Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الأضحية والعقيقة

Qurbani & Aqiqah

11564 hadiths

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 26135

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ حُسَيْنٍ قَالَ حَدَّثَنِي بُدَيْلٌ عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ عَنْ عَائِشَةَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْتَتِحُ الصَّلَاةَ بِالتَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةَ بِ الْحَمْدِ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ فَإِذَا رَكَعَ لَمْ يُشْخِصْ رَأْسَهُ وَلَمْ يُصَوِّبْهُ وَلَكِنْ بَيْنَ ذَلِكَ وَكَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّكُوعِ لَمْ يَسْجُدْ حَتَّى يَسْتَوِيَ قَائِمًا وَكَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ السُّجُودِ لَمْ يَسْجُدْ حَتَّى يَسْتَوِيَ قَاعِدًا وَكَانَ يَقُولُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ التَّحِيَّةَ وَكَانَ يَكْرَهُ أَنْ يَفْتَرِشَ ذِرَاعَيْهِ افْتِرَاشَ السَّبُعِ وَكَانَ يَفْرِشُ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَيَنْصِبُ رِجْلَهُ الْيُمْنَى وَكَانَ يَنْهَى عَنْ عَقِبِ الشَّيْطَانِ وَكَانَ يَخْتِمُ الصَّلَاةَ بِالتَّسْلِيمِ

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز کا آغاز تکبیر سے کرتے تھے اور قرأت کا آغاز سورت فاتحہ سے فرماتے تھے، جب رکوع میں جاتے تھے تو سر کو اونچا رکھتے تھے اور نہ ہی جھکا کر رکھتے بلکہ درمیان میں رکھتے تھے، جب رکوع سے سر اٹھاتے تو اس وقت تک سجدے میں نہ جاتے جب تک سیدھے کھڑے نہ جاتے، اور جب ایک سجدے سے سر اٹھاتے تو دوسرا سجدہ اس وقت تک نہ کرتے جب تک سیدھے بیٹھ نہ جاتے، اور ہر دو رکعتوں پر "التحیات" پڑھتے تھے، اور شیطان کی طرح ایڑیوں کو کھڑا رکھنے سے منع فرماتے اور بائیں پاؤں کو بچھا کر دائیں پاؤں کو کھڑا کر لیتے تھے، اور اس بات سے بھی منع فرماتے تھے کہ ہم میں سے کوئی شخص کتے کی طرح اپنے بازوؤں کو بچھالے، اور نماز کا اختتام سلام سے فرماتے تھے۔

أَبِي الْجَوْزَاءِ ← بُدَيْلٍ ← حُسَيْنٌ ← يَحْيَى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 26135

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 26137

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نَرَى إِلَّا أَنَّهُ الْحَجُّ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ أَنْ يَمْضِيَ عَلَى إِحْرَامِهِ وَمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ أَنْ يُحِلَّ إِذَا طَافَ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ دُخِلَ عَلَيَّ بِلَحْمِ بَقَرٍ فَقُلْتُ مَا هَذَا قَالُوا ذَبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِسَائِهِ قَالَ يَحْيَى قَالَ شُعْبَةُ فَذَكَرْتُ ذَاكَ لِلقَاسِمِ فَقَالَ جَاءَتْكَ بِالْحَدِيثِ عَلَى وَجْهِهِ قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ لِخَمْسٍ بَقِيَتْ مِنْ ذِي الْقِعْدَةِ لَا نَرَى إِلَّا الْحَجَّ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے، ہماری نیت صرف حج کرنا تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ جس کے ساتھ ہدی کا جانور ہو، وہ اپنے احرام کو باقی رکھے، اور جس کے ساتھ ہدی کا جانور نہ ہو وہ حلال ہو جائے، دس ذی الحجہ کو میرے پاس گائے کا گوشت لایا گیا، میں نے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کی طرف سے گائے قربان کی ہے۔

