Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الأضحية والعقيقة

Qurbani & Aqiqah

11564 hadiths

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1786

1786 - أَخْبَرْنَاهُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ، ثنا النُّفَيْلِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَاضِرٍ الْحِمْيَرِيَّ، يُحَدِّثُ أَبِي مَيْمُونِ بْنَ مِهْرَانَ، قَالَ: خَرَجْتُ مُعْتَمِرًا عَامَ حَاصَرَ أَهْلُ الشَّامِ ابْنَ الزُّبَيْرِ بِمَكَّةَ، وَبَعَثَ مَعِي رِجَالٌ مِنْ قَوْمِي بِهَدْيٍ، فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَى أَهْلِ الشَّامِ مَنَعُونَا أَنْ نَدْخُلَ الْحَرَمَ، فَنَحَرْتُ الْهَدْيَ مَكَانِي، وَأَحْلَلْتُ، ثُمَّ رَجَعْتُ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ خَرَجْتُ لِأَقْضِيَ عُمْرَتِي، فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: أَبْدِلْ الْهَدْيَ «فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يُبَدِّلُوا الْهَدْيَ الَّذِي نَحَرُوا عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي عُمْرَةِ الْقَضَاءِ» قَالَ عَمْرٌو: " فَكَانَ أَبِي قَدْ أَهَمَّهُ ذَلِكَ الَّذِي نَحَرُوا عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ يَقُولُ: لَا أَدْرِي هَلْ أَبْدَلَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْهَدَايَا الَّتِي نَحَرُوا بِالْحُدَيْبِيَةِ فِي عُمْرَةِ الْقَضَاءِ، أَمْ لَا حَتَّى حَدَّثَهُ أَبُو حَاضِرٍ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» وَأَبُو حَاضِرٍ شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ مَقْبُولٌ صَدُوقٌ

حضرت ابو میمون بن مہران رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جس سال اہل شام نے ابن الزبیر کا مکہ میں محاصرہ کیا ، میں اس سال عمرہ کے لئے نکلا اور میرے قبیلے کے بہت سارے لوگوں نے میرے ہمراہ قربانی کے جانور بھی بھیجے تھے ، جب ہم لوگ مکہ پہنچے تو اہل شام نے ہمیں حرم شریف میں داخل ہونے سے منع کر دیا۔ میں نے اسی جگہ پر جانور ذبح کر دیئے اور احرام کھول دیا اور لوٹ آ یا پھر اگلے سال میں عمرہ کی قضاء کر نے کے لئے نکلا تو ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے اس بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: ان قربانیوں کے بدلے قربانیاں دو کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو عمرہ قضاء میں دوبارہ قربانیاں کر نے کا حکم دیا تھا جنہوں نے حدیبیہ کے سال جانورذبح کئے تھے،عمرو بن میمون فرماتے ہیں: جن لوگوں نے حدیبیہ کے سال جانور ذبح کئے تھے،ان کو اس پرعمل کر نا بہت دشوار تھا۔ وہ فرماتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحا بہ رضی اللہ عنہ نے عمرہ قضاء میں ان قربانیوں کا بدل دیا تھایا نہیں؟ جوانہوں نے حدیبیہ کے سال ذبح کی تھیں یہاں تک کہ ابو حاضر نے ان کو یہ حدیث سنائی ۔یہ حد یث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا اورابو حاضر اہل یمن سے ہیں شیخ الحدیث ہیں ۔مقبول اور صدوق ہیں۔

خَرَجْتُ مُعْتَمِرًا عَامَ حَاصَرَ أَهْلُ الشَّامِ ابْنَ الزُّبَيْرِ ← أَبِي مَيْمُونَ بْنَ مِهْرَانَ ← أَبَا حَاضِرٍ الْحِمْيَرِيَّ ← عَمْرُو بْنُ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← النُّفَيْلِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ ← أبو بَكْر محمد بن المؤمل

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1786

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الدُّعَاءِ، وَالتَّكْبِيرِ، وَالتَّهْلِيلِ، وَالتَّسْبِيحِ وَالذِّكْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1841

1841 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ السَّكَنِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا أَبِي، ثنا مُوسَى بْنُ سَالِمٍ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ مِنْ جَلَالِ التَّمْجِيدِ، وَالتَّسْبِيحِ، وَالتَّكْبِيرِ، وَالتَّهْلِيلِ يَتَعَاطَفْنَ حَوْلَ الْعَرْشِ لَهُنَّ دَوِيٌّ كَدَوِيِّ النَّحْلِ يَقُلْنَ لِصَاحِبِهِنَّ أَلَا يُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَكُونَ لَهُ عِنْدَ الرَّحْمَنِ شَيْءٌ يُذَكِّرُهُ بِهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: جولوگ اللہ کا ذکر کر تے ہیں یعنی اس کہ بزرگی اور جلال کا اورتسبیح کر تے ہیں اور تکبیر کہتے ہیں اور تہلیل کہتے ہیں ،( ان کی یہ تسبیح وتمجید، تکبیرو تہلیل ) عرش کے گردگھومتی ہیں، ان کی گنگناہٹ شہد کی مکھی کی سی ہوتی ہے ، وہ اپنے پڑھنے والے سے کہتی ہیں: کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ اس کے لئے اللہ کی بارگاہ میں کوئی ایسی چیز ہوجس کے سبب اللہ اس کا ذکر کرے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔

النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← أَبِيهِ ← عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، ← مُوسَى بْنِ سَالِمٍ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ السَّكَنِ، ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of supplication, takbeer, exultation, praise and remembrance › Insurance section · Hadith 1841

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الدُّعَاءِ، وَالتَّكْبِيرِ، وَالتَّهْلِيلِ، وَالتَّسْبِيحِ وَالذِّكْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1889

1889 - حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ وَأَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْدَلَانِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ الْبَجَلِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي السَّمْحِ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «اسْتَكْثِرُوا مِنَ الْبَاقِيَاتِ الصَّالِحَاتِ» . قِيلَ: وَمَا هُنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «الْمِلَّةُ» . قِيلَ: وَمَا هِيَ؟ قَالَ: «التَّكْبِيرُ وَالتَّهْلِيلُ، وَالتَّسْبِيحُ، وَالتَّحْمِيدُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» هَذَا أَصَحُّ إِسْنَادِ الْمِصْرِيِّينَ، فَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:باقیات الصالحات زیادہ سے زیادہ جمع کر و۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ(باقيات الصالحات )کیا ہوتی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ملت ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: ملت کا کیا مطلب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تکبیر تہلیل تسبیح تحمیداور’’لا حول ولا قوة الا بالله‘‘ ۔ یہ مصریوں کی سب سے زیا دہ صحیح السند ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ نے اسے نقل کیا۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الْهَيْثَمِ، ← أبي السمح ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيُّ، ← أبو عبد الله محمد بن أيوب البجلي ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْدَلاَنِيُّ ← أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of supplication, takbeer, exultation, praise and remembrance › Insurance section · Hadith 1889

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الدُّعَاءِ، وَالتَّكْبِيرِ، وَالتَّهْلِيلِ، وَالتَّسْبِيحِ وَالذِّكْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1910

