Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الأضحية والعقيقة

Qurbani & Aqiqah

11564 hadiths

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 581

والدليل على صحة ما تأولت أن هارون بن إسحاق الهمداني حدثنا قال حدثنا عبدة عن سعيد عن خالد - يعني الحذاء - عن غيلان بن جرير عن مطرف بن عبد الله بن الشخير قال : صليت خلف علي فكان يكبر إذا سجد وإذا رفع رأسه فلما انصرف قال لي عمران بن حصين : صلى بنا هذا مثل صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم قال أبو بكر : وفي هذا الخبر ما دل على أن اللفظة التي ذكرها حماد بن زيد عن غيلان بن جرير في هذا الخبر : وإذا نهض من الركوع كبر إنما أراد وإذا نهض من الركوع فأراد السجود كبر على ما ذكر الزهري عن أبي بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام ثم يقول سمع الله لمن حمده حين يرفع صلبه من الركعة ثم يقول وهو قائم ربنا لك الحمد ثم يكبر حين يهوي ساجدا وكذلك خبر أبي عامر عن فليح عن سعيد بن الحارث عن أبي سعيد الخدري ذكر التكبير حين قال سمع الله لمن حمده أي أنه يكبر عند رفع الرأس من الركوع ذكر تكبير أخرى عند الإهواء إلى السجود فلما ذكر التكبيرة عند رفع الرأس من السجود بعد التكبيرة حين قال : سمع الله لمن حمده بان وثبت أنه إنما أراد التكبير حين قال : سمع الله لمن حمده إذا أراد الإهواء إلى السجود وكذلك في خبر أبي سلمة من أبي هريرة قال : وحين يركع وإذا أراد أن يسجد بعدما يرفع من الركوع ففي هذا ما بان أنه كان يكبر إذا رفع رأسه من الركوع وأراد السجود لا أنه كان يكبر عند رفع الرأس من الركوع ولو أبحنا للمصلي أن يكبر في كل خفض ورفع كان عليه أن يكبر إذا رفع رأسه من الركوع ثم يكبر عند الإهواء إلى السجود لكان عدد التكبير في أربع ركعات ستة وعشرين تكبيرة لا اثنتين وعشرين تكبيرة وفي خبر عكرمة عن بن عباس ما بان وثبت أن عدد التكبير في أربع ركعات اثنتين وعشرين تكبيره لا أكثر منها

"میں نے جو وضاحت کی ہے اس کے صیح ہونے کی دلیل یہ روایت ہے جسے استاد محترم جناب ہارون بن اسحاق نے روایت کیا ہے کہ جناب مطرف بن عبداللہ بن شخیر بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت علیؓ کے پیچھے نماز پڑھی تو وہ جب سجدہ کرتے اور جب اپنا سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے تھے ۔ پھر جب وہ نما ز سے فارغ ہو ئے تو حضرت عمران بن حصین نے مجھے فرمایا: " انہوں نے ہمیں رسول اللہﷺ کی نماز جیسی نماز پڑھائی ہے ۔ "امام ابوبکر ؒ بیان کرتے ہیں : اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ وہ الفاظ جو حماد بن زید نے غیلان بن جریر سے اس حدیث میں بیان کیے ہیں کہ : "جب آپ رکوع سے اٹھتے تو "اللہُ أَکْبَرُ"کہتے "اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ آپ رکوع سے اٹھتے اور سجدہ کرنے کا ارادہ کرتے تو "اللہُ أَکْبَرُ" کہتے ، جیسا کہ اما م زہری ؒ نے ابوبکر عبدالرحمٰن بن الحارث بن ہشام سے روایت کیا ہے پھر آپ جب رکوع سے اپنی کمر سیدھی کرتے تو سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہُکہتے پھر آپ کھڑے کھڑے رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُپڑھتے ، پھر جب سجدے کےلیے جھکتے تو "اللہُ أَکْبَرُ"کہتے ۔"اسی طرح جناب ابو عامر کی روایت میں ہے جسے وہ فلیح سے اور وہ سعید بن الحارث سے اور وہ حضرت ابوسعید خدری ؓ سے بیان کرتے ہیں ، انہوں نے اس روایت میں سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہتے وقت تکبیر کہنے کا تذکرہ کیا کہ وہ رکوع سے سر اٹھاتے وقت تکبیر کہتے تھے۔ اور سجدے کےلیے جھکتے وقت ایک مرتبہ پھر تکبیر کہنے کا تذکرہ کیا ہے ۔ پھر جب انہوں نے سجدے سے سر اٹھاتے وقت تکبیر کہنے کا ذکر کیا جو کہسَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہُکی تکبیر کے بعد ہے تو اس سے ثابت ہوگیا کہ سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہتے وقت تکبیر کہنے سے ان کی مراد سجدے کے لیے جھکتے وقت تکبیر کہنا ہے ۔ اسی طرح جناب ابو سلمہ کی حضرت ابوہریرہؓ سے روایت میں ہے ، فرمایا: اور جب رکوع کرتے ، اور رکوع سے سر اٹھانے کے بعد جب سجدہ کرنے کا ارادہ کرتے تو "اللہُ أَکْبَرُ"کہتے۔"اس روایت نے بھی یہ بیان کر دیا ہے کہ آپ رکوع سے سر اٹھانے کے بعد سر اٹھاتے وقت اللہ اکبر کہتے تھے۔ اور اگر ہم نمازی کےلیے ہر جھکنے اور اور اٹھتے وقت تکبیر کہنا جائز قرار دے دیں تو نما زکےلیے ضروری ہوگا کہ وہ رکوع سے سر اٹھاتے وقت تکبیر کہے اور پھر سجدے کو جاتے ہوئے بھی تکبیر کہے ۔ اس طرح چار رکعات میں کل چھبیس تکبیریں ہوں گی نہ کی بائیس تکبیریں حالانکہ عکرمہ کی حضرت ابن عباس سے رویات میں یہ بات بالک واضح اور ثابت ہے کہ چار رکعات میں کل بائیس تکبیریں ہیں ، اس سے زائد نہیں ہیں۔"

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 581

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 688

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ، ثَنَا عَمِّي، أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ نُعَيْمٍ الْمُجْمِرِ قَالَ: صَلَّيْتُ وَرَاءَ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَقَالَ: (بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ). ثُمَّ قَرَأَ بِأُمِّ الْقُرْآنِ حَتَّى بَلَغَ (وَلَا الضَّالِّينَ). فَقَالَ: آمِينَ. فَقَالَ النَّاسُ: آمِينَ، فَلَمَّا رَكَعَ قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ، قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ. ثُمَّ قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ. ثُمَّ سَجَدَ، فَلَمَّا رَفَعَ، قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ. فَلَمَّا سَجَدَ قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ. ثُمَّ اسْتَقْبَلَ قَائِمًا مَعَ التَّكْبِيرِ، فَلَمَّا قَامَ مِنَ الثِّنْتَيْنِ، قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ. فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لَأَشْبَهُكُمْ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

"جناب نعیم المجمربیان کرتےہیں کہ میں نے حضرت ابو ہریرہؓ کے پیچھے پڑھی تو انہوں نے بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِپڑھی پھر ام القرآن کی تلاوت کی حتی کہ ( وَلَا الضَّالِّیْنَ) پر پہنچے تو آمین کہی، تو متقدیوں نے بھی آمین کہی، پھر جب انہوں نے رکوع کیا تو اللہُ أَکْبَرُکہا، پھر جب اپنا سر اٹھایا تو کہا:سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہُ، پھراللہُ أَکْبَرُکہا ، پھر سجدہ کیا ، پھر جب سجدے سے سر اٹھایا تو اللہُ أَکْبَرُکہا ، پھر جب دوسرا سجدہ کیا تو اللہُ أَکْبَرُکہا: پھر اللہُ أَکْبَرُکہتے ہوئے ( دوسری رکعت کےلیے ) قبلہ رخ کھڑے ہوگئے ، پھر جب دو رکعت سے کھڑے ہوئے تو اللہ اکبر کہا، پھر جب سلام پھیرا تو کہا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! بلاشبہ میں تم سب سے زیادہ رسول اللہﷺ کی نماز کے ساتھ مشابہ ہوں۔"

وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لَأَشْبَهُكُمْ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ ← اللَّهُ أَكْبَرُ. فَلَمَّا سَلَّمَ ← اللَّهُ أَكْبَرُ. ثُمَّ اسْتَقْبَلَ قَائِمًا مَعَ التَّكْبِيرِ، فَلَمَّا قَامَ مِنَ الثِّنْتَيْنِ، ← اللَّهُ أَكْبَرُ. فَلَمَّا سَجَدَ ← اللَّهُ أَكْبَرُ. ثُمَّ سَجَدَ، فَلَمَّا رَفَعَ، ← اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ثُمَّ ← اللَّهُ أَكْبَرُ، فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ، ← النَّاسُ: آمِينَ، فَلَمَّا رَكَعَ ← آمين ← (بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ). ثُمَّ قَرَأَ بِأُمِّ الْقُرْآنِ حَتَّى بَلَغَ (وَلَا الضَّالِّينَ). ← صَلَّيْتُ وَرَاءَ أَبِي هُرَيْرَةَ، ← نُعَيْمٍ الْمُجْمِرِ ← ابْنِ أَبِي هِلَالٍ ← خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ ← حَيْوَةُ، ← عَمِّي، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 688

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ اللِّبَاسِ فِی الصَّلَاۃِ · حديث 777

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ مُوسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: سَمِعْتُ سَلَمَةَ بْنَ الْأَكْوَعِ يَقُولُ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَكُونُ فِي الصَّيْدِ فَتَحْضُرُ الصَّلَاةُ وَعَلَيَّ قَمِيصٌ، قَالَ: "شُدَّهُ وَلَوْ بِشَوْكَةٍ".

قمیض اور جبے کو بٹن لگانے کے حکم کا بیان ، جب کہ نمازی ان میں سے کسی ایک میں نماز پڑھے اور اس پر کوئی دوسرا کپڑا نہ ہو۔

قُلْتُ ← سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ← مُوسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِیُّ ← نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The door-of-clothing intercourse in prayer · Hadith 777

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ اللِّبَاسِ فِی الصَّلَاۃِ · حديث 778

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَدَنِيُّ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: أَكُونُ فِي الصَّيْدِ وَلَيْسَ عَلَيَّ إِلَّا قَمِيصٌ وَاحِدٌ أَوْ جُبَّةٌ وَاحِدَةٌ، فَأَزُرُّهُ؟ قَالَ: "نَعَمْ، وَلَوْ بِشَوْكَةٍ". قَالَ أَحْمَدُ مَرَّةً: فَقَالَ: "زُرَّهُ وَلَوْ بِشَوْكَةٍ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: مُوسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ هَذَا هُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ، هَكَذَا نَسَبَهُ عَطَّافُ بْنُ خَالِدٍ، وَأَنَا أَظُنُّهُ ابْنَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ. أَبُوهُ إِبْرَاهِيمُ هُوَ الَّذِي ذَكَرَهُ شُرَحْبِيلُ بْنُ سَعْدٍ أَنَّهُ دَخَلَ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ ذَكَرَهُ.

