْغِنِي حَجَرًا فَالْتَمَسَ ثَمَّةَ حَجَرًا حَتَّى أَتَاهُ بِهِ، فَوَجَدَ الْحَجَرَ الْأَسْوَدَ قَدْ رُكِّبَ، فَقَالَ لَهُ ابْنُهُ: مِنْ أَيْنَ لَكَ هَذَا؟ قَالَ: جَاءَ بِهِ مَنْ لَمْ يَتَّكِلْ عَلَى بِنَائِكَ جَاءَ بِهِ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ مِنَ السَّمَاءِ فَأَتَمَّهُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3154 - على شرط مسلم

حضرت خالد بن عرعرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : کسی آدمی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : ﴿إ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا﴾ [آل عمران: 96]" بیشک سب میں پہلا گھر جو لوگوں کی عبادت کے لئے مقرر ہوا وہ ہے جو مکہ میں ہے برکت والا " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) (اس آیت میں جس گھر کا تذکرہ ہے ۔ کیا اس سے مراد ) وہ گھر ہے جو زمین میں سب سے پہلے تعمیر کیا گیا ؟ آپ نے فرمایا نہیں ۔ بلکہ وہ گھر جس میں سب سے زیادہ برکت اور ہدایت رکھی گئی ہے ، اس میں مقام ابراھیم ہے جو اس میں داخل ہو جاتا ہے ، وہ امن والا ہو جاتا ہے اور اگر تم چاہتے ہو تو میں تمہیں بتاتا ہوں کہ اللہ تعالی نے اس کو کیسے بنایا ، اللہ تعالی نے حضرت ابراھیم علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی کہ وہ زمین میں میرا ایک گھر بنائیں ۔ آپ کو اس کی پیمائش کا پتہ نہیں تھا ( اس پر آپ کچھ پریشان ہو گئے ) تو اللہ تعالی نے ان کی طرف سکینہ بھیجی اور یہ ایک تیز ہوا تھی جس کا ایک سرا تھا ، تو ان میں سے ایک اپنے ساتھ کے پیچھے چلا یہاں تک وہ ہوا رک گئی اور سانپ کی طرح سکڑ کر بیت اللہ کے مقام پر ٹھہر گئی ۔ پھر حضرت ابراھیم علیہ السلام نے اس کو بنانا شروع کیا جب تعمیر حجر اسود کے مقام تک پہنچی تو آپ نے اپنے بیٹے سے فرمایا : کوئی پتھر ڈھونڈ ھ کر لاؤ ، وہ ایک پتھر ڈھونڈ کر لے آئے جو کہ " حجر اسود " تھا ۔ آپ نے اپنے بیٹے سے پوچھا : تجھے یہ کہاں سے ملا ہے ؟ انہوں نے جواباً کہا: یہ پتھر وہ شخصیت لے کر آئی ہے جو آپ کی تعمیرکی محتاج نہیں ہے ،یہ حضرت جبرائیل لائے ہیں ۔ حضرت ابراھیم علیہ السلام نے اس ( بیت اللہ ) کی تعمیر کو مکمل کر دیا ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا ۔

سَأَلَ رَجُلٌ عَلِيًّا ← خَالِدِ بْنِ عَرْعَرَةَ ← خَالِدُ بْنُ حَرْبٍ، ← اِسْرَائِیْلُ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، ← أحمد بن ملاعب بن حيان ← بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › And from Surat Al-Amran · Hadith 3154

chevron_left Previous
1…343536…579
Next chevron_right