عَائِشَةَ ← عَمْرَةَ ← يَحْيَى ← يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَابْنُ نُمَيْرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 26137

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16311

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أُخْبِرْتُ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ و عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى عَنْ فُلَانٍ و عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَلَمْ يَبْلُغْ أَبُو الزُّبَيْرِ هَذِهِ الْقِصَّةَ كُلَّهَا أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ أَتَى أَهْلَهُ فَوَجَدَ قَصْعَةَ ثَرِيدٍ مِنْ قَدِيدِ الْأَضْحَى فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَهُ فَأَتَى قَتَادَةَ بْنَ النُّعْمَانِ فَأَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فِي حَجٍّ فَقَالَ إِنِّي كُنْتُ أَمَرْتُكُمْ أَنْ لَا تَأْكُلُوا الْأَضَاحِيَّ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ لِتَسَعَكُمْ وَإِنِّي أُحِلُّهُ لَكُمْ فَكُلُوا مِنْهُ مَا شِئْتُمْ قَالَ وَلَا تَبِيعُوا لُحُومَ الْهَدْيِ وَالْأَضَاحِيِّ فَكُلُوا وَتَصَدَّقُوا وَاسْتَمْتِعُوا بِجُلُودِهَا وَإِنْ أُطْعِمْتُمْ مِنْ لُحُومِهَا شَيْئًا فَكُلُوهُ إِنْ شِئْتُمْ

حضرت ابوسعید خدری ایک مرتبہ حضرت قتادہ کے گھر آئے اور دیکھا کہ بقرعید کے گوشت میں بنا ہوا ثرید ایک پیالے میں رکھا ہوا ہے انہوں نے اسے کھانے سے انکار کردیا حضرت قتادہ بن نعمان ان کے پاس آئے اور انہیں بتایا کہ ایک موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم حج کے دوران کھڑے ہوئے اور فرمایا میں نے تمہیں پہلے حکم دیا تھا کہ تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت نہ کھاؤ تاکہ تم سب کو پورا ہوجائے اب میں تمہیں اس کی اجازت دیتاہوں اب جب تک چاہو کھاسکتے ہو اور فرمایا کہ ہدی اور قربانی کے جانور کا گوشت مت بیچو خود کھاؤ یاصدقہ کردو اور اس کی کھال سے بھی فائدہ اٹھا سکتے ہو اگر تم کسی کو ان کا گوشت کھلا سکتے ہو تو خود بھی جب تک چاہو کھا سکتے ہو۔

أَبِي الزُّبَيْرِ ← فُلَانٍ و ← سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، ← أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ و ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16311

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16312

قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى أَخْبَرَنِي زُبَيْدٌ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ أَتَى أَهْلَهُ فَوَجَدَ قَصْعَةً مِنْ قَدِيدِ الْأَضْحَى فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَهُ فَأَتَى قَتَادَةَ بْنَ النُّعْمَانِ فَأَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فَقَالَ إِنِّي كُنْتُ أَمَرْتُكُمْ أَنْ لَا تَأْكُلُوا الْأَضَاحِيَّ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ لِتَسَعَكُمْ وَإِنِّي أُحِلُّهُ لَكُمْ فَكُلُوا مِنْهُ مَا شِئْتُمْ وَلَا تَبِيعُوا لُحُومَ الْهَدْيِ وَالْأَضَاحِيِّ فَكُلُوا وَتَصَدَّقُوا وَاسْتَمْتِعُوا بِجُلُودِهَا وَلَا تَبِيعُوهَا وَإِنْ أُطْعِمْتُمْ مِنْ لَحْمِهَا فَكُلُوا إِنْ شِئْتُمْ و قَالَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَالْآنَ فَكُلُوا وَاتَّجِرُوا وَادَّخِرُوا