''حضرت سلمہ بن اکوعؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے سوال کیا، میں نے عرض کی: میں شکار کےلیے گیا ہوتا ہوں اور میرے اوپر صرف قمیض یا یک جبہ ہوتا ہے، کیا میں اسے باند ھ لیا کروں؟ آپ نے فرمایا: ہاں ، اگرچہ کانٹے کے ساتھ ہی باند لو ۔''ایک مرتبہ فرمایا : اسے بٹن لگا لو(باندھ لو) اگرچہ کانٹے کے ساتھ ہی ہو۔ امام ابو بکر ؒ فرماتے ہین :موسیٰ بن ابراہیم سے مراد اب عبدالرحمان بن عبداللہ بن ابی ربیعہ ہے۔ عطاف بن خالد نے اسی طرح ان کانسب بیا ن کیا ہے،جبکہ میرے خیال میں ان کا نسب اس طرح ہے:ابن ابراہیم بن عبداللہ بن عبدالرحمن بن معمر بن ابی ربیعہ، ان کے والد ابراہیم وہ ہیں جنہیں شرجیل بن سعد نے ذکر کیا ہے کہ وہ اور ابراہیم بن عبداللہ بن عبدالرحمان بن معمر بن ابی ربیعہ حضرت جابر بن عبداللہ ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، ایک لمبی حدیث میں اس کا تذکرہ کیا ہے۔

سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ← مُوسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَدَنِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The door-of-clothing intercourse in prayer · Hadith 778

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الکَلَامِ المُبَاحِ فِی الصَّلاَۃِ وَالدُّعَاءِ وَالذِّکرِ، وَمَساَلَۃِ الرَّبِّ عَذَّوَجَلَّ وَمَا یُضَاھِی ھٰذَا وَیُقَارِبُہُ · حديث 859

وَأَخْبَرَنَا الشَّيْخُ الْفَقِيهُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ الْمُسْلِمِ السُّلَمِيُّ بِدِمِشْقَ، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَحْمَدَ، أَنَا أَبُو عُثْمَانَ الصَّابُونِيُّ، قَالَ: أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بُنْدَارٌ، نَا يَحْيَى، ثَنَا الْحَجَّاجُ -وَهُوَ الصَّوَّافُ- عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ [98 - ب] ح وَحَدَّثَنَا أَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، نَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، حَدَّثَنِي الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ؛ ح وَثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ (1)، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنِي الْحَجَّاجُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ؛ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَيْمُونٍ، ثَنَا الْوَلِيدُ -يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ- عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى؛ وَثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، أَخْبَرَنَا بِشْرٌ -يَعْنِي ابْنَ بَكْرٍ- عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ، ثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ الْحَكَمِ السُّلَمِيُّ؛ ح وَثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، ثَنَاهُ بِشْرٌ -يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ الْحَلَبِيَّ- عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي هِلَالُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ (2)، حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ الْحَكَمِ السُّلَمِيُّ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّا كُنَّا حَدِيثَ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ فَجَاءَ اللَّهُ بِالْإِسْلَامِ، وَإِنَّ رِجَالًا مِنَّا يَتَطَيَّرُونَ. قَالَ: "ذَلِكَ شَيْءٌ يَجِدُونَهُ فِي صُدُورِهِمْ، فَلَا يَصُدَّنَّهُمْ". قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! رِجَالٌ يَأْتُونَ الْكَهَنَةَ. قَالَ: "فَلَا تَأْتُوهُمْ" (1). قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! رِجَالٌ مِنَّا يَخُطُّونَ. قَالَ: "كَانَ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ يَخُطُّ فَمَنْ وَافَقَ خَطَّهُ فَذَاكَ". قَالَ: وَبَيَّنَا أَنَا أُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ عَطَسَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ، فَقُلْتُ لَهُ: يَرْحَمُكُ اللَّهُ. فَحَدَّقَنِي الْقَوْمُ بِأَبْصَارِهِمْ، فَقُلْتُ: وَاثُكْلَ أُمِّيَاهُ، مَا لَكُمْ تَنْظُرُونَ إِلَيَّ. قَالَ: فَضَرَبَ الْقَوْمُ بِأَيْدِيهِمْ عَلَى أَفْخَاذِهِمْ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ [يُصَمِّتُونَنِي] لَكِنِّي سَكَتُّ. فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَانِي، فَبِأَبِي هُوَ وَأُمِّي مَا رَأَيْتُ مُعَلِّمًا قَطُّ قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ أَحْسَنَ تَعْلِيمًا مِنْهُ، وَاللَّهِ مَا ضَرَبَنِي، وَلَا كَهَرَنِي، وَلَا شَتَمَنِي، وَلَكِنْ قَالَ: "إِنَّ صَلَاتَنَا هَذِهِ لَا يَصْلُحُ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ كَلَامِ النَّاسِ، إِنَّمَا هِيَ التَّكْبِيرُ، وَالتَّسْبِيحُ، وَتِلَاوَةُ الْقُرْآنِ". هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ مَيْسَرَةَ. قَالَ بُنْدَارٌ: بَيْنَمَا أَنَا أُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهَكَذَا قَالَ الْبَاقُونَ. وَقَالَ بُنْدَارٌ: فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ يُصَمِّتُونِي لَكِنِّي سَكَتُّ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: خَرَّجْتُ فِي "التَّصْنِيفِ" حَدِيثَ الْبَاقِينَ فِي عَقِبِ حَدِيثِ بُنْدَارٍ بِمِثْلِهِ، وَلَمْ أُخَرِّجْ أَلْفَاظَهُمْ".

حضرت معاویہ بن حکم سلمی ؓ بیان کرتے ہیں میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم نئے نئے جاہلیت سے نکلے ہیں ، پھر اللہ تعالیٰ اسلام کی نعمت لے آئے ، بے شک ہم میں کچھ لوگ بد شگونی لیتے ہیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : یہ وہ چیز ہے جسے وہ اپنے دلوں میں پاتے ہیں تو یہ ان کو ( ان کے کاموں سے ) ہرگز نہ روکے۔ انہوں نے عرض کی : اللہ کے رسول ﷺ! کچھ لوگ کاہنوں کے پاس چلے جاتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا ؛ تم ان کے پاس مت جاو۔ وہ کہنے لگے : اے اللہ کے رسول ! ہم میں سے کچھ لوگ لکیریں لگاتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : انبیائے کرام میں سے ایک نبی لکیریں لگاتے تھے جس کی لکیریں ان کی لکیروں کے موافق ہو جائیں تو وہ درست ہے ( اس میں کوئی حرج نہیں ) حضرت معاویہ فرماتے ہیں : اس اثنا میں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا کہ لوگوں میں سے ایک شخص نے چھینک ماری ، تو میں نے اسے کہا : یر حمک اللہ ( اللہ تجھ پر رحم فرمائے) ۔ تو لوگوں نے مجھے گھورنا شروع کر دیا ۔ تو میں نے کہا : ہائے میری ماں مجھے روئے( یعنی میں مر جاوں ) تم مجھے اس طرح کیوں دیکھ رہے ہو؟ تو لوگوں نے اپنی رانوں پر ہاتھ مارنے شروع کر دیے، تو جب میں نے دیکھا کہ وہ مجھے خاموش کرا رہے ہیں تو میں خاموش ہو گیا۔ جب رسول اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو مجھے بلایا۔ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، میں نے آپ سے اور آپ کے بعد آپ سے بہتر تعلیم دینے والا معلم نہیں دیکھا ۔ اللہ کی قسم ! آپ نے نہ مجھے مارا ، نہ جھڑکا ، نہ برا بھلا کہا، آپ نے فرمایا: " بے شک ہماری اس نماز میں لوگوں کی بات چیت درست نہیں ہے ۔ بلکہ یہ تو تکبیر ، تسبیح اور قرآن مجید کی تلاوت کرنے کانام ہے۔" یہ میسرہ کہ حدیث کے الفاظ ہیں ۔ جناب بندار کی روایت کے یہ الفاظ ہیں : " اس دوران میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا ۔" اسی طرح دیگر راویوں نے بیان کیا ہے اور بندار کہتے ہیں : " پھر جب میں نے انہں دیکھا کہ وہ مجھے خاموش کرا رہے ہیں تو میں خا موش ہو گیا ۔" امام ابو بکر فرماتے ہیں : " میں نے " التصنیف الکبیر " میں باقی راویوں کی حدیث بھی بندار کی روایت کے مثل بیان کر دی ہے مگر میں نے ان کے الفاظ بیان نہیں کیے۔

قُلْتُ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ الْحَكَمِ السُّلَمِيُّ ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← هِلَالُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← وَثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، ثَنَاهُ بِشْرٌ -يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ الْحَلَبِيَّ- ← مُعَاوِيَةُ بْنُ الْحَكَمِ السُّلَمِيُّ ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← هِلَالُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ ← يَحْيَى ← الْاَوْزَاعِیُّ ← بِشْرٌ -يَعْنِي ابْنَ بَكْرٍ- ← يَحْيَى؛ وَثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِيدُ -يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ-، ← وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَيْمُونٍ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْحَجَّاجِ، ← إِسْمَاعِيلُ ← وَثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْحَجَّاجُ بْنُ أَبَى عُثْمَانَ ← إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، ← وَحَدَّثَنَا أَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ب] ← الْحَجَّاجُ -وَهُوَ الصَّوَّافُ- ← يَحْيَى ← بُنْدَارٌ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ، ← أَبُو عُثْمَانَ الصَّابُونِيُّ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَحْمَدَ، ← وَأَخْبَرَنَا الشَّيْخُ الْفَقِيهُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ الْمُسْلِمِ السُّلَمِيُّ بِدِمِشْقَ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance · Hadith 859

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الأَوقَاتِ الَّتِی یُنھٰی عَن صَلاَۃِ التَّطَوُّعِ فِیھِنَّ · حديث 1289