1910 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ الْفَارِسِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا قَبِيصَةُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَا: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ طَلِيقِ بْنِ قَيْسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَ مِنْ دُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رَبِّ أَعِنِّي، وَلَا تُعِنْ عَلَيَّ، وَانْصُرْنِي وَلَا تَنْصُرْ عَلَيَّ، وَامْكُرْ لِي وَلَا تَمْكُرْ عَلَيَّ، وَاهْدِنِي وَيَسِّرِ الْهُدَى لِي، وَانْصُرْنِي عَلَى مَنْ بَغَى عَلَيَّ، رَبِّ اجْعَلْنِي لَكَ شَكَّارًا لَكَ، ذَكَّارًا لَكَ، رَهَّابًا لَكَ، مِطْوَاعًا لَكَ، مُخْبِتًا إِلَيْكَ، أَوَّاهًا مُنِيبًا، تَقَبَّلْ تَوْبَتِي، وَأَجِبْ دَعْوَتِي، وَاهْدِ قَلْبِي، وَثَبِّتْ حُجَّتِي، وَسَدِّدْ لِسَانِي، وَاسْلُلْ سَخِيمَةَ قَلْبِي» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں میں یہ بھی تھی:رت أعتى، ولا تعن على، وانصرني ولا تنصر على، وامكر لي ولا تمكر على، واهدني ويسر الهدى لى، وانضرنى على من بغى علي، رب اجعلني لك شكارا لك، ذكارا لك، رهابا لك، مطواعا لك، مخبتا إليك، أواها منيا، تقبل توبتي، وأجب دعوتي، واهد قلبي، وثبت حجتي، وسدد لساني، واسلل سخيمةقلبی”اے میرے رب ! میرے ساتھ تعاون کر اور میرے خلاف کسی کی مدد نہ کر اور میرے لیے تد بیرکراور میرے خلاف کسی اور کے لئے تدبیر نہ کر اور مجھے ہدایت دے اور میرے لیے ہدایت آسان کر دے ۔اور اس شخص کے خلاف میری مد دکر جومیرے خلاف بغاوت کرے، اے میرے رب! مجھے اپناشکر گزار بند ہ بنا،اپنا ذاکر بنا، اپنے لیے الگ تھلک رہنے والا بنا، اپنا عبادت گذار بنا، اپنی بارگاہ میں عاجزی کر نے والا بنا ، آہ و زاری کرنے والا اور رجوع کرنے والا بنا ، میری تو بہ قبول فرما اور میری دعا کو قبول فرما ، میرے دل کو ہدایت عطا فرما اور میری حجت کو ثابت فرما ، میری زبان کومحفوظ رکھ ، میرے دل سے کینہ کوختم فرما۔یہ حد یث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← طليق بن قيس ← عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← سُفْيَانَ، ← قَبِيصَةُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَيْهِ الْفَارِسِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of supplication, takbeer, exultation, praise and remembrance › Insurance section · Hadith 1910

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4828

4828 - حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ زَيْدٍ الْعَلَوِيُّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقَالَ: «زِنِي شَعْرَ الْحُسَيْنِ وَتَصَدَّقِي بِوَزْنِهِ فِضَّةً، وَأَعْطِي الْقَابِلَةَ رِجْلَ الْعَقِيقَةِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4828 - ليس بصحيح

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو فرمایا :حسین رضی اللہ عنہ کے بالوں کا وزن کرکے اس کے برابر چاندہ صدقہ کر دو اور آیا ( دائی ) کو ( کم از کم ) عقیقہ کے جانور کا کھر دے دینا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام رحمۃاللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔

عَلِيٍّ، ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← حسين بن زيد العلوي، ← سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، ← يحيى بن محمد بن صاعد ← أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4828

