Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الأضحية والعقيقة

Qurbani & Aqiqah

11564 hadiths

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12879

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَصَمِّ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ لَا يَنْقُصُونَ التَّكْبِيرَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر و عمر و عثمان رضی اللہ عنہم تکبیر مکمل کیا کرتے تھے۔

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ لَا يَنْقُصُونَ التَّكْبِيرَ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَصَمِّ ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12879

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12958

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ قَالَ سَمِعْتُ مَرْوَانَ الْأَصْغَرَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ عَلِيًّا قَدِمَ مِنْ الْيَمَنِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَ أَهْلَلْتَ فَقَالَ أَهْلَلْتُ بِمَا أَهَلَّ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ فَإِنِّي لَوْلَا أَنَّ مَعِي الْهَدْيَ لَأَحْلَلْتُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہ جب یمن سے واپس آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ تم نے کس نیت سے احرام باندھا ہے؟ انہوں نے عرض کیا اس نیت سے احرام باندھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جس کی نیت کی ہو، میرا بھی وہی احرام ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میں اپنے ساتھ ہدی کا جانور نہ لایا ہوتا تو حلال ہوچکا ہوتا۔

فَإِنِّي لَوْلَا أَنَّ مَعِي الْهَدْيَ، لَأَحْلَلْتُ ← أَهلَلْت بِمَا أهل بِهِ رَسُول الله ← لَهُ النَّبِيُّ بِمَ أَهْلَلْتَ ← أَنَسٍ أَنَّ عَلِيًّا قَدِمَ مِنْ الْيَمَنِ ← مَرْوَانَ الْأَصْغَرِ ← سليم بن حيان، ← بَهْزٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12958

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13279

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ وَعَبْدُ الْوَهَّابِ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ مَرْجِعَهُ مِنْ الْحُدَيْبِيَةِ وَهُمْ مُخَالِطُهُمْ الْحُزْنُ وَالْكَآبَةُ وَقَدْ نَحَرَ الْهَدْيَ بِالْحُدَيْبِيَةِ فَقَالَ لَقَدْ أُنْزِلَتْ آيَةٌ هِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ الدُّنْيَا جَمِيعًا قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ عَلِمْنَا مَا يُفْعَلُ بِكَ فَمَا يُفْعَلُ بِنَا فَأُنْزِلَتْ لِيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَيُكَفِّرَ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَكَانَ ذَلِكَ عِنْدَ اللَّهِ فَوْزًا عَظِيمًا قَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ فِي حَدِيثِهِ وَأَصْحَابُهُ مُخَالِطُو الْحُزْنِ وَالْكَآبَةِ وَقَالَ فِيهِ فَقَالَ قَائِلٌ هَنِيئًا مَرِيئًا لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ بَيَّنَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَاذَا يَفْعَلُ بِكَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب حدیبیہ سے واپس آرہے تھے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر غم اور پریشانی کے آثار تھے کیونکہ انہیں عمرہ ادا کرنے سے روک دیا گیا تھا اور انہیں حدیبیہ میں ہی اپنے جانور قربان کرنے پڑے تھے، اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی" انا فتحنا لک فتحا مبینا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ صراطا مستقیما " نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھ پر دو آیتیں ایسی نازل ہوئی ہیں جو مجھے ساری دنیا سے زیادہ محبوب ہیں ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تلاوت فرمائی، تو ایک مسلمان نے یہ سن کر کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کو مبارک ہو کہ اللہ نے آپ کو یہ دولت عطاء فرمائی، ہمارے لئے کیا حکم ہے؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی " لیدخل المومنین والمومنات جنات ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ فوزا عظیما "

لما نزلت هذه الآية على النبي ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← سَعِيدٌ وَعَبْدُ الْوَهَّابِ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13279

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 26622

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ قَالَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا سُقْتُ الْهَدْيَ وَلَأَحْلَلْتُ مَعَ الَّذِينَ حَلُّوا مِنْ الْعُمْرَةِ

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر مجھے اس معاملے کا پہلے پتہ چل جاتا جس کا علم بعد میں ہوا تو میں اپنے ساتھ ہدی کا جانور کبھی نہ لاتا اور ان لوگوں کے ساتھ ہی احرام کھول دیتا جنہوں نے عمرہ کر کے احرام کھول دیا ہے۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← يُونُسَ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 26622