حضرت ابوسعید خدری ایک مرتبہ حضرت قتادہ کے گھر آئے اور دیکھا کہ بقرعید کے گوشت میں بنا ہوا ثرید ایک پیالے میں رکھا ہوا ہے انہوں نے اسے کھانے سے انکار کردیا حضرت قتادہ بن نعمان ان کے پاس آئے اور انہیں بتایا کہ ایک موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم حج کے دوران کھڑے ہوئے اور فرمایا میں نے تمہیں پہلے حکم دیا تھا کہ تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت نہ کھاؤ تاکہ تم سب کو پورا ہوجائے اب میں تمہیں اس کی اجازت دیتاہوں اب جب تک چاہو کھاسکتے ہو اور فرمایا کہ ہدی اور قربانی کے جانور کا گوشت مت بیچو خود کھاؤ یاصدقہ کردو اور اس کی کھال سے بھی فائدہ اٹھا سکتے ہو اگر تم کسی کو ان کا گوشت کھلا سکتے ہو تو خود بھی جب تک چاہو کھا سکتے ہو۔

سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← حجاج،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16312

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16329

وَمَعَ الْغُلَامِ عَقِيقَتُهُ فَأَمِيطُوا عَنْهُ الْأَذَى وَأَرِيقُوا عَنْهُ دَمًا

لڑکے کی پیدائش پرعقیقہ کیا کرو اس سے آلائیشیں وغیرہ دور کرکے اس کی طرف جانور قربان کیا کرو۔

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16329

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16333

قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا هِشَامٌ وَيَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ حَفْصَةَ ابْنَةِ سِيرِينَ عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَعَ الْغُلَامِ عَقِيقَتُهُ فَأَهْرِيقُوا عَنْهُ دَمًا وَأَمِيطُوا عَنْهُ الْأَذَى

حضرت سلمان سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لڑکے کی پیدائش پر عقیقہ کیا کرو اس سے آلائشیں وغیرہ دور کرکے اس کی طرف سے جانور قربان کیا کرو۔

سَلْمَانُ بْنُ عَامِرٍ الضَّبِّيُّ ← حَفْصَةَ ابْنَةِ سِيرِينَ ← هِشَامٍ ← هِشَامٌ وَيَزِيدُ ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَابْنُ نُمَيْرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16333

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16334

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ قَالَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ الْغُلَامِ عَقِيقَتُهُ فَأَرِيقُوا عَنْهُ دَمًا وَأَمِيطُوا عَنْهُ الْأَذَى

حضرت سلمان سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لڑکے کی پیدائش پر عقیقہ کیا کرو اس سے آلائشیں وغیرہ دور کرکے اس کی طرف سے جانور قربان کیا کرو۔

سَلْمَانُ بْنُ عَامِرٍ الضَّبِّيُّ ← ابْنِ سِيرِينَ، ← يُونُسَ ← هُشَيْمٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16334

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16337

وَقَالَ مَعَ الْغُلَامِ عَقِيقَتُهُ فَأَهْرِيقُوا عَنْهُ دَمًا وَأَمِيطُوا عَنْهُ الْأَذَى

اور فرمایا کہ لڑکے کی پیدائش پرعقیقہ کیا کرو اور اس سے آلائشیں دور کرکے اس کی طرف سے جانور قربان کیا کرو۔

مَعَ الْغُلَامِ عَقِيقَتُهُ فَأَهْرِيقُوا عَنْهُ دَمًا وَأَمِيطُوا عَنْهُ الْأَذَى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16337

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16340

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَعَ الْغُلَامِ عَقِيقَتُهُ فَأَهْرِيقُوا عَنْهُ دَمًا وَأَمِيطُوا عَنْهُ الْأَذَى

حضرت سلمان سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لڑکے کی پیدائش پر عقیقہ کیا کرو اس سے آلائشیں وغیرہ دور کر کے اس کی طرف سے جانور قربان کیا کرو۔

