Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الأضحية والعقيقة

Qurbani & Aqiqah

11564 hadiths

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 464

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ وَبَحْرُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَابَقٍ الْخَوْلَانِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ -رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ-، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: أَنَّهُ كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ كَبَّرَ وَيَقُولُ حِينَ يَفْتَتِحُ الصَّلَاةَ بَعْدَ التَّكْبِيرِ: "وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ"، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ. وَقَالَا: "وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ". وَلَمْ يَذْكُرَا: "وَاهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ، لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ". وَلَا: "وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا، لَا يَصْرِفُ سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ".

"حضرت علی بن ابی طالب ؓ رسول اللہﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ جب آپ فرض نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اللہ اکبر کہتے اور اللہ اکبر کہنے کے بعد جب نماز شروع کرتے تو یہ دعا پڑھتے ۔"وجھت وجھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔"میں نے اپنا چہرہ اس ذات اقدس کی طرف متوجہ کر لیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا ہے ۔" پھر مکمل حدیث بیان کی اور فرمایا: " اور میں مسلمانوں میں سے ہوں ۔" امام صاحب کے اساتذہ کرام جناب ربیع بن سلیمان اور بحربن نصر ) دونوں نے یہ الفاظ ذکر نہیں کیے : " اور مجھے بہترین اخلاق کی راہ دکھا، بہترین اخلاق کی راہنمائی تیرے سوا کوئی نہیں کرتا۔" اور نہ یہ الفاظ روایت کیے ہیں: " اور مجھے برے اخلاق سے پھیر دے ، برے اخلاق کو تیرے سوا کوئی ذات نہیں پھیر سکتی ۔"

الحديث بطوله ← حِينَ يَفْتَتِحُ الصَّلَاةَ بَعْدَ التَّكْبِيرِ: "وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ"، ← رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ كَبَّرَ ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ وَبَحْرُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَابَقٍ الْخَوْلَانِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 464

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 465

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، وَيُوسُفُ بْنُ مُوسَى وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ وَغَيْرُهُمْ، قَالَ عَلِيٌّ: أَخْبَرَنَا، وَقَالُ الْآخَرُونَ: حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا كَبَّرَ فِي الصَّلَاةِ، سَكَتَ هُنَيَّةً، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! بِأَبِي وَأُمِّي مَا تَقُولُ فِي سُكُوتِكَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ؟ قَالَ: أَقُولُ: "اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنْ خَطَايَايَ كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ، اللَّهُمَّ اغْسِلْنِي مِنْ خَطَايَايَ بِالثَّلْجِ وَالْمَاءِ وَالْبَرَدِ".

"حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتےہیں کہ رسول اللہﷺ جب نماز ( کی ابتداء ) میں اللہ اکبر کہتے تو تھوڑی دیر خاموش رہتے ، تو میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، یہ فرمائیں کہ آپ تکبیر اور قراء ت کےدرمیان اپنی خاموشی میں کیا پڑھتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: میں یہ دعا پڑھتا ہوں:اَللھُمَّ نَقِّنِیْ مِنْ خَطَایَایَ کَمَا یُنَقَّی الثَّوْبُ الأَبَیْضُ مِنَ الدَّنَسِ ، اَللھُمَّ اغْسِلْنِیْ مِنْ خَطَایَایً بِالثَّلْجِ وَالْمَاءِ وَالْبَرَدِ۔" اے اللہ ! میرے میری خطاؤں کے درمیان اسی طرح دوری ڈال دے جیسے تو نے مشرق و مغرب کے درمیان دوری ڈالی ہے ۔ اے اللہ مجھے میری خطاؤں سے اس طرح پاک صاف کر دے جیسے سفید کپڑا میل کچیل سے پاک صاف کیا جاتا ہے ، اے اللہ میرے گناہوں کو برف ، پانی اور اولوں سے دھو دے ۔"

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ إِذَا كَبَّرَ فِي الصَّلَاةِ، سَكَتَ هُنَيَّةً، فَقُلْتُ: ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ← جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← وَقَالُ الْآخَرُونَ: ← عَلِيٍّ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، وَيُوسُفُ بْنُ مُوسَى وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ وَغَيْرُهُمْ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 465

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ الهمزة مع الغين · حديث 987

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، ثَنَا بُنْدَارٌ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَسَهْلُ بْنُ يُوسُفَ وَعَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ، قَالُوا: ثَنَا عَوْفٌ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ، ثَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ قَالَ: كُنَّا فِي سَفَرٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنَّا سَرَيْنَا ذَاتَ لَيْلَةٍ حَتَّى إِذَا كَانَ السَّحَرُ قَبْلَ الصُّبْحِ وَقَعْنَا تِلْكَ الْوَقْعَةَ، وَلَا وَقْعَةَ أَحْلَى عِنْدَ الْمُسَافِرِ مِنْهَا، فَمَا أَيْقَظَنَا إِلَّا حَرُّ الشَّمْسِ، وَكَانَ أَوَّلُ مَنِ اسْتَيْقَظَ فُلَانٌ، ثُمَّ فُلَانٌ، كَانَ يُسَمِّيهِمْ أَبُو رَجَاءٍ، وَيُسَمِّيهِمْ عَوْفٌ، ثُمَّ عُمَرُ الرَّابِعُ. وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ [109 - ب] صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَامَ لَمْ نُوقِظْهُ حَتَّى يَكُونَ هُوَ يَسْتَيْقِظُ، لِأَنَّا لَا نَدْرِي مَا يَحْدُثُ لَهُ فِي نَوْمِهِ. فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَرَأَى مَا أَصَابَ النَّاسَ فَكَانَ رَجُلًا أَجْوَفَ جَلِيدًا، فَكَبَّرَ وَرَفَعَ صَوْتَهُ بِالتَّكْبِيرِ، فَمَا زَالَ يُكَبِّرُ وَيَرْفَعُ صَوْتَهُ حَتَّى اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَوْتِهِ، فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ شَكَوْا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي أَصَابَهُمْ. فَقَالَ: "لَا ضَيْرَ، أَوْ لَا يَضِيرُ، ارْتَحِلُوا". فَارْتَحَلُوا، فَسَارَ غَيْرَ بَعِيدٍ، ثُمَّ نَزَلَ فَدَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ نَادَى بِالصَّلَاةِ فَصَلَّى بِالنَّاسِ.

" حضؓرت عمران بن حصین ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے اور ہم ایک رات چلتے رہےحتی کہ صبح سے پہلے سحری کا وقت ہوا تو ہم آرام کی لیے لیٹ گئے، اور مسافر کی لیے اس وقت سے زیادہ میٹھی نیند والا وقت اور کوئی نہیں ( اس لیے ہم گہری نیند سوئے رہے) ۔ پھر ہمیں سورج کی حرارت نے ہی بیدار کیا ، سب سے پہلے فلاں شخص بیدار ہوا، پھر فلاں ، ابو رجا ان کے نام بتایا کرتے تھے ، اور عوف بھی ان کے نام بیان کرتے تھے ۔ اور رسول اللہ ﷺ جب سو جاتے تو ہم آپ کو جگایا نہیں کرتے تھے حتی کہ آپ خود ہی بیدار ہو جاتے ، کیونکہ ہمیں نہیں معلوم انہیں نیند میں کیا واقعہ پیش آرہا ہو( کوئی حکم وغیرہ نہ دیا جارہا ہو) ۔ پھر جب حضرت عمر بیدار ہوئے اور انہوں نے لوگون کی پریشانی دیکھی ، اور برے بلند آواز مضبوط و توانا آدمی تھے، تو انہوں نے بلند آواز سے اللہ اکبر کہنا شروع کر دیا ۔ پھر وہ مسلسل بلند آواز سے تکبیر کہتے رہے حتی کہ رسول اللہ ﷺ ان کی آواز سے بیدار ہو گئے۔ جب آپ جاگے تو صحابہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ کو اپنی پریشانی سے آگاہ کیا ( کہ ہماری نماز رہ گئی ہے ) آپ نے فرمایا : کوئی نقصان نہیں ، یا کوئی پریشانی کی بات نہیں ، تم کوچ کرو ، لہٰذا صحابہ کرام نے وہان سے کوچ کیا ، آپ تھوڑی دور تک چلے، پھر سواری سے اترے اور پانی منگوا کر وضو کیا ، پھر اذان کہلائی اور لوگوں کو نماز پڑھائی۔"

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← أَبِي رَجَاءٍ، ← عَوْفٌ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ، ← سَهْلُ بْنُ يُوسُفَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ← بُنْدَارٌ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness · Hadith 987

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1630

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ وَيُوسُفُ بْنُ مُوسَى، وَجَمَاعَةٌ، قَالُوا: ثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ النبي - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا كَبَّرَ فِي الصَّلَاةِ سَكَتَ هُنَيْهَةً. فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! بِأَبِي وَأُمِّي مَا تَقُولُ فِي سُكُوتِكَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ؟ قَالَ: "أَقُولُ: اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنْ خَطَايَايَ كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ، اللَّهُمَّ اغْسِلْنِي مِنْ خَطَايَايَ بِالثَّلْجِ وَالْمَاءِ وَالْبَرَدِ".

"حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز کی تکبیر کہتے تو کچھ خاموش رہتے۔میں نے عرض کی:اے اللہ کے رسو ل ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ تکبیر اور قراءت کے درمیان اپنی خاموشی میں کیا دعا پڑھتے ہیں؟ آپ نے فرمایا:میں یہ پڑھتا ہوں:اللّٰھُمَّ بَاعِدْ بَیْنِیْ وَبَیْنَ خَطَایَایَ۔۔۔۔ "اے میرے اللہ! میرے اور میرے گناہوں کے درمیان اسی طرح دوری ڈال دے جس طرح تو نے مشرق ومغرب کے درمیان دوری ڈالی ہے۔اے میرے پروردگار! مجھے میرے خطاؤں سے اسی طرح پاک صاف کر دے جس طرح سفید کپڑا میل کچیل سے صاف کیا جاتا ہے۔اے میرے اللہ! مجھے میری خطاؤں سے برف ، پانی اور اولوں کے ساتھ دھو دے۔‘

كَانَ النبي إِذَا كَبَّرَ فِي الصَّلَاةِ سَكَتَ هُنَيْهَةً. فَقُلْتُ: ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ← جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ وَيُوسُفُ بْنُ مُوسَى، وَجَمَاعَةٌ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein · Hadith 1630

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ النِّسَاءِ فِی الجَمَاعَۃِ · حديث 1706

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، نَا سُفْيَانُ، نَا عَمْرٌو -وَهُوَ ابْنُ دِينَارٍ- أَخْبَرَنِي أَبُو مَعْبَدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كُنْتُ أَعْرِفُ انْقِضَاءَ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالتَّكْبِيرِ.

’’حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی نماز کے اختتام کو اللہ اکبر کی آواز سے پہچانتا تھا۔‘‘

كُنْتُ أَعْرِفُ انْقِضَاءَ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ بالتكبير2. ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبُو مَعْبَدٍ، ← عَمْرٍو -وَهُوَ ابْنُ دِينَارٍ- ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation · Hadith 1706

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الأذَانِ وَالخُطبَۃِ فِی الجُمُعَۃِ وَمَا یَجِبُ عَلَی المَأمُومِینَ فِی ذلِکَ الوَقتِ مِنَ الاِستِمَاعِ لِلخُطبَۃِ وَالاِنصَاتِ لَھَا ، وَمَا أُبِیحَ لَہُم مِنَ الأَفعَالِ وَمَا نُھُوا عَنہُ · حديث 1785

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى الْبِسْطَامِيُّ، نَا أَنَسٌ -يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ؛ ح وَحَدَّثَنَا عُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَنَا سُفْيَانُ، عَنْ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ: يَحْمَدُ اللَّهَ وَيُثْنِي عَلَيْهِ بِمَا هُوَ لَهُ أَهْلٌ، ثُمَّ يَقُولُ: "مَنْ يَهْدِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، إِنَّ أَصْدَقَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ، وَأَحْسَنَ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ، وَشَرَّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا، وَكُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ، وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ، وَكُلَّ ضَلَالَةٍ فِي النَّارِ". ثُمَّ يَقُولُ: "بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ". وَكَانَ إِذَا ذَكَرَ السَّاعَةَ احْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ، وَعَلَا صَوْتُهُ، وَاشْتَدَّ غَضَبُهُ، كَأَنَّهُ نَذِيرُ جَيْشٍ صَبَّحَتْكُمُ السَّاعَةُ مَسّأَتْكُمْ، ثُمَّ يَقُولُ: "مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِأَهْلِهِ، وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعًا فَإِلَيَّ أَوْ عَلَيَّ، وَأَنَا وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ". هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ الْمُبَارَكِ. وَلَفْظُ أَنَسِ بْنِ عِيَاضٍ مُخَالِفٌ لِهَذَا اللَّفْظِ.

"حضر ت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں :" رسول اللہﷺ اپنے خطبے میں اللہ تعالیٰ کی شان کے لائق حمد وثنا ء بیان کرتے تھے پھر فرماتے : "جسے اللہ راہ راست پر ڈال دے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے اللہ گمراہ کر دے ، اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں ہے ۔ یقیناً سب سے سچی بات اللہ کی کتاب ( قرآن مجید ) ہے اور بہترین سیر ت و طریقہ محمد ﷺ کی سیرت وطریقہ ہے اور بدترین کام دین میں نئے کام ایجا د کرنا ہے ۔ اور نیا کام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے اور گمراہی جہنم میں ( جانے کا سبب) ہوگی ۔" پھر آپ فرماتے " میں اور قیامت ان دو انگلیوں کی طرح قریب قریب بھیجے گئے ہیں ، اور جب آپ قیامت کا ذکر فرماتے تو آپ کے رخسار سر خ ہوجاتے آپ کی آواز بلند ہوجاتی اور آپ شدید غصے میں آجاتے ،گویا کہ آپ لشکر جرار سے ڈرنے والے ہوں ۔ صبح کو قیامت بر پا ہونے والی ہے ، رات کو قیامت آنے والی ہے ۔ "پھر آپ فرماتے :"جو شخص مال چھوڑ گیا وہ اس کے وارثوں کا ہے اور جس نے قرض یا بچے چھوڑ ے تو وہ میرے ذمے ہیں اور میں ان کی پرورش کروں گا اور میں مومنوں کا ولی اور دوست ہوں ۔ یہ ابن مبارک کی حدیث کے الفاظ ہیں ۔ اور انس بن عیاض کی حدیث کے الفاظ اس سے مختلف ہیں ۔"

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِيهِ ← جَعْفَرٌ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← عتبة بن عبد الله ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← أَنَسٌ يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ ← الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى الْبِسْطَامِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them · Hadith 1785

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2358

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، وَمُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ، -وَهُوَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ التَّيْمِيُّ الرَّبَابُ-، عَنْ يَزِيدَ بْنِ حَيَّانَ قَالَ: انْطَلَقْتُ أَنَا وَحُصَيْنُ بْنُ سَمُرَةَ وَعَمْرُو بْنُ مُسْلِمٍ إِلَى زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ فَجَلَسْنَا إِلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ حَصِينٌ: يَا زَيْدُ! رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، وَصَلَّيْتَ خَلْفَهُ، وَسَمِعْتَ حَدِيثَهُ، وَغَزَوْتَ مَعَهُ، لَقَدْ أَصَبْتَ يَا زَيْدُ خَيْرًا كَثِيرًا. حَدَّثَنَا يَا زَيْدُ حَدِيثًا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَا شَهِدْتَ مَعَهُ. قَالَ: بَلَى، ابْنَ أَخِي، لَقَدْ قَدِمَ عَهْدِي، وَكَبُرَتْ سِنِي وَنَسِيتُ بَعْضَ الَّذِي كُنْتُ أَعِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَمَا حَدَّثْتُكُمْ فَاقْبَلُوهُ، وَمَا لَمْ أُحَدِّثْكُمُوهُ فَلَا تُكَلِّفُونِي. قَالَ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا خَطِيبًا بِمَاءٍ يُدْعَى خُمٍّ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَوَعَظَ وَذَكَّرَ، ثُمَّ قَالَ: "أَمَّا بَعْدُ أَيُّهَا النَّاسُ! فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ يُوشِكُ أَنْ يَأْتِيَنِي رَسُولُ رَبِّي فَأُجِيبَهُ. وَإِنِّي تَارِكٌ فِيكُمُ الثَّقَلَيْنِ أَوَّلُهُمَا: كِتَابُ اللَّهِ، فِيهِ الْهُدَى وَالنُّورُ، مَنِ اسْتَمْسَكَ بِهِ وَأَخَذَ بِهِ كَانَ عَلَى الْهُدَى، وَمَنْ تَرَكَهُ وَأَخْطَأَهُ كَانَ عَلَى الضَّلَالَةِ، وَأَهْلُ بَيْتِي أُذَكِّرْكُمُ اللَّهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي" ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. قَالَ حَصِينٌ: فَمَنْ أَهْلُ بَيْتِهِ يَا زَيْدُ؟ أَلَيْسَتْ نِسَاؤُهُ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ؟ قَالَ: بَلَى! نِسَاؤُهُ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ، وَلَكِنَّ أَهْلَ بَيْتِهِ مَنْ حُرِمَ الصَّدَقَةَ. قَالَ: مَنْ هُمْ؟ قَالَ: آلُ عَلِيٍّ، وَآلُ عُقَيْلٍ، وَآلُ جَعْفَرٍ، وَآلُ الْعَبَّاسِ. قَالَ حَصِينٌ: وَكُلُّ هَؤُلَاءِ حُرِمَ الصَّدَقَةَ؟ قَالَ: نَعَمْ.

