حضرت ابو میمون بن مہران رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جس سال اہل شام نے ابن الزبیر کا مکہ میں محاصرہ کیا ، میں اس سال عمرہ کے لئے نکلا اور میرے قبیلے کے بہت سارے لوگوں نے میرے ہمراہ قربانی کے جانور بھی بھیجے تھے ، جب ہم لوگ مکہ پہنچے تو اہل شام نے ہمیں حرم شریف میں داخل ہونے سے منع کر دیا۔ میں نے اسی جگہ پر جانور ذبح کر دیئے اور احرام کھول دیا اور لوٹ آ یا پھر اگلے سال میں عمرہ کی قضاء کر نے کے لئے نکلا تو ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے اس بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: ان قربانیوں کے بدلے قربانیاں دو کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو عمرہ قضاء میں دوبارہ قربانیاں کر نے کا حکم دیا تھا جنہوں نے حدیبیہ کے سال جانورذبح کئے تھے،عمرو بن میمون فرماتے ہیں: جن لوگوں نے حدیبیہ کے سال جانور ذبح کئے تھے،ان کو اس پرعمل کر نا بہت دشوار تھا۔ وہ فرماتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحا بہ رضی اللہ عنہ نے عمرہ قضاء میں ان قربانیوں کا بدل دیا تھایا نہیں؟ جوانہوں نے حدیبیہ کے سال ذبح کی تھیں یہاں تک کہ ابو حاضر نے ان کو یہ حدیث سنائی ۔یہ حد یث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا اورابو حاضر اہل یمن سے ہیں شیخ الحدیث ہیں ۔مقبول اور صدوق ہیں۔
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: جولوگ اللہ کا ذکر کر تے ہیں یعنی اس کہ بزرگی اور جلال کا اورتسبیح کر تے ہیں اور تکبیر کہتے ہیں اور تہلیل کہتے ہیں ،( ان کی یہ تسبیح وتمجید، تکبیرو تہلیل ) عرش کے گردگھومتی ہیں، ان کی گنگناہٹ شہد کی مکھی کی سی ہوتی ہے ، وہ اپنے پڑھنے والے سے کہتی ہیں: کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ اس کے لئے اللہ کی بارگاہ میں کوئی ایسی چیز ہوجس کے سبب اللہ اس کا ذکر کرے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:باقیات الصالحات زیادہ سے زیادہ جمع کر و۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ(باقيات الصالحات )کیا ہوتی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ملت ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: ملت کا کیا مطلب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تکبیر تہلیل تسبیح تحمیداور’’لا حول ولا قوة الا بالله‘‘ ۔ یہ مصریوں کی سب سے زیا دہ صحیح السند ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ نے اسے نقل کیا۔
أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الْهَيْثَمِ، ← أبي السمح ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيُّ، ← أبو عبد الله محمد بن أيوب البجلي ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْدَلاَنِيُّ ← أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of supplication, takbeer, exultation, praise and remembrance › Insurance section · Hadith 1889
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الدُّعَاءِ، وَالتَّكْبِيرِ، وَالتَّهْلِيلِ، وَالتَّسْبِيحِ وَالذِّكْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1910
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں میں یہ بھی تھی:رت أعتى، ولا تعن على، وانصرني ولا تنصر على، وامكر لي ولا تمكر على، واهدني ويسر الهدى لى، وانضرنى على من بغى علي، رب اجعلني لك شكارا لك، ذكارا لك، رهابا لك، مطواعا لك، مخبتا إليك، أواها منيا، تقبل توبتي، وأجب دعوتي، واهد قلبي، وثبت حجتي، وسدد لساني، واسلل سخيمةقلبی”اے میرے رب ! میرے ساتھ تعاون کر اور میرے خلاف کسی کی مدد نہ کر اور میرے لیے تد بیرکراور میرے خلاف کسی اور کے لئے تدبیر نہ کر اور مجھے ہدایت دے اور میرے لیے ہدایت آسان کر دے ۔