مَعَ الْغُلَامِ عَقِيقَتُهُ فَأَهْرِيقُوا عَنْهُ دَمًا وَأَمِيطُوا عَنْهُ الْأَذَى ← رَسُولِ اللَّهِ ← سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ ← حَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ ← هِشَامٍ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16340

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16343

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ وحَبِيبٌ وَيُونُسُ وَقَتَادَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الْغُلَامِ عَقِيقَتُهُ فَأَهْرِيقُوا عَنْهُ دَمًا وَأَمِيطُوا عَنْهُ الْأَذَى

حضرت سلمان سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لڑکے کی پیدائش پر عقیقہ کیا کرو اس سے آلائشیں وغیرہ دور کرکے اس کی طرف سے جانور قربان کیا کرو۔

سَلْمَانُ بْنُ عَامِرٍ الضَّبِّيُّ ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← أَيُّوبُ وَحَبِيبٌ وَيُونُسُ وَقَتَادَةُ ← حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16343

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16346

وَهِشَامٌ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ سَلْمَانَ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ عَنْ الْغُلَامِ عَقِيقَةٌ فَأَهْرِيقُوا عَنْهُ دَمًا وَأَمِيطُوا عَنْهُ الْأَذَى

حضرت سلمان سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لڑکے کی پیدائش پر عقیقہ کیا کرو اس سے آلائشیں وغیرہ دور کرکے اس کی طرف سے جانور قربان کیا کرو۔

الْغُلَامِ عَقِيقَةٌ فَأَهْرِيقُوا عَنْهُ دَمًا وَأَمِيطُوا عَنْهُ الْأَذَى ← سَلْمَانَ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ أَنَّهُ ← مُحَمَّدٍ ← وَهِشَامٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16346

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16347

حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَيُّوبَ وَقَتَادَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الْغُلَامِ عَقِيقَتُهُ فَأَهْرِيقُوا عَنْهُ دَمًا وَأَمِيطُوا عَنْهُ الْأَذَى

حضرت سلمان سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لڑکے کی پیدائش پر عقیقہ کیا کرو اس سے آلائشیں وغیرہ دور کرکے اس کی طرف سے جانور قربان کیا کرو۔

سَلْمَانُ بْنُ عَامِرٍ الضَّبِّيُّ ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← أَيُّوبَ، وَقَتَادَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← يُونُسَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16347

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16348

قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ وَسَعِيدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَعَ الْغُلَامِ عَقِيقَتُهُ فَأَرِيقُوا عَنْهُ الدَّمَ وَأَمِيطُوا عَنْهُ الْأَذَى قَالَ وَكَانَ ابْنُ سِيرِينَ يَقُولُ إِنْ لَمْ تَكُنْ إِمَاطَةُ الْأَذَى حَلْقَ الرَّأْسِ فَلَا أَدْرِي مَا هُوَ

حضرت سلمان سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لڑکے کی پیدائش پر عقیقہ کیا کرو اس سے آلائشیں وغیرہ دور کرکے اس کی طرف سے جانور قربان کیا کرو۔

إِنْ لَمْ تَكُنْ إِمَاطَةُ الْأَذَى حَلْقَ الرَّأْسِ فَلَا أَدْرِي مَا هُوَ ← وَكَانَ ابْنُ سِيرِينَ ← مَعَ الْغُلَامِ عَقِيقَتُهُ فَأَرِيقُوا عَنْهُ الدَّمَ وَأَمِيطُوا عَنْهُ الْأَذَى ← النَّبِيِّ ← سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← ابْنِ عَوْنٍ وَسَعِيدٍ ← عَبْدُ الْوَھَّابِ بْنُ عَطَاءٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16348

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16349

قَالَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَعَ الْغُلَامِ عَقِيقَتُهُ فَأَهْرِيقُوا عَنْهُ الدَّمَ وَأَمِيطُوا عَنْهُ الْأَذَى