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 26875

حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَتْ عَائِشَةُ تَقُولُ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا نَذْكُرُ إِلَّا الْحَجَّ فَلَمَّا قَدِمْنَا سَرِفَ طَمِثْتُ فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي فَقَالَ مَا يُبْكِيكِ قُلْتُ وَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَخْرُجْ الْعَامَ قَالَ لَعَلَّكِ نَفِسْتِ يَعْنِي حِضْتِ قَالَتْ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ إِنَّ هَذَا شَيْءٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ فَافْعَلِي مَا يَفْعَلُ الْحَاجُّ غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ حَتَّى تَطْهُرِي فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ اجْعَلُوهَا عُمْرَةً فَحَلَّ النَّاسُ إِلَّا مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ وَكَانَ الْهَدْيُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَذَوِي الْيَسَارَةِ قَالَتْ ثُمَّ رَاحُوا مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ طَهُرْتُ فَأَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ فَأَفَضْتُ يَعْنِي طُفْتُ قَالَتْ فَأُتِينَا بِلَحْمِ بَقَرٍ فَقُلْتُ مَا هَذَا قَالُوا هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَبَحَ عَنْ نِسَائِهِ الْبَقَرَ قَالَتْ فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ يَرْجِعُ النَّاسُ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ وَأَرْجِعُ بِحَجَّةٍ فَأَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ فَأَرْدَفَنِي عَلَى جَمَلِهِ قَالَتْ فَإِنِّي لَأَذْكُرُ وَأَنَا جَارِيَةٌ حَدِيثَةُ السِّنِّ أَنِّي أَنْعَسُ فَتَضْرِبُ وَجْهِي مُؤَخِّرَةُ الرَّحْلِ حَتَّى جَاءَ بِي التَّنْعِيمَ فَأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ جَزَاءً لِعُمْرَةِ النَّاسِ الَّتِي اعْتَمَرُوا

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ ہم نے حج کا تلبیہ پڑھا ، جب سرف کے مقام پر پہنچے تو میرے " ایام " شروع ہو گئے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں رو رہی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہ! کیوں رو رہی ہو؟ میں نے عرض کیا کہ میرے " ایام " شروع ہوگئے ہیں ، کاش! میں حج ہی نہ کرنے آتی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سبحان اللہ ! یہ تو وہ چیز ہے جو اللہ نے آدم علیہ السلام کی ساری بیٹیوں پر لکھ دی ہے ، تم سارے مناسک ادا کرو، البتہ بیت اللہ کا طواف نہ کرنا ، جب ہم مکہ مکرمہ میں داخل ہوگئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے احرام کو عمرے کا احرام بنانا چا ہے، وہ ایسا کر سکتا ہے، الاّ یہ کہ اس کے پاس ہدی کا جانور ہو۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دس ذی الحجہ کو اپنی ازواج کی طرف سے گائے ذبح کی تھی، شب بطحاء کو میں " پاک " ہوئی ، اور عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم کیا میری سہیلیاں حج اور عمرہ کے ساتھ اور میں صرف حج کے ساتھ واپس جاؤں گی؟ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمن بن ابی بکر کو حکم دیا اور وہ مجھے تنعیم لے گئے جہاں سے میں عمرے کا احرام باندھا۔

أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ← هاشم بن القاسم

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 26875

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 26876

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ فَحَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْحَجِّ لِخَمْسِ لَيَالٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقَعْدَةِ وَلَا يَذْكُرُ النَّاسُ إِلَّا الْحَجَّ حَتَّى إِذَا كَانَ بِسَرِفَ وَقَدْ سَاقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُ الْهَدْيَ وَأَشْرَافٌ مِنْ النَّاسِ أَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَحِلُّوا بِعُمْرَةٍ إِلَّا مَنْ سَاقَ الْهَدْيَ وَحِضْتُ ذَلِكَ الْيَوْمَ فَدَخَلَ عَلَيَّ وَأَنَا أَبْكِي فَقَالَ مَا لَكِ يَا عَائِشَةُ لَعَلَّكِ نَفِسْتِ قَالَتْ قُلْتُ نَعَمْ وَاللَّهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَخْرُجْ مَعَكُمْ عَامِي هَذَا فِي هَذَا السَّفَرِ قَالَ لَا تَفْعَلِي لَا تَقُولِي ذَلِكَ فَإِنَّكِ تَقْضِينَ كُلَّ مَا يَقْضِي الْحَاجُّ إِلَّا أَنَّكِ لَا تَطُوفِينَ بِالْبَيْتِ قَالَتْ فَمَضَيْتُ عَلَى حَجَّتِي وَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ فَحَلَّ كُلُّ مَنْ كَانَ لَا هَدْيَ مَعَهُ وَحَلَّ نِسَاؤُهُ بِعُمْرَةٍ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ أُتِيتُ بِلَحْمِ بَقَرٍ كَثِيرٍ فَطُرِحَ فِي بَيْتِي فَقُلْتُ مَا هَذَا قَالُوا ذَبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِسَائِهِ الْبَقَرَ حَتَّى إِذَا كَانَتْ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ أَخِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ فَأَعْمَرَنِي مِنْ التَّنْعِيمِ مَكَانَ عُمْرَتِي الَّتِي فَاتَتْنِي قَالَ أَبِي و حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ فِي الْحَجِّ وَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ فَحَلَلْنَ بِعُمْرَةٍ وَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ أَنْ يَحِلَّ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ وَأَمَرَ مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ مِنْ أَشْرَافِ النَّاسِ أَنْ يَثْبُتَ عَلَى حُرْمِهِ