اور اس شخص کے خلاف میری مد دکر جومیرے خلاف بغاوت کرے، اے میرے رب! مجھے اپناشکر گزار بند ہ بنا،اپنا ذاکر بنا، اپنے لیے الگ تھلک رہنے والا بنا، اپنا عبادت گذار بنا، اپنی بارگاہ میں عاجزی کر نے والا بنا ، آہ و زاری کرنے والا اور رجوع کرنے والا بنا ، میری تو بہ قبول فرما اور میری دعا کو قبول فرما ، میرے دل کو ہدایت عطا فرما اور میری حجت کو ثابت فرما ، میری زبان کومحفوظ رکھ ، میرے دل سے کینہ کوختم فرما۔یہ حد یث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو فرمایا :حسین رضی اللہ عنہ کے بالوں کا وزن کرکے اس کے برابر چاندہ صدقہ کر دو اور آیا ( دائی ) کو ( کم از کم ) عقیقہ کے جانور کا کھر دے دینا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام رحمۃاللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔
عَلِيٍّ، ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← حسين بن زيد العلوي، ← سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، ← يحيى بن محمد بن صاعد ← أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4828
محمد بن عمر کہتے ہیں : ام حبیبہ کا نام " رملہ بنت ابی سفیان بن حرب " ہے ۔ ان کی والدہ " صفیہ بنت ابی العاص بن امیہ بن عبد شمس " ہے ۔ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی پھوپھی ہیں ، پہلے حرب بن امیہ کے حلیف عبید اللہ بن حجش بن رباب کے نکاح میں تھیں ۔ ان کے بطن سے حبیبہ پیدا ہوئیں ، اسی کے نام سے ان کنیت " ام حبیبہ " ہوئی ۔ حبیبہ کے ساتھ داود بن عروہ بن مسعود ثقفی نے شادی کی تھی ۔ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے خواب میں دیکھا کہ میرا شوہر عبید الله بن جحش بہت ڈراونی شکل میں ہے، میں اس سے ڈر جاتی ہوں، میں نے کہا: اللہ کی قسم ! اس کا حال بدل گیا ہے۔ جب صبح ہوئی تو وہ کہنے لگا: اے ام حبیبہ میں نے دین کے بارے میں رات بہت غوروفکر کیا ہے، مجھے نصرانی دین سے بہتر کوئی دین نظر نہیں آرہا، میں پہلے بھی اسی دین پر تھا، پھر میں نے محمد کے دین کو اپنا لیا لیکن اب میں دوبارہ نصرانیت کی طرف لوٹ گیا ہوں، میں نے کہا: اللہ کی قسم اس میں تیرے لئے بہتری نہیں ہے، پھر میں نے اس کو وہ خواب سنایا جو میں نے گزشتہ رات دیکھا تھا لیکن اس نے اس پر کوئی توجہ نہ دی اور شراب نوشی میں مبتلا ہو گیا ، اور اسی عالم میں اس کو موت آگئی ۔ اس کے بعد ایک دفعہ میں نے خواب میں دیکھا کہ کوئی آنے والا آیا ہے اور مجھے " ام المومنین " کہہ کر پکارتا ہے، میں گھبرا جاتی ہوں، میں نے اس کی تعبیر یہ سوچی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مجھ سے نکاح کریں گے، آپ فرماتی ہیں: میری عدت گزرگئی نجاشی کا ایک قاصد میرے دروازے پر آیا اور اس نے اجازت مانگی ، نجاشی کی ایک ابرہ نامی لونڈی تھی وہ اس کے کپڑے وغیرہ دھویا کرتی تھی، اس کو تیل وغیرہ لگایا کرتی تھی، وہ میرے پاس آئی اور کہنے گی: بادشاہ سلامت کہہ رہے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مجھے خط لکھا ہے کہ میں ان کا نکاح تمہارے ساتھ کردوں ، میں نے کہا: اللہ تعالی تجھے اچھی خوشخبری دے۔ اس لونڈی نے کہا: بادشاہ سلامت کہہ رہے ہیں کہ تم اپنے نکاح کے لئے کسی کو اپناوکیل پنالو، میں نے خالد بن سعید کی جانب پیغام بھیجا اور اس کو اپنا وکیل بنالیا، میں نے ابرہ کو جو دعا دی تھی اس پر خوش ہو کر اس نے چاندی کے دو کنگن مجھے دیئے ، اور اپنے پاؤں میں پہنی ہوئی دو پازیبیں بھی اتار کر مجھے دے دیں اور چاندی کی انگوٹھیاں جو کہ اس نے اپنے پاؤں کی انگلیوں میں پہنی ہوئی تھیں وہ بھی مجھے دے دیں ۔ شام کا وقت ہوا تو نجاشی نے حضرت جعفر بن ابی طالب اور دیگر مسلمان جو وہاں موجود تھے، سب کو بلایا، جب یہ سب لوگ آ گئے تو نجاشی نے خطبہ دیتے ہوئے کہا : تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جو مالک ہے، قدوس ہے، سلام ہے، مومن ہے۔ مہیمن ہے،عزیز ہے، جبار ہے۔ اللہ تعالی کے لئے وہ تمام تعریفیں ہیں جن کا وہ حق رکھتا ہے، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالی کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے اور بے شک محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔ اور یہ وہی ہیں جن کی آمد کی گواہی حضرت عیسی علیہ السلام نے دی تھی۔ اما بعد بے شک رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مجھے خط لکھا ہے کہ میں ام حبیبہ بنت ابی سفیان کے ساتھ ان کا نکاح کر دوں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے حکم پر لبیک کہا ہے اور چار سودینار میں نے اس کا حق مہر رکھا ہے، یہ کہہ کر نجاشی نے لوگوں کے سامنے دینارڈھیر کر دیئے۔ اس کے بعد خالد بن سعید رضی اللہ عنہ بولے: میں حمد کرتا ہوں اللہ تعالی کی اور اسی سے مدد چاہتا ہوں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک اللہ تعالی کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے اور بے شک محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔ اس رسول کو اللہ تعالی نے ہدایت اور حق کے ساتھ بھیجا ہے، وہ اس کو تمام ادیان پر غالب کردے اگر چہ مشرکین کو اچھا نہ لگے۔ اما بعد میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے حکم پر لبیک کہا ہے، اور میں نے ام حبیبہ بنت ابی سفیان کا نکاح رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ کردیا ہے، اللہ تعالی اپنے رسول کو برکت عطا فرمائے۔ نجاشی نے وہ دینار خالد بن سعید کے حوالے کر دیئے،خالد نے وہ تمام دینار سمیٹ لئے ، پھر جب لوگ اٹھنے لگے تو نجاشی نے کہا: رک جاؤ، کیونکہ انبیاء کرام علیہ السلام کا طریقہ ہے کہ جب وہ شادی کرتے ہیں تو شادی کا کھانا کھلایا جاتا ہے ،نجاشی نے کھانا منگوایا، سب لوگوں نے کھانا کھایا پھر سب لوگ چلے گئے۔ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جب وہ مال میرے پاس پہنچا تو میں نے اس ابره تامی لونڈی کو بلوایا جس نے مجھے خوشخبری دی تھی، میں نے اس سے کہا: اس دن میں نے تمہیں جو دیا تھا، اس کے علاوہ میرے ہاتھ میں کوئی مال نہ تھا، اب یہ پچاس مثقال سونا ہے تم یہ لے لو اور اس کو اپنے استعمال میں لاؤ، اس نے ایک تھیلی نکالی، اس کے اندر وہ سب کچھ جمع تھا جو میں نے اس کو موقع بہ موقع دیا تھا، اس نے وہ سب مجھے واپس دیا اور بولی: بادشاہ سلامت نے مجھ سے وعدہ لیا ہے کہ میں تجھے دینے میں کوئی چیز نہیں کروں گی اور میں تو اس کے کپڑے دھوتی ہوں، اس کو تیل لگاتی ہوں اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے دین کی پیروکار ہوں، اور میں اللہ کی رضا کے لئے اسلام لائی ہوں۔ ابھی تو بادشاہ سلامت نے اپنی بیویوں کو کہا ہے کہ ان کے پاس جو اچھے سے اچھا عطر ہے وہ آپ کو تحفہ دیں۔ اگلے دن وہ بہت سارا عود، ورس عنبر اور زباد(ایک قسم کی خوشبو ہے جو ایک بلی نما جانور سے حاصل کی جاتی ہے) لے کر آ گئی۔ میں یہ سب کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس لائی ، رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم یہ سب میرے پاس دیکھتے تھے لیکن کبھی بھی ان سے مجھے منع نہیں فرمایا۔ پھر ابرہ نے مجھے کہا: میرا ایک کام کردینا، اس شہ خوباں کی بارگاہ میں میرا سلام عرض کردینا ۔ اور میرے بارے میں بتانا کہ میں نے ان کا دین اختیار کیا ہوا ہے، اورتم میرا یہ کام ہرگز بھولنا نہیں۔ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جب ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بارگاہ میں پہنچ گئے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پیغام نکاح پہنچنے اور اس ابرہ کے تعاون کی پوری داستان سنادی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا چہرہ کھل اٹھا۔ پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو اس کا سلام بھی پیش کیا جضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس کے سلام کا یوں جواب دیا: وعليها السلام ورحمة الله وبركاته