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 6770

6770 - فَحَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مَصْقَلَةَ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: «وَأُمُّ حَبِيبَةَ اسْمُهَا رَمْلَةُ بِنْتُ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ حَرْبٍ، وَأُمُّهَا صَفِيَّةُ بِنْتُ أَبِي الْعَاصِ بْنِ أُمَيَّةَ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ، عَمَّةُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ تَزَوَّجَهَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ جَحْشِ بْنِ رَبَابٍ حَلِيفُ حَرْبِ بْنِ أُمَيَّةَ، فَوَلَدَتْ لَهُ حَبِيبَةَ فَكُنِّيَتْ بِهَا، وَتَزَوَّجَ حَبِيبَةَ دَاودُ بْنُ عُرْوَةَ بْنِ مَسْعُودٍ الثَّقَفِيُّ» قَالَ ابْنُ عُمَرَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ زُهَيْرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: قَالَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ: رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ جَحْشٍ زَوْجِي بِأَسْوَإِ صُورَةٍ وَأَشْوَهِهِ فَفَزِعْتُ، فَقُلْتُ: تَغَيَّرَتْ وَاللَّهِ حَالُهُ، فَإِذَا هُوَ يَقُولُ حِينَ أَصْبَحَ: يَا أُمَّ حَبِيبَةَ، إِنِّي نَظَرْتُ فِي الدِّينِ فَلَمْ أَرَ دِينًا خَيْرًا مِنَ النَّصْرَانِيَّةِ وَكُنْتُ قَدْ دِنْتُ بِهَا، ثُمَّ دَخَلْتُ فِي دِينِ مُحَمَّدٍ، ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى النَّصْرَانِيَّةِ، فَقُلْتُ: وَاللَّهِ مَا خَيْرٌ لَكَ وَأَخْبَرْتُهُ بِالرُّؤْيَا الَّتِي رَأَيْتُ لَهُ، فَلَمْ يَحْفَلْ بِهَا وَأَكَبَّ عَلَى الْخَمْرِ حَتَّى مَاتَ، فَأُرِيَ فِي النَّوْمِ كَأَنَّ آتِيًا يَقُولُ لِي: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، فَفَزِعْتُ وَأَوَّلْتُهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَزَوَّجُنِي، قَالَتْ: فَمَا هُوَ إِلَّا أَنِ انْقَضَتْ عِدَّتِي، فَمَا شَعَرْتُ إِلَّا بِرَسُولِ النَّجَاشِيِّ عَلَى بَابِي يَسْتَأْذِنُ، فَإِذَا جَارِيَةٌ لَهُ يُقَالُ لَهَا: أَبْرَهَةَ كَانَتْ تَقُومُ عَلَى ثِيَابِهِ وَدَهْنِهِ، فَدَخَلَتْ عَلَيَّ فَقَالَتْ: إِنَّ الْمَلِكَ يَقُولُ لَكِ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَيَّ أَنْ أُزَوِّجَكِ، فَقُلْتُ: بَشَّرَكِ اللَّهُ بِخَيْرٍ، وَقَالَتْ: يَقُولُ لَكِ الْمَلِكُ: وَكِّلِي مَنْ يُزَوِّجُكِ، فَأَرْسَلَتْ إِلَى خَالِدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ فَوَكَّلَتْهُ وَأَعْطَتْ أَبْرَهَةَ سِوَارَيْنِ مِنْ فِضَّةٍ وَخَدَمَتَيْنِ كَانَتَا فِي رِجْلَيْهَا وَخَوَاتِيمَ فِضَّةً كَانَتْ فِي أَصَابِعِ رِجْلَيْهَا سُرُورًا بِمَا بَشَّرَتْهَا بِهِ، فَلَمَّا كَانَ الْعَشِيُّ أَمَرَ النَّجَاشِيُّ جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَمَنْ هُنَاكَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَحَضَرُوا فَخَطَبَ النَّجَاشِيُّ، فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ السَّلَامِ الْمُؤْمِنِ الْمُهَيْمِنِ الْعَزِيزِ الْجَبَّارِ، الْحَمْدُ لِلَّهِ حَقَّ حَمْدِهِ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَأَنَّهُ الَّذِي بَشَّرَ بِهِ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ، أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَيَّ أَنْ أُزَوِّجَهُ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ سُفْيَانَ فَأَجَبْتُ إِلَى مَا دَعَا إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَصْدَقْتُهَا أَرْبَعمِائَةِ دِينَارٍ، ثُمَّ سَكَبَ الدَّنَانِيرَ بَيْنَ يَدَيِ الْقَوْمِ، فَتَكَلَّمَ خَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ أَحْمَدُهُ وَأَسْتَعِينُهُ وَأَسْتَنْصِرُهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ أَرْسَلَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ، أَمَّا بَعْدُ فَقَدْ أَجَبْتُ إِلَى مَا دَعَا إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَزَوَّجْتُهُ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ أَبِي سُفْيَانَ فَبَارَكَ اللَّهُ لِرَسُولِهِ، وَدَفَعَ الدَّنَانِيرَ إِلَى خَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ فَقَبَضَهَا، ثُمَّ أَرَادُوا أَنْ يَقُومُوا، فَقَالَ: اجْلِسُوا فَإِنَّ سُنَّةَ الْأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمُ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ إِذَا تَزَوَّجُوا أَنْ يُؤْكَلَ الطَّعَامُ عَلَى التَّزْوِيجِ فَدَعَا بِطَعَامٍ فَأَكَلُوا، ثُمَّ تَفَرَّقُوا، قَالَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ: فَلَمَّا وَصَلَ إِلَيَّ الْمَالُ أَرْسَلْتُ إِلَى أَبْرَهَةَ الَّتِي بَشَّرَتْنِي فَقُلْتُ لَهَا: إِنِّي كُنْتُ أَعْطَيْتُكِ مَا أَعْطَيْتُكِ يَوْمَئِذٍ وَلَا مَالَ بِيَدِي وَهَذِهِ خَمْسُونَ مِثْقَالًا فَخُذِيهَا فَاسْتَعِينِي بِهَا، فَأَخْرَجَتْ إِلَيَّ حِقَّةً فِيهَا جَمِيعُ مَا أَعْطَيتُهَا فَرَدَّتْهُ إِلَيَّ وَقَالَتْ: عَزَمَ عَلَيَّ الْمَلِكُ أَنْ لَا أَرْزَأَكِ شَيْئًا وَأَنَا الَّتِي أَقُومُ عَلَى ثِيَابِهِ وَدَهْنِهِ وَقَدِ اتَّبَعْتُ دِينَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَسْلَمْتُ لِلَّهِ، وَقَدْ أَمَرَ الْمَلِكُ نِسَاءَهُ أَنْ يَبْعَثْنَ إِلَيْكِ بِكَلِّ مَا عِنْدَهُنَّ مِنَ الْعِطْرِ، فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ جَاءَتْنِي بِعُودٍ وَوَرْسٍ وَعَنْبَرٍ وزَبَادٍ كَثِيرٍ، وَقَدِمْتُ بِذَلِكَ كُلِّهِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ يَرَاهُ عَلَيَّ وَعِنْدِي فَلَا يُنْكِرُ، ثُمَّ قَالَتْ أَبْرَهَةُ: فَحَاجَتِي إِلَيْكِ أَنْ تُقْرِئِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنِّي السَّلَامَ وَتُعْلِمِيهِ أَنِّي قَدِ اتَّبَعْتُ دِينَهُ، قَالَتْ: ثُمَّ لَطَفَتْ بِي وَكَانَتْ هِيَ الَّتِي جَهَّزَتْنِي، وَكَانَتْ كُلَّمَا دَخَلَتْ عَلَيَّ تَقُولُ: لَا تَنْسَيْ حَاجَتِي إِلَيْكِ، قَالَتْ: فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرْتُهُ كَيْفَ كَانَتِ الْخِطْبَةُ وَمَا فَعَلَتْ بِي أَبْرَهَةُ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَقْرَأْتُهُ مِنْهَا السَّلَامَ، فَقَالَ: «وَعَلَيْهَا السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ»

