صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 581
والدليل على صحة ما تأولت أن هارون بن إسحاق الهمداني حدثنا قال حدثنا عبدة عن سعيد عن خالد - يعني الحذاء - عن غيلان بن جرير عن مطرف بن عبد الله بن الشخير قال : صليت خلف علي فكان يكبر إذا سجد وإذا رفع رأسه فلما انصرف قال لي عمران بن حصين : صلى بنا هذا مثل صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم قال أبو بكر : وفي هذا الخبر ما دل على أن اللفظة التي ذكرها حماد بن زيد عن غيلان بن جرير في هذا الخبر : وإذا نهض من الركوع كبر إنما أراد وإذا نهض من الركوع فأراد السجود كبر على ما ذكر الزهري عن أبي بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام ثم يقول سمع الله لمن حمده حين يرفع صلبه من الركعة ثم يقول وهو قائم ربنا لك الحمد ثم يكبر حين يهوي ساجدا وكذلك خبر أبي عامر عن فليح عن سعيد بن الحارث عن أبي سعيد الخدري ذكر التكبير حين قال سمع الله لمن حمده أي أنه يكبر عند رفع الرأس من الركوع ذكر تكبير أخرى عند الإهواء إلى السجود فلما ذكر التكبيرة عند رفع الرأس من السجود بعد التكبيرة حين قال : سمع الله لمن حمده بان وثبت أنه إنما أراد التكبير حين قال : سمع الله لمن حمده إذا أراد الإهواء إلى السجود وكذلك في خبر أبي سلمة من أبي هريرة قال : وحين يركع وإذا أراد أن يسجد بعدما يرفع من الركوع ففي هذا ما بان أنه كان يكبر إذا رفع رأسه من الركوع وأراد السجود لا أنه كان يكبر عند رفع الرأس من الركوع ولو أبحنا للمصلي أن يكبر في كل خفض ورفع كان عليه أن يكبر إذا رفع رأسه من الركوع ثم يكبر عند الإهواء إلى السجود لكان عدد التكبير في أربع ركعات ستة وعشرين تكبيرة لا اثنتين وعشرين تكبيرة وفي خبر عكرمة عن بن عباس ما بان وثبت أن عدد التكبير في أربع ركعات اثنتين وعشرين تكبيره لا أكثر منها
"میں نے جو وضاحت کی ہے اس کے صیح ہونے کی دلیل یہ روایت ہے جسے استاد محترم جناب ہارون بن اسحاق نے روایت کیا ہے کہ جناب مطرف بن عبداللہ بن شخیر بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت علیؓ کے پیچھے نماز پڑھی تو وہ جب سجدہ کرتے اور جب اپنا سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے تھے ۔ پھر جب وہ نما ز سے فارغ ہو ئے تو حضرت عمران بن حصین نے مجھے فرمایا: " انہوں نے ہمیں رسول اللہﷺ کی نماز جیسی نماز پڑھائی ہے ۔ "امام ابوبکر ؒ بیان کرتے ہیں : اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ وہ الفاظ جو حماد بن زید نے غیلان بن جریر سے اس حدیث میں بیان کیے ہیں کہ : "جب آپ رکوع سے اٹھتے تو "اللہُ أَکْبَرُ"کہتے "اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ آپ رکوع سے اٹھتے اور سجدہ کرنے کا ارادہ کرتے تو "اللہُ أَکْبَرُ" کہتے ، جیسا کہ اما م زہری ؒ نے ابوبکر عبدالرحمٰن بن الحارث بن ہشام سے روایت کیا ہے پھر آپ جب رکوع سے اپنی کمر سیدھی کرتے تو سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہُکہتے پھر آپ کھڑے کھڑے رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُپڑھتے ، پھر جب سجدے کےلیے جھکتے تو "اللہُ أَکْبَرُ"کہتے ۔"اسی طرح جناب ابو عامر کی روایت میں ہے جسے وہ فلیح سے اور وہ سعید بن الحارث سے اور وہ حضرت ابوسعید خدری ؓ سے بیان کرتے ہیں ، انہوں نے اس روایت میں سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہتے وقت تکبیر کہنے کا تذکرہ کیا کہ وہ رکوع سے سر اٹھاتے وقت تکبیر کہتے تھے۔ اور سجدے کےلیے جھکتے وقت ایک مرتبہ پھر تکبیر کہنے کا تذکرہ کیا ہے ۔ پھر جب انہوں نے سجدے سے سر اٹھاتے وقت تکبیر کہنے کا ذکر کیا جو کہسَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہُکی تکبیر کے بعد ہے تو اس سے ثابت ہوگیا کہ سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہتے وقت تکبیر کہنے سے ان کی مراد سجدے کے لیے جھکتے وقت تکبیر کہنا ہے ۔ اسی طرح جناب ابو سلمہ کی حضرت ابوہریرہؓ سے روایت میں ہے ، فرمایا: اور جب رکوع کرتے ، اور رکوع سے سر اٹھانے کے بعد جب سجدہ کرنے کا ارادہ کرتے تو "اللہُ أَکْبَرُ"کہتے۔"اس روایت نے بھی یہ بیان کر دیا ہے کہ آپ رکوع سے سر اٹھانے کے بعد سر اٹھاتے وقت اللہ اکبر کہتے تھے۔ اور اگر ہم نمازی کےلیے ہر جھکنے اور اور اٹھتے وقت تکبیر کہنا جائز قرار دے دیں تو نما زکےلیے ضروری ہوگا کہ وہ رکوع سے سر اٹھاتے وقت تکبیر کہے اور پھر سجدے کو جاتے ہوئے بھی تکبیر کہے ۔ اس طرح چار رکعات میں کل چھبیس تکبیریں ہوں گی نہ کی بائیس تکبیریں حالانکہ عکرمہ کی حضرت ابن عباس سے رویات میں یہ بات بالک واضح اور ثابت ہے کہ چار رکعات میں کل بائیس تکبیریں ہیں ، اس سے زائد نہیں ہیں۔"
Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 581