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the mother of Habibah's daughter Abi Sufyan, may God be pleased with her · Hadith 6770
عبدالحمید بن عیش بن جبر اپنے والد کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ قریش نے رات کے وقت جبل ابو قبیس سے کسی کہنے والے کی یہ آواز سنی ، وہ کہہ رہاتھا، اگر سعد مسلمان ہو گیا تو محمد ﷺ کو مکہ میں کسی مخالف کی مخالفت کا خوف نہیں رہے گا۔ قریش نے سمجھا کہ یہ بات تمیم کے سعد اور ہذیم کے سعد کے بارے میں ہو رہی ہے۔ جب اگلی رات ہوئی تو انہوں نے یہ آوازیں سنیں۔ اے سعد ، قبیلہ اوس کے سعد تو مدد گار بن جا، اور اے سعد تبکر کرنے والے خزرجیوں کے سعد تم دونوں ہدایت کی طرف بلانے والے کی دعوت کو قبول کرو اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایک عارف کی طرح جنت الفردوس کی آرزو کرو۔ کیونکہ ہدایت کے طلب گار کے لئے اللہ تعالیٰ ثواب رفرف والی جنت الفردوس ہے۔ جب صبح ہوئی تو سفیان نے کہا: خدا کی قسم! وہ تو سعد بن معاذ اور سعد بن عبادہ کے بارے میں آواز آ رہی تھی۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the messenger Sa`d ibn 'Ubadah al-Khazraji, al-Naqib, may God be pleased with him · Hadith 5101
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے تو حضرت معاذ رو رہے تھے حضرت عمررضی اللہ عنہ نے رونے کی وجہ دریافت کی ۔ تو انہوں نے کہا : ایک حدیث ہے جو میں نے رسول اللہﷺ سے سن رکھی ہے (وہ یہ ہے )چھوٹے سے چھوٹا ریاء بھی شرک ہے اور اللہ تعالی کو سب سے زیادہ پسند وہ لوگ ہیں جو متقی اور پرہیز گار ہیں اور ان کی عبادات لوگوں کی نگاہوں سے پوشیدہ ہوں ، وہ کسی محفل سے غائب ہوں تو کوئی ان کی کمی محسوس نہیں کرتا اور کسی محفل میں موجود ہوں تو کوئی پہچانتا نہیں ہے ، یہی لوگ ہدایت کے امام ہیں اور علم کی شمعیں ہیں ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا ۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning of one of the six scholars of the companions Muadh bin Jabal, may God be pleased with him · Hadith 5182
محمود بن لبید روایت کرتے ہیں کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا بیٹا فوت ہو گیا تو رسول اللہﷺ نے ان کی جانب ایک تعزیتی مکتوب لکھا (کس مضمون درج ذیل تھا )بسم اللہ الرحمن الرحیم محمدرسول اللہﷺ کی جانب سے معاذ بن جبل کی طرف ۔ تم پر سلامتی ہو ، میں اس خدا کی حمد وثنا کرتا ہوں جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے ۔ امابعد ۔اللہ تعالی آپ کو اجر عظیم عطا فرمائے اور تمہیں صبر کی توفیق عطاء فرمائے اور مجھے اور آپ کو شکر کی توفیق دے ۔ بے شک ہماری جانیں ، ہمارے مال ، ہمارے اہل و عیال سب اللہ کا قیمتی تحفہ اور مفت کی عطاء ہے ۔ اس نے تمہیں اس کے ذریعے رشک اور خوشی کی دوت عطا فرمائی ۔ اور بہت بڑے اجر کے بدلے وہ تم سے واپس لے لیا ، دعا ، رحمت اور ہدایت یہ ہے کہ ثواب کی نیت رکھے تو صبر اختیار ۔ تا کہ تیرا رونا دھونا تیرے اجر کو کم نہ کر دے ( کہ اگر تیرا اجر کم ہو گیا تو ) تو نادم ہو گا ۔ اور جان لو کہ رونے دھونے سے گیا ہوا واپس نہیں آ سکتا اور نہ یہ تیرے غم کو دور کر سکت ہے جو دکھ آنا تھا وہ آ گیا ۔ والسلام ۔یہ حدیث غریب حسن ہے ، مگر مجا شع بن عمرو اس کتاب کے معیار کے راوی نہیں ہیں ۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning of one of the six scholars of the companions Muadh bin Jabal, may God be pleased with him · Hadith 5193