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، نَا أَبُو مَعْمَرٍ، نَا عَبْدُ الْوَارِثِ، نَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "صَلُّوا قَبْلَ الْمَغْرِبِ رَكْعَتَيْنِ"، ثُمَّ قَالَ: "صَلُّوا قَبْلَ الْمَغْرِبِ رَكْعَتَيْنِ"، ثُمَّ قَالَ عِنْدَ الثَّالِثَةِ: "لِمَنْ شَاءَ"، خَشِيَ أَنْ يَحْسَبَهَا النَّاسُ سُنَّةً. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا اللَّفْظُ مِنْ أَمْرِ الْمُبَاحِ، إِذْ لَوْ لَمْ يَكُنْ مِنْ أَمْرِ الْمُبَاحِ لَكَانَ أَقَلُّ الْأَمْرِ أَنْ يَكُونَ سُنَّةً إِنْ لَمْ يَكُنْ فَرْضًا، وَلَكِنَّهُ أَمْرُ إِبَاحَةٍ، وَقَدْ كُنْتُ أَعْلَمْتُ فِي غَيْرِ مَوْضِعٍ مِنْ كُتُبِنَا أَنَّ لِأَمْرِ الْإِبَاحَةِ عَلَامَةً، مَتَى زَجَرَ عَنْ فِعْلٍ ثُمَّ أَمَرَ بِفِعْلِ مَا قَدْ زَجَرَ عَنْهُ، كَانَ ذَلِكَ الْأَمْرُ أَمْرَ إِبَاحَةٍ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَانَ زَاجِرًا عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تغْرِبِ الشَّمْسِ عَلَى الْمَعْنَى الَّذِي بَيَّنْتُ، فَلَمَّا أَمَرَ بِالصَّلَاةِ بَعْدَ غُرُوبِ الشَّمْسِ صَلَاةَ تَطَوُّعٍ كَانَ ذَلِكَ أَمْرَ إِبَاحَةٍ، وَأَمْرُ اللَّهِ جَلَّ وَعَلَا بِالِاصْطِيَادِ عِنْدَ الْإِحْلَالِ مِنَ الْإِحْرَامِ أَمْرُ إِبَاحَةٍ، إِذْ كَانَ اصْطِيَادُ (1) صَيْدِ الْبَرِّ فِي الْإِحْرَامِ مَنْهِيًّا عَنْهُ، لِقَوْلِهِ جَلَّ وَعَلَا: (غَيْرَ مُحِلِّي الصَّيْدِ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ) [المائدة: 1] وَبِقَوْلِهِ: (وَحُرِّمَ عَلَيْكُمْ صَيْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا) [المائدة: 96]، وَبِقَوْلِهِ: (لَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ) [المائدة: 95] فَلَمَّا أَمَرَ بَعْدَ الْإِحْلَالِ بِاصْطِيَادِ صَيْدِ الْبَرِّ كَانَ ذَلِكَ الْأَمْرُ أَمْرَ إِبَاحَةٍ، قَدْ بَيَّنْتُ هَذَا الْجِنْسَ فِي كِتَابِ "مَعَانِي الْقُرْآنِ". جُمَّاعُ أَبْوَابِ فَضَائِلِ الْمَسَاجِدِ وَبِنَائِهَا وَتَعْظِيمِهَا

حضرت عبداللہ مزنی ؓ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مغرب سے پہلے دو رکعات پڑھو ۔پھر فرمایا:مغرب سے پہلے دو رکعات ادا کرو ، پھر تیسری مرتبہ فرمایا: جو پڑھنا چاہیے۔ آپ کو یہ خدشہ ہوا کہ کہیں لوگ اسے لازمی نہ سمجھ لیں ۔ امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں : یہ الفاظ مباح امر کے ہیں ۔ کیونکہ اگر یہ مباح امر سے نہ ہوتے تو کم از کم سنت ہوتے ، اگرچہ فرض نہ بھی ہوتے ، لیکن یہ امر اباحت و جواز کے لیے ہے۔ اور میں اپنی کتابوں کے کئی مقامات پر بیان کر چکا ہوں کہ مباح امر کی علامت یہ ہوتی ہے کہ جب آپ کسی کام سے منع فرمایئں ۔ پھر اسی ممنوع کام کرنے کا ھکم دیں تو یہ کام مباح ہو گا ۔نبی کریم ﷺ نے عصر کے بعد غروب آفتاب تک نماز پڑھنے سے منع فرمایا تھا، اس معنی اور مفہوم پر جسے میں یان کر چکا ہوں ، پھر جب آپ نے غروب آفتاب کے بعد نفل نماز پڑھنے کا حکم دیا تو یہ حکم اباحت اور جواز کے لیے ہو گا۔ اسی طرح اللہ تعالی کا (حاجی کو) احرام کی پانبدیوں سے فارغ ہونے کے بعد شکار کرنے کا حکم دینا ، مباح حکم ہے کیونکہ حالت احرام میں خشکی کا شکار کرنا ممنوع تھا ۔ اللہ تعالی کے اس فرمان کی وجہ سے(غَیْرَ مُحِلَی الصَّیْدِ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ)(المائدہ:۱)جب تم احرام کی حالت میں ہو تو شکار کو حلال نہ جانو۔ اور اللہ تعالی کے اس فرمان کی وجہ سے :(وَحُرِّمَ عَلَیْکُمْ صَیْدُ الْبَرَ مَادُمْتُمْ حُرُمًا)(المائدۃ:96) اور جب تم احرام کی حالت میں ہو تمہارے لیے خشکی کا شکار حرام کیا گیا ہے ۔ اور اس ارشاد باری تعالی کی وجہ سے ۔ تم حالت احرام میں شکار کو قتل نہ کرو ۔ لہذا جب اللہ تعالی نے احرام کھولنے پر خشکی کا شکار کرنے کا حکم دیا تو یہ حکم اباحت و جواز کے لیے ہے۔(فرض یا واجب نہیں) میں نے یہ قسم کتاب معافی القرآن میں بیان کی ہے۔

عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، ← عَبْدُ الْوَارِثِ ← أَبُو مَعْمَرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them · Hadith 1289

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ العِیدَینِ الفِطرِ وَالاَضحَیِ وَمَا یُحتَاجُ فِیھِمَا مِنَ السُّنَنِ · حديث 1431

خْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ وَهْبٍ، ثَنَا عَمِّي، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَخْرُجُ فِي الْعِيدَيْنِ مَعَ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، وَالْعَبَّاسِ، وَعَلِيٍّ، وَجَعْفَرٍ، وَالْحَسَنِ، وَالْحُسَيْنِ، وَأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، وَزِيدِ بْنِ حَارِثَةَ، وَأَيْمَنَ ابْنِ أُمِّ أَيْمَنَ، رَافِعًا صَوْتَهُ بِالتَّهْلِيلِ، وَالتَّكْبِيرِ، فَيَأْخُذُ طَرِيقَ الْحَدَّادِينَ حَتَّى يَأْتِيَ الْمُصَلَّى، فَإِذَا فَرَغَ رَجَعَ عَلَى الْحَذَّائِينَ حَتَّى يَأْتِيَ مَنْزِلَهُ.

"حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ عیدین کے دن حضرت فضل بن عباس، عبد اللہ بن عباس، عباس، علی ، جعفر، حسن، حسین ، اسامہ بن زید، زید بن حارثہ اور حضرت ایمن بن ام ایمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ساتھ لے کر بلند آواز سے تکبیر و تہلیل کہتے ہوئے (عیدگاہ کی طرف) جاتے۔ آپ لوہاروں والے راستے سے عیدگاہ پہنچتے، پھر جب نماز سے فارغ ہوتے تو موچیوں کے راستے سے لوٹتے حتیٰ کہ آپ اپنے گھر پہنچ جاتے۔"

عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← عَمِّي، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ وَهْبٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← خْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them · Hadith 1431

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1579

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا كَبَّرَ فِي الصَّلَاةِ سَكَتَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ، فَقُلْتُ لَهُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي أَرَأَيْتَ سُكَاتَكَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ أَخْبِرْنِي مَا هُوَ؟ قَالَ: "أَقُولُ: اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطِيئَتِي كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، اللَّهُمَّ أَنْقِنِي مِنْ خَطَايَايَ كَالثَّوْبِ الْأَبْيَضِ مِنَ الدَّنَسِ، اللَّهُمَّ اغْسِلْنِي مِنْ خَطَايَايَ بِالثَّلْجِ وَالْمَاءِ وَالْبَرَدِ".

اس بات کا بیان کہ کبھی آہستہ بولنے والے پر بھی ساکت وخاموش کا اطلاق ہو جاتا ہے

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ← ابْنُ فُضَيْلٍ، ← هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein · Hadith 1579

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1621

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر نا بندار ثنا بدل بن المحبر ثنا شعبة عن موسى بن أبي عائشة عن عبيد الله بن عبد الله عن عائشة : أن أبا بكر صلى بالناس و رسول الله صلى الله عليه و سلم في الصف خلفه قال أبو بكر : فلم يصح الخبر أن النبي صلى الله عليه و سلم كان هو الإمام في المرض الذي توفي فيه في الصلاة التي كان هو فيها قاعدا و و أبو بكر و القوم قيام لأن في خبر مسروق و عبيد الله بن عبد الله عن عائشة أن أبا بكر كان الإمام و النبي صلى الله عليه و سلم مأموم و هذا ضد خبر هشام عن أبيه عن عائشة و خبر إبراهيم بن الأسود عن عائشة على أن شعبة بن الحجاج قد بين في روايته عن الأعمش عن إبراهيم عن الأسود عن عائشة أن من الناس من يقول : كان أبو بكر المقدم بين يدي رسول الله صلى الله عليه و سلم و منهم من قال : كان النبي صلى الله عليه و سلم المقدم بين يدي أبي بكر و إذا كان الحديث الذي به احتج من زعم أن فعله الذي كان في سقطته من الفرس و أمره صلى الله عليه و سلم بالاقتداء بالأئمة و قعودهم في الصلاة إذا صلى إمامهم قاعدا منسوخ غير صحيح من جهة النقل فغير جائز لعالم أن يدعي نسخ ما قد صح عن النبي صلى اله عليه و سلم بالأخبار المتواترة بالأسانيد الصحاح من فعله و أمره بخبر مختلف فيه على أن النبي صلى الله عليه و سلم قد زجر عن هذا الفعل الذي ادعته هذه الفرقة في خبر عائشة الذي ذكرنا أنه مختلف فيه عنها و أعلم أنه فعل فارس و الروم بعظمائها يقومون و ملوكهم قعود و قد ذكرنا هذا الخبر في موضعه فكيف يجوز أن يؤمر بما قد صح عن النبي صلى الله عليه و سلم من الزجر عنها استنانا بفارس والروم من غير أن يصح عنه صلى الله عليه و سلم الأمر به و إباحته بعد الزجر عنه و لا خلاف بين أهل المعرفة بالأخبار أن النبي قد صلى قاعدا و أمر القوم بالقعود و هم قادرون على القيام لو ساعدهم القضاء و قد أمر النبي صلى الله عليه و سلم المأموين بالاقتداء بالإمام والقعود إذا صلى الإمام قاعدا و زجر عن القيام في الصلاة إذا صلى الإمام قاعدا و اختلفوا في نسخ ذلك و لم يثبت خبر من جهة النقل بنسخ ما قد صح عنه صلى الله عليه و سلم مما ذكرنا من فعله و أمره فما صح عن النبي صلى الله عليه و سلم واتفق أهل العلم على صحته يقين و ما اختلفوا فيه و لم يصح فيه خبر عن النبي صلىالله عليه و سلم شك و غير جائز ترك اليقين بالشك و إنما يجوز ترك اليقين باليقين فإن قال قائل غير منعم الروية : كيف يجوز أن يصلي قاعدا من يقدر على القيام ؟ قيل له : إن شاء الله يجوز ذلك أن يصلي بأولى الأشياء أن يجوز به و هي سنة النبي صلى الله عليه و سلم أمر باتباعها ووعد الهدى على اتباعها فأخبر أن طاعته صلى الله عليه و سلم طاعته عز و جل و قوله : كيف يجوز لما قد صح عن النبي صلى الله عليه و سلم الأمر به و ثبت فعله له بنقل العدل عن العدل موصولا إليه بالأخبار المتواترة جهل من قائله و قد صح عن النبي صلى الله عليه و سلم عند جميع أهل العلم بالأخبار الأمر بالصلاة قاعدا إذا صلى الإمام قاعدا و ثبت عندهم أيضا أنه صلى الله عليه و سلم صلى قاعدا بقعود أصحابه لا مرض بهم و لا بأحد منهم و ادعى قوم نسخ ذلك فلم تثبت دعواهم بخبر صحيح لا معارض له فلا يجوز ترك ما قد صح من أمره صلى الله عليه و سلم و فعله في وقت من الأوقات إلا بخبر صحيح عنه ينسخ أمره ذلك و فعله و وجود نسخ ذلك بخبر صحيح معدوم و في عدم وجود ذلك بطلان ما ادعت فجازت الصلاة قاعدا إذا صلى الإمام قاعدا اقتداء به على أمر النبي صلى الله عليه و سلم و فعله و الله الموفق للصواب