حضرت سلمان سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لڑکے کی پیدائش پر عقیقہ کیا کرو اس سے آلائشیں وغیرہ دور کرکے اس کی طرف سے جانور قربان کیا کرو۔

سَلْمَانُ بْنُ عَامِرٍ الضَّبِّيُّ ← ابْنِ سِيرِينَ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16349

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21816

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ مُبَارَكٍ عَنْ يَحْيَى عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ عَنْ أَبِي سَلَّامٍ قَالَ أَبُو ذَرٍّ عَلَى كُلِّ نَفْسٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ طَلَعَتْ فِيهِ الشَّمْسُ صَدَقَةٌ مِنْهُ عَلَى نَفْسِهِ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مِنْ أَيْنَ أَتَصَدَّقُ وَلَيْسَ لَنَا أَمْوَالٌ قَالَ لِأَنَّ مِنْ أَبْوَابِ الصَّدَقَةِ التَّكْبِيرَ وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَتَأْمُرُ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَى عَنْ الْمُنْكَرِ وَتَعْزِلُ الشَّوْكَةَ عَنْ طَرِيقِ النَّاسِ وَالْعَظْمَ وَالْحَجَرَ وَتَهْدِي الْأَعْمَى وَتُسْمِعُ الْأَصَمَّ وَالْأَبْكَمَ حَتَّى يَفْقَهَ وَتُدِلُّ الْمُسْتَدِلَّ عَلَى حَاجَةٍ لَهُ قَدْ عَلِمْتَ مَكَانَهَا وَتَسْعَى بِشِدَّةِ سَاقَيْكَ إِلَى اللَّهْفَانِ الْمُسْتَغِيثِ وَتَرْفَعُ بِشِدَّةِ ذِرَاعَيْكَ مَعَ الضَّعِيفِ كُلُّ ذَلِكَ مِنْ أَبْوَابِ الصَّدَقَةِ مِنْكَ عَلَى نَفْسِكَ وَلَكَ فِي جِمَاعِكَ زَوْجَتَكَ أَجْرٌ قَالَ أَبُو ذَرٍّ كَيْفَ يَكُونُ لِي أَجْرٌ فِي شَهْوَتِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ لَكَ وَلَدٌ فَأَدْرَكَ وَرَجَوْتَ خَيْرَهُ فَمَاتَ أَكُنْتَ تَحْتَسِبُ بِهِ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَأَنْتَ خَلَقْتَهُ قَالَ بَلْ اللَّهُ خَلَقَهُ قَالَ فَأَنْتَ هَدَيْتَهُ قَالَ بَلْ اللَّهُ هَدَاهُ قَالَ فَأَنْتَ تَرْزُقُهُ قَالَ بَلْ اللَّهُ كَانَ يَرْزُقُهُ قَالَ كَذَلِكَ فَضَعْهُ فِي حَلَالِهِ وَجَنِّبْهُ حَرَامَهُ فَإِنْ شَاءَ اللَّهُ أَحْيَاهُ وَإِنْ شَاءَ أَمَاتَهُ وَلَكَ أَجْرٌ