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ ہم نے حج کا تلبیہ پڑھا ، جب سرف کے مقام پر پہنچے تو میرے " ایام " شروع ہو گئے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں رو رہی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہ! کیوں رو رہی ہو؟ میں نے عرض کیا کہ میرے " ایام " شروع ہو گئے ہیں ، کاش! میں حج ہی نہ کرنے آتی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سبحان اللہ ! یہ تو وہ چیز ہے جو اللہ نے آدم علیہ السلام کی ساری بیٹیوں پر لکھ دی ہے ، تم سارے مناسک ادا کرو، البتہ بیت اللہ کا طواف نہ کرنا ، جب ہم مکہ مکرمہ میں داخل ہوگئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے احرام کو عمرے کا احرام بنانا چا ہے، وہ ایسا کر سکتا ہے، الاّ یہ کہ اس کے پاس ہدی کا جانور ہو۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دس ذی الحجہ کو اپنی ازواج کی طرف سے گائے ذبح کی تھی، شب بطحاء کو میں " پاک " ہوئی ، اور عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم کیا میری سہلیاں حج اور عمرہ کے ساتھ اور میں صرف حج کے ساتھ واپس جاؤں گی؟ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمن بن ابی بکر کو حکم دیا اور وہ مجھے تنعیم لے گئے جہاں سے میں عمرے کا احرام باندھا۔

عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ ← أَبِيهِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 26876

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 26934

حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ بُدَيْلٍ عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْتَتِحُ الصَّلَاةَ بِالتَّكْبِيرِ وَيَفْتَتِحُ الْقِرَاءَةَ بْ الْحَمْدُ لِلَّهِ

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز کا آغاز تکبیر سے کرتے تھے اور قرأت کا آغاز سورت فاتحہ سے فرماتے تھے۔

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يَفْتَتِحُ الصَّلَاةَ بِالتَّكْبِيرِ وَيَفْتَتِحُ الْقِرَاءَةَ بْ الْحَمْدُ لِلَّهِ ← عَائِشَةَ ← أَبِي الْجَوْزَاءِ ← بُدَيْلٍ ← شُعْبَةُ، ← أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 26934

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 27464

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ فَاطِمَةَ عَنْ أَسْمَاءَ قَالَتْ خَسَفَتْ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَقُلْتُ مَا شَأْنُ النَّاسِ يُصَلُّونَ فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا إِلَى السَّمَاءِ فَقُلْتُ آيَةٌ قَالَتْ نَعَمْ فَأَطَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقِيَامَ جِدًّا حَتَّى تَجَلَّانِي الْغَشْيُ فَأَخَذْتُ قِرْبَةً إِلَى جَنْبِي فَأَخَذْتُ أَصُبُّ عَلَى رَأْسِي الْمَاءَ فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ تَجَلَّتْ الشَّمْسُ فَخَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ مَا مِنْ شَيْءٍ لَمْ أَكُنْ رَأَيْتُهُ إِلَّا قَدْ رَأَيْتُهُ فِي مَقَامِي هَذَا حَتَّى الْجَنَّةُ وَالنَّارُ إِنَّهُ قَدْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ قَرِيبًا أَوْ مِثْلَ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ لَا أَدْرِي أَيَّ ذَلِكَ قَالَتْ أَسْمَاءُ يُؤْتَى أَحَدُكُمْ فَيُقَالُ مَا عِلْمُكَ بِهَذَا الرَّجُلِ فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ أَوْ الْمُوقِنُ لَا أَدْرِي أَيَّ ذَلِكَ قَالَتْ أَسْمَاءُ فَيَقُولُ هُوَ مُحَمَّدٌ هُوَ رَسُولُ اللَّهِ جَاءَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى فَأَجَبْنَا وَاتَّبَعْنَا ثَلَاثَ مِرَارٍ فَيُقَالُ لَهُ قَدْ كُنَّا نَعْلَمُ أَنْ كُنْتَ لَتُؤْمِنُ بِهِ فَنَمْ صَالِحًا وَأَمَّا الْمُنَافِقُ أَوْ الْمُرْتَابُ لَا يَدْرِي أَيَّ ذَلِكَ قَالَتْ أَسْمَاءُ فَيَقُولُ مَا أَدْرِي سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ شَيْئًا فَقُلْتُ

