Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الأضحية والعقيقة

Qurbani & Aqiqah

11564 hadiths

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 26593

حَدَّثَنَا رَوْحٌ قَالَ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ أَنَّ عُرْوَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَسَاقَ مَعَهُ الْهَدْيَ وَأَهَلَّ نَاسٌ مَعَهُ بِالْعُمْرَةِ وَسَاقُوا الْهَدْيَ وَأَهَلَّ نَاسٌ بِالْعُمْرَةِ وَلَمْ يَسُوقُوا هَدْيًا قَالَتْ عَائِشَةُ فَكُنْتُ مِمَّنْ أَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ وَلَمْ أَسُقْ هَدْيًا فَلَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ أَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ فَسَاقَ مَعَهُ الْهَدْيَ فَلْيَطُفْ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَلَا يَحِلُّ مِنْهُ شَيْءٌ حَرُمَ مِنْهُ حَتَّى يَقْضِيَ حَجَّهُ وَيَنْحَرَ هَدْيَهُ يَوْمَ النَّحْرِ وَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ أَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ وَلَمْ يَسُقْ مَعَهُ هَدْيًا فَلْيَطُفْ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ لِيُفِضْ وَلْيَحِلَّ ثُمَّ لِيُهِلَّ بِالْحَجِّ وَلْيُهْدِ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةٍ إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ قَالَتْ عَائِشَةُ فَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَجَّ الَّذِي خَافَ فَوْتَهُ وَأَخَّرَ الْعُمْرَةَ

ام المو منین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ حجتہ الوداع کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا تھا اور اپنے ساتھ ہدی کا جانور لے گئے تھے، جبکہ کچھ لوگوں نے عمرے کا احرام باندھا اور ہدی ساتھ لے گئے ، اور کچھ لوگوں نے عمرہ کا احرام باندھا لیکن ہدی ساتھ نہیں لے کر گئے ، میں اس آخری قسم کے لوگوں میں شامل تھی، مکہ مکرمہ پہنچ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے جو شخص عمرے کا احرام باندھ کر ہدی ساتھ لایا ہے، اسے چاہیے کہ بیت اللہ کا طواف اور صفاء مروہ کی سعی کر لے اور دس ذی الحجہ کو قربانی کرنے اور حج مکمل ہونے تک اپنے اوپر کوئی چیز محرمات میں سے حلال نہ سمجھے اور جو ہدی نہیں لایا وہ طواف اور سعی کر کے حلال ہو جائے ، بعد میں حج کا احرام باندھ کر ہدی لے جائے، جس شخص کو قربانی کا جانور نہ ملے ، وہ حج کے ایام میں تین اور گھر واپس آنے کے بعد سات روزے رکھ لے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حج کو " جس کے فوت ہونے کا اندیشہ تھا " مقدم کر کے عمرے کو مؤخر کر دیا۔

ابْنِ شِهَابٍ، ← صَالِحِ بْنِ أَبِي الأَخْضَرِ ← رَوْحٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 26593

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18682

حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا زَائِدَةُ حَدَّثَنَا أَبُو جَنَابٍ الْكَلْبِيُّ حَدَّثَنِي يَزيدُ بْنُ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ كُنَّا جُلُوسًا فِي الْمُصَلَّى يَوْمَ أَضْحَى فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ عَلَى النَّاسِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ أَوَّلَ نُسُكِ يَوْمِكُمْ هَذَا الصَّلَاةُ قَالَ فَتَقَدَّمَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ اسْتَقْبَلَ النَّاسَ بِوَجْهِهِ وَأُعْطِيَ قَوْسًا أَوْ عَصًا فَاتَّكَأَ عَلَيْهِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَأَمَرَهُمْ وَنَهَاهُمْ وَقَالَ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ عَجَّلَ ذَبْحًا فَإِنَّمَا هِيَ جَزْرَةٌ أَطْعَمَهُ أَهْلَهُ إِنَّمَا الذَّبْحُ بَعْدَ الصَّلَاةِ فَقَامَ إِلَيْهِ خَالِي أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ فَقَالَ أَنَا عَجَّلْتُ ذَبْحَ شَاتِي يَا رَسُولَ اللَّهِ لِيُصْنَعَ لَنَا طَعَامٌ نَجْتَمِعُ عَلَيْهِ إِذَا رَجَعْنَا وَعِنْدِي جَذَعَةٌ مِنْ مَعْزٍ هِيَ أَوْفَى مِنْ الَّذِي ذَبَحْتُ أَفَتُغْنِي عَنِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ نَعَمْ وَلَنْ تُغْنِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ قَالَ ثُمَّ قَالَ يَا بِلَالُ قَالَ فَمَشَى وَاتَّبَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَتَى النِّسَاءَ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ النِّسْوَانِ تَصَدَّقْنَ الصَّدَقَةُ خَيْرٌ لَكُنَّ قَالَ فَمَا رَأَيْتُ يَوْمًا قَطُّ أَكْثَرَ خَدَمَةً مَقْطُوعَةً وَقِلَادَةً وَقُرْطًا مِنْ ذَلِكَ الْيَوْمِ

حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی کہ عیدالاضحی کے موقع پر ہم لوگ عیدگاہ میں بیٹھے ہوئے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کوسلام کیا اور فرمایا کہ آج کی سب سے پہلی عبادت نماز ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آگے بڑھ کر دو رکعتیں پڑھادیں ، اور سلام پھیر کر اپنارخ انور لوگوں کی طرف کرلیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک کمان یا لاٹھی پیش کی گئی جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹیک لگائی اللہ کی حمد و ثناء بیان کی اور کچھ اوامر و نواہی بیان کئے اور فرمایا تم میں سے جس شخص نے نماز سے پہلے جانور ذبح کرلیا ہو تو وہ صرف ایک جانور ہے جو اس نے اپنے اہل خانہ کو کھلا دیا قربانی تو نماز کے بعد ہوتی ہے ۔یہ سن کر میرے ماموں حضرت ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے اپنی بکری نماز سے پہلے ذبح کرلی تھی تاکہ جب ہم واپس جائیں تو کھانا تیار ہو اور ہم اکٹھے بیٹھ کر کھالیں البتہ میرے پاس بکری کا ایک چھ ماہ کا بچہ ہے جو اس بکری سے زیادہ صحت مند ہے جسے میں ذبح کرچکا ہوں کیا وہ میری طرف سے کافی ہوجائے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! لیکن تمہارے علاوہ کسی کی طرف سے کافی نہیں ہوگا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو آواز دی اور وہ چل پڑے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے پیچھے چل پڑے یہاں تک کہ عورتوں کے پاس پہنچ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے گروہ نسواں ! صدقہ کیا کرو کہ تمہارے حق میں صدقہ کرنا ہی سب سے بہتر ہے حضرت براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اس دن سے زیادہ پازیبیں ، ہار اور بالیاں کبھی نہیں دیکھیں ۔

الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← يَزِيدَ بْنَ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← أَبُو جَنَابٍ الْكَلْبِيُّ، ← زَائِدَۃَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18682

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 22174

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ حَدَّثَنَا عَطَاءٌ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنَّهُ دَخَلَ هُوَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَجَافَ الْبَابَ وَالْبَيْتَ إِذْ ذَاكَ عَلَى سِتَّةِ أَعْمِدَةٍ فَمَضَى حَتَّى أَتَى الْأُسْطُوَانَتَيْنِ اللَّتَيْنِ تَلِيَانِ الْبَابَ بَابَ الْكَعْبَةِ فَجَلَسَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَسَأَلَهُ وَاسْتَغْفَرَهُ ثُمَّ قَامَ حَتَّى أَتَى مَا اسْتَقْبَلَ مِنْ دُبُرِ الْكَعْبَةِ فَوَضَعَ وَجْهَهُ وَجَسَدَهُ عَلَى الْكَعْبَةِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَسَأَلَهُ وَاسْتَغْفَرَهُ ثُمَّ انْصَرَفَ حَتَّى أَتَى كُلَّ رُكْنٍ مِنْ أَرْكَانِ الْبَيْتِ فَاسْتَقْبَلَهُ بِالتَّكْبِيرِ وَالتَّهْلِيلِ وَالتَّسْبِيحِ وَالثَّنَاءِ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَالِاسْتِغْفَارِ وَالْمَسْأَلَةِ ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَارِجًا مِنْ الْبَيْتِ مُسْتَقْبِلَ وَجْهِ الْكَعْبَةِ ثُمَّ انْصَرَفَ فَقَالَ هَذِهِ الْقِبْلَةُ هَذِهِ الْقِبْلَةُ

حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیت اللہ میں داخل ہوا (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا اور انہوں نے دروازہ بند کر لیا، اس وقت بیت اللہ چھ ستونوں پر مشتمل تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چلتے ہوئے ان دو ستونوں کے قریب پہنچے جو باب کعبہ کے قریب تھے) اور بیٹھ کر اللہ کی حمدوثناء کی ، تکبیروتہلیل کہی (دعاء واستغفار کیا ) پھر کھڑے ہو کر بیت اللہ کے سامنے والے حصے کے پاس گئے اور اس پر اپنا سینہ مبارک ، رخسار اور مبارک ہاتھ رکھ دیئے ، پھر تکبیروتہلیل اور دعاء کرتے رہے پھر ہر کونے پر اسی طرح کیا اور باہر نکل کر باب کعبہ پر پہنچ کر قبلہ کی طرف رخ کر کے دو تین مرتبہ فرمایا یہ ہے قبلہ ۔

أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← عَطَاءٍ، ← عَبْد الْمَلِكِ؛ ← يَحْيَى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 22174

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19020

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ سَمِعْتُ جُنْدُبَ بْنَ سُفْيَانَ يَقُولُ شَهِدْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِيدَ يَوْمَ النَّحْرِ ثُمَّ خَطَبَ فَقَالَ مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ نُصَلِّيَ فَلْيُعِدْ أُضْحِيَّتَهُ وَمَنْ لَمْ يَذْبَحْ فَلْيَذْبَحْ عَلَى اسْمِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ

حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھ کر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا جس شخص نے نماز عید سے پہلے قربانی کرلی ہو وہ اس کی جگہ دوبارہ قربانی کرے اور جس نے نماز عید سے پہلے جانور ذبح نہ کیا ہو تو اب اللہ کا نام لے کرذبح کرلے ۔

شَهِدْتُ مَعَ النَّبِيِّ الْعِيدَ يَوْمَ النَّحْرِ ثُمَّ خَطَبَ ← جُنْدَبِ بْنِ سُفْيَانَ ← الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، ← شُعْبَةُ، ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19020

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19053

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْيَحْصُبِيِّ عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ الْحَضْرَمِيِّ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ مَعَ التَّكْبِيرِ

حضرت وائل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تکبیر کے ساتھ ہی رفع یدین کرتے ہوئے دیکھا ہے۔

رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ يَرْفَعُ يَدَيْهِ مَعَ التَّكْبِيرِ ← وائل بن حجر الحضرمي ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْيَحْصُبِيِّ ← أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19053

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 22370

حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَابِطٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ الْأَوْدِيِّ قَالَ قَدِمَ عَلَيْنَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ الْيَمَنَ رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ السَّحَرِ رَافِعًا صَوْتَهُ بِالتَّكْبِيرِ أَجَشَّ الصَّوْتِ فَأُلْقِيَتْ عَلَيْهِ مَحَبَّتِي فَمَا فَارَقْتُهُ حَتَّى حَثَوْتُ عَلَيْهِ التُّرَابَ بِالشَّامِ مَيِّتًا رَحِمَهُ اللَّهُ ثُمَّ نَظَرْتُ إِلَى أَفْقَهِ النَّاسِ بَعْدَهُ فَأَتَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ فَقَالَ لِي كَيْفَ أَنْتَ إِذَا أَتَتْ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ يُصَلُّونَ الصَّلَاةَ لِغَيْرِ وَقْتِهَا قَالَ فَقُلْتُ مَا تَأْمُرُنِي إِنْ أَدْرَكَنِي ذَلِكَ قَالَ صَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا وَاجْعَلْ ذَلِكَ مَعَهُمْ سُبْحَةً

عمرو بن میمون اودی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصد حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ہمارے یہاں یمن میں جب تشریف لائے تو وہ سحری کا وقت تھا وہ بلند اور بارعب آواز کے ساتھ تکبیر کہتےجا رہے تھے میرے دل میں ان کی محبت رچ بس گئی چنانچہ میں ان سے اس وقت تک جدا نہ ہوا جب تک شام میں ان کی وفات کے بعد ان کی قبر پر مٹی نہ ڈال لی ، اللہ کی رحمتیں ان پر نازل ہوں ، پھر میں نے ان کے بعد سب سے زیادہ فقیہہ آدمی کے لئے اپنی نظریں دوڑائیں اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوگیا، انہوں نے مجھ سے فرمایا اس وقت تم کیا کرو گے جب تم پر ایسے حکمران آجائیں گے جو نماز کو اس کا وقت نکال کر پڑھا کریں گے؟ میں نے عرض کیا کہ اگر میں اس زمانے کو پاؤں تو آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں ؟ فرمایا تم اپنے وقت مقررہ پر نماز پڑھ لینا اور حکمرانوں کے ساتھ نفل کی نیت سے شریک ہوجانا۔

عَمْرُو بْنُ مَيْمُونٍ الْأَوْدِيُّ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ ← حَسَّانُ بْنُ عَطِیَّۃَ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 22370

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19058

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْبَخْتَرِيِّ الطَّائِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْيَحْصُبِيِّ عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ الْحَضْرَمِيِّ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ يُكَبِّرُ إِذَا خَفَضَ وَإِذَا رَفَعَ وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ عِنْدَ التَّكْبِيرِ وَيُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ قَالَ شُعْبَةُ قَالَ لِي أَبَانُ يَعْنِي ابْنَ تَغْلِبَ فِي الْحَدِيثِ حَتَّى يَبْدُوَ وَضَحُ وَجْهِهِ فَقُلْتُ لِعَمْرٍو أَفِي الْحَدِيثِ حَتَّى يَبْدُوَ وَضَحُ وَجْهِهِ فَقَالَ عَمْرٌو أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ

حضرت وائل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر مرتبہ جھکتے اور اٹھتے ہوئے تکبیر کہتےتھے اور تکبیر کہتےوقت رفع یدین کرتے تھے اور دائیں بائیں دونوں طرف سلام پھیرتے تھے۔

وائل بن حجر الحضرمي ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْيَحْصُبِيِّ ← أَبَا الْبَخْتَرِيِّ الطَّائِيَّ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19058

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19116

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ مَرْوَانَ وَالْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ يَزِيدُ أَحَدُهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي بِضْعَ عَشْرَةَ مِائَةً مِنْ أَصْحَابِهِ فَلَمَّا كَانَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ قَلَّدَ الْهَدْيَ وَأَشْعَرَ وَأَحْرَمَ مِنْهَا وَبَعَثَ عَيْنًا لَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَسَأَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا

حضرت مسور رضی اللہ عنہ اور مروان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ کے سال ایک ہزار سے اوپر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کوساتھ لے کر نکلے ذوالحلیفہ پہنچ کرہدی کے جانور کے گلے میں قلادہ باندھا اس کا شعار کیا اور وہاں سے احرام باندھ لیا اور اپنے آگے ایک جاسوس بھیج کر خود بھی روانہ ہوگئے۔

عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19116

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19117

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ وَمَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ قَالَا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ يُرِيدُ زِيَارَةَ الْبَيْتِ لَا يُرِيدُ قِتَالًا وَسَاقَ مَعَهُ الْهَدْيَ سَبْعِينَ بَدَنَةً وَكَانَ النَّاسُ سَبْعَ مِائَةِ رَجُلٍ فَكَانَتْ كُلُّ بَدَنَةٍ عَنْ عَشَرَةٍ قَالَ وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِعُسْفَانَ لَقِيَهُ بِشْرُ بْنُ سُفْيَانَ الْكَعْبِيُّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذِهِ قُرَيْشٌ قَدْ سَمِعَتْ بِمَسِيرِكَ فَخَرَجَتْ مَعَهَا الْعُوذُ الْمَطَافِيلُ قَدْ لَبِسُوا جُلُودَ النُّمُورِ يُعَاهِدُونَ اللَّهَ أَنْ لَا تَدْخُلَهَا عَلَيْهِمْ عَنْوَةً أَبَدًا وَهَذَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فِي خَيْلِهِمْ قَدِمُوا إِلَى كُرَاعِ الْغَمِيمِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا وَيْحَ قُرَيْشٍ لَقَدْ أَكَلَتْهُمْ الْحَرْبُ مَاذَا عَلَيْهِمْ لَوْ خَلَّوْا بَيْنِي وَبَيْنَ سَائِرِ النَّاسِ فَإِنْ أَصَابُونِي كَانَ الَّذِي أَرَادُوا وَإِنْ أَظْهَرَنِي اللَّهُ عَلَيْهِمْ دَخَلُوا فِي الْإِسْلَامِ وَهُمْ وَافِرُونَ وَإِنْ لَمْ يَفْعَلُوا قَاتَلُوا وَبِهِمْ قُوَّةٌ فَمَاذَا تَظُنُّ قُرَيْشٌ وَاللَّهِ إِنِّي لَا أَزَالُ أُجَاهِدُهُمْ عَلَى الَّذِي بَعَثَنِي اللَّهُ لَهُ حَتَّى يُظْهِرَهُ اللَّهُ لَهُ أَوْ تَنْفَرِدَ هَذِهِ السَّالِفَةُ ثُمَّ أَمَرَ النَّاسَ فَسَلَكُوا ذَاتَ الْيَمِينِ بَيْنَ ظَهْرَيْ الْحَمْضِ عَلَى طَرِيقٍ تُخْرِجُهُ عَلَى ثَنِيَّةِ الْمِرَارِ وَالْحُدَيْبِيَةِ مِنْ أَسْفَلِ مَكَّةَ قَالَ فَسَلَكَ بِالْجَيْشِ تِلْكَ الطَّرِيقَ فَلَمَّا رَأَتْ خَيْلُ قُرَيْشٍ قَتَرَةَ الْجَيْشِ قَدْ خَالَفُوا عَنْ طَرِيقِهِمْ نَكَصُوا رَاجِعِينَ إِلَى قُرَيْشٍ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا سَلَكَ ثَنِيَّةَ الْمِرَارِ بَرَكَتْ نَاقَتُهُ فَقَالَ النَّاسُ خَلَأَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا خَلَأَتْ وَمَا هُوَ لَهَا بِخُلُقٍ وَلَكِنْ حَبَسَهَا حَابِسُ الْفِيلِ عَنْ مَكَّةَ وَاللَّهِ لَا تَدْعُونِي قُرَيْشٌ الْيَوْمَ إِلَى خُطَّةٍ يَسْأَلُونِي فِيهَا صِلَةَ الرَّحِمِ إِلَّا أَعْطَيْتُهُمْ إِيَّاهَا ثُمَّ قَالَ لِلنَّاسِ انْزِلُوا فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا بِالْوَادِي مِنْ مَاءٍ يَنْزِلُ عَلَيْهِ النَّاسُ فَأَخْرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَهْمًا مِنْ كِنَانَتِهِ فَأَعْطَاهُ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ فَنَزَلَ فِي قَلِيبٍ مِنْ تِلْكَ الْقُلُبِ فَغَرَزَهُ فِيهِ فَجَاشَ الْمَاءُ بِالرَّوَاءِ حَتَّى ضَرَبَ النَّاسُ عَنْهُ بِعَطَنٍ فَلَمَّا اطْمَأَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بُدَيْلُ بْنُ وَرْقَاءَ فِي رِجَالٍ مِنْ خُزَاعَةَ فَقَالَ لَهُمْ كَقَوْلِهِ لِبُشَيْرِ بْنِ سُفْيَانَ فَرَجَعُوا إِلَى قُرَيْشٍ فَقَالُوا يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ إِنَّكُمْ تَعْجَلُونَ عَلَى مُحَمَّدٍ وَإِنَّ مُحَمَّدًا لَمْ يَأْتِ لِقِتَالٍ إِنَّمَا جَاءَ زَائِرًا لِهَذَا الْبَيْتِ مُعَظِّمًا لَحَقِّهِ فَاتَّهَمُوهُمْ قَالَ مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ قَالَ الزُّهْرِيُّ وَكَانَتْ خُزَاعَةُ فِي غَيْبَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْلِمُهَا وَمُشْرِكُهَا لَا يُخْفُونَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا كَانَ بِمَكَّةَ قَالُوا وَإِنْ كَانَ إِنَّمَا جَاءَ لِذَلِكَ فَلَا وَاللَّهِ لَا يَدْخُلُهَا أَبَدًا عَلَيْنَا عَنْوَةً وَلَا تَتَحَدَّثُ بِذَلِكَ الْعَرَبُ ثُمَّ بَعَثُوا إِلَيْهِ مِكْرَزَ بْنَ حَفْصِ بْنِ الْأَخْيَفِ أَحَدَ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ هَذَا رَجُلٌ غَادِرٌ فَلَمَّا انْتَهَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوٍ مِمَّا كَلَّمَ بِهِ أَصْحَابَهُ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى قُرَيْشٍ فَأَخْبَرَهُمْ بِمَا قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَبَعَثُوا إِلَيْهِ الْحِلْسَ بْنَ عَلْقَمَةَ الْكِنَانِيَّ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ سَيِّدُ الْأَحَابِشِ فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ هَذَا مِنْ قَوْمٍ يَتَأَلَّهُونَ فَابْعَثُوا الْهَدْيَ فِي وَجْهِهِ فَبَعَثُوا الْهَدْيَ فَلَمَّا رَأَى الْهَدْيَ يَسِيلُ عَلَيْهِ مِنْ عَرْضِ الْوَادِي فِي قَلَائِدِهِ قَدْ أَكَلَ أَوْتَارَهُ مِنْ طُولِ الْحَبْسِ عَنْ مَحِلِّهِ رَجَعَ وَلَمْ يَصِلْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِعْظَامًا لِمَا رَأَى فَقَالَ يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ قَدْ رَأَيْتُ مَا لَا يَحِلُّ صَدُّهُ الْهَدْيَ فِي قَلَائِدِهِ قَدْ أَكَلَ أَوْتَارَهُ مِنْ طُولِ الْحَبْسِ عَنْ مَحِلِّهِ فَقَالُوا اجْلِسْ إِنَّمَا أَنْتَ أَعْرَابِيٌّ لَا عِلْمَ لَكَ فَبَعَثُوا إِلَيْهِ عُرْوَةَ بْنَ مَسْعُودٍ الثَّقَفِيَّ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ إِنِّي قَدْ رَأَيْتُ مَا يَلْقَى مِنْكُمْ مَنْ تَبْعَثُونَ إِلَى مُحَمَّدٍ إِذَا جَاءَكُمْ مِنْ التَّعْنِيفِ وَسُوءِ اللَّفْظِ وَقَدْ عَرَفْتُمْ أَنَّكُمْ وَالِدٌ وَأَنِّي وَلَدٌ وَقَدْ سَمِعْتُ بِالَّذِي نَابَكُمْ فَجَمَعْتُ مَنْ أَطَاعَنِي مِنْ قَوْمِي ثُمَّ جِئْتُ حَتَّى آسَيْتُكُمْ بِنَفْسِي قَالُوا صَدَقْتَ مَا أَنْتَ عِنْدَنَا بِمُتَّهَمٍ فَخَرَجَ حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَلَسَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ جَمَعْتَ أَوْبَاشَ النَّاسِ ثُمَّ جِئْتَ بِهِمْ لِبَيْضَتِكَ لِتَفُضَّهَا إِنَّهَا قُرَيْشٌ قَدْ خَرَجَتْ مَعَهَا الْعُوذُ الْمَطَافِيلُ قَدْ لَبِسُوا جُلُودَ النُّمُورِ يُعَاهِدُونَ اللَّهَ أَنْ لَا تَدْخُلَهَا عَلَيْهِمْ عَنْوَةً أَبَدًا وَأَيْمُ اللَّهِ لَكَأَنِّي بِهَؤُلَاءِ قَدْ انْكَشَفُوا عَنْكَ غَدًا قَالَ وَأَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌ فَقَالَ امْصُصْ بَظْرَ اللَّاتِ أَنَحْنُ نَنْكَشِفُ عَنْهُ قَالَ مَنْ هَذَا يَا مُحَمَّدُ قَالَ هَذَا ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ قَالَ وَاللَّهِ لَوْلَا يَدٌ كَانَتْ لَكَ عِنْدِي لَكَافَأْتُكَ بِهَا وَلَكِنَّ هَذِهِ بِهَا ثُمَّ تَنَاوَلَ لِحْيَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ وَاقِفٌ عَلَى رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَدِيدِ قَالَ يَقْرَعُ يَدَهُ ثُمَّ قَالَ أَمْسِكْ يَدَكَ عِنْ لِحْيَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ وَاللَّهِ لَا تَصِلُ إِلَيْكَ قَالَ وَيْحَكَ مَا أَفَظَّكَ وَأَغْلَظَكَ قَالَ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ هَذَا يَا مُحَمَّدُ قَالَ هَذَا ابْنُ أَخِيكَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ قَالَ أَغُدَرُ هَلْ غَسَلْتَ سَوْأَتَكَ إِلَّا بِالْأَمْسِ قَالَ فَكَلَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ مَا كَلَّمَ بِهِ أَصْحَابَهُ فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ لَمْ يَأْتِ يُرِيدُ حَرْبًا قَالَ فَقَامَ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ رَأَى مَا يَصْنَعُ بِهِ أَصْحَابُهُ لَا يَتَوَضَّأُ وُضُوءًا إِلَّا ابْتَدَرُوهُ وَلَا يَبْسُقُ بُسَاقًا إِلَّا ابْتَدَرُوهُ وَلَا يَسْقُطُ مِنْ شَعَرِهِ شَيْءٌ إِلَّا أَخَذُوهُ فَرَجَعَ إِلَى قُرَيْشٍ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ إِنِّي جِئْتُ كِسْرَى فِي مُلْكِهِ وَجِئْتُ قَيْصَرَ وَالنَّجَاشِيَّ فِي مُلْكِهِمَا وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ مَلِكًا قَطُّ مِثْلَ مُحَمَّدٍ فِي أَصْحَابِهِ وَلَقَدْ رَأَيْتُ قَوْمًا لَا يُسْلِمُونَهُ لِشَيْءٍ أَبَدًا فَرُوا رَأْيَكُمْ قَالَ وَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ ذَلِكَ بَعَثَ خِرَاشَ بْنَ أُمَيَّةَ الْخُزَاعِيَّ إِلَى مَكَّةَ وَحَمَلَهُ عَلَى جَمَلٍ لَهُ يُقَالُ لَهُ الثَّعْلَبُ فَلَمَّا دَخَلَ مَكَّةَ عَقَرَتْ بِهِ قُرَيْشٌ وَأَرَادُوا قَتْلَ خِرَاشٍ فَمَنَعَهُمْ الْأَحَابِشُ حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا عُمَرَ لِيَبْعَثَهُ إِلَى مَكَّةَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَخَافُ قُرَيْشًا عَلَى نَفْسِي وَلَيْسَ بِهَا مِنْ بَنِي عَدِيٍّ أَحَدٌ يَمْنَعُنِي وَقَدْ عَرَفَتْ قُرَيْشٌ عَدَاوَتِي إِيَّاهَا وَغِلْظَتِي عَلَيْهَا وَلَكِنْ أَدُلُّكَ عَلَى رَجُلٍ هُوَ أَعَزُّ مِنِّي عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ قَالَ فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَعَثَهُ إِلَى قُرَيْشٍ يُخْبِرُهُمْ أَنَّهُ لَمْ يَأْتِ لِحَرْبٍ وَأَنَّهُ جَاءَ زَائِرًا لِهَذَا الْبَيْتِ مُعَظِّمًا لِحُرْمَتِهِ فَخَرَجَ عُثْمَانُ حَتَّى أَتَى مَكَّةَ وَلَقِيَهُ أَبَانُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ فَنَزَلَ عَنْ دَابَّتِهِ وَحَمَلَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ وَرَدِفَ خَلْفَهُ وَأَجَارَهُ حَتَّى بَلَّغَ رِسَالَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْطَلَقَ عُثْمَانُ حَتَّى أَتَى أَبَا سُفْيَانَ وَعُظَمَاءَ قُرَيْشٍ فَبَلَّغَهُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَرْسَلَهُ بِهِ فَقَالُوا لِعُثْمَانَ إِنْ شِئْتَ أَنْ تَطُوفَ بِالْبَيْتِ فَطُفْ بِهِ فَقَالَ مَا كُنْتُ لِأَفْعَلَ حَتَّى يَطُوفَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَاحْتَبَسَتْهُ قُرَيْشٌ عِنْدَهَا فَبَلَغَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُسْلِمِينَ أَنَّ عُثْمَانَ قَدْ قُتِلَ قَالَ مُحَمَّدٌ فَحَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ أَنَّ قُرَيْشًا بَعَثُوا سُهَيْلَ بْنَ عَمْرٍو أَحَدَ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ فَقَالُوا ائْتِ مُحَمَّدًا فَصَالِحْهُ وَلَا يَكُونُ فِي صُلْحِهِ إِلَّا أَنْ يَرْجِعَ عَنَّا عَامَهُ هَذَا فَوَاللَّهِ لَا تَتَحَدَّثُ الْعَرَبُ أَنَّهُ دَخَلَهَا عَلَيْنَا عَنْوَةً أَبَدًا فَأَتَاهُ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو فَلَمَّا رَآهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَدْ أَرَادَ الْقَوْمُ الصُّلْحَ حِينَ بَعَثُوا هَذَا الرَّجُلَ فَلَمَّا انْتَهَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَكَلَّمَا وَأَطَالَا الْكَلَامَ وَتَرَاجَعَا حَتَّى جَرَى بَيْنَهُمَا الصُّلْحُ فَلَمَّا الْتَأَمَ الْأَمْرُ وَلَمْ يَبْقَ إِلَّا الْكِتَابُ وَثَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَأَتَى أَبَا بَكْرٍ فَقَالَ يَا أَبَا بَكْرٍ أَوَلَيْسَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَلَسْنَا بِالْمُسْلِمِينَ أَوَلَيْسُوا بِالْمُشْرِكِينَ قَالَ بَلَى قَالَ فَعَلَامَ نُعْطِي الذِّلَّةَ فِي دِينِنَا فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ يَا عُمَرُ الْزَمْ غَرْزَهُ حَيْثُ كَانَ فَإِنِّي أَشْهَدُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ قَالَ عُمَرُ وَأَنَا أَشْهَدُ ثُمَّ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوَلَسْنَا بِالْمُسْلِمِينَ أَوَلَيْسُوا بِالْمُشْرِكِينَ قَالَ بَلَى قَالَ فَعَلَامَ نُعْطِي الذِّلَّةَ فِي دِينِنَا فَقَالَ أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ لَنْ أُخَالِفَ أَمْرَهُ وَلَنْ يُضَيِّعَنِي ثُمَّ قَالَ عُمَرُ مَا زِلْتُ أَصُومُ وَأَتَصَدَّقُ وَأُصَلِّي وَأَعْتِقُ مِنْ الَّذِي صَنَعْتُ مَخَافَةَ كَلَامِي الَّذِي تَكَلَّمْتُ بِهِ يَوْمَئِذٍ حَتَّى رَجَوْتُ أَنْ يَكُونَ خَيْرًا قَالَ وَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اكْتُبْ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ فَقَالَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو لَا أَعْرِفُ هَذَا وَلَكِنْ اكْتُبْ بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اكْتُبْ بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ هَذَا مَا صَالَحَ عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ سُهَيْلَ بْنَ عَمْرٍو فَقَالَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو لَوْ شَهِدْتُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ لَمْ أُقَاتِلْكَ وَلَكِنْ اكْتُبْ هَذَا مَا اصْطَلَحَ عَلَيْهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَسُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو عَلَى وَضْعِ الْحَرْبِ عَشْرَ سِنِينَ يَأْمَنُ فِيهَا النَّاسُ وَيَكُفُّ بَعْضُهُمْ عَنْ بَعْضٍ عَلَى أَنَّهُ مَنْ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَصْحَابِهِ بِغَيْرِ إِذْنِ وَلِيِّهِ رَدَّهُ عَلَيْهِمْ وَمَنْ أَتَى قُرَيْشًا مِمَّنْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَرُدُّوهُ عَلَيْهِ وَإِنَّ بَيْنَنَا عَيْبَةً مَكْفُوفَةً وَإِنَّهُ لَا إِسْلَالَ وَلَا إِغْلَالَ وَكَانَ فِي شَرْطِهِمْ حِينَ كَتَبُوا الْكِتَابَ أَنَّهُ مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَدْخُلَ فِي عَقْدِ مُحَمَّدٍ وَعَهْدِهِ دَخَلَ فِيهِ وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَدْخُلَ فِي عَقْدِ قُرَيْشٍ وَعَهْدِهِمْ دَخَلَ فِيهِ فَتَوَاثَبَتْ خُزَاعَةُ فَقَالُوا نَحْنُ مَعَ عَقْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَهْدِهِ وَتَوَاثَبَتْ بَنُو بَكْرٍ فَقَالُوا نَحْنُ فِي عَقْدِ قُرَيْشٍ وَعَهْدِهِمْ وَأَنَّكَ تَرْجِعُ عَنَّا عَامَنَا هَذَا فَلَا تَدْخُلْ عَلَيْنَا مَكَّةَ وَأَنَّهُ إِذَا كَانَ عَامُ قَابِلٍ خَرَجْنَا عَنْكَ فَتَدْخُلُهَا بِأَصْحَابِكَ وَأَقَمْتَ فِيهِمْ ثَلَاثًا مَعَكَ سِلَاحُ الرَّاكِبِ لَا تَدْخُلْهَا بِغَيْرِ السُّيُوفِ فِي الْقُرُبِ فَبَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكْتُبُ الْكِتَابَ إِذْ جَاءَهُ أَبُو جَنْدَلِ بْنُ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو فِي الْحَدِيدِ قَدْ انْفَلَتَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَقَدْ كَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجُوا وَهُمْ لَا يَشُكُّونَ فِي الْفَتْحِ لِرُؤْيَا رَآهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَأَوْا مَا رَأَوْا مِنْ الصُّلْحِ وَالرُّجُوعِ وَمَا تَحَمَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى نَفْسِهِ دَخَلَ النَّاسَ مِنْ ذَلِكَ أَمْرٌ عَظِيمٌ حَتَّى كَادُوا أَنْ يَهْلَكُوا فَلَمَّا رَأَى سُهَيْلٌ أَبَا جَنْدَلٍ قَامَ إِلَيْهِ فَضَرَبَ وَجْهَهُ ثُمَّ قَالَ يَا مُحَمَّدُ قَدْ لُجَّتْ الْقَضِيَّةُ بَيْنِي وَبَيْنَكَ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَكَ هَذَا قَالَ صَدَقْتَ فَقَامَ إِلَيْهِ فَأَخَذَ بِتَلْبِيبِهِ قَالَ وَصَرَخَ أَبُو جَنْدَلٍ بِأَعْلَى صَوْتِهِ يَا مَعَاشِرَ الْمُسْلِمِينَ أَتَرُدُّونَنِي إِلَى أَهْلِ الشِّرْكِ فَيَفْتِنُونِي فِي دِينِي قَالَ فَزَادَ النَّاسُ شَرًّا إِلَى مَا بِهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَبَا جَنْدَلٍ اصْبِرْ وَاحْتَسِبْ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ جَاعِلٌ لَكَ وَلِمَنْ مَعَكَ مِنْ الْمُسْتَضْعَفِينَ فَرَجًا وَمَخْرَجًا إِنَّا قَدْ عَقَدْنَا بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْقَوْمِ صُلْحًا فَأَعْطَيْنَاهُمْ عَلَى ذَلِكَ وَأَعْطَوْنَا عَلَيْهِ عَهْدًا وَإِنَّا لَنْ نَغْدِرَ بِهِمْ قَالَ فَوَثَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مَعَ أَبِي جَنْدَلٍ فَجَعَلَ يَمْشِي إِلَى جَنْبِهِ وَهُوَ يَقُولُ اصْبِرْ أَبَا جَنْدَلٍ فَإِنَّمَا هُمْ الْمُشْرِكُونَ وَإِنَّمَا دَمُ أَحَدِهِمْ دَمُ كَلْبٍ قَالَ وَيُدْنِي قَائِمَ السَّيْفِ مِنْهُ قَالَ يَقُولُ رَجَوْتُ أَنْ يَأْخُذَ السَّيْفَ فَيَضْرِبَ بِهِ أَبَاهُ قَالَ فَضَنَّ الرَّجُلُ بِأَبِيهِ وَنَفَذَتْ الْقَضِيَّةُ فَلَمَّا فَرَغَا مِنْ الْكِتَابِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي الْحَرَمِ وَهُوَ مُضْطَرِبٌ فِي الْحِلِّ قَالَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ انْحَرُوا وَاحْلِقُوا قَالَ فَمَا قَامَ أَحَدٌ قَالَ ثُمَّ عَادَ بِمِثْلِهَا فَمَا قَامَ رَجُلٌ حَتَّى عَادَ بِمِثْلِهَا فَمَا قَامَ رَجُلٌ فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَقَالَ يَا أُمَّ سَلَمَةَ مَا شَأْنُ النَّاسِ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ دَخَلَهُمْ مَا قَدْ رَأَيْتَ فَلَا تُكَلِّمَنَّ مِنْهُمْ إِنْسَانًا وَاعْمِدْ إِلَى هَدْيِكَ حَيْثُ كَانَ فَانْحَرْهُ وَاحْلِقْ فَلَوْ قَدْ فَعَلْتَ ذَلِكَ فَعَلَ النَّاسُ ذَلِكَ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُكَلِّمُ أَحَدًا حَتَّى أَتَى هَدْيَهُ فَنَحَرَهُ ثُمَّ جَلَسَ فَحَلَقَ فَقَامَ النَّاسُ يَنْحَرُونَ وَيَحْلِقُونَ قَالَ حَتَّى إِذَا كَانَ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ فِي وَسَطِ الطَّرِيقِ فَنَزَلَتْ سُورَةُ الْفَتْحِ