محمد بن عمر کہتے ہیں : ام حبیبہ کا نام " رملہ بنت ابی سفیان بن حرب " ہے ۔ ان کی والدہ " صفیہ بنت ابی العاص بن امیہ بن عبد شمس " ہے ۔ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی پھوپھی ہیں ، پہلے حرب بن امیہ کے حلیف عبید اللہ بن حجش بن رباب کے نکاح میں تھیں ۔ ان کے بطن سے حبیبہ پیدا ہوئیں ، اسی کے نام سے ان کنیت " ام حبیبہ " ہوئی ۔ حبیبہ کے ساتھ داود بن عروہ بن مسعود ثقفی نے شادی کی تھی ۔ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے خواب میں دیکھا کہ میرا شوہر عبید الله بن جحش بہت ڈراونی شکل میں ہے، میں اس سے ڈر جاتی ہوں، میں نے کہا: اللہ کی قسم ! اس کا حال بدل گیا ہے۔ جب صبح ہوئی تو وہ کہنے لگا: اے ام حبیبہ میں نے دین کے بارے میں رات بہت غوروفکر کیا ہے، مجھے نصرانی دین سے بہتر کوئی دین نظر نہیں آرہا، میں پہلے بھی اسی دین پر تھا، پھر میں نے محمد کے دین کو اپنا لیا لیکن اب میں دوبارہ نصرانیت کی طرف لوٹ گیا ہوں، میں نے کہا: اللہ کی قسم اس میں تیرے لئے بہتری نہیں ہے، پھر میں نے اس کو وہ خواب سنایا جو میں نے گزشتہ رات دیکھا تھا لیکن اس نے اس پر کوئی توجہ نہ دی اور شراب نوشی میں مبتلا ہو گیا ، اور اسی عالم میں اس کو موت آگئی ۔ اس کے بعد ایک دفعہ میں نے خواب میں دیکھا کہ کوئی آنے والا آیا ہے اور مجھے " ام المومنین " کہہ کر پکارتا ہے، میں گھبرا جاتی ہوں، میں نے اس کی تعبیر یہ سوچی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مجھ سے نکاح کریں گے، آپ فرماتی ہیں: میری عدت گزرگئی نجاشی کا ایک قاصد میرے دروازے پر آیا اور اس نے اجازت مانگی ، نجاشی کی ایک ابرہ نامی لونڈی تھی وہ اس کے کپڑے وغیرہ دھویا کرتی تھی، اس کو تیل وغیرہ لگایا کرتی تھی، وہ میرے پاس آئی اور کہنے گی: بادشاہ سلامت کہہ رہے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مجھے خط لکھا ہے کہ میں ان کا نکاح تمہارے ساتھ کردوں ، میں نے کہا: اللہ تعالی تجھے اچھی خوشخبری دے۔ اس لونڈی نے کہا: بادشاہ سلامت کہہ رہے ہیں کہ تم اپنے نکاح کے لئے کسی کو اپناوکیل پنالو، میں نے خالد بن سعید کی جانب پیغام بھیجا اور اس کو اپنا وکیل بنالیا، میں نے ابرہ کو جو دعا دی تھی اس پر خوش ہو کر اس نے چاندی کے دو کنگن مجھے دیئے ، اور اپنے پاؤں میں پہنی ہوئی دو پازیبیں بھی اتار کر مجھے دے دیں اور چاندی کی انگوٹھیاں جو کہ اس نے اپنے پاؤں کی انگلیوں میں پہنی ہوئی تھیں وہ بھی مجھے دے دیں ۔ شام کا وقت ہوا تو نجاشی نے حضرت جعفر بن ابی طالب اور دیگر مسلمان جو وہاں موجود تھے، سب کو بلایا، جب یہ سب لوگ آ گئے تو نجاشی نے خطبہ دیتے ہوئے کہا : تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جو مالک ہے، قدوس ہے، سلام ہے، مومن ہے۔ مہیمن ہے،عزیز ہے، جبار ہے۔ اللہ تعالی کے لئے وہ تمام تعریفیں ہیں جن کا وہ حق رکھتا ہے، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالی کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے اور بے شک محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔ اور یہ وہی ہیں جن کی آمد کی گواہی حضرت عیسی علیہ السلام نے دی تھی۔ اما بعد بے شک رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مجھے خط لکھا ہے کہ میں ام حبیبہ بنت ابی سفیان کے ساتھ ان کا نکاح کر دوں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے حکم پر لبیک کہا ہے اور چار سودینار میں نے اس کا حق مہر رکھا ہے، یہ کہہ کر نجاشی نے لوگوں کے سامنے دینارڈھیر کر دیئے۔ اس کے بعد خالد بن سعید رضی اللہ عنہ بولے: میں حمد کرتا ہوں اللہ تعالی کی اور اسی سے مدد چاہتا ہوں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک اللہ تعالی کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے اور بے شک محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔ اس رسول کو اللہ تعالی نے ہدایت اور حق کے ساتھ بھیجا ہے، وہ اس کو تمام ادیان پر غالب کردے اگر چہ مشرکین کو اچھا نہ لگے۔ اما بعد میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے حکم پر لبیک کہا ہے، اور میں نے ام حبیبہ بنت ابی سفیان کا نکاح رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ کردیا ہے، اللہ تعالی اپنے رسول کو برکت عطا فرمائے۔ نجاشی نے وہ دینار خالد بن سعید کے حوالے کر دیئے،خالد نے وہ تمام دینار سمیٹ لئے ، پھر جب لوگ اٹھنے لگے تو نجاشی نے کہا: رک جاؤ، کیونکہ انبیاء کرام علیہ السلام کا طریقہ ہے کہ جب وہ شادی کرتے ہیں تو شادی کا کھانا کھلایا جاتا ہے ،نجاشی نے کھانا منگوایا، سب لوگوں نے کھانا کھایا پھر سب لوگ چلے گئے۔ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جب وہ مال میرے پاس پہنچا تو میں نے اس ابره تامی لونڈی کو بلوایا جس نے مجھے خوشخبری دی تھی، میں نے اس سے کہا: اس دن میں نے تمہیں جو دیا تھا، اس کے علاوہ میرے ہاتھ میں کوئی مال نہ تھا، اب یہ پچاس مثقال سونا ہے تم یہ لے لو اور اس کو اپنے استعمال میں لاؤ، اس نے ایک تھیلی نکالی، اس کے اندر وہ سب کچھ جمع تھا جو میں نے اس کو موقع بہ موقع دیا تھا، اس نے وہ سب مجھے واپس دیا اور بولی: بادشاہ سلامت نے مجھ سے وعدہ لیا ہے کہ میں تجھے دینے میں کوئی چیز نہیں کروں گی اور میں تو اس کے کپڑے دھوتی ہوں، اس کو تیل لگاتی ہوں اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے دین کی پیروکار ہوں، اور میں اللہ کی رضا کے لئے اسلام لائی ہوں۔ ابھی تو بادشاہ سلامت نے اپنی بیویوں کو کہا ہے کہ ان کے پاس جو اچھے سے اچھا عطر ہے وہ آپ کو تحفہ دیں۔ اگلے دن وہ بہت سارا عود، ورس عنبر اور زباد(ایک قسم کی خوشبو ہے جو ایک بلی نما جانور سے حاصل کی جاتی ہے) لے کر آ گئی۔ میں یہ سب کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس لائی ، رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم یہ سب میرے پاس دیکھتے تھے لیکن کبھی بھی ان سے مجھے منع نہیں فرمایا۔ پھر ابرہ نے مجھے کہا: میرا ایک کام کردینا، اس شہ خوباں کی بارگاہ میں میرا سلام عرض کردینا ۔ اور میرے بارے میں بتانا کہ میں نے ان کا دین اختیار کیا ہوا ہے، اورتم میرا یہ کام ہرگز بھولنا نہیں۔ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جب ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بارگاہ میں پہنچ گئے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پیغام نکاح پہنچنے اور اس ابرہ کے تعاون کی پوری داستان سنادی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا چہرہ کھل اٹھا۔ پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو اس کا سلام بھی پیش کیا جضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس کے سلام کا یوں جواب دیا: وعليها السلام ورحمة الله وبركاته

مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَرَجِ، ← الْحَسَنُ بْنُ مَصْقَلَةَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the mother of Habibah's daughter Abi Sufyan, may God be pleased with her · Hadith 6770

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ مَنَاقِبِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ الْخَزْرَجِيِّ النَّقِيبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 5101

5101 - حَدَّثَنِي أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَبُو الْأَشْعَثِ، ثنا هِشَامُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ السَّائِبِ الْكَلْبِيُّ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ عَيْشِ بْنِ جَبْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " سَمِعَتْ قُرَيْشٌ قَائِلًا يَقُولُ فِي اللَّيْلِ عَلَى أَبِي قُبَيْسٍ [البحر الطويل] فَإِنْ يُسْلِمِ السَّعْدَانِ يُصْبِحْ مُحَمَّدٌ ... بِمَكَّةَ لَا يَخْشَى خِلَافَ مُخَالِفٍ فَظَنَّتْ قُرَيْشٌ أَنَّهُمَا سَعْدُ تَمِيمٍ، وَسَعْدُ هُذَيْمٍ، فَلَمَّا كَانَتْ فِي اللَّيْلَةِ الثَّانِيَةِ سَمِعُوهُ يَقُولُ: أَيَا سَعْدُ سَعْدَ الْأَوْسِ كُنْ أَنْتَ نَاصِرًا ... وَيَا سَعْدُ سَعْدُ الْخَزْرَجِيِّينَ الْغَطَارِفِ أَجِيبَا إِلَى دَاعِي الْهُدَى وَتَمَنَّيَا ... عَلَى اللَّهِ فِي الْفِرْدَوْسِ مُنْيَةَ عَارِفِ فَإِنَّ ثَوَابَ اللَّهِ لِلطَّالِبِ الْهُدَى ... جِنَانٌ مِنَ الْفِرْدَوْسِ ذَاتُ رَفَارِفِ فَلَمَّا أَصْبَحُوا قَالَ سُفْيَانُ: هُوَ وَاللَّهِ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ، وَسَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ" [التعليق - من تلخيص الذهبي] 5101 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه

عبدالحمید بن عیش بن جبر اپنے والد کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ قریش نے رات کے وقت جبل ابو قبیس سے کسی کہنے والے کی یہ آواز سنی ، وہ کہہ رہاتھا، اگر سعد مسلمان ہو گیا تو محمد ﷺ کو مکہ میں کسی مخالف کی مخالفت کا خوف نہیں رہے گا۔ قریش نے سمجھا کہ یہ بات تمیم کے سعد اور ہذیم کے سعد کے بارے میں ہو رہی ہے۔ جب اگلی رات ہوئی تو انہوں نے یہ آوازیں سنیں۔ اے سعد ، قبیلہ اوس کے سعد تو مدد گار بن جا، اور اے سعد تبکر کرنے والے خزرجیوں کے سعد تم دونوں ہدایت کی طرف بلانے والے کی دعوت کو قبول کرو اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایک عارف کی طرح جنت الفردوس کی آرزو کرو۔ کیونکہ ہدایت کے طلب گار کے لئے اللہ تعالیٰ ثواب رفرف والی جنت الفردوس ہے۔ جب صبح ہوئی تو سفیان نے کہا: خدا کی قسم! وہ تو سعد بن معاذ اور سعد بن عبادہ کے بارے میں آواز آ رہی تھی۔

قُرَيْشٌ قَائِلًا ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ عَيْشِ بْنِ جَبْرٍ ← هِشَامُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ السَّائِبِ الْكَلْبِيُّ، ← أَبُو الْأَشْعَثِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَافِظُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the messenger Sa`d ibn 'Ubadah al-Khazraji, al-Naqib, may God be pleased with him · Hadith 5101

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ مَنَاقِبِ أَحَدِ الْفُقَهَاءِ السِّتَّةِ مِنَ الصَّحَابَةِ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 5182

5182 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا شَاذُّ بْنُ الْفَيَّاضِ، ثنا أَبُو قَحْذَمٍ النَّضْرُ بْنُ مَعْبَدٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: مَرَّ عُمَرُ بِمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَهُوَ يَبْكِي، فَقَالَ: مَا يُبْكِيكَ؟ فَقَالَ: حَدِيثٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَدْنَى الرِّيَاءِ شِرْكٌ، وَأَحَبَّ الْعَبِيدِ إِلَى اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى الْأَتْقِيَاءُ الْأَخْفِيَاءُ، الَّذِينَ إِذَا غَابُوا لَمْ يُفْتَقَدُوا، وَإِذَا شَهِدُوا لَمْ يُعْرَفُوا، أُولَئِكَ أَئِمَّةُ الْهُدَى وَمَصَابِيحُ الْعِلْمِ» صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 5182 - أبو قحذم قال أبو حاتم لا يكتب حديثه وقال النسائي ليس بثقة

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے تو حضرت معاذ رو رہے تھے حضرت عمررضی اللہ عنہ نے رونے کی وجہ دریافت کی ۔ تو انہوں نے کہا : ایک حدیث ہے جو میں نے رسول اللہﷺ سے سن رکھی ہے (وہ یہ ہے )چھوٹے سے چھوٹا ریاء بھی شرک ہے اور اللہ تعالی کو سب سے زیادہ پسند وہ لوگ ہیں جو متقی اور پرہیز گار ہیں اور ان کی عبادات لوگوں کی نگاہوں سے پوشیدہ ہوں ، وہ کسی محفل سے غائب ہوں تو کوئی ان کی کمی محسوس نہیں کرتا اور کسی محفل میں موجود ہوں تو کوئی پہچانتا نہیں ہے ، یہی لوگ ہدایت کے امام ہیں اور علم کی شمعیں ہیں ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ← حَدِيثٍ ← ما يبكيك ← مَرَّ عُمَرُ بِمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ وَهُوَ يَبْكِي ← ابْنِ عُمَرَ ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أبو قحذم النضر بن معبد ← شَاذُّ بْنُ الْفَيَّاضِ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning of one of the six scholars of the companions Muadh bin Jabal, may God be pleased with him · Hadith 5182

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ مَنَاقِبِ أَحَدِ الْفُقَهَاءِ السِّتَّةِ مِنَ الصَّحَابَةِ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 5193

5193 - حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةِ، ثنا عَمْرُو بْنُ بَكْرٍ السَّكْسَكِيُّ، ثنا مُجَاشِعُ بْنُ عَمْرٍو الْأَسَدِيُّ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّهُ مَاتَ لَهُ ابْنُ فَكَتَبَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَزِّيهِ عَلَيْهِ: «بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ إِلَى مُعَاذِ بْنِ جَبَلُ سَلَامٌ عَلَيْكَ، فَإِنِّي أَحْمَدُ اللَّهَ إِلَيْكَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، أَمَّا بَعْدُ، فَأَعْظَمَ اللَّهُ لَكَ الْأَجْرَ، وَأَلْهَمَكَ الصَّبْرَ، وَرَزَقَنَا وَإِيَّاكَ الشُّكْرَ، فَإِنَّ أَنْفُسَنَا وَأَمْوَالَنَا وَأَهَلِينَا وَأَوْلَادَنَا مِنْ مَوَاهِبِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ الْهَنِيئَةِ وَعَوَارِيهِ الْمُسْتَوْدَعَةِ، مَتَّعَكَ بِهِ فِي غِبْطَةٍ وَسُرُورٍ، وَقَبَضَهُ مِنْكَ بِأَجْرٍ كَبِيرِ الصَّلَاةِ وَالرَّحْمَةِ وَالْهُدَى، إِنِ احْتَسَبْتَهُ فَاصْبِرْ، وَلَا يُحْبِطُ جَزَعُكَ أَجْرَكَ فَتَنْدَمَ، وَاعْلَمْ أَنَّ الْجَزَعَ لَا يَرُدُّ شَيْئًا، وَلَا يَدْفَعُ حُزْنًا، وَمَا هُوَ نَازِلٌ فَكَانَ قَدْ، وَالسَّلَامُ» غَرِيبٌ حَسَنٌ إِلَّا أَنَّ مُجَاشِعَ بْنَ عَمْرٍو لَيْسَ مِنْ شَرْطِ هَذَا الْكِتَابِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 5193 - ذا من وضع مجاشع بن عمرو

محمود بن لبید روایت کرتے ہیں کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا بیٹا فوت ہو گیا تو رسول اللہﷺ نے ان کی جانب ایک تعزیتی مکتوب لکھا (کس مضمون درج ذیل تھا )بسم اللہ الرحمن الرحیم محمدرسول اللہﷺ کی جانب سے معاذ بن جبل کی طرف ۔ تم پر سلامتی ہو ، میں اس خدا کی حمد وثنا کرتا ہوں جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے ۔ امابعد ۔اللہ تعالی آپ کو اجر عظیم عطا فرمائے اور تمہیں صبر کی توفیق عطاء فرمائے اور مجھے اور آپ کو شکر کی توفیق دے ۔ بے شک ہماری جانیں ، ہمارے مال ، ہمارے اہل و عیال سب اللہ کا قیمتی تحفہ اور مفت کی عطاء ہے ۔ اس نے تمہیں اس کے ذریعے رشک اور خوشی کی دوت عطا فرمائی ۔ اور بہت بڑے اجر کے بدلے وہ تم سے واپس لے لیا ، دعا ، رحمت اور ہدایت یہ ہے کہ ثواب کی نیت رکھے تو صبر اختیار ۔ تا کہ تیرا رونا دھونا تیرے اجر کو کم نہ کر دے ( کہ اگر تیرا اجر کم ہو گیا تو ) تو نادم ہو گا ۔ اور جان لو کہ رونے دھونے سے گیا ہوا واپس نہیں آ سکتا اور نہ یہ تیرے غم کو دور کر سکت ہے جو دکھ آنا تھا وہ آ گیا ۔ والسلام ۔یہ حدیث غریب حسن ہے ، مگر مجا شع بن عمرو اس کتاب کے معیار کے راوی نہیں ہیں ۔

مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّهُ مَاتَ لَهُ ابْنُ ← مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ← عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← مُجَاشِعُ بْنُ عَمْرٍو الأَسَدِيُّ، ← عَمْرُو بْنُ بَكْرٍ السَّكْسَكِيُّ، ← الْحُسَيْنَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانَ بِالرَّقَّةِ، ← أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning of one of the six scholars of the companions Muadh bin Jabal, may God be pleased with him · Hadith 5193

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ مَنَاقِبِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 5300

5300 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، ثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ: كَتَبَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ إِلَى رُسْتُمَ وَمِهْرَانَ وَمَلَأِ فَارِسَ: «سَلَامٌ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى أَمَا بَعْدُ، فَإِنَّا نَدْعُوكُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ، فَإِنْ أَبَيْتُمْ فَأَعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ، وَأَنْتُمْ صَاغِرُونَ، وَإِنْ أَبَيْتُمْ فَإِنَّ مَعِي قَوْمًا يُحِبُّونَ الْقَتْلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، كَمَا تُحِبُّ فَارِسُ الْخَمْرَ وَالسِّلْمَ» قَدِ اخْتَلَفُوا فِي وَقْتِ وَفَاةِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ وَقَدْ قَدَّمْتُهُ، عَنِ الْوَاقِدِيِّ سَنَةَ إِحْدَى وَعِشْرِينَ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 5300 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت ابووائل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے رستم ، مہران اور ایران کے سرداروں کو خط لکھا جس کا مضمون یہ تھا "سلام ہو اس پر جس نے ہدایت کی پیروی کی ۔ اما بعد ، ہم تمہیں اسلام کی دعوت دیتے ہیں ۔اگر تمہیں اسلام قبول کرنے سے انکار ہے ہوتو ہمارے ماتحت رہ کر تم ہمیں ٹیکس دو گے ۔ اور اگر تمہیں اس سے بھی انکار ہو تو یاد رکھو ہمارے پاس ایسی قوم ہے جو جہاد فی سبیل اللہ سے اتنی محبت کرتی ہیں جتنی محبت تم لوگ شراب اور جوئے سے کرتے ہو ۔حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی وفات کے بارے میں اختلاف ہے ۔ اس سے پہلے ہم نے واقدی کے حوالے سے 21 ہجری آپ کا سن وفات بیان کیا ہے ۔

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning the virtues of Khalid bin al-Walid, may God be pleased with him · Hadith 5300

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 4

4 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِيُّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ، خَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ يَوْمًا فَوَجَدَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ عِنْدَ قَبْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْكِي، فَقَالَ: مَا يُبْكِيكَ يَا مُعَاذُ؟ قَالَ: يُبْكِينِي حَدِيثٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «الْيَسِيرُ مِنَ الرِّيَاءِ شِرْكٌ، وَمَنْ عَادَى أَوْلِيَاءَ اللَّهِ فَقَدْ بَارَزَ اللَّهَ بِالْمُحَارَبَةِ، إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْأَبْرَارَ الْأَتْقِيَاءَ الْأَخْفِيَاءَ، الَّذِينَ إِنْ غَابُوا لَمْ يُفْتَقَدُوا، وَإِنْ حَضَرُوا لَمْ يُعْرَفُوا، قُلُوبُهُمْ مَصَابِيحُ الْهُدَى، يَخْرُجُونَ مِنْ كُلِّ غَبْرَاءَ مُظْلِمَةٍ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ وَلَمْ يُخَرَّجْ فِي الصَّحِيحَيْنِ، وَقَدِ احْتَجَّا جَمِيعًا بِزَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ الصَّحَابَةِ، وَاتَّفَقَا جَمِيعًا عَلَى الِاحْتِجَاجِ بِحَدِيثِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِيِّ وَهَذَا إِسْنَادٌ مِصْرِيٌّ صَحِيحٌ وَلَا يَحْفَظُ لَهُ عِلَّةٌ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4 - صحيح ولا علة له

حضرت زید بن اسلم بھی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ حضرت عمرؓ ایک دن مسجد نبوی میں آئے تو دیکھا کہ حضرت معاذ بن جبل ؓ آپ ﷺکیمز ار اقدس کے پاس بیٹھے رورہے ہیں، حضرت عمرؓ نے فرمایا: اے معاذ! کیوں رو رہے ہو؟ انہوں نے جواب دیا: میں نے رسول اللہﷺکی ایک حدیث سن رکھی ہے (اسے یاد کر کے)رو رہا ہوں (وہ حدیث یہ ہے) آپ نے فرمایا: ذرا سی ریا کاری بھی شرک ہے اور جس نے اللہ کے دوستوں سے دشمنی رکھی، اس نے اللہ تعالیٰ کے خلاف اعلان جنگ کردیا۔ اللہ تعالیٰ ان چھپے ہوئے ، پرہیز گار، نیک لوگوں سے محبت کرتا ہے، اگر کسی محفل میں وہ نہ آئیں تو کوئی ان کی غیر موجودگی کومحسوس نہ کرے اور اگر کسی مجلس میں موجود ہوں تو ان کو کوئی پہچانتا نہ ہو، ان کے دل ہدایت کے روشن چراغ ہوتے ہیںوہ (عمومًا) گردوغبار والے اور تاریک مقامات پر ملتے ہیں۔ حدیث "صحیح" ہے لیکن "صحیحین "میں اسے نقل نہیں کیا گیا ۔ حالانکہ ( امام بخاریؒ اور امام مسلم ؒ ) دونوں نے(اس حدیث کے راوی) "زید بن اسلم "کی وہ روایات نقل کی ہیں جن کی سندان کے والد سے ہوتی ہوئی متعددصحابہ کرام ؓ تک پہنچتی ہے اور دونوں نے (اسی حدیث کے راوی) لیث بن سعد کی عیاش بن صالح القتبانی کی روایات نقل کی ہیں ۔ یہ سند مصری ہے اورصحیح ہے، اس سند میں کوئی علت موجو دنہیں۔

أَبِيهِ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِيُّ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 4

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطِّبِّ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7496

7496 - أَخْبَرَنَا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزِّبْرِقَانِ، ثَنَا أَبُو دَاوُدَ، ثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زُرَارَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ، وَمَا رَأَيْتُ أَحَدًا مِنَّا بِهِ شَبِيهٌ يُحَدِّثُ أَنَّ سَعْدَ بْنَ زُرَارَةَ أَخَذَهُ وَجَعٌ وَتُسَمِّيهِ أَهْلُ الْمَدِينَةِ الذَّبْحَ فَكَوَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَاتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَيِّتُ سُوءٍ لَيَهُودُ لَيَقُولُونَ لَوْلَا دَفَعَ عَنْ صَاحِبِهِ وَلَا أَمْلِكُ لَهُ وَلَا شَيْئًا لِنَفْسِي» وَهَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7496 - على شرط البخاري ومسلم