"جناب عبید اللہ بن عبداللہ ، حضرت عائشہ ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر ؓ نے صحابہ کرام ؓ کو نماز پڑھائی جبکہ رسول اللہ ﷺ ان کے پیچھے صف میں موجود تھے۔ امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں:چنانچہ یہ روایت درست نہیں ہے کہ نبی کریم ﷺ اپنی آخری بیمار ی میں ادا کی گئی نماز میں امام تھے، اور آپ بیٹھے ہوۓ تھے جبکہ ابوبکر ؓ اور صحابہ کرام ؓ کھڑے تھے۔کیونکہ جناب مسروق اور عبید اللہ کی حضرت عائشہ سے روایت کردہ احادیث میں مذکور ہے کہ امام حضرت ابوبکر ؓ تھے اور نبی کریم ﷺ مقتدی تھے اور یہ روایت جناب عروہ اور اسود کی حضرت عائشہ سے مروی روایات کے خلاف ہے۔ اس بنا پر کی امام شعبہ بن حجاج نے اپنی سند سے حضرت عائشہ ؓ سے مروی روایت میں بیان کر دیا ہے کہ کچھ لوگ کہتے ہیں:ابوبکر ؓ رسول اللہ ﷺ کے امام تھے۔جبکہ کچھ لوگوں کو کہنا ہے کہ نبی کریم ﷺ حضرتا ابوبکر ؓ کے امام تھے جب وہ حدیث جس سے ان لوگوں نے استدلال کیا ہے جس کا خیال ہے کہ آپ ﷺ کا یہ فعل اس و قت کا ہے جب آپ گھوڑے سے گر گئے تھے، اور آپ ﷺ کا یہ حکم کی ائمہ کی اقتداء کی جاۓ اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھائیں تو مقتدی بھی بیٹھ کر نماز پڑھیں، یہ منسوخ ہے۔جبکہ یہ پات نقل کے اعتبار سے صحیح ثانت نہیں ہے۔لہٰذا کسی عالم دین کے لیے ایک مختلف فیہ حدیث کے ساتھ آپ کے کسی ایسے فعل اور حکم کو منسوخ قرارد دینا درست نہیں، جو آپ سے صحیح اور متواتر اسانید کے ساتھ ثانت ہو۔کیونکہ محدثین کے اس گروہ نے جو دعویٰ کیا ہے اس فعل سے نبی کریم ﷺ نے حضرت عائشہ ؓ کی حدیث میں منع کیا ہے اور ہم نے بیان کیا ہے کہ وہ روایت مختلف فیہ ہے اور آپ نے بیان کیا ہے کہ یہ کام ایرانی اور رومی اپنے بادشاہوں کے ساتھ کرتے ہیں کہ جب ان کے بادشاہ بیٹھے ہوتے ہیں تو یہ(ان کے تعظیم کے لیے) کھڑے رہتے ہیں۔ ہم اس حدیث کو اس کے مقام پر بیان کر چکے ہیں۔لہٰذا جس کام سے رسول اللہ ﷺ منع کر چکے ہون۔ایرانیوں اور رومیوں کی اتباع کرتے ہوۓ اس کام کا حکم دیان کسی طرح درست ہوسکتا ہے جبکہ نبی کریمﷺ کے منع کرنے کے بعد یہ بات بھی صحیح ثابت نہ ہو کہ آپ نے اس کام کا حکم دیا ہو اور اسے جائز قراردیا ہو۔احادیث کی مورفت رکھنے والے علاۓ کرام کا اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں کہ نبی کریم ﷺ نے بیٹھ کر نماز ادا کی ہے، اور لوگوں کو بھی بیٹھ کر نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے، جبکہ وہ قیام کی قدرت رکھتے ہوں اور ان کے لیے بیٹھ کر نماز کی ادائیگی ممکن ہو۔یقیناً نبی اکرم ﷺ نے مقتدیوں کو امام کی اقتداء میں بیٹھ کر نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے ، جبکہ امام بھی بیٹھ کر نماز پڑھ رہا ہو اور جب امام بیٹھ کر نماز پڑھا ریا ہو تو مقتدیوں کو نماز میں کھڑے ہونے سے منع کیا ہے۔اس حکم کے منسوخ ہونے میں علماء نے اختلاف کیا ہے لیکن نقل کے اعتبار سے نبی کریم سے ایسی کوئی روایت ثابت نہیں ہے جو نبی کریم ﷺ سے ثابت آپ کے فعل اور حکم کو منسوخ کرے۔جسے ہم نے بیان کیا ہے۔لہٰذا جو چیز آپ سے صحیح ثابت ہے اور اہل علم کا اس کی صحت پر اتفاق ہے وہ چیز یقینی ہے، اور جس چیز میں علماۓ کرام کا اختلاف ہے اور اس کے بارے میں نبی کریم ﷺ سے بھی کوئی چیز ثابت نہیں تو وہ چیز مشکوک ہے اور مشکوک چیز کے ساتھ یقینی اور پختہ چیز کو ترک کرنا جائز نہیں ہے بلکہ یقنی چیز کو یقینی چیز کے ساتھ یہ ترک کیا جاتا ہے۔اگر (احکام دین میں) گہراغورفکر کرنے والا شخص یہ کہے کہ قیام کی قدرت رکھنے والے شخص کےلیے بیٹھ کر نماز پڑھنا کس طرح جائز ہو سکتا ہے؟ اسے جواب دیا جاۓ گا کہ اگر اللہ چاہے تو اس کے لیے یہ جائز ہو گا کہ وہ بہترین چیز کے ساتھ نماز پڑھ لے جبکہ یہ تو نبی ﷺ کی سنت ہے جس کی اتباع کا حکم دیا گیا ہے اور اس کی اتباع پر ہدایت نصیت کرنے کا وعدہ کیا ہے۔چجانچہ بتایا ہے کہ آپ ﷺ کی اطاعت در حقیت اللہ عزوجل ہی کی اطاعت ہے اور سائل کا یہ کہنا:(بیٹھ کر مقتدی کا نماز پڑھنا) کیسے جائز ہو سکتا ہے جبکہ نبی کریم ﷺ سے عادل راویوں کی متواتر سانید سے صحیح ثابت ہے آ پ نے (کھڑے ہو کر، بیٹھے امام کے پیچھے نماز پڑھنے کا)حکم دیا ہے اور آپ کے فعل سے بھی ثابت ہے۔یہ قائل کی لا علمی ہے، کیونکہ تما ماہرین علم حدیث کے نزدیک نبی کریم ﷺ سے صحیح ثابت ہے کہ آُ ﷺ نے بیٹھ کر نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے جبکہ امام بیٹھ کر نماز پڑھاۓ اور ان کے نزدیک یہ بات بھی ثابت شدہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے صحابہ سمیت بیٹھ کر نماز ادا کی ہے ، جبکہ صحابہ کرام یا ان میں سے کوئی ایک بھی بیمار نہیں تھا۔(سب بیٹھ کر نماز پڑھنے پر قادر تھے) ایک گروہ نے اس کے منسوخ ہونے کا دعوٰی کیا ہے۔لیکن ان کا یہ دعویٰ کسی ایسی صحیح روایت سے ثابت نہیں جس روایت کی کوئی معارض ومخالف روایت موجود نہ ہو۔لہٰذا جو چیز رسول اللہ ﷺ کے حکم اور آپ کے فعل سے صحیح ثانت ہو اس کی مخالفت کرنا اس وقت تک جائز نہیں جب تک آپ کے حکم اور فعل کو منسوخ کرنے والی کوئی صحیح روایت موجود نہ ہو اور اس حکم کو منسوخ کرنے والی کوئی صحیح روایت موجود نہ ہو اور اس حکم کو منسوخ کرنے والی صحیح روایت معدوم ہے۔ایسی روایت کا دستیاب نہ ہونا، اہل محدثین کے اس گروہ کے دعویٰ کو باطل کرتا ہے۔لہٰذا جب امام بیٹھ کر نماز پڑھاے ٔ تو مقتدیوں کے لیے رسول اللہ ﷺ کے حکم اور فعل کے مطابق امام کی اقتداء میں بیٹھ کر نماز پڑھنا جائز ہے۔ واللہ الموفق للصواب (اللہ تعالٰی ہی درست راہ کی توفیق بخشتا ہے۔) "

عَائِشَةَ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ← شُعْبَةُ، ← بَدَلُ بْنُ الْمُحَبَّرِ، ← بُنْدَارٌ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein · Hadith 1621

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2561

ثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ الْقُرَشِيُّ، ثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُرِيدُ سَفَرًا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَوْصِنِي. قَالَ: "أُوصِيكَ بِتَقْوَى اللَّهِ، وَالتَّكْبِيرِ عَلَى كُلِّ شَرَفٍ"، فَلَمَّا مَضَى، قَالَ: "اللَّهُمَّ ازْوِ لَهُ الْأَرْضَ، وَهَوِّنْ عَلَيْهِ السَّفَرَ".

۔۔حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، وہ سفر پر جا رہا تھا ۔تو اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ !مجھے نصیحت فرمائیں ۔آپ نے فرمایا : "میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا تقو ی ٰ اختیار کرنے اور ہر بلند جگہ چڑھتے ہوئے اللہ اکبر پڑھنے کی نصیحت کرتا ہوں ۔"پھر جب وہ شخص چلا گیا تو آپ نے ( اس کے لیے ) یہ دعا فرمائی : "اے اللہ اس کے سفر کی مسافت کو لپیٹ دے اور اس کے سفر کو آسان بنا دے ۔"

جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ يُرِيدُ سَفَرًا، فَقَالَ: ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← وَكِيعٌ، ← سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ الْقُرَشِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2561

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2576

ثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، ثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَشْعَرَ الْهَدْيَ فِي شِقِّ السَّنَامِ الْأَيْمَنِ.

حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے اپنے قربانی کے اونٹ کو اس کی کوہا ن کی دائیں جانب اشعار کیا۔

قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ، غَيْرَ أَنَّهُ ← هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ← وَكِيعٌ، ← سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2576

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2606

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا مُحَمَّدُ -يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ- حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ ذَكْوَانَ مَوْلَى عَائِشَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَدِمَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأَرْبَعٍ مَضَيْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ أَوْ خَمْسٍ، فَدَخَلَ عَلَيَّ وَهُوَ غَضْبَانُ. فَقُلْتُ: مَنْ أَغْضَبَكَ؟ فَقَالَ: "أَمَّا شَعَرْتِ أَنِّي أَمَرْتُ النَّاسَ بِأَمْرٍ فَإِذَا هُمْ يَتَرَدَّدُونَ. -قَالَ الْحَكَمُ: يَتَرَدَّدُونَ: أَحْسِبُ- لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا سُقْتُ الْهَدْيَ مَعِي حَتَّى أَشْتَرِيَهُ، ثُمَّ أَحِلُّ كَمَا حَلُّوا".