حضرت اسماء سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی علیہ السلام کے دور باسعادت میں سورج گرہن ہوگیا، اس دن میں حضرت عائشہ کے یہاں گئی، تو ان سے پوچھا کہ لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ اس وقت نماز پڑھ رہے ہیں؟ انہوں نے اپنے سر سے آسمان کی طرف اشارہ کردیا میں نے پوچھا کہ کیا کوئی نشانی ظاہر ہوئی ہے؟ انہوں نے کہا ہاں اس موقع پر نبی علیہ السلام نے طویل قیام کیا حتی کہ مجھ پر غشی طاری ہوگئی، میں نے اپنے پہلو میں رکھے ہوئے ایک مشکیزے کو پکڑا اور اس سے اپنے سر پر پانی بہانے لگے، نبی علیہ السلام نے نماز سے جب سلام پھیرا تو سورج گرہن ختم ہوچکا تھا ۔ پھر نبی علیہ السلام نے خطبہ ارشاد فرمایا اور اللہ کی حمد و ثناء کرنے کے بعد فرمایا حمد وصلوۃ کے بعد! اب تک میں نے جو چیزیں نہیں دیکھی تھیں وہ اپنے اس مقام پر آج دیکھ لیں حتی کہ جنت اور جہنم کو بھی دیکھ لیا مجھے یہ وحی کی گئی ہے کہ تم لوگوں کو اپنی قبروں میں مسح دجال کے برابریا اس کے قریب قریب فتنے میں مبتلا کیا جائے گا تمہارے پاس فرشتے آئیں گے اور پوچھیں گے کہ اس آدمی کے متعلق تم کیا جانتے ہو؟ تو جو مؤمن ہو گا وہ جواب دے گا کہ وہ محمد رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) تھے اور ہمارے پاس واضح معجزات اور ہدایت لے کر آئے ہم نے ان کی پکار پر لبک کہا اور ان کی اتباع کی (تین مرتبہ) اس سے کہا جائے گا ہم جانتے تھے کہ تو اس پر ایمان رکھتا ہے لہذا سکون کے ساتھ سو جاؤ! اور جو منافق ہوگا تو وہ کہے گا میں نہیں جانتا میں لوگوں کو کچھ کہتے ہوئے سنتا تھا وہی میں بھی کہہ دیتا تھا۔ ی

أَسْمَاءَ ← فَاطِمَةَ، ← هِشَامٍ ← ابْنِ نُمَيْرٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 27464

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 27913

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ قَالَ أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ حَبِيبَةَ بِنْتِ مَيْسَرَةَ عَنْ أُمِّ كُرْزٍ الْكَعْبِيَّةِ الْخُزَاعِيَّةِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعَقِيقَةِ فَقَالَ عَنْ الْغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافَأَتَانِ وَعَنْ الْجَارِيَةِ شَاةٌ

حضرت ام کرز سے مروی ہے کہ نبی نے فرمایا لڑکے کی طرف سے عقیقہ میں دو بکریاں کی جائیں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری۔

الْغُلَامِ شَاتَانِ مُکَافَأَتَانِ وَعَنْ الْجَارِيَةِ شَاةٌ ← النَّبِيِّ فِي الْعَقِيقَةِ فَقَالَ ← أُمِّ كُرْزٍ الْكَعْبِيَّةِ الْخُزَاعِيَّةِ ← حَبِيبَةَ بِنْتِ مَيْسَرَةَ ← عَطَاءٍ، ← مَنْصُورٌ، ← هُشَيْمٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 27913

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 27916

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ وَعَبْدِ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ عَنْ حَبِيبَةَ بِنْتِ مَيْسَرَةَ بْنِ أَبِي خُثَيْمٍ عَنْ أُمِّ بَنِي كُرْزٍ الْكَعْبِيَّةِ أَنَّهَا سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْعَقِيقَةِ فَقَالَ عَنْ الْغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافَأَتَانِ وَعَنْ الْجَارِيَةِ شَاةٌ قُلْتُ لِعَطَاءٍ مَا الْمُكَافَأَتَانِ قَالَ الْمِثْلَانِ قَالَ حَجَّاجٌ فِي حَدِيثِهِ وَالضَّأْنُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ الْمَعْزِ وَذَكَرَ أَنَّهَا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ إِنَاثِهَا قَالَ وَنُحِبُّ أَنْ يَجْعَلَهُ سَوَادَهَا مِنْهُ

حضرت ام کرز سے مروی ہے کہ میں نے عقیقہ کے متعلق نبی سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا لڑکے کی طرف سے عقیقہ میں دو بکریاں کی جائیں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری۔

وَنُحِبُّ أَنْ يَجْعَلَهُ سَوَادَهَا مِنْهُ ← أَنَّهَا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ إِنَاثِهَا ← حَجَّاجٌ فِي حَدِيثِهِ وَالضَّأْنُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ الْمَعْزِ ← المثلان ← الْجَارِيَةِ شَاةٌ قُلْتُ لِعَطَاءٍ مَا الْمُكَافَأَتَانِ ← الغلام شَاتَان مُكَافأتَان، ← الْعَقِيقَةِ. ← أُمِّ بَنِي كُرْزٍ الْكَعْبِيَّةِ أَنَّهَا سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ ← حَبِيبَةَ بِنْتِ مَيْسَرَةَ بْنِ أَبِي خُثَيْمٍ، ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← ابْنِ جُرَيْجٍ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ ← حجاج،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 27916

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 27917

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ عَنْ سِبَاعِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ ثَابِتِ بْنِ سِبَاعٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ أُمَّ كُرْزٍ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْعَقِيقَةِ فَقَالَ يُعَقُّ عَنْ الْغُلَامِ شَاتَانِ وَعَنْ الْأُنْثَى وَاحِدَةٌ وَلَا يَضُرُّكُمْ أَذُكْرَانًا كُنَّ أَوْ إِنَاثًا