جناب یزید بن حیان بیان کرتے ہیں: میں حصین بن سمرہ اور عمرو بن مسلم حضرت زید بن ارقم ؓ کے پاس گئے اور ان کے پاس بیٹھ گئے ، جناب حصین نے انہیں کہا: اے زید ؓ ! آپ نے رسول اللہﷺ کی زیارت کی سعادت حاصل کی ہوئی ہے اور آپ کے پیچھے نمازیں بھی ادا کی ہیں۔ آپ کے فرامین سنے ہیں اور آپ کے ساتھ غزوات میں شرکت کی ہے ۔ اے زید! یقیناً آ پ نے بہت ساری خیرو برکت پائی ہے ۔ اے زید ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیں جو آپ نے رسول اللہﷺ سے سنی ہو اور آپ نبی کریمﷺ کے ساتھ اس وقت موجود بھی ہو ں۔ انہوں نے کہا: ضرور ، اے بھتیجے !(رسول اللہﷺ سے) میری ملاقات بہت پرانی ہوچکی ہے اور میں بوڑھا ہوگیا ہوں اور رسول اللہﷺ کے یاد کیے ہوئے بعض فرامین بھی ہو بھول چکا ہوں ۔ لہٰذا جو چیز میں تمہیں بیان کرد وں وہ قبول کر لو اور جو میں بیان نہ کر سکوں تو تم مجھے اس کا مکلّف نہ بناؤ۔ پھر فرمایا: ایک دن رسول اللہﷺ پانی کے ایک مقام جسے خإ کہا جاتا ہے وہاں پر ہمیں خطبہ دینے کےلیے کھڑے ہوئے ۔ آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کی۔ آپ نے ہمیں وعظ ونصیحت فرمائی۔ پھر فرمایا: "اما بعد! اے لوگو! بلاشبہ میں بھی ایک انسان ہی ہوں ۔ قریب ہے کہ میرے پاس میرے رب کا قاصد آئے تو میں اس کی بات مان لوں اور بے شک میں تمہارے درمیان دو نہایت اہم اور قیمتی چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں : ان میں سے پہلی اللہ کی کتاب قرآن مجید ہے ۔ اس میں ہدایت اور نور ہے جس شخص نے اسے تھام لیا اور اس پر عمل پیرا رہا تو وہ ہدایت یافتہ ہوگا اور جس نے اسے ترک کر دیا اور اس پر عمل نہ کیا تو وہ گمراہ ہو جائے گا ۔ دوسری چیز میرے اہل بیت ہیں ۔ میں تمہیں اپنے اہل بیت کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈراتا ہوں ( ان کے ساتھ حسن سلوک کرنا اور بدسلوکی سے بچنا ) آپ نے یہ بات تین بار فرمائی ۔" جناب حصین کہتےہیں: اے زید ! آپ ﷺ کے اہل بیت کون ہیں ؟ کیا آپ کی ازواج مطہرات آپ کے اہل بیت میں سے نہیں؟ انہوں نے فرمایا: کیوں نہیں ، آپ کی ازواج مطہرات آپ کے اہل بیت میں شامل ہیں ۔ لیکن آپ کے اہل بیت وہ لوگ ہین جن پر زکوٰۃ کا مال حرام کیا گیا ہے ۔ اس نے عرض کی: وہ کون کون ہیں؟ انہوں نے فرمایا: وہ آل علی ، آل عقیل ، آل جعفر او رآل عباس ہیں۔ جناب حصین نے پوچھا : کیا ان سب پر صدقہ حرام ہے؟ حضرت زید ؓ نے فرمایا: ہاں ۔

يَزِيدَ بْنِ حَيَّانَ ← أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ وَهُوَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ التَّيْمِيُّ الرَّبَابُ، ← جَرِيرٌ وَمُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2358

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2890

ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، ثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: ذَبَحَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمِنًى. قَالَ: "وَمِنًى كُلُّهَا مَنْحَرٌ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذِهِ اللَّفْظَةُ "وَمِنًى كُلُّهَا مَنْحَرٌ" مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي أَعْلَمْتُ فِي غَيْرِ مَوْضِعٍ مِنْ كُتُبِي أَنَّ الْحُكْمَ بِالنَّظيرِ وَالشَّبِيهِ وَاجِبٌ، لِأَنَّ فِي قَوْلِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "مِنًى كُلُّهَا مَنْحَرٌ" دَلَالَة عَلَى أَنَّهُ أَبَاحَ الذَّبْحَ أَيْضًا إِنْ شَاءَ الذَّابِحُ مِنْ مِنًى، وَلَوْ كَانَ عَلَى خِلَافِ مَذْهَبِنَا فِي الْحُكْمِ بِالنَّظِيرِ وَالشَّبِيهِ وَكَانَ عَلَى مَا زَعَمَ بَعْضُ أَصْحَابِنَا مِمَّنْ خَالَفَ الْمُطَّلِبِيَّ فِي هَذِهِ الْمَسْأَلَةِ، وَزَعَمَ أَنَّ الدَّلِيلَ الَّذِي لَا يُحْتَمَلُ غَيْرُهُ أَنَّهُ إِذَا خَصَّ فِي إِبَاحَةِ شَيْءٍ بِعَيْنِهِ كَانَ الدَّلِيلُ الَّذِي لَا يُحْتَمَلُ غَيْرُ مَنْ زَعَمَ أَنَّ مَا كَانَ غَيْرَ ذَلِكَ الشَّيْء بِعَيْنِهِ مَحْظُورٌ، كَانَ فِي قَوْلِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "مِنًى كُلُّهَا مَنْحَرٌ" دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ كُلَّهَا لَيْسَ بِمَذْبَحٍ، وَاتِّفَاقِ الْجَمِيعِ مِنَ الْعُلَمَاءِ عَلَى أَنَّ جَمِيعَ مِنًى مَذْبَحٌ، كَمَا خَبَّرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهَا مَنْحَرٌ دَالٌ عَلَى صِحَّةِ مَذْهَبِنَا، وَبُطْلَانِ مَذْهَبِ مُخَالِفِينَا، إِذْ مُحَالٌ أَنْ يَتَّفِقَ الْجَمِيعُ مِنَ الْعُلَمَاءِ عَلَى خِلَافِ دَلِيلِ قَوْلِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَجُوزُ غَيْرُهُ.

حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے منیٰ میں قربانی کا جانور ذبح کیا اور فرمایا:"منیٰ کا سارا علاقہ اونٹ کی قربان گاہ ہے۔"امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں: حدیث کےیہ الفاظ "منیٰ کا سارا علاقہ قربان گاہ ہے۔" یہ مسئلہ اسی قسم کا ہے جسے میں اپنی کتب میں بیان کر چکا ہوں کہ ایک جیسے ،ملتے جلتے مسائل میں ایک ہی حکم لگانا واجب ہے ۔ کیونکہ نبی کریم ﷺ کے یہ الفاظ :"پورا منیٰ اونٹ کی قربان گاہ ہے"اس بات کی دلیل ہے کہ آپ نے سارے منیٰ میں گائے ، بکری وغیرہ ذبح کرنے کو بھی جائز قرار دیا ہے۔ اگر معاملہ ہمارے مخالفین کے موقف کے مطابق ہوتا کہ ایک جیسے مسائل میں ایک جیسا حکم لگانا درست نہیں اور جیسا کہ ہمارے بعض ساتھیوں نے جناب مطلبی کی مخالفت میں کہا ہے اس کا خیال ہے کہ جب کسی مخصوص چیز کو جائز قرار دیا جائے تو دیگر چیزیں ممنوع ہوں گی تو پھر نبی کریم ﷺ کے اس فرمان :"پورامنیٰ اونٹ کی قربان گاہ ہے " میں یہ دلیل ہوتی کہ پورا منیٰ دیگر جانوروں کا ذبح خانہ نہیں ہے۔ حالانکہ تمام علمائے کرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ منی کا سارا علاقہ گائے بکری کے لیے ذبح خانہ ہے ۔ جیسا کہ نبی اکرم ﷺ نے بتایا ہے کہ سارا منی اونٹ کی قربان گاہ ہے۔ آپ کا یہ فرمان ہمارے موقف کےدرست ہونے اور ہمارے مخالفین کے موقف کے غلط ہونے کی دلیل ہے۔ کیونکہ یہ باممکن ہے کہ تمام علمائے کرام نبی کریمﷺ کے قول کے خلاف متفق ہو جائیں۔

"وَمِنًى كُلُّهَا مَنْحَرٌ". ← ذَبَحَ رَسُولُ اللَّهِ بِمِنًى. ← جَابِرٍ ← أَبِيهِ ← جَعْفَرٌ، ← حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2890

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2906

ثنا محمد بن عيسى ثنا سلمة قال حدثني محمد بن إسحاق عن محمد بن مسلم الزهري عن عروة بن الزبير عن المسور بن مخرمة و مروان بن الحكم إنهما حدثاه قالا : خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم عام الحديبية يريد زيارة البيت لا يريد قتالا و ساق معه الهدى سبعين بدنة و كان الناس سبعمائة رجل فكانت كل بدنة عن عشرة نفر قال محمد فحدثني الأعمش عن أبي سفيان عن جابر بن عبد الله الأنصاري قال : كنا أصحاب الحديبية أربع عشر مائة

حضرت مسعود بن مخرمہ ؓ اور مروان بن حکم ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ حدیبیہ والے سال بیت اللہ شریف کی زیارت (عمرے) کےلیے نکلے، آپ کا جنگ کرنے کا ارادہ نہیں تھا، آپ نے اپنے ساتھ ستر اونٹ قربانی کے لیے لے لیے اور لوگوں کی تعداد سات سو تھی ، اس طرح پر اونٹ دس افراد کی طرف سے ایک اونٹ قربانی تھی حضرت جابر ؓ کی روایت میں ہے : ہم حدیبیہ میں شریک ہونے والے صحابہ کی تعداد چودہ سو تھی۔

المسور بن مخرمة و مروان بن الحكم إنهما حدثاه ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيُّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← سَلَمَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2906

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2907

ثنا عبد الجبار بن العلاء ثنا سفيان و ثنا علي بن خشرم أخبرنا ابن عيينة عن الزهري عن عروة عن المسور بن مخرمة و مروان : أن النبي صلى الله عليه وسلم خرج عام الحديبية في بضع عشر مائة من أصحابه فلما كان بذي الحليفة قلد الهدى و أشعره فأحرم منها فذكر الحديث قال أبو بكر في خبر ابن إسحاق : ساق معه الهدى سبعين بدنة و كان الناس سبعمائة رجل يريد سبعمائة رجل الذين نحر عنهم السبعين البدنة لا أن جميع أصحابه الذين كانوا معه بالحديبية كانوا سبعمائة رجل من الجنس الذي نقول إن إسم الناس قد يقع على بعض الناس كقوله تعالى { الذين قال لهم الناس إن الناس قد جمعوا لكم } فالعلم محيط أن كل الناس لم يقولوا و لا كل الناس قد جمعوا لهم و كذلك قوله { ثم أفيضوا من حيث أفاض الناس } فالعلم محيط أن جميع الناس لم يفيضوا من عرفات و إنما أراد بقوله : أفاض الناس بعض الناس لا جميعهم و هذا باب طويل ليس هذا موضعه و خبر ابن عيينة يصرح بصحة هذا التأويل ألا تسمعه قال في الخبر : وكانوا بضعة عشر مائة فأعلم أن جميع أهل الحديبية كانوا أكثر من ألف و ثلاثمائة إذ البضع ما بين الثلاث إلى العشر و هذا الخبر في ذكر عددهم شبيه بخبر أبي سفيان عن جابر أنهم كانوا بالحديبية أربع عشر مائة فهذا الخبر يصرح أيضا أنهم كانوا ألفا و أربعمائة فدلت هذه اللفظة على أن قوله في خبر ابن إسحاق : و كان الناس سبعمائة رجل كانوا بعض الناس الذين كانوا مع النبي صلى الله عليه وسلم بالحديبية لا جميعهم فعلى هذا التأويل و هذه الأدلة قد نحر من بعضهم عن كل عشرة منهم بدنة نحر عن بعضهم عن كل سبعة منهم بدنة أو بقرة فقول جابر : إشتركنا في الجزور سبعة و في البقرة سبعة يريد بعض أهل الحديبية و خبر المسور و مروان اشترك عشرة في بدنة أي سبعمائة منهم و هم نصف أهل الحديبية لا كلهم و قد روى الحسين بن واقد عن علباء بن أحمر عن عكرمة عن ابن عباس قال :

حضرت مسعود بن مخرمہ ؓ اور جناب مروان ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ حدیبیہ والے سال ایک ہزار سے زائد صحابہ کرام کے ساتھ نکلے جب آپ ذوالحلیفہ میں پہنچے تو آپ نے اپنی قربانی کو ہار پہنایا اور اشعار کیا۔ اور ہاں سے عمرے کا احرا م باندھا۔ پھر بقیہ حدیث ذکر کی۔ امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : جناب محمد بن اسحاق کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ستر اونٹ قربانی کے لیے اپنے ساتھ لیے تھے اور صحابہ کرا م کی تعداد سات تھی اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ آ پ نے سات سو افراد کی طرف سے ستر اونٹ نحر کیے تھے۔ یہ مرد نہیں کہ صلح حدیبیہ میں شریک ہونے والے تمام صحابہ کرام کی تعداد سات سو تھی ، یہ مسئلہ اسی جنس سے ہے جس کے بارے میں ہم کہتے ہیں کہ لفظ الناس بول کر بعض افراد مراد لیے جاتے ہیں ، اس سے تمام لوگ مراد نہیں ہوتے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:(اَلَّذِیْنَ قَالَ لَھُمُ النَّاسُ اِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوْ الَکُمْ)( آل عمران :۱۷۳)"ان سے لوگوں نے کہا تھا کہ تمھارے خلاف ایک بڑی فوج جمع ہوئی ہے۔"اب یہ بات یقینی ہے کہ سب کافروں نے یہ بات نہیں کہی تھی اور نہ سب لوگ ان کےخلاف ہوئے تھے ۔ (حلانکہ دونوں جگہ لفظ الناس استعمال ہوا ہے ) اسی طرح یہ ارشاد باری تعالی ہے (ثُمَّ أَفِیْضُوْا مِنْ حَثُاس أَفَاصَ النَّاسُ)پھر تم بھی وہاں سے واپس لوٹو جہاں سے لوگ واپس لوٹتے ہیں ۔ (البقرۃ : ا۹۹) یہ بات بھی حتمی اور یقینی ہے کہ سب لوگ عرفات سے واپس نہیں ہوتے تھے۔ اس لیے اللہ تعالی نے افاض الناس سے مراد کچھ لوگ لیے ہیں سارے لوگ مراد نہیں ہیں یہ مسئلہ بڑا طویل ہے جسے بیان کرنےکا یہ موقع نہیں ہے ۔ جناب سفیان بن عینیہ کی روایت اس تادیل کے صحیح ہونےکی واضح دلیل ہے کیونکہ اس میں یہ الفاظ آئے ہیں : صحابہ کرام کی تعداد ایک ہزار سے زائد تھی ۔ اس طرح انھوں نے بیان کر دیا کہ اہل حدیبیہ کی تعداد تیرہ سو سے زیادہ تھی کیونکہ بِضْعٌ کا لفظ تین سے دس تک بولا جاتا ہے (اور ابن عینیہ نے ایک ہزار اور بِضْعٌتعداد بتائی ہے) جس میں ہے کہ حدیبیہ میں صحا بہ کرام کی تعداد چودہ سو تھی ۔ اور یہ روایت اس روایت کے مشا بہ ہے جس میں ہے کہ حدیبیہ میں صحابہ کرام کی تعداد چودہ سو تھی۔ اور یہ روایت بھی صراحت کرتی ہے کہ صحابہ کرام کی تعداد چودہ سو تھی ، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ابن اسحاق کی روایت میں مذکورہ یہ الفاط :"صحابہ کرام کی تعداد سات سو تھی " اس سے مراد کچھ صحابہ کرام ہیں جو حدیبیہ میں رسول اللہ کے ساتھ تھے، یہ ان کی کل تعداد نہیں ہے اس تاویل اور ان دلائل کی بنیاد پر یہ بات واضح ہوتی ہے کہ آپ نے کچھ صحابہ کرام کی طرف سے ایک اونٹ دس افراد کی طرف سے قربان کیا اور کچھ صحابہ کرام سات افراد ایک اونٹ یا ایک گائے کی قربانی میں شریک ہوئے ۔ اس لیے حضرت جابر ؓ کا یہ فرمان : " ہم نے اونٹ کی قر بانی میں سات افراد نے شرکت کی اور گائے کی قربانی میں بھی سات افراد شریک ہوئے۔ "اس سے مراد کچھ اہل حدیبیہ ہیں سب لوگ مراد نہیں ۔ اور جناب مسعور ؓ اور مروان ؒ کی روایت میں ہے اونٹ کی قربانی میں دس افراد شریک ہوئے یعنی چوودہ سو صحابہ میں سے سات سو صحابہ نے ستر اونٹوں میں دس دس کے حساب سے شرکت کی ، یہ تعداد حدیبیہ میں شریک ہونے والے صحابہ کی نصف تعداد ہے ، کل تعداد نہیں۔