محمد بن عبدالرحمن بن زرارہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سعد بن زرارہ کو تکلیف شروع ہو گئی اہل مدینہ اس درد کو ذبح کہتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسکو داغ لگوایا لیکن وہ فوت ہو گئے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کتنی بری میت ہے یہودی ہمیں طعنہ دیتے ہیں کہ ہم اپنے ساتھی کی بیماری دور نہیں کر سکے ۔ حالانکہ اصل بات یہ ہے کہ ہم اس کی شفاء کے مالک نہیں ہیں بلکہ ہم تو خود اپنی ذات کے مالک نہیں ہیں بے شک اگر اللہ نہ چاہے تو کوئی کسی کے نفع نقصان کا مالک نہیں ہو سکتا ) یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیاد کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔

عُمَرَ، وَمَا رَأَيْتُ أَحَدًا مِنَّا بِهِ شَبِيهٌ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زُرَارَةَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يَحْيَى بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزِّبْرِقَانِ، ← أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Medical writers › The merits of all Arabs · Hadith 7496

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَضَاحِيِّ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7517

7517 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ الْقُرَشِيُّ، بِالْكُوفَةِ، ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، ثَنَا زَيْدُ بْنُ عُقْبَةَ الْحَضْرَمِيُّ، حَدَّثَنِي خَيْرُ بْنُ نُعَيْمٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {وَالْفَجْرِ وَلِيَالٍ عَشْرٍ} [الفجر: 1] «عَشْرُ الْأُضْحِيَّةِ وَالْوِتْرُ يَوْمُ عَرَفَةَ وَالشَّفْعُ يَوْمُ النَّحْرِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ" [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7517 - على شرط مسلم

حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( والفجر ولیال عشر والشفع الوتر) کے بارے میں فرمایا اس میں دس راتوں سے مراد ذی الحج کی پہلی دس راتیں ہیں اور وتر سے مراد عرفہ کا دن ہے اور شفع سے مراد قربانی کا دن ہے ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیاد کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← خَيْرِ بْنِ نُعَيْمٍ، ← زَيْدُ بْنُ عُقْبَةَ الْحَضْرَمِيُّ، ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ الْقُرَشِيُّ، بِالْكُوفَةِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Sacrificial Book › The merits of all Arabs · Hadith 7517

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَضَاحِيِّ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7519

7519 - أَخْبَرَنَا عَبْدَانُ بْنُ يَزِيدَ الدَّقَّاقُ، بِهَمْدَانَ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: «إِذَا دَخَلَ عَشْرُ ذِي الْحِجَّةِ فَلَا تَأْخُذَنَّ مِنْ شَعْرِكَ وَلَا مِنْ أَظْفَارَكَ حَتَّى تُذْبَحُ أُضْحِيَّتِكَ» هَذَا شَاهِدٌ صَحِيحٌ لِحَدِيثِ مَالِكٍ وَإِنْ كَانَ مَوْقُوفًا " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7519 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں جب ذی الحجہ کا مہینہ شروع ہو جائے تو قربانی کرنے سے پہلے اپنے بال یا ناخن نہ کاٹو ۔ یہ حدیث اگرچہ موقوف ہے لیکن حضرت مالک کی حدیث کی شاہد ہے ۔

أُمِّ سَلَمَةَ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← عبدان بن يزيد الدقاق بهمدان

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Sacrificial Book › The merits of all Arabs · Hadith 7519

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَضَاحِيِّ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7521

7521 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ الْآدَمِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَاهَانَ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْعَتِيكِ فَحَدَّثَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ أَنَّ يَحْيَى بْنَ يَعْمَرَ يَقُولُ: «مَنِ اشْتَرَى أُضْحِيَّةَ فِي الْعَشْرِ فَلَا يَأْخُذُ مِنْ شَعْرِهِ وَأَظْفَارِهِ» قَالَ سَعِيدٌ: نَعَمْ فَقُلْتُ: عَنْ مَنْ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ؟ قَالَ: عَنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ، صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7521 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

شعبہ بیان کرتے ہیں کہ قتادہ نے انہیں بتایا ہے کہ عتیک سے ایک آدمی آیا اور اس نے سعید بن مسیب کو بتایا کہ حضرت یحییٰ بن یعمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ جو شخص ذی الحج میں قربانی خریدے وہ اپنے بال اور ناخن نہ کٹوائے سعید نے کہا جی ہاں میں نے کہا اے ابو محمد تم یہ بات کس کے حوالے سے بیان کر رہے ہو ؟ انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے حوالے سے ۔

أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ، [التعليق من تلخيص الذهبي] سكت عنه الذهبي في التلخيص ← مَنْ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ؟ ← سَعِيدٌ: نَعَمْ فَقُلْتُ: ← «مَنِ اشْتَرَى أُضْحِيَّةَ فِي الْعَشْرِ فَلَا يَأْخُذُ مِنْ شَعْرِهِ وَأَظْفَارِهِ» ← جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْعَتِيكِ فَحَدَّثَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ أَنَّ يَحْيَى بْنَ يَعْمَرَ ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← مُحَمَّدُ بْنُ مَاهَانَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ الْآدَمِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Sacrificial Book › The merits of all Arabs · Hadith 7521

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَضَاحِيِّ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7524

7524 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثَنَا النَّضْرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبَجَلِيُّ، ثَنَا أَبُو حَمْزَةَ الثُّمَالِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يَا فَاطِمَةُ قَوْمِي إِلَى أُضْحِيَّتِكَ فَاشْهَدِيهَا فَإِنَّهُ يُغْفَرُ لَكِ عِنْدَ أَوَّلِ قَطْرَةٍ تَقْطُرُ مِنْ دَمِهَا كُلُّ ذَنْبٍ عَمِلْتِيهِ وَقُولِي: إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهُ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ " قَالَ عِمْرَانُ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا لَكَ وَلِأَهْلِ بَيْتِكِ خَاصَّةً فَأَهَلَّ ذَاكَ أَنْتُمْ أَمْ لِلْمُسْلِمِينَ عَامَّةً؟ قَالَ: «لَا بَلْ لِلْمُسْلِمِينَ عَامَّةً» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " وَشَاهِدُهُ حَدِيثُ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الَّذِي [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7524 - بل أبو حمزة ضعيف جدا

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے فاطمہ اپنی قربانی ( کے جانور ) کے پاس کھڑی ہو جاؤ اور اس کو قربان ہوتے ہوئے دیکھو کیونکہ اس کے خون کا پہلا قطرہ زمین پر گرتے ہی تیری زندگی کے تمام گناہوں کو معاف کر دیا جائے اور قربانی کے وقت یہ دعا مانگو۔ " تم فرماؤ بے شک میری نماز اور میری قربانیاں اور میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ کے لیے ہے جو رب سارے جہان کا اس کا کوئی شریک نہیں مجھے یہی حکم ہوا ہے اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں ( ترجمہ اکنزالایمان ) عمران کہتے ہیں میں نے کہایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ عمل صرف آپ کے خاندان کے لیے خاص ہے یا عام مسلمانوں کو بھی اس کی اجازت ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر مسلمان کو اس کی اجازت ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبُو حَمْزَةَ الثُّمَالِيُّ ← النَّضْرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبَجَلِيُّ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Sacrificial Book › The merits of all Arabs · Hadith 7524