حضرت مسوربن مخرمہ اور مروان سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ کے سال مدینہ سے چلے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم رکاب ایک ہزار چند سو آدمی تھے عسفان کے قریب پہنچے تھے کہ جاسوس " جس کا نام بشر بن سفیان کعبی تھا " واپس آیا اور عرض کیا کہ قریش نے آپ کے مقابلہ کے لئے بہت فوجیں جمع کی ہیں اور مختلف قبائل کو اکٹھا کیا ہے وہ آپ سے لڑنے کے لئے تیار ہیں اور خانہ کعبہ میں داخل ہونے سے آپ کو روک دیں گے اور خالد بن ولید بھی اپنے ساتھیوں کو لے کر کراع غمیم تک بڑھ آئے ہیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمراہیان کو مخاطب کرکے فرمایا لوگو! کیا مشورہ ہے کیا میں ان کے اہل وعیال کی طرف مائل ہوجاؤں اور جو لوگ خانہ کعبہ سے مجھے روکنا چاہتے ہیں میں ان کے اہل و عیال کو گرفتار کرلوں اگر وہ لوگ اپنے بال بچوں کی مدد کو آئیں گے تو ان کا گروہ ٹوٹ جائے گا ورنہ ہم ان کو مفلس کرکے چھوڑ دیں گے بہرحال ان کا نقصان ہے صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ خانہ کعبہ کی نیت سے چلے ہیں لڑائی کے ارادے سے نہیں نکلے آپ کو خانہ کعبہ کا رخ کرنا چاہئے پھر جو ہم کو روکے گا ہم اس سے لڑیں گے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا (توخدا کا نام لے کر چل دو) چنانچہ سب چلے دئیے۔ اثنا راہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خالد بن ولید قریش کے (دوسو) سواروں کے لئے (مقام ) غمیم میں ہمارا راستہ روکے پڑا ہے لہٰذا تم بھی داہنی طرف کوہی (خالد کی جانب ) چلو سب لوگوں نے داہنی طرف کا رخ کرلیا اور اس وقت تک خالد کو خبر نہ ہوئی جب تک لشکر کا غبار اڑتا ہوا انہوں نے دیکھ نہ لیا،غبار اڑتا دیکھ کر خالد نے جلدی سے جاکر قریش کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے ڈرایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حسب معمول چلتے رہے یہاں تک کہ جب اس پہاڑی پر پہنچے جس کی طرف سے لوگ مکہ میں اترتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی بیٹھ گئی لوگوں نے بہت کوشش کی لیکن اونٹنی نہ اٹھی وہیں جم گئی لوگ کہنے لگے کہ قصواء (حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کا نام تھا) اڑگئی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قصواء خود نہیں اڑی ہے اس کی یہ عادت ہی نہیں ہے بلکہ اس کو اس نے روک دیا ہے جس نے اصحاب فیل کو روکا تھا ۔ پھر فرمایا قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے مکہ والے عظمت حرم برقرار رکھنے کےلئے مجھ سے جو کچھ خواہش کریں گے میں دے دوں گا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹنی کو جھڑکا اونٹنی فوراً اٹھ کھڑی ہوئی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ والوں کی راہ سے بچ کر دوسری طرف کا رخ کرکے چلے اور حدیبیہ سے دوسری طرف اس جگہ اترے جہاں تھوڑا تھوڑا پانی تھا۔ لوگوں نے وہی تھوڑا پانی لے لیاجب سب پانی کھینچ چکے اور پانی بالکل نہ رہا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پانی نہ ہونے کی شکایت آئی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ترکش میں سے ایک تیر نکال کر صحابہ رضی اللہ عنہم کودیا اور حکم دیا کہ اس کو پانی میں رکھ دو۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے حکم کی تعمیل کی ۔ جونہی تیر کو پانی میں رکھا فوراً پانی میں ایسا جوش آیا کہ سب لوگ سیراب ہو کر واپس ہوئے اور پانی پھر بھی بچ رہا۔ اسی دوران بدیل بن ورقہ خزاعی جو رسول اللہ کا راز دار تھا اپنی قوم کے آدمیوں کو ہمراہ لے کر آیا اور کہنے لگا کہ میں خاندان کعب بن لوی اور قبائل عامر بن لوی حدیبیہ کے جاری پانی پر چھوڑ کر آیا ہوں ان کے ساتھ دودھ والی اونٹنیاں بھی ہیں اور ان کے اہل وعیال بھی ہیں اور تعداد میں حدیبیہ کے پانی کے قطروں کے برابر ہیں وہ آپ سے لڑنے کے لئے اور آپ کو خانہ کعبہ سے روک دینے کے لئے تیار ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم کسی سے لڑنے نہیں آئے صرف عمرہ کرنے آئے ہیں ۔ انہی لڑائیوں نے قریش کو کمزور کردیا ہے اور نقصان پہنچائے ہیں ۔ اگر وہ صلح کرنا چاہیں تو میں ان کے لئے مدت مقرر کردوں گا کہ اس میں نہ ہم ان سے لڑیں اور نہ وہ ہم سے لڑیں ۔ باقی دیگر کفار عرب کے معاملہ میں وہ دخل نہ دیں اس دوران اگر کافر مجھ پر غالب آگئے تو ان کی مرادحاصل ہوجائے گی اور اگر میں کافروں پر غالب آگیا تو قریش کو اختیار ہے اگر وہ اس (دین ) میں داخل ہونا چاہیں گے جس میں اور لوگ داخل ہوگئے تو داخل ہوجائیں اور اگر مسلمان ہونا نہ چاہیں تو مدت صلح میں تو ان کو تکلیف اٹھانی ہی نہیں پڑے گی ۔ اگر قریش ان باتوں میں سے کسی کو نہ مانیں گے تو اس اللہ کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے میں اپنے امر (دین) پر ان سے اس وقت تک برابر لڑتا رہوں گا جب تک میری گردن تن سے جدا نہ ہوجائے اور یہ یقینی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے دین کو غلبہ عطاء فرمائے گا۔ بدیل بولا میں آپ کی بات قریش کو پہنچادوں گا۔یہ کہہ کربدیل چلا گیا اور قریش کے پاس پہنچ کر ان سے کہا ہم فلاں آدمی کے پاس سے تمہارے پاس آئے ہیں اس نے ہم سے ایک بات کہی ہے اگر تم چاہو توہم تمہارے سامنے اس کا اظہار کردیں قریش کے بیوقوف آدمی تو کہنے لگے ہم کو کوئی ضرورت نہیں کہ تم اس کی باتیں ہمارے سامنے بیان کرو لیکن سمجھ دار لوگوں نے کہا تم ان کا قول بیان کرو۔ بدیل نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا تمام فرمان نقل کردیا یہ سن کر عروہ بن مسعود کھڑا ہوا اور کہنے لگا اے قوم کیا میں تمہارا باپ نہیں ہوں ۔ سب نے کہا بے شک ہو، کہنے لگا کیا تم میری اولاد نہیں ہو سب نے کہا ہیں عروہ بولا کیا تم مجھے مشکوک آدمی سمجھتے ہو؟سب نے کہا نہیں عروہ بولا کیا تم کو معلوم نہیں اہل عکاظ کو میں نے ہی تمہاری مدد کے لئے بلایا تھا اور جب وہ نہ آئے تو میں اپنے اہل وعیال اور متعلقین وزیردست لوگوں کو لے کر تم سے آکر مل گیا سب نے کہا بے شک عروہ بولا اس شخص نے سب سے پہلے ٹھیک بات کہی ہے تم اس کو قبول کرلو اور مجھ کو اس کے پاس جانے کی اجازت ۔ لوگوں نے کہا جاؤ۔عروہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے گفتگو کرنے لگا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بھی وہی کلام کیا جو بدیل سے کیا تھا ۔ عروہ بولا محمد! دیکھو اگر تم (غالب ہوجاؤگے اور) اپنی قوم کی بیخ کنی کردو گے تو کیا اس سے پہلے تم نے کسی کے متعلق سناہے کہ اس نے اپنی ہی قوم کی جڑ کاٹی ہو اور اگر دوسری بات ہو (قریش غالب آئے) تو اللہ کی قسم مجھے بہت سے چہرے ایسے نظر آرہے ہیں کہ تم کو چھوڑ کر بھاگ جائیں گے کیونکہ مختلف قوموں کی اس میں بھرتی ہے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے غصہ میں آکر فرمایا کیا ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر بھاگ جائیں گے ؟ عروہ بولا یہ کون شخص ہے ؟ لوگوں نے کہا ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں عروہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بولا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر تمہارا گزشتہ احسان مجھ پر نہ ہوتا جس کا میں بدلہ نہ دے سکا ہوں توضرور میں اس کا جواب دیتا یہ کہہ کر پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کرنے لگا اور بات کرتے ہوئے بار بار حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ڈاڑھی پکڑ لیتا تھا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تلوار لئے زرہ پہنے (نگرانی کے لئے ) کھڑے تھے عروہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی پکڑنے کے لئے ہاتھ جھکاتا تھا مغیرہ تلوار کے قبضہ کی نوک عروہ کو مار کر کہتے تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی سے ہاتھ ہٹالے عروہ ہاتھ ہٹالیتا تھا آخر کار عروہ نے پوچھا یہ کون شخص ہے ؟ لوگوں نے کہا کہ یہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ ہیں عروہ بولا او دغا باز کیا میں نے تیری دغا بازی کے مٹانے میں تیری لئے کوشش نہیں کی تھی ۔ واقعہ یہ تھا کہ مغیرہ بن شعبہ جاہلیت کے زمانہ میں ایک قوم کے پاس جاکر رہے تھے اور دھوکے سے ان کو قتل کرکے مال لے کر چلتے ہوئےتھے اور پھر آکر مسلمان ہوگئے تھے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت لیتے وقت فرمادیا تھا کہ اسلام تو میں قبول کرتا ہوں لیکن مال والے معاملے میں مجھے کوئی تعلق نہیں ، حاصل کلام یہ ہے کہ عروہ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو دیکھنے لگا اللہ کی قسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جولعاب دہن منہ سے پھینکتے تھے تو زمین پر گرنے سے قبل جس شخص کے ہاتھ لگ جاتا تھا وہ اس کو اپنے چہرہ پر مل لیتا تھا اور جو بال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا گرتا تھا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم زمین پر گرنے سے قبل اس کو لے لیتے تھے جس کام کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم حکم دیتے تھے ہر ایک دوسرے سے پہلے اس کے کرنے کو تیار ہوجاتا تھا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے پانی پر کشت وخون کے قریب نوبت پہنچ جاتی تھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کلام کرتے وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پست آواز سے باتیں کرتے تھے اور انتہائی عظمت کیوجہ سے تیز نظر سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نہ دیکھتے تھے۔یہ سب باتیں دیکھنے کے بعد عروہ واپس آیا اور ساتھیوں سے کہنے لگا اے قوم اللہ کی قسم میں بادشاہوں کے پاس قاصد بن کر گیا ہوں ۔ قیصر و کسریٰ اور نجاشی کے درباروں میں بھی رہاہوں لیکن میں نے کبھی کوئی بادشاہ ایسا نہیں دیکھا کہ اس کے آدمی اس کی ایسی تعظیم کرتے ہوں جیسے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی اس کی تعظیم کرتے ہیں اللہ کی قسم جب وہ تھوک پھینکتا ہے تو جس شخص کے ہاتھ وہ لگ جاتا ہے وہ اس کو اپنے چہرہ اور بدن پر مل لیتا ہے اگر وہ کسی کام کا حکم دیتا ہے تو ہر ایک دوسرے سے پہلے اس کی تعمیل کرنے کو تیار ہوجاتا ہے جس وقت وہ وضو کرتا ہے تو اس کے وضو کے پانی پر لوگ کشت و خون کرنے کے لئے تیار ہوجاتے ہیں اس کے سامنے کلام کرتے وقت سب آوازیں پست رکھتے ہیں اور اس کی تعظیم کے لئے کوئی نظر اٹھا کر اس کی طرف نہیں دیکھتا اس نے تمہارے سامنے بہترین بات پیش کی ہے لہٰذا تم اس کو قبول کرلو۔عروہ جب اپنا کلام ختم کرچکا تو قبیلہ بنی کنانہ کا ایک آدمی بولا مجھے ذرا ان کے پاس جانے کی اجازت دو سب لوگوں نے اس کو جانے کی اجازت دی وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہونے کے ارادہ سے چل دیا جب سامنے سے نمودار ہوا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ فلاں شخص فلاں قوم میں سے ہے اس کی قوم قربانی کے اونٹوں کی بہت عزت و حرمت کرتی ہے لہٰذا قربانی کے اونٹ اس کی نظر کے سامنے کردو حسب الحکم قربانی کے اونٹ اس کے سامنے پیش کئے گئے اور لوگ لبیک کہتے ہوئے اس کے سامنے آئے جب اس نے یہ حالت دیکھی تو کہنے لگا کہ ان لوگوں کو کعبہ سے روکنا کسی طرح مناسب نہیں یہ دیکھ کر وہ واپس آیا اور اپنی قوم سے کہنے لگا میں نے ان کے اونٹوں کے گلے میں ہار پڑے دیکھے ہیں اور اشعار کی علامت دیکھی ہے ، میرے نزدیک مناسب نہیں کہ خانہ کعبہ سے ان کو روکا جائے ۔ اس کی تقریر سن کر مکرز نامی ایک شخص اٹھا اور کہنے لگا ذرا مجھے ان کے پاس اور جانے دو سب نے اجازت دے دی اور وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کے ارادہ سے چل دیا صحابہ کے سامنے نمودار ہوا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ مکرز ہے اور شریر ہے مکرز خدمت میں پہنچ گیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ گفتگو کی ، گفتگو کر ہی رہا تھا کہ قریش کی طرف سے سہیل بن عمرو آگیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا اب تمہارا مقصد آسان ہوگیا سہیل نے آکر عرض کیا لائیے ہمارا اپنا ایک صلح نام لکھئے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کاتب کو بلوایا اور فرمایا لکھو بسم اللہ الرحمن الرحیم سہیل بولا اللہ کی قسم میں رحمن کو تو جانتا ہی نہیں کہ کیا چیز ہے ؟ یہ نہ لکھو بلکہ جس طرح پہلے باسمک اللہم لکھا کرتے تھے وہی اب لکھو مسلمان بولے اللہ کی قسم ہم تو بسم اللہ الرحمن الرحیم ہی لکھیں گے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا باسمک اللہم ہی لکھ دو اس کے بعد فرمایا لکھو یہ صلح نامہ وہ ہے جس پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح کی ہے سہیل بولا اللہ کی قسم اگر ہم کو یہ یقین ہوتا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو پھر کعبہ سے آپ کو نہ روکتے اور نہ آپ سے لڑتے اس لئے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ لکھو بلکہ محمد بن عبداللہ لکھوحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اگرچہ مجھے نہ مانو لیکن اللہ کی قسم میں اللہ کا رسول ہوں (اچھا) محمد بن عبداللہ ہی لکھ دو۔زہری کہتے ہیں یہ نرمی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لئے کی کہ پہلے فرماچکے تھے کہ جس بات میں حرم الہٰی کی عزت وحرمت برقرار رہے گی اور قریش مجھ سے اس کا مطالبہ کریں گے تو میں ضرور دے دوں گاخیر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ صلح نامہ اس شرط پر ہے کہ تم لوگ ہم کو خانہ کعبہ کی طرف جانے دوتاکہ ہم طواف کرلیں سہیل بولا اللہ کی قسم عرب اس کا چرچا کریں گے کہ ہم پردباؤ ڈال کر مجبور کیا گیا (اس لئے اس سال نہیں ) آئندہ سال یہ ہوسکتا ہے کاتب نے یہ بات بھی لکھ دی پھر سہیل نے کہا کہ صلح نامہ میں یہ شرط بھی ہونی چاہئے کہ جو شخص ہم میں سے نکل کر تم سے مل جائے گا وہ خواہ تمہارے دین پر ہی ہولیکن تم کو واپس ضرور کرنا ہوگا مسلمان کہنے لگے سبحان اللہ جو شخص مسلمان ہو کر آجائے وہ مشرکوں کو کیسے دیا جاسکتا ہے۔ لوگ اسی گفتگو میں تھے کہ سہیل بن عمرو کا بیٹا ابوجندل بیڑیوں میں جکڑا ہوا آیا جو مکہ کے نشیبی علاقہ سے نکل کربھاگ آیا تھا ، آتے ہی مسلمانوں کے سامنے گر پڑا سہیل بولا محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) یہ سب سے پہلی شرط ہے جس پر میں تم سے صلح کروں گا اس کو تم ہمیں واپس دے دو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابھی تو ہم صلح نامہ مکمل نہیں لکھ پائے ہیں سہیل بولا اللہ کی قسم پھر میں کبھی کسی شرط پر صلح نہیں کروں گا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کی تو مجھے اجازت دے دو سہیل نے کہا میں اجازت نہ دوں گا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں یہ تو کر دو سہیل بولا نہیں کروں گا مکرز بولا ہم اس کی تو تم کو اجازت دیتے ہیں (لیکن مکرز کا قول تسلیم نہیں کیا گیا) ابوجندل بولے مسلمانو! میں مسلمان ہو کر آگیا پھر مجھے مشرکوں کو واپس دیا جائے گا حالانکہ جو تکلیفیں میں نے ان کی طرف سے برداشت کیں وہ تم دیکھ رہے ہو یہ واقعہ ہے کہ ابوجندل کو کافروں نے سخت عذاب دیا تھا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ یہ سن کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ اللہ کے سچے نبی نہیں ہے ؟ فرمایا ہوں ، کیوں نہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا تو کیا ہم حق پر اور ہمارے دشمن باطل پر نہیں ہیں ؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہیں کیوں نہیں ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا تو ہم اپنے دین میں ذلت پیدا نہ ہونے دیں گے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اللہ کا رسول ہوں اس کی نافرمانی نہیں کروں گا وہی میرا مدد گار ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کیا آپ نے ہم سے نہیں کہا تھا کہ عنقریب ہم خانہ کعبہ پہنچ کر طواف کریں گے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں یہ تو میں نے کہا تھا لیکن کیا تم سے یہ بھی کہا تھا کہ اسی سال ہم وہاں پہنچ جائیں گے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا نہیں یہ تو نہیں فرمایا تھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو بس تم کعبہ کو پہنچو گے اور طواف کرو گے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے کہا ابوبکر! یہ اللہ کے سچے نبی نہیں ہیں ؟ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا ضرور ہیں ۔ میں نے کہا کیا ہم لوگ حق پر اور ہمارے دشمن باطل پر نہیں ہیں ؟ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا ضرور ہیں کیوں نہیں ، میں نے کہا تو ہم اپنے دین میں ذلت پیدا نہ ہونے دیں گے ابوبکر رضی اللہ عنہ بولے کہ اے شخص وہ ضرور اللہ کے رسول ہیں اپنے رب کی نافرمانی نہیں کریں گے وہی ان کا مددگار ہے ان کے حکم کے موافق عمل کر اللہ کی قسم وہ حق پر ہیں عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کیا وہ ہم سے نہیں کہا تھا کہ عنقریب ہم خانہ کعبہ پہنچ کر طواف کریں گے ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا بے شک انہوں نے کہہ دیا تھا کہ اسی سال تم کعبہ میں پہنچو گے میں نے کہا نہیں ابوبکربولے تو تم کعبہ کو پہنچ کرضرور اس کا طواف کروگے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس قصور (تعمیل حکم میں توقف ) کے تدارک کے لئے میں نے کئی نیک عمل کئے راوی کا بیان ہے کہ جب صلح نامہ مکمل ہوگیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا اٹھ کر جانور ذبح کرو اور سرمنڈاؤ لیکن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کوئی شخص نہ اٹھا یہاں تک کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا لیکن پھر بھی کوئی نہ اٹھا جب کوئی نہ اٹھا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس اندر تشریف لے گئے اور لوگوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جو معاملہ کیا تھا اس کا تذکرہ فرمایا ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہتر معلوم ہوتا ہے کہ آپ چپکے سے اٹھ کربغیر کسی سے سے کچھ کہے ہوئے جا کر خود قربانی کریں اور حجام کو بلا کر سرمنڈا دیں ، جب مشورہ کرکے حضور صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور بغیر کسی سے کچھ کہے ہوئے جاکر قربانی کی اور حجام کو بلاکر سرمنڈایا لوگوں نے جو یہ دیکھا تو خود اٹھ کر قربانیاں کیں اور باہم ایک دوسرے کا سرمونڈنے لگے اور ہجوم کی وجہ سے قریب تھا کہ بعض بعض کو مار ڈالیں اور مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان راستے میں ہی سورت فتح نازل ہوگئی ۔

الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ وَمَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← الزهري محمد بن مسلم بن شهاب ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19117

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19128

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ وَمَرْوَانَ قَالَا قَلَّدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْهَدْيَ وَأَشْعَرَهُ بِذِي الْحُلَيْفَةِ وَأَحْرَمَ مِنْهَا بِالْعُمْرَةِ حَلَقَ بِالْحُدَيْبِيَةِ فِي عُمْرَتِهِ وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ بِذَلِكَ وَنَحَرَ بِالْحُدَيْبِيَةِ قَبْلَ أَنْ يَحْلِقَ وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ بِذَلِكَ

حضرت مسور رضی اللہ عنہ اور مروان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ذوالحلیفہ پہنچ کر ہدی کے جانور کے گلے میں قلادہ باندھا اس کا شعار کیا اور وہاں سے احرام باندھ لیا حدیبیہ میں حلق کرلیا اور اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کو بھی اس کا حکم دیا اور حلق کرنے سے پہلے ہی قربانی کرلی اور صحابہ رضی اللہ عنہم کو بھی اس کا حکم دیا۔

الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ وَمَرْوَانَ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19128

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19132

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ مَرْوَانَ وَالْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ يَزِيدُ أَحَدُهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي بِضْعَ عَشْرَةَ مِائَةً مِنْ أَصْحَابِهِ فَلَمَّا كَانَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ قَلَّدَ الْهَدْيَ وَأَشْعَرَ وَأَحْرَمَ مِنْهَا وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً مِنْ عُمْرَةٍ وَلَمْ يُسَمِّ الْمِسْوَرَ وَبَعَثَ عَيْنًا لَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَسَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا

حضرت مسور رضی اللہ عنہ اور مروان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ کے سال ایک ہزار سے اوپر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ساتھ لے کر نکلے ذوالحلیفہ پہنچ کر ہدی کے جانور کے گلے میں قلادہ باندھا اس کاشعار کیا اور وہاں سے احرام باندھ لیا اور اپنے آگے ایک جاسوس بھیج کر خود بھی روانہ ہوگئے۔

عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19132

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19136

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ قَالَ الزُّهْرِيُّ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ وَمَرْوَانَ بَنِ الْحَكَمِ يُصَدِّقُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا حَدِيثَ صَاحِبِهِ قَالَا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَانَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي بِضْعَ عَشْرَةَ مِائَةً مِنْ أَصْحَابِهِ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِذِي الْحُلَيْفَةِ قَلَّدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْهَدْيَ وَأَشْعَرَهُ وَأَحْرَمَ بِالْعُمْرَةِ وَبَعَثَ بَيْنَ يَدَيْهِ عَيْنًا لَهُ مِنْ خُزَاعَةَ يُخْبِرُهُ عَنْ قُرَيْشٍ وَسَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِغَدِيرِ الْأَشْطَاطِ قَرِيبٌ مِنْ عُسْفَانَ أَتَاهُ عَيْنُهُ الْخُزَاعِيُّ فَقَالَ إِنِّي قَدْ تَرَكْتُ كَعْبَ بْنَ لُؤَيٍّ وَعَامِرَ بْنَ لُؤَيٍّ قَدْ جَمَعُوا لَكَ الْأَحَابِشَ وَجَمَعُوا لَكَ جُمُوعًا وَهُمْ مُقَاتِلُوكَ وَصَادُّوكَ عَنْ الْبَيْتِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشِيرُوا عَلَيَّ أَتَرَوْنَ أَنْ نَمِيلَ إِلَى ذَرَارِيِّ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ أَعَانُوهُمْ فَنُصِيبَهُمْ فَإِنْ قَعَدُوا قَعَدُوا مَوْتُورِينَ مَحْرُوبِينَ وَإِنْ نَجَوْا وَقَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ مَحْزُونِينَ وَإِنْ يَحْنُونَ تَكُنْ عُنُقًا قَطَعَهَا اللَّهُ أَوْ تَرَوْنَ أَنْ نَؤُمَّ الْبَيْتَ فَمَنْ صَدَّنَا عَنْهُ قَاتَلْنَاهُ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّمَا جِئْنَا مُعْتَمِرِينَ وَلَمْ نَجِئْ نُقَاتِلُ أَحَدًا وَلَكِنْ مَنْ حَالَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْبَيْتِ قَاتَلْنَاهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُوحُوا إِذًا قَالَ الزُّهْرِيُّ وَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَقُولُ مَا رَأَيْتُ أَحَدًا قَطُّ كَانَ أَكْثَرَ مَشُورَةً لِأَصْحَابِهِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الزُّهْرِيُّ فِي حَدِيثِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ وَمَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ فَرَاحُوا حَتَّى إِذَا كَانُوا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ بِالْغَمِيمِ فِي خَيْلٍ لِقُرَيْشٍ طَلِيعَةً فَخُذُوا ذَاتَ الْيَمِينِ فَوَاللَّهِ مَا شَعَرَ بِهِمْ خَالِدٌ حَتَّى إِذَا هُوَ بِقَتَرَةِ الْجَيْشِ فَانْطَلَقَ يَرْكُضُ نَذِيرًا لِقُرَيْشٍ وَسَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالثَّنِيَّةِ الَّتِي يَهْبِطُ عَلَيْهِمْ مِنْهَا بَرَكَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ وَقَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ بَرَكَتْ بِهَا رَاحِلَتُهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَلْ حَلْ فَأَلَحَّتْ فَقَالُوا خَلَأَتْ الْقَصْوَاءُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا خَلَأَتْ الْقَصْوَاءُ وَمَا ذَاكَ لَهَا بِخُلُقٍ وَلَكِنْ حَبَسَهَا حَابِسُ الْفِيلِ ثُمَّ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يَسْأَلُونِي خُطَّةً يُعَظِّمُونَ فِيهَا حُرُمَاتِ اللَّهِ إِلَّا أَعْطَيْتُهُمْ إِيَّاهَا ثُمَّ زَجَرَهَا فَوَثَبَتْ بِهِ قَالَ فَعَدَلَ عَنْهَا حَتَّى نَزَلَ بِأَقْصَى الْحُدَيْبِيَةِ عَلَى ثَمَدٍ قَلِيلِ الْمَاءِ إِنَّمَا يَتَبَرَّضُهُ النَّاسُ تَبَرُّضًا فَلَمْ يَلْبَثْهُ النَّاسُ أَنْ نَزَحُوهُ فَشُكِيَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَطَشُ فَانْتَزَعَ سَهْمًا مِنْ كِنَانَتِهِ ثُمَّ أَمَرَهُمْ أَنْ يَجْعَلُوهُ فِيهِ قَالَ فَوَاللَّهِ مَا زَالَ يَجِيشُ لَهُمْ بِالرِّيِّ حَتَّى صَدَرُوا عَنْهُ قَالَ فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ جَاءَ بُدَيْلُ بْنُ وَرْقَاءَ الْخُزَاعِيُّ فِي نَفَرٍ مِنْ قَوْمِهِ وَكَانُوا عَيْبَةَ نُصْحٍ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَهْلِ تِهَامَةَ وَقَالَ إِنِّي تَرَكْتُ كَعْبَ بْنَ لُؤَيٍّ وَعَامِرَ بْنَ لُؤَيٍّ نَزَلُوا أَعْدَادَ مِيَاهِ الْحُدَيْبِيَةِ مَعَهُمْ الْعُوذُ الْمَطَافِيلُ وَهُمْ مُقَاتِلُوكَ وَصَادُّوكَ عَنْ الْبَيْتِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّا لَمْ نَجِئْ لِقِتَالِ أَحَدٍ وَلَكِنَّا جِئْنَا مُعْتَمِرِينَ وَإِنَّ قُرَيْشًا قَدْ نَهَكَتْهُمْ الْحَرْبُ فَأَضَرَّتْ بِهِمْ فَإِنْ شَاءُوا مَادَدْتُهُمْ مُدَّةً وَيُخَلُّوا بَيْنِي وَبَيْنَ النَّاسِ فَإِنْ أَظْهَرُ فَإِنْ شَاءُوا أَنْ يَدْخُلُوا فِيمَا دَخَلَ فِيهِ النَّاسُ فَعَلُوا وَإِلَّا فَقَدْ جَمَوْا وَإِنْ هُمْ أَبَوْا وَإِلَّا فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأُقَاتِلَنَّهُمْ عَلَى أَمْرِي هَذَا حَتَّى تَنْفَرِدَ سَالِفَتِي أَوْ لَيُنْفِذَنَّ اللَّهُ أَمْرَهُ قَالَ يَحْيَى عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ حَتَّى تَنْفَرِدَ قَالَ فَإِنْ شَاءُوا مَادَدْنَاهُمْ مُدَّةً قَالَ بُدَيْلٌ سَأُبَلِّغُهُمْ مَا تَقُولُ فَانْطَلَقَ حَتَّى أَتَى قُرَيْشًا فَقَالَ إِنَّا قَدْ جِئْنَاكُمْ مِنْ عِنْدِ هَذَا الرَّجُلِ وَسَمِعْنَاهُ يَقُولُ قَوْلًا فَإِنْ شِئْتُمْ نَعْرِضُهُ عَلَيْكُمْ فَقَالَ سُفَهَاؤُهُمْ لَا حَاجَةَ لَنَا فِي أَنْ تُحَدِّثَنَا عَنْهُ بِشَيْءٍ وَقَالَ ذُو الرَّأْيِ مِنْهُمْ هَاتِ مَا سَمِعْتَهُ يَقُولُ قَالَ قَدْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ كَذَا وَكَذَا فَحَدَّثَهُمْ بِمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ الثَّقَفِيُّ فَقَالَ أَيْ قَوْمُ أَلَسْتُمْ بِالْوَالِدِ قَالُوا بَلَى قَالَ أَوَلَسْتُ بِالْوَلَدِ قَالُوا بَلَى قَالَ فَهَلْ تَتَّهِمُونِي قَالُوا لَا قَالَ أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي اسْتَنْفَرْتُ أَهْلَ عُكَاظٍ فَلَمَّا بَلَّحُوا عَلَيَّ جِئْتُكُمْ بِأَهْلِي وَمَنْ أَطَاعَنِي قَالُوا بَلَى فَقَالَ إِنَّ هَذَا قَدْ عَرَضَ عَلَيْكُمْ خُطَّةَ رُشْدٍ فَاقْبَلُوهَا وَدَعُونِي آتِهِ فَقَالُوا ائْتِهِ فَأَتَاهُ قَالَ فَجَعَلَ يُكَلِّمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ نَحْوًا مِنْ قَوْلِهِ لِبُدَيْلٍ فَقَالَ عُرْوَةُ عِنْدَ ذَلِكَ أَيْ مُحَمَّدُ أَرَأَيْتَ إِنْ اسْتَأْصَلْتَ قَوْمَكَ هَلْ سَمِعْتَ بِأَحَدٍ مِنْ الْعَرَبِ اجْتَاحَ أَهْلَهُ قَبْلَكَ وَإِنْ تَكُنْ الْأُخْرَى فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَى وُجُوهًا وَأَرَى أَوْبَاشًا مِنْ النَّاسِ خُلُقًا أَنْ يَفِرُّوا وَيَدَعُوكَ فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ امْصُصْ بَظْرَ اللَّاتِ نَحْنُ نَفِرُّ عَنْهُ وَنَدَعُهُ فَقَالَ مَنْ ذَا قَالُوا أَبُو بَكْرٍ قَالَ أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْلَا يَدٌ كَانَتْ لَكَ عِنْدِي لَمْ أَجْزِكَ بِهَا لَأَجَبْتُكَ وَجَعَلَ يُكَلِّمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكُلَّمَا كَلَّمَهُ أَخَذَ بِلِحْيَتِهِ وَالْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ قَائِمٌ عَلَى رَأْسِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ السَّيْفُ وَعَلَيْهِ الْمِغْفَرُ وَكُلَّمَا أَهْوَى عُرْوَةُ بِيَدِهِ إِلَى لِحْيَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَرَبَ يَدَهُ بِنَصْلِ السَّيْفِ وَقَالَ أَخِّرْ يَدَكَ عَنْ لِحْيَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَفَعَ عُرْوَةُ يَدَهُ فَقَالَ مَنْ هَذَا قَالُوا الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ قَالَ أَيْ غُدَرُ أَوَلَسْتُ أَسْعَى فِي غَدْرَتِكَ وَكَانَ الْمُغِيرَةُ صَحِبَ قَوْمًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَقَتَلَهُمْ وَأَخَذَ أَمْوَالَهُمْ ثُمَّ جَاءَ فَأَسْلَمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَّا الْإِسْلَامُ فَأَقْبَلُ وَأَمَّا الْمَالُ فَلَسْتُ مِنْهُ فِي شَيْءٍ ثُمَّ إِنَّ عُرْوَةَ جَعَلَ يَرْمُقُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَيْنِهِ قَالَ فَوَاللَّهِ مَا تَنَخَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُخَامَةً إِلَّا وَقَعَتْ فِي كَفِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ فَدَلَكَ بِهَا وَجْهَهُ وَجِلْدَهُ وَإِذَا أَمَرَهُمْ ابْتَدَرُوا أَمْرَهُ وَإِذَا تَوَضَّأَ كَادُوا يَقْتَتِلُونَ عَلَى وَضُوئِهِ وَإِذَا تَكَلَّمُوا خَفَضُوا أَصْوَاتَهُمْ عِنْدَهُ وَمَا يُحِدُّونَ إِلَيْهِ النَّظَرَ تَعْظِيمًا لَهُ فَرَجَعَ إِلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ أَيْ قَوْمِ وَاللَّهِ لَقَدْ وَفَدْتُ عَلَى الْمُلُوكِ وَوَفَدْتُ عَلَى قَيْصَرَ وَكِسْرَى وَالنَّجَاشِيِّ وَاللَّهِ إِنْ رَأَيْتُ مَلِكًا قَطُّ يُعَظِّمُهُ أَصْحَابُهُ مَا يُعَظِّمُ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهِ إِنْ يَتَنَخَّمُ نُخَامَةً إِلَّا وَقَعَتْ فِي كَفَّ رَجُلٍ مِنْهُمْ فَدَلَكَ بِهَا وَجْهَهُ وَجِلْدَهُ وَإِذَا أَمَرَهُمْ ابْتَدَرُوا أَمْرَهُ وَإِذَا تَوَضَّأَ كَادُوا يَقْتَتِلُونَ عَلَى وَضُوئِهِ وَإِذَا تَكَلَّمُوا خَفَضُوا أَصْوَاتَهُمْ عِنْدَهُ وَمَا يُحِدُّونَ إِلَيْهِ النَّظَرَ تَعْظِيمًا لَهُ وَإِنَّهُ قَدْ عَرَضَ عَلَيْكُمْ خُطَّةَ رُشْدٍ فَاقْبَلُوهَا فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي كِنَانَةَ دَعُونِي آتِهِ فَقَالُوا ائْتِهِ فَلَمَّا أَشْرَفَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا فُلَانٌ وَهُوَ مِنْ قَوْمٍ يُعَظِّمُونَ الْبُدْنَ فَابْعَثُوهَا لَهُ فَبُعِثَتْ لَهُ وَاسْتَقْبَلَهُ الْقَوْمُ يُلَبُّونَ فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ مَا يَنْبَغِي لِهَؤُلَاءِ أَنْ يُصَدُّوا عَنْ الْبَيْتِ قَالَ فَلَمَّا رَجَعَ إِلَى أَصْحَابِهِ قَالَ رَأَيْتُ الْبُدْنَ قَدْ قُلِّدَتْ وَأُشْعِرَتْ فَلَمْ أَرَ أَنْ يُصَدُّوا عَنْ الْبَيْتِ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْهُمْ يُقَالُ لَهُ مِكْرَزُ بْنُ حَفْصٍ فَقَالَ دَعُونِي آتِهِ فَقَالُوا ائْتِهِ فَلَمَّا أَشْرَفَ عَلَيْهِمْ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا مِكْرَزٌ وَهُوَ رَجُلٌ فَاجِرٌ فَجَعَلَ يُكَلِّمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَيْنَا هُوَ يُكَلِّمُهُ إِذْ جَاءَهُ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ مَعْمَرٌ وَأَخْبَرَنِي أَيُّوبُ عَنْ عِكْرِمَةَ أَنَّهُ لَمَّا جَاءَ سُهَيْلٌ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَهُلَ مِنْ أَمْرِكُمْ قَالَ الزُّهْرِيُّ فِي حَدِيثِهِ فَجَاءَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو فَقَالَ هَاتِ اكْتُبْ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ كِتَابًا فَدَعَا الْكَاتِبَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اكْتُبْ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ فَقَالَ سُهَيْلٌ أَمَّا الرَّحْمَنُ فَوَاللَّهِ مَا أَدْرِي مَا هُوَ وَقَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ مَا هُوَ وَلَكِنْ اكْتُبْ بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ كَمَا كُنْتَ تَكْتُبُ فَقَالَ الْمُسْلِمُونَ وَاللَّهِ مَا نَكْتُبُهَا إِلَّا بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اكْتُبْ بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ ثُمَّ قَالَ هَذَا مَا قَاضَى عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ سُهَيْلٌ وَاللَّهِ لَوْ كُنَّا نَعْلَمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ مَا صَدَدْنَاكَ عَنْ الْبَيْتِ وَلَا قَاتَلْنَاكَ وَلَكِنْ اكْتُبْ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهِ إِنِّي لَرَسُولُ اللَّهِ وَإِنْ كَذَّبْتُمُونِي اكْتُبْ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ الزُّهْرِيُّ وَذَلِكَ لِقَوْلِهِ لَا يَسْأَلُونِي خُطَّةً يُعَظِّمُونَ فِيهَا حُرُمَاتِ اللَّهِ إِلَّا أَعْطَيْتُهُمْ إِيَّاهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَنْ تُخَلُّوا بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْبَيْتِ فَنَطُوفَ بِهِ فَقَالَ سُهَيْلٌ وَاللَّهِ لَا تَتَحَدَّثُ الْعَرَبُ أَنَّا أُخِذْنَا ضُغْطَةً وَلَكِنْ لَكَ مِنْ الْعَامِ الْمُقْبِلِ فَكَتَبَ فَقَالَ سُهَيْلٌ عَلَى أَنَّهُ لَا يَأْتِيكَ مِنَّا رَجُلٌ وَإِنْ كَانَ عَلَى دِينِكَ إِلَّا رَدَدْتَهُ إِلَيْنَا فَقَالَ الْمُسْلِمُونَ سُبْحَانَ اللَّهِ كَيْفَ يُرَدُّ إِلَى الْمُشْرِكِينَ وَقَدْ جَاءَ مُسْلِمًا فَبَيْنَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ جَاءَ أَبُو جَنْدَلِ بْنُ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو يَرْسُفُ وَقَالَ يَحْيَى عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ يَرْصُفُ فِي قُيُودِهِ وَقَدْ خَرَجَ مِنْ أَسْفَلِ مَكَّةَ حَتَّى رَمَى بِنَفْسِهِ بَيْنَ أَظْهُرِ الْمُسْلِمِينَ فَقَالَ سُهَيْلٌ هَذَا يَا مُحَمَّدُ أَوَّلُ مَا أُقَاضِيكَ عَلَيْهِ أَنْ تَرُدَّهُ إِلَيَّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّا لَمْ نَقْضِ الْكِتَابَ بَعْدُ قَالَ فَوَاللَّهِ إِذًا لَا نُصَالِحُكَ عَلَى شَيْءٍ أَبَدًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَجِزْهُ لِي قَالَ مَا أَنَا بِمُجِيزُهُ لَكَ قَالَ بَلَى فَافْعَلْ قَالَ مَا أَنَا بِفَاعِلٍ قَالَ مِكْرَزٌ بَلَى قَدْ أَجَزْنَاهُ لَكَ فَقَالَ أَبُو جَنْدَلٍ أَيْ مَعَاشِرَ الْمُسْلِمِينَ أُرَدُّ إِلَى الْمُشْرِكِينَ وَقَدْ جِئْتُ مُسْلِمًا أَلَا تَرَوْنَ مَا قَدْ لَقِيتُ وَكَانَ قَدْ عُذِّبَ عَذَابًا شَدِيدًا فِي اللَّهِ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ أَلَسْتَ نَبِيَّ اللَّهِ قَالَ بَلَى قُلْتُ أَلَسْنَا عَلَى الْحَقِّ وَعَدُوُّنَا عَلَى الْبَاطِلِ قَالَ بَلَى قُلْتُ فَلِمَ نُعْطِي الدَّنِيَّةَ فِي دِينِنَا إِذًا قَالَ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ وَلَسْتُ أَعْصِيهِ وَهُوَ نَاصِرِي قُلْتُ أَوَلَسْتَ كُنْتَ تُحَدِّثُنَا أَنَّا سَنَأْتِي الْبَيْتَ فَنَطُوفُ بِهِ قَالَ بَلَى قَالَ أَفَأَخْبَرْتُكَ أَنَّكَ تَأْتِيهِ الْعَامَ قُلْتُ لَا قَالَ فَإِنَّكَ آتِيهِ وَمُتَطَوِّفٌ بِهِ قَالَ فَأَتَيْتُ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فَقُلْتُ يَا أَبَا بَكْرٍ أَلَيْسَ هَذَا نَبِيُّ اللَّهِ حَقًّا قَالَ بَلَى قُلْتُ أَلَسْنَا عَلَى الْحَقِّ وَعَدُوُّنَا عَلَى الْبَاطِلِ قَالَ بَلَى قُلْتُ فَلِمَ نُعْطِي الدَّنِيَّةَ فِي دِينِنَا إِذًا قَالَ أَيُّهَا الرَّجُلُ إِنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ يَعْصِي رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ نَاصِرُهُ فَاسْتَمْسِكْ وَقَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ بِغَرْزِهِ وَقَالَ تَطَوَّفْ بِغَرْزِهِ حَتَّى تَمُوتَ فَوَاللَّهِ إِنَّهُ لَعَلَى الْحَقِّ قُلْتُ أَوَلَيْسَ كَانَ يُحَدِّثُنَا أَنَّا سَنَأْتِي الْبَيْتَ وَنَطُوفُ بِهِ قَالَ بَلَى قَالَ أَفَأَخْبَرَكَ أَنَّهُ يَأْتِيهِ الْعَامَ قُلْتُ لَا قَالَ فَإِنَّكَ آتِيهِ وَمُتَطَوِّفٌ بِهِ قَالَ الزُّهْرِيُّ قَالَ عُمَرُ فَعَمِلْتُ لِذَلِكَ أَعْمَالًا قَالَ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ قَضِيَّةِ الْكِتَابِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ قُومُوا فَانْحَرُوا ثُمَّ احْلِقُوا قَالَ فَوَاللَّهِ مَا قَامَ مِنْهُمْ رَجُلٌ حَتَّى قَالَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَلَمَّا لَمْ يَقُمْ مِنْهُمْ أَحَدٌ قَامَ فَدَخَلَ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَذَكَرَ لَهَا مَا لَقِيَ مِنْ النَّاسِ فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُحِبُّ ذَلِكَ اخْرُجْ ثُمَّ لَا تُكَلِّمْ أَحَدًا مِنْهُمْ كَلِمَةً حَتَّى تَنْحَرَ بُدْنَكَ وَتَدْعُوَ حَالِقَكَ فَيَحْلِقَكَ فَقَامَ فَخَرَجَ فَلَمْ يُكَلِّمْ أَحَدًا مِنْهُمْ حَتَّى فَعَلَ ذَلِكَ نَحَرَ هَدْيَهُ وَدَعَا حَالِقَهُ فَلَمَّا رَأَوْا ذَلِكَ قَامُوا فَنَحَرُوا وَجَعَلَ بَعْضُهُمْ يَحْلِقُ بَعْضًا حَتَّى كَادَ بَعْضُهُمْ يَقْتُلُ بَعْضًا غَمًّا ثُمَّ جَاءَهُ نِسْوَةٌ مُؤْمِنَاتٌ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا جَاءَكُمْ الْمُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَاتٍ حَتَّى بَلَغَ بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ قَالَ فَطَلَّقَ عُمَرُ يَوْمَئِذٍ امْرَأَتَيْنِ كَانَتَا لَهُ فِي الشِّرْكِ فَتَزَوَّجَ إِحْدَاهُمَا مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ وَالْأُخْرَى صَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى الْمَدِينَةِ فَجَاءَهُ أَبُو بَصِيرٍ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ وَهُوَ مُسْلِمٌ وَقَالَ يَحْيَى عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ فَقَدِمَ عَلَيْهِ أَبُو بَصِيرِ بْنُ أُسَيْدٍ الثَّقَفِيُّ مُسْلِمًا مُهَاجِرًا فَاسْتَأْجَرَ الْأَخْنَسَ بْنَ شَرِيقٍ رَجُلًا كَافِرًا مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ وَمَوْلًى مَعَهُ وَكَتَبَ مَعَهُمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُهُ الْوَفَاءَ فَأَرْسَلُوا فِي طَلَبِهِ رَجُلَيْنِ فَقَالُوا الْعَهْدَ الَّذِي جَعَلْتَ لَنَا فِيهِ فَدَفَعَهُ إِلَى الرَّجُلَيْنِ فَخَرَجَا بِهِ حَتَّى بَلَغَا بِهِ ذَا الْحُلَيْفَةِ فَنَزَلُوا يَأْكُلُونَ مِنْ تَمْرٍ لَهُمْ فَقَالَ أَبُو بَصِيرٍ لِأَحَدِ الرَّجُلَيْنِ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَى سَيْفَكَ يَا فُلَانُ هَذَا جَيِّدًا فَاسْتَلَّهُ الْآخَرُ فَقَالَ أَجَلْ وَاللَّهِ إِنَّهُ لَجَيِّدٌ لَقَدْ جَرَّبْتُ بِهِ ثُمَّ جَرَّبْتُ فَقَالَ أَبُو بَصِيرٍ أَرِنِي أَنْظُرْ إِلَيْهِ فَأَمْكَنَهُ مِنْهُ فَضَرَبَهُ حَتَّى بَرَدَ وَفَرَّ الْآخَرُ حَتَّى أَتَى الْمَدِينَةَ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ يَعْدُو فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ رَأَى هَذَا ذُعْرًا فَلَمَّا انْتَهَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُتِلَ وَاللَّهِ صَاحِبِي وَإِنِّي لَمَقْتُولٌ فَجَاءَ أَبُو بَصِيرٍ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَدْ وَاللَّهِ أَوْفَى اللَّهُ ذِمَّتَكَ قَدْ رَدَدْتَنِي إِلَيْهِمْ ثُمَّ أَنْجَانِي اللَّهُ مِنْهُمْ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيْلُ أُمِّهِ مِسْعَرَ حَرْبٍ لَوْ كَانَ لَهُ أَحَدٌ فَلَمَّا سَمِعَ ذَلِكَ عَرَفَ أَنَّهُ سَيَرُدُّهُ إِلَيْهِمْ فَخَرَجَ حَتَّى أَتَى سِيفَ الْبَحْرِ قَالَ وَيَتَفَلَّتُ أَبُو جَنْدَلِ بْنُ سُهَيْلٍ فَلَحِقَ بِأَبِي بَصِيرٍ فَجَعَلَ لَا يَخْرُجُ مِنْ قُرَيْشٍ رَجُلٌ قَدْ أَسْلَمَ إِلَّا لَحِقَ بِأَبِي بَصِيرٍ حَتَّى اجْتَمَعَتْ مِنْهُمْ عِصَابَةٌ قَالَ فَوَاللَّهِ مَا يَسْمَعُونَ بِعِيرٍ خَرَجَتْ لِقُرَيْشٍ إِلَى الشَّامِ إِلَّا اعْتَرَضُوا لَهَا فَقَتَلُوهُمْ وَأَخَذُوا أَمْوَالَهُمْ فَأَرْسَلَتْ قُرَيْشٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُنَاشِدُهُ اللَّهَ وَالرَّحِمَ لَمَّا أَرْسَلَ إِلَيْهِمْ فَمَنْ أَتَاهُ فَهُوَ آمِنٌ فَأَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ حَتَّى بَلَغَ حَمِيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ وَكَانَتْ حَمِيَّتُهُمْ أَنَّهُمْ لَمْ يُقِرُّوا أَنَّهُ نَبِيُّ اللَّهِ وَلَمْ يُقِرُّوا بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ وَحَالُوا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَيْتِ

حضرت مسور بن مخرمہ اور مروان سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ کے سال (عمرہ کرنے کے ارادہ سے) مدینہ سے چلے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم رکاب ایک ہزار چند سو آدمی تھے ذوالحلفیہ میں پہنچ کر قربانی کے گلے میں ہار ڈال کر اس کاشعار کیا اور عمرہ کا احرام باندھا اور ایک خزاعی آدمی کو جاسوسی کے روانہ کیا تاکہ کی خبروں سے مطلع کرے ، ادھر جاسوس کو روانہ کیا ادھر خود چل پڑے وادی کے قریب پہنچے تھے کہ جاسوس واپس آیا اور عرض کیا کہ قریش نے آپ کے مقابلہ کے لئے بہت فوجیں جمع کی ہیں اور مختلف قبائل کو اکٹھا کیا ہے وہ آپ سے لڑنے کے لئے تیار ہیں اور خانہ کعبہ میں داخل ہونے سے آپ کو روک دیں گے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمراہیان کو مخاطب کرکے فرمایا لوگو! کیا مشورہ ہے کیا میں ان کے اہل وعیال کی طرف مائل ہوجاؤں اور جو لوگ خانہ کعبہ سے مجھے روکنا چاہتے ہیں میں ان کے اہل وعیال کو گرفتار کرلوں اگر وہ لوگ اپنے بال بچوں کی مدد کو آئیں گے تو ان کا گروہ ٹوٹ جائے گ اور نہ ہم ان کو مفلس کرکے چھوڑ دیں گے بہرحال ان کا نقصان ہے صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ خانہ کعبہ کی نیت سے چلے ہیں لڑائی کے ارادے سے نہیں نکلے آپ کو خانہ کعبہ کا رخ کرنا چاہئے پھر جو ہم کو روکے گا ہم اس سے لڑیں گے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا (توخدا کا نام لے کرچل دو) چنانچہ سب چلے دئیے۔ اثنا راہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خالد بن ولید قریش کے (دو سو) سواروں کو لئے (مقام ) غمیم میں ہمارا راستہ روکے پڑا ہے لہٰذا تم بھی داہنی طرف کو ہی (خالد کی جانب ) چلو سب لوگوں نے دہنی طرف کا رخ کرلیا اور اس وقت تک خالد کو خبر نہ ہوئی جب تک لشکر کاغبار اڑتا ہوا انہوں نے دیکھ لیا،غبار اڑتا دیکھ کرخالد نے جلدی سے جاکر قریش کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے ڈرایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حسب معمول چلتے رہے یہاں تک کہ جب اس پہاڑی پر پہنچے جس کی طرف سے لوگ مکہ میں اترتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی بیٹھ گئی لوگوں نے بہت کوشش کی لیکن اونٹنی نہ اٹھی وہیں جم گئی لوگ کہنے لگے کہ قصواء (حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کا نام تھا) اڑ گئی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قصواء خود نہیں اڑی ہے اس کی یہ عادت ہی نہیں ہے بلکہ اس کو اس نے روک دیاہے جس نے اصحاب فیل کو روکا تھا ۔ پھر فرمایا قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے مکہ والے عظمت حرم برقرار رکھنے کے لئے مجھ سے جو کچھ خواہش کریں گے میں دے دوں گا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹنی کو جھڑکا اونٹنی فوراً اٹھ کھڑی ہوئی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ والوں کی راہ سے بچ کر دوسری طرف کا رخ کرکے چلے اور حدیبیہ سے دوسری طرف اس جگہ اترے جہاں تھوڑا تھوڑا پانی تھا۔ لوگوں نے وہی تھوڑا پانی لے لیاجب سب پانی کھینچ چکے اور پانی بالکل نہ رہا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پانی نہ ہونے کی شکایت آئی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ترکش میں سے ایک تیر نکال کر صحابہ رضی اللہ عنہم کو دیا اور حکم دیا کہ اس کو پانی میں رکھ دو۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے حکم کی تعمیل کی ۔ جونہی تیر کو پانی میں رکھا فوراً پانی میں ایسا جوش آیا کہ سب لوگ سیراب ہو کر واپس ہوئے اور پانی پھر بھی بچ رہا۔یہ کہہ کربدیل چلا گیا اور قریش کے پاس پہنچ کر ان سے کہا ہم فلاں آدمی کے پاس سے تمہارے پاس آئے ہیں اس نے ہم سے ایک بات کہی ہے اگر تم چاہو تو ہم تمہارے سامنے اس کا اظہار کردیں قریش کے بیوقوف آدمی تو کہنے لگے ہم کو کوئی ضرورت نہیں کہ تم اس کی باتیں ہمارے سامنے بیان کرو لیکن سمجھ دار لوگوں نے کہا تم ان کا قول بیان کرو۔ بدیل نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا تمام فرمان نقل کردیا یہ سن کر عروہ بن مسعود کھڑا ہوا اور کہنے لگا اے قوم کیا میں تمہارا باپ نہیں ہوں ۔ سب نے کہا بے شک ہو کہنے لگا کیا تم میری اولاد نہیں ہو سب نے کہا ہیں عروہ بولا کیا تم مجھے مشکوک آدمی سمجھتے ہو؟ سب نے کہا نہیں عروہ بولا کیا تم کو معلوم نہیں اہل عکاظ کو میں نے ہی تمہاری مدد کے لئے بلایا تھا اور جب وہ نہ آئے تو میں اپنے اہل وعیال اور متعلقین و زیردست لوگوں کولے کر تم سے آکر مل گیا سب نے کہا بے شک عروہ بولا اس شخص نے سب سے پہلے ٹھیک بات کہی ہے تم اس کو قبول کرلو اور مجھ کو اس کے پاس جانے کی اجازت دو۔ لوگوں نے کہا جاؤ۔عروہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے گفتگو کرنے لگا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بھی وہی کلام کیا جو بدیل سے کیا تھا ۔ عروہ بولا محمد! دیکھو اگر تم (غالب ہوجاؤگے اور) اپنی قوم کی بیخ کنی کردوگے تو کیا اس سے پہلے تم نے کسی کے متعلق سنا ہے کہ اس نے اپنی ہی قوم کی جڑکاٹی ہو اور اگر دوسری بات ہو (قریش غالب آئے) تو اللہ کی قسم مجھے بہت سے چہرے ایسے نظر آرہے ہیں کہ تم کو چھوڑ کر بھاگ جائیں گے کیونکہ مختلف قوموں کی اس میں بھرتی ہے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے غصہ میں آکر فرمایا کیا ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر بھاگ جائیں گے ؟ عروہ بولا یہ کون شخص ہے ؟ لوگوں نے کہا ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں۔ عروہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بولا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر تمہاراگذشتہ احسان مجھ پر نہ ہوتا جس کا میں بدلہ نہ دے سکا ہوں توضرور میں اس کا جواب دیتا یہ کہہ کر پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کرنے لگا اور بات کرتے ہوئے بار بار حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ڈاڑھی پکڑ لیتا تھا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تلوار لئے زرہ پہنے (نگرانی کے لئے ) کھڑے تھے عروہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی پکڑنے کے لئے ہاتھ جھکاتا تھا مغیرہ تلوار کے قبضہ کی نوک عروہ کو مار کر کہتے تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی سے ہاتھ ہٹالے عروہ ہاتھ ہٹالیتا تھا آخرکار عروہ نے پوچھا یہ کون شخص ہے ؟ لوگوں نے کہا کہ یہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ ہیں عروہ بولا او دغا باز کیا میں نے تیری دغابازی کے مٹانے میں تیری لئے کوشش نہیں کی تھی ۔ واقعہ یہ تھا کہ مغیرہ بن شعبہ جاہلیت کے زمانہ میں ایک قوم کے پاس جاکر رہے تھے اور دھوکے سے ان کو قتل کرکے مال لے کر چلتے ہوئےتھے اور پھر آکر مسلمان ہوگئے تھے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت لیتے وقت فرمادیا تھا کہ اسلام تو میں قبول کرتا ہوں لیکن مال والے معاملے میں مجھے کوئی تعلق نہیں ، حاصل کلام یہ ہے کہ عروہ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو دیکھنے لگا اللہ کی قسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو لعاب دہن منہ سے پھینکتے تھے تو زمین پر گرنے سے قبل جس شخص کے ہاتھ لگ جاتا تھا وہ اس کو اپنے چہرہ پر مل لیتا تھا اور جو بال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا گرتا تھا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم زمین پر گرنے سے قبل اس کولے لیتے تھے جس کام کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم حکم دیتے تھے ہر ایک دوسرے سے پہلے اس کے کرنے کو تیار ہوجاتا تھا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے پانی پر کشت وخون کے قریب نوبت پہنچ جاتی تھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کلام کرتے وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پست آواز سے باتیں کرتے تھے اور انتہائی عظمت کیوجہ سے تیز نظر سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نہ دیکھتے تھے۔یہ سب باتیں دیکھنے کے بعد عروہ واپس آیا اور ساتھیوں سے کہنے لگا اے قوم اللہ کی قسم میں بادشاہوں کے پاس قاصد بن کر گیا ہوں ۔ قیصر و کسریٰ اور نجاشی کے درباروں میں بھی رہا ہوں لیکن میں نے کبھی کوئی بادشاہ ایسا نہیں دیکھا کہ اس کے آدمی اس کی ایسی تعظیم کرتے ہوں جیسے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی اس کی تعظیم کرتے ہیں اللہ کی قسم جب وہ تھوک پھینکتا ہے تو جس شخص کے ہاتھ وہ لگ جاتا ہے وہ اس کو اپنے چہرہ اور بدن پر مل لیتا ہے اگر وہ کسی کام کا حکم دیتا ہے تو ہر ایک دوسرے سے پہلے اس کی تعمیل کرنے کو تیار ہوجاتا ہے جس وقت وہ وضو کرتا ہے تو اس کے وضو کے پانی پر لوگ کشت وخون کرنے کے لئے تیار ہوجاتے ہیں اس کے سامنے کلام کرتے وقت سب آوازیں پست رکھتے ہیں اور اس کی تعظیم کے لئے کوئی نظر اٹھا کر اس کی طرف نہیں دیکھتا اس نے تمہارے سامنے بہترین بات پیش کی ہے لہٰذا تم اس کو قبول کرلو۔عروہ جب اپنا کلام ختم کرچکا تو قبیلہ بنی کنانہ کا ایک آدمی بولا مجھے ذرا ان کے پاس جانے کی اجازت دو سب لوگوں نے اس کو جانے کی اجازت دی وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہونے کے ارادہ سے چل دیا جب سامنے سے نمودار ہوا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ فلاں شخص فلاں قوم میں سے ہے اس کی قوم قربانی کے اونٹوں کی بہت عزت وحرمت کرتی ہے لہٰذا قربانی کے اونٹ اس کی نظر کے سامنے کردو حسب الحکم قربانی کے اونٹ اس کے سامنے پیش کئے گئے اور لوگ لبیک کہتے ہوئے اس کے سامنے آئے جب اس نے یہ حالت دیکھی تو کہنے لگا کہ ان لوگوں کو کعبہ سے روکنا کسی طرح مناسب نہیں یہ دیکھ کر وہ واپس آیا اور اپنی قوم سے کہنے لگا میں نے ان کے اونٹوں کے گلے میں ہار پڑے دیکھے ہیں اور اشعار کی علامت دیکھی ہے ، میرے نزدیک مناسب نہیں کہ خانہ کعبہ سے ان کو روکا جائے ۔ اس کی تقریر سن کر مکرز نامی ایک شخص اٹھا اور کہنے لگا ذرا مجھے ان کے پاس تو جانے دوسب نے اجازت دے دی اور وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کے ارادہ سے چل دیا صحابہ کے سامنے نمودار ہوا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ مکرز ہے اور شریر ہے مکرز خدمت میں پہنچ گیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ گفتگو کی ، گفتگو کر ہی رہا تھا کہ قریش کی طرف سے سہیل بن عمرو آگیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا اب تمہارا مقصد آسان ہوگیا سہیل نے آکر عرض کیا لائیے ہمارا اپنا ایک صلح نام لکھئے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کاتب کو بلوایا اور فرمایا لکھو بسم اللہ الرحمن الرحیم سہیل بولا اللہ کی قسم میں رحمن کو تو جانتا ہی نہیں کہ کیا چیز ہے ؟ یہ نہ لکھو بلکہ جس طرح پہلے باسمک اللہم لکھا کرتے تھے وہی اب لکھو مسلمان بولے اللہ کی قسم ہم توبسم اللہ الرحمن الرحیم ہی لکھیں گے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا باسمک اللہم ہی لکھ دو اس کے بعد فرمایا لکھو یہ صلح نامہ وہ ہے جس پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح کی ہے سہیل بولا اللہ کی قسم اگر ہم کو یہ یقین ہوتا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو پھر کعبہ سے آپ کو نہ روکتے اور نہ آپ سے لڑتے اس لئے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ لکھو بلکہ محمد بن عبداللہ لکھو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اگرچہ مجھے نہ مانو لیکن اللہ کی قسم میں اللہ کا رسول ہوں (اچھا) محمد بن عبداللہ ہی لکھ دو۔زہری کہتے ہیں یہ نرمی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لئے کی کہ پہلے فرماچکے تھے کہ جس بات میں حرم الہٰی کی عزت وحرمت برقرار رہے گی اور قریش مجھ سے اس کا مطالبہ کریں گے تو میں ضرور دے دوں گا خیر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ صلح نامہ اس شرط پر ہے کہ تم لوگ ہم کو خانہ کعبہ کی طرف جانے دو تاکہ ہم طواف کرلیں سہیل بولا اللہ کی قسم عرب اس کا چرچا کریں گے کہ ہم پر دباؤ ڈال کر مجبور کیا گیا (اس لئے اس سال نہیں ) آئندہ سال یہ ہوسکتا ہے کاتب نے یہ بات بھی لکھ دی پھر سہیل نے کہا کہ صلح نامہ میں یہ شرط بھی ہونی چاہئے کہ جو شخص ہم میں سے نکل کر تم سے مل جائے گا وہ خواہ تمہارے دین پر ہی ہو لیکن تم کو واپس ضرور کرنا ہوگا مسلمان کہنے لگے سبحان اللہ جو شخص مسلمان ہو کر آجائے وہ مشرکوں کو کیسے دیا جاسکتا ہے۔ لوگ اسی گفتگو میں تھے کہ سہیل بن عمرو کا بیٹا ابوجندل بیڑیوں میں جکڑا ہو آیا جو مکہ کے نشیبی علاقہ سے نکل کر بھاگ آیا تھا ، آتے ہی مسلمانوں کے سامنے گرپڑا سہیل بولا محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) یہ سب سے پہلی شرط ہے جس پر میں تم سے صلح کروں گا اس کو تم ہمیں واپس دے دوحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابھی تو ہم صلح نامہ مکمل نہیں لکھ پائے ہیں سہیل بولا اللہ کی قسم پھر میں کبھی کسی شرط پر صلح نہیں کروں گا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کی تو مجھے اجازت دے دو سہیل نے کہا میں اجازت نہ دوں گا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں یہ تو کردو سہیل بولا نہیں کروں گا مکرز بولا ہم اس کی تو تم کو اجازت دیتے ہیں (لیکن مکرز کا قول تسلیم نہیں کیا گیا ) ابوجندل بولے مسلمانو! میں مسلمان ہو کر آگیا پھر مجھے مشرکوں کو واپس دیا جائے گا حالانکہ جو تکلیفیں میں نے ان کی طرف سے برداشت کیں وہ تم دیکھ رہے ہو یہ واقعہ ہے کہ ابوجندل کو کافروں نے سخت عذاب دیا تھا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ یہ سن کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ اللہ کے سچے نبی نہیں ہے ؟ فرمایا ہوں ، کیوں نہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا تو کیا ہم حق پر اور ہمارے دشمن باطل پر نہیں ہیں ؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہیں کیوں نہیں ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا تو ہم اپنے دین میں ذلت پیدا نہ ہونے دیں گے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اللہ کا رسول ہوں اس کی نافرمانی نہیں کروں گا وہی میرا مددگار ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کیا آپ نے ہم سے نہیں کہا تھا کہ عنقریب ہم خانہ کعبہ پہنچ کر طواف کریں گے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں یہ تو میں نے کہا تھا لیکن کیا تم سے یہ بھی کہا تھا کہ اسی سال ہم وہاں پہنچ جائیں گے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا نہیں یہ تو نہیں فرمایا تھاحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو بس تم کعبہ کو پہنچو گے اور طواف کرو گے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے کہا ابوبکر! یہ اللہ کے سچے نبی نہیں ہیں ؟ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہاضرور ہیں ۔ میں نے کہا کیا ہم لوگ حق پر اور ہمارے دشمن باطل پر نہیں ہیں ؟ بوبکر رضی اللہ عنہ نے کہاضرور ہیں کیوں نہیں ، میں نے کہا تو ہم اپنے دین میں ذلت پیدانہ ہونے دیں گے ابوبکر رضی اللہ عنہ بولے کہ اے شخص وہ ضرور اللہ کے رسول ہیں اپنے رب کی نافرمانی نہیں کریں گے وہی ان کا مددگار ہے ان کے حکم کے موافق عمل کر اللہ کی قسم وہ حق پر ہیں عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کیا وہ ہم سے بیان نہیں کیا کرتے تھے کہ عنقریب ہم خانہ کعبہ پہنچ کر طواف کریں گے ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا بے شک انہوں نے کہہ دیا تھا کہ اسی سال تم کعبہ میں پہنچوگے میں نے کہا نہیں ابوبکر بولے تو تم کعبہ کو پہنچ کر ضرور اس کا طواف کروگے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس قصور (تعمیل حکم میں توقف ) کے تدارک کے لئے میں نے کئی نیک عمل کئے راوی کا بیان ہے کہ جب صلح نامہ مکمل ہوگیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا اٹھ کر جانور ذبح کرو اور سرمنڈاؤ لیکن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کوئی شخص نہ اٹھا یہاں تک کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا لیکن پھر بھی کوئی نہ اٹھا جب کوئی نہ اٹھا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس اندر تشریف لے گئے اور لوگوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جو معاملہ کیا تھا اس کا تذکرہ فرمایا ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہتر معلوم ہوتا ہے کہ آپ چپکے سے اٹھ کر بغیر کسی سے سے کچھ کہے ہوئے جا کر خود قربانی کریں اور حجام کو بلاکر سرمنڈا دیں ، جب مشورہ کرکے حضور صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور بغیر کسی سے کچھ کہے ہوئے جاکر قربانی کی اور حجام کو بلاکر سرمنڈایا لوگوں نے جو یہ دیکھا تو خود اٹھ کر قربانیاں کیں اور باہم ایک دوسرے کا سر مونڈنے لگے اور ہجوم کی وجہ سے قریب تھا کہ بعض بعض کو مار ڈالیں ۔ اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کے پاس کچھ عورتیں آئیں اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی یا ایہا الذین آمنوا اذاجاء کم المؤمنات مہاجرات الخ اس آیت کے مطابق اس دن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی دوعورتوں کو طلاق دی جو اس وقت حالت شرک میں تھیں جن میں سے ایک سے تو معاویہ بن ابی سفیان نے اور دوسری سے صفوان بن امیہ نے نکاح کرلیا ان امور سے فراغت پا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کو لوٹ آئے۔ مدینہ پہنچنے کے بعد ایک قریشی ابوبصیر نامی مسلمان ہو کر خدمت والا میں حاضر ہوئے کافروں نے ان کی تلاش میں دو آدمی بھیجے دونوں نے آکر عرض کیا اپنا معاہدہ پورا کیجئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبصیر کو دونوں کے حوالہ کردیا اور وہ ان کو ہمراہ لے کر نکلے ذوالحلیفہ میں پہنچے تو اتر کر کھجوریں کھانے لگے ابوبصیر نے ان دونوں میں سے ایک شخص سے کہا اللہ کی قسم میرے خیال میں یہ تلوار تو بہت ہی اچھی ہے دوسرے نے اس کو نیام سے کھینچ کر کہا ہاں بہت عمدہ ہے میں نے بارہا اس کا تجربہ کیا ہے ابوبصیر بولے ذرا مجھے دکھانا اس نے ابوبصیر کے ہاتھ میں دے دی ، ابوبصیر نے اس کو تلوار سے قتل کردیا، دوسرا بھاگ کر مدینہ پہنچا اور بھاگ کر مسجد میں داخل ہوگیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تو فرمایا یہ ضرور کہیں ڈر گیا ہے وہ خدمت میں پہنچا اور عرض کیا میرا ساتھی مارا گیا اور میں بھی مارے جانے کے قریب ہوں اتنے میں ابوبصیر بھی آگئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی قسم آپ نے اپناعہد پورا کردیا، آپ نے مجھے ان کے سپرد کر دیا تھا لیکن اللہ نے مجھے ان سے نجات دی ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کم بخت لڑائی کی آگ بھڑکائے گا کاش اس کا کوئی مددگار ہوتا (اور ابوبصیر کو پکڑ کر مکہ لے جاتا) ابوبصیر نے جب دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کافروں کے حوالہ کردیں گے تو وہ وہاں سے نکل کر ساحل کی طرف چل دئیے ادھر ابوجندل بھی مکہ سے بھاگ کر ابوبصیر سے جاکر مل گئے پھر یہ حال ہوا کہ جو شخص قریش کے پاس سے مسلمان ہو کر بھاگتا وہ ابوبصیر سے مل جاتا یہاں تک کہ ان کا تقریباً ستر آدمیوں کا ایک جتھا ہوگیا ، اب تو یہ صورت ہوگئی کہ قریش کا جو قافلہ شام کو جاتا اور ان کی خبر ہوجاتی تو راستے میں روک کر قافلہ والوں کو قتل کردیتے اور مال لوٹ لیتے مجبوراً قریش نے کسی کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا اور اللہ اور رشتہ داری کا واسطہ دے کر کہا کہ کسی طرح ابوبصیر اور اس کے ہمراہیوں کو مدینہ میں بلالیں اگر ابوبصیر وغیرہ مدینہ آجائیں گے تو پھر ہم میں سے جو بھی آپ کے پاس مسلمان ہو کر جائے گا وہ امن میں ہے (ہم اس کو واپس نہ لیں گے ) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبصیر وغیرہ سب لوگوں کو مدینہ بلالیا اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی وھوالذی کف ایدیہم عنکم وایدیکم عنہم الی قولہ حمیۃ الجاہلیۃ حمیت جاہلیت کے یہ معنی ہیں کہ قریش نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا اقرار نہیں کیا اور بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھنا گوارا نہ کیا اور مسلمانوں کو خانہ کعبہ سے روک دیا۔

مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19136

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19210

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ أَنَّ عَبَّادَ بْنَ تَمِيمٍ أَخْبَرَهُ عَنْ عُوَيْمِرِ بْنِ أَشْقَرَ أَنَّهُ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يَغْدُوَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَّهُ ذَكَرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَمَا فَرَغَ فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَعُودَ لِأُضْحِيَّتِهِ

حضرت عویمر بن اشقر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے قربانی کا جانور ذبح کرلیاجب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عید کی نماز سے فارغ ہوئے تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دوبارہ قربانی کرنے کا حکم دیا۔

ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ بَعْدَمَا فَرَغَ فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ أَنْ يَعُودَ لِأُضْحِيَّتِهِ ← عُوَيْمِرِ بْنِ أَشْقَرَ أَنَّهُ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يَغْدُوَ رَسُولُ اللَّهِ وَأَنَّهُ ← يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ أَنَّ عَبَّادَ بْنَ تَمِيمٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19210

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19479

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ حَيَّانَ التَّيْمِيُّ قَالَ انْطَلَقْتُ أَنَا وَحُصَيْنُ بْنُ سَبْرَةَ وَعُمَرُ بْنُ مُسْلِمٍ إِلَى زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ فَلَمَّا جَلَسْنَا إِلَيْهِ قَالَ لَهُ حُصَيْنٌ لَقَدْ لَقِيتَ يَا زَيْدُ خَيْرًا كَثِيرًا رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَمِعْتَ حَدِيثَهُ وَغَزَوْتَ مَعَهُ وَصَلَّيْتَ مَعَهُ لَقَدْ رَأَيْتَ يَا زَيْدُ خَيْرًا كَثِيرًا حَدِّثْنَا يَا زَيْدُ مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا ابْنَ أَخِي وَاللَّهِ لَقَدْ كَبُرَتْ سِنِّي وَقَدُمَ عَهْدِي وَنَسِيتُ بَعْضَ الَّذِي كُنْتُ أَعِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا حَدَّثْتُكُمْ فَاقْبَلُوهُ وَمَا لَا فَلَا تُكَلِّفُونِيهِ ثُمَّ قَالَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا خَطِيبًا فِينَا بِمَاءٍ يُدْعَى خُمًّا بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ فَحَمِدَ اللَّهَ تَعَالَى وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَوَعَظَ وَذَكَّرَ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ أَلَا يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ يُوشِكُ أَنْ يَأْتِيَنِي رَسُولُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فَأُجِيبُ وَإِنِّي تَارِكٌ فِيكُمْ ثَقَلَيْنِ أَوَّلُهُمَا كِتَابُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ الْهُدَى وَالنُّورُ فَخُذُوا بِكِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى وَاسْتَمْسِكُوا بِهِ فَحَثَّ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ وَرَغَّبَ فِيهِ قَالَ وَأَهْلُ بَيْتِي أُذَكِّرُكُمْ اللَّهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي أُذَكِّرُكُمْ اللَّهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي أُذَكِّرُكُمْ اللَّهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي فَقَالَ لَهُ حُصَيْنٌ وَمَنْ أَهْلُ بَيْتِهِ يَا زَيْدُ أَلَيْسَ نِسَاؤُهُ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ قَالَ إِنَّ نِسَاءَهُ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ وَلَكِنَّ أَهْلَ بَيْتِهِ مَنْ حُرِمَ الصَّدَقَةَ بَعْدَهُ قَالَ وَمَنْ هُمْ قَالَ هُمْ آلُ عَلِيٍّ وَآلُ عَقِيلٍ وَآلُ جَعْفَرٍ وَآلُ عَبَّاسٍ قَالَ أَكُلُّ هَؤُلَاءِ حُرِمَ الصَّدَقَةَ قَالَ نَعَمْ

یزید بن حیان تمیمی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حصین بن سبرہ اور عمربن مسلم کے ساتھ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا جب ہم لوگ بیٹھ چکے تو حصین نے عرض کیا کہ اے زید! آپ کو تو خیر کثیر ملی ہے آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھاہے ان کی احادیث سنی ہیں ان کے ساتھ جہاد میں شرکت کی ہے اور ان کی معیت میں نماز پڑھی ہے لہٰذا آپ کو تو خیر کثیر نصیب ہوگئی آپ ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیے جو آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خود سنی ہو؟انہوں نے فرمایا بھتیجے ! میں بوڑھاہوچکا، میرا زمانہ پراناہوچکا اور میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے جو باتیں محفوظ رکھتا تھا ، ان میں سے کچھ بھول بھی چکا، لہٰذا میں اپنے طور پر اگر کوئی حدیث بیان کردیا کروں تو اسے قبول کرلیا کرو ورنہ مجھے اس پر مجبور نہ کیا کرو پھر فرمایا کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان ایک چشمے کے قریب جسے " خم " کہا جاتا ہے خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے اور اللہ کی حمدوثناء بیان کرکے کچھ وعظ ونصیحت کی ، پھر، امابعد " کہہ کر فرمایا لوگو! میں بھی ایک انسان ہی ہوں ہوسکتا ہے کہ جلدہی میرے رب کا قاصد مجھے بلانے کے لئے آپہنچے اور میں اس کی پکار پر لبیک کہہ دوں ، یاد رکھو! میں تمہارے درمیان دومضبوط چھوڑ کر جارہاہوں پہلی چیز توکتاب اللہ ہے جس میں ہدایت بھی ہے اور نور بھی ، لہٰذاکتاب اللہ کو مضبوطی سے تھامو، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتاب اللہ پر عمل کرنے کی ترغیب دی اور توجہ دلائی اور فرمایا دوسری چیز میرے اہل بیت ہیں اور تین مرتبہ فرمایا میں اپنے اہل بیت کے حقوق کے متعلق تمہیں اللہ کے نام سے نصیحت کرتا ہوں ۔ حصین نے پوچھا کہاے زید! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت سے کون مراد ہیں ؟ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات اہل بیت میں داخل نہیں ہیں ؟ انہوں نے فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت میں سے ہیں لیکن یہاں مرادوہ لوگ ہیں جن پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعدصدقہ حرام ہو، حصین نے پوچھا وہ کون لوگ ہیں ؟ انہوں نے فرمایا آل عقیل ، آل علی ، آل جعفر اور آل عباس ، حصین نے پوچھا کہ ان سب پر صدقہ حرام ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں !

يَزِيدُ بْنُ حَيَّانَ التَّيْمِيُّ، ← أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19479

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19571

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ شَبِيبٍ أَنَّهُ سَمِعَ الْحَيَّ يُخْبِرُونَ عَنْ عُرْوَةَ الْبَارِقِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مَعَهُ بِدِينَارٍ يَشْتَرِي لَهُ أُضْحِيَّةً وَقَالَ مَرَّةً أَوْ شَاةً فَاشْتَرَى لَهُ اثْنَتَيْنِ فَبَاعَ وَاحِدَةً بِدِينَارٍ وَأَتَاهُ بِالْأُخْرَى فَدَعَا لَهُ بِالْبَرَكَةِ فِي بَيْعِهِ فَكَانَ لَوْ اشْتَرَى التُّرَابَ لَرَبِحَ فِيهِ

حضرت عروہ بارقی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک دیناردے کر قربانی کا ایک جانورخریدنے کے لئے بھیجا انہوں نے ایک دینار کے دوجانورخریدے ، پھر ان میں سے ایک جانور کو ایک دینار کے بدلے بیچا اور وہ ایک دیناربچا کر ایک جانور بھی لے آئے نبی کریم نے انہیں بیع میں برکت کی دعاء دی اس کے بعد اگر وہ مٹی بھی خریدتے تو اس میں بھی انہیں منافع ہوتا۔

عُرْوَةُ الْبَارِقِيُّ ← الْحَيَّ يُخْبِرُونَ ← شَبِيبٍ أَنَّهُ ← سُفْيَانَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19571

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19586

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْتُ إِنَّ أَرْضَنَا أَرْضُ صَيْدٍ فَيَرْمِي أَحَدُنَا الصَّيْدَ فَيَغِيبُ عَنْهُ لَيْلَةً أَوْ لَيْلَتَيْنِ فَيَجِدُهُ وَفِيهِ سَهْمُهُ قَالَ إِذَا وَجَدْتَ سَهْمَكَ وَلَمْ تَجِدْ فِيهِ أَثَرَ غَيْرِهِ وَعَلِمْتَ أَنَّ سَهْمَكَ قَتَلَهُ فَكُلْهُ

حضرت عدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض یا کہ ہمارا علاقہ شکاری علاقہ ہے ہم میں سے کوئی شخص شکار پر تیرپھینکتا ہے وہ شکار ایک دو دن تک اس سے غائب رہتا ہے پھر وہ اسے پالیتا ہے اور اس کے جسم میں اس کاتیرپیوست ہوتا ہے تو اس کا کیا حکم ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم اس میں اپناتیر دیکھ لو اور کسی دوسری چیز کا کوئی اثرنظر نہ آئے اور تمہیں یقین ہو کہ تمہارے ہی تیرنے اسے قتل کیا ہے تو تم اسے کھالو۔

سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ← عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبِي بِشْرٍ، ← هُشَيْمٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19586

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19592

قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرْمِي الصَّيْدَ وَلَا أَجِدُ مَا أُذَكِّيهِ بِهِ إِلَّا الْمَرْوَةَ وَالْعَصَا قَالَ أَمَرَّ الدَّمَ بِمَا شِئْتَ ثُمَّ اذْكُرْ اسْمَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قُلْتُ طَعَامٌ مَا أَدَعُهُ إِلَّا تَحَرُّجًا قَالَ مَا ضَارَعْتَ فِيهِ نَصْرَانِيَّةً فَلَا فَدَعْهُ

حضرت عدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم جب شکار کرتے ہیں توبعض اوقات چھری نہیں ملتی صرف نوکیلے پتھریالاٹھی کی تیزدھارہوتی ہے تو کیا کریں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کا نام لے کر جس چیز سے بھی چاہوخون بہادو۔ میں نے عرض کیا کہ میں آپ سے اس کھانے کے متعلق پوچھتاہوں جو میں صرف مجبوری کے وقت چھوڑوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی ایسی چیز مت چھوڑو جس میں تم عیسائیت کے مشابہہ معلوم ہو۔

قُلْتُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19592

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19594

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَيْسَرَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ قَالَ عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرْمِي الصَّيْدَ فَأَطْلُبُ أَثَرَهُ بَعْدَ لَيْلَةٍ فَأَجِدُ فِيهِ سَهْمِي فَقَالَ إِذَا وَجَدْتَ فِيهِ سَهْمَكَ وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ سَبُعٌ فَكُلْ

حضرت عدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض یا کہ ہمارا علاقہ شکاری علاقہ ہے ہم میں سے کوئی شخص شکار پر تیرپھینکتا ہے وہ شکار ایک دو دن تک اس سے غائب رہتا ہے پھر وہ اسے پالیتا ہے اور اس کے جسم میں اس کاتیرپیوست ہوتا ہے تو اس کا کیا حکم ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم اس میں اپناتیر دیکھ لو اور کسی درندے نے اسے کھایانہ ہو تو تم اسے کھالو۔

عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ، قُلْتُ: ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19594

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19734

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَرْضِ قَوْمِي فَلَمَّا حَضَرَ الْحَجُّ حَجَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَجَجْتُ فَقَدِمْتُ عَلَيْهِ وَهُوَ نَازِلٌ بِالْأَبْطَحِ فَقَالَ لِي بِمَ أَهْلَلْتَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ قَالَ قُلْتُ لَبَّيْكَ بِحَجٍّ كَحَجِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَحْسَنْتَ ثُمَّ قَالَ هَلْ سُقْتَ هَدْيًا فَقُلْتُ مَا فَعَلْتُ فَقَالَ لِي اذْهَبْ فَطُفْ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ احْلِلْ فَانْطَلَقْتُ فَفَعَلْتُ مَا أَمَرَنِي وَأَتَيْتُ امْرَأَةً مِنْ قَوْمِي فَغَسَلَتْ رَأْسِي بِالْخِطْمِيِّ وَفَلَّتْهُ ثُمَّ أَهْلَلْتُ بِالْحَجِّ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ فَمَا زِلْتُ أُفْتِي النَّاسَ بِالَّذِي أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تُوُفِّيَ ثُمَّ زَمَنَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ ثُمَّ زَمَنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فَبَيْنَا أَنَا قَائِمٌ عِنْدَ الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ أَوْ الْمَقَامِ أُفْتِ النَّاسَ بِالَّذِي أَمَرَنِي بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ أَتَانِي رَجُلٌ فَسَارَّنِي فَقَالَ لَا تَعْجَلْ بِفُتْيَاكَ فَإِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَدْ أَحْدَثَ فِي الْمَنَاسِكِ شَيْئًا فَقُلْتُ أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ كُنَّا أَفْتَيْنَاهُ فِي الْمَنَاسِكِ شَيْئًا فَلْيَتَّئِدْ فَإِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَادِمٌ فَبِهِ فَأْتَمُّوا قَالَ فَقَدِمَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فَقُلْتُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ هَلْ أَحْدَثْتَ فِي الْمَنَاسِكِ شَيْئًا قَالَ نَعَمْ أَنْ نَأْخُذَ بِكِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَإِنَّهُ يَأْمُرُ بِالتَّمَامِ وَأَنْ نَأْخُذَ بِسُنَّةِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّهُ لَمْ يَحْلِلْ حَتَّى نَحَرَ الْهَدْيَ

حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنی قوم کے علاقے میں بھیج دیا، جب حج کاموسم قریب آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حج کے لئے تشریف لے گئے میں نے بھی حج کی سعادت حاصل کی ، میں جب حاضرخدمت میں ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابطح میں پڑاؤ کئے ہوئے تھے مجھ سے پوچھا کہ اے عبداللہ بن قیس ! تم نے کس نیت سے احرام باندھا؟ میں نے عرض کیا " لبیک بحج کحج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہہ کر، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہت اچھا یہ بتاؤ کہ کیا اپنے ساتھ ہدی کا جانور لائے ہو؟ میں نے کہا نہیں ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جا کر بیت اللہ کا طواف کرو، صفا مروہ کے درمیان سعی کرو، اور حلال ہوجاؤ۔چنانچہ میں چلا گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق کرلیا پھر اپنی قوم کی ایک عورت کے پاس آیا، اس نے " خطمی " سے میرا سر دھویا، اور میرے سر کی جوئیں دیکھیں ، پھر میں نے آٹھ ذی الحج کو حج کا احرام باندھ لیا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال تک لوگوں کو یہی فتویٰ دیتا رہا جس کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا تھا ، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں بھی یہی صورت حال رہی جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا تو ایک دن میں حجر اسود کے قریب کھڑا ہوا تھا اور لوگوں کو یہی مسئلہ بتا رہا تھا جس کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا تھا کہ اچانک ایک آدمی آیا اور سرگوشی میں مجھ سے کہنے لگا کہ یہ فتویٰ دینے میں جلدی سے کام مت لیجئے کیونکہ امیرالمؤمنین نے مناسک حج کے حوالے سے کچھ نئے احکام جاری کئے ہیں ۔ میں نے لوگوں سے کہا کہ اے لوگو! جسے ہم نے مناسک حج کے حوالے سے کوئی فتویٰ دیا ہو وہ انتظار کرے کیونکہ امیرالمؤمنین آنے والے ہیں آپ ان ہی کی اقتداء کریں ، پھر جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ آئے تو میں نے ان سے پوچھا اے امیرالمؤمنین ! کیا مناسک حج کے حوالے سے آپ نے کچھ نئے احکام جاری کئے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! اگر ہم کتاب اللہ کو لیتے ہیں تو وہ ہمیں اتمام کا حکم دیتی ہے اور اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو لیتے ہیں تو انہوں نے قربانی کرنے تک احرام نہیں کھولا تھا ۔

أَبِي مُوسَی الأَشْعَرِيِّ ← طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، ← قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، ← الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19734

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19763

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ قَدِمْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُنِيخٌ بِالْأَبْطَحِ فَقَالَ لِي أَحَجَجْتَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَبِمَ أَهْلَلْتَ قَالَ قُلْتُ لَبَّيْكَ بِإِهْلَالٍ كَإِهْلَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَدْ أَحْسَنْتَ قَالَ طُفْ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ أَحِلَّ قَالَ فَطُفْتُ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ أَتَيْتُ امْرَأَةً مِنْ بَنِي قَيْسٍ فَفَلَّتْ رَأْسِي ثُمَّ أَهْلَلْتُ بِالْحَجِّ قَالَ فَكُنْتُ أُفْتِي بِهِ النَّاسَ حَتَّى كَانَ خِلَافَةُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فَقَالَ رَجُلٌ يَا أَبَا مُوسَى أَوْ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ رُوَيْدَكَ بَعْضَ فُتْيَاكَ فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ فِي شَأْنِ النُّسُكِ بَعْدَكَ قَالَ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ كُنَّا أَفْتَيْنَاهُ فُتْيَا فَلْيَتَّئِدْ فَإِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَادِمٌ عَلَيْكُمْ فَبِهِ فَأْتَمُّوا قَالَ فَقَدِمَ عُمَرُ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ إِنْ نَأْخُذْ بِكِتَابِ اللَّهِ فَإِنَّ كِتَابَ اللَّهِ تَعَالَى يَأْمُرُنَا بِالتَّمَامِ وَإِنْ نَأْخُذْ بِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَحِلَّ حَتَّى بَلَغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ

حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنی قوم کے علاقے میں بھیج دیا، جب حج کاموسم قریب آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حج کے لئے تشریف لے گئے میں نے بھی حج کی سعادت حاصل کی ، میں جب حاضر خدمت میں ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابطح میں پڑاؤ کئے ہوئے تھے مجھ سے پوچھا کہ اے عبداللہ بن قیس ! تم نے کس نیت سے احرام باندھا؟ میں نے عرض کیا " لبیک بحج باہلال کاھلال النبی صلی اللہ علیہ وسلم کہہ کر، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہت اچھایہ بتاؤ کہ کیا اپنے ساتھ ہدی کا جانور لائے ہو؟ میں نے کہا نہیں ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جا کر بیت اللہ کا طواف کرو، صفا مروہ کے درمیان سعی کرو، اور حلال ہوجاؤ۔چنانچہ میں چلا گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق کرلیا پھر اپنی قوم کی ایک عورت کے پاس آیا، اس نے " خطمی " سے میرا سر دھویا، اور میرے سر کی جوئیں دیکھیں ، پھر میں نے آٹھ دی الحج کو حج کا احرام باندھ لیا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال تک لوگوں کویہی فتویٰ دیتا رہا جس کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا تھا ، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں بھی یہی صورت حال رہی جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا تو ایک دن میں حجر اسود کے قریب کھڑا ہوا تھا اور لوگوں کو یہی مسئلہ بتا رہا تھا جس کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا تھا کہ اچانک ایک آدمی آیا اور سرگوشی میں مجھ سے کہنے لگا کہ یہ فتویٰ دینے میں جلدی سے کام مت لیجئے کیونکہ امیرالمؤمنین نے مناسک حج کے حوالے سے کچھ نئے احکام جاری کئے ہیں ۔ میں نے لوگوں سے کہا کہ اے لوگو! جسے ہم نے مناسک حج کے حوالے سے کوئی فتویٰ دیا ہو وہ انتظار کرے کیونکہ امیرالمؤمنین آنے والے ہیں آپ ان ہی کی اقتداء کریں ، پھر جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ آئے تو میں نے ان سے پوچھا اے امیرالمؤمنین ! کیا مناسک حج کے حوالے سے آپ نے کچھ نئے احکام جاری کئے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! اگر ہم کتاب اللہ کو لیتے ہیں تو وہ ہمیں اتمام کا حکم دیتی ہے اور اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو لیتے ہیں تو انہوں نے قربانی کرنے تک احرام نہیں کھولا تھا ۔

قَدْ أَحْسَنْتَ ← قُلْتُ: لَبَّيْكَ بِإِهْلاَلٍ كَإِهْلاَلِ النَّبِيِّ ← فَبِمَ أَهْلَلْتَ ← لِي: «أَحَجَجْتَ؟» قُلْتُ: نَعَمْ ← قَدِمْتُ عَلَى النَّبِيِّ وَهُوَ مُنِيخٌ ← اَبِیْ مُوْسیٰ ← طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، ← قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19763

chevron_left Previous
1…252627…579
Next chevron_right