المسور بن مخرمة و مروان ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ← سفيان و ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2907

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2916

ثَنَا أَبُو مُوسَى، ثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي بَعْجَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَدْرٍ الْجُهَنِيُّ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ: قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ضَحَايَا بَيْنَ أَصْحَابِهِ، قَالَ عُقْبَةُ: فَصَارَتْ لِي جَذَعَةٌ. فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! صَارَتْ لِي جَذَعَةٌ. قَالَ: "ضَحِّ بهَا". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: خَرَّجْتُ تَمَامَ أَبْوَابِ الضَّحَايَا فِي كِتَابِ الضَّحَايَا، وَإِنَّمَا خَرَّجْتُ هَذِهِ الْأَخْبَارَ الَّتِي فِيهَا ذِكْرُ الضَّحَايَا فِي هَذَا الْكِتَابِ لِأَنَّ الْعُلَمَاءَ لَمْ يَخْتَلِفُوا أَنَّ كُلَّ مَا جَازَ فِي الضَّحِيَّةِ فَهُوَ جَائِزٌ فِي الْهَدْيِ.

حضر ت عقبہ بن عامر جہنی ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ کرام کے درمیان قربانی کے جانور تقسیم کیے ، حضرت عقبہ فرماتے ہیں : میرے حصے میں بھیڑ کا ایک سالہ بچہ آہا ۔ میں نے عرض کیا : اے الل کے رسول ! میرے حصے میں بھیڑ کا ایک سالہ بچہ آیا ہے ۔ آپ نے فرمایا: "اسے ہی ذبح کر لو۔" امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں : میں نے قربانی کے مسائل کتاب الضحایا مٰیں بیان کر دئیے ہیں میں نے یہاں قربانی کے یہ مسا ئل صرف اس لیے بیان کیے ہیں کیونکہ علمائے کرام کا اتفاق ہے کہ ہر وہ جانور جو عید کی قربانی میں ذبح کرنا جائز ہے وہ حج کی قربانی میں بھی ذبح کرنا جائز ہے۔

عُقْبَةُ: فَصَارَتْ لِي جَذَعَةٌ. فَقُلْتُ: ← قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ ضَحَايَا بَيْنَ أَصْحَابِهِ، ← عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ، ← بَعْجَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَدْرٍ الْجُهَنِيُّ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← أَبُو مُوسَى،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2916

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2924

ثَنَا بُنْدَارٌ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ثَنَا جَعْفَرٌ، حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: أَتَيْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ؛ وَثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ وَالزَّعْفَرَانِيُّ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ كُلِّ جَزُورٍ بِبَضْعَةٍ فَجُعِلَتْ فِي قِدْرٍ فَطُبِخَتْ، وَأَكَلُوا مِنَ اللَّحْمِ، وَحَسَوْا مِنَ الْمَرَقِ. هَذَا لِلْحَسَنِ الزَّعْفَرَانِيِّ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: سَأَلَ سَائِلٌ عَنِ الْأَكْلِ مِنَ الْهَدْيِ الْوَاجِبِ أَيَأْكُلُ صَاحِبُهَا مِنْهَا؟ فَقُلْتُ: إِذَا نَحَرَ الْقَارِنُ أو الْمُتَمَتِّعُ بَدَنَةً أَوْ بَقَرَةً أَوْ شِرْكًا فِي بَدَنَةٍ أَوْ بَقَرَةٍ أَكْثَرُ مِنْ سُبْعِهَا فَلَهُ أَنْ يَأْكُلَ مِمَّا زَادَ عَلَى سُبْعِ الْبَدَنَةِ أَوِ الْبَقَرَةِ، لِأَنَّ الْوَاجِبَ عَلَيْهِ فِي هَدْيِ الْقِرَانِ وَالْمُتَمَتِّعِ سُبْعُ إِحْدَاهُمَا إِلَّا عِنْدَ مَنْ يُجِيزُ الْبَدَنَةَ عَنْ عَشَرَةٍ عَلَى مَا بَيَّنْتُ فِي خَبَرِ الْمِسْوَرِ وَمَرْوَانَ، وَخَبَرِ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَوْ شَاةً تَامَّةً. فَمَا زَادَ عَلَى سُبْعِ بَدَنَةٍ أَوْ بَقَرَةٍ فَهُوَ مُتَطَوِّعٌ بِهِ، وَلَهُ أَنْ يَأْكُلَ مِمَّا هُوَ مُتَطَوِّعٌ بِهِ مِنَ الزِّيَادَةِ كَمَا يُضَحِّي مُتَطَوِّعًا بِالْأُضْحِيَّةِ فَلَهُ أَنْ يَأْكُلَ مِنْ ضَحِيَّتِهِ، وَعَلَى هَذَا الْمَعْنَى -عِلْمِي- أَكْلُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ لُحُومِ بُدْنِهِ لِأَنَّهُ نَحَرَ مِائَةَ بَدَنَةٍ. وَإِنَّمَا كَانَ الْوَاجِبُ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ قَارِنًا سُبْعَ بَدَنَةٍ -إِلَّا عِنْدَ مَنْ يُجِيزُ الْبَدَنَةَ عَنْ عَشَرَةٍ- لَا أَكْثَرَ. وَهُوَ مُتَطَوِّعٌ بِالزِّيَادَةِ، فَجَعَلَ مِنْ كُلِّ بَعِيرٍ بَضْعَةٍ فِي قِدْرٍ فَحَسَا مِنَ الْمَرَقِ، وَأَكَلَ مِنَ اللَّحْمِ، وَإِنْ ذَبَحَ لِتَمَتُّعِهِ أَوْ لِقِرَانِهِ لَمْ يَكُنْ عِنْدِي أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا، وَالْعِلْمُ عِنْدِي كَالْمُحِيطِ أَنَّ كُلَّ مَنْ وَجَبَ عَلَيْهِ فِي مَالِهِ شَيْءٌ لِسَبَبٍ مِنَ الْأَسْبَابِ لَمْ يَجُزْ لَهُ أَنْ يَنْتَفِعَ بِمَا وَجَبَ عَلَيْهِ فِي مَالِهِ، وَلَا مَعْنَى لِقَوْلِ قَائِلٍ إِنْ قَالَ: يَجِبُ عَلَيْهِ هَدْيٌ، وَلَهُ أَنْ يَأْكُلَ أَوْ بَعْضَهُ، لِأَنَّ الْمَرْءَ إِنَّمَا لَهُ أَنْ يَأْكُلَ مَالَ نَفْسِهِ أَوْ مَالَ غَيْرِهِ بِإِذْنِ مَالِكِهِ، فَإِنْ كَانَ الْهَدْيُ وَاجِبًا عَلَيْهِ فَمُحَالٌ أَنْ يُقَالَ وَاجِبٌ عَلَيْهِ وَهُوَ مَالٌ لَهُ يَأْكُلُهُ، وقود هَذِهِ الْمَقَالَةِ يُوجِبُ أَنَّ الْمَرْءَ إِذَا وَجَبَتْ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ فِي مَاشِيَتِهِ أَنَّ لَهُ أَنْ يَذْبَحَهَا فَيَأْكُلَهَا، وَإِنْ وَجَبَتْ عَلَيْهِ عُشْرُ حَبٍّ فَلَهُ أَنْ يَطْحَنَهُ وَيَأْكُلَهُ، وَإِنْ وَجَبَ عَلَيْهِ عُشْرُ ثِمَارٍ فَلَهُ أَنْ يَأْكُلَهُ، وَهَذَا لَا يَقُولُهُ مَنْ يُحْسِنُ الْفِقْهَ.

حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ قربانی کے ہر اونٹ کے گوشت میں سے ایک ٹکڑا لے کر ہنڈیا میں ڈالا جائے چناچہ وہ گوشت پکا دیا گیا اور آپ ﷺ نے اور آپ کے ساتھیوں نے وہ گوشت کھایا اور شوربہ پیا۔ یہ روایت حسن زعفرانی کی ہے ۔ امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں: ایک سوال کرنے والے نے سول کیا کہ کیا حج میں واجب قربانی کرنے والا اس قربانی کے گوشت میں سے کھا سکتا ہے؟ میں نے جواب دیا: جب حج تمتع یا حج قران کرنے والا ایک اونٹ نحر کرے یا گائے ذبح کرے یا اونٹ اور گائے کے ساتویں حصے سے زیادہ کی قربانی کرے تو وہ ساتویں حصے سے زائد گوشت میں سے کھا سکتا ہے کیونکہ حج تمتع اور قران کرنے والے پر واجب اونٹ یا گائے کا ساتواں حصہ قربان کرنا ہے یا جن علماء کے نزدیک اونٹ دس افراد کی طرف سے نحدرد ہو سکتا ہے ان کے نزدیک حج تمتع اور قران کرنے والے حاجی پر دسواں حصہ اونٹ کا واجب ہے ۔ جیسا کہ حضرت مسور ، مروان اور ابن عباس ؓ کی روایات میں مَیں واضح کر چکا ہوٖں یا اس حاجی پر ایک مکمل بکرا ذبح کرنا واجب ہے لہٰذا اونٹ یا گائے کے ساتویں حصے سے زائد نفل قربانی کرنے والا اس نفل میں سے کھا سکتا ہے جیسا کہ عید پر نفلی قربانیاں کرنے والا اس میںسے کھا سکتا ہے جیسا کہ عید پر نفلی قربانیاں کرنے والا اس میں سے کھا سکتا ہے میرے علم کے مطابق نبی کریمﷺ نے بھی اسی لحاظ سے اپنی قربانی کا گوشت کھایا ہے کیونکہ آپ نے سو اونٹ نحر کیے تھے . یقیناً آپ پر حج قران کی وجہ سے اونٹ کا ساتوان یا دسواں حصہ قربانی کرنا واجب تھا ۔ اس سے زائدجتنے اونٹ آپ نے قربان کیے وہ سب نفلی تھے۔ لہٰذا آپ نے ان میں سے ایک ایک ٹکڑا لے کر ہنڈیا میں ڈالا اور اسے پکا کر شوربہ پیا اور گوشت کھایا لیکن اگر آپ حج قران یا تمتع کے لیے صرف واجب مقدار میں قربانی کرتے تو میرے نزدیک اس میں سے گوشت کھانا جائز نہیں تھا، میرے نزدیک یہ بات یقینی ہے کہ جس شخص کے مال میں کوئی حق واجب ہو جائے تو وہ شخص اس واجب ہونے والے مال سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا ۔ لیکن اگر کوئی شخص یہ کہے تو اس کی بات نا قابل ہو گی کہ اس پر حج کی قربانی واجب ہے لیکن وہ اس کا سارا یا کچھ گوشت کھا سکتا ہے کیونکہ انسان اپنا مال خود کھا سکتا ہے اور کسی دوسرے شخص کا مال اس کی اجازت کے ساتھ کھا سکتا ہے۔ لیکن اگر اس پر حج کی قربانی واجب ہو تو یہ کہنا محال ہے کہ یہ قربانی اس پر واجب ہےلیکن یہ اسی کا مال ہے اس لیے اکے کھا سکتا ہے اس قول کی زد میں یہ مسئلہ آئے گا کہ جس شخص کے جانوروں میں زکو ٰۃ واجب ہو تو وہ شخص زکوٰۃ کا جانور ذبح کر کے کھا سکتا ہے اور اگر اس کے اناج میں عشرواجب ہو تو وہ اسے پیس کر کھا سکتا ہے اور اگر اس کے پھلوں میں زکوٰۃ واجب ہو تو وہ اس پھل کو کھا سکتا ہے ۔ لیکن دین کی سوجھ بوجھ رکھنے والا کوئی شخص ایسی بات نہیں کر سکتا۔

أَبِي ← جَعْفَرٌ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← بُنْدَارٌ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2924

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2974

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بِحَدِيثٍ غَرِيبٍ غَرِيبٍ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى أَبِي قُرَّةَ مُوسَى بْنِ طَارِقٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ رَجَعَ مِنْ عُمْرَةِ الْجِعْرَانَةِ بَعَثَ أَبَا بَكْرٍ عَلَى الْحَجِّ فَأَقْبَلْنَا مَعَهُ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْعَرْجِ ثَوَّبَ بِالصُّبْحِ، فَلَمَّا اسْتَوَى لِيُكَبِّرَ، سَمِعَ الرَّغْوَةَ خَلْفَ ظَهْرِهِ، فَوَقَفَ عَنِ التَّكْبِيرِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ. وَقَالَ: فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ النَّفْرِ الْأَوَّلِ قَامَ أَبُو بَكْرٍ، فَخَطَبَ النَّاسَ، فَحَدَّثَهُمْ كَيْفَ يَنْفِرُونَ، وَكَيْفَ يَرْمُونَ، فَعَلَّمَهُمْ مَنَاسِكَهُمْ، فَلَمَّا فَرَغَ قَامَ عَلِيٌّ فَقَرَأَ بَرَاءَةَ عَلَى النَّاسِ حَتَّى خَتَمَهَا.

حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب جعرانہ مقام سے احرام باندھ کر عمرہ کر کے واپس تشریف لائے تو حضرت ابوبکر ؓ کو امیر حج بنا کر روانہ کیا، لہٰذا ہم ان کی قیادت میں روانہ ہوئے حتی کہ جب ہم عرج مقام ہپر پہنچے تو صبح کی اذان ہوئی ، پھر جب وہ تکبیر کہنے کےلیے سیدھے کھڑےہوئے تو انھوں نے اپنے پیچھے اونٹ کی بلبلا ہٹ سنی ، لہٰذا وہ تکبیر کہنے سے رک گئے۔ پھر مکمل حدیث بیان کی اور فرمایا: پھر جب روانگی کا پہلا دن آیا توحضرت ابوبکرؓ نے کھڑے ہو کر لوگوں کو خطبہ دیا اور انھیں روانگی اورمی کے مسائل بتائے اور انھیں ان کے مناسک حج سکھائے، جب وہ خطبہ دے کر فارغ ہوئے تو حضرت علی ؓ نے کھڑے ہو کر لوگوں کو پوری سورۂ براءت سنائی (جس میں مشرکین سے اعلان لا تعلقی اور ان کے حج کرنے پر پابندی وغیرہ کے احکامات تھے)۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَلَى أَبِي قُرَّةَ مُوسَى بْنِ طَارِقٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بِحَدِيثٍ غَرِيبٍ غَرِيبٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2974

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 3004

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، ثَنَا عَطَاءٌ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ: أَنَّهُ دَخَلَ هُوَ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْبَيْتَ فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَجَافَ الْبَابَ، وَالْبَيْتُ إِذْ ذَاكَ عَلَى سِتَّةِ أَعْمِدَةٍ، فَمَضَى حَتَّى أَتَى الْأُسْطُوَانَتَيْنِ اللَّتَيْنِ تَلِيَانِ الْبَابَ بَابَ الْكَعْبَةِ. [وَجَلَسَ] (2) فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَسَأَلَهُ، وَاسْتَغْفَرَ، ثُمَّ قَامَ حَتَّى أَتَى مَا (1) اسْتَقْبَلَ مِنْ دُبُرِ الْكَعْبَةِ، فَوَضَعَ وَجْهَهُ وَجَسَدَهُ (2) عَلَى الْكَعْبَةِ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَاسْتَغْفَرَ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى كُلِّ رُكْنٍ مِنْ أَرْكَانِ الْكَعْبَةِ، فَاسْتَقْبَلَهُ بِالتَّكْبِيرِ، وَالتَّهْلِيلِ، وَالتَّسْبِيحِ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ بِالْمَسْأَلَةِ وَالِاسْتِغْفَارِ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ مُسْتَقْبِلًا وَجْهَ الْكَعْبَةِ خَارِجًا مِنَ الْبَيْتِ، وَقَالَ: "هَذِهِ الْقِبْلَةُ، هَذِهِ الْقِبْلَةُ".