حضرت ام کرز سے مروی ہے کہ میں نے عقیقہ کے متعلق نبی سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا لڑکے کی طرف سے عقیقہ میں دو بکریاں کی جائیں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری اور اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ جانور مذکر ہو یا مونث۔

الْغُلَامِ شَاتَانِ وَعَنْ الْأُنْثَى وَاحِدَةٌ وَلَا يَضُرُّكُمْ أَذُكْرَانًا كُنَّ أَوْ إِنَاثًا ← الْعَقِيقَةِ فَقَالَ يُعَقُّ ← أَنَّ أُمَّ كُرْزٍ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ ← سِبَاعِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ ثَابِتِ بْنِ سِبَاعٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ1 بْنِ أبي يزيد، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 27917

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 27918

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ أَنَّ سِبَاعَ بْنَ ثَابِتِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ سِبَاعٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ أُمَّ كُرْزٍ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا سَأَلَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْعَقِيقَةِ فَذَكَرَهُ

حضرت ام کرز سے مروی ہے کہ میں نے عقیقہ کے متعلق نبی سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا لڑکے کی طرف سے عقیقہ میں دو بکریاں کی جائیں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری اور اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ جانور مذکر ہو یا مونث۔

الْعَقِيقَةِ فَذَكَرَهُ ← أَنَّ أُمَّ كُرْزٍ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا سَأَلَتْ النَّبِيَّ ← مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ سِبَاعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ أَنَّ سِبَاعَ بْنَ ثَابِتِ بْنِ عَمْرٍو ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 27918

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 27613

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَحْيَى مَوْلَى الْأَسْلَمِيِّينَ عَنْ أُمِّهِ قَالَ أَخْبَرَتْنِي أُمُّ بِلَالٍ ابْنَةُ هِلَالٍ عَنْ أَبِيهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَجُوزُ الْجَذَعُ مِنْ الضَّأْنِ أُضْحِيَّةً

حضرت ام بلال سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے فرمایا بھیڑ کا بچہ اگر چھ ماہ کا بھی ہو تو اس کی قربانی کرلیا کرو کہ یہ جائز ہے۔

أَبِيهَا ← أَخْبَرَتْنِي أُمُّ بِلَالِ ابْنَةُ هِلَالٍ ← أُمِّهِ2، ← مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَحْيَى مَوْلَى الْأَسْلَمِيِّينَ، ← أَبُو ضَمْرَةَ، ← عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 27613

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 22750

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ مُعَاوِيَةَ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ عَنْ جُبَيْرٍ عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ ذَبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُضْحِيَّةً ثُمَّ قَالَ يَا ثَوْبَانُ أَصْلِحْ لَحْمَ هَذِهِ الشَّاةِ قَالَ فَمَا زِلْتُ أُطْعِمُهُ مِنْهَا حَتَّى قَدِمَ الْمَدِينَةَ

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کا جانور ذبح کیا اور فرمایا ثوبان ! اس بکری کا گوشت خوب اچھی طرح سنبھال لو چنانچہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ منورہ تشریف آوری تک اس کا گوشت کھلاتا رہا۔

فَمَا زِلْتُ أُطْعِمُهُ مِنْهَا حَتَّى قَدِمَ الْمَدِينَةَ ← يَا ثَوْبَانُ أَصْلِحْ لَحْمَ هَذِهِ الشَّاةِ ← ذَبَحَ رَسُولُ اللَّهِ أُضْحِيَّةً ثُمَّ ← ثَوْبَانَ، ← جُبَيْرٌ ← أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ، ← مُعَاوِيَةَ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 22750

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19802

وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مَثَلَ مَا بَعَثَنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهِ مِنْ الْهُدَى وَالْعِلْمِ كَمَثَلِ غَيْثٍ أَصَابَ الْأَرْضَ فَكَانَتْ مِنْهُ طَائِفَةٌ قَبِلَتْ فَأَنْبَتَتْ الْكَلَأَ وَالْعُشْبَ الْكَثِيرَ وَكَانَتْ مِنْهَا أَجَادِبُ أَمْسَكَتْ الْمَاءَ فَنَفَعَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا نَاسًا فَشَرِبُوا فَرَعَوْا وَسَقَوْا وَزَرَعُوا وَأَسْقَوْا وَأَصَابَتْ طَائِفَةً مِنْهَا أُخْرَى إِنَّمَا هِيَ قِيعَانٌ لَا تُمْسِكُ مَاءً وَلَا تُنْبِتُ كَلَأً فَذَلِكَ مَثَلُ مَنْ فَقُهَ فِي دِينِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَنَفَعَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِمَا بَعَثَنِي بِهِ وَنَفَعَ بِهِ فَعَلِمَ وَعَلَّمَ وَمَثَلُ مَنْ لَمْ يَرْفَعْ بِذَلِكَ رَأْسًا وَلَمْ يَقْبَلْ هُدَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ الَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ

اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے جو ہدایت اور علم دے کربھیجا ہے اس کی مثال اس بارش کی سی ہے جو زمین پر بر سے اب زمین کا کچھ حصہ تو اسے قبول کرلیتا ہے اور اس سے گھاس اور چارہ کثیر مقدار میں اگتا ہے کچھ حصہ قحط زدہ ہوتا ہے جو پانی کو روک لیتا ہے اور جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ لوگوں کو فائدہ پہنچاتا ہے چنانچہ لوگ اسے پیتے ہیں اور سیراب ہوتے ہیں جانوروں کو پلاتے ہیں کھیتی باڑی میں استعمال کرتے ہیں اور دوسروں کو پلاتے ہیں اور کچھ حصہ بالکل چٹیل میدان ہوتا ہے جو پانی کو روکتا ہے اور نہ ہی چارہ اگاتا ہے یہی مثال ہے اس شخص کی جو اللہ کے دین کی سمجھ حاصل کرتا ہے اور اللہ اس کو اس سے فائدہ پہنچاتا ہے جو اس نے مجھے دے کربھیجا ہے لوگوں کو بھی اس سے فائدہ پہنچتا ہے اور وہ علم حاصل کرتا اور اسے پھیلاتا ہے اور یہی مثال ہے اس شخص کی جو اس کے لئے سرتک نہیں اٹھاتا اور اللہ کی اس ہدایت کو قبول نہیں کرتا جو مجھے دے کربھیجا گیا ہے۔

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19802

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 22785

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِي أَبُو الزَّاهِرِيَّةِ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُضْحِيَّةً لَهُ ثُمَّ قَالَ لِي يَا ثَوْبَانُ أَصْلِحْ لَحْمَ هَذِهِ الشَّاةِ قَالَ فَمَا زِلْتُ أُطْعِمُهُ مِنْهَا حَتَّى قَدِمَ الْمَدِينَةَ

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کا جانور ذبح کیا اور فرمایا ثوبان ! اس بکری کا گوشت خوب اچھی طرح سنبھال لو چنانچہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ منورہ تشریف آوری تک اس کا گوشت کھلاتا رہا۔

فَمَا زِلْتُ أُطْعِمُهُ مِنْهَا حَتَّى قَدِمَ الْمَدِينَةَ ← لِي يَا ثَوْبَانُ أَصْلِحْ لَحْمَ هَذِهِ الشَّاةِ ← ذَبَحَ رَسُولُ اللَّهِ أُضْحِيَّةً لَهُ ثُمَّ ← ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ ← جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، ← أَبُو الزَّاهِرِيَّةِ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 22785

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19828

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ أَبُو مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ عَن أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ فَجَعَلْنَا لَا نَصْعَدُ شَرَفًا وَلَا نَعْلُو شَرَفًا وَلَا نَهْبِطُ فِي وَادٍ إِلَّا رَفَعْنَا أَصْوَاتَنَا بِالتَّكْبِيرِ قَالَ فَدَنَا مِنَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ ارْبَعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ فَإِنَّكُمْ مَا تَدْعُونَ أَصَمَّ وَلَا غَائِبًا إِنَّمَا تَدْعُونَ سَمِيعًا بَصِيرًا إِنَّ الَّذِي تَدْعُونَ أَقْرَبُ إِلَى أَحَدِكُمْ مِنْ عُنُقِ رَاحِلَتِهِ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَةً مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ

حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی جہاد کے سفر میں تھے جس ٹیلے یا بلند جگہ پر چڑھتے یا کسی نشیب میں اترتے تو بلند آواز سے تکبیر کہتے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے قریب آکر فرمایا لوگو! اپنے ساتھ نرمی کرو، تم کسی بہرے یا غائب اللہ کو نہیں پکار رہے ، تم سمیع وبصیر کو پکار رہے ہو جو تمہاری سواری کی گردن سے بھی زیادہ تمہارے قریب ہے ، اے عبداللہ بن قیس کیا میں تمہیں جنت کے ایک خزانے کے متعلق نہ بتاؤں ؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں فرمایا لاحول ولاقوۃ الاباللہ (جنت کا ایک خزانہ ہے )

أَبِي مُوسَی الأَشْعَرِيِّ ← أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ أَبُو مُحَمَّدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19828