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں سے ہر ایک کے ہر عضو پر صبح کے وقت صدقہ لازم ہوتا ہے اور ہر تسبیح کا کلمہ بھی صدقہ ہے تہلیل بھی صدقہ ہے تکبیر بھی صدقہ ہے تحمید بھی صدقہ ہے امر بالمعروف بھی صدقہ ہے اور نہی عن المنکر بھی صدقہ ہے اور ان سب کی کفایت وہ دو رکعتیں کر دیتی ہیں جو تم میں سے کوئی شخص چاشت کے وقت پڑھتا ہے، لوگوں کے راستے سے کانٹا، ہڈی اور پتھر ہٹا دو، نابینا کو راستہ دکھا دو، گونگے بہرے کو بات سمجھا دو، کسی ضرورت مند کو اس جگہ کی رہنمائی کر دو جہاں سے اس کی ضرورت پوری ہونے کا تمہیں علم ہو، اپنی پنڈلیوں سے دوڑ کر کسی مظلوم اور فریاد رس کی مدد کردو اپنے ہاتھوں کی طاقت سے کسی کمزور کو بلند کردو یہ سب تمہاری جانب سے اپنی ذات پر صدقہ کے دروازے ہیں بلکہ تمہیں اپنی بیوی سے مباشرت پر بھی ثواب ملتا ہے، حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ اپنی شہوت پوری کرنے میں مجھے کیسے اجر مل سکتا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تباؤ کہ اگر تمہارے یہاں کوئی لڑکا پیدا ہو اور تم اس سے خیر کی امید رکھتے ہو لیکن وہ مر جائے تو کیا تم اس پر ثواب کی امید رکھتے ہو؟ میں نے عرض کیا جی ہاں ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا اسے تم نے پیدا کیا تھا؟ عرض کیا نہیں بلکہ اللہ نے پیدا کیا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تم نے اسے ہدایت دی تھی؟ عرض کیا نہیں بلکہ اللہ نے اسے ہدایت دی تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تم اسے رزق دیتے تھے؟ عرض کیا نہیں ، بلکہ اللہ اسے رزق دیتا تھا ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسی طرح اسے بھی حلال طریقے پر استعمال کرو اور حرام طریقے سے اجتناب کرو اگر اللہ نے چاہا تو کسی کو زندگی دے دے گا اور اگر چاہا تو کسی کو موت دے دے گا لیکن تمہیں اس پر ثواب ملے گا۔

أَبِي سَلَّامٍ ← زَیْدِ بْنِ سَلَّامٍ ← يَحْيَى ← عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ مُبَارَكٍ ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21816

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 26338

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ قَالَ سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْعَثُ بِالْهَدْيِ فَأَفْتِلُ قَلَائِدَهَا بِيَدَيَّ ثُمَّ لَا يُمْسِكُ عَنْ شَيْءٍ لَا يُمْسِكُ عَنْهُ الْحَلَالُ

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے جانوروں کا قلادہ اپنے ہاتھوں سے بٹا کرتی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے روانہ کر دیتے اور جو کام پہلے کرتے تھے، ان میں سے کوئی کام نہ چھوڑتے تھے۔

شيء لا يمسك عنه الحلال ← كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يَبْعَثُ بِالْهَدْيِ فَأَفْتِلُ قَلَائِدَهَا بِيَدَيَّ ثُمَّ لَا يُمْسِكُ ← عَائِشَةَ ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← أَيُّوبَ، ← إِسْمَاعِيلُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 26338

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 26362

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَبَّيْنَا بِالْحَجِّ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِسَرِفٍ حِضْتُ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي فَقَالَ مَا يُبْكِيكِ يَا عَائِشَةُ قُلْتُ حِضْتُ لَيْتَنِي لَمْ أَكُنْ حَجَجْتُ قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ إِنَّمَا ذَاكَ شَيْءٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ انْسُكِي الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ قَالَتْ فَلَمَّا دَخَلْنَا مَكَّةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ شَاءَ أَنْ يَجْعَلَهَا عُمْرَةً فَلْيَجْعَلْهَا عُمْرَةً إِلَّا مَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ قَالَتْ وَذَبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِسَائِهِ الْبَقَرَ يَوْمَ النَّحْرِ فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةَ الْبَطْحَاءِ طَهُرَتْ فَقَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَرْجِعُ صَوَاحِبِي بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ وَأَرْجِعُ أَنَا بِحَجَّةٍ فَأَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ فَذَهَبَ بِي إِلَى التَّنْعِيمِ فَلَبَّيْتُ بِعُمْرَةٍ