حضرت اسامہ بن زیدؓ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہﷺ کے ساتھ بیت اللہ شریف میں داخل ہوئے تو آپ نے حضرت بلال ؓ کو حکم دیا تو انھوں نے دروازہ بند کر دیا ۔ اس وقت بیت اللہ شریف چھ ستونوں پر قائم تھا ۔ آپ کعبہ شریف کے دروازے کے قریبی دوستونوں کے پاس جا کر بیٹھ گئے ، اللہ کی حمد وثنا بیان کی ، اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگیں اور بخشش طلب کی ۔ پھر آپ کھڑے ہوگئے اور کعبہ شریف کی پچھلی دیوار کے سامنے آگئے ، آپ نے اپنا چہرہ مبارک اور جسم مبارک کعبہ شریف کی دیوار پر رکھا اور اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کی، اپنے لیے مغفرت وبخشش کا سوال کیا ، پھر آپ کعبہ شریف کے ہر ہر کونے میں گئے ، اس کی طرف منہ کر کے تکبیریں پڑھیں ، لا الٰہ الا اللہ ، سبحان اللہ ، الحمد للہ پڑھا اور اللہ تعالیٰ کے شان کے لائق اس کی ثنا بیان کی اور اس سے التجا ئیں کیں اور استغفار کیا ۔ پھر آپ نے کعبہ شریف سے باہر نکل کر کعبہ شریف کے سامنے دو رکعات اد اکیں ، اور فرمایا:"یہ قبلہ ہے ، یہ قبلہ ہے ۔"

أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← عَطَاءٍ، ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 3004

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 3006

ثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، ثَنَا جَرِيرٌ عَنْ عَبْدِ الْمَلَكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ: أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ: ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى أَرْكَانِ الْبَيْتِ، يَسْتَقْبِلُ كُلَّ رُكْنٍ مِنْهَا بِالتَّكْبِيرِ وَالتَّهْلِيلِ وَالتَّحْمِيدِ، وَسَأَلَ اللَّهَ وَاسْتَغْفَرَهُ. وَذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ.

حضرت اسامہ بن زیدؓ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بیت الہ شریف میں داخل ہوئے ۔ پھر مکمل حدیث بیان کی اور فرمایا:پھر آپ بیت اللہ شریف کے ہر ہر کونے میں تشریف لائے آپ ہر رکن کی طرف منہ کر کے اَللہُ اَکْبَر، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ ، اوراَلْحَمْدُ لِلہِپڑھتے ، اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتے او ردعائیں مانگے ۔ پھر بقیہ حدیث بیان کی ۔

أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← عَطَاءٍ، ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، ← جَرِيرٌ ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 3006

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 3069

ثناه يوسف بن موسى ثنا جرير عن منصور عن أبي وائل قال قال الضبي بن معبد : كنت رجلا أعرابيا نصرانيا فأسلمت فكنت حريصا على الجهاد و إني وجدت الحج و العمرة مكتوبتين علي فأتيت رجلا من عشيرتي يقال له هديم بن عبد الله فقلت : يا هناه إني حريص على الجهاد و إني وجدت الحج و العمرة مكتوبتين علي فكيف لي أن أجمعهما ؟ فقال : اجمعهما ثم اذبح ما استيسر من الهدى قال : فأهللت بهما معا فلما أتيت العذيب لقيني سليمان بن ربيعة و زيد بن صوحان و أنا أهل بهما معا فقال أحدهما للآخر ما هذا بأفقه من بعيره فكأنما ألقى علي جبل حتى أتيت عمر فقلت له : يا أمير المؤمنين إني كنت رجلا أعرابيا نصرانيا و إني أسلمت و أنا حريص على الجهاد و إني وجدت الحج و العمرة مكتوبتين علي فأتيت رجلا من عشيرتي يقال له هديم بن عبد الله فقلت : يا هنتاه إني حريص على الجهاد و إني وجدت الحج و العمرة مكتوبتين علي فكيف أجمعهما ؟ فقال : اجمعهما ثم اذبح ما استيسر من الهدي وإني أهللت بهما جميعا فلما أتيت العذيب لقيني سليمان بن ربيعة و زيد بن صوحان و أنا أهل بهما معا فقال أحدهما للآخر ما هذا بأفقه من بعيره قال فقال لي عمر : هديت لسنة نبيك قال أبو بكر : في ترك عمر بن الخطاب النكير على الضبي بن معبد قوله : و إني وجدت الحج و العمرة مكتوبتين علي أبين الدلالة على أن العمرة عند عمر بن الخطاب كانت واجبة كالحج إذ لو كانت العمرة عنده تطوعا لا واجبة لأشبه أن ينكر عليه قوله و لقال له : لم نجد ذلك مكتوبتين عليك بل إنما وجدت الحج مكتوبا دون العمرة و في تركه الإنكار عليه ما أفتاه هديم بن عبد الله دلالة بينة بأن القرآن عنده جائز من غير سوق بدنة و لا بقرة من الميقات الذي يحرم منه بالحج و العمرة و فيه دلالة على أن ما استيسر من الهدي جائز عن القارن كهو عن المتمتع لا كما قال بعض العلماء أن القرآن لا يكون إلا بسوق بدنة أو بقرة يسوقه من حيث يحرم

جناب ضبی بن معبد بیان کرتے ہیں کہ میں ایک اعرابی عیسائی تھا ۔ پھر میں مسلمان ہوگیا تو مجھے جہاد کا بڑا شدید شوق تھا ۔ اور مجھے معلوم ہوا کہ مجھ پر حج اور عمرہ بھی فرض ہیں ۔ لہٰذا میں اپنے خاندان کے ایک شخص ہدیم بن عبداللہ کے پاس آیا تو اسے کہا: اے محترم ! مجھے جہاد کرنے کا بڑا شوق ہے اور مجھے معلوم ہوا ہے کہ مجھ پر حج اور عمرہ بھی فرض ہو چکے ہیں ۔ میں ان دونوں کو کیسے جمع کر سکتا ہوں ؟ انھوں نے جواب دیا : تم انھیں اکٹھا اد اکر لو اور پھر تمھیں جو جانور میسر ہو اس کی قربانی کر دو۔ لہٰذا میں دونوں کا اکٹھا احرام باندھ کر تلبیہ پکارا ۔ پھر جب میں عذیب مقام پر پہنچا تو مجھے سلیمان بن ربیعہ او ر زید بن صوحان ملے اور میں ( حج اور عمرہ ) دونوں کا تلبیہ پکار رہا تھا ، ان میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا: یہ شخص تو اپنے اونٹ سے بھی زیادہ سمجھ دار نہیں ہے ۔ ان کی یہ بات مجھ پر ایسی شق گزری گویا کہ مجھ پر پہاڑ گرا دیا گیا ہو حتی کہ میں حضرت عمر ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے عرض کی: اے امیر المومنین ! میں ایک بدو عیسائی آدمی تھا اور اب میں مسلمان ہوں اور مجھے جہاد کا بے حد شوق ہے اور میں نے پایا ہے کہ مجھ پر حج اور عمرہ واجب ہیں ۔ لہٰذا میں اپنے خاندان کے ایک شخص ہدیم بن عبداللہ کے پاس گیا اور اس سے عرض کی: اے محترم ! مجھے جہاد کرنے کا بہت شوق ہے اور مجھ پر حج اور عمرہ بھی واجب ہو چکے ہیں ۔ میں ان دونوں عبادتوں کو اکٹھا کیسے ادا کروں؟ اس نے جواب دیا : دونوں کا اکٹھا اد اکرلو ، اگر پھر تمھیں جانور میسر ہو اس کی قربانی کر دو۔ لہٰذا میں نے حج اور عمرے دونوں کا احرام باندھا ہے ، پھر جب میں عذیت مقام پر پہنچا تو مجھے سلیمان بن ربیعہ اور زید بن صوحان ملے جبکہ میں دونوں کا احرام باندھے ان کا تلبیہ پکار رہا تھا ۔ میرا تلبیہ سن کر ان میں سے ایک دوسرے سے کہنے لگا: یہ شخص تو اپنے اونٹ سے بھی زیادہ بے وقوف ہے ۔ تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا : تمھیں اپنے نبی کی سنت پر عمل کرنے کی توفیق ملی ہے ۔( حج قران تو سنت نبوی ہے اس لیے ان کی غلط بات کا برا نہ مناؤ اور اپنا عمل جاری رکھو ) ۔ امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں : حضرت عمرؓ نے ضبی بن معبد کے اس قول کی تردید نہیں کی کہ : مجھ پر حج اور عمرہ واجب ہیں ۔"یہ واضح ترین دلیل ہے کہ حضرت عمرؓ کے نزدیک عمرہ واجب ہے اور اس کا حکم حج کی طرح ہے ۔ کیونکہ اگر عمر ان کے نزدیک نفلی ہوتا تو وہ ضبی بن معبد کے اس قول کی تردید کر دیتے ۔ اور فرماتے کہ ہم تم پر عمرہ واجب نہیں سمجھتے ۔ بلکہ میرے نزدیک تم پر صرف حج فرض ہے ۔ جناب ہدیم بن عبداللہ کے فتوے پر حضرت عمر ؓ کا انکار نہ کرنا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ حضرت عمر ؓ کے نزدیک جس میقات سے احرام باندھا جائے وہاں سے قربانی کا جانور ساتھ لے جائے بغیر بھی حج قران کرنا جائز ہے ۔ اور اس میں یہ بھی دلیل ہے کہ حج قران کرنے والا بھی میسر قربانی ذبح کر سکتا ہے جیسا کہ حج تمتع کرنے والا کرتا ہے ۔ ان علماء کا موقف درست نہیں جو کہتے ہیں کہ حج قران کےلیے احرام باندھنے والے کےلیے میقات سے قربانی کا اونٹ یا گائے ساتھ لے کر جانا ضروری ہے ۔