حضرت عائشہ ؓبیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ ذوالحجہ کی چار یا پانچ تاریخ کو (مکہ آئے ) آپ میرے پاس تشریف لائے تو آپ غصے میں تھے ۔تومیں نے عرض کیا : آپ کوکس نے اس قدر غصہ دلایا ہے؟آپ نے فرمایا : "کیا تمہیں پتہ نہیں چلا کہ میں نے لوگو ں کو ایک حکم دیا ہے اور وہ اس کی تعمیل میں تردد کر رہے ہیں ۔"جناب حکم کی روایت میں ہے : "وہ تردد کر رہے ہیں ،اگر مجھے اپنے معاملے کا پہلے علم ہوتا تو میں قربانی کا جانور انے ساتھ (مدینہ منورہ سے ) نہ لاتا اور مکہ مکرمہ سے خرید لیتا ۔پھر میں بھی ( صرف عمرہ کرکے ) احرام کھو ل دیتا جیسا کہ ان صحابہ نے کھولا ہے ۔"

عَائِشَةَ ← ذَكْوَانَ، مَوْلَى عَائِشَةَ، ← عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدٌ -يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ-، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2606

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2620

ثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، ثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، أَخْبَرَنِي جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، لَا نَرَى إِلَّا الْحَجَّ حَتَّى قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَكَّةَ، فَطَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا، وَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: "نَبْدَأُ بِالَّذِي بَدَأَ اللَّهُ بِهِ"، فَبَدَأَ بِالصَّفَا، حَتَّى فَرَغَ مِنْ آخِرِ سَبْعَةٍ عَلَى الْمَرْوَةِ، فَجَاءَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ بِهَدِيَّةٍ مِنَ الْيَمَنِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "بِمَ أَهْلَلْتَ؟ " قَالَ، قُلْتُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أُهِلُّ بِمَا أَهَلَّ بِهِ رَسُولُكَ. قَالَ: "فَإِنِّي أَهْلَلْتُ بِالْحَجِّ". فَذَكَرَ الدَّوْرَقِيُّ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَقَدْ أَهَلَّ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ بِمَا أَهَلَّ بِهِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، وَهُوَ غَيْرُ عَالِمٍ فِي وَقْتِ إِهْلَالِهِ مَا الَّذِي بِهِ أَهَلَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، لِأَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِنَّمَا كَانَ مُهِلًّا مِنْ طَرِيقِ الْمَدِينَةِ، وعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَحِمَهُ اللَّهُ مِنْ نَاحِيَةِ الْيَمَنِ، وَإِنَّمَا عَلِمَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ مَا الَّذِي بِهِ أَهَلَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِنْدَ اجْتِمَاعِهِمَا بِمَكَّةَ، فَأَجَازَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِهْلَالَهُ بِمَا أَهَلَّ بِهِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، وَهُوَ غَيْرُ عَالِمٍ فِي وَقْتِ إِهْلَالِهِ أَهَلَّ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْحَجِّ أَوْ بِالْعُمْرَةِ أَوْ بِهِمَا جَمِيعًا. "وَقِصَّةُ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ مِنْ هَذَا الْبَابِ لَمَّا قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، وَهُوَ مُنِيخٌ بِالْبَطْحَاءِ، فَقَالَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قال: قَدْ أَحْسَنْتَ، غَيْرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْمُتَعَقَّبِ أَمَرَ عَلِيًّا بِغَيْرِ مَا أَمَرَ بِهِ أَبَا مُوسَى، أَمَرَ عَلِيًّا بِالْمُقَامِ عَلَى إِحْرَامِهِ إِذْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ، فَلَمْ يَجز لَهُ الْإِحْلَال إِلَى أَنْ يبلغ الْهَدْي مَحِلَّهُ، وَأَمَرَ أَبَا مُوسَى بِالْإِحْلَالِ بِعُمْرَةٍ إِذْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ، وَقَدْ بَيَّنْتُ هَذِهِ الْمَسْأَلَةَ فِي "كِتَابِ الْكَبِيرِ".

حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ صرف حج کی نیت سے (مدینہ منورہ سے ) نکلے حتی کہ رسول اللہﷺ مکہ مکرمہ پہنچ گئے تو آپ نے بیت اللہ کے سات چکر لگائے (طواف کیا) اور مقام ابراہیم کے پاس دو رکعت ادا کیں ،پھر آپ نے فرمایا: "ہم بھی (سعی کی )ابتداءاسی سے کریں گے جس سے اللہ تعالیٰ نے (قرآن مجید میں ) ابتداء کی ہے ۔"لہذ ا آپ نے صفا پہاڑی سے (سعی کی ) ابتداء کی ۔حتی ٰ کہ آخری ساتواں چکرمروہ پہاڑی پر پہنچ کر ختم کیا اور سعی سے فارغ ہوگئے ۔حضرت علی بن ابی طالب ،اللہ ان پر رحم کرے ،یمن سے آپ کے قربانی کے جانورلے کر حاضر ہوگئے ۔تو رسول اللہ ﷺنے ان سے پوچھا : "تم نے احرام باندھتے وقت کیا نیت کی تھی ۔(کس حج کا تلبیہ پکاراتھا ) "انہوں نے عر ض کی : میں نے کہا تھا :اے اللہ !میں بھی اسی نیت سے احرام باندھتا ہوں جس نیت سے تیرے رسول نے احرام باندھا ہے ۔آپ نے فرمایا: "بے شک میں حج کا احرام باندھا ہے ۔"پھر جناب دورقی نے بقیہ حدیث بیان کی ۔امام ابوبکؒر فرماتے ہیں :حضرت علی ؓ نے نبی کریم ﷺ کے احرام کی طرح احرام باندھا حالانکہ احرام باندھتے وقت حضرت علی ؓ کو معلوم نہیں تھا کہ نبی کریم ﷺ نے کس حج کی نیت کرکے احرام باندھا ہے ۔ کیونکہ نبی کریم ﷺ نے مدینہ منورہ کےراستے میں آنے والے میقات ذوالحلیفہ سے احرام باندھا تھا جبکہ حضرت علی ؓ اس وقت یمن کی جانب موجود تھے اور حضرت علی ؓ کومکہ مکرمہ پہنچ کر آپ سے معلوم ہوتھا کہ رسول اللہ ﷺ نے کس حج کی نیت سے احرام باندھا ہے ۔لیکن نبی کریم ﷺنے حضرت علی ؓ کے اسی احرام کو درست قرار دے دیاجو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی نیت پر احرام باندھا تھا حالانکہ احرام باندھتے وقت انہیں معلوم نہیں تھاکہ رسول اللہﷺ نے حج ،عمرے یا ان دونوں کی نیت سے احرام باندھا ہے ۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ کا قصہ بھی اس مسئلے کے متعلق ہے ۔ جب وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے جب کہ آپ بطحا ء میں تشریف فرماتھے ۔آپ نے انہیں فرمایاتھا :تم نے بہت اچھا کیا ہے ( کہ اپنی قربانی ساتھ لائے اس لیے عمرہ ادا کرکے احرام کھول لو) لیکن آخر میں نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی ؓ کو حضرت ابو موسیٰ سے مختلف حکم دیا ۔آپ نے حضرت علی ؓ کو حکم دیا کہ وہ اپنے احرام میں پا بند رہیں کیونکہ انکے پاس قربانی کاجانور موجود تھا ۔لہذ ا انہیں ( 10ذوالحجہ کو ) قربانی کا جانو ر اپنی جگہ پہنچنے تک احرام کھولنے کی اجازت نہ تھی ۔اور آپ نے حضرت ابو موسی ؓ کو عمرہ کرکے احرام کھولنے کا حکم دیا کیونکہ ان کے پاس قربانی کاجانور موجود نہیں تھا ۔میں نے یہ مسئلہ کتاب الکبیر میں بیان کردیا ہے ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2620

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2638

حَدَثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى؛ ح وَقَرَأْتُهُ عَلَى بُنْدَارٍ، عَنْ يَحْيَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كُنَّا مَعَ طَلْحَةَ وَنَحْنُ حُرُمٌ فَأُهْدِيَ لَهُ طَيْرٌ وَطَلْحَةُ رَاقِدٌ، فَمِنَّا مَنْ أَكَلَ وَمِنَّا (1) مَنْ تَوَرَّعَ، فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ طَلْحَةُ وَافقَ مَنْ أَكَلَ وَقَالَ: أَكَلْنَاهُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ الدَّوْرَقِيُّ. وَقَالَ بُنْدَارٌ: عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: "أَخْبَارُ أَبِي قَتَادَةَ وَتَصْوِيبُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِعْلَ مَنْ أَكَلَ من الصَّيْدِ الَّذِي اصْطَادَهُ أَبُو قَتَادَةَ، وَمَسْأَلَتُهُ إِيَّاهُمْ هَلْ مَعَكُمْ مِنْ لَحْمِهِ شَيْءٌ، وَأَكْلُهُ مِنْ ذَلِكَ اللَّحْمِ مِنْ هَذَا الْبَابِ، وَخَبَرُ عُمَيْرِ بْنِ سَلَمَةَ الضُّمَيْرِيِّ مِنْ هَذَا الْبَابِ أَيْضًا.

۔۔جناب عبدالرحمن التیمی بیان کرتے ہیں کہ ہم طلحہ ؓ کے ساتھ حالت احرام میں تھے تو انہیں ایک پرندہ ہدیہ دیا گیا جبکہ وہ سوئے ہوئے تھے ،لہذا کچھ لوگوں نے اس کا گوشت کھا لیا اور کچھ نے کھانے سے اجتناب کیا ۔پھر جب حضرت طلحہ بیدار ہوئے تو انہوں نے گوشت کھانے والوں کی موافقت کی اور فرمایا :ہم نے رسو ل اللہ کے ساتھ ( حالت احرام میں ) پرندے کا گوشت کھایا تھا ۔یہ الفاظ جناب دورقی کی روایت کےہیں ۔امام ابوبکر ؒفرماتے ہیں : حضرت ابو قتادہ ؓ کے شکار کرنے والی حدیث جس میں نبی کریم ﷺ نے اس شکار کا گوشت کھانے والے صحابہ کے عمل کودر ست قرار دیا تھا اور پوچھا تھا :کیا تمہارےپاس اس کا گوشت موجود ہے ۔پھر گوشت ملنے پر آ پ نے بھی کھایا تھا : وہ حدیث بھی اسی مسئلہ کے متعلق ہے ۔حضرت عمیر بن سلمہ الضمیر ی کی روایت بھی اسی مسئلہ کے متعلق ہے ۔

أَبِيهِ ← معاذ بن عبد الرحمن التيمي ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← يَحْيَى ← وَقَرَأْتُهُ عَلَى بُنْدَارٍ، ← يَحْيَى ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2638

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2639

قَرَأْتُ عَلَى بُنْدَارٍ، عَنْ يَحْيَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُوسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: اسْتَذْكِرْهُ كَيْفَ حَدَّثْتَنَا عَنْ لَحْمٍ أُهْدِيَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟، فَاسْتَذْكَرْتُهُ، فَقَالَ: أُهْدِيَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَحْمُ صَيْدٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَرَدَّهُ وَقَالَ: "إِنَّا حُرُمٌ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: رَوَاهُ زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ طَاوُوسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَحْمَ صَيْدٍ فَقَالَ: "لَوْلَا أَنَّا حُرُمٌ قَبِلْنَاهُ". حَدَّثَنَاهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ زُهَيْرٍ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَخَبَرُ طَاوُوسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ دَالٌ عَلَى أَنَّ مَنْ قَالَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أُهْدِيَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِمَارُ وَحْشٍ أَرَادَ خَبَرَهُ عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ [263 - ب] رِوَايَةَ مَنْ قَالَ: أَهْدَيْتُ لَهُ حِمَارًا وَحْشِيًّا، فَلَعَلَّهُ شُبِّهَ عَلَى بَعْضِ الرُّوَاةِ، فَجَعَلَ خَبَرَ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ فِي ذِكْرِ لَحْمِ الصَّيْدِ فِي قِصَّةِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ. وَخَبَرَ عَائِشَةَ: أُهْدِيَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَحْمُ ظَبْيٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَلَمْ يَأْكُلْهُ، كَخَبَرِ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ وَالْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ.