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 28120

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ قَالَتْ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِهِ فَقَالَ إِذَا كَانَ قَبْلَ خُرُوجِ الدَّجَّالِ بِثَلَاثِ سِنِينَ حَبَسَتْ السَّمَاءُ ثُلُثَ قَطْرِهَا وَحَبَسَتْ الْأَرْضُ ثُلُثَ نَبَاتِهَا فَإِذَا كَانَتْ السَّنَةُ الثَّانِيَةُ حَبَسَتْ السَّمَاءُ ثُلُثَيْ قَطْرِهَا وَحَبَسَتْ الْأَرْضُ ثُلُثَيْ نَبَاتِهَا فَإِذَا كَانَتْ السَّنَةُ الثَّالِثَةُ حَبَسَتْ السَّمَاءُ قَطْرَهَا كُلَّهُ وَحَبَسَتْ الْأَرْضُ نَبَاتَهَا كُلَّهُ فَلَا يَبْقَى ذُو خُفٍّ وَلَا ظِلْفٍ إِلَّا هَلَكَ فَيَقُولُ الدَّجَّالُ لِلرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ أَرَأَيْتَ إِنْ بَعَثْتُ إِبِلَكَ ضِخَامًا ضُرُوعُهَا عِظَامًا أَسْنِمَتُهَا أَتَعْلَمُ أَنِّي رَبُّكَ فَيَقُولُ نَعَمْ فَتَمَثَّلُ لَهُ الشَّيَاطِينُ عَلَى صُورَةِ إِبِلِهِ فَيَتَّبِعُهُ وَيَقُولُ لِلرَّجُلِ أَرَأَيْتَ إِنْ بَعَثْتُ أَبَاكَ وَابْنَكَ وَمَنْ تَعْرِفُ مِنْ أَهْلِكَ أَتَعْلَمُ أَنِّي رَبُّكَ فَيَقُولُ نَعَمْ فَيُمَثِّلُ لَهُ الشَّيَاطِينَ عَلَى صُوَرِهِمْ فَيَتَّبِعُهُ ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَكَى أَهْلُ الْبَيْتِ ثُمَّ رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَبْكِي فَقَالَ مَا يُبْكِيكُمْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا ذَكَرْتَ مِنْ الدَّجَّالِ فَوَاللَّهِ إِنَّ أَمَةَ أَهْلِي لَتَعْجِنُ عَجِينَهَا فَمَا تَبْلُغُ حَتَّى تَكَادَ تَفَتَّتُ مِنْ الْجُوعِ فَكَيْفَ نَصْنَعُ يَوْمَئِذٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكْفِي الْمُؤْمِنِينَ عَنْ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ يَوْمَئِذٍ التَّكْبِيرُ وَالتَّسْبِيحُ وَالتَّحْمِيدُ ثُمَّ قَالَ لَا تَبْكُوا فَإِنْ يَخْرُجْ الدَّجَّالُ وَأَنَا فِيكُمْ فَأَنَا حَجِيجُهُ وَإِنْ يَخْرُجْ بَعْدِي فَاللَّهُ خَلِيفَتِي عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ

حضرت اسماء سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کے ساتھ ان کے گھر میں تھے، نبی نے فرمایا خروج دجال سے تین سال قبل آسمان ایک تہائی بارش اور زمین ایک تہائی نباتات روک لے گی، دوسرے سال آسمان دو تہائی بارش اور زمین دو تہائی پیداوار روک لے گی، اور تیسرے سال آسمان اپنی مکمل بارش اور زمین اپنی مکمل پیداوار روک لے گی اور ہر موزے اور کھر والا ذی حیات ہلاک ہو جائے گا، اس موقع پر پر دجال ایک دیہاتی سے کہے گا یہ بتاؤ کہ اگر میں تمہارے اونٹ زندہ کردوں ، ان کے تھن بھرے اور بڑے ہوں اور ان کے کوہان عظیم ہوں تو کیا تم مجھے اپنا رب یقین کرلو گے؟ وہ کہے گا ہاں ! چنانچہ شیاطین اس کے سامنے اونٹوں کی شکل میں آئیں گے اور وہ دجال کی پیروی کرنے لگے گا۔ اسی طرح دجال ایک اور آدمی سے کہے گا یہ بتاؤ کہ اگر میں تمہارے باپ ، تمہارے بیٹے اور تمہارے اہل خانہ میں سے ان تمام لوگوں کو جنہیں تم پہچانتے ہو زندہ کردوں تو کیا تم یقین کرلو گے کہ میں ہی تمہارا رب ہوں ، وہ کہے گا ہاں ! چنانچہ اس کے سامنے شیاطین ان صورتوں میں آجائیں گے اور وہ دجال کی پیروی کرنے لگے گا، پھر نبی تشریف لے آئے اور اہل خانہ رونے لگے ، جب نبی واپس آئے ہم اس وقت رو رہے تھے، نبی نے پوچھا تم کیوں رو رہے ہو؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ نے دجال کا جو ذکر کیا ہے ، واللہ میرے گھر میں جو باندی ہے ، وہ آٹا گوندھ رہی ہوتی ہے ، ابھی وہ اسے گوندھ کر فارغ نہیں ہونے پاتی کہ میرا کلیجہ بھوک کے مارے پارہ پارہ ہوتا ہوا محسوس ہوتا ہے تو اس دن ہم کیا کریں گے؟ نبی نے فرمایا اس دن مسلمانوں کے لئے کھانے پینے کی بجائے تکبیر اور تسبیح و تحمید ہی کافی ہو گی، پھر نبی نے فرمایا مت روؤ ، اگر میری موجودگی میں دجال نکل آیا تو میں اس سے مقابلہ کروں گا اور اگر میرے بعد اس کا خروج ہوا تو ہر مسلمان پر اللہ میرا نائب ہے۔

كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ فِي بَيْتِهِ ← أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← قَتَادَةَ ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 28120

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 28134

حَدَّثَنَا هَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ قَالَ حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ ثَابِتِ بْنِ الْعَجْلَانِ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْعَقِيقَةُ عَنْ الْغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافَأَتَانِ وَعَنْ الْجَارِيَةِ شَاةٌ