أَبِي وَائِلٍ ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ ← ثَنَاهُ يُوسُفُ بْنُ مُوسَى

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 3069

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1633

1633 - أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ سَفَرًا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَوْصِنِي. قَالَ: «أُوصِيكَ بِتَقْوَى اللَّهِ، وَالتَّكْبِيرِ عَلَى كُلِّ شَرَفٍ» فَلَمَّا مَضَى قَالَ: «اللَّهُمَّ ازْوِ لَهُ الْأَرْضَ، وَهَوِّنْ عَلَيْهِ السَّفَرَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، وہ سفر کا ارادہ رکھتا تھا ، اس نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے کوئی وصیت فرمائیے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ اللہ سے ڈرتے رہو اور بلندی پر پڑھتے ہوئے تکبیر کہو۔ جب وہ چلا گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے یوں دعا مانگی’’یا اللہ! اس کے لئے زمین لپیٹ دے اور سفر آسان فرما‘‘۔یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔

جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ يُرِيدُ سَفَرًا، فَقَالَ: ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← وَكِيعٌ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1633

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1662

1662 - أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ وَكِيعٌ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قُلْتُ: أَيُؤْكَلُ الضَّبُعُ؟ قَالَ: «نَعَمْ» ، قُلْتُ: أَصَيْدٌ هِيَ؟ قَالَ: أَسَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: «نَعَمْ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَقَدْ لَخَّصَهُ جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الضَّبُعِ يُصِيبُهُ الْمُحْرِمُ كَبْشًا نَجْدِيًّا، وَجَعَلَهُ مِنَ الصَّيْدِ»

حضرت عبدالرحمٰن بن ابی عمار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے جابر سے کہا: کیا’’بجو‘‘ کھایا جا تا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں ۔ میں نے کہا: کیا یہ شکار ہے؟ ( انہوں نے کہا: جی ہاں ۔) میں نے پوچھا: کیاتم نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں ۔یہ حد یث امام بخاری رحمتہ اللہ وامام مسلم رحمتہ اللہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ جریر بن حازم نے عبداللہ بن عبید بن عمیر سے انہوں نے عبدالرحمٰن بن ابی عمار کے واسطے سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان نقل کیا ہے کہ اگر بجوکومحرم شکار کرے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر نجدی مینڈ ھالا زم کیا ہے اور اس کو شکار قرار دیا ہے ۔

جَابِرٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمَّارٍ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← إسحاق بن إبراهيم أنبأ وكيع ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1662

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1696

1696 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو بَكْرَةَ بَكَّارُ بْنُ قُتَيْبَةَ الْقَاضِي بِمِصْرَ، ثنا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، ثنا الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَخْبَرَةَ، قَالَ: غَدَوْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَةَ، وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ رَجُلًا آدَمَ لَهُ ضَفِيرَتَانِ عَلَيْهِ مَسْحَةُ أَهْلِ الْبَادِيَةِ، وَكَانَ يُلَبِّي، فَاجْتَمَعَ عَلَيْهِ عُرْفٌ مِنْ عُرْفِ النَّاسِ فَقَالُوا: يَا أَعْرَابِيُّ، إِنَّ هَذَا لَيْسَ بِيَوْمِ تَلْبِيَةٍ إِنَّمَا هُوَ التَّكْبِيرُ، قَالَ: فَعِنْدَ ذَلِكَ الْتَفَتَ إِلَيَّ، فَقَالَ: جَهِلَ النَّاسُ أَمْ نَسُوا؟ وَالَّذِي بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَقِّ «لَقَدْ خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَةَ، فَمَا تَرَكَ التَّلْبِيَةَ حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ إِلَّا أَنْ يَخْلِطَهَا بِتَكْبِيرٍ أَوْ تَهْلِيلٍ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت عبداللہ بن سخر ہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ہمراہ صبح کے وقت منٰی کی طرف نکلا ، عبداللہ گندم گوں آدمی تھے، وہ بالوں کی دو چوٹیاں رکھتے تھے جو کہ ان کے اوپر دیہاتیوں کی نشانی ہوتی تھی۔ وہ مسلسل تلبیہ کہہ رہے تھے ۔( یہ سن کر بہت سارے) لوگ ان کے پاس جمع ہو گئے اور کہنے گے : اے بد و ! آج تلبیہ کا دن نہیں ہے ۔آج تو تکبیرات کادن ہے ۔عبداللہ بن سخبرہ فرماتے ہیں: اس وقت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ میری طرف متوجہ ہوئے اور کہنے لگے: یہ لوگ جاہل ہیں یا بھول گئے ہیں؟ اس ذات کی قسم ! جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کوحق کے ساتھ بھیجا، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ منٰی سے عرفات کی طرف نکلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شیطان کو کنکریاں مارنے تک تلبیہ کہا: تا ہم اس کے ساتھ ساتھ تکبیر یاتہلیل بھی پڑھتے ہیں ۔ یہ حد یث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَخْبَرَةَ ← مُجَاهِدٍ ← الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ ← صَفْوَانُ بْنُ عِيسَی ← أبو بكرة بكار بن قتيبة القاضى ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1696

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1785

1785 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ عَمْرُو بْنُ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، ثنا أَبُو حَاضِرٍ عُثْمَانُ بْنُ حَاضِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ: «إِنَّ أَهْلَ الْحُدَيْبِيَةِ أُمِرُوا بِإِبْدَالِ الْهَدْيِ فِي الْعَامِ الَّذِي دَخَلُوا فِيهِ مَكَّةَ فَأَبْدَلُوا، وَعَزَّتِ الْإِبِلُ، فَرُخِّصَ لَهُمْ فِيمَنْ لَا يَجِدُ بَدَنَةً فِي اشْتِرَاءِ بَقَرَةٍ» رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ مُفَسَّرًا مُلَخَّصًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اہل حدیبیہ جس سال مکہ میں داخل ہوئے ،ان کو قربانی کے جانور کے بدلے میں جانورذبح کر نے کا حکم دیا گیا۔ پھر بدل بھی لئے ۔ اور اونٹ کم پڑ گئے ۔ تو جن لوگوں کو قربانی کے لئے اونٹ یا بد نہ نہ مل سکا ،انہیں گائے خریدنے کی رخصت دی گئی ۔ اس حدیث کومحمد بن اسحاق بن یسار نے عمرو بن میمون سے مفسر او مختصر روایت کیا ہے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبُو حَاضِرٍ عُثْمَانُ بْنُ حَاضِرٍ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ عَمْرُو بْنُ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، ← سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1785

chevron_left Previous
1…323334…579
Next chevron_right