حضر ت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں : جب حضرت زید بن ارقم ؓ تشریف لائے تو حضرت ابن عباس ؓ نے انہیں یاد دلاتے ہوئے پوچھا :آپ نے ہمیں کیسے بیان کیاتھا کہ نبی کریم ﷺ کو (شکار کا ) گوشت پیش کیاگیا تھا ؟جب میں نے انہیں یا د دلایا تو انہوں نے فرمایا : نبی کریم ﷺ کو شکار کا گوشت پیش کیاگیا جب کہ آ پ حالت احرام میں تھے توآپ نے وہ گوشت واپس کر دیا اور فرمایا : "بے شک ہم حالت احرام میں ہیں ۔"اما مابوبکر ؒفرماتے ہیں : جناب زہیر نے اپنی سند سے حضرت براءبن عازب ؓ سے بیان کیا ہے ،وہ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ کو شکار کا گوشت ہدیہ کیا گیا تو آپ نے فرمایا : "اگر ہم حالت ا حرام میں نہ ہوتے تو اسے قبول کر لیتے ۔"امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : جناب طاؤس کی حضرت ابن عباس ؓ سے مروی روایت اس بات کی دلیل ہے کہ میں نے جن راویوں نے حضر ت ابن عباس سے یہ روایت کی ہے نبی کریم ﷺ کو ایک جنگلی گدھا ہدیہ پیش کیا۔تو ان کی مراد حضرت صعب بن جثامہ ؓ کی روایت ہے ۔ اور جن راویوں نے یہ روایت کی : "کہ نبی کریم ﷺ کو ایک جنگلی گدھا ہدیہ پیش کیاگیا ۔تو ممکن ہے کہ کسی کو شبہ ہوگیا ہوتو اس نے حضرت ابن عباس کی حضرت زید بن ارقم کی روایت میں شکا ر کے گوشت کاذکر ہے ،اس کو حضرت صعب بن جثامہ کی روایت میں شامل کردیا ہو ۔حضر ت عائشہ ؓ کی روایت کہ نبی کریم ﷺ کو ایک ہون کا گوشت پیش کیاگیا جب کہ آ پ حالت احرام میں تھے ۔تو آ پ نے اسے نہ کھایا ، یہ روایت بھی حضرت زید بن ارقم اور براء بن عازب ؓ کی طرح ہے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ دَالٌ عَلَى ← أَبُو بَكْرٍ: فَخَبَرُ طَاوُوسٍ، ← زُهَيْرٍ ← الْحَسَنُ بْنُ بِشْرِ بْنِ مُسْلِمٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ ← حُرُمٌ قَبِلْنَاهُ". ← لَوْلَا ← أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ لَحْمَ صَيْدٍ ← الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← طَاوُوسٍ، ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← أَبُو بَكْرٍ: رَوَاهُ زُهَيْرٌ، ← حُرُمٌ ← أُهْدِيَ إِلَى النَّبِيِّ لَحْمُ صَيْدٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَرَدَّهُ ← لَحْمٍ أُهْدِيَ لِلنَّبِيِّ فَاسْتَذْكَرْتُهُ، ← ابْنُ عَبَّاسٍ: اسْتَذْكِرْهُ كَيْفَ حَدَّثْتَنَا ← لَمَّا قَدِمَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← طَاوُوسٍ، ← الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← يَحْيَى ← عَلَى بُنْدَارٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2639

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2644

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُخَرِّمِيُّ، ثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ طَاوُوسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ؛ أَنَّهُ قَالَ: يَا زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ! هَلْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُهْدِيَ لَهُ بَيْضَاتُ نَعَامٍ وَهُوَ حَرَامٌ فَرَدَّهُنَّ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي خَبَرِ جَابِرٍ: "لَحْمُ الصَّيْدِ حَلَالٌ لَكُمْ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ مَا لَمْ تَصِيدُوهُ أَوْ يُصَدْ (1) لَكُمْ" دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ بَيْضَ الصَّيْدِ مُبَاحٌ لِلْمُحْرِمِ إِذَا لَمْ يُؤْخَذْ مِنْ أَجْلِ (2) الْمُحْرِمِ لِأَنَّ حُكْمَ بَيْضِ الصَّيْدِ لَا يَكُونُ أَكْثَرَ مِنْ حُكْمِ لَحْمِهِ.

حضر ت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ انہو ں نے کہا : اے زید ارقم ؓ کیا آپ کو معلو م ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو شر مرغ کےانڈے ہدیہ کیے گئے تھے جب کہ آپ حالت احرام میں تھے تو آپ نے وہ انڈے واپس کر دیے تھے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں، مجھے یہ بات معلوم ہے ۔امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں : حضرت جابر ؓ کی روایت میں ہے جب تم حالت احرا م میں ہو تو تمہارے لیے شکار کا گوشت کھانا حلال ہے جب کہ تم نے اسے خود شکار نہ کیا ہو یا وہ تمہارے لیے ہی شکار نہ کیا گیا ہو ۔اس میں اس بات کی دلالت ہے کہ شکاری جانور کا انڈہ کھانا محرم کےلیے جائز ہے جب کہ وہ محرم کےلیے ہی حاصل نہ کیے گئے ہوں ۔کیونکہ شکاری جانور کے انڈے کا حکم اس کے گوشت سے زیادہ سخت نہیں ہے ۔

يَا زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ! هَلْ عَلِمْتَ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ ← طَاوُوسٍ، ← قَيْسٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُخَرِّمِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2644

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2646

حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ (1)، ثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الضَّبُعِ يُصِيبُهُ الْمُحْرِمُ كَبْشًا نَجْدِيًّا، وَجَعَلَهُ مِنَ الصَّيْدِ.

۔۔حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ جس بجو کو محرم شخص قتل کر دے ،تو رسول اللہ ﷺ نے اس کا کفارہ ایک نجدی مینڈھا مقرر فرمایا ہے ۔ اور آ پ نے بجو کو شکار کا جانور قر ار دیا ہے ۔

جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ فِي الضَّبُعِ يُصِيبُهُ الْمُحْرِمُ كَبْشًا نَجْدِيًّا، وَجَعَلَهُ مِنَ الصَّيْدِ. ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← وَكِيعٌ، ← سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2646

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2678

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ الْقَيْسِيُّ، ثَنَا رَوْحٌ، ثَنَا شِبْلٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَآهُ وَقَمْلُهُ يَسْقُطُ عَلَى وَجْهِهِ، فَقَالَ: "أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ؟ " قَالَ: نَعَمْ. فَأَمَرَهُ أَنْ يَحْلِقَ وَهُوَ بِالْحُدَيْبِيَةِ، لَمْ يُبَيِّنْ لَهُمْ أَنْ يَحِلُّوا بِهَا، وَهُمْ عَلَى طَمَعٍ أَنْ يَدْخُلُوا مَكَّةَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - الْفِدْيَةَ فَأَمَرَه رَسُول اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يُطْعِمَ فَرَقًا بَيْنَ سِتَّةٍ، أَوِ (1) الْهَدْيَ شَاةً، أَوْ يَصُومَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ. بِحَلْقِ رَأْسِهِ إِذَا لَمْ يَكُنْ بِرَأْسِهِ أَذًى، وَلَا كَانَ بِهِ مَرِضٌ، فَبَيَّنْتُ فِي ذَلِكَ الْمَوْضِعِ أَنَّ الْحُكْمَ بِالنَّظِيرِ وَالشَّبِيهِ فِي هَذَا الْمَوْضِعِ وَاجِبٌ، وَلَوْ لَمْ يَجُزِ الْحُكْمُ الْمَثَلِ وَالشَّبِيهِ وَالنَّظِيرِ لَمْ يَجِبْ عَلَى مَنْ جَزَّ شَعْرَ رَأْسِهِ بِمِقْرَاضٍ أَوْ (1) فِدْيَةٍ إِذِ اسْمُ الْحِلَقِ لَا يَقَعُ عَلَى الْجَزِّ، وَلَكِنْ إِذَا وَجَبَ الْحُكْمُ بِالنَّظِيرِ، وَالشَّبِيهِ، وَالْمَثَلِ كَانَ عَلَى جَازِّ شَعْرَ الرَّأْسِ فِي الْإِحْرَامِ مِنَ الْفِدْيَةِ مَا عَلَى الْحَالِقِ. وَهَذِهِ مَسْأَلَةٌ طَوِيلَةٌ قَدْ أَمْلَيْتُهَا فِي ذَلِكَ الْمَوْضِعِ.