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ ہم نے حج کا تلبیہ پڑھا، جب سرف کے مقام پر پہنچے تو میرے " ایام " شروع ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں رو رہی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہ ! کیوں رو رہی ہو؟ میں نے عرض کیا کہ میرے " ایام " شروع ہو گئے ہیں ، کاش ! میں حج ہی نہ کرنے آتی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سبحان اللہ! یہ تو وہ چیز ہے جو اللہ نے آدم علیہ السلام کی ساری بیٹیوں پر لکھ دی ہے، تم سارے مناسک ادا کرو، البتہ بیت اللہ کا طواف نہ کرنا، جب ہم مکہ مکرمہ میں داخل ہوگئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے احرام کو عمرے کا احرام بنانا چاہے ، وہ ایسا کر سکتا ہے ، الاّ یہ کہ اس کے پاس ہدی کا جانور ہو۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دس ذی الحجہ کو اپنی ازواج کی طرف سے گائے ذبح کی تھی، شب بطحاء کو میں " پاک " ہوئی اور عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم کیا میری سہلیاں حج اور عمرہ دونوں کے ساتھ اور میں حج کے ساتھ واپس جاؤں گی؟ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمن بن ابی بکر کو حکم دیا اور وہ مجھے تنعیم لے گئے جہاں سے میں نے عمرے کا احرام باندھا۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← بَهْزٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 26362

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21873

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا مُوسَى يَعْنِي ابْنَ الْمُسَيَّبِ الثَّقَفِيَّ عَنْ شَهْرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ الْأَشْعَرِيِّ عَنْ أَبِي ذَرٍّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ يَا عِبَادِي كُلُّكُمْ مُذْنِبٌ إِلَّا مَنْ عَافَيْتُ فَاسْتَغْفِرُونِي أَغْفِرْ لَكُمْ وَمَنْ عَلِمَ مِنْكُمْ أَنِّي ذُو قُدْرَةٍ عَلَى الْمَغْفِرَةِ فَاسْتَغْفَرَنِي بِقُدْرَتِي غَفَرْتُ لَهُ وَلَا أُبَالِ وَكُلُّكُمْ ضَالٌّ إِلَّا مَنْ هَدَيْتُ فَسَلُونِي الْهُدَى أَهْدِكُمْ وَكُلُّكُمْ فَقِيرٌ إِلَّا مَنْ أَغْنَيْتُ فَسَلُونِي أَرْزُقْكُمْ وَلَوْ أَنَّ حَيَّكُمْ وَمَيِّتَكُمْ وَأُولَاكُمْ وَأُخْرَاكُمْ وَرَطْبَكُمْ وَيَابِسَكُمْ اجْتَمَعُوا عَلَى قَلْبِ أَتْقَى عَبْدٍ مِنْ عِبَادِي لَمْ يَزِيدُوا فِي مُلْكِي جَنَاحَ بَعُوضَةٍ وَلَوْ أَنَّ حَيَّكُمْ وَمَيِّتَكُمْ وَأُولَاكُمْ وَأُخْرَاكُمْ وَرَطْبَكُمْ وَيَابِسَكُمْ اجْتَمَعُوا فَسَأَلَ كُلُّ سَائِلٍ مِنْهُمْ مَا بَلَغَتْ أُمْنِيَّتُهُ وَأَعْطَيْتُ كُلَّ سَائِلٍ مَا سَأَلَ لَمْ يَنْقُصْنِي إِلَّا كَمَا لَوْ مَرَّ أَحَدُكُمْ عَلَى شَفَةِ الْبَحْرِ فَغَمَسَ إِبْرَةً ثُمَّ انْتَزَعَهَا ذَلِكَ لِأَنِّي جَوَادٌ مَاجِدٌ وَاجِدٌ أَفْعَلُ مَا أَشَاءُ عَطَائِي كَلَامِي وَعَذَابِي كَلَامِي إِذَا أَرَدْتُ شَيْئًا فَإِنَّمَا أَقُولُ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے میرے بندو! تم سب کے سب گنہگار ہو سوائے اس کے جسے میں عافیت عطاء کردوں ، اس لئے مجھ سے معافی مانگا کرو میں تمہیں معاف کردوں گا اور جو شخص اس بات پریقین رکھتا ہے کہ مجھے معاف کرنے پر قدرت ہے اور وہ میری قدرت کے وسیلے سے مجھ سے معافی مانگتا ہے تو میں اسے معاف کر دیتا ہوں اور کوئی پرواہ نہیں کرتا۔ تم میں سے ہر ایک گمراہ ہے سوائے اس کے جسے میں ہدایت دے دوں لہٰذا مجھ سے ہدایت مانگا کرو میں تم کو ہدایت عطاء کروں گا تم میں سے ہر ایک فقیر ہے سوائے اس کے جسے میں غنی کردوں ، لہٰذا مجھ سے غناء مانگا کرو میں تم کو غناء عطاء کروں گا۔ اگر تمہارے پہلے اور پچھلے زندہ اور مردہ تر اور خشک سب کے سب میرے سب سے زیادہ شقی بندے کے دل کی طرح ہو جائیں تو میری حکومت میں سے ایک مچھر کے پر کے برابر بھی کمی نہیں کر سکتے اور اگر وہ سب کے سب میرے سب سے زیادہ متقی بندے کے دل پر جمع ہو جائیں تو میری حکومت میں ایک مچھر کے پر کے برابر بھی اضافہ نہیں کر سکتے۔ اگر تمہارے پہلے اور پچھلے زندہ اور مردہ تر اور خشک سب جمع ہوجائیں اور ان میں سے ہر ایک مجھ سے اتنا مانگے جہاں تک اس کی تمنا پہنچتی ہو اور میں ہر ایک کو اس کے سوال کے مطابق مطلوبہ چیزیں دیتا جاؤں تو میرے خزانے میں اتنی بھی کمی واقع نہ ہوگی کہ اگر تم میں سے کوئی شخص ساحل سمندر سے گذرے اور اس میں ایک سوئی ڈبوئے اور پھر نکالے میری حکومت میں اتنی بھی کمی نہ آئیگی کیونکہ میں بے انتہا سخی، بزرگ اور بے نیاز ہوں میری عطاء بھی ایک کلام سے ہوتی ہے اور میرا عذاب بھی ایک کلام سے آجاتا ہے میں کسی چیز کا ارادہ کرتا ہوں تو " کن " کہتا ہوں اور وہ چیز وجود میں آجاتی ہے۔ ی