حضرت ابووائل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے رستم ، مہران اور ایران کے سرداروں کو خط لکھا جس کا مضمون یہ تھا "سلام ہو اس پر جس نے ہدایت کی پیروی کی ۔ اما بعد ، ہم تمہیں اسلام کی دعوت دیتے ہیں ۔اگر تمہیں اسلام قبول کرنے سے انکار ہے ہوتو ہمارے ماتحت رہ کر تم ہمیں ٹیکس دو گے ۔ اور اگر تمہیں اس سے بھی انکار ہو تو یاد رکھو ہمارے پاس ایسی قوم ہے جو جہاد فی سبیل اللہ سے اتنی محبت کرتی ہیں جتنی محبت تم لوگ شراب اور جوئے سے کرتے ہو ۔حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی وفات کے بارے میں اختلاف ہے ۔ اس سے پہلے ہم نے واقدی کے حوالے سے 21 ہجری آپ کا سن وفات بیان کیا ہے ۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning the virtues of Khalid bin al-Walid, may God be pleased with him · Hadith 5300
المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 4
حضرت زید بن اسلم بھی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ حضرت عمرؓ ایک دن مسجد نبوی میں آئے تو دیکھا کہ حضرت معاذ بن جبل ؓ آپ ﷺکیمز ار اقدس کے پاس بیٹھے رورہے ہیں، حضرت عمرؓ نے فرمایا: اے معاذ! کیوں رو رہے ہو؟ انہوں نے جواب دیا: میں نے رسول اللہﷺکی ایک حدیث سن رکھی ہے (اسے یاد کر کے)رو رہا ہوں (وہ حدیث یہ ہے) آپ نے فرمایا: ذرا سی ریا کاری بھی شرک ہے اور جس نے اللہ کے دوستوں سے دشمنی رکھی، اس نے اللہ تعالیٰ کے خلاف اعلان جنگ کردیا۔ اللہ تعالیٰ ان چھپے ہوئے ، پرہیز گار، نیک لوگوں سے محبت کرتا ہے، اگر کسی محفل میں وہ نہ آئیں تو کوئی ان کی غیر موجودگی کومحسوس نہ کرے اور اگر کسی مجلس میں موجود ہوں تو ان کو کوئی پہچانتا نہ ہو، ان کے دل ہدایت کے روشن چراغ ہوتے ہیںوہ (عمومًا) گردوغبار والے اور تاریک مقامات پر ملتے ہیں۔ حدیث "صحیح" ہے لیکن "صحیحین "میں اسے نقل نہیں کیا گیا ۔ حالانکہ ( امام بخاریؒ اور امام مسلم ؒ ) دونوں نے(اس حدیث کے راوی) "زید بن اسلم "کی وہ روایات نقل کی ہیں جن کی سندان کے والد سے ہوتی ہوئی متعددصحابہ کرام ؓ تک پہنچتی ہے اور دونوں نے (اسی حدیث کے راوی) لیث بن سعد کی عیاش بن صالح القتبانی کی روایات نقل کی ہیں ۔ یہ سند مصری ہے اورصحیح ہے، اس سند میں کوئی علت موجو دنہیں۔
محمد بن عبدالرحمن بن زرارہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سعد بن زرارہ کو تکلیف شروع ہو گئی اہل مدینہ اس درد کو ذبح کہتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسکو داغ لگوایا لیکن وہ فوت ہو گئے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کتنی بری میت ہے یہودی ہمیں طعنہ دیتے ہیں کہ ہم اپنے ساتھی کی بیماری دور نہیں کر سکے ۔ حالانکہ اصل بات یہ ہے کہ ہم اس کی شفاء کے مالک نہیں ہیں بلکہ ہم تو خود اپنی ذات کے مالک نہیں ہیں بے شک اگر اللہ نہ چاہے تو کوئی کسی کے نفع نقصان کا مالک نہیں ہو سکتا ) یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیاد کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( والفجر ولیال عشر والشفع الوتر) کے بارے میں فرمایا اس میں دس راتوں سے مراد ذی الحج کی پہلی دس راتیں ہیں اور وتر سے مراد عرفہ کا دن ہے اور شفع سے مراد قربانی کا دن ہے ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیاد کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔
ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں جب ذی الحجہ کا مہینہ شروع ہو جائے تو قربانی کرنے سے پہلے اپنے بال یا ناخن نہ کاٹو ۔ یہ حدیث اگرچہ موقوف ہے لیکن حضرت مالک کی حدیث کی شاہد ہے ۔
شعبہ بیان کرتے ہیں کہ قتادہ نے انہیں بتایا ہے کہ عتیک سے ایک آدمی آیا اور اس نے سعید بن مسیب کو بتایا کہ حضرت یحییٰ بن یعمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ جو شخص ذی الحج میں قربانی خریدے وہ اپنے بال اور ناخن نہ کٹوائے سعید نے کہا جی ہاں میں نے کہا اے ابو محمد تم یہ بات کس کے حوالے سے بیان کر رہے ہو ؟ انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے حوالے سے ۔
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے فاطمہ اپنی قربانی ( کے جانور ) کے پاس کھڑی ہو جاؤ اور اس کو قربان ہوتے ہوئے دیکھو کیونکہ اس کے خون کا پہلا قطرہ زمین پر گرتے ہی تیری زندگی کے تمام گناہوں کو معاف کر دیا جائے اور قربانی کے وقت یہ دعا مانگو۔ " تم فرماؤ بے شک میری نماز اور میری قربانیاں اور میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ کے لیے ہے جو رب سارے جہان کا اس کا کوئی شریک نہیں مجھے یہی حکم ہوا ہے اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں ( ترجمہ اکنزالایمان ) عمران کہتے ہیں میں نے کہایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ عمل صرف آپ کے خاندان کے لیے خاص ہے یا عام مسلمانوں کو بھی اس کی اجازت ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر مسلمان کو اس کی اجازت ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ کائنات حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا اٹھو اپنا جانور قربان ہوتے ہوئے دیکھو کیونکہ اس کے خون کا پہلا قطرہ زمین پر گرنے سے پہلے تیرے سابقہ تمام گناہ بخش دیئے جائیں گے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا یہ حکم صرف ہمارے گھرانے کے لیے ہے یا باقی تمام مسلمانوں کے لیے بھی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ حکم تمام مسلمانوں کے لیے ہے ۔
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں میں آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو فرمایا مجھے حکم دیا گیا ہے کہ قربانی کے دن کو عید بناؤں اللہ نے یہ دن اس امت کے لیے عید بنا دیا ہے ۔ اس آدمی نے کہا اگر میرے پاس منیحہ ( ایسی اونٹنی جو کسی سے فائدہ اٹھانے کے لیے لی گئی ہو ) یا گھر والوں کی بکری یا گھر والوں کی منیحہ کے علاوہ میرے پاس کوئی جانور نہ ہو تو کیا میں اس کو ذبح کر لوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں لیکن ( قربانی کے دن ) اپنے ناخن کاٹ لے اپنی مونچھیں پست کر والے اور بال کاٹ لے تجھے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے اسی عمل کی بدولت قربانی کا ثواب مل جائے گا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔
ابن ابی رافع اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کا جانور ذبح کرنے کی بعد یہ دعا مانگی ۔ " یا اللہ یہ قربانی میری طرف سے اور میری امت کی طرف سے قبول فرما "
حضرت عبداللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ صحابی رسول ہیں ان کی والدہ زینت بنت حمیدان کو بچپن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں لائی تھیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سرپر ہاتھ بھی پھیرا تھا اور ان کے لیے دعا بھی فرمائی تھی آپ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پورے گھر والوں کی طرف سے ایک ہی بکری قربانی کیا کرتے تھے ۔ ان تمام احادیث کی اسنادیں صحیح ہیں ان سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ متعدد لوگوں کی جانب سے ایک بکری قربان کی جا سکتی ہے ۔ اس حدیث کو رابوں کی تعداد بہت زیادہ ہے اور جولوگ اس موقف کے قائل ہیں کہ ایک بکری صرف ایک شخص ہی کی جانب سے ہو سکتی ہے ان کی تعداد بہت کم ہے اور فوت شدگان کی طرف سے قربانی کرنے کے حوالے سے بھی احادیث موجود ہیں ۔