۔۔حضرت کعب بن عجرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں دیکھا جب کہ ان کی جوئیں ان کے چہرے پر گر رہی تھیں ۔تو آپ نے پوچھا : "کیا تمہیں تمہاری جوئیں تکلیف دے رہی ہیں ؟ "انہوں نے عرض کیا : جی ہاں ۔پس آپ نے انہیں حکم دیا کہ وہ اپنا سر منڈوا لیں حالانکہ وہ حدیبیہ ہی میں تھے ۔آپ نے صحابہ کرام کو ابھی یہ نہیں بتایا تھا کہ وہ حدیبیہ ہی میں سر منڈوا دیں گے جبکہ صحابہ کرام کی خواہش تھی کی وہ مکہ مکرمہ میں داخل ہو گے (اور عمرہ ادا کریں گے ) تو اللہ تعالی ٰ نے فدیہ کا حکم نازل فرمای دیا ۔پس رسول اللہ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ ایک فرق(تین صاع ) اناج چھ مسکینوں کو کھلا دیں یا ایک بکری ذبح کر دیں یا تین روزے رکھ لیں ۔امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : "میں نے کتاب الایمان اور کفارات میں فرق کی مقدار بیان کر دی ہے کہ وہ تین صا ع ہوتا ہے ۔ اور میں نے یہ بیان کردیا ہے کہ ایک صاع چار مد ہوتا ہے اور ایک فرق سولہ رطل ہوتا ہے ۔اور ایک صاع ایک تہائی فرق ہوتا ہے کیونکہ ایک فرق تین صاع ہو تا ہے ۔اور ایک صاع پانچ رطل اور تہا ئی رطل کے برابر ہوتا ہے ۔میں نے یہ مقدار یں نبی کر یمﷺ کی سنت کے دلائل سے بیان کی ہیں ۔اور یہ آیت کریمہ بھی اس قسم کے متعلق ہے جس کے بارے میں ہم کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ایک فریضہ مجمل بیان کیا ہے اور اللہ تعالی نے اپنے نبی کی زبانی اس کی مقدار بیان کی ہے ۔کیونکہ اللہ تعالی ٰ نے سر منڈوانے پر روزہ رکھ کر فدیہ دینے کا حکم اپنی کتا ب میں دیا ہے لیکن قرآن مجید میں ان روزوں کی مقدار ، صدقے کی مقدار ،صدقے کے مستحق لوگوں کی تعداد اور قربانی کا وصف بیان نہیں فرمایا ۔لہذا نبی کریم ﷺ جنہیں اللہ تعالی ٰ نے اپنی وحی کی وضاحت کرنے کی ذمہ داری سونپی ہے ،انہوں نے بیان فرمایا کہ فدیے میں تین روزے رکھنے ہوں گے ،اور صدقے میں تین صاع اناج چھ مسکینوں کو کھلانا ہوگا اورقربانی میں ایک بکری ذبح کرنی ہو گی اس حدیث میں قربانی کا ذکر اسی قسم سے ہے جس کے بارے میں ہم کہتے ہیں کہ ایک جیسی ،ملتی جلتی اور مشابہ اشیاءمیں ایک جیسا حکم لگانا واجب ہے ۔لہذا سر منڈوانے کے فدیے میں ایک بکری کی قربانی کی جگہ گائے یا اونٹ کا ساتواں حصہ فدیہ دینا جائز ہوگا ۔علمائے کرام کا اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں کہ حج تمتع ،حج قران اور عام قربانی میں گائے یا اونٹ کا ساتواں حصہ ایک بکری کے قائم مقام ہوتا ہے ۔ کچھ علماءکا یہ موقف ہے کہ حج قران میں ایک گائے یا اونٹ گھر سے لے کر آنا ضروری ہے ۔اور کچھ علماء کہتے ہیں کہ اونٹ کا دسواں حصہ ایک بکری کے قائم مقام ہوگا ۔لہذا جس عالم دین نے اونٹ کا دسواں حصہ جائز قرار دیا ہے تو وہ ساتویں حصے کو بکری کے برابر بالا ولیٰ قراردے گا کیونکہ ساتواں حصہ بڑا ہوتا ہے ۔ میں نے اپنے ساتھیوں کو اس آیت کے تحت ایک مسئلہ لکھوایا تھا کہ اللہ تعالیٰ بعض اوقات اپنی کتا ب میں ایک چیز ایک اعتبا ر سے واجب قرار دیتا ہے اور کبھی وہی چیز بغیر اس اعتبا ر کے بھی واجب قرار دے دیتا ہے ۔یا تو وہ چیز نبی کریم ﷺ کی زبانی واجب قرار پاتی ہے یا علما ئے امت کی زبان سے اس کے وجوب کا اظہار ہوتاہے ۔کیونکہ اللہ تعالی ٰ نے اس آیت کریمہ میں اس محرم پر فدیہ واجب کیا ہے جو بیماری یا سر میں تکلیف کی وجہ سے سر منڈواتا ہے ۔اور تمام علمائے کرام کے نزدیک یہ فدیہ اس محرم پر بھی واجب ہو گا جو بغیر کسی بیماری یا سر کی تکلیف کے سر منڈوا دیتا ہے ۔اس صورت میں وہ گناہ گار ہو گا ۔اس موقع پرمیں نے یہ مسئلہ واضح کیا کہ ملتے جلتے ،مشابہ مسائل میں ایک جیسا حکم لگانا واجب ہے ۔اگر اس جگہ ایک جیسے مشابہ مسائل میں ایک جیسا حکم لگاناواجب نہ ہوتا تو اس شخص پر فدیہ واجب نہیں ہونا چاہیے تھا جو اپنے بال قینچی کے ساتھ کٹوا لیتا ہے ۔کیونکہ بال کٹوانے پر سرمنڈوانے کا اطلا ق نہیں ہوتا ۔لیکن جب ایک جیسے اور ملتے جلتے افعال پرایک جیسا حکم لگانا واجب تھا تو بال کٹوانے والے پر بھی وہی فدیہ لگایا جاتا جو سر منڈوانے والے پر لگایا گیا تھا ۔یہ ایک طویل مسئلہ ہے جسے میں نے اس آیت کے تحت ذکر کیا ہے ۔ "

کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← مُجَاهِدٍ ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← شِبْلٌ، ← رَوْحٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ الْقَيْسِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2678

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1966

أن أحمد بن عبدة حدثنا قال : ثنا يزيد بن زريع ثنا سعيد الجريري عن أبي نضرة عن أبي سعيد الخدري : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أتى على نهر من ماء السماء في يوم صائف و المشاة كثير و الناس صيام فوقف عليه فإذا فئام من الناس فقال : يا أيها الناس اشربوا فجعلوا ينظرون إليه قال : إني لست مثلكم إني راكب و أنتم مشاة و إني أيسركم اشربوا فجعلوا ينظرون إليه ما يصنع فلما أبوا حول وركه فنزل و شرب و شرب الناس و خبر ابن عباس و أنس بن مالك خرجتهما في كتاب الصيام في كتاب الكبير أفيجوز لجاهل أن يقول : الشرب جائز للصائم و لا يفطر الشرب الصائم إذ النبي صلى الله عليه و سلم قد أمر أصحابه و هو صائم بالشرب فلما امتنعوا شرب و هو صائم و شربوا فمن يعقل العلم و يفهم الفقه يعلم أن النبي صلى الله عليه و سلم صار مضطرا و أصحابه لشرب الماء و قد كانوا نووا الصوم و مضى بهم بعض النهار و كان لهم أن يفطروا إذ كانوا في السفر لا في الحضر و كذلك كان للنبي صلى الله عليه و سلم أن يحتجم و هو صائم في السفر و إن كانت الحجامة تفطر الصائم لأن من جاز له الشرب و إن كان الشرب مفطرا جاز له الحجامة و إن كان بالحجامة مفطرا فأما ما احتج به بعض العراقيين في هذه المسألة أن الفطر مما يدخل و ليس مما يخرج فهذا جهل و إغفال من قائله و تمويه على من لا يحسن العلم و لا يفهم الفقه و هذا القول من قائله خلاف دليل كتاب الله و خلاف سنة النبي صلى الله عليه و سلم و خلاف قول أهل الصلاة من أهل الله جميعا إذا جعلت هذه اللفظة على ظاهرها قد دل الله في محكم تنزيله أن المباشرة هي الجماع في نهار الصيام و النبي المصطفى صلى الله عليه و سلم قد أوجب على على المجامع في رمضان عتق رقبة إن وجدها و صيام شهرين متتابعين إن لم يجد الرقبة أو إطعام ستين مسكينا إن لم يستطيع الصوم و المجامع لا يدخل جوفه شيء في الجماع إنما يخرج منه مني إن أمنى و قد يجامع من غير إمناء في الفرج فلا يخرج من جوفه أيضا مني و التقاء الختاتين من غير إمناء يفطر الصائم و يوجب الكفارة و لا يدخل جوف المجامع شيء و لا يخرج من جوفه شيء إذا كان المجامع هذه صفته و النبي المصطفى صلى الله عليه و سلم قد أعلم أن المستقيء عامدا يفطره الاستقاء على العمد و اتفق أهل الصلاة و أهل العلم على أن الاستقاء على العمد يفطر الصائم و لو كان الصائم لا يفطره إلا ما يدخل جوفه كان الجماع و الاستقاء لا يفطران الصائم و جاء بعض أهل الجهل بإعجوبة في هذه المسألة فزعم أن النبي صلى الله عليه و سلم إنما قال : أفطر الحاجم و المحجوم لأنهما كانا يغتابان فإذا قيل له : فالغيبة تفطر الصائم ؟ زعم أنها لا تفطر الصائم فيقال له : فإن كان النبي صلى الله عليه و سلم عندك إنما قال : أفطر الحاجم و المحجوم لأنهما كانا يغتابان و الغيبة عندك لا تفطر الصائم فهل يقول هذا القول من يؤمن بالله يزعم أن النبي صلى الله عليه و سلم أعلم أمته أن المغتابين مفطران و يقول هو : بل هما صائمان غير مفطرين فخالف النبي صلى الله عليه و سلم الذي أوجب الله على العباد طاعته و اتباعه و وعد الهدى على اتباعه و أوعد على مخالفيه و نفى الإيمان عمن وجد في نفسه حرجا من حكمه فقال : { فلا و ربك لا يؤمنون حتى يحكموك فيما شجر بينهم } الآية و لم يجعل الله جل و علا لأحد خيرة فيما قضى الله و رسوله فقال تبارك و تعالى : { و ما كان لمؤمن و لا مؤمنة إذا قضى الله و رسوله أمرا أن يكون لهم الخيرة من أمرهم } و المحتج بهذا الخبر إنما صرح بمخالفة النبي صلى الله عليه و سلم عند نفسه بلا شبهة و لا تأويل يحتمل الخبر الذي ذكره إذا زعم أن النبي صلى الله عليه و سلم إنما قال للحاجم و المحجوم : مفطران لعلة غيبتهما ثم هو زعم أن الغيبة لا تفطر فقد جرد مخالفة النبي صلى الله عليه و سلم بلا شبهة و لا تأويل و قد روي عن المعتمر بن سليمان عن حميد عن أبي المتوكل عن أبي سعيد رخص النبي صلى الله عليه و سلم في القبلة للصائم و الحجامة للصائم

''حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک شدید گرمی والے دن بارش کے پانی کی نہر پر تشریف لائے جبکہ پیدل چلنے والے افراد کی تعداد بہت زیادہ تھی اور لوگوں نے روزہ بھی رکھا ہو ا تھا تو آپ نے اس نہر پر کھڑے ہو گئے تو نا گہاں لوگوں کی ایک جماعت بھی پہنچ گئی تو آپ نے فرمایا :'' اے لوگو! پانی پی لو۔''تو وہ آپ کی طرف دیکھنے لگے(کہ آپ خود کیا عمل کرتے ہیں)آپ نے فرمایا : ''میں تمہاری طرح نہیں ہوں ۔ بے شک میں سورا ہوں اور تم پیدل چل رہے ہو، اور میں تمہاری نسبت آسانی اور سہولت میں ہوں ، تم پانی پی لو۔'' وہ آپ کی طرف دیکھتے رہے کہ آپ کیا عمل کرتے ہیں ۔ پھر جب انہوں نے پانی پینے سے احتراز کیا تو آپ نے اپنا قدم موڑ ا اور سواری سے نیچے اترآئے اور پانی پی لیا ۔ اور (یہ دیکھ کر) لوگوں نے بھی پانی پی لیا ۔''امام صاحب فرماتے ہیں :''میں نے حضرت ابن عباس اور انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی روایات ''کتاب الکبیر'' کی کتاب الصیام میں بیان کر دی ہیں۔ کیا کسی جاہل آدمی کےلیے یہ کہنا جائز ہے کہ روزے دار کےلیے مشروب پینا جائز ہے اور مشروب پینے سے اس کا روزہ نہیں ٹوٹے گا ، کیونکہ نبی کریم ﷺ نے اپنے صحابہ کو پانی پینے سے احتراز کیا تو آپ نے روزے کی حالت میں ہی پانی پی لیا اور انہوں نے بھی پی لیا ۔لہٰذا جو شخص علمی بصیر ت رکھتا ہو اور فقہی سو جھ بوجھ کامالک ہے وہ جانتا ہے کہ نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام پانی پینے پر مجبور ہوگئے تھے حالانکہ انہوں نے روزے کی نیت کی ہوئی تھی اور دن کا کچھ حصہ وہ گزار چکے تھے۔ اور ان کےلیے روزہ کھولنا جائز تھا کیونکہ وہ سفر میں تھے مقیم نہیں تھے۔ اسی طرح نبی کریم ﷺ کےلیے سفر کے دوران روزے کی حالت میں سینگی لگوانا جائز تھا اگر چہ سینگی لگواے وے روزہ ختم ہو جاتا ہے۔ کیونکہ جس شخص کےلیے پانی پینا جائز ہے اگرچہ پانی سے روزہ ختم ہو جاتا ہے تو اس شخص کےلیے سینگی لگوانا بھی جائز ہے اگر چہ سینگی لگوانے سے روزہ ٹوٹ کاتا ہے۔ البتہ عراقی علما ء کی اس مسئلہ میں یہ دلیل کہ روزہ پیٹ میں داخل ہونے والی چیز سے ٹوٹتا ہے اور پیٹ سے نکلنے والی چیز سے نہیں ٹوٹتا تو یہ قول قاہل کی جہالت اور غفلت کی دلیل ہے۔ اور کم علم ، کم فہم لوگوں کو دھوکہ دینے کی کوشش ہے اس شخص کا یہ قول اللہ تعالی ٰکی کتاب ، نبی کریم ﷺ کی سنت اور تمام اہل الہ مسلمانوں کے قول کے خلاف ہے۔ جبکہ ان الفاظ کو ان کے ظاہر پر محمول کیا جائے ۔ اللہ تعالہ نےاپنی محکم کتاب میں فرمایا ہے کہ روزے کے دن میں مباشرت کرنا جما ع کے حکم میں ہے۔ اور نبی کریم ﷺ نے رمضان المبارک میں (دن کے وقت)جماع کرنے والے شخص پر ایک گردن آزاد کرنا واجب کیا ہے اگر اس کے پاس طاقت ہو۔ اور اگر گردن آزاد کرنے کی طاقت نہ ہو تو وہ دو ماہ کے مسلسل روزے رکھنے اور اگر روزے نہ رکھ سکتا ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کا کفارہ واجب کیا ہے ۔ حالانکہ جماع کرنے والے کے پیٹ میں کوئی چیز داخل نہیں ہوتی بلکہ اس سے منی نکلتی ہے اگر منی کا خروج ہو اور کبھی بغیر منی نکالے بھی عورت کی شرم گاہ میں جماع کر سکتا ہے تو اس وقت اس کے پیٹ سے بھی منی نہیں نکلتی حالانکہ دونوں شرم گاہوں کا بغیر منی ٹپکائے مل جانے سے بھی روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور کفارہ واجب ہو جاتا ہے۔ جبکہ اس حالت میں جماع کرنے والے کے پیٹ میں نہ کوئی چیز داخل ہوتی ہے اور نہ کچھ نکلتا ہے۔ اور نبی کریم ﷺ نے بتایا ہے کہ قصیداً قے کرنے والے کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے ۔ اہل علم اور مسلمان کا اتفاق ہے کہ عمداً قے کرنے سے روزے دار کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور اگر روزے دارکا روزہ صرف پیٹ میں داخل ہونے والی چیز ہی سے ٹوٹتا ہو تو پھر جماع اور قے سے روزہ نہیں ٹوٹتا چاہیے ۔ کچھ جاہل لوگوں نے اس مسئلے میں ایک اور عجوبہ بیان کیا ہے ان کے خیال میں نبی کریم ﷺ نے سینگی لگانے اور سینگی لگوانے والے کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے'' یہ فرمان اس لیے جاری کیا تھا کہ وہ دونوں غیبت کر رہے تھے۔ جب اس شخص سے کہا جاتا ہے: کیا غیبت سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟ تو کہتا ہے غیبت سے روزہ نہیں ٹوٹتا تو اس شخص سے کہا جائے گا:''اگر تمہارے نزدیک نبی کریم ﷺ کے اس فرمان ''سینگی لگانے والے اور سینگی لگوانے والے کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔''کی وجہ یہ ہے کہ وہ دونوں غیبت کررہے تھے۔ اور غیبت سے تمہارے نزدیک روزہ نہیں ٹوٹتا تو کیا کوئی ایسا شخص جو اللہ پر ایمان رکھتا ہو وہ یہ بات کرسکتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنی امت کو بتایا ہو کہ غیبت کرنے والے دونوں افراد کا روزہ ٹوٹ گیا ہے اور یہ شخص کہے کہ دو دونوں روزے دار ہیں ان کا روزہ نہیں ٹوٹا ۔ اس طرح اس شخص نے نبی کریم ﷺ کی مخالفت کی ہے حالانکہ اللہ تعالی ٰ نے اپنے بندوں پر اپنے رسو ل کی اطاعت و اتباع واجب کی ہے اور آپ کی اتباع کرنے پر ہدایت دینے کا وعدہ فرمایا ہے۔ آپ کے مخالفین کو وعید سنائی ہے اور آپ کے فیصلے پر دلی تنگی محسوس کرنے والے کے ایمان کی نفی کی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:(فَلَا وَرَبِّکَ لَا یُؤْ مِنُوْنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَھُمْ)'' آپ کے رب کی قسم ! وہ مومن نہیں ہوسکتےجب تک کہ وہ اپنے باہمی اختلافات میں آپ کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں ۔''اور اللہ تعالی نے اپنے اور اپنے رسول کے فیصلہ شدہ امور میں کسی شخص کو اختیار نہیں دیا اللہ تعالی فرماتے ہیں (وَمَاکَانَ لِمُؤْ مِنٍ وَلَا مُؤْ مِنَۃٍ اِذَا قَضَی اللہُ وَرَسُوْلُہُ أَمُرّاأَن یَّکُوْن لَھُمُ الْخِیَرَۃُ مِن أَمْرِھِمْ) ''اور کسی مومن مرد اور کسی مومنہ عورت کو یہ خق نہیں کہ جب اللہ اور اس کارسو ل کسی معاملے کا فیصلہ کردیں تو ان کےلیے اپنے معاملے میں ان کا کوئی اختیار رہے۔''اور اس حدیث میں استدلال کرنے والے شخص نے اپنے پاس موجود کسی شبیہ اور تاویل کے بغیر صریحاً نبی کریم ﷺ کی مخالفت کی ہے ۔ اس حدیث میں اس کی اس تاویل کی کوئی گنجائش نہیں کہ آپ نے سینگی لگانے اور سینگی لگوانے والے کو غیبت کرنے کی وجہ سے کہا کہ ان کا روزہ ٹوٹ گیا ہے۔ پھر خود اس شخص کا گمان ہے کہ غیبت سے روزہ نہیں ٹوٹتا اس طرح اس شخص نے بغیر کسی شہے اور تاویل کے نبی کریم ﷺ کی واضح مخالفت کی ہے ۔ جناب معتمر بن سلیمان کی سند سے حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے روزے دار کےلیے (اپنی بیوی) بوسہ لونے اور سینگی لگوانے کی رخصت دی ہے۔"

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي نَضْرَةَ ← سَعِیْدٍ الْجُرَیْرِیِّ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← أن أحمد بن عبدة

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1966

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2067

حَدَّثَنَا عَبْد الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا سُفْيَان؛ ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَد بْنُ عَبْدةَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ -يَعْنِي ابْنَ زَيْد- كِلَاهُمَا عَنْ عَاصِمٍ؛ وَحَدَّثَنَا عَلِي بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنِ الرَّبَاب، عَنْ عَمِّهَا سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ قَالَ: سَمِعْتُ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "الصَّدَقَةُ عَلَى الْمِسْكِينِ صَدَقَةٌ، وَهِيَ عَلَى الْقَرِيبِ صَدَقَتَانِ؛ صَدَقَةٌ وَصِلَةٌ". وَقَالَ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِذَا أَفْطَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيُفْطِرْ عَلَى تَمْرٍ، فَإِنَّهُ بَرَكَةٌ، فَإِنْ [لَمْ] (1) يَجِدْ فَمَاءٌ فَإِنَّهُ طُهُورٌ". وَقَالَ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "اذْبَحُوا عَنِ الْغُلَامِ عَقِيقَتَهُ، وَأَمِيطُوا عَنْهُ الْأَذَى، وَأَهْرِيقُوا عَنْهُ دَمًا". هَذَا حَدِيثُ عَبْد الْجَبَّارِ. وَقَالَ الْآخَرَانِ: قَالَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِذَا أَفْطَرَ أَحَدُكُمْ، فَلْيُفْطِرْ عَلَى تَمْرٍ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَلْيُفْطِرْ عَلَى مَاءٍ، فَإِنَّهُ طُهُورٌ". وَلَمْ يَذْكُرَا قِصَّةَ الصَّدَقَةِ وَلَا الْعَقِيقَةِ.

''حضرت سلیمان بن عامر الضبییؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو سنا، آپ فرما رہے تھے تھے۔''مسکین پر صدقہ کرنا ایک صدقہ ہے جبکہ قریبی رشتہ دار پر صدقہ کرنا دو صدقے ہیں: ایک صدقہ اور دوسرا صلہ رحمی۔''اور آپ ﷺ نے فرما یا جب تم میں سے کوئی شخص روزہ کھولے تو اسے کھجور سے روز ہ کھولنا چاہیے کیونکہ وہ باعث برکت ہے اور اگر اسے کھجور نہ ملے تو پانی سے افطاری کرے کیونکہ وہ بہت پاکیزہ ہے۔''اور آپ ﷺ نے فرمایا: ''بچے کی طرف سے ایک بکرے کو عقیقے میں ذبح کرو۔ اور اس سے گندگی صاف کرو اور اس کی طرف سے (بکرےکا )خون بہاؤ۔(اسے ذبح کرو)۔ ''یہ حدیث جناب عبدالجبارکی ہے۔جبکہ دیگر دو اساتذہ کی روایت میں ہے: ''رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جب تم میں سے کوئی شخص روزہ افطار کرے تو اسے کھجور کے ساتھ روزہ افطار کرنا چاہیے ۔ اگر اسے کھجور نہ ملے تو پانی کے ساتھ افطار کرلے کیونکہ وہ پاکیزہ ہے۔''دونوں اساتذہ کرام نے صدقہ کرنے اور عقیقہ کرنے کا قصہ ذکر نہیں کیا۔''

عَمِّهَا سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ ← الرَّبَابِ ← حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، ← عَاصِمٍ، ← ابْنُ فُضَيْلٍ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ، ← عَاصِمٍ، ← حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ كِلَاهُمَا ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2067

chevron_left Previous
1…313233…579
Next chevron_right