حضرت اسماء سے مروی ہے کہ نبی نے فرمایا لڑکے کی طرف سے عقیقہ میں دو بکریاں کی جائیں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری۔

الْغُلَامِ شَاتَانِ مُکَافَأَتَانِ وَعَنْ الْجَارِيَةِ شَاةٌ ← الْعَقِيقَةِ. ← النَّبِيِّ ← أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ ← مُجَاهِدٍ ← ثابت بن العجلان ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← هَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 28134

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19907

حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَن قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ عَن طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ قَالَ أَبُو مُوسَى قَدِمْتُ مِنْ الْيَمَنِ قَالَ فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَ أَهْلَلْتَ قَالَ قُلْتُ بِإِهْلَالٍ كَإِهْلَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقَالَ هَلْ مَعَكَ مِنْ هَدْيٍ قَالَ قُلْتُ يَعْنِي لَا قَالَ فَأَمَرَنِي فَطُفْتُ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ أَتَيْتُ امْرَأَةً مِنْ قَوْمِي فَمَشَطَتْ رَأْسِي وَغَسَلَتْهُ ثُمَّ أَحْلَلْتُ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ أَهْلَلْتُ بِالْحَجِّ قَالَ فَكُنْتُ أُفْتِي النَّاسَ بِذَلِكَ إِمَارَةَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا فَبَيْنَا أَنَا وَاقِفٌ فِي سُوقِ الْمَوْسِمِ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ فَسَارَّنِي فَقَالَ إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ فِي شَأْنِ النُّسُكِ قَالَ قُلْتُ أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ كُنَّا أَفْتَيْنَاهُ فِي شَيْءٍ فَلْيَتَّئِدْ فَهَذَا أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ قَادِمٌ عَلَيْكُمْ فَبِهِ فَأْتَمُّوا قَالَ فَقَالَ لِي إِنْ نَأْخُذْ بِكِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى فَإِنَّهُ يَأْمُرُ بِالتَّمَامِ وَإِنْ نَأْخُذْ بِسُنَّةِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّهُ لَمْ يَحِلَّ حَتَّى نَحَرَ الْهَدْيَ

حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنی قوم کے علاقے میں بھیج دیا، جب حج کاموسم قریب آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حج کے لئے تشریف لے گئے میں نے بھی حج کی سعادت حاصل کی ، میں جب حاضرخدمت میں ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابطح میں پڑاؤ کئے ہوئے تھے مجھ سے پوچھا کہ اے عبداللہ بن قیس ! تم نے کس نیت سے احرام باندھا؟ میں نے عرض کیا " لبیک بحج کحج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہہ کر، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہت اچھایہ بتاؤ کہ کیا اپنے ساتھ ہدی کا جانور لائے ہو؟ میں نے کہا نہیں ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جا کر بیت اللہ کا طواف کرو، صفا مروہ کے درمیان سعی کرو، اور حلال ہوجاؤ۔چنانچہ میں چلا گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق کرلیا پھر اپنی قوم کی ایک عورت کے پاس آیا، اس نے " خطمی " سے میرا سر دھویا، اور میرے سر کی جوئیں دیکھیں ، پھر میں نے آٹھ دی الحج کو حج کا احرام باندھ لیا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال تک لوگوں کویہی فتویٰ دیتا رہا جس کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا تھا ، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں بھی یہی صورت حال رہی جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا تو ایک دن میں حجر اسود کے قریب کھڑا ہوا تھا اور لوگوں کو یہی مسئلہ بتا رہا تھا جس کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا تھا کہ اچانک ایک آدمی آیا اور سرگوشی میں مجھ سے کہنے لگا کہ یہ فتویٰ دینے میں جلدی سے کام مت لیجئے کیونکہ امیرالمومنین نے مناسک حج کے حوالے سے کچھ نئے احکام جاری کئے ہیں ۔ میں نے لوگوں سے کہا کہ اے لوگو! جسے ہم نے مناسک حج کے حوالے سے کوئی فتویٰ دیا ہو وہ انتظار کرے کیونکہ امیرالمؤمنین آنے والے ہیں آپ ان ہی کی اقتداء کریں ، پھر جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ آئے تو میں نے ان سے پوچھا اے امیرالمؤمنین ! کیا مناسک حج کے حوالے سے آپ نے کچھ نئے احکام جاری کئے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! اگر ہم کتاب اللہ کو لیتے ہیں تو وہ ہمیں اتمام کا حکم دیتی ہے اور اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو لیتے ہیں تو انہوں نے قربانی کرنے تک احرام نہیں کھولا تھا ۔

قُلْتُ يَعْنِي لَا ← هَلْ مَعَكَ مِنْ هَدْيٍ ← قلت: بإهلالٍ كإهلال النبي ← لِي النَّبِيُّ بِمَ أَهْلَلْتَ ← أَبُو مُوسَى قَدِمْتُ مِنْ الْيَمَنِ ← طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، ← قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19907

chevron_left Previous
1…262728…579
Next chevron_right