((إن الله -تبارك وتعالى- ← النَّبِيِّ ← اَبِیْ ذَرٍّ ← عبد الرحمن بن غنم الأشعري، ← شَهْرٍ ← مُوسَى يَعْنِي ابْنَ الْمُسَيَّبِ الثَّقَفِيَّ ← ابْنِ نُمَيْرٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21873

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 27684

حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ قَالَ حَدَّثَنِي سِبَاعُ بْنُ ثَابِتٍ عَنْ أُمِّ كُرْزٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الْعَقِيقَةِ عَنْ الْغُلَامِ شَاتَانِ مِثْلَانِ وَعَنْ الْجَارِيَةِ شَاةٌ

حضرت ام کرز سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے فرمایا لڑکے کی طرف سے عقیقہ میں دو بکریاں کی جائیں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری۔

أُمِّ کُرْزٍ ← سِبَاعِ بْنِ ثَابِتٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ1 بْنِ أبي يزيد، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 27684

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 26519

وَلَقَدْ كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ الْهَدْيِ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يَبْعَثُ بِهِ فَمَا يَعْتَزِلُ مِنَّا امْرَأَةً

اور میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جانور یعنی بکری کے قلادے بٹا کرتی تھی، اور اسے بھیج کر بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی عورت سے اپنے آپ کو نہیں روکتے تھے۔

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 26519

chevron_left Previous
1…242526…579
Next chevron_right