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَضَاحِيِّ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7525

7525 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَبِيبٍ الْمَعْمَرِيُّ، ثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ثَنَا عَمْرُو بْنُ قَيْسٍ الْمُلَائِيُّ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِفَاطِمَةَ عَلَيْهَا الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: «قَوْمِي إِلَى أُضْحِيَّتِكَ فَاشْهَدِيهَا فَإِنَّ لَكِ بِأَوَّلِ قَطْرَةٍ تَقْطُرُ مِنْ دَمِهَا يُغْفَرُ لَكِ مَا سَلَفَ مِنْ ذُنُوبُكَ» قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا لَنَا أَهْلَ الْبَيْتِ خَاصَّةً أَوْ لَنَا وَلِلْمُسْلِمِينَ عَامَّةً؟ قَالَ: «بَلْ لَنَا وَلِلْمُسْلِمِينَ عَامَّةً» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7525 - عطية واه

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ کائنات حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا اٹھو اپنا جانور قربان ہوتے ہوئے دیکھو کیونکہ اس کے خون کا پہلا قطرہ زمین پر گرنے سے پہلے تیرے سابقہ تمام گناہ بخش دیئے جائیں گے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا یہ حکم صرف ہمارے گھرانے کے لیے ہے یا باقی تمام مسلمانوں کے لیے بھی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ حکم تمام مسلمانوں کے لیے ہے ۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطِيَّةَ، ← عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ الْمُلَائِيِّ، ← دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَبِيبٍ الْمَعْمَرِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Sacrificial Book › The merits of all Arabs · Hadith 7525

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَضَاحِيِّ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7529

7529 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، وَسَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ، حَدَّثَهُمْ عَنْ عِيسَى بْنِ هِلَالٍ الصَّدَفِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أُمِرْتُ بِيَوْمِ الْأَضْحَى عِيدًا جَعَلَهُ اللَّهُ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ» قَالَ الرَّجُلُ: فَإِنْ لَمْ أَجِدْ إِلَّا مَنِيحَةً أُنْثَى أَوْ شَاةَ أَهْلِي أَوْ مَنِيحَتَهُمْ أَذْبَحُهَا قَالَ: «لَا، وَلَكِنْ قَلِّمْ أَظْفَارَكَ، وَقُصَّ شَارِبَكَ، وَاحْلِقْ عَانَتَكَ فَذَاكَ تَمَامُ أُضْحِيَّتِكَ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7529 - هذا حديث صحيح

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں میں آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو فرمایا مجھے حکم دیا گیا ہے کہ قربانی کے دن کو عید بناؤں اللہ نے یہ دن اس امت کے لیے عید بنا دیا ہے ۔ اس آدمی نے کہا اگر میرے پاس منیحہ ( ایسی اونٹنی جو کسی سے فائدہ اٹھانے کے لیے لی گئی ہو ) یا گھر والوں کی بکری یا گھر والوں کی منیحہ کے علاوہ میرے پاس کوئی جانور نہ ہو تو کیا میں اس کو ذبح کر لوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں لیکن ( قربانی کے دن ) اپنے ناخن کاٹ لے اپنی مونچھیں پست کر والے اور بال کاٹ لے تجھے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے اسی عمل کی بدولت قربانی کا ثواب مل جائے گا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔

لَهُ رَسُولُ اللَّهِ «أُمِرْتُ بِيَوْمِ الْأَضْحَى عِيدًا جَعَلَهُ اللَّهُ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ» ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ ← عِيسَى بْنِ هِلَالٍ الصَّدَفِيِّ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ عَیَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، وَسَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Sacrificial Book › The merits of all Arabs · Hadith 7529

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَضَاحِيِّ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7554

7554 - وَحَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَكْرٍ الْعَدْلُ، ثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَنْبَأَ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: ذَبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُضْحِيَّتَهُ ثُمَّ قَالَ: «اللَّهُمَّ هَذَا عَنِّي وَعَنْ أُمَّتِي»

ابن ابی رافع اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کا جانور ذبح کرنے کی بعد یہ دعا مانگی ۔ " یا اللہ یہ قربانی میری طرف سے اور میری امت کی طرف سے قبول فرما "

«اللَّهُمَّ هَذَا عَنِّي وَعَنْ أُمَّتِي» ← ذَبَحَ رَسُولُ اللَّهِ أُضْحِيَّتَهُ ثُمَّ ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← ابْنِ اَبِیْ رَافِعٍ ← عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَنْبَأَ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، ← الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، ← وَحَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَكْرٍ الْعَدْلُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Sacrificial Book › The merits of all Arabs · Hadith 7554

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَضَاحِيِّ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7555

7555 - وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثَنَا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي أَبُو عَقِيلٍ زُهْرَةُ بْنُ مَعْبَدٍ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هِشَامٍ، وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَهَبَتْ بِهِ أُمُّهُ زَيْنَبُ بِنْتُ حُمَيْدٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ صَغِيرٌ فَمَسَحَ رَأْسَهُ وَدَعَا لَهُ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُضَحِّي بِالشَّاةِ الْوَاحِدَةِ عَنْ جَمِيعِ أَهْلِهِ» هَذِهِ الْأَحَادِيثُ كُلُّهَا صَحِيحَةُ الْأَسَانِيدِ فِي الرُّخْصَةِ فِي الْأُضْحِيَّةِ بِالشَّاةِ الْوَاحِدَةِ عَنِ الْجَمَاعَةِ الَّتِي لَا يُحْصَى عَدَدُهُمْ خِلَافَ مَنْ يَتَوَهَّمُ أَنَّهَا لَا تُجْزِئُ إِلَّا عَنِ الْوَاحِدِ، وَقَدْ رُوِيَتْ أَخْبَارٌ فِي الْأُضْحِيَّةِ عَنِ الْأَمْوَاتِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7555 - صحيح

حضرت عبداللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ صحابی رسول ہیں ان کی والدہ زینت بنت حمیدان کو بچپن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں لائی تھیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سرپر ہاتھ بھی پھیرا تھا اور ان کے لیے دعا بھی فرمائی تھی آپ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پورے گھر والوں کی طرف سے ایک ہی بکری قربانی کیا کرتے تھے ۔ ان تمام احادیث کی اسنادیں صحیح ہیں ان سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ متعدد لوگوں کی جانب سے ایک بکری قربان کی جا سکتی ہے ۔ اس حدیث کو رابوں کی تعداد بہت زیادہ ہے اور جولوگ اس موقف کے قائل ہیں کہ ایک بکری صرف ایک شخص ہی کی جانب سے ہو سکتی ہے ان کی تعداد بہت کم ہے اور فوت شدگان کی طرف سے قربانی کرنے کے حوالے سے بھی احادیث موجود ہیں ۔

جَدَّهُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ هِشَامٍ ← أَبُو عَقِيلٍ زُهْرَةُ بْنُ مَعْبَدٍ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ← السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Sacrificial Book › The merits of all Arabs · Hadith 7555

chevron_left Previous
1…333435…579